Aanchal Feb-07

محبت دل پہ دستک

عفت سحرطاہر

یادیں ترے خلوص کی ڈستی ہیں آج بھی
ملنے کی آرزو میں ترستی ہیں آج بھی
آنکھیں ہزار صبر کی کوشش کے باوجود
رک رک کے بار بار برستی ہیں آج بھی

وہ عماد کی بات کے زیر اثر بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھیںبمشکل اس جھٹکے سے سنبھلیں۔
دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟خشمگیں نگاہوں سے اسے دیکھا۔مگر اس طرف مکمل اطمینان تھا۔
میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔
حد ہوتی ہے ڈھٹائی کی عماد۔ تم نے یہ سوچا بھی کیسے وہ بھی نگین کے متعلقکسی کو پتہ چلے تو کیا سوچے تمہارے بارے میں۔
ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اپنے غصے کا اظہار کس طرح کریں۔
مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔ ہر کوئی اپنی زندگی کے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ تو یہ آزادی مجھے کیوں حاصل نہیں؟وہ قطعیت سے بولا۔ انہیں غصہ آیا۔
آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ تم ہر فیصلہ کرتے وقت صرف خود کو دیکھو۔ اس آزادی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائو۔
ان کے انداز میں سختی تھی۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
میں نے سب کچھ دیکھ کے یہ فیصلہ کیا ہے مام۔ اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔
ادینہ سے شادی کا فیصلہ بھی تمہارا ہی تھا۔
انہوں نے طنز کیا۔
وہ تو متحیر تھیں۔ عماد کی ذہنی کیفیت اب انہیں مشکوک لگنے لگی تھی۔
پہلے ادینہ اور اب نگین۔
ادینہ کے لئے تو وہ دل پر پتھر رکھ کے مان ہی گئی تھیں مگر اب نگین۔
ان کا دل ڈوبنے لگا۔
وہ میر ہائوس کی بہو رہ چکی تھی۔ بھلا وہ اس کے لئے ایسی بات کرتی اچھی لگتیں۔
وہ کل کی بات تھی۔ بس میں ہی اپنے دل کی آواز سمجھ نہیں پایا تھا۔
وہ مطمئن تھا۔
مریم پھپو کا دماغ دُکھنے لگا۔
عماد تنگ نہ کرو مجھے۔
میں نے آپ کو فائنلی بتا دیا ہے۔ اب آگے سارا معاملہ آپ ہی کو طے کرنا ہے۔
دماغ تو صحیح ہے تمہارا میں ایسی بات کیسے کرسکتی ہوں۔
وہ بدکیں۔
ویسے ہی جیسے تمام مائیں اپنے بچوں کے رشتوں کے لئے کرتی ہیں۔
وہ طمانیت سے مسکرایا۔
بہت دنوں کے بعد وہ اس پرسکون دکھائی دیا تھا۔ مگر اس کے اس سکون کی وجہ نے انہیں ذہنی طمانیت دینے کے بجائے خلجان کا شکار کر دیا تھا۔
میں اس سلسلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتی۔ تمہیں تو اس معاملے میں میری پوزیشن کا بھی احساس نہیں ہے۔ بھائی صاحب کیا سوچیں گے ہم اسی انتظار میں تھے کہ انس جائے اور ہم
وہ بے حد جذباتیت کا شکار ہونے لگیں۔
وہ حکم ربی تھا مام میر ہائوس کے مکینوں کے نہ تو دل اس قدر تنگ ہیں اور نہ ہی دماغ۔ آپ دیکھ لینا وہ سب میرے اس فیصلے کا دل سے خیر مقدم کریں گے۔
عماد پریقین تھا۔
اور نگین وہ مانے گی کیا؟
انہیں دفعتاً کوئی خیال چھوکے گزرا۔
انہوں نے جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
اسے منانا اس کے گھر والوں کا کام ہے۔ اور ویسے بھی نیک کام میں خدا کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔
وہ اس قدر پُراعتماد انداز میں بولا کہ ان کے کچھ کہنے کو بچا ہی نہیں۔
ایک بار پھر سوچ لو عماد کوئی مسئلہ نہ بن جائے۔
وہ بے بس سی ہوگئیں۔
ڈونٹ وری مام۔ اور فٹافٹ میرے لئے کچھ کھانے کا بندوبست کریں بہت بھوک لگنے لگی ہے۔
وہ خوشگوار لہجے میں کہتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ تو وہ گہری سانس لے کر رہ گئیں۔

کسی عورت کی کردار کشی اس کی موت ہے۔
صبا بھی اسی عمل سے گزری تھی۔
نوفل کی بات نے اسے اندر تک توڑ کر رکھ دیا تھا۔
صدمہ اس قدر شدید تھا کہ اس اپنی صفائی پیش کرنا بھی یاد نہیں رہی۔ وہ جو اس کی جانب سے کسی وضاحت اور صفائی کا منتظر تھا۔ پک کر رہ گیا۔
نہیں جانتا تھا کہ وہ ذہنی و جذباتی کُرب کی کس کڑی منزل پر کھڑی ہے۔
شک کی وہ لکیر جو اول روز سے ان کے درمیان کھینچی چلی آرہی تھی۔ آج وہ یک بیک بلند و بالا دیوار بن گئی تھی۔ گھر آکے وہ حسب عادت صالحہ بیگم کے پاس ٹھہرنے کے بجائے اوپر اپنے کمرے میں چلی آئی۔
ذہن میں دھماکے سے ہوتے محسوس ہورہے تھے اور وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی کہ نوفل نے اس پر کیا بُہتان لگایا ہے۔
وہ میکانکی انداز میں چلتی اپنے بستر تک آئی اور جوتے اتار کر بیٹھ گئی۔
وہ گہرے صدمے کی گرفت میں تھی۔
دل تھا کہ ٹکڑوں میں بٹا جارہا تھا۔ اور ذہن ایک بھی سوچ کو گرفت میں کرنے میں ناکام تھا۔
بس آندھیوں کا شور تھا جو اس کی سماعتوں کو بے سماعت کئے دے رہا تھا۔
نوفل کب کمرے میں آیا اسے علم نہیں ہوا‘ ہاں مگر جب وہ اس کے سامنے آیا تب‘
وہ اس سے کچھ کہہ رہا تھا۔
صبا کو اس کے ہونٹ ہلتے نظر آئے۔
پھر کوئی الزام تراشی پھر کوئی بہتان؟؟
وہ ایک خواب کی گرفت سے آزاد ہوئی تھی۔
وہ تیر کی مانند اُٹھ کر الماری کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول کر اپنے کپڑے نکال کر باہر ڈھیر کرنے لگی۔
نوفل نے چند لمحوں تک اس کے عمل کو خاموشی سے دیکھا پھر آگے بڑھ کے اس کا بازو تھاما۔
یہ کیا کررہی ہیں؟
سخت لہجے میں کہا۔
اس وقت صبا کے نازک وجود میں جانے اتنی طاقت کہاں سے آگئی اس نے نوفل کو زور سے پرے دھکیلا تھا۔ وہ لڑکھڑاسا گیا۔
خبردار خبردار جو مجھے چھوا بھی تو۔
وہ چیخی۔
نوفل کو غصہ آنے لگا۔
اس کی سچی بات سن کروہ طیش میں آگئی تھی۔ بجائے اس کے کہ اس سے معافی مانگتی یا شرمندہ ہوتی۔
اور خبردار جو آپ نے میری اجازت کے بغیر اس گھر سے قدم باہر نکالا ہو تو۔
وہ بھی غصے سے بھرے لہجے میں بولا۔
صبا کی رنگت بدلنے لگی۔
خبردار میں نہیں خبردار آپ رہیں۔ آج سے میرا آپ کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔
وہ پھنکار رہی تھی۔
شٹ اپ۔وہ تلملایا۔
آج تو آپ نے حد ہی کردی نوفل۔ اتنے مہینوں میں مجھے مٹی سے بھی حقیر سمجھتے رہے میں بھی زمین بن کے آپ کے قدموں میں بچھی رہی۔ مگر آج تو آپ نے میری عزت میرے کردار کی دھجیاں اڑادی ہیں اور آپ کا یہ جرم ناقابل معافی ہے۔
اس کے آنسو بہہ نکلے۔ جنہیں اس نے ہاتھ کی پُشت سے رگڑ کر صاف کرنے کی کوشش کی۔
میں نے وہی کہا ہے جو حقیقت
نوفل نے قطعیت سے کہنا چاہا تھا کہ وہ دھاڑ اٹھی۔
خاموش
وہ اتنی زور سے چیخی تھی کہ اس کے گلے میں خراش پڑگئی۔
شرم کریں شرم کریں نوفل۔ وہ میرے بھائیوں جیسے ہیں جن کے ساتھ آپ
وہ صدمے کی گرفت میں تھی۔
میرے سامنے ڈرامے مت کریں۔آپ اور عماد ایک دوسرے میں انٹریسٹڈ تھے۔ یہ میں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں۔
نوفل نے سلگتے لہجے میں کہا تو شور کی آواز سن کر ان کے درواز تک آئی۔ نگین پوری جان سے کانپ کر رہ گئی۔
وہ چھوٹی سی بے ضرر بات جیسے غلط فہمی کہہ کے شادی سے پہلے نوفل نے ٹھیک کردیا تھا۔ آج پورا ماضی بنی ہوئی تھی۔

دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹا کے قدرے تؤقف کے بعد کوئی کمرے میں داخل ہوا بھی تو ضحیٰ نے کمبل ہٹا کے دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ کس نے تشریف آوری کا شرف بخشا ہے۔
اب جانے یہہارکا اثر تھا یا بخار ہی نے انجر پنجریوں ڈھیلے کردیئے تھے کہ آج تیسرے روز بھی وہ خود میں اٹھنے کی ہمت نہیں پارہی تھی۔
وہ کھنکھارا۔
ضحیٰ کا دل زور سے دھڑکا۔
معید حسین!
پھر ایک گرم مضبوط ہاتھ سرک کر کمبل میں اس کی پیشانی تک پہنچا تو اس کے پورے وجود میں سنسناہٹ سی دوڑ اٹھی۔
ہوں
اس کی مدہم سی آواز ضحیٰ کو اپنے بہت قریب سے ابھرتی محسوس ہوئی تھی۔
اتنا ٹھنڈا بخار پہلی دفعہ دیکھا ہے۔
جانے کیا بات تھی معید حسن کی آواز کانوں میں پڑتے ہی اس زوروں کا رونا آیا۔
یا خدا کیا ضروری تھا کہ میں اسی شخص کے سامنے ہارتی۔ اسے ہمیشہ کی طرح شکوہ ہوا تھا۔
معید نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس پر نمی کااحساس اسے چونکا گیا۔ اس کی پیشانی بالکل خشک تھی۔ پسینہ بھی نہیں تھا۔ تو پھر
وہ اُلجھن کا شکار ہونے لگا۔
وہ رو رہی تھی۔ شاید کوئی تکلیف ہو۔
وہ مخمصے میں پڑگیا۔
پھر گہری سانس بھرتے ہوئے جھکا اور اس کا کمبل منہ پر سے کھینچ کر نیچے کر دیا۔
وہ شاید بلکہ یقینا اس حرکت کی توقع نہیں کررہی تھی۔ تبھی تو بے آواز بہتے آنسو روکنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ لمحہ بھر کو اپنی جگہ ساکت رہ گئی۔ پھر فوراً ہی ہاتھ کی پشت سے آنکھیں صاف کر ڈالیں۔
مگر یہ کم بخت آنسو بھی اس وقت ہر راز منکشف کرنے کے درپے تھے۔ گرم چشمے تھے کہ ابلتے ہی چلے آرہے تھے۔
ادھر معید دنگ تھا۔ متحیر تھا۔
کیا ہوا ہے تمہیں؟
ضحیٰ نے نفی میں سر ہلایا۔
اتنے آنسو یونہی نہیں بہہ رہے ہیں۔
معید کو یقین نہیں آیا۔
کہا نا کچھ نہیں ہے۔
وہ کچھ چڑ سی گئی۔
(ویسے تو بڑا وکیل بنا پھرتا ہے)
اس کا دل دکھا تھا۔
بات یہ ہے ضحیٰ بی بی! کہ میں کوئی بے وقوف بندہ نہیں ہوں۔ تمہارے جیسی مست الست لڑکی کم از کم ٹسوے تو بہا نہیں سکتی۔ شاباش بتادو کیا بات ہے؟
وہ اسے پچکارتے ہوئے پوچھنے لگا۔
اتنی ہمدردی پاکر کس کافر کا دل نہ بھر آتا۔
مگر ویرا؟؟
اسے وہ کس کھاتے میں فٹ کرتی۔
ابھی تو فی الحال وہ دونوں ایک ہی فریم میں جڑے نظر آتے تھے۔ ایسے میں معید کے سامنے ہار مان لینا اسے اپنی ذلت محسوس ہوتا تھا۔
کوئی بات نہیں ہے۔ اور آپ میرے کمرے میں کیوں آئے ہیں۔
وہ بے رُکی سے بولی تو معید نے متاسفانہ انداز میں کہا۔
میں تمہاری عیادت کے لئے آیا ہوں۔ اور تمہارا یہ سلوک
مجھے کسیعیادت مندکی ضرورت نہیں ہے۔
وہ تلخی سے بولی اور آنکھوں کو ایک بار پھر سے مسلا۔
بہت سے کام بلا ضرورت بھی کئے جاتے ہیں۔
ہاں تو کیا ضرورت تھی اس عیادت کی۔ ایک ہی بار تعزیت کے لئے آتے۔
دُکھے دل سے جانے کیسے شکوہ نکل آیا۔ اور ساتھ ہی جھر جھر بہتے آنسو۔
معید بھونچکا رہ گیا۔
اسے ضحیٰ س ایسی رقیق القلبی کی اُمید نہ تھی۔
بے اختیار اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
یہ کیا بے وقوفی کئے جارہی ہو۔ کوئی تکلیف ہے تو منہ سے کہو۔
نرمی‘ اپنائیت‘ توجہ۔
ہر رنگ تھا اس کے لہجے میں
مگر اس کی بات
ایسی باتیں لڑکیاں اپنے منہ سے کہتی اچھی لگتی ہیں کیا
وہ کُڑھی۔
نظر اٹھائی تو دل دھک سے رہ گیا۔
وہ بغور اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
آپ جاتے کیوں نہیں یہاں سے۔وہ کھسیانی ہو کر اس سے الجھنے لگی۔
جب تک مجھے اپنی تکلیف نہیں بتائو گی میں یہاں سے نہیں جانے والا۔
معیدکا لہجہ سخت اور اٹل تھا۔
آپ اتنا خیال کرنے والے ہوں تو بات ہی کیا تھی۔
پھر شکوہ۔
معید نے بڑے دھیان سے اسے دیکھا۔
سوں سوں کرتی اس سے نظریں چراتی وہ کوئی اور ہی ضحیٰ تھی۔ وگرنہ ضحیٰ اور اس سے پرواہ کرنے یا نہ کرنے کے شکوے
وہ متضاد چیزیں تھیں۔
میرے خیال میں تم اتنی بڑی تو ہو ہی چکی ہو کہ اپنا اچھی طرح خیال رکھ سکو۔ اور ویسے بھی تمہیں بقول تمہارے کسی بھیعیادت مندکی ضرورت نہیں ہے۔
وہ اطمینان سے اس کی بات اسی پراُلٹتے ہوئے بولا تو ضحیٰ پانی پانی ہونے لگی۔
اس کی خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ خود پر سے یوں قابو کھو کر معید کی طرف کیوں مُلتفت ہورہی تھی۔
مگر جو بھی ہو یہ کیفیت خود اس کے لئے بہت تکلیف دہ تھی۔
ایک شخص جو سالوں قابل توجہ نہ لگا ہو‘ اس کے لئے یکلخت ہی دل کا یوں دھڑک اٹھنا ناقابل یقین ہی تھا۔
اسی لئے کہہ رہی ہوں کہ آپ یہاں سے چلے جائیں۔
وہ قدرے غصے سے بولی۔
اندرونی الجھائو اسے چڑچڑا بنا رہا تھا۔
کہیں عمر کاظمی سے تو کوئی ان بن نہیں ہوگئی؟
بڑی سوچ و بچار کے بعد معید نے اندازہ لگایا تو ضحیٰ کا پارہ ہائی ہو گیا۔ تمام نرم گرم جذبات ہوا ہوگئے۔
کیسے تاک کے نشانے لگاتا تھا۔
آپ کو اس سے کیا۔ جو بھی ہے وہ میرا اور اس کا معاملہ ہے جیسے آپ کا اور ویرا کا۔
وہ بھڑکی۔
معید نے متعجب ہو کر اسے دیکھا۔
یہ میں اور ویرا کہاں سے آگئے؟
آپ گئے ہی کہاں تھے یہیں ہیں۔ میرے سینے پہ مونگ دلنے کے لئے۔
آخری فقرہ دل میں کہا۔
بی ہیو یُو ضحیٰ۔ تم پہلے ہی نہ صرف خود میرے متعلق الٹا سیدھا سوچتی تھیں بلکہ اب تو تم نے صبا کو بھی انہی فضولیات میں لگادیا ہے۔
وہ غصے ہوا تھا۔
میں وہی سمجھتی ہوں جو دیکھتی ہوں۔
تمہاری نظر کمزور ہے۔
معید نے طنز کیا۔
آپ کے معاملے میں نہیں ہے۔
وہ بیساختہ بول کر پچھتائی۔ پھر بے اختیار اسے دیکھنے لگی جو اس کے جملے پر حیران ہورہا تھا۔
اگر آپ میرے اور عمر کاظمی کے ملنے پر اعتراض کرسکتے ہیں تو میں آپ کر کیوں نہیں کرسکتی۔وہ سٹپٹا کر بولی۔
میرے اور ویرا کے درمیان دوستی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
وہ سختی سے بولا۔
چور تو یہی کہتا ہے کہ اس نے چوری نہیں کی۔ آپ وکیل ہیں آپ س زیادہ کسے علم ہوگا۔
ضحیٰ نے طنز کیا۔
تمہارا دماغ خراب ہوچکا ہے۔
معید نے متاسفانہ انداز میں کہا۔
بہرحال آپ ویرا کو یہاں سے بھیجیں۔ میں اسے مزید برداشت نہیں کرسکتی۔ دوسروں کی نظروں میں تو آپ میرے نالج ہی ہیں۔ آپ کو ویرا کے ساتھ دیکھ کر سب کو میں بے چاری لگنے لگی ہوں۔
کیا بکواس ہے
معیدنے سر جھٹکا۔
یہ بکواس نہیں حقیقت ہے۔ اگر میں اس رشتے کی پاسداری کرسکتی ہوں تو آپ کو بھی جب تک یہ رشتہ سلامت ہے اس کی حُرمت کا خیال رکھنا پڑے گا۔
وہ ہٹیلے انداز میں بولی۔ تو معید نے طنز کیا۔
بہت خیال آرہا ہے اس رشتے کی حُرمت اور پاسداری کا۔
جو بھی ہو۔ میں آپ کی یہ آزادیاں بڑے ماموں کو بتادوں گی۔
اس کا انداز ہنوز تھا۔
معید چڑا۔
جومرضی میں آئے کرو۔وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
تمہارے دماغ کے پرزے ڈھیلے ہوچکے ہیں۔ بلکہ ناکارہ اور ان کا علاج میرے پاس نہیں ہے۔
وہ کہتا ہوا چلا گیا۔
تو وہ بے بس سی بیٹھی رہ گئی۔
وہ عیادت کرنے نہیں آرہا تھا تو دل کو ایک مسلسل بے چینی نے گھیر رکھا تھا اور اب جبکہ وہ آیا تھا تو بھی کوئی تار سیدھی نہیں بندھ پایا تھا۔
یا اللہ
اسے اپنی مغلوب سی کیفیت پر رونا آنے لگا۔

