Aanchal Jan-17

چلومان لیتے ہیں

نزہت جبین ضیاء

سلیقہ عشق میں میرا، کمال کا تھا
کہ اختیار بھی دل پر عجب مثال کا تھا
محبتوں میں، میں قائل تھی لب نہ کھلنے کی
جواب ورنہ میرے پاس ہر سوال کا تھا

منظر اداس ہے‘ پسِ منظر اداس ہے
گھر بھی اداس‘ دیوار بھی‘ در بھی اداس ہے
ہے دور تک اداسی کا یہ سلسلہ گیا
لگتا ہے میرے ساتھ دسمبر اداس ہے

دسمبر کا آخری سورج دھیرے دھیرے اپنے سفر پر رواں دواں تھا۔ موسم حد درجہ خنک تھا‘ سرد ہوا جسم کو منجمد کیے جارہی تھی۔ موسم کی خنکی التمش کے اندر اٹھتے ہوئے شوریدہ جذبوں‘ غصے کی آگ کی شدت پر قطعی اثر انداز نہیں ہورہی تھی۔ اس کے اندر غصے کی آگ دہک رہی تھی‘ خود کو بے وقعت محسوس کررہا تھا۔
زیمل اس حد تک جاسکتی ہے کہ صفائی کا موقع دینے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی‘ ایک بار بھی صحیح اور غلط کے بارے میں استفسار نہ کیا۔ ایک بار مجھ سے پوچھا نہیں یعنی یعنی اتنی غیر محفوظ سمجھتی ہے خود کو۔ میری محبت کو‘ میری چاہت کو پل بھر میں مٹی میں ملادیا۔ میری سچائی پر شک کرکے مجھے میری نظروں سے گرادیا۔ میں تمہیں معاف نہیں کروں گا زیمل تم نے مجھے میری نگاہوں میں ذلیل کردیا دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر وہ اپنے آپ کو قابو کرنے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔ ہسپتال سے نکل کر وہ قریبی سنسان پارک میں آبیٹھا‘ وہ ذہنی طور پر اس قدر منتشر تھا کہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے؟ شدید ٹھنڈ کی وجہ سے پارک آج بالکل سنسان تھا۔ اکادُکا دور کہیں آتے جاتے لوگ نظر آجاتے‘ یونہی بیٹھے بیٹھے پتا نہیں کتنا وقت گزرتا گیا۔
سیل بھی اس نے آف کردیا تھا‘ اس وقت ذہن کی جو حالت تھی وہ کسی سے بھی کوئی بات کوئی رابطہ نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ التمش مالی لحاظ مستحکم تھا‘ والدین حیات نہیں تھے لیکن والد کا کاروبار وسیع تھا جس کو التمش نے سنبھال لیا تھا۔ وہ آیا اماں کے ساتھ رہتا تھا‘ زیمل سے پہلی ملاقات شاپنگ مال میں ہوئی تھی۔ زیمل اپنی دوست نیما کے ساتھ شاپنگ کرکے جیسے ہی شاپ سے باہر نکلی نہ جانے کیسے ماربل کے چکنے فرش پر سلپ ہوگئی اس کے ہاتھ سے شاپرز اور موبائل گر گیا اور اس سے پہلے کہ وہ زمین پر گرتی برابر کی شاپ سے نکلتے التمش نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر گرنے سے بچالیا۔ آس پاس کھڑے لڑکوں کے چہروں پر مضحکہ اڑانے والی ہنسی دیکھ کر زیمل بری طرح جھینپ گئی تھی۔ مارے شرمندگی کے اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
اوہ زیمل کیا ہوا ٹھیک ہو نا تم؟ نیما گھبرا کر آگے بڑھی۔ التمش بھی اچانک ہونے والے واقعے پر حیران تھا۔
تھینک یو سو مچ بھائی نیما نے جلدی سے کہا۔
کوئی بات نہیں مس پلیز ریلیکس ہوجائیں التمش زیمل کو دیکھ کر شائستگی سے بولا۔ زیمل اور نیما نے شاپرز سمیٹے اور جانے لگیں۔
یہ لے لیں التمش نے زیمل کا موبائل بھی اٹھا کردیا۔
تھینک یو زیمل نے موبائل لیتے ہوئے کہا۔ التمش نے گہری نظر سے زیمل کو دیکھا‘ بلیک ڈاٹس کی شرٹ پر بلیک ٹرائوزر اور گلے میں چنری ڈالے وہ بلاشبہ بہت حسین لگ رہی تھی۔
وائو یار کیا فلمی سچوئشن تھی قسم سے گاڑی میں بیٹھ کر نیما نے شرارت سے آنکھ دبا کر کہا۔ تھا بھی بڑا ڈیشنگ بندہ بالکل ہیرو جیسا
پاگل ہوگئی ہو کیا؟ کیا فضول بک بک کررہی ہو زیمل نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اسے گھرکا۔
ویسے سچ بتائو۔ تھا تو ہیرو جیسا ناں؟ نیما نے اس کی بات ان سنی کرکے دوبارہ سوال کیا۔
ارے یہ تم کو کیا ہوگیا اچانک؟ زیادہ ہی لٹو ہورہی ہو خیرت تو ہے ناں؟ ویسے میں نے اسے دیکھا نہیں اتنے غور سے جیسا کہ تم نے دیکھ لیا۔ لگتا ہے اشعر بھائی کو کہنا پڑے گا کہ جلدی سے شادی کرلیں ورنہ لڑکی ہاتھوں سے نکل جائے گی اس بار زیمل کے لہجے میں شرارت عود آئی۔
لاحول ولا قوۃ میں کیوں نکلوں گی میں تو صرف سچوئشن بتارہی ہوں نیما نے جلدی سے صفائی دی‘ زیمل زور سے ہنس دی تو نیما جھینپ گئی۔
زیمل کے مما اور پاپا مل کر بزنس کرتے تھے پھر پاپا کا انتقال ہوگیا تو اس کی مما اور وفادار ملازمین کامیابی سے بزنس چلا رہے تھے۔ وہ شہر کے پوش ایریا میں رہتے تھے‘ زیمل کو رویے پیسے کی کوئی کمی نہ تھی۔ وہ فائن آرٹس کی اسٹوڈنٹ تھی اس کی واحد دوست نیما کا تعلق بھی ایسی ہی فیملی سے تھا اس کا رشتہ اپنے کزن اشعر سے طے ہوچکا تھا‘ اشعر ملک سے باہر تھا۔ زیمل خوب صورت ہونے کے ساتھ سوفٹ نیچر کی مالک بھی تھی‘ وہ سچی اور کھری لڑکی تھی۔ اس کی نظر میں محبت صرف اپنے مجازی خدا سے کرنا ہی صحیح تھی‘ وہ آج کل کی وقتی محبتوں کے سخت خلاف تھی اور ان خرافات سے دور رہنے والی لڑکی تھی۔ مسز کاظمی (زیمل کی والدہ) کا خیال تھا کہ جیسے ہی زیمل پڑھائی سے فارغ ہوگی مناسب رشتہ دیکھ کر اس کی شادی کردیں گی۔ اس سلسلے میں زیمل نے سارا حق اپنی مما کو ہی دے رکھا تھا۔
مسز کاظمی کا دو دن سے بی پی تھوڑا سا بڑھا ہوا تھا‘ زیمل نے ان کو زبردستی کہا کہ ہسپتال جاکر چیک اپ کروالیں۔
