Aanchal Jan-17

ہجر کا فاصلہ

صدف آصف

اک عہد زیاں خواب سدا ہوگیا مجھ میں
اک اور برس آ کے فنا ہوگیا مجھ میں
اب تیرا کوئی بھی رنگ مجھ پر نہیں کھلتا
اے شہر خرابات یہ کیا ہوگیا مجھ میں

بعض جذبے بے نام ہوتے ہیں، جنہیں کوئی نام دینا مشکل ہوتا ہے، انہیں ہم عقل کی کسوٹی پر رکھ کر پرکھ نہیں سکتے، مگر وہ سینے میں موجود دل کی دھڑکن کی طرح اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ مایا منظور بھی پچھلے چند مہینوں سے سمجھ میں نہ آنے والے جذبوں کے ہاتھوں بیزار ہوگئی تھی، یوں ہوا کہ اس کا خود سے نگاہیں ملانا مشکل ہونے لگا تھا۔ شہیر عباسی کو دل سے نکالنے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہورہی تھی۔ کبھی کبھی وہ ایسی یک طرفہ محبت پر خود کو جی بھر لعن طعن کرتی تو کبھی خود ترسی کے نشانے پر آجاتی مگر چاہ کر بھی ایسی سچائی کو جھٹلانا ناممکن ہوتا جارہا تھا۔ جب کچھ اور نہ بن پڑتا تو تھک ہار کر اعتراف شکست کرلیتی۔ ابھی کچھ دیر قبل بھی ایسے ہی خود سے لڑتے، تکیے میں منہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ کچھ دیر بعد جب بھڑاس نکل گئی تو اٹھ بیٹھی، کھڑکی سے باہر جھانکا، شام ہر سُو اپنے پَر پھیلا چکی تھی۔ سورج کی روشنی کچھ ملگجی سی محسوس ہوئی۔ اسے خیال آیا کہ اس وقت تو سب کو چائے کی طلب ہوتی ہے۔
مایا نے خوشبودار الائچی والی گرما گرم چائے نفیس سے کپ میں انڈیلی اور شیشے کی چھوٹی سی ٹرے تھام کر کچن سے اس کے کمرے سے کی طرف چل دی۔ اسے جب سے خبر ہوئی تھی کہ شہیر دن میں کئی بار چائے پینے کا عادی ہے تو سارہ بن کہے اس کی یہ خواہش پوری کردیتی تھی۔
مایا نے کوریڈور سے گزرتے ہوئے دیوار گیر آئینے میں اپنا عکس دیکھا، نیوی بلیو کرتے اور وائٹ شلوار میں سارہ کی گوری رنگت مزید نکھری نکھری لگ رہی تھی، وہ کافی اعتماد سے سفید دروازے سے اندر داخل ہوئی۔ سامنے ہی شہیر کرسی پر براجمان اپنے کام میں محو دکھائی دیا، اس کے ہونٹوں میں پین پھنسا دیکھ کر وہ ہنس دی اور پھر حیران رہ گئی، شہیر نے بھی نیوی بلیو کرتے پر سفید شلوار زیب تن کی ہوئی تھی، وہ ان کپڑوں میں بہت ہینڈسم دکھائی دے رہا تھا، اس حسین اتفاق پر سارہ کے لب بے اختیار مسکرا اٹھے مگر برا ہو اس لیپ ٹاپ کا جس پر نگاہیں جمائے شہیر کام میں یوں غرق رہا تھا کہ بس ایک بار جو نگاہ اٹھائی تو دوسری بار اس کی طرف بھولے سے بھی نہ دیکھا۔
میری کوئی بات بھی اس کے لیے ذرا سی اہمیت کی حامل نہیں۔ مایا کا دل ٹوٹ سا گیا۔ اپنی شرارتی سی لٹ کو کانوںکے پیچھے اڑستے ہوئے اس نے سوچا۔
شہیر کی انگلیاں کھٹ کھٹ کی بورڈ پر چل رہی تھیں، ماتھے پر بکھرے سیاہ گھنے بال اس کی خوبروئی کو بڑھا رہے تھے۔ مایا نے خاموشی سے تھوڑی دیر کھڑے رہ کر اس کا جائزہ لیا، دل چاہا کہ ایک بار وہ بھی اس خوب صورت اتفاق پر غور فرمالے مگر وہاں بے نیازی سی بے نیازی، اس نے بے چینی سے پہلو بدلا، کوئی فائدہ نہیں ہوا، آخر اس کی کھنکھار پر شہیر نے انگلی سے ٹیبل پر چائے رکھنے کا اشارہ کیا اور واپس اپنے کام میں جت گیا، یعنی کہ بڑی عزت سے وہاں سے جانے کا عندیہ دے دیا۔ مایا بری طرح سے جل بھن گئی اور ہونٹ چباتے ہوئے زور سے کمرے کا دروازہ بند کرتی ہوئی باہر نکل گئی، دروازے کے ٹھک سے بند ہونے پر شہیر نے حیرانی سے اسے باہر جاتے دیکھا اور سر کھجایا۔ پھر کاندھے اچکا کر ایک بار پھر کام میں منہمک ہوگیا۔
شہیرکی بے نیازی، مایا کے دل کی بے چینی کا سبب بن گئی۔ اندر سے اٹھنے والی خلش کو تھپکتے تھپکتے، جانے کب وہ خود سے بے خبر ہوگئی تھی۔

ہائے مائرہ یہ تمہارا کزن تو بہت ہی ہینڈسم ہے۔ انا نے سامنے سے آتے شہیر کو دیکھ کر سراہا۔
اوں۔ مائرہ نے لاپروائی سے کاندھے اچکائے۔
اتنا روکھا سا اوں کیوں بھئی؟ انا نے آنکھیں مٹکا کر پوچھا۔
کچھ اتنے خاص بھی نہیں ہیں۔ وہ منہ بنا کر شہیر کو نگاہوں کی زد پر رکھتے ہوئے بولی، جو اب اندر کی جانب قدم بڑھا رہا تھا۔
اے لڑکی تو کہیں اس کی محبت میں تو گرفتار نہیں ہوگئی۔ انا نے مائرہ کو کھویا کھویا سا دیکھا تو معنی خیز انداز میں چٹکی کاٹی۔
ہائیں پرے ہٹو بدتمیز کہیں کی جو منہ میں آتا ہے بک دیتی ہو۔ مائرہ نے برا مانتے ہوئے دھپ جمائی۔
تم جو اس قدر محویت سے صاحب کو جاتا دیکھ رہی تھی تو مجھے لگا کہ دل ول تو نہیں لگالیا۔ وہ ہنوز اپنے موقف پر جمی رہی۔
اچھا مگر مجھے تو کچھ اور شک ہورہا ہے۔ مائرہ نے اس کی آنکھوں کے سامنے مخروطی انگلیاں لہرائیں۔
وہ کیا؟ انا نے حیرت زدہ ہوکر دوست سے پوچھا۔
کہیں تمہیں تو میرے کزن سے پہلی نگاہ کا عشق نہیں ہوگیا، جب ہی تو مسلسل ان کا ذکر چھیڑ رکھا ہے۔ اس کی رگ شرارت پھڑکی تو اسے ہی الجھا ڈالا۔
کیا تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے! انا نے پہلے تو بات سمجھنے کی کوشش کی پھر حلق کے بل چیخ پڑی۔ مایا جو کسی کام سے اس طرف آئی تھی ان دونوں کی جانب متوجہ ہوگئی۔
اچھا ٹھیک ہے۔ آج کے بعد سے شہیر عباسی کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولوں گی۔ وہ بڑی بے چارگی سے بولی۔
یہ کیا بات چل رہی ہے؟ مایا کے کان کھڑے ہوگئے۔
تمہارے حق میں یہ ہی بہتر ہوگا آئی سمجھ۔ مائرہ کچھ دیر تک اسے گھورنے کے بعد بولی تو ان دونوں کے قہقہے بلند ہوگئے مگر مایا کی الجھن مزید بڑھ گئی۔