وہ قیامت خیز دور سے گزررہی تھی۔
جی میں آتا تھاکہ مرجائے۔
مگرموت آئے بھی تو کیسے۔ یہ تو حکم ربی ہے۔ادھرسے اشارہ چاہئے ہوتا ہے۔
رو رو کر اب اس کے آنسو بھی ختم ہوگئے تھے۔
مگر دُکھ تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔
نیند‘ بھوک‘ پیاس سب اُڑ چکے تھے۔
اور دوسری طرف نوفل احمد تھا ویسا ہی سرد مہر اور سنگدل۔
کس کس گناہ کو معاف کرائو گے نوفل احمد
اور کیا میں کبھی تمہیں معاف کرپائوں گی۔ تم جسے میں اپنا سب کچھ مان کر دل کی گہرائیوں سے چاہا تھا۔ خود پر کیا ہر ظلم سہتی رہی کہ شاید یہ بھی تمہارے چاہنے کی ایک ادا ہو۔ لیکن اس تمام تر سنگدلی اور بے اعتنائی کے پیچھے نفرتوں کا یہ سیلاب اُمڈ رہا تھا۔ ہائے۔ میں کیوں نہ جان پائی نوفل احمد۔ چلی گئی ہوتی اول روز ہی تمہیں اور تمہارے گھر کو چھوڑ کے۔ دنیا کے طعنے اور اپنوں کا تمام غصہ ہنس کے سہہ لیتی مگر
مگر یہ تو نہ سنتی جو تم نے کہا ہے۔
پر یہ الفاظ بھی کہاں ہیں۔ یہ تو پگھلتا ہوا سیسہ ہے جو تم نے میری سماعتوں میں انڈیل کر قیامت سے پہلے مجھے قیامت کا نظارہ کرادیا ہے۔ اُس نے روتے ہوئے سوچا اور سوچتے سوچتے کئی بار روئی تھی۔
ہاتھ بے اختیار اپنے پیٹ پر گیا۔
اور یہ آنے والی ننھی جان۔
یہ تمہارے انتقام‘ تمہارے غصے اور نفرت کا کون سا رنگ ہے نوفل احمد کہ میں چاہوں بھی تو اسے خود سے جدا نہیں کرسکتی۔ مگر دعا ہاں دعا تو میرے اختیار میں ہے نا۔
یا خدا مجھے موت دے دے۔
وہ پھر سے بلک اٹھی۔
جانتی تھی کہ وہ اب موت ہی کوجینےوالی تھی۔ ساری دنیا لاکھ بہتان باندھے۔ مگر شوہر کے منہ سے اپنے کردار پر ایسا الزام سننا موت ہی تو تھا۔
وہ جو اتنے مہینوں سے اس کی ہر بے اعتنائی ہنس کے سہتی چلی آرہی تھی۔ اب یکدم ڈھے گئی۔
گویا زندگی کا سفر یہیں تک تھا۔

