Aanchal Feb-07

افسون جاں

عشناکوٖثرسردار

ٹوٹ جاتے ہیں سب ہی رشتے مگر
دل سے دل کا رشتہ اپنی جگہ
دل کو ہے تجھ سے نہ ملنے کا یقیں
پھر بھی تجھے پا لینے کی دعا اپنی جگہ

وہ نہیں جانتی تھی گی کا پائوں پتہ نہیں کیسے اسٹیئرز سے پھسلا تھا۔ مگر اس وقت وہ بہت تکلیف میں تھی۔ زوباریہ کے ساتھ مل کر اس نے اسے اسپتال پہنچایا تھا۔
پتہ نہیں اب کیا ہونا تھا۔
مگر میرب کا دل بہت ڈر رہا تھا۔
اس نے سردارسبکتگین حیدرلغاری کو بھی فون کردیا تھا۔
کچھ ہی دیر میں وہ اسپتال میں تھا۔
کیسے ہوا یہ سب؟ سردار سبکتگین حیدر لغاری نے پوچھاتھا۔
میرب کو لگا تھا اس سب کا ذمے دار اب اسے ہی ٹھہرائے گا۔ اسے سب سے زیادہ فکر گی اور اس کے بچے کی تھی۔
گی مجھ سے ملنے آئی تھی واپسی پر جب وہ جارہی تھی اس کاپائوں اسٹینڈ سے جانے کیسے پھسل گیا۔ اور وہ!
یہ گی بھی نا میں نے اسے منع بھی کیا تھا۔ مگر وہ اور الزام براہ راست اس پر تو نہیں لگایا گیا تھا۔ مگر اس کا انداز ایسا ہی تھا کہ قصور کی ساری وجہ وہی دکھائی دی تھی۔
وہ اسپتال لائونج میں جیسے اپنا کوئی نیا جرم سنائے جانے کی منتظر کھڑی تھی۔

کیا ہوا آپ اس طرح گم صم سی کیوں کھڑی ہیں؟ ساہیہ نے اگینے کو کھڑے دیکھ کر پوچھا تھا۔
اگینے نے کچھ بھی کہے بغیر سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
آپ پریشان ہیں کچھ؟ ساہیہ نے اسے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
نہیں!ایسی بات نہیں ہے!
تو پھر؟
فیض نے مجھے پروپوز کیا ہے! مدہم لہجے میں بتایا تھا۔
وائو اٹس اے گریٹ نیوز وائے آر یو سو سیڈ دین؟
نہیں میں سیڈ نہیں ہوں!
تو پھر؟ ساہیہ نے اگینے کی طرف دیکھا تھا۔
کچھ نہیں! اگینے بے طرح الجھی دکھائی دی تھی۔
ساہیہ نے اس کے شولڈر پر اپنے ہاتھ رکھ دیئے تھے۔
زندگی سلجھ رہی ہے تو اسے سلجھنے دیں۔ آپ پریشان کیوں ہورہی ہیں؟
اگینے کچھ نہیں بول سکی تھی۔
ممی پاپا کو بتایا آپ نے؟ ساہیہ نے پوچھا تھا۔
نہیں!
کیوں نہیں بتایا۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ آپ کو بتانا چاہئے۔
ہاں مگر ! اگینے کچھ تذبذب کا شکار نظر آئی تھی۔
آپ پریشان ہیں نا! ساہیہ کسی نتیجے پر پہنچتی ہوئی بولی تھی۔
فیض چاچو بہت اچھے ہیں پھوپو۔ مجھے یقین ہے۔ وہ آپ کو بہت خوش رکھیں گے۔ آپ کو اس پروپوزل کو قبول کرلینا چاہئے۔ فیض چاچو از اے نائس گائے اینڈ ہی از ہینڈسم ٹو آپ کو تو خوش ہونا چاہئے ایک موسٹ ایلی جبل بیچلر آپ کو پروپوز کررہا ہے! مذاق میں چھیڑا تھا۔
اس کی کوشش کامیاب رہی تھی۔ اگینے مسکرادی تھی۔
مذاق ایک طرف پھوپو۔ لیکن فیض چاچو واقعی بہت اچھے ہیں۔ مجھے لگتا ہے وہ آپ کو بہت خوش رکھیں گے۔ ساہیہ پُریقین لہجے میں بولی تھی۔ اگینے بہت نرمی سے مسکرادی تھی۔
میری بات چھوڑو۔ اپنی بتائو تم دونوں کب شادی کررہے ہو!
ہماری باری تو بعد میں آئے گی پہلے آپ بڑے تو کرلیں! ساہیہ نے بات مذاق میں ٹال دی تھی۔ دونوں ہنس پڑی تھیں۔
میں آپ کے لئے کافی بنا کر لاتی ہوں۔! ساہیہ اٹھ کر چلی گئی تھی۔ اگینے دوبارہ اسی نہج پر سوچنے لگی تھی۔

گی کا بے بی ابارٹ ہوگیا تھا۔ لیکن اس کی جان بچ گئی تھی۔ سردار سبکتگین کا تو پتہ نہیں مگر میرب اس سب کے لئے خود کو ذمہ دار سمجھ رہی تھی۔ اس کے مس کیرج کی وجہ اس کو وہ خود لگی تھی۔ بہت مجرمانہ سے انداز میں وہ سر جھکائے گی کے پاس آئی تھی۔ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔ اور بہت آہستگی سے بولی تھی۔
آئی ایم سوری گی۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا۔ اگر تم میرے پاس نہیں آتیں۔ تو شاید آج تمہارا مس کیرج نہیں ہوتا!
ایسا مت سوچو میرب۔ میں ایسا نہیں سوچتی۔ یہ سب بھی طے تھا۔ بہت سی نہ ہونے والی اور ہونے والی باتوں کی طرح یہ بھی طے تھا سو ہو گیا۔ میری قسمت میں یہ خوشی بھی نہیں تھی۔ سو میں ماں بھی نہیں بن سکی۔ لیکن اس سب کی ذمہ دار تم نہیں ہو گی بہت نرمی سے بولی تھی۔
میرب وضاحت میں مزید کچھ نہیں بول سکی تھی۔
تم نے ایسا کیوں سوچا۔ گین نے تمہیں ایسا کچھ کہا؟
نہیں مگر میں جانتی ہوں! سر جھکائے وہ مجرمانہ انداز میں بولی تھی۔
کیا جانتی ہو؟
یہی کہ غلطی میری ہے!
ڈونٹ بی اسٹوپڈ میرب غلطی تمہاری کہاں ہے۔ میں اسٹیئر پر سے پھسلی تھی۔ دیٹ وازجسٹ این ایکسیڈنٹ۔ یہ کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہر شے کی ذمہ دار خود کو مت سمجھا کرو۔! گی بول رہی تھی۔ اور میرب کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئی تھیں۔
گی تم بہت اچھی ہو۔ آئی ایم سوری میں نے تمہیں غلط سمجھا!
وہ صاف گوئی سے بولی تو گی مسکرادی تھی۔
ہماری عادت ہوتی ہے میرب۔ ہم اپنی مرضی سے کچھ بھی سمجھ لیتے ہیں ایک بات میں نے بھی سمجھی تھی۔ تمہارے لئے !
کیا؟ میرب نے بھیگی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
وہ یہ کہ تم بہت اچھی ہو اور میں غلط نہیں تھی۔ تم واقعی اچھی ہو میرب بہت اچھی ! گی بولی تھی اور میرب مسکرا دی تھی۔
مجھ سے دوستی کریں گی آپ؟
میں تو تمہاری دوست ہوں !
ہاں وہ تو ہیں مگر ایک اچھی دوستی کی ابتداء کریں گی آپ!
ہاں! گی نرمی سے مسکرادی تھی۔
ہم اپنی سوچوں میں کہاں کتنے غلط ہوتے ہیں۔ یہ وقت سمجھادیتا ہے ہمیں۔ میرب نے سر ہلا دیا تھا۔
ہاں ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ !
اگر تمہیں مجھ پر اتنا یقین آگیا ہے تو ایک بات مانو گی آپ؟ گی نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے کہا تھا۔
میرب نے خاموشی سے صرف اس کی طرف دیکھا تھا۔
اس شخص کو اب مزید سمجھنے کی غلطی بھی مت کرو۔ جیسا بھی ہے جو بھی ہے۔ یو نو دیٹ ہی لوز یو۔ اینڈ لوز آل اٹس لائف۔ فور آل لائف !
گی کی بات میں سچائی تھی یا نہیں مگر اس نے جواباً کچھ نہیں کہا تھا۔