اللہ جی۔ گرمی کی شدت اور پیاس سے، وجود میں پیدا ہونے والی گھٹن سے اس کی نیند کھل گئی۔
میں یہاں کیسے آئی؟ آنکھ کھلنے کے کئی سیکنڈ تک وہ ذہن پر زور دینے کی کوشش کرتی رہی مگر پسینے میں شرابور حواسوں نے جیسے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔
پنکھا بھی آف ہے۔ اس نے ہتھیلی کی پشت سے جمائی روکتے ہوئے سوچا۔
کمرے میں اتنا حبس کیوں ہورہا ہے۔ اس نے پلنگ سے نیچے قدم رکھا، اچانک پہلو سے برائون کور والی ڈائری زوردار آواز سے زمین پر گری۔
اوہ یہ گر گئی۔ مایا نے لپک کر ڈائری اٹھائی تو ایک ورق کھل گیا، جس پر اس نے سیاہ روشنائی سے ’شہیر عباسی‘ لکھ لکھ کر بھردیا تھا۔
شکر ہے کہ میری بے وقوفی کسی کی نگاہ سے نہیں گزری۔ مایا نے ڈائری بند کی اور تکیے کے نیچے چھپادی۔
مایا یونیورسٹی میں ہونے والے مشاعرے کے لیے اپنے تازہ کلام کو نئی ترتیب سے آراستہ کرنے میں مگن تھی، لائونج میں بیٹھی تو شور شرابے سے بیزار ہوگئی۔ اس کی اماں نے ہفتہ صفائی منانے کے چکر میں ملازموں کا جینا حرام کیا ہوا تھا۔ وہ تنہائی ڈھونڈتی ہوئی، عقبی جانب واقع اپنے کمرے میں چلی آئی تاکہ سکون سے بیٹھ کر کام مکمل کرسکے ابھی وہ پہلے غزل کے مصرعوں میں الجھی ہوئی تھی کہ دلان کی جانب کھلنے والے دریچے سے، اس کے کانوں میں ہنسی کی آواز اور مسرت بھرے قہقہے پہنچیں۔ اس نے کھڑکی کا پٹ کھول کر باہر جھانکا، رات کی رانی کی باڑ کے پاس مینا اور شہیر ہنستے کھکھلاتے باتوں میں مگن تھے۔ اس کی نگاہیں جیسے مینا کے کھلے کھلے چہرے پر جم کر رہ گئیں۔ اپنی بے بسی پر ملال ہوا، خود ترسی حد سے بڑھی تو آنکھوں سے آنسوئوں کے قطرے بہہ کر گالوں پر پھسلتے چلے گئے۔ خود پر غصہ بھی آیا، پلٹ کر واپس گئی اور تخت پر دراز ہوگئی، تکیے میں یوں منہ چھپایا جیسے اب کبھی دنیا کا سامنا نہیں کرپائے گی، اسے دکھ نے آگھیرا وہ آنے والے وقت کی چاپ سے بچنے کا طریقہ کار ڈھونڈنے لگی، جب مائرہ اور شہیر نے ایک ہوجانا تھا۔

آگ برساتے سورج نے سرمئی بادلوں کے اوٹ میں جیسے ہی پناہ لی موسم کو انگڑائی لینے کی سوجھی، تھوڑی دیر میں ہی ہر سُو جل تھل ہوگیا، برسات کے رک جانے کے بعد خوشگوار ہوا چلنے لگی، مٹی اور سبز گھاس کی رسیلی بو اور گلاب کی خوشبو سے ماحول قدرے رومان پرور ہوگیا۔ مایا نے اپنی ماں ثریا منظور کی مدد سے گرما گرم کچوریاں اور حلوہ پکایا۔ اس کے بعد لوازمات اٹھائے لان میں چلی آئی، جہاں ماموں نسیم بخاری آرام دہ کرسی پر بیٹھے موسم کا لطف اٹھا رہے تھے۔
جیتی رہو بیٹی اس موسم میں تو ایسے ہی پکوان اچھے لگتے ہیں۔ مزیدار کچوریاں، چٹنی اور حلوہ دیکھ کر ان کے منہ میں پانی بھر آیا، فوراً سراہا۔
شکریہ ماموں جان لیجئے ناں۔ مایا نے پلیٹ بڑھائی جسے انہوں نے تھام لیا۔
خستہ کچوری کھاتے ہوئے وہ مایا کے ساتھ حالات حاضرہ پر بھی کھل کر تبصرہ کرتے رہے۔ مایا نے ان کی ایک دلیل پر مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور چائے کی پیالی بڑھائی۔
یہ شہیر اور مینا کہاں رہ گئے؟ نسیم بخاری کو بیٹی کی یاد آئی تو مایا کے من کی مراد پوری ہوگئی۔ اس کا دھیان اندر کی طرف ہی تھا۔
بھائی جان مینا بیٹی تو اپنے کمرے میں کہیں جانے کے لیے تیار ہورہی ہے اور شہیر بیٹا اسی طرف آرہے تھے۔ ثریا نے بتایا۔
یہ کیا بات ہوئی ان دونوں کو بھی اس محفل میں شریک ہونا چاہیے تھا۔ نسیم بخاری نے نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا۔
اچھا میں ان کو بھیجتی ہوں۔ ثریا جو پلیٹ میں مزید کچوریاں لینے جارہی تھی احترام سے رک کر سر ہلایا۔
شہیر تو مہمان ہے مگر یہ مینا کیسے بھول گئی کہ رقیہ ہائوس میں شام کی چائے سب مل کر پیتے ہیں۔ وہ خفگی سے بڑبڑائے۔
بچے ہیں سمجھ جائیں گے۔ ثریا نے دھیمے لہجے میں کہا۔ بھائی کے ماتھے پر بکھری سلوٹیں دیکھ کر مزید کچھ کہنے کا ارادہ موقوف کیا اور کچن کی جانب چل دیں۔
نسیم بخاری کو گھر کے اصول توڑنا کبھی بھی پسند نہیں تھے اسی لیے ثریا اور مایا مشین بنے گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ دوڑتے پھرتے تھے۔ تھوڑی دیر بعد شہیر مینا کے پیچھے سست روئی سے قدم اٹھاتا ان کے نزدیک آ کھڑا ہوا۔ نسیم بخاری کی تنبیہ بھری نگاہ ان کی جانب اٹھی، مینا نے فوراً دونوں کان پکڑ لیے۔

