Aanchal Feb-07

جوریگ دشت فراق ہے

نازیہ کنول نازی

وہ ایک یاد کہ ہر لمحہ ذہن میں جاگی
وہ ایک ذکر کہ لہجہ بھی ہم بدل نہ سکے
وہ ایک نام کہ جس نام کو نہ بھولے کبھی
وہ ایک راہ جگہ جس راہ سے نکل نہ سکے

 

بہت آسان لفظوں میں سکوں آمیز لہجے میں
تعلق توڑنے کی جانِ جاں تم بات کرتے ہو
بہت نادان ہو تم بھی
تعلق کو فقط اک ریت کی دیوار سمجھتے ہو
تمہیں ہم کیسے سمجھائیں
تعلق ریت کی دیوار تو ہرگز نہیںہوتا۔
کہ تعلق تو وہ کوہِ جاوداں ہے
کہ جس کو جو بھی توڑنا چاہے
وہ خود صدمات کے شیشوں سے کٹ جائے
کئی ٹکڑوں میں بٹ جائے

 

پورے کمرے میں خاموشی کا راج تھا اور وہ ٹُکرٹُکر خاموش نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اعصاب تو پہلے ہی نڈھال تھے۔ آنکھیں درد اور بخار کی شدت سے جل رہی تھیں۔ پورے بدن میں شدید درد ہو رہا تھا۔ اٹھنے کی سکت نہ رہی تھی اور وہ آنکھیں کھولے‘ بے بسی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جب وہ مزید چراغ پا ہو کر اس پر چِلا اٹھا۔
ایک بار کاکہا سنائی نہیں دیا تمہیں۔ یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر میری طرف کیا دیکھ رہی ہو؟ جو کہا ہے اس پر عمل کرو۔
انتہائی تُرشی سے کہنے کے ساتھ ہی وہ بیڈ سے نیچے اتر گیا تھا جبکہ تمکین اب بھی حیرانگی کا مجسمہ بنی اس کے تیکھے لفظوں کی بازگشت پر غور کر رہی تھی۔ اس وقت بستر سے اٹھ کر کہیں بھی جانے کی پیکنگ کرنا اس کے لیے آسان نہیں تھا لیکن وہ اشعر کو مزید چِلانے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔ سو جیسے بھی ہو سکا اپنے چند سوٹ بیگ میں ٹھونس کر وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئی۔
اشعر جو اس وقت ٹی وی لائونج میں صوفے پر بیٹھا نیوزچینل دیکھ رہا تھا اسے کمرے سے نکلتے دیکھ کر ٹی وی آف کیا پھر بنا اس پر کوئی نظر ڈالے وہ بیگ اٹھا کر تیزی سے باہر نکل گیا۔ تمکین کے لیے اس کا یہ انداز قطعی سمجھ سے باہر تھا مگر پھر بھی وہ خاموش تھی۔
اشعر بیگ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پھینک کر واپس پلٹا پھر اسے بازو سے تھام کر فرنٹ سیٹ پر‘ دھکیلتے ہوئے خود بھی گاڑی میں آ بیٹھا۔
سامنے روڈ قطعی خالی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود انتہائی ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے اگلے پندرہ بیس منٹ میں حسن ولاج پہنچ گیا جہاں اس وقت سب لوگ ناشتے کی ٹیبل کے گرد بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
ارے تمکین بیٹی! تم اس وقت یہاں؟
داداجی کی نظر سب سے پہلے اس پر پڑی تھی لہٰذا وہ فوراً اپنی سیٹ سے اٹھ کر اس کے قریب چلے آئے ان کے پیچھے ہی رضااحمد‘ آسیہ بیگم‘ عائشہ بیگم اور گھر کے دیگرلوگ بھی اپنی اپنی سیٹوں سے اٹھ کر تمکین کے پاس چلے آئے۔
داداجی! آئی ایم سوری کہ مجھے ایک ارجنٹ ڈیلنگ کے سلسلے میں فوری بنگلور کے لیے روانہ ہونا ہے لہٰذا میں تمکین کو آپ کے پاس چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ کوشش کروں گا کہ جلد واپسی ہو جائے لیکن پندرہ بیس دن تو لگ ہی جائیں گے۔ اس لیے آپ فکرمت کیجیے گا اوکے
تمکین کے پیچھے ہی وسیع لائونج میں قدم رکھتے ہوئے عجلت سے اس نے کہا اور پھر سب کے اصرار کے باوجود وہاں ایک پل بھی ٹھہرے بغیر وہ جس تیزی کے ساتھ یہاں آیا تھا اسی تیزی کے ساتھ واپس پلٹ گیا۔ گھر میں سب لوگوں نے خاصے پُرتپاک انداز کے ساتھ اسے ویلکم کہا تھا مگر اس کا ذہن برابر اشعر کے رویے میں رہا۔تنہائیاں ایک دم سے اس کا مقدر ہو کر رہ گئی تھیں۔
گھر میں سب لوگ اس کا کتنا خیال رکھ رہے تھے مگر اسے قرار نہیں تھا۔ اشعر سے ملے بغیر‘ اسے دیکھے بغیر وہ جیسے دیوانی ہو رہی تھی۔ کتنے بہت سے دن گزر گئے تھے اسے بنگلور گئے ہوئے مگر تب سے ایک بار بھی اس نے پلٹ کر تمکین کی خبر نہیں لی تھی۔ جس کا دل اندر ہی اندر مختلف اندیشوں‘ مختلف وسوسوں کے خوف سے ڈوبتا جا رہا تھا۔ فقط چند ہی دنوں میں کتنی کمزور ہو کر رہ گئی تھی وہ
اشعر کی ناراضگی‘ اس کا بیگانہ پن‘ لمحہ لمحہ سلگا رہے تھے اسے مگر مصیبت تو یہ تھی کہ وہ اپنے دل کا یہ حال کسی پر عیاں بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اریج احمد کی معرفت اسے معلوم ہوا تھا کہ شیزا اشعر کے ساتھ ہی بنگلور گئی ہے اور تب سے وہ جلے پیر کی بلی کی مانند تڑپ رہی تھی۔ نجانے کیوں انجانے سے طوفان کا خوف اس کی جان خشک کر رہا تھا۔ اریج احمد کی معرفت ہی یہ بات اس کے علم میں آئی تھی کہ اشعر بنگلور جانے سے قبل اپنا شیئر اس سے الگ کر چکا ہے اس کی تو قطعی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟
اشعر نے اریج احمد سے گہری دوستی کے باوجود اپنا شیئر اس سے الگ کیوں کر لیا ہے؟ وہ جتنا سوچنا چاہتی تھی اتنا ہی اس کا ذہن الجھتا جا رہا تھا۔
عورت خواہ ماں ہو‘ بیوی ہو یا بیٹی۔ ٹوٹ کر اس وقت بکھرتی ہے کہ جب مرد سے وابستہ اس کا مان ٹوٹ جاتا ہے اور یہ مان توڑنے والا مرد‘ خواہ شوہر ہو‘ باپ ہو یا بیٹا‘ چوٹ برابر کی لگتی ہے درد ایک جیسا ہوتا ہے۔ اسے بھی اشعر کے پیار پر بہت مان تھا۔ وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ اشعر کبھی اس سے نگاہیں پھیر کر کسی اور کی زلفوں کا اسیر ہو سکتا ہے مگر آج حالات جس رو میں بہہ رہے تھے اس نے نجانے کیوں تمکین کو اشعر پہ قائم اپنا ایمان اور اعتقاد ٹوٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
لندن سے اشعر کے ممی پاپا اچانک پھر سے پاکستان واپس چلے آئے تھے اور ان کی یوں چپکے چپکے آمد پر پورے حسن ولاج میں خوشیوں کے ڈھیروں پھول کھل اٹھے تھے۔
محل جیسے حسن ولاج میں آنے والے مہمانوں کا پرتپاک استقبال ہو رہا تھا۔ ہر طرف گویا شادیانے بج اٹھے تھے مگر تمکین کا اداس دل ہنوز پریشان تھا۔
سعید احمد اور رخسانہ بیگم کی ہمیشہ کے لیے پاکستان واپسی پر سب ہی بے حد مسرور تھے۔ اسپیشلی داداجی اوردادی جی اماں کی خوشیاں تو دیکھنے لائق تھیں پھر ساتھ والے پورشن سے فاروق انکل‘ سمیہ بیگم‘ عاشر بھائی اور ان کی مسز نورینہ بیگم بھی ادھر ہی چلے آئے تھے اور اس وقت ایک دوسرے کی کمپنی کو انجوائے کرتے ہوئے بھرپور قہقہے لگا رہے تھے۔
سعید صاحب اور رخسانہ بیگم‘ اسے اپنے ساتھ لگائے بہت پیار کر رہے تھے مگر اس کی آنکھوں میں تو درد نے ڈیرا ڈال لیا تھا۔ کڑے انتظار کی تکلیف دہ گھڑیوں نے نڈھال کر چھوڑا تھا اسے۔

بقول بابا فرید

ہرویلے تانگاں یار دیاں‘ میں تے بیٹھی کاگ اوڈاواں
آپ ونجاں کہ میں قاصد بھیجاں‘ میرا تھی گیا حال نماناں
پردیس گیئوں پردیسی ہویوں وے کدی پا وطناں ول پھیرا
ساون وانگوں روندیاں اکھیاں‘ ہائے دل نیوں لگدا میرا
یار باہجوں ہن جیون کیڑا‘ تے میرے اندر دردہزاراں
غلام فریدا میں تے اینج روواں‘ جیوں وچھڑی کونج قطاراں

