Aanchal Feb-07

جھیل کے اس پار

نادیہ جہانگیر

خوابوں کی طرح نہ خیالوں کی طرح ہے
وہ شخص ریاضی کے سوالوں کی طرح ہے
الجھا ہوا ایسا کہ کبھی کھل نہیں پایا
سلجھا ہوا ایسا کہ مثالوں کی طرح ہے

وہ کب سے جھیل کے کنارے بیٹھی اپنے ہاتھ کے ناخن سے زمین کھرچ رہی تھی۔ اس کی نگاہیں سامنے جمی تھیں جبکہ ذہن کہیں اور قلابازیاں کھانے میں مشغول تھا۔ وہ اس وقت اپنے گھر کے سامنے بنی مصنوعی جھیل کے پاس اس لیے نہیں بیٹھی تھی کہ اپنے آپ کو تروتازہ کر سکے بلکہ وہ اندر سے داجی سے جھگڑ کر آئی تھی اور اب یہاں ناراضگی کے عالم میں بیٹھی اندر ہی اندر کڑھ رہی تھی۔
اسے یہاں بیٹھے ہوئے آدھا گھنٹہ ہو چلا تھا لیکن اندر سے داجی اسے راضی کرنے نہیں نکلے تھے اور یہی سوچ سوچ کر اس کا منہ پھولتا جا رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ تنگ آ کر خود ہی اٹھ کر اندر چلی جاتی‘ معاً اس کی نظر سامنے سبز درختوں کے جھنڈ میں ایزل اور کینوس کے پاس کھڑے اس شخص پر پڑی جو پچھلے سترہ اٹھارہ دنوں سے جھیل کے پار والے گھر میں رہ رہا تھا لیکن ان سترہ اٹھارہ دنوں میں مریم حماد نے اس شخص کو صرف دور سے ہی دیکھا تھا۔نہ وہ کبھی ان کی طرف آیا تھا اور نہ وہ ادھر گئی تھی۔
پہلے کبھی وہ جھیل کے پار والے گھر کی صفائی ستھرائی کی غرض سے جھیل کے پار چلی جاتی تھی لیکن جب سے وہ اس شخص کے قبضے میں گیا تھا تب سے اس نے ادھر جانا غیرضروری سمجھا تھا۔ اب وہ رنگوں والی پلیٹ تھامے ایک ہاتھ میں برش پکڑے کچھ سوچنے میں مصروف تھا۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر غیرارادی طور پر اپنے ہاتھ اور اپنے کپڑے جھاڑ کر وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ جھیل کے کنارے کنارے چلتی وہ اس شخص کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔
السلام علیکم! پیچھے سے اس نے اپنی مدھر آواز میں اسے سلام کیا تو وہ چونک کر پیچھے دیکھنے لگا۔ اپنے سامنے بالکل اجنبی چہرہ دیکھ کر اس نے صرف سر کے اشارے سے اس کے سلام کا جواب دیا تھا۔ وہ خوشدلی سے اس کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی اور پھر سامنے کینوس پر بنی تصویر دیکھنے لگی۔
واہ‘ فنٹاسٹک! وہ چہکی۔ آپ تو بہت زبردست مصور ہیں۔ کتنا زبردست شاہکار بنا رہے ہیں آپ۔ یہ پورٹریٹ تو بالکل حقیقت لگ رہا ہے۔ کتنا عرصہ ہو گیا ہے آپ کو پینٹنگ کرتے ہوئے؟ وہ اس کی تعریفوں میں رطب اللسان ہوتے ہوئے پیچھے پلٹ کر اس سے پوچھنے لگی۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اوہ۔ آئم سوری۔ میں اپنا تعارف کرانا بھول گئی۔ اسے اپنی ناعقلی یاد آئی تو وہ اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگی اور اس کا یوں بے فائدہ ہنسنا اس شخص کی حیرت میں مزید اضافہ کر گیا۔
داجی ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ میرے دماغ میں عقل نہیں بھوسہ بھرا ہوا ہے۔ پر کیا کروں سچ ہوتے ہوئے بھی میں اس سچ کو مانتی نہیں۔ اگر میں داجی کا کہا مان بھی جائوں تو میری شان میں گستاخی ہو جائے اور آپ تو جانتے ہیں کہ اپنی شان میں گستاخی مجھ سے ہرگز برداشت نہیں ہوگی اور نہ ہی ہضم وہ اپنی ہنسی روکتے ہوئے اپنی قصیدہ گوئی چھیڑ بیٹھی اور پھر ٹھٹھک کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ بھی دائیں آنکھ کی ابرو اوپر تک کھینچے اسے دیکھ رہا تھا اور اس کے اس طرح دیکھنے پر اس کا ایک اور قہقہہ چھوٹ گیا۔
ویسے آپ کیسے جانتے ہیں؟ ہنستے ہوئے اس نے جیسے اپنی ہی بات کو انجوائے کیا تھا۔ اس شخص کا سفید چہرہ ایک دم سے سرخ ہوا تھا اور اس کے ماتھے پہ پھیلی ناگواری کی شکنیں مریم سے چھپی نہ رہ سکیں۔ اسی لیے وہ سر جھکا کر اپنے نچلے ہونٹ کا دایاں کونا دانتوں تلے دبا گئی۔
آئم سوری۔ میں بس ایسے ہی شروع ہو گئی۔ سر جھکائے واقعی وہ شرمندہ شرمندہ سی لگ رہی تھی۔ اس شخص نے سر جھٹک کر دوبارہ پلیٹ اور برش تھام لیے۔ جتنے میں وہ سر اٹھا کر اوپر دیکھتی وہ اپنا کام شروع کر چکا تھا۔ اسے اپنے کام میں مصروف دیکھ کر وہ جل کر ہی تو رہ گئی تھی۔
شاید آپ کو مہمان اٹینڈ کرنے آتے نہیں۔ نہایت چبھتا ہوا طنز کیا تھا۔ اس نے۔ وہ پھر پیچھے پلٹ کر اسے دیکھنے لگا۔
مہمان کون مہمانٖ
مابدولت اور کون؟ کیا اتنی بڑی شخصیت آپ کو نظر نہیں آ رہی؟ اس نے پھر اپنی اہمیت جتائی تو اس شخص کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ دوڑ گئی ا ور پھر اس کے دیکھتے ہی دیکھتے اس شخص نے اپنے اوورکوٹ کی جیب سے سفید چشمہ نکالا اور آنکھوں پر لگا لیا۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی۔ کیا وہ واقعی اندھا تھا کہ اسے وہ خوب صورت دوشیزہ نظر نہیں آ رہی تھی۔
نظر تو آپ پہلے بھی آ رہی تھیں لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ آپ میری مہمان ہیں۔ اسی لیے چشمہ لگایا ہے کہ اپنے مہمان کو دیکھ سکوں۔ بغور اسے دیکھتے ہوئے اس نے اس کی طرف طنز اچھالا تو وہ نادم سی ہو گئی۔
ویسے آپ ہیں کون اور میری مہمان بنی کیسے؟ اس کے چبھتے ہوئے انداز پہ اس کا جی چاہا چھُو کر کے وہاں سے غائب ہو جائے۔ وہ تو اسے بس یوں ہی سا سمجھ بیٹھی تھی لیکن وہ تو ٹوک درٹوک میں ماہر تھا۔
میں سردار ذوالقرنین حیدر کی پوتی مریم حماد ہوں اور شاید یہ سامنے والا گھر میرا ہے۔ یہ جن درختوں اور پودوں کو آپ پورٹریٹ کر رہے ہیں‘ شاید میں نے داجی کے ساتھ مل کے لگائے ہیں اور یہ جو آپ کے دائیں طرف جھیل ہے اسے شاید مریم جھیل کہتے ہیں۔ اگر آپ چشمہ پہلے دیکھ لیتے تو جھیل کے سر پر مریم جھیل کی تختی پڑھ لیتے اور اس سامنے والے گھر کے گیٹ پہ لگی نیم پلیٹ پہ بھی مریم حماد لکھا ہوا ہے‘ شاید پچھلے اٹھارہ دنوں سے آپ کی ادھر نظر نہیں پڑی۔ اگر پڑ جاتی تو آپ آج مجھے یوں دیکھ کر میرے مہمان ہونے کا نہ پوچھ رہے ہوتے اپنا تعارف طنز کے پردوں میں لپٹا کر اس کے کانوں میں انڈیلا تو اس شخص کے چہرے پر حیرت بدگمانی ڈھونڈنے سے نہ ملی۔
اگر یہ سب کچھ آپ کا ہے تو پھر آپ مہمان کیسی جائیں جو کام کرنا ہے کر لیں۔ ویسے بھی میں عورتوں سے بات کرنا اتنا پسند نہیں کرتا۔ وہ ٹھہرٹھہر کر کہتا مڑ کر دوبارہ کینوس پہ جھک گیا۔
یو انتہائی غصے سے وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔ نہ شکل نہ صورت مجھ پہ یعنی کہ مریم حماد پہ طنز کرتا ہے اوہ شٹ۔ وہ اس کی پشت دیکھتی تلملا رہی تھی۔
دیکھئے آپ پر چشمہ ذرا سا بھی اچھا نہیں لگتا۔ اس نے انتہائی مبالغہ سے کام لیا تھا حالانکہ وہ جان گئی تھی کہ جتنا چشمے میں یہ شخص خوب صورت لگ رہا ہے اتنا شاید کبھی کوئی نہ خوب صورت لگاہو۔
آئی ڈونٹ کیئر آپ اپنے کمنٹس اپنے پاس رکھیں اور پلیز ڈونٹ ڈسٹرب می۔ اس نے تصویر پر تیزتیز برش چلاتے ہوئے کہا تو وہ کھول کر رہ گئی۔
بدتمیز جاہل‘ کڑوا کریلا چشمہ لگا کر کتنا سوبر لگ رہا ہے اور بات کرنے کی تمیز نہیں۔ وہ کھولتی ہوئی جھیل کے کنارے ٹکی خوب صورت کشتی میں آ بیٹھی۔ یہ کشتی بھی داجی نے اس کی ضد پر بنوائی تھی کہ وہ صبح صبح اس میں بیٹھ کر جھیل کی سیر کرتی اور صبح خیزی کے مزے لیتی تھی۔
عباس حیدر نے ایک نظر اس چلتی کشتی پہ ڈالی اور پھر سر جھٹک کر تیز تیز برش چلانے لگا۔

میں کہتی ہوں داجی! اس مشکوک شخص کو نکال باہر کریں یہاں سے۔ وہ پچھلے دو دنوں سے داجی کو کچھ ایسی ہی الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا رہی تھی۔
اوں ہوں لڑکی۔ میرے کان مت کھائو۔
اوفو کیسی بات کرتے ہیں داجی یعنی میں چپس نہیں کھا رہی آپ کے کان کھا رہی ہوں۔ اس نے مشکوک ہو کر چپس کا سارا پیکٹ پلیٹ میں الٹ دیا کہ کہیں اندر داجی کے کان ہی نہ ہوں۔ داجی نے اس کی اس حرکت پہ ناگواری سے دیکھا تو وہ کندھے اچکا کر مسکرا دی۔ انہوں نے سر جھٹک دیا۔
’داجی پلیز! آپ چھوڑیں فائل شائل کو۔ میری بات سنیں۔ وہ ایک بار پھر اپنی پچھلی بات پہ آئی۔
کیا سنوں؟ جانتا ہوں جو تم کہنا چاہتی ہو۔ داجی نے عینک درست کرتے ہوئے کہا تو وہ خفگی سے انہیں دیکھنے لگی۔
آپ یوں ہی جانتے ہیں۔ بات تو ابھی میری سنی نہیں اور جان پہلے گئے۔ اس نے ان کے ہاتھوں سے فائل لے کر بند کردی تو وہ گہری سانس لے کر اسے دیکھنے لگے۔
کہو کیا کہنا چاہتی ہو؟
یہی کہ
کہ میں عباس حیدر کو یہاں سے چلتا کروں۔ وہ تمہیں ذرا سا بھی اچھا نہیں لگا۔ تم اس کے پاس گئی تھیں لیکن اس نے تم سے کوئی بات نہیں کی۔ تمہیں کوئی اہمیت نہیں دی۔ ہے نا؟ داجی نے تیزی سے اس کی بات کاٹی تو وہ مسکرا دی۔
یہ سب آپ کو کیسے پتہ چلا؟
وہ کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس ایک بددماغ لڑکی آئی تھی جس نے سنا کم‘ بولی زیادہ اور اب دیکھو تمہارے داجی دو آنکھیں اور دوکان تو ضرور رکھتے ہیں کہ ایسی خوبیوں والی لڑکی کی پہچان کر سکیں۔ داجی نے اسے اطمینان اور سنجیدگی سے کہا کہ اس پہ گہرا سکتہ طاری ہو گیا۔
کیا کیا اس نے مجھے بددماغ کہا آپ نے اسے یہ نہیں بتایا کہ میں آپ کی پوتی ہوں۔
بتایا تو تھا۔ اسی لیے وہ حیران ہوا تھا کہ ایڈوکیٹ سردار ذوالقرنین حیدر کی پوتی اس قدر نِل اور بددماغ ۔
داجی! اس کی صدمے سے آنکھیں پھٹ گئی۔ آپ نے یہ سب کچھ اتنے آرام سے سن لیا۔ چھوڑوں گی نہیں میں اس کمینے شخص کو۔ آپ نے منہ کیوں نہ توڑ دیا اس خبیث شخص کا۔ وہ ایک دم بپھر ہی تو گئی تھی۔
منہ کیسے توڑتا جانو! وہ جھوٹ کب بول رہا تھا۔ سچ ہی تو کہہ رہا تھا۔
داجی! انتہائی صدمے سے اس کی آواز اندر ہی اندر دب گئی اور پھر وہاں سے غصے سے اٹھی۔ چپس کی پلیٹ کو دوراڑایا اور کھلے دروازے سے باہر نکل گئی۔ داجی پیچھے اے لڑکی‘ اولڑکی ہی کرتے رہ گئے۔
وہ غصے سے کھولتی ہوئی پار والے گھر پہنچی تو وہ اسے جھیل کے کنارے بیٹھ کر کچھ پورٹریٹ کرتے پایا۔
ہیلو مسٹر! وہ اس کے سر پہ پہنچی۔ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔
آپ اس نے جیسے اسے پہچاننے کی کوشش کی تو وہ جو پہلے ہی غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی اب اس کے نہ پہچاننے پر ہری نیلی ہو گئی۔
کب تک ہیں آپ یہاں پہ؟ خود کو کچھ سخت کہنے سے روکتے ہوئے پھر بھی درشتگی سے پوچھ بیٹھی۔ وہ بھنویں اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
میں نے آپ کو حیران ہونے کے لیے نہیں کہا۔ آپ کے جانے کے بارے میں پوچھا ہے۔ اس کے تپے تپے انداز پہ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ؟ اپنے مخصوص اوورکوٹ کی جیب میں دونوں ہاتھ ڈالتے ہوئے وہ اس کے سامنے تن گیا۔
مسئلہ کیا ہونا ہے؟ آپ کسی مسئلے سے کم ہیں کیا؟ وہ جل کر بولی۔
زبان سنبھال کر بات کیا کیجیے۔ میں ایسے لہجے سننے کا عادی نہیں ہوں۔ اس نے اپنے مخصوص ٹھہرے لہجے میں مگر سردانداز سے کہا تھا۔
بولنے کی آپ کو تمیز نہیں اور کہہ آپ مجھے رہے ہیں۔ اس نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دھمکایا تو عباس حیدر کے چہرے پر ناگواری چھا گئی۔
آپ کہنے کیا آئی ہیں؟ مجھے فضول کی بحث پسند نہیں۔ جو بات ہے کیجیے اور پلیز جائیے۔ مجھے ابھی بہت سا کام کرنا ہے۔ وہ لگی لپٹی رکھے بغیر اسے سنا گیا تو اس کا جی چاہا کہ کوئی بھاری سی چیز مار کر اس کا سر پھاڑ دے لیکن اس کا بلند قامت‘ قد بُت دیکھ کر وہ اپنی خواہش اندر ہی اندر دبا گئی۔
میں آپ سے صرف یہ کہنے آئی ہوں کہ بہتر ہے آپ دودن کے اندر اندر میرے گھر سے چلے جائیں۔ میں اب آپ کو یہاں رہنے کی مزید اجازت نہیں دے سکتی۔
آپ سے اجازت مانگی کس نے ہے؟ اس نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا تو وہ اس کی دیدہ دلیری پہ حیران رہ گئی۔
اجازت مانگیں یا نہ مانگیں لیکن میں اب آپ کو یہاں مزید رہنے نہیں دوں گی۔ باندھیں اپنا سامان اور دو دنوں میں یہاں سے چلتے نظر آئیں۔ اس نے چٹکی بجا کر اسے جیسے ابھی سے ہی وہاں سے چلتا کرنا چاہا تھا۔ اس کے اس انداز پہ عباس حیدر نے اپنی ناگواری چھپانے کی کوشش نہ کی۔
میں عورتوں کو ایک حد میں رکھنے کا روادار ہوں۔ آپ کا اس لیے لحاظ کر رہا ہوں کہ آپ سردار صاحب کی پوتی ہیں ورنہ جس قدر آپ بدلحاظی کا مظاہرہ کرر ہی ہیں میں ایسی بدلحاظی برداشت نہیں کرتا۔ آئندہ اگر اس لہجے میں بات کی تو پھر عباس حیدر لحاظ نہیں کرے گا۔ مائینڈ اٹ۔ انگلی اٹھا کر اسے تنبیہہ کی تو اس کے سر پہ لگی اور تلوئوں پہ بجھی۔
بے ادب! بے لحاظ آدمی! تمہاری یہ جرأت کہ مجھے یعنی مریم حماد سے بدلحاظی کرو۔ تم ہوتے کون ہو ایسا کرنے والے۔ پہلے میں پھر بھی تمہیں یہاں دودن رہنے کی اجازت دے سکتی تھی لیکن اباب نہیں اب تم ابھی نکلو یہاں سے وہ غصے سے کہتی تن فن کرتی پیچھے پلٹی۔
میں اندر سے تمہارا سامان لے کر آتی ہوں۔ ابھی اور اسی وقت یہ گھر چھوڑ دو۔ وہ غصے سے مٹھیاں بھینچتی وہاں سے ہٹی۔ لکڑی کے دروازے کو ٹھڈے سے کھولا اور سیدھی اندر چلی گئی۔ ا س کے کمرے سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر اس کی چیزیں جمع کیں۔ بیگ بھرا‘ کندھے پر ڈالا تین چار پورٹریٹ اٹھا کر بغل میں دبائے۔ ایزل اٹھایا گرتی پڑتی لکڑی کے دروازے تک پہنچی زبردست سی ایک ٹھوکر کھائی۔ آنکھوں کے گرد تارے ناچنے لگے لیکن پھر بھی اس نے ہمت کی اورجھیل کے پاس پہنچ گئی۔
اٹھائو یہ سامان اور ایک منٹ میں نکلو یہاں سے۔ سارا سامان اس کے سامنے پھینک کر اپنے مخصوص انداز میں چٹکی بجائی تو اس نے اس پہ ایک نظر ڈال کر چہرے کا رخ پھیر لیا۔
اے ! اے مسٹر اس سے پہلے کہ وہ مزید مشتعل ہو کر اس پر چڑھ دوڑتی کسی نے اسے کلائی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔
مریم جانو!
