Aanchal Jan-17

ذرا مسکرا میرے گمشدہ

فاخرہ گل

اپنے انعام حسن کے بدلے
ہم تہی دامنوں سے کیا لینا
آج فرصت زدوں پر لطف کرو
پھر کبھی صبر آزما لینا

گزشتہ قسط کا خلاصہ
کینٹین میں اربش کے ساتھ بیٹھے اجیہ کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ بل پے کرنے کے لیے اس کے پاس رقم موجود نہیں ہے ایسے میں وہ شدید خفت کا شکار ہوتے اپنا بھرم قائم رکھنا چاہتی ہے اور ٹریٹ خود دینے کے بجائے اربش سے ٹریٹ لینے کا ذکر کرتی ہے دوسری طرف اربش اس کی بات کی گہرائی کو سمجھے بغیر از خود بل پے کرتا ہے اور اجیہ شرمندگی سے بچ جاتی ہے اجیہ کی زندگی کے حالات سے واقفیت کے باوجود اربش اس سے شادی کی بات کرتا ہے ایسے میں اجیہ دنگ رہ جاتی ہے اور اسے کوئی جواب نہیں دے پاتی۔ کال سینٹر میں اپنا ریزائن دیتے وہ شرمین کے متعلق تمام ثبوت پیش کرکے یہ ثابت کردیتی ہے کہ اس کمپنی کو نقصان پہنچانے والی شرمین ہے جبکہ باس اجیہ کی فراہم کردہ معلومات پر شاکڈ رہ جاتے ہیں اجیہ کال سینٹر کی جاب چھوڑ دینے پر سکندر صاحب کو آگاہ کرتی ہے تو وہ بھی غیر یقینی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اجیہ کی والدہ اس بات پر بے حد خوش ہوتی ہیں کہ غزنیٰ اور حنین کا رشتہ طے ہونے جارہا ہے مگر انہیں اجیہ کی طرف سے بھی فکر رہتی ہے جب ہی اجیہ حنین اور غزنیٰ کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے انہیں ہر قسم کے خدشے سے دور رہنے کا کہتی ہے۔ غزنیٰ کے والد سکندر سے مل کر شام میں آنے کا ذکر کرتے ہیں سکندر بھی اپنی بیٹی حنین کے لیے غزنیٰ کے تمنائی تھے جب ہی وہ خوشی خوشی دعوت کا اہتمام کرتے ہیں، غزنیٰ شرمین سے رابطہ کرتا ہے تاکہ اسے اپنے ہاں جاب آفر کرسکے دوسری طرف شرمین اپنی جاب چھوڑنے کا بتا کر جلد اس کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہے، سکندر اور لبنیٰ کی شادی ایک انتقامی کارروائی کا بھیانک نتیجہ ثابت ہوتی ہے۔ سکندر لبنیٰ کی بہن فرح کو پسند کرتے تھے اور فرح تک اپنے جذبات پہنچانے کے لیے رقعوں کا سہارا لیتے ہیں مگر سکندر کی یہ حرکت فرح کے لیے نہایت مشکلات لاتی ہے، ایسے میں گھر والے اپنی عزت بچانے کی خاطر جلد از جلد فرح کا نکاح طے کرکے اسے رخصت کردیتے ہیں۔ فرح کی بہن لبنیٰ ان تمام حالات کا ذمہ دار سکندر کو سمجھتی ہے جس کے غلط اقدام پر فرح ہمیشہ کے لیے اپنی بہن سے جدا ہوجاتی ہے دوسری طرف سکندر کے گھر والے فرح کے رشتے کی بات کرنے آتے ہیں تو یہ جان کر شاکڈ رہ جاتے ہیں کہ فرح کی رخصتی ہوچکی ہوتی ہے ایسے میں وہ لبنیٰ کا رشتہ سکندر کے لیے مانگتے ہیں، سکندر اس مقصد کے تحت لبنیٰ سے شادی کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں کہ اس طرح انہیں فرح تک رسائی مل جائے گی، مگر ایسا نہیں ہوپاتا اور سکندر کا اصل مکروہ چہرہ سب کے سامنے آجاتا ہے۔ اجیہ کی پیدائش کے بعد بھی ان کے رویے میں تبدیلی نہیں آتی بلکہ اجیہ اور فرح کے چہرے کی مشابہت انہیں بیٹی سے نفرت پر مجبور کردیتی ہے اجیہ اربش کو اپنے متعلق تمام حقیقت بتادیتی ہے لیکن اربش کو ان تمام باتوں کی پروا نہیں ہوتی ایسے میں وہ اپنی والدہ اور بوا کو اجیہ کے گھر رشتہ لے جانے پر آمادہ کرلیتا ہے جبکہ اجیہ اربش کے ارادے سے بے خبر ہوتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)

کتنا روشن لمحہ تھا بالکل تیری آنکھوں سا
شام کا پہلا تارا تھا بالکل تیری آنکھوں سا
اجلی اجلی باتیں تھیں بالکل تیری صورت سی
بھولا بھالا لہجہ تھا بالکل تیری آنکھوں سا

اربش نے تو بات مکمل ہوتے ہی فون بند کردیا تھا لیکن ممی کے ذہن میں اس کی روشن آنکھوں کی وہ چمک گھوم رہی تھی جو خوشی کے موقع پر ہمیشہ اس کی آنکھوں کا احاطہ کیے ہوتی۔ یہ بات ہی انہیں انتہائی خوش کیے دے رہی تھی کہ اربش خوش ہے اور پھر اکلوتے بیٹے کے سر پر سہرا سجانے کا خواب تو وہ اب ہر وقت دیکھا کرتی تھیں اور اب جب کہ وہ وقت قریب آرہا تھا تو ان کی خوشی دیدنی تھی اور اس خوشی میں وہ بھلا کسے شریک کرتیں‘ ایک بوا ہی تو تھیں‘ لہٰذا اسی وقت بوا کو فون ملا لیا کہ اب گھر پہنچنے تک کون انتظار کرتا‘ بوا اس وقت کچن میں تھیں جلدی سے ہاتھ پونچھ کر کچن میں ہی رکھے ٹیلی فون کی طرف لپکیں۔
ارے بوا پیاری ایک بہت بڑی خوش خبری ہے بہت ہی بڑی۔ دل تھام لیں اپنے آفس میں موجود ممی دوسروں کے سامنے بے شک ایک سنجیدہ قسم کی‘ اصول پرست پرنسپل تھیں لیکن اس وقت وہ پرنسپل نہیں بلکہ ماں کے احساسات کی ترجمانی کررہی تھیں اور پھر بوا تو ان کی سہیلی بھی تھیں جن کے ساتھ انہوں نے زندگی کے تمام اتار چڑھائو دیکھے تھے اور جو ان کے اور اربش کے لیے انتہائی مخلص بھی تھیں اور ویسے بھی ہر انسان خوشی صرف اسی سے شیئر کرتا ہے جس پر اعتماد ہو کیونکہ وہ بھی اس خوشی میں خوش ہوگا۔
ایسی کون سی خوش خبری ہے بھئی‘ جس کے لیے تم نے گھر آنے کا انتظار بھی نہ کیا وہ خوشی سے مسکرائیں۔
ہے ناں بوا ایسی ہی خوش خبری آپ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ میں اس وقت کتنی خوش ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میری بات سنتے ہی آپ بھی مجھ سے کہیں زیادہ خوش ہوں گی
ارے بھئی اتنی خوشی؟ کہیں اربش نے شادی کے لیے اپنی پسند تو نہیں بتادی؟ بوا نے اندازہ لگایا کیونکہ جس طرح ان کی آواز سے ہی خوشی جھلک رہی تھی تو وہ سمجھ گئی تھیں کہ سب سے زیادہ خوشی کی بات ایک یہی ہوسکتی ہے جس پر ممی یوں بے ساختہ خوش ہوں۔
جی ہاں بوا سو فیصد ٹھیک سمجھی ہیں آپ اور میرا تو بس نہیں چل رہا کہ ابھی اور اسی وقت اپنی ہونے والی بہو کو دیکھ لوں
وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن وہ ہے کون‘ کہاں رہتی ہے؟ کیا کرتی ہے؟ ممی بے تاب تھیں تو بوا بھی کچھ کم جلد باز نہیں ہورہی تھیں۔ ایک ہی سانس میں سارے سوال پوچھ کر جواب چاہتی تھیں۔
یہ سب تو خود مجھے بھی معلوم نہیں لیکن ہاں یہ سب جاننے میں ہمیں کچھ دیر بھی نہیں لگے گی
کیوں کیا مطلب میں سمجھی نہیں؟
مطلب یہ کہ اربش آج شام ہمیں ہماری ہونے والی بہو کے گھر لے جارہا ہے میں گھر آجائوں تو کچھ تیاری کرتے ہیں
ہاں تو بس پھر دیر کس بات کی ہے؟ جلدی آئو‘ ابھی تو بہت سی پلاننگ کرنی ہوگی ان کی پُرسکون زندگی میں جیسے ہلچل سی مچ گئی تھی اور ممی کو تو ایسے لگ رہا تھا جیسے بس کل شادی ہونے والی ہے اور ابھی بہت سے کام کرنے باقی ہوں۔ اسی لیے خلاف توقع وقت سے پہلے گھر جانے کے لیے تیار ہونے لگیں‘ اپنی چیزیں سمیٹیں‘ وائس پرنسپل کو دھیان رکھنے کا کہا اور گاڑی کی طرف بڑھیں ورنہ عام حالات میں وہ اس وقت تک اسکول میں موجود رہتیں جب تک آخری بچہ بھی اپنے گھر نہ چلا جاتا‘ لیکن آج تو بات کچھ اور تھی۔
گھر جاتے ہوئے رستے میں ایک مرتبہ تو انہوں نے سوچا کہ شام کو ساتھ لے جانے کے لیے مٹھائی کا ٹوکرا بنوا لیں لیکن پھر پہلے بوا سے مشورہ کرلینا بہتر خیال کیا اور ویسے بھی سوچا یہ تھا کہ گھر سے نکلتے ہوئے مٹھائی ودیگر سامان لے کر وہیں سے ڈائریکٹ ان کے گھر چلے جائیں گے۔ اس لیے موڑ کاٹنے کے بجائے گاڑی کو گھر کے راستے پر ہی چلنے دیا۔

اجیہ گھر آئی تو امی انتہائی جوش وخروش سے کچن میں مصروف تھیں۔ مصالحوں کی اشتہا انگیز خوشبو نے گیٹ پر ہی اس کا استقبال کیا تھا۔ لہٰذا لائونج میں اپنا پرس اور فائل رکھنے کے بعد وہ کچن میں ہی آگئی تھی۔
امی وہ لوگ تو شام کے کھانے پر آئیں گے ناں آپ ابھی سے مصروف ہیں کچن میں اور وہ بھی اکیلی‘ حنین کہاں ہے؟ انہیں اکیلا کام کرتا دیکھ کر اسے غصہ آیا۔
ارے بیٹا آنا تو انہوں نے رات کے کھانے پر ہی ہے لیکن آخر ایک آدھ گھنٹے میں تو اتنی کوکنگ نہیں ہوپاتی ناں‘ اسی لیے میں نے سوچا کچھ کام ابھی کرلوں اور باقی فائنل ان کے آنے سے گھنٹہ پہلے کرلیں گے
وہ سب تو ٹھک ہے لیکن حنین ابھی اس کی بات آدھی ہی تھی کہ حنین اس کی آواز سن کر کچن میں آئی منہ پر کلینزنگ لوشن لگائے وہ دونوں ہاتھوں سے بڑی مہارت کے ساتھ کلینزنگ کرنے میں مصروف تھی۔ اسے دیکھا تو ہاتھ روکے بغیر بولی۔
اجیہ تمہیں پتہ بھی ہے کہ کچن میں کھانوں کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے کم از کم تم ڈریس تو چینج کر آتیں‘ ساری ادرک‘ لہسن کی خوشبو کپڑوں میں بس جائے گی
تم میری فکر چھوڑو‘ امی صبح سے کچن میں لگی ہوئی ہیں اور تم ہو کہ اپنے ہار سنگھار میں لگی ہوئی ہو ان کے ساتھ کچھ ہیلپ کروا دیتیں ناں اجیہ کو اس وقت حنین بالکل اچھی نہیں لگ رہی تھی جس نے اپنی شخصیت کو امی کے آرام پر ترجیح دی تھی۔
کچھ اللہ کا خوف کرو اجیہ آج تو مجھے کچن میں نہ بلائو‘ پہلے ہی اسکن اتنی رف ہورہی ہے میں آج اپنا فیشل کررہی ہوں کچھ تو تازگی آجائے ناں چہرے پر‘ اب میں تمہاری طرح تھوڑی ہوں کہ منہ نہ بھی دھوئوں تو پیاری لگوں بھئی میرا اسپیشل ڈے ہے آج‘ کچھ بننا سنورنا تو میرا حق ہے کہ نہیں‘ کیوں امی؟ اس نے امی سے ووٹ مانگا اور حسب توقع اسے حمایت مل گئی انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا اور پھر اجیہ کو۔
اجیہ بیٹا‘ کام تو سمجھو مکمل ہوگیا ہے‘ اب تو کوئی مدد نہیں چاہیے
اب نہیں چاہیے ناں امی‘ لیکن پہلے تو چاہیے تھی اور حنین آج صرف تایا ابو لوگ آرہے ہیں جنہوں نے تمہیں پہلے بھی ایک ہزار مرتبہ اسی گھریلو حلیے میں دیکھا ہوا ہے‘ تم کیوں خوامخواہ اتنی کانشس ہورہی ہو اجیہ کا موڈ امی کے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھ کر خوشگوار نہیں رہا تھا اور کچھ اربش کے سامنے تمام حقیقت واضح کرنے کے بعد بھی دل عجیب سا ہورہا تھا اور اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آیا اس نے جو کچھ کیا وہ صحیح تھا یا غلط۔
اور ویسے بھی تم مجھ سے کہیں زیادہ خوب صورت ہو‘ ان کے آنے سے دو تین گھنٹے پہلے بھی تم‘ یہ سب کچھ کرلیتیں تو ٹھیک تھا لیکن دیکھو امی پتہ نہیں کب سے اکیلے ہی اتنا سارا کام کیے جارہی ہیں اور تمہیں کوئی پروا ہی نہیں‘ کوئی فکر یا احساس ہی نہیں ہے تمہیں اجیہ نے امی کو سنک کے سامنے سے ہٹا کر اپنا دوپٹہ کرسی کی پشت پر ڈالا اور استعمال شدہ برتن دھونے لگی‘ حنین کی کلینزنگ ابھی تک جاری تھی البتہ چہرے کے تاثرات بگڑ چکے تھے۔
اجیہ تم صبح کی گئی ابھی تھکی ہوئی آئی ہو جائو تھوڑا آرام کرو پھر کرلینا سارے کام امی نے کہا اور ساتھ ہی کھانے کے لیے میز پر برتن لگانے لگیں۔
آجائو کھانا کھائیں چھوڑ دو برتن
میں تو آجائوں گی‘ اسے کہیں ہاتھ منہ دھو کر پہلے کھانا کھالے ایسا نہ ہو رشتے کے شوق میں آج کھانا بھی نہ کھائے سنجیدگی سے بات کرتے کرتے اجیہ نے حنین کو دیکھا اور بات کے اختتام پر ہنس دی۔
ہمیں پتہ ہوتا کہ تمہیں اس رشتے کی اتنی خوشی ہوگی تو ہم خود تائی امی کو کہتے کہ آپ کی بہو انتہائی اتائولی پوزیشن میں گھر کے دروازے پر کھڑی ہے‘ غزنی کو کہیں جلد از جلد اسے دلہن بنا کر لے جائے اجیہ کی بات کے ساتھ ہی امی بھی بے اختیار ہنسنے لگی تھیں اور اجیہ نے بھی امی کا ساتھ دیا لیکن حنین عام دنوں کے برعکس آج سنجیدہ تھی۔ ان دونوں کو ہنستے دیکھا تو مزید غصہ آنے لگا۔
سنو کلینزنگ کے بعد تھوڑی سی بلیج اپنی پلکوں پر بھی کرلینا‘ تائی امی کی بہو بھوری آنکھوں والی نہ سہی بھوری پلکوں والی تو ہونا اجیہ نے ایک مرتبہ پھر اسے چھیڑا۔ امی نے اپنی بے اختیار ہنسی کو چہرہ دیوار کی طرف کرکے چھپایا لیکن حنین ان دونوں کا ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنا دیکھ چکی تھی اور اب تلملائی ہوئی تھی۔
کانشس میں نہیں ہورہی اجیہ تم ہورہی ہو‘ بلکہ تم شاید جیلس ہورہی ہو مجھ سے
جیلس تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟‘ اجیہ نے حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھا۔ امی بھی برتن رکھتے رکھتے ایک دم چکر آنے سے کرسی کی پشت تھامے پہلے لمحہ بھر کے لیے رکیں پھر منظر دھندلاتا محسوس ہوا تو فوراً سامنے رکھا پانی پیا۔
میرا دماغ بالکل ٹھیک ہے‘ لیکن تمہارا ٹھیک نہیں لگ رہا مجھے اور تم کیا شاید کوئی بھی اور لڑکی تمہاری جگہ ہوتی تو وہ اسی حسد کاشکار ہوتی اور ضرور سوچتی کہ اس کی موجودگی میں اس کی چھوٹی بہن کے لیے رشتہ آرہا ہے لیکن تم مجھ سے بڑی ہو اجیہ اگر تائی امی یا غزنی نے خود مجھے پسند کیا ہے تو اس میں میرا کیا قصور؟ یہ تو ان کی مرضی اور پسند کی بات ہے کہ انہیں تمہارے مقابلے میں میں پسند آئی‘ تمہیں تو بڑا دل کرنا چاہیے خود آگے بڑھ کر مجھے سجانا سنوارنا چاہیے ناں کہ اپنے دل کی بھڑاس ہنسی مذاق کے پردے میں نکالتے ہوئے مجھ پر طنز کے تیر برسائو