اشعر کو گئے پورے بیس روز ہو چکے تھے اور ان بیس روز کا ایک ایک لمحہ اس نے انگلی پر دن گن گن کر گزا را تھا کہ اگلی ہی شام اچانک وہ چلا آیا۔ تھکا تھکا سا نڈھال۔
رخسانہ بیگم اور سعید احمدنے تو اسے دیکھتے ہی خوب ریکارڈ لگایا تھا۔وہ ان دونوں کے حال کو اس پندرہ بیس روز کی مختصر جدائی سے مشروط کر رہے تھے جو ابھی حال ہی میں اشعر کی بزنس مصروفیت کے باعث ان کے درمیان آئی تھی اور جس کے لیے رخسانہ بیگم نے اشعر کے کان کھینچتے ہوئے اسے خوب ڈانٹ بھی پلائی تھی۔ وہ بھلا کہاں جانتے تھے کہ ان کے بیچ آ ج کل کیا چل رہا ہے؟
رات دیر تلک‘ سعید صاحب اور رخسانہ بیگم کے ساتھ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہ اپنے کمرے میں آیا تو تمکین اس سے الجھے بغیر نہ رہ سکی۔
تمہیں کیا ہو گیا ہے اشعر! تم پہلے تو ایسے نہیں تھے؟
ہاں۔ تم بھی تو ایسی نہیں تھیں
وہ تو جیسے اس سوال کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ لہٰذا فوراً دوبدو جواب دیا تو تمکین حیرانگی سے اس کی طرف دیکھتی رہ گئی۔
مم مگر میں نے کیا کیا ہے؟ چھوڑ کر تم مجھے گئے تھے۔ کمی تمہاری محبت میں آئی ہے اور الزام تم مجھے دے رہے ہو
ہاں دے رہا ہوں۔ میں تمہیں الزام‘ کیوں کہ تم قصوروار ہو۔ سمجھی تم
اس کے تلخ لہجے پر‘ ضبط کے باوجود وہ اونچی آواز میں چلایا تھا۔ جواب میں تمکین حیرانگی سے اس کی طرف دیکھتی رہ گئی۔
مممگر میرا قصور کیا ہے؟
بہت دھیمی آواز میں وہ بڑبڑائی تھی جب وہ مشتعل ہوتے ہوئے بولا۔
قصور قصور پوچھتی ہو تم اپنا تو سنو تمکین بیگم تمہارا قصور یہ ہے کہ تم نے میرے سچے پیار کے ساتھ کھیل کیا ہے۔ دھوکہ دیا ہے مجھے اپنی پرُفریب محبت کا۔ تم کیا سمجھیں کہ مجھے کبھی تمہاری اصلیت کا پتہ نہیں لگے گا۔ میں ہمیشہ تمہارے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا رہوں گا۔ نہیں تمکین بیگم اشعر کوئی مٹی کا کھلونا نہیں ہے جس سے تم اپنا دل بہلائو اور بعد میں توڑپھوڑ کر پھینک دو۔ نہ ہی میں ابھی اتنا دیوانہ ہوا ہوں کہ تمہاری جھوٹی محبت کا زہر قطرہ قطرہ پی کر ختم ہوتا رہوں۔ کان کھول کر سن لو تمکین میرے اور تمہارے راستے اب کبھی ایک نہیں ہو سکتے
یہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو اشعر میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا
ا س کے سلگتے لفظوں پر کسی درخت سے کٹی ہوئی ٹہنی کی طرح وہ بیڈ پر بیٹھی اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
پلیز! سٹاپ اٹ تمکین! بہت فریب دے لیا تم نے مجھے۔ بہت ہو گئی تمہاری دھوکے بازیاں۔ اب مزید بے وقوف نہیں بنوں گا میں لہٰذا بند کرو یہ انجان بننے کا ڈرامہ
اسے بیڈ پر گرتے دیکھ کر وہ مزید غصے ہوا تھا تب ہی تمکین بلک بلک کر رو پڑی۔
کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ تم یہ سب کیوں کر رہے ہو اشعر! پلیز مت کرو ایسا۔ نہیں برداشت کر سکتی میں یہ سب
میں نے کیا کیا ہے میڈم! جو کچھ بھی کیا ہے وہ تم نے کیا ہے۔ میں تو صرف تماشہ بنا ہوں اور وہ بھی خود تمہارے ہاتھوں سے۔ تم اپنا قصور جاننا چاہتی ہو ناں تو لو پڑھو یہ ڈائری اور بتائو مجھے کہ ظلم تم نے مجھ پر کیا ہے یا میں تم پر کر رہا ہوں
اپنے سفری بیگ سے اریج احمر کی پرسنل ڈائری نکال کر تمکین کی گود میں پھینکتے ہوئے وہ پھر چلایا تھا تب ہی گم صم سی تمکین رضا نے کانپتے ہاتھوں سے ڈائری کھول کر اس کا مطالعہ شروع کر دیا اور جوں جوں وہ صفحے پلٹتی گئی اس پر حقیقتوں کے دروا ہوتے گئے۔

ازمیر بیٹے! یہ اریشہ کیا کہہ رہی ہے؟
وہ جاکنگ کے لیے ٹریک سوٹ پہنے لان سے گزر رہا تھا جب حائقہ بیگم کی پکار پر اسے واپس پلٹنا پڑا۔
کیا کہہ رہی ہیں مما؟
واپس پلٹ کر چند قدموں کا فاصلہ طے کرتے ہوئے اس نے حائقہ بیگم کے پہلو میں کھڑی اریشہ خان کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
تم انگلینڈ جا رہے ہو۔ کیا یہ سچ ہے؟
جی مما!
لیکن کیوں ازمیر! تم وہاں شہزین خان کے لیے جا رہے تھے ناں مگر اب تو تم نے سائلہ خان کو پا لیا ہے۔ پھر اب وہاں کیوںجا رہے ہو؟
انہیں تو جیسے اریشہ کی اطلاع پر یقین ہی نہیں آیا تھا۔ تب ہی وہ نگاہ پھیرتے ہوئے بولا۔
اس سے آخری بار ملنے کے لیے جا رہا ہوں مما پھر کبھی نہیں جائوں گا
لیکن کیوں بیٹے! جس منزل کو پانا ہی نہیں اس کا راستہ کیا پوچھنا؟ وہ خاصی الجھی تھیں جب وہ اسی انداز میں بولا۔
میں اسے بھلا نہیں سکتا مما! اور جہاں تک سائلہ کا سوال ہے تو یہ میں نے صرف آپ کی اور صالحہ بھابی کی خوشی کے لیے کیا ہے۔ میری اپنی خوشی اس میں شامل نہیں ہے۔
جھوٹ جھوٹ بول رہے ہو تم تم نے خود صالحہ بھابی سے کہا تھا کہ تم اسے پسند کرتے ہو اور وہ تمہیں اچھی لگتی ہے۔ اب تم اپنی بات سے پھر نہیں سکتے ازمیر
اس سے پہلے کہ حائقہ بیگم اس سے کچھ مزید کہتیں۔ اریشہ اس سے الجھ پڑی۔ جواب میں اس نے بھرپور نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا
تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اریشہ۔ میں نے صالحہ بھابی سے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔
تم اپنی بات سے پھر رہے ہو ازمیر! میں نے خود اپنے کانوں سے تمہیں یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ تمہیں سائلہ اچھی لگی ہے
سو وھاٹ اریشہ! اچھا لگنے میں اور محبت کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے مگر تم یہ فرق کبھی نہیں سمجھ سکیں اسے یہ بحث لطف دے رہی تھی تب ہی مسکراتے ہوئے بولا تو اریشہ سر جھٹک کر رہ گئی۔
ازمیر! اریشہ بتا رہی تھی کہ تم ہمیشہ کے لیے انگلینڈ جا رہے ہو
اریشہ کو خاموش پا کر پھر سے حائقہ بیگم نے سوال کیا تھا۔ جب وہ سر جھٹکتے ہوئے دھیمے سے مسکرا کر بولا۔
اریشہ تو پاگل ہے مما۔
ہاں میں تو پاگل ہی ہوں۔ ساری دنیا میں ایک تم ہی تو عقل مند رہ گئے ہو ناں
اچھا خاصا چِڑ کر وہ وہاں سے چلی گئی تھی جب ازمیرشاہ نے بے ساختہ ہی بلند قہقہہ لگایا۔
مجھے دیر ہو رہی ہے مما! انشاء اللہ واک سے واپس آ کر آپ سے اس مسئلے پر بات کرتا ہوں۔
اریشہ کے جاتے ہی وہ بھی جانے کے لیے پر تولنے لگا تو قدرے متفکر سی حائقہ بیگم مشکوک نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے وہاں سے کچن کی طرف چلی آئیں۔
او مائی گاڈ اریشہ! تم کیا جانو کہ میں یہ بن باس کیوں کاٹ رہا ہوں؟ کیوں فرار چا ہتا ہوں؟ میں ان موسموں سے شہزین خان تو اک بہانہ ہے میرے لیے لیکن میں تمہیں یہ کیسے بتائوں کہ میں اپنی آنکھوں کے سامنے تمہیں کسی اور کی زندگی میں آتے نہیں دیکھ سکتا۔ تم میرے دل کی کیفیت کبھی نہیں سمجھو گی اریشہ تم نے خودیہ تکلیف جھیلی ہوتی تو تمہیں پتہ چلتا کہ دل کا درد کیا ہوتا ہے۔ تم نے کسی کو ٹوٹ کر چاہنے کے بعد اسے کھو دینے کا درد سمیٹا ہوتا تو تم میرے دل کا حال سمجھتیں لیکن تم سے کیا کہوں اریشہ تم تو بے خبر ہو‘ انجان ہو میرے پیار سے اور خدا کرے کہ ہمیشہ یوں ہی انجان رہو کیونکہ میں تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے حقارت نہیں دیکھ سکتا
لان سے نکل کر سامنے روڈ پر چھوٹے چھوٹے اسٹیپ اٹھاتے ہوئے اس نے سوچا اور ایک سرد آہ خنک فضائوں کے سپرد کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
تقریباً ایک گھنٹے کے بعد وہ واک سے واپس آیا تو اریشہ لان میں پودوں کو پانی دے رہی تھی اور سائلہ خان اس کے قریب ہی کین کی کرسی پربیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔ آج چونکہ سنڈے تھا لہٰذا سب ہی چھٹی انجوائے کر رہے تھے
لو آگیا تمہارا شہزادہ گلفام
پودوںکو پانی دیتے ہوئے اریشہ کی نگاہ جوں ہی اس پر پڑی۔ اس نے سائلہ خان کو مطلع کر دیا۔ جواب میں سائلہ خان نے ایک دوستانہ سی مسکراہٹ اس کی سمت اچھال دی۔
السلام علیکم! کیسے ہیں آپ؟
مسکرا کر بڑے فریش انداز میں اس نے پوچھا تھا۔ جبکہ وہ چھوٹے چھوٹے اسٹیپ اٹھاتے ہوئے اس کے مقابل آ بیٹھا۔
الحمد للہ! آپ سنائیں آج صبح ہی صبح ہماری یاد کیسے آ گئی آپ کو؟
بس آ ہی گئی وہ کیا ہے کہ آج سنڈے تھا تو میں نے سوچا چلو اس چھٹی کو آپ لوگوں کے ساتھ سیلیبریٹ کیا جائے
شکریہ! بڑی عقل مندی کا مظاہرہ کیا آپ نے اس کی بات پر وہ زیرلب مسکرایا تھا۔
ہاں۔ میں ایسے چھوٹے موٹے مظاہرے اکثر کرتی رہتی ہوں

