Aanchal Feb-07

دشت آرزو

اقراؑصغیراحمد

جب سینہ غم سے بوجھل ہو اور یاد کسی کی آتی ہو
تب کمرے میں بند ہو جانا اور چپکے چپکے رو لینا
جب آنکھیں باغی ہو جائیں اور یاد میں میری بھر آئیں
پھر خود کو دھوکا مت دینا‘ اور چپکے چپکے رو لینا

حمزہ! اُسے لگا کوئی دور سے اسے پکار رہا ہو۔ اس نے توجہ نہ دی اسے دیکھنے کی تمنا لئے وہ دن گزار رہا تھا‘ اب جب وہ جارہی تھی یہ شہر‘ یہ ملک اور اُسے چھوڑ کر تو دید کی پیاسی نگاہوں کو سیرابی کی چاہ تھی وہ پکڑ لینا چاہتا تھا ان لمحوں کو‘ جکڑ لینا چاہتا تھا ان ساعتوں کو جن میں اُس کا مطلوب سامنے ہوتا اور وہ اسے تکتا رہتا‘ تکتا رہتا مگر۔ وصال کی بہار یک لخت ہی ہجر کی خزاں میں بدل گئی تھی۔ کتنا تیز دوڑا تھا وہ
لیکن وقت کی دوڑ سے کوئی جیت سکا ہے؟
حمزہ! حمزہ! پھر اس کی سماعتوں میں وہی آوازیں گونجی تھیں۔
مت پکارو مجھے‘ مت فریب دو‘ مت مجھے بھٹکائو کہ اب مجھے بھٹکنا ہی ہے بھاگتے لمحوں کو نہ پکڑ سکا مگر ماضی تو میری دسترس میں ہے۔ اس لمحے اس کی پشت پر ہلکی سی دھپ لگی تھی۔
ایک مانوس خوشبو رگ و پے میں دوڑ کر حواسوں کو معطر کرگئی تھی۔ ساتھ ہی نامانوس جھنکار تھی۔ عجیب سریلی چوڑیوں کی جھنکار
حمزہ! یک لخت ہی برق سی لہرائی تھی وہ شاکڈ رہ گیا۔ نہ معلوم خوشی کا احساس تھا یا حیرت وہ اس حقیقت کا ادراک جو وہ دل وحشی کے جنوں میں بھول بیٹھا تھا۔
پھولی سانسوں اور منتشر حواسوں سمیت وہ اس کے عین سامنے تھی۔ پرپل کلر کی ساڑھی جس کے بارڈر گولڈن تھے۔ گولڈن ہی ہینڈی ورک تھا۔ ساتھ اس نے میچنگ کی گرم شال اوڑھ رکھی تھی۔ قیمتی جیولری اور خوب صورت میک اپ نے اس کی شخصیت بدل کر رکھ دی تھی۔ سادگی میں نظر آنے والا اس کا حسن بدلی میں چھپے چاند کی مانند تھا۔ اب سج سنور کر وہ چو دھویں کا چاند نظر آرہی تھی۔ ناک میں دمکتی ڈائمنڈ لونگ‘ ہاتھوں میں چمکتی طلائی چوڑیاں‘ خوشی سے دمکتا چہرہ‘ پراعتماد و طمانیت اور آسودگی جھلکاتا شاداب یہ خواب تھا یا حقیقت۔
وہ پلکیںبنا جھپکائے اسے دیکھتا رہا۔
حمزہ! تم ابھی تک گھامڑ کے گھامڑ ہی ہو‘میں پکار رہی ہوں تمہیں اور تم کو ہوش ہی نہیں ہے‘ ابھی بھی خیالوں کی دنیا کے باسی ہو۔ وہ خواب نہیں حقیقت تھی‘ کرن اس کے سامنے تھی۔ قریب تھی۔ بنی سنوری‘ نئے روپ‘ نئے ڈھنگ سے اس کی دید کی پیاسی نظریں بنا سیراب ہوئے جھکتی چلی گئی تھیں۔ دل ایک نئے درد سے آشنا ہوا تھا۔
اس کا یہ روپ ‘اس کی سج دھج
اس کے لئے نہ تھی‘ وہ کسی اور کی امانت بن چکی تھی اور اس کے لئے شجر ممنوعہ جس حقیقت کو بھول کر یہاں دیوانوں کی طرح پہنچا تھا دل کی جو کیفیت تھی۔ جذبوں کا جو رنگ تھا ان سب پر برف گرنے لگی تھی۔
کرن! یہ تم ہو۔ وہ ہونٹوں پر زبردستی مسکان بکھیرتے ہوئے گویا ہوا۔
ہاں دیکھو کیسی لگ رہی ہوں؟ مسرت اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔
بہت اچھی۔ بہت پیاری۔ خشک لبوں سے بمشکل لفظ نکلے۔
تم‘ اسی طرح مجھے دیکھنا چاہتے تھے نا؟
ساتھ تمہیں اپنا کر بھی دیکھنا چاہتا تھا۔ اندر کوئی کراہا تھا۔
سچ بتائو نا کیسی لگ رہی ہوں؟
بہت پرائی‘ بہت اجنبی کسی کھوئی ہوئی قیمتی چیز کی مانند جس کے مطابق یقین ہوجائے وہ اب کبھی نہیں ملے گی۔ وہ سوچ کی عمیق گہرائی میں گُم تھا۔
ارے۔ کیا ہوا حمزہ! تم میری کسی بات کا جواب کیوں نہیں دے رہے ہو‘ کیا ابھی تک ناراض ہو مجھ سے؟ وہ اسے خاموش رو گم صم کھڑا دیکھ کر پریشانی سے گویا ہوئی۔
نہیں میں تم سے کیوں خفا ہوں گا‘ دراصل میں سمجھا شاید لیٹ ہوگیا ہوں۔ تم جاچکی ہو‘ اب تمہیں سامنے دیکھا تو دنگ رہ گیا۔ اس دوران انس بھی آگیا تھا۔ دونوں بغل گیر ہوئے اس کے انداز میں گرم جوشی تھی۔
فلائٹ لیٹ ہوگئی ہے اور شاید اسی لئے دیر ہوئی ہے کہ ہم مل سکیں ورنہ بے حد افسوس ہوتا ہمیں نہ ملنے کا۔
میں رات سے تمہارے موبائل پر ٹرائی کررہی ہوں ہر بار تمہارا سیل آف ملا ہے‘ میں تو آس ہی چھوڑ بیٹھی تھی تم سے ملاقات کی‘ یہ بائی چانس کال مل گئی تھی۔
میں اکثر بھول جاتا ہوں سیل آف کرکے۔
تم بالکل نہیں بدلے‘ اسی طرح بھولنے کی بیماری میں ابھی تک مبتلا ہو۔ اُسی طرح سوچوں کے چنگل میں سرگرداں رہتے ہو تم بالکل نہیں بدلے بالکل نہیں۔ وہ ہنسی تھی‘ ایسی ہنسی جو طمانیت کے آسمان کو مسرتوں کی کہکشاں جگمگادیتی ہے اس کا چہرہ بھی کہکشاں تھا۔
انس! آپ کو معلوم ہے میں نے حمزہ سے بہت لڑائی کی ہے بلکہ لڑائیاں‘ مما ہمیشہ اس کی سائیڈ لیتی تھیں اور مجھے غصہ آتا تھا کہ وہ میری مما ہونے کے باوجود اس کی حمایت کیوں لیتی ہیں۔ یہ تب بھی اسی طرح خاموشی سے مسکراتا رہتا تھا یا پھر مجھے سمجھانے بیٹھ جاتا تھا۔ کرن انس کا بازو تھامے ہنستی ہوئی بتا رہی تھی اور بھی نہ معلوم کیا کچھ کہہ رہی تھی۔ مگر وہ کہاں سن رہا تھا۔ اس کی نگاہیں انس کا بازو بے حد اپنائیت و محبت سے پکڑے کرن کے ہاتھ پر تھیں اس کی آنکھوں میں دھُند اترنے لگی۔ ہر شے اس نمی میں گم ہوتی جارہی تھی۔
دل دکھتا ہے تو بھر آتی تھیں آنکھیں
کچھ روز ہوئے ہم آنسوئوں سے الجھے ہوئے ہیں
کیا کریں کس سے شکایت اور کیسے شکوے
اک میرے سوا سب لوگ یہاں سلجھے ہوئے ہیں
اُس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ اسی دم انائونسمنٹ ہوئی تھی۔ انس نے اس سے مصافحہ کیا تھا۔ کرن اس کے قریب چلی آئی تھی۔
میں نے تمہیں بے حد تنگ کیا ہے‘ بہت ستایا ہے مجھے معاف کردینا۔ اس لمحے وہ جذباتی ہوگئی اسے اپنے آنسوئوں پر اختیار نہ رہا۔
اسٹوپڈ! ایسا کچھ نہیں کیا تم نے جس کی معافی مانگ رہی ہو۔
تم مما کی طرح اعلیٰ ظرف و مفاہمت پسند ہو اس لئے سب کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہو‘ ہر زیادتی بھلانے کی صلاحیت رکھتے ہو حمزہ! اپنے قریب رہیں تو ان کی اچھائیاں‘ نیکیاں اور بھی بے حد عمدہ صفات ہم سے اوجھل رہتی ہیں جب ہم دو رہوں تو معلوم ہوتا ہے کوئی ہمارے لئے کیا تھا۔ اور ہم اس کے کتنے عادی ہیں۔
وہ کہہ رہی تھی۔
آنسو بہہ رہے تھے۔ انس خاموش کھڑا تھا حمزہ روبرو تھا۔
تم سے دور ہوا تو محسوس ہوا تم مجھے از حد عزیز ہو۔ ایک بھائی کی طرح۔ اچھے دوست کی طرح۔ بہت اعلیٰ بہت نفیس انسان ہو حمزہ تم‘ بہت یاد آئو گے مجھے۔ وہ بڑھ کر اس کے سینے سے لگ کر رونے لگی۔
حمزہ تہہ در تہہ برف میں دفن ہونے لگا۔
رگوں میں دوڑتا خون
سینے میں دھڑکتا دل
آنکھوں میں مچلتے آنسو
برف بن رہے تھے۔
انائونسمنٹ بار بار ہورہی تھی وہ بے حس و حرکت کھڑا رہ گیا تھا۔ کرن خود ہی الگ ہوئی تھی۔ آگے لائونج میں گرینی‘ فاریہ‘ سعد موجود تھے۔
مجھے تمہاری دعائیں چاہئیں حمزہ! ایک دوست کی دعا‘ ایک اپنی مما کے لاڈلے کی دعا‘ اپنے پیارے ایسے بھائی کی دعا جس نے مجھے بھائیوں سے بڑھ کر چاہا۔
حمزہ کے پائووں کے نیچے نہ زمین رہی تھی نہ سر پر آسمان۔ نہ اردگرد بے تحاشہ لوگوں کا ہجوم‘ وہ ہوائوں میں معلق تھا۔
کرن کے بار بار پکارنے پر اس نے خالی خالی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا جو محبت سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
بڑی پاکیزہ۔ بڑی عقیدت بھری مسکراہٹ تھی۔ کرن کی وہ خود سے نگاہیں چرانے لگا۔ اسے اپنی سوچ پر اپنی چاہ پر‘ اپنی آرزو پر شرم آنے لگی۔
میری تمام دعائیں تمہارے ساتھ ہیں کرن! جہاں رہو خوش رہو۔حمزہ نے کانپتا ہوا ہاتھ اس کے سر پر رکھا‘ پھر جیکٹ کی جیب سے ایک شہنیل کا جیولری بکس نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
