Aanchal Feb-07

پوری دنیا کابڑاانسان

احمدندیم قاسمی

آج سے کچھ عرصے پہلے‘ لاہور کے ایک تہذیبی ادارے نے جس کے سربراہ شاید محترم ایس ایم ظفر صاحب ہیں‘ حکیم محمد سعید مرحوم و مغفور کی خدمت میں نذرانۂ سپاس پیش کیا تھا اور مجھے یہ اعزاز بخشا تھا کہ میں ان کی شخصیت اور ان کے کارناموں کے بارے میں ایک مختصر سی تحریر پیش کروں۔ میری اس تحریر کو حاضرین تقریب نے تو پسند کیا ہی تھا۔ مگر خود حکیم صاحب مرحوم نے اپنی پسندیدگی کے اظہار کا جو انداز اختیار کیا وہ نہایت درجہ بلیغ تھا۔ اجلاس کی پہلی صف میں صوفے بچھے تھے اور حکیم صاحب اسی صف کے مرکز میں تشریف فرما تھے۔ میں ایک طرف بچھی ان کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھا تھا جو اخبار نویس دوستوں کے لئے وقف تھیں۔ جب میں یہ تحریر پڑھ کر واپس اپنی کرسی پر آبیٹھا تو حکیم صاحب صوفے پر سے اٹھے‘ میرے پہلو کی کرسی پر آبیٹھے اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اجلاس کے اختتام تک وہ میرے پاس ہی تشریف فرما رہے اور اس پروٹوکول کو نظر انداز فرمادیا جس کے مطابق انہیں اجلاس کی پہلی صف کی مرکزی نشست کی زینت بڑھانا تھی۔ میں نے اس تحریر کے زمانۂ حال کو‘ نہایت دکھی دل کے ساتھ‘ زمانہ ٔ ماضی میں بدل دیا ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں‘ بلکہ پورے عالم انسانیت کا یہ بڑا انسان‘ نہایت سفاکی کے ساتھ ہم سے چھین لیا گیا ہے۔ محترم حکیم محمد سعید رحمتہ اللہ علیہ کی کثیر الجہات شخصیت کے بارے میں کچھ کہنا مہذب انسانوں کی معاشرتی سرگرمیوں کی جتنی بھی جہات ہوسکتی ہیں‘ ان سب کو احاطہ تحریر میں لانے کے برابر ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ناممکنات کی حد تک دشوار کام ہے۔
ظاہر ہے کہ حکیم صاحب صرف ایک شخص‘ صرف ایک ذات صرف ایک فرد تھے‘ مگر مشکل یہ ہے کہ ان کی صرف ایک دو یا دس سرگرمیوں کا ذکر کیجئے تو ان کی بیسیوں دوسری سرگرمیاں تشنۂ توجہ رہ جاتی ہیں اور یوں اس ایک فرد کے پھیلائو کو سمیٹنا کم سے کم میرے لئے نہایت درجہ دشوار ہے۔ چنانچہ بڑی دشواری یہ بھی ہے کہ معاشرے کی بہبود اور عالم انسانیت کی فلاح کے چیلنج تو تاریخ انسانی میں بے شمار اصحاب نے قبول کئے ہیں‘ مگر ان سب کی فلاحی جدوجہد کسی ایک شعبے میں محدود ہوتی ہے‘مثلاً اگر کوئی شخص اپنے آپ کو کوڑھیوں کے علاج اور دیکھ بھال کے لئے وقف کردیتا ہے تو یہ انتہائی نیک کام ہے اور اس ضمن میں اس شخص کی بھرپور تحسین ہونی چاہئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کی جدوجہد ایک دائرے میں محدود ہے‘ مگر جو شخص ایک اعلیٰ پائے کا تجربے کار معالج ہونے کے ساتھ ہی علم و حکمت‘ تہذیب و ثقافت‘ تعلیم و تربیت اور کردار و اخلاق کے شعبوں کو بھی اپنی سرگرمیوں میں شامل کرتا ہو اور ان شعبوں کی فلاح کی انتہا کردیتا ہو‘ مگر ساتھ ہی طبابت کا سلسلہ بھی باقاعدگی سے جاری رکھتا ہو اور جو کروڑوں اربوں روپے کمانے کے باوجود نہایت درجہ سادہ زندگی گزارتا ہو اور جو بچوں کے لئے لکھی ہوئی ڈائری میں خود بتاتا ہو۔ ’’میں تو اپنی شیروانی اور کرتا پاجامہ بھی خود ہی دھو لیتا ہوں‘ اپنا بنیان اور اپنے موزے خود دھو کر ڈالتا ہوں‘ صبح میں اپنا غسل خانہ روزانہ خود ہی صاف کرتا ہوں اور ہر چیز چمکا کر آئینہ بنادیتا ہوں‘‘ تو ایسا شخص ایک فرد کہاں ہوا۔ وہ تو اپنی ذات میں ایک ادارہ تھا اور ایک وسیع اور بھرپور ادارے کے خدوخال کو چند سطور میں بیان کرنے کے لئے دانش و حکمت کی وہ قوتیں درکار ہوتی ہیں جو میرے خیال کے مطابق مجھ میں کماحقہ موجود نہیں ہیں۔
محترم حکیم صاحب کی تاریخ پیدائش 9 جنوری 1920 ء ہے۔ چنانچہ جب آزاد پاکستان وجود میں آیا تو وہ 27 سال کے ایک ایسے نوجوان تھے جنہیں ہر طرح کی آسائش میسر تھیں اور دولت و ثروت ان کے گھر کی باندیاں تھیں‘ مگر مشکل یہ تھی کہ پاکستان سے محبت ان کے جسم میں خون کی طرح رواں تھی۔ چنانچہ وہ یہ سب دولتیں اور آسائشیں چھوڑ کر پاکستان آگئے۔ کراچی میں اعوان لاج کے ایک چھوٹے سے کمرے میں انہوں نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا‘ پھر آرام باغ روڈ کے ایک کمرے میں انہوں نے ہمدرد مطب قائم کیا۔ کمر ہ بھی کرائے کا اور اس کا فرنیچر بھی کرائے کا تھا اور یاد رہے کہ یہ اسی شخص کی اقامت گاہ تھی جو دہلی میں امارت کی اونچی مسند چھوڑ آیا تھا۔ یہ 1948 ء کا واقعہ ہے اور پھر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ یہ مطب اگرچہ ایک فرد واحد کی ملکیت تھا‘ مگر اس عجیب و غریب فرد واحد نے چار پانچ سال بعد ہی 1953 ء میں مطب کو ’’وقف‘‘ قرار دے دیا اور یوں اپنا سب کچھ قوم کے سپرد کر دیا۔ تب سے اب تک کی داستان بہت طویل ہے‘ مگر یہ ایک ایسی داستان ہے جس کی گزشتہ چند صدیوں کی تاریخ میں نظیر پیش کرنا مشکل ہے۔ آج مدینتہ الحکمہ اس عظیم خواب کی ہمہ گیر تعبیر کی صورت میں سرزمین کراچی سے ابھرا ہے جو محترم حکیم محمد سعید صاحب نے کراچی میں قیام کے ابتدائی دنوں میں کرائے کے کمرے‘ کرائے کے فرنیچر کے ماحول میں دیکھا تھا۔ یہ سارا کمال ان کی جرأت اور حوصلہ مندی کا تھا‘ ان کی تہذیب و شائستگی کا تھا‘ ان کی دیانت اور خود اعتمادی کا تھا‘ ان کے پاکیزہ مقاصد اور ان کی محیر العقول اور انتھک محنت کا نتیجہ تھا۔ محنت اور مسلسل محنت نے محترم حکیم محمد سعید کے وجود میں تجسیم پائی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ حضرت قائد اعظم ؒ نے جب قیام پاکستان کے دنوں میں نئی پاکستانی قوم کے سامنے ’’کام‘ کام اور کام‘‘ کا نعرہ سر کیا تھا تو حکیم صاحب نے اسے اپنے باطن میں اتار لیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اتنی محنت کی اور وہ 78 برس کی عمر میں بھی اسی معیار کی محنت کررہے تھے کہ ہما شما ایسی کارکردگی کا تصور بھی کریں تو ان کے دماغ کی نسیں پھٹنے پر آجائیں۔ اپنی ذات کی نفی کرکے دوسروں کے لئے اپنی محنت اور دیانت کی کمائی ہمیشہ کے لئے وقف کردینا‘ انسانی حق کے پاس و احترام کا ایک معجزہ ہے جو محترم حکیم محمد سعید صاحب نے حیرت انگیز استقامت سے سر کیا۔ طبابت کا سلسلہ ان کی جملہ دیگر سرگرمیوں کے باوجود باقاعدگی سے جاری رہا۔ چنانچہ وہ لگ بھگ چالیس لاکھ مریضوں کا علاج فرماچکے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ مفت طبی مشورہ دیا اور ہمارے ایلوپیتھک اسپیشلسٹوں کی طرح تین منٹ کے مشورے کے تین تین سو اور پانچ پانچ سو روپے مریضوں سے کبھی نہیں اینٹھے۔ حد یہ ہے کہ انہوں نے وفاقی حکومت کا وزیر ہونے کے دنوں کے علاوہ صوبہ سندھ کی گورنری کے دنوں میں بھی پاکستان کے تمام بڑے بڑے شہروں میں مریضوں کو نہایت شفقت سے مشورے دیئے اور علاج تجویز کرنے کا کام باقاعدگی سے جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے حکیم صاحب کو کامرانیوں پر کامرانیاں عطا کیں‘ قدم قدم پر انہیں ان کے ہر خواب کی تعبیر ملی۔ ایک ایک کرکے بہ ظاہر ان کے سبھی خواب پورے ہوئے اور ان خوابوں کی تکمیل کا سلسلہ آخری دم تک جاری رہا۔ وہ ہمدرد فائونڈیشن کے صدر تھے۔ ہمدرد یونیورسٹی کے بانی چانسلر اور ہمدرد لیبارٹریز کے بانی صدر نشین تھے۔ چالیس کے قریب اردو کتابوں کے اور تیس کے قریب انگریزی کتابوں کے مصنف اور مرتب تھے۔ ان کی ذاتی لائبریری پچاس ہزار کتابوں پر مشتمل تھی اور انہوں نے اپنی یہ لائبریری بھی ہمدرد یونیورسٹی لائبریری کے حوالے کردی۔ اس لائبریری کے لئے اب تک 90 لاکھ روپے کی کتابیں خریدی جاچکی ہیں۔ انہوں نے مدینتہ الحکمہ کے نام سے تہذیب و ثقافت اور علم و فن کا پورا شہر بسا دیا اور اس مفروضے کی عملاً تنسیخ کردی کہ :
بستی بسنا کھیل نہیں‘ بستے بستے بستی ہے
انہوں نے تو بستی بسانا ادھر طے کیا‘ ادھر یہ بستی زمین کے سینے سے کھمبیوں کی طرح اگ آئی۔ اس مدینتہ الحکمہ میں ہمدرد پبلک اسکول ہے جس میں بیک وقت پانچ ہزار بچے تعلیم پاتے ہیں۔ دو ہزار بچوں کے لئے یتیم خانہ الفرقان ہے۔ دس ہزار طلبہ پر مشتمل یونی ورسٹی ہے۔ ہمدرد میڈیکل کمپلیکس ہے‘ ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر ہے جس میں پودوں اور جڑی بوٹیوں کے خواص کی تحقیق کا کام جاری رہتا ہے۔ سائنس میوزیم ہے‘ اسپورٹس اسٹیڈیم ہے۔ بچوں کا پلے لینڈ ہے‘ یوتھ سینٹر ہے‘ ہمدرد لائبریری ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ ہمدرد کالجز اور ہمدرد یونی ورسٹی ہے۔ ہر قوم کے محققین کی سہولت کے لئے آرام دہ رہائش گاہیں اسکالرز ہائوس تعمیر ہوچکی ہیں اور یہ سب ادارے رنگ‘ نسل اور نظریہ و عقیدہ سے ماورا عالم انسانیت کے لئے وقف ہیں۔
حکیم صاحب نے 75 غیر ملکی کانفرنسوں میں شرکت فرمائی۔ 53 سال سے ’’شام ہمدرد‘‘ کا سلسلہ ملک کے ہر شہر میں جاری رہا۔ امریکا‘ کینیڈا‘ برطانیہ‘ فرانس‘ روس‘ چین‘ ناروے‘ سویڈن‘ ڈنمارک‘ جنوبی امریکہ‘ کوریا‘ انڈیا غرض پورے کرۂ ارض کے ممالک کا دورہ کیا اور خالی دورہ کرکے واپس نہیں آگئے‘ بلکہ سفر ناموں کی صورت میں کتابیں اور اپنے مشاہدات و تجربات کو آئندہ نسلوں کے حوالے کیا۔ طب کے بارے میں بعض بااثر لوگوں کی غلط فہمیاں دور کرنے کے سلسلے میں انہوں نے بڑا کام کیا۔ نتیجتاً اطبّا اور ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کا اتحاد قائم ہوا اور ان کی زندگی ہی میں طب کو شجر ممنوعہ قرار دینے والے ختم ہوچکے تھے۔ محترم حکیم صاحب نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف قوم اور حکمرانوں کو متوجہ کرکے اس صدی کی ایک شدید ضرورت کو پورا کیا۔ بچوں کے ساتھ ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ہمدرد نونہال کے دو تین اجتماعوں میں شرکت کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ حکیم صاحب بچوں کے محبوب ہیں۔ انہوں نے شاعری کی قوت خیز اعتراف کے طور پر ہر شہر میں‘ ہر ماہ ملک بھر کے شعراء کو تحسین کے پھولوں سے لادنا شروع کردیا۔ آواز اخلاق کی تحریک کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے رہنے والے اسلامی اخلاق سے بھی دستبردار ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور محترم حکیم صاحب نے ہمارے زوال کا اندازہ لگا کر یہ تحریک شروع کی۔ حکیم محمد سعید صاحب کی سرگرمیوں کے کس کس شعبے کا ذکر کیا جائے کہ سبھی شعبوں کے تذکرے کے بعد اب بھی اتنے ہی شعبے بچے رہتے ہیں۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ ان کے یہ کمالات غیر زمینی اور غیر انسانی لگتے ہیں جبکہ انہوں نے جو کچھ کیا اس زمین پر بسنے والے انسانوں ہی کی حق رسی کے لئے کیا۔ البتہ میں یہ کہنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ اللہ نے انہیں ’’سپرہیومن‘‘ صفات سے نوازا رکھا تھا اور انہوں نے ہماری نصف صدی کی سیاہ اندھیری تاریخ میں خدمت خلق کا ایک ایسا آفتاب روشن کردیا جو غروب ہونا جانتا ہی نہیں۔

(بشکریہ ہمدرد صحت)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close