داجی! داجی یہ شخص
تف ہے بیٹے تم پہ۔ میں نے تمہاری ایسی تربیت تو نہیں کی تھی۔ کیوں گنوار عورتوں کی طرح عباس سے لڑ جھگڑ رہی ہو؟
داجی! یہ اچھے شخص نہیں ہیں۔ یہ یہ اس نے کچھ کہنا چاہاتھا۔
شٹ اپ بیٹا۔ ایسے نہیں کسی کو کہتے۔
لیکن داجی
تم چلو یہاں سے۔ وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچنے لگے۔
داجی! وہ احتجاجاً چیخی لیکن داجی نے اس کی ایک نہ سنی۔
عباس حیدر نے مڑ کر ایک لمحے کے لیے اسے داجی کے ساتھ کھینچتا دیکھااور پھر نہایت غصے سے سامنے ایزل پر لگی تصویر کو ہاتھ مار کے پھاڑ دیا۔ اس کی آنکھوں میں آج خون اتر آیا تھا۔

داجی! اگر آپ نے مجھے کل پکڑا نہ ہوتا تو میں اس ذلیل انسان کو اس کا چاچا‘ پھوپا یاد کرا دیتی۔
شٹ اپ مریم! کتنی بار کہا ہے تمہیں یوں باربار جاہلوں کی طرح کسی کو گالی نہیں دیتے۔
لیکن داجی! اسے بھی تو دیکھیں۔ میں جو کچھ کہتی ہوں وہ سنتا ہی نہیں۔ الٹا کہہ رہا تھا میں عورتوں کو ایک حد میں رکھنے کا قائل ہوں۔ ہونہہ دقیانوسی کہیں کا۔
مریم! وہ تم سے عمر میں دس بارہ سال بڑا ہے۔ یہ تم کس لہجے میں اس کو مخاطب کرتی ہو۔ داجی کو اس کا اندازِ تخاطب بہت برا لگا تھا وہ کچھ جزبز سی ہو گئی۔
بڑوں کا احترام کرنا سیکھو بیٹا۔ میں کب تک تمہاری تربیت کرتا رہوں گا۔ اب تو تمہیں اچھے برے کی پہچان ہو جانی چاہیے تھی۔ آج یقیناً انہوں نے اسے ٹھیک کرنے کا سوچا تھا۔
داجی! میں تو سب کا احترام کرتی ہوں۔ اس نے اپنا دفاع کرنا چاہا۔
اور عباس حیدر نے کیا گنوایا ہے تمہارا؟ انہوں نے عینک کے عدسوں کے اوپر سے اسے گھورا۔
اس نے؟
اوں ہوں انہوں نے انہوں نے پھر اسے ٹوکا۔
ہاں انہوں نے گنوایا تو کچھ نہیں اسے اعتراف کرنا ہی پڑا۔
صرف انہوں نے تمہیں لفٹ نہیں دی ہے نا؟ ان کے منہ سے ایک بار پھر سچ سن کر اسے دوبارہ جزبز ہونا پڑا تھا۔
جی داجی! وہ اٹھ کر ان کے پاس بیٹھ گئی۔ میں جو بات کہتی ہوں۔ وہ اس کا الٹا جواب دیتے ہیں بلکہ سیدھی طرح مجھ سے بات بھی نہیں کرتے۔ میں نے اس سے کہا یہ گھر‘ یہ جھیل‘ یہ درخت پودے میرے ہیں تو انہوں نے کوئی رسپانس ہی نہ دیا۔ نہ متاثر ہوئے۔
یعنی کہ تم عباس کو متاثر کرنا چاہتی تھیں؟
نہیں داجی! میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ انہوں نے مجھ سے سیدھی طرح بات نہیں کی۔ اس لیے مجھے غصہ آیا۔
بیٹا! عباس کا مزاج اور ہے وہ تو مجھ سے بھی زیادہ بات نہیں کرتا۔ وہ اور لوگوں کی طرح زیادہ باتیں کرنے کا شوقین نہیں ہے۔ اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔
لیکن داجی! عورتوں سے تو بات کرنے کا طریقہ انہیں آنا چاہیے۔ اپنی طرف سے وہ بھی ٹھیک ہی کہہ رہی تھی۔
پتہ نہیں کیوں بیٹا‘ میں نے محسوس کیا ہے۔ وہ عورتوں کو زیادہ پسند نہیں کرتا۔ وہ بہت مختلف نیچر کا مالک ہے۔ تب ہی تو ابھی تک اس نے شادی نہیں کی۔ نجانے کیوں وہ عورتوں سے بھاگتا ہے۔
یہ تو وہ اچھا نہیں کر رہے۔
ہاں بیٹا! کبھی سمجھائوں گااس کو۔
پھر میں سوری کر لوں ان سے؟ وہ اپنے رویے پہ خواہ مخواہ شرمندہ ہوتی داجی کو پہلے سے بھی زیادہ بھولی اور پیاری لگی۔ انہوں نے محبت سے اسے گلے لگا لیا۔
میں جانتا ہوں میرا بیٹا کسی سے زیادتی نہیں کرتا۔ اسی لیے داجی اس سے پیار کرتے ہیں۔ انہوں نے والہانہ انداز سے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا تھا۔ وہ مسکرا دی۔
موسم کافی سرد تھا۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوائیں ماحول کو خنکی بخشتی چاروں طرف پھیلی ہوئی تھیں۔ شام نے آہستہ آہستہ اپنا سرمئی آنچل اوڑھنا شروع کر دیا تھا۔ وہ کب کی ٹیرس کی گرل سے ٹیک لگائے جھیل کے پار والے گھر پہ نظریں جمائے کھڑی تھی لیکن ادھر سے ابھی تک اس شخص کی گاڑی نظر نہ آئی تھی۔ جس کا مطلب تھا کہ وہ شخص ابھی تک آفس سے نہیں لوٹا تھا۔
مومی بیٹا! سردی بڑھ رہی ہے۔ کمرے میں آ جائو۔ وہ اب بھی سامنے نظریں جمائے ہوئے تھی جب پیچھے سے بلقیس بوا نے اسے آواز دی۔
بوا! کوئی بات نہیں۔ آپ مجھے ایک کپ تیز پتی کی چائے بنا دیں۔ اس نے مڑ کر انہیں کہا تو بوا مسکراتے ہوئے اس کے پاس چلی آئیں۔
جانتی ہوں اسی لیے کڑک چائے لے آئی۔
اوہ۔ شکریہ بوا! وہ ان کے ہاتھ سے کپ پکڑتے ہوئے تشکر سے بولی تو بوا مسکرا دیں۔ پھر اس کا سر تھپتھپا کر نیچے چلی گئیں۔ وہ چائے کے چھوٹے چھوٹے سپ لیتی پھر سے ادھر متوجہ ہو گئی۔ اسے وہاں کھڑے ابھی دوتین ہی منٹ ہوئے تھے جب اس کی گاڑی آتی دکھائی دی۔ وہ چائے ختم کر کے نیچے چلی آئی۔
بوا! میں ذرا جھیل کے پارجا رہی ہوں۔ کچن کے دروازے میں کھڑے ہو کر بوا کو اطلاع دی اور نیچے جھاڑو دیتا دوپٹہ اٹھا کر کندھے پہ ٹھیک طرح رکھا اور باہر نکل آئی۔ ہوائوں میں تھوڑی سی تیزی آ گئی تھی۔ اسی لیے وہ کانپ کر سینے پہ ہاتھ باندھنے پہ مجبور ہو گئی۔ ادھر جھیل کے یخ پانی کو چھو کر آتی سرد ہوائوں نے اس کے اندر پھریری سی بھر دی۔
یااللہ! آج اتنی سردی۔ لکڑی کا دروازہ پار کرتے ہوئے اس نے دل ہی دل میں سوچا اور ادھرادھر دیکھتی گلاس ڈور کھول کر اندر بڑھ گئی۔ بڑے ہال میں کھڑے ہو کر دائیں بائیں کا جائزہ لیا۔ کچن سے کسی قسم کی آواز نہیں آ رہی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ اپنے کمرے میں تھا۔ اسی لیے وہ اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ سوری کے علاوہ جو جو جملے کہنے تھے۔ ذہن میں ترتیب دینے لگی۔
اس کے کھلے دروازے کے پاس پہنچ کر اپنا گلا کھنکارا اور پھر دستک دئیے بغیر اندر بڑھنے لگی تھی کہ دوپٹہ پیچھے کسی چیز میں پھنس گیا۔ پیچھے کی آخری سیڑھی کی گرل کے نچلے نوکدار حصے میں پھنسا دوپٹہ کھینچا اور پلٹنا ہی چاہتی تھی کہ کسی دیوقامت سے ٹکرا گئی۔ وہ گرتے گرتے بچی کہ اس کے گرد پھول جیسی نرم گرفت ہو گئی۔ اس کے حواس یک دم معطل ہونے لگے تھے۔ بہت آہستگی سے اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو اس شخص کا سپاٹ چہرہ دیکھ کر اس کی سانسیںتیز ہو گئیں۔
عباس حیدر نے اپنا بازو نیچے گرا لیا تھا لیکن وہ اس کا چہرہ دیکھے گئی اور اس کے دیکھتے ہی دیکھتے عباس کے چہرے نے ہزاروں رنگ بدلے تھے جس میں اس کے چہرے کی سرخ رنگت بہت نمایاں رہی تھی کہ اس رنگت کا ساتھ اس کی آنکھوں نے بھی دیا تھا اور وہ پچھلے کئی دنوں سے اس کی ایسی رنگت دیکھ رہی تھی اور اب تک جان گئی تھی کہ اس کی ایسی رنگت شدید ناگواری کی علامت ہے اور وہ اس علامت کو دیکھ کر ہی پیچھے ہٹنے لگی تھی کہ اس کی نظر اس کے گلے میں جھولتے سیاہ تعویز پر پڑی۔ اس کا دل دھڑک کر حلق میں آن بیٹھا۔ اپنا ہاتھ اس کے چوڑے سینے پر رکھ کر اپنا سر پیچھے کیا ہی تھا کہ اس کی نگاہیں تعویز کے نیچے تک چلی گئیں اور پھر وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی تھی۔وہ اس وقت شاید نہا کر نکلا تھا۔
آپ نیچے بیٹھیں۔ میں آتا ہوں۔ انتہائی سرد لہجے میں کہتا وہ واپس اندر چلا گیا۔ جاتے جاتے اس نے دروازہ پٹخنے کے سے انداز میں بند کیا تھا کہ وہ اس دھماکہ نما آواز پہ سر اٹھا کر اوپر دیکھنے لگی۔ اس کی ٹانگیں ابھی تک لرز رہی تھیں اور پھر وہاں سے بھاگی تو اپنا دوپٹہ تک اٹھانا بھول گئی۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر بھی اسے اپنا دل ہاتھوں پیروں میں دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا۔ نجانے اسے کتنی دیر لگی تھی۔ اپنا دل سنبھالنے میں لیکن پھر بھی دل سنبھال نہ پائی۔
لیکن اس کی بے چینی میں وقفے وقفے سے اضافہ جاری تھا۔ اسی لیے اس نے بے بس ہو کر کھڑکی کے ساتھ سر ٹکادیا اور پھر سرٹکائے ٹکائے ہی اس کی نظریں پار والے گھر کی دوسری منزل پہ پڑی تھیں۔ ٹیرس کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور اندر کی روشنی چھن چھن کرتی باہر آ رہی تھی اور اسی روشنی میں نہاتا وہ شخص اسے صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ شخص اس وقت ٹیرس پر چہل قدمی کر رہا تھا۔نجانے کیوں اسے دیکھنا اسے اچھا لگ رہا تھا اور وہ اسے دیکھے جا رہی تھی۔ ٹکٹکی باندھے‘ پلکیں جھپکے بغیر یک ٹک۔
عباس عباس محبت‘ محبت محبت۔
اس کے چاروں طرف اسی نام کی بازگشت جاری تھی۔ وہ بے بسی سے اپنی پیشانی مسل رہی تھی لیکن پیشانی مسلنے سے کیا ہوتا ہے۔
اس کی آنکھوں سے آنسو تواتر سے جاری تھے۔ چاہتے ہوئے بھی وہ نہ تو آنسو روک پا رہی تھی اور نہ کمرے میں گونجتی آوازوں کو کم کر پا رہی تھی۔ کھڑکیوں‘ دروازوں کے پردے ہل ہل کر عباس‘ عباس پکار رہے تھے۔ سامنے ٹیبل پر پڑے کورے کاغذ پھڑپھڑا کر عباس عباس بلا رہے تھے۔ داہنی دیوار پہ لگا کیلنڈر اسے محبت ہونے کا پتہ دے رہا تھا۔ سامنے پڑا قدآور آئینہ اسے اس کا ستا ستا چہرہ دکھاتا اس پر محبت کا بیتا ایک ایک لمحہ اس کے گوش گزار رہا تھا۔
وہ ان سب چیزوں سے رخ پھیر رہی تھی ان سے بچائو کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی لیکن کمرے میں پڑی کاپیاں‘ کتابیں‘ پھول‘ گلدستے‘ چھوٹے فوٹو‘ بڑی تصویریں سب اس کی اس حالت سے واقف ہو چکی تھیں اور اب اس کی اس حالت سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ وہ بے بسی‘ بے چارگی کی مورت بنی بیڈ کے کرائون سے ٹیک لگائے چپ چاپ آنسو بہائے جا رہی تھی۔ وہ جان گئی تھی کہ وہ اس انوکھی راہ کی مسافر ہو چکی ہے۔ اب چاہ کر بھی وہ اس راہ کی مسافر نہ ہونے کو جھٹلا نہیں سکتی تھی اور یہی سوچ سوچ کر وہ مزید بے بس اور لاچار ہوئے جا رہی تھی۔
سامنے والی کھڑکی کھلی تھی لیکن سامنے نظر آتا ٹیرس بالکل خالی پڑا تھا۔ وہ پچھلے تین دنوں سے نجانے کدھر چلا گیا تھا کہ وہ باربار جھیل کے پار جا کر اسے ڈھونڈ آئی تھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی گاڑی وہاں موجود نہیں ہے۔ پھر بھی جلے پیر کی بلی کی طرح اسے وہاں تلاش کررہی تھی۔ ایک ایک درخت‘ ایک ایک پودے کے پیچھے جا کر اسے ڈھونڈا تھا۔ اس گھر کے ایک ایک کونے میں جا کر اسے تلاش کیا تھا لیکن وہ نجانے کدھر چلا گیا تھا کہ اسے نظر ہی نہ آ سکا۔ داجی سے پوچھنے کے لیے دل نجانے کتنی بار مچلا لیکن خود سے اعترافِ محبت کے بعد اس کے بارے میں کسی سے پوچھنے میں اسے عجب سا حجاب آ رہا تھا۔ وہ چاہ کر بھی کسی سے پوچھ نہ پائی اور اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اندر ہی اندر جلتی مرتی رہی۔
اب بھی صبح سے جھیل کے پار جا کر بیٹھی ہوئی تھی لیکن اسے نہیں آنا تھا۔ وہ نہیں آیا اور وہ تھک ہار کر اپنی شال سمیٹتی واپس آ گئی تھی۔ راستے میں بوا نے دیکھا تو اسے بخار میں باہر نکلنے پر ٹوکا اور پھر دودھ کا گلاس دے کر اسے کمبل میں پڑے رہنا کا حکم دے کر باہر چلی گئیں لیکن اس نے دودھ کے گلاس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔ وہ ابھی تک جوں کا توں پڑا تھا اور وہ آنکھیں موندے شکست سے دوچار پڑی تھی۔
موموبیٹا! اس کے ایک تواتر سے آنسو بہہ رہے تھے جب بوا نے اس کا کندھا ہلایا۔ اس نے ہولے سے آنکھیں کھول دیں۔
سردار صاحب شاید آج بھی واپس نہ لوٹیں بیٹا تم ڈاکٹر کے پاس چلی چلو۔ اس کے آنکھیں کھولتے ہی انہوں نے کہا تھا۔
بوا نہیں ہے میری طبیعت خراب۔ آپ خواہ مخواہ پریشان
بیٹا! میں عباس میاں کو بلا کر لائی ہوں۔ وہ تمہیں کسی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے۔ بوا نے تیزی سے اس کی بات کاٹی تو اس کا دل اچھل گیا۔ وہ بے تابی سے اٹھی تھی۔
عباس کک کدھر؟
اور جب اس کی نگاہ دروازے کے بیچوں بیچ ایستادہ سیاہ اوورکوٹ میں ملبوس عباس حیدر پر پڑی تو وہ اور کچھ کہہ ہی نہ سکی وہیں اس کی نگاہیں جم کر رہ گئیں۔ اسے پتہ ہی نہ چلا اور اس کی آنکھوں سے گرتا پانی اور تیز ہو گیا۔
سنہری فریم والے چشمے کے سفید شیشوں سے جھانکتی اس کی سیاہ گھور آنکھیں بہت تیزی سے اس کا معائنہ کر رہی تھیں۔
کتنی دیر لگے گی نیچے آنے میں؟ اس نے اپنے مخصوص ٹھہرے ٹھہرے مگر سرد لہجے میں دریافت کیا تھا۔
بس چلتی ہے یہ۔ بوا نے پلٹ کر جواب دیا تو وہ سر ہلا کر واپس مڑ گیا۔
عباس اس کے ہونٹوں نے جنبش کی تو پورے کمرے میں اس کی آواز گونج گئی۔ وہ یک دم مڑ کر اسے دیکھنے لگا تو وہ اپنی بے اختیاری پر لب بھینچ گئی۔ اس نے ایک پل کے لیے اس کی خاموشی محسوس کی اور پھر سر جھٹک کر آگے چل دیا۔ اس کی آنکھوں کا پانی رکنے میں نہ آیا۔
بوا! بوا! یہ کب آئے؟ اس نے بے قراری سے پوچھا تھا۔
دوتین گھنٹے ہو گئے ہیں۔ چلو اٹھو تم جلدی کرو۔ انہیں اور بھی بہت سے کام کرنے ہوں گے۔ بوا نے جواب دے کر اس کے اوپر سے کمبل الٹ دیا اور اپنے ہاتھوں سے اس کا چہرہ صاف کرنے لگیں۔
میں میں چلتی ہوں۔ وہ اسی الجھے بکھرے حلیئے میںاٹھ کھڑی ہوئی۔ بوا نے کچھ کہنا چاہا لیکن پھر خاموش ہو گئیں۔ وہ اپنی سیاہ شال درست کرتی کمرے سے باہر نکلی تو نیچے لائونج کے شیشے سے اس کی گاڑی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے نیچے اتر آئی تھی۔
اسے آتا دیکھ کر عباس حیدر نے فرنٹ ڈور کھول دیا تھا۔ وہ خاموشی سے آ کر اس کے مقابل بیٹھ گئی۔ عباس حیدر نے اتنی ہی خاموشی سے گاڑی اسٹارٹ کر لی۔ گاڑی سڑک پر دوڑنے لگی تھی لیکن وہ کچھ نہ بولی وہ بھی چپ چاپ ڈرائیونگ کرنے لگا۔