وہ بھی بھرپور زندہ دل لڑکی تھی بھلا کیسے پیچھے رہ جاتی تب ہی وہ تو بے ساختہ کھلکھلا کر ہنس پڑا تھا۔
آپ کی ہنسی بہت خوب صورت ہے ازمیر۔
اسے کھلکھلاتے دیکھ کر وہ کہیں کھو گئی تھی۔ جب اریشہ نے ایک دم سے چونک کر اس کی سمت دیکھا۔
تھینک یو۔ دنیا میں آپ واحد لڑکی ہیں جو یوں کھل کر میری تعریف کرتی ہیں۔
ازمیر کے لب اب بھی مسکرا رہے تھے مگر اریشہ کے چہرے پر مایوسی بکھر گئی۔ نجانے کیوں اسے سائلہ خان کا اس طرح سے ازمیر کی تعریف کر کے اپنا پیار جتانا اچھا نہیں لگا تھا۔
ازمیر! مجھے کچھ شاپنگ کرنا تھی۔ کیا آپ میرے ساتھ چل سکیںگے؟
اگلے ہی پل سائلہ خان نے پوچھا تھا۔ جب وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
ایک تو یار یہ تم لڑکیوں کو شاپنگ کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ خیر جب دل کا سودا آپ سے کر ہی لیا ہے تو پھر ساتھ کیوں نہیں چلیں گے۔ ضرور چلیں گے
اریشہ کو محسوس ہوا تھا کہ وہ آج سائلہ خان کی کمپنی میں روز کی نسبت زیادہ فریش تھا۔ تب ہی اس کا دل جیسے ڈوب سا گیا۔
یہ حقیقت تھی کہ وہ اس کا نہیں تھا اور نہ ہی کبھی ہو سکتا تھا لیکن پھر بھی وہ یہ حقیقت برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ اس کے علاوہ کوئی اور اسے محبت بھری نظروں سے دیکھے اس کی تعریف کرے۔ اس پر اپنا حق جتائے یا پھر وہ خود ہی کسی اور کو اس پر اہمیت دے۔ کسی اور کی طرف متوجہ ہو۔
گو یہ حماقت تھی۔ سراسر حماقت مگر وہ یہ حماقت کرنے پر دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔
اریشہ! تم بھی چل رہی ہو ناں! ہمارے ساتھ
وہ اپنے خیالوں میں کھوئی کھڑی تھی جب ازمیر نے اسے مخاطب کیا۔ جواب میں وہ خالی خالی سی نگاہوں سے چونک کر اس کی سمت دیکھنے لگی۔
مم میں کیا کروں گی جا کر؟ تم دونوں ہی چلے جائو ناں
نہیں تم بھی ہمارے ساتھ چل رہی ہو۔ جائو جا کر فٹافٹ تیار ہو جائو۔
اس کے انکار پر ازمیر نے سختی سے کہا تھا۔ جواب میں وہ خالی خالی سے ذہن کے ساتھ پائپ پودوں میں پھینک کر اپنے کمرے کی طرف چلی آئی۔
اندر ہی اندر اسے ازمیر پر غصہ بھی آ رہا تھا کہ اس نے خواہ مخواہ اسے گھسیٹ کر درمیان میں ہڈی بنانے والی بات کی تھی۔ سائلہ خان اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔ اسے سمجھنے کے لیے کچھ لمحوں کو قید کرنا چاہتی تھی مگر ازمیر نے اس کی فیلینگز کو نہ سمجھتے ہوئے بے کار میں اریشہ کو آفر کر دی جسے وہ چاہ کر بھی جھٹلا نہیں سکتی تھی۔ البتہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اس نے ازمیر کو سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر وہ عقل میں ماسٹرز کہاںسمجھ سکتا تھا ان نزاکتوں کو۔ سو بڑے آرام سے نگاہیں پھیر کر اس کی طرف سے لاپروا ہو گیا تو مجبوراً اسے ان دونوں کے ساتھ شاپنگ کے لیے چلنا ہی پڑا۔
اریشہ نے محسوس کیا تھا کہ سائلہ کو اس طرح سے ان دونوں کے بیچ آنا اچھا نہیں لگا تب ہی وہ خاموش سی ہو گئی تھی مگر وہ کیا کرتی۔ ازمیر نے تو جیسے ضد باندھ لی تھی کہ اسے ہرحال میں ساتھ چلنا ہے وگرنہ وہ دونوں بھی کہیں نہیں جائیں گے۔
وہ چاہتی تھی کہ گاڑی میں سائلہ ازمیر کے ساتھ ہی بیٹھے مگر سائلہ نے ایسا نہیں کیا تھا۔ وہ اپنی مرضی سے چپ چاپ پیچھے آ کر اس کے برابر بیٹھ گئی تھی۔
ازمیر! میں نے سنا ہے کہ آپ پرسوں انگلینڈ جا رہے ہیں
دوران سفر سائلہ نے سوال کیا تھا۔ جو اب میں وہ دھیمے سے مسکراتے ہوئے بولا۔
کس سے سن لیا آپ نے؟
صالحہ آپی بتا رہی تھیں۔
ہاں کچھ کام ہے وہاں جلد واپس آجائوں گا
لیکن آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔
بس یوں ہی۔ میں نے سوچا آپ خواہ مخواہ ٹینس ہو جائیں گی۔ کیا فائدہ
اس کی توجہ مکمل طور پر ڈرائیونگ کی طرف مرکوز تھی۔ جب سائلہ خان نے پھر سے کہا۔
جا کیوں رہے ہیں؟ کوئی خاص کام ہے کیا؟
ہاں بس یہی سمجھ لو۔ ویسے آپ تو بڑی پنکچوئل گرل ہیں یار آپ کہاں ایسی جذباتیت میں الجھ گئیں
وہ زیرلب مسکرایا تھا۔ تب ہی ان کی مطلوبہ شاپ آ گئی تو ازمیر نے سائلہ سے مزید کچھ کہے بنا گاڑی روک دی۔
سائلہ! یہ بریسلٹ دیکھو۔ تم پر بہت اچھا لگے گا۔
سب سے پہلے وہ لوگ جیولر شاپ کی طرف آئے تھے کیونکہ ازمیر جانے سے قبل سائلہ کو اس کی عنقریب برٹھ ڈے کے حوالے سے کچھ گفٹ کرنا چاہتا تھا۔ اسی سلسلے میں وہ قیمتی بریسلٹ چُوز کر رہا تھا اور اریشہ ایک طرف تھرڈ پرسن کی طرح گم صم کھڑی اس کی یہ وارفتگیاں دیکھ رہی تھی۔ آپ سے تم کا مرحلہ بڑی جلدی طے ہو گیا تھا تب ہی اس نے سائلہ کے گلابی ہونٹوں پر بڑی مسحور کن سی مسکراہٹ بکھرتے دیکھی۔
ارے یہ سبز چوڑیاں تو تمہاری کلائی میں بہت ہی جچ رہی ہیں۔ ہے ناں
جیولر شاپ سے نکل کر وہ لوگ چوڑیوں کی مارکیٹ کی طرف چلے آئے تھے۔ ایسے لمحات میں ازمیر نے اریشہ کو یکسرنظرانداز کر دیا تھا۔ تب ہی وہ خود کو سخت اکورڈ سا محسوس کر رہی تھی۔
یہ آف وائیٹ ڈریس تو بہت ہی سوٹ کرے گا تم پر ہے نا اریشہ
انتہائی قیمتی سوٹ سائلہ کے لیے پسند کرتے ہوئے اس نے پہلی مرتبہ اریشہ خان سے رائے لی تھی۔ جواب میں اس نے چپ چاپ سوٹ پر ایک نگاہ ڈالتے ہوئے دھیرے سے اثبات میں سر ہلادیا۔
سنو کیا تمہیں بھی کچھ خریدنا ہے؟
سائلہ خان کی شاپنگ سے مکمل طور پر فارغ ہونے کے بعد اس نے اریشہ سے پوچھا تھا کہ جس کی آنکھیں ضبط کی شدت سے سرخ ہو رہی تھیں۔
نہیں مجھے تو کچھ بھی نہیں خریدنا میں تو بس یوں ہی تم لوگوں کا ساتھ دینے کے لیے چلی آئی۔
اس وقت اس سے اپنا بھرم رکھنا۔ بہت دشوار ہو رہا تھا مگر پھر بھی اس نے اپنا ضبط ڈولنے نہیں دیا۔
اوکے تو پھر کیا خیال ہے سائلہ! کسی اچھے سے ریستوران میں چل کر تمہاری پسند کی آئس کریم کے ساتھ آج کا شان دار لنچ نہ کیا جائے۔
اس نے فوراً ہی توجہ اریشہ خان سے ہٹا کر سائلہ خان کی طرف مرکوز کر دی تھی جس پر وہ دکھ سے کٹ کر رہ گئی جب کہ اس کے مقابل کھڑی مسرور سی سائلہ خان نے خوشی خوشی فوراً اثبات میں سر ہلا دیا۔
تم کتنے اچھے ہو ازمیر! تمہیں میری خوشی کا کتنا خیال ہے؟
وہ ازمیر کی اس درجہ توجہ پر خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی تب ہی وہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
میں تو اپنی خوشی کے لیے یہ سب کر رہا ہوں کیونکہ تم جیسا حسین ہم سفر ساتھ ہو تو کون کافر ہے جو وقت کے ایک بھی لمحے کو انجوائے کیے بغیر ہاتھ سے پھسلا دے۔
اریشہ نے آج سے پہلے اسے اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا۔
ازمیر! تم ضرورت سے زیادہ رومنٹک ہونے کی کوشش کر رہے ہو۔
قدم باقدم ازمیرشاہ کے ساتھ چلتی ہوئی سائلہ خان نے دھیمے سے مسکرا کر اسے گھورا تھا جب وہ پھر سے ہنس دیا۔
دودن کی بات ہے۔ پھر اسی رومانس‘ ان ہی لمحات کو یاد کرو گی تم۔
آج وہ دونوں اپنی اپنی رو میں بہہ کر اریشہ خان کے وجود کو یکسر فراموش کر گئے تھے جو بظاہر ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی ان کے ساتھ نہیں تھی۔
چلو بتائو سائلہ کیا کھائو گی آج
اپنی مطلوبہ ٹیبل پر بیٹھتے ہی مسرور سے ازمیر شاہ نے سائلہ خان سے پوچھا تھا۔ جواب میں وہ مینوکارڈ پر نگاہ دوڑاتے ہوئے بولی۔
چکن بریانی اور ساتھ میں فش کباب
لیکن مجھے تو بریانی پسند نہیں ہے
اریشہ نے پہلی بار اس کی پسند پر اختلاف کیا تھا۔ جواب میں وہ اپنے عنابی ہونٹ سمیٹ کر خاموشی سے ازمیرشاہ کی طرف دیکھنے لگی تھی۔
بریانی تو ہر فرد کی پسندیدہ ڈش ہے پلیز تم ٹیسٹ تو کرو۔
ازمیر شاہ نے سائلہ خان کا دل رکھنے کے لیے اسے فورس کرنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہا۔
سوری میں بریانی نہیں کھاتی۔
وہ آج یکسر بدلے ہوئے ازمیرشاہ کے رویے سے شدید ہرٹ ہوئی بیٹھی تھی۔ تب ہی گلوگیر لہجے کے ساتھ ضد باندھی تو وہ چپ چاپ ایک نظر اسے دیکھ کر رہ گیا۔ تب ہی ہوٹل کا مینجر ان کے قریب چلا آیا۔
ہیلو! آپ میں اریشہ بی بی کون ہیں؟
مینجر کے ان کے پاس چل کر آنے اور یہ سوال پوچھنے پر ازمیرشاہ نے خاصی حیرت سے اس کی طرف دیکھا تھا جب اریشہ نے اپنی پہچان کروائی۔
اریشہ جی! اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو دو منٹ کے لیے میرے ساتھ آئیے پلیز
وہ ہوٹل کا مینجر ہو کر اتنی عاجزی کے ساتھ اس سے بات کر رہا تھا کہ اریشہ سمیت ازمیر اور سائلہ بھی حیرت سے گنگ رہ گئے تھے۔