وقت اپنی ڈگر پر لوٹ آیا تھا۔
سارا منظر پھر سے پہلے جیسا تھا۔
ممی کچن میں چائے کے ساتھ لوازمات بنا رہی تھیں۔
دادا ابا عضنان کے ساتھ شطرنج کی بازی کھیل رہے تھے۔
انابیہ بہت دنوں بعد کھلکھلا کر ہنسی تھی۔
اور اس ہنسی میں لامعہ کی ہنسی بھی شامل تھی۔
زندگی اپنی ڈگر پر تھی اور مطمئن تھی۔
مگر اس زندگی میں کچھ کمی اب بھی تھی۔
انابیہ نے قدرے فاصلے پر بیٹھے ہوئے عضنان علی خان کو دیکھا تھا۔ جو دادا ابا کے ساتھ شطرنج کھیلنے میں مصروف تھا۔
نگاہ اس طرف جاکر الجھ گئی تھی۔
یہ تم اس طرح چوری چوری کیوں دیکھ رہی ہو ان موصوف کو تمہارے ہزبینڈ ہیں بھئی دل کھول کر دیکھو! لامعہ نے اس کی چوری پکڑتے ہوئے کہا تھا۔
وہ خجل ہوکر مسکرادی تھی۔
لامعہ شٹ اپ۔ تم اپنی شادی کے لئے تیار ہوجائو اب !
ہاں میں تیار ہوں۔ مگر کوئی ڈھنگ کا لڑکا بھی تو ملے !
لامعہ شرارت سے مسکرائی تھی۔
کیا مطلب ؟ میرا بھائی۔ تمہارے خیال میں ڈھنگ کا لڑکا نہیں اوزی دیکھ رہے ہو تم تمہیں یہ کسی ڈھنگ کے لڑکے میں کائونٹ ہی نہیں کرتی اور تم ہو کہ عشق میں دبلے ہوئے جارہے ہو! انابیہ نے مسکراتے ہوئے بھائی کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔ اوزان ہنس دیا تھا۔
تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے میری پیاری بہنا کیونکہ آپ کی ایسی دوست کو کوئی ڈھنگ کا لڑکا ملنے والا نہیں ہے۔ خدا نے ان کے لئے کوئی چوائس نہیں رکھی۔ شادی تو یہ مجھ ہی سے کریں گی ! انداز میں شرارت تھی۔
ایویں میں میں کیوں کر نے لگی تم سے شادی۔ لولی لنگڑی ہوں کیا؟ یا اندھی کانی ہوں میں تو شادی کروں گی اپنے خوابوں کے شہزادے سے !
ہاں تو وہ میں ہی تو ہوں ! اوزان برجستگی سے بولا تھا۔ انابیہ ہنس دی تھی۔
لامعہ بھی جھینپ سی گئی تھی۔
تبھی اوزان اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا ہوا کچھ اس کی طرف جھکا تھا اور آہستگی سے بولا تھا۔
شادی تو آپ کی مجھ ہی سے ہو گی۔ لکھ کر رکھ لو ساری دنیا گھوم پھر آئو کہیں کوئی نہیں ہے۔ جو آپ کو اتنا اور اس قدر پیار دے سکے۔ آپ نہیں جانتی مگر آپ ہمارے نصیب میں لکھ دی گئی ہیں۔ مانئے یا نہ مانئے۔ مگر بات سچ تو یہی ہے کہ
لے جائیں گے
لے جائیں گے
دل والے دلہنیا لے جائیں گے !
انابیہ نے بھی بھائی کا ساتھ دیا تھا۔ اور دونوں باقاعدہ گانے لگے تھے۔ لامعہ کے چہرے پر بہت سے رنگ بکھر رہے تھے۔
عضنان نے گردن موڑ کر انابیہ کو خوشی سے گاتے ہوئے دیکھا تھا۔
بہت دنوں بعد اس کے چہرے پر ایک اطمینان دیکھ کر اسے برا نہیں لگا تھا۔
ہاں مگر وہ اس چہرے سے نگاہ ہٹا بھی نہیں پایا تھا۔
کیا ہوگیا ہے کیوں تنگ کررہے ہو۔ میری بچی کو ! ممی چائے اور دیگر لوازمات لے کر نوکر کے ہمراہ اندر داخل ہوئی تھیں۔
مام دیکھئے نا یہ مجھے کتنا تنگ کررہے ہیں ! لامعہ نے فوراً شکایت کی تھی۔
مت تنگ کرو میری بچی کو انابیہ اٹھو بچے دادا اور عضنان کو یہ کباب سرو کرو ! انابیہ ماں کے کہے پر سعادت مندی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
دادا ابا کو کباب سرو کرکے وہ اس کی طرف مڑی تھی۔
نگاہ پل بھر کو ملی تھی۔
عضنان علی خان کا انداز خاص تھا۔
نگاہ عام نہیں تھی۔
وہ چونکے بنا پلٹی تھی۔
انابیہ! پیچھے سے آواز آئی تھی۔
انابیہ کو حیرت ہوئی تھی۔ وہ شخص اتنا بے صبرا ہورہا تھا کہ دادا ابا کا بھی کچھ لحاظ نہ تھا۔
بادل ناخواستہ وہ پلٹی تھی۔
کین آئی ہیو آ کافی پلیز ؟ اس کو غالباً چائے درکار نہیں تھی۔ نگاہیں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔
انابیہ نے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔ اور فوراً ہی پلٹ کر وہاں سے ہٹ گئی تھی۔ دھڑکنوں کا ارتعاش کچھ بڑھ گیا تھا۔

کیسی ہو اب تم ! گین چلتے ہوئے اس کے قریب آن رکا تھا۔ گی تکیے کے سہارے بیٹھی تھی۔
اس کی طرف دیکھے بغیر سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔
یو شڈ تھنک ایوری تھنگ از دی پارٹ آف لائف! بہت نرمی سے سمجھانا چاہا تھا۔
مگر اتنی مضبوط لڑکی اس چھوٹے سے ہمدردی کے جملے پر پگھل کر رہ گئی تھی۔
آنسو آنکھوں سے چھلک پڑے تھے۔
گین نے آگے بڑھ کر اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھا تھا۔
تبھی اچانک گی اس کے ساتھ لگ کر دھواں دھار روپڑی تھی۔
سردار سبکتگین حیدر لغاری نے تسلی دینے کی غرض سے اس کے گرد اپنا بازو پھیلا دیا تھا۔
کتنی دیر وہ اس طرح روتی رہی تھی۔
اندر کا غبار کچھ دھلا تھا۔
گی اس سے دور ہٹ گئی تھی۔
سردار سبکتگین حیدر لغاری نے جیپ سے اپنا رومال نکال کر پیش کردیا تھا۔
پھر سائیڈ دراز پر سے پانی کا جگ اٹھا کر اس کے لئے گلاس میں پانی نکالا اور گلاس اس کی طرف بڑھادیا تھا۔
گی نے خاموشی سے گلاس اس کے ہاتھ سے لے لیا تھا۔
پانی کے چند سپ لئے تھے اور پھر گلاس اس کی سمت بڑھادیا تھا۔ سردارسبکتگین حیدر لغاری نے گلاس لے کر ٹیبل پر رکھا تھا۔
پھر اس کی طرف مڑا تھا۔
گی تم !
سردار سبکتگین حیدر لغاری نے اسے دلاسہ دینا چاہا تھا۔ مگر اس سے پہلے ہی وہ بول پڑی تھی۔
بات یہ نہیں ہے گین کہ میں خالی ہاتھ رہ گئی آج میرے پاس کچھ نہیں رہا دکھ اس بات کا ہے کہ میں نے میں نے اپنا بچہ کھو دیا گین اس کے چھوٹے سے ننھے منے سے وجود کو لے کر کتنے ننھے منے چھوٹے چھوٹے خواب بُن لئے تھے میں نے وہ گیا ہے تو وہ سارے خواب ٹوٹ کر بکھر گئے ہیں۔ یہ درد میرے اس آدھے ادھورے رہ جانے والے درد سے بہت بڑا ہے گین !
گی کی آواز اس کے درد کی غمازی کررہی تھی۔
گین جو اسے دلاسہ دینے کی غرض سے آیا تھا۔ کچھ نہیں کہہ سکا تھا۔
گی ایسا سب کے ساتھ زندگی میں ہوتا ہے۔ اٹس ٹرو دکھ ہوتا ہے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ مگر ہم جینا چھوڑ تو نہیں سکتے۔ تمہیں بھی جینا ہے گی۔ یو ہیو بیک ٹو لائف تم ایک بہادر لڑکی ہو تمہارے لئے یہ مشکل نہیں ہونا چاہئے !
ہاں میںایک بہادر لڑکی ہوں۔ سب کچھ سہہ سکتی ہوں۔ سب کچھ !
گی کے لبوں پر ایک شکوہ تھا۔
اور سردار سبکگتین حیدر لغاری کچھ نہیں بول سکا تھا۔