وہ سانس روکے اس کی موجودگی کو محسوس کر رہی تھی۔ اسے تو ابھی تک یہ یقین نہ آ رہا تھا کہ اس سے ایک ہاتھ کے فاصلے پر بیٹھا ہوا شخص واقعی عباس حیدر ہے جس نے پچھلے چاردنوں سے اس کی نس نس پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں اس کے ساتھ بیٹھی اس کی موجودگی محسوس کر رہی تھی۔ اس کا جی چاہ رہا تھا ایک بار صرف ایک بار اسے ہاتھ لگا کر یہ دیکھ لے کہ کہیں یہ اس کا خیال تو نہیں کہیں یہ اس کا تخیل تو نہیں؟ وہ باربار کن اکھیوں سے اسے دیکھنے لگتی تھی لیکن پل ہی پل میں نجانے اسے کیا ہوا کہ اسے چھونے کی خواہش بڑے زور سے اس کے اندر ابھری تھی کہ اسے چھونے کے لیے اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔ وہ چاہ کر بھی اپنی اس خواہش پر عمل نہ کر پا رہی تھی۔ تب ہی تو اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
سردی زیادہ ہے یا آپ کو بخار شدید ہے؟ اچانک ہی اس کی بھاری آواز گاڑی میں گونجی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھتی اس نے اپنا بھاری ہاتھ اس کے کانپتے ہاتھ پر رکھ دیا تھا۔ اس کی سانسیں وہیں تھم گئی تھیں۔ دھڑکنیں راستہ بھول گئی تھیں اور جب اس کی طرف دیکھا تھا تو پلکیں بھی جھکنا بھول گئیں۔
لگتا ہے بخار زیادہ ہے۔ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ اٹھاتے ہوئے اب کی بار وہ کافی نرمی سے بولا تھا اور اس کے ہاتھ اٹھاتے ہی مریم کے اندر ایک عجیب درد کی لہر ابھری۔ سانسیں چلنے لگیں۔ دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔ اس کا جی چاہا اسے کہے وہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پہ ہی رکھا رہنے دے۔ اسے کہے بس چند لمحے اور اس کے کانپتے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کے نیچے رہنے دے لیکن وہ کچھ بول ہی نہ سکی۔ لب بھینچے اپنے ہاتھ کی پشت کو دیکھتی رہی۔
اور وہ ایک بار پھر سامنے دیکھنے لگا۔ کلینک آیا تو وہ پہلے نیچے اترا۔ پیچھے وہ اتری تھی۔ اس کے قدم مردہ تھے لیکن اس کی چال میں ایک سرشاری سی تھی کہ اپنے محب کے پیروں کے نشانوں پر جو چل رہے تھے۔
کب سے بخار ہے آپ کو؟ میل ڈاکٹر نے اسے چیک کرتے ہوئے پوچھا تھا۔
جب سے یہ گئے ہیں۔ اس کے منہ سے اچانک نکلا تو عباس حیدر ٹھٹھک کر اسے دیکھنے لگا جبکہ ڈاکٹر کے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
ہاں ہو جاتا ہے کبھی کبھی ایسا۔ کسی کی دوری ہم سے برداشت نہیں ہو پاتی جس کا نتیجہ بیماری کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا تو عباس حیدر کے ماتھے کی رگیں تن گئیں۔
پلیز ڈاکٹر صاحب! آپ صرف انہیں چیک کیجیے۔ اس نے اپنا غصہ دباتے ہوئے نہایت ناگواری سے کہا تو ڈاکٹر نے سر ہلادیا جبکہ وہ ہونٹ کچلتی اس کے غصے سے تمتماتے سرخ چہرے کو دیکھنے لگی۔ شاید نہیں بلکہ یقینا اسے اس کا اس طرح بے دھڑک بولنا بہت برا لگا تھا۔
آپ جا کر گاڑی میں بیٹھیں۔ میں میڈیسن لے کر آتا ہوں۔ ڈاکٹر کے ہاتھ سے چٹ پکڑتے ہوئے اس نے اسے کہا تو وہ گردن ہلا کر باہر نکل آئی۔ دومنٹ بعد وہ بھی دوائیوں کا شاپر پکڑے چلا آیا۔
بولنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے کہا تھا۔ ورنہ دوسرے لوگ خواہ مخواہ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے اس پہ ایک اچٹتی نظر ڈال کر کہا تو وہ کچھ نہ بولی۔
آپ آپ کچھ دیر بعد اس نے کچھ کہنا چاہا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں آپ سے آگے جا ہی نہ سکی۔ وہ گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
آپ کہاں چلے گئے تھے؟ نجانے کیسے اس سے بات مکمل ہو پائی تھی۔ وہ بنا جواب دئیے سامنے دیکھنے لگا تو وہ پھر لب کچلنے لگی۔
مم مجھے آپ سے سوری کرنا تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ پھر بولی۔ وہ پھر گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
اس دن میں نے خواہ مخواہ آپ سے بدتمیزی کی مم میں سمجھی آپ آپ چلے گئے اس نے تھوک نگلا۔ میں اسی دن آپ سے سوری کرنا چاہتی تھی لل لیکن اور آگے کا واقعہ اسے سنا تو نہ سکتی تھی۔ اس لیے کانپتے ہونٹ وہیں بند کر لیے۔ عباس حیدر نے ایک گہری سانس خارج کی۔
اٹس اوکے۔ مختصر جواب دے کر وہ سامنے دیکھتا اسٹیئرنگ گھمانے لگا تھا۔ اس نے بھی چہرے کا رخ پھیر لیا اور باہر دوڑتے بھاگتے نظارے دیکھنے لگی لیکن اس کی آنکھیں بہت تیزی سے بھیگ رہی تھیں۔ عباس حیدر نے گردن گھما کر ایک بار پھر اسے دیکھا اور اس کے گالوں پر بہتا پانی دیکھ کر وہیں الجھ کر رہ گیا۔

کیا بات ہے بیٹا! کیوں اس قدر مرجھائی مرجھائی سی رہنے لگی ہو؟ حالانکہ اب تو تمہیں بخار بھی نہیں رہا پھر کیا بات ہے میری جان؟ داجی کب سے اسے صوفے میں دبکے بیٹھے اور انگلیاں چٹخاتے دیکھ رہے تھے۔ اسی لیے اب فائل پر سے نظریں ہٹا کر اس سے پوچھا تو اس نے سر نفی میں ہلا دیا۔
پیپرز تو تمہارے ٹھیک ٹھاک ہوئے ہیں۔ کہیں رزلٹ کی ٹینشن تو نہیں؟ اس نے پھر گردن نفی میں ہلائی۔
میرے خیال میں جانو تمہارے منہ میں ایک عدد زبان بھی ہے۔ وہ ایڈووکیٹ تھے اور ایسے گہرے یا شگفتہ قسم کے طنز ان پہ سوٹ بھی بہت کرتے تھے۔معاً اس کے ہونٹوں پر ایک حسین سی مسکراہٹ کھیل گئی۔
ادھر آئو۔ انہوں نے اسے اپنے پاس بلایا اور اپنی عینک اتار کر سامنے شیشے کی ٹیبل پر رکھ دی۔ وہ اٹھ کر ان کے پاس آ بیٹھی۔
اب بتائو تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کیوں اس قدر چھوٹا سا منہ نکل آیا ہے؟ وہ اس کی ناک دباتے ہوئے پوچھنے لگے۔
داجی! آپ مجھے بالکل بھی ٹائم نہیں دیتے۔ میں بوا سے کتنی باتیں کروں۔ اس نے ایک دم سے منہ پھلایا تھا۔
اوہ ہو تو اس کا مطلب ہے میرا بچہ اس بات کو دل پہ لیے بیٹھا ہے۔ وہ فوراً سر کھجانے لگے تھے۔
ہاں تو اور کیا؟
تو اس مسئلے کا حل کہاںسے لائیں؟
اب مجھے کیا پتہ
اچھا اس مسئلے کا ایک حل ہے وہ کچھ سوچتے ہوئے بولے۔
کیا؟
کہ تمہارے لیے ایک عدد دلہا ڈھونڈا جائے۔
داجی پلیز! میں ناراض ہو جائوں گی آپ سے۔ وہ تقریباً چیخ ہی تو پڑی تھی۔
تو میری جان تمہارا دل بہلانے کے لیے میں اپنے لیے دلہن لا نہیں سکتا وہ بھی اس عمر میں۔
میں نے آپ سے وقت مانگا ہے ناکہ آپ کی دلہن سے۔
اوہو اس کا مطلب ہے میرا بیٹا میری شادی کرنا نہیں چاہتا۔ انہوں نے شگفتگی سے افسوس کیا تو وہ جان گئی کہ وہ اس کا دل بہلانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر مسکرانے لگی۔
میرے بس میں ہو تو میں اپنے پیارے دا جی کے لیے دس دس دلہنیں لے آئوں لیکن کیا ہے نا کہ کوئی اس عمر میں میرے داجی کو دولہا قبول نہیں کرے گا۔
کیوں کیوں کیا میں بوڑھا ہوں؟
آپ بوڑھے تو نہیں لیکن وکیل ضرور ہیں اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ اس عمر میں وکیل سٹھیا جاتا ہے۔ اس نے بھی بھرپور شرارت سے کہا تھا جس پر داجی کا قہقہہ بے ساختہ چھوٹا تو وہ بھی ہنسنے لگی۔ اسی پل عباس حیدر گلاس ڈور دھکیلتا اندر داخل ہوا۔
السلام علیکم! اس کی بھاری مردانہ آواز نے ایک پل کے لیے اس کی دھڑکنیں تھام لیں۔ وہ یک لخت سیدھی ہوئی تھی۔
آئو۔ آئو بیٹا! داجی بھی اٹھ کر اس سے مصافحہ کرنے لگے تو مریم کی نظریں یک دم اس کے بائیں ہاتھ پر پڑیںجس میں اس نے سبزرنگ کا چمکتا کارڈ پکڑا ہوا تھا۔
یہ انوی ٹیشن کارڈ دینے آتا تھا۔
اسے لگا ایک ہی پل میں اسے کسی نے آسمان سے دھکا دے کر نیچے گرا دیا ہو۔
شش شادی؟ اس کی ڈوبتی ہوئی آواز پر عباس حیدر نے چونک کر اسے دیکھا تو داجی ہنس دئیے۔
عباس کی تصویروں کی نمائش ہو رہی ہے۔ کس تاریخ کو ہے؟ وہ اسے جواب دے کر کارڈ کھول کر دیکھنے لگے تو پل ہی پل میں اس کے چہرے پر سکون و اطمینان کے ہزاروں رنگ ابھرے تھے۔ بے اختیار اس نے ایک گہری سانس لی تھی۔ چہرے پر بے اختیار خوشی کے رنگ جھلکے تھے جنہیں عباس حیدر نے دیکھ کر سر جھٹک دیا۔
مجھے نہیں دیا آپ نے انوی ٹیشن کارڈ؟ وہ اس کے سامنے بیٹھا تو وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا جبکہ وہ پہلے ہی اسے منتظر نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
میرے خیال میں آپ سردار صاحب کی پوتی ہیں۔ انہیں انوائٹ کرنا آپ کو انوائٹ کرنا ہی ہے۔ وہی روکھا پھیکا سپاٹ لہجہ۔
لیکن اگر علیحدہ سے انوائٹ کریں گے تو بات کچھ اور ہو گی۔
آپ کو اگر آنا ہوا تو اسی کارڈ پہ آپ چلی آئیں گی۔ اگر نہیں تو آپ کی مرضی۔ بے تاثر لہجے میں کہتے ہوئے اس نے شانے اچکائے تو اس کا دل سکڑ کر رہ گیا۔ وہ تو مروتاً بھی اسے منہ نہیں لگانا چاہتا تھا اور وہ پوری زندگی اس کے نام کرنے کا سوچے بیٹھی تھی۔ یہی سوچ کر اس کے اندر ایک شدید درد کی لہر ابھری تھی۔
اگلے پورے دودن وہ اس کی بے مروتی پہ کڑھتی رہی تھی اور ان دو دنوں میں وہ اسے جتنا سوچ رہی تھی اسی قدر دل ہمک ہمک کر اس کی چاہ کر رہا تھا۔ وہ اب پچھتا رہی تھی کہ وہ اس شام اس سے سوری کرنے کیوں گئی تھی۔ پہلے بھی تو وہ اس سے بدتمیزی کر چکی تھی۔ کیا ضروری تھا کہ وہ اس سے سوری ہی کرتی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ ایک بھاری لمحہ اس کی زندگی میں آ کر اس کی زندگی کو اپنی مرضی سے تہہ بالا کر چکا تھا۔ جس کی وجہ سے اب وہ نڈھال وبے بس بنی ہوئی تھی۔
اس کا لاکھ جی چاہا کہ وہ اپنی اس بے نام سی کیفیت سے جان چھڑا لے اس کیفیت کو جھٹلا دے۔ سختی سے انکاری ہو جائے لیکن محبت کو جھٹلا دینا بھلا کسی کے بس کا کام ہوتا ہے۔ وہ بھی اسے جھٹلا نہیں سکتی تھی۔
وہ پژمردہ اور مضمحل سی صورت لیے جھیل کے کنارے بیٹھی اس میں کھڑے پانی کو دیکھ رہی تھی۔ یہ جھیل پہلے ایک تالاب تھا۔ داجی نے پھر اس کے ساتھ ایک گرم پانی والا تالاب اور بنوا دیا اور مریم کو وہ دونوں تالاب اس قدر اچھے لگنے لگے کہ وہ انہیں جھیلوں سے تشبیہہ دینے لگی۔ اس کی دلچسپی محسوس کر کے داجی نے ان دونوں تالابوں کو ملا کر ایک کرا دیا اور پھر تھوڑی سی اور جگہ ساتھ ملا کر واقعی ایک مصنوعی جھیل کی شکل دے لی۔ اس مصنوعی جھیل کے گرد انہوں نے ہر قسم کی بیلیں پھول‘ پودے اور درخت لگوادئیے تھے جس سے اس جھیل کا مصنوعی پن بالکل قدرتی نظر آنے لگا اور مریم کو اس جھیل سے اس قدر لگائو اور پیار تھا کہ اس نے اس میں چلانے کے لیے اسپیشل قسم کی کشتی بھی بنوا لی اور اب وہ ہرروز اس میں بیٹھ کر اس مصنوعی جھیل کے مزے لیتی تھی۔ وہ اس وقت یہاں بیٹھ کر اپنے اندر تروتازگی پہنچانا چاہتی تھی لیکن ٹھہرے ہوئے پانی سے اسے کچھ خاص افاقہ نہ ہوا۔ اسے بھی اپنا آپ بالکل اسی جھیل کی طرح ایک ہی جگہ ٹھہرا ہوا لگ رہا تھا۔
ٹھنڈی سرد ہوائیں اپنے زوروں پر تھیں اور نیلا آسمان اب تیزی سے اپنا رنگ بدلتا جا رہا تھا۔ شاید بارش ہونے کا امکان تھا۔ وہ پانی پر سے نظریں ہٹا کر اوپر دیکھنے لگی۔ پھر ایک گہری سانس لیتی وہاں سے اٹھ گئی۔ وہ ابھی تک واپس نہیں لوٹا تھا۔ وہ لکڑی کا دروازہ دھکیلتی اندر چلی گئی۔ کچھ دیر یوں ہی نچلی سیڑھیوں پہ کھڑی رہی پھر کچن میں چلی گئی۔ اپنے لیے کڑک چائے کا ایک کپ بنایا اور پھر نجانے من میں کیا آیا کہ اوپر جاتا زینہ طے کر گئی۔
اس کے کمرے کے دروازے پر ہلکا سا ہاتھ مارا تو وہ پورے کا پورا کھل گیا۔ اندر سے آتی کلون کی مہک کا جھونکا اس سے ٹکرایا تو اس کی سانسیں اتھل پتھل ہو کر رہ گئیں۔ وہ سانسوں کی بے ترتیبی سنبھالتی اندر بڑھ گئی۔ وہ بڑے عرصے بعد اس کمرے میں آئی تھی اور جب سے یہاں عباس حیدر آیا تھا وہ یہاں شاید ایک بار بھی نہ آئی تھی۔
اب وہ دیکھ سکتی تھی کہ اس کمرے کا حلیہ پہلے سے زیادہ بگڑا ہوا تھا۔ جابجا الٹی سیدھی تصویریں پڑی تھیں۔ کتابوں کا بھی کوئی خاص ٹھکانہ نہ تھا۔ بیڈ شیٹ آدھی نیچے لٹکی ہوئی تھی اور آدھی اوپر سجی ہوئی تھی۔ سرخ مخملیں کمبل صوفے کی پشت سے لپٹا ہوا تھا۔ کھڑکیوں اور دروازوں کے پردے اپنی اصلی رنگت سے محروم لگ رہے تھے۔ پورے کمرے میں کوئی کاغذ ادھر بکھرا تھا اور کوئی ادھر۔ اس کے بوٹوں کے جوڑے بے ترتیبی سے بیڈ کے پاس ہی پڑے تھے۔ کپڑوں کی الماری کے پٹ زبردستی بند کرنے کی کوشش میں آدھے کپڑے باہر کا نظارہ کر رہے تھے۔ نیچے فرش پہ ٹائیوں اورجرابوں کا ڈھیر لگاہوا تھا۔
توبہ اتنا ڈیسنٹ بندہ اور کمرے کی حالت یہ وہ کمرے کی خوب صورتی دیکھ حیران ہی تو رہ گئی تھی۔ پھر وہیں کھڑے کھڑے کچھ سوچنے لگی۔ چائے کا کپ سامنے میز پر ہی رہنے دیا اور دوپٹہ اتار کر دروازے کے اوپر ڈال دیا اور پھر جو ایک‘ دو‘ تین کر کے شروع ہوئی تو رکنے کا نام نہ لیا اور ٹھیک ڈیڑھ دو گھنٹے بعد کمرہ اپنے رنگ وروپ میں واپس آ گیا تھا اور وہ اپنے رنگ‘ روپ سے واپس جا چکی تھی لیکن وہ اس کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے مطمئن سی سارے کمرے پر طائرانہ نظر ڈالتے ٹھنڈی چائے کا کپ اٹھا کر باہر نکل گئی۔
اب اس کا ارادہ کپ کچن میں رکھ کر واپس جانے کا تھا۔ اسی لیے وہ کچن کی جانب بڑھی تھی۔ ابھی وہ دروازے میں ہی تھی جب اس کا ٹکرائو اندر سے نکلتے عباس حیدر سے ہو گیا۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا کپ اچھل کر اس کے سینے سے لگا تو اس میں موجود ٹھنڈی چائے نے اس کی سفید شرٹ پہ اپنے نقش ونگار بنا دئیے۔ وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹی تو کپ کے فرش پر گرنے کی آواز پورے کمرے میں گونج کر رہ گئی۔ عباس حیدر نے بہت غصے سے اس کی طرف دیکھا اور پھر کچھ کہتے کہتے نجانے کیوں لب بھینچ گیا۔
آ آئم سوری وہ وہ
اٹس اوکے۔ شاید اس نے دانت کچکچا کر کہا تھا تب ہی تو آواز میں کہیں ٹھہرائو نہ تھا۔ وہ اتنی نادم ہو گئی تھی کہ سر اٹھا کر اوپر نہ دیکھا۔ وہیں کھڑی لب کچلتی رہی نجانے کتنی دیر ہو گئی۔ وہ وہاں سے نہ ہٹی۔
آپ میرے کمرے میں کیوں گئیں؟ اچانک پیچھے سے اس کا سلگتا لہجہ اسے سنائی دیا تو وہ اچھل کر رہ گئی۔ شاید وہ کمرے سے بھی ہو آیا تھا۔ آپ کو اتنا بھی سینس نہیں کہ بغیر اجازت کے کسی کے کمرے میں نہیں جاتے۔ وہ انتہائی مشتعل لگ رہا تھا۔ ایک پل کے لیے اس کے لب ہلے مگر آواز اندر ہی گھٹ کر رہ گئی۔