ارے نہیں بیٹی میںٹھیک ہوجائوں گی‘ معمولی سا تو ہے مگر زیمل نہ مانی۔
نہیں مما میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتی‘ آپ کو اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے زیمل نے ان کی بات کاٹی تو بادل ناخواستہ وہ تیار ہوئیں۔ وہ لوگ ابھی گھر سے نکل کر تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ نہ جانے کیا ہوا اچانک گاڑی بند ہوگئی۔ زیمل نے لاکھ کوشش کی مگر گاڑی اسٹارٹ نہ ہوئی۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا مسئلہ ہوگیا‘ اوپر سے ڈاکٹر کے ٹائم کا ایشو بھی تھا۔
اوہو مما لگتا ہے ہمیں گاڑی یہیں چھوڑ کر ٹیکسی سے جانا پڑے گا زیمل نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔
اوہو مسز کاظمی بھی تھوڑا پریشان ہوگئیں۔
چلیں اتریں‘ دیکھتے ہیں پرس لیے وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر اترتے ہوئے بولی‘ ابھی وہ گاڑی لاک کرکے پلٹی ہی تھی کہ اس کے پاس گاڑی آکر رکی۔
السلام علیکم! گاڑی سے التمش اترا۔
وعلیکم السلام! زیمل کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک تھی۔
کیا آپ کی گاڑی خراب ہوگئی ہے؟ مسز کاظمی حیرت سے ان دونوں کو ایک دوسرے سے باتیں کرتا دیکھ رہی تھیں۔
مما میں نے آپ کو بتایا تھا ناں کہ اس روز شاپنگ مال میں میں سلپ ہوگئی تھی اور میرا سیل بھی گر گیا تھا تو انہوں نے مجھے میرا سیل لاکر دیا تھا زیمل کو احساس ہوا تو جلدی سے مسز کاظمی سے مخاطب ہوئی۔
اور یہ میری مما ہیں زیمل اس بار التمش سے مخاطب ہوئی۔
السلام علیکم! آنٹی میں التمش ہوں التمش منصور التمش نے قدرے جھک کر ادب سے کہا۔
مے آئی ہیلپ یو؟ وہ اس بار مسز کاظمی سے مخاطب ہوا۔
بس بیٹا ہمیں ٹیکسی کرادو پتا نہیں اچانک گاڑی کو کیا ہوگیا ہے بند ہوگئی ہے‘ ہسپتال جانا ہے مسز کاظمی نے تفصیل بتائی۔
اوہو آنٹی ٹیکسی کیوں میں آپ لوگوں کو ڈراپ کردوں گا اور گاڑی بھی چیک کرادوں گا اگر آپ مناسب سمجھیں تو سوالیہ نظریں مسز کاظمی پر ڈال کر مودبانہ لہجے میں پوچھا۔
نہیں بیٹا شکریہ‘ ہمیں ٹیکسی کروا دو بس مسز کاظمی نے روکھے لہجے میں کہا۔
آنٹی بیٹا بھی کہہ رہی ہیں اور اور خدمت کا موقع بھی نہیں دینا چاہ رہی ہیں۔ میری اپنی ماں تو نہیں ہیں‘ مجھے خوشی ہوگی اگر میں آپ کے کام آسکوں اس بار التمش کا لہجہ بکھرا ہوا تھا جب کہ چہرے پر اداسی نمایاں تھی۔ مسز کاظمی کے ساتھ زیمل نے چونک کر اس کی جانب دیکھا اس کی بات پر مسز کاظمی کا دل پسیج گیا۔
اوہو بیٹا آئی ایم سوری‘ مجھے لگا کہ تمہیں تکلیف ہوگی مسز کاظمی نے شرمندگی سے کہا۔
نہیں آنٹی! آپ یقین مانیں مجھے بہت خوشی ہوگی پلیز انکار مت کیجیے گا وہ صرف مسز کاظمی سے ہی مخاطب تھا۔ ایک بار بھی زیمل کی طرف نہیں دیکھا یہی بات مسز کاظمی کو بہت اچھی لگی تھی۔
اوکے چلو ٹھیک ہے مسز کاظمی نے آگے بڑھتے ہوئے زیمل کی طرف دیکھا زیمل تھوڑا پس و پیش کررہی تھی مگر مسز کاظمی کے اشارے پر ان کے پیچھے چل دی۔ التمش نے آگے بڑھ کر مسز کاظمی کے لیے فرنٹ ڈور کھول دیا اور زیمل پیچھے بیٹھ گئی۔ بیس پچیس منٹ کی اس سفری ملاقات میں التمش نے اپنے بارے میں سب کچھ بتادیا تھا کہاں رہتا ہے؟ کیا کرتا ہے؟ والدین کی وفات کب ہوئی؟ مسز کاظمی نے بھی اپنی فیملی کے بارے میں مختصراً بتادیا۔ زیمل چپ چاپ بیٹھی سب کچھ سنتی رہی بلیک جینز اور بلیک اینڈ وائٹ ٹی شرٹ میں سن گلاسز لگائے وہ خاصا اچھا لگ رہا تھا۔ بات کرنے کے انداز سے وہ سچا‘ کھرا اور شریف بندہ لگ رہا تھا۔ ہسپتال کے گیٹ پر اترتے وقت مسز کاظمی نے شکریہ کے ساتھ ساتھ اپنا سیل نمبر بھی دے دیا تھا۔ ان کو یہ معصوم سا لڑکا بہت پسند آیا تھا‘ اس کے حالات سن کر مسز کاظمی کو اس سے ہمدردی ہوگئی تھی۔
بیٹا کبھی کبھار اگر دل چاہے اور مجھ سے ملنا چاہو تو میرے گھر آجانا مجھے اچھا لگے گا مسز کاظمی کے اس جملے نے التمش کے ارادوں کو جلا بخشی تھی۔ ہمت‘ حوصلہ ملا تھا کیوں کہ اسے بھی گرین اور پرپل عام سے کاٹن کے سوٹ میں سیدھی سادی معصوم سی زیمل بہت اچھی لگی تھی اور دل اس کو دوبارہ دیکھنے اس سے ملنے کی خواہش کرنے لگا تھا جسے قدرت بار بار اسے ملا رہی تھی شاید التمش منصور کے معصوم اور سچے جذبے ہی تھے کہ آج اس طرح سے مسز کاظمی سے ملاقات ہوگئی اور خودبخود راستہ بن گیا تھا۔
دیکھو ذرا آج کے دور میں بھی اچھے لوگ موجود ہیں‘ یہ ہوتے ہیں خاندانی لوگ ان لوگوں کے اندازِ گفتگو اور عمل سے ہی اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سچ ہے کہ انسان کی اصلیت کبھی بھی نہیں چھپتی اس کے قول و فعل اور گفتگو سے ہی اس کی خاندانی حیثیت کا پتا چل جاتا ہے‘ التمش حقیقتاً اچھے خاندان کا شریف بچہ ہے میں نے اس سے دو منٹ کی بات سے ہی یہ اندازہ لگا لیا
اُف مما اب بس بھی کردیں یہ التمش منصور نامہ آپ جب سے ہسپتال سے آئی ہیں بس اس کی شرافت کے ہی گن گارہی ہیں اگر التمش نامہ ختم ہوگیا ہو تو میڈم لنچ کرلیں زیمل جو پچھلے آدھے گھنٹے سے مسلسل التمش کی تعریف سن رہی تھی آخرکار جھنجھلا کر بولی۔