تم نے مجھ سے مجھے جدا کر کے
شیشہء دل کو آئینہ کر کے
عکس اس میں اتار کر اپنا
رکھ دیا بھولی بسری چیزوں میں
وقت کی ان کھلی درازوں میں
کسی بے نام سے گماں کے پاس
اک ادھوری سی داستاں کے پاس
جس جگہ گمشدہ خطوں میں چھپے
یاد کے بے شمار جگنو ہیں
درد کے بے حساب پہلو ہیں
اک دسمبر کی شام کے ہمراہ
کچھ خزاں کے بھی دن پڑے ہیں کہیں
خواب کی دھجیوںسے لپٹے ہوئے
چاند راتوں کے سلسلے ہیں کہیں
سینکڑوں دل زدہ‘ خراشوں میں
کوئی صورت کہاں ابھرتی ہے
سانس کا کیا ہے؟ چلتی رہتی ہے

ہلکے ہلکے گھنگھور بادلوں نے پورے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ دور آسمان پر مختلف رنگ برنگی پتنگیں بڑی خوب صورتی کے ساتھ لہرا رہی تھیں اور وہ چپ چاپ بیٹھا پُرشوق نگاہوں سے ان اڑتی پتنگوں کو دیکھتے ہوئے مسلسل انجشاء کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ جو اپنی قابلیت‘ تعلیم اور ضد کے لحاظ سے اس سے کہیں بھاری ثابت ہو رہی تھی۔
اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ جس معمولی سی لڑکی کو وہ حویلی میں ایک نظر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ وہی لڑکی یوں زندگی میں اتنے بڑے چینج کے ساتھ اس کے سامنے آ کر اس سے اس کا صبروقرار تک چھین لے گی۔
وہ تو کلی کلی منڈلانے والا بھنورا تھا۔ اس پھول کا رس چوس کر اس پھول کی طرف اور اس پھول کا رس چوس کر اس پھول کی طرف لیکن اب کتنا عجیب ہو رہاتھا اس کے ساتھ کہ وہ محض ایک ہی محور کے گرد دیوانہ وارچکر لگانے لگا تھا۔
کچھ خاص تو تھا اس میں جو دوسری عام لڑکیوں میں نہیں تھا مگر یہ خاص کیا تھا۔ اسے سوچ سوچ کر بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
انجشاء اپنے پرانے فلیٹ کو چھوڑ کر اریج احمر کے بنگلے کے قریب ایک چھوٹے سے فلیٹ میں شفٹ ہو گئی تھی اور اپنے اکیلے پن کے لیے اس نے ایک ادھیڑعمر ملازمہ رکھ لی تھی جو چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ ہی رہتی تھی۔
پچھلے ہفتے اس نے اپنے کہے کے عین مطابق عدالت میں خلع کا کیس دائر کروا دیا تھا۔ جس میں انجشاء کی طرف سے یہ جواز پیش کیا گیا تھا کہ عدنان احمدرئوف نے خود آج سے چھ سات ماہ قبل اس سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا اور طویل عرصے تک اسے ذہنی اذیت میں مبتلا کر کے بے یارومددگار چھوڑ دیا تھا۔ لہٰذا اس نے عدالت سے اپیل کی تھی کہ اسے ہرحال میں عدنان احمدرئوف سے چھٹکارہ دلوایا جائے تاکہ وہ اپنی پسند سے اپنی نئی زندگی کی شروعات کر سکے۔
اس کے دلائل چونکہ حقائق پر مبنی تھے لہٰذا اس کا کیس کافی مضبوط تھا اور وہ پرامید تھی کہ اسے بہت‘ جلد عدالت سے انصاف مل جائے گا مگر اس کیس کے لیے عدنان نے بھی اپنا پیسہ پانی کی طرح بہا چھوڑا تھا۔
وہ اس بات کو ماننے سے انکاری تھا کہ اس نے انجشاء کے وجود سے کسی قسم کی کوئی غفلت برتی ہے۔ اس کے بقول انجشاء خود ہی اپنے داداجی کو لے کر گائوں سے اچانک غائب ہو گئی اور جب اتفاقاً عدنان نے اسے ڈھونڈ نکالا۔ تو اس نے اسے اپنا مجازی خدا ماننے سے صاف انکار کر دیا لہٰذا اس نے عدالت سے ریکویسٹ کی کہ اسے اس کا حق دلوایا جائے اور انجشاء کو غلط قدم اٹھانے سے باز رکھا جائے۔ اپنی اپنی طرف سے دونوں کے دلائل مضبوط تھے مگر مشکل یہ تھی کہ انجشاء کسی بھی صورت اس سے تعلق قائم رکھنا نہیں چاہتی تھی اور وہ ہرقیمت پر اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔
اسی کشمکش کی وجہ سے عدالت کو کوئی بھی فیصلہ کرنے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ عدنان کسی بھی صورت اس کیس کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا جب کہ دوسری طرف انجشاء بھی ہرگز پیچھے قدم ہٹانے والوں میں سے نہیں تھی۔ نتیجتاً دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر اڑے ہوئے تھے۔
انجشاء کے پاس ایڈوانس میں جتنے پیسے بھی جمع تھے۔ وہ سب وکیلوں کی بھاری فیس کی نذر ہو چکے تھے مگر تاحال اسے کامیابی کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی جس کی وجہ سے وہ آج کل بے حد پریشان تھی جب کہ دوسری طرف احمدرئوف صاحب انجشاء کے اس اقدام پر شدید ہرٹ ہو کر بستر سے جا لگے تھے۔
اپنی اکلوتی بھتیجی اور اپنے نام کا عدالتوں میں رلنا انہیں کسی صورت گوارہ نہیں تھا جبکہ انجشاء کے مطالبے کو ماننا بھی ان کے لیے کسی موت سے کم ہرگز نہیں تھا۔ نتیجتاً وہ شدید بیمار پڑ گئے تھے اور یوں عدنان کا پیسہ جو پہلے انجشاء کی طرف سے دائر کیس پر لگ رہا تھا۔ اب احمد رئوف صاحب کے قیمتی علاج پر لگنے لگا۔
اس روز وہ فیصلہ سننے کے لیے آیا تو عدالت کے کوریڈور میں ہی اسے انجشاء دکھائی دے گئی۔
کاٹن کے سادہ سے بلیک سوٹ میں ملبوس اپنے جسم کو چادر میں چھپائے۔ وہ اسے کافی پریشان لگ رہی تھی مگر وہ چاہ کر بھی اس سے اس کا حال دریافت نہیں کر پاپا۔ سو بجھے اور بے قرار دل کے ساتھ اس کے سراپے سے نگاہیں چرا کر سیدھا عدالتی کمرے میں چلا آیا۔ جہاں آج اس کے کیس کی شنوائی ہونا تھی۔ اس کے وکیل مسٹرشاہ زیب لغاری کافی پُرامید تھے کہ عدالت ان کے حق میں ہی فیصلہ کرے گی مگر اس کے دل کو قرار نہیں تھا۔ ایک عجیب سا خوف‘ ایک انہونا سا وہم‘ مسلسل ڈسٹرب کیے ہوئے تھا اسے۔
انجشاء نے آج بھی عدالت میں اپنے وہی بیانات دہرائے تھے جو وہ پچھلے چارماہ سے دہراتی آ رہی تھی مگر اس کے باوجود عدالت کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے میں ناکام رہی کیونکہ دوسری طرف عدنان کے وکیل کے دلائل بھی بہت مضبوط تھے۔
عدنان اپنے وکیل کے ساتھ کمرہ عدالت سے باہر آیا تو انجشاء بھی اس کے پیچھے ہی باہر چلی آئی کیونکہ اسے اریج احمر کی معرفت احمد رئوف کی خرابی صحت کا علم ہوا تھا اور وہ لاکھ رنجشوں کے باوجود‘ عدنان سے ان کی خیریت معلوم کرنا چاہتی تھی مگر وہ مکمل طور پر اپنے وکیل کے ساتھ محوگفتگو تھا جو اس سے کہہ رہے تھے۔
مسٹرعدنان! یہ کیس آپ کے حق میں جا سکتا ہے۔ اگر آپ عدالت میں یہ بیان دے دیں کہ آپ کی منکوحہ ایک آوارہ ٹائپ لڑکی ہے اور وہ اپنی عیاشیوں کے لیے آپ سے زبردستی آزادی حاصل کر کے اپنے غلط ارادوں کو مکمل کرنا چاہتی ہیں
نہیں مسٹرشاہ زیب! مجھے یہ کیس ہارنا منظور ہے مگر میں اس کے پاکیزہ دامن پر‘ کوئی داغ نہیں لگا سکتا۔ آپ نہیں جانتے وہ بہت مضبوط اور بااصول لڑکی ہے اور جتنی بااصول ہے اتنی ہی بلند کردار بھی۔ میں اس کی پاکیزگی کو فرشتوں کی پاکیزگی سے مشروط کرتا ہوں۔ لہٰذا میں ایسی گھٹیا بہتان بازی کے متعلق سوچنا بھی نہیں چاہتا
کتنا ایموشنل ہوا تھا وہ اس کے کردار کو لے کر۔ کتنا جداگانہ سا انداز تھا یہ اس کا۔ وہ ایک شخص کہ جس کی نظر میں عورت کی حیثیت محض ایک کھلونے سے بڑھ کر نہیں تھی۔ وہ اس کے کردار پر قسم کھا رہا تھا۔ انجشا جانتی تھی کہ یہ کیس جیتنا اس نے اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا تھا مگر اسی کیس کی اہمیت کو اس نے صرف ایک پل میں محض اس کی عزت کی خاطر‘ پسِ پشت ڈال دیا کیوں؟