بے شک یہ گھر آپ کا ہے لیکن اس وقت یہاں میں رہ رہاہوں۔ عجیب کاٹ دار لہجہ تھا اس کا وہ بلبلا کر رہ گئی۔
وہ کمرہ بہت گندہ تھا۔
تو آپ کو اس سے کیا۔ یہاں آپ کو رہنا ہے یا مجھے۔ انتہائی ترش لہجے میں اس کی بات کاٹ کر بولا تو اس کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں۔ وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوا۔
پلیز آپ جائیں یہاں سے کچھ دیر بعد اس کی نہایت جھنجھلائی ہوئی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ جلدی جلدی پلکیں جھپکتی اوپر دیکھے بغیر باہر کی طرف دوڑنے کے انداز میں چل پڑی۔ پیچھے اس نے ایک گہری سانس لی تھی جس کی آواز پر دروازے سے پار ہوتے اس کے قدم ایک لمحہ کے لیے رک گئے۔ غیرارادی طور پر اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا وہ نجانے کیوں ہارے ہوئے جواری کی طرح آنکھیں موندے‘ لب کچلتا بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا۔ وہ رخ موڑ کر چل پڑی لیکن اس کے آنسو بہت تیزی سے اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔

وہ اس کی تصویروں کی نمائش میں گئی تھی لیکن ادھر بھی اسے اس کی بے رخی جھیلنی پڑی۔ وہ تصویریں دیکھتے ہوئے منتظر رہی کہ وہ اس کے پاس آئے گا کچھ اور نہ سہی اتنا تو کہے گا ہی اوہ آپ آ گئیں۔ لیکن وہ اس کی طرف آتا تو اسے کچھ کہتا ناں۔ وہ گاہے بگاہے خود ہی اس پر نظر ڈال کر دل کو راحت بخش رہی تھی لیکن دل بہت باغی ہوتا ہے صرف نظر پہ اکتفا نہیں کرتا۔ باربار اس کے لیے مچلنے لگا۔
شایدوہ بھی عباس حیدر کے منہ سے نکلتے ایک دو میٹھے الفاظ سننے کا تمنائی ہو رہا تھا۔ اسی لیے توباربار اس کی طرف ہمکنے لگا۔ اس کے ڈانٹنے ڈپٹنے کا بھی اس پر کوئی اثر نہ ہوا تو وہ بے بسی سے عباس حیدر کی طرف چلی آئی جہاں وہ کچھ لوگوں میں گھرانجانے کیا کر رہا تھا۔
پلیز پہلے مجھے کسی لڑکی کی سریلی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ وہ خود اور آگے بڑھی تو وہ لڑکی اپنی گلابی ہتھیلی عباس کے سامنے کیے ہوئے تھی۔ شاید اس کا ارادہ آٹوگراف لینے کا تھا۔
پلیز ڈونٹ مائنڈ۔ میں نے کبھی ہاتھوں پہ آٹو گراف نہیں دیا۔ وہ لڑکی کی طرف دیکھے بغیر بولا تو لڑکی کا منہ بن گیا جبکہ اس نے نامحسوس طریقے سے باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔ عباس حیدر نے ایک نظر اسے دیکھا تھا۔
رات اس نے داجی کو کہہ کر عباس حیدر کو ڈنر پر انوائٹ کیا تھا۔ وہ سارا دن بوا اور اس کی بیٹی کے ساتھ لگ کر اس کے لیے بہترین کھانا پکانے میں مصروف رہی تھی لیکن جب رات ہوئی تو وہ گھر ہی نہ لوٹا۔ داجی نے تو اتنا محسوس نہ کیا مگر وہ اس کی اس بے اعتنائی کو بھی پھانپ گئی تھی۔ ساری رات اس نے روتے گزاری تھی۔ تب ہی تو صبح اٹھنے پر سوجی آنکھیں پژمردہ چہرہ ہو چکا تھا۔ وہ اٹھ کر کھڑکی میں گئی تو اس کی گاڑی کھڑی نظر آئی۔ وہ ان ہی قدموں نیچے آ گئی۔ کسی کو بھی بتائے بغیر وہ اس کی جانب چلی گئی۔
وہ اس وقت آفس جانے کے لیے مکمل طور پر تیار لگ رہا تھا۔ وہ ڈور دھکیلتا بریف کیس پکڑے باہر نکلا تو وہ اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
رات آپ ڈنر پر کیوں نہیں آئے تھے؟ چھوٹتے ہی اس نے سوال داغا تو وہ ناگواری سے اسے دیکھنے لگا۔
میں کچھ بزی تھا۔ فی الفور اس نے اپنی ناگواری پر پردہ ڈالا۔
بزی تھے یا آنا نہیں چاہتے تھے؟ نہایت چبھتے ہوئے لہجے میں اس نے کہا تھا۔
آپ جو بھی سمجھ لیں۔ وہ کلائی موڑ کر گھڑی دیکھنے لگا۔
آپ اتنے بے حس کیوں ہیں؟
شاید آپ کو لگتا ہوں۔ اس نے کندھے اچکا کر بریف کیس دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا اور جیبیں ٹٹول کر گاڑی کی چابی برآمد کی۔
صرف مجھے نہیں لگتے آپ ہیں ہی بے حس۔ دانت پہ دانت رکھ کر کہا تھا اس نے۔
آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟ اسے چابی مل گئی تو وہ گاڑی کا لاک کھولنے لگا۔
بچے تو نہیں ہیں آپ‘ جو سب سمجھ نہ سکیں۔ وہ گرج کر بولی تو وہ گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
اگر ڈنر کا سردار صاحب نے اپنی طرف سے کہا ہوتا تو مجھے کیا اعتراض تھا۔
انہوں نے میرا کہا تھا اس لیے؟
ہاں کیوں کہ میں ایسی فضول اور بے تکی دعوتیں کھانے کا شوقین نہیں ہوں۔ وہ رکھائی سے بولا تو اس کا دل ایک بار پھر ہار گیا۔
عباس! میں نے صرف آپ کے لیے
مائنڈ اٹ۔ میں عورتوں کی دعوتیں قبول کرنے کا قائل نہیں ہوں۔
میں ان عورتوں میں سے نہیں ہوں جن کا پہلے آپ سے واسطہ پڑا ہے۔ وہ ٹوٹے لہجے میں بولی تھی۔
مختلف بھی نہیں ہیں۔ اس نے سر جھٹک دیا۔ ویل مجھے اجازت دیں۔ وہ بے مروتی سے کہتا گاڑی وہاں سے بھگا لے گیا۔
کتنے بے حس‘ بے مروت شخص ہو تم عباس حیدر۔ اس نے بہت دکھ سے سوچا تھا۔
موسم بہت خوشگوارتھا۔ وہ عقبی سیڑھیوں پہ بیٹھی کب سے رابعہ بصری کی شاعری کی کتاب مجھے تم سے محبت ہے پڑھ رہی تھی کہ اچانک ہوا کی سرشاری بڑھی تو وہاں سے اٹھ گئی۔
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو سامنے صوفے پر گھٹنوں پر سر دئیے بیٹھی مریم سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔ اسی پل اس کی آنکھیں اس قدر سرخ ہو کر سوج چکی تھیں کہ بے اختیاروہ نظریں چرا گیا۔ وہ ٹانگیں نیچے کر کے سیدھی ہو بیٹھی۔ وہ ہولے ہولے قدم اٹھاتا اس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ وہ سر جھکا گئی۔
سردار صاحب گھر پر ہیں؟ اس نے ناچاہتے ہوئے بھی اس سے پوچھا۔ اس نے گردن نفی میں ہلا دی۔
ان کی گاڑی تو باہر کھڑی ہے۔
وہ شہر سے باہر گئے ہیں۔ گاڑی لے کے نہیں گئے۔
ان کی گاڑی کی چابی تمہارے پاس ہے؟ اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ وہ دراصل میری گاڑی میرے دوست کے پاس ہے اوروہ اس وقت لاہور گیا ہوا ہے مجھے ایمرجنسی گاڑی چاہیے۔
خیریت ہے؟
نہیں ہاں ہاں۔
آپ میری گاڑی لے جائیں۔ اس نے سرعت سے اٹھ کر کارنر ٹیبل پر سے چابی اٹھا کر اس کے ہاتھ پہ رکھ دی۔ وہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ پھر کچھ سوچ کر خاموش ہو گیا۔
ہو سکتا ہے میں دوتین دن تک واپس نہ آ سکوں اور تمہاری گاڑی
نوپرابلم اس نے تیزی سے کہا مبادہ چابی واپس ہی نہ کر دے۔ وہ سر ہلاتا اس کا شکریہ ادا کرتا انہی قدموں واپس چلا گیا۔ وہ گہری سانس لے کر اس کی خوشبو اپنے اندر اتارتی دیوار کے ساتھ لگ کر کھلے دروازے کو دیکھنے لگی جہاں سے کچھ دیر قبل وہ گزر کے گیا تھا۔
وہ تین دن کو کیا اگلے چار پانچ دن تک واپس نہیں لوٹا تھا۔ اسے بے چینی ہو گئی تھی کہ وہ اب تک کیوں واپس نہیں لوٹا۔ اسے اب یاد آ رہا تھا کہ اس دن عباس حیدر کے چہرے پر غیرمعمولی سی پریشانی جھلک رہی تھی لیکن اس دن وہ اپنی پریشانی میں اس کے چہرے کو صحیح طرح کھوج ہی نہ سکی اور اب رہ رہ کر اس کا اداس اداس اور پریشان پریشان سا چہرہ نگاہوں میں گھوم رہا تھا جس پر لمحہ لمحہ وہ بھی فکرمند ہوتی جا رہی تھی۔
داجی نے فون کر کے اسے اس کے رزلٹ آنے کا بتایا تو وہ اپنے کامیاب ہونے پر صحیح طرح خوش بھی نہ ہو سکی بس ذہن تھا کہ عباس حیدر کی پریشانی میں ہی اٹکا ہوا تھا۔
بیٹا! کب مارکس شیٹ لینے جا رہی ہو؟ صبح ناشتے کی ٹیبل پر داجی نے اس سے پوچھا تو وہ ہونٹ چبانے لگی وہ فکرمندی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگے۔
کیا بات ہے داجی کی جان! کیا اپنی کامیابی پر خوش نہیں؟
داجی! وہ عباس حیدر
اس کے منہ سے نجانے کیا پھسلنے لگا تھا کہ داجی کا قہقہہ چھوٹ گیا۔
نہیں کرتا وہ تمہاری گاڑی کو کچھ۔ لے آئے گا بخیریت اور حفاظت سے۔ اس میں اتنا پریشان ہونے والی کون سی بات ہے۔ داجی نے اس کی بات کو جیسے مذاق میں اڑایا تھا وہ پزل سی ہو گئی۔
اگلے دن وہ یونیورسٹی ٹیکسی میں گئی لیکن واپس آنے سے پہلے ہی موسم خراب ہو گیا۔ صبح جب وہ گھر سے نکلی تھی موسم ابر آلود ضرور تھا لیکن اتنا بے ایمان نہیں لگ رہا تھا لیکن اب بارش کی بوچھار نے اسے بوکھلا کے رکھ دیا۔ وہ خالی سڑک پر کھڑی بھیگتے ہوئے کسی ٹیکسی کے آ جانے کی دعا ہی مانگ سکتی تھی۔ سو وہ یہ کام پچھلے ایک گھنٹے سے کر رہی تھی لیکن اس کی دعا میں شاید آج کوئی تاثیر نہیں تھی تب ہی تو بارش تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔ اس کا بس نہ چل رہا تھا کہ اس بارش کے غبار میں وہ جادو کی چھڑی گھما کر یہاں سے غائب ہو جاتی۔ وہ صبح سردی محسوس کرتے ہوئے بھی اپنے ساتھ گرم شال نہیں لائی تھی اب جو دوپٹہ تھا اس سے بھی پانی نچڑ رہا تھا اور سردی تھی کہ بارش کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ وہ کانپتے ہوئے ایک گھنے درخت کے نیچے آ کھڑی ہوئی پھر سڑک پر دور تک نظر ڈالی لیکن نظر مایوس ہی لوٹی۔
ستیا ناس ہو میرا ضروری تھا آج ہی گھر سے نکلنا۔ وہ کوئی چارہ نہ ہوتے ہوئے اپنے آپ کو کوسنے لگی۔ گیلی گھڑی پہ ٹائم دیکھناچاہا لیکن گھڑی پر پانی جم چکا تھا۔ اس نے گھڑی اتار کر اس پر سے پانی صاف کیا تو چھوٹی سوئی ساڑھے چار پر کھڑی نظر آئی۔ اب نجانے سوئی آگے ہو گئی تھی یا پیچھے لیکن اس کی پریشانی میں اضافہ ضرور ہو گیا تھا۔
یا اللہ! اب میں کس طرح گھر جائوں؟ طوفانی بارش میں ایک سڑک کے علاوہ آگے کا راستہ بھی تو دکھائی نہ دے رہا تھا۔ آگے پیچھے کوئی عورت تو کیا کوئی مرد بھی نظر نہ آ رہا تھا۔ نہ صرف راستہ سنسان تھا بلکہ ماحول بھی تو پراسرار ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے اندر کی ڈرپوک اور بزدل سی لڑکی انگڑائی لے کر بیدار ہوئی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ پہلے تو وہ صرف بارش کی وجہ سے خوف زدہ تھی لیکن اب اسے اپناتنہا ہونے کا احساس ہوا تو مارے ڈر کے اس کی نظر ہی آگے پیچھے نہ گئی۔ درخت کے پتوں سے بھی پانی گرنے لگا تو وہ اپنا چہرہ صاف کرتی رسٹ واچ پر نظر ڈالی ڈرتے ڈرتے درخت کے نیچے سے نکل آئی کہ اس طرح کھڑے رہنے سے اسے کچھ حاصل نہ ہونا تھا۔ اچھا تھا وہ تھوڑا آگے جا کے کوئی بس وغیرہ پکڑتی اور رات ہونے سے پہلے گھر پہنچ جاتی۔
ابھی وہ چار پانچ قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس کا دل دھڑک کر رہ گیا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کا دل حلق میں آن بیٹھا۔ اس کی دلدوز چیخ نے اس ماحول میں سنسنی کو توڑا تھا۔
وہ اپنے پیچھے سیاہ رنگ کے موٹے تازے کتے کو دیکھ کر جیسے اپنے حواس ہی کھو بیٹھی کہ اچانک کتا بھونک اٹھا وہ ایک دم ہوش میں آئی۔ کندھے سے لپٹے بیگ پر ہاتھ کی گرفت مضبوط کی اور سامنے دوڑ لگا دی۔ بھونکتا ہوا کتا بھی اس کے پیچھے دوڑ پڑا۔ اس کے منہ سے چیخ پہ چیخ نکلتی چلی گئی جبکہ آنکھوں سے آنسو بڑی روانی سے جاری تھے اور باربار آنکھوں کے سامنے پانی آنے سے اسے دوڑنے میں دقت پیش آ رہی تھی۔ کتے کا بھونکنا مسلسل جاری تھا اور اس کا رونا عروج پر تھا۔ دوڑتے ہوئے نجانے کتنی سڑکیں وہ پار کر آئی تھی کہ اچانک دوڑتے ہوئے سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکرا گئی۔کتے نے اس تک پہنچنے کی ایک ہی چھلانگ لگائی تھی۔
مریم کوئی تیزی سے گاڑی سے نکلا۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا پھر کسی کو اپنے سامنے دیکھ کر اسے نجانے کیا ہوا کہ وہ اس کے ساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ کتا وہیں کھڑا ہو گیا۔
کیا ہو گیا ہے مریم تم یہاں اس طرح عباس نے اسے اپنے بازوئوں کے گھیرے میں لے لیا تھا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے گرم سینے پر سر رکھے اس کے وجود میں چھپنے کی کوشش کرتی رہی اور اس کے کالر پر اس کی مٹھیاں مضبوط ہوتی چلی گئیں۔
چلو گاڑی میں بیٹھو۔ وہ اس کے ساتھ خود بھی بھیگ رہا تھا اسی لیے اس کے گیلے بالوں پر تھپکی دے کر اسے خود سے علیحدہ کرنا چاہا لیکن اگلے ہی پل اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس کی گردن ایک طرف لڑھک گئی تھی۔
اسے جب ہوش آیا کوئی ہولے ہولے اس کا چہرہ تھپتھپا رہا تھا۔ آنکھیں موندے موندے ہی اسے وہ تمام واقعہ یاد آ گیا۔ اسی لیے چاہتے ہوئے بھی وہ آنکھیں کھول نہ سکی۔
مریم مریم اس کے گال پہ ہولی ہولی تھپکیاں دیتا کوئی اسے پکار بھی رہا تھا۔ وہ اس آواز کو پہنچانتی تھی لیکن لبیک نہیں کہہ سکتی تھی کیونکہ یہ آواز اسے اپنا وہم لگ رہی تھی اور وہ آنکھیں کھول کر کسی خطرے کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
مریم! آنکھیں کھولو۔ اسے ایک بار پھر وہی آواز سنائی دی۔ وہ اسے بھی اپنا وہم قرار دے دیتی جو اگر اسے اپنے چہرے پر گرم گرم سانسیں محسوس نہ ہوتیں۔ اس نے آہستہ سے آنکھیں کھول دیں۔ وہ اس کے چہرے پر جھکا ہوا تھا۔ اسے آنکھیں کھولتے دیکھ کر مسکرا دیا۔
عباس۔
اس نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔ کمرے میں پھیلی مدھم سی روشنی میں اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو چھوا جیسے یقین کر لینا چاہتی ہو کہ اس پل اس کے پاس وہی ہے۔
عباسوہ وہ میرے پیچھے اس کی موجودگی محسوس کر کے جیسے وہ اپنے اوپر سے تمام تر اختیار کھو بیٹھی۔ اس سے لپٹ کر جو رونا شروع ہوئی تو اس کے باربار پچکارنے پر بھی چپ نہ ہوئی۔ اس کا سر تھپکتے ہوئے اس نے نجانے کتنی تسلیاں‘ دلاسے اسے دئیے مگر وہ اس سے علیحدہ ہی نہ ہو سکی۔
بی بریو مریم! ایسے تو بچے بھی نہیں ڈرتے۔ وہ اسے نرمی سے خود سے الگ کر کے اس کے گال صاف کرنے لگا لیکن اس کے آنسو تھے کہ اب تک ختم ہونے کا نام نہ لے رہے تھے۔