میری طرف سے یہ گفٹ ہے اسے سنبھال کر رکھنا۔ اپنے خاندان کی سات نسلوں سے ہر آنے والی بڑی بہو کو یہ لاکٹ گفٹ ہوتا رہا ہے مگر اب میں نے اس کی تاریخ بدل دی ہے بیٹی کو دے کر۔ جدائی سدا بوجھل رہی ہے رسمی علیک سلیک کے بعد وہ دونوں چلے گئے تھے۔
کتاب زیست کا اہم ترین باب بند ہوگیا۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں‘ سنسناتے دماغ و منتشر ہوتے حواسوں کے ہمراہ وہاں سے نکلا تھا۔

والدہ حضور کی زیرک نگاہوں سے برہان لغاری اور فائقہ کی دن بدن بڑھتی بے تکلفی مخفی نہ رہ سکی تھی۔ چند دن تو وہ انتظار کرتی رہیں حالات معمول پر آنے کے لئے جو ان کی توقع کے برعکس بتدریج بگڑ رہے تھے۔
پہلا دھچکا ان کے لئے برہان لغاری کی بے نیازی یا مصروفیت تھی جس میں کھو کر وہ ان کی ذات کو بھی فراموش کرچکے تھے۔ اور ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا جو وہ ان سے لاپروا ہوئے تھے۔
والدہ حضور کے کانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں جس انقلاب کو برپا ہونے سے برسوں قبل وہ روک چکی تھیں۔ اسی کی آہٹیں انہیں پھر سنائی دے رہی تھیں‘ لمحہ بہ لمحہ اپنے اقتدار کی مسند کی طرف بڑھتی ہوئیں۔
والدہ حضور! آپ نے یاد کیا ہے؟ برہان لغاری اندر آکر ان سے مخاطب ہوئے جو تفکرات کے بحر میں غوطہ زن تھیں۔ اُن کی آواز سن کر انہوں نے اپنی سفید پلکوں والی جہاندیدہ نگاہیں ان کے چہرے پر ڈالیں۔
بڑی گہری نگاہیں تھیں۔کھونے والی۔ نجسس والی۔
برہان لغاری چند ثانیے ماں کی نگاہوں سے پریشان ہوئے مگر جلد ہی سنبھل گئے اور اُن کے اشارہ کرنے پر صوفے پر بیٹھ گئے۔
آج کل اتنے مصروف رہنے لگے ہو ماں کی یاد نہیں آتی‘ ہم نے سوچا ہم ہی یاد کریں بلکہ یاد دلائیں کہ برہان لغاری کی ماں زندہ ہے ابھی۔اُن کا ٹھنڈا لہجہ عجیب سی آنچ دے رہا تھا۔
ایسی بات نہیں ہے والدہ حضور! بس آج کل کچھ مصروفیات بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے لہجے میں بشاشت بھری۔
اچھا وہ سخت طنزیہ انداز میں گویا ہوئیں۔اب ہم سے بھی بڑھ کر مصروفیت ہوں گی؟
ایسا ہر گز نہیں ہے۔ وہ بری طرح گھبرا کر گویا ہوئے۔
ایسا ہی ہے تمہاری نظروں میں ہماری عزت نہیں رہی۔ وہ پر طیش انداز میں گویا ہوئیں‘ برہان اٹھ کر اُن کے قریب آگئے۔
ہم ایسی گستاخی نہیں کرسکتے والدہ حضور! لیکن ہمارے کسی روئیے سے آپ کو تکلیف پہنچی ہو تو معافی چاہتا ہوں‘ دراصل آپ تو جانتی ہیں میں کن پریشانیوں و مصائب کا شکار ہوں‘ اس وجہ سے کسی کوتاہی کا شکار ہوگیاہوں تو معافی کا خواستگار ہوں والدہ حضور۔
ہمیں لفظوں سے مت بہلائو برہان!آجکل تمہاری کیا مصروفیات ہیں یہ ہم بخوبی جانتے ہیں۔ وہ ان کی جانب دیکھتی ہوئیں جتانے والے انداز میں بولیں۔ برہان نے گڑبڑا کر نگاہیں جھکالی تھیں۔
جو نگاہیں چراتے ہیں وہ کچھ ایسا غلط کررہے ہوتے ہیں کہ اُن کو خود بھی اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے مگر پھر بھی درست سمت پر نہیں چلتے ہیں۔ تم آگ سے کھیل رہے ہو برہان اس کھیل کا انجام تباہی ہے۔
میں سمجھا نہیں ہوں جو آپ کہہ رہی ہیں
سمجھے نہیں ہو یا سمجھنا نہیں چاہتے؟ ان کا انداز بہت تیکھا تھا۔
برہان لغاری اُن کے آگے صرف سر جھکا کر بیٹھنے کے اور کچھ نہ کرسکے کہ وہ ان کی ذومعنی گفتگو کو بخوبی سمجھ رہے تھے مگر اس امر سے خود کوباز رکھنے یا والدہ حضور کے سامنے اعتراف یا انکار کی جسارت خود میں نہ پارہے تھے۔
گھر کو لٹیروں سے بچانا چاہتے ہوتو چور دروازے مت کھولو‘ ایک بار آزمائے ہوئے کو بار بار کیا آزمانا جن کی سرشت میں وفا نہیں ہوتی وہ دغا کرتے ہیں صرف دغا۔ ان کا لہجہ ہنوز بے لچک تھا۔
فائقہ پہلے سے بالکل بدل گئی ہے والدہ حضور۔ حالات نے اسے توڑ پھوڑ کر نئی عورت بنا دیا ہے‘ پہلے جیسی کوئی بات نہیں ہے اس میں۔
والدہ حضور کی طرح بات کو ہیر پھیر کرنے کی وہ صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ سیدھے طریقے سے وہ فائقہ کا نام لے بیٹھے جس کو سن کر والدہ حضور کے عضلات کھنچ گئے تھے اور آنکھوں میں برہمی نظر آنے لگی تھی۔
یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے تمہاری وہ کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی ہے۔
اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی آپ کا دل اُس کی طرف سے صاف نہ ہوسکا۔ اُسے معاف کردیں والدہ حضور وہ
خاموش! وہ غصے سے بولتی ہوئی کھڑی ہوگئی تھیں۔ اس بدکار عورت کے لئے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
وہ منال کی ماں ہے۔ اُن کی آواز کمزور تھی۔
مگر تمہاری بیوی نہیں ہے‘ یہ کان کھول کر سن لو اور نہ اب بن سکتی ہے ہم جس کو تھوک دیتے ہیں اس کو چاٹتے نہیں ہیں۔
میں منال کی وجہ سے بے حد پریشان ہوں بہت دبائو ہے مجھ پر۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا کس طرح وہ لڑکی نارمل ہوگی۔ کل رات بھی اس نے کلائی کی رگ چھری سے کاٹ لی تھی۔ اگر بروقت فائقہ اسے اسپتال نہ لے جاتی تو اسے جانی نقصان پہنچ سکتا تھا۔
ہونہہ جیسی ماں ویسی بیٹی۔ اُن کے لہجہ میں شدید نفرت تھی۔

مدثر صاحب نے جس والہانہ گرمجوشی و محبت سے ان کا استقبال کیا تھا۔ وہ پیارو محبت اُسے سرشار کرگئی۔ اس کے حوالے سے ملی عزت معتبر بنا گئی۔ وہ جو سدا سے نصیب و مقدر کی بے نیازی سے شکوہ کناں رہی تھی ان دنوں خود کو سب سے زیادہ خوش نصیب سمجھ رہی تھی۔
مدثر صاحب نے شاندار ولیمے کی پارٹی ارینج کی تھی جس میں نیویارک کے اعلیٰ طبقوں سے تعلق رکھنے والے معززین نے شرکت کی تھی۔ خواتین نے مشرقی انداز میں بنی دلہن کی بے حد تعریف کی تھی۔
انس خود بھی تھری پیس سوٹ میں بے حد خوب صورت لگ رہا تھا۔ اُس کی نگاہیں بھی بے ساختہ دلہن بنی کرن کی جانب اٹھ رہی تھیں۔ مدثر صاحب بڑے فخر سے کرن کو سب سے ملوارہے تھے۔ وطن سے دور اس دیس میں بھی ان کا حلقۂ دوستی بے حد وسیع تھا۔
ولیمے کے بعد کئی دنوں تک اُن کی دعوتوں کا سلسلہ چلتا رہا تھا۔
کرن! مبارک ہو۔ انس خوشی سے چہکتا ہوا اندر داخل ہوا تھا۔
کس بات کی؟ وہ جو بال باندھ رہی تھی بال چھوڑ کر بولی۔
سعد جڑواں بچوں کا باپ بن گیا ہے۔
تھینکس گاڈ! فاریہ بھابھی کیسی ہیں۔ اُن کی بہت فکر تھی مجھے۔
وہ ٹھیک ہیں۔ چائلڈز بھی ٹھیک ہیں اور تم کال کرکے معلوم کرلینا۔ اس نے آگے بڑھ کر اس کے بال بگاڑے۔
گرینی ہمارے پاس آجائیں گی اب؟ اس کی قربت میں نروس ہونے لگی۔
ہاں آتو جائیں گی۔ مگر ان کی ایک شرط ہے۔ وہ اُس کی جانب دیکھتے ہوئے مسکراہٹ لبوں میں دبا کر گویا ہوا۔
شرط! کیسی شرط؟
تم بھی فاریہ بھابھی جیسا سرپرائز دینے کا وعدہ کرو تو
وہ اُس کی آنکھوں میں جھانکتا شرارت سے گویا ہوا تو وہ شرم سے سرخ پڑگئی اور فوراً رخ موڑ لیا تھا۔
اونہو‘ چیٹنگ نہیں چلے گی۔ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینا ہوگا۔ انس نے شانوں سے تھام کر اسے اپنی طرف کیا۔
میں ابھی آتی ہوں کچن میں سے۔ وہ جز بز ہوئی۔
یہ فرار ہے میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔
پلیز مجھے جانے دیں سالن جل جائے گا۔ وہ منت بھرے انداز میں بولی تو انس نے یہ کہتے ہوئے اسے چھوڑا۔
جائو‘ کیا یاد کرو گی۔ کس سخی سے بندھن بندھا ہے۔
انس آفس چلا گیا تھا۔