ارے زیمل تم کو کیا ہوا؟ مجھے تو سچ میں وہ اچھا لگا ہے مسز کاظمی بدستور تعریف میں رطب اللسان تھیں اٹھتے ہوئے بولیں تو زیمل منہ بناکر رہ گئی۔ ایک دن کی دوا کھا کر ہی مسز کاظمی کی طبیعت ٹھیک ہوگئی اور بی پی بھی بالکل نارمل ہوگیا تھا۔

اس روز موسم خاصا خوشگوار تھا‘ مسز کاظمی عصر کی نماز سے فارغ ہوکر کال پر کسی سے بات کررہی تھیں۔ زیمل پینٹنگ کررہی تھی کہ التمش آگیا ملازمہ نے آکر اطلاع دی تو مسز کاظمی نے اسے بلوالیا۔
السلام علیکم! وہ خوشگوار لہجے میں بولا۔
وعلیکم السلام! دونوں نے جواب دیا۔
کیسے ہو بیٹا؟ مسز کاظمی نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
الحمدللہ آنٹی یہاں قریب ہی میرا دوست رہتا ہے‘ اس کے پاس آیا تھا تو سوچا آپ سے مل لوں۔ آپ کو برا تو نہیں لگا؟ التمش نے جواب دے کر سادگی سے سوال بھی کردیا۔
نہیں بیٹا اچھا لگا مجھے‘ تم جیسے بچے مجھے بہت اچھے لگتے ہیں جو بڑوں کی عزت کرنا جانتے ہیں مسز کاظمی نے فراخدلانہ انداز میں کہہ کر زیمل کی جانب دیکھا۔
زیمل بوا سے کہو چائے لے آئیں التمش نے بھی نظریں اٹھا کر زیمل کی جانب دیکھا۔
وائو گریٹ! آپ پینٹنگ بھی کرتی ہیں‘ بہت زبردست بنائی ہے کینوس پر نظر پڑی تو التمش نے بے ساختہ کھلے دل سے تعریف کر ڈالی۔
تھینک یو سو مچ زیمل نے مسکرا کر کہا اور برش پلیٹ میں رکھ کر بوا کو چائے کا کہنے چلی گئی۔
کچھ دیر بیٹھ کر التمش لوٹ گیا‘ اس کو مسز کاظمی میں اپنی مما کی جھلک نظر آئی ویسی شفقت‘ نرمی اور دھیما لہجہ‘ باتوں میں مٹھاس لگتی۔ مسز کاظمی سے بات کرکے التمش کو سکون ملتا۔ نیما کو پتا چلا تو اس نے خوب مذاق بنایا۔
اچھا تو محترمہ وہ محترم گھر تک چلے آئے مطلب لگن سچی تھی لہجے میں شرارت تھی۔
چپ کرو زیمل اسے گھرکتی مگر چہرے پر مسکراہٹ ہوتی اور واقعی وہ ہوگیا جس کا اشارہ نیما نے بہت پہلے دے دیا تھا۔ التمش منصور اور زیمل کاظمی ایک دوسرے سے ملتے‘ باتیں کرتے ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے تھے کہ پتا بھی نہیں چلا دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوگئے شاید یہی محبت ہوتی ہے جو چپکے چپکے انجانے میں دو اجنبیوں کو اتنے قریب لے آتی ہے کہ پھر دوری کا تصور بھی محال ہوجاتا ہے۔ چپکے چپکے دل میں وہ میٹھا سا احساس‘ نازک جذبے اور خوب صورت سا احساس جو آہستہ آہستہ روم روم میں بس جاتا ہے۔
کسی کا ہونے کا احساس‘ کسی کے قرب کی تمنا‘ کسی کی چاہت کی طلب یہی تو محبت ہے۔ محبت کا میٹھا اور کومل سا احساس جس کی لپیٹ میں دھیرے دھیرے التمش منصور اور زیمل کاظمی دونوں آچکے تھے‘ احساس تب ہوا جب مسز کاظمی کی کسی دوست نے زیمل کے لیے رشتہ کی بات کی اور نیما کے سامنے وہ روہانسی بیٹھی تھی۔
نیما مما کو کیسے بتائوں؟
پاگل لڑکی التمش سے کہو کہ وہ آنٹی سے بات کرے اور اپنا رشتہ دے دے سمپل نیما نے حل پیش کیا۔
نہ ظالم سماج درمیان میں آیا نہ ہی خاندانی روایات آڑے آئیں دونوں غیر محسوس طریقے سے ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ یہ قربت محبت میں تبدیل ہوگئی اور دونوں کی شادی بھی طے ہوگئی‘ زیمل جس نے ہمیشہ سے یہی سوچ رکھا تھا کہ وہ صرف اس سے محبت کرے گی جو اس کی زندگی کا ہمسفر ہوگا اور یہی کچھ ہوا بھی۔ ضروری فارملیٹی کے بعد شادی کی تاریخ بھی طے ہوگئی۔ التمش کی خواہش پر شادی اکتیس دسمبر کو رکھی گئی تاکہ وہ اپنی شادی نیو ائیر کے ساتھ سلیبریٹ کرے۔
مما آپ ہماری شادی کے بعد ہمارے ساتھ رہیں گی التمش نے مسز کاظمی سے کہا۔
ارے نہیں بیٹا‘ اچھا نہیں لگتا اور پھر میں یہاں اکیلی تھوڑی رہوں گی میرے ساتھ نوکر‘ بوا ہیں اور جب دل کیا میں تم لوگوں کو بلوالوں گی مسز کاظمی نے مسکراتے ہوئے کہا تو زیمل آبدیدہ ہوگئی۔ محبت‘ خواہش اور نئی زندگی کی خوشی‘ نیا سفر اور نئے ہمسفرکی سنگت کی خوشی اپنی جگہ مگر ہر لڑکی کو میکہ چھوڑنے کا دکھ بھی لازمی ہوتا ہے۔
ایک عمر گزارنے کے بعد نئے گھر‘ نئی جگہ اور نئے ہمسفر کے ساتھ باقی زندگی گزارنے کی فکر اور اندیشے اپنی جگہ یوں زیمل بھی ہنستے روتے اپنے آنگن کو چھوڑ کر التمش کے بڑے سے گھر میں دلہن بن کر آگئی۔
زیمل میری جان یہ میرا گھر اور مجھ سمیت سب پر آج سے تمہاری مکمل حکومت ہوگی۔ میں نے کسی کو بھی کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا لیکن تم وہ واحد لڑکی ہو جس نے پہلی دو منٹ کی ملاقات میں میرے دل و دماغ اور وجود کو مکمل اپنے قبضے میں کرلیا تھا۔ میری لگن سچی تھی تب ہی دوبارہ تم ملیں اور اور آنٹی نے مجھے اس قابل جانا اور آج الحمدللہ تم میرے سامنے ہو میری زندگی‘ میری جان میری محبت التمش زیمل کے روبرو بیٹھ کر خوب صورت الفاظ میں اظہار محبت کررہا تھا لفظوں کی میٹھی آبشار زیمل کے کانوں میں امرت بن کر اترتی چلی جارہی تھی وہ بے خود ہوتی جارہی تھی۔
التمش تم بھی میری زندگی میں آنے والے پہلے اور آخری مرد ہو۔ مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے سوائے اس یقین کے کہ تم زندگی کے کسی موڑ پر‘ کسی بھی حال میں‘ کبھی بھی مجھ سے جھوٹ نہیں بولو گے‘ مجھ سے بے وفائی نہیں کروں گے‘ میں تمہارے اور اپنے درمیان کبھی بھی کسی صورت‘ کسی حال میں کوئی بے وفائی برداشت نہیں کروں گی۔ میرے علاوہ کوئی بھی تمہاری زندگی میں آیا تو میں مر جائوں گی التمش