گی کتنی بہادر لڑکی ہے نا زوباریہ بولی تھی۔
ہاؓں! میرب نے بلا تردد سر ہلا دیا تھا۔
بہت اچھی لڑکی ہے وہ !
مجھے تو بہت دکھ ہوا۔ اس کے ساتھ بہت برا ہوا۔ لیکن خدا کا شکر ہے اس کی جان بچ گئی !
ہاں خدا کا شکر ہے وہ بچ گئی۔ اگر اسے کچھ ہوجاتا تو شاید میں خود کو کبھی معاف نہ کرپاتی۔ ملال تو مجھے اب بھی ہے مگر وہ بہت مدہم لہجے میں بولی تھی۔ زوباریہ قدرے فاصلے پر ہونے کی وجہ سے اسے مکمل طور پر سن نہ سکی تھی۔
کچن میں کام کرتے ہوئے پلٹ کر اسے لمحہ بھر کو دیکھا تھا۔
کچھ کہا تم نے؟
نہیں ! میرب نے سر انکار میں ہلا دیا تھا۔
آج شام کی فلائیٹ سے تمہارے پاپا واپس آرہے ہیں !زوباریہ نے مطلع کیا تھا۔
اچھا!!
ہاں ! اب زوباریہ نے ایک بار پھر پلٹ کر اس کی طرف دیکھا تھا۔
کہیں جارہی ہو تم؟
ہاں گی کی طرف آج وہ اسپتال سے ڈسچارج ہورہی ہے نا!
اچھا میری طرف سے بھی پوچھ لینا !
جی ضرور !
میرب کہتی ہوئی باہر نکل گئی تھی۔
وہ راستے میں تھی جب مائی نے اسے فون کرکے بتایا تھا کہ ہم گی کو لے کر گھر آگئے ہیں لہٰذا تم اسپتال مت جائو گھر آجائو۔
اوکے بہتر ! اس نے فون منقطع کرکے گاڑی گھر کی طرف موڑ لی تھی۔ اتنا کچھ ہوا تھا کہ اب وہ سردار سبکتگین حیدر لغاری کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی۔
مگر وہ جانتی تھی ایسا نا ممکن ہی ہوگا۔
وہ گی کو سہارا دے کر تکیے کے سہارے بٹھا رہا تھا جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
ایسا دیکھ کر وہ چونکی نہیں تھی۔
نہ ہی اسے کوئی حیرت ہوئی تھی۔
سردار سبکتگین حیدر لغاری کو تو پہلے بھی کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
گی اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ اور ملائمت سے مسکرادی تھی۔
آئو میرب !
میرب بھی ملائمت سے مسکرا دی تھی۔
کیسی ہو تم ؟
ٹھیک ہوں میرب تم وہاں کیوں کھڑی ہو یہاں آئو نا !
میرب اس کے کہنے پر آگے بڑھ آئی تھی۔
سردار سبکتگین اس سے اور وہ سردار سبکگتین حیدر لغاری سے گریزاں تھے۔
گی ٹیک کیئر۔ آئی ول سی یو لیٹر ! سردار سبکگتین حیدر لغاری پلٹا تھا اور وہ چلتا ہوا باہر نکل گیا تھا۔
یعنی وہ اس کا سامنا کرنا نہیں چاہتا تھا۔
دل پر ایک گھونسہ سا پڑا تھا۔
مگر وہ چلتی ہوئی گی کی طرف آگئی تھی۔
کیسا فیل کررہی ہو تم؟ میرب نے زبردستی کی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر پوچھا تھا۔
ٹھیک ہوں۔ تم کھڑی کیوں ہو بیٹھو نا۔ کتنا عجیب لگتا ہے۔ گھر تو یہ تمہارا اپنا ہے اور بول تمہیں میں رہی ہوں
نہیں تم غلط سمجھی ہو یہ گھر میرا کبھی نہیں رہا۔
اینی ہائو ! سب کچھ بھول کر وہ ایک لمحے میں مسکرائی تھی۔
ڈاکٹر نے کیا کہا؟
نتھنگ بس بیڈ ریسٹ ! لیکن میں فورا واپس جانا چاہتی ہوں۔ اب اور اسٹے نہیں کرسکتی !
تمہیں رکنا چاہئے۔ جب تک کہ تم بہتر محسوس نہ کرو !
نہیں۔ میں ایسا نہیں سوچتی !
مائی کہاں ہیں ؟ میرب نے بات بدلتے ہوئے پوچھا تھا۔
شاید نیچے ہیں۔ تمہاری گین سے بات ہوئی؟ گی نے پوچھا تھا۔ وہ سر جھکا گئی تھی۔ پر بہت ہمت کرکے سر انکار میں ہلا دیا تھا۔
میں مائی سے مل کر آتی ہوں ! وہ یک دم اٹھنے لگی تھی۔
میرب! گی نے اسے ایک لمحے میں پکارا تھا۔
وہ جانتی تھی بات کیا ہو گی۔
شاید اسی لئے وہ ان لمحوں سے دامن چھڑا لینا چاہتی تھی۔
نگاہ بچالینا چاہتی تھی۔
میرب تمہیں گین سے بات کرنی چاہئے۔ اگر وہ آگے بڑھنے میں بات کرنے میں پہل نہیں کرپارہا ہو تو تم !
کیا بات کروں گی میں گی ! وہ یک دم سر اٹھا کر بے بسی سے بولی تھی۔
اور سب کی طرح تمہیں بھی اب یہ مان لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے درمیان اب کچھ نہیں رہا ! میرب کا لہجہ بجھا بجھا سا تھا۔ مگر وہ دانستہ خود کو مضبوط ظاہر کرنے کو مسکرا رہی تھی۔
نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں ایسا نہیں سمجھتی !
تم نہیں سمجھتی گی۔ لیکن ایسا ہے ! میرب مسکرائی تھی۔ جیسے سب ختم ہوچکا ہو۔
اینی وے تم آرام کرو میں مائی سے مل کر آتی ہوں۔! وہ یکدم اٹھی تھی اور چلتی ہوئی باہر نکل گئی تھی۔
گی اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
میرب ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کو رگڑتی ہوئی راہداری میں جارہی تھی۔ سارے منظر جیسے دھندلا رہے تھے۔
وہ کب کیسے سردار سبکتگین حیدر لغاری سے ٹکرائی تھی۔
توازن بگڑا تھا۔
مگر اس مضبوط سہارے نے اسے گرنے سے بچالیا تھا۔
قربتوں نے کوئی جادو نہیں کیا تھا۔
ان لمحوں میں کوئی فسوں نہیں تھا۔
وہ سر اٹھا کر خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ وہ بھی فوری طور پر کچھ نہیں بولا تھا۔
وہ لمس خاص۔ کوئی نیا احساس بھی جگا نہیں پایا تھا۔
دوسرے ہی لمحے وہ سنبھلتی ہوئی اس حصار سے باہر تھی۔
میرب ! اپنی اپنی راہ پر جانے سے قبل ایک آواز اس کی سمت آئی تھی۔ وہ چونکی تھی۔
نگاہ اٹھا کر اس شخص کی سمت دیکھا تھا۔
اگر وقت ہے تو مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ آئو !
درخواست نہیں تھی۔ حکم تھا۔ اور وہ جیسے یہ آواز ایکمعمول تھی۔
میرب چپ چاپ اس کے ہمراہ چلتی ہوئی باہر آگئی تھی ۔

وہ اپنی ممی کے گھر اس رات ٹھہرنا چاہتی تھی۔
مگر عضنان علی خان نے اسے عین موقع پر منع کر دیا تھا۔
اس نے کوئی آرگیومنٹ نہیں کیا تھا۔
گاڑی گھر کے پورچ میں رکی تھی۔ اور وہ چپ چاپ چلتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف آگئی تھی۔
رات اگرچہ بہت ہوگئی تھی۔ مگر عضنان علی خان وہیں نیچے رک گیا تھا۔
غالباً وہ ٹی وی پر کچھ دیکھ رہا تھا۔
ٹی وی کی آواز یہاں تک آرہی تھی۔
وہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر آئی تھی۔ کانوں کے جھمکے اتارتے ہوئے دروازہ کھولا تھا۔
لائٹ آن کی تھی۔ اور حیران رہ گئی تھی۔
پورا کمرہ پھولوں سے بھرا تھا۔
فرش میں یہاں وہاں
پھول ہی پھول!
وہ اپنی جگہ ساکت رہ گئی تھی۔
حیرت زدہ سی یکدم پلٹی تھی۔
اور اپنے پیچھے عضنان علی خان سے ٹکرا گئی تھی۔
یہ سب کیا ہورہا تھا۔
کچھ سمجھ نہ آیا تھا۔
سر اٹھا کر حیرت زدہ سے انداز میں عضنان علی خان کو دیکھا تھا۔
ان نگاہوں میں تاثر خاص تھا۔
کچھ تپش تھی۔
کچھ اور بھی تھا۔
وہ دیکھ نہیں سکی تھی۔
نگاہ جانے کیوں جھک گئی تھی۔
یہ یہ سب! وہ ابھی پوچھنے ہی والی تھی۔
جب وہ بول پڑا تھا۔
ہیپی مینی ہیپی ریٹرنز!
مطلب؟ وہ چونکی تھی۔
یور برتھ ڈے ! عضنان علی خان نے یاد دلایا تھا۔ وہ حیران سی رہ گئی تھی۔

اگینے نے فیض چاچو کے پروپوزل کو ایکسیپٹ کرلیا تھا۔
گھر میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔
کتنا مزہ آئے گا نا فیض چاچو کی شادی ہو گی ماہا ایکسائٹمنٹ سے بولی تھی۔
ہاں خوشی کی بات تو ہے کتنی خواہش تھی فیض ہاں کرے اور میں ایک اچھی سی دیورانی گھر میں بیاہ کر لائوں۔ مگر یہ مانتے ہی نہیں تھے۔ خدا کا شکر ہے۔ بالآخر عقل آگئی۔ فارحہ بولی تھی اور فیض مسکرادیئے تھے۔
ہاں بھئی اب سب میں ہم جیسی ہمت تو نہیں ہوتی۔ شادی کرنا اور جھیلنا آسان کام تو نہیں! سعد نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ فارحہ ہنس دی تھی۔
سنا تم نے فیض تمہارے بھائی صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟
ہاں سنا اور بھائی صاحب کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہہ رہے۔ شادی واقعی ایک مشکل معاملہ ہے۔ ایک میرڈ شخص سے زیادہ مظلوم شخص کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا !
فیض نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
اگینے نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
چاچو کم آن آپ احسان مانئے۔ ہماری اگینے پھوپو نے ہاں کردی ورنہ آپ تو یونہی کنوارے رہ جاتے !
ساہیہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
ایکس کیوز می میرے چاچو کے لئے لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ وہ تو فیض چاچو کا کچھ دل آگیا۔ اگینے پر ورنہ !اذہان نے کہا تھا اور سب ہنس دیئے تھے۔
فیض چاچو ٹھیک کہا نا میں نے؟ اذہان نے دریافت کیا۔
ہاں کہا تو ٹھیک ہے۔ مگر آئی گیس اٹس اے رائیٹ ٹائم فور میری۔ اگر میں اس ٹائم کو بھی ضائع کرتا ہوں تو پھر شاید اگینے میں کوئی لڑکی بھی نہ ملے ! فیض چاچو آنکھوں میں شرارت لئے بولے تھے۔
سب ہنسنے لگے تھے۔
کتنا اچھا لگ رہا ہے نا۔ اتنے عرصے بعد میرے گھر کے آنگن میں خوشیاں اتری ہیں۔ اے خدا میرے گھر کی خوشیاں یونہی قائم و دائم رکھنا ! فارحہ نے دل ہی دل میں دعا مانگی تھی۔
سعدکیا خیال ہے۔ چاچا کے ساتھ ساتھ بھتیجے کی شادی بھی نہ کردیں؟ مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔
اذہان نے ایک لمحے میں ساہیہ کی طرف اور ساہیہ نے اس کی طرف دیکھا تھا۔
ساہیہ کو لگا تھا ابھی وہ کچھ کہے گا۔ کوئی انکاری جملہ۔ مگر وہ کچھ نہیں بولا تھا۔
کوئی تعرض نہیں ہوا تھا۔
اور ساہیہ کو اس پر حیرت ہوئی تھی۔
آنٹی فی الحال اگینے پھوپو اور چاچو کی شادی پر اکتفا کریں۔ ہماری شادی کوئی اتنی ضروری نہیں ہے !
وہ مسکراتی ہوئی بالآخر بولی تھی۔
اذہان اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ ریلنگ کے پاس اپنا کافی کا مگ لئے کھڑی تھی۔ وہ چلتا ہوا اس کے پاس آن رکا تھا۔
ساہیہ نے اس کی طرف دیکھا تھا۔ اور غالباً مروتاً مسکرادی تھی۔
اذہان بھی مسکرایا تھا۔
سردی اچانک ہی کتنی بڑھ گئی ہے نا۔ موسم اچانک ہی کتنا بدل گیا ہے نا!
ہاں! اذہان نے کہا تھا پھر اپنا کوٹ اتارا تھا اور آگے بڑھ کر اس کے شانوں پر ڈال دیا تھا۔
ساہیہ کچھ حیران ہوئی تھی۔
چونکی تھی۔
لیکن وہ مسکرا دیا تھا۔
موسموں کا تو کام ہی بدلنا ہے۔ ان پر ایسا چونکنا کیسا؟
ہاں مگر ! وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر مسکرادی تھی۔
ہم بھی نا! فضول کی باتیں لے کر بیٹھ گئے !
نہیں کچھ ایسی فضول باتیں بھی نہیں یہ۔ یوں بھی کبھی کبھی فضول باتیں بھی کرلینی چاہئیں۔ اچھا لگتا ہے! اذہان مسکراتے ہوئے بولا تھا۔تم وہاں سے اچانک اٹھ کر کیوں آگئی تھیں۔
نہیں بس یونہی! ساہیہ کوئی وضاحت نہیں دے سکی تھی۔
شیور؟ اذہان حسن بخاری نے اس کی طرف بھرپور توجہ سے دیکھا تھا۔
ہاں ! ساہیہ نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
اذہان کچھ نہیں بولا تھا۔
خاموشی سے اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔

رومیصا لغاری کی تصویر کو وہ چپ چاپ دیکھ رہا تھا۔
جب اگینے چلتی ہوئی اس کے پیچھے آن رکی تھی۔
فیض بخاری نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔
جیسے وہ جانتا تھا کہ اس کے پیچھے کون ہے۔
اگینے جو وہیں رک گئی تھی۔ چلتی ہوئی آگے بڑھ آئی تھی۔
اگر تمہیں کسی بات پر کوئی اعتراض ہے تو تم تم اپنا فیصلہ بدل بھی سکتے ہو !
اگینے نے ہمت کرکے کہا تھا۔
انسان اگر پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اس لئے نہیں کہ وہ اپنی زندگی کے کسی فیصلے پر پشیمان ہے۔ یا خوش نہیں کبھی کبھی پیچھے مڑ کر اس لئے بھی دیکھا جاتا ہے کہ ہم نے کیا پایا اور کیا گنوادیا , اگینے نے اسے دیکھا تھا پھر اس کے قریب بیٹھ گئی تھی۔
میں اپنے گزرے کل کو دیکھ رہا ہوں اگینے۔ کیونکہ یہ میری زندگی کا حصہ ہے۔ اور میں اسے بھی بھول نہیں سکتا۔ یہ ہمیشہ اسی طرح میری زندگی کا حصہ رہے گا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنے آج سے خوش نہیں !
فیض بخاری نے تصویر ایک طرف رکھتے ہوئے اگینے کا ہاتھ تھاما تھا۔
اگینے خاموشی سے اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
یہ سچ ہے اگینے میں ایک عرصہ تک ایک حصار میں قید رہا۔ کبھی نکل ہی نہیں پایا اس دائرے سے۔ رومیصا لغاری کی محبت میرے گرد کچھ ایسے تنی تھی کہ اس کے جانے کے بعد بھی میں اس میں قید رہا کبھی دھیان آیا ہی نہیں اس دائرے سے باہر نکل کر جینے کا۔
میں خوش تھا۔ رومیصا کے ساتھ اس کی یادوں کے ساتھ اور شاید ساری زندگی یونہی گزر بھی جاتی۔ میں کبھی اس خواب سے جاگتا بھی نہیں مگر تم اگینے تم وہ لڑکی ہو جس نے مجھے اس دائرے سے باہر نکالا۔ اور زندگی کو نئے سرے سے جینا سکھایا !
اگینے میں تو جینا جیسے بھول ہی چکا تھا۔ اپنے آپ کو بھول چکا تھا۔ مگر تم تم نے مجھے جینا سکھایا۔ ایک نئی راہ دی جینے کی۔ میں نے تمہیں پروپوز کیا تھا تو اس لئے نہیں کہ مجھے صرف زندگی کو آگے بڑھانا تھا۔ بلکہ اس لئے کہ مجھے واقعی ایک ہم سفر کی ضرورت تھی۔ جس کے ساتھ میں قدم قدم چل پاتا۔ جس سے اپنے سکھ دکھ شیئر کرپاتا۔ جس سے پیار کرسکتا۔ دل کی بات کرسکتا۔ سو میں نے تم سے کہہ دیا۔ کہہ دیا کہ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔ اگینے جو دل میں ہو کہہ دینا چاہئے۔ دل کی دل میں نہیں رکھنی چاہئے۔ میرے دل میں تمہارے لئے جو بھی تھا۔ میں نے کہہ دیا۔ تمہیں کیا لگتا ہے؟ فیض بخاری نے پوچھا تھا۔
مجھے لگا ہے فیض اگر ہم زندگی کی راہ پر مل کر چلیں تو زندگی کچھ اور بھی خوب صورت ہوسکتی ہے۔ اور
اور ؟ فیض بخاری نے اس کی طرف دیکھا تھا۔
اور میں آپ کا ہاتھ تھام کر اس زندگی کی راہ پر ضرور چلنا چاہوں گی میں جانتی ہوں کہ ہر زندگی کے پیچھے ایک بند دروازہ کھلتا ہے۔ اور اس بند دروازے سے پیچھے ایک Past بھی ہوتا ہے۔ جو بند دروازہ کھلنے پر جھانکتا ہے۔ ایسا ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے فیض۔ میں حقیقت پسند ہوں۔ ہم اب اس عمر میں نہیں ہیں فیض۔ جہاں ہاتھ بڑھا کر جگنو پکڑے جاتے ہیں۔ اور بچوں کی طرح خوش ہوا جاتا ہے۔ ہم اس وقت سے بہت آگے نکل آئے ہیں۔ اب اگر ہم ایک دوسرے کو نہیں سمجھ پاتے تو یہ اچھا نہیں ہوگا۔
وہ ملائمت سے بولی تھی۔
فیض مسکرادیا تھا۔
پھر سر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے آہستگی سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔
آئی نو ہمارے اس نئے سفر میں کہیں کوئی ملال دور دور تک نہیں ہوگا
ہاں ! اگینے نے کہا تھا۔ اور مسکرادی تھی۔
فیض بھی مسکرادیئے تھے۔