بہادر بنو مریم! چھوٹی چھوٹی باتوں سے ڈر جانا تو بزدلی ہے۔ وہ مسلسل مسکراتے ہوئے اسے پچکار رہا تھا۔
پانی پیئو گی؟ وہ اس سے پوچھ کر خود ہی بائیں طرف مڑ کر کارنرٹیبل پر پڑے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلنے لگا۔ وہ آنسو صاف کرتی سامنے کھلی کھڑکی کو دیکھنے لگی پھر ایک دم سے وہ اچھل پڑی۔
عباس ہم ہم کہاں ہیں؟ وہ دیکھ سکتی تھی کہ یہ کمرہ اس کے لیے قطعی اجنبی تھا۔ وہ تیزتیز دائیں بائیں نظریں گھمانے لگی۔ باہر شاید ابھی بھی بارش جاری تھی تب ہی تو کھلی کھڑکی سے تیز ہوا کے ساتھ پانی کے کچھ کچھ چھینٹے اندر آ رہے تھے۔
یہ ہوٹل ہے۔ جب تم بے ہوش ہوئیں تو میں تمہیں گھر لے جانے کی بجائے ہسپتال لے جانا چاہ رہا تھا لیکن راستے میں گاڑی خراب ہو گئی۔ اتنے اندھیرے میں نہ آگے کا راستہ نظر آ رہا تھا اور نہ پیچھے کا۔ ادھر تم بے ہوش تھیں‘ ادھر گاڑی خراب۔ میں بے بس سا ہو کر رہ گیا۔ ہاسپٹل بہت دور تھا۔ اگر میں تمہیں وہاں اٹھا کر بھی لے جانا چاہتا تو پھر بھی پہنچ نہ پاتا کہ بارش بہت تیز تھی۔ اسی لیے مجبوراً مجھے کسی قریبی ہوٹل کا سہارا لینا پڑا اور پھر یہیں ایک ڈاکٹر صاحب مل گئے جس کے نتیجے میں اب تم ہوش میں ہو۔اسے تفصیلی جواب دے کر اس کے ہونٹوں سے پانی کا گلاس لگا دیا۔
آپ کو میری وجہ سے اتنی پریشانی اٹھانی پڑی۔ پانی پینے کے بعد وہ ندامت سے بولی تو وہ گلاس دوبارہ ٹیبل پر رکھ کر مسکرادیا۔
نوپرابلم اب تم لیٹ جائو۔ ڈاکٹر نے آرام کرنے کی تلقین کی ہے۔ وہ اس کے پاس سے اٹھتے ہوئے بولا تو وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ وہ کھڑکی بند کرنے لگا۔
یہ ہوٹل صرف کپلز کے لیے ہے۔ اب مجھے بھی مجبوراً یہیں کہیں سونا پڑے گا کیونکہ میں نے انتظامیہ کو اپنا اور تمہارا تعارف مجبوری کے تحت کچھ اور طریقے سے کرا دیا ہے۔ اس نے سر جھکا کے اسے بتایا تو وہ ایک بار پھر شرمندہ ہو گئی کہ اسے اس کی خاطر کتنی مشکلات اٹھانی پڑی تھیں۔
آپ یہاں سو جائیں میں نیچے سو جاتی ہوں۔ اسے نیچے لیٹا دیکھ کر وہ کہے بغیر نہ رہ سکی۔
نوبراپلم صوفے پر لیٹے ہوئے مجھے تکلیف ہوتی ہے اسی لیے کارپٹ پر سو رہا ہوں۔ سر کے نیچے سرہانہ رکھتے ہوئے وہ نارمل انداز سے مسکرایا۔
لیکن اتنی سردی؟
کوئی بات نہیں۔ وہ مزے سے کہہ کر آنکھیں موند گیا جبکہ وہ لب کاٹتی رہ گئی۔
کمرے میں اس کے آہستہ آہستہ خراٹے گونج رہے تھے جبکہ وہ ابھی تک سو نہ پائی تھی۔ اس لیے نہیں کہ جگہ اجنبی تھی بلکہ اس لیے کہ وہ اسے گرم بستر پر لٹا کر خود نیچے چادر کے بغیر سردی میں پڑا تھا۔ پھر وہ کیسے سو پاتی۔ گرم بستر میں بھی پڑی وہ‘ اس کے جسم کے آرپار ہوتی شدید سردی اپنے اوپر طاری ہوتی محسوس کر رہی تھی۔کروٹ بدل کر اسے دیکھا تو وہ ایک گال کے نیچے ہاتھ رکھے نیند کی وادیوں میں اترا ہوا تھا۔ وہ کچھ پل اسے اسی طرح دیکھتی رہی۔ ٹھنڈے ٹھنڈے فرش اور ٹھنڈے کمرے کو محسوس کرتی رہی اور بے بسی سے لب کاٹتی رہی۔ کچھ کر جو نہ سکتی تھی۔ بس خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ کچھ دیر بعد کسمسایا تو وہ چونک اٹھی۔ شاید سخت سردی کی شدید لہروں نے اس کے اندر پھریری بھری تھی۔
وہ کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر اٹھی اور کمبل اٹھا کر اس کے اوپر ڈال دیا۔ ابھی وہ کمبل سیدھا کر رہی تھی کہ کسمسا کر اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ شاید اسے کمبل کی گرمی اور نرمی محسوس ہو گئی تھی۔ تب ہی توآنکھ کھل گئی تھی۔ ابھی وہ اسے صحیح طرح دیکھ بھی نہ پایا تھا کہ کمبل سیدھا کرتے ہوئے اس کا گرم ہاتھ اس کے سرد اور ٹھنڈے ٹھار سینے سے ٹکرا گیا۔ بس ایک لمحے کی بات تھی۔ اس کے سینے پر لگایا ہاتھ واپس نہ آ سکا۔ اس نے اپنا یخ بستہ ہاتھ اس کے گرم ہاتھ پر رکھ دیا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ ایک پل میں اس کا توازن بگڑا تھا اور وہ اس کے سینے پر آن گری۔ عباس حیدر نے اس کی نازک کمر کے گرد اپنی گرفت کر لی جو لمحہ بہ لمحہ مضبوط ہوتی چلی گئی۔ وہ پھڑپھڑا بھی نہ سکی۔

بہت خاموشی سے اس کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر گرے تھے۔ بیک مرر سے جھانکتی عباس کی سیاہ آنکھیں وہیں جھک گئیں۔ اس وقت وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا جبکہ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی سے سر ٹکائے ایک ہارے جواری کی طرح لگ رہی تھی۔ گاڑی رکی تو وہ آنکھیں کھول کر دیکھنے لگی۔ وہ اسٹیئرنگ پر ہاتھ دھرے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ وہ گردن موڑ کر باہر دیکھنے لگی دو اور موتی گالوں پر بہہ نکلے تھے۔
کل جب اس نے یہاں سے باہر قدم رکھے تھے تو کس قدر مکمل عورت تھی اور آج آج وہ کل والی عورت کہاں چھوڑ آئی تھی۔ ایک ہی رات میں وہ مکمل عورت اس کے اندر سے بھاگ گئی۔ کیا ایک رات کا بھاری لمحہ انسان سے اس کا غرور اس کی انا اس کا فخر سب کچھ چھین سکتا ہے۔ کیا ایک ہی لمحہ سب کچھ چھین سکتا ہے؟
اس پل اس کا جی چاہا پھوٹ پھوٹ کر رودے۔
وہ شخص سر جھکائے بیٹھا تھا اور وہ سر جھکاتی بھی تو حقیقت سے نظر نہیں چرا سکتی تھی۔ بے اختیار اس کی آنکھوں سے پانی چھلک پڑا۔ پانی روکنے کی کوشش میں اس کی سسکی بھی نکل گئی۔ وہ نچلا ہونٹ چباتا سر اٹھا کر بیک ویومرر میں دیکھنے لگا۔
عباس میں نے آپ سے محبت کی تھی۔ بہت بے بسی سے گلوگیر لہجے میں کہتی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ وہ وہیں ہونٹ چباتا مرر میں اس خالی سیٹ کو دیکھتا رہا جہاں سے کچھ دیر قبل وہ اٹھ کر گئی تھی۔
اسے پتہ بھی نہ چلا اس کے نچلے ہونٹ سے خون بہہ نکلا تھا۔

کیا؟ بوا کی بات پر داجی کو لگا جیسے انہوں نے کچھ غلط سن لیا ہو۔ اسی لیے عینک اتار کر بوا کو دیکھنے لگے۔
سردار صاحب! اتنی حیرانگی والی کون سی بات ہے؟ پتھر وہیں آتا ہے جہاں بیری ہو۔
لیکن بلقیس بی بی! آپ بات کس کی کر رہی ہیں؟
اے لو۔ سننے والے نے ہیر پوری رات سنی اور صبح اٹھ کے کہا کہ ہیر کون ہے؟ بوا تو سمجھو برا ہی مان گئی تھیں۔ ارے میں اپنے عباس حیدر کی بات کر رہی ہوں۔ اس نے اتنی چاہ سے مجھے بلایا اور مجھے اپنا بڑا ہونے کا مان دے کر آپ کے پاس مریم کا ہاتھ مانگنے بھیجا اور آپ کو پھر بھی کھدپھد ہو رہی ہے۔
یہی تو بلقیس بی بی! قابلِ تشویش بات ہے کہ کہاں تو عباس لڑکیوں سے خار کھاتا ہے اور کہاں مریم کے لیے رشتہ بھیج دیا۔
اے لو میاں۔ مرد کا دل بدلنے میں کون سی دیر لگتی ہے۔ لگ گئی ہو گی اسے ہماری مریم اچھی اسی لیے تو اس کے لیے کہلا بھیجا ہے۔ آپ تو جانتے ہیں اسے۔ اس کی شرافت آپ سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جو کرتا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ جو جانچ پڑتال کرنی ہے اس کے آفس والوں سے کر لیں۔ بوا تو جیسے ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتی تھیں۔
میرا یہ کہنے کا مطلب نہیں تھا بلقیس بی بی۔
ہاں میں جانتی ہوں آپ کے اندیشے لیکن سردار صاحب اگر وہ شریف سا بندہ پہل کر رہا ہے تو آپ کو ہاں کہہ دینی چاہیے۔ خوش قسمتی باربار دروازے پر دستک نہیں دیتی۔
مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے بھلا لیکن پھر بھی مومو سے تو پوچھنا ہی پڑے گا۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولے۔
پھر کب تک جواب دیں گے؟ بوا پرامید ہوئیں۔
کل یا پرسوں بوا کی باچھیں کھل اٹھیں۔ رات جب وہ اس کے کمرے میں آئے تو وہ کمرے میں اندھیرا کیے لیٹی تھی۔ وہ لائٹ آن کرنے لگے تو اس نے منع کر دیا۔
داجی پلیز مجھے روشنی سے تکلیف ہوتی ہے۔
میری جان کیا بات ہے پچھلے پندرہ بیس دنوں سے میں تمہیں ایسے ہی دیکھ رہا ہوں۔ کیا پریشانی ہے میری جان؟ وہ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے پوچھ رہے تھے جبکہ وہ کچھ نہیں کے علاوہ کچھ نہ بولی۔ وہ اس کے پاس بیٹھے نجانے کتنی دیر تک باتیں کرتے رہے تھے۔ اس نے ہوں‘ ہاں کے علاوہ کوئی جواب نہ دیا۔
تم سے ایک اور بات بھی کرنا تھی؟ وہ اس کی بے توجہی محسوس کیے بغیر بولے۔
ہوں اس نے پھر ہوں کیا۔
عباس حیدر کیسا ہے؟ وہ سر اٹھا کر انہیں دیکھنے لگی۔ اس نے تمہیں مجھ سے مانگا ہے۔
آپ انہیں ہاں کہہ دیجیے اگر آپ مناسب سمجھیں تو وہ کروٹ لے گئی تو وہ حیران نظر سے اسے دیکھنے لگے۔ پھر کچھ دیر یوں ہی اسے دیکھتے رہے پھر ان کے لب مسکرا دئیے۔
لگتا ہے ادھر بھی دال میں کچھ کالا ہے۔ وہ مطمئن شاداں شاداں سے وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ نہیں جانتے تھے ان کے پیچھے وہ اندھیرا کمرہ سسکیوں سے گونج اٹھا تھا۔
اگلا مرحلہ کیسے اور کتنے دنوں میں طے ہوا تھا اسے کچھ ہوش نہ تھا۔ ہوش تو اسے تب بھی نہ آیا تھا جب اسے عباس حیدر کے کمرے میں بٹھایا گیا تھا۔
مانا کہ لڑکیاں اپنی شادیوں پر تھک جاتی ہیں لیکن تم تو کچھ زیادہ ہی تھکی ہوئی لگ رہی ہو حالانکہ اپنی شادی پر تم نے خود شاپنگ تک نہیں کی۔ بوا کو اس کا بیزار بیزار چہرہ کچھ خاص نہ بھایا تھا تب ہی تو ٹوک دیا۔
منہ پر بارہ تو ایسے بجائے ہوئے ہیں جیسے ہم نے زبردستی تمہیں بیاہ دیا ہو۔ ارے بی بی میں بھی شادی شدہ ہوں اور آپ واقف ہیں سلطان سے محبت کے بعد ہی اس کی بیوی بنی تھی۔ جانتی ہوں میں بھی محبت وحبت کیسے ہوتی ہے اور آپ کی محبت سے تو بہت پہلے ہی واقف ہو گئی تھی۔ اب اتنا بھی نہیں کہ یہ جان نہ سکوں کہ آپ کی اس شادی میں مرضی ہے یا نہیں۔ بوا کی بیٹی شنو نے شرارت سے اسے چھیڑا تو وہ مسکرا دی۔ وہ دونوں ماں بیٹی اسے آرام سے بٹھا کر چلی گئیں تو وہ لب کچلتی سامنے لگے قدِآدم آئینے میں جھلکتے اپنے عکس کو دیکھنے لگی۔
وہ سر سے پائوں تک سجی ہوئی تھی۔ زندگی میں کبھی اس نے اتنا زیادہ تیز میک اپ نہیں کیا تھا۔ وہ بخوبی یہ دیکھ سکتی تھی کہ آج اس نے خوب صورت لفظ کو بھی مات دے دی تھی۔ اگر اس کے ساتھ وہ بدصورت حادثہ نہ ہو گیا ہوتا تو یقیناً آج وہ اپنا حسن دیکھ کر خود بے ہوش ہو جاتی۔
آئینے پر سے نظریں ہٹا کر اس نے اپنے دل میں جھانکا تو وہاں دور تک خاموشی کا راج تھا۔ حالانکہ یہ دن آنے کے لیے اس نے کتنی دعائیں مانگی تھیں اور آج جب یہ دعائیں پوری ہوئی تھیں تو وہی خوش نہ تھی۔ بے اختیار اس کا جی چاہا اپنے حسن کونوچ ڈالے۔ ساری خوب صورتی کو بکھیر ڈالے۔ عباس حیدر میری محبت کا تو کچھ احساس کر لیتے۔ اس کے لیے سجائے گئے اپنے رنگ وروپ کو اس نے ذرزیدہ نظروں سے دیکھا اور پھر بے دردی سے ہر چیز نوچ ڈالی اور اپنا روپ بگاڑ ڈالا۔ اپنے بال‘ اپنا چہرہ‘ اپنا دوپٹہ سارے زیور حتیٰ کہ سیج کے سجائے ہوئے پھول بھی مسل ڈالے۔
وہ جب کمرے میں آیا تو وہ بیڈ کے کرائون سے سر ٹکائے سو رہی تھی۔ دوپٹہ بیڈ کے نیچے پڑا تھا اور تمام زیورات بیڈ کے اوپر بکھرے تھے۔ پھولوں کی لڑیوں سے سجائی گئی سیج اب نیچے پڑی مسلی پتیوں کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے کھلے بکھرے بال‘ بالوں میں سجے چنبیلی موتیے کے پھول اپنے ساتھ ہوئی زیادتی پر دہائی دے رہے تھے۔
وہ لب بھینچ کر آگے بڑھا اور آہستہ سے اس کا بھاری دوپٹہ اٹھا کر اس کے اوپر ڈال دیا۔ پھر اتنی ہی آہستگی سے اس نے بیڈ پر بکھرے تمام زیورات سمیٹے اور ٹیبل پر رکھ دئیے۔ سرہانے پر پڑے ٹوٹے گجروں کو ساتھ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اس کے دائیں طرف لیٹتے ہوئے اس کی نظر بے اختیار اس کے گلابی گالوں پر پڑی تھی جہاں آنسوئوں کے مٹے مٹے نشان اب بھی باقی تھے۔ بے اختیار اس کا ہاتھ اس کے گال کی طرف گیا تھا۔ ان مٹے مٹے آنسوئوں کے نشانوں پر بہت آہستگی سے وہ انگلیاں پھیرنے لگا۔
سردار صاحب کے دوست برہان صاحب نے رات انوائٹ کیا ہے۔ میرے آنے تک تم تیار رہنا۔ بال بناتے ہوئے اس نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا۔ وہ کمرے میں پڑی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔ وہ شیشے میں اس کے عکس کو کچھ دیر دیکھتا رہا پھرکوئی جواب نہ پا کر سر جھٹک کر ٹائی کی ناٹ درست کی‘ چشمہ اٹھا کر آنکھوں سے لگایا اور بریف کیس کو کھول کر ایک بار دیکھا اور پھر اٹھا کر باہر نکل گیا۔
پچھلے پندرہ دنوں سے اس کا یہی معمول تھا۔ وہ جواب دینا تو درکنار سر تک نہ ہلاتی۔ وہ بھی اسے کم ہی بلاتا تھا جانتا تھا جواب نہیں ملے گا۔
شام کو وہ تیار ہو گئی تھی لیکن وہی جلد نہ لوٹا اور جب واپس لوٹا تب تک وہ اس کا انتظار کرتے کرتے سو چکی تھی۔
لگتا ہے یہ دعوت پر جانے کے لیے تیار ہو گئی تھی۔ میں نے خواہ مخواہ برہان صاحب کو انکار کر دیا۔ اس پر کمبل اوڑھاتے ہوئے اس نے سوچا تھا۔
کچن میں گیا تو وہاںخالی ڈونگے منہ چڑا رہے تھے۔
تو یہ بھوکی سو گئی؟ اس نے کچھ نہ کھایا تھا۔ وہ اپنے لیے کس لیے تردد کرتا۔ پانی پی کر خاموشی سے واپس لوٹ آیا لیکن دروازہ کھولتے ہی اس کی نظر اس پر پڑی تھی۔ وہ کیچر میں بال سمیٹ رہی تھی۔ ایک پل کے لیے دونوں کی نظریں ملی تھیں پھر وہ اٹھ کر اس کے پاس سے ہوتی ہوئی باہر نکل گئی۔ ٹھیک آدھے گھنٹے بعد وہ واپس لوٹی تھی۔ وہ جو ٹی وی آن کر کے بیڈ پہ بیٹھ گیا تھا۔ نظریں گھما کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ ہاتھ میں پکڑی کھانے کی ٹرے اس کے سامنے رکھ کر واپس پلٹ گئی۔
اتنا خیال ہے؟ ٹی وی پر دوبارہ سے نظریں جماتے ہوئے اس نے سوچا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ پانی کا جگ بھی لے آئی۔ اس کے سامنے رکھ کر واپس پلٹنے ہی لگی تھی جب اس نے اس کے ہاتھ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ دیا۔ وہ جیسے کرنٹ کھا کر اسے دیکھنے لگی تھی۔