ارے پاگل ہوگئی ہو‘ یہ کیا کہہ رہی ہو جانِ التمش اللہ نہ کرے التمش نے آگے بڑھ کر بے تابی سے اسے بانہوں میں بھرتے ہوئے اعتراف کیا۔ زیمل نے مطمئن ہوکر اس کے سینے میں منہ چھپالیا‘ خوب صورت عہدو پیماں اور وعدوں دلفریب سرگوشیوں کے ساتھ اس خوب صورت رات کی سحر ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے کی سنگت میں بے حد مسرور و شاداں تھے۔
دن عید اور رات شب برأت کی مانند گزر رہے تھے۔ زندگی اچانک سے بہت حسین ہوگئی تھی جس میں صرف اور صرف محبتیں تھیں‘ خوشیاں تھیں اور ایک دوسرے کا ساتھ۔ ہوش تب آیا جب نیما نے اپنی شادی کا کارڈ تھمایا۔
بس کردو محترمہ تم تو شادی کے بعد ایسی گم ہوئیں کہ کوئی اتا پتا نہ رابطہ میسجز کرکے بھی تھک گئی‘ حد کرتی ہو یار تم بھی ایسی بھی بے مروتی کسی کام کی نیما حقیقت میں ناراض تھی۔
اوہ آئی ایم سوری سویٹ ہارٹ دراصل ہنی مون ٹرپ کی وجہ سے موبائل یوز ہی نہیں کیا زیمل واقعی بے حد شرمندہ تھی۔ نیما تو اس کی بچپن کی دوست تھی جس سے وہ اتنا اٹیچ تھی اور شادی کے بعد تقریباً کٹ ہی تو گئی تھی۔
چھوڑو یار میں تم سے سخت ناراض ہوں نیما کا منہ بدستور پھولا ہوا تھا۔
بس معاف بھی کردو ناں غلطی ہوگئی وہ کان پکڑے پیروں میں آبیٹھی تو نیما کو ہنسی آگئی۔
شکر ہے اس چہرے پر ہنسی تو آئی زیمل نے اس کو گلے سے لگاتے ہوئے کہا دونوں کافی دیر تک باتیں کرتی رہیں۔ زیمل نے اس سے شادی کی تیاریوں کے حوالے سے باتیں کیں اور جب زیمل نے یقین دلایا کہ وہ نیما کی شادی کی تمام تقریبات اٹینڈ کرے گی بلکہ سب سے پہلے آئے گی اور سب سے آخر میں جائے گی تب کہیں جاکر نیما مطمئن ہوئی۔
نیما کی شادی خیریت سے انجام پائی۔ نیما شادی کے بعد اپنے میاں کے ساتھ امریکہ چلی گئی‘ التمش نے بھی اب سنجیدگی سے کاروبار پر دھیان دینا شروع کیا۔ زیمل نے بھی گھر کے تھوڑے بہت کام سنبھالے گو کہ گھر میں نوکر چاکر تھے مگر وہ چھوٹے موٹے کام کرلیا کرتی تھی اسے اچھا لگتا تھا۔ التمش آفس میں ہوتا تب بھی جب فارغ ہوتا تو ضرور موبائل پر زیمل سے رابطہ کرتا۔ کبھی میسجز اور کبھی کال کرلیتا‘ زیمل دن میں ایک بار مسز کاظمی سے بات کرکے ان کی خیر خیریت دریافت کرتی۔ التمش کے آنے سے پہلے زیمل فریش ہوجاتی بن ٹھن کر اس کا انتظار کرتی۔ التمش گھر آتا تو زیمل کی ایک خوب صورت دلنشین مسکراہٹ سے پل میں ساری تھکن کافور ہوجاتی۔ زندگی بہت خوب صورت انداز میں گزر رہی تھی اس پُر سکون جھیل میں پہلا کنکر اس وقت پٖڑا جب ایک روز پرانی پکس دیکھتے ہوئے زیمل نے التمش کے ساتھ ایک پیاری سی لڑکی کی پک دیکھی غالباً کسی پارٹی کی پک تھی۔ زیمل نے مزید پکس دیکھیں اور بھی لڑکے تھے‘ لڑکیاں تھیں اور وہ لڑکی وہ لڑکی ہر پک میں تھی۔
یہ یہ کون ہے؟ زیمل نے وہ پک التمش کی نظروں کے سامنے لہرائی اس کا لہجہ شاکی تھا۔
یہ ردابہ ہے میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔ یہ ساری پکس پارٹی کی ہیں التمش نے نارمل لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا۔
یہ شادی کے بعد امریکہ شفٹ ہوگئی ہے دو بچے ہیں اس کے۔ یہ احسان ہے دبئی میں ہوتا ہے۔ یہ فاران ہے لاہور میں لیکچرر ہے‘ یہ شائلہ ہے اسلام آباد میں رہتی تھی التمش نے سب کے بارے میں بتایا۔
یہ ردابہ کی تم سے کافی انڈرسٹینڈنگ لگتی ہے‘ ہر پک میں تمہارے ساتھ ہے زیمل نے آنکھیں ٹیڑھی کرکے کریدنے والے انداز میں کہا۔ باقی سب کو قطعی نظر انداز کرکے وہ صرف ردابہ کی طرف متوجہ تھی۔
لگتی ہے کیا مطلب یار اب تو عرصہ دراز ہوگیا ہے کسی سے بھی بات نہیں ہوتی‘ سب لوگ اپنی اپنی لائف میں بہت بزی ہوگئے ہیں التمش نے بدستور نارمل لہجے میں کہا۔
میں نے صرف اس لڑکی کے بارے میں پوچھا ہے زیمل کے لہجے میں تلخی نمایاں تھی۔
زیمل زیمل تمہارا مطلب کیا ہے اور یہ کس انداز میں بات کررہی ہو تم؟ اس بار التمش کا لہجہ تھوڑا سا تیز ہوا۔
مطلب صاف ہے کہ اتنے سارے لڑکوں کی موجودگی میں یہ صرف آپ کے پاس ہی کیوں ہے؟
جیلس ہوگئی ہو؟ التمش نے پوچھا‘ زیمل نے معصومیت سے اثبات میں سر ہلایا تو التمش کو ہنسی آگئی۔
کم آن یار پاگل ہوگئی ہو کیا؟ کیسی بچوں والی بات کررہی ہو۔ ارے تمہارے سر کی قسم یہ محض اتفاق ہے اور ایسا کچھ بھی نہیں۔ التمش منصور تمہارا تھا اور تمہارا ہی رہے گا ہمیشہ ہمیشہ اور تمہارے علاوہ کسی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اور نہ بھی جھوٹ بولوں گا التمش نے آگے بڑھ کر زیمل کے نازک ہاتھ ہاتھوں میں لے کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سچے دل سے اعتراف کیا تو زیمل نے معصوم انداز میں اسے دیکھا۔
التمش میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں اور اور ہرگز ایسا کچھ برداشت نہیں کرسکتی
اوہ میری جان ایسا کبھی بھی نہیں تھا اور ناں ہی کبھی ایسا ہوگا التمش نے اسے بانہوں میں بھر کر اپنی محبت کا یقین دلایا۔