عماد کی ضد اور ہٹیلے پن نے انہیں اندر تک ہلا دیا تھا۔ وہ صاف لفظوں میں کہہ چکا تھا کہ وہ نگین کے علاوہ کسی اور کو گھر لانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
پاگل ہوگئے ہو تم۔ دنیا والے باتیں سنائیں گے۔
وہ تھکنے لگیں۔
بحث میں تو وہ ماسٹر تھا۔
مجے دنیا کی کچھ پرواہ نہیں۔
اور تمہارے پاپا
اُن سے میں آج ہی بات کرنے والا ہوں۔ مجھے پورا یقین ہے انہیں رتی بھر بھی اعتراٖ نہیں ہوگا۔ پاپا تو یوں بھی میری ہر خوشی کو اپنی خوشی جانتے ہیں۔
وہ بے حد مطمئن تھا۔
اور اس نے اپنا کہا کر بھی دکھایا۔
اگلے ایک گھنٹے کے اندر ان سے بات کی۔ اپنا مطمع نظر ان پر واضح کیا اور فون مریم پھپو کو پکڑادیا۔
زندگی اس نے گزارنی ہے مریم۔ خواہ مخواہ ضد مت کرو۔
انہیں عماد سے بے حد محبت تھی۔ ہلکے پھلکے انداز میں بولے تو وہ رونے والی ہوگئیں۔
آپ دونوں بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کررہے۔ میر ہائوس والوں کو پتہ چلا تو قیامت آجائے گی۔وہ تقریباً چلا اٹھیں۔
مگر انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اطمینان سے مشورہ دینے لگے۔
تم سب سے پہلے بڑی بھابھی سے بات کرو۔ وہ بہت سمجھدار خاتون ہیں۔ یقینا کوئی اعتراض نہیں کریں گی۔
کیوں نہیں کریں گی۔ وہ سمجھیں گی کہ میں انس کے مرنے ہی کا انتظار کررہی تھی شاید۔
وہ اور بھڑکیں۔
تحمل سے میری بات سنو مریم وہ بے حد سنجیدگی بھری ملائمت سے بولے۔
زندگی عماد کو گزارنی ہے۔ اگر وہ نگین میں اپنے پسندیدہ شریک سفر کی جھلک دیکھتا ہے تو اسے یہ بازی کھیل لینے دو۔ اس کا ساتھ دو۔ اسے کمزور مت کرو۔ وگرنہ ساری عمر کسک رہے گی اس کے دل میں۔ زندگی تو خوشی اور غم دونوں ہی میں بسر ہوجاتی ہے۔ مگر اپنی پسند کی زندگی گزارنے کا لطف اور طمانیت اور ہی ہوتی ہے۔ان کی باتیں مریم پھوپو کا ذہن کھولنے لگیں۔
پھر بھی اگر ان لوگوں نے اعتراض کیا تو ؟
وہ شک و شبہات میں گھری تھیں۔
اپنوں کی خفگی کا ڈر دل میں گھر کرنے لگا تھا۔
پھر میں خود بھائی صاحب سے بات کروں گا۔ بس تم اتنا خیال کرنا کہ اس معاملے میں عماد کا نام اور اس کی خواہش کا اظہار نہ کرنا۔ اپنا ارادہ ظاہر کرکے ان لوگوں کا عندیہ لینا۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔
وہ پراعتماد تھے۔
اتنے ہی جتنا کہ عماد تھا۔
اور اب انہی باپ بیٹے کی تسلیوں سے ہمت پکڑ کر وہمیر ہائوسآتو گئی تھیں۔ مگر یہاں آکر وہ سبطفل تسلیاںلگنے لگیں۔
صبح سے آئی بیٹھی تھیں۔ سب ہنس بول رہے تھے اور یہ گُم صم
ادھر سبھی پرواہ کرنے والے لوگ تھے۔ بھلا کیسے نہ پہچانتے۔
کیا پریشانی ہے مریم۔ بہت اُلجھی ہوئی لگ رہی ہو؟
سب سے پہلے تائی جان نے ہی انہیں ٹوکا تھا اور انہیں جیسے موقع مل گیا۔
صحیح اندازہ لگایا ہے آپ نے۔ پریشان بھی ہوں اور اُلجھن میں بھی پڑی ہوں۔
خیر تو ہے نا؟
چچی جان متفکر ہوگئیں۔
مریم پھوپو نے گہری سانس لیتے ہوئے مسکرانے کی مقدور بھرکوشش کی۔
پتہ نہیں خیر ہے یا نہیں
کھُل کے بات کرو مریم۔ مجھے بھی پریشانی ہونے لگی ہے۔
تائی جان نے انہیں اپنے بستر پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے تفکر سے کہا تو وہ ان کے ساتھ کمبل میں بیٹھ گئیں۔
بات تو یہ پریشانی والی نہیں ہے۔ بس مجھے آپ لوگوں کی ناراضگی کا خوف ہے۔
وہ ہچکچائیں۔
دل ڈر رہا تھا۔ جانے کیا ہو۔
اب تو یہ بھی فکر تھی کہ اگر میر ہائوس سے انکار ہوگیا تو کیا ہوگا۔
عماد کی شکل نگاہوں میں پھرنے لگی۔
بئی مریم پہیلیاں نہ بھجوائو۔ میرا تو بی پی بڑھنے لگا ہے۔ تم سے محبت ہے تو خفا نہیں ہوسکتے۔ تم بات کرو۔
تائی جان نے انہیں اعتماد دیا۔
عماد کے رشتے کی بات ہے بھابھی۔
وہ دھیمی سی آواز میں بولیں۔ تائی جان نے حیران ہو کر انہیں دیکھا۔
اس میں کیا پریشانی ہے۔ وہ ادینہ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ سبھی راضی تھے اس کی خوشی میں خوش ہیں۔
مگر میں ایسا نہیں چاہتی بھابھی۔
بیٹے سے ضد نہ باندھنا مریم۔وہ بے ساختہ بولی تھیں۔
ضد نہیں باندھ رہی بھابھی۔ بلکہ عماد بھی غلطی پر تھا۔وہ سنجیدگی سے بولیں۔
تائی جان نا سمجھنے والے انداز میں انہیں دیکھ رہی تھیں۔
اپنی نند کو وہ اچھی طرح جانتی تھیں۔ وہ ہر بات بے تکلفی سے کہہ دینے والی فطرت رکھتی تھیں۔ یوں تمہید باندھنا اور ہچکچانا ان کے لئے ایک نئی بات تھی۔
تو اس میں پریشانی والی کیا بات ہے۔ یہاں کون سا ہم نے ادینہ کے لئے رشتے ڈال دیا تھا۔
چچی جان نے ان کو بے فکر کرنا چاا۔
ہاں۔ شکر ہے وہ تسلی تو ہے۔مریم پھوپو نے گہری سانس بھری۔
یعنی کوئی اور مسئلہ ہے۔
تائی جان صحیح پہنچی تھیں۔
دراصل۔ میں نے عماد کے لئے خود ایک لڑکی پسند کرلی ہے۔وہ چور لہجے میں بولیں۔
ارے تو اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔
تائی جان خوش ہوئیں۔
پوچھیں گی نہیں کہ لڑکی کون ہے؟
وہ تھکنے لگی تھیں۔ تائی جان نے اشتیاق سے کہا۔
پوچھوں گی کیوں نہیں بلکہ تمہیں خود ہی بتادینا چاہئے۔
بتانے ہی تو آئی ہوں۔ بلکہ آپ سے اجازت لینے۔ بس ہمت نہیں ہورہی تھی۔
انہوں نے پست لہجے میں کہا تو وہ حیران ہوئیں۔
میری اجازت کی بھلا کیا ضرورت تھی مریم۔ تم بسم اللہ کرو۔
اب بتا بھی دو مریم۔ کون ہے وہ لڑکی جسے تم نے عماد کے لئے پسند کیا ہے۔
چچی جان بغور ان کے بدلتے رنگ کو دیکھ رہی تھیں۔ قصداً ہنس کر بولیں۔ تو انہوں نے گہری سانس اندر کھنچتے ہوئے جیسے اپنی ہمت جمع کی۔
پھر مدہم لہجے میں بولیں۔
بات معیوب تو نہیں بھابی جان‘ بس آپ لوگوں کے جذبات کا پاس تھا۔ اس وجہ سے بات کرنے سے دل ڈر رہا تھا۔ دراصل میں نے عماد کے لئے نگین کو پسند کیا ہے۔
انہوں نے اٹکتے ہوئے کہہ ہی دیا۔
چند لمحوں کے لئے تو گویا فضا ساکت رہ گئی۔
پھر انہوں نے تائی جان کی رندھی ہوئی آواز سنی۔
تم نے تو میرا دل جیت لیا ہے مریم۔ یقین کرو۔ میری اپنی یہی خواہش تھی کہ عماد شادی کرنے کے لئے ادینہ کی بجائے نگین کا نام لیتا۔
بھابھی
مریم پھوپو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ بے اختیار ان کے شانے سے لگ گئیں۔
تائی جان انہیں بازوئوں کے حصار میں لے کر پیار سے تھپکنے لگیں۔
اس سے بہترین سوچ کوئی ہو ہی نہیں سکتی تھی مریم۔
چچی جان نے بھی نم آنکھوں کے ساتھ انہیں سراہا تو ان کا دل شانت ہوگیا۔

نگین کمرے میں آئی تو صبا کو بے سدھ لیٹے پاکر کسی خدشے کے تحت اس نے کمبل ہٹایا۔
وہ ابھی بھی یونہی لیٹی تھی۔
نگین نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے ہلایا تو خود اندر تک ہل گئی۔ وہ بخار میں پھنک رہی تھی۔
صبا صبا۔
وہ اسے پکارتی اس کے پاس ہی بیٹھ گئی۔
صبا نے بمشکل سرخ ہوتی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تو اس کے دل کو کچھ ہونے لگا۔
بتایا تو ہوتا اتنی طبیعت خراب ہے۔
اس نے کچھ کہے بغیر پھر سے آنکھیں موند لیں۔
میں ابھی بھائی جان کو فون کرتی ہوں
نگین کو گزشتہصورتحالبھول گئی تھی۔ وہ بے چین ہو کر کھڑی ہوئی اور پریشانی کے عالم میں کہا تو صبا نے فوراً آنکھیں کھولیں۔
نہیں انہیں کچھ مت کہنا۔
صبا نے سختی سے کہا۔
نگین کو بہت کچھ یاد آیاتھا۔
وہ انس جیسے جذباتی شخص کی بہت صابر بہن تھی۔
اول روز سے نوفل کی زیادتیاں برداشت کرنے کے باوجود جس نے نگین کا گھر تباہ کرنے کی رتی بھر بھی کوشش نہیں کی تھی۔
نگین نے نم ہوتی آنکھیں پونچھیں۔
تو چلو پھر۔ اٹھو میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلو۔
مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے۔ گھر سے ہی کچھ میڈیسن لے لیتی ہوں۔
وہ نقاہت بھرے لہجے میں بولی۔
نگین کو اس کے صبر اس کی برداشت سے وحشت ہونے لگی۔ کوئی اور لڑکی ہوتی تو نوفل کی زبان سے ایسے فضول اور گھٹیا الزام سننے کے بعد اس پر چار حرف بھیج کر گھر جاچکی ہوتی۔
نگین کا جی چاہا اسے جھنجھوڑ ڈالے۔
پھر نگین نے زبردستی اسے اٹھایا اور صالحہ بیگم کو بتا کر اسے ڈاکٹر کے پاس لے آئی۔
ڈاکٹر نے اسے چیک کرنے کے بعد دوائیوں کا نسخہ لکھ دیا۔
پہلی پریگننسی سے آپ کی ؟
وہ ہاتھ روک کر پوچھ رہی تھی۔
نگین نے چونک کر پہلے ڈاکٹر اور پھر صبا کو دیکھا جو کرسی سے ٹیک لگائے نڈھال بیٹھی تھی۔
خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر انہیں تر کرتے ہوئے صبا نے اثبات میں سرہلایا تو نگین بے ساختہ مسکرا دی۔ وہیں میڈیکل اسٹور سے میڈیسن لے کر وہ دونوں رکشے میں بیٹھ گئیں۔
دونوں کی سوچیں مختلف سمتوں میں اڑان بھررہی تھیں۔ نگین اچھی طرح نوفل کے کان کھینچنے کا تہیہ کرچکی تھی۔