تم بھی کھانا کھا لو۔ اس نے مدھم لہجے میں کہا تھا لیکن وہ کچھ بھی بولے بغیر اس کے ہاتھ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکال کر پیچھے ہٹ گئی۔
میں نے کہا ہے تم بھی کھانا کھا لو۔ اسے لیٹتے دیکھ کر اس نے دوبارہ سے اپنی بات دہرائی وہ پھر بھی کچھ نہ بولی۔ تو وہ لب بھینچ گیا۔ اٹھائو یہ ٹرے اور واپس رکھ آئو۔ کچھ دیر بعد اس کی بھاری آواز کمرے میں گونجی تھی۔ وہ گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔ نجانے کتنے دنوں بعد اس کی چپ ٹوٹی تھی۔
کچھ پل تک وہ اسے دیکھتا رہ گیا۔
تو اس وقت یہ سب بنانے کی کیا تُک ہے۔ بھوک تو مجھے بھی نہیں۔
آپ کو کیوں بھوک نہیں؟
یہی سوال میرا تم سے ہے وہ بھی اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا تھا۔ وہ ایک پل کے لیے چپ کی چپ رہ گئی۔ پھر آہستہ سے اٹھی اور اس کے مقابل بیٹھ کر روٹی کا ٹکڑا توڑ لیا۔ اس نے بھی کھانے کے لیے ہاتھ بڑھا دئیے۔
وہ کب سے ٹی وی پر نظریں جمائے مسکرائے جا رہا تھا۔ وہ جو کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھی حیرت سے مڑ کر اسے دیکھنے لگی۔ تب ہی اس کی نظر اس پر پڑی تو سٹپٹا کر سالن میں چمچہ ہلانے لگی۔
مریم! وہ کچن سے باہر نکلی تو اس نے اسے آواز دے لی۔ ناچاہتے ہوئے بھی وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ لگا ہوا ہے۔ نجانے وہ کیا کہنا چاہتا تھا وہ کچھ سمجھ نہ سکی۔ میرا مطلب ہے آئو دیکھ لو۔ اس کے سنجیدہ لہجے میں چھپی شرارت وہ فورا بھانپ گئی لیکن کچھ بھی کہے بغیر آگے بڑھ گئی۔
آپ کا موبائل بج رہا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ ہاتھ میں اس کا موبائل لیے باہر آئی تھی۔ موبائل پکڑاتے پکڑاتے اس کا ہاتھ بھی اس کے ہاتھ میں چلا گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ ہاتھ چھڑاتی۔ اس نے ذرا سا اُسے اپنی طرف کھینچا تو وہ اس کے بازو پر آ گری۔ بہت ناگواری سے اس نے اسے دیکھا تھا۔
شادی کو ایک ماہ ہو گیا ہے۔ اتنا تو حق دو۔ اس کی کمر کے گرد اس نے اپنا حصار تنگ کیا تو وہ غصے سے چلا اٹھی۔
پلیز چھوڑیں مجھے وہ چلائی لیکن وہ فون کی طرف متوجہ ہو گیا۔
ہیلو ہاں میں بول رہا ہوں۔ یک دم اس کے کشادہ ماتھے پر دو بل پڑے جسے اس نے بڑے غور سے دیکھا تھا۔
ہاں بولو کیا کہنا ہے؟ وہ محسوس کر سکتی تھی کہ دوسری طرف کسی لڑکی کی آواز تھی۔
اب یہ سب ماننے یا نہ ماننے کا فائدہ؟ انتہائی درشتگی سے وہ چلایا تھا۔ مریم کو اپنے گرد اس کی گرفت ڈھیلی ہوتی محسوس ہوئی۔ اس سے پہلے کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھاتی عباس حیدر کی اگلی بات نے اس کے قدم روک لیے۔
بدنام میں ہوا تھا یا تم؟ اتنا ہی کڑوا لہجہ تھا۔
مت بھولو بدنام کرانے والی تم تھیں تم صبا گوہر۔ دانت کچکچاتے ہوئے وہ بولا تو مریم نے لب بھینچتے ہوئے اس کے غصے سے سرخ ہو چکے چہرے کو دیکھا جہاں غصے اور اشتعال کے علاوہ کچھ نہ تھا۔
عورتیں کیسی ہوتی ہیں یہ میں بہتر جانتا ہوں۔ پہلے تمہاری تائی اور بعد میں تم نے جو کیا وہ عورت کی عظمت بلند کرنے کے لیے کافی تھا۔
شٹ اپ میں چاچو کی وفات پر صرف اس لیے آیا تھا کہ انہوں نے مجھے پالا تھا۔ اگر آخری وقت میں انہوں نے مجھ سے ملنے یا مجھ سے معافی مانگنے کی خواہش کی تو میں صرف اسی لیے ان کے پاس گیا کہ انہوں نے بچپن میں میرے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔ چاہے جیسے بھی انہوں نے مجھے جوان کر دیا۔ بے شک انہوں نے میرا اعتبار نہ کیا مجھے کوٹھے میں رہنے والی میری ماں کی گالی دے دی لیکن میں ان کی طرح اتنا احسان فراموش نہ تھا کہ آخری وقت میں اپنے ہی محسن سے نہ ملتا۔ اس کے بندھے ہاتھوں کا کچھ خیال نہ کرتا۔ بہرحال جو بھی ہے۔ آئندہ مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ میں اس گھر کے کسی بھی فرد سے کوئی رابطہ رکھنا نہیں چاہتا۔
میں بے گناہ تھا۔ اب یہ تمہیں احساس ہو رہا ہے۔ تب جب تم نے پورے خاندان کے سامنے نجانے کیسے اس نے اپنے منہ سے نکلنے والی گالی کو کنٹرول کیا تھا۔ انتہائی غصے سے اس نے موبائل سامنے دیوار پر دے مارا اور پھر اپنا سر اپنے ہاتھوں میں رکھ لیا۔ وہ کچھ بھی نہ سمجھتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی۔
رات ہولے ہولے بیت رہی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں نیند ابھی تک نہیں اتری تھی۔ نجانے کب وہ چت لیٹا چھت کو گھورے جا رہا تھا۔ سونے کی اس نے ایک اور کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ گردن موڑ کر اسے دیکھا وہ بے خبر سو رہی تھی۔ وہ گہری سانس لے کر رہ گیا۔
ایک مختلف عورت
اس نے اپنی ماں نہیں دیکھی تھی لیکن اس کے بارے میں سنا ضرور تھا کہ وہ کوٹھے پر رہنے والی تھی۔ جو اس کے پیدا ہوتے ہی اسے اس کے باپ کی جھولی میں پھینک کر دوبارہ واپس چلی گئی تھی۔ جس کا طعنہ آج تک اسے ملتا آیا تھا۔ بہت بچپن میں وہ ماں لفظ سے نفرت کرنے لگا تھا۔ باپ بھی بچپن میں ہی چل بسا۔ پھر اسے چھوٹے چچا اپنے گھر لے گئے۔ جہاں اس کا ایک اور عورت سے واسطہ پڑا۔ جس نے اسے عورت کے ایک اور روپ سے آشنا کرایا تھا اور وہ عورت اس کے چچا کی بیوی تھی جسے وہ چچی کہنے لگا تھا۔ پرائی اولاد کو کون دل سے لگاتا ہے۔ اس کی چچی نے بھی اسے کبھی اپنا نہ سمجھا۔ بات بات پر مارکٹائی‘ گالی گلوچ‘ طعنے تشنے دیتی رہیں اور وہ جوانی کی دہلیز تک پہنچ گیا۔
ماں کے بعد چچی اور پھر چچی کے بعد تائی اس کے سامنے آئی۔ تائی تیسری عورت تھی جس نے اسے عورتوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جس نے تایا کو جائیداد میں بٹوارہ کرنے کے لیے بھڑکایا۔ پھر اس کی بھی جائیداد ہتھیانے کے لیے اپنی منجھلی بیٹی کی زبردستی اس کے ساتھ منگنی کر دی۔ چھوٹے چچا اور چچی کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔ تب ہی تایا اور چچا کی آپس میں ٹھن گئی۔ دونوں کے درمیان بہت صلح صفائی کرانی چاہی لیکن کوئی نہ مانا اور پھر مانے تب جب اس نے اپنا حصہ برابر ان دونوں کو دے دیا بس یہ حصہ ملنے کی دیر تھی۔ تائی نے آنکھیں پھیر لیں۔
کون سی منگنی کیسی منگنی؟ یہ سوال دوبارہ ابھر ہی نہ سکا۔ بے شک وہ تایا کی بیٹی کو پسند نہ کرتا تھا۔ اسے کبھی دوسری نظر سے نہ دیکھتا تھا لیکن پھر بھی اس کے منہ سے بھلا میں تم جیسے کنگلے سے شادی کر سکتی ہوں۔ ماں تمہاری کوٹھے والی تھی۔ طعنے مجھے ملیں گے۔ سن کر اسے خاصا دھچکا لگا تھا۔
تم اگر اپنے تایا سے اپنا حصہ لے کر گوہر(چھوٹے چچا) کے نام کر دو تو ہم فائزہ کی تمہارے ساتھ شادی کر دیں گے۔ ایک دن چچی نے اسے پاس بٹھا کر کہا اور ساتھ اپنی چھوٹی بیٹی کے حوالے سے اسے لالچ بھی دیا تو وہ حریص لالچ میں پھنسی عورت کو دیکھ کر رہ گیا۔ وہ پہلے ہی عورتوں سے بدظن ہو چکا تھا رہی سہی کسر فائزہ گوہر(چچا کی بیٹی) نے پوری کر دی۔ وہ کالج میں پڑھتی تھی اور عباس کی نظر میں وہ ابھی کافی چھوٹی تھی لیکن اس کا یہ چھوٹا پن اس وقت سامنے کھل کر سامنے آیا جس دن وہ لنچ کے وقت اپنے آفس کے قریبی ریسٹورنٹ میں گیا تو وہاں فائزہ کو کسی لڑکے کے ساتھ بیٹھے پایا۔ اپنے ہی گھرکی بیٹی کو یوں سرعام کسی اجنبی لڑکے کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر وہ مشتعل ہو گیا تھا۔ گھر آ کر اس نے فائزہ سے بازپرس کی تو نہ صرف وہ بلکہ چچی بھی بھڑک اٹھیں جس پر وہ چچا سے بات کرتے کرتے رہ گیا۔ اس کے بعد بھی اس نے فائزہ کو کئی بار کبھی کسی لڑکے کے ساتھ اور کبھی کسی لڑکے کے ساتھ دیکھا تھا لیکن منہ میں زبان رکھتے ہوئے بھی اسے ٹوک نہ سکا۔
خود کوٹھے والی کا بیٹا ہے لیکن سمجھتا دوسروں کو گندہ ہے۔ ایک دن اس نے فائزہ کو اپنی بڑی بہن صبا سے کہتے سنا تھا۔ تب وہ خود پر کنٹرول نہ کر سکا اور فائزہ کو ایک تھپڑ جڑ دیا جس پر گھر میں طوفان اٹھا کہ اسے خود ہی کان لپیٹنے پڑے۔
اتنی گری ہوئی حرکتیں کوئی عورت کیسے کر لیتی ہے۔ اس نے یہ بات باربار سوچی تھی اور اسے چچا پر باربار غصہ آیاتھا کہ جس نے گھر کی عورتوں کو اتنی چھوٹ دے رکھی تھی اور وہ اس چھوٹ کو غلط طریقے میں استعمال کر رہی تھیں لیکن چچا کو کوئی پرواہ ہی نہ تھی۔
چاچو کبھی گھر پر بھی توجہ دیں۔ مرد اگر گھر کو نہ دیکھے تو گھر تباہ ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ ایک دن اس نے باقاعدہ چچا کے کمرے میں جا کر انہیں تنبیہہ کی تھی لیکن چاچو صاحب کسی اور مسئلے میں الجھے ہوئے تھے اس کی بات کانوں پر دھری ہی نہ۔
عباس! ان دنوں میرا بزنس ڈانواں ڈول جا رہا ہے۔ مجھے فوری طور پر پانچ لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ میری کچھ مدد کر سکو گے؟ انہوں نے ایک اور ہی بکھیڑا اس کے سامنے رکھ دیا۔ وہ ان کی مردانگی پر افسوس کے سوا کیا کر سکتا تھا سو افسوس سے انہیں دیکھ کر رہ گیا۔
اس معاملے میں میری کوئی مدد کر سکو گے؟ انہوں نے اس کے مرجھائے چہرے پر ایک التجائیہ نظر ڈالی تو وہ ان کے پاس بیٹھ گیا۔
چاچو! جو کچھ میرے پاس تھا وہ میں پہلے ہی آپ کو اور تایا ابو کو دے چکا ہوں۔ اب میں کیسے آپ کو کچھ دے سکتا ہوں اب میرے پاس اور کچھ نہیں۔
کیوں کچھ نہیں۔ تمہارا وہ گھر جو ابھی تک تمہارے نام ہے۔ وہ تو سلامت ہے ابھی تک انہوں نے اٹکتے ہوئے اس کو کھوجنا چاہا تو وہ لب پھینچ گیا۔
دیکھتا ہوں
دیکھتا نہیں کچھ کرنا بھی ہے۔ مجھے ان دنوں واقعی پیسوں کی بہت ضرورت ہے بیٹا۔ ان کا لہجہ اتنا ملتجی تھا کہ اس نے سر ہلا دیا۔
لیکن چاچو! کچھ گھر پر بھی توجہ دیں۔ صبا اور فائزہ ابھی بچیاں ہیں۔ انہیں آپ کی توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر آپ نے ابھی انہیں نہ سمجھایا تو ان کے قدم خدا نخواستہ غلط راستوں پر پڑ سکتے ہیں۔ جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ ہمارے لیے بھی پچھتاوا بن سکتا ہے۔ جاتے جاتے اس نے پھر ان کے کان کھولنے چاہے تھے۔ انہوں نے ہوں‘ ہاں کر دی۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ چچا اس سے پیسے لینے کے بعد ایک بار پھر اسے اس کے وجود سے فراموش کرگئے اور وہ گھر کی خواتین کو یوں کھلے عام کھیل کھیلتا دیکھتا اور اندر ہی اندر جلتا رہا۔
اور پھر وہ ہو گیا جو اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔
وہ بہت دیر سے گھر لوٹا تھا۔ شاید رات کے پونے گیارہ پھر بارہ بجے لیکن یہ دیکھ کر ٹھٹھک گیا کہ گھر کا کوئی بھی فرد سویا ہوا نہیں تھا اور اس سے بھی زیادہ حیرت والی بات یہ تھی کہ سب کے سب ہال میں اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے۔
بے شرم‘ بے غیرت‘ ذلیل انسان ابھی اس نے کمرے میں قدم ہی رکھا تھا جب چچا جان اس پر جھپٹ پڑے وہ ناسمجھی سے ان کے غصے سے سرخ ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا۔ اس کے ہاتھ سے بریف کیس چھوٹ کر دور جا گرا تھا۔
میرے ہی گھر میں رہ کر میرے ہی گھر کو گندہ کیا۔ یہیں کے ٹکڑے کھا کر اسی جگہ کو ناپاک کیا بے غیرت انسان چاچو کے منہ سے کف اڑ رہا تھا اور وہ تابڑتوڑ اس پر مکے اور لاتیں برسا رہے تھے۔ جبکہ وہ ہکابکا مار کھا رہا تھا۔
ہاں جیسی ماں تھی ویسا ہی یہ بھی نکلا۔ یہ بھی خیال نہ کیا سگے چچا کے گھر کو تباہ کر رہا ہے۔ ہمارا نہیں تو کم ازکم اپنے مرے ہوئے باپ کی روح کا ہی کوئی احساس کر لیتے یہ تیرا چچا تیرے باپ کا ہی چھوٹا بھائی تھا۔ اس کی عزت خاک میں ملانے سے پہلے کچھ تو سوچ لیتے نامراد چچی بھی دوہتھڑاس کی پٹائی کر رہی تھیں جبکہ فائزہ نجانے کیوں ادھ موئی ہوئی صبا کو سنبھالے کھڑی اسے اس طرح مار پڑتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
ارے مر کیوں نہ گیا تو یہ دن دکھانے سے پہلے ناہنجار‘ بے غیرت۔
مجھے پتہ ہوتاتو بڑا ہو کر اتنا ذلیل‘ اتنا کمینہ نکلے گا۔ میری ہی عزت کو تارتار کرے گا تو اسی وقت تجھے زہر دے دیتا۔ تیرا گلا گھونٹ دیتا۔ گوہر نے ایک زور کا گھونسہ اس کے پیٹ میں مارا تو وہ بلبلا کر رہ گیا۔
وہ کوٹھے والی چھوڑ گئی تجھے ہمارے منہ پر کالک ملنے کے لیے کاش وہ ناچنے والی کنجری تجھے
چاچو! نجانے اسے آج پہلی بار اپنی ماں کوگالی دینے پر اتنا غصہ کیوں آیا تھا۔ وہ گوہر کا ہاتھ پکڑ کر دھاڑ ہی اٹھا تھا۔ پورے کمرے میں یک دم خاموشی چھاگئی تھی۔
آگے ایک لفظ بھی مت کہیے گا۔ اس نے دانت پر دانت رکھ کر اپنی شعلہ بار نگاہوں سے انہیں گھورا۔ اگر اب کچھ کہا توزبان کھینچ لوں گا میں آپ کی۔ انتہائی درشتگی سے اس نے ان کا ہاتھ چھوڑا تو وہ ہکابکا رہ گئے۔
ہاں مچل تو ایسے رہا ہے جیسے تو اور تیری ماں بہت نیک ہوں۔ جیسے ہم تم دونوں کے کرتوتوں سے ناواقف ہوں۔
چچی! جیسی گالی آپ میری ماں کو دے رہی ہیں ایسی گالی میں بھی آپ کو دے سکتا ہوں۔ اب کی بار اس نے چچی کو کلائی سے پکڑ کر صوفے کی طرف دھکیلاتھا۔
مت اونچا بولو بے غیرت۔ گوہر ایک بار پھر جوش میں آئے تھے لیکن اب کی بار فائزہ نے ان کو بازو سے پکڑ لیا۔
بہتر ہو گا آپ سیدھے سبھائو سے مجھ سے بات کریں۔ اس نے دانت کچکچا کر کہا تو چچی ایک بار پھر اس پر جھپٹیں۔
میرے ہی گھر میں رہ کے میری ہی بیٹی کے ساتھ تم نے کیوں کیا ایسا بتا ذلیل کمینے تم نے ایسا کیوں کیا؟
کیا کیا ہے میں نے؟
معصوم نہ بن دیکھ دیکھ اس کو جسے تو نے اپنے جال میں پھنسا کر اس حال میں پہنچا دیا۔ گوہر نے صبا کو بازو سے پکڑ کر اس کے سامنے کیا تھا۔
میری ہی عزت کا کچھ خیال کر لیتے
چاچو!