مدثر صاحب بزنس ٹور پر کل آسٹریلیا روانہ ہوئے تھے کرن گھر میں تنہا تھی۔ یہاں پاکستان کی طرح ملازموں کی کثرت نہ تھی۔ جزوقتی طور پر دو نیگرو ملازمائیں تھیں۔ جو ڈسٹنگ اور واشنگ کرکے چلی جایا کرتی تھیں۔ کچن کا کام انس اور مدثر صاحب کے کاموں کی ذمہ داری اس نے خود اپنے ذمہ لی تھی جو بہت معمولی تھی۔ اس پر بھی مدثر صاحب راضی نہ تھے۔ اُن کا کہنا تھا۔ اُن کی بہو حکمرانی کے لئے ہے وہ گھر کے کسی کام کو ہاتھ نہ لگائے وہ اُس کے آرام کے لئے بے شمار ملازم افورڈ کرسکتے ہیں۔ پھر کئی کوششوں کے بعد وہ انہیں راضی کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ ملازمائوں کے جانے کے بعد اُس نے تمام گیٹ لاکڈ کئے تھے اور آکر اپنے بیڈ روم میں آرام سے بیٹھ کر کراچی کال ملانے والی تھی کہ موبائل پر کال آگئی تھی۔ وہ چونک اٹھی تھی اسکرین پر نمبرز اجنبی تھے۔
ہیلو! وہ سنجیدگی سے بولی۔
السلام علیکم‘ کرن! میں صمد بول رہا ہوں۔
صمد! اوہ کتنے عرصے بعد تمہاری آواز سن رہی ہوں‘ رئیلی کتنا اچھا فیل ہورہا ہے۔ ہائو امیزنگ سرپرائز۔ صمد کی آواز سن کر اُسے حقیقتاً بے حد مسرت ہوئی تھی۔ صمد کو بھی اچھا لگ رہا تھا۔ اُس نے کرن کو شادی کی مبارکباد دی۔ اسی سلسلے میں خاصی گفتگو ہوئی ان کی۔
صمد! حمزہ کیسا ہے؟ اُسے کیا ہوگیا ہے وہ ایئرپورٹ آیا تھا مجھے سی آف کرنے وہاں میں نے نئے حمزہ کو دیکھا بہت ٹوٹا‘ بکھرا‘ الجھا الجھا اپنے آپ سے بے خبر‘ وہ پہلے جیسا نہیں تھا۔ اب ایسا لگتا ہے کوئی ٹریجڈی ہوئی ہے اُس کے ساتھ تم بتائو کیا ہوا ہے؟
سچ سنو گی؟ لمحے بھر کو صمد کی آواز کانپی تھی۔
آف کورس۔
اس کی ٹریجڈی تم ہو کرن۔ وہ دھیمے سے بولا۔
کیا مطلب؟ اس کا دل عجیب انداز میں دھڑکا۔
نہ معلوم کب تم اس کے قریب اس قدر آئیں کہ دل پر حکمرانی کرنے لگیں۔
شٹ اپ صمد! تمہیں معلوم ہے کیا کہہ رہے ہو!ایک پل میں پورا کمرہ گردش کرنے لگا۔
مجھے بے حد افسوس سے یہ سب کہنا پڑرہا ہے۔ اگر حالات نارمل ہوتے تو میں کبھی بھی یہ راز تم پر ظاہر نہ کرتا کہ ظاہر کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہ تھا۔ مگر مجبوری یہ آگئی ہے ممی کا بی پی شوٹ کرجانے کے باعث اسپتال میں ایڈمٹ ہیں۔ حمزہ اپنی ضد نہیں چھوڑ رہا ہے۔
کیسی ضد؟
وہ پاکستان سے باہر جا رہا ہے ہمیشہ کے لئے‘ کہاں جارہا ہے‘ یہ مجھے بھی نہیں بتا رہا‘ اسی وجہ سے ممی ہاسپٹلائز ہیں مگر وہ گویا پتھر کا بن گیا ہے۔ اُس پر ممی کی کنڈیشن‘ گھر کی ٹینشن کسی کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ صمد کے لہجے سے از حد پریشانی و تفکر چھلک رہا تھا۔ اور اسے اس انکشاف نے بے جان سا کر ڈالا تھا اس کے ذہن کی اسکرین پر اُن بیتے ہوئے تمام مناظر کی فلم چل رہی تھی۔ صمد نہ معلوم کیا کیا کہہ رہا تھا۔ اس کی سماعتوں میں ہوائوں کی سرسراہٹیں تھیں۔ آنکھوں سے اشکوں کا سیل رواں تھا۔
کرن کرن! آر یو رائٹ؟ اُس کی مسلسل خاموشی نے صمد کو فکر مند کر ڈالا تھا‘ وہ گھبرا کر بولا۔
ہاں۔ میں ٹھیک ہوں۔ کوشش کے باوجود وہ اپنی لرزتی ہوئی آواز پر قابو نہ پاسکی تھی۔
میں نے بہت سوچا کہ کس طرح اُسے روکا جاسکے۔ بالآخر میرے ذہن میں تمہارا ہی نام آیا اور میں نے کال کی‘ پلیز کرن اگر کوئی اُسے اس فیصلے سے روک سکتا ہے تو وہ تم ہو وہ اپنی زندگی تباہ کرے گا‘ نہ کبھی گھر بسائے گا‘ نہ گھر آئے گا اور اُس کے جانے کے بعد گھر گھر کہاں رہے گا‘ زندہ مردوں کا قبرستان بن جائے گا۔ شدت جذبات سے وہ روپڑا تھا۔
روئو مت صمد! مجھے اس درد کا احساس ہے جس سے تم گزر رہے ہو۔ اپنوں سے بچھڑنے کی اذیت تازیست محسوس ہوتی ہے‘ تم فکر مت کرو میں سمجھائوں گی حمزہ کو‘ وہ میری بات مان جائے گا‘ میں نے اسے ہمیشہ سے اچھا دوست‘ اچھا بھائی مانا ہے نہ معلوم کس طرح اور کیوں وہ ان رشتوں کو بھول کر فضولیات سوچنے لگا اور اس حد تک چلا گیا۔
تھینکس اے لوٹ کرن! مجھے یقین تھا تم ہی یہ پرابلم سولو کرسکتی ہو لیکن تم سے میری ایک ریکویسٹ ہے حمزہ کو میری ان باتوں کے متعلق علم نہ ہو ورنہ وہ
میں سمجھتی ہوں‘ تمہاری کال کا بھی ذکر نہیں کروں گی مگر تم بھی ایک بات یاد رکھنا آج کے بعد ہم ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں۔ نئے رشتوں کی استقامت کے لئے یہ قربانی ضروری ہے۔
میں سمجھتا ہوں کرن! آہ پلیز مما اور آنٹیز کو معاف کر دینا‘ تم پر الزام لگا کر وہ شرمندگی میں گرفتار ہیں۔
بھول جائو گزری باتوں کو میں نے سب کو معاف کیا۔ اس نے سیل آف کرکے بیڈ پرپٹخ دیا تھا۔ اُس کے اندر آہوں کا طوفان شدت پکڑ رہا تھا۔ دل کی دنیا پر سوگ کی پرہول خاموشیاں چھانے لگی تھی۔ ابھی چند لمحوںقبل موت ہوگئی تھی۔
موت!
اُس کی پاکیزہ محبت کی۔
روشن اعتماد کی۔
بے مثال دوستی کی۔
حمزہ جس کی دوستی پر اُسے فخر تھا‘ وہ بدل گیا تھا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کھو گیا تھا۔ وہ رو رہی تھی ماں کے بعد دوسرا بڑا صدمہ حمزہ کی دوستی کی موت کا تھا۔ آنسو بھلا تھمنے والے کہاں تھے۔

اُٹھ گئیں جانو! طبیعت کیسی ہے؟ فائقہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے کہا۔
میں سوئی کب تھی؟ اس کی آواز گہری اداسی میں ڈوبی تھی۔
سوئٹی! تم چہرے پر ہاتھ رکھ کر لیٹ گئی تھی میں سمجھی سو گئی ہو۔
میں کہاں سوتی ہوں‘ سو بھی کیسے سکتی ہوں‘ میری نیندیں وہ چرا کر لے گیا ہے‘ میرا سکون‘ میرا چین میرا سب کچھ۔ وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولی۔ فائقہ نے دکھی انداز میں اُس کی طرف دیکھا پھر اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر گویا ہوئیں۔
اس منحوس شخص کو بھول کیوں نہیں جاتی ہو‘ وہ کرن کے ساتھ عیش کررہا ہے اور تم اُس کی یاد میں خود کو بھلائے بیٹھی ہو۔ اگر کل میں وقت پر کمرے میں نہ پہنچ جاتی تو۔
موت اتنی آسانی سے نہیں آتی۔
چپ‘ کتنی بری باتیں کرنے لگی ہو۔ کچھ احساس ہے۔
آپ بھی تو اتنی بری باتیں کررہی ہیں خود آپ کو احساس ہے؟
میں نے کیا بری بات کی ہے سوئیٹ ہارٹ! انہوں نے پیار سے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا۔
آپ میرے سامنے میرے محبوب کے متعلق بتارہی ہیں کہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ عیش کررہا ہے۔ اس سے بڑھ کر بری بات اور کیا ہو گی۔
خیالوں کی دنیا سے نکل آئو بیٹا‘ خیال اور یادیں صرف دُکھ دیتی ہیں۔ وہ یاد رکھنے کے قابل نہیں ہے اُسے بھول جائو۔
بھولنا ہی نہیں آتا مجھے‘ کیا آپ ڈیڈی کو بھول گئیں؟ اُس نے فائقہ کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
یہ یہ بھی کوئی سوال ہے؟ وہ بری طرح خجل ہوئیں۔
بتائیں آپ بھولی ہیں ڈیڈی کو؟ وہ ماں کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی۔آپ میرے لئے نہیں بلکہ ان کے لئے واپس آئی ہیں۔
منال! میری محبت پر شک کررہی ہو۔ اُن کا لہجہ پست تھا۔
نہیں مما! حقیقت بیان کررہی ہوں۔ خیر جو ہوا سو ہوا مرد کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے‘ نقصان ہمیشہ عورت کے نصیب میں آیا ہے آپ کے جانے کے بعد بھی ڈیڈی کی زندگی میں عورتوں کی کمی نہ تھی۔ اب آپ کو پاکر شاید وہ سب کو بھول جائیں۔ مردوں کی فطرت ایسی ہوتی ہے۔ ایک کو پاکر دوسری کو فراموش کردیتے ہیں۔
جو تم نے کہا وہ صحیح ہے پھر تم انس کو کیوں نہیں بھولتیں۔ وہ بھی تو مرد ہے اور مردوں والی ہی فطرت رکھتا ہے۔ وہ تمہیں بھول گیا تم اُسے بھول جائو اور اپنی نئی زندگی کے بارے میں سوچو۔فائقہ آہستگی سے اعتراف کرتے ہوئے اُسے سمجھانے لگیں۔