وہ چاہتا تو اسے نیچا دکھانے کے لیے ایسا کر سکتا تھا۔ اس کیس کو اپنے حق میں مضبوط بنانے کے لیے ایسا کرنے سے اسے کوئی نہیں روک سکتا تھا مگر اس کے باوجود وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا آخر کیوں؟
عدنان کے وکیل مسٹرشاہ زیب لغاری اس کے واضح انکار کے بعد دھیمے سے سر ہلا کر اس سے مصافحہ کرتے ہوئے اپنے چیمبر کی طرف بڑھ گئے تھے جب وہ چونک کر لپکتے ہوئے اس کی طرف بڑھی۔
عدنان! رکو پلیز
انجشاء نے دیکھا کہ اس کی پکار پر واپس پلٹتے عدنان رئوف کی آنکھوں میں حددرجہ حیرانگی تھی مگر اس نے اپنی نگاہیں اوپر نہیں اٹھائیں
وہ وہ میں تایاجی سے ملنا چاہ رہی تھی۔ اب کیسی طبیعت ہے ان کی؟
اس کے مقابل آ کر بہت دھیمے لہجے میں اس نے کہا تھا۔ جواب میں عدنان رئوف نے اچٹتی سی ایک نظر اس کے رف حلیے پر ڈالتے ہوئے قدم پھر سے آگے بڑھا دئیے۔
عدنان پلیز! میری بات سنو
اس کے اس طرح سے چپ چاپ آگے بڑھ جانے پر وہ پھر اس کی طرف لپکی تھی۔ جب وہ عدالت کے احاطے سے باہر آ کر اپنی گاڑی کا فرنٹ ڈور اس کے لیے کھولتے ہوئے سپاٹ لہجے میں بولا۔
فی الحال وہ کچھ بہتر ہیں انجشاء! لیکن ہو سکتا ہے کہ تمہیں اپنے سامنے دیکھنے کے بعد ان کی طبیعت پھر سے خراب ہو جائے
لیکن میں انہیں تکلیف دینا نہیں چاہتی عدنان۔
فرنٹ سیٹ پر اس کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے اس نے گھٹے گھٹے سے لہجے میں اپنی صفائی پیش کرنا چاہی تھی۔ جبکہ وہ پھیکی سی مسکراہٹ لبوں پر بکھیرتے ہوئے بولا۔
اور کتنی عجیب بات ہے کہ تم اس کے باوجود انہیں تکلیف دے رہی ہو انجشاء
قدرے بجھا ہوا لہجہ تھا اس کا جب وہ بے بسی سے ہونٹ کاٹتے ہوئے بولی۔
اس کے ذمہ دار تم ہو عدنان! اگر تم آسانی سے مجھے ڈائیورس دے دو تو میں کبھی ان کی عزت کو اس طرح سے عدالتوں میں پامال نہ کروں۔
واہ! کیا خوب صورت جواز ہے تمہارا لیکن میرے پاپا تمہاری اس حماقت کی وجہ سے تکلیف میں ہیں انجشاء کیا تمہیں اس بات کا احساس ہے؟
قدرے چٹخا ہوا لہجہ تھا اس کا جب انجشاء نے اپنی نگاہ اس کی طرف سے ہٹائی۔
میں بہت مجبور ہوں عدنان! میرا دل اب تمہاری رفاقت کو قبول نہیں کرتا
اوکے۔ اگر تم مجبور ہو ناں تو پھر میں بھی مجبور ہوں انجشاء کیونکہ میں اب تم سے الگ ہو کر نہیں جی سکتا
نظر سامنے روڈ پر مرکوز رکھتے ہوئے عجیب سپاٹ لہجے میں اس نے کہا تھا جب وہ قدرے زچ ہو کر بولی۔
تم بے کار کی ضد کر رہے ہو عدنان
تم بھی تو بے کار کی ضد میں الجھی ہو انجشاء وگرنہ خود ہی کہو کس چیز کی کمی ہے مجھ میں بولو صرف ایک تمہیں پانے کے لیے میں کیا سے کیا ہو گیا ہوں انجشاء کیا تمہیں میرا حال دکھائی نہیں دیتا پھر کیوں الجھی ہو میرے ماضی میں بتائو مجھے؟ میں چاہوں تو کیا نہیں کر سکتا تمہارے ساتھ۔ کتنا روک لو گی تم مجھے‘ کیا کر لو گی میرا تم؟ کچھ بھی نہیں‘ زیادہ سے زیادہ یہی کرو گی کہ چند آنسو بہا کر مجھے بددعائیں دے لو گی مگر میں پھر بھی تمہارے ساتھ ایسا نہیں کروں گا انجشاء جانتی ہو کیوں؟ کیونکہ مجھے اپنی محبت سے زیادہ تمہارا وقار عزیز ہے۔ تم جس چیز پر فخر کرتی ہو میں وہی چیز تم سے چھین کر حاصل نہیں کرنا چاہتا۔
عجیب کھوئے کھوئے سے لہجے میں وہ کہہ رہا تھا اور انجشا یک ٹک بے ساختگی کے عالم میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
تم مجھ سے نفرت کرتی ہو ناں کیونکہ میں تمہاری نظر میں فلرٹ اور دھوکے باز ہوں مگر بتائو انجشاء سوائے چپ چاپ تمہیں دیکھے اور جانے بغیر تم سے دستبردار ہونے کے علاوہ میں نے آج تک کیا غلط کیا ہے تمہارے ساتھ ہاں میں تمہیں کڈنیپ کرنا چاہتا تھا مگر کسی عیاشی کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف تمہیں اپنی جنونی محبت کا احساس کروانے کے لیے۔ پلیز انجشاء میں بہت تکلیف میں ہوں۔ راتوں کی نیند‘ دن کا قرار سب لٹ گیا ہے میرا پلیز‘ پلیز اب تو اس تکلیف سے رہائی دے دو مجھے پلیز
نم لہجے کے ساتھ ساتھ اس کی غلافی آنکھوں کے گوشے بھی تر ہو چکے تھے مگر انجشا کا دل اب بھی نہیں پگھلا، پگھلتا بھی کیسے؟ جتنے سال وہ روئی تھی۔ جتنے سال اس نے تڑپ کر گزارے تھے۔ زندگی میں جو کچھ اس نے کھویا تھا۔ عدنان تو ابھی اس کے آدھ میں بھی نہیں پہنچا تھا پھر وہ کیسے معاف کر دیتی اسے؟ تب ہی لہجہ مضبوط بناتے ہوئے بولی۔
مجھے تمہاری اس روداد سے کوئی دل چسپی نہیں ہے عدنان یوں سمجھ لو کہ جو انجشاء تمہارے نام سے وابستہ تھی وہ اب مر چکی ہے اور اس کی جگہ یہ لڑکی جسے تم اپنے برابر میں بیٹھا ہوا دیکھ رہے ہو یہ تمہارے لیے اور تم اس کے لیے قطعی اجنبی ہو۔ لہٰذا بے کار میں اپنے الفاظ اورجذبات ضائع مت کرو عدنان کیونکہ اس لڑکی کو تم اپنا آپ بیچ کر بھی نہیں پا سکتے
اوکے۔ نصیحت کے لیے شکریہ لیکن یہ کنگن اور یہ انگوٹھی واپس لے لو انجشاء جو تم نے وکیل کی بھاری فیس بھرنے کے لیے مجبوراً بیچ دئیے تھے۔ میں نے اپنے حصے میں سے۔ تمہارے اکاونٹ میں ایک خطیر رقم ڈلیور کروا دی ہے۔ اب دادی ماں کی نشانیوں کو کبھی مت بیچنا پلیز
آج وہ اسے شاک پر شاک لگا رہا تھا۔
کیونکہ یہ بھاری کنگن اور انگوٹھی جو اس نے انتہائی مجبور ہو کر اپنے کیس کو جاری رکھنے کے لیے روتی آنکھوں سے فروخت کیے تھے۔ اب انہیں عدنان کے قبضے میں دیکھ کر وہ بھونچکاسی رہ گئی تھی۔
لے لو انجشاء پلیز
اسے شاکڈ دیکھ کر عدنان نے انتہائی اپنائیت سے کہا تھا۔ جب وہ بمشکل اپنے لبوں کو جنبش دیتے ہوئے بولی۔
یہ یہ تت تمہارے پاس کیسے آئے؟
بس آ گئے تم جان کر کیا کرو گی۔ تمہارے لیے صرف اتنا جاننا کافی ہے انجشاء کہ میرے لیے تمہارا یہ قدم بہت تکلیف کا باعث بنا ہے۔ میں تمہیں اتنا بے بس نہیں دیکھ سکتا انجشاء پھر کیوں نہیں یہ جنگ ختم کر دیتی ہو تم
نہیں کر سکتی میں یہ جنگ ختم سنا تم نے مت احسان کرو مجھ پر۔ نہیں چاہیے مجھے یہ احسان۔ تم سے چھٹکارا پانے کے لیے مجھے اپنی سانسیں بھی بیچنا پڑیں ناں۔ تب بھی پیچھے نہیں ہٹوں گی میں۔ سمجھے تم
بھرپور شدت سے چلاتے ہوئے وہ روپڑی تھی۔ جب ہونٹ کاٹتے ہوئے عدنان احمد نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا پھر ٹوٹے ہوئے دھیمے لہجے میں بولا۔
اوکے اگر یہی تمہاری ضد ہے تو پھر سانسیں تم نہیں بیچو گی انجشاء میں اپنی زندگی ہاروں گا۔ کہنے کے ساتھ ہی اس نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی پھر گم صم ہراساں بیٹھی انجشا کو بازو سے پکڑ کر گاڑی سے باہر نکالتے ہوئے اس نے ایک آخری نظر اس کے شاکڈ چہرے اور بکھرے بالوں پر ڈالی اور تیزی سے گھوم کر اپنی سیٹ سنبھالتے ہوئے وہ ہوا سے بھی تیز رفتار میں وہاں سے نکلا اور کچھ ہی فاصلے پر اس کی آنکھوں کے عین سامنے ایک انتہائی تیزٹرک سے ٹکرا کر کئی فٹ اوپر اچھل گیا۔