شادی کو سال ہونے والا تھا التمش اپنے طور پر زیمل کے لیے شادی کی سال گرہ کے لیے سرپرائز گفٹ کا پروگرام بنارہا تھا۔ نیما بھی آج کل رابطے میں نہیں تھی کہ زیمل التمش کو دینے والے گفٹ کے بارے میں ڈسکس ہی کرلیتی‘ کچھ دنوں سے التمش کچھ پریشان لگ رہا تھا۔ زیمل نے پوچھا تو کاروباری ٹینشن کہہ کر چپ ہوگیا۔ زیمل نے کریدا بھی نہیں کہ کاروباری معاملے میں کیا دخل اندازی کرے۔
اکتیس دسمبر کا دن تھا کل یکم جنوری بھی تھی اور ویڈنگ اینورسری بھی۔ دونوں کی خواہش تھی کہ کل کے دن کو صرف دونوں مل کر ہی سلیبریٹ کریں گے۔ لنچ کے بعد زیمل نے سوچا کہ بازار سے کچھ ضروری سامان لے آئے وہ ڈرائیور کے ساتھ مارکیٹ آگئی۔ التمش کے لیے کچھ چیزیں لیں اور گھر کے لیے روزانہ ہوئی۔ گاڑی سگنل پر رکی سامنے ریسٹورنٹ پر اچٹتی سی نظر ڈالی‘ شیشے کے پار کارنر ٹیبل پر نظر گئی تو لگا جیسے نظریں تھم گئی ہوں لاکھوں‘ ہزاروں اور کروڑوں میں پہچان سکتی تھی۔
التمش زیرلب بڑبڑائی بلاشبہ وہ التمش تھا اور اس سے زیادہ حیران کن اور شاکڈ ہونے والی بات یہ تھی کہ اس کے ساتھ کوئی لڑکی بیٹھی تھی سر پر دوپٹہ لیے اس کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ اس کی آنکھیں پھیلتی چلی گئیں۔
التمش اس وقت آفس ٹائم میں کسی لڑکی کے ساتھ ریسٹورنٹ میں اکیلا بیٹھا کیا کررہا تھا؟ وہ سرتا پا سلگ اٹھی دفعتاً خیال آیا تو موبائل نکال کر کال ملائی۔
ہائے ڈارلنگ
التمش کیا تم گھر آسکتے ہو مجھے شاپنگ پر جانا ہے زیمل نے خود پر قابو پاتے ہوئے لہجے کو نارمل بناتے ہوئے پوچھا۔
اوہو آئی ایم سوری سویٹ ہارٹ اس وقت میں میٹنگ میں بزی ہوں تم ویٹ کرو ایک گھنٹے تک آتا ہوں التمش نے اسی مخصوص انداز میں جواب دیا۔
اوکے کہہ کر زیمل نے کال بند کردی۔ اس کا دماغ بری طرح سلگ رہا تھا۔ سگنل کھلا اور گاڑی آگے بڑھ گئی وہ منظر نظروں سے دور ہوگیا مگر مگر گزرے ہوئے چند قیامت خیز لمحات وہ منظر اور وہ پل زیمل کے حواسوں پر بجلی بن کر گرے میٹنگ میں بزی ہوں یہ لفظ بازگشت کی صورت مستقل سماعتوں میں گونج رہے تھے۔
التمش منصور! زہر کی مانند اس کی رگ رگ میں سرایت کررہا تھا۔ التمش منصور تم نے مجھ سے جھوٹ بولا ایک لڑکی کے ساتھ اور مجھ سے جھوٹ کہا دماغ بالکل مائوف ہونے لگا‘ کیمسٹ کی دکان پر گاڑی رکوائی کچھ دوائیں لیں اور دوبارہ گاڑی میں آبیٹھی‘ دماغ بری طرح سلگ رہا تھا۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے؟ ہوش و حواس جواب دینے لگے تھے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہوئی جارہی تھیں۔ لگتا تھا دماغ پھٹ جائے گا بمشکل تمام گھر پہنچی شاپرز ایک طرف پھینک دیئے۔ دوسری جانب التمش یک دم سے اٹھ کھڑا ہوا۔
ان شاء اللہ شام کو بات ہوگی
بیسٹ آف لک التمش
تھینک یو سو مچ بوتھ آف یو‘ تم لوگوں نے میرا بہت ساتھ دیا التمش نے باری باری دونوں کو دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا اور اٹھ کر تینوں باہر کی جانب چل دیئے۔
التمش گنگناتا ہوا خوشگوار موڈ میں کمرے میں داخل ہوا‘ اندر کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹنے لگیں زیمل بیڈ پر آڑھی ترچھی نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑی تھی اس کے ہاتھ میں نیند کی گولیوں کی بوتل تھی۔ کچھ گولیاں ہاتھ میں تھیں کچھ بیڈ پر پڑی تھیں۔
زیمل زیمل کیا ہوا خیریت تو ہے‘ یہ کیا کیا تم نے زیمل زیمل تم ٹھیک ہو ناں پلیز زیمل آنکھیں کھولو بوا چوکیدار التمش کی حالت پاگلوں جیسی ہورہی تھی‘ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اچانک سے کیا ہوگیا۔ زیمل نے ایسا کیوں کیا اسی لمحے ایمبولینس کو فون کیا‘ نوکر بھی بھاگے دوڑے آئے۔ وہ پاگلوں کی مانند زیمل کو جھنجھوڑ رہا تھا‘ چیخ رہا تھا۔ اسٹریچر پر اسے ڈاکٹر اندر لے جارہے تھے تب ہی دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں دبے کاغذ پر التمش کی نظر پڑی اس نے کاغذ مٹھی سے نکال لیا۔
کوریڈور میں سب لوگ بے چین اور پریشان دعائیں مانگ رہے تھے سب کے لبوں پر یہی سوال تھا کہ زیمل نے ایسا کیوں کیا؟ وہ تو بہت خوش تھی مطمئن تھی دونوں ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے اور کل جب کہ ان لوگوں کی شادی کی سال گرہ تھی تو آج زیمل کی خودکشی کی کوشش کیا معنی رکھتی ہے۔
اُف خدایا زیمل یہ تم نے کیا کر ڈالا اتنی گھٹیا بات‘ اتنی چھوٹی سوچ وہ پرچہ کھول کر پڑھتے ہوئے التمش کی حالت غیر ہورہی تھی۔
کیا ہوا یار خیریت؟ کاندھے پر ہاتھ محسوس کرکے التمش پلٹا سامنے ہی نیما اور اس کا شوہر کھڑے تھے۔ التمش نے زخمی نظروں سے دونوں کو دیکھا اور کاغذ نیما کی جانب بڑھا دیا۔ نیما نے حیرانی سے پہلے التمش کو دیکھا اور پھر اس کے ہاتھ سے کاغذ لے کر ہلکی آواز میں پڑھنا شروع کیا۔
التمش منصور