وہ مرد ہے عام مردوں سے بالکل مختلف‘ ایک ایسا مرد جو وجود کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اُس نے شادی کرن سے کی مگر دل میں اُس کے میں ہی آباد ہوں‘ اُس کے ساتھ کرن نہیں منال ہوتی ہے‘ میرا چہرہ ہوتا ہے۔ اُس کے انداز میں اعتماد و یقین کی مضبوطی تھی۔
تھینکس گاڈ! تم نے اس حقیقت کو تو قبول کیا۔ انہوں نے مسرت سے اُس کی پیشانی چومتے ہوئے کہا۔
ڈیڈی نے مجھ سے بات کرنا چھوڑ دی ہے۔
اب کریں گے بات۔ آپ واپس اپنی دنیا میں پلٹ آئو‘ سب ٹھیک ہوجائے گا‘ میں اور برہان آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔
آپ کا مجھے معلوم ہے مگر ڈیڈی کا یقین نہیں کہ انہیں اب میری خوشی سے بھی خوشی مل سکتی ہے وہ کتنے خود پسند ہیں مجھے معلوم ہے۔
چھوڑو ان باتوں کو اب ریسٹ کرو۔ ڈاکٹر کے آنے کا ٹائم ہورہا ہے۔ وہ اُس کے سر کے نیچے تکیہ درست کرتے ہوئے بولیں۔
آپ کہاں جارہی ہیں؟
آپ کے برابر والے روم میں ایک پیشنٹ سے فرینڈ شپ ہوگئی ہے۔ اچھا ٹائم پاس ہوتا ہے وہاں بڑے مزے کی باتیں کرتی ہے وہ۔
ممی! آپ کب سے فرینڈ شپ کرنے لگی ہیں۔ اُس کے لہجے میں حیرانگی تھی۔
کبھی ایسا ٹائم بھی آجاتا ہے
ایسا کیا ہے اُن لیڈی میں؟
اُس میں تو کچھ نہیں ہے شکل سے ہی چار سو بیس عورت لگتی ہے۔ ہاںاُس کا ایک بیٹا ہے بے حد اسمارٹ اینڈ ڈیشنگ پرسنالٹی ہے اُس کی۔ میں چاہ رہی ہوں کسی طرح وہ لڑکا میرے قابو میں آجائے تو مسئلہ حل ہوجائے۔
اُس لڑکے سے کیا کام ہے؟
آپ کا اور اس کا کپل بہت زبردست ہوگا۔
ممی! آپ کو معلوم ہے آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ وہ خفگی سے بولی۔
ہاں اچھی طرح معلوم ہے اور تم بھی سُن لو برہان کسی طور پر آپ کو گھر میں رکھنے کو تیار نہیں ہیں اور اُن سے زیادہ وہ خرانٹ بڑھیا نہیں چاہ رہی ویسے بھی اُس لڑکے کو دیکھو گی تو انس کو بھول جائو گی۔ انس سے وجیہہ اور ہینڈسم ہے وہ۔ منال خاموش رہی تھی۔
اُس کی ماں کو شیشے میں اتار رہی ہو‘ ماں قابو میں آگئی تو سمجھو بیٹا تو از خود ہی مٹھی میں آجائے گا۔
وہ خوب صورت پھولوں کابو کے اور فروٹ کی ٹوکری اٹھا کر روم سے نکل گئی تھیں۔ منال کے چہرے پر مجروح سی مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔
کیا کوئی اُس ستم گر‘ جفاکش اور مغرور شخص کی طرح ہینڈسم‘ اسمارٹ‘ کیئرنگ‘ لونگ‘ چارمنگ ہوسکتا ہے؟ آنکھیں بند کرکے وہ پھر سوچوں و تصورات کے حسین و پرفریب جنگل میں کھو گئی تھی۔

بے حدکہر آلود شام تھی۔
تاحد نگاہ سرمئی دھند کی دبیز چادر پھیلی نظر آرہی تھی۔ حمزہ ہاتھ میں پکڑے کافی کے مگ پر نگاہیں جمائے بیٹھا مگ کی اوپری سطح سے نکلتے دھویں کو دیکھ رہا تھا۔ اُس کی نگاہیں دھویں پر مرکوز تھیں اور ذہن میں کرن کی باتیں گونج رہی تھیں۔ کچھ لمحے قبل ہی تو فون کیا تھا اُس نے اور کیسی خواہش کی تھی جس نے اس پر ایک دباو‘ ایک بوجھ لاد دیا تھا۔
کیسی آرزو تھی انہونی!
کیسی تمنا تھی جان ہوا!
وہ شادی کرکے اپنی دنیا بسالے اور ماں باپ کی خدمت کرکے آخرت سنوا رے یہی اُس کی خواہش تھی یہی تمنا اور التجا بھی۔
وہ رو رہی تھی۔
بے تحاشہ‘ بے ربط۔
اُس کا ہر آنسو اُسے اپنے دل پر گرتا محسوس ہورہا تھا۔
وہ اقرار نہ کرسکا تو انکار بھی نہ کرسکا اور وہ ہمیشہ کی طرح اپنی ہی منواگئی‘ اپنی قسم دے کر۔ اُس کی قسم جو جان سے بڑھ کر عزیز ہے جس کی خاطر وہ سولی پر لٹک سکتا ہے۔ سانس لینا چھوڑ سکتا ہے‘ یہ جہاں چھوڑ سکتا ہے۔ مگر قسم نہیں توڑ سکتا۔
میرے بھائی یہ کافی کا مگ ہے۔ کوئی جادوئی چراغ نہیں جس کو تم اتنے غور سے دیکھ رہے ہو گویا اس میں سے ابھی کوئی جن برآمد ہوگا اور ہاتھ باندھ کر کہے گا۔کیا حکم ہے میرے آقا۔ صمد اندر آکر اُس سے مخاطب ہوا جس کے لبوں پر مجروح مسکراہٹ ابھری۔
ویسے آپس کی بات ہے۔ اگر قسمت سے کوئی جن مل جائے تو تم کیا خواہش بتائو گے؟ وہ اس کے سامنے بیٹھتے کہنے لگا۔
خواہش اب کیا خواہش ہے کچھ نہیں۔
کچھ تو یار! وہ کیا شعر ہے۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں مگر پھر بھی کم نکلے
نہیں نہ مجھے کوئی جن چاہئے نہ کوئی خواہش۔ وہ کافی کامگ ہونٹوں سے لگا کر سپاٹ انداز میں گویا ہوا تھا۔ اُس کے انداز پر صمد اسے دیکھتا رہ گیا۔
کیا دیکھ رہے ہو اس طرح سے؟
تم کب اپنے جوگ کو ٹھوکر مارو گے ایک تمہاری وجہ سے سب کس قدر ڈسٹرب ہیں۔ تمہیں احساس ہی نہیں ہے پاپا افسردہ رہنے لگے ہیں۔ ممی ہاسپٹلائزڈ ہیں۔ چچائوں کی فیملیز کس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ تمہیں کسی سے کوئی غرض کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک ناکام محبت کا انتقام تم کس کس سے لو گے؟ ہر جنون کی‘ ہر نفرت کی کوئی حد ہوتی ہے‘ تم نے سب کو چھوڑ دیا ہے۔ حتیٰ کہ اپنی ذات سے بھی دشمنی کرلی‘ کیا محبت اتنی خودغرض و بے حس بنا دیتی ہے؟
کبھی نہ کبھی تمہیں بھی کسی سے محبت ہوگی پھر تمہیں خود ہی ان سوالوں کا جواب مل جائے گا‘ رہا سوال پاپا کی افسردگی کا تو ضمیر کی سزا ہر سزا سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ وہ اپنے کل پر پشیمان ہیں‘ ممی ہاسپٹل میری وجہ سے نہیں اپنی لاڈلی چہیتی بہنوں کی مفاد پرستی‘ بے حسی کے باعث گئی ہیں۔ صدمہ بہنوں کی وجہ سے انہیں پہنچا جن بہنوں کی خاطر وہ سسرال والوں کو دشمن سمجھتی رہیں۔ وہ آج اُن کی دشمن ہیں۔ محض اس لئے کہ ان کی ممی کی بہو نہ بن سکی‘ یہ ہے سگے رشتوں کی حقیقت! اور چچائوں کی فیملیز اپنا کیا بھگت رہی ہیں۔ اُن کے لڑکے بری صحبتوں میں پڑگئے‘ بیٹیوں نے کورٹ میرجز کرلیں یا اپنی من مانی کرتے ہیں۔ اُن کی عزت نہیں کرتے۔ انہیں نہیں سمجھتے تو یہ سب ان کے اپنے اعمال ہیں جو سیاہی بن کر ان کی عزتوں پر چھا گئے ہیں اور میں ماسوائے افسوس کے اور کر بھی کیا کرسکتا ہوں‘ تم ہر بار مجھے کیوں ٹیز کرتے ہو گویا جو کچھ ہورہا ہے اُن کا ذمہ دار میں ہوں۔ وہ خاصی خفگی سے گویا ہوا تھا۔
تم میں اب سچ سننے کا حوصلہ بھی نہیں رہا ہے‘ ذرا بات تمہارے موڈ کے خلاف ہوئی اور تم نے اسی طرح بدمزاجی و چڑچڑے پن کا مظاہرہ دکھانا شروع کیا۔ جواباً صمد بھی اسی انداز میں بولا تھا۔
صمد! مت ڈسٹرب کرو‘ میں پہلے ہی اپ سیٹ ہوں۔ وہ پیشانی ہاتھ سے رگڑتے ہوئے پریشان لہجے میں بولا۔
کیا ہوا؟ صمد کے لہجے میں یک دم ہمدردی و پیار در آیا۔
کرن کی کال آئی تھی کچھ دیر قبل۔
اچھا خیریت سے تو ہے وہ؟ صمد دانستہ نگاہیں چرا کر گویا ہوا۔
ہاں۔ حمزہ نے کھوئے کھوئے انداز میں جواب دیا۔
اُس کو معلوم ہے میں اُس کی کوئی خواہش رد نہیں کرسکتا‘ اگر کرنا چاہوں تو تب بھی نہیں‘ اُس کا انداز سدا سے ایسا ہی ہوتا ہے کہ میںنہ کرہی نہیں سکتا۔ کاش وہ ایسی فرمائشیں کرنے کے بجائے میری جان مانگ لیتی تھی اور میں خوشی خوشی اپنی زندگی اُس پر نچھاور کردیتا۔ پھر خواہش کی بھی تو ایسی جس کی اب میری زندگی میں ضرورت نہیں ہے۔
کیا کہا کرن نے؟ کون سی خواہش پوری کروانا چاہتی ہے؟
وہ چاہتی ہے میں شادی کرلوں۔ حمزہ نے تیزی سے پیشانی رگڑتے ہوئے کہا۔
جب تمہیں نہیں کرنی تو چھوڑ دو کیوں ٹینس ہورہے ہو۔
اُس نے مجھے اپنی قسم دی ہے۔
تو پھر کیا ارادہ ہے؟ صمد کے دل میں اُس کی اضطرابی کیفیت درد بن کر اتر نے لگی۔ اس دور میں تو محبت اپنی سچائی‘ اپنی خوب صورتی کھو چکی ہے محض ٹائم پاسنگ ہابی بن چکی ہے۔ اُس کے بھائی نے کیسی سچی و کھری صدیوں پرانی محبت کی ہے جس کا حاصل درد و جدائی ہے صرف۔