آپی! پکنگ کا پروگرام بن رہا ہے۔ چلیں گی؟
حمزہ نے اس کے کمرے میں جھانکا۔
اپنی قیمیض تہہ کرتے اس کے ہاتھ ٹھٹکے۔
یہ نیکی کون کررہا ہے؟مسکرا کر پوچھا۔
معید بھائی۔وہ اندر چلی آئی تھی۔
اچھا وہ پھر سے اپنا کام کرنے لگی۔ اور بظاہر سرسری انداز میں پوچھا۔
کس کے صدقے یہ نیکی کی جارہی ہے۔
کہیں دل میں موہوم سی امید جاگی تھی کہ وہ ابھی ابھی بخار سےفارغہوئی تھی تو شاید تازہ ہوا کھلانے کی غرض سے معید نے یہ پروگرام سیٹ کیا ہو۔
دراصل آج ویرا آپی بہت اداس سی لگ رہی تھیں تو معید بھائی نے انہیں خوش کرنے کے لئے اس پکنک کا اعلان کیا ہے۔ جس میں پورے لاہور کی آوارہ گردی شامل ہے۔
حمزہ نے تفصیلاً بتایا تو وہ تپ اٹھی۔
ویرا جی کے لئے پروگرام بنا ہے تو مجھے بلانے کی کیا ضرورت تھی۔
کیا مطلب معید بھائی نے بھیجا ہے مجھے۔
حمرہ حیران ہو کر بولی۔
تو ؟وہ تنکی۔ قمیض اٹھا کے دور پھینکی۔
تو یہ کہ معید بھائی کہہ رہے تھے کہ آپی کو بھی بلا لو تاکہ اس کے دماغ کی گرمی بھی دور ہو۔
حمرہ نے مزے سے بتایا تو اس کے دل میں جلن پیدا ہونے لگی۔
اچھا تو ویرا جی۔کے موڈ کی اتنی فکر ہے کہ اسے ٹھیک کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اور منکوحہ کے لئے ان کے پاس یہ الفاظ رہ گئے ہیں۔
وہ تلملائی تھی۔
اس کی دلی کیفیت سے بے خبر حمزہ نے پوچھا۔
تو پھر چل رہی ہیں ناں آپ؟
تم چلو۔ میں ابھی آکے بتاتی ہوں۔
وہ اپنی قمیض کا دامن جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی تو حمزہ شانے اچکا کر باہر نکل گئی۔
وہ سیدھی معید کے کمرے میں آئی تھی۔
منہ دھو کر تو لئے سے خشک کرنے کے بعد اب یقینا وہ کپڑے بدلنے کے چکر میں تھا۔ اسے دروازہ کھٹکھٹا کر بنا اجازت ملے اندر آتے دیکھ کر گہری سانس لے کر رہ گیا۔
یہ کیا فضول پروگرام بن رہا ہے؟
جاتے ہی تیوری چڑھا کر کہا جو معید نے اچھی طرح ملاحظہ کی۔
کون سا ہماری شادی کا؟
وہ اور بھی انجان بنا۔
ضحیٰ سلگی۔
آج کے پروگرام کی بات کررہی ہوں میں۔
تلملا کر کہا تو وہ اطمینان سے بولا۔
آج تو تمہیں ساتھ لے جاکر پکنک منانے کاپروگرامتھا۔
ضحیٰ اس کےجملےکو اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔
میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا کہ ویرا سے دور رہیں۔
وہ سخت لہجے میں بولی جبکہ معید اسی قدر پرسکون تھا۔
ہاں تو دور ہی ہوں نا۔ وہ اپنے گیسٹ روم میں ہے اور میں یہاں کافی فاصلہ بنتا ہے۔
پھر آپ نے اس کے لئے پکنک کا پروگرام کیوں رکھا؟
اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
معید نے جواباً سوال کیا تھا۔
فرق پڑتا ہے۔وہ زور دے کر بولی۔ پھر کہا۔ مجھے فرق پڑتا ہے۔ جب میں آپ سے وفادار ہو کر رہ رہی ہوں تو آپ یہ سب کیوں کررہے ہیں۔
وہ اپنی سیاہ آنکھیں اس پر جماتے ہوئے معنی خیز انداز میں بولا۔
کیا بات ہے ضحیٰ میر! کہیں تم ویرا سے جیلس تو نہیں ہورہیں؟
ضحیٰ نے سٹپٹا کر اسے دیکھا۔
چمکتی سیاہ آنکھیں دل میں اتر کر بھید پانے کی سعی میں مصروف تھیں۔
جیلس ہوتی ہے میری جوتی۔
فوراً نگاہیں پھیریں۔
تو پھر مجھے بھاڑ میں ڈالو اور اطمینان سے جا کر پکنک پر جانے کی تیاری کرلو۔ ایک بندے کی جگہ فالتو تھی۔ میں نے سوچا اسی بہانے تمہارا بھی چکر لگ جائے باہر کا۔
وہ یوں بولا جیسے امریکہ کا چکر لگوانے کا کہہ رہا ہو۔
ضحیٰ نے بمشکل غصہ ضبط کیا۔
نہ میں جارہی ہوں اور نہ ہی اور کوئی۔
تم نہ جائو۔ اور سب تو جارہے ہیں۔
ادھر وہی اطمینان تھا۔ اور ذہین آنکھیں اس کے تاثرات کے مطالعے میں مصروف۔
وہ بے بس ہونے لگی۔
میں شور مچادوں گی۔
کیا ؟
معید کی آنکھوں میں تمسخر اُمڈ آیا۔جس نے ضحیٰ کو مزیدتپا ڈالا۔
اور غصے میں تو اسے ہمیشہ کچھ الٹا ہی سوجھتا تھا۔
اب بھی منتقمانہ لہجے میں بولی۔
یہی کہ۔ یہی کہ آپ مجھے تنگ کررہے تھے۔
جو کچھ منہ میں آیا وہ کہہ ڈالا۔
معیدکی آنکھوں میں پہلے تو حیرت چمکی پھر اس کے ہونٹوں پر بے ساختہ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
اس نے واپس پلٹتی ضحیٰ کا ہاتھ تھام کر اسے روکا۔
وہ ایک جھٹکے سے اس کی طرف آئی تھی۔
کس قدر بے وقوف ہو تم ضحیٰ
وہ متاسفانہ انداز میں بولا تب بھی ہلکی سی مسکراہٹ کا تاثر اس کے چہرے پر موجود تھا۔
اور ضحیٰ اس بلا ارادہ اور اچانک قربت سے سانس روکے کھڑی تھی۔
کیا کہوگی جا کے سب سے۔ یہی کہ میں تمہیں چھیڑ رہا ہوں۔ بے وقوف! پہلے اپنے اور میرے درمیان موجود رشتے کو ذہن میں لائو۔ پھر سوچو کہ تم سب کو اپنے اوپر ہنسنے کا فری موقع دینے جارہی ہو۔
اس کی سانسوں نے ضحیٰ کے چہرے کو چھوا تو جیسے خواب سے بیدار ہوئی۔ دو قدم پیچھے ہٹ کے مناسب فاصلہ قائم کیا اور احتجاجی لہجے میں بولی۔
میں نے تنگ کرنے کا کہا ہے چھیڑنے کا نہیں۔
بہت خوب۔
لگ رہا تھا کہ وہ اس کی باتوں سے بہت محظوظ ہورہا ہے۔ اور یہ بے وقوف کسے کہہ رہے ہیں آپ بار بار؟
اسے خیال آیا۔ تنک کر پوچھا۔
تمہیں
معید نے اطمینان سے کہا۔ اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
اور خود کے بارے میں جناب کا کیا خیال ہے؟وہ چڑ سی گئی تھی۔
کچھ وہ باتوں سے اس اثر کو زائل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ جو معید کی غیر ارادی قربت سے دل و ذہن پر ہورہا تھا۔
میں ایک وکیل ہوں۔ اور وکالت کی ڈگری بے وقوفوں کو نہیں دی جاتی۔
وہ مطمئن تھا۔
ہنہ ضحیٰ نے سر جھٹکا۔
بہر حال۔ میں اتنی عقلمند تو ہوں کہ جو دیکھوں سنوں اس کے مطابق حکمت عملی اختیار کرسکوں۔
اُف
وہ بے ساختہ ہنس دیا۔
تب ضحیٰ کو احساس ہوا کہ وہ ہنستا ہوا اچھا لگتا تھا۔
حکمت عملی
وہ لفظوں کو کھینچ کر بولا۔
اس عمل میں کیا حکمت ہے میں پوچھنے کی زحمت کرسکتا ہوں؟
میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ جب تک آپ اس رشتے میں منسلک ہیں۔ ذرا تہذیب کے دائرے میں رہیں۔
اسے خود بھی سمجھ نہیں آئی کہ ویرا سے اسے دور رکھنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کرے۔
میں نے کیا کیا ہے تمہارے ساتھ؟
وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھا۔
ضحیٰ کے رُخسار خواہ مخواہ ہی تپنے لگے۔
میں نے یہ نہیں کہا۔ مگر آپ ویرا کے ساتھ کس کھاتے میں فرینک ہورہے ہیں؟
وہ میری دوست ہے‘ یونیورسٹی فیلو ہے۔
یہ ماضی کی بات ہے۔ اب وہ کسی اور مطلقہ ہے اور آپ میرے ناکم۔
وہ غصے سے بولی۔
یہ بار بار ناکم اور منکوحہ کہہ کہ تم مجھے کیا باور کرانا چاہتی ہو؟
یہی کہ جب تک آپ اس رشت کے پابند ہیں تب تک آپ کو صرف میرے نام ہو کر رہنا پڑے گا۔ ورنہ میرے پاس بھی آپشن ہے۔ میں بھی ایسا ہی کوئی چکر چلاسکتی ہوں۔وہ بولی تو معید کو فوراً ہی غصہ آگیا۔
شٹ اپ
ہنہ ضحیٰ نے سرجھٹکا اور معید نے اس کے بازو کو سختی سے تھام کر جھٹکا۔
اس طرح کی فضول گفتگو میں برداشت نہیں کروں گا۔
اور میں جو کچھ برداشت کررہی ہوں وہ بھی میری برداشت سے باہر ہے۔
وہ نڈر لہجے میں کہتی معید کو بحر تمیر میں دھکیلنے لگی۔
برداشت؟
وہ جیسے بہت حیران ہو کر بولا۔
کیا برداشت کررہی ہو تم؟ یہ تو اول روز ہی تم نے طے کرلیا تھا کہ کتنے عرص تک تم اس بندھن کو نبھانا چاہتی ہو۔ پھر اب یہ پابندیاں کیسی؟
اس کے سوال نے ضحیٰ کو احساس دلایا کہ وہ مسلسل بے وقوفی کئے جارہی تھی۔
خود تو وہ عمر کاظمی کی آڑ لئے بیٹھی تھی۔ اورمعید کا ویر اسے ہنسی مزاح اسے چبھتا تھا‘ کھلتا تھا۔
اس نے کچھ کہنے کو لب وا کئے۔
معید حسن مجھے تمہارا ویرا کے ساتھ بات کرنا‘ بے تکلف ہونا‘ اس کی تعریفیں کرنا بلکہ اس کی جانب نگاہ اٹھانا بھی تکلیف دینے لگا ہے۔
کہنے کو بہت کچھ تھا اس کے پاس مگر گلے میں پڑتے آنسو کے پھندے نے کچھ کہنے کی اجازت ہی نہیں دی۔ اس کی نظر کے سامنے معید کا چہرہ دھندلاگیا۔
بازو چھوڑیں۔مجھے تکلیف ہورہی ہے۔
آنکھ کے چھلکنے کی کچھ توجیہہ تو چاہئے تھی نا۔
معید نے خفیف ہو کر اس کے بازو پرسے مضبوط ہاتھ کی گرفت ہٹالی۔
وہ تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔
معید پریشانی کے عالم میں الجھا الجھا سا بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔

تم نے اتنی بڑی خوش خبری چھپائے رکھی ہم سے۔نگین گھر آکے سیدھی صالحہ بیگم کے پاس گئی۔ انہیں صبا کی پریگننسی کی خبر دی۔ تو انہوں نے صبا کی پیشانی چوم لی۔ اور فوراً نوافل کی ادائیگی کے لئے تیاری پکڑلی۔
جبکہ نگین نے فرصت پاکر کر اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
مجھے خود کہاں پتہ تھا۔
وہ نظر چرا گئی۔
نگین نے بے یقینی سے اس دیکھا۔
سچی کہہ رہی ہو؟
جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ تمہارے ذہن میں ہو تو کہو۔صبا نے نقاہت سے کہا تو وہ یکلخت مسکرادی۔
اب تم صرف آرام کیا کروگی۔ کچن وچن سب بند۔ کیونکہ ہمیں ایک بہت خوب صورت اور صحت مند بے بی چاہئے جو اس گھر کو خوشی اور رونق سے بھردے۔
وہ بہت دنوں کے بعد یاسیت کے خول سے باہر نکلتی دکھائی دی تھی۔
صبا اپنی تکلیف بھول کر اس کی دل جوئی کرنے لگی۔
تم اپنا خیال رکھو تاکہ میرا خیال رکھنے کے قابل ہوسکو۔
ہاں۔ میں تمہارا خوب خیال رکھوں گی۔ اور ہاں بے بی کا بھی۔ اور اس کا نام بھی میں رکھوں گی اس کے کپڑے بھی میں چینج کیا کروں گی۔ اور صفائی بھی۔ تم بس اسے فیڈ کرادیا کرنا۔
وہ بہت پرجوش ہورہی تھی۔ صبا خاموشی سے اسے دیکھتی رہی تو وہ پریشان ہوگئی۔
کیا بات ہے صبا۔ میں کچھ غلط کہہ رہی ہوں؟ تم یہ سمجھ لینا کہ میں تمہارے بچے کی گورنس ہوں۔ تم بس اسے کھیلنے کے لئے مجھے دے دیا کرنا۔ پتہ ہے مجھے بچے بہت اچھے لگتے ہیں۔
اُلجھتے ہوئے بولی تو صبا نے اپنے تپتے ہاتھوں میں اس کا ہاتھ تھام لیا۔
وہ تمہارا ہی بچہ ہوگا نگین۔ تم فکر مت کرو۔
تھینک یو تھینک یو صبا۔
وہ روتی آنکھوں اور ہنستے لبوں کے ساتھ اس کے گلے لگ گئی تو صبا سے بھی اپنے آنسوئوں کو ضبط کرنا بہت مشکل ہونے لگا۔