دونوں خاموشی سے بیٹھے تھے۔
سنگی بینچ کے ایک کونے پر وہ تھی اور دوسرے کونے پر سردار سبکتگین حیدر لغاری۔ وہ اس سے کیا کہنا چاہتا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی۔
اس کے دل میں کیا تھا وہ نہیں جان پائی تھی۔
خاموشیاں کیا کہہ رہی تھیں۔ اس کے لئے یہ جاننا بھی مشکل تھا۔
مگر وہ اس کے ہمراہ وہاں موجود تھی
اور اس کے بولنے کی منتظر بھی۔
میرب جو کچھ بھی ہمارے بیچ ہورہا ہے۔ اس کی اب بھی مائی کو کوئی خبر نہیں ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ اس کی خبر انہیں نہ ہی ہو تو بہتر ہے ! سردار سبکتگین حیدر لغاری نے سگریٹ کے گہرے کش کے ساتھ بات کا آغاز کیا تھا۔ وہ خاموشی سے اس کی طرف دیکھتی رہی تھی۔
جو کچھ ہورہا ہے۔ ٹھیک ہے۔ مرضی کے عین مطابق ہے !
کس کی مرضی کے عین مطابق ہے؟ میرب پوچھنا چاہتی تھی۔ مگر باوجود خواہش کے وہ نہیں بول سکی تھی۔
اٹس آل رائیٹ۔ سب ٹھیک ہورہا ہے۔ اور کچھ ہی دنوں میں معاملہ سولو بھی ہوجائے گا۔ بٹ آئی وونٹ دیٹI won’t that) میں اس طرح نہیں چاہتا۔ اٹس لٹل بٹ! امیچور اینڈ کڈی۔ اور وانٹ اے میچور سولوشن۔ اس کا اس سے بہتر حل بھی ہوسکتا ہے اور ہے بھی۔ میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ کورٹ کچہری ہمارے لئے نہیں ہے۔ ہماری فیملی پراسٹیج کے لئے یہ ٹھیک نہیں۔ لغاری خاندان کو یہ سب زیب نہیں دیتا۔ سو اس کا متبادل حل بھی نکالا جاسکتا ہے۔
اینڈ آئی فونڈ دیٹ۔ وہاٹ ابائوٹ آئوٹ آف کورٹ سیٹل منٹ؟ سردار سبکتگین حیدر لغاری مکمل سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔ اور وہ حیران رہ گئی تھی۔
وہ اس قدر سفاک ہوسکتا تھا۔
اتنا سنگ دل ہوسکتا تھا۔
وہ نہیں جانتی تھی۔
اس کا انداز مکمل طور پر کاروباری تھا۔
جیسے وہ کوئی بزنس ڈیل کررہا ہو۔
کتنا حق مہر تھا تمہارا؟ ڈڈ یو ری ممبر؟
اس کے احساسات کی پروا کئے بغیر وہ اسی سپاٹ لہجے میں گویا تھا۔
ایز فار ایز آئی ری ممبر5پانچ کروڑ۔ رائیٹ۔ سو وہاٹ یو تھنک اگر ہم اس کو دس کروڑ کرلیں۔
اور بات یہیں کی یہیں ختم ہوجائے ہم مزید کورٹ
کچہری میں جائیں ہی نہ آئوٹ آف کورٹ سیٹل منٹ۔ سیف اینڈ سیکورٹ میتھڈ۔ نہ آپ کا وقت برباد ہو۔ نہ میرا۔ بات سکون سے طے پاجائے۔ وہاٹ یو تھنک؟ اگر آپ کہیں تو ہم آفر کو بڑھا بھی سکتے ہیں۔
پانچ کی جگہ جہاں دس ہوا۔ وہیں۔ پندرہ یا بیس بھی ہوسکتا ہے۔ مگر !
سردار سبکتگین حیدر لغاری کی بات ختم بھی نہیں ہوئی جب میرب کا ہاتھ اٹھا تھا۔ اور تڑاخ سے سردار سبکتگین حیدر لغاری کے چہرے پر تھا۔ جانے کیسے اس میں اتنی ہمت آگئی تھی۔
سردار سبکتگین حیدر لغاری قطعاً بھی ایسا کچھ ایکسپیکٹ نہیں کررہا تھا۔ وہ اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔
مگر وہ اس کی بالکل بھی پروا کئے بغیر بولی تھی۔
رشتوں پر سودے بازی پہلی بار کرتے سنا ہے میں نے کسی کو سردار سبکتگین حیدر لغاری آپ تو بہت ہی بڑے بزنس ٹائیکون ہیں۔ اپنے ہی رشتوں پر سودے بازی کررہے ہیں آپ۔ اور کمال کی سودے بازی کررہے ہیں میرب کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
سارا ضبط ٹوٹ گیا تھا۔
بہت افسوس ہورہا ہے مجھے آج بہت افسوس۔ بہت غلط سوچتی رہی میں آپ کے لئے۔ بہت شرمندہ ہوں آج۔ آپ یہ آپ وہ مگر کیا ہیں آپ؟
سچ بات تو یہ ہے کہ یو ڈونٹ ڈی زرو می۔ شرمندہ ہوں۔ کتنی فیلنگز رہیں میرے دل میں آپ کے لئے۔
کیا سوچا آپ کو کس قدر چاہا پہروںنہیں لمحوں نہیں دنوں نہیں ہر ہر پل۔ ڈیم! محبت کرتی تھی آپ سے ساری زندگی آپ کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی۔ ساری عمر آپ کو چاہتے رہنا چاہتی تھی مگر اب اس سب پر بہت شرمندہ ہوں۔ آپ جیسے شخص کو چاہ رہی تھی میں۔ آپ جیسے شخص کو پل پل سوچتی رہی میں۔ آپ سے محبت کرتی رہی۔ جو محبت کے معنی تک نہیں جانتا تھا۔ جیسے فیلنگز کی اے بی سی ڈی بھی معلوم نہیں۔اس شخص کے ساتھ میں اپنی پوری عمر گزارنا چاہتی تھی۔ ڈیم !
سب غلط سوچا میں نے ! سب غلط سمجھا۔ سب غلط قیاس کیا۔ بے وقوف تھی میں۔ سب فضول سوچتی رہی۔ جس کا کوئی مطلب تھا نہ کوئی مقصد۔ بٹ ناٹ نائو۔ آپ کے لئے میری یہ محبت میری خود کی انا اور وقار سے زیادہ اہم نہیں۔
اب آپ کیا مجھے اپنی زندگی سے نکالیں گے۔ میں خود بھی آپ کو اپنی زندگی میں نہیں چاہتی۔ ہمیشہ اس رشتے کو بچانا چاہتی تھی میں جسٹ می وانٹڈ ٹو سیف دس ری لیشن شپ۔ مگر اب کوئی زبردستی نہیں ہے۔ میں آج سے ابھی سے آپ کو اپنی زندگی سے نکالتی ہوں۔ سب ختم۔ آل اوور نائو! کہہ کر وہ اٹھی اور چلتی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔
سردار سبکتگین حیدر لغاری اس کی سمت دیکھتا رہ گیا تھا۔

سب کچھ کیسے معمول پر آگیا تھا۔ مجھے تو اب تک یقین نہیں۔ کتنا اچھا لگ رہا ہے نا! ساہیہ نے کافی کا کپ اسے تھماتے ہوئے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔
اذہان مسکرادیا تھا۔
ہاں واقعی سچ میں۔ سب ایک دم سے ٹھیک ہوگیا۔
کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے۔ جب ہم کسی بات کو بہت سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اور بھی الجھتی چلی جاتی ہے۔ مگر کبھی کبھی جب ہم تھک ہار کر چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں تو اچانک ہی جیسے کوئی غیب کا کرشمہ ہوجاتا ہے۔ اور سب ٹھیک ہوجاتا ہے۔ جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ !
ہاں ٹھیک کہتے ہو ! ساہیہ مسکرادی تھی۔
مگر کبھی کبھی ایسا نہیں بھی ہوتا سنورنے والے سارے موسم چپکے چپکے گزرتے رہتے ہیں۔ کہیں کوئی لمحہ بھی خلاف نہیں ہوتا۔ مگر وقت پھر بھی آپ کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں دیتا۔ ساہیہ مسکراتی ہوئی بولی تھی۔ اور اذہان اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔ اور وہ کہہ رہی تھی۔
میرے ہاتھ کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ وقت میرے حق میں بھی نہیں ہے۔ مگر میں خوش ہوں۔ بہت خوش ہوں۔ فارحہ آنٹی کی سعد انکل کی زندگی پھر ڈگر پر آگئی۔ فیض چاچو اور اگینے پھوپو بھی ایک ویو لنتھ پر آگئے۔
وقت نے مانو سچ میں جادو کی کوئی چھڑی گھما دی!
وہ ہنس دی تھی۔ اذہان اس کے لہجے میں چھپی حسرتوں کو صاف محسوس کررہا تھا۔
مگر وہ فوری طور پر اس سے کچھ بھی نہیں کہہ سکا تھا۔
اندر جیسے کوئی چور سا بیٹھا تھا۔
جو کوئی فیصلہ لینے نہیں دے رہا تھا۔
وہ جیسے خود اپنے بس میں نہیں تھا۔
میں سوچتی ہوں۔ واپس چلی جائوں۔ وقت اور زندگی شاید۔ کچھ نئے زاویے پر مڑجائیں ! وہ اپنے طور پر فیصلہ کرتی ہوئی بولی تھی۔
ایسا کیوں سوچ رہی ہو تم ؟ یہاں کیا ہے جو وہاں ہے؟
اذہان بولا تھا۔ مگر وہ اس کی طرف دیکھتی ہوئی ملائمت سے مسکرادی تھی۔
دل کی مانوں تو شاید مجھے بھی یہی ماننا پڑے کہ وہاں ایسا کیا ہے جو یہاں نہیں۔ دل تو شاید۔ کچھ زیادہ کی ہی گواہی دے۔ کہ یہاں بہت کچھ ہے ٹھہرنے کو یہاں تم ہو۔ مگر دل کی مان کر کبھی کبھی بندہ کچھ زیادہ فائدے میں نہیں رہتا۔ اور میں کچھ زیادہ نقصان نہیں سہنا چاہتی۔ یوں کہو کہ اب زیادہ نقصان سہہ نہیں سکتی۔ سو سوچتی ہوں آئی شڈ بیک
ساہیہ نے ایسا کوئی فیصلہ کیوں۔ کب کیسے کیا تھا۔ وہ حیران رہ گیا تھا۔
ایسا کچھ اس نے نہیں سوچا تھا۔
اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہئے تھا۔
جو بھی ہورہا تھا۔ غلط تھا۔
اس کا اندازہ بہرحال اسے تھا۔
کیسا فضول سوچ رہی ہو تم !
وہ بولا تھا۔ انداز الجھا ہوا سا تھا۔ مگر ساہیہ اسی اطمینان سے مسکرادی تھی۔
فضول نہیں ہے اذہان وقت کی ضرورت ہے۔ اور !
وہ بول رہی تھی جب اس کا سیل فون بجا تھا۔ اذہان نے اسکرین پر دیکھا تھا۔ دوسری طرف میرب تھی۔
ایکسکیوز می!معذرت چاہتے ہوئے اذہان نے کال ریسیو کی تھی۔
ہیلو کیسی ہو تم !
ٹھیک ہوں مگر
مگر کیا؟
کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے اذہان ! غالباً وہ دوسری طرف رو رہی تھی۔ ساہیہ نے سر اٹھا کر اذہان کی طرف دیکھا تھا۔ ساہیہ یک دم اٹھی تھی۔ اور وہاں سے نکل جانا چاہا تھا۔ مگر اذہان نے سرعت سے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ اور دوسری طرف میرب سے پوچھا تھا۔
وہاٹ ہیپنڈ؟
کچھ نہیں ! میرب نے فون رکھ دیا تھا۔
وہ سیل فون بند کرتے ہوئے ساہیہ کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
میرب کوہماری ضرورت ہے ساہیہ ہمیں ابھی اسی کی طرف جانا ہوگا! وہ بولا تھا۔ ساہیہ کوئی تعرض نہیں کرسکی تھی۔