مت کہہ اپنی گندی زبان سے مجھے چاچو۔
میرا یقین کریں چاچو میں نے تو کبھی بھی
ہاں تو نے کبھی بھی کچھ غلط نہ کیا اب کہہ دے یہ جو تیرا سانپ اس کے پیٹ میں پل رہا ہے یہ بھی تیرا نہیں۔
چچی! اس نے بے یقینی سے چچی کو دیکھا اور پھر صبا کو جو بے تحاشہ روئے جا رہی تھی۔ شاید اسے پہلے ہی چاچو مار چکے تھے۔ تب ہی تو اس کا حلیہ ابتر ہو چکا تھا۔
عباس! عباس! اس گھر کی عورتیں میری ہی نہیں تیری بھی عزت تھیں۔ کچھ تو خیال کر لیتے۔
چاچو! مجھ سے جو چاہیں قسم لے لیں جس کی چاہیں میں قسم کھانے کو تیار میں۔ میں بے قصور ہوں چاچو۔ اس طرح مجھ پر الزام مت لگائیں۔
آ تو اپنی ماں کی قسم کھا اس کوٹھے والی کی کھا تو ہم یقین کرلیں گے کیا؟
صبا! صبا! تم بتائو انہیں یہ مجھ پر شک نہ کریں۔ تم تم تو میری بہن ہو نا انہیں سچ بتائو کیا میں ایسا کر سکتا ہوں؟
اب مکرنے کا کیا فائدہ عباس۔ جو کرنا تھا وہ تم نے کر دیا۔ اور جب صبا بولی تھی اس پر جیسے کمرے کی چھت آن گری تھی۔ اس نے بے حد حیرانگی سے صبا کو جھوٹ بولتے دیکھا تھا۔
باقی کیا بچا تھا۔ کسی نے اس کا یقین نہیں کیا۔ وہ بار بار اپنی صفائیاں پیش کرتا رہا‘ قسمیں کھاتا رہا اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے گوہر کے سامنے گڑگڑا کر یقین دلاتا رہا لیکن سب بے سود رہا۔ سب بے فائدہ۔
اچھا ہو گا جو اب صبا سے تم جلد شادی کر لو۔ آخر کار انہوں نے اپنا فیصلہ سنادیا تو وہ بپھر گیا۔
خدا کسی کو ایسا بے حس مرد نہ بنائے۔ جائیں کسی سڑک پر مانگتے فقیر کو گھر لے آ کر اس کے ساتھ اپنی بیٹی کا رشتہ باندھ دیں۔ بدنامی سے بچ جائیں گے۔
اس کے بعد اس نے وہ گھر ہی چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ گوہر نے اسے لاکھ ڈرایا دھمکایا لیکن اس نے ان کی کوئی پروا نہ کی۔
چاچو! اگر میرے حلق میں میری ماں کے اپنے دودھ کا ایک گھونٹ بھی ہے۔ میں اس پاک دودھ کے ایک گھونٹ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں بے گناہ ہوں۔
جاتے سمے اس نے کہا تھا اور پھر دوبارہ مڑ کر کسی کو نہ دیکھا۔
اس کی زندگی میں جتنی عورتیں آئی تھیں اس کے ذہن پر وہ اپنی یادیں اور اپنے تاثرات بہت منفی چھوڑ گئی تھیں۔ یہی بات تھی کہ وہ ہر عورت سے خار کھانے لگا اور سب عورتوں سے متنفر ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ جب وہ سردار ذوالقرنین حیدر کے ہاں پے انگ گیسٹ بن کر آیا تو یہاں بھی اس کا ٹاکرا یک عجیب وغریب حرکتوں والی لڑکی سے ہو گیا۔ وہ جو پہلے ہی عورتوں سے بدظن تھا۔ اسے بھی اسی پلڑے میں رکھ کر تولنے لگا لیکن آہستہ آہستہ اسے محسوس ہونے لگا کہ وہ اس لڑکی(مریم حماد) کو سمجھنے میں غلطی کر رہا ہے۔
اور یہی غلطی محسوس کر کے وہ بعد میں پچھتایا بھی بہت کیونکہ بعد میں وہ اسے بہت گہری اور جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگا تھا اور ان ہی نظروں میں پھنس کر اسے پتہ بھی نہ چلا اور وہ اس عجیب وغریب حرکتوں والی لڑکی کے سامنے آہستہ آہستہ ہارنے لگا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اس کے سامنے ہارتے ہوئے بھی اپنی ہار سے کترا رہا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے خود مجبور ہو کر اس سے اپنی محبت کا اظہار کر دیا۔
اس نے کسمسا کر اس کے سینے پر اپنا بازو رکھا تو وہ چونک گیا۔ گردن موڑ کر پھر سے اسے دیکھا تو وہ معصوم سی صورت والی اسے اپنے دل کے بہت قریب لگی۔
سیاہ سلکی بالوں میں چھپا چاند سا اس کا چہرہ جس پر ہمہ وقت اک ناراضگی سی چھائی رہتی لیکن وہ نہیں جانتی تھی اس ناراضگی میں بھی بہت معصومیت سی تھی جو عباس حیدر کو اپنے دل کے تاروں کو چھیڑتی محسوس ہوتی۔ اب بھی اس کے معصومیت سے بھرے چہرے پر اسے ڈھیروں پیار آیا۔ وہ اسے دیکھتا گہری سانس لے کر سیدھا ہونے ہی والا تھا جب وہ کسمسا کر اس کے اور قریب ہو گئی۔ پہلے اس کا بازو اس کے سینے پر پڑا تھا۔ اب اس کا چہرہ اس کے سینے سے لگا تھا۔ اس کا دل عجیب رو میں بہکنے لگا۔ لب بھینچ کر اس نے خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی مگر دل دھڑک دھڑک کر اسے کسی اور راہ پر دھکیلنے لگا۔
پہلے ہی بہت ظلم کر چکا ہوں تم پہ۔ اس کا بازو اپنے سینے سے ہٹاتے ہوئے وہ اندر ہی اندر اس سے مخاطب ہوا تھا لیکن اس کا نرم گرم چہرہ اسے پھر سے ظلم کرنے پر مجبور کرنے لگا۔
ایک دفعہ تمہاری محبت کا ناجائز فائدہ اٹھا چکا ہوں۔ وہ دل میں ابھرتے احساسات وجذبات کو تھپکیاں دے کر سلانے لگا مگر ناکام ہوتا چلا گیا۔ اس نے پھر بے بسی سے اسے دیکھا۔
وہ سرخ کپڑوں میں ملبوس اس وقت اپنے دوپٹے سے بے نیاز پڑی تھی۔
اور مرد کو تو ایک لمحہ ہی بہکانے کے لیے کافی ہوتا ہے اور اگر سامنے والے کے تمام اختیارات اپنے نام ہوں اور وہ تمام حقوق اپنے نام محفوظ رکھتا ہو تو پھر مرد کو سوچنا نہیں پڑتا اور پھر بہت آہستگی سے اسے اپنے قریب سے قریب تر کر لیا۔ حواس میں آتے ہی مریم نے اس سے اپنا آپ چھڑانا چاہا تھا لیکن وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکی اور وہ بہکتا چلا گیا۔
ناشتہ ملے گا؟ صبح ہوئی وہ ٹی وی کے سامنے گم سی گھٹنوں میں سر ٹکائے بیٹھی تھی جب سیڑھیوں سے اترتے ہوئے اس نے چورنگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر وہیں ڈائیننگ ٹیبل کے پاس رک کر بنا اسے مخاطب کیے ناشتہ کا پوچھا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا تووہ سر کھجا کر رہ گیا۔
بھوکا چلا جائوں آفس؟ پھر سے اسے کن اکھیوں سے دیکھا تو دوبارہ سے وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔
تو چلا جائوں؟ گلاس ڈور کی طرف بڑھتے اس نے پھر سے اسے دیکھا وہ اپنے گیلے بال جھٹک کر رہ گئی۔ وہ گہری سانس لے کر رہ گیا۔
شام کو جب لوٹا تو وہ جھیل کے کنارے بیٹھی بہت پژمردہ اور اداس اداس لگ رہی تھی۔ وہ گاڑی سے نکل کر سیدھا اس کی طرف چلا آیا۔
اس وقت یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو۔ چلو اندر آج موسم بہت سرد ہے کہیں بیمار نہ پڑ جائو۔ وہ اس کے سر پہ آ کے بولا تو وہ بنا اسے دیکھے اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ سمجھا اندر جائے گی مگر وہ دوسری سمت چل پڑی۔ وہ بھنویں سکیڑ کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ جھیل پار کر گئی تھی۔
صاحب! سردارصاحب نے کہا ہے آپ آج کھانا ادھر ہی کھائیں۔ وہ کچن میں کھڑا کیا کھائوں‘ کیا نہ کھائوں کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا جب شنو اسے اطلاع دینے آ گئی۔ وہ تشکر سے مسکرا دیا۔ ہاتھ میں پکڑے انڈے فریج میں رکھ کر وہ شنو کے پیچھے چل دیا۔ وہ جانتا تھا یہ دعوت بھی مریم ہی کی طرف سے ہے۔ گھر میں تو وہ ناراض تھی۔ اسی لیے کھانے کے لیے کچھ نہ بنایا تھا اور یہ بھوکا رہتا‘ بھلا وہ برداشت کر سکتی تھی۔
میں سمجھا اب بھوکا ہی رہنا پڑے گا۔ رات وہ بیڈ پر لیٹے ہوئے بولا تھا۔ جواباً اس نے کوئی تبصرہ نہ کیا اور آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹ گئی۔
اپنے شوہر سے اتنی ناراضگی اچھی نہیں ہوتی یار لیٹتے ہی اس نے اس کی آنکھ سے اس کا بازو ہٹایا تو اس نے جھٹکے سے اپنا بازو اس کے ہاتھ سے چھڑایا۔
ایک شوہر اتنی سرد رات میں اپنی بیوی کی رفاقت کے لیے تڑپتا رہے کیا یہ ظلم نہیں مریم۔ کچھ دیر بعد وہ جھکا بول رہا تھا۔
مجھے ہاتھ مت لگائیے گا۔ بہت جھیل لیا میں نے آپ کا ظلم۔ اس نے بہت غصے سے اس کے سینے پر دونوں ہاتھ جما کر اسے پرے دھکیلا اور خود اٹھ کر بیٹھ گئی۔
اگر اب آپ میری طرف بڑھے نا تو میں اس کمرے سے باہر چلی جائوں گی۔ بہت بپھرتا ہوا انداز تھا اس کا۔ عباس حیدر اسے دیکھ کر رہ گیا۔ جبکہ وہ نہایت مشتعل ہوتی خود پر کمبل لپیٹ کر لیٹ گئی۔
اگلا دن‘ پھر اگلا ہفتہ اور پھر اگلا پورا مہینہ اسی طرح گزر گیا۔ نہ تو وہ اس سے کوئی بات کرتی تھی اور نہ اس کی کسی بات کا جواب دیتی تھی۔ پہلے پہل وہ بھی اسے آتے جاتے‘ اٹھتے بیٹھے مخاطب کرتا رہتا تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ نامحسوس طریقے سے وہ بھی خاموش ہوتا چلا گیا اور اسے مخاطب کرنا یا پھر کوئی چھوٹا موٹا کام کہنا بھی چھوڑ دیا۔
دونوں کے درمیان فاصلے بڑھے تو بڑھتے چلے گئے۔ دونوں ایک دوسرے سے یوں بے خبر ہوتے چلے گئے کہ جیسے صدیوں کا فاصلہ ان کے درمیان آن کھڑا ہوا ہو۔ کھانا پینا‘ اٹھنا جاگنا دونوں کے بے شک ایک ساتھ لیکن دونوں اپنے اپنے خول میں سمٹے ہوئے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے قریب نہ تھے۔ دور نہ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے بہت دور تھے۔ نجانے انہیں یہ خبر کیوں نہ ہو رہی تھی کہ وقت لمحہ بہ لمحہ ان کی ہتھیلیوں سے پھسلتا جا رہا تھا اور اپنے گہرے نقوش ان کے خالی ہاتھوں پر چھوڑتا جا رہا تھا۔
اس دن نجانے کیا ہوا کہ جب وہ آفس سے آرہا تھا۔ راستے میں اسے وہی فلاور شاپ نظر آئی جو ہر وقت لوگوں کے ہجوم سے بھری رہتی تھی۔آج بھی وہاں کافی ہجوم تھا لیکن آج یہ ہجوم کیوں تھا وہ یہ بات جانتا تھا۔ آج دسمبر کی آخری تاریخ تھی اور کل سے نیا سورج نئی صبح اور نیا دن طلوع ہونے والا تھا۔ اس نے بغیر سوچے سمجھے گاڑی کو بریک لگائے اور گاڑی سے اتر گیا۔ شاپ میں موجود لوگوں میں زیادہ تعداد لڑکے‘ لڑکیوں کی تھی جو دھڑادھڑ پھول اور کارڈ خرید رہے تھے۔ ہر ایک کے چہرے پر انہونی خوشی اور آنکھوں میں چمک تھی۔
اس نے بھی مسکراتے ہوئے سب پھولوں اور کارڈ پر نگاہ کی اور پھر جب وہ واپس گاڑی کی طرف آیا تو اس کے ہاتھ میں شبنم سے تر ادھ کھلی گلاب کی کلیوں کا خوشبوئوں سے بھرا بکے تھا۔ جس کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا گولڈن کلر کا کارڈ چپکا ہوا تھا جس پر مائی ڈیئر! ہیپی نیوایئر کے سیاہ حروف دمک رہے تھے۔
وہ پھول ہونٹوں کے قریب لے جا کر مسکرا دیا اور پھر گاڑی اسٹارٹ کر دی۔ اس دن وہ جان بوجھ کر تھوڑا لیٹ گھر آیا تھا۔ اپنے کمرے کی طرف جاتی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر بہت دلفریب مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ دروازے پر پہنچنے تک اس کی نظریں مسلسل رسٹ واچ کی سوئیوں پر دوڑ رہی تھیں۔ ابھی وہ دروازہ دھکیلنے ہی لگا تھا کہ باہر یک دم شور شرابا شروع ہو گیا۔ فضا میں ہر طرف پٹاخوں اور دھماکوں کی آوازیں ابھرنے لگیں۔ ہر طرف تالیاں اور سیٹیاں بجنے لگیں۔ اس نے رسٹ واچ پر دیکھا چھوٹی سوئی پورے بارہ پہ رکی ہوئی تھی۔
السلام علیکم! اس نے دروازہ دھکیلتے ہی سلام کیا تھا۔ سامنے ہی وہ صوفے پر الجھی بکھری پریشان چہرہ لیے بیٹھی تھی جو اس کی آواز پر یک دم اٹھ کھڑی ہوئی اور پھر دوڑ کر اس کے پاس پہنچی۔
کہاں تھے آپ موبائل کیوں آف کر رکھا تھا آپ نے کب سے میں آپ کو فون کر رہی ہوں۔ آپ کوئی جواب کیوں نہیں دے رہے تھے؟ کیا ہو گیا تھا آپ کو؟ آپ خیریت سے تو تھے۔ وہ بالکل ہیجانی حالت میں بولتی کبھی اس کے ہاتھ پکڑ رہی تھی اور کبھی اس کا چہرہ چھو اور تھپتھپا رہی تھی۔ وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا۔
آپ آپ خیریت سے تو تھے؟
ہاں۔ مجھے کیا ہونا ہے یار۔ وہ اس کی آنکھوں میں عجب سا ڈر خوف محسوس کر کے نادم سا ہو گیا۔ وہ تو پچھلے ڈیڑھ مہینے سے یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ اس کے وجود سے ہی بے خبر ہو چکی ہے لیکن وہ تو اب بھی بالکل ویسی ہی تھی۔ اس کا خیال رکھنے والی‘ اس سے باخبر رہنے والی‘ اس سے اسی طرح محبت کرنے والی۔
میں سمجھی میں سمجھی وہ عجیب اضطراری حالت میں اپنے بالوں میں انگلیاں چلاتی‘ ہونٹ کچلتی بیڈ پر جا کے بیٹھ گئی تو وہ بھی چلتا ہوا اس کے قریب آن رکا۔
کیا سمجھی تھیں تم؟
کچھ نہیں آپ کھانا کھائیں گے؟ اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتے ہوئے وہ اسے دیکھے بغیر بولی تو وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔
کھانا تو میں کھا کے آیا ہوں البتہ یہ پھول میں تمہارے لیے لایا ہوں۔ اس نے بکے اس کی طرف بڑھایا تو وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
ہیپی نیوایئر وہ مسکرایا تو وہ کچھ بھی کہے بغیر چہرے کا رخ موڑ گئی۔
پھول لینے سے انکار نہیں کرتے۔
آپ جیسے لوگوں سے پھول لیئے بھی نہیں جاتے۔ کچھ دیر بعد اس کی بھیگی آواز کمرے میں گونجی تھی۔