تم اپنی ایڈورٹائزنگ ایجنسی فروخت کررہی ہو؟
شموئیل نے اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا تو وہ جو خوب صورت سے نائٹ سوٹ میں ملبوس اپنے بستر پر آڑی ترچھی لیٹی تھی ایک دم سے اٹھ بیٹھی۔
یہ کیا طریقہ ہے کسی کے کمرے میں آنے کا؟
کس کا کمرہ؟
شموئیل نے بھنویں اچکائیں۔ پھر بولا۔
شاید تم بھول رہی ہو کہ میں تمہارا شوہر ہوتا ہوں اور اس وجہ سے یہ کمرہ میرا بھی ہے۔
کبھی ہوتا تھا تمہارا۔ مگر تم بھول رہے ہو کہ میں پلوشہ نہیں ژالے آفریدی ہوں۔
ژالے شموئیل خان۔
اس کے تصحیح کرنے پر وہہنہکرکے سر جھٹکنے لگی۔
میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے۔
وہ پھر اپنے سابقہ سوال کی طرف آیا۔
ژالے نے کہا۔
ہاں۔ رضا اسے دوبارہ ٹیک اوور کرنے کو تیار ہے۔ کوئی اعتراض؟
اس کا لہجہ طنزیہ تھا۔ جسے شموئیل نے قطعاً کوئی اہمیت نہں دی۔
رضا اس کا کزن تھا جس سے پہلے ژالے نے یہ ایجنسی ٹیک اوور کی تھی۔ اب جبکہ وہ بیرونی ملک سے لوٹا تو دوبارہ اسے ایجنسی سنبھالنے کو راضی تھا۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور خبر بھی سنی ہے میں نے۔
وہ دل کی بے چینی دباتے ہوئے اسے گھور کر بولا۔
مگر وہ بالکل بھی پریشان نہ ہوئی۔
اطمینان سے بولی۔
ہاں۔ میں واپس امریکہ جارہی ہوں۔
کس کی اجازت سے؟
شموئیل کا لہجہ تیکھا ہوگیا۔
ژالے نے تیز نظروں سے اسے دیکھا۔
تم یہ بات کرنے کے قابل ہو کیا؟
شٹ اپ۔ تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو ژالے۔
اس کے انداز نے شموئیل کے اندر کے روایتی خان کو انگڑائی لے کر بیدار ہونے پر مجبور کردیا۔
ہاہ
وہ تمسخرانہ انداز میں بولی۔
جو حسرت دل میں تھی وہ بھی پوری کر ڈالتے۔
دل تو چاہتا ہے کہ زنداں میں ڈال دوں تمہیں۔اور پھر روز تمہارا حال پوچھنے آیا کروں۔
وہ سُلک کر بولا تھا۔
تم پتہ نہیںکن غلط فہمیوں کاشکار ہو۔
ژالے کا انداز ہنوذ تھا۔
بہت جلد تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کون غلط فہمیوں کا شکار ہورہا ہے۔وہ سنجیدہ ہوگیا۔ پھر قطعیت بھرے لہجے میں بولا۔
یہ تو تم بہت اچھا کررہی ہو کہ ایجنسی فروخت کررہی ہو۔ مجھے ویسے بھی تمہارا جاب کرنا پسند نہیں تھا۔ لیکن یہ جو نیا سودا تمہارے دماغ میں سمایا ہے۔ واپس امریکہ جانے کا اسے بھول جائو۔ کام چھوڑو آرام سے گھر بیٹھو۔
ہنہ گھر
وہ طنز سے بولی۔کس کا گھر شموئیل خان۔ تمہاری پلوشے کا؟
تمہارااسٹوپد۔ تمہارا اور میرا‘ صرف ہم دونوں کا۔
شموئیل نے اسے ایک جھٹکے سے کھینچ کر اپنے مقابل کھڑا کیا تو وہ سٹپٹا سی گئی۔
اس کی آنکھوں میں جذبوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ اور سانسوں میں خوشبو۔
بہت خراب ہو تم ژالے میرے اتنے خوب صورت دن رات برباد کررہی ہو۔ دیکھنا بہت برا سلوک کروں گا تمہارے ساتھ
وہ بہت نرمی اور محبت سے اس چھو رہا تھا۔
ژالے کو لگا وہ پھولوں سے بھی ہلکی ہوگئی ہو۔
محبت کی تو ایک نگاہ ہی تخت شاہی پہ بٹھا دیتی ہے کُجا۔ اس قدر التفات
وہ دم سادھے اس کی وارفتگی کو محسوس کررہی تھی۔
اسے لگا بہارو کا موسم اس کے کمرے میں اتر آیا ہو۔
یہ اس کی خاموشی اور سپردگی کا احساس ہی تھاجس نے شموئیل خان کو مزید پیش قدمی پر مجبور کر دیا۔
اس کی قربت اور لمس سے مسمریز ژالے نے بس کمزور سا احتجاج کیا تھا اور بس۔
شموئیل کو لگا جیسے اس نے اپنی دنیا جیت لی ہو۔

بھابی جان راضی ہیں۔ بلکہ سب خوش ہیں ہمارے اس ارادے سے۔
مریم پھوپو نے واپسی پر گاڑی ڈرائیو کرتے عماد کو بتایا تو وہ ہنسا۔
میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا ملیر ہائوس والوں کے دل تنگ ہیں اور نہ ذہن۔
پھر بھی۔ بات اتنی آسان نہ تھی کہ جتنی تم سمجھتے ہو۔وہ مسکرائیں۔
ان کا ذہن بھی ہلکا پھلکا ہورہا تھا۔
پتہ نہیں کیوں جب سے عماد نے ادینہ کا نام لیا تھا انہیں ایک مسلسل بے چینی نے گھیر رکھا تھا۔
اور اب جبکہ یہی قرعۂ فال نگین کے نام نکلا تو انہیں کوئی فکر کوئی پریشانی نہیں تھی۔
بھابی کہہ رہی تھیں کہ وہ خود صبا سے بات کریں گی۔ نگین کی طرف سے وہ فکر مند تھیں۔ وہ شاید ہی ہامی بھرے اس پروپوزل پر
انہوں نے کہا تو عماد نے اطمینان سے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
وہ سب آپ اوپر والے پر چھوڑ دیں۔ خدا ایسے ایسے سبب بناتا ہے کہ انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔
اور خدا نخواستہ نگین نہ مانی تو ؟
ان کے دل کو ایک اور وہم نے ستایا۔
تو؟
عماد نے گہری سانس کھینچی۔
پھر قصداً مسکرا کر بولا۔
ہم کسی کو مجبور تو نہیں کرسکتے نا۔ اگر اوپر سے اشارہ ہوگیا تو یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔ وگرنہ جو قسمت
مریم پھوپو نے سکون کی سانس لی۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ مجھے نگین کے انکار کا افسوس بہت ہوگا۔
قدرے توقف کے بعد وہ بولا تھا۔
مریم پھوپو بہت دن سے دل میں مچلتے سوال کو زبان پر لے ہی آئیں۔
تمہیں اس کا خیال آیا کیسے عماد؟ پیار محبت والا چکر ہوتا تو تم ادینہ سے پہلے اس کا نام لیتے۔
چند لمحے وہ سوچتا رہا۔
جیسے اپنی یادداشت کو کھنگال رہا ہو۔
پھر مدہم لہجے میں بولا۔
پتہ نہیں ماما۔ لیکن یہ میرے دل و ذہن کا متفقہ فیصلہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے انس کی محبت کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہئے۔
اس کے لفظوں میں بہت گہرائی تھی۔ وہ خاموش رہ گئیں۔

ژالے کا موڈ سخت خراب تھا۔
نوکروں پر چیخنا چلانا۔ حتیٰ کہ ایک بار تو خواہ مخواہ میں پلوشہ کو بھی جھاڑ کے رکھ دیا۔
یہ سب شموئیل سے چھپا ہوا نہیں تھا۔
اور وہ اس کا ماخذ بھی جانتا تھا۔
صبح وہ اس کے اٹھنے سے پہلے کمرے سے باہر جاچکی تھی۔ وگرنہ وہگزی راتکے سارےتاثراتپہلے ہی جانچ لیتا جو ابھی دکھائی دے رہے تھے۔
ملازم کے ہتتے ہی وہ اسے بازو سے تھام کر کمرے میں لے
آیا۔
چھوڑو مجھے
اس نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑانا چاہا مگر شموئیل کی گرفت مضبوط تھی۔
اب تو یہ بات نہ کہو۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولا تو ژالے خفیف سی ہونے لگی۔ مگ اپنی خفت چھپانے کے لئے تیز لہجے میں جواب دیا۔
تم اپنی حد میں رہو شموئیل خان۔
میں رات اپنی تمام حدود و قیود نافذ کرچکا ہوں۔ تمہاری مکمل رضامندی کے ساتھ۔
وہ پھر اسی انداز میں بولا تو ژالے کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ اب جانے یہ غصے کا اثر تھا یا شرم کا۔
شموئیل نے بڑی دلچسپی سے اسے دیکھا۔
اس سسے کترائی‘ نگاہیں نہ ملاتی۔ وہ ایک نئی ژالے آفریدی لگ رہی تھی۔
شموئیل! میرا دماغ خراب مت کرو۔ جو ہوا بہت بُرا ہوا ہے۔ آئی ہیٹ یو یاد رکھنا۔
وہ دفعتاً پھنکاری۔
شموئیل کے ہونٹوں پر خوب صورت سی مسکراہٹ آگئی۔
میں ہمیشہ اچھی باتیں یاد رکھتا ہوں۔ جیسے کل کی خوب صورت رات۔
وہ شرارتاً بولا تو ژالے جیسی بولڈ لڑکی بھی اس سے نگاہ نہیں ملاپائی۔
مگر غصہ ابھی بھی کم نہیں ہوا تھا۔
میں امریکہ جارہی ہوں۔ پھر یاد کرتے رہنا انہی خوب صورت یادوں کو۔
وہ ہٹیلے لہجے میں بولی۔ تو شموئیل نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ اور مسکراتے ہوئے مدہم لہجے میں کہا۔
نہیں جاپائو گی جان شموئیل۔
لحظہ بھر کو تو وہ اس کی اس جبری جسارت پر ہکابکا رہ گئی۔ وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔ وہ کسمسائی پھر اس کی گرفت توڑ کر پیچھے ہٹ گئی۔
کا کیا ہوگا یہ تم بھی جان لو گے۔
وہ تند لہجے میں کہتی کمرے ہی سے نکل گئی۔ تو وہ اس کی خوشبو کو محسوس کرتا طمانیت سے مسکرانے لگا۔