یہ سچ تھا اسے یقین نہیں آیا تھا۔
عضنان علی خان کی محبت اس کے لئے اب بھی باقی تھی یا نہیں وہ نہیں جانتی تھی۔
مگر یہ اقدامات کیا کہہ رہے تھے۔ وہ نہیں جان پائی تھی۔
گر وقت کے پاس اس کے کانوں کے لئے کچھ سرگوشیاں تھیں بھی تو فی الحال اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔
وہ صرف وقتی کیئر شو کررہا تھا۔
اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔
محبت اس سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔
اور شاید وہ محبت تھی بھی نہیں۔
وہ زیادہ سوچ کر الجھنا نہیں چاہتی تھی۔
شام میں سب گھر آئے تھے۔
ممی‘ دادا ابا اوزی لامعہ۔ اس کے برتھ ڈے کو وہ سب کیسے بھول سکتے تھے۔ وہ خوش تھے۔ مگر شاید خوش کیسے دکھائی دے۔ یہ بھول بیٹھی تھی۔ یا پھر وہ خود کو دھوکہ دے رہی تھی۔
تمہیںکیا ہوا ہے؟ وہ جوس گلاسوں میں انڈیل رہی تھی۔ جب لامعہ نے اس کے قریب رکتے ہوئے دریافت کیا تھا۔ وہ چونکی تھی۔ پھرمسکرادی تھی۔
کچھ نہیں۔ کیوں کیا ہوا؟
منہ پر بارہ بج رہے ہیں! اطلاع آئی تھی۔
اچھا! وہ برامانے بغیر ہنس دی تھی۔
مذاق نہیں ہے یہ۔ تمہیں واقعی کیا ہوتا جارہا ہے؟ تمہارا ہزبینڈ تمہارا کوئی خیال نہیں رکھتا؟ ابھی جاکر پوچھتی ہوں۔
بیوی ہو کوئی غلام تو نہیں۔ یہ سارے ملازم کیوں نکال باہر کئے۔ فاطمہ آنٹی کے ہوتے ہوئے تو دس ملازم تھے۔
لامعہ نے خبر گیری کی تھی۔
مگر انابیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا تھا۔
پاگل ہوگئی ہو کیا فرق پڑتا ہے۔ اور ممی پاپا کے جانے کے بعد یوں بھی زیادہ کام کاج نہیں رہا۔ ہم دو تو افراد ہیں۔ تھوڑا سا کام۔ میں تو چٹکیوں میں کرلیتی ہوں یوں بھی اس اتنے بڑے گھر میں۔ اتنے لمبے چوڑے دن میں میرے پاس کرنے کے لئے ہوتا بھی کیا ہے ! وہ بہت پرسکون انداز میں کہتی ہوئی مسکرائی تھی۔
لامعہ اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
آپ تو مکمل 100 فیصد پرمنٹ وائف بن چکی ہیں۔ کوئی شکایت کرو تو اپنے ہزبینڈ کو ڈی فنڈ کرنا بھی آگیا ہے
نہیں میں انہیں ڈی فنڈ نہیں کررہی ! انابیہ مسکرادی تھی۔
ان فیکٹ سچ بتارہی ہوں تمہیں!
ہاں اس چار دیواری میں بند کرکے۔ تم سے یہ گھر کے کام کرکے کہاں کی محبت ہورہی ہے۔ مجھے تو تم دونوں میں کوئی ایسی افلاطونی محبت دکھائی نہیں دیتی !
افلاطونی محبت کا وقت نکل گیا۔ اب تو پریکٹیکل لائف اسٹارٹ ہے۔ اور پریکٹیکل لائف تو ایسی ہی ہوتی ہے۔ جب تمہاری شادی اوزان کے ساتھ ہوگی تب پوچھوں گی
خدا نہ کرے اوزان تمہارے ان سوکالڈ ہزبینڈ جیسا ہو !لامعہ اس کی کیفیت پر تپ کر بولی تھی۔
کم آن لامعہ۔ ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ مگر خود کچھ کرنے کو دل نہیں چاہتا !
اوہ پلیز۔ ان حضرات کو ڈی فنڈ کرنا بند کرو۔ کیا سمجھتی ہو تم کسی کو بتائو گی نہیں تو کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ آپ کے چہرے پر صاف پڑھا جارہا ہے کہ آپ خوش نہیں ہیں !
نہیں ایسا نہیں ہے لامعہ۔! وہ کمزور سے لہجے میں سر نفی میں ہلاتی ہوئی بولی تھی۔
لامعہ اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
تم پلیز ایسا کچھ ممی۔ دادا یا پھر اوزان سے مت کہنا۔ وہ فضول میں پریشان ہوں گے۔ اور تمہیں بھی پتہ نہیں کیوں یقین نہیں ہورہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور کہیں کچھ غلط نہیں ہے ! وہ متواتر پری ٹینڈ کرتے ہوئے بولی تھی۔
جب اچانک دھیان عضنان علی خان کی طرف گیا تھا۔
جانے کب سے تھا وہ وہاں۔
کیا سنا تھا کیا نہیں۔
انابیہ سرجھکا کر رہ گئی تھی۔
تبھی وہ اندر بڑھ آیا تھا۔
کیا پروگرام ہے؟ جوس کی ٹرے اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے پوچھا تھا۔ لامعہ قریب ہی کھڑی دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ انابیہ نہیں چاہتی تھی۔ ایسا کچھ بھی لامعہ کے سامنے ہو۔ جس سے پتہ چلے کہ ان کے درمیان کہیں کچھ ٹھیک نہیںہے۔ تبھی خوشگواری سے مسکرادی تھی۔
کیسا پروگرام۔ فی الحال تو ڈرنک سرو کررہے ہیں۔ آپ بتادیجئے۔ کیا کرنا ہے۔ ڈنر گھر پر تیار کروں ہاں!
نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ عضنان اس کے ہاتھ سے جوس کی ٹرے لیتے ہوئے بولا تھا۔
میں نے ٹیبل بک کروادی تھی۔ ہم ڈنر باہر کریں گے !
وہ حیرت میں تھی۔ جب لامعہ بولی تھی۔
عضنان یہ کیسی برتھ ڈے ہے جو کیک کے بغیر ہے !
وہ مسکرایا تھا۔
کس نے کہا کہ کیک نہیں ان فیکٹ تم اپنی دوست کے لئے چھری پر ریڈ ربن باندھ کر لے آئو۔ کیک کٹنے کے لئے تیار ہے انابیہ تم چینج کرلو ! وہ مکمل ذمہ دار شوہر لگ رہا تھا۔
غالباً وہ جو پروف کرنا چاہتا تھا۔ اس میں کامیاب بھی رہا تھا۔
اگر اس کا مقصد صرف لامعہ لوگوں کو اطمینان دلانا تھا تو یہ کوشش کارگر رہی تھی۔
مگر اس کے اندر کتنی خاموشیاں پھیل رہی تھیں۔
یہ صرف وہ جانتی تھی۔
وہ ٹرے لے کر باہر جاچکا تھا۔
اور وہ خاموشی سے وہاں کھڑی تھی۔
تم اس طرح کیوں کھڑی ہو۔ کم آن یار۔ ریڈی ہوجائو جاکر میں باقی سب کو ریڈی کرتی ہوں ! لامعہ بولی تھی۔ تبھی وہ مسکراتی ہوئی سر ہلاتی۔ باہر نکل گئی تھی۔
مگر اس کے اندر کہیں بھی
کچھ بھی مکمل طور پر اپنی جگہ پر نہ تھا۔
محبت اتنی الجھی ہوئی ہوسکتی ہے۔
وہ نہیں جانتی تھی۔
الجھی الجھی
بکھری بکھری
تھوڑی حیران
تھوڑی سلجھی
محبت کو میں نے دیکھا ہے
کچھ خوش گمان
کچھ بدگمان
کچھ چارہ گر
کچھ رہنما
محبت کو میں نے دیکھا ہے
چپ چاپ تنہا چلتے ہوئے
خود اپنی آگ میں جلتے ہوئے
کچھ کہتے ہوئے نہ
سنتے ہوئے
محبت کومیں نے دیکھاہے
اسے کچھ معلوم نہیں تھا
زندگی اب کس کروٹ بیٹھے گی
آخر کیا ہوگا
یا پھر نیا کوئی رخ ہوگا بھی یا کہ نہیں۔
مگر زینہ طے کرتے ہوئے وہ بہت الجھی ہوئی سی تھی۔
اوزان کی کسی بات پر مسکراتے ہوئے عضنان علی خان نے اسے بغور دیکھا تھا۔