گہری کالی آنکھوں والے شہیر عباسی نے جب سے ’رقیہ ہائوس‘ کی میزبانی قبول کی تھی، بناء اجازت بڑے کروفر کے ساتھ اس کے دل کا مکین بھی بن بیٹھا۔ مائرہ کا یہ چھ فٹ ہائیٹ رکھنے والا کزن، مضبوط مرد گھنے بالوں کے ساتھ حد سے زیادہ وجیہہ دکھائی دیتا۔ مایا منظور کی تیس سالہ زندگی میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی مرد سے اس قدر متاثر ہوئی تھی اور دن رات اس کے بارے میں سوچتی رہتی۔ شہیر عباسی میں کچھ تو ایسا تھا کہ وہ مایا کی قائم کردہ خود ساختہ رکاوٹوں کو دھڑا دھڑ گراتا ہوا اس کے روم روم میں بستا چلا گیا۔ اپنی چاہت پر وہ حد سے زیادہ شرمندہ تھی، اسی لیے اس کے سامنے نگاہیں جھکائے رکھتی۔
وہ افسوس سے اپنے ہاتھ ملتی اور پچھتاتی کہ کیسے سب کچھ بھلا کر اس شخص کی دیوانی ہوگئی جو عمر میں اس سے ایک دو نہیں پورے چار سال چھوٹا ہے۔ یہ ہی سوچ اسے شرمندگی کی انتہائوں تک لے جاتی مگر دوسری جانب شہیر کا وجود اس کی بے رنگ کائنات کا سب سے چمکتا ستارہ بن چکا تھا۔ وہ ہر سانس کے ساتھ اسے اپنے قریب پاتی، وہ اس کے لیے سخت گرمی میں سرد نخلستان جیسا تھا۔

اچھا ٹھیک ہے، آئندہ خیال رکھنا۔ نسیم صاحب کی آواز پر مایا اپنے خیالات سے باہر نکلی۔ کلستی نگاہوں سے ان دونوں کو ساتھ کھڑے دیکھا۔
او بابا جانی۔ مینا نے مسکرا کر اپنی بانہیں باپ کی گردن میں حمائل کرکے لاڈ دکھایا۔
چلو یہاں بیٹھ جائو۔ بیٹی کے انداز پر چہرے پُر شفقت ومسکراہٹ چھائی، خوش دلی سے انہیں نشست پیش کی۔
شکریہ خالو ابا۔ شہیر نے کین کی کرسی پر بیٹھتے ہوئے عزت سے سر جھکایا۔
بابا جانی آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ مینا نے نگاہ اٹھا کر باپ کو دیکھا اور ہمیشہ کی طرح اس کے وجود میں توانائیاں بھر گئیں۔
ہونہہ ٹھیک ہوں۔ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ان کے لبوں پر نرم مسکراہٹ پھیل گئی۔
نسیم بخاری سرخ وسفید دراز قامت و سراپا محبت ہونے کے ساتھ، عتاب کا پیکر بھی تھے۔ ان کے رعب و دبدبہ کے ساتھ ساتھ خوش اخلاقی بھی سامنے والے کو مسخر کرنے کا ہنر رکھتی تھی۔
مایا بجو پلیز جلدی سے چائے دے دیں۔ مینا نے اسے پیار سے پکارا پھر شہیر کو اشارہ کیا‘ جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہونہہ ٹھیک ہے۔ مایا بظاہر انجان بنی ہوئی چائے پیش کررہی تھی مگر ان کی ایک ایک حرکت پر اس کی نگاہ جمی ہوئی تھی، انہوں نے قدرے عجلت میں چائے ختم کی اور کھڑے ہوگئے، حلیہ بتا رہا تھا کہ کہیں جانے کی تیاری ہے۔
خالو ابا ایک بات کہنی ہے۔ شہیر عباسی کچھ کہتے ہوئے جھجکا۔
ہاں کہو۔ کیا کہنا چا ہتے ہو؟ نسیم بخاری نے، گرم چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے اسے حوصلہ آمیز نگاہوں سے دیکھا۔
اگر آپ کی اجازت ہوتو میں مینا کے ساتھ قریبی شاپنگ مال تک چلا جائوں؟ شہیر عباسی نے ادب سے پوچھا۔
خیریت تو ہے؟ مایا نے ماموں کے کچھ کہنے سے قبل نروٹھے پن سے پوچھا۔
بجو خالہ جان نے یہاں کے کچھ کپڑے منگوائیں ہیں۔ ان محترم کو تو اس طرح کی شاپنگ کا کوئی تجربہ نہیں اس لیے میں نے ہی اپنی خدمات پیش کردیں۔ مینا نے جی کڑا کرکے تفصیل سے جواب دیا۔
ہاں اچھا ہے‘ چلی جائو مگر جلدی آجانا۔ رات کا کھانا ساتھ کھائیں گے۔ نسیم بخاری نے فیصلہ کن انداز میں اجازت دے دی۔
تھینک یو بابا جانی۔ مینا جیسے کھل اٹھی۔ مایا نے کٹیلی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
اچھا مینا ایک کام کرنا۔ نسیم بخاری نے کچھ سوچتے ہوئے بیٹی کو پیچھے سے پکارا جو کار پورچ کی طرف بڑھ رہی تھی۔
جی بابا جانی۔ مینا باپ کی آواز پر پلٹ آئی۔
یہ کچھ پیسے رکھ لو اور ہماری طرف سے بھی سالی جی اور ان کی بچیوں کے لیے کچھ تحفے تحائف خرید لینا۔ نسیم بخاری نے کچھ سوچا اور کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈال کر بٹوہ نکالا اور کافی سارے کرارے نوٹ بیٹی کو تھما دیے۔
ٹھیک ہے میں لے لوں گی۔ مینا نے تسلی بخش مسکراہٹ سے نوازا اور گلابی ایڑیوں والے قدم بڑھا دیے جو کالی سینڈل میں نمایاں ہورہی تھیں۔
مینو بہت دیر نہ کرنا۔ تمہیں پتا ہے نا کہ ماموں جان کو ٹھیک نو بجے کھانا کھانے کی عادت ہے۔ مایا سے کچھ اور نہ بن سکا تو بہانے سے اسے جتایا۔
اوکے بجو میں ٹائم سے پہلے ہی لوٹ آئوں گی۔ اکیس سالہ مینا نے خوش اخلاقی سے جواب دیا اور گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر جاکر بیٹھ گئی۔ مایا کی نگاہیں اس وقت تک ان دونوں کا پیچھا کرتی رہیں، جب تک گاڑی کی بتیاں نگاہوں سے اوجھل نہ ہوگئیں۔