 

محبت کا انوکھاقافلہ ہے
کہ اس کا ہر مسافر ہی لٹا ہے
تعلق توڑنا کتنا برا ہے
جدائی رعب کا کرب مسلسل
چلو تم نے ہمیں کچھ تودیا ہے

 

میں کچھ نہیں جانتی اشعر خدا کے لیے میرا یقین کرو پلیز
ڈائری سے اریج احمر کا حالِ دل جاننے کے بعد وہ مچل کر اشعر کی طرف بڑھی تھی مگر اس نے غصے سے تمکین کو پرے دھکیل دیا۔
میں بھی آج تک اسی خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ تم معصوم ہو۔ کچھ نہیں چھپا رہی ہو مجھ سے مگر ڈفر تھا میں، بے وقوف تھا جو آنکھوں دیکھ کر بھی تمہاری محبت کی تسبیح پڑھتا رہا۔ تمہارے چہرے کی معصومیت سے فریب کھاتا رہا مگر اب اور نہیں تمکین اب اور بے وقوف نہیں بنا سکتیں تم مجھے
اشعر! اشعر! کیا تم مجھے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا ایک موقع بھی نہیں دو گے۔ بولو اشعر کیا یہی ہے ہماری اٹھارہ سالہ محبت کا انجام۔ محبت تو اعتبار کا دوسرا نام ہے ناں۔ پھر تم مجھے بے اعتبار کیوں کر رہے ہو؟
وہ ایک مرتبہ پھر اس کا بازو پکڑ کر سسکی تھی جب وہ زہر خند مسکراہٹ لبوں پر پھیلاتے ہوئے بولا۔
بے اعتبار تو تم نے میری محبت کو کیا ہے تمکین۔ یقین تو میرا توڑا ہے تم نے میں جو سمجھتا تھا کہ تم صرف مجھ سے پیار کرتی ہو۔ صرف مجھ سے تمکین نہیں تم صرف مجھ سے پیار نہیں کرتی تھیں۔ تم نے فریب دیا ہے مجھے تم نے تمکین تم نے فراڈ کیا ہے میرے ساتھ
نہیں یہ جھوٹ ہے اشعر! پلیز میرا یقین کرو۔ وہ پھر روتے ہوئے گڑگڑائی تھی۔
یقین ہی تو کرتا آیا ہوں تمہارا مگر کیا ملا تمکین۔ تمہارا فریب، تمہارا درد، تمہاری بے وفائی
وہ کہاں آج کچھ سننے والا تھا۔ تب ہی وہ بے بسی سے روتے ہوئے اس کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
اشعر! خدا کے لیے میری بے گناہی کا یقین کرو کیونکہ تمہارے یقین کے سوا میرے دامن میں اور کچھ بھی نہیں ہے۔ میں نے تمہیں چاہا ہے اشعر۔ دل کی گہرائیوں سے پرستش کی ہے تمہاری۔ پلیز مجھ سے یوں نظریں نہ پھیرو۔ پلیز اشعر پلیز
سوری تمکین! مجھے اب تمہاری کسی بات کا یقین نہیں ہے کیونکہ میں خود اپنی آنکھوں سے تمہیں ہزار مرتبہ اریج احمر کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے دیکھ چکا ہوں۔ سو جان لو کہ آج کے بعد ہمارے راستے علیحدہ علیحدہ ہیں۔
نہیں تم ایسا نہیں کر سکتے۔ اشعر نہیں کر سکتے تم ایسا
اس کے پائوں سے لپٹتے ہوئے وہ آنسوئوں بھری نگاہوں سے نفی میں سرہلاتے ہوئے چلائی تھی۔ جب وہ لب بھینچ کر نگاہ چراتے ہوئے بولا۔
آئی ایم سوری میں ایسا کر چکا ہوں تمکین
ک کیا کر چکے ہو تم
گرم آنسو پلکوں پر ہی اٹک گئے تھے جب اس نے بے ساختہ چہرہ اوپر اٹھا کر اس سے پوچھا۔ جواب میں وہ اپنے پائوں اس کی گرفت سے چھڑا کر کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔
میں نے شیزا سے شادی کر لی ہے تمکین اب تمہیں یہ حق حاصل ہے کہ تم چاہو تو اس کے ساتھ ایڈجسٹ کر سکتی ہو اور چاہو تو میں تمہیں ڈائیورس دینے کو بھی تیار ہوں۔
زندگی میں کچھ لفظ تلوار سے تیکھے ہوتے ہیں۔ یہ اس نے محض سنا تھا مگر آج اشعر کے ہونٹوں سے نکلے ان لفظوں نے حقیقی معنوں میں اس کی پورپور کو گھائل کر چھوڑا تھا۔ اس میں اتنی سکت بھی نہیں تھی کہ وہ اپنے ہاتھ کو ہی حرکت دے سکے۔ پل دوپل میں ہی گرم گرم سیسہ جیسے کسی نے اس کی سماعتوں میں انڈیل دیا تھا۔ لمحوں میں ہی جیسے اس کے زمین آسمان ایک ہو گئے تھے۔
اشعر غالباً اب بھی اس سے کچھ کہہ رہا تھا مگر اب وہ سن کہاں رہی تھی۔ اب تو اس کی سماعتیں برف ہو چکی تھیں اور وہ خود پتھر کا ایک بے جان ٹکڑا جو اگلے کچھ ہی لمحوں میں اپنا ضبط کھو کر ہوش وہواس کی دنیا سے بے خبر ہو چکا تھا۔
مسلسل بارہ گھنٹے بے ہوش رہنے کے بعد وہ اپنے ہوش میں واپس آئی تو گھر کے سب ہی لوگ متفکر چہروں کے ساتھ اس کے بیڈ کے قریب کھڑے تھے۔ پل دوپل کے لیے ان سب کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے جب اس کے داداجی جناب حسن احمد صاحب تیزی سے اس کی طرف بڑھے اور وہ ان کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔
نمی بیٹے! کیا ہوا ہے جان؟ ایسے کیوں رو رہی ہو تم
وہ ابھی تک حقیقت سے بے خبر تھے تب ہی الجھتے ہوئے بولے تو تمکین ان سے لپٹ کر اور شدت سے روپڑی۔
میں آپ کو اس کی وجہ بتاتا ہوں داداجی
اشعر جو کافی دیر سے خاموش کھڑا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا بالآخر بول اٹھا۔
داداجی! آپ کو شاید یہ سن کر اچھا نہ لگے کہ میں نے شیزا سے شادی کر لی ہے مگر سوری اب آپ کے اچھا لگنے یا نہ لگنے سے یہ حقیقت بدل نہیں سکتی
وہ بے دھڑک بول رہا تھا اور کمرے میں موجود سب لوگ حیرت سے پلکیں جھپکائے بغیر اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
اشعر! یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم؟
رخسانہ بیگم سب سے پہلے چلائی تھیں مگر وہ ذرا ان کے رعب میں نہ آیا۔
یہ بکواس نہیں ہے مما! میں نے سچ مچ شیزا سے شادی کر لی ہے
لیکن کیوں کیوں اٹھایا تم نے یہ احمقانہ قدم
وہ بھرپور غصے سے لرزی تھیں۔ جب وہ پرشکوہ نگاہوں سے تمکین کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
اس کی وجہ آپ تمکین سے ہی پوچھیں تو زیادہ مناسب ہے مما
تمکین! یہ کیا بکواس کر رہا ہے بیٹا۔ میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا
وہ شدید پریشانی کے عالم میں اپنا سر تھامتے ہوئے بولی تھیں جب تمکین نے روتے ہوئے انہیں ساری بات سچ سچ بتا دی۔
مما! پلیز میرا یقین کیجیے۔ میرے تو فرشتوں کو بھی علم نہیں کہ اریج میرے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ میں نے کبھی اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی مما پلیز میرا یقین کیجیے