کیا ہوا تھا؟ اذہان نے پوچھا تھا۔
ساہیہ بھی میرب کو بغور دیکھ رہی تھی۔
مگر اس نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے سر انکار میں ہلا دیا تھا۔
بس یونہی میں کچھ پریشان تھی !
ہاں وہی تو پوچھ رہے ہیں۔ کیا پریشانی تھی۔ تم اتنی ڈسٹرب لگ رہی ہو تو اس کی کوئی وجہ تو ہوگی ! اذہان حسن بخاری نے پوچھا تھا۔
مگر غالباً وہ ساہیہ کے ہونے کے باعث کچھ بھی شیئر نہیں کرتی تھی۔ ساہیہ کو اندازہ ہوگیا تھا۔
تبھی شاید وہ اٹھنے لگی تھی۔ مگر میرب نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ اور نرمی سے بولی تھی۔
تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے ساہیہ۔ تم بھی میری اتنی ہی اچھی دوست ہو جتنا اذہان ایسی کوئی بات نہیں ہے جو میں صرف اذہان سے شیئر کرسکتی ہوں اور تم سے نہیں !
ساہیہ مسکرادی تھی۔
تم دونوں بہت پرانے دوست ہو میرب۔ میں نئی ہوں۔ اور نئے اور پرانے دوست کا فرق میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ یوں بھی مجھے نہیں لگتا میرے ہوتے ہوئے تم کنفرٹیبل فیل کروگی۔ وہ ملائمت سے مسکراتے ہوئے بولی تھی۔
ایسا کچھ نہیں ہے ساہیہ۔ میرے لئے نئے یا پرانے دوست۔ ایک جیسے ہیں۔ میں سردار سبکتگین حیدر لغاری کی طرف گئی تھی۔
بہت دنوں سے ہمارے درمیان کچھ بھی ٹھیک نہیں۔ بس اُسی کو لے کر کچھ زیادہ ڈسٹرب ہوگئی تھی ! کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بہت سا پانی آن ٹھہرا تھا۔ اس نے ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کو رگڑا تھا۔
کبھی کبھی زندگی اتنی الجھ جاتی ہے کہ اسے سلجھانا مشکل ہوجاتا ہے۔ میرے معاملے میں محبت کچھ الجھی ہوئی ہے فی الحال۔ پتہ نہیں کیا ہوگا۔ مگر میں اس تعلق کو توڑنا نہیں چاہتی۔ آئی لوہم ! میرب بولی تھی اور اذہان کے ارد گرد جیسے یہ جملہ بازگشت ہوگیا تھا۔ چونکی تو ساہیہ بھی تھی۔
اور وہ اذہان کو اس لمحے دیکھے بنا نہیں رہی تھی۔
ہاں یہ ٹھیک ہے۔ دیٹس ٹرو آئی لو ہم ! میرے لئے اس کے بنا زندگی کا کوئی مطلب ہی نہیں اور وہ ہے کہ یہ بات سمجھتا ہی نہیں ! میرے ایموشن۔ میری فیلنگزجیسے اس کے لئے کوئی میننگ ہی نہیں رکھتیں۔
میں جانتی ہوں۔ آئی نو دیٹ۔ ہی لوز می۔ تبھی تو جب چاہتا ہے۔ اتنے آرام سے ہرٹ کرپاتا ہے۔ دنیا میں صرف ایک شخص ہوتا ہے۔ جو ہمیں درددے سکتا ہے۔ جو جانتا ہے کہ ہم اس سے اور وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ اور سردار سبکتگین حیدر لغاری اس بات سے ان جان نہیں ہے۔ ہی کین ہرٹ می۔ ہی آل ویز ہرٹ می۔ بی کوز آئی لو ہم !
میرب بولی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو اپنے آپ بہہ رہے تھے۔ اگر وہ کوئی صورتحال ان دونوں پر واضح کرنا چاہتی تھی تو وہ کامیاب رہی تھی۔
ساہیہ نے اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھا تھا۔ پھر اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔
اذہان اس منظر کو صرف دیکھ کر رہ گیا تھا۔

تم کیا کررہی ہو ؟ گی کو نئے سرے سے پیکنگ کرتے دیکھ کر گین نے دریافت کیا تھا۔
دیکھ تو رہے ہو تم پیکنگ کررہی ہوں ! وہ لاتعلق لہجے میں بولی تھی۔ سردار سبکتگین حیدر لغاری اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
خفا ہو تم مجھ سے؟
گی نے سب کام چھوڑ کر اس کی طرف دیکھا تھا۔
کس قسم کے آدمی ہو تم گین تم اتنے کٹھور ہوسکتے ہو مجھے اندازہ تک نہیں تھا۔ ہمیشہ کتنا سمجھایا بجھایا تمہیں تمہاری سمجھ میں جو نہیں آیا تم صرف دل دکھانا جانتے ہو۔ تم اتنے سنگ دل ہو اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔ مجھے۔ تمہارا سب سے بڑا پرابلم یہ ہے کہ تم خود نہیں جانتے۔ تم زندگی سے کیا چاہتے ہو۔ زندگی تمہارے قریب ہے۔ پاس ہے۔ اور تم اسے پرے دھکیل رہے ہو۔ کتنا سمجھایا تھا میں نے اسے۔ کتنا پوزی ٹیو کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر تم نے ان تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ عجیب آدمی ہو تم۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تمہارے۔ اتنی اچھی لڑکی کو درد دے رہے ہو تم۔ کیوں کررہے ہو تم ایسا؟ میں نہیں جانتی گین۔ بٹ آئی ناٹ ہیپی۔ مجھے دکھ ہورہا ہے۔ کیونکہ تم اسے دکھ دے رہے ہو!
گی بولی تھی۔
سردار سبکتگین حیدر لغاری فوری طور پر کچھ نہیں بولا تھا۔
سردار سبکتگین حیدر لغاری یہ کیا کررہے ہو تم۔ خود اپنی زندگی کے ساتھ کیا لگتا ہے۔ خوش رہ پائو گے؟ گی نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے کہا تھا۔
نہیں۔ قطعاً نہیں خوش رہوں گا۔! اگرتم یہاں سے جائوگی تو۔ گی فی الحال میں کسی طرف نہیں دیکھ رہا۔ میری نظر کسی معاملے پر نہیں ہے۔ تم میری بہت اچھی دوست ہو اور میں تمہیں اس طرح کھونا نہیں چاہتا ! وہ مطمئن انداز میں بولا تھا۔
میں میری دوستی گین۔ اور ویئراز یور اون لائف؟
یو گون میڈ؟ کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ پاگل ہوگئے ہو تم !
کیوں کچھ سمجھ نہیں آتا تمہیں؟ کیوں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ تم ہر لمحہ اسے اپنی زندگی سے باہر دھکیل رہے ہو اور تمہیں اس بات کا اندازہ تک نہیںہے۔ میں نے اپنی ساری زندگی میں تم سے زیادہ بے وقوف شخص نہیں دیکھا۔ پلیز۔ فار گاڈ سیک۔ سردار سبکتگین حیدر لغاری۔ اپنی زندگی کو سمجھو۔ کب سمجھ آئے گی تمہیں۔ محبت کرتے ہو اس سے۔ تو اسے بتاتے کیوں نہیں !
گی میں کیا کررہا ہوں۔ کیوں کررہا ہوں۔ میں جانتا ہوں۔ آئی ایم ناٹ اے فول ! وہ پوزس(Posses) کرتا ہوا بولا تھا۔
کچھ نہیں جانتے ہو تم گین۔ سچ میں بہت بے وقوف ہو تم !گی نے اس کی عقل پر افسوس کرتے ہوئے کہا تھا۔
سردار سبکتگین۔ میں کھونے کا درد جانتی ہوں۔ مجھے احساس ہے۔ جب کچھ کھویا جاتا ہے تو کتنا درد ہوتا ہے۔ تم پلیز یہ سمجھنے کی کوشش کرو۔ خدا نہ کرے تم اس حد سے گزرو۔
میں کبھی بھی تمہیں اس درد سے گزرتا نہیں دیکھنا چاہوں گی۔ گی بول رہی تھی۔ اورسردارسبکتگین حیدر لغاری اسے چپ چاپ دیکھ رہا تھا۔

ڈنر سے واپس لوٹنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں جانے والی تھی جب عضنان علی خان نے اسے پکارا تھا۔
سنو!
وہ زینہ چڑھتے چڑھتے یک دم جیسے بت بن گئی تھی۔
عضنان چلتا ہوا اس کے پیچھے آن رکا تھا۔
گھر کی باتیں گھر میں رہیں تو زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اگر تمہیں مجھ سے کوئی شکایت ہو تو مجھ سے کہو۔ میں اس کا ازالہ کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔ مگر اس طرح !
اسے اندازہ تھا۔ ایسی کوئی بات ہوگی۔
اور وہی ہوا تھا۔
عضنان علی خان اپنے طور پر اخذ کی گئی باتیں کررہا تھا۔ وہ بہت سکون سے پلٹی تھی۔
میں نے کسی سے کچھ نہیں کہا۔ گھر کی یا ہماری آپس کی کسی بھی بات کو اس گھر سے باہر نہیں کیا۔ اگر آپ لامعہ کی بات کررہے ہیں تو میں اس سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں کررہی تھی۔ میں صرف وضاحت دے رہی تھی کہ میں!
کہ آپ کو یہاں نوکر بنا کر رکھا جارہا ہے اور آپ کا کوئی خیال نہیں رکھا جارہا۔ ! عضنان نے بات مکمل کی تھی۔
مجھ پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہیں ہورہا۔ اور نہ ہی میں مظلوم بننا چاہوں گی۔ آپ نے جو بھی سنا وہ آدھی ادھوری باتیں تھیں۔ یوں بھی کسی کی باتیں چھپ چھپ کر سننا۔ اچھی بات نہیں!
اس نے مضبوط لہجے میںکہا تھا۔
عضنان علی خان اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
مجھے نہیں پتہ کہ آپ اتنا کچھ کیوں سہہ رہے ہیں۔ اگر میں آپ کی زندگی میں ان چاہا حصہ ہوں تو نکال باہر کیجئے۔
پلیز۔ لیو اینڈ لٹ لیو! وہ بولی تھی۔ عضنان علی خان کا ہاتھ اٹھا تھا اور تڑاخ سے اس کے چہرے پر تھا۔
وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ مگر وہ چلتا ہوا باہر نکل گیا تھا۔