سمجھ میں نہیں آرہا میں کیا کروں۔ میں یہاں سے جارہا تھا ہمیشہ کے لئے کہ اب یہاں رہوں یا کہیں اور سب جگہ میرے لئے اجنبی و ویران ہے۔ یہاں رہتا تو ممی مجھے ہر وقت شادی کرنے پر راضی کرتی رہتیں اور جو کام میں کرنا نہیں چاہتا۔ اُس کے لئے کیسے راضی ہوجاتا۔ شادی ایک مقدس رشتہ ہے جو وفا اور خوشیوں سے قبول کیا جاتا ہے کوئی لوہے کی زنجیر نہیں جو جبراً گلے میں ڈال کر بے بسی کے کھونٹے سے باندھ دو۔
پھر کرنا کیا چاہتے ہو؟ صمد اُسے شدید ذہنی کشمکش سے نکالنا چاہتا تھا۔
فیصلہ ہوگیا مجھے وہی کرنا ہے جو وہ کہے گی‘ میں اُس کی مرضی کے خلاف نہیں سوچ سکتا ہوں‘ کسی ان دیکھی ڈور سے بندھا ہوں اُس ڈور کی گانٹھ اتنی مضبوط ہے کہ کھولنا بھی چاہوں تو نہیں کھول سکتا‘ کاٹنا چاہوں بھی تو نہیں کاٹ سکتا ۔ آنسو بے آواز اُس کی آنکھوں سے پھسل رہے تھے۔

فائقہ برہان لغاری کی دوست و گھر پر حکمرانی کے ارادے سے آئی تھی۔ اُن کی یہ خواہش تب سے تھی جب وہ اس گھر میں دلہن بن کر آئی تھیں مگر تیز و طرار سیاسی ذہن رکھنے والی ساس کے سامنے اُن کی دال نہ گل سکی تھی۔ شوہر کے دل پر مکمل حکمرانی کرنے کے باوجود وہ اُن کے محل نما گھر پر حکمرانی نہ کرسکی تھیں اور پھر اپنی نازیبا حرکتوں کے باعث اس گھر سے بالکل نکل جانے پر مجبور ہوگئی تھیں۔ تب وہ محدود ذہن و کمزور سوچ رکھنے والی عورت تھیں اور اب گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر طرح طرح کے لوگوں سے مل کر بہت کچھ سیکھ چکی تھیں‘ چالاکی و مکاری‘ فہم و فراست میں وہ والدہ حضور سے چار قدم آگے تھیں۔ وہ فول پروف پلاننگ لے کر پاکستان آئی تھیں۔ پہلا مرحلہ اُن کا برہان لغاری تک رسائی تھی جو تقدیر سے انہیں پہلے مرحلے میں ہی مل گئی اور انہوں نے ایک لمحہ ضائع کئے بنا اپنا کام کیا اور وہ جو ان کی آواز تک سننے کے روادار نہ تھے۔ اُن کی قربت میں ایسے موم بن گئے کہ جن کو اپنی مرضی سے وہ شیپ دے سکتی تھیں اور انہوں نے دے دیا تھا۔
دوسرا مرحلہ والدہ حضور کی نگرانی اور اُن کے اور برہان کے درمیان ہونے والی گفتگو جاننا تھا۔ ایسے کاموں کے لئے ملازموں سے بڑھ کر جاسوس کون ہوسکتا ہے۔ لالچ سے یا دھمکی سے ملازم ایسے کام کردیتے ہیں اور انہیں بھی بیری نام کی ملازمہ مل گئی جو ہر بات انہیں بتادیا کرتی تھی۔ کل ہونے والی گفتگو بھی انہیں معلوم ہوچکی تھی جسے سن کر وہ زخمی ناگن کی کیفیت کا شکار تھیں۔ دو دن سے از خود برہان لغاری سے نہ ملی تھیں اور نہ ہی کوئی کال اٹینڈ کی تھی۔
ان دو دنوں میں برہان لغاری نے سینکڑوں بار کالز کی تھیں۔ کئی بار کار لے کر آئے۔ اُن سے ملنے مگر وہ سامنے نہ آئیں۔ وہ اُن کی بے قراریوں کو بڑھا رہی تھیں۔ اُن کی برداشت کو کمزور کررہی تھیں تاکہ جلد سے جلد اپنا مقصد حاصل کریں۔ بڑھاپے کا عشق جوانی کے عشق سے زیادہ بائولا کردینے والا ہوتا ہے۔ تیسرے دن صبح سویرے وہ ان کے سامنے تھے۔ دگرگوں حالت میں۔
کیا غلطی ہوئی ہے مجھ سے؟ کیوں اتنا تڑپا رہی ہو؟
میرے اور آپ کے راستے الگ ہیں برہان! ہمارا ساتھ چلنا فضول ہے۔ وہ ایک ادا سے بھرپور انگڑائی لیتی ہوئی بولیں۔
میں منال کو لے کر واپس جارہی ہوں۔
وہاٹ! کیوں کیوں جارہی ہو؟ وہ قریب آکر استفسار کرنے لگے۔
مجھے جانا ہی ہوگا۔ بھلا کس کے لئے رکوں گی یہاں؟ کون ہے میرا یہاں؟ انہوں نے بھرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
یہ یہ کیا بات ہوئی؟ میں ہوں یہاں‘ میرے لئے رُکو۔
کس رشتے سے؟ کس حیثیت سے؟ وہ اُن کی طرف دیکھ کر بولیں اور برہان کچھ کہہ نہ سکے۔ شش و پنج میں مبتلا ہوگئے۔
خاموش کیوں ہیں جواب دیں! اپنی مام کی باتوں میں آکر آپ پہلے ہی مجھ سے تعلق توڑ چکے ہیں پھر کس تعلق سے روک رہے ہیں۔
ٹوٹا ہوا تعلق جڑ بھی سکتا ہے۔ ان کا لہجہ جذباتی تھا۔
پھر توڑنے کے لئے؟ فائقہ طنزیہ کہتی ہوئی آگے بڑھ گئیں۔
ایسے مت کہو فائقہ! اب یہ تعلق مر کر ہی ٹوٹے گا۔
اس عمر میں یہ سب سوٹ کرے گا؟ وہ پینترے بدل رہی تھی۔
محبت سدا جوان رہتی ہے اس کی عمر کبھی نہیں ڈھلتی۔
نہیں برہان! میں تم پر کنفیڈنس نہیں کرتی مائینڈ اٹ‘ کل بھی تم ایک ایسے بچے کی مانند تھے جو ماں کی انگلی پکڑ کر چلنے کا عادی ہو‘ ماں کی آنکھوں سے دیکھنے کا‘ ماں کے کانوں سے سننے کا اور ماں کے ہی ذہن سے فیصلے کرنے کا عادی ہو تم میں اتنے سال گزارنے کے باوجود چینج نہیں آیا۔
والدہ حضور میری جنت ہیں۔ اُن کی حکم عدولی میں نہیں کرسکتا مگر
ٹھیک ہے پھر کیوں روک رہے ہو؟ اُن کا موڈ بری طرح بگڑا۔
میری بات سمجھنے کی کوشش کرو‘ میں اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔
اُنہوں نے آگے بڑھ کر ان کے شانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے سرگوشی کی۔
میں بھی تمہاری جدائی برداشت نہیں کرسکتی برہان! لیکن نہیں چاہتی کہ پہلے کی طرح ہم مل کر بچھڑ جائیں اور ہماری محبت
اب ایسا نہیں ہوگا ڈارلنگ! آئی پرامس یو۔ وہ اُن کی بے باک قربت میں بہکنے لگے تھے۔ فائقہ کو اُس کی تشنگی کا احساس تھا اور وہ ابھی ان کی تشنگی حد سے بڑھانا چاہتی تھیں تاکہ وہ اس لمحہ پر پہنچ جائیںجو وہ اپنا مضبوط ترین مقصد حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہیں۔ وہ حاصل ہوجائے اور وہ اصل حکمران بن جائیں جو اُن کا بڑا خواب تھا۔
پلیز برہان! وہ اُن کی گرفت سے چکنی مچھلی کی طرح نکلی تھیں۔
دور کیوں جارہی ہو فاصلے اجنبیت کا پتہ دیتے ہیں۔ وہ تڑپ کر بولے۔
ہاں ابھی ہم اجنبی ہیں۔ وہ ایک ادا سے مسکرائیں۔
یہ کیا مذاق ہے۔ وہ سخت بے زار ہوئے۔
سمندر سامنے ہو تو سیرابی مزید بڑھ جاتی ہے۔ میری تشنہ آرزوئوں کو کچھ تو قرار دو۔ اُن کے انداز پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تھیں۔
اوہ گاڈ! تم شاعری کرنے لگے۔
ہوں عشق اور شاعری کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اچھا عاشق اچھا شاعر ہوتا ہے اور ناکام عاشق بہترین شاعر۔
اوکے میں جارہی ہوں۔ مجھے تیار ہو کر اسپتال جانا ہے۔ منال ویٹ کررہی ہوگی۔ وہ ایک دم عجلت میں آگے بڑھی تھی اور برہان لغاری کے رومانٹک موڈ پر یکلخت سختی در آئی تھی۔
آپ کتنے کٹھور ہیں نہ اُسے ملنے آئے نہ سیل پر طبیعت پوچھی۔ وہ بہت مس کرتی ہے آپ کو۔ پیارو محبت کی فضا میں احتیاط در آئی تھی۔
مجھے پروا نہیں۔
پلیز ایسے نہ کہیں وہ ان میچور ہے۔
میچورٹی اُس میں کب آئے گی؟ تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے میرا۔
آجائے گی‘ آپ ڈپریسڈ نہ ہوں۔ وہ رک گئی تھیں۔
منال کو آپ ابھی تک معاف نہ کرسکے ہیں مگر اُن کو بھول گئے جو اصل فساد کی جڑ ہیں۔ وہ آپ کو برباد کرکے عیش کررہے ہیں اور آپ۔
کس نے کہا میں بھول گیا ہوں ان کو اور اپنی بربادی کو یا ان کو معاف کرچکا ہوں۔ اُن کے انداز میں سخت برہمی در آئی تھی۔
پھر اتنے ہفتے گزرجانے کے باوجود آپ کی خاموشی کیا معنی رکھتی ہے؟
یہ وہ خاموشی نہیں ہے ڈیئر جو سب کچھ فراموش کرکے چھاتی ہے بلکہ یہ وہ خاموشی ہے وہ ہر بڑے طوفان کے آنے سے پہلے چھاتی ہے۔ اُن کے چہرے پر سرد مسکراہٹ در آئی جس میں سفاک پراسراریت تھی۔
میں بھی یہی چاہتی ہوں انہیں معاف نہ کیا جائے۔

اُس نے کھڑکی سے باہر جھانکا تا حد نگاہ برف ہی برف پھیلی ہوئی تھی۔ خاصے فاصلوں پر بنے کاٹجز پہاڑ برف سے ڈھکے ہوئے تھے۔ درخت جن کی عریاں شاخیں چھتری نما گولائی میں پھیلی ہوئی تھیں جو موسم بہار میں پھولوں‘ پتوں‘ پھلوں سے لدھے جھکے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ اس وقت اُن عریاں درختوں پر برف گری ہوئی تھی اور محسوس ہورہا تھا۔ ہزاروں ٹیوب لائٹس اُن پر روشن ہیں۔ رات سے برف وقفے وقفے سے گر رہی تھی۔