نسیم بخاری برسوں سے شہر سے ہٹ کر واقع اس وسیع و عریض بنگلے میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے اپنے خاندان سے کٹ کر رہ گئے تھے، سب کے کہنے سننے کے باوجود انہوں نے اس علاقے اور اپنے پرانے گھر کو چھوڑ کر نئی جگہ منتقل ہونا پسند نہیں کیا شاید یہاں کے درو دیوار سے مرحومہ بیوی رقیہ بخاری کی یادوں کی خوشبو پھوٹتی محسوس ہوتی تھی کئی دقتوں کے باوجود وہ اس جگہ کو چھوڑنے کے حق میں نہ تھے۔ مائرہ اور مایا جب تک چھوٹی تھیں ان کے آنے جانے کا مسئلہ حل کرنے کے لیے نسیم صاحب نے اپنی فیکٹری کے پرانے اور قابل اعتماد ڈرائیور شریف احمد کی ڈیوٹی لگارکھی تھی، اس کے بعد ان لوگوں نے خود ہی ڈرائیونگ سیکھ لی تو یہ بڑا مسئلہ بھی حل ہوگیا۔
نسیم بخاری نے بیوی کے دنیا سے جانے کے بعد اپنے کاروبار سے دل لگا لیا مگر چھ سالہ مائرہ ماں کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہوئے دن بہ دن ضدی ہونے لگی۔ اس کی ریں ریں سے تنگ آکر انہوں نے رفقاء سے مشورہ کیا سب نے انہیں دوسری شادی کا مشورہ دے ڈالا کچھ ہمدردوں نے تو دو ایک رشتے بھی بتادیئے مگر رقیہ کے بعد ان کے دل میں کسی اور کو بسانے کی آرزو نہ جاگی۔ بیٹی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے انہوں نے اپنا ذہن دوڑایا۔ نگاہ انتخاب خالہ زاد اور دودھ شریک بہن ثریا منظور پر جاٹھہری جو شوہر منظور علی کے انتقال کے بعد سسرال میں معصوم سی مایا کے ساتھ بے کسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھیں۔ وہ کچھ سوچ کر انہیں اپنے گھر لے آئے اور ثریا نے بھی بہن ہونے کا حق ادا کردیا گھریلو معاملات کے الجھے تانے بانے سلجھانے کے ساتھ ساتھ مائرہ کی تعلیم و تربیت میں بھی وہ بڑی مددگار ثابت ہوئیں، یوں زندگی کی گاڑی کے پہیے جو منجمد ہونے لگے تھے چلتے چلے گئے۔
دونوں لڑکیاں جوان ہوگئیں، گوری چٹی مایا منظورکے چہرے کے نقوش میں پھولوں کا سا نکھار اس کا حسن فضائوں میں گونجتا دلکش سرمدی نغمہ، مایا کی قابلیت وذہانت قابل فخر تھی، وہ ایک بے حد محبت کرنے والی‘ فرماں بردار‘ باحیا اور خدمت گزار لڑکی ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں بھی کسی سے کم نہ تھیں۔ اس کا مزاج شاعرانہ ہونے کے علاوہ یونیورسٹی کی ادبی تنظیم کی صدر بننا بھی شخصیت کو جاذب نظر بناتا تھا۔
مایا کے برعکس مائرہ بخاری انتہائی حسین اور پری چہرہ تھی، اس کے خدو خال دل فریب اور کم عمری کا نشہ انگ انگ میں بھرا رہتا تھا۔ اعتماد، بذلہ سنج اور شوخ و چنچل تھی، اس کو ہر طرح کی گفتگو میں کمال حاصل تھا۔ پڑھنے کی بے حد شوقین‘ ہر سال امتیازی نمبروں سے پاس ہوکر باپ کی آنکھوں میں ستارے بھر دیتی۔ وہ کالج کی بیسٹ مقررہ ہونے کے ساتھ ایک پُراعتماد کمپیئر کا اعزاز بھی حاصل کرچکی تھی۔ دونوں لڑکیوں میں شروع سے بڑی محبت اور یگانت تھی۔ نسیم بخاری کی جان دونوں بچیوں میں اٹکی رہتی۔ انہوں نے اپنی اور بہن کی اولاد میں کوئی فرق رواں نہ رکھا۔ مزاج سے چھلکتی سچائی اور انصاف پسندی کی وجہ سے ہی رقیہ ہائوس کا ماحول خوشگوار اور پُرسکون رہا۔

وسیع سر سبز جنگل کے بیچ میں واقع فارم ہائوس میں ان سب کے پہنچنے کے بعد جنگل میں منگل کا سماں بندھ گیا تھا، نسیم صاحب نے مینا کی پُرزور فرمائش پر کافی سالوں بعد اپنے فارم ہائوس میں پکنک منانے کی حامی بھری تھی، وہ سب ایک گاڑی میں بھر کر کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد جب اپنے گارڈز کے ساتھ فارم ہائوس پہنچیں تو سورج کا سفر مغرب کی جانب ہوچلا تھا، سرخی مائل کرنوں نے سرسبز درختوں کی شاخوں پر انوکھے رنگ بکھیر دئے تھے، فضاء بہت خوش کن اور پُرلطف ہورہی تھی، نسیم اور ثریا تو اتنے طویل سفر کے بعد تھک گئے تھے، اسی لیے ہٹ میں جاکر کرسی پر دراز ہوگئے مینا تازہ دم ہونے کے لیے واش روم میں گھس گئی اور مایا نے ملازم کی مدد سے کچن میں کھانے پینے کا سامان رکھوانا شروع کردیا تھا۔
شہیر بور ہوکر علاقے کا جائزہ لینے باہر نکل گیا، یہ فارم ہائوس ایک جھیل کے نزدیک واقع تھا، ہٹ سے نکلتے ہی تھوڑی سی دوری پر سبز شفاف جھیل دکھائی دی۔ شہیر چہل قدمی کرتا جھیل کے کنارے تک جاپہنچا اور آنکھوں پر ہاتھ کا جھچا بنا کر اس طرف دیکھا پانی کی سطح پر چھوٹی چھوٹی کشتیاں تیرتی دکھائی دیں فطرت کے دلدادہ اور پکنک منانے والوں کی آمد سے اس علاقے میں ہر وقت گہما گہمی رہتی۔ یہ جھیل چھوٹی پہاڑیوں اور سبزہ زاروں کے سنگم پر ہونے کی وجہ سے سیاحوں کے لیے جنت بن گئی تھی۔
شہیر کو اس پُر فضاء مقام پر آکر بہت اچھا لگا، وہ سینے پر ہاتھ باندھے خاموشی سے آگے کی جانب بڑھتا چلا گیا، حد نگاہ تک پھیلے ہوئے فطرت کے نظارے، ناریل کے اونچے اونچے درخت اور علاقے میں پھیلی ہوئی کچھ بولتی ہوئی سی خاموشی اور سیلی سیلی سی مہک اس نے ایک طویل سانس لینے کے بعد تازگی کو اپنے اندر جذب کیا اور کنارے پر بنی ہوئی مٹی کی بنچوں میں سے ایک کا انتخاب کیا۔ جینز کے پائنچے موڑ کر جاگرز اتارے اور اطمینان سے بیٹھ گیا۔ جھک کر پانی میں بنتے بگڑتے دائروں کو دیکھتے دیکھتے، وہ خیالوں میں محو ہوگیا، جانے کتنا وقت یونہی خاموشی و تنہائی میں گزر گیا اچانک اسے اپنے پیچھے آہٹ سی محسوس ہوئی۔ وہ گھبرا کر مڑا اور حیران رہ گیا۔