آج کا دن اچھا رہا نا ! انابیہ کی برتھ ڈے پر ڈنر کے بعد اوزان لامعہ کو چھوڑنے جارہا تھا۔
ہاں اچھا رہا۔ عرصے بعد ہم اس طرح مل کر کہیں بیٹھے۔ مجھے اچھا لگا۔ لامعہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
انابیہ خوش ہے نا۔ مجھے جانے کیوں آج وہ کچھ بجھی بجھی سی لگی۔
بھائی کی نگاہ اسے پڑھ گئی تھی۔
لامعہ چونکی تھی۔ پھر فوراً سر انکار میں ہلا دیا تھا۔
نہیں۔ وہ خوش ہے۔ خوش کیسے نہیں ہوگی۔ عضنان اسے سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے۔ اس کی ہر خوشی کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ دیکھا نہیں آج تم نے۔ لامعہ نے اس کا زاویہ نظر موڑنے کی کوشش کی تھی۔
ہاں یہ تو ہے۔ مگر اس کے باوجود مجھے وہ کچھ اداس لگی۔ اینی ہائو۔ کوئی آج بہت اچھا بھی لگ رہا تھا ! وہ ایک نظر اس کی طرف دیکھتا ہوا بولاتھا۔
لامعہ مسکرادی تھی۔
اس کے چہرے پر کئی رنگ بکھرتے دیکھ کر اوزان کو اچھا لگا تھا۔
میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا ! وہ اس کی طرف دیکھے بغیر مسکراتی ہوئی بولی تھی۔
کیا ؟ وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا۔
تم اپنی زندگی میں مجھے ایکسپیکٹ نہیں کرتی تھیں؟
نہیں ایسی بات نہیں۔ مگر زندگی میں اتنے سارے ٹوئسٹ آئیں گے۔ اس کے بارے میں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ وقت کب کہاں کس طرح بدلا۔ کچھ پتہ نہیں چلا۔ کتنی خود غرض ہوگئی میں۔ کیسے اتنا سب کردیا۔ سمجھ نہیں آرہا۔ مگر آج جب سوچتی ہوں تو میرے اپنے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ حسد اور جلن میں۔ میں بہت آگے نکل گئی تھی۔ وہ تو اچھا ہوا بروقت میری آنکھیں کھل گئیں۔ ورنہ آج جانے میں کہاں کھڑی ہوتی ! یہ تم یہ ایک اچھا سا احساس۔ یہ چھوٹے چھوٹے سے خواب۔ شاید۔ شاید۔ یہ سب جو آج میرا ہے۔ میرا نہ ہوتا!
لامعہ جو ہونا ہوتا ہے۔ وہ ہوتا ہے۔ اور جو ہوتا ہے اچھاہوتا ہے۔ بھول جائو سب۔ جو وقت زندگی کا حصہ نہ رہے اسے زندگی کی کتاب میں سے نکال دینا چاہئے۔ اور دوبارہ اس کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہئے۔ !
ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو تم اوزان۔ مگر کتنے بہت سے لمحے میں نے گنوادیئے۔ تم میرے ساتھ تھے۔ قریب تھے۔ میرا ساتھ چاہتے تھے اور میں تم سے ہی بھاگتی رہی۔ جب ہمیں ملنا ہی تھا تو ہم اتنی دیر میں کیوں ملے۔ میں نے وہ لمحے کیوں گنوائے۔ اس بات کا ملال کبھی کبھی بہت ستاتا ہے !
وہ اداس لہجے میں بولی تھی۔
وہ مسکرادیا تھا۔
یہ اچانک اتنا کرم کیسے؟ خیر تو ہے؟ انداز میں کچھ شرارت تھی۔ اور وہ مسکرادی تھی۔
اوزان تم رئیلی بہت اچھے ہو۔ مجھے اس بات کا احساس بہت دیر سے ہوا۔
تم بھی بہت اچھی ہو لامعہ اینڈ آئی وانٹڈ ٹو سے یو ون تھنگ آل ویز!
کیا؟ وہ چونکی تھی۔
آئی لویو لامعہ آئی ریلی لو یو سو مچ۔ میری زندگی میں تمہارے نہ ہونے سے کہیں کچھ کمی تھی۔ ہر طرف بہت زیادہ کمی تھی۔ میں نے تمہاری بہت زیادہ خواہش کی تھی مگر نہیں جانتا تھا۔ تم بھی میری زندگی میں آبھی پائو گی۔ مجھے کبھی نہیں لگا تھا میں کبھی تمہیں پاسکوں گا۔ جب تم نے پہلی بار میرے پروپوزل کو ریجیکٹ کیا تھا۔ مجھے لگا تھا میرے لئے زندگی ختم ہوگئی ہو۔ میں چلا گیا تھا اور سوچا تھا کبھی واپس نہیں آئوں گا۔ مگر دیکھو زندگی مجھے تم تک کھینچ لائی۔ ہم ایک دوسرے لئے تھے۔ اس کا اندازہ مجھے آج ہوا ہے۔! تھینکس ٹو بی مائے پارٹ لامعہ۔ آج تم میری زندگی کا حصہ ہو۔ اور ہم ایک عمر ساتھ گزارنے جارہے ہیں۔ میں خوش ہوں۔ بہت خوش ہوں۔ آئی لو یو لامعہ۔ تم اگر میری زندگی میں نہیں آتیں تو میں مرتا نہیں۔ مگر کبھی اس طرح جی بھی نہیں پاتا! وہ مکمل سچائی سے بولا تھا۔ لامعہ مسکرادی تھی۔
اندر ایک اطمینان دور تک پھیلتا ہوا محسوس کررہی تھی۔ اس کا نازک ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ میں تھا۔ اور زندگی بہت دلکش لگ رہی تھی۔
لامعہ کی آنکھوں میں جگنو سے چمک رہے تھے۔
وہ خوش دکھائی دے رہی تھی۔
تمہاری زندگی میں آنے سے خود کو بہت complete فیل کررہی ہوں۔ مگر ڈرتی ہوں۔ یہ سب خواب نہ ہو۔ آنکھ کھلے تو کہیں کچھ بھی نہ ہو! لامعہ کو یک دم ہی اندیشے گھیرنے لگے تھے۔
اوزان مسکرادیا تھا۔
ایسا کچھ نہیں ہے محترمہ۔ یہ جوآپ لمبا چوڑا ایک ہینڈسم سا بندہ دیکھ رہی ہیں نا۔ یہ بہت جلد آپ کا ہونے جارہا ہے۔ بالکل قانونی طور پر 100 فیصد آپ کا۔ اب تو آپ کو کوئی ڈائوٹ نہیں ہونا چاہئے۔ اور ہمارے مشرقی قسم کے بے چارے شوہروں کو تو جانتی ہیں آپ۔ کتنے مظلوم ہوتے ہیں۔ بے چارے چاہتے ہوئے بھی ایک سے زائد شادی نہیں کرسکتے! وہ بولا تھا۔ اور وہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔
تو آپ کا پلان ہے۔ ایک کے علاوہ بھی شادی کرنا؟ لامعہ نے مصنوعی خفگی سے اسے گھورا تو وہ مسکرادیا تھا۔
ایک بہت مشکل سے ہورہی ہے۔ دوسری کے لئے کیا سوچوں۔ ایک لڑکی سے غلطی سے محبت کرلی تھی۔ اس نے اتنا تنگ کیا کہ اب اور کی ہمت ہی نہیں۔ تم ایک مجھے بہت ہو !
اوزان اسے محبت سے دیکھتا ہوا بولا تھا۔
ہمیشہ اسی طرح چاہو گے نا؟ لامعہ نے پوچھا تھا۔
ہوں سوچ تو رہا ہوں ! وہ مسکرایا تھا۔
کیا؟ وہ چونکی تھی۔
کہ آئی شڈ کیپ لونگ یو! وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا۔ مگر اس کے ساتھ ہی مجھے بھی کچھ چاہئے !
کیا؟
تمہارا ساتھ تمہارا پیار۔
آئی ول ڈو! وہ سر جھکا کر مدہم لہجے میں اپنی مکمل رضامندی سے بولی تھی۔
وہاٹ ابائوٹ نائو ! اس کی آنکھوں میں شرارت تھی۔ لامعہ نے اس کی طرف دیکھا تھا۔ مگر ان نگاہوں میں اتنی تپش تھی کہ وہ زیادہ دیر دیکھ ہی نہیں سکتی تھی۔ نظر خود بخود جھکتی چلی گئی تھی۔ اور بالآخر وہ چہرہ موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تھی۔ اوزان مسکرادیا تھا۔

تو تم نے طے کرلیا ہے؟ سردار سبکتگین نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے اسے بغور دیکھتے ہوئے دریافت کیا تھا۔ گی بہت الجھی الجھی دکھائی دی تھی۔ اس کی سمت دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔
کیا ہے یہ سب گی؟ سردار سبکتگین حیدر لغاری نے الجھ کر اسے دیکھا تھا۔
اوں ہوں کچھ نہیں ! گی نے سر انکار میں ہلایا تھا۔ اس کی آنکھوں میں یک دم ہی نمی ٹھہرنے لگی تھی۔
گی ! بھرپور توجہ سے دیکھتے ہوئے سردار سبکتگین حیدر لغاری نے اسے مدہم لہجے میں پکارا تھا۔
گی کا ضبط ایک لمحے میں ٹوٹا تھا۔ آنکھوں سے پانی باہر چھلک رہا تھا۔ مگر وہ پھر بھی مضبوط نظر آنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔
گی وہاٹ دی ہیل اٹ از ! گی کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سردار سبکتگین حیدر لغاری نے کہا تھا۔
تبھی وہ محبت سے گندھی لڑکی اپنا ضبط ہار بیٹھی تھی۔ اس کے شانے پر سر رکھا تھا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
کتنا مشکل ہے یہ سب میرے لئے کوئی نہیں جانتا !
کانٹوں پر لوٹ رہی ہوں میں۔
لمحہ لمحہ جان قیامت میں ہے میری۔
کوئی نہیں جان سکتا میں کیا کہہ رہی ہوں اور کس قدر سہہ رہی ہوں !
میرا دل کیا چاہتا ہے۔ اس بات کی خبر صرف مجھے ہے۔ کسی دوسرے کو نہیں۔
دل چاہتا ہے۔ کوئی میرا ہاتھ تو تھامے اور ہولے سے کہے۔
ڈمے ڈمے گی!
(مت جائو گی
میں ایک سرگوشی اپنے کانوں میں سننا چاہتی ہوں۔
مگر وہ سرگوشی کہیں نہیں ہے۔
مگر سننے کے جتن میں کان لگاتی ہوں تو صرف میرے اندر کا سکوت مجھے سنائی دیتا ہے۔ اس سکوت کے ساتھ میں کیسے جیتی ہوں۔ اور کیسے پل پل مرتی ہوں۔ یہ بات کوئی نہیں جانتا۔ کوئی بھی نہیں ! گی آج وہ کہہ رہی تھی جو اس نے کبھی پہلے نہیں کہا تھا۔ اس کے لبوں پر اس کے اندر کی آواز تھی۔
(باقی آئندہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close