میں نے تم کو دل کی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ چاہا اپنی زندگی تمہارے نام سے منسوب کردی۔ میری زندگی میں آنے والے تم پہلے اور آخری مرد ہو لیکن بدلے میں تم سے صرف تم کو ہی مانگا‘ پورے خلوص اور سچائی کے ساتھ میں نے ہمیشہ تم سے یہی چاہا کہ تم صرف اور صرف میرے رہو۔ میں نے تم کو شدتوں سے چاہا اور اور کسی صورت میں یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ ہمارے درمیان کبھی کوئی جھوٹ آئے‘ کوئی عورت آئے مگر آج آج میں نے اپنی آنکھوں سے تمہیں کسی لڑکی کے ساتھ ریسٹورنٹ میں دیکھ لیا اور اس پر یہ جھوٹ کہ تم میٹنگ میں ہو۔ التمش منصور میں اتنی ارزاں نہیں‘ اتنی کمتر نہیں کہ یہ سب کچھ برداشت کرسکوں۔ نہ حوصلہ ہے اور نہ ہمت‘ میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ جس شخص کو میں پوجتی ہوں وہ وہ مجھ سے غلط بیانی سے کام لے گا؟ اس کی زندگی میں میرے علاوہ کسی اور کی گنجائش ہے۔ میں محسوس تو کچھ عرصے سے کررہی تھی مگر آج اپنی آنکھوں سے دیکھ کر میری برداشت جواب دینے لگی ہے۔ تمہیں زندگی مبارک ہو التمش منصور خود تمہاری زندگی سے بہت دور چلی جائوں گی کہ جیتے جی یہ سب برداشت کرنا میرے بس میں نہیں‘ تم خوش رہو۔
زیمل
اُف خدایا یہ سب کیا ہے التمش؟ خط ختم کرکے نیما نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔ اتنی بڑی غلط فہمی‘ اتنی گندی بات میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی زیمل اس حد تک جذباتی ہے
ویسے ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک ہے‘ وومٹ ہوگئی ہے اور گولیوں کی کم مقدار سے اثر بھی معمولی سا ہوا ہے شاید خوف سے بے ہوش ہوگئی تھی نیما نے خط پڑھ کر مزید باتیں بھی بتائیں۔
التمش چلو ڈاکٹر شاید اب ہمیں اس سے ملنے دیں اس بار نیما کا شوہر بولا۔
نہیں التمش نے پلٹ کر گمبھیر اور فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
کیا مطلب؟ نیما نے چونک کر اس کے چہرے کو دیکھا۔
مطلب یہ نیما کہ میں زیمل کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا‘ وہ انتہائی جذباتی لڑکی ہے۔ حد ہوتی ہے یار اس قدر بے اعتباری‘ اتنا زیادہ شک‘ اتنی گھٹیا سوچ‘ اسے لاکھ بار یقین دلایا مگر مگر اس کے باوجود اس نے اتنی گھٹیا حرکت کردی بنا یہ سوچے سمجھے کہ آگے کیا کچھ ہوسکتا ہے؟ وہ اتنی نادان اور چھوٹی بچی تو نہیں ہے کہ اسے یہ معلوم نہ ہو کہ اس کی حرکت نہ صرف اس کے لیے بلکہ ہم سب کے لیے کتنی مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ کتنے مسائل جنم لے سکتے ہیں؟ کم از کم ایک بار‘ ایک بار وہ پوچھ تو لیتی اس نے مجھ پر شک کیا؟ مجھ پر اعتبار نہیں اس کو؟ اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے ایک بار ایک بار اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتی‘ مجھ سے بات تو کرتی‘ مجھ سے پوچھ تو لیتی۔ یہ یہ سب کچھ میں کس کے لیے کررہا ہوں‘ میں میں اس کے لیے کیا سوچ رکھتا ہوں اور وہ وہ اتنی گھٹیا‘ عامیانہ اور تھرڈ کلاس خیالات پال رہی ہے۔ نیما‘ میں اب اس سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتا نہ اس سے ملوں گا اور نہ کوئی بات کروں گا۔ اس نے مجھے میری نظروں میں ذلیل کیا اور مجھے گرا بھی دیا ہے۔ میں خود کو بہت کمتر اور چھوٹا محسوس کررہا ہوں‘ ہاں مجھے اس کی مما کا خیال ہے‘ کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھائوں گا۔ اس کی مرضی ہے وہ جہاں چاہے رہے اور جو چاہے کرے
التمش التمش بات تو سنو نیما آوازیں دیتی رہی لیکن التمش گاڑی کی چابی اٹھائے باہر کی جانب نکلتا چلا گیا۔
زیمل التمش تم سے بہت ناراض ہے‘ تم نے حقیقت جانے بنا اتنا بڑا قدم اٹھالیا۔ وہ ہسپتال سے جاچکا ہے زیمل کی طبیعت خاصی بہتر تھی تب ہی نیما نے اس کے پاس بیٹھ کر آہستگی سے کہا۔
نیما تمہیں نہیں معلوم التمش کو میں نے خود کسی لڑکی کے ساتھ دیکھا ہے اور اس نے کہا کہ وہ میٹنگ میں ہے زیمل بدستور اسی بات پر قائم تھی جس کی بناء پر وہ یہاں ہسپتال کے بیڈ پر تھی۔
ہاں ہاں وہ لڑکی کے ساتھ تھا مگر جانتی ہو وہ لڑکی اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ وہاں اس کا شوہر بھی اس کے ساتھ تھا۔ وہ ڈیلنگ کررہے تھے پراپرٹی کی خریدو فروخت کے سلسلے میں میٹنگ کررہا تھا وہاں پر نیما نے چلاتے ہوئے کہا۔
کیا لڑکی اور شوہر؟ زیمل نے حیرانی سے پوچھا۔
ہاں اور وہ لڑکی میں تھی زیمل تمہاری بہن جیسی دوست‘ وہاں پر میرے ساتھ اشعر بھی تھا اور ہم لوگ لاسٹ ویک پاکستان آئے ہیں خاص طور پر تمہاری انیورسری میں شرکت کرنے کے لیے۔ تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا شوہر جسے شاید تم آوارہ گرد اور عیاش سمجھ رہی ہو وہ کتنا معصوم اور تمہیں پیار کرنے والا ہے۔ وہ صرف اور صرف تمہارے بارے میں سوچتا ہے‘ تمہیں ٹوٹ کر چاہتا ہے۔ وہ اپنی پہلی اینورسری کو یادگار بنانے کے لیے تمہیں انوکھا سرپرائز دینا چاہتا تھا۔ کتنا پاگل تھا وہ بے وقوف‘ اسے کیا پتا تھا کہ جس کے لیے وہ دن رات محنت اور کوشش سے کچھ کرنے جارہا ہے وہی وہی بدنصیب عورت اس پر شک کررہی ہے۔ اس کے کردار پر شک کررہی ہے‘ لعنت ہے زیمل تمہاری سوچ پر‘ مجھے تو خود سے بھی گھن آرہی ہے‘ وہ بے چارا لتمش جو مجھے بہن کہتا ہے میرے لیے بھائی کی طرح ہے‘ وہ پاگل انسان اپنی بیوی کی خوشی کے لیے تمہارے ایک بار صرف سرسری سے ذکر کرنے پر وہ اشعر کا کلفٹن پر بنا فلیٹ خرید کر تمہیں گفٹ کرنا چاہتا تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ آج کا فنکشن وہ اسی فلیٹ میں سلیبریٹ کرے گا اور وہ اسی سلسلے میں گزشتہ ایک ہفتہ سے ہم دونوں سے ٹچ میں تھا اور آج ہماری لاسٹ میٹنگ تھی اور تم نے ایک معصوم شخص کی پاک محبت کا اتنے گھٹیا انداز میں مذاق اڑایا ہے۔ سوچ سوچ کر میرا دماغ مائوف ہورہا ہے تو سوچو اس کا کیا حال ہوگا