مایا ہاتھ میں جوس کا گلاس تھامے دھیرے سے چلتی ہوئی بنچ کے پیچھے آکھڑی ہوئی تھی، نشہ چھلکاتی آنکھیں، شہیر کی نگاہوں سے کیا ٹکرائیں کوندا سا لپکا ڈھلتی شام کی روشنی میں مایا کے تیکھے نقوش اور چہرے پر پھیلی ملاحت دل میں اتری جارہی تھی، چہرے کی شادابی اور متناسب سراپا اسے ہمیشہ شہیر سے بڑا ثابت کرنے میں ناکام ثابت ہوتا۔
خیریت اتنے چپکے چپکے تم کیا میری جاسوسی پر مامور ہوگئی ہو؟ شہیر نے اسے مسکراتے ہوئے چھیڑا تو وہ گڑبڑا گئی۔
ڈنر میں ابھی دیر ہے۔ تم نے دوپہر میں لنچ بھی نہیں کیا۔ اس لیے میں یہ جوس لے آئی ہوں۔ وہ اپنی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے اسے یوں ہی مخاطب کرتی۔
اوہ مایا تم کتنی اچھی ہو‘ سب کا کتنا خیال رکھتی ہو۔ میں واقعی تم سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ شہیر کا گھمبیر لہجہ اور انداز تخاطب ہمیشہ کی طرح اس کے کانوں میں رس گھولنے لگا تھا۔
تھینک یو میں چلتی ہوں۔ وہ اس کی سراہتی نگاہوں کی تاب نہ لاسکی اور واپسی کے لیے مڑی۔
اب آگئی ہو تو تھوڑی دیر یہاں بیٹھ جائو۔ دیکھو جھیل کا پانی کیسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس کی پکار پر دل میں کلیاں سی چٹکنے لگیں۔ وہ مسکراتی ہوئی اس کے برابر میں تھوڑا فاصلہ رکھ کر بیٹھ گئی۔
مایا میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا تھا اگر تم برا نہ مانو۔ کچھ دیر بعد شہیر ایک دم سے سنجیدہ دکھائی دینے لگا۔
ہاں بولو ایسی کیا بات ہے؟ مایا کا دل دھڑکا، نرم لبوں سے تبسم کے پھول جھڑے، لانبی پلکوں والی آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔
اتنا تو تم جانتی ہو نا کہ ممی کی سخت گیری اور غصہ پوری برادری میں مشہور ہے۔ شہیر نے سمجھانے والے انداز میں سیدھا اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
ہاں کچھ کچھ۔ مایا نے بڑے محتاط طریقے سے اقرار کیا اور پیروں سے چپل اتار کر زمین پر تلوے ٹکائے تو فرحت بخش ٹھنڈک وجود میں اترتی چلی گئی۔
اصل میں پاپا کے بیمار رہنے کی وجہ سے ممی نے مجھے اور دونوں چھوٹی بہنوں کو بڑی مشقتوں سے پالا ہے، شاید اسی وجہ سے سختی ان کے مزاج کا حصہ بن گئی۔ توانا چہرے سے تفکر نمایاں ہورہا تھا، کھوئی کھوئی گہری سیاہ آنکھیں کہیں دور مرکوز ہوگئی تھیں۔
ہونہہ ماموں جان اکثر آنٹی کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اس نے سر ہلایا اور نرمی سے جواب دیا۔
ہاں ہماری آزمائشوں کی گھڑی میں پہلے رقیہ خالہ اور پھر نسیم خالو کی ذات ہی باعث حوصلہ رہی۔ شہیر نے بھرائی ہوئی آواز میں اعتراف کیا۔
مایا کا دل موم کی طرح پگھلنے لگا، دل چاہا کہ بڑھ کر شہیر کو تسلی دے مگر اس سے قبل کہ وہ اتنی لمبی تمہید باندھنے کی وجہ بیان کرتا ماحول کا فسوں ایک دم ٹوٹ کر بکھر گیا۔

او ہیلو میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہلکان ہوگئی۔ مینا ایک ہاتھ میں بیڈمنٹن اٹھائے، دوسرے سے شٹل اچھالتی وہاں پہنچ گئی۔
ہم کیا کھو گئے تھے جو تم تلاش میں نکل کھڑی ہوئی؟ شہیر نے جاگرز پہنتے ہوئے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا۔
اٹس چیٹنگ جناب ہمارا بیڈ منٹن کا میچ ہونا تھا کہ نہیں؟ مائرہ نے ہاتھ میں تھامی اشیاء بنچ پر رکھیں اور کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑنے لگی۔
ہاں یار میں تو بھول ہی گیا تھا۔ شہیر نے سر پر ہاتھ مار کر اقرار کیا۔
میں جانتی ہوں جناب آپ یہاں مائرہ بخاری کے ڈر سے چھپ کر بیٹھ گئے ہیں۔ مینا نے ناک چڑھا کر بڑے اسٹائل سے کہا۔
ائوے ہوئے مایا دیکھی خوش فہمیاں خیر تمہیں ہارنے کی بہت جلدی ہے تو ہو جائے دو دو ہاتھ۔ وہ بھی اچھل کر اٹھ کھڑا ہوا اور ہاتھ ہلاتے ہوئے، شگفتگی سے اسے چڑایا۔
اوں یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ کون کس کو ہراتا ہے؟ مینا نے سر جھٹکا اور گردن اٹھا کر تفاخر سے ان دونوں کو باری باری دیکھا۔
مایا جیسے خود میں سمٹ کر رہ گئی۔ وہ جو تھوڑی دیر پہلے خوشیوں کے جھولے میں سوار لمبی پینگ لے رہی تھی، ایک دم رسی ٹوٹنے سے گر نے کی تکلیف اپنے وجود پر محسوس کر بیٹھی تھی۔
تو ہوجائے مقابلہ۔ شہیر کا چیلنج دیتا انداز، مینا کو جوش دلا گیا۔ ان دونوں نے درخت سے نیٹ باندھنے کے بعد زور و شور سے کھیلنا شروع کردیا۔ مایا ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر پس منظر میں چلی گئی تھی۔ وہ کچھ دیر تک کھڑی رہی پھر تھک کر بنچ پر بیٹھ کر گالوں پر ہاتھ ٹکائے شٹل کو ادھر سے ادھر جاتا دیکھتی رہی، اسے شٹل پر لگنے والی ہر ضرب اپنے دل پر پڑتی محسوس ہوتی۔
میں جارہی ہوں۔ اس نے بور ہوکر کھڑے ہوتے ہوئے خود کلامی کی۔
ان کی طرف سے کوئی رد دعمل نہ پاکر ہاتھ جھاڑتی ہٹ کی جانب چل دی جہاں ان لوگوں نے کچھ روز قیام کرنا تھا۔ دروازے سے اندر قدم رکھنے سے قبل اس نے مڑ کر دیکھا تو شہیر اور مینا نیٹ کے قریب کھڑے کھسر پھسر میں مصروف دکھائی دیے، دونوں ایک ساتھ بہت پرفیکٹ دکھائی دیتے تھے، وہ سر جھٹک کر لائونج کی طرف بڑھ گئی، جہاں نسیم بخاری اپنے لیپ ٹاپ پر خبریں لگائے سیاست دانوں سے نالاں نظر آرہے تھے، ثریا کچن میں فش فرائی کرتے ہوئے کوئی پرانا گیت گنگنا رہی تھیں، وہ اس پُرسکون ماحول میں بھی بے چینی محسوس کرنے لگی، تھک کر آرام دہ کرسی پر یوں دراز ہوگئی۔ جیسے طویل مسافت طے کرکے آئی ہو۔

