Aanchal Jan-17

سال نو کی بہار

سعیدہ نثار

٭ سال نو کی آمد پر آپ کے کیا احساسات ہوتے ہیں؟

٭ اس سال کوئی ایسی بڑی کامیابی جس نے آپ کے قدم چومے جو آپ کی توقع سے بڑھ کر ثابت ہوئی؟

٭ 2016ء سے جو آپ کو امیدیں تھیں وہ سب پوری ہوئیں یا کچھ ادھوری رہیں؟ وہ کون سے کام ہیں جو ادھورے رہے اور آئندہ سال 2017ء پر موقوف ہوئے؟

٭ اس سال کس مصنفہ نے آپ کو متاثر کیا؟

٭ کس مصنفہ کی تحریر نے آپ کو ہنسنے پر مجبور کیا؟

٭ 2017ء میں کون سی مصنفین کے مکمل ناول پڑھنا چاہتی ہیں؟

٭ 2017ء میں آنچل میں کیا تبدیلی دیکھنا چاہتی ہیں؟

٭ سال کے اختتام پر زندگی سے ایک سال منہا ہونے اور کاسۂ عمل کے خالی ہونے پر آپ کی کیاسوچ ہوتی ہے؟

٭ 2016ء کی خوب صورت یادیں جو آپ قارئین سے شیئر کرنا چاہیں؟

٭…٭…٭…٭

 

حراقریشی… ملتان

 2017 ء کی آمد پر عزیزی آنچل کی نذر

قلب و روح پر اک سرمست خوشی طاری ہے

تجھ سے ملنے کی خوشی ایسے ہم پر واری ہے

سحر چہرہ دل میں یہ کون خوشنما اتر آیا ہے

دسمبر کی ٹھنڈی دھوپ نکلی ہے احساس فرحت حاوی ہے

آج دل تجھ سے مل کر اس قدر خوش ہے

وقت شب تاروں نے کی جیسے چاند پر سواری ہے

تیرے بدن سے پھوٹتی ہیں گلاب ہا محبت کی خوشبوئیں

جیسے بڑے جذب سے محبوب کو یاد کرتی کنواری ہے

طلسمی رنگ پھول اک نئی دنیا کھلا رہے ہیں

میرے اندر یہ کیسی خوشبو تو نے اتاری ہے

سیراب کر رہا ہے وہ مجھے بادلوں کے رستے سے

جیسے بارش کے بعد روح کی ہوتی آبیاری ہے

بہاروں کے رخ پر یوں بیٹھ گئی ہیں طائر محبت

محبت سے جیسے حرا کی برسوں سے یاری ہے

 

 

سال نو کی آمد پر احساسات

کیا کبھی آئینے میں چاند کو اترتے دیکھا ہے آپ نے کیا کبھی قبل ازبہار پیڑوں کی شادابی پر پل بھر کے لیے بھی غور کیا ہے آپ نے کیا کبھی مسرت اثر حدت سے قلب و روح کے جگمگا اٹھنے کی کیفیت سے آپ گزرے ہیں کیا کبھی قبل از طلوع آفتاب شفق کی سرخی کا ذائقہ محسوس کیا ہے آپ نے کیا کبھی کسی طرب آمیز گیت کی گلابی ہونٹوں پر سرسراہٹ محسوس کی ہے آپ نے اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو بلاشبہ آپ نے سال نو کے آغاز پر ہونے والی لامحدود خوشی کو بھی محسوس کیا ہو گا وگرنہ ان میں سے کوئی نہ کوئی کیفیت تو آپ کے دل میں یقینا اتری ہو گی کسی الہام کی طرح بس کچھ ایسے ہی سال نو رخ روشن پر تازگی سی بخش دیتا ہے جیسے مہ کو کوئی سحاب یکدم چھو کر گزر جاتا ہے اور جیسے روح کے اندر تلک روشنی کے سے گنبد بنتے چلے جاتے ہیں اور جیسے خنک پرور ہوا بارش کے قطروں کو اپنے اندر اتارتی سانس اور جیسے جب جب عزیزی آنچل سے حرا بات کرتی ہے!