اُف نیما یہ سب کیا ہوگیا؟ زیمل نے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال جکڑلیے۔ میں نے جذبات میں آکر کتنی چھوٹی حرکت کردی ہے پلیز نیما تم مجھے معاف کردو‘ میں اندھی ہوگئی تھی شاید وہ نیما کے سامنے ہاتھ جوڑے بری طرح بلک رہی تھی۔
زیمل میرا دل تو خیر دکھا ہے مگر اس کے لیے سوچو جس کے دل میں صرف اور صرف تم ہو نیما نے منہ پھیر کر جواب دیا۔
نیما‘ میں میں التمش سے معافی مانگ لوں گی اپنی غلطی کی‘ اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر اپنی اتنی بڑی غلطی کا اعتراف کرلوں گی پلیز نیما‘ تم تم مجھے معاف کردو اور اور اس موقع پر میرا ساتھ دو اگر تم بھی ناراض رہوگی تو میں سچ مچ مر جائوں گی یار مانتی ہوں میں نے بہت بڑی غلطی کردی ہے مگر اب اس کی تلافی کرنے کا موقع چاہتی ہوں۔ اللہ کے لیے نیما‘ اشعر بھائی پلیز وہ دونوں کے سامنے ہاتھ جوڑے بے تحاشہ رو رہی تھی۔ نیما نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔
میری جان اتنا جذباتی ہوجانا کبھی کبھی ناقابل تلافی نقصان بن جاتا ہے۔ تم بچی تو نہیں ہو اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو التمش کا کیا ہوتا؟
التمش کہاں ہیں؟ نیما نے پانی کا گلاس بڑھایا تو ایک گھونٹ پانی پی کر زیمل نے سوال کیا۔
پتا نہیں کہاں گیا‘ بہت ناراض ہے اور تمہاری شکل بھی نہ دیکھنے کا کہہ کر گیا ہے۔ اتنی آسانی سے معاف نہیں کرے گا وہ تمہیں‘ تم نے نہ صرف اس کا دل دکھایا ہے بلکہ اس کی توہین بھی کی ہے
ہاں نیما اس کا غصہ اپنی جگہ درست ہے‘ میں نے واقعی بہت بڑی غلطی کردی ہے لیکن لیکن میں اس کے بنا نہیں رہ سکتی نیما میں اس کے قدموں میں سر رکھ کر معافی مانگ لوں گی میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ واقعی جذبات میں آکر کتنی گھٹیا حرکت کر ڈالی نہ سوچا نہ سمجھا کہ اس نادانی اور پاگل پن کا انجام کیا ہوگا زیمل حد درجہ شرمندہ تھی۔
نیما نے گھر کال کرکے بوا سے پتا کیا تھا التمش گھر پر نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے زیمل کو فوراً ہی گھر جانے کے لیے کہہ دیا تھا کیوں کہ دوا مکمل طور پر اثر انداز نہیں ہوئی تھی۔ زیمل کو خود پر بہت غصہ آرہا تھا۔ یااللہ مجھے معاف کردینا میرے رب میں تیری بہت گناہ گار بندی ہوں میرے گناہوں کو معاف فرمادے‘ ایک بار مجھے التمش سے معافی مل جائے میرے پروردگار میں آئندہ کبھی بھی اس پر شک نہیں کروں گی

یونہی سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا‘ دل کسی صورت قابو میں نہیں آرہا تھا۔ ایک جانب زیمل پر شدید غصہ تھا تو دوسری جانب اس موقع کے ضائع ہونے کا افسوس بھی تھا۔ بارہ بجنے سے کچھ دیر پہلے التمش گھر آیا‘ دل بہت اداس ہورہا تھا۔ دل و دماغ کی عجیب سی حالت ہورہی تھی اسے آتا دیکھ کر بوا بھی اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں۔ ٹھنڈ بھی بڑھتی جارہی تھی‘ اپنے کمرے میں داخل ہوکر جیسے ہی لائٹ جلائی اس نے دوبارہ دیکھا یہ جوڑا تو زیمل کا تھا وہ کیسے بھول سکتا تھا اس جوڑے میں دلہن بنی زیمل آج بھی اس کے دل و دماغ میں محفوظ تھی۔ وہ دو قدم آگے بڑھا‘ زیمل تیزی سے اٹھ کر اس کے قریب آگئی۔
تم تم یہاں کیا کررہی ہو؟ اب تمہاری میری زندگی میں اور میرے روم میں کوئی جگہ نہیں ہے بہتر یہی ہے کہ یہاں سے تم خود چلی جائو یا پھر میں خود چلا جاتا ہوں التمش نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے تیز لہجے میں کہا۔
التمش کیا تمہارے دل میں میرے لیے کوئی جگہ نہیںاب؟ زیمل نے پوچھا۔
نہیں بالکل نہیں‘ میرے دل میں اور نہ میرے کمرے میں۔ تم میرے گھر میں رہ سکتی ہو کیوں کہ میں تمہارے جیسا سفاک اور بے رحم انسان نہیں جو صرف اپنے بارے میں سوچوں۔ مجھے اب بھی تمہاری مما کی پروا ہے وہ دل کی مریضہ ہیں میرے دل میں کشادگی ہے۔ میرے ذہن میں خرافات نہیں ہیں التمش نے غصے سے گھورتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
التمش پلیز مجھے معاف کردو‘ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی میں پاگل ہوں واقعی میں تمہاری محبت میں پاگل ہوں تب ہی وہ سب کچھ مجھ سے برداشت نہ ہوا اور