روم میں ہیٹر آن تھا۔ مگر اُسے لگ رہا تھا۔ باہر گرتی برف کی ٹھنڈک اُس کے اندر اتر رہی ہے۔ اس کے اندر سرد برفیلا احساس پھیلتا جارہا ہو۔ وہ کھڑکی کے شیشے سے چہرہ ٹکائے خالی نگاہوں سے باہر برف کو دیکھ رہی تھی۔ جب سے صمد کا فون آیا تھا۔
اُس کے اندر نامعلوم اداسی پھیل گئی تھی جو اُسے بے کل کئے ہوئے تھی۔ انس بیڈ پر بے خبر سو رہا تھا۔ نیند اُس کی آنکھوں سے اوجھل تھی۔ چین گم ہو گیا تھا۔ لامحدود سوچوں کا ایک جہاں اُس میں آباد ہوچکا تھا۔
حمزہ کا اور اس کا ساتھ بہت گہرا تھا۔ بچپن سے جوانی تک وہ اُس کے ہم قدم رہی تھی‘ فارغ وقت وہ تمام اُن کے ساتھ گزرتا تھا جس میں زیادہ تر وہ لڑتی جھگڑتی رہتی اور وہ اس کی ہر کڑوی بات پر مسکراتا رہتا۔ مما کو سمجھاتا رہتا۔ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود اُس کے انداز سے کوئی ایسی بات نہ آئی تھی جس سے محسوس کیا جاتا کہ وہ ا س حد تک جاچکا ہے۔
اُس وقت تم سنجیدگی سے اپنے دل کا راز مجھ پر عیاں کردیتے تو میں بہت آسانی سے تمہیں سمجھاسکتی تھی کہ جو خواب تم دیکھ رہے ہو۔ اُس کی تعبیر تمہیں کبھی نہیں مل سکتی۔ یہ نا ممکن کبھی ممکن نہیں بن سکتا تھا۔ ممانی جان کارویہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ و نفرت سے لبریزتھا۔ اُن کی شہہ پر ہی دونوں ممانیوں اور اُن کے بچوں نے بھی ہم ماں‘ بیٹی سے نفرت کرنا سیکھی تھی۔ ہمارے حصے میں جتنی بھی نفرتیں‘ حقارتیں و تذلیل آئی وہ سب بڑی ممانی کے طفیل آئیں۔ انہوں نے کبھی مجھے انسان ہی نہ سمجھا تو اتنا قریبی و نازک رشتہ کس طرح قائم کرتیں اور سچ تو یہ ہے۔
اُس نے گہری سانس لی۔
میں ایسا ہونے نہیں دیتی حمزہ! میں نے تمہیں ایک دوست اور کزن کی حیثیت سے سمجھا ہے‘ میرے دل میں ایسا کوئی جذبہ نہیں‘ نہ ہوتا شاید اس لئے کہ میرے نصیب میں اُس کی محبت تھی‘ اُس کی چاہت تھی میں انس کے ساتھ خوش ہوں۔ اس کا اور میرا تعلق ڈرامائی انداز میں جڑا۔ ہمارا رشتہ پہلے ایک کمپرومائز تھا۔ اپنے ٹارگٹ کو اچیو کرنے کے لئے ہمارا دشمن ایک تھا۔ برہان لغاری جو باپ تو بن گیا مگر اپنے اندر باپ جیسی شفقت و محبت نہ پیدا کرسکا۔ مگر ہمیں ملانے کا سہرا اُس کے سر پر ہے۔ مجھے نصیب سے بہت شکوہ رہا تھا لیکن نصیب نے میرا بندھن انس سے جوڑ کر میرے تمام شکوے و محرومیوں کا ازالہ کر ڈالا ہے۔
دنیا کی تمام آسائشات میرے قدموں میں ڈھیر ہیں۔ تمام خوشیاں میرے آنچل میں بندھی ہیں۔ میں آج خود کو دنیا کی خوش نصیب ترین لڑکی سمجھتی ہوں۔ مجھے وہ سب ملا جس کا ارمان لے کر لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن کچھ دن قبل صمد کی کال نے جو راز انکشاف کیا۔ اس نے مجھے مضطرب کر ڈالا ہے۔ میرا دل روتا ہے۔ حمزہ کی حالت پر۔ میں دکھی ہوں اس احساس سے بھی کہ حمزہ جیسے مخلص و ہمدرد شخص کو میں نے ہمیشہ کے لئے کھو دیا ہے۔ اب میں کبھی اس سے مل نہیں پائوں گی۔ کبھی نگاہ نہ ملا پائوں گی‘ میرے دل میں آباد ایک دوست‘ ایک خیر خواہ کا تصور مٹ چکا ہے اور اس نئے تصور کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پھر بھی میں نے حمزہ کو اپنی قسم دے کر کہا ہے کہ وہ شادی کرے اور ماں باپ کی خدمت کرے۔ اس طرح وہ اُن کے درمیان رہ سکتا ہے۔ مجھے صمد کے وعدے کا بھی پاس رکھنا ہے اور حمزہ کی محبت کا بھی۔جس کو اس نے چھپایا۔ مجھ سے اور میں اپنے اور اس رشتے کے تقدس کی خاطر اس کو پوشیدہ ہی رکھوں گی بلکہ اب اس سے رابطہ ہی نہیں رکھنا ہے۔ مجھے یقین ہے حمزہ جلد شادی کرکے وہیں رہے گا۔ آخر میں نے بہت بڑی قسم دی ہے کہ اگر اس نے میری بات نہ مانی تو میری مری ہوئی صورت دیکھے گا۔
کیا سوچا جارہا ہے اتنی گہرائی سے؟ وہ سوچوں میں اتنی گم تھی کہ انس کے بیدار ہونے کو نوٹ ہی نہ کرسکی۔
آپ کب جاگے میں محسوس ہی نہ کرسکی۔ وہ مسکراتی ہوئی بیڈ کے قریب پڑی چیئر پر بیٹھتے ہوئے گویا ہوئی۔
کیا بات ہے کرن! میں محسوس کررہا ہوں پچھلے کچھ دنوں سے اپ سیٹ ہو۔ کوئی پرابلم ہے تو مجھ سے شیئر کریں‘ میں چاہتا ہوں ہمارے درمیان صرف میاں بیوی کا ہی نہیں دوستی کا بھی رشتہ ہو تاکہ ہم ایک دوسرے سے اپنی پرابلمز شیئرز کرسکیں۔ بلا کسی جھجک و خوف کے۔ وہ بیڈ پر کروٹ سے لیٹا اُس سے مخاطب تھا۔ کرن خود کسی مضبوط و پائیدار سہارے کی تلاش میں تھی۔ فوراً ہی انس کو وہ سب کچھ بتاتی چلی گئی۔
تھینکس کرن! تم نے مجھ پر اعتماد کرکے مجھے معتبر کردیا ہے۔ آج فخر ہے مجھے اپنے انتخاب‘ اپنی چوائس پر ایک بات بتائوں تمہیں؟انس کا انداز اصرار لئے ہوئے تھا۔ اس نے چونک کر دیکھا۔
جی۔
مجھے یہ سب پہلے سے معلوم ہے۔ وہ پرسکون انداز میں بولا۔
آپ آپ کو کس طرح معلوم ہوا۔
تمہاری مما کی ڈیتھ کی خبر جب حمزہ کو ہوئی تو وہ سخت جذباتی ہوگیا تھا۔ اس وقت غصے میں وہ سب اس کے منہ سے نکل گیا جو دل میں تھا۔ لیکن اس وقت تم بھی دکھ و صدمے کی اس کڑی آزمائش سے گزررہی تھیں کہ حمزہ کی طرح تم بھی اُن باتوں کو سوچنے سمجھنے سے قاصر رہی تھیں۔ دونوں ہی سوچنے و سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم تھے۔ میں اوپر ٹیرس پر کھڑا سب سن رہا تھا۔
آپ نے پھر بھی مجھ سے شادی کی۔ وہ کسی خیال سے سہم کر بول اٹھی۔
کیونکہ میں جانتا تھا حمزہ کا جذبہ‘ اُس کی محبت یکطرفہ ہے اور یکطرفہ محبت پائیدار نہیں ہوتی‘ تم اُس سے شادی نہیں کرتیں‘ اُس گھر میں بہو بن کر نہیں جاتیں جس گھر کے دروازے تم پر بند ہوچکے تھے۔ انس نے کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا تھا۔ کرن بے اختیار رونے لگی تھی۔
ارے یہ آنسو کیوں؟ کیا ہوا؟ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
آپ بہت فراخ دل ہیں۔ بہت اچھے اگر آپ کی جگہ کوئی اور مرد ہوتا تو طعنے مار مار کر زندگی جہنم بنا ڈالتا۔ ہمارے معاشرے میں یہی ہوتا ہے۔ قصور وار لڑکی ہو یا نہیں ہو۔ ذلت و خواری اُسی کے حصے میں آتی ہے۔
میں ایسے مردوں کو مرد نہیں سمجھتا جو عورتوں کی خطا معاف نہیں کرتے۔ خود خواہ کتنی غلاظت میں گرجائیں پھر تم تو بالکل بے قصور و بے خطا ہو بلکہ بہت اعلیٰ ظرف و درگزر کی صفات رکھنے والی جو مجھ جیسے شخص کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزاررہی ہو جس کا ماضی گرد آلود ہے۔ انس کے لہجے میں اس کے لئے حقیقی ستائش تھی۔
پلیز مجھے شرمندہ مت کریں۔ وہ کھل اٹھی تھی۔

فائقہ بیگم کی سحر انگیز شخصیت‘ دلآویز ادائوں کی بجلیاں اور پرفریب چالیں رنگ لے آئی تھیں۔ ایک ہفتے کے دائو پیچ میں ہی برہان لغاری حوصلہ ہار بیٹھے تھے۔ اور اُن کی ڈیمانڈز پوری کرکے اُن سے کورٹ میرج کرچکے تھے۔
فائقہ کو دوبارہ پاکر وہ بے حد مسرور تھے۔
ابھی انہوں نے اپنی شادی کو پوشیدہ رکھا تھا۔ دو دن انہوں نے اپنے پرائیویٹ ہٹ میں اُن کے سنگ گزارے تھے۔ پھر دونوں ہی اجنبیوں کی طرح الگ ہوگئے تھے۔ فائقہ اسپتال چلی آئی تھیں۔
بہت کیوٹ لگ رہی ہیں مما! مبارک ہو۔ سیاہ و گلابی ہینڈورک کی ساڑھی میں میچنگ جیولری و لائٹ میک اپ میں وہ حسین لگ رہی تھیں۔
تھینکس مائی ڈیئر! انہوں نے اس کا رخسار چومتے ہوئے کہا۔
ڈیڈی خوش ہیں آپ کو پا کر؟ منال دلچسپی سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