ویرا بریانی کامصالحہ تیار کرنے کھڑی ہوئی تو ضحیٰ نے نرمی سے اسے پرلے ہٹادیا۔
تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ضحیٰ۔ اور پھر کام ہی کتنا ہوتا ہے بریانی کا۔
آپ سے کس نے کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ اور ویسے بھی معید کو میرے ہاتھ کی بریانی پسند ہے۔ اس لئے میں خود بنائوں گی۔
وہ ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے کے سارے ریکارڈ توڑ رہی تھی۔
اچھا۔ مجھے تو معید نے نہیں بتایا کہ اسے تمہارے ہاتھ کی بنی بریانی پسند ہے۔
ضحیٰ کو لگا وہ جل گئی ہو۔
اسے مزہ آیا۔
آپ کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ انہیں میرے ہاتھ کی چائے اور کٹلس بھی بہت پسند ہیں۔ شام کی چائے وہ مجھ سے ہی بنوانا پسند کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ منہ سے کہتے نہیں ہیں۔
وہ اٹھلا کر بولی تو جانے کیوں ویرا ہنس دی۔
ضحیٰ کو برا تو لگا مگر اسے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ چکرا کر رہ گئی۔
ذرا میرے دوستوں کے لئے دو کپ چائے تو بھجوا دو اور ساتھ میں کٹلس بھی۔ میرے پسندیدہ۔
معید کی آواز اسے اپنے عین پیچھے سے آتی محسوس ہوئی تھی۔
وہ دُم سادھ کر رہ گئی۔
تو یہ وجہ تھی ویرا کے ہنسنے کی۔ ظاہر ہے کہ وہ معید حسن کی موجودگی سے اچھی طرح واقف تھی۔
اور بریانی تو یقینا ضحیٰ ہی بنائے گی۔ ایک بار پہلے بھی اس نے بہت یادگار بریانی بنا کے کھلائی تھی۔وہ کہہ رہا تھا۔
اور ضحیٰ اندازہ لگانے میں مصروف تھی کہ اس کے لہجے میں طنز‘ مزاح اور سنجیدگی کے عناصر کا کیا تناسب ہے؟
اپنی ادھر ادھر دیکھے بغیر بولنے والی عادت کو بھی کوسا جو ہمیشہ ہی شرمندہ کراتی تھی۔
تم نہیں آئو گی ویرا۔ اسد آیا ہوا ہے؟وہ سنجیدگی سے بولا۔
نہیں۔ میں نہیں جائوں گی۔
ویراکی متوحش آواز پر وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
اس کی رنگت جانے کیوں زرد پڑگئی تھی۔
کب تک نہیں جائو گی اس کے سامنے؟ اور ویسے بھی وہ تمہیں سے ملنے آیا ہے۔
معید کا انداز سمجھانے والا تھا۔
مگر ویرا نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں معید۔ میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ اب نہیں۔ میں پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔
اس کی آنکھوں میں چمکتی نمی نے ضحیٰ کو حیران کیا۔
شاید اس کے گھر والوں میں سے کوئی اسے لینے آیا ہو۔ اس نے اندازہ لگایا۔
بے وقوفوں جیسی باتیں مت کرو ویرا۔
معید نے اسے گھر کا۔ تو ضحیٰ کو بہت خوشی ہوئی۔
معید پلیز۔ مجھے مجبور مت کرو کہ میںیہاں سے چلی جائوں۔
وہ رونے کو تھی۔
معید نے گہری سانس بھری۔ پھر اسے گھورتے ہوئے بولا۔
وقت کے ساتھ نہ چلنے والے ہمیشہ گھاٹے کا سودا کرتے ہیں۔ وہ آج یہاں آیا ہے آئندہ بھی آتا رہے گا۔ میں تم سے ہارا نہیں۔ بس تمہیں سنبھلنے اور سمجھنے کا وقت دے رہا ہوں۔
وہ کہہ کر چلا گیا تھا۔ ویرا بھی وہاں سے چلی گئی۔
ضحیٰ کے دل میں ٹھنڈ پڑگئی۔
اچھاہے نا اس پرکٹی کو اس کے گھر والے زبردستی لے جائیں یا پھر یہ خود ہی یہاں سے کہیں چلی جائے۔ میرے شوہر کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔
اس نے جل کر سوچا تھا۔
پھر خود ہی ٹھٹک گئی۔
دل کی دھڑکن بے ترتیب سی ہوئی۔
میرا شوہر
وہ متحیر سی کھڑی تھی۔
دل جانے کب اور کیسے اس حقیقت کو تسلیم کرگیا تھا۔
وہ کیا کہا تھا معید حسن نے۔
محبت دل پہ دستک ہے۔ اور جب یہ دستک ہونے لگے تو دل کے دروازے وا کئے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔
معید کی طرف ملتفت ہونا‘ اسے سوچنا اور بہت اچھے معنوں میں سوچنا۔
یہ ستک ہی تو تھی دل پر اور شور تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔
وہ دل تھامے کھڑی رہ گئی۔

تائی جان نے صبا کو فون کرکے نگین اور عماد کے رشتے کی بابت عندیہ لیا تو اس کا دل ڈوب سا گیا اور ذہن چکرانے لگا۔
اُن کے گھر کی فضائوں میں عماد کا نام جس طریقے سے گونج رہا تھا۔ اگر کوئی اور جان جاتا تو پتہ نہیں کیا قیامت آجاتی۔ اور صبا کے تو پیر میں مزید ایک ننھی سی بیڑی پڑگئی تھی کہ وہ کچھ سوچنے کے لائق رہی ہی نہ تھی۔
یہ کس نے کہا آپ سے؟
مریم نے خود بات کی ہے۔ عماد بھی راضی ہے۔
وہ خوش تھیں۔ اور یہ خوشی ان کے لب و لہجے سے بھی جھلک رہی تھی۔
صبا کے دل میں درد کی لہریں اٹھنے لگیں۔
کس قدر بدقسمت ہو تم نوفل احمد! اتنے اچھے لوگوں کا ساتھ ملا ہے تمہیں۔ اور تم کسی کی بھی قدر کرنا نہیں جانت۔
اگر نوفل کو اتنی بد گمانیاں نہ ہوتیں تو صبا ان کی بات سن کر خوش ہوجاتی۔
مگر اب تو اسے کچھ سجھائی نہ د رہا تھا۔
انکار کرتی بھی تو کس بنیاد پر؟
عماد بھائی بھی راضی ہیں؟
اس نے بے یقینی سے دہرایا۔
ہاں۔ اس کی رضا مندی سے ہی مریم نے بات کی ہے۔ اور سچ پوچھو تو میری بھی بہت خواہش تھی کہ نگین کا دوبارہ بس جائے۔ انس کے حوالے سے بہت پیاری ہے ہمیں۔ ہمارا تو گھر روشن کردیا تھا اس نے۔ بس قسمت میں یہاں پھلنا پھولنا نہیں لکھا تھا اس کا۔ مگر عماد بھی تو اپنا ہی بیٹا ہے۔ انشاء اللہ بہت خوش رکھے گا اسے۔
تائی جان آبدیدہ ہوگئیں۔
صبا کا بھی دل بھر آیا۔
آپ براہ راست ماما سے بات کرتیں۔ اس معاملے میں میں کیا کرسکتی ہوں۔
اس نے پہلو بچانے کی کوشش کی۔
او فوہ۔ تم ٹٹول کے تو دیکھو۔ وہ اب نگین کے متعلق کیا سوچتی ہیں۔
تائی جان نے کہا تھا۔
اچھا۔ میں بات کرکے دیکھوں گی۔
وہ مریل لہجے میں بولی۔
اور پھر اس نے صالحہ بیگم سے بات کر ڈالی۔
وہ پہلے تو چپ سی ہوگئیں‘ پھر رونے لگیں۔
کس ماں کا دل چاہتا ہے کہ اپنی بیٹی کو یوں برباد ہوتے دیکھے۔ یہ تو ان لوگوں کا پیار ان کی محبت ہے۔ لیکن میں پہلے نگین سے بات کرلوں۔ تم نوفل سے پوچھ لینا۔
نہیں ماما۔ نوفل سے بھی آپ ہی بات کیجئے گا۔ وہ میری بات شاید مائینڈ کریں۔
اس نے خود کو اس معاملے سے قطعاً الگ رکھنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
نوفل جانے اور اس کا کام۔ اگر انکار بھی کرے گا تو جیہہ بھی اسی کو پیش کرنی پڑے گی۔
وہ مطمئن سی ہوگئی۔
مگر شام کو جب وہ دندناتا ہوا کمرے میں آیا تو صبا اس کا غصہ دیکھ کر ششدر رہ گئی۔
سرخ آنکھیں لئے کف اڑاتا وہ آتے ہی اس پر چڑھ دوڑا۔
تم کیا گیم کھیل رہی ہو ہم سب کے ساتھ۔
اس کے بازو کو جھٹکا دے کر وہ پنکارا۔ تو صبا کو لگی اس کی سانسیں ابھی کے ابھی تھم جائیں گی۔

(باقی آئندہ ماہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close