اور تم نے بنا کچھ پوچھے‘ سوچے سمجھے بغیر اتنا بڑا قدم اٹھالیا۔ زیمل یہ تمہاری نادانی نہیں ہے‘ یہ تمہارا جنون اور شدت پسندی ہے۔ محبت کرنے والا انسان تو سوفٹ ہوتا ہے‘ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں کھو بیٹھنے والا‘ شدت پسند خود پسند انسان کبھی بھی محبت نہیں کرسکتا۔ وہ صرف اپنی انا کی تسکین چاہتا ہے تم کیا جانو محبت کس کو کہتے ہیں۔ کسی پر اعتبار کرنا‘ کسی پر بھروسہ کرنا اپنے آپ سے زیادہ کسی پر اعتماد کرنا‘ کسی کا خیال رکھنا‘ اس کی ضرورتوں کا‘ اس کی خواہشات کا خیال رکھنا اس کی چاہت کی خوشبو کے سچے جذبوں کا احساس کرنا اس کے لیے خود کو بدل لینا یہ محبت ہے زیمل‘ اور میں نے کی ہے محبت سچی‘ پاکیزہ اور شکوک و شبہات سے پاک کی ہے۔ اعتماد اور بھروسہ والی محبت ارے تم تو محبت کے م سے بھی واقف نہیں ہو زیمل اگر تم محبت کے معنی سمجھتیں تب تمہیں احساس ہوتا ہے کہ کسی کو کھو دینے کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ کسی پیار کرنے والے سے اس کی محبت چھن جائے تو وہ جیتے جی مر جاتا ہے۔ تم نے تو جذبات میں آکر نہ میرے بارے میں سوچا اور نہ اپنی بوڑھی ماں کے بارے میں سوچا کہ اگر تم کو کچھ ہوجائے تو ہمارا کیا ہوگا؟ تم خود غرض ہو زیمل‘ خودپسند اور جنونی‘ میں میں تمہارے ساتھ ایک پل بھی نہیں رہ سکتا شدت جذبات سے التمش کانپ رہا تھا اس کی آواز میں ارتعاش تھا‘ اس کے چہرے کی رنگت سرخ ہورہی تھی۔
التمش تمہاری باتیں بالکل ٹھیک ہیں‘ میں واقعی اس لمحے پاگل ہوگئی تھی صرف اپنے بارے میں سوچا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں کھو بیٹھی تھی‘ میں نے واقعی بہت بڑی غلطی کردی تھی
تم نے ایک بار نہیں کئی بار ایسی باتیں کی ہیں زیمل میں کتنی بار تمہیں اس بات کا یقین دلائوں کہ میری زندگی میں صرف اور صرف تم ہو اور کوئی نہیں ہے مگر اب یہ سب بے سود اور غیر ضروری ہے۔ کیوں کہ اب آئندہ تم کچھ بھی سوچو اور کچھ بھی کرو میرا کوئی واسطہ نہیں ہے زیمل کو ہاتھوں سے دھکا دے کر وہ کمرے سے جانے کے لیے پلٹا۔
التمش میری جان مانا کہ میری غلطی ناقابل معافی ہے‘ تم اپنی جگہ پر بالکل صحیح ہو‘ میں نے بہت غلط اور چھوٹی حرکت کردی تھی لیکن اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں التمش یہ نادانی یہ پاگل پن اور یہ جنون صرف اور صرف تمہارے لیے ہے۔ یہ محبت نہیں عشق ہے عشق لازوال ہے‘ عشق کی آخری منزل ہے شاید میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن میں میں بیان کرسکوں اور شاید اسی وجہ سے میں نے انتہائی قدم اٹھایا۔ میں سوچنے سمجھنے کی حدوں کو پار کر گئی‘ میں نے بنا سوچے سمجھے وہ سب کر ڈالا جو مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا
اوکے سب ہوگیا ناں‘ اب راستے سے ہٹو التمش نے اس کی بات سن کر خشک لہجے میں کہا۔
التمش پلیز ایک بار صرف ایک بار مجھے معاف کردو‘ آئندہ کبھی بھی ایسی حرکت نہیں کروں گی۔ تم اگر مجھے معاف نہیں کرو گے تو میں زندہ نہ رہ پائوں گی۔ سچی التمش میں تمہاری بے رخی‘ بے اعتنائی بالکل بھی سہہ نہ پائوں گی۔ تم سے دور ہونے کا جیتے جی تصور بھی نہیں کرسکتی پلیز پلیز ایک بار مجھے معاف کردو زیمل التمش کے سامنے ہاتھ جوڑے زارو قطار رو رہی تھی حد درجہ شرمندہ اور خفت محسوس کررہی تھی۔
پلیز التمش! وہ ہاتھ جوڑے جوڑے اس کے قدموں میں بیٹھتی چلی گئی۔ مجھے معاف کردو‘ مجھے معاف کردو وہ بکھر رہی تھی‘ اپنے کیے پر حد درجہ نادم اور شرمندہ تھی۔ التمش نے غور سے اس کے حسین چہرے کی جانب دیکھا۔ احساس ندامت‘ آنسوئوں سے تر چہرہ‘ ایک لمحے کے لیے التمش کا دل ڈول گیا وہ تو التمش کو دل و جان سے زیادہ عزیز تھی اس کی محبت تھی۔ التمش کا دل پسیجنے لگا لیکن وہ بدستور منہ موڑے کھڑا رہا۔
ارے یار بس بھی کردو اتنی سزا کافی ہے آج کے دن‘ اب اور دوریاں نہ بڑھائو جو ہوگیا اسے بھول جائو۔ آئندہ سے ایسی غلطی نہیں ہوگی اسے معاف کردو پلیز تب ہی نیما اور اشعر بھی کمرے میں آگئے اور التمش کے قریب آکر اس کے کاندھے تھام کر نرم لہجے میں کہا۔
ارے تم لوگ التمش چونک کر پلٹا۔
ہاں بھئی آج کی اس رات کو حسین اور یادگار بنانے کے لیے تمہاری بیگم کی اس تیاری میں نوّے فیصد میرا ہاتھ اور آئیڈیا بھی ہے اس لیے ہمارے آئیڈیا کو سو فیصد کامیاب کردو اور غصہ ختم کردو پلیز نیما نے کہا‘ التمش نے پلٹ کر ایک نظر زیمل پر ڈالی‘ دونوں ہاتھوں سے کان پکڑے روتی شکل کے ساتھ وہ بہت معصوم لگ رہی تھی۔ التمش نے اپنی بانہیں وا کیں اور زیمل اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
بس کردو اب کیا مسئلہ ہے اب مان گیا ناں التمش نے اس کے بالوں کو سنوارتے ہوئے کہا۔
آہم آہم باقی شوٹنگ اپنے نئے گھر میں کرنا یار کچھ باقی رہنے دو اشعر کی شرارت پر دونوں جھینپ گئے۔
کچھ دیر بعد نیما اور اشعر ان دونوں کو دعائیں دے کر رخصت ہوئے‘ التمش اور زیمل بھی اپنے نئے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ بارہ بج چکے تھے۔ ساری دنیا میں خوشیاں منائی جارہی تھیں۔ زیمل التمش کے کاندھے سے سر ٹکائے مطمئن اور شاداں دکھائی دے رہی تھی اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کررہی تھی کہ اللہ پاک نے اسے ایک موقع دیا تھا اپنی زندگی کو سیدھی راہ پر لانے کے لیے وہ دل سے تمام کدورتیں مٹا کر اپنی اینورسری کو بھرپور طریقے سے منانا چاہتی تھی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close