مایا کی آنکھ صبح سویرے چڑیوں کی چوں چوں سے کھلی، اس نے بیڈ پر کروٹ بدلی تو دوسرے کنارے پر مینا سوئی ہوئی دکھائی دی۔ نیند میں بھی وہ بہت ترو تازہ، پیاری اور معصوم لگ رہی تھی، جانے کیوں مایا کے دل میں اس کے لیے رشک و حسد کے جذبات ایک ساتھ جاگ اٹھے وہ دیر تک اسے تکتی رہی، پھر اپنی سوچ کو کو ملامت کرتی، وہاں سے اٹھ کر باہر نکل آئی، دوسرے کمرے میں نسیم بخاری اور شہیر ٹھہرے ہوئے تھے جبکہ ثریا نے لائونج میں اپنا بستر بچھا لیا تھا۔ سارا عالم محو خواب تھا، وہ پیروں میں چپل اٹکائے باہر نکل گئی، ٹھنڈی ہوا نے گدگدا کر اس کا استقبال کیا، فضاء میں کہر چھائی ہوئی تھی، وہ مسحور سی واک کرنے لگی۔ کافی دیر بعد اس کی واپسی ہوئی تو سب لوگ جاگ چکے تھے، اس نے کچن میں جاکر ناشتے کا انتظام کیا۔ چائے کو دم دینے کے بعد اس نے بریڈ کو ٹوسٹر میں رکھا، آملیٹ بنایا اور ٹیبل پر ناشتہ لگا کر سب کو بلالیا، مینا ابھی تک سو رہی تھی، ناشتے کے برتن دھونے کے بعد اس نے اپنے لیے ایک کپ چائے تیار کی اور کچن میں رکھی ڈائننگ چیئر پر بیٹھ گئی۔ نسیم بخاری اور شہیر علاقے میں گھومنے نکل گئے تھے، ثریا نے لنچ کے لیے چکن کڑاہی پکانے کا فیصلہ کیا، وہ اس کی تیاری میں لگ گئیں۔ مایا بے دلی سے صوفے پر دراز ہوگئی میگزین دیکھتے دیکھتے کب آنکھ لگی اسے خبر نہ ہوئی۔

جائو اب ڈوب جائو۔ وہ جھیل کے کنارے کھڑی تنفر سے اسے پانی میں گرتا دیکھ رہی تھی۔
بجو پلیز ایسا نہ کرو۔ مینا نے جھیل کے پانی سے ہاتھ نکال کر اسے پکارا۔
میں کوئی آواز سننا نہیں چاہتی۔ مایا نے کانوں کو ہتھیلیوں سے بند کرلیا۔
بجو مجھے بچالو۔ مینا کی طویل چیخ پر مایا کا دل بڑی زور سے دھڑکا تا اچانک اس کی آنکھ کھل گئی وہ اتنے عجیب سے خواب پر سر تھام کر بیٹھ گئی۔
محبت کا سایہ مہربان ہوا مگر ضمیر دن بھر کچوکے لگاتا اور راتوں کو وہ خواب میں ڈرتی، عجیب طرح کا دہرا عذاب اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔ آنکھیں بند کرتے ہوئے اسے گھبراہٹ ہوتی اور جاگتے ہوئے ذہن بوجھل رہتا اس کے خواب بد سے بدتر ہوتے چلے گئے مگر سونا بھی ضروری تھا۔ وہ خواب میں مینا اور شہیر کو ہنستے مسکراتے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ایک ساتھ دیکھتی۔ کبھی اپنے آپ کو مینا کو جھیل میں دھکا دیتے دیکھتی اور اس کی آنکھ کھل جاتی، سینے میں گھٹن محسوس ہوتی، پورا وجود پسینے میں بھیگ جاتا، اب یہ خواب‘ خواب نہیں رہے حقائق بن کر اس کے وجود کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھے۔ وہ خود کو مینا کا مجرم تصور کرنے لگی، ماموں جان کا پُرشفقت لہجہ تنہائی میں رلا دیتا۔ اسے اپنے آپ سے نفرت ہونے لگی اور اپنی یک طرفہ محبت سے کوفت‘ ان سب باتوں سے ہٹ کر جب شہیر عباسی سامنے آجاتا تو سب باتوں کو بھلائے وہ اسی کو تکے جاتی تھی۔

پتا نہیں دونوں کتنی رات تک کھیلتے رہے۔ اس کا دماغ پھر سے شہیر اور مائرہ کے ارد گرد گھومنے لگا۔ وہ سوچوں میں گم بیٹھی رہی، چائے کا ایک گھونٹ بھی نہیں پیا گیا۔ اپنے پیچھے ہونے والی خفیف سی آہٹ پر مڑ کر دیکھا۔
گڈ مارننگ بجو۔ مینا کی سریلی آواز سماعت سے ٹکرائی بلاوجہ کا غصہ ابل پڑا۔
جاگ گئی۔ اس نے طنزیہ انداز اختیار کیا۔
سوری آج ذرا دیر سے آنکھ کھلی۔ مینا نے شرمندگی سے کہا اور کرسی پر براجمان ہوکر اس کی ٹھنڈی چائے ایک سانس میں پی گئی۔
اگر رات کو جلدی سو جاتی تو میری طرح صبح اٹھ کر قدرت کے نظاروں کا لطف اٹھاتی مگر تمہیں تو شاید اپنی نیند عزیز ہے۔ وہ اس طرح کی باتیں کرکے پتا نہیں کیا اگلوانا چاہتی تھی۔
یہ بات تو آپ نے بالکل ٹھیک کہی بجو سوری۔ اس نے ہونٹ نکال کر ایسے معافی طلب کی کہ مایا کو اس پر پیار آنے لگا۔
خیر اب ناشتہ ملے گا یا اس کی بھی چھٹی۔ مینا نے آنکھیں ملتے ہوئے نیند سے پیچھا چھڑایا پھر منہ بند کرکے آنے والی جمائی کا راستہ روکا۔
تم جاکر فریش ہوجائو۔ میں ناشتہ لگاتی ہوں۔ مایا نے اپنے رویے کے ازالے کے طور پر اس کے ماتھے پر پڑی بالوں کی جھالر کو ہاتھوں سے پیچھے کرتے ہوئے پیار سے کہا۔
اوکے مائی ڈئیر جو حکم۔ مینا نے جھک کر فرشی سلام جھاڑا اور کھلکھلاتی ہوئی اندر کی جانب چل دی۔