بس تمہیں رونے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے تمکین! میں جانتی ہوں کہ یہ سب کس کا کیا دھرا ہے۔ تمکین کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے انتہائی ترش لہجے میں وہ بولیں۔
کان کھول کر سن لو اشعر تم آج اور اسی وقت شیزا کو طلاق دو گے اور تمکین سے اپنے کیے کی معافی مانگو گے۔ سمجھے تم
سوری مما! میں اب نہ تو شیزا کو چھوڑ سکتا ہوں اور نہ ہی میں نے کچھ ایسا غلط کیا ہے کہ جس کے لیے مجھے اس بے وفا‘ بدکردار لڑکی سے معافی مانگنی پڑے۔ وہ انتہائی سفاک لہجے میں بولا تھا۔ جب رخسانہ بیگم نے آگے بڑھ کر ایک زبردست تماچہ اس کے بائیں گال پر رسید کر دیا۔
بدتمیز! بے لحاظ تمہیں یہ حق کس نے دیا کہ تم اس کے کردار پر انگلی اٹھائو۔
شدید مشتعل ہو کر وہ چلائی تھیں مگر اشعر پر ان کے اشتعال کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ہوتا بھی کیسے اس کے اعصاب تو بری طرح جل رہے تھے۔ جس تقسیم شدہ محبت کا درد تمکین نے اسے دیا تھا۔ اب وہی درد وہ اسے واپس لوٹا کر اپنے سینے میں لگی آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہتا تھا۔
گو تمکین کو رلا کر اسے خود سے دور کر کے وہ خوش نہیں تھا مگر خوش ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا دل جل رہا تھا مگر وہ جلتے دل کی پروا کیے بغیر بے نیازی اور سنگ دلی کا خول اپنے اوپر چڑھائے ہوئے تھا کیونکہ اس نے جتنی شدت سے تمکین کو چاہا تھا۔ اب اتنا ہی دل اس کے تصور سے اوب رہا تھا۔ باربار اس کی دھوکہ دہی کا خیال آتا اور باربار وہ نئے سرے سے زخم زخم ہو جاتا تمکین نے اس کے پیار اس کے اعتماد اور اس کے مان کا خون کر کے جو چوٹ اسے پہنچائی تھی اب اس کی سزا یہی تھی کہ وہ بھی اس کے قرب اور اس کے پیار کو ترسے۔ شیزا فی الحال یہاں نہیں تھی۔ تب ہی اس جھگڑے کا اسے کوئی علم نہ ہو سکا۔
اشعر کے پاپا مسٹرسعید احمد اسے فوراً ہی اپنی جائیداد اوراپنی زندگی سے بے دخل کرنا چاہتے تھے مگر احسن احمد صاحب نے معاملے کی تہہ تک پہنچے بغیر فی الحال انہیں ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔
پورے حسن ولاج میں موت کی سی خاموشی تھی۔ کوئی کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔ اشعر کے اس قطعی غیرمتوقع قدم نے ذہنی طور پر سب کو ہی سہما دیا تھا۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہاتھا کہ ایسی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے؟ اک قیامت تھی جو اچانک ان کے دلوں پر ٹوٹ پڑی۔ سب بنا کچھ کھائے پیئے ایک دوسرے سے منہ چھپائے پھر رہے تھے جبکہ تمکین نے رورو کر اپنا برا حال کر لیا۔اگلے دودن بھی اسی کشمکش میں گزرے تھے۔
اشعر نے ہمیشہ کے لیے حسن ولاج چھوڑ کر شیزا پیلس جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اس کے بقول وہ اتنا ڈپریس تھا کہ اسے تمکین کی شکل دیکھنا بھی گوارہ نہیں تھی۔
مگر تمکین اس پر اپنے کردار کی سچائی ثابت کرنا چاہتی تھی۔سو اگلے ہی روز خود کو سنبھال کر وہ اریج احمر سے ملنے کے لیے حسن ولاج سے نکل پڑی اور ادھر پنڈی میں بیٹھے ہونے کے باوجود شیزا کو اپنے چیلوں سے ساری صورت حال کا علم ہو گیا۔ وہ حسن ولاج میں اٹھنے والے اس طوفان سے اس قدر خوش تھی کہ اس کی خوشی کا اندازہ کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
عین اس وقت کہ جب تمکین بنا کسی کو بتائے۔ اریج احمر سے ملنے کے لیے حسن ولاج سے نکلی۔ شیزا نے راولپنڈی سے اشعر کو فون کھڑکا دیا۔
ہیلو! اشعر کیسے ہو؟
پہلی ہی بیل پر اشعر نے کال ریسیو کر لی تھی۔ تب ہی وہ چہکتے لہجے میں بولی۔ جواب میں اشعر نے سرد آہ باہر نکالی۔
ٹھیک ہوں۔ تم سنائو۔
میں بہت پریشان ہوں اشعر! نجانے تمہاری شادی کو لے کر حسن ولاج کے مکین کیا طوفان کھڑا کریں۔
ایسا کچھ نہیں ہو گا شیزا۔ میں نے انہیں سب کچھ بتا دیا ہے۔
وہاٹ پھر تو سب لوگ بہت ڈیپریس ہوں گے
ہاں بٹ آئی ڈونٹ کیئر۔ اشعر نے دھیمے لہجے سے سر جھٹکا تھا جب وہ دوبارہ متجسس لہجے میں بولی۔
تمکین کیسی ہے؟ آئی مین تمہارے اس اقدام پر وہ تو بہت ہرٹ ہوئی ہو گی
مجھے اب اس کی کوئی پروا نہیں ہے
اشعر کے لہجے میں جو تنفر تھا اس نے شیزا کو دلی سکون فراہم کیا تھا۔
لیکن اشعر! تمہیں اتنی جلدبازی سے کام نہیں لینا چاہیے تھا۔ ہو سکتا ہے کہ سچائی جاننے کے بعد حسن ولاج کے مکین میرے ساتھ ساتھ بھی اپنی محبتوں سے بھی محروم کر دیں اور پھر تم کیا سمجھتے ہو کہ تمکین جیسی زیرک اور ذہین وفطین لڑکی‘ چپ چاپ یہ الزام مان کر خاموش بیٹھی رہے گی۔ نہیں اشعر وہ ہرممکن طریقے سے حسن ولاج والوں کی نگاہ میں خود کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کا جو مقام حسن ولاج اور تمہارے والدین کی نظروں میں ہے۔ وہ بنارہے اور تم جھوٹے ثابت ہو کر مجبوراً اس کے ساتھ وہی طرز زندگی اپنانے پر مجبور ہو جائو کہ جو وہ خود چاہتی ہے دیکھ لینا اشعر اب وہ خاموش نہیں بیٹھے گی وہ ضرور اریج احمر کے ساتھ مل کر کچھ نہ کچھ نیا کرنے کی کوشش کرے گی
شیزا سچائی کھلنے کے بعد جو بات اس کے ذہن میں ڈالنا چاہتی تھی۔ وہ اس نے بڑے آرام سے ڈال دی تھی۔ تب ہی اشعر سے ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اس نے رابطہ منقطع کر دیا۔
ادھر تمکین جب شدید اشتعال کے عالم میں اریج کے شان دار بنگلے کے سامنے پہنچی تو وہ تھری پیس سوٹ میں مکمل تیار ہوئے۔ کہیں جانے کے لیے نکل رہا تھا مگر پھر نظر جوں ہی اس پر پڑی۔ وہ ٹھٹھک کر رک گیا۔ دل اسے یوں اچانک اپنے گھر میں دیکھ کر بلیوں اچھل پڑا مگر تمکین کے چہرے پر بکھری حددرجہ سنجیدگی اور اشتعال نے اگلے ہی پل اسے خوش فہمیوں کی رنگینی سے نکل کر ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