؎وہ کہتا ہے کہ میں نے بات کی ہے
میں کہتا ہوں مجھے خنجر لگے ہیں

اور ایسا ہی تھا حنین کے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ نے اجیہ کے ساتھ ساتھ امی کو بھی جتنی تکلیف دی تھی وہ یقینی طور پر ایسی ہی تھی گویا کسی نے خنجر ہی مارے ہوں اور پھر حنین نے ایسا سوچا ہی کیوں؟ اور اگر ذہن میں کہیں غصے سے ایسا خیال آیا بھی تو اس نے بولنے سے پہلے سوچنے کا تکلف کیوں نہ کیا؟
حنین تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ جانتی بھی ہو تم کیا کہہ رہی ہو اور کس کے لیے کہہ رہی ہو یہ سب؟ اجیہ نے کوئی بھی جواب دینے کے بجائے خاموشی سے منہ پھیر لیا تھا اور دل پر گرتے آنسوئوں کے ساتھ چپ چاپ برتن دھوتی گئی۔ اس وقت یہاں کھڑا رہنا اس کے لیے مشکل ترین تو تھا لیکن یہاں سے جاکر وہ امی کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے خود پر جبر کرکے بس برتن دھوتی رہی۔ ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو‘ اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔
امی میں نے تو جو محسوس کیا‘ وہ کہہ دیا حنین نے بغیر شرمندگی کے کہا تو امی کو لگا کہ اس کی یادداشت کمزور ہوچکی ہے اس لیے اجیہ کے بہترین سلوک کا ایک بار اس کے سامنے اعادہ ضروری ہے۔
تم نے تو بہت اچھا کیا جو محسوس کیا وہ کہا‘ لیکن دیکھ لو جواب میں اگر اجیہ نے کچھ نہیں کہا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس نے کچھ محسوس نہیں کیا بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اسے بحث اور اختلاف سے کہیں زیادہ گھر کے سکون کی پروا ہے‘ کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ جو کچھ آپ محسوس کریں اس کا لازماً ڈھنڈورا بھی پیٹا جائے
لیکن امی آپ نے اجیہ کا بی ہیویئر نہیں نوٹ کیا ناں کہ کیسے میرا مذاق اڑا رہی تھی
واہ حنین واہ تم نے صرف اجیہ کا یہی بی ہیویئر نوٹ کیا؟ اور آج سے اٹھارہ بیس سال تک جو تمہارے ساتھ اس کا بی ہیویئر رہا وہ؟ تمہاری ہر خوشی پر آج تک وہ اپنا آرام اور اپنی خوشی قربان کرتی آئی وہ؟ اپنی معمولی سی بچت بھی تمہاری خواہش پوری کرنے پر لگاتی رہی وہ؟ تمہیں وہ کچھ بھی یاد نہ رہا؟ اور آج تم ایک ہی دن میں اتنی حساس ہوگئیں کہ اس کا کیا ہوا مذاق بھی نہ برداشت کر پائیں صرف میری صحت کی فکر کرتے ہوئے اگر تمہیں ذرا سا کام میں ہیلپ کروانے کا کہہ ہی دیا تو کون سی قیامت آگئی‘ رشتے کے معاملے میں تو فوراً اس کا بڑی بہن ہونا یاد آیا‘ باقی باتوں میں کیوں بھول جاتی ہو؟ امی اس کی بات پر بے حد دکھی تھیں۔
اور پھر اگر جواب میں اجیہ بھی حنین کو کچھ کہہ سن کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتی تو شاید وہ اتنا بوجھل پن محسوس نہ کرتیں‘ لیکن اجیہ کی خاموشی اور سرخ ہوتے چہرے نے انہیں انتہائی دل گرفتہ کردیا تھا اور پھر حنین کی طرف سے ایک ایسی سوچ کا اظہار جس کا کوئی وجود تھا ہی نہیں۔
آپ تو خوامخواہ سیریس ہوگئیں امی‘ ورنہ میرا اتنا ڈیپ مطلب نہیں تھا‘ اور نہ ہی میں نے کبھی بھی ایسا سوچا کہ اجیہ ایسا محسوس کرے گی‘ یہ سب باتیں بس پتہ نہیں کیسے میرے منہ سے نکل گئیں‘ ورنہ کیا میں نہیں جانتی کہ میرے اسکول سے لے کر اب تک کس طرح اجیہ نے صرف اور صرف میری خوشیوں کے لیے کتنی ہی مرتبہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹا اور میرا ہے ہی کون اجیہ کے سوا یہی تو میری اکلوتی بہن بھی ہے اور سب سے اچھی دوست بھی وہ اپنا منہ ٹشو پیپر سے صاف کرچکی تھی اور انتہائی شرمندہ لگ رہی تھی۔
اجیہ ناراض ہو؟ قسم سے میں نے جو بھی کہا صرف منہ سے نکل گیا ورنہ دل میں ایسی کوئی بات نہیں ہے اس نے اجیہ کا چہرہ دیکھا تو خود کو مزید ملامت کیا کہ یہ سب اس کے منہ سے کیسے نکل گیا اور کیا اسے غزنی کے ساتھ نام جڑنے کی اتنی خوشی ہے کہ اس پاگل پن میں وہ ان پُرخلوص اور بے لوث رشتوں کو دکھی کرگئی۔ وہ بھی آج اتنے اہم دن پر جبکہ اس کا اور غزنی کا باقاعدہ تعلق جڑنے والا تھا۔
نہیں میں ناراض نہیں ہوں اٹس اوکے اجیہ نے مسکرانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔
ناراض نہیں ہو تو تمہاری آنکھیں کیوں بھیگ رہی ہیں؟ حنین نے نل بند کیا اور اجیہ کو سنک سے ہٹا کر اپنے سامنے کیا۔ اجیہ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سامنے بیٹھی امی کو۔
بتائو ناں آنسو کیوں نظر آرہے ہیں؟ تم تو آج تک کبھی نہیں روئیں

اذیتوں کے تمام نشتر
میری رگوں میں اتار کر وہ
بڑی محبت سے پوچھتا ہے
تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے؟

میں آج تک نہیں روئی تو اب کون سا میں رو رہی ہوں‘ یہ تو کچن کی گرمی اور چولہے کے بالکل ساتھ سنک ہونے کی وجہ سے ایسا ہے اجیہ زبردستی مسکرائی کیونکہ حنین کی باتوں سے دل پر ایک دم ہی بہت گہری ضرب لگی تھی جس کا یوں لمحہ بھر میں اثر زائل ہونا یقینی طور پر ممکن نہیں تھا۔
اجیہ ناں بھی کچھ کہے تو تمہیں خود بھی احساس ہونا چاہیے کہ تم نے کس قدر غلط بات کی ہے امی نے سرزنش جاری رکھی۔
سوری ناں امی اور قسم لے لو اجیہ میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا‘ لیکن آج پتہ نہیں کیسے یہ سب میرے منہ سے نکلا‘ مجھے نہیں پتہ تم چاہو تو میرا منہ توڑ دو اور منہ بھی کیسا فریش‘ مکمل کلینزنگ اور ہاف فیشل شدہ حنین کی بات پر امی اور اجیہ ہنسنے لگیں اور حنین جس نے اپنا منہ اجیہ کے بالکل سامنے کردیا تھا چہرے پر مزید معصومیت طاری کرلی۔
اوہو میں نے کہا ناں کہ کوئی بات نہیں‘ میں سمجھ سکتی ہوں کہ یہ سب تم نے جان بوجھ کر نہیں کہا بلکہ تمہیں خوشی ہی اتنی ہے کہ تمہیں سمجھ ہی نہیں آرہا کہ تم آخر کہہ کیا رہی ہو؟ اجیہ اسے اپنے سامنے شرمندہ ہوتا نہیں دیکھ پارہی تھی اور اس کا یوں معافی مانگتا لہجہ اجیہ سے برداشت نہیں ہو پارہا تھا۔
اور جلدی سے اپنا یہ آدھا فیشل بھی مکمل کرلو تو کھانا کھاتے ہیں‘ تب تک میں کچن صاف کرلیتی ہوں اجیہ نے دوبارہ سنک کی طرف رخ موڑا‘ نل کھولا اور صابن لگے برتن دھونے لگی۔
نہیں فیشل تو بعد میں ہوتا رہے گا‘ تم برتن چھوڑو اور آجائو مل کر کھانا کھاتے ہیں‘ پھر رات کا کھانا تو ویسے بھی تائی امی کے ساتھ کھانا ہے حنین بات کرتے کرتے شرارت سے ہنسی اور اجیہ کو دیکھ کر آنکھ ماری وہ برتن چھوڑ کر اب ہاتھ پونچھ رہی تھی۔
تائی امی کا تو بس نام ہے سیدھی طرح کہو ناں کہ غزنی کے ساتھ کھانا ہے اجیہ اس کے آنکھ مارنے کا مطلب سمجھ کر مسکرائی‘ امی نے معاملہ درست طریقے سے سنبھل جانے پر دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ انہیں یقین تھا کہ یہ سب حنین کے منہ سے جذبات میں نکل گیا ورنہ وہ ایسا نہیں سوچتی اور اب ان دونوں کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر وہ پُرسکون ہوگئی تھیں۔

اماں کی زندگی کا یہ سب سے خوب صورت دن تھا جب وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی نئی زندگی کی شروعات کی طرف ایک قدم بڑھانے والی تھیں۔ غزنی کے ساتھ جاکر آج وہ اجیہ کے لیے تین جوڑے کپڑوں کے‘ میچنگ جوتے‘ پرس وغیرہ کے ساتھ ایک بہت خوب صورت سی انگوٹھی بھی لے کر آئی تھیں کہ ہاں تو سکندر صاحب کرہی چکے تھے اور ابھی جب سکندر صاحب کو فون کرکے انہیں اپنے آنے کے بارے میں بتایا تھا تب بھی سکندر صاحب نے نہایت خوشی سے انہیں خوش آمدید بھی کہا اور اماں کی طرف سے کئے گئے شکریے کے جواب میں انہیں تکلف نہ برتنے کا کہہ کر اعتراف کیا کہ وہ خود بھی خوش قسمت ہیں کہ غزنی ان کا داماد بننے جارہا ہے اور وہ اپنی بیٹی کی زندگی کو یقینی طور پر غزنی کے ساتھ بہت خوشگوار دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔
ٹیلی فون پر بھی یہی طے پایا تھا کہ کسی بھی دوسرے رشتے دار کو دعوت دینے کے بجائے دونوں گھرانے مل بیٹھ کر اس رشتے کے جڑنے کی تصدیق کرلیں تو بہتر ہے۔ اس اقدام کی بنیادی وجہ صرف یہ تھی کہ سکندر صاحب کا کم سے کم خرچہ ہو۔
ویسے میں سوچ رہی تھی کہ غزنی ہمارا اکلوتا بیٹا ہے‘ اگر اس کی زندگی میں آنے والی اس پہلی خوشی کو ہم یوں سادگی سے خوش آمدید کہیں تو لوگ کیا کہیں گے؟ اماں نے انگوٹھی کی مخملیں ڈبیا اپنے پرس میں ڈال کر پُرخیال نظروں سے ابا کو دیکھا جو ابھی ابھی کمرے میں داخل ہوئے تھے۔
یوں کہیں ناں ملکہ عالیہ کہ آپ بھی دنیا کے سب سے بڑے روگ یعنی ’کیا کہیں گے لوگ‘ کا شکار ہورہی ہیں وہ مسکرا کر ان کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گئے۔
آخر دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کے لوگ چھوڑ سکتی ہوں اور نہ ہی ان سے جڑے روگ‘ کتنا ہی نظر انداز کروں لیکن یہ سب باتیں ذہن میں تو آتی ہیں ناں اور ویسے بھی انہی لوگوں کے درمیان ہی تو اپنی زندگی گزارنی ہے اور باتیں بھی ان کی ہی سننی ہیں اماں نے وضاحت کی۔
پہلی بات تو یہ کہ اگر آپ یہ بات سوچ رہی ہیں تو اس کی ٹائمنگ انتہائی غلط ہے کیونکہ یہی بات اگر کم ازکم آپ رات کو بھی کرلیتیں تو چند ایک رشتے داروں کو ساتھ لے جاتے۔ لیکن اب نہ تو ہم کسی کو مدعو کرسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی بھی ان دو تین گھنٹوں کے نوٹس پر آئے گا اور پھر اگر ہم نے کسی کو ساتھ لے جانا تھا تو سکندر اور بھابی کو پہلے سے مطلع کرنا لازمی تھا تاکہ وہ اس لحاظ سے انتظام رکھتے‘ چاہے نہ بھی رکھتے لیکن ان کے علم میں ہوتا کہ ہمارے ساتھ کتنے لوگ ہیں
بات تو آپ کی سو فیصد ٹھیک ہے لیکن جب سب کو پتہ چلے گا تو لوگ اعتراض تو کریں گے ناں کہ ایک اکلوتا بیٹا‘ اور اس کی منگنی بھی کر آئے لیکن کسی کو بتایا تک نہیں ابا نے تفصیل سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن اماں کے ذہن میں اچانک بیدار ہوجانے والے اگر مگر اور لیکن اب تک سر اٹھائے وہیں موجود تھے اور اگر دیکھا جائے تو وہ اپنی جگہ بالکل درست تھیں لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ اچھی بات بھی اگر تاخیر سے کی جائے تو وقت گزرنے کے بعد اس کی بھی افادیت نہیں رہتی اور یہی ان کے ساتھ ہوا تھا۔
اس کی آپ فکر نہ کریں آج کا تو دن ظاہر ہے اب آدھا گزر ہی چکا ہے‘ کل تمام لوگوں میں مٹھائی بجھوادیں گے تاکہ سب کو اطلاع ہوجائے اور اگر کسی نے کوئی سوال کیا تو ان سب کے جوابات میرے ذمے‘ آپ بس پُرسکون ہوجائیں ان کی بات پر اماںمسکرا دی تھیں۔
ان کی یہ خوبی اماں کی زندگی کو اب تک پُرسکون بنائے ہوئے تھی کہ ابا نے آج تک کبھی بھی اپنے رشتہ داروں کے سامنے اماں کو جوابدہ نہیں کیا تھا۔ معمولی سی معمولی بات ہوتی یا کوئی بہت بڑا واقعہ‘ ابا ہی سب کے سامنے بات کرتے اور وضاحت دیتے۔ انہوں نے آج تک اماں پر کوئی بات آنے نہیں دی تھی‘ وہ ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ شوہر صرف اپنی بیوی کا جسمانی محافظ ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کی عزت اور جذبات کا محافظ بھی وہی ہوتا ہے اور اسے کسی بھی طرح یہ زیب نہیں دیتا کہ دنیا میں کوئی بھی اس کی بیوی کا جذباتی استحصال کرے اور وہ بس خاموشی سے دیکھتا رہے یا کسی بھی معاملے میں اسے دوسروں کے سامنے جواب دے کرکے خود کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دے کیونکہ میاں بیوی ایک دوسرے کے شریک سفر اور شریک حیات ہوتے ہیں اور حیات کے اس سفر میں کیسا ہی مشکل دور کیوں نہ آجائے‘ ہاتھ چھڑوا لینے والا فریق ساتھ چلتا بھی رہے تو دل میں بات ضرور آجاتی ہے اور پھر یہی چھوٹی چھوٹی باتیں دلوں کو دور کرنے لگتی ہیں اور اگر دل دور ہوں تو جسموں کا ملاپ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
اماں کس وقت نکلنا ہے؟ غزنی شاور لے کر نکلا اور تولیے سے بال خشک کرتا وہیں آگیا تھا۔
ارے بھئی بس تیار ہوجائو تو چلیں ویسے بھی صرف جانا آنا تھوڑی کرنا ہے‘ آرام سے بیٹھیں گے جاکر کیوں میڈم؟ ابا نے اماں کو مخاطب کیا تو وہ بھی تائید میں سر ہلانے لگیں۔
بس ٹھیک ہے میں ابھی چینج کرکے آتا ہوں‘ آپ لوگ بھی ریڈی ہوجائیں غزنی ابا کو انگوٹھا دکھا کر اوکے کرتا ہوا کمرے سے نکلا‘ انہوں نے بھی جواباً اوکے کہا اور گہری مسکراہٹ کے ساتھ اماں کو دیکھنے لگے جو منہ پر دوپٹہ رکھ کر اپنی مسکراہٹ غزنی کے سامنے چھپائے ہوئی تھیں۔
وہ دونوں جانتے تھے کہ غزنی اس رشتے سے کتنا خوش ہے‘ گو کہ وہ ان دونوں کے سامنے کبھی کھل کر اظہار تو نہیں کرتا تھا لیکن آخر والدین تھے اور اس کے چہرے سے پھوٹتی خوشی دیکھ کر باآسانی اس کے دل کا حال جان لیتے تھے اور اب مطمئن تھے کہ ان کے بیٹے نے جو چاہا اور جسے چاہا اب اسے حاصل کرنے بھی جارہا ہے۔

اربش کے گھر پہنچنے سے پہلے ممی گھر پہنچ چکی تھیں اور بڑی گرم جوشی سے بوا کے ساتھ اربش کی فون کال اور اس کی ہونے والی انجان سسرال کو ڈسکس کررہی تھیں۔ اربش کی گاڑی کی آواز آئی تو فوراً اٹھ کر باہر لپکیں‘ بوا بھی ان کے پیچھے تھیں۔
ممی خیر تو ہے‘ آپ دونوں اس وقت یہاں کیا کررہی ہیں؟ اربش نے حیرت سے گاڑی سے نکلتے ہوئے ان دونوں کو دیکھا اور وہ تینوں ایک ساتھ اندر آئے۔
ارے بیٹا آج ہم نے شام کو اپنی بہو کے گھر جانا ہے ناں تو بس وہی بے تابی ہے بوا نے بتایا۔
تم نے کچھ بتایا بھی تو نہیں کہ آخر وہ کون ہے کیسی ہے کہاں رہتی ہے نام کیا ہے تم سے کہاں ملی؟ اور ممی‘ بوا اسے بھی دو قدم آگے تھیں ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ بس ایک ہی سانس میں اپنے ہونے والی بہو کا سارا بائیو ڈیٹا معلوم کرکے پُرسکون ہوجائیں اور پھر جلدی سے جاکر نہ صرف اس کے والدین سے ملیں بلکہ انہیں بھی اپنے گھر مدعو کرکے تمام معاملات آگے بڑھائیں۔
ارے ممی اتنی بے تابی؟ اربش کو اتنا یقین تو ضرور تھا کہ ممی اور بوا اس کے منہ سے کسی بھی لڑکی کے بارے میں سن کر بے چین ہوجائیں گی لیکن اس حد تک ہوں گی یہ بات اس کے قیاس میں بھی نہ تھی۔
تو اور کیا تمہیں کیا پتہ اس دن کا مجھے کس قدر بے چینی سے انتظار تھا‘ کتنا خواب تھا میرا کہ جلدی سے وہ دن آئے جب میں اپنے اربش کو دلہا بنا دیکھوں انہیں واقعی ایسی خوشی تھی جیسی برسوں پہلے کھوئی ہوئی کوئی قیمتی چیز اچانک مل گئی ہو۔
ابھی تو ہم صرف ان سے ملنے جائیں گے۔ آگے کے معاملات تو پھر بعد کی بات ہے ناں اربش مسکرایا۔
تو پھر نیک کام میں دیر کیسی‘ کھانا کھائو اور تیار ہوکر نکلتے ہیں بوا نے کہا تو اربش اسی طرح مسکراتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ بوا جب تک گرم گرم روٹیاں پکاتیں ممی اپنے اور اربش کے پہنے جانے والے کپڑے نکالنے کے لیے بیڈ روم میں داخل ہوئیں‘ اربش گو کہ اب بچہ نہیں رہا تھا لیکن پھر بھی ممی کی خواہش ہوتی کہ وہ ان کے ہی منتخب کردہ کپڑے پہنا کرے اور اس نے بھی کبھی اعتراض نہیں کیا تھا۔ ان کی خوشی کو ہمیشہ اور ہر حال میں اہمیت دیتا‘ ویسے بھی ان کی پسند بہترین تھی‘ جگہ ماحول اور موقعے کی مناسبت سے ہی ہر چیز کا اہتمام کرتیں۔ لہٰذا آج اپنے لیے تو رائل بلیو کلر کی ساڑھی نکالی جبکہ اربش کے لیے ڈارک بلیو جینز کے ساتھ بالکل سفید ٹی شرٹ اس کے وارڈ روب سے نکال کر بیڈ پر رکھی اور بوا کی آواز پر کھانا کھانے پہنچ گئیں اور کھانا بھی آج بس رسمی طور پر ہی کھانا تھا ورنہ لڑکی دیکھنے کے خیال نے بھوک تو اڑا ہی دی تھی۔

؎شام کی سرمئی فضائوں میں
یوں تیری یاد کی شفق پھیلی
جیسے دلہن کے نرم ہاتھوں پر
رنگ لائے سہاگ کی مہندی
نور سا بھر گیا ستاروں میں
کہکشاں نے مراد پائی ہے
چاند کی پُر مزاح باتوں پر
رات بھی کھل کے مسکرائی ہے
اُن میں بھی تم نہ آئو اگر
پھر کہاں دن قریب آنے کے
رات برسات کی‘ بہار کے دن
دُو تو موسم ہیں دل لگانے کے

حنین اس وقت خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھ رہی تھی جس نے اپنی محبت کو بغیر کسی رکاوٹ کے پالیا تھا اور اس بات کا اظہار اس نے اپنی ڈائری میں بھی کردیا تھا۔ فرق بس اتنا تھا کہ پہلے وہ غزنی کو مخاطب کیے بغیر بات کیا کرتی تھی لیکن اب غزنی کا نام لکھ کر نہ صرف اپنی فیلنگز کا اظہار کیا بلکہ جگہ جگہ پر اپنی خوب صورت لکھائی میں غزنی کے نام کے ساتھ اپنا نام بھی لکھا اور یہی اس کی حسرت تھی کہ اس کے نام کے ساتھ صرف اور صرف غزنی ہی کا نام لیا جائے اور پھر ڈائری سے بڑھ کر اس معاملے کا تو کوئی بھی راز دار نہیں تھا لہٰذا ڈائری بند کرکے رکھنے کے بعد امی کی ہدایت پر لائٹ پنک کلر کی فراک اور چوڑی دار پاجامے کے ساتھ بڑا سا دوپٹہ لے کر اب مختلف انداز سے آئینے کے سامنے خود کو دیکھ رہی تھی‘ جب اجیہ اور امی کچن کے تمام کام نمٹا کر کمرے میں آئیں۔
ماشاء اللہ میری بیٹی تو ہے ہی حسین لیکن آج تو روپ ہی نرالا ہے امی نے اسے بے اختیار گلے لگا کر بالوں میں ہاتھ پھیرا تو وہ شرما گئی۔
یہ جو آپ کی بیٹی کا حسن ہے ناں امی یہ سارا آج کے تازہ ترین رگڑائی میرا مطلب ہے فیشل کا نتیجہ ہے ورنہ تو وہی باسی مولی جیسا تھکن زدہ چہرہ آپ کے سامنے ہوتا اجیہ نے اپنے لیے کپڑے نکالتے ہوئے جان بوجھ کر اسے چڑایا تو امی نے مصنوعی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے آنکھیں دکھائیں۔
امی دیکھیں مجال ہے جو میری تعریف کردے حالانکہ اسے پتہ ہے کہ آج مجھے اس کی تعریف کی کتنی ضرورت ہے اس نے منہ بسورا تو اجیہ اپنے کپڑے بازو پر ڈالے اور اس کے نزدیک چلی آئی۔
آج میری بہن کی تعریف تو کرنے والے کریں گے۔ تم دیکھنا تو سہی اور پھر تمہیں نہ میری تعریف کی ضرورت رہے گی اور نہ ہی اہم لگے گی
بس تو پھر آج جان بوجھ کر تنگ مت کرو ناں‘ پہلے ہی بہت کنفیوز بلکہ بہت ہی نروس ہورہی ہوں حنین نے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا۔
ارے نروس ہوں تمہارے دشمن یہ لو فیس پر ہلکا سا میک اپ کرو‘ میں بھی ڈریس چینج کرلوں ورنہ میری تو باتوں سے بھی مصالحوں کی مہک آئے گی اجیہ نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی بیس اسے پکڑائی اور خود باتھ روم جاکر شاور لیا‘ کپڑے تبدیل کیے اور ابھی باہر آئی ہی تھی کہ اطلاعی گھنٹی نے غزنی وغیرہ کی آمد کا بتایا‘ اتفاق سے عین اسی وقت سکندر صاحب کسی کام سے باہر نکلے تھے اور حنین صحن میں ہی موجود تھی اور پھر اطلاع گھنٹی تو ایک تکلف اور محض روایت کے طور پر بجائی گئی تھی گیٹ کھلا ہوا دیکھا تو غزنی اور تایا ابو نے اپنا موٹر سائیکلیں اندر کیں اور اس سے پہلے کہ انہیں اندر آتا دیکھ کر حنین کمرے کی طرف بھاگتی‘ تائی امی جو موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ سے اتر کر پیدل ہی غزنی اور تایا ابو سے پہلے اندر آچکی تھیں‘ اس کی طرف لپکیں‘ ان کے ہاتھ میں چند شاپنگ بیگز تھے جبکہ مٹھائی کا ٹوکرا غزنی کے پاس تھی۔
اور جب تائی امی اس قدر گرم جوشی سے اس کی طرف بڑھیں تو اس کے لیے شرم وحیا کے باعث انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہ رہا تھا لہٰذا نظریں جھکا کر آگے بڑھی اور انہیں سلام کیا تو انہوں نے گلے لگا لیا۔
جیتی رہو‘ میری بچی خوش رہو اور دونوں گھرانوں کی نئی رشتے داری مبارک ہو
آپ کو بھی مبارک ہو تائی امی ہر وقت پٹرپٹر بولنے والی حنین نے جھجک کر جواب دیا۔ اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ ان کے آتے ہی وہ گیٹ کے قریب ہی کھڑی نظر آئی‘ یعنی کہ اجیہ کی بات ہی سچی ثابت ہوئی کہ ہمیں پتہ ہوتا کہ تمہیں اس رشتے کی اتنی خوشی ہوگی تو ہم خود تائی امی سے کہتے کہ آپ کی بہو انتہائی اتاولی پوزیشن میں گھر کے دروازے پر کھڑی ہے‘ غزنی کو کہیں جلد از جلد اسے دلہن بنا کر لے جائے اس نے سوچا اور واقعی بعض اوقات کہی ہوئی بات سچ ثابت ہوجاتی ہے۔
اسی دوران امی بھی کمرے سے نکل آئی تھیں اور تائی امی سے مل کر انہیں لائونج میں لے گئیں۔ تایا ابو نے بھی حنین کے سر پر ہاتھ رکھا دعا دی اور ان کے ساتھ اندر چلے گئے اور اس سے پہلے کہ وہ غزنی سے چھپ کر اندر جاتی‘ اس نے بھی موٹر سائیکل دیوار کے ساتھ کھڑی کی‘ مٹھائی کا ٹوکرا اٹھایا اور اندر جاتی حنین کو پکارا۔
غزنی کے منہ سے آج اپنا نام سننا حنین کو اتنا خوبصورت اور منفرد لگا تھا کہ اسے محسوس ہوا جیسے غزنی کی آواز نے اس کے قدموں کو تو روکا ہی تھا اس کی سانسوں کو بھی اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا اور پھر وہ چاہنے کے باوجود مڑ کر اسے دیکھ نہیں پائی تھی اور وہیں کھڑی رہی جب تک کہ وہ خود مٹھائی کا ٹوکرا لیے اس کے سامنے نہ آن کھڑا ہوا۔ حنین نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
مکمل سیاہ رنگ کے شلوار قمیص میں آج اس نے غزنی کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا‘ اس کا دل چاہا کہ بس اسے یوں اپنے سامنے کھڑا دیکھ کے اسے حفظ ہی کرلے۔ آخر محبت کرنے والوں کو ایک نگاہ سے سیر ہونا کہاں آتا ہے۔ سلیقے سے بنے ہوئے بال‘ نوک دار مونچھیں اور بولتی ہوئی گہری آنکھیں غزنی آج حنین کے سامنے آیا تو اسے اپنا آپ بھولنے لگا تھا اور یوں غزنی نے حنین کو خود پر نظریں جمائے دیکھا تو شرارت سے بولا۔
مجھے نہیں پتہ تھا کہ آج اس سیاہ لباس میں‘ میں اتنا ہینڈسم لگوں گا کہ پٹرپٹر بولنے والی لڑکی کی بھی بولتی بند ہوجائے گی
خیر اب ایسا بھی نہیں ہے غزنی جو اپنی بات کے جواب میں اب حنین کی طرف سے کسی دل جلے جواب کے انتظار میں تھا اس کے مختلف جواب میں حیرت سے دیکھنے لگا۔
تم حنین ہی ہو ناں! وہ لڑنے مرنے والی؟ اور اگر تم وہی ہو جو کہ تم ہو تو پھر آج اتنی معصومیت کہ میرے جیسا بندہ تو قربان ہی ہوجائے کیوں آخر کیوں بھئی کیوں؟ جواب میں وہ مسکرائی لیکن نیچی نگاہ کیے خاموش رہی۔

؎اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

غزنی نے ذرا سا جھک کر آہستہ آواز میں شعر پڑھا کہ کہیں سکندر صاحب نہ سن لیں اور حنین اس کے یوں جھکنے پر گھبرا کر پیچھے ہٹی تو غزنی اس کے اس بے ساختہ ردعمل پر حیران رہ گیا۔
ہلکے سے میک اپ کے ساتھ گلابی لباس پہنے وہ خود بھی گلابی ہورہی تھی اور اس کا یہ انداز غزنی کے لیے باعث حیرت تھا۔
یہ جو تم آج تک مجھ سے لڑتی آئی ہو‘ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ذرا سی رشتے داری ڈبل ہونے پر تم میری یوں عزت کرنے لگو گی کہ آگے سے جواب بھی نہیں دوگی تو میں تو بچپن میں ہی یہ رشتہ کرلیتا غزنی نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا جس کی نظریں اب تک نیچے تھیں۔
خیر یہ رعایتی پیکج تو صرف آج کے لیے ہے‘ اس لیے مجھے زیادہ تنگ کرنے کی کوشش نہ کرنا مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اس نے غزنی کو دیکھا جو انتہائی دلچسپی سے اس کی جانب متوجہ تھا۔
صرف آج کے لیے مطلب؟
مطلب یہ کہ منگنی کا احترام صرف آج تک ہی ہوگا اور وہ بھی اس لیے کہ تائی امی اور تایا ابو بھی موجود ہیں اور کچھ دنیا کے تقاضے بھی ہیں اور کل تک کیونکہ منگنی پرانی ہوجائے گی اس لیے وہی سلوک ہوگا جو پہلے ہوتا تھا
احترام! اوہ مائی گاڈ وہ بے اختیار ہنسا تھا‘ اسی دوران سامنے سے اجیہ لائونج سے باہر آتی دکھائی دی۔ ان دونوں کو کسی بات پر مسکراتے دیکھا تو وہ بھی خوش ہوگئی‘ تائی امی تایا ابو اس وقت سکندر صاحب کے کمرے میں بیٹھے تھے اس لیے وہ تینوں کسی بڑے کی موجودگی کے خوف اور لحاظ سے آزاد تھے۔
مبارک ہو اجیہ غزنی نے اسے سامنے پاکر مٹھائی اس کی طرف بڑھائی۔
بہت شکریہ تمہیں بھی مبارک ہو اجیہ نے مسکرا کر ان دونوں کو دیکھا اور مٹھائی لے کر کچن کی طرف پلٹنے ہی والی تھی کہ غزنی نے ایک بار پھر اسے پکارا۔
بہت جلدی ہے کیا آج بھی بات نہیں کروگی مجھ سے؟ اجیہ نے مڑتے ہوئے پھر پلٹ کر اسے دیکھا تو رک گئی۔ ویسے بھی وہ جس خوف کے تحت غزنی سے ٹھیک طرح بات کرنے سے کتراتی تھی وہ تو آج ختم ہوگیا تھا وہ احساس زائل ہوگیا تھا کہ شاید غزنی اسے چاہتا ہے اور جب ایسی کوئی بات تھی ہی نہیں اور اس کے تمام تر اندازے غلط ثابت ہوئے تھے تو پھر اس سے مناسب لہجے میں بات کرلینے میں کیا قباہت تھی اور ویسے بھی اب کبھی کبھار ملنے والی بات تو نہیں تھی‘ اب وہ اس گھر کا داماد بننے والا تھا‘ جس کے ساتھ بہترین تعلق رکھنا ہی حنین کے ساتھ ساتھ سب گھر والوں کے لیے بھی بہتر تھا۔
نہیں وہ دراصل میں تو بس یہ مٹھائی کچن میں رکھنے جارہی تھی تم دونوں یہاں لائونج میں آرام سے بیٹھو میں بھی ابھی آجاتی ہوں
تب تک تو اماں ابا وغیرہ بھی یہیں آجائیں گے‘ تم ایسا کرو یہ مٹھائی حنین کو دو یہ کچن میں رکھ آتی ہے غزنی نے بڑی سہولت سے اجیہ کے ہاتھوں سے مٹھائی کا ٹوکرا لے کر حنین کو دیا تو وہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ حیرت سے دیکھنے لگیں۔
میں رکھنے جائوں کچن میں؟ حنین نے حیران ہوکر پہلے اجیہ کو دیکھا جس نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا کر غزنی کی طرف اشارہ کیا تو وہ غزنی کو دیکھنے لگی۔
ہاں بھئی تم ہی جائوگی رکھنے اور کیا اب اجیہ کے بغیر بھی کام کا ج کرنے کی عادت ڈالو اجیہ ہی تمہارے ساتھ ہمیشہ تو نہیں رہے گی غزنی نے کہا تو وہ اس کی بات سمجھ گئی۔
اچھا ٹھیک ہے رکھ آتی ہوں لیکن ایک شرط ہے
وہ کیا؟ غزنی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
وہ یہ کہ تم نے مجھ سے ہمیشہ دوستوں کی طرح ہی بات کرنی ہے یہ جو تم اس گھر کے داماد بننے جارہے ہو ناں اس کے ساتھ ساتھ رعب نہ ڈالنے لگ جانا مجھ پر۔ ہے ناں اجیہ
بالکل سو فیصد متفق بلکہ مجھے خود بھی اچھا لگتا ہے تم دونوں کا اتنا دوستانہ تعلق اور مجھے بہت خوشی ہوگی اگر آئندہ بھی تم دونوں اسی طرح دوست رہو‘ کیونکہ رشتہ وہی مضبوط اور دیرپا ہوتا ہے جس کی بنیاد دوستی اور پھر محبت پر ہو اجیہ نے اس کی بات کی تائید کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا۔
تمہاری خوشی ہی تو عزیز ہے اجیہ غزنی نے گہری نظروں سے مسکراتے ہوئے اجیہ کی شفاف آنکھوں میں دیکھا۔
اور ویسے بھی حنین تو بچپن سے ہی میری دوست تھی اور آئندہ بھی رہے گی اور اس بات کے لیے مجھے کوئی بھی گارنٹی دینے کی بھی ضرورت نہیں لیکن خوشی مجھے اس بات کی ہے کہ تم اس رشتے سے خوش ہو وہ اجیہ سے مخاطب تھا۔ حنین مسکراتے ہوئے مٹھائی کا ٹوکرا لیے کچن کی طرف بڑھی تو وہ مزید بولا۔
وعدہ کرو اجیہ کہ تم ہمیشہ میرے ساتھ ایسی ہی رہوگی‘ اتنی ہی فرینڈلی اپنی جگہ سے اٹھ کر اب وہ اسی صوفے پر آبیٹھا تھا جس پر اجیہ بیٹھی تھی‘ اس کے بیٹھتے ہی وہ سمٹ کر دوسرے کنارے سے چپک گئی تھی۔ گو کہ صوفے پر تین افراد کے بیٹھنے کی جگہ تھی اور وہ دونوں ہی سائیڈ پر اس طرح بیٹھے تھے کہ درمیان کی جگہ بالکل خالی تھی لیکن اس کے باوجود بھی اجیہ کا دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ اگر سکندر صاحب نے اسے غزنی کے ساتھ یوں اکیلے ایک ہی صوفے پر بیٹھا دیکھ لیا تو طوفان نہ برپا کردیں اور وہ اس خوشی کے موقعے پر گھر میں کسی بھی طرح کی کوئی بدمزگی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
پتہ ہے میں شروع سے ہی تم سے بات کرنے اور تمہارے قریب آنے کی جتنی کوشش کرتا رہا تم اتنا ہی مجھ سے دور بھاگتی رہیں‘ پتہ نہیں تمہارے اندر کیا خوف تھا کہ آج تک تم نے ایک کزن ہونے کے باوجود مجھ سے سلام دعا سے آگے کوئی بات نہیں کی میں جب بھی یہاں آتا سوچتا ہی رہتا کہ شاید آج تم مجھ سے ٹھیک طریقے سے بات کرلو‘ مسکرا کر دیکھ لو‘ دو گھڑی پاس بیٹھ جائو لیکن میری خواہش‘ خواہش ہی رہی بلکہ حسرت میں بدل گئی‘ مجھے لگتا تھا کہ اگر میں رشتے کی بات کرو ںگا تو اس رشتے کی سب سے بڑی مخالف تم خود ہوگی‘ لیکن اس دن مجھے بہت حیرت ہوئی جب تم نے میری بات کے جواب میں رضامندی دکھائی اور میری توقعات کے برعکس اس رشتے پر خوشی کا اظہار کیا دھیمے لہجے میں سرگوشیوں کی طرح بات کرتا غزنی اجیہ پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی اور شاید سن بھی نہیں رہی تھی لیکن غزنی کو اس سے فرق نہیں پڑتا تھا اس کے لیے یہی بات کافی تھی کہ اجیہ اس کی ہے اور اس کے سامنے بیٹھی ہے۔
تم کچھ نہیں کہوگی تم خوش تو ہو ناں؟ وہ اس کی زبان سے کچھ سننا چاہتا تھا کچھ الفاظ جو وہ اپنی سماعتوں میں دیر تک دہراتا رہے۔
عجیب بات ہے‘ مجھے بھلا کیوں اعتراض ہوگا اگر امی اور بابا کو کوئی اعتراض نہیں ہے تو پھر میں کون ہوتی ہوں کچھ بھی کہنے والی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حنین اس رشتے سے بہت خوش ہے اور میرے لیے اس کی خوشی نہایت اہم ہے اس دفعہ اجیہ نے گردن موڑ کر غزنی کو دیکھا۔ اور مجھے امید ہے کہ تم بھی ایسا کچھ نہیں کروگے جس سے کبھی بھی کسی بھی طرح وہ ہرٹ ہو
تمہاری خوشی میری خوشی ہے اور تم سے جڑی ہر شے اور ہر رشتے کا خیال کرنا اب میری ذمہ داری ہے۔ میں تمہیں کبھی مایوس نہیں کروں گا آئی پرامس بات کرتے کرتے بڑی آہستگی سے اس نے اجیہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔
غزنی؟ اجیہ کو جیسے حیرت کا جھٹکا ہی تو لگا تھا۔ فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کھینچنا چاہا لیکن غزنی نے گرفت مضبوط رکھی اور اسے یوں زرد پڑتا دیکھ کر مسکرایا۔
یہ ہاتھ میں نے چھوڑنے کے لیے نہیں پکڑا ہے اجیہ اور تمہیں مجھ سے ڈرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے پلیز ریلیکس
تم ٹھیک تو ہو یہ کیا بدتمیزی ہے؟ اپنی حد میں رہو تو بہتر ہے‘ ورنہ میں کسی رشتے کا لحاظ کرنے والی نہیں ہوں‘ سمجھے تم؟ وہ فوراً غزنی سے ہاتھ چھڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
لیکن میں نے کیا‘ کیا ہے؟ غزنی کے لیے اس کا ردعمل حیران کن تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ بھی کھڑا ہوگیا تھا لیکن وہ اس کے اتنے شدید ردعمل کو سمجھ نہیں پارہا تھا۔ اسی دوران امی کمرے سے نکل کر آئیں اور سامنے ہی ان دونوں کو کھڑے دیکھ کے ٹھٹک گئیں۔
اجیہ بیٹا‘ کب سے یہ لوگ آکر بیٹھے ہیں‘ کوئی کولڈ ڈرنک یا جوس تو لے کر آئو ناں وہ عجلت میں تھیں اس لیے اس کے تاثرات نہیں دیکھ پائی تھیں۔
جی امی‘ بس ابھی لائی وہ ویسے بھی غزنی کے سامنے سے ہٹ جانا چاہتی تھی لہٰذا جیسے ہی امی نے کہا فوراً کچن میں چلی گئی جہاں حنین نے اب تک ٹرے تیار کرلی تھی۔
غزنی بیٹا تم اکیلے کیوں کھڑے ہو آجائو اندر بیٹھو سب کے ساتھ اور اس سے پہلے کہ امی غزنی کے ساتھ اندر آتیں‘ سکندر صاحب ان دونوں کو لیے لائونج میں آگئے۔
بھئی وہاں ذرا جگہ کم ہے اس لیے ہم یہاں آگئے تاکہ بچیاں بھی آرام سے ہمارے ساتھ بیٹھ سکیں اماں نے سامنے سے آتی حنین کو دیکھا تو پیار سے بولیں۔
اجیہ کہاں ہے بھئی اسے تو بلائو‘ ہم کوئی غیر تھوڑی ہیں جو وہ ہمارے سامنے آنے سے کترا رہی ہے ابا نے شگفتگی سے کہتے ہوئے جوس کا گلاس اماں کی طرف بڑھایا اور خود حنین سے کولڈ ڈرنک لی۔
بالکل ٹھک کہہ رہے ہیں آپ بھائی صاحب بلکہ جوس تو سرو ہی اجیہ کو کرنا چاہیے تھا آج‘ حنین کو تو بیٹھنا چاہیے تھا ناں خاموشی سے سکندر صاحب نے بھی تائید کی۔
ویسے بھی آج ان کا موڈ انتہائی خوشگوار تھا گاہے بگاہے باتیں کرتے ہوئے امی کو بھی ہنستے ہوئے مخاطب کرلیتے۔ غزنی کو سامنے بیٹھا دیکھ کر جیسے ان کا خون دگنا ہورہا تھا اور ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ انہیں بتائیں کہ یہ رشتہ جڑنے پر وہ کس قدر خوش ہیں۔ بیٹیوں کے اس دنیا میں آنے کے بعد والدین کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اب ان کا نصیب اچھا ہو اور کسی اچھے گھرانے میں کسی سلجھے ہوئے لڑکے کے ساتھ اس کی شادی ہوجائے جو اسے ہمیشہ خوش رکھے اور وہ خوش تھے کہ حنین کا نصیب غزنی کے ساتھ جڑا تھا جو ان کی نظرمیں اپنی مثال آپ تھا۔
باقی سب تو ٹھیک ہی تھا لیکن اجیہ غزنی کے اس عمل سے الجھ کر رہ گئی تھی۔ اتنی بے تکلفی سے اس کا ہاتھ پکڑنا اور پھر اجیہ کا ہاتھ پرے کرنے کی کوشش وہ سب کے سامنے انتہائی محتاط رہی تھی اور اب جبکہ حنین سے رشتہ جڑنے کے بعد وہ اس کا بہنوئی بننے جارہا تھا‘ ایسے میں کی گئی یہ حرکت اجیہ کوئی چھوئی موئی ٹائپ لڑکی نہیں تھی جسے کوئی بھی راہ چلتا لڑکا چھیڑ کر چلتا بنتا‘ بلکہ وہ کسی بھی ایسی حرکت کے جواب میں بیچ بازار میں بھی کسی کا گریبان تھامنے سے گریز نہ کرتی لیکن یہاں معاملہ ذرا مختلف تھا۔
اس وقت گھر میں سب خوش تھے اور اس ایک انتہائی خوشی کے موقعے پر وہ کوئی بھی واویلا کرکے ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن کم از کم اس نے یہ ضرور سوچ لیا تھا کہ اب اسے پہلے سے کہیں بڑھ کر غزنی کے سامنے محتاط رہنا ہے اور آئندہ کے لیے تنہائی میں تو ہرگز اس کے ساتھ موجود رہنے کا تصور بھی نہیں کرنا۔ کچن میں سلیپ پر ہاتھ رکھے یونہی بے مقصد کھڑی وہ آج کی صورت حال پر غور کررہی تھی‘ اسے پتہ بھی نہیں چلا کہ تائی امی کب کچن میں داخل ہوئیں اور کب اس کے قریب آگئیں۔ احساس ہوا تو تب کہ جب انہوں نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔
تائی امی آپ یہاں کچن میں؟ وہ شرمندہ بھی ہوئی اور حیران بھی۔
ظاہر ہے بھئی جب ہماری بیٹی ہی ہمارے پاس نہیں بیٹھے گی‘ ہم سے بات نہیں کرے گی تو اس سے ملنے‘ اسے دیکھنے اور اس سے بات کرنے کے لیے ہم تو اسی طرح پیچھے پیچھے آئیں گے ناں انہوں نے حسب عادت مسکرا کر بات کی۔
نہیں‘ وہ دراصل میں بھی بس آنے ہی والی تھی
آج میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہونے والی ہے بیٹا اور اس خوشی کا اندازہ کوئی بھی نہیں کرسکتا کہ اس دن کے لیے میں نے کتنا انتظار کیا تھا
جی تائی امی‘ جانتی ہوں اندازہ ہے مجھے اس بات کا سابقہ کیفیت کو وقتی طور پر پس پشت ڈال کر وہ مسکرائی۔
بھائی صاحب نے ہم پر جو اعتماد کیا ہے تم دیکھنا کہ زندگی کی آخری سانس تک کسی کی زبان پر ایک بھی حرف شکایت نہیں آنے دوں گی
آپ ہیں ہی اتنی اچھی کہ آپ سے کسی کو بھی کوئی شکایت ہوہی نہیں سکتی۔ اس گھر میں سبھی اچھے ہیں‘ تایا ابو جیسی شخصیت تو ہمارے پورے خاندان میں کسی کی نہیں ہے اس نے اعتراف کیا۔
اور رہ گیا غزنی تو وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ تمہیں وقت بتائے گا تائی امی نے کہا اور اس کا ہاتھ ہاتھوں میں لیے لائونج میں چلی آئیں۔ جہاں سب کسی بات پر قہقہہ لگا رہے تھے۔ سکندر صاحب کو یوں قہقہہ لگاتے دیکھ کر اجیہ تو جیسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔
یہ منظر کتنا اجنبی لگا تھا‘ کتنا نامانوس اور انجان سا کہ نہ صرف سکندر صاحب قہقہہ لگا کر ہنس رہے تھے بلکہ امی کے چہرے پر بھی ایک جاندار ہنسی موجود تھی اور ہر وقت منہ پھاڑ کر ہنسنے والی حنین خود پر کنٹرول کیے صرف مسکرانے پر اکتفا کیے بیٹھی تھی‘ سکندر صاحب کے دائیں طرف ابا جبکہ بائیں طرف حنین بیٹھی تھی‘ امی سنگل صوفے پر تھیں‘ البتہ غزنی کے صوفے پر دو افراد کی جگہ خالی تھی۔ تائی امی اسے ساتھ لے کر خود غزنی کے ساتھ بیٹھیں اور اسے بھی اپنی دوسری طرف بٹھالیا۔ اب غزنی کا مکمل رخ تائی امی ہی کی طرف تھا تاکہ اجیہ کو دیکھا جاسکے۔ وہ اب بھی اس کے ردعمل کو ایک مشرقی لڑکی کا ری ایکشن ہی سمجھ رہا تھا جسے ہاتھ تھامنا برا لگا تھا۔
کیوں ناں ایسا کریں کہ کھانے کا ٹائم ہونے والا ہے‘ پہلے کھانا کھالیں‘ پھر آرام سے بیٹھ کر گپ شپ کرتے رہیں گے؟ امی نے تائی امی اور پھر تایا ابو کی طرف مشورہ طلب نظروں سے دیکھا۔
نہیں بھئی دراصل مجھ سے تو صبر نہیں ہورہا اس لیے میرا تو خیال ہے کہ جس کام سے آج ہم آئے ہیں پہلے وہ کام کیا جائے اور کھانا پھر بعد میں تائی امی نے امی کی رائے لینا چاہی جواب میں امی نے سکندر صاحب کو دیکھا۔
ٹھیک ہے بھابی‘ جیسے آپ کی خوشی اب تو آپ کی مرضی ہے جو کریں سکندر صاحب بھی مسکرائے۔
بھئی سکندر سب سے پہلے تو میں ایک بار پھر تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں اور تمہارا احسان مند ہوں کہ تم نے ہم پر اعتماد کیا ابا نے کہا۔
بس بھائی صاحب دعا ہے کہ جو رشتہ آج جڑنے جارہا ہے وہ ہمیشہ کے لیے ہو سکندر صاحب نے پہلو میں بیٹھی حنین کو دیکھا اور گہری سانس لی۔
یہ لمحہ بیک وقت ان کے لیے خوشی کا بھی تھا اور رنج کا بھی‘ کہ آج کے بعد اب بہت کم عرصے میں وہ انہیں چھوڑ کر اپنی نئی دنیا بسائے گی لیکن بہرحال وہ مطمئن تھے۔
ارے حنین تم وہاں کیوں بیٹھی ہو؟ اٹھو ادھر آئو یہاں بیٹھو تائی امی نے درمیان سے اٹھ کر حنین کے لیے جگہ خالی کی۔ اجیہ اس سے پہلے کہ اٹھتی انہوں نے اپنا پرس اجیہ کی گود میں رکھا اور خود اس پرس کے اندر رکھے ایک چھوٹے سے پرس کو نکال لیا۔
سر جھکائے نظریں نیچے کیے حنین اپنی جگہ سے اٹھ کر صوفے تک آئی‘ غزنی نے اجیہ کے قریب ہوتے ہوئے اس کے لیے جگہ خالی کی اور یوں درمیان میں بیٹھے غزنی کے دونوں طرف حنین اور اجیہ بیٹھ گئیں تایا ابو کو غزنی نے موبائل دیا اور سکندر صاحب سے نظر بچا کر آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ اشارہ کیا کہ وہ موبائل ہاتھ میں لیے سامنے دیوار کے ساتھ رکھی کرسی پر جا بیٹھے اور فوٹو گرافر کی ذمہ داری سنبھال لی۔
لو بھئی حنین یہ انگوٹھی تائی امی نے ڈبیا کھول کر انگوٹھی نکالی اور حنین کی طرف بڑھائی۔
لیکن تائی امی میں؟ اس نے ناسمجھی سے ہچکچاتے ہوئے انگوٹھی ان کے ہاتھ سے لی۔
ہاں ناں بھئی تم ہی تو غزنی کی بچپن کی دوست ہو ناں وہ کیا کہتے ہیں کرائم پارٹنر تم غزنی کو یہ انگوٹھی دو تاکہ وہ اجیہ کی انگلی میں پہنا کر اسے ساری عمر کے لیے اپنے ساتھ قید کرلے
یہ کیا کہہ رہی تھیں تائی امی حنین سمیت کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہا تھا بلکہ سب نے ہی اسے اپنی سماعت کا دھوکا سمجھا اور بے یقینی وناسمجھی سے ایک دوسرے کو دیکھا تب تک میکانکی انداز میں حنین ان کی دی گئی انگوٹھی غزنی تک بڑھا چکی تھی۔
غزنی نے مسکراتے ہوئے اس سے انگوٹھی لی اور اماں کی طرف سے کیری آن کا سگنل ملتے ہی اجیہ کا بایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
بھابی یہ سب کیا ہے سکندر صاحب نے جیسے نیند میں کوئی بات کی۔
فکر نہ کریں بھائی صاحب اجیہ کو ہم بہو نہیں بیٹی بنا کر رکھیں گے۔ یہ ہم دونوں کا آپ سے وعدہ ہے غزنی خلا میں یک ٹک دیکھتی اجیہ کے ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کر دانستہ اس کے مزید قریب ہوکر بیٹھا تھا۔ ابا تصویریں بنارہے تھے اور اب تک اجیہ کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں ہی تھا۔
لو یو اجیہ گردن موڑ کر اس نے بغیر آواز کے اجیہ کے کان میں سرگوشی کی‘ انداز ایسا ہی تھا کہ جیسے گردن موڑ کر پیچھے کچھ دیکھا ہو لیکن ان لفظوں کی حدت اجیہ نے اپنی گردن پر محسوس کی تھی۔
غزنی کو اپنے اماں ابا کی تو چنداں فکر نہ تھی لہٰذا سکندر صاحب کی وجہ سے اسے پیچھے مڑ کر کچھ دیکھنے کی اداکاری کرنا پڑی تھی۔
لیکن آپ نے تو مجھ سے رشتہ مانگتے وقت؟ سکندر صاحب کچھ بھی کہہ نہیں پارہے تھے اور کہتے بھی تو کیا‘ کہ نام تو آج تک انہوں نے حنین یا اجیہ کا لیا ہی نہیں تھا۔ یہ تو وہ خود ہی سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ غزنی کے لیے حنین کا رشتہ لینے آرہے ہیں۔ غلطی کہاں پر ہوئی تھی؟ یہ سرا ان کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ امی ساکت تھیں تو حنین ششدر اور اجیہ
نجانے اس وقت اس کے تمام محسوسات کہاں جاسوئے تھے‘ اسے اپنا آپ سرد خانے میں رکھی لاش کی مانند بے جان اور منجمد لگ رہا تھا۔ کیا اسے ابھی اور اسی وقت انگوٹھی اتار پھینکنی چاہیے یا سب کے سامنے بات کرنی چاہیے کہ یہ غلط ہورہا ہے جو کہ اس طرح کسی نے بھی نہیں سوچا تھا۔
جس طرح میں نے شروع سے سوچا اللہ نے ہمارے حق میں ویسا ہی کیا اور جہاں تک غزنی کی بات ہے تو اگر اس کی طرف سے کوئی اونچ نیچ ہوئی تو ذمہ داری ہماری اماں نے اجیہ کا ماتھا چوما اور ساتھ ہی نیک ارادوں کا اظہار کیا تو امی کو یاد آیا کہ سکندر صاحب سے شادی کے وقت ان کی ساس نے بھی یہی فقرے کہے تھے۔
حنین وہاں سے اٹھ جانا چاہتی تھی لیکن اسے لگا کہ اس کے قدم من من بھر کے ہوگئے ہیں اور شاید اس کے لیے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ممکن نہیں ہوگا‘ اجیہ نے ہنسی خوشی تصویریں بناتے تایا ابو کو دیکھا اور پھر تفکرات میں گھرے سکندر صاحب کو۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اگر ابھی وہ خاموش رہی تو پھر شاید کبھی بھی یہ معاملہ ٹھیک نہیں ہوپائے گا‘ لہٰذا ہونٹ چباتی ہوئی امی کو دیکھنے کے بعد گہری سانس لی اور بولی۔
تایا ابو مجھے کچھ کہنا ہے اب تک وہ غزنی کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ دور کرچکی تھی۔ خوشی وغم کے اس ماحول میں اس کی آواز نے سب کو اس کی طرف متوجہ کیا۔
شاید میری بات آپ لوگوں کو بری لگے‘ لیکن مستقبل کی منصوبہ بندی ہمیشہ حال میں رہ کر کی جاتی ہے۔ عمارت بناتے وقت اس کی بنیاد کی درستگی پر زور دیا جاتا ہے اور جس عمارت کی بنیاد ہی ٹھیک نہ ہو وہ کسی بھی وقت دھڑام سے گر جانے کے خطرے سے دوچار رہتی ہے‘ ایسا ہی ہوتا ہے ناں تائی امی؟ اجیہ نے رخ موڑ کر امی کے ساتھ بیٹھی تائی امی کو دیکھا جو ساتھ لائے ہوئے شاپنگ بیگز میں سے اجیہ کے لیے خریدے گئے کپڑے‘ جوتے اور میک اپ کٹ وغیرہ نکال کر سامنے میز پر سجا رہی تھیں۔
ہاں بیٹا ہوتا تو ایسا ہی ہے لیکن اس تمہید کا اس سب سے کیا تعلق بنتا ہے؟
تعلق بنتا تو نہیں لیکن تعلق بن گیا ہے تائی امی اس نے حنین کا جھکا ہوا سرخ چہرہ دیکھا۔
دراصل‘ میرا خیال ہے کہ جس بات کی بعد میں تکلیف ہو‘ اس پر پہلے ہی سنبھل جانا بہتر ہے‘ یا پھر یہ کہہ لیں کہ جس فیصلے پر بعد میں پچھتانا ہو اس پر پہلے نظر ثانی کرلینی چاہیے
بیٹا تم کہنا کیا چاہتی ہو ذرا کھل کر کہو میرا خیال ہے کہ ہمارے سامنے تمہیں کسی بھی قسم کی جھجک یا پریشانی کا شکار نہیں ہونا چاہیے‘ تم بہو بعد میں لیکن پہلے ہماری بیٹی ہو اس لیے اگر کسی بھی معاملے میں کوئی بھی پریشانی ہے ہم میاں بیوی سے کوئی اختلاف ہے‘ غزنی سے کوئی شکایت ہے تو بے شک ہم سے کہو‘ اسے تو میں ابھی تمہارے سامنے ڈپٹ کر سیدھا کردوں گا‘ بلکہ کان پکڑوائوں گا اور اگر کہیں ہم دونوں سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کی بھی معذرت کرنے میں مجھے کوئی شرم محسوس نہیں ہوگی بلکہ آئندہ کبھی دوبارہ ایسا نہ ہو ہم اس کا بھی وعدہ کریں گے اجیہ کی بات پر وہ گھبرا سے گئے تھے کہ آخر ایسی کون سی بات ہے جس کی وجہ سے اجیہ کو یوں آج سب کے سامنے اس خاص موقعے پر بات کرنا پڑی۔ اور ان کے اس حوصلہ افزا انداز نے واقعی اجیہ کی ہمت بندھائی تھی‘ لہٰذا بات شروع کرنا چاہی۔

بوا اور ممی گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں اربش بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو ضرور تھا لیکن پھر اچانک کچھ یاد آنے پر اندر گیا اور جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں کسی لیبارٹری کی فائل تھی۔ فائل ڈیش بورڈ پر رکھ کر اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور حسب عادت خوشگوار موڈ میں بولا۔
اوکے لیڈیز ریڈی؟ بیک مرر سے اس نے بوا کو بھی دیکھا اور ساتھ بیٹھی ممی کو بھی۔
گو آہیڈ بیٹا ممی مسکرائیں اور وہ گاڑی سڑک پر لے آیا۔
یہ رپورٹس کس کی ہیں؟ ممی نے دیکھنے کا تکلف کیے بغیر صرف پوچھنے پر ہی اکتفا کیا۔
ایک دوست کی والدہ کی ہیں‘ میرے پاس رہ گئیں تھیں اس نے مختصر جواب دیا۔
اچھا یہ باتیں تو چھوڑو میرا خیال ہے آج یہ بیماریوں اور پریشانیوں والی باتوں سے پرہیز ہی کرو بوا نے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے نصیحت کی۔
جی بہتر اچھا یہ بتائیں کہ ان کے گھر کیا لے کر چلیں؟ اربش نے ان کا پسندیدہ موضوع چھیڑا۔
بھئی میٹھے میں تو مٹھائی اور مٹھائی میں صرف نان خطائی بوا نے اپنی پسند کا اظہار کیا۔
ارے بوا اب وہ والی نان خطائیاں نہیں ہوتیں اور نہ ہی اب لوگ کسی کے گھر جاتے ہوئے نان خطائیاں لے کر جاتے ہیں ممی نے ہنستے ہوئے کہا۔
اچھا بھئی ٹھیک ہے جو کچھ آج کل لے کر جاتے ہیں تم لوگ وہ لے جائو۔ میں نہ تو کسی کے گھر کبھی لے کر گئی ہوں اور نہ ہی مجھے پتہ ہے بوا بھی مسکرائیں۔
میرا خیال ہے کیک لے لیتے ہیں اور ساتھ کچھ پھل بھی کیوں اربش؟
ٹھیک ہے ممی جو آپ کی مرضی ہے لے لیں۔ مجھے تو ان چیزوں کا اتنا معلوم نہیں ہے بلکہ میرے نزدیک تو اگر کچھ نہیں بھی لیں گے تو بھی کوئی پرابلم نہیں بیکری کو جاتی سڑک پر موڑ کاٹتے ہوئے اربش نے کندھے اچکائے۔
تمہیں نہیں پتہ بیٹا‘ لیکن پرابلم تو ہوتی ہے ناں اور پھر خاص طور پر ایسے لوگوں میں جو بالکل غیر ہوں‘ ان میں تو اس قسم کے تکلفات کو ضرور اہمیت دینی چاہیے تاکہ محبت اور گرم جوشی کا اظہار ہو ممی نے سمجھایا۔
کیوں بوا ٹھیک کہہ رہی ہوں میں کہ نہیں؟
ہاں بھئی کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو لیکن اب تو رشتہ داروں میں بھی یہ لوازمات پورے نہ کیے جائیں تو بھی اکثر اوقات انہی لینے دینے کی باتوں پر دل دور ہونے لگتے ہیں کہ ہم ان کے گھر گئے تو پانچ کلو مٹھائی لے کر گئے تھے اور وہ ہمارے گھر آئے تو صرف دو کلو لائے‘ یا وہ تو ہمارے گھر خالی ہاتھ ہی بغلیں بجاتے آن پہنچے میں نے اس کے بیٹے کی شادی پر چار ہزار کا جوڑا تحفے میں دیا تھا اور میری بیٹی کی شادی پر آٹھ سو روپے والا جوڑا لے کر میرے منہ پر مار گئی اور جوڑا بھی وہ جو کہ سیل سے لیا تھا اور پھر لوگوں کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ ارے چھوڑو اس کے کیا جانا اسے تو لین دین کا پتہ ہے نہ کسی کو دینے دلانے کا ڈھنگ آتا ہے بوا نے ممی کی بات کی سو فیصد تائید کرتے ہوئے ساتھ ہی اپنا بھی مشاہدہ سامنے رکھا اور ان کی ایسی بات پر اربش کچھ الجھ سا گیا تھا۔
لیکن بوا کیا ضروری ہے کہ اگر کسی نے چار ہزار کا جوڑا دیا ہے تو جواباً اسے اس سے بڑھ کر نہیں تو کم از کم چار ہزار کا ہی جوڑا دیا بھی جائے؟ یہ بھی تو ہوسکتا ہے ناں کہ اس کی اتنی استطاعت ہی نہ ہو وہ اتنا افورڈ ہی نہ کرپاتا ہو‘ دلوں میں موجود محبتوں کو روپے پیسے سے جانچنا تو بہت زیادتی والی بات نہیں ہے
بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن بس دنیا داری ہے ناں اور دنیا میں یہی کچھ ہوتا ہے اور ایسے ہی ہوتا ہے سب‘ بلکہ تمہیں تو معلوم نہیں ہے لوگ تو ان باتوں پر بھی منہ بنالیتے ہیں کہ ہم ان کے گھر گئے اور چائے کے ساتھ صرف بسکٹ ہمارے سامنے لاپٹخے بوا کی بات پر ممی بے اختیار ہنسنے لگیں تھیں۔
تو اور کیا بوا بلکہ یہ سارا رونا روکے کہ ہمیں چائے کے ساتھ سموسے کیوں نہ دیئے‘ فلاں چیز کیوں نہ دی‘ فلاں نہ دی اور پھر آخر میں یہ کہنا کہ ہم کوئی ان کے گھر کھانے تھوڑی گئے تھے‘ کھانا تو وہی ہے جو ہم اپنے گھر میں بھی کھاتے ہیں‘ لیکن دیکھو تو انہوں نے ہمیں کھانے تک کو نہ پوچھا۔ ارے بندہ جھوٹے منہ ہی رسماً کہہ دیتا ہے کہ کھانا کھا کر جانا ممی نے ہنستے ہوئے بات مکمل کی اور ساتھ ہی بوا کو بھی ہنسا دیا۔ یقینا یہ ان دونوں کی آنکھوں دیکھی سچویشن تھی اسی لیے دونوں اس حد تک انجوائے کررہی تھیں۔ اربش کو گو کہ لوگوں کی سوچ کا یہ زاویہ جان کر کوفت ہوئی تھی لیکن پھر بھی ان دونوں کو ہنستا دیکھ کر وہ بھی ان کی ہنسی میں شامل ہوگیا تھا۔
بس ممی یہ شکایات صرف خواتین کو ہی ہوتی ہیں‘ کبھی کسی مرد کے منہ سے اس طرح کا شکوہ شکایت سننے کو نہیں ملے گا آپ کو بوا اور ممی دونوں ہی اربش کی بات سے متفق تھیں۔ اس لیے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے مسکراتی رہیں۔ تب تک بیکری کے سامنے ان کی گاڑی رک چکی تھی۔ اربش نے خود ہی جاکر کیک لیا‘ بوا کے لیے الگ سے نان خطائیاں پیک کروائیں اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھ دیں۔ اجیہ کا گھر بھی نزدیک ہی آچکا تھا۔ لیکن ممی کا خیال تھا کہ صرف کیک سے کام نہیں چلے گا اس لیے ساتھ کچھ پھل فروٹ کا ہونا بھی لازمی ہے لہٰذا اب اس کی گاڑی کا رخ فروٹ شاپ کی طرف تھا اور فروٹ کے لیے ممی نے ہرگز اس پر اعتبار نہیں کیا تھا بلکہ خود گاڑی سے اتریں اور موسم کے پھلوں کو بہترین طریقے سے سجا کر انہیں فروٹ کا ٹوکرا بنانے کو کہا اور اس کے بعد خود گاڑی میں آکر بیٹھ گئیں۔
یہ لوگ جان بوجھ کر خراب فروٹ رکھ دیتے ہیں‘ اس لیے میں خود دیکھ کر آئی ہوں انہوں نے اسٹیئرنگ پر انگلیوں سے پیانو بجاتے اربش کو دیکھ کر کہا تو وہ مسکرادیا۔
اچھا کیا کیونکہ اپنے گھر تو بات اور ہوتی ہے لیکن یوں کسی کے گھر لے کر جانا ہو تو بہتر سے بہترین چیز ہی لے کر جانی چاہیے بوا نے ممی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا پھر اربش سے مخاطب ہوئیں۔
ابھی اور کتنی دور ہے ان کا گھر؟
بس بوا آپ یہی سمجھیں کہ ہم پہنچ گئے اس نے دائیں بائیں دیکھ کر جواب دیا۔
واقعی؟
جی ہاں‘ واقعی کیونکہ اسی سڑک پر سیدھا جاکر دوسری گلی میں دسواں گھر انہی کا ہے اس نے جان بوجھ کر مکمل تفصیل بتائی اور مسکرایا تو اس مرتبہ بوا اور ممی نے ایک نئے زاویے سے اردگرد کے علاقے کا جائزہ لینا شروع کیا۔
گو کہ اس وقت آہستہ آہستہ رات کی تاریکی پھیلنے کی تیاری کررہی تھی لیکن پھر بھی سڑک کے دونوں اطراف موجود عمارتوں اور دکانوں میں روشن لائٹس نے پورے علاقے کو بارونق بنا رکھا تھا‘ اب یہ جگہ تو کاروباری معلوم ہوتی تھی لیکن دیکھنا یہ تھا کہ ان کی گلی کیسی ہے؟ اور ان کا گھر کیسا ہے؟
ویسے میں سوچ رہا ہوں کہ آپ دونوں صرف اس علاقے کو اتنے غور سے دیکھنے لگی ہیں تو اپنی ہونے والی بہو کو تو شاید ایکسرے مشین سے گزاریں گی وہ ان کے ذہن پڑھ چکا تھا اس لیے شرارت سے بولا۔
خیر اب ایسا بھی نہیں ہے بیٹا تمہاری پسند ہے تو ہم بھلا کیوں تنقیدی نظروں سے دیکھیں گے اسے بوا نے کہا اسی دوران دکان پر کام کرتے لڑکے نے فروٹ کی ٹوکری تیار کرکے چھوٹے کے ہاتھ بھیجی‘ ممی نے پیسے دیئے لیکن اس کے پاس کھلے پیسے موجود نہیں تھے کہ وہ بقایا دیتا۔
بیٹا دیکھو شاید تمہارے مالک کے پاس سے مل جائیں ممی نے کہا۔
نہیں میڈم سکندر چاچا تو ہیں نہیں آج دکان پر‘ ورنہ تو ضرور مل جاتے معذرت چاہتا ہوں بچے نے دکان کے مالک کا نام لیا تب تک اربش اپنے والٹ سے پیسے نکال چکا تھا۔ ذرا سا آگے ہوتے ہوئے اس نے وہ پیسے اسے دیئے اور بقایا بچ جانے والے تھوڑے سے روپے اسے رکھ لینے کا کہہ کر گاڑی اسٹارٹ کردی۔
یس باس اب بتائیں‘ کوئے یار کی طرف رخ کرنے کی اجازت ہے یا بھی نہیں؟ اربش کے انداز پر وہ دونوں ہنسیں انہیں اربش پر بے حد پیار آیا تھا۔
اوہ خدایا‘ میرے بچے کی یہ بے تابیاں بوا نے کہا تو ان کی ہنسی میں اربش کی بھی ہنسی شامل ہوگئی تھی۔

تایا ابو بات دراصل اس دن کے متعلق ہی ہے اس لیے آج اسی دن ہوجائے تو بہتر ہے ناں
ہاں ہاں کیوں نہیں ضرور اجیہ کی بات کے جواب میں صرف ان کی آواز کے علاوہ باقی سبھی خاموش تھے کہ اس سے پہلے کہ اجیہ مزید کچھ کہتی سکندر صاحب نے اسے دائیں ہاتھ سے رکنے کا اشارہ دیا اور خود کھڑے ہوگئے۔
میرا خیال ہے اجیہ آپ سب سے کوئی بات کرے اس سے بہتر ہے کہ پہلے میں ایک بات کرلوں‘ لیکن یہ بات آپ میں سے کسی کے ساتھ نہیں بلکہ اجیہ کے ساتھ ہی کرنی ہے
میرے ساتھ؟ اجیہ حیرت سے زیرلب بولی کہ سکندر صاحب اس سے کوئی بات کرنا چاہیں یہ تو ایک نہایت ناقابل یقین بات لگتی تھی۔
اجیہ بیٹا ذرا میرے ساتھ روم تک آئو بھائی صاحب اور بھابی سے معذرت چاہنے اور اجازت لینے کے بعد وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھے‘ اجیہ بے یقینی سے امی کو دیکھتے ہوئے بڑی جھجک کے ساتھ ان کے پیچھے گئی تو وہ بڑی ہی بے تابی کے ساتھ کمرے کے چکر کاٹ رہے تھے۔ اس کے آنے کی آہٹ سنی تو جہاں تھے وہیں رک کر اس کی طرف پلٹے اور بڑی عجلت سے اس کے قریب آئے۔
تم کیا بات کرنا چاہتی ہو بھائی صاحب سے؟ انہوں نے یوں پوچھا جیسے کہ عام دنوں میں بھی ان کے تعلقات بہت بہتر ہیں اور درمیان میں اجنبیت‘ درشتگی یا سرد مہری جیسی کوئی دیوار ہے ہی نہیں۔ اور اجیہ ان کے سامنے کھڑی تو تھی لیکن ہمیشہ کی طرح خوف اور تذبذب کا شکار تھی کہ وہ ایسی کون سی بات کرے جو انہیں بری نہ لگے۔
وہ بابا میں
ہاں ہاں جلدی بات کرو‘ باہر وہ لوگ ہمارے منتظر بیٹھے ہیں
وہ دراصل میں ان پر ساری بات واضح کردینا چاہتی ہوں کہ آج ہم حنین کی منگنی کی نیت سے ان کے انتظار میں تھے میرا غزنی کے ساتھ منگنی کرنے کا کوئی ارادہ کوئی خواہش ہی نہیں ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ اس غلط فہمی کو آج ہی دور کرلیا جائے تاکہ آگے جاکر مسائل پیدا نہ ہوں ہمت کرکے اجیہ نے ان کے سامنے اپنے سارے خیالات کو زبان دے دی تھی۔
اور؟ اس سے آگے بھی کچھ اور کہنا چاہتی ہو یا بس اتنا ہی؟ انہوں نے پوچھا۔
‘نہیں بس یہی اتنا ہی وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ اس وقت وہ اس سے کون سے الفاظ سننا چاہتے ہیں۔ ان کی بے چینی اور اضطراب کا حل اس وقت اجیہ کو ہرگز سمجھ نہیں آرہا تھا۔
ارے نہیں نہیں‘ بس اتنا ہی کیوں؟ کچھ اور بھی کہنا بلکہ ذرا تفصیل کے ساتھ کہنا تاکہ انہیں پتہ چلے کہ میں اتنا پاگل ہوں کہ بیٹیوں کے رشتے جیسے اہم مسئلے کو بھی نہ سمجھ پایا اور تمہارا رشتہ ظاہر کرکے حنین کا رشتہ کرنا چاہا‘ دھوکا دینا چاہا انہیں
بابا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟
اپنے بارے میں سوچو کہ تم کیا کہہ رہی ہو اور تمہاری باتوں سے ان کے سامنے اور پھر پورے خاندان میں میرا کیا تاثر ابھرے گا۔ لوگ تمہیں یا حنین کو اور تمہاری ماں کو تو کچھ بھی نہیں کہیں گے‘ لیکن ہاں باتیں بنیں گی تو صرف اور صرف میری‘ لوگ گالیاں دیں گے مجھے‘ ہنسیں گے تو مجھ پر تم لوگ تو پھر مظلوم کے مظلوم ہی رہوگے ناں سب کے سامنے
لیکن بابا یہ سب سچ بھی تو ہے ناں‘ آپ خود سوچیں کہ ہم آج حنین کا رشتہ طے کرنے کے خیال سے ان کا استقبال کرنے والے تھے لیکن یہ سب تو بس اچانک ہی معاملہ بدل گیا۔ کیسے بدلا اور کیوں بدلا یہ تو خود مجھے بھی سمجھ نہیں آرہا
لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ وہ اپنے گھر سے آئے ہی تمہارا رشتہ لینے ہیں‘ تمہارے ناپ کی انگوٹھی لائے‘ کپڑے اور دوسری چیزیں تمہاری پسند کے مطابق لائے‘ یہ غلط فہمی شاید مجھے ہوسکتی ہے کیونکہ انہوں نے نام لیے بغیر صرف اتنا کہا کہ وہ میری لاڈلی بیٹی کو اپنی بہو بنانا چاہتے ہیں مجھے لگا کہ سب کو پتہ ہی تو ہے کہ میری لاڈلی بیٹی تو صرف حنین ہے تو انہوں نے حنین کے لیے ہی رشتے کی بات کی ہوگی اور ساری غلط فہمی مجھے لگتا ہے بس یہیں سے شروع ہوئی بابا کے اس اعتراف پر کہ ان کی لاڈلی بیٹی تو صرف حنین ہی ہے۔ اجیہ کے دل پر ایک مرتبہ پھر منوں بوجھ پڑ گیا تھا۔
لیکن تم خود سوچو کہ انہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے جاگنے کی حالت میں مکمل ہوش وحواس کے ساتھ ہی منگنی کی انگوٹھی حنین کو صرف اس لیے پکڑائی کہ وہ ایک کزن یا پھر اس کی بچپن کی دوست کے حوالے سے غزنی کو وہ انگوٹھی اس لیے دے تاکہ وہ تمہیں پہنا کر اس رشتے کا آغاز کرسکے
مگر بابا
غزنی بھائی صاحب اور بھابی سب صرف اور صرف تمہیں انگوٹھی پہنانے آئے ہیں‘ غزنی تم سے ہی شادی کرنا چاہتا ہے ورنہ وہ کوئی بچہ نہیں ہے کہ تمہیں انگوٹھی پہنا دیتا
وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے تو پھر یہ میرا مسئلہ نہیں ہے ناں بابا کیونکہ میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی اور نہ ہی میں یہ رشتہ جو کہ سراسر غلط فہمی کی بنیاد پر جڑا ہے اسے قائم رکھنا چاہتی ہوں اس نے سر جھکا کر آہستگی سے کہا۔
تمہارا مسئلہ ہے اجیہ کیونکہ یہ میری عزت کا مسئلہ ہے‘ میں لوگوں کے سامنے مذاق بن جائوں گا‘ لوگ ہنسیں گے مجھ پر کہ آج تک کبھی ایسا نہ ہوا جو ہمارے گھر ہورہا ہے‘ اور پھر تم خود یہ بھی تو سوچو کہ اگر غزنی تم سے شادی کرنا چاہتا ہے تو پھر اسے کیا زبردستی یہ کہا جائے کہ وہ حنین کے ساتھ شادی کرے؟ اور اگر بالفرض ساری بات اس کے سامنے بیان کرنے کے بعد اگر وہ صرف بڑوں کی عزت کی خاطر یا کسی پریشر میں آکر یہ شادی کر ہی لے گا تو مجھے بتائو کہ کیا وہ حنین کے ساتھ پھر اپنی شادی کو نباہ بھی پائے گا اسے خوش رکھے گا؟ یہ تو پھر ان دونوں کی زندگی تباہ کرنے کے مترادف ہوگا‘ جس میں نہ تو حنین خوش ہوگی اور نہ غزنی
تو پھر آپ کیا سمجھتے ہیں بابا اگر حنین کی جگہ میری شادی غزنی سے ہوجائے تو کیا میری زندگی برباد نہیں ہوجائے گی کیا میں خوش رہ پائوں گی اس کے ساتھ؟ اسے ایک بار پھر دکھ ہوا تھا کہ انہوں نے حنین کے لیے اس کی خوشیوں کے لیے تو سوچا مگر اس کے جذبات کو ایک بار پھر فراموش کر گئے تھے۔
ہاں تم خوش رہوگی اجیہ بلکہ بہت خوش رہوگی صرف اس لیے کہ تم سے غزنی محبت کرتا ہے اس گھر میں تمہارا رتبہ ایک من چاہی بہو کا ہوگا اور جس لڑکی سے اس کا شوہر محبت کرتا ہو اسے اور کسی چیز کی خواہش نہیں رہتی اجیہ نے ان کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ یہ چہرہ اسے آج کسی قدر اجنبی لگ رہا تھا کیونکہ آج سے پہلے تو اس نے جب بھی انہیں دیکھا چہرے پر کرختگی تھی یا ڈرا سہما دینے والی خاموشی اتنی دیر تو آج تک انہوں نے اجیہ سے کسی موضوع پر بھی بات نہیں کی تھی‘ جبکہ آج وہ نہ صرف چہرے پر لجاجت لیے ہوئے تھے بلکہ اتنی دیر سے اس کے ساتھ باتیں بھی کررہے تھے‘ لیکن اجیہ کیا کرتی؟
غزنی سے اول روز سے کترانے کی وجہ شاید پس پردہ طور پر یہی تھی کہ کہیں اس کے ساتھ گھلنا ملنا دیکھ کر کسی کے ذہن میں یہ تصور نہ ابھرے کہ مستقبل میں اسے غزنی کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھنا پڑے‘ باوجود اس کے کہ غزنی اس سے بات کرنے کے ہزار طریقے ڈھونڈتا لیکن اس کی سرد مہری کے سامنے غزنی کے تمام الفاظ سر پٹخ کر لوٹ تو جاتے لیکن مایوس نہ ہوتے اور چند دن بعد وہ پھر کسی نہ کسی بہانے سے اس کے سامنے آن موجود ہوتا۔ غزنی کا گھرانہ بھی ان ہی کی طرح ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا لیکن جس طرح سکندر صاحب نے بچپن سے لے کر آج تک اسے چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے ترسایا تھا تو اس کے ذہن میں کہیں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ وہ اپنی آئندہ زندگی اگر شروع کرے گی تو کسی بھی صورت متوسط طبقے کو زیر غور نہیں لائے گی۔ اسے زندگی کی آسائشات نہ سہی لیکن سہولیات حاصل کرنے کا تو حق حاصل تھا ہی۔ اسی لیے اس نے سوچا تھا کہ ایک تو خود پڑھ لکھ کر اس قابل بنے گی کہ اپنا اپنی ماں کا اور حنین کے معیار زندگی کو سہل بناسکے‘ وہ تمام خواہشات پوری کرسکے جس کے لیے وہ آج تک بس سوچتی ہی آئی ہے اور جن کی تکمیل کے لیے اس نے میٹرک کے بعد سے ہی محنت کرنا شروع کی تھی‘ کبھی ٹیوشنز پڑھاتی‘ تو کبھی امی کے ساتھ کپڑے سلائی کرتی‘ لیکن جو حاصل ہوتا وہ اکثر اوقات حنین کی کسی ایک خواہش کی تکمیل میں ہی لگ جاتا اور وہ خوش دلی سے صرف مسکراتی ہی رہتی اور حنین کو خوش دیکھ کر خوش ہوتی۔
اگر تمہارے دل میں میری ذرہ برابر بھی محبت ہے تو ایک باپ کی حیثیت سے میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ خاموشی اختیار کرلو اور یہ سمجھو کہ اللہ نے ہی تمہارے لیے یہ رشتہ بھیجا ہے یہ تمہارا ہی نصیب ہے انہوں نے التجائیہ انداز میں کہا۔
بابا لیکن میں اجیہ نے اپنا جھکا سر اٹھایا اور انہیں دیکھا لیکن اپنی بات مکمل نہ کرسکی وہ اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔
میری عزت اب صرف اور صرف تمہارے ہاتھ میں ہے اجیہ‘ مجھے بھائی صاحب کے سامنے رسوا ہونے سے صرف اور صرف تم بچاسکتی ہو۔ میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں مجھے مایوس نہ کرنا اس وقت اجیہ کو لگا جیسے اس کی ٹانگوں میں جان نہیں رہی وجود جیسے سرد ہوکر ہوا میں معلق سا ہوگیا تھا‘ یہ کیا ہورہا ہے اس کے ساتھ‘ اس نے آج تک کیا سوچا تھا اور اس کے ساتھ اس کے نصیب میں کیا کچھ ہونا لکھا تھا‘ اس نے فوراً ہی کرسی کی پشت کا سہارا لے کر اپنا تمام بوجھ اس پر ڈالا۔ ورنہ اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ اپنے پائوں پر مزید کھڑی نہیں ہوپائے گی۔ سکندر صاحب ابھی تک اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے تھے وہ اس کے جواب کے منتظر تھے لیکن اجیہ کے تمام الفاظ ہوا میں کہیں گم سے ہوگئے تھے کوئی سرا ایسا نہ تھا جو اس کے ہاتھ آتا اور اس کے سہارے وہ ان سے کوئی بات کرتی۔
تم ابھی بھائی صاحب یا بھابی اور غزنی کے سامنے ایسا کچھ نہ کہنا جس سے ان کو یہ محسوس ہو کہ یہ رشتہ تمہاری مرضی کے بغیر ہورہا ہے‘ کیونکہ انہوں نے مجھ سے پہلے پوچھا تھا اور میری طرف سے ہاں ہونے کے بعد ہی وہ باقاعدہ رشتہ لے کر آئے ہیں۔ اس میں ان کا قصور نہیں ہے غلطی تو میری ہے۔ میں تم سے فریاد کرتا ہوں اجیہ کہ میرا مان رکھ لو‘ مجھے ان کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچالو‘ تمہیں میرے ان بندھے ہاتھوں کا واسطہ اجیہ نے جواب میں کچھ نہیں کہا بلکہ بڑی خاموشی سے جس کرسی کی پشت پر پہلے ہاتھ رکھے تھے اسی پر اپنا سارا بوجھ گرا کر ڈھے سی گئی۔ اس کے پاس کچھ بھی کہنے کو رہا ہی کہاں تھا‘ سکندر صاحب نے اس کے تمام الفاظ اپنے پاس گروی رکھ لیے تھے۔ دل میں گھٹن ایسی تھی کہ لگتا سانس بھی دل کے اس پنجرے سے رہا نہیں ہوپائے گا۔
تم کچھ کہوگی تو نہیں باہر جاکر سکندر صاحب نے اس کے سامنے آکر پوچھا وہ خلا میں گھورتے ہوئے خاموش رہی۔
بولو اجیہ تم بھائی صاحب کو یہ تو نہیں کہوگی ناں کہ تم اس رشتے پر راضی نہیں ہو؟ بڑی آہستگی سے اس کی آنکھوں میں جمع ہوجانے والے آنسوئوں کو اس نے باہر آنے سے روکا‘ گہری سانس لی اور سکندر صاحب کو دیکھا۔
تم اپنا بیٹی ہونے کا فرض ادا کرو گی ناں؟ انہوں نے ایک بار پھر سوال کیا۔
اب بھی انہیں اس کا بیٹی ہونے کا فرض ہی یاد آیا تھا‘ والد ہونے کا کوئی فرض انہیں اب بھی یاد نہیں آیا تھا یا شاید ان کی نظر میں فرائض کی ادائیگی سے کہیں زیادہ حقوق کی وصولی ہی اہم تھی۔ اسی دوران باہر سے قدموں کی چاپ اندر آتی سنائی دی۔
میں سبنبھال لوں گا‘ میں ان کو بتادوں گا کہ تم کیا کہنا چاہ رہی ہو‘ لیکن تم بس میری عزت کا پاس رکھنا‘ بولو میرا مان رکھوگی ناں تم؟ سکندر صاحب نے جلد بازی میں کہا اور بالآخر اس نے بمشکل تھوک نگلتے ہوئے ہاں کردی‘ سر جھکا دیا اور خاموش ہوگئی‘ اپنی بات کے حق میں اجیہ کی طرف سے اقرار کے انداز میں ہلتی گردن نے سکندر صاحب کی گردن کو ایک بار پھر اونچا کردیا تھا‘ اور اس سے پہلے کہ کوئی اندر داخل ہوتا وہ خود عجلت میں کمرے سے باہر نکل گئے‘ کوئی تشکر کا اظہار کیے بغیر‘ کسی بھی قسم کی دعا دینے کی رسم نبھائے بغیر۔

بدل گئی ہے یہ زندگی اب سبھی نظارے بدل گئے ہیں
کہیں پہ موجیں بدل گئیں‘ کہیں کنارے بدل گئے ہیں
بدل گیا ہے اب اس کا لہجہ اب اس کی آنکھیں بدل گئی ہیں
وہ چاند چہرہ ہے اب بھی ویسا‘ میرے ستارے بدل گئے ہیں
ملا ہوں تم سے تو یوں لگا ہے کہ جیسے دونوں ہی اجنبی ہوں
کبھی جو مجھ کو عزیز تر تھے وہ طور سارے بدل گئے ہیں
کہیں پہ بدلا ہے کہنے والا‘ کہیں پہ سامع بدل گیا ہے
کہیں پہ آنکھیں بدل گئی ہیں کہیں نظارے بدل گئے ہیں
میں اس لیے بھی تو سر جھکا کر تمہاری نگری سے چل پڑا ہوں
تھا ناز جن پر کبھی مجھے بھی وہ سب سہارے بدل گئے ہیں

حنین بڑی خاموشی اور بڑے ہی غیر محسوس طریقے سے ان سب کے درمیان سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی آئی اور آئی بھی اس طرح کہ کسی نے اس کے وہاں سے اٹھنے کو شاید محسوس بھی نہ کیا ہو‘ آہستہ قدموں سے چلتی وہ سکندر صاحب کے کمرے کے عین سامنے سے گزر کر اپنے کمرے تک پہنچنے سے پہلے لمحہ بھر کو اس نے سوچا ضرور کہ وہ ان کے کمرے میں جائے اور کم از کم دیکھے کہ اجیہ اور سکندر صاحب کے درمیان کیا بات ہورہی ہے لیکن اس کا دل اس وقت کسی بات پر راضی نہ ہوا وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس وقت وہ کسی سے بھی کوئی بھی بات کرے۔ بیٹھے بیٹھائے لمحہ بھر میں جیسے زندگی کے سب معانی ومفہوم بدل کر رہ گئے تھے۔
ابھی صبح تک وہ کتنی خوش ہورہی تھی ہوا میں اڑتے پھرتے ہوئے خوشبو اور رنگوں کے برابر خود کو بھی سمجھا تھا۔ اسے لگا تھا کہ بس اب ساری دنیا اس کی ہے جسے دل نے چاہا اسے پالیا تو پھر اب اور کس چیز کی خواہش کی جائے‘ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اتنی کم عمری میں اس کی زندگی مکمل ہوگئی ہے۔
منگنی کے بعد کھانا کھانے سے فارغ ہوکر وہ غزنی کو اپنی ڈائری دکھائے گی اور اسے بتائے گی کہ یہ دیکھو وہ کب سے اس کی محبت کا دم بھرتی ہے‘ اور اس کا نام اپنے نام کے ساتھ لکھا دیکھنا اس کی زندگی کی کتنی بڑی خواہش تھی جو آج پوری ہوئی ہے پھر شاید وہ اس کی محبت کی اس دیوانگی پر ہنسے گا‘ یا شاید اس کی محبت سے متاثر ہوگا کہ یہ پاگل سی لڑکی جانے کب سے اس کے ساتھ محبت کررہی ہے اور پھر حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کم از کم یہ ضرور سوچے گا کہ آخر مجھے اس کی محبت کا پتہ کیوں نہ چلا اور یقینا وہ اس کی محبت اور جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گا یہ سب آج دوپہر کو ہی سوچا تو ضرور تھا لیکن ایسا ہوا نہیں اور جو ہوا تھا وہ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
اجیہ ایک مضبوط لڑکی ہے‘ سب کے سامنے بات کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے اور یوں ہی خوامخواہ زبردستی کا کوئی بھی رشتہ قبول کرنے والی تو وہ ہرگز نہیں ہے ہوسکتا ہے وہ بابا جانی کو ابھی کمرے میں انکار کردے اور کہہ دے کہ وہ غزنی کے ساتھ شادی نہیں کرے گی کیونکہ حنین اس کو بہت چاہتی ہے اور ہاں اسے انکار ہی کرنا چاہیے کیونکہ بابا جانی کی کوئی بھی بات ماننے کا اسے بھلا کیا فائدہ بابا جانی نے بھی تو کبھی اس کی کوئی بات نہیں مانی‘ کبھی اس کے احساسات کا خیال نہیں رکھا‘ اسے بیٹی نہیں سمجھا باپ کا پیار نہیں دیا‘ اسے کسی بھی صورت ان کی بات نہیں ماننا چاہیے‘ کیونکہ اس وقت اس کے پاس موقع ہے کہ وہ بابا جانی سے اپنے ساتھ کی گئی تمام زیادتیوں کا حساب چکتا کرے بلکہ بابا جانی کو تو چاہیے بھی نہیں کہ اسے یہ رشتہ قائم رکھنے پر اصرار کریں‘ ایسے میں جبکہ انہیں بھی شاید امی کے ذریعے اس بات کا اندازہ تو ہوہی گیا ہوگا کہ غزنی کو میں پسند کرتی ہوں آئینے کے سامنے کھڑی حنین خود کو غور سے دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں یہ سب اور اس جیسی کئی باتیں سوچ رہی تھی اور اسے یقین تھا کہ اجیہ جیسی لڑکی کبھی بھی اور کسی بھی صورت چپ چاپ عام مشرقی لڑکیوں کی طرح زبردستی اور اتفاق سے قائم کردہ اس رشتے پر سر نہیں جھکائے گی۔
یااللہ کریم اجیہ کبھی بھی اس رشتے کے لیے راضی نہ ہو‘ اسے ہمت دے کہ سب کے سامنے کہہ سکے کہ وہ اس رشتے سے ہرگز خوش نہیں ہے اور یہ بھی کہ یہ رشتہ تو حنین اور غزنی کا ہونا چاہیے یارب غزنی میری محبت ہے میں نے بچپن سے ہی سوتے جاگتے ہوئے صرف اور صرف اسے سوچا اور اسے ہی چاہاہے تو کچھ ایسا معجزہ کردے کہ غزنی میرا ہوجائے آنکھیں بند کرکے اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور دل ہی دل میں شدت سے دعا کررہی تھی جب تائی امی اس کے کمرے میں داخل ہوئیں۔
تم یہاں ہو‘ ادھر کوئی رونق ہی نہیں ہے تمہارے بغیر نہ اجیہ نہ سکندر بھائی اور نہ تم
بس تائی امی میں ابھی وہیں آنے والی تھی ان کی آواز پر اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں اور انہیں دیکھ کر چونک گئی۔
جائو اور اجیہ اور سکندر بھائی کو ان کے کمرے سے نکال کر باہر لائونج میں لائو وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ لے آئی تھیں‘ اسی دوران سکندر صاحب بھی اپنے کمرے سے باہر آئے۔
بھئی تم لوگوں نے خوب سسپنس ڈال رکھا ہے‘ سکندر ہم سب ادھر بیٹھے ہیں اور تم ہماری بیٹی کو لے کر اندر چلے گئے جو بات بھی اجیہ کے دل میں ہے اور وہ شیئر کرنا چاہتی ہے تو اسے روکو مت بلکہ بات کرنے دو ابا نے سکندر صاحب کو باہر دیکھ کرفوراً کہا۔
ارے نہیں بھائی صاحب بھلا سسپنس کیسا اور بات بھی کوئی ایسی خاص نہیں سکندر صاحب کا لہجہ اس قدر مطمئن تھا کہ امی چونکیں‘ حنین نے بھی مکمل توجہ ان کی طرف مبذول کی اسے امید تھی کہ اجیہ کے انکار کے بعد اب صورت حال پیچیدہ ہونے والی ہے۔
بس آپ کو تو پتہ ہے ناں کہ بچیاں ایسے معاملات میں کچھ زیادہ ہی حساس ہوجاتی ہیں‘ بس اجیہ کے ساتھ بھی یہی ہوا
کیا مطلب؟ غزنی نے پوچھا‘ کیونکہ اس سارے معاملے میں وہ خود الجھن کا شکار ہورہا تھا۔
غزنی بیٹے‘ پریشانی کی کوئی بات نہیں وہ دراصل اجیہ سب کے سامنے یہ بات واضح کرنا چاہتی تھی کہ منگنی کے بعد فوری طور پر شادی کے لیے زور نہ دیا جائے‘ وہ پہلے اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہے اور ایسے میں اگر درمیان میں ہی کہیں شادی کی بات چھیڑ دی گئی تو وہ اپنی تعلیم کی طرف یکسوئی نہیں رکھ پائے گی سکندر صاحب کی بات پر غزنی سمیت اماں اور ابا بھی کھلکھلا کر ہنسنے لگے تھے۔
یعنی کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا اماں نے ہنستے ہوئے کہا۔
ارے بھئی سکندر یقین کرو میرا تو اس وقت سے دل ہول رہا تھا کہ خیر ہو‘ اللہ جانے اتنی سخت سنجیدہ قسم کی تمہید کے بعد اب اجیہ کیا کہنے والی ہے ابا نے بھی پُرمسرت لہجے میں کہا۔
غزنی نے بھی سکندر صاحب کی بات پر دل ہی دل میں شکر ادا کیا تھا کیونکہ تب سے لے کر اب تک اس کے ذہن میں ہر طرح کا الٹا خیال آچکا تھا اور وہ ہرگز سمجھ نہیں سکا تھا کہ آخر اجیہ اتنی سیریس ہوکر کس بات کے لیے سب کو ذہنی طور پر تیار کرنا چاہ رہی ہے۔
البتہ امی جانتی تھیں کہ سکندر صاحب کی اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے وہ اجیہ کو بہت اچھی طرح جانتی تھیں‘ یہ الفاظ اس کے ہوہی نہیں سکتے تھے اور اس تمام معاملے میں بنیادی کردار خود سکندر صاحب کا تھا۔ کیونکہ اجیہ جانتی تھی کہ غزنی حنین کی پسند ہے اور امی جانتی تھیں کہ اجیہ غزنی کو بالکل پسند نہیں کرتی اور اس حوالے سے تو کبھی بھی نہیں اور صورت حال بھی ایسی کہ جب وہ جانتی ہو کہ حنین کا غزنی کے ساتھ دلی لگائو ہے۔ البتہ اس سارے معاملے میں حنین کو اجیہ پر بے حد غصہ آیا تھا۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اجیہ یوں خوشی خوشی اس کی ساری خوشیاں چھین کر اپنی گود میں ڈال لے جائے گی۔ اب اسے یاد آیا تھا کہ دوپہر کو اسکول سے واپسی پر اجیہ کا جو موڈ آف ہوا تھا تو اس کی وجہ کیا تھی اور وجہ بھی شاید وہی تھی کہ اسے پہلے اپنے لیے کوئی رشتہ نہ آنے کا جو افسوس تھا تو وہ اب غزنی کی طرف سے انگوٹھی پہنا دینے پر ختم ہوگیا‘ امی کی تھکان کا بہانہ بنا کر اور اس کی آڑ میں جو باتیں اس نے حنین کو سنائیں تھیں تو بنیاد یہی تھی کہ اسے اس وقت حنین سے حسد محسوس ہورہا تھا۔ حنین کے دل ودماغ میں اس وقت اجیہ کے لیے انتہائی غصہ موجود تھا۔
اپنی دیرینہ محبت چھین جانے کا غم تو جو تھا سو تھا لیکن اجیہ کے چہرے سے خلوص کا نقاب ہٹنے کے بعد جو اس کی خود غرضی سامنے آئی تھی اس نے حنین کو جیسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔
نہیں بھائی صاحب اجیہ نے کیا کہنا ہے بھلا آپ تو بس خوامخواہ ہی پریشان ہوئے اور پھر یہ تو آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کل کا زمانہ وہ زبردستی کا دور نہیں ہے جہاں والدین اپنی اولاد کی مرضی کے برعکس ان کی شادیاں کردیا کرتے تھے اب تو شادی بیاہ کے معاملات میں سب سے پہلے اولاد کی مرضی معلوم کی جاتی ہے اور پھر بعد میں رشتہ بھیجا یا قبول کیا جاتا ہے سکندر صاحب بڑے بااعتماد انداز میں مسکرائے۔
حنین نے غزنی کو دیکھا جو اب انتہائی پُرسکون انداز میں اپنے موبائل پر ابا کی بنائی گئی تصویریں دیکھتے ہوئے زیرلب مسکرا رہا تھا۔ حنین نے دیکھا کہ صوفے پر وہ بھی اس وقت غزنی کے ساتھ تو موجود تھی لیکن تصاویر میں صرف غزنی اور اجیہ ہی دکھائی دے رہے تھے۔ اجیہ کو تصویروں میں اپنے ساتھ دیکھ کر دھیمی سی مسکراہٹ کو چھپاتا غزنی‘ حنین کے سامنے تھا لیکن رشتہ بدل چکا تھا اور وہ اب اس کا نہیں بن سکتا تھا‘ یہ احساس اس قدر تکلیف دہ تھا کہ حنین کا دل چاہا سب کے درمیان بیٹھ کر گلا پھاڑ پھاڑ کر روئے ضدی بچوں کی طرح ایڑیاں رگڑے اور بتائے کہ وہ غزنی کسی کو نہیں دے گی‘ چاہے وہ کوئی بھی ہو لیکن وہ کسی قیمت پر بھی غزنی کی محبت سے دستبردار ہونے والی نہیں ہے۔
لیکن وہ بچپن ہوتا ہے جب ذرا سی چیز نہ ملنے پر انسان رو لیتا ہے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے اور ہر صورت اسے حاصل کرنے کا عزم کرتا ہے عمر کے اس دور میں کتنی ہی بڑی چیز کھو جائے یا کیسا ہی قریبی رشتہ بدل جائے نہ تو زور وشور سے رویا جاتا ہے اور نہ ہی آسمان سر پر اٹھا کر دنیا والوں کو اپنا دکھ بتایا جاتا ہے۔
امی نے سب کو خوشگوار موڈ میں دیکھا تو ایک نظر حنین پر بھی ڈالی جس کے چہرے سے ہی اس کے اندر برپا طوفان کی خبر مل رہی تھی۔ لیکن وہ بے بس تھیں‘ جانتی تھیں کہ اپنی اپنی جگہ ان کی دونوں بیٹیاں اس وقت کرب سے گزر رہی ہیں لیکن وہ ان کے لیے کچھ نہیں کرسکتی تھیں‘ سکندر صاحب نے کھانا لگانے کا اشارہ کیا تو وہ خود ہی اٹھ کر کھانا لگانے چل دیں۔

خوشبو کی پوشاک پہن کر
کون گلی میں آیا ہے
کیسا یہ پیغام رساں ہے
کیا کیا باتیں لایا ہے
کھڑکی کھول کے باہر دیکھو
موسم میرے دل کی باتیں
تم سے کہنے آیا ہے

اربش تم نے انہیں اپنے آنے کی اطلاع تو دے رکھی ہے ناں پہلے سے؟ ممی نے اچانک سے خیال آنے پر پوچھا۔
نہیں ممی‘ یہ ایک سرپرائز وزٹ ہے۔ خود آپ کی ہونے والی بہو کو بھی نہیں معلوم کہ ہم آج ان کے گھر آرہے ہیں وہ مسکرایا۔
لیکن یہ تو بہت غلط بات ہے کسی کو اطلاع دیئے بغیر ان کے گھر چلے جانا
ہاں اربش اب تو میرا خیال ہے تم انہیںفون کرلو تو بہتر ہوگا بوا نے بھی ممی کی حمایت کی تو اربش تو ویسے بھی ان کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتا تھا تو اب جبکہ وہ کہہ رہی تھیں تو اس نے فون نکال کر اجیہ کا نمبر ملایا ہی تھا کہ ممی کے موبائل پر بھی فون آگیا۔
کیا یہ کب ہوا؟ اور آپ آپ مجھے اب بتا رہی ہیں‘ اس وقت؟ وہ کسی سے بہت پریشانی میں بات کررہی تھیں۔ اربش نے گاڑی کی رفتار دھیمی کرکے ان کی بات پر دھیان دیا اور خود اپنا فون ریسیو نہ ہونے کی بنا پر بند کردیا۔
آپ کو پتہ بھی ہے کہ اس سے اسکول کی ریپوٹیشن پر کتنا فرق پڑے گا اور پھر آج کل تو میڈیا کا دور ہے اگر کسی چینل کے رپورٹر کو پتہ چل گیا تو رائی کا پہاڑ بن جائے گا اتنی لاپروا اور غیر ذمہ دار ہوں گی آپ مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا اربش اب اجیہ کے گھر کی گلی کے باہر گاڑی روک چکا تھا۔ ممی کا انداز اور ان کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں بتا رہی تھیں کہ کوئی بہت بڑی پرابلم ہوگئی ہے ورنہ وہ تو معمولی بات پر گھبرانے والوں میں سے ہرگز نہیں تھیں۔
زیادہ باتیں مت کریں اور مجھے صرف یہ بتائیں کہ آپ لوگ اس وقت کہاں ہیں؟ اوکے آپ انہیں میرے آنے تک نرم لہجے اور مناسب الفاظ میں سمجھائیے تب تک میں بھی آرہی ہوں ممی نے فون بند کیا اور گہری سانس لے کر پہلے اربش کو دیکھا اور پھر بوا کی طرف مڑیں۔
ممی کیا ہوا ہے سب خیر تو ہے ناں؟ اربش ان کا ردعمل دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا۔
ففتھ کلاس کا ایک بچہ ابھی تک اپنے گھر نہیں پہنچا ممی نے اربش اور بوا کو دیکھ کر متفکرانہ انداز میں بتایا۔
گھر نہیں پہنچا تو گیا کہاں؟ بوا ان سے بڑھ کر بوکھلا گئی تھیں۔
پتہ نہیں بوا کہاں گیا اور کس کے ساتھ گیا؟ میں تو سب بچوں کے گھر چلے جانے کے بعد اسکول سے نکلتی ہوں لیکن آج یہ ذمے داری وائس پرنسپل کو تو سونپی لیکن
لیکن کیا؟
اس کے اپنے بچے کی طبیعت خراب ہوگئی تھی وہ اسے لے کر ڈاکٹر کے پاس چلی گئی اور بعد میں دیر سے جانے والے بچوں میں سے ایک بچہ اب تک گھر نہیں پہنچا
تو اس کے گاڑی والے سے پوچھنا چاہیے تھا ناں ممی
گاڑی والا جب لینے آیا تو وہ اسکول میں نہیں تھا۔ اب اس کے گھر والے شاہانہ کے ساتھ اسکول میں موجود ہیں اور پولیس کو رپورٹ لکھوانا چاہتے ہیں وہ تینوں ہی اس وقت سخت پریشانی میں تھے کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی ہنسی خوشی مذاق کرتے ہوئے وہ تو اجیہ کے گھر جانے والے تھے کہ اب یہ اچانک!
ہر کام میں اللہ کی مصلحت ہوتی ہے بیٹا بوا نے کہا تو اربش نے انہیں مڑ کر دیکھا۔
کیا مطلب بوا؟
مطلب یہ کہ تم نے انہیں اپنے آنے کی اطلاع نہیں دی تھی تو اس میں بھی اللہ کی طرف سے بہتری ہی تھی ناں کہ اگر ہم انہیں فون کرنے کے بعد ان کے گھر نہ جاتے تو وہ بات کتنی بری لگتی۔ اب تو انہیں معلوم بھی نہیں ہوگا کہ ہم ان کی گلی کے باہر اس وقت اپنی گاڑی میں موجود ہیں
ہمم اربش نے گہری سانس لی۔ ساری منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ گئی تھی۔
آئی ایم سو سوری اربش بیٹا لیکن ایسی صورت حال میں ان کے گھر جانا کسی طور بھی مناسب معلوم نہیں ہورہا مجھے ممی نے اربش کو کسی گہری سوچ میں گم دیکھا تو شرمندہ ہوئیں۔
نہ تو وہاں جاکر یکسوئی سے کوئی بات ہوپائے گی اور نہ ملاقات اور پھر وہ بچے والا معاملہ مزید الجھ گیا تو ہمارے اسکول کے لیے بہت پرابلم ہوجائے گی
ارے نہیں ممی آپ نے یہ کیسے سوچا کہ آپ کی کسی بھی مشکل یا پریشانی پر میں اپنی خوشی کو ترجیح دوں گا وہ شرمندہ ہوا کہ اس کے یوں سوچ میں پڑنے پر ممی ایسا سمجھیں۔
آپ ہیں تو میں ہوں اور آپ کی خوشی اور سکون کے لیے تو میں کچھ بھی قربان کرسکتا ہوں اس نے گاڑی ریورس گیئر میں ڈال کر گلی سے باہر نکالی اور پھر واپسی کی سڑک پر ڈال دی۔
اور ویسے بھی اگر آج نہیں جاسکے تو کیا ہوا‘ ہم کل ان کے گھر آجائیں گے‘ کل نہ آئے تو پرسوں سہی
جیتے رہو میرے بچے خوش رہو اور ہمیشہ اپنی ماں کی خوشیوں کا اسی طرح خیال رکھو بوا نے اس کی باتوں کو سراہتے ہوئے بے اختیار دعا دے ڈالی تھی۔

اربش بوا اور ممی اسکول پہنچے تو رات ہوچکی تھی‘ چوکیدار کے ساتھ ساتھ ایڈمنسٹریشن کے دو لوگ اور مس شاہانہ بھی موجود تھیں اور بچے کے والدین کے سامنے اپنا نقطہ نظر سمجھانے میں مصروف تھے کہ غلطی ان کی نہیں ہے۔
آپ کی غلطی کیسے نہیں ہے؟ بچہ اسکول سے لاپتہ ہوا ہے اور اسکول کے گیٹ کے اندر آنے کے بعد سے ہر بچہ آپ کی ذمہ داری ہوتا ہے‘ اس وقت تک جب تک کہ کوئی اسے آکر لے نہ جائے اور پھر جب ڈرائیور کے آنے کے بعد بچہ اسکول میں تھا ہی نہیں تو آپ کی انتظامی غفلت کے باعث ہی وہ کہیں گم ہوا کہ نہیں
السلام علیکم! ممی نے آفس میں داخل ہوکر سلام کیا اور سامنے موجود لڑکی سے مخاطب ہوئیں۔
آپ سفیان کی والدہ ہیں؟
جی نہیں میں شرمین ہوں سفیان کی پھپھو‘ اور یہ ان کی مما ہیں شرمین نے اپنا تعارف کروانے کے ساتھ اپنی بھابی کا بھی بتایا‘ بوا اور اربش آفس میں موجود دیوار کے ساتھ رکھے صوفوں پر بیٹھ گئے تھے۔
اور سفیان کے پاپا اس وقت پولیس اسٹیشن جاچکے ہیں تاکہ سفیان کی گمشدگی کی رپورٹ کروائی جائے
مس شاہانہ آپ کے پاس کس وقت آئے تھے یہ لوگ؟ ممی نے وائس پرنسپل کو مخاطب کیا۔
میڈم اب سے ایک گھنٹہ پہلے ہی ان کے گھر سے کوئی فرد اسکول آیا تھا اور چوکیدار سے سفیان کا پوچھا‘ اسکول میں اور تو کوئی تھا ہی نہیں‘ چوکیدار نے بتایا کہ سب بچے تو دوپہر کو ہی اپنے گھر چلے جاتے ہیں‘ اس وقت جب کہ رات ہونے کے قریب ہے تو کسی بھی بچے کے بارے میں اسکول سے پوچھنے کا بھلا کیا مقصد چوکیدار کہہ رہا تھا کہ بس اتنی بات کرنے پر وہ بندہ چیخنے چلانے لگا اور بدتمیزی کی‘ جس پر اس نے پہلے عبدالرحیم صاحب اور عدنان بھائی کو فون کیا اور پھر انہوں نے ہی مجھے فون پر اطلاع دی‘ جس پر میں فوراً اسکول پہنچی اور سارا معاملہ جاننے کے فوراً بعد آپ کو کال کی مس شاہانہ نے مکمل تفصیل کے ساتھ تمام تر معاملے سے آگاہ کیا۔
دیکھیے آپ لوگ خوامخواہ غصے میں ہیں اور اسکول کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں۔ اسکول کا آف ٹائم ایک بجے ہے تب سے لے کر اب شام کے چھ سات بجے آپ کو خیال آیا کہ آپ کا بچہ گھر نہیں پہنچا اور آپ چوکیدار اور اسکول انتظامیہ کے سر پر سارا قصور ڈالنے کی کوشش کرنے لگیں جو کہ کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے ممی جو پہلے اپنے اسٹاف کی غلطی سمجھ کر غصے میں تھیں اب سارا معاملہ مکمل طور پر سمجھ میں آنے کے بعد شرمین سے مخاطب ہوئیں۔
سفیان ہمارے اسکول کاطالب علم ہے اور اس کی خیریت خود ہماری بھی اولین خواہش ہے مگر اس معاملے میں اسکول کا نام اچھالنے کی لاشعوری غلطی نہ کیجیے
واہ میڈم واہ آپ تو یوں مطمئن ہو کر کہہ رہی ہیں جیسے بچہ نہیں بلکہ آپ کا کوئی پین اِدھر اُدھر ہوگیا ہے اور مل نہیں پارہا کسی دوسرے کی اولاد کا دکھ آپ کو کیوں محسوس ہوگا‘ میں دیکھوں اگر آپ کا اپنا بیٹا کوئی لے جائے اور آپ کو کئی گھنٹوں تک بھی اس کی کوئی خیر خبر نہ ملے تو آپ کا کیا حال ہو شرمین کی بات پر ممی نے تڑپ کر اس کے عقب میں صوفے پٖر بیٹھے اربش کو دیکھا‘ اس کی اس بے سروپا بات پر بوا نے بھی پہلو بدلا لیکن چونکہ معاملہ اسکول کا تھا اس لیے وہ کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں۔
یہ آپ کی غلط فہمی ہے کیونکہ اسکول کا ہر طالب علم ہی میرے لیے میرے بچے جیسی اہمیت رکھتا ہے ممی کی تحمل مزاجی قابل رشک تھی۔ انہوں نے اسی طرح سکون سے جواب دیا کہ جیسے اس نے کوئی غلط بات کی ہی نہ ہو۔ اسی وقت شرمین کا موبائل بجا اور سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
ہیلو جی بھائی سفیان کا کچھ پتہ چلا؟
رپورٹ تودرج ہوگئی ہے ناں؟
پتہ نہیں‘ میرا تو آج جاب کا فرسٹ ڈے تھا‘ میں وہیں پر تھی‘ گھر آتے ہی بھابی نے بتایا تو ان کے ساتھ یہاں اسکول آگئی
اچھا ایک منٹ میں پوچھتی ہوں
بھابی آپ نے سفیان کے دوستوں کے گھر فون کرکے پوچھ لیا تھا ناں؟ شرمین نے فون ہولڈ کروا کر بھابی کی طرف گردن موڑی۔
سارے دوستوں کے تو نمبر میرے پاس ہیں ہی نہیں‘ جن کی مدرز کا نمبر تھا بس ان سے ہی پوچھا ہے‘ وہاں نہیں ہے وہ بھابی نے آنسو صاف کرتے ہوئے بتایا اور یہی بات شرمین نے فون پر بھائی کو بتادی۔
جی ہم ابھی اسکول میں ہی ہیں اور پرنسپل بھی یہیں موجود ہیں
چلیں ٹھیک ہے‘ میں انہیں کہتی ہوں۔ پھر جو صورت حال بنی آپ کو بتائوں گی‘ پلیز آپ فکر نہ کریں شرمین نے فون بند کرکے پرس میں ڈالا اور بولی۔
میڈم بھائی کو پولیس اسٹیشن والوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ اسکول انتظامیہ سے رابطہ کرکے سفیان کی کلاس کے تمام بچوں کے نمبر لیے جائیں اور ان کے گھر فون کرکے معلوم کیا جائے کہ کہیں سفیان وہاں تو نہیں اب تک انہوں نے بھی اپنی کارروائی شروع کردی ہے
شیور وائے ناٹ ممی نے کہا اور پھر عبدالرحیم صاحب کو ففتھ کلاس میں زیرِ تعلیم تمام بچوں کے فون نمبرز نکالنے اور انہیں فون کرنے کا کہا۔
غلطی میری ہی ہے دراصل میں گھر پر نہیں تھی‘ آج شرمین بھی جاب پر چلی گئی اور میرے ذہن میں نہیں رہا کہ گھر پر کوئی نہیں ہے اور خیال یہی تھا کہ شرمین گھر پر ہے تو سفیان کے آنے پرگھر بند نہیں ملے گا‘ لیکن جب شام کو میں واپس آئی تو دیکھا کہ شرمین گھر کو لاک لگا کر کہیں گئی ہوئی ہے‘ اپنی چابی سے گھر کھولا اور پھر عدنان کو فون کرکے بتایا‘ اتنے میں شرمین بھی آگئی اور عدنان پولیس اسٹیشن کی طرف بھاگے جبکہ ہم دونوں یہاں اسکول آگئیں شرمین کی بھابی نے پوری تفصیل بتائی۔
لیکن سوال تو پھر وہی ہے ناں میڈم کہ بچہ اسکول سے گیا کہاں‘ جبکہ گاڑی والا تو اسے لینے ہی دیر سے پہنچا شرمین کی سوئی اب تک وہیں اٹکی ہوئی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ بس ہر صورت وہ اسکول ہی کی انتظامیہ کو مورد الزام ٹھہرانا چاہتی ہے۔
آپ کو یقین ہے کہ گاڑی والا سچ کہہ رہا ہے؟ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ اس نے بچے کو گھر کے سامنے ہی اتارا ہو‘ بچہ گھر لاک ہونے کی وجہ سے کہیں اور چلا گیا ہو اور گاڑی والا صرف اپنی جان چھڑانے اور پولیس تک بات جاپہنچنے کی وجہ سے جھوٹ کا سہارا لے رہا ہو اس مرتبہ اربش بولا تو شرمین نے مکمل رخ موڑ کر اپنے پیچھے موجود صوفے پر بیٹھے اربش کو دیکھا۔ صاف رنگت پر بلیوجینز اور سفید بے داغ شرٹ پہنے وہ پریشانی کے اس گنجلک اور انتہائی پیچیدہ ماحول میں سکون کے لمحے کی مانند دکھائی دے رہا تھا‘ شرمین نے اسے دیکھا تو جیسے لمحے بھر کے لیے سفیان کی پریشانی اس کے ذہن سے نکل گئی۔
کچھ لوگوں کی بات چیت‘ ان کا اخلاق یا ان کا کردار مخفی بھی رکھا جائے تو بھی ان کی شخصیت دیکھنے والے کو جکڑ لیتی ہے‘ بس دیکھنے سے ہی یہ اندازہ قائم کرلیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک ہوں گے اور یہی خیالات اربش کے بارے میں شرمین کے ذہن میں اترے تھے اور باوجود اس کے کہ اربش نے بالواسطہ طور پر انہیں ہی مورد الزام ٹھہرایا تھا لیکن پھر بھی شرمین کو اس کا یہ سب کہنا برا نہیں لگا تھا۔
بالکل آپ کی بات ٹھیک ہے‘ ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو‘ شاید جلدی میں یا پھر یوں کہیں کہ پریشانی میں ہم اس طرف سوچ ہی نہیں پائے‘ بس فوراً ذہن میں دو ہی خیال آئے ایک پولیس اسٹیشن اور دوسرا اس کا اسکول شرمین کے لہجے کا انداز بدل گیا تھا‘ اس سے پہلے مس شاہانہ اور پھر ممی سے بات کرتے ہوئے وہ جس جارحانہ انداز میں سامنے آئی تھی اب اس سے بالکل مختلف طریقے سے اربش کے ساتھ بات کررہی تھی۔ اس کی بات سنتے ہوئے تو رخ موڑا ہی تھا لیکن اب اس سے بات کرتے ہوئے اپنی کرسی ہی اٹھا کر اس انداز میں رکھی کہ اب وہ اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی اربش‘ ممی اور بوا سمیت سب کو دیکھ سکتی تھی۔
شاید ہماری غلطی ہے کہ ہمیں پہلے سفیان کے دوستوں سے معلوم کرنا چاہئے تھا‘ لیکن چونکہ ہمارے پاس اس کے سب دوستوں کے نمبر نہیں اس لیے ہم شیور نہیں کہ پتہ نہیں اس وقت وہ کہاں ہے اسے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ اربش کی موجودگی میں اس نے اتنی اونچی آواز میں بات کی اس لیے اب اپنی آواز کو دھیما اور لہجے کو حتی الامکان نرم رکھتے ہوئے آدھا قصور اپنے سر لیا‘ تب تک عبدالرحیم صاحب مختلف بچوں کے گھر فون کرکے سفیان کی موجودگی کے بارے میں دریافت کررہے تھے۔
شرمین کی بھابی اب تک آنسوئوں سے مگر بے آواز رو رہی تھیں اور انہیں دیکھ دیکھ کر ممی تو پریشان تھیں ہی لیکن بوا کے بھی دل کو کچھ ہورہا تھا۔ اس لیے پہلے تو کچھ دیر برداشت کرکے بیٹھی رہیں لیکن جب بس نہ چلا تو اپنی جگہ سے اٹھ کر بھابی کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئیں اور انہیں گلے سے لگا لیا۔
اللہ سے دعا مانگو رونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ دعا کرو کہ سفیان جہاں کہیں ہو ساتھ خیریت کے ہو اور جلد ہی تم سے آن ملے بوا نے انہیں دلاسا دیا تو وہ بھی اپنے آنسو صاف کرنے لگیں لیکن آخر ماں تھیں بہتے ہوئے آنسوئوں کو نہ روک پائیں۔
کیا آپ بھی اسکول کے اسٹاف میں شامل ہیں؟ شرمین اربش کے بارے میں جاننا چاہتی تھی لیکن تعارف کا آغاز اس نے بوا سے کیا تھا کہ براہ راست اربش کا پوچھنا شاید کچھ معیوب لگتا۔
ارے نہیں بیٹا میں تو میڈم صاحبہ کی بوا ہوں ان کے گھر میں ہی ہوتی ہوں اور یہ اربش ہے ان کا بیٹا دراصل ہم لوگ کہیں جارہے تھے جب شاہانہ بیٹا نے فون کیا تو بس پھر راستے سے ہی پلٹ آئے
معذرت چاہتی ہوں کہ ہماری وجہ سے آپ بھی پریشان ہوئے‘ لیکن بات ہی ایسی ہے کہ کیا کریں شرمین بدستور معذرت خواہانہ انداز اپنائے ہوئے تھی اور اربش کے بارے میں جان لینے کے بعد اب مزید خوش اخلاقی ظاہر کررہی تھی۔ اسی دوران عبدالرحیم صاحب جو کہ آفس میں ہی موجود کمپیوٹر سے سفیان کے تمام کلاس فیلوز کے نمبرز حاصل کرنے کے بعد وہیں بیٹھے بیٹھے ہی سب کو فون کررہے تھے اچانک خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بولے۔
کیا واقعی؟ سب کا دھیان ان کی طرف ہوگیا تھا۔
شکر الحمدللہ۔ کیا آپ میری سفیان سے بات کروا سکتی ہیں؟ اور سفیان کی آواز سنتے ہی عبدالرحیم صاحب نے فون شرمین کی بھابی کو پکڑا دیا۔
وہ سفیان کی آواز سن کر بات تو خیر کیا کرتیں‘ اب تک وہ گھٹ گھٹ کر رو رہی تھیں تو ایک دم شدت جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے خوشی کے اظہار کے طور پر آواز سے رونے لگیں۔
ممی‘ اربش‘ بوا اور اسکول کے باقی موجود اسٹاف سب نے گہری سانس لے کر اللہ کا شکر ادا کیا تھا کہ ان سب کی سانس اٹکی ہوئی تھی کہ اگر سفیان نہ ملا تو اس کی گمشدگی کا تو دکھ تھا ہی لیکن پھر جو اسکول کے مسائل پیدا ہوتے وہ بھی کچھ کم نہ تھے۔
آئی ایم سوری میڈم میں شرمندہ ہوں کہ ہم نے آپ کو مورد الزام ٹھہرایا اور اسکول کی ہی غلطی سمجھتے رہے حالانکہ ایسا نہیں تھا شرمین نے کہا۔
سفیان اپنے دوست کے گھر پر ہے‘ یہ بات تو سمجھ میں آگئی لیکن وہاں تک پہنچا کیسے؟ ممی نے پوچھا۔
اربش آپ نے بالکل سو فیصد ٹھیک اندازہ لگایا تھا صورت حال کا شرمین اربش کو دیکھ کر مسکرائی۔
مطلب؟ اربش نے سنجیدگی سے پوچھا۔
مطلب یہ کہ سفیان کہہ رہا تھا گاڑی والے نے اسے گھر کے سامنے اتارا تھا‘ وہ گھر کی بیل بجاتا رہا لیکن جب کسی نے نہیں کھولا تو وہ خود ہی اپنے ایک دوست کے گھر چلا گیا اور اب تک وہیں پر ہے
لیکن دوست کے گھر والے بھی کتنے غیر ذمے دار نکلے کہ دوپہر سے بچہ ان کے گھر پر تھا اور انہوں نے اس کے گھر ایک فون کال تک نہیں کی کہ آکے اپنا بچہ لے جائیں‘ یا کم از کم بتا ہی دیتے کہ پریشان نہ ہوں بچہ ہمارے گھر ہے بوا کو سفیان کے دوست کے گھر والوں پر بھی شدید غصہ آیا تھا۔
بوا ان بچوں کی چالاکیوں کو ہم بڑے بھی نہیں سمجھ سکتے ہوسکتا ہے دوپہر سے یہ دونوں کمرے سے ہی نہ نکلے ہوں‘ اور وہیں کھیل رہے ہوں یا ہوسکتا ہے اس کے گھر والوں کو بھی عبدالرحیم صاحب کے فون سے پتہ چلا ہو کہ سفیان ان کے بیٹے کے کمرے میں وڈیوگیم کھیل رہا ہے شرمین نے ہنستے ہوئے کہا۔
خیر چلیں جو بھی ہوا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ سفیان خیریت سے ہے‘ آپ اپنے بھائی کو بھی فون کرکے بتادیں اور اربش کیا خیال ہے اگر اسی خوشی میں ہم گاڑی میں رکھا ہوا کیک کاٹ لیں تو ممی نے شرمین کو اپنے بھائی کو فون کرنے کی ہدایت کرنے کے بعد اربش کو گاڑی سے کیک لانے کا کہا تو وہ مسکراتے ہوئے اٹھنے ہی لگا تھا کہ عبدالرحیم صاحب آگے بڑھے۔
اربش بیٹا آپ بیٹھے رہیں میں لے آتا ہوں‘ آپ صرف چابی دے دیں اربش نے ممی کی طرف دیکھا جنہوں نے آنکھوں کے اشارے سے اوکے کیا اور اربش عبدالرحیم صاحب کو چابی دے کر وہیں بیٹھ گیا۔
یہ کیک اس نے اجیہ کے گھر لے جانے کی نیت سے لیا تھا اور سوچ رہا تھا کہ وہ اجیہ کو بتائے گا کہ کافی کیک لانے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ خود اسے بہت پسند تھا‘ لیکن دانے دانے پر پہ کھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے اس لیے اجیہ اور اس کے گھر والوںکے لیے لیا گیا کیک اب شرمین اور اس کے گھر والوں میں تقسیم ہونا تھا۔ شرمین نے اپنے بھائی کو بھی سفیان کے مل جانے کی اطلاع دے دی تھی اور اس کے دوست کے گھر کا ایڈریس سمجھا کر سفیان کو اسکول میں ہی لانے کی ہدایت کی تھی۔
میڈم اگر آپ کہیں تو میں سب کے لیے چائے بھی لے آئوں؟ عبدالرحیم صاحب کیک لے کر اندر آئے تو مس شاہانہ نے پوچھا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتیں شرمین بول پڑی۔
ویسے میری ایک اور درخواست ہے اگر آپ لوگ برا محسوس نہ کریں تو؟
جی کہئے ایسی کیا بات ہے؟ ممی نے استفہامیہ انداز میں کہا‘ باقی سب بھی اس کی بات مکمل سننے کے انتظار میں نظر آئے۔
سب سے پہلی بات تو یہ کہ ہماری طرف سے معذرت قبول کیجیے کہ نہ صرف آپ کو خوامخواہ اس پریشانی میں دھکیلا بلکہ آپ کا بنا بنایا پروگرام بھی ہماری وجہ سے کینسل ہوگیا اور دوسری بات یہ کہ چائے پھر کسی دن پئیں گے‘ لیکن آج آپ ہماری طرف سے ڈنر کی دعوت قبول کریں‘ اتنی اعصاب شکن پریشانی کے بعد کچھ ریلیکس ہونے کے لیے کچھ دیر کے لیے نارمل ماحول میں مل بیٹھنا بھی ضروری ہے اس کی یوں اچانک دی گئی دعوت پر سبھی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تھے‘ ممی نے مناسب لفظوں میں معذرت کرنا چاہی لیکن وہ بضد رہی۔
اگر آپ نے ہماری دعوت قبول نہ کی تو مجھے لگے گا کہ شاید آپ نے ہمیں معاف نہیں کیا اور مجھے احساس ہے کہ میں نے آپ سے بدتمیزی سے بات کی یہ میری غلطی ہے وہ سر جھکائے ہوئے اپنے رویے پر شرمندہ نظر آرہی تھی۔
آپ کا جو بھی رویہ تھا وہ فطری تھا‘ اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں اس لیے خود کو مورد الزام نہ ٹھہرائیے ممی نے اسے سمجھایا اور ایک بار پھر ڈنر پر جانے سے معذرت ظاہر کی لیکن وہ کسی بھی طور ٹلنے والی نہیں تھی‘ لہٰذا ممی نے مس شاہانہ‘ عبدالرحیم صاحب اور دیگر کو ساتھ چلنے کا کہا لیکن انہوں نے بچوں کی وجہ سے معذرت کرلی اور طے یہ پایا کہ شرمین کے بھائی اور سفیان کے آنے کے بعد بوا‘ ممی اور بھابی وغیرہ سب ایک ساتھ ڈنر کے لیے جائیں گے۔ پہلے خود شرمین نے اٹھ کر کیک کاٹ کر سب کو پیش کیا تھا۔
ممی کو اس کی نیچر بہت اچھی لگی تھی کہ اگر فطری طور پر پریشان کن صورت حال کے باعث اس نے بلند آواز میں بات کر ہی لی تھی تو اس پر اس قدر پشیمانی‘ معذرت اور پھر ان کی طرف سے معاف کردینے کا یقین کرنے کے لیے ڈنر کی دعوت بھلا آج کل کون ہے جو اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہوتا یا پھر اس قدر معذرت خواہ نظر آتا ممی نے شرمین کو اپنی بھابی کے ساتھ مسکراتے ہوئے دوستانہ انداز میں بات کرتے دیکھ کر سوچا۔
کہاں جاب کررہی ہیں آپ آج کل؟ ممی نے یونہی بات برائے بات پوچھا۔
ایک ٹریول ایجنسی کی جاب ہے اور آج ہی پہلا دن تھا۔ اس سے پہلے ایک کال سینٹر میں بھی جاب کی تھی‘ لیکن وہاں اور ٹائمنگز کی وجہ سے چھوڑ دی شرمین نے مسکراتے ہوئے جھوٹ بولا۔
آپ کے والدین
نہیں ہیں صرف بھائی ہے اور یہ پیاری سی بھابی‘ ان کے ساتھ ہی رہتی ہوں۔ والد صاحب کو تو خیر میں نے دیکھا ہی نہیں لیکن امی کی کچھ برس پہلے ہی ڈیتھ ہوئی
اوہ سوری بہت افسوس ہوا ممی نے رسم نبھائی لیکن وہ واقعی اس کے بارے میں جاننا چاہ رہی تھیں‘ اس لیے توجہ سے سنتی رہیں۔ ویسے بھی اس کے بھائی کے آنے تک ان لوگوں نے یہیں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنا تھا۔
اٹس اوکے دراصل انہیں کینسر تھا اور ہمیں پتہ ہی تب چلا جب وہ علاج کے قابل نہیں رہی تھیں‘ پہلے تو شاید خود ڈاکٹر کو بھی پتہ نہیں چلا تھا اور جب اسے ذرا سا شک ہوا تو اس نے فوراً کچھ ٹیسٹ کروائے اور جب رپورٹس آئیں تو پتہ چلا کہ بہت دیر ہوچکی تھی شرمین کی باتوں میں اربش کے لیے دلچسپی کا کوئی عنصر نہیں تھا۔ وہ اب تک اگر وہاں موجود تھا تو صرف اس لیے کہ بوا اور ممی کو اسی نے گھر لے کر جانا تھا لیکن جیسے ہی شرمین کے منہ سے لیبارٹری اور رپورٹس کے متعلق سنا تو اسے یاد آیا کہ اجیہ کی امی کی رپورٹس اب تک اس کے پاس تھیں جو اب تک کسی نہ کسی وجہ سے تاخیر کا شکار ہورہی تھیں اور ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے۔
یہ خیال آنا تھا کہ وہ بے چین سا ہوگیا‘ سوچنے لگا کہ کسی طور اگر وہ آج ہی رپورٹس اجیہ تک پہنچا دے تو صبح کے وقت وہ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاسکتی ہے۔ یہ سب ذہن میں آنا تھا کہ وہ اپنا فون ہاتھ میں لیے آفس سے باہر نکل آیا‘ وہ ابھی کسی بھی صورت اسے رپورٹس دینا چاہتا تھا کہ کل کا کیا پتہ‘ کل بھی ان کے گھر جانا ہوسکے یا نہیں لیکن افسوس کہ بہت دفعہ بیلز جانے کے بعد بھی اجیہ کی طرف سے کال ریسیو نہیں ہوئی تھی۔
وہ آفس کے باہر والے کوریڈور میں ٹہلنے لگا اور پھر وہیں ٹہلنے کے دوران اس کے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ کتابیں دینے کے بہانے اجیہ کے گھر جائے اور ان کتابوں میں ہی اس کی امی کی رپورٹس بھی رکھ دے ضروری تو نہیں کہ وہ اس کے گھر کے اندر بھی جائے‘ وہ صرف باہر سے ہی کتابیں پکڑا کر واپس لوٹ سکتا ہے تاکہ اسے کوئی پرابلم نہ ہو اور اس کے بعد وہ بوا اور ممی کو ڈنر سے پک کرلے اور گھر لے آئے۔
یہ آئیڈیا اس کے نزدیک بہترین تھا۔ ویسے بھی اکثر لڑکیاں اپنے بھائیوں کے ہاتھ ایک دوسرے کو کتابیں یا کچھ اور بھجواتی ہی ہیں‘ ایسے میں اس کا جانا اور محض دروازے سے ہی کتابیں دے کر لوٹ آنا کوئی معیوب بات نہیں ہوگی اور پھر وہ اجیہ کو میسج کے ذریعے بتادے گا کہ وہ خاص طور پر کتابیں دینے کیوں آیا تھا۔ یہ خیال ذہن میں پختہ ہوتے ہی اس نے ممی کو کچھ دیر کے لیے باہر جانے کا بتایا۔
طے یہی پایا تھا کہ وہ جس بھی ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے جائیں گے ممی اسے اس کا نام اور ایڈریس فون پر بتادیں گی۔ ڈنر شروع کرنے کے لیے اس کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اربش نے سب کے ساتھ ڈنر کرنے پر معذرت کرلی تھی اور اجیہ کے گھر سے واپسی پر وہ بوا اور ممی کو لے کر گھر آجائے گا۔ شرمین نے اسے ایک مرتبہ کہا بھی کہ اسے سب کے ساتھ ہی ڈنر کرنا چاہیے لیکن اس نے شکریے کے ساتھ اس کی آفر لوٹا دی اور عبدالرحیم صاحب نے ٹیبل پر جو گاڑی کی چابی رکھی تھی وہ اٹھا کر ممی اور بوا کو اللہ حافظ کہتا باہر نکل آیا۔

یہ کیسے گھر سے نکلے
اور بند دروازے کو کھولے
اور گلی میں جھانک کر دیکھے
میری آواز کو الفاظ کا رستہ نہیں ملتا
مجھے ڈر ہے کہیں یہ ان کہے
لفظوں کے جنگل میں
یونہی دب کر نہ مر جائے
مجھے تنہا نہ کر جائے
ادھوری بات اک دکھ ہے
مجھے اس دکھ کو سہنا ہے
بساط جاں الٹنے تک
اسی زنداں میں رہنا ہے

اجیہ اپنے ہاتھ میں موبائل فون لیے اربش کی طرف سے آنے والی مس کالز کو خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ سب کھانے پینے سے فارغ ہوچکے تھے اور اب حنین سب کے لیے چائے پکا رہی تھی لیکن کس دل سے؟ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ بظاہر سب ہنس رہے تھے مسکرا رہے تھے لیکن گھر کے تمام مکین کس کرب کو ضبط کیے ہوئے مسکرا رہے تھے یہ صرف وہی جانتے تھے۔ اور غیر متوقع طور پر پیش آنے والی اس صورت حال کے بعد ایک دوسرے کا کس طرح سامنا کرنا ہے‘ یہ ایک الگ سوال تھا۔
سکندر صاحب‘ اپنے بھائی اور بھاوج کے ساتھ اب صحن میں بچھی ہوئی چارپائیوں پر موجود تھے‘ امی بھی وہیں موجود تھیں اور وقتاً فوقتاً ان کی باتوں میں حصہ لے رہی تھیں۔ اجیہ اس وقت لاونج میں اکیلی بیٹھی تھی جب غزنی بڑوں سے نظر بچا کر اس کے پاس آیا۔
بس اب اسی طرح موبائل کو ہر وقت اپنے ہاتھ میں ہی رکھنا عقب سے آتی غزنی کی آواز نے اجیہ کو چونکا دیا‘ ایک دم نظر اٹھا کر دیکھا لمبا چوڑا غزنی عقب سے ہوتا ہوا اب اس کے سامنے آبیٹھا تھا۔
میں کسی بھی وقت تمہیں فون کروں تو کم از کم تمہاری آواز تو سن سکوں ناں اب اتنا تو میرا حق بنتا ہے ناں غزنی اس کی آواز سننا چاہتا تھا لیکن جواب میں اجیہ خاموش رہی تھی۔
لیکن ہم ایسا کیوں ناں کریں کہ روزانہ بات کرنے کا ایک ٹائم رکھ لیتے ہیں‘ تاکہ اس وقت تک تم بھی فری ہوکر میرے فون کا انتظار کررہی ہو اور مجھے بھی جلدی ہو کہ بس ہر کام چھوڑ کر صرف اور صرف فون کرنا ہے اور یہ احساس کتنا خوب صورت ہے ناں کہ کوئی ہم سے بات کرنے کے لیے منتظر ہے‘ یہ محبت اتنی کیوں خوب صورت ہوتی ہے اجیہ‘ تم تو کتابیں پڑھتی رہتی ہو مجھ سے کہیں زیادہ شعور بھی رکھتی ہو‘ محبت کے بارے میں تو تم بہت جانتی ہوگی اجیہ اب تک اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں بولی تھی۔
لیکن پتہ ہے مجھ سے اگر کوئی یہ پوچھے ناں کہ محبت کیا ہے کتنی خوب صورت ہے؟ اور اگر محبت کبھی انسانی روپ میں نظر آئے کہ و ہ کیسی ہوگی تو میں فوراً بلا توقف یہ بات کہوں گا کہ اگر محبت انسانی روپ میں نظر آتی تو وہ صرف اور صرف اجیہ جیسی ہوتی‘ میری اجیہ جیسی کیونکہ اجیہ سے بڑھ کر خوب صورت ان آنکھوں نے آج تک کسی کو نہیں پایا ٹرے میں چائے لے کر آتی حنین جسے صحن تک جانے کے لیے لائونج سے گزرنا تھا‘ پہلے غزنی اور اجیہ کو آمنے سامنے بیٹھا دیکھ کر اور پھر غزنی کی بات سن کر جل ہی تو گئی تھی اس کا دل چاہا تھا کہ گرم ابلتی ہوئی چائے کا پورا تھرماس اجیہ کے چہرے پر انڈیل دے اور پھر غزنی سے پوچھے کہ بتائو‘ کیا اب بھی تمہیں لگتا ہے کہ ان آنکھوں نے اجیہ سے بڑھ کر خوبصورت کسی کو نہیں پایا؟
اسی وقت گیٹ پر اطلاعی گھنٹی بجنے سے غزنی اجیہ اور
حنین سمیت باقی سب کا دھیان باہر کی طرف گیا تھا۔
یہ اس وقت کون ہوسکتا ہے؟ غزنی نے خود کلامی کی اور ذرا سا گھوم کر گیٹ کی طرف دیکھا۔ لائونج میں جس جگہ وہ اور اجیہ بیٹھے تھے وہاں سے بیرونی گیٹ بخوبی نظر آرہا تھا‘ اور اس سے پہلے کہ وہ گیٹ کھولنے کے لیے اٹھتا‘ سکندر صاحب گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھے اور گیٹ کھولنے کے دوران حسب عادت پوچھ لیا۔
کون ہے بھئی اس وقت؟ اور ساتھ ہی گیٹ کھولا۔
بالکل سامنے اربش ہاتھ میں کوئی شاپر لیے کھڑا تھا‘ سکندر صاحب نے گیٹ کھولا تو اس نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ اجیہ نے وہیں بیٹھے بیٹھے اسے دیکھا تو اس کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close