چودھویں رات تھی، کھڑکی سے چھن چھن کر آتی دودھیا روشنی نے کمرے کا ماحول خواب آگیں کردیا تھا ان کے بستر پر نور نے ایک جالا سا تان دیاتھا دونوں کو سوتے ہوئے ایک پہر گزرا ہوگا کہ مایا نے خواب میں جانے ایسا کیا دیکھا کہ ایک زوردار چیخ کے ساتھ وہ بیدار ہوگئی۔
بجو کیا ہوا؟ اس کے ساتھ سوئی مینا کی آنکھ بھی شور سے کھل گئی، کاندھے پر ہاتھ رکھ کر تشویش سے پوچھا۔
ک کچھ نہیں تم سو جائو۔ مایا نے کپکپاتی آواز میں اسے تسلی دینا چاہی۔
نہیں پہلے مجھے بتائیں کہ آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔ اس نے ضدی کی۔
مائرہ کوئی بات نہیں‘ چندا اب تم سو جائو۔ اس نے نرمی سے ٹالا۔
ایک بات بتائوں آپ نیند میں بڑبڑاتے ہوئے اپنے دل کے سارے راز مجھ پر عیاں کرچکی ہیں۔ مینا اس کے قریب کھسکی اور بانہوں کا ہار گلے میں ڈالتے ہوئے پیار سے بولی۔
کون سے راز تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ مایا کے وجود پر پھریری سی دوڑ گئی مگر بات کو ٹالنا چاہا۔
جی نہیں میں نے ایک بار نہیں کئی بار سوتے میں آپ کے لبوں سے شہیر عباسی کا نام سنا ہے۔ وہ شوخی سے آنکھیں مٹکاتی ہوئی بولی۔
سو سوری مینا میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا۔ وہ ایک دم صفائی دینے لگی۔
مجھے کیا خبر؟ مائرہ نے جان کر منہ بنایا۔
اچھا سنو تم بے فکر ہوجائو۔ میں کبھی بھی تم دونوں کے بیچ نہیں آئوں گی۔ مایا نے اچانک اس کا ہاتھ تھام کر رونا شروع کردیا۔
واٹ بجو! آپ اتنا الٹا سیدھا سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھیں۔ مائرہ نے اس کی معافی تلافی پر اسے خود سے لپٹا لیا۔
پلیززز ماموں جان یا شہیر کو یہ باتیں نہیں پتا چلنی چاہیں۔ مایا نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔
مائی گاڈ آپ تو کچھ زیادہ ہی منفی سوچ بیٹھی ہیں۔ مینا نے بندھے ہاتھوں کو چوم کر کہا۔
پرامس کرو تم کسی سے کچھ نہیں کہوگی ورنہ میں خود سے نگاہ ملانے کے بھی قابل نہیں رہوں گی۔ اس کی سسکیاں مینا کو تکلیف میں مبتلا کرنے لگیں۔
میری پیاری بجو پہلے رونا بند کریں پھر تحمل سے میری بات سنیں۔ مینا نے اس کو گلے لگا کر سمجھایا۔
اچھا بولو۔ کچھ دیر بعد مایا کی حالت سنبھلی تو سوں سوں کرتی منتظر نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
آپ نے ہم دونوں کی دوستی کا غلط مطلب نکالا اور شاید شہیر اپنے جذبوں کی وضاحت نہ کرسکا۔ مینا نے سنجیدگی سے اسے جانے کیا سمجھانا چاہا۔
میں کچھ سمجھی نہیں۔ مایا دھیرے سے بولی۔
ایک بات کان کھول کر سن لیں شہیر تھوڑا وکھری ٹائپ کا بندہ ہے اسے لائف پارٹنر کے طور پر میری جیسی منہ پھٹ، سرکش اور شوخ وشنگ لڑکی بالکل پسند نہیں۔ وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی تو مایا کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔
ویسے آپس کی بات ہے مجھے بھی اس ٹائپ کے لڑکے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ اس نے شرارت سے مایا کا ہاتھ دبایا۔
یہ کیا کہہ رہی ہو مینا! مایا نے نہ سمجھ میں آنے والی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
جی جو بھی کہہ رہی ہوں سچ کہہ رہی ہوں اور سچ کے سوا کچھ نہیں۔ یہ پوائنٹ کلیئر ہوا؟ اس نے مایا کی آنکھوں میں جھانکا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
اب آتے ہیں اصل بات کی جانب تو میری پیاری بجو شہیر میاں پہلے دن سے آپ کی محبت بلکہ عشق میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ مینا نے دھماکہ کیا۔
مینا پلیز ایسا مذاق نہ کرو کہیں میرا دل نہ بند ہوجائے۔ مایا نے دل پر ہاتھ رکھ کر رحم طلب نگاہوں سے کزن کو دیکھا۔
مذاق ارے وہ لڑکا تو مر جانے کی حد تک سنجیدہ ہے اور اب آپ سے شادی کرنے کے چکروں میں لگا ہوا ہے۔ مینا نے کھلکھلاتے ہوئے ایک اور انکشاف کیا۔
شادی اور مجھ سے! مایا کی چیخ نکل گئی، وہ منہ پر ہاتھ رکھے مینا کو خالی خالی نظروں سے تکتی رہی۔
جی ہاں کیوں کہ شہیر میاں کو آپ جیسی میچیور اور سنجیدہ مزاج دوسرے لفظوں میں افلاطونی لڑکیاں پسند ہیں جنہیں اس کے انداز میں جینے کا ڈھنگ آتا ہو۔ مینا نے ہنستے مسکراتے ایک اور راز سے پردہ اٹھایا۔
تم میری محبت میں جھوٹ بول رہی ہو نا مایا نے پہلے تو پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھا پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے ایک ہی جملے کی گردان کرتی گئی۔
میں کیا پاگل ہوں جو آپ کی محبت میں غلط بات کروں؟ اس نے الٹا سوال کیا۔
کہیں تم میری وجہ سے اپنی محبت سے دست بردار تو نہیں ہورہی؟ مایا کی جانب سے ایک اور سوال آیا۔
توبہ کریں بجو میرے اندر کوئی قدیم روح نہیں سمائی۔ جو میں اپنے پیار کی قربانی دینے کے بعد دیواروں سے سر ٹکراتی پھروں۔ بھئی میں ایک اسٹریٹ فارورڈ لڑکی ہوں۔ جو سچ ہے بیان کردیا۔ مینا نے بے فکری سے ٹانگیں ہلاتے ہوئے اسے سچائی سے آگاہ کیا۔
وہ جو تم دونوں دھیرے دھیرے باتیں کرتے تھے۔ مایا کی زبان پر ایک شک بھرا شکوہ مچلا۔
افوہ آپ کی آنکھوں پر تو بے یقینی کی کافی موٹی دھول جمی ہوئی ہے۔ جسے جھاڑتے جھاڑتے شہیر کی حالت پتلی ہوجائے گی۔ وہ ہنستے ہنستے پیٹ کے بل لوٹ پوٹ گئی۔
مینا میری بات کا جواب دو۔ مایا نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے مقابل بٹھایا۔
اچھا سنیں شہیر نے جب میرے سامنے آپ کی اور اپنی محبت کا حال بیان کیا تو میں نے چھیڑ چھیڑ کر اس کا ناک میں دم کردیا۔ اس نے مجھے سختی سے آپ کو کچھ بتانے سے منع کیا ہوا تھا مجھے جب بھی کوئی کام پڑتا میں اسے آپ کے نام سے بلیک میل کرتی تو وہ مسکراتے ہوئے میری بات مان جاتا میں اکثر اسے آپ کا نام لے کر چپکے چپکے چھیڑتی تو وہ ہنستا۔ مینا نے ساری بات کھول کر بتادی۔
اچھا تو یہ بات تھی۔ مایا نے اطمینان بھری سانس بھری۔
ویسے بجو بہت بری بات ہے اگر شہیرا کو خبر بھی ہوئی کہ آپ کس قدر نگیٹو سوچتی ہیں تو اسی جھیل میں کود کر جان دے بیٹھے گا جس کے کنارے بیٹھ کر وہ گھنٹوں مجھ سے آپ کی باتیں کرتا رہا ہے۔ مینا نے پُرسوچ انداز اپناتے ہوئے مایا کو دھمکایا۔
اللہ نہ کرے۔ شہیر کی خودکشی کی بات سن کر مایا کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
اواو تو دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔ وہ ایک بار پھر شوخی سے آنکھیں مٹکانے لگی۔
ایک بات تو بتائو شہیر نے مجھ سے اپنے جذبات کیوں چھپائے، کیا اسے شرمندگی محسوس ہوتی ہے؟ مایا نے بہت دیر سوچنے کے بعد ایک اور نقطہ اٹھایا تو مینا نے اس کی بدگمانی پر ماتھ پیٹا۔
بجو پتا ہے اس نے ہمیشہ آپ کی تعریف میں جانے کیا کیا الفاظ استعمال کیے ہیں وہ بس صحیح وقت کا منتظر تھا۔ اس کے بعد راز دل بیان کرتا مگر برا ہو آپ کے خوابوں کا جن کی وجہ سے ایک دوست کا اعتبار ٹوٹ کے رہ گیا مینا نے برے برے سے منہ بنا کر بتایا اور مایا بے یقینی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔

ایک اور اداس شام اس کی زندگی میں چلی آئی نیلے آسمان کو سیاہ بادلوں نے چھپا دیا تھا خنک ہوا کے گدگدانے سے پھولوں کو ہنسی آنے لگی مگر اس کے دل کی تپش میں کمی نہ ہوئی۔ آج ان لوگوں کا یہاں آخری دن تھا کل واپس شہر لوٹ جانا تھا۔ مایا جھیل کے کنارے بیٹھی منفی سوچوں سے برسر پیکار تھی اچانک کسی نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کھینچا وہ چونک اٹھی نگاہ اٹھائی تو مقابل شہیر کا دلکش سراپا دکھائی دیا اس نے مایا کا ہاتھ تھاما اور اٹھنے کا اشارہ کیا۔ دونوں جھیل کے کنارے قدم سے قدم ملائے خاموشی سے چلنے لگے۔
تم نے کبھی سوچا ہے کہ میں کون ہوں؟ مایا کی برداشت جواب دے گئی تو وہ چیخ پڑی۔
کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی کیوں میں جانتا ہوں کہ تم ایک مہذب، ذہین، خوش شکل لڑکی ہونے کے ساتھ شاعرہ بھی ہو۔ شہیر نے ایک قدم آگے بڑھایا اور اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
اس کے علاوہ بھی بہت ساری باتیں میری ذات سے جڑی ہوئی ہیں جنہیں تم شاید نظر انداز کر بیٹھے ہو۔ وہ ٹھٹھک کر بولی۔
ہاں باپ کے بعد ماںکے سوا تمہارا کوئی نہیں اور ماموں کی وجہ سے تم ایک اچھی زندگی گزار رہی ہو جس کے صلے میں تم اپنی محبت سے دستبردار ہونے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ وہ بڑے اطمینان سے اس کے وجود میں پلتے خدشات کو زبان دے بیٹھا مینا نے اسے شاید سب کچھ بتادیا تھا۔
بس یا اور کچھ۔ مایا طنزیہ انداز میں مسکرائی مگر مسکراہٹ اس کے کرب کو نہ چھپا سکی۔
ایک اہم بات اور مجھ سے عمر میں بڑی ہو پھر بھی شہیر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا مایا نے تمتماتے چہرے سے دیکھتے ہوئے لب کھولنے سے گریز کیا۔
پھر بھی یہ چھوٹی سی بات میرے لیے بڑی اہمیت کی حامل نہیں کیوں کہ میں تمہیں بے انتہا چاہتا ہوں۔ تمہاری سوچ سے بھی بڑھ کر اپنے وجود کی پوری سچائیوں سے تمہیں جیون ساتھی بنانے کی خواہش رکھتا ہوں۔ شہیر کی بات پر اس کا پورا وجود جھنجھنا اٹھا۔ وہ سرخ چہرہ اٹھائے اسے تکنے لگی۔
سچ میں میرا یہ ہی مطلب ہے۔ اس کے یقین دلانے کے انداز پر مایا کے دھڑ دھڑ کرتے دل سے محبت کے سوتے پھوٹ پڑے۔ ان جذبوں کو زبان مل گئی۔ شہیر کو بھی اس کے وجود سے اٹھتی آوازیں سنائی دیں وہ دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اپنی محبت کی آوازیں سنتے رہے بہت دیر تک ایک ہی جگہ بت بنے کھڑے ایک ہی سمت میں دیکھتے رہے۔
تم نے میرے بارے میں ایسا کیوں سوچا جب کہ تمہارے سامنے بہتر آپشن موجود تھا؟ اس کے لب تھرتھرائے۔
تمہیں اس سوال کا حق حاصل ہے اور میں جواب بھی ضرور دینا چاہوں گا۔ شہیر نے بڑی محبت سے اس کی اٹھکیلی کرتی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا۔
میں نے اپنی زندگی کے ہر پہلو پر نگاہ دوڑائی بہت سوچا، پرکھا اور جانا۔ اس کے بعد تم سے شادی کا فیصلہ کیا کیوں کہ یہ ہی بہتر لگا مجھے۔ اس کا گھمبیر لہجہ دل میں اترتا چلا گیا۔
کیا آنٹی اس بات کے لیے وہ بات مکمل نہ کرسکی نگاہیں ملانے کی تاب جو نہ رہی تھی۔
ممی کو اس معاملے میں تھوڑا اختلاف ضرور ہوا مگر میرے سمجھانے پر وہ خوشی سے رضامند ہوگئیں۔ شہیر کی بھاری آواز اور سنجیدہ لہجے نے بیچ میں حائل خاموشی کو توڑا۔
میں تو تم سے عمر میں بڑی ہوں پھر بھی؟ اس نے دل میں گڑی پھانس کو ٹٹولا۔
تم اور میں ایک ہی راہ کے مسافر ہیں سیلف میڈ لوگ جنہوں نے خود کو منوانے کے لیے بڑی قربانیاں دیں اپنے آپ کو سو بار مارا تب کہیں جاکر سر اٹھا کر جینے کے قابل ہوسکے۔ مستقبل میں ہمارے لیے ایک دوسرے کے مسائل اور مشکلات کو سمجھنا بہت مشکل ثابت نہیں ہوگا۔ زندگی میں ہم نہ صرف ایک دوسرے کا احترام کریں گے بلکہ اپنے ساتھ جڑے ہوئے رشتوں کی قدر کرنا بھی ہمارے مزاج کا حصہ رہے گا۔ شہیر نے صاف گوئی کی انتہا پر پہنچ کر خاموشی اختیار کرلی۔ وہ فیصلے کا منتظر مایا کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ وہ اس کی پُرشوق نگاہوں کے سامنے بہت دیر تک مدافعت نہ کرسکی۔ ہار گئی اور چہرے پر اقرار کے سینکڑوں پھول کھل اٹھے۔ محبت کے سائے تلے وہ دونوں قدم اٹھاتے جھیل کے کنارے جابیٹھے دلکش نظاروں میں روح پرور محبت کے نغمے گونج اٹھے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close