تو کیا ایک شوہر اپنی بیوی کے لیے لوگ ہوتا ہے؟ وہ اس کے تیز لہجے پر کچھ بھی نہ بولی۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر ہاتھ بڑھا کر اس کا چہرہ اپنی طرف موڑ لیا۔
ہاتھ مت لگائیں مجھے۔ ایک دم وہ ترشی سے بولی اور اس کا ہاتھ پیچھے جھٹک دیا۔ اس نے اس کے غصے کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے پھول اس کی گود میں رکھ دئیے اور اسے شرارت سے اپنے بازوئوں کے حلقے میں لے لیا۔
پلیز ڈونٹ ٹچ می۔ وہ غصے سے چلا اٹھی اور اس سے اپنا آپ چھڑانے لگی لیکن اس کی آہنی گرفت بہت مضبوط تھی۔ اس کی کوشش بے کار گئی۔
پلیز نہایت مشتعل ہو کر اس نے گود میں پڑے پھول اٹھا کر دور پھینک دئیے۔
یار! اتنی ناراضگی بھی اچھی نہیں ہوتی۔ مانا کہ ایک بار مجھے سے غلطی ہو گئی لیکن میں بھی انسان‘ بشر ہوں۔ مجھ سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتیں۔
معاف آپ معافی کا کہتے ہیں نفرت کرتی ہوں میں آپ سے۔
یہ سانحہ کب ہوا؟ وہ اسے اور ساتھ لگاتے ہوئے بولا تو اس نے غصے سے اسے پیچھے دھکا دے دیا۔
خبردار جو اب آپ میرے قریب آئے تو
شوہر ہوں میں تمہارا جو چاہوں تمہارے ساتھ کر سکتا ہوں۔ تم کون ہوتی ہو مجھے روکنے والی وہ بھی یک دم بپھر اٹھا تھا۔
خبردار! پہلے بھی آپ میرے ساتھ بہت زیادتی کر چکے ہیں۔ اس نے تنبیہہ کرنے کے انداز سے انگلی اٹھائی تو اس نے اس کی انگلی پکڑ لی۔
لیکن اب تم میری بیوی ہو۔ جب اور جس وقت چاہوں کچھ بھی کر سکتا ہوں میں۔
ہاں۔ اسی لیے اسی لیے آپ چلے آئے تاکہ تاریک رات کو اور تاریک کر سکیں۔ ہے ناں؟ اپنی ضرورت تو آپ کو یاد رہتی ہے لیکن دوسرے کا کیا حال ہوتا ہے‘ کبھی سوچا ہے آپ نے اس بارے میں؟ آپ کے پیچھے ہٹتے ہی مر جانے کو جی چاہتا ہے میرا۔ گھن آتی ہے آپ کے وجود سے نہایت نفرت سے کہتی وہ اس کے پاس سے اٹھ گئی۔
اگر اتنی ہی نفرت ہے تمہیں مجھ سے تو اس وقت یوں حال سے بے حال ہوئی انتظار کیوں کر رہی تھیں میرا۔ یوں بے چین مجھے فون کیوں کر رہی تھیں۔ میرے ہاتھ لگانے سے اگر تمہیں اتنی ہی گھن آتی ہے تو ابھی کچھ دیر قبل اس طرح بے قراری اور بے تابی سے مجھے چھو کیوں رہی تھیں؟ وہ اس کے سامنے کھڑا ہو کر انتہائی غصے سے چلایا تو وہ زخمی نظروں سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
اگر اس دن میں بہک گیا تھا تو اس میں میرا کیا قصور تھا۔ تم نے ہی مجھے بہکنے پر مجبور کیا تھا نہ آتیں میرے پاس‘ نہ مجھ کو کمبل اوڑھاتیں
ہاں میں نے غلطی کی تھی اور آپ نے میری اس غلطی سے ناجائز فائدہ اٹھا لیا۔ اپنے اندر کا کمزور اور ہوس کا مارا شخص باہر نکال لیا۔ یہ بھی خیال نہ کیا کہ جس کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہے ہو وہ لڑکی آپ سے ٹوٹ کر محبت کرتی ہے اگر آپ واقعی ایک کمزور اور عام کردار کے مالک تھے تو کم ازکم اس محبت کو تو اپنی ہوس کا نشانہ نہ بناتے۔ اس محبت کے واسطے ہی مجھے معاف کر دیتے۔ اپنا کمزور اور گرا ہوا کردار تو مجھ پر
چٹاخ۔ بہت زور کا ہاتھ پڑا تھا اس کے گال پر۔ وہ وہیں بیڈ پر گر گئی۔
اگر میں اتنا ہی کمزور اور گرا ہوا شخص ہوتا تو اس وقت تم یہاں میرے سامنے نظر نہ آ رہی ہوتی۔ اگر چاہتا تو میں اسی دن تم سے قطع تعلق کر سکتا تھا۔ چھوڑ سکتا تھا میں تم کو۔ یہاں سے فرار ہو سکتا تھا۔ پھر دیکھتا تم کیسے اپنی بے گناہی ثابت کرتیں۔ کس کس کے سامنے جا کر اپنا پاک دامن دکھاتیں۔ وہ انتہائی مشتعل ہو کر چلایا تھا۔ سچ کہوں تو مریم عباس! تم کچھ نہیں کر سکتی تھیں سوائے رونے کے۔ تم چاہتی بھی تو کوئی تمہارا اعتبار نہ کرتا۔ کوئی تمہاری بات نہ مانتا۔ وہ اب بیڈ کے پاس کھڑا ہو کر بولا تھا۔ وہ روتے ہوئے اسے دیکھنے لگی۔
میں نے اگر چپ چاپ تمہیں اپنے نکاح میں لے لیا تو صرف اسی لیے کہ تم کہیں بدنام نہ ہو جائو۔ لوگ تم پر تھوتھو نہ کریں۔ کوئی تمہیں برا نہ کہے۔ وہ اس کی نیربہاتی آنکھوں میں دیکھتا وہیں اس کے پاس بیٹھ گیا۔
میرا کیا تھا۔ یہاں کون سا لوگ مجھے جانتے تھے۔ اگر تم آگے جا کے مجھ پر انگلی اٹھاتی تو لوگ اسے محض ایک اسکینڈل سمجھتے۔ میں تو پھر بھی بچ جاتا لیکن تم لوگوں کی نظروں میں آ جاتیں اور میں نہیں چاہتا تھا کہ تم پر کسی کی گندی اورشک بھری نظریں پڑیں۔ اسی لیے اسی لیے دس دنوں کے اندراندر تمہیں اپنے نام کر لیا کہ میری صرف میری وجہ سے تم لوگوں کی نظروں میں گر نہ جائو۔ تم بدنام نہ ہو جائو۔ کہیں لوگ تمہیں برا نہ کہنے لگیں۔ وہ شکستہ لہجے میں بولتے ہوئے اسے سیدھا کرنے لگا۔
عباس حیدر اتنا کمزور مرد نہیں ہے مریم۔ اسے خود کو سنبھالنا آتا ہے۔ یہ تو پہلے کمزور نہیں تھا، تمہیں دیکھ کر کیا ہوتا۔ غلطی تمہاری تھی مریم۔ تم نے مجھے اس نکمی محبت کی راہ پر ڈالنا چاہا تو میں ہار گیا۔ اب کی بار وہ بے بسی سے بولا اور اتنی بے بسی سے اس کے آنسو صاف کرنے لگا۔ وہ اس کا ٹوٹا پھوٹا لہجہ اندر سے محسوس کر رہی تھی۔
میں تمہارے سامنے ہار گیا۔ میں تو بہت پہلے عورتوں سے نفرت کرنے لگا تھا جب میری ماں مجھے چھوڑ کر واپس گھونگھرو پہننے چلی گئی۔ جب میری تائی اماں نے میرے نام اپنی بیٹی کی اور تائی اور چچی نے مل کر جب مجھ سے میری جائیداد لوٹی۔ جب تایا کی بیٹی نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کیا۔ جب چھوٹے چچا کی بیٹیاں آوارہ ہو کر سڑکوں پر گھومنے لگیں اور جب صبا گوہر میرے چاچو کی بیٹی نے اپنا گناہ میرے سر تھوپ دیا۔
وہ چونک کر اس کی سرخ آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
تم بتائو بتائو مریم پھر میں کیسے تمہاری محبت کا جواب دیتا کیسے تمہارے سامنے ہار مانتا۔ میں تو عورتوں سے پہلے ہی بدظن تھا پھر تمہیں کیسے سب سے الگ تسلیم کر کے تمہارے سامنے شکست قبول کر لیتا۔ ایک پل کے لیے انتہائی کرب سے اس نے آنکھیں موندی تھیں۔
مریم! میں جان گیا۔ تمہاری محبت میں کوئی کھوٹ نہیں۔ تم واقعی مجھے چاہنے لگی تھیں۔ تب ہی تو میں تم سے بھاگنے لگا تھا کہ تم بچی تھیں معصوم تھیں۔ میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا تھا لیکن وہ ہو گیا جو ہم دونوں کے لیے کسی اذیت سے کم نہیں تھا۔
وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ پہلے ہی اسے دیکھ رہی تھی۔
اس میں نہ میری مرضی تھی نہ تمہاری‘ بس شیطان اپنا وار کر گیا اور ہم دونوں کے لیے پچھتاوا چھوڑ گیا۔ اس پل مریم نے اس کی آنکھوں میں نہایت دردکرب کے رنگ دیکھے تو اندر سے ہل کر رہ گئی۔
مریم کچھ دیر بعد وہ پھر بولا۔ میں نے واقعی بہت ظلم کیا ہے تم پر اور پھر اس ظلم کے ازالے کے لیے تمہیں اپنا بھی لیا لیکن یہ بھول گیا کہ یہ والی مریم پہلے والی مریم نہیں رہی جو مجھ پر مر مٹتی تھی لیکن مریم اب تم چاہو تو میں تمہیں چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔‘
مریم نے تڑپ کر اسے دیکھا تو اس کے سامنے اپنے ہاتھ باندھ دئیے۔
لیکن مریم!ایک بار صرف ایک بار پچھلی والی مریم بن جائو اور اس قسمت کے مارے عباس حیدر کو معاف کر دو۔ تمہارا مجھ پر بہت بڑا احسان ہو گا۔
عباس! اس نے تڑپ کر اس کے بندھے ہاتھ پکڑ لیے تھے۔
پلیز ایسے مت کریں۔
تم مجھے معاف کردو۔
معافی عباس میں پاگل تھی۔ جانتی تھی جو ہوا اس میں ہم دونوں کی مرضی شامل نہیں تھی پھر بھی آپ کو تنگ کرتی رہی۔ ستاتی رہی۔ ایک دم سے اس نے سارا الزام اپنے سر لے لیا تو عباس حیدر کا سر ندامت سے جھک گیا۔ وہ اس سے اس حد تک محبت کرتی ہو گی کہ ہر کیے دھرے کا الزام خود پر لے لے گی۔ یہ تو اس نے سوچا بھی نہ تھا۔ وہ اس کی محبت پر سرشار ہی تو ہو گیا تھا۔
لیکن عباس! میں بھی کیا کرتی۔ اس مشکل اور اذیت ناک وقت میں آپ مجھے سمیٹتے تو سہی‘ مجھے حوصلہ تو دیتے۔ صرف نکاح کر لینے سے کیا میری تکلیف کا مداوا ہو گیا تھا۔ کیا اس وقت جو اذیت مجھے مل رہی تھی وہ ختم ہو گئی تھی؟ نہ نہ کرتے ہوئے بھی اس کی زبان سے شکوہ نکل ہی گیا۔ عباس نے تڑپ کر اسے دیکھا تو وہ رو رہی تھی۔ عباس نے یک دم اس کے دائیں گال پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔
عباس! مجھے آپ کے ساتھ کی ضرورت تھی۔ آپ کے حوصلے کی ضرورت تھی لیکن آپ تو جلد ہی مجھے سے اکتا گئے۔ مجھ سے بھی خار کھانے لگے۔ وہ بہت دکھ سے بولی تھی۔
نہیں مریم! تم سے میں کبھی اکتانے والانہیں ہوں۔ میں تو تمہاری اکتاہٹ دیکھ رہا تھا۔ میں تو تمہاری بے زاری دیکھ رہا تھا۔ وہ پھر سے اس کی بھیگی پلکوں پر سے شفاف موتی چننے لگا۔
میں؟ عباس میں اس نے روتے روتے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا۔ کیا میں ایسا کر سکتی ہوں عباس کیا آپ سے بے زار ہو سکتی ہوں؟ اس کے آنسو روانی سے بہنے لگے۔ نہیں عباس ایسا تو میں مر کے بھی نہیں کر سکتی۔ آپ کے نام ہی سے تو میری سانسیں چلتی ہیں۔ بھلا میں اپنی سانسوں کو چلنے سے روک سکتی ہوں۔
اس کے اس طرح جذباتی ہونے پر عباس نے اسے ساتھ لگا لیا۔
تو پھر مجھ سے دور کیوں رہتی تھیں؟ اسے بھی شکوہ یاد آیا۔
تو کیا نہ رہتی۔ ایک تو آپ مجھ پر ظلم کر رہے تھے اور اوپر سے شرمندہ بھی نہ ہو رہے تھے۔ وہ سر اٹھا کر بولی۔
شرمندہ تو تھا یار لیکن کیا کرتا۔ تمہارا ہوش ربا حسن کسی راہ لگنے ہی نہ دے رہا تھا اور اگر حسن سے باہر نکل کر سوچتا تو تمہارے غصے کا خیال آ جاتا۔
ایک تو آپ زیادتی کر رہے تھے اور اوپر سے میں احتجاج بھی نہ کرتی؟ اس کی آنکھیں پھر سے بھیگنے لگیں۔
اچھا تو وہ احتجاج تھا؟ وہ قہقہہ لگا کر ہنسا اور پھر نیچے جھک کر تمام پھول سمیٹ لیے۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
میں بھی سدا کابے عقلا ہوں۔ ہر عورت کو ایک ہی پلڑے میں رکھ کر سوچتا رہا۔ یہ بھی خیال نہ کیا کہ میری بے اعتنائی کسی کے لیے عذابِ جان بھی ہو سکتی ہے۔ تمہیں بھی ویسے ہی سمجھتا رہا۔
قصور آپ کا نہیں۔ آپ کو ماحول ہی ایسا مل رہا تھا کہ آپ ہر عورت سے متنفر ہوتے چلے گئے۔ پے درپے کچھ ایسے واقعات آپ سے ٹکراتے رہے کہ آپ ہر عورت کو ایک ہی جیسی سمجھنے لگے۔ عورت کا دوسرا روپ آپ دیکھ ہی نہ سکے اور اگر دیکھ بھی لیتے تو اسے اصل سمجھ ہی نہ سکے۔ وہ بھلا اسے بھی شرمندہ ہوتے ہوئے دیکھ سکتی تھی۔ فٹ اس کی حمایت کرنے لگی تو وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔
مریم!
جی
میری زندگی آسان ہو گئی ہے۔ اس نے بہت سنجیدگی سے کہا تو وہ حیران ہوئی۔
کیسے؟
تمہارے جیسے جیون ساتھی قسمت والوں کو ملتے ہیں اور میں اتنا خوش قسمت ہوں گا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اس نے اتنی محبت اور خلوص سے کہا کہ وہ اپنی بھیگی پلکیں جھکا گئیں۔
اب تو پھول لو گی ناں؟ وہ اس کے ہاتھوں پہ پھول رکھتے ہوئے بولا تو وہ آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
یار! ایسے نہ دیکھا کرو۔ اندر کچھ کچھ ہونے لگتا ہے۔
اگر کچھ کچھ ہوتا ہے تو اسے باہر لے آئیں۔ وہ سوچے سمجھے بغیر بولی تو اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔
عباس پلیز!
اب نہیں یار اب نہیں روکنا۔ پہلے ہی میں بہت تڑپ چکا ہوں۔ نجانے کیسے کیسے اپنے آپ کو قابو کیا‘ نجانے کس کس طرح اپنی خواہش دباتا رہا لیکن آج نہیں یار آج تو تم خود خوشی خوشی اجازت دے دو۔ میں اب تم سے دور نہیں رہ سکتا۔ ایک دم سے اس کا لہجہ مخمور ہوا تو وہ کچھ بول ہی نہ سکی۔
آج تو ناراض نہیں ہو گی؟ وہ پھر کچھ نہ بولی۔
اس مبارک نئے سال کے ساتھ ہماری بھی زندگی کا آغاز ہے۔ جب میں گرا تو تم مجھے اٹھا لینا اور اگر کبھی تم بکھرنے لگو گی تو میں تمہیں سمیٹ لوں گا۔ اس عہد کے ساتھ مریم کہ اب عباس تمہارا ہے اور تم میری ہو
اس احتساب کے ساتھ زندگی کا آغاز کریں گے
میری زندگی تمہیں ملے‘ تمہاری سانسیں مجھے ملیں
اس کی سرگوشی کمرے میں گونجی تھی اور مریم نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھتے ہوئے اطمینان سے آنکھیں موند لیں۔ جان گئی تھی راہ سے بھٹکا مسافر رستے پر آ گیا ہے۔ اب نئے سال کی کرنیں اسے منزل کا صاف راستہ دکھا دیں گی۔

آپ بھی اگر راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں تونئے سال کے پہلے سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اپنا راستہ ڈھونڈ لیجیے۔ منزل انشاء اللہ تعالیٰ ضرور مل جائے گی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close