Aanchal Jan-17

چراغ خانہ

رفعت سراج

اک ہجر تھا سو وہ بھی رہا شور و شر میں گم
اک وصل تھا سو وصل کو شدت نہ مل سکی
جو لوگ دور تھے سوا دور ہی رہے
جو پاس تھے سو ان سے طبیعت نہ مل سکی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
مانو آپا عالی جاہ کی بات پر ششدر رہ جاتی ہیں وہ عالی جاہ کے لیے اللہ سے ہدایت مانگتی آخرت کی بربادی کے تصور ہی سے لرزاں ہوجاتی ہیں۔ دوسری طرف سعدیہ کمال فاروقی کا انتظار کررہی ہوتی ہے وہ انہیں پیاری کی اصل صورت دکھانا چاہتی ہے وہ اتنی جذباتی اور احمق نہیں ہوتی کہ دانیال کے سامنے وہ سارے انکشافات اگلتی جو عالی جاہ نے ان کی سماعت کے نذر کیے تھے سعدیہ اس وقت کسی کے سامنے اپنی بھڑاس نکالنا چاہتی ہیں وہ سوچ کر عالی جاہ سے ہی رابطہ کرتی ہے۔ عالی جاہ انہیں اپنی باتوں میں الجھا کر مزید ٹینس کرتا سلسلہ منقطع کردیتا ہے۔ دوسری طرف پیاری کو سمجھ نہیں آتا کہ وہ کس طرح بھائی کا دل موم کرلے انہیں اپنے لیے پہلے جیسا پُر شفیق بنالے، دانیال کے ساتھ جو رشتہ محبت کے نام پر بنا ہوتا ہے اس میں اتنا دم خم نہیں ہوتا کہ وہ خون کے رشتے پر غالب آتا۔ مشہود اس کے رونے کو بھی اپنا مطلب پہناتا ہے جبکہ پیاری اس کی بات کا برا منائے بغیر مشہود کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے کہتی ہے، مشہود پر اس کے رونے کا اثر نہیں ہوتا۔ دانیال مانو آپا کے پاس آتا ہے وہ اپنے دل کی بات انہیں بتا کر اپنے دل کا بوجھ کم کرنا چاہتا ہے جبکہ مانو آپا کی محبت دیکھ کر اس کی ہمت دم توڑ جاتی ہے اور وہ بغیر کچھ کہے واپس چلا جاتا ہے۔ مانو آپا دانیال کے چہرے سے کسی حد تک معاملہ سمجھ جانے میں کامیاب ٹھہرتی ہیں لیکن ذہن کے پردے پر ابھرتی سعدیہ کی تصویر نے ان کی سوچ کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور وہ سعدیہ سے بات کرنے کا سوچتی ہے ہیں۔ قید خانے میں ایک مہربان ذات مشہود کے لیے روشن دان سے کھانے کے لیے ضرور پھینکتی تھی لیکن اس روز وہ روشن دان کے بجائے خود ہی مشہود کے لیے فرار کا راستہ کھول دیتی ہے مشہود کمرے سے باہر نکل کر بھاگتا ہوا بیرونی دروازے کی طرف آتا ہے لیکن اسے کھولنا اس کے بس سے باہر ہوتا ہے تب ہی دروازے کے باہر سے گاڑی کی لائٹ اندر آتی ہے وہ ڈر کر کوٹھڑی میں چھپ جاتا ہے۔ سعدیہ پینترا بدل کر دانیال کو پیاری کو گھر لانے کا کہتی اسے حیران کردیتی ہے دانیال کو ان کی ذہنی حالت پر شک ہوتا ہے لیکن دانیال انہیں ابھی اس موضوع پر بات کرنے سے منع کردیتا ہے، جبکہ سعدیہ میٹھی چھری سے اسے قابو کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

دانیال کے جانے کے بعد مانو پھوپو کافی دیر تک اسی کے بارے میں سوچتی رہیں۔ وہ طبی اور روحانی لحاظ سے دانیال کے بہت قریب رہی تھیں۔ دانیال عالی جاہ کی طرح ان کے وجود کا ہی حصہ تھا‘ ان کے ہی آنگن میں کھیل کود کر جوان ہوا تھا۔
اگرچہ دانیال نے ان سے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی جس کو سن کر وہ پریشان ہوتیں لیکن دل کے اندر ایک عجیب سی کھٹ کھٹ تھی جتنی دیر دانیال ان کے سامنے رہا ان کو یہی محسوس ہوتا رہا کہ کہیں کچھ مسئلہ ہے۔ دانیال آج پہلے کی طرح چوکس حالت میں ان سے اپنی معمول کی باتیں نہیں کررہا تھا بلکہ بات کرتے کرتے کہیں کھو جاتا تھا۔ سوچتے سوچتے معاً خیال آیا۔
اوہو آخر میں یہ کیوں بھول جاتی ہوں کہ بچہ اپنی ماں کی طرف سے پریشان ہے۔ اس کی نکاحی بیوی کو وہ حق نہیں مل رہا جو اس کا حق ہے۔ پریشانی کی بات تو ہے‘ اب وہ ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد مجھ سے اپنا رونا رونے سے تو رہا۔ مانو آپا کے ذہن نے انہیں وہاں تک پہنچادیا جہاں تک پہنچنے کا امکان موجود تھا۔
اصل معاملہ تو یہ ہے کہ اِدھر اُدھر اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے مجھے اور کمال کو سعدیہ کے ساتھ بیٹھنا چاہیے آخر انسان ہے کسی وقت تو کسی کی بات سمجھے گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دانیال کی ماں ہے۔ ذرا فون کرکے دیکھتی ہوں کس موڈ میں بات کرتی ہے پھر سوچتی ہوں کہ آگے کیا کرنا ہے۔ دیکھوں تو سہی کر کیا رہی ہے؟ حد ہوگئی اس عورت سے۔ یہ سوچتے ہوئے مانو آپا لینڈ لائن نمبر سے بات کرنے کے لیے فون سیٹ کی طرف بڑھیں۔ فون سیٹ کے قریب پہنچ کر ایک دفعہ پھر انہوں نے غورو خوض کیاکہ کیا انہیں سعدیہ کو فون کرنا چاہیے‘ دل نے یہی کہا۔
کرنا چاہیے کیونکہ دانیال ماں کی طرف سے بہت پریشان ہے اس کی خوشیوں کے دن ہیں ماں نے اس کی خوشیوں میں کرکری ڈال دی ہے۔ اس بچے کے لیے کچھ تو کرنا ہوگا۔ یہ سوچتے ہوئے انہوں نے نمبر ڈائل کرنا شروع کیا دو تین رنگ ہونے کے بعد ان کی کال ریسیو ہوگئی اور یہ بھی خوب ہوا فون سعدیہ ہی نے اٹھایا۔ مانو آپا نے جلدی سے خود کو سنبھالا اور اچھا سا لہجہ اور موڈ بنا کر بات کی ابتداء کی۔
السلام علیکم! سعدیہ خیریت سے ہونا؟ انہوں نے سعدیہ کا ہیلو سن کر اپنی طرف سے شائستگی کے ساتھ چھوٹی بھابی کو سلام عرض کیا۔ سعدیہ مانو آپا کی آواز سن کر چونکیں۔ اندر ہی اندر ایک ابال سا آیا جیسے اچانک ابلتے ہوئے پانی کے نیچے آنچ تیز کردی جائے تو فوراً جھاگ اوپر کی طرف آتا ہے مگر انہوں نے کمال مہارت کے ساتھ خود کو سنبھالا۔ ابھی کچھ دیر پہلے دانیال کے ساتھ لاڈ پیار کرکے فارغ ہوئی تھیں اب اپنی پچھلی محنت کو ایک پل میں ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں تھیں‘ اتنا تو کم از کم انہیں سوچنا ہی تھا۔
جی اللہ کا شکر ہے آپا آپ سنایئے؟ سعدیہ نے بھی معمول سے ہٹ کر بڑے مؤدبانہ انداز میں جواب دیا تو مانو آپا کو یوں لگا جیسے وہ کھڑے سے گر جائیں گی جلدی سے پاس پڑی کرسی پر ہی بیٹھ گئیں۔
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے‘ ماشاء اللہ طبیعت اچھی ہے۔ مانو آپا کی بات سن کر سعدیہ کا جی تو چاہا کہ کھٹ کرکے پوچھیں کہ بھئی میری طبیعت کب سے خراب تھی کیا مرے جارہی تھی لیکن اس وقت انہوں نے اپنے آپ پر مکمل قابو پایا ہوا تھا کیوں کیونکہ بڑے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ بہت ٹھنڈے دماغ سے سوچا سمجھا جاتا ہے۔ یہ کہ اونچے پہاڑ پر قدم رکھتے ہوئے پائوں بہت محتاط انداز میں اٹھانا ہوتے ہیں۔