۲) اس برس تو ایسی بہت سی کامیابیاں ملیں جو توقع سے بڑھ کر ثابت ہوئیں ان میں سرفہرست سوشل میڈیا آن لائن مقابلہ جات میں حرا کی داد طلب کارکردگی ہے ابھی بھی حال ہی میں ہونے والے شاعری مقابلے میں آن لائن اجالا کے توسط نمایاں کارکردگی پر خوب داد سمیٹی آپ کے ذوق نظر پر جو گراں نہ گزرے تو یہ وہ غزل ہے جو فاتح ٹھہری آپ بھی پڑھیں۔

 

سکوت تیرہ شبی کی ترجمانی تھا

وجود اس کا فطرت وجدانی تھا

کورے کاغذ کی طرح پھینکا تھا

جو خط محبوب کی نشانی تھا

دور کہیں نمکین پہاڑی جھیلوں میں

وہ شخص پتھروں کی کہانی تھا

میرے لفظ پڑھتے رو دیتا تھا

بحر محبت کا برستا پانی تھا

سلگتا رہتا تھا خیالوں کی طرح

بپھرتی موسموں کی طغیانی تھا

بھید بھری خاموشی کے عالم میں

یادوں کی رات سہانی تھا

منزل کا بھرپور یقین تھا

مشکل میں بھی وہ آسانی تھا

دھیان اس کا صورت بحرانی تھا

وجود اس کا پانی پانی تھا

سماعتوں کو جھنجوڑتا وہ ساحر حرا

آنکھوں کی دل کش کہانی تھا

 

جسے پڑھ کر محترم سر محمود ظفر اقبال ہاشمی نے کہا اوج کمال!رفعت تخیل!بہت خوب حرا۔

۳) حق ہا! کیا پوچھ لیا صاحب من حرا سے سچ ناول لکھنے کی بڑی خواہش تھی تگ و دو بھی بہت کی مگر فاختہ جیسی سبک رفتاری کی لپیٹ میں رہے عقاب کی وسیع پرواز کو بس دور دور سے تاڑتے رہے کوئی نہیں یار قلبی نے ایک عزم صمیم کیا تو ہے کیا معلوم 2017 ء میں اس پر قبولیت کی مہر لگ جائے اور پھر وہ دن بھی آئے گا اور عزیزی آنچل ہمیں جگائے گا یوں

وہ دن بھی آئے کہ خوشبو سے میری آنکھ کھولی

اور ایک رنگ حقیقت میں چھو رہا تھا مجھے

اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آنے والا برس اس یارمن سے ملا دے جس کی یاد سے بلا وجہ بے سبب دل بہلتا رہتا ہے کیا سمجھے؟ بس جب بھی وقت آئے رب سوہنا خیر کی گھڑی لائے آمین!

۴) یہ بھی کوئی سوچنے والی بات ہے یہاں سرفہرست رفعت سراج نگہت عبداللہ کو رکھتے ہیں ہم۔

۵) فاخرہ گل اور صائمہ قریشی کی اکثر تحریریں مسکراہٹ کی آبشار بن کر اترتی رہیں(کون جانے کیا پتہ اگلے برس مزاح میں زیادہ نہیں تو تھوڑا حصہ ہم بھی ڈال دیں)

وہ جب بھی ہنستی کھلکھلا کر اکثرگنگناتی کئی بارشیں میرے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

۶) نیلم شہزادی کا نگہت سیما کا بنت سحر کا ام مریم کاثریا انجم کاثمینہ عظمت کانزہت آپی کاحیا بخاری کااور اور اور بھئی حراقریشی کا بھی۔

۷) تبدیلی؟ بالکل ایک ایسے سلسلے کے آغاز کی صورت کہ جس میں مرحوم و معروف مصنفین کی تحریروں پر اظہار خیال کیا جائے اور ایک بہترین تبصرے کی صورت تحریر کا لب لباب قارئین کے سامنے رکھ دیا جائے مصنفین کا بھی کوئی منفرد سروے ہو تو لطف کا مزہ دوبالا ہو جا گاجیسے یخ بستہ رت میں کڑک دار بھاپ اڑاتا چائے کا کپ۔

۸)کاسئہ عمل؟ جو کوتاہیاں ہوئیں ان سے احتراز برتا جائے جو لغزشوں کی ہوا چلی انہیں بیتے لمحوں کے غبار میں سپرد خاک کر دیا جائے آدھے ادھورے کاموں کو تکمیل کی سیڑھی پر قدم بڑھانے کے لیے ہموار کیا جائے شب کی دہلیز پرکھڑے ایستادہ خوابوں کو تعبیر کی دستکیں سنا دی جائیں مسرتوں کے سکوں سے اس کا دل بھی بھر دیا جائے جو کاسہ کشکول لیے برہنہ پا سرد شاہراہوں پر ایک روٹی کے ٹکڑے کے لیے دن سے رات کر دیتی ہے۔

فکر و افکار کے باب تو ہیں بہت

بچپن میں جیسے بچے کے خواب بہت

۹) خوب صورت یادیں؟ آہا! ان خوب تر یادوں میں عزیزی آنچل کو سرفہرست نہ رکھوں تو بڑی زیادتی ہو گی اس برس میری تحریر آدھی روٹی کی اشاعت اور پھر گویا سلسلہ چل نکلا اور ہم نے بھی راہبر کی صورت عزیزی آنچل کی انگلی تھام لی یار من کے لیے تو 

سمندر ہے میں دریا کی طرح ہوں تجھ میں

ہو نہیں پائے گا تو میری روانی سے الگ!

تجھ سے بچھڑوں تو احساس یہی ہوتا ہے

جیسے ہو جائے کوئی لفظ معانی سے الگ

اب چیدہ چیدہ باد بہار سی حسین یادوں کا شمار کرتے ہیں اس سال ہو نے والی سحرش فاطمہ ام طیفور مہناز یوسف نزہت آپی رضوانہ آفتاب ریحانہ آفتاب ندا حسنین امایہ سردار امایہ خان قراۃ لعین خرم ہاشمی بنت سحر آمنہ ریاض آمنہ ولید انم خان عظمی افتخار ستارہ امین ماورا دعا عائشہ حنین کوثرناز مریم جہانگیر و دیگر سے ہوئی مختصر بات چیت سرفہرست ہے۔ سوشل میڈیا آن لائن مقابلہ جات پر جیتنے والے ڈھیر ساری کامیابیاں بھی خوشگوار یادوں کا حصہ رہیں جن کے الفاظ نے لمحہ بہ لمحہ تحریک دی ان میں محترم و مکرم سر محمود ظفر اقبال ہاشمی ابن ریاض بنت حوا ام طیفور حیا بخاری آمنہ ولید عظمی افتخار اور صدف آصف اولین درجے پر رہے۔ سائلنٹ ریڈرز کی حوصلہ افزائی محبت و ستائش ہمیشہ سے قیمتی لگتی ہے جیسے جسم میں ریڑھ کی ہڈی! تحریم اکرم چوہدری سمیراتعبیر آسیہ شاہین حافظہ صائمہ کشف انیلا طالب فابیہ مسکان پارس شاہ اقرا لیاقت ایس گوہر طور انعم سارہ زریں نسرین علی کوثر خالد کرن شہزادی پرنسز اقو‘کوثر ناز‘ فریدہ شمعالہ رو سمھان عائشہ دین محمد صبا نسیم سار ہ خان‘ روشی وفا‘ فائزہ بھٹی سامعہ ملک پرویز‘طیبہ نذیر لائبہ‘ میر ودیعہ‘ یوسف فریحہ شبیر‘ شائستہ جٹ موناشاہ شبنم کنول مدیحہ کنول سرور ارم کمال‘ اقصی کشش منزہ عطا عائش کشمالے نجم انجم اعوان عائشہ صدیقہ رابعہ مسکان