تمکین! خیریت آپ آج یوں میرے گھر؟
لبوں پر بڑی مسحور کن دھیمی مسکراہٹ پھیلائے وہ اس سے مخاطب ہوا تھا۔ جب وہ شعلہ بار نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پھنکار کر بولی۔
کیوں؟ حیرانی ہو رہی ہے مجھے اس طرح دیکھ کر لیکن آپ کو تو خوش ہونا چاہیے مسٹراریج کیونکہ آپ اپنے مکروہ ارادوں میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ منائیے خوشیاں کہ خدا نے آپ کی سن لی ہے۔ ہو گئے ہیں میرے اور اشعر کے راستے جدا۔ اب تو خوش ہیں ناں آپ
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ تمکین قطعی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں
تمکین کی الزام تراشیوں پر اس کے دماغ کی رگیں تن گئی تھیں۔ تب ہی وہ اس کی بات کاٹ کر گرجتے ہوئے بولا تو تمکین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
آپ کو برا کیوں لگا مسٹراریج! آپ یہی تو چاہتے تھے ناں کہ میں اشعر سے الگ ہو جائوں۔ اسی لیے تو آپ نے اپنا حالِ دل کاغذ کے بے جان ٹکڑوں کے سپرد کر کے انہیں اشعر کو بھجوا دیا تاکہ وہ خود ہی مجھ سے دستبردار ہو جائے۔ میں آپ کو نہیں سمجھ سکی مسٹراریج۔ دھوکہ کھا گئی میں آپ کی شرافت سے۔ آپ کے دل میں چھپا چور تو مجھ پرعیاں ہی نہیں ہوا وگرنہ میں کہاں ہمدردیاں بٹورتی آپ سے
پلیز! اسٹاپ اٹ تمکین کیا تم اپنے الزام کی وضاحت کرنا پسند کرو گی؟ کیا تم مجھے بتائو گی کہ میں نے کیا کیا ہے؟
بلیک تھری پیس میں بلیک ہی سن گلاسز سر پر جمائے۔ وہ اس وقت جتنا خوب صورت دکھائی دے رہا تھا۔ اتنا ہی اس کا لہجہ الجھا ہوا تھا۔
وضاحت کس بات کی وضاحت مسٹراریج کیا اس بات کی وضاحت کہ آپ نے جان بوجھ کر میری اور اشعر کی زندگی میں زہر گھولا یا پھر اس بات کی کہ آپ نے میری سادگی سے فائدہ اٹھا کر‘ میرے ہی شوہر کو میرے پیار سے بدظن کر دیا۔ بتائیں مجھے کس کس بات کی وضاحت کروں میں؟ وہ بھرپور غصے کے عالم میں چلائی تھی۔ جب اریج احمر نے بے بسی سے اس کی برستی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نگاہ پھیر لی۔
آپ یقیناً مس انڈراسٹینڈنگ کا شکار ہیں مسزاشعر بہت آہستگی سے رخ پھیرے اس نے کہا تھا۔
اچھا میں غلط فہمی کا شکار ہوں تو پھر کھائیے میرے سر کی قسم اور کہہ دیجیے کہ آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے کہہ دیجیے کہ آپ نے کبھی مجھے اپنی زندگی میں شامل کرنے کی خواہش نہیں کی۔ کھائیے قسم میرے پیار کی اور کہہ دیجیے کہ آپ نے خود اپنی پرسنل ڈائری اشعر کے حوالے کر کے میری زندگی میں زہر نہیں گھولا
ایک مرتبہ پھر وہ چلا کر بولی تھی مگر اس بار زمین اریج احمر کے قدموں تلے سے کھسکی تھی۔ اس بار وہ شاکڈ رہ گیا تھا۔ اپنی ناکام محبت کا، وہ معصوم سا رازجو اس نے کبھی خود پر بھی پوری طرح عیاں نہیں ہونے دیا تھا۔ تمکین آج اسی راز کو افشا کر رہی تھی۔ وہ حیران نہ ہوتا تو اور کیا کرتا؟ بات ہی ایسی تھی کہ اس کے زمین وآسمان ایک ہو کر رہ گئے تھے۔ بہت سا وقت اسے خود کو سنبھالنے میں لگا۔ تب بمشکل خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے وہ دھیمے لہجے میں بولا۔
تمکین! میں نہیں جانتا کہ میری رازداں وہ پرسنل ڈائری جو میں کئی سالوں سے لکھ رہا ہوں۔ وہ تمہارے اور اشعر کے ہاتھ کیسے لگی؟ لیکن میرا یقین کروتمکین۔ اپنی یکطرفہ محبت کا راز تو میں نے کبھی خود پر بھی عیاں نہیں ہونے دیا پھر اشعر کو کیسے بتا دیتا یہ سب؟ ہاں یہ سچ ہے کہ میں نے تمہیں چاہا ہے۔ دل کی گہرائیوں سے ٹوٹ کر پیار کیا ہے تمہیں‘ خدا سے گڑگڑا کر تمہارے ساتھ کی دعائیں بھی مانگی ہیں میں نے‘ مگر یہ بھی سچ ہے تمکین کہ میں نے ہمیشہ تمہاری خوشی چاہی ہے۔ ہمیشہ تمہارے لبوں کی مسکراہٹ کو عزیز تر رکھا ہے میں نے۔ میں جانتا ہوں کہ تم اشعر سے پیار کرتی ہو۔ اس کے ساتھ میں ہی تمہاری خوشی ہے پھر میں اتنا خودغرض کیسے ہو سکتا ہوں کہ اپنی خوشی کے لیے تم سے تمہاری خوشیاں چھین لوں؟ پلیز بلیو می تمکین میرے پاس تمہیں اشعر سے جدا کرنے کا تصور بھی نہیں ہے۔ میں تو خود حیران ہوں کہ اشعر نے مجھ سے اپنا شیئر الگ کیوں کیا؟ پلیز! میرا یقین کرو تمکین پلیز اس کے لہجے میں ایسا کچھ تھا کہ وہ الجھ کر رہ گئی تھی۔ یقین کرنے اور نہ کرنے کے پل صراط پر کھڑی وہ شکست خوردہ سی لڑکی‘ ٹکُرٹکُر اسے بولتے ہوئے سن رہی تھی اور وہ عجیب لہجے میں کہہ رہا تھا۔
تمہیں میری بات کا یقین نہیں آتا ہے نا تمکین تو چلو۔ آج تمہارے یقین اور خوشی کے لیے اشعر سے بھی روبرو بات ہو ہی جائے
اسے ضبط کی حدوں پر سسکتے دیکھ کر وہ آگے بڑھا اور نہایت نرمی سے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ دیا۔
اشعر نے شیزا سے شادی کر لی ہے اریج! وہ چاہتا ہے کہ میں اس کی زندگی سے نکل جائوں
وہاٹ؟
اب کے اس کے دل کی دیواروں میں شدت سے بھونچال آیا تھا۔ جو بات پہلے شک بن کر اس کے دماغ میں رینگ رہی تھی آج اسی بات نے بالآخر حقیقت کا لباس پہن لیا تھا۔ تب ہی وہ دھواں دھواں سی نگاہوں سے اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کچھ دیر چپ چاپ کھڑا رہا۔ اس وقت اس سسکتی کوئل کے آنسو اس کے دل پر گر رہے تھے۔
؎کیا حسین خواب دکھایا تھا محبت نے ہمیں
کھل گئی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا
سرخ نم آنکھوں میں ایسی تڑپ‘ ایسا عجیب سا حزن بکھرا ہوا تھا کہ وہ پل کے پل میں ہی جیسے کسی نتیجے پر پہنچ کر اس کی طرف بڑھا پھر اس کا ہاتھ تھام کر تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف آیا اور حسن ولاج کے لیے روانہ ہو گیا۔

(باقی آیندہ ماہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close