جی اللہ کا شکر ہے آپ سنایئے‘ کافی دن ہوگئے آپ کا چکر نہیں لگا‘ خیر یہ تو مجھے پتا ہے ظاہر ہے کہ آپ مجھ سے ناراض ہیں تو کیوں آئیں گی لیکن آپا بات یہ ہے کہ مجھے کسی نے سمجھنے ہی کی کوشش نہیں کی۔ آخر میں ماں ہوں میرے بھی دل میں ارمان تھے میں نے بھی کچھ خواب دیکھے تھے لیکن چھوڑیں خیر جو کچھ ہونا تھا اب ہوگیا۔ آپ آسکتی ہیں تو آجایئے بیٹھ کر دوچار باتیں کرلیتے ہیں اور چائے بھی پی لیتے ہیں‘ آپ کون سا اتنی دور بیٹھی ہیں جو فون پر ہی سب کچھ کہہ سن لیا جائے۔ سعدیہ نے شاید زندگی میں دوسری یا تیسری مرتبہ بڑا انسانیت کا جامہ اوڑھ کر نند صاحبہ سے بات کی تھی۔ مانو آپا تو گویا ریشہ خطمی ہونے لگیں اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آکر دے رہا تھا کہ جو اُن سے ہم کلام ہے وہ سعدیہ ہے اور وہ جو ان کی چھوٹی بھابی ہے جس نے کبھی سلام بھی کیا کبھی نہیں کیا جیسے پرانا قرض اتارا ہے۔ آج اتنی ہمدردی اپنائیت انسانیت یا اللہ یہ کیا معجزہ ہوگیا وہ اپنی جگہ ششدر سی بیٹھی رہ گئیں۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر سعدیہ کے پاس پہنچ جائیں۔
ہاں ہاں سعدیہ یہ میرے بھائی بھاوج کا گھر ہے سو بار آئوں گی۔ بس دعا کرو اللہ ہاتھ پیر سلامت رکھے سب خیریت رہے‘ میں نے تو بس اس لیے فون کیا تھا کہ تمہاری طبیعت پتا کروں کہیں تم یہ نا سمجھ رہی ہو کہ میں تم سے ناراض ہوں۔ دیکھو یہ تمہارے گھر کا مسئلہ ہے میرا تمہارا رشتہ کچھ اور ہے کوئی بدگمانی ہو تو مل بیٹھ کر بات کرلیتے ہیں تمہارا دل اگر صاف ہوسکتا ہے تو میں دس دفعہ تم سے ملنے کو تیار ہوں۔ مانو آپا نے بھی محبت کے جواب میں عظیم محبت کا پرچار شروع کردیا۔
ہاں تو ٹھیک ہے آپا پھر آپ ایسا کریں آجائیں‘ میں آجاتی لیکن صبح سے سر میں بار بار درد ہورہا ہے۔ ڈرائیور ہے نہیں اور گاڑی چلانے کی مجھ میں ہمت نہیں۔ عرصہ دراز بعد سعدیہ اسی رشتے کے حساب سے بات کررہی تھیں جس رشتے کے بندھن میں بندھے ہوئے زمانے ہوگئے تھے لیکن یہ رشتہ پتا نہیں کیوں بار بار کسی ان دیکھے ریشم کے لچھوں میں الجھ جاتا تھا۔
ٹھیک ہے سعدیہ میں مغرب کی نماز پڑھ کر تمہاری طرف آتی ہوں خیر سے کمال کا فون آیا؟ انہوں نے فون بند کرنے سے پہلے بھائی کا پوچھ لیا گویا غضب ہوگیا سعدیہ کا اچھا بھلا موڈ خراب ہوگیا لیکن فوراً ہی انہیں یاد آگیا کہ انہیں اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ کرنا ہے جو وہ کرنے کا کبھی تصور بھی نہیں کرسکتی تھیں۔
جی جی آپا فون تو آجاتا ہے ان کا‘ میں بھی کرلیتی ہوں ٹھیک ہیں خیریت سے ہیں‘ کام ختم ہوجائے گا تو ان شاء اللہ جلدی آجائیں گے۔ ٹھیک ہے آپ نماز پڑھ کے آجایئے گا میں آپ کا انتظار کررہی ہوں۔ سعدیہ نے یہ کہہ کر فون بند کردیا‘ مانو آپا کی خوشی دیدنی تھی پائوں رکھتی کہیں تھیں پڑتا کہیں تھا۔

کہنے کو تو دانیال نے ماں کو کہہ دیا تھا کہ وہ انہیں لے کر پیاری کے گھر چلے گا لیکن سعدیہ کے کمرے سے جانے کے بعد وہ مستقل ایک درد سر میں مبتلا ہوچکا تھا۔ جو کچھ ہوچکا تھا اور جس طرح مشہود نے اس کا سواگت کیا تھا اور جتنی دیر وہ وہاں رہا اور جو کچھ محسوس کرتا رہا اس کے بعد بار بار ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا تھا‘ کیا ماں کو لے کر اسے وہاں جانا چاہیے؟ کیا مشہود سعدیہ کو دیکھ کر کوئی لحاظ کرے گا؟ خود پر کنٹرول رکھ سکے گا؟ اس کی ماں کی عزت افزائی میں سلام کا جواب دینے کی بھی زحمت کرے گا اور اس نے وہی کیا جو وہ بھگت کر آیا ہے تو پھر وہ سعدیہ کے ساتھ واپس گھر آتے ہوئے ان کے ایک ہزار سوالات کا جواب کیوں کردے سکے گا‘ کیا کہے گا اور سعدیہ یہ سب کچھ دیکھ کر کوئی ردعمل نہیں کریں گی ایسا تو ممکن ہی نہیں۔ یہ تو اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ مشہود کی بدسلوکی کے بعد سعدیہ کا ردعمل کیا ہوگا۔
لیکن یہ تو طے تھا ناکہ خوشگوار تو کسی بھی صورت میں نہیں ہوگا اور شاید ممی نے تو میری خاطر ایک سمجھوتے کا کمپرومائز کا راستہ نکالا ہے۔ اندر سے تو شاید وہ ابھی راضی نہیں ہوں گی ان کے ہاتھ تو ایک بہانہ لگ جائے گا۔ اب سوالات کے بعد اندیشے سر اٹھا رہے تھے‘ متوقع حالات کی تصویر سامنے گھومی تو نتائج کا بھی آہستہ آہستہ ادراک کسی پوشیدہ راز کی طرح کھلنے لگا۔
میرا خیال ہے کہ اس قصے کو ٹال دینا چاہیے‘ ممی شاید بہت کچھ برداشت کرلیں لیکن اپنی بے عزتی برادشت نہیں کریں گی اور شاید آگے جاکر بات بن ہی جائے لیکن اگر ممی نے مشہود کے رویہ پر زبردست ری ایکٹ کیا تو معاملہ بہت دور تک خراب ہوجائے گا۔
سوچتے سوچتے مشہود کا ذہن شل ہوگیا اب وہ نڈھال انداز میں کوئی بہت خوب صورت امید اور روشن امکانات پر غور و خوض نہیں کرسکتا تھا۔ نڈھال ذہن میں اب تو جو خیال آتا تھا وہ شکست وریخت کے عمل سے گزر کر گویا گرد کی طرح راہ میں ہی اڑ جاتا تھا۔ سامنے کوئی واضح تصویر نہیں تھی اور یہ ایک فطری عمل ہے جب انسان لاحاصل خیالات میں اپنی توانائیاں ضائع کردے تو شاید اٹھ کر ایک گھونٹ پانی پینا بھی کسی کارِ مشقت سے کم نہیں لگتا۔
وہ اپنے دکھتے سر کو دونوں ہاتھوں سے دبانے لگا۔ سعدیہ کے ساتھ نہیں جائے گا وہ نڈھال ذہن سے ایسا فیصلہ کررہا تھا جو اس کے دل کی آواز نہیں تھی اسے تو اس در پر جانے کا کوئی بہانہ چاہیے تھا مگر سعدیہ کے ساتھ جانا اس کا مطلب یہ تھا کہ مشقتوں کا دورانیہ جان بوجھ کر بڑھا دیا جائے۔

پیاری کو کوئی کام نہ سوجھا اور تنہائی کی وحشتوں نے اس کو گھیر کر رقص کرنا شروع کیا تو اسے ایک ہی راستہ سجھائی دیا کہ وہ دو نفل یا قضائے حاجت کے پڑھ لے۔ اللہ سے لو لگالے آخر اس گھر میں اس کے اور مشہود کے علاوہ تیسرا اللہ بھی تو ہے۔ مشہود کچھ سننے کو تیار نہیں‘ اللہ تو ہر وقت تیار ہے۔
اندھیرے میں ایک چھوٹی سی روشنی کی کرن تھی جس سے پل بھر میں اس کی روح جھلملانے لگی۔ اس نے اٹھ کر بڑے اہتمام سے وضو کیا اور دوگانہ نفل کی نیت باندھ لی۔ نیت باندھتے ہی اسے مشہود کے واکر کی مدھم سی کھٹ کھٹ سنائی دی لیکن وہ نیت باندھ چکی تھی اس نے پوری قوت ارادی کو استعمال کرکے اپنا ذہن اپنے خالق حقیقی کی طرف موڑنے کی سعی کی۔ ایک طرح سے اپنے تمام تر ارادے کا محور اور مرکز اس ذات کو بنالیا جس کے سوا اسے اب کسی سے کوئی امید نہیں تھی۔
مشہود نے دور ہی دور سے جھانک لیا تھا کہ وہ نماز پڑھ رہی ہے۔ حالت عبادت میں دیکھ کر مشہود کے ذہن کے کچھ انگارے سے جھڑ گئے وہ جس موڈ میں بستر سے اٹھا تھا اب ذرا پُرسکون ہوکر واپس پلٹ گیا۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر اپنے بیڈ پر بیٹھنے کی بجائے صوفے پر بیٹھ گیا‘ واکر ایک طرف سرکادی۔
حقیقت تو یہ تھی کہ اس نے بھرپور ردعمل کا مظاہرہ ضرور کیا تھا لیکن اس کے اپنے دل کو بھی ایک پل چین نہیں تھا۔ صوفے کی پشت سے کمر ٹکا کر اس نے آنکھیں موند لیں تو پھر اسے وہی بہار کا پھول اپنے آس پاس کھلا ہوا محسوس ہونے لگا‘ وہ جس نے ایک لمحے کی نیکی کی قیمت عمر قید کی سزا کی صورت قبول کی تھی۔

ایک زندہ انسان کتنی دیر قبر میں رہ سکتا ہے اگر سچ مچ وہ کوٹھڑی قبر ہی تھی تو یہی امکان پیدا ہورہا تھا کہ شاید کچھ دیر بعد یہ کوٹھڑی سچ مچ قبر ہی بن جائے اور شاید کسی وقت میں کوئی بھاری سی زنجیر گرا کر کوٹھڑی میں جھانکے تو وہاں اسے ایک لاش نظر آئے اس تصور سے وہ تھرا اٹھا تھا۔ ابھی وہ زندہ ہے جان بچانے کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے آخر وہ آخری دائو کیوں نہ کھیل جائے جس میں زندہ بچ جانے کے امکانات موت کے امکانات کے ساتھ ساتھ تو چل رہے ہیں۔
رات گزر گئی تھی دن چڑھ آیا تھا اور سورج اس مکان میں اس زاویے سے اترتا تھا کے پورا صحن سورج نکلتے ہی روشنی سے بھرجاتا تھا اسے بھی کوٹھڑی کے دروازے کے نیچے بال برابر چوکھٹ سے اونچے دروازے کے نیچے سے جھانکتی روشنی سے پتا چلا کہ دن چڑھ گیا ہے۔
اس نے ساری رات بیٹھ کر گزار دی تھی آہٹوں پر کان لگے ہوئے تھے پسینے سے اسی طرح سے بھیگا ہوا تھا لیکن جان بچانے کی لگن نے ان تمام حواسوں کو یک جان کردیا تھا جن حواسوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ اسے موت سے پہلے مرنے سے بچالیں گا۔ وہ تمام اہلیتیں جو عام حالات میں کہیں سر منہ لپیٹ کر پڑی ہوتی ہیں۔ زندگی بچانے کے عمل کے لیے ہر طرف سے‘ وحشت زدہ بھاگتی ہوئی مدد کرنے کے لیے آجاتی ہیں۔ دماغ کا ایک ایک خلیہ چارج ہوجاتا ہے‘ روح اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ آخری معرکہ لڑنے کے لیے میدان میں اترتی ہے۔
جیسے ہی اس نے گھر سے ہیوی وہیکل باہر جانے کی آواز سنی اور ساتھ ہی اندازہ ہوا کے پھاٹک بند ہوگیا تو کئی گھنٹے گزارنے والے مشہود کے لیے ایک پل گزارنا مشکل ہوگیا۔ اس نے دروازے کو نظروں ہی نظروں میں تولنا شروع کیا‘ وہ کتنی ضربوں سے الگ ہوسکتا ہے۔ دروازے کی طرف وہ یوں تک رہا تھا جیسے قصائی جانور لٹا کر ایک نظر چھری کی طرف اور دوسری اپنے نشانے کی طرف کرتا ہے اور نرخرے پر چھری کا زاویہ خیال ہی خیال میں طے کرتا ہے چھری بعد میں رکھتا ہے۔ اس نے اپنے دونوں کندھوں کو دبا کر چھوا جیسے اپنے آپ کو یقین دلارہا ہو کہ دروازہ توڑنے کے لیے ان کندھوں میں کافی دم ہے پھر اس نے اپنے پیروں کی طرف دیکھا وہ جنگلوں‘ بیابانوں میں دوڑتا پھرا تھا اور یہاں پر بھی اسے بھوکا نہیں مارا گیا تھا۔ خالص گندم کی روٹی کچے پکے سالن کے ساتھ اسے کھانے کو ملتی ہی تھی‘ غذائی قلت کا شکار نہیں تھا دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھانے کی وجہ سے آج بھی اس کے اندر توانائی موجود تھی کہ وہ اپنی جسمانی قوت سے کوئی بڑا کام انجام دے سکے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جان بچانے کا جذبہ‘ اس میں خود اتنی قوت ہوتی ہے کہ انسان زمین کے کرے کو اپنی ہتھیلی پر اٹھانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ جان بچانے کی آخری کوشش کرنے کے دوران کوئی کام نہ مشکل لگتا ہے اور نہ ناممکن۔
پانچ سات منٹ انتظار کرنے کے بعد اس نے آخرکار خطرہ مول لے ہی لیا۔ پہلے اس نے دروازے کو دونوں ہاتھوں سے جھنجھوڑا اس کی چولوں کا چوکھٹ کی مضبوطی کا اندازہ کیا یہ جان کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ دروازہ بیسویں صدی کے گواہوں میں سے ایک گواہ تھا اور اکیسویں صدی میں باحالت مجبوری سفر کررہا تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ دونوں پٹوں کو ہلانا شروع کیا زور زور سے جھٹکے دینا شروع کیے‘ ساتھ ساتھ وہ دروازے کی دائیں بائیں اندازہ کررہا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے کتنا ہل سکا ہے یا اس میں کتنی کمزوری واقع ہوئی ہے تو اسے اندازہ ہوگیا کہ دروازے کو وہ لرزا دینے میں اور کہیں کہیں سے جگہ چھوڑ دینے میں کامیاب ہوچکا ہے۔
اتنی معمولی سی کامیابی کی جھلک دیکھ کر اس کے کمزور جذبے میں وہ طاقت پیدا ہوئی جو برقی رو بن کر اس کے ہاتھوں میں دوڑنے لگی۔ اس نے دونوں ٹانگوں اور دونوں کندھوں کا بھرپور استعمال کیا یہاں تک کہ دروازہ گرنے کے قریب ہوگیا مگر گرا نہیں۔ وہ کہیں کسی جگہ سے مضبوطی سے گڑھا ہوا تھا اس نے سوچا کہ وہ اب آخری ضرب کاری لگائے گا۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ آخری ضرب کاری اس کی نجات کا اعلان ہوگی مگر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ضرب کاری لگانے سے پہلے دروازہ کھل گیا۔
خوف سے مشہود دو قدم پیچھے ہٹ گیا اسے یوں لگا کہ دروازہ کھلتے ہی فائر کی آواز فضا میں گونجنے گی۔ رات بھر کی مشقت اور تھوڑی دیر پہلے تک کی قسمت آزمائی سب ضائع چلی جائے گی مگر سامنے تو ایک بہت بوڑھی عورت اس کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ مشہود کی جان میں جان آئی‘ اسے یہ تو پتا تھا کہ اس وحشی کی طرح یہ عورت بھی زبان نہیں سمجھ پائے گی اسے اور تو کچھ نہ سوجھا اس نے جھٹ ہاتھ اٹھا کر فوجی اسٹائل میں اسے سلوٹ کردیا۔ عورت دو قدم پیچھے ہٹ گئی اب اس کی آنکھوں میں حیرت کی بجائے خوف تھا۔ مشہود نے اس عورت کی طرف دیکھا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر گویا اس سے رحم کی درخواست کی اپنا سر اس کے سامنے جھکا دیا۔
عورت اس عمل سے مطمئن نہیں ہوئی چند لمحے تو وہ اس کی طرف گھورتی رہی پھر ایک دم زوردار چیخ مارتی ہوئی بھاگتی ہوئی گھر کے ایک حصے کی طرف غائب ہوگئی۔

گھر کے گہرے سناٹے میں گونجتی ہوئی کال بیل یوں لگی جیسے آناً فاناً حشر برپا ہوگیا ہو۔ پیاری سلام پھیر چکی تھی اور کافی دیر سے سجدے کی حالت میں دعا میں مصروف تھی‘ سجدے کی جگہ اس کے آنسوئوں سے بھیگ چکی تھی۔ اس وقت وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد اپنے اس سچے ساتھی سے ہمکلام تھی جو گھپ اندھیرے میں اس کے لیے واحد ایک روشنی کی کرن تھا جو اسے دلاسہ بھی دیتا اور اچھے امکانات کے اشارے بھی۔
مشہود نے بے قراری سے پہلو بدلا تھا‘ اس نے ایک الیکٹریشن کو صبح فون کیا تھا کہ وہ گھر میں ایک مکمل انٹرکام سسٹم فٹ کردے اور گیٹ کھولنے کے لیے یا آنے والے کے بارے میں معلومات لینے کے لیے اپنے کمرے ہی سے بات چیت کرسکے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ پیاری گیٹ تک جائے گی پھر واپس آکر اسے بتائے گی کہ جسے اس نے بلایا تھا وہ آگیا ہے۔
پیاری نے ہی اپنی دعا ادھوری چھوڑ کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا کیونکہ کال بیل وقفے وقفے سے بج رہی تھی۔ وہ جاء نماز اٹھائے بغیر ننگے پائوں باہر کی طرف دوڑی اور گیٹ کے پیچھے سے آنے والے کو مخاطب کیا۔
جی آپ کون؟ دل دھڑکا یوں لگا جیسے آواز آئے گی۔
پیاری گیٹ کھولو میں دانیال ہوں۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
بی بی مجھے مشہود بھائی نے بلاویا تھا میں الیکٹریشن ہوں۔ پیاری نے اب ایک گہرا سکون کا سانس لے کر خود کو سنبھالا اور آہستگی سے کہا۔
جی ایک منٹ آپ رکیے میں بھائی کو بتاتی ہوں۔ کیونکہ جس قیامت خیز معرکے سے وہ گزر کر آئی تھی اب اسے کسی کی کہی ہوئی بات پر اتنی آسانی سے یقین نہیں آسکتا تھا۔ اسے یوں لگا جیسے کوئی وارداتیا بھیس بدل کر آیا ہو یہ کہہ کر وہ تیز تیز چلتی ہوئی مشہود کے کمرے تک آئی تھی۔ مشہود بھی جیسے اس کی آمد کا منتظر تھا اس نے پیاری کی طرف دیکھا مگر سوال کچھ نہیں کیا۔
بھائی وہ اکرم الیکٹریشن آیا ہے۔
ہاں ہاں گیٹ کھول دو‘ اسے میرے پاس بھیج دو۔ مشہود نے اپنی دانست میں خاصی نرمی سے اس مرتبہ بات کی تھی۔ پیاری الٹے پائوں واپس لوٹ گئی اس نے لپیٹا ہوا دوپٹہ نئے سرے سے اپنے سر پر درست کیا۔ اس انداز میں گیٹ کھولا کہ آنے والا فوراً اس کو نہ دیکھ سکے۔ وہ گیٹ کھولتے ہی گیٹ کے پیچھے کھڑی ہوگئی تھی۔
اکرم الیکٹریشن اندر داخل ہوکر رک گیا کیونکہ اب اسے آگے بڑھنے کے لیے پیاری کی راہنمائی کی ضرورت تھی پیاری نے گیٹ بند کیا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے آگے بڑھنے کے لیے کہا۔ وہ آگے چل پڑا پیاری اس کے پیچھے پیچھے تھی‘ لائونج میں داخل ہوکر پیاری نے مشہود کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
بھائی وہاں ہیں۔ الیکٹریشن ایک بھائی کی بہن پر نظر ڈالنا ایک نہایت غیر اخلاقی عمل سمجھتا تھا کہ جب گھر میں بھائی ہو تو اس کی بہن کو بھائی کی نظر سے دیکھنے میں عافیت ہوتی ہے۔ بڑے مودبانہ انداز میں وہ پیاری کی طرف دیکھے بغیر مشہود کے کمرے میں داخل ہوگیا۔ پیاری کا کام تمام ہوا وہ واپس اپنے کمرے میں آگئی۔
تھوڑی دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ مشہود اپنی واکر کے ساتھ اپنے کمرے سے باہر آیا ہے۔ وہ ایک دم مستعد ہوکر بیٹھ گئی اور واکر کی کھٹ کھٹ سے مشہود کی سمت کا اندازہ لگانے لگی اور اگلے ہی لمحے اسے ہڑبڑا کر کھڑا ہونا پڑا کہ مشہود اس کے کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔
جی بھائی اب تو مشہود سے بات کرنا ایسا لگتا تھا کہ جیسے کے بس آگے سے کوئی بہت سخت حکم آئے گا اور شاید یہ کہ تم مرتی کیوں نہیں‘ کسی طرح سے مر جائو کہ میری جان چھوٹے۔ بس ایسے ہی کسی بے رحم جملے کے لیے اس کے کان کھڑے رہتے تھے۔ اسے رتی برابر خوشی فہمی نہیں تھی کہ کسی وقت مشہود اس کے قریب آکر اپنے رویے پر معذرت چاہے گا اپنی بدگمانی پر نادم ہوگا۔ اس کی دل آزاری کرنے پر شرمندہ ہوگا۔
وہ دیکھو‘ بوا کے کمرے میں جائو اور جو ان کی بیڈ کا بکس ہے اسے کھولو ایک بلیو کلر کا تکیے کا غلاف ہے۔ اس کے اندر کچھ کیش ہے اس میں سے بیس ہزار روپے نکال کر لائو۔ مشہود سپاٹ چہرے اور سرد آواز میں بولتا ہوا واپس پلٹ گیا۔ ایک لمحے کے لیے تو پیاری ہکابکا اور پتھر سی بنی اپنی جگہ کھڑی رہ گئی۔ بوا کے کمرے میں کیش رکھا ہوا ہے‘ وہ اتنی صفائیاں‘ ستھرائیاں کرتی پھرتی ہے آج تک اسے یہ بھی نہیں پتا کہ بوا کے کمرے میں کیش بھی رکھا ہوا ہے یہ مشہود نے کب رکھا ہوگا۔
سوال تو ذہن میں آیا لیکن اس سے سوال کر نہیں سکتی تھی سو اس کا حکم بجا لانے کے لیے بوا کے کمرے کی طرف چل دی۔ بوا کا کمرہ ان کے جانے کے بعد بھی اس انداز میں ترتیب دیا ہوا تھا اور صفائی ستھرائی بھی کی جاتی تھی وہ اس وقت بھی اسی حالت میں تھا۔ ماسی روز گھر کی صفائی کے ساتھ بوا کا کمرہ بھی صاف کیا کرتی تھی بالکل اسی طرح جیسے کے وہ ان کی زندگی میں صاف کیا جاتا تھا۔
پیاری بیڈ کے قریب آئی سرہانے لگا بکس کھولا اس میں بوا کی بہت سی یادگار چیزیں موجود تھیں۔ برسہا برس پرانی ہاتھ کی کڑھی ہوئی چادریں تکیے سر پوش میز کے غلاف اور کروشیئے سے بنے ہوئے گلاس اور کپوں کو ڈھانکنے والے کور جو انہوں نے ایک تھیلی میں جمع کرکے یوں سینت کر رکھے ہوئے تھے جیسے کوہِ نور ہیرے سنبھال رکھے ہوں۔
بکس کا ڈھکن اٹھتے ہی پورے کمرے میں بوا کے وجود کی خوشبو پھیل گئی۔ شاید بھائی نے کبھی بوا کو پیسے سنبھال کر رکھنے کے لیے دیئے ہوں گے لیکن ان کو یہ کیسے پتا کے بوا نے وہ پیسے کیسے رکھے ہوں گے نیلے تکیے کے غلاف میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ پیسے مشہود نے خود رکھے تھے شاید جو اس وقت شہر کے حالات ہیں ان کے مدنظر مشہود نے حفظ ماتقدم کے طور پر کیش یہاں چھپا کر رکھ چھوڑا ہو۔
عموماً گھروں میں تھوڑے بہت پیسے تو رکھے ہی جاتے ہیں۔ تھوڑے تھوڑے کاموں کے لیے کون بینک کی طرف دوڑ لگاتا ہے۔ وہ سوچتے ہوئے چادروں تکیوں میں نیلے تکیے کا غلاف تلاش کرنے لگی جو اس کے ہاتھ نہ آیا تو مجبوراً اسے بہت ساری چیزیں بکس سے باہر نکال کر بیڈ پر ڈھیر کرنا پڑیں اور اسی ڈھیر کے اندر اسے نیلا غلاف جھانکتا ہوا نظر آگیا۔ اس نے غلاف کھولا تو اس میں ہزار ہزار اور پانچ پانچ ہزار کے کافی سارے نوٹ دکھے‘ اس نے چھوٹوں نوٹوں کی بجائے پانچ ہزار کے چار نوٹ اس میں سے نکال لیے اور غلاف کو دوبارہ سے لپیٹ کر بکس میں رکھا اور پھر باہر نکالی ہوئی ساری چیزیں اسی طرح سے بکس میں جمادیں‘ ڈھکن بند کیا بیس ہزار روپے لے کر باہر آگئی۔ مشہود کے کمرے کے قریب جانے کی بجائے اس نے لائونج کے درمیان سے ہی مشہود کو آواز دی۔
بھائی مشہود شاید اس کی آواز کا ہی منتظر تھا واکر کے سہارے فوراً ہی باہر آگیا۔ پیاری نے اس کی طرف ایک نگاہ بھی نہیں ڈالی بس ہاتھ بڑھا کر پیسے تھما دیئے۔
مشہود بیس ہزار روپے لے کر واپس کمرے میں چلا گیا اور پیاری پھر اپنے اس حجرے میں آگئی جو واقعی آج کل بیڈ روم کی بجائے ایک حجرے کا استعارہ بن گیا تھا۔

مانو آپا میں سچ کہہ رہی ہوں‘ اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں اور حیران بھی ہوں کہ یا اللہ مجھے کیا ہوگیا تھا میں نے اپنی اولاد کے ساتھ یہ سب کیا۔ رات کے کسی پہر مجھے خیال آتا ہے تو مانو آپا میرا تو دل چاہتا ہے کہ زہر کھا کر مر جائوں۔ سعدیہ بھرپور اداکاری کررہی تھیں۔ مانو آپا جیسی رقیق القلب عورت تو جیسے رو ہی پڑیں‘ جھٹ اپنی جگہ سے اٹھیں اور سعدیہ کا سر اپنے سینے سے لگالیا۔
ارے میری راج دلاری میری پیاری سی بھابی ارے تم تو میرے بھائی کے گھر کی رونق ہو‘ تمہارے ہی دم سے یہ گھر گھر کہلاتا ہے۔ صبح کا بھولا شام کو لوٹے تو اسے بھولا نہیں کہتے تم اپنے دل پر بوجھ نہ ڈالو میں تمہارے ساتھ جائوں گی اور ہم دونوں بچی کو یہاں لے کر آئیں گے کوئی بات نہیں جو کچھ ہوا بھول جائو۔ مانو آپا تو سعدیہ کا اعتراف جرم سن کر یوں لوٹ پوٹ ہوئیں کہ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سعدیہ کو گود میں اٹھالیں اور اس کا ماتھا چومنا شروع کردیں۔
آپا میں نے ساری زندگی آپ کے ساتھ زیادتی کی بس پتا نہیں کیا ہے مجھے شاید میرا بچپن ہی سے بی پی شوٹ کر جاتا ہے۔ کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا ہوگا آپ کو تو پتا ہے نا‘ جان بوجھ کر تو کوئی انسان نا گناہ کرنا چاہتا ہے نا غلطی۔ اب پتا نہیں کسی پر کیا گزرتی ہے بیتتی ہے اس کے اندر کیا بیماری ہوتی ہے جو وہ ایسی الٹی سیدھی حرکتیں کر جاتا ہے۔
ہاں ہاں سعدیہ میں کہہ رہی ہوں نا تم اپنے دل پر بوجھ مت لو جو ہوا سو ہوا۔ بھول جائو‘ ارے کوئی اتنی دیر تھوڑی ہوئی ہے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں بچوں کی شادی کو خیر سے‘ اللہ ان کو ہسنا بسنا نصیب کرے۔ اسی گھر میں پھلے پھولے گی ان شاء اللہ تمہارے سامنے‘ تمہارے پوتے پوتیاں کھیلیں گے۔ اللہ تمہارے گھر کو باغ و بہار کردے‘ آمین۔ بس کرو اب اور کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بتائو کے دانیال کہاں ہے‘ آخر اب یہ اس کا فرض ہے نا کہ وہ اپنی ماں کو وہاں لے کر جائے۔
ہاں میں نے اسے کہا تھا پھر اتفاق سے آپ سے بات ہوگئی میں نے سوچا یہ تو بہت ہی اچھا ہوگا کہ آپ بھی ساتھ ہوں گی۔ بس آپا ہم اسے آج ہی لے آئیں گے‘ آپ نے تو مجھے معاف کردیا نا۔ سعدیہ نے پھر عاجزی اور انکساری کا عظیم الشان مظاہرہ کرنا ضروری سمجھا‘ جسے مانو آپا سے اپنی سعادت مندی اور ندامت کی قبولیت کا سرٹیفکیٹ لے کر ہی اپنی جگہ سے اٹھیں۔
اچھا اب چھوڑو جاکر دانیال کو دیکھو‘ کیا کررہا ہے اسے کہو تیار ہوجائے۔ میں تو تیار ہوں بس عالی جاہ کو فون کرکے بتا دیتی ہوں کہ رات کو دیر سے گھر پہنچوں گی۔ بچی کو لے کر تمہارے ساتھ پہلے اس گھر آئوں گی اس بچی کو بٹھائوں گی پیار کروں گی‘ دعا دوں گی پھر اپنے گھر جائوں گی اور ہاں اپنے خانساماں سے کہو کوئی اچھا سا کھانا میرے لیے پکالے۔
اچھا سا کھانا آپ جو کہیں گی وہی پکالوں گی بتایئے کیا پکوائوں؟‘
ارے بھئی اتنا پرانا ساتھ ہے تمہارا اور میرا تمہیں پتا ہے جب میں اچھا سا کھانا کہتی ہوں تو کیا مطلب ہوتا ہے۔ مانو آپا کے دل کی کلی کھلی جارہی تھی‘ بات بات پر چہک رہی تھیں۔
آپ کا اچھا سا کھانا دال چاول ہوتا ہے یا کھڑے مصالحے کا قیمہ میں دونوں چیزیں تیار کرلیتی ہوں۔ سعدیہ اداکاری کے بہترین رزلٹ پر بڑی شاد باد نظر آرہی تھیں۔
ارے ہٹائو میں نے تو ویسے ہی تم سے مذاق کیا تھا جو پکا ہوگا کھالیں گے۔ مجھے تو خوشی اتنی ہورہی ہے کہ یوں سمجھو بولنا کچھ چاہتی ہوں منہ سے نکلتا کچھ ہے۔ اللہ تمہیں خوش رکھے صدا سہاگن رکھے‘ اللہ جوڑی سلامت رکھے۔ اللہ میرے بھائی کو نظر بد سے بچائے‘ آمین۔ وہ آنچل پھیلا کر دعا مانگنے لگیں سعدیہ دانیال کو دیکھنے کے لیے نکل کھڑی ہوئیں کہ وہ کیا کررہا ہے۔ دانیال کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے سوچ رہی تھیں اپنی پسند کی زندگی گزارنے کے لیے انسان کو کیا کچھ کرنا پڑتا ہے۔

پاپا آپ بالکل بھی ٹینس نہ ہوں‘ سچوئشن سو فیصد تبدیل ہوچکی ہے۔ آپ تصور نہیں کرسکتے۔ دانیال ڈرائیو کرتے ہوئے کمال فاروقی سے بات کررہا تھا جو دانیال کو بتا رہے تھے کہ یہاں ٹھیک ٹھاک سردی ہورہی ہے‘ میں تو ویسے ہی ہلکے پھلکے کپڑے لے کر چل پڑا تھا۔
وہ چترال کے ایک ریسٹ ہائوس میں چند دنوں کا جشن آزادی منانے کے لیے قیام پذیر تھے۔ دانیال سے روزانہ ہی بات ہوتی تھی‘ آج فلو میں مبتلا ہوئے تو تنہائی بہت محسوس ہونے لگی۔ گھر یاد آنے لگا‘ دانیال کو بھی محسوس ہوا کہ وہ اب اُکتا رہے ہیں اس لیے پہلی فرصت میں وہ بات کی جس سے ان کو تقویت پہنچے اور گھر آنا چاہتے ہوں تو ہلکے پھلکے ہوکر واپس آجائیں۔
مثلاً مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی‘ سچوئشن کس طرح تبدیل ہوچکی ہے ذرا وضاحت کرو۔ کمال فاروقی کو درحقیقت اچنبھا ہی ہوا تھا کہ چند دنوں میں کون سی جادو کی چھڑی گھر پر گھوم گئی۔
مجھے لگتا ہے آپ کے جانے کا ممی پر ٹھیک ٹھاک اثر ہوا ہے‘ اتنا زبردست چینج دیکھنے کو مل رہا ہے کہ میری حیرانی ختم نہیں ہورہی۔
رئیلی؟ کمال فاروقی کو اپنے کانوں پر جیسے یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ پینتیس سال میں نہ ساون سوکھا تھا نہ بھادوں ہرا تھا‘ چند دن میں کس نے کرامت دکھادی۔
سچی پاپا میں بالکل سیریس ہوں‘ آپ چاہیں تو آج ہی سیٹ کنفرم کرالیں اور خود آکر دیکھ لیں اور چاہیں تو اب بالکل ریلیس ہوکر انجوائے کریں ویسے بھی آپ یہاں آکر پہلے کی طرح روبوٹ بن جائیں گے۔ موقع ملا ہے تو تھوڑا سا گھوم پھر لیں‘ آپ کی صحت پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔ دانیال پُرخلوص انداز میں باپ کو مشوروں سے نوازنے لگا‘ باپ کی آواز سن کر اس کی اپنی طبیعت پر بہت مثبت اثر پڑا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے ڈپریشن سے نجات مل گئی تھی۔ کمال فاروقی نے اب کوئی واضح جواب نہ دیا اور رابطہ منقطع کردیا۔

دن کے دو تین بجے تک تو گھر گھر لگتا تھا‘ کپڑے دھونے والی ماسی آتی تھی‘ صفائی کرنے والی الگ آتی تھی۔ یہ دونوں ماسیاں بوا کی زندگی میں بھی اس گھر کی میں آکر کام کرتی تھیں اور بہت پرانی ماسیاں تھیں وہ اپنی عادت کے مطابق باتیں کرنے کی کوشش تو کرتی تھیں لیکن پیاری ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کرتی تھی ان کو احساس دلاتی تھی کہ مشہود اس وقت بیمار ہے۔ مریض ہے اس لیے وہ صرف اپنے کام سے کام رکھیں فالتو بات نہ کریں۔
ماسیوں کا ایسے ماحول میں دل تو بہت گھبراتا تھا جب پیٹ میں بہت شدید درد اٹھتا تھا۔ بات کیے بغیر رہا نہیں جاتا تھا تو تھوڑی دیر کے لیے پچھلی گلی میں جاکر اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے ایک طرح سے بریک لیتی تھیں پھر واپس آکر اپنے کاموں میں لگ جاتی تھیں۔ پیاری ان سے کوئی غیر ضروری بات نہیں کرتی تھی سوائے کام سمجھانے کے علاوہ۔
گیارہ بجے کے بعد فیکٹری کا منیجر آجاتا تھا اور تقریباً ظہر کی اذان تک اس کے ساتھ مصروف رہتا تھا۔ وہ منیجر مشہود نے آنے کے دو تین دن کے بعد ہی گھر بلانا شروع کردیا تھا جو اَب تک فیکٹری کے تمام معاملات سنبھال رہا تھا اور جس کی نگرانی دانیال کررہا تھا۔
اب دانیال منظر سے یکسر ہٹ چکا تھا اور معاملات پہلے کی طرح مشہود کے ہاتھ میں تھے لیکن ماسیوں اور منیجر کے جانے کے بعد ہوکا عالم ہوتا تھا۔ درختوں پر بیٹھے کوؤں کی کائیں کائیں سے اعصاب چٹخنے لگتے تھے۔
اکرم الیکٹریشن ہدایات لے کر واپس جاچکا تھا۔ پیاری جمشہود کے لیے شوربے والا سالن تیار کررہی تھی کہ معاً اسے خیال آیا کہ مشہود کی دوائیاں ختم ہورہی ہیں۔ صرف آج رات ہی کی میڈیسن ہوگی اور صبح ناشتے کے بعد بڑا مسئلہ ہوجائے گا۔ مشہود صبح ناشتا بھی جلدی کرتا تھا صرف میڈیسن لینے کی وجہ سے ورنہ معمول کے دنوں میں وہ دس بجے کے بعد ہی ناشتا کیا کرتا تھا۔ پیاری چولہے کی آنچ دھیمی کرکے پریشانی کی حالت میں مشہود کے کمرے میں آئی تھی۔
مشہود بیڈ پر چت لیٹا ہوا تھا آنکھیں چھت پر لگی ہوئی تھیں پیاری نے کھنکار کر اس کو متوجہ کیا۔ مشہود نے کالر لگا ہونے کی وجہ سے صرف نظریں گھما کر پیاری کی طرف دیکھا۔
بھائی وہ آپ کی آج رات ہی کی میڈیسن ہیں صبح کے لیے نہیں ہیں مجھے بھی خیال نہیں رہا‘ پھر مجھے یاد آیا کہ جب آپ نے دوپہر کو لی تھی تو صرف رات ہی کی ٹیبلٹ پڑی ہوئی تھی۔ صبح کے لیے میڈیسن لانا ہوگی آپ کہیں تو میں جاکر لے آتی ہوں۔ پیاری نے سہمے سہمے انداز میں بات کی تھی جس انداز میں بات کرنے پر مجبور کردیا تھے اسے تو ہر بات کرتے ہوئے ایک عجیب سا خوف آلیتا تھا کہ پتا نہیں مشہود کو کیا یاد آجائے اور وہ کس بات پر برسنے لگے۔ ایک عجیب سے خوف میں وہ آٹھ پہر مبتلا رہتی تھی۔
تمہیں میری میڈیسن کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ میں اسد کو ابھی فون کردیتا ہوں وہ صبح پہنچا دے گا۔ تم کیا سمجھتی ہو کہ میں تمہارا محتاج ہوگیا ہوں اور تم میری دوائی کا بندوبست نہیں کروگی تو میں بغیر دوائی کے ہی مر جائوں گا۔ میں وہاں نہیں مرا جہاں مجھے مرنا چاہیے تھا‘ زندہ آگیا ہوں تمہاری اصلی شکل دیکھنے کے لیے‘ چلی جائو یہاں سے۔ وہی ہوا جس کا پیاری کو ڈر تھا‘ مشہود شاید اس وقت شدید اسٹریس کی حالت میں تھا جب اس نے آکر میڈیسن کا ذکر شروع کردیا تھا۔
پیاری تو اس کی دھاڑ سن کر اتنی خوف زدہ ہوئی کہ چلنے کی بجائے سر پٹ دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں پہنچی اور سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر دل کو یوں سنبھالا جیسے وہ سینے کی دیواریں توڑتا ہوا باہر نکلا جارہا ہو۔

ہیں دانیال کہاں اور کب چلا گیا میں سوئی تو نہیں گھر میں ہی تو ہوں۔ سعدیہ دانیال کا کمرہ دیکھ کر واش روم کے خالی ہونے کا یقین کرکے واپس پلٹتے ہوئے حیرت سے سوچ رہی تھیں۔ باہر لائونج میں آکر بڑی سی اٹالین کھڑکی سے پورچ میں جھانکا وہاں دانیال کی کار نہیں تھی۔
اللہ میں کہاں تھی یہیں تو ہوں‘ یہ کب چلا گیا۔ وہ حیران پریشان سوچ رہی تھیں پھر ایک دم ان پر الجھن اور کوفت کی کیفیت طاری ہوگئی۔ سامنے ٹیبل پر ان کا سیل فون پڑا تھا‘ اسے اٹھایا اور دانیال کا نمبر ڈائل کرنے لگیں۔
بتائو کہیں جانا ہی تھا تو کم از کم بتاکر ہی جاتا۔ ابھی اتنی دیر تک مجھ سے باتیں کرتا رہا‘ مجھے تو نہیں بتایا کہ ابھی تھوڑی دیر بعد گھر سے باہر چلا جائے گا۔ وہ بڑبڑاتے ہوئے نمبر ڈائل کررہی تھیں۔
نمبر ڈائل کرکے انہوں نے سیل فون کان سے لگایا تو ہاتھ یوں نیچے آیا جیسے کہ بے جان ہوگیا ہو‘ خون کی گردش ہی رک گئی ہو کیونکہ دانیال کا نمبر بند جارہا تھا۔
گھر سے بھی چلا گیا اور فون بھی بند کیا ہوا ہے‘ اتنی اچھی طرح تو اس سے باتیں کیں اب کیا اسے گود میں لیے بیٹھی رہتی‘ بتائو اتنا سا بھی اثر نہیں ہوا میری کسی بات کا شاید اسے یقین نہیں آیا۔ کیا وہ مجھ پر شک تو نہیں کررہا۔ سعدیہ سوچنے لگیں۔
اکثر کثرت سے جھوٹ بولنے والوں کو ایسے وہم ستایا کرتے ہیں اب کیا کروں میں‘ مانو آپا بھی آگئی ہیں ان کو تو ویسے بھی آنے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔
ارے بھر پائے ہم ان کی محبت سے‘ ڈبل ڈیوٹی پر لگا دیا ہے ہمیں نا اتنی محبت بھری ہوتی نا مجھے آج ان مصیبتوں کو بھگتنا پڑتا۔ اب ان کو مانو آپا پر اسی طرح سے غصہ آنے لگا جس طرح سے اکثر آتا تھا۔
اب کیا کہوں بڑی بی کو اب ایک دم سے موڈ بدل کر تو بات نہیں کرسکتی شاید انہوں نے گھر دیکھا ہوگا اس کا‘ میں کہتی ہوں چلو ہم دونوں ہی چلتے ہیں۔ سعدیہ کا دماغ اب تیزی سے کام کرنے لگا ان کو بہت کچھ کرنا تھا ان کو اپنا من چاہا نتیجہ چاہیے تھا جس کے لیے بظاہر ان میں بہت سکون نظر آرہا تھا لیکن دل بے صبری کی حدود پھلانگ رہا تھا وہ خود کو سنبھالتی دھیرج پائوں دھرتی پھر دوبارہ مانو آپا کے پاس آکر بیٹھ گئیں جو اوپر ٹیرس میں چائے کے ساتھ بھنے ہوئے کاجو بادام بھی کھا رہی تھیں۔
ان کے بہت مزے ہیں جہاں بیٹھتی ہیں وہیں کھانے کو مل جاتا ہے۔ کام تو کوئی ہے نہیں‘ ایک بچہ پال کر دنیا پر احسان کردیا اب بنی پھرتی ہیں عبدالستار ایدھی کی طرح خدمت گار لوگوں کی فرصتیں ہیں۔ دانیال کی غیر موجودگی اور بنا بتائے چلے جانا ان کو اتنا کھل رہا تھا کہ وہ اپنی اصلی حالت میں پہنچی ہوئی تھیں۔ مانو آپا سے خوش اخلاقی سے بات کرنا انہیں دوبھر لگ رہا تھا لیکن کیا کریں گلے پڑی گھنٹی تو بجانا تھی خود ہی تو آنے کی دعوت دی تھی۔ ارے میں پوچھتی ہوں ان سے اگر وہ اس لڑکی کا گھر جانتی ہیں تو ہم دانیال کے بغیر بھی وہاں جاسکتے ہیں۔ بھائی کے ساتھ تو سلام دعا کرکے آئیں جس کی وجہ سے یہ سارے عذاب ہم بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے مانو آپا کی طرف قدم بڑھانے کی بجائے پلٹ کر ایک ٹھنڈا گلاس پانی پینا ضروری خیال کیا کیونکہ یہ ان کا تجربہ تھا کہ ٹھنڈا پانی پینے سے وقتی طور اعصاب پُرسکون ہوجاتے ہیں۔ پانی پینے کے بعد انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے ہونٹوں کو چیر کر مسکرانے کی ریہرسل کی پھر ذرا لہراتی ہوئی مانو آپا کے پاس چلی آئیں۔
مانو آپا میرا خیال ہے دانیال کو فیکٹری جانا پڑگیا ہے جب اسے فیکٹری جانا ہوتا ہے نا تبھی وہ لشتم پشتم بھگتا ہے اور اگر کسی سے ملنے جاتا ہے تو مجھے بتا کر جاتا ہے۔
ہائیں دانیال گھر میں نہیں‘ لو میں نے تو سوچا تھا اسے ساتھ لے کر پیاری کے گھر جائیں گے۔ مانو آپا کو چائے کے گھونٹ سے اچھو لگنے لگا۔
آپا آپ اس لڑکی کے گھر کبھی نہیں گئیں؟ سعدیہ نے وقت ضائع کیے بغیر اپنے مطلب کا سوال داغ دیا۔
ہاں ہاں جاچکی ہوں‘ دیکھا بھالا راستہ ہے کوئی مشکل جگہ پر نہیں ہے اس کا گھر۔ روڈ سے دو منٹ کی ڈرائیو بھی نہیں ہے۔
تو چھوڑیں دانیال کو میں اور آپ جاتے ہیں‘ مل کر آجاتے ہیں۔ کم از کم تھوڑا بچی خوش تو ہوجائے گی‘ اس کا بھی حوصلہ بڑھے گا۔
ہاں‘ اگر دانیال ساتھ چلتا تو اسے ہاتھ کے ہاتھ گھر لے آتے۔ ظاہر ہے شادی شدہ ہے کب تک وہاں رہے گی۔
لیکن آپ تو کہہ رہی ہیں کہ اس کے بھائی کی حالت بہت خراب ہے اگر ہم اسے لے آئے تو اس کے بھائی کا خیال کون کرے گا؟ سعدیہ نے فوراً کہا اور اسی لمحے مانو آپا کو خیال ہوا کہ سعدیہ اس وقت اپنے اوسان بحال رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے اوسان کھو رہی ہیں۔
ہاں یہ تو تم نے بڑے پتے کی بات کی‘ ہاں ظاہر سی بات ہے وہ بچی ایک دم سے اپنے بھائی کو چھوڑ کر کیسے نکل سکتی ہے لیکن چلو میں تم مل کر آجاتے ہیں کم از کم دونوں بہن بھائیوں کا حوصلہ تو بڑھے گا۔ اللہ اس کے بھائی کو اچھا کرے دیکھ کر آتے ہیں۔
چلیں میں تو تیار ہوں‘ ڈرائیور کو کہتی ہوں کہ گاڑی تیار کرے۔
ہاں ہاں میں نے بھی چائے ختم کرلی کہہ دو اپنے ڈرائیور کو۔ مانو آپا نے یہ کہہ کر جلدی جلدی دو تین گھونٹ بھرے اور کپ واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔
سعدیہ اپنی سانسوں کو درست کرتی ایک نیا لائحہ عمل تیار کرتیں نوکر کے پاس جارہی تھیں۔

اچانک چار پانچ لوگ آگئے تھے جن میں ایک فیکٹری کا منیجر بشیر احمد دوسرا مارکیٹنگ کا بندہ اویس تھا باقی تینوں سے وہ ناآشنا تھی۔ کمرے کا دروازہ ادھ کھلا تھا‘ وہ مشہود کے کمرے سے آنے والی آوازوں کو با آسانی سن سکتی تھی۔
آنے والوں نے سب سے پہلے تو مشہود کو بہت گرم جوشی سے مبارک باد دی تھی پھر مختلف قسم کے سوالات کرنے لگے تھے۔ مشہود بہت پُرسکون انداز میں ان کو جوابات دے رہا تھا۔ کسی کی ایک بات پر وہ ہلکا سا قہقہہ لگا کر بھی ہنسا تھا۔ ایک زمانے بعد مشہود کے ہنسنے کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تو وہ گنگ سی ہوگئی‘ اس طرح کے قہقہے تو اس گھر میں گونجتے رہتے تھے۔
پھر کیا ہوا کس کی نظر کھا گئی کس آسیب کا سایہ اس گھر پر محیط ہوگیا؟
مہمانوں کے لیے چائے یا ٹھنڈے کا بندوبست کرے؟ وہ شش و پنج میں پڑی ہوئی تھی۔ ایسا تو شاید پہلی بار ہورہا تھا کہ گھر آئے مہمانوں کے لیے مشہود کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں آئی تھیں۔
مجھے پورا یقین ہے شبیر کہ آپ نے سب کچھ بہت اچھی طرح سنبھالا ہوا ہے۔ آپ پہلے دن سے میرے ساتھ ہیں‘ آج پانچ سال ہونے کو آئے‘ آپ کو یاد ہے آپ کو پہلی سیلری پانچ ہزار روپے ملی تھی اور آج آپ ماشاء اللہ آٹھ ہزار ٹیکس کٹوا کر 95 ہزار لے رہے ہیں‘ کار بھی‘ فیول بھی کمپنی دیتی ہے۔ آپ نے میرے ساتھ جان لڑائی تو صلہ بھی مل رہا ہے۔ مشہود اپنے ایمپلائی کو سراہ رہا تھا۔ کتنے دنوں بعد اس نے مشہود کی بھرپور آواز سنی تھی۔
مشہود صاحب آپ کی حوصلہ افزائی اتنا متاثر کردیتی ہے کہ کام کرنے میں مزہ آتا ہے۔
یہ تو ہے‘ مشہود صاحب اور باسز کی طرح تعریف کرنے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتے۔ اب اویس نے بھی مشہود کی تعریف شروع کردی۔
میں ایک پروفیسر یعنی استاد کا بیٹا ہوں یہ عادت مجھے ورثے میں ملی ہے۔ استاد اگر اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی نہ کرے تو وہ بہترین رزلٹ نہیں دے سکتے۔ اب مشہود نے سارا کریڈٹ مرحوم باپ کو دے دیا تھا۔ باپ کا ذکر چھڑا تو پیاری نے گویا انہیں سامنے مجسم کھڑا پایا‘ اس کا دل چاہا آگے بڑھ کر ان کے سینے سے لگ جائے۔
ایک دل خراش خیال بجلی کی طرح کڑک کر حملہ آور ہوا کہ وہ تو یتیم بھی ہے اور یسیر بھی اور یہ بھی کہ آج کیوں اسے اتنی شدت سے احساس ہوا کہ وہ یتیم ہے۔ ماں باپ بھی نہیں‘ بوا بھی نہیں اور بھائی وہ تو سو غیروں سے بڑھ کر غیر بنا ہوا تھا۔
باپ کی شفیق و مہربان آوازیں چاروں طرف سے آنے لگیں‘ پیاری کو پیاری انہوں نے ہی تو کہنا شروع کیا تھا جو بعد میں اس کی عرفیت کے بجائے نام ہی ہوکر رہ گیا اس کی آنکھوں سے خاموش آنسو گرنے لگے۔
اس شخص کو مفلس کہا جاتا ہے جس کا ایک بھی پُرخلوص دوست نہ ہو اور جس کے ماں باپ بہت جلد جدا ہوجائیں گویا وہ تو مفلس ترین ہے‘ وہ جتنے آنسو پونچھ رہی تھی اس سے زیادہ گرنے لگتے تھے۔
جانے کتنی دیر وہ اپنے ماں باپ کو یاد کرکے روتی رہی‘ اب اس کا ذہن ماحول سے آزاد ہوکر عالم برزخ میں سیر کناں تھا۔ روح بے تابی سے اِدھر اُدھر جھانک کر ماں باپ کے دیدار کے لیے تڑپ رہی تھی۔ کتنا وقت گزرا‘ مشہود اور مہمانوں نے کیا کیا باتیں کیں اسے کچھ ہوش نہ رہا تھا مگر کال بیل کی گھنٹی جس کی دھن میں دھیما پن اور نغمگی تھی اسے دوبارہ دنیائے آب و گل کے قید خانے میں کھینچ لائی۔
وہ چہرہ صاف کرتی عجلت کے انداز میں باہر کی طرف بڑھی‘ مشہود کے کمرے میں کھلے دروازے سے بیٹھے ہوئے مہمان نظر آرہے تھے شاید وہ مشہود کو بھرپور کمپنی دینے کی نیت کرکے بیٹھے تھے۔
دانیال صاحب نے آپ کی غیر موجودگی میں سب کا بہت خیال رکھا‘ وہ صبح سے شام تک دو چکر ضرور لگاتے تھے۔ پیاری نے گزرتے ہوئے سنا۔ یہ نامانوس آواز تھی‘ پیاری نے پہلی بار سنا تھا مگر جو کچھ سنا اس سے دل کو عجیب سی تقویت پہنچی۔ دانیال کی تعریف ہورہی تھی یقینا مشہود پر کچھ تو اثر ہوگا۔
انسان کا اپنا بھی کوئی کنسرن بنتا ہو تو زیادہ ڈیوٹی فل ہوجاتا ہے۔ تعریف مسترد ہوگئی تھی نا اتفاقی کی نذر ہوگئی تھی۔ پیاری نے جواب سننے کے لیے ہی رفتار آہستہ کی تھی‘ جواب سننے کے بعد سوچ رہی تھی کاش نہ سنتی۔
کال بیل دوبارہ بج اٹھی تھی‘ آنے والے کا صبر کا پیمانہ غالباً لبریز ہوگیا تھا‘ دبا کر دو تین مرتبہ بجائی‘ رفتار دوڑ میں بدل گئی۔
ارے بیٹا گیٹ کھول کر دیکھو‘ کون کون ہے؟ مانو آپا کی خوش باش اور پُرجوش آواز سماعت سے ٹکرائی تو پیاری کی ٹانگیں لرزنے لگیں۔ وہ کسی صورت گوارہ نہ کرسکتی تھی کہ مشہود کے ہاتھوں مانو پھوپو کی معمولی سی بھی بے عزتی ہو۔ وہ اپنی محسنہ کے ساتھ یہ سب کچھ برداشت کر ہی نہیں سکتی تھی۔ گیٹ تو اس نے طوہاً کرہاً کھولا تھا مگر مانو پھوپو کے ساتھ سعدیہ کو کھڑا پاکر وہ سچ مچ بدحواس ہوگئی تھی۔ جس انداز اور لب ولہجے کے ساتھ اس نے سعدیہ کو ہسپتال میں دیکھا سنا تھا‘ قریب تھا دہشت سے غش کھا کر گر پڑتی مگر اس سے زیادہ حیرت انگیز معاملہ ہوگیا۔ مانو پھوپو سے پہلے سعدیہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا تھا۔
کیسی ہو میری جان؟ مانو آپا دیکھیں تو سہی بھائی کی پریشانی میں کس قدر کملا کر رہ گئی ہے۔ چہرہ اترا ہوا ہے۔ سعدیہ کے لہجے سے پیار شہد کی طرح ٹپک رہا تھا۔
ظاہر سی بات ہے‘ ماں جایا ہے۔ خون کا رشتہ ہے اور پھر آگے پیچھے ہے کون؟ دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر جیتے ہیں‘ اللہ کل جہاں کی بہنوں کے کلیجے اور آنکھیں ٹھنڈی رکھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ بے حساب سکھ دیکھیں‘ آمین۔ انہوں نے پیاری کا بازو تھام کر بڑی محبت سے اپنی طرف کھینچا اور گلے لگانے کے بعد اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ محبتوں کے وارفتہ عمل سے پیاری کو بڑی تقویت پہنچی‘ کھل کر سانس آنے لگا البتہ سعدیہ کی طرف سے جو حیرت انگیز عمل کا سلسلہ شروع ہوا تھا اس پر وہ ہنوز دم بخود سی تھی۔ سب سے پہلا اور بنیادی سوال جو ذہن میں ابھرا اس کا تعلق دانیال سے تھا۔
جب ماں اتنی اچھی بن کر ہوکر ملنے آرہی تھی تو وہ ساتھ کیوں نہیں آیا؟ اور فوراً ہی ایک قسم کی حواس باختگی بھی غالب آگئی جو شاید اس سوال کا جواب تھی شاید بھائی کی وجہ سے۔ جو کچھ مشہود نے دانیال سے کہا تھا اس کے بعد تو دانیال کو اس طرف آتے ہوئے سو بار سوچنا تھا۔
آیئے پلیز معاً اسے خیال آیا کہ وہ ابھی تک انہیں گیٹ پر روکے ہوئے ہے‘ قدرے خجالت آمیز انداز میں گویا ہوئی۔ مانو پھوپو کے دیکھے بھالے راستے تھے وہ تو خود کار انداز میں چل پڑیں‘ سعدیہ کو ان کی تقلید کرنا تھی پیاری گیٹ کا ذیلی پٹ بند کررہی تھی۔ اس کے لائونج میں پہنچنے سے پہلے مانو سعدیہ کو لے کر وسیع لائونج کے مرکز تک جاپہنچی تھیں۔
پیاری تیز رفتار ہوکر ان تک پہنچی‘ مانو آپا متجسس انداز میں مشہود کے کمرے کی طرف دیکھ رہی تھیں جہاں کچھ لوگ بیٹھے دکھائی دے رہے تھے۔
خیر سے گھر میں مہمان آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پیاری کی طرف دیکھا۔
جی بھائی کی فیکٹری کے منیجر اور دیگر لوگ آئے ہوئے ہیں۔ وہ آواز دبا کر بولی اب دل انجانے اندیشوں سے لرزنے لگا تھا۔
آج زندگی کی اہم ترین کامیابی سامنے آئی تھی‘ اس کے محبوب کی ناراض ماں آج اسے قبول کرنے آن پہنچی تھی مگر اس خوشی پر خوف و اندیشوں کے سائے عفریت کی طرح منڈلا رہے تھے۔ خوشی کا خیال تو تھا احساس نہیں اور پھر یہ کہ جانے کس لمحے مشہود وارد ہوجائے اور منظر نامہ یکسر تبدیل ہوجائے۔
پھوپو آیئے ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہیں۔ وہ شاید لاشعوری طور پر دونوں کو مشہود سے چھپانے کی کوشش کررہی تھی۔
ارے ہم ڈرائنگ روم والے مہمان نہیں ہیں‘ گھر
والے ہیں ادھر ہی بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے مانو پھوپو مخملی صوفے میں دھنس گئیں‘ تو سعدیہ کو بھی بیٹھنا پڑا حالانکہ دنیا پرست ہونے کے ناطے ان کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ ڈرائنگ روم بھی دیکھ لیں جیسے لڑکی کا سلیقہ دیکھنے کی آرزو بھی مچلی جاتی ہو حالانکہ اب تو نور جہاں کے کبوتر اڑ چکے تھے۔ ڈرائنگ روم اسٹور کی شکل میں بھی نظر آتا تو کیا کرلیتیں؟
چائے یا ٹھنڈا؟ پھوپو کوئی تکلف نہیں کیجیے گا۔ پیاری نرم آواز میں مانو پھوپو سے مخاطب ہوئی مگر نظر سعدیہ پر تھی جو بیٹھتے ہی لائونج میں سجی آرائشی اشیاء کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے گاہے بگاہے مشہود کے کمرے کی طرف بھی دیکھ لیتی تھیں۔ مشہود بھی شاید دیکھ کر کہ گھر میں مہمان خواتین آئی ہیں‘ بہت محتاط اور آہستہ آواز میں مہمانوں سے بات کررہا تھا۔
تم ابھی آرام سے یہاں اپنی ساس کے پاس بیٹھو‘ یہ چائے پانی تو چلتے رہتے ہیں۔ مانو پھوپو نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے اور سعدیہ کے درمیان بٹھالیا۔ سعدیہ نے پھر پیاری کو اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر خود سے قریب کرلیا گویا مارے محبت کے ادھ موئی ہوئی جاتی ہوں۔
پیاری کے اندر سے اٹھنے والی ہر خوشی کی لہر‘ اندیشوں کے سمندر میں جا گرتی تھی اسی لمحے مشہود کے مہمان خدا حافظ کی صدائوں کے ساتھ اس کے کمرے سے باہر آگئے تھے۔ مشہود کی واکر کی ہلکی سی کھٹ کھٹ بھی ساتھ سنائی دے رہی تھی۔
مہمانوں نے لائونج میں بیٹھی خواتین کو براہ راست دیکھے بغیر مؤدبانہ سلام عرض کیا اور تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گئے۔ مشہود مانو پھوپو کو دیکھ کر آگے بڑھتے بڑھتے رک گیا تھا‘ وہ ششدر سا تینوں کی طرف دیکھنے لگا۔ پیاری کے دانتوں تلے پسینہ آنے لگا۔ مانو پھوپو حیرت سے پتھر ہوئی جاتی تھیں کہ مشہود کو کیا ہوا کہ سلام ہی کرنا بھول گیا۔

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close