آف کورس ڈارلنگ۔ وہ مسرت سے کھلکھلائی تھیں۔
کیا گفٹ کیا ڈیڈی نے؟
ہوں سب بتادوں؟
نہیں صرف گفٹ دکھا دیں۔
ڈائمنڈ کا جیولری سیٹ ہے میں احتیاطاً لاکر میں رکھ آئی ہوں۔ گھر چلو گی تو دکھائوں گی۔ وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔
گرینڈ مدر کا کیا حال ہوگا جب انہیں یہ خوشخبری ملے گی؟
برا حال ہوگا بلکہ بڑھیا کے برے دن شروع ہونے والے ہیں۔ ایک ایک بات کا حساب نہ لیا تو فائقہ نام نہیں میرا‘ بہت حکمرانی کرلی بڑھیا نے۔ اب ہمارا دور آیا ہے۔ فائقہ غرور سے گردن اکڑا کر بول رہی تھیں۔
میں آپ کے ساتھ ہوں ممی! مجھے بھی بہت تنگ کیا ہے۔ اس اولڈ وومن نے آپ کے حوالے سے ایسے ایسے طعنے دیتی تھیں۔ میرا وہاں رہنا مشکل ہوجاتا تھا۔ ڈیڈی بھی اُن کا ساتھ دیتے تھے۔
فکر مت کرو‘ سارا حساب لیا جائے گا۔ وہ اکڑ کر بولیں۔
یہاں سے ڈسچارج کب ہوں گی۔ میرا دل گھبرا گیا ہے یہاں سے۔ منال ہاتھ میں بندھی ڈریسنگ دیکھتے ہوئے بولی۔
پہلے طبیعت تو ٹھیک ہونے دو‘ پھر یہاں کیا پریشانی ہے تمہیں۔ بالکل گھر جیسی آسانیاں میسر ہیں‘ یہ اسپتال ہوتے ہوئے بھی انوارمنٹ اسپتال کی طرح نہیں ہے۔ پھر فزیشن بہت کوالیفائیڈ ہیں۔ ایک ماہ میں ہی بیسٹ ٹریٹمنٹ کی ہے آپ کی فزیکلی اور مینٹلی بھی۔ میں بہت پُر امید ہوں۔
میں جلد یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔
اوکے میں ڈاکٹر سے پرمیشن لوں گی۔ ابھی ڈاکٹر کے آنے میں ٹائم ہے۔ میں اتنے میں آپ کی ممکنہ ساس سے گپ شپ کرکے آتی ہوں۔
مما! آپ اس قدر پرامید کیوں ہیں؟ اس دفعہ وہ غصے کی بجائے ہنس کر دریافت کررہی تھی اور یہ ثبوت تھا اس بات کا کہ وہ تیزی سے اس ڈپریشن سے نکل رہی ہے جس میں مینٹلی طور پر ڈسٹرب ہوگئی تھی۔
اُن کی بیماری دراصل یہی ہے کہ اُن کا بیٹا شادی کے لئے راضی نہیں ہورہا اور وہ چاہتی ہیں جلد از جلد اُن کے گھر میں بہو آجائے۔ میں نے تمہاری اتنی تعریفیں اُن سے کی ہیں وہ بنا دیکھے ہی آپ پر فریفتہ ہوگئی ہیں۔ بہت چاہتی ہیں تم سے ملنا۔ بہت آرزو ہے آپ کو دیکھنے کی۔ وہ ہنسی تھی۔
میں آپ کی ذہنی حالت سے مطمئن نہیں تھی۔ اس لئے کئی بہانے بنا کر ٹالتی رہی ہوں۔ مگر آج آپ کو دیکھ کر مطمئن ہوگئی ہوں۔ بہت جلد ملوائوں گی بیگم عاصم سے۔ وہ فروٹ کی ٹوکری اور تازہ پھولوں کا بکس اُٹھا کر روم سے نکل گئیں۔ منال اُن کی کوششوں پر مسکرا اٹھی تھی۔

سعد‘ فاریہ اُس کے جڑواں بچے‘ مائی سکینہ‘ گرینی اور مدثر صاحب ایئرپورٹ جانے کے لئے تیار تھے۔ مدثر صاحب دو دن قبل انہیں لینے کے لئے نیویارک سے آئے تھے۔ گرینی کی وہی ضد تھی وہ کسی طرح اپنا وطن چھوڑ کر جانے کو تیار نہ تھیں۔ اُن کا کہنا تھا میں اُن شہیدوں کی روحوں کو کیا جواب دوں گی جو اس وطن کی خاطر شہید ہوئے‘ اس مٹی کو چھوڑ کر میں کہیں نہیں جائوں گی۔
سعد اور فاریہ انہیں راضی کرنے میں ناکام ہوگئے تھے۔ سو انہیں آنا پڑا آنا تو انس چاہتا تھا مگر احتیاط کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مدثر صاحب خود آئے تھے اور وہاں سے انس اور کرن یہاں سے ان سب نے مل کر اُن پر دبائو ڈالا تو وہ بے دلی سے راضی ہوئی تھیں۔
فلائیٹ میں ابھی کئی گھنٹے تھے۔ فاریہ اور سعد کسی عزیز سے ملنے گئے ہوئے تھے۔ مائی سکینہ سعد کے بچوں کو دوسرے کمرے میں سلا رہی تھی۔ مدثر صاحب گرینی کے پاس بیٹھے کرن کی باتیں کررہے تھے۔
امی جان! کرن نے ان چند ہفتوں میں ہی اتنی خدمت کی ہے اتنا پیار دیا ہے۔ بیٹی کی چاہ پوری ہوگئی ہے بہت خیال رکھتی ہے۔
بہت نیک اور فرمانبردار بچی ہے۔ مجھے اس سے یہی امید تھی۔ انس کا بتائو وہ کیسا ہے کرن کے ساتھ اس کا رویہ ٹھیک تو ہے؟
یہ آپ نے اس سے نہیں معلوم کیا؟ وہ مسکرائے۔
کیا تھا معلوم۔ بلکہ دونوں سے کیا تھا لہجوں سے دونوں ہی خوش نظر آرہے تھے۔ مگر پھر بھی کبھی کبھی مجھے انس کی طرف سے فکر ہوتی ہے کہ نہ معلوم وہ کب بدل جائے؟ کب وہ کرن سے اُکتا جائے۔
ارے نہیں امی جان! آپ فکر مت کیا کریں‘ انس منال کو بھول چکا ہے۔ کرن جیسی باوفا‘ سمجھدار‘ سگھڑ اور حسین بیوی پاکر وہ اسے کیوں یاد رکھے گا اور ایک بات قدرت کی یہ بھی ہے کہ کرن بیٹی منال سے اس قدر مشابہہ ہے کہ شاید ہی بھولے بھٹکے اسے منال کا خیال بھی آتا تو اب نہ آئے گا۔ اُن کے انداز میں طمانیت تھی بے حد۔
ہاں یہ تو ہے عجیب بات۔ باپ ایک ہے مگر دو مائوں سے جنم لینے والی دونوں لڑکیاں چہرے ، قد کاٹھ ایک جیسے رکھتی ہیں۔
مائوں کی تربیت اُن کے مزاج اور کردار میں آگئی ہے۔ ایک ہیرا تو ایک پتھر۔
شکر ہے اللہ ہمارے نصیب میں ہیرا آگیا ہے۔
ہاں۔ اس کے لئے جتنا شکر کیا جائے کم ہے۔ اسی طرح باتیں کرتے کرتے ایئرپورٹ جانے کا وقت ہوگیا تھا۔ سعد اور فاریہ آچکے تھے۔ وہ سب گاڑی میں بیٹھ کر ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوئے تھے۔
گرینی پہلی باراپنی مٹی سے جدا ہورہی تھیں۔ اُن پر رقت طاری تھی۔ انہیں دیکھ کر وہ سب بھی اداس و افسردہ ہوگئے تھے۔ مائی سکینہ بھی چپکے چپکے اپنے آنسو چادر کے پلو سے پونچھ رہی تھی۔ اس کی حالت بھی گرینی جیسی تھی۔ جتنا ضبط کررہی تھی آنسو اتنے ہی بے قابو ہورہے تھے۔
رات خاصی سرد تھی۔
ہلکی ہلکی کُہر نے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ سڑکوں پر ٹریفک خاصا کم تھا۔ البتہ ہیوی لوڈ ٹرک اور ٹرالرز بہت تھے۔ سعد کے دونوں بچے سو رہے تھے۔ ایک فاریہ کی گود میں اور دوسرا مائی سکینہ کی گود میں تھا۔ سب خاموش تھے۔ عجیب پرہول خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ فاریہ کو عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی۔ اُس نے متوحش ہو کر ادھر ادھر دیکھا۔ گاڑی پل سے گزررہی تھی۔ ٹریفک زیادہ نہ تھا۔ فرنٹ سیٹ پر سعد بیٹھا تھا۔ ڈرائیور گاڑی ڈرائیو کررہا تھا۔ پچھلی سیٹوں میں وہ اور مائی سکینہ بیٹھی تھیں۔ اور سامنے کی سیٹ پر مدثر صاحب اور گرینی وہ ماں بیٹے غنودگی کا شکار ہوگئے تھے۔ اُس نے برابر میں بیٹھی مائی سکینہ کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر بھی کچھ بے چینی و اضطراب کی کیفیت ہویدا تھی اور پھر قبل اس کے کہ وہ کچھ سمجھتے پیچھے آنے والے مال بردار سڑک نے ایک دم ہی اسپیڈ پکڑی تھی۔ اور پوری رفتار سے گاڑی سے ٹکراگیا تھا۔
فضا میں یکلخت ہونے والے دھماکے کی زور دار آواز میں انسانی چیخیں دب کر رہ گئی تھیں۔
ٹکر اتنی شدید تھی کہ گاڑی بے قابو ہو کر جنگلے سے ٹکرائی اور ٹوٹی ریلنگ سمیت نیچے گرتی چلی گئی۔

مسز برہان! آپ کیا روز روز کچھ نہ کچھ اٹھائے چلی آتی ہیں۔ آپ کی آمد ہی میرے لئے ہر تحفے سے بڑھ کر ہے۔ راحیلہ بیگم نے فائقہ کو دیکھ کر کہا۔ جو پھول اور ڈرائی فروٹس کے پیکٹس لے کر آئی تھیں۔
کیوں شرمندہ کررہی ہیں مسز عاصم‘ یہ کوئی گفٹس نہیں ہیں۔ میری محبت ہے جو میں منال کے لئے لاتی ہوں‘ وہ آپ کے لئے بھی لاتی ہوں‘ منال کی طرح عزیز ہوگئی ہیں آپ مجھے۔ محبت بھرے لہجے میں کہتی ہوئی وہ چیئر پر بیٹھ گئیں۔
آپ کے اخلاق نے مجھے آپ کا گرویدہ بنادیا ہے مسز لغاری‘ سوچتی ہوں ڈسچارج ہوکر گھر جائوں گی تو کس قدر یاد آئیں گی آپ! یہاں آپ کی محبت کی وجہ سے وقت بہت اچھا گزرتا ہے ورنہ میں اتنے دن کہاں رہ سکتی تھی۔
آج میری بیٹی کی چھٹی ہوجائے گی۔
اچھا تو پھر میں بھی یہاں نہیں رہوں گی‘ بھلا آپ کے بغیر یہاں دل کہاں لگے گا‘ میں آج ہی ڈسچارج ہوں گی۔
ڈاکٹرز کیسے چھٹی دیں گے آپ کو ابھی آپ زیر علاج ہیں۔ وہ حیران تھیں۔
نہیں مل جائے گی چھٹی میرا دوسرا چھوٹا بیٹا ڈاکٹر ہے۔ اُس کی وجہ سے مل جائے گی اور طبیعت تو میری ٹھیک ہے۔ میں از خود گھر والوں کو پریشان کرنے کے لئے یہاں رہ رہی تھی۔ وہ مسکرا کر گویا ہوئیں۔
میں سمجھی نہیں آپ کی بات‘ میں نے آپ کے دونوں بیٹوں اور ہسبنڈ کو دیکھا ہے۔ مجھے تو وہ تینوں ہی بہت سلجھے ہوئے مخلص لگے۔ بلکہ آپ کا بیٹا حمزہ تو بے حد پسند آیا مجھے سنجیدہ‘ کم گو‘ پروقار اور اسمارٹ۔
حمزہ کی وجہ سے ہی میں یہاں ہوں۔
کیا مطلب؟ فائقہ بیگم نے اپنی گھبراہٹ و تجسس کو بمشکل کنٹرول کرکے پوچھا۔
راحیلہ بھی سنبھل گئیں۔حقیقت بتاتے بتاتے مبالغہ آرائی کی راہ اپنائی۔
وہ شادی کے لئے راضی نہیں ہوتا اور میں چاہتی ہوں گھر میں جلد از جلد بہو آجائے تاکہ میرے سُونے گھر میں رونق ہو مگر وہ اتنا کہنے کے باوجود نہیں مانا تو میں نے سوچا کوئی ڈرامہ کرنا چاہئے۔ ایسا جس سے گھر کی ذمہ داریاں ان پر آئیں تو انہیں میری بات مانتے ہی بنے گی۔ ابھی اس ڈرامے کی پہلی قسط ہے۔ یہ حمزہ کے اقرار تک یہ ڈرامہ جاری رہے گا اور اصل بات تو یہ ہے مجھے اداکاری جھوٹی نہیں کرنی پڑتی۔ دو دن بھی دوا ٹائم پر نہ لوں تو میری طبیعت خود بخود ہی بگڑ جاتی ہے۔ راحیلہ اپنی پلاننگ پر خوش تھیں تو فائقہ یہ سوچ کر ہول رہی تھی وہ ہینڈسم لڑکا جس کو وہ منال کے لئے پسند کرچکی ہیں۔ اگر کسی اور لڑکی میں انٹریسٹڈ ہوا تو اُن کی ساری محنت ضائع جائے گی اور پھر مشکل ہی سے کوئی ایسا پرسنالٹی والا لڑکا ملے گا۔
حمزہ کیا کسی لڑکی میں انٹریسٹڈ ہے؟ انہوں نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔
ارے نہیں نہیں‘ ایسی بات نہیں ہے۔ میرا حمزہ بے حد شرمیلا ہے۔ آج کل کے نوجوانوں سے بالکل مختلف۔ وہ کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ پسند کیا خاک کرے گا۔ انہوں نے بلاوجہ دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا۔
اوہ گڈ! آپ کا بیٹا بھی میری بیٹی کی طرح نیچر رکھتا ہے۔
آپ نے ابھی تک اپنی بیٹی سے نہیں ملوایا۔
وہ ڈریس چینج کررہی ہے‘ ٹھہریں میں ابھی لے کر آتی ہوں۔ وہ کہہ کر منال کے پاس آگئیں جو کپڑے بدلنے کے بعد بالوں میں برش کررہی تھی۔
خوب صورت لگ رہی ہو‘ میرون سوٹ میں بڑا سارا دوپٹہ اوڑھے منال کو دیکھ کر وہ بولیں اور اُس کے رخسار چوم لئے۔
ممی! دوپٹہ بہت بڑا ہے مجھ سے کنٹرول نہیں ہوتا۔
تھوڑی دیر کی بات ہے پھر پھینک دینا‘ مسز عاصم کو امپریس کرنا ہے۔
نہ معلوم کیا بات ہے مما! مجھے اس جوک میں انٹریسٹ ہونے لگا ہے ورنہ آپ جانتی ہیں مجھے ایسے گیٹ اپ انس کو رُجھانے کے لئے کرنے پڑتے تھے۔ بال شانوں پر چھوڑ کر وہ اُداسی سے بولی۔
پلیز اُس کا نام مت لو۔ وہ اُسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے بولیں۔
اُس کا نام میرے دل پر لکھا ہے کیسے نہ لوں۔
منال! منال وہ اُسے دیکھتے ہوئے صرف نام کی تکرار کئے جارہی تھیں۔ وہ سمجھ رہی تھیں۔ منال انس کو بھول چکی ہے۔ ٹھیک ہوچکی ہے۔ اس طرح اُس کا نام لینا اور جملے کہنا انہیں متوحش کرچکا تھا۔
نو پرابلم مما! میں نارمل ہوں‘ پاگل نہیں ہوئی ہوں‘ جو سب آپ کررہی ہیں۔ اب میں اگر آپ کا ساتھ دے رہی ہوں تو صرف دل بہلانے کے لئے۔
اوہ مائی چائیلڈ! میں تو ڈر ہی گئی تھی۔ وہ سکون کا سانس لیتی ہوئی اُس کا ہاتھ پکڑ کر راحیلہ کے کمرے میں لے آئیں۔
منال نے انہیں سلام کیا تو وہ جواب دیئے بغیر اُسے دیکھے گئی تھی۔
وہی آواز
وہی چہرہ
وہی انداز
وہ چکرا کر رہ گئیں معمولی سے فرق کے ساتھ کرن سامنے کھڑی تھی۔
ہیلو مسز عاصم! آپ ٹھیک تو ہیں نا؟ فائقہ آگے بڑھیں۔
ہاں ہاں ہاں ٹھیک ہوں‘ آئو آئو بیٹی! بہت ارمان تھا مجھے آپ سے ملنے کا۔ راحیلہ نے بڑی محبت سے اُس کی پیشانی چومی تھی۔
اوہ گاڈ! میں تو ڈر ہی گئی تھی آپ کو شاکڈ دیکھ کر۔
میں معذرت چاہتی ہوں‘ دراصل میری دوست کی بیٹی ہوبہو منال کی ہم شکل تھی۔ اس کی ڈیتھ ہوچکی ہے۔ اس لئے میں چونکی تھی۔ گھر والے دیکھیں گے تو وہ بھی حیران ہوں گے۔ اُن کی نگاہیں منال کے چہرے کا طواف کررہی تھیں اور اُنہیں اپنی آنکھوں پر دھوکے کا گمان ہورہا تھا۔
اوہ ویری سیڈ‘ اب اجازت دیجئے ہم جائیں گے۔
اتنی جلدی کچھ دیر بیٹھیں کچھ باتیں وغیرہ ہوں۔
آپ تو جانتی ہیں منال کے ڈیڈی بزنس کے سلسلے میں زیادہ تر ملک سے باہر ہی رہتے ہیں۔ ہم دونوں ماں بیٹی کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے بہت احتیاط سے رہنا پڑتا ہے۔ ہم دونوں کو مرد گھر میں ہو تو بے فکری رہتی ہے۔ ورنہ بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ سب عزت دار لوگوں کی احتیاط پسندی و عقلمندی ہوتی ہے۔ ورنہ آج کل کون اتنی گہرائی سے سوچتا ہے آپ کے شوہر باہر ہیں تو پھر آپ دونوں کو ساتھ کیوں نہیں رکھتے۔ ایسے کب تک رہیں گی آپ؟
اتنی دولت و آسائشات نے ہماری وضع داری اور آن کو نہیں بدلا۔ لوگ ہمیں قدامت پسند کہتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں ابھی ہر دولت سے بڑھ کر عزت کو عزیز رکھا جاتا ہے۔ ویسٹرن کنٹریز کے ماحول تو آپ کو معلوم ہی ہے۔ جب تک منال جوان نہ ہوئی تھیں۔ تو ہم دونوں برہان کے ساتھ ہوتے تھے۔ فائقہ زبردست ایکٹنگ کررہی تھی۔ ایک شریف و ڈری سہمی عورت ہونے کی۔
برہان کا کہنا یہی ہے منال کی شادی جب تک کسی اچھے لوگوں میں نہیں ہوجاتی۔ مجھے یہاں رہنا ہوگا۔ منال کی شادی کے بعد ہم ملک سے باہر رہیں گے۔
سچ کہا بہن! اچھے اور شریف خاندانی لوگوں کو دولت بگاڑ نہیں سکتی۔ یہ نو دولتیوں کی اوقات ہوتی ہے۔ دولت پاتے ہی مادر پدر آزاد ہوجاتے ہیں۔ پھر کہاں کی شرافت اور کہاں کی وضع داری۔ ان جانے میں وہ فائقہ کی دکھتی رگ چھیڑگئیں۔ منال نے مسکراتی نگاہوں سے ماں کی جانب دیکھا جو گڑبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
میں بہت جلد آئوں گی‘ آپ کے گھر۔ وہ گرم جوشی سے منال کو لپٹاتے ہوئے معنی خیز انداز میں گویا ہوئیں۔
میری آنکھیں آج سے ہی آپ کی آمد کی منتظر رہیں گی۔ فائقہ اُن سے گلے ملتے ہوئے بولیں اور بڑی جدوجہد کے بعد آنسو بھی آنکھوں سے چھلکا دیئے۔ راحیلہ نے سچ مچ روتے ہوئے انہیں رخصت کیا۔
کیا ونڈر فل ایکٹنگ کی ہے تم نے۔ سیڑھیوں کی جانب بڑھتے ہوئے منال کھلکھلا کر ہنستی ہوئی بولی۔ اُسی لمحے حمزہ برابر والی سیڑھیوں سے اوپر چڑھ رہا تھا۔ اُس کی نگاہ بے ارادہ اٹھی تھی اور وہ بنا پلکیں جھپکائے اُسے دیکھتا رہ گیا۔
وہ خیال تھا یا حقیقت؟
نگاہوں کا دھوکہ تھا یا تصور کا فریب؟
وہ کرن تھی؟
لیکن نہیں اس کے ہنستے چہرے پر رخساروں میں پڑنے والے ڈمپلز کرن کے نہیں تھے۔ مگر اس ایک فرق سے کیا ہوتا ہے۔ وہ ہوبہو وہی تھی۔
ہائے بے چاری مائوں کو بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے لئے کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔ وہ ہنستے ہوئے بولیں۔ حمزہ کی نگاہوں سے بے خبر وہ آرام آرام سے ایک ایک سیڑھی اتر رہی تھیں۔
ریمائنڈ یو مما! میرے ہاتھپیلے ہونے کے بعدکالے بھی ہوچکے ہیں۔
جسٹ شٹ اپ‘ یاد رکھو تم اب ایک بیچلر گرل ہو بیچلر۔ اُنہوں نے اسے ڈپٹتے ہوئے سمجھایا۔ اسی لمحے انہیں گرائونڈ فلور پر دیکھ کر حمزہ آنکھوں پر ڈارک گلاسز لگا کر ان کے قریب چلا آیا۔
ایکسکیوزمی۔ اُس کی آواز پر وہ دونوں ٹھٹھک کر رُکی تھیں۔

(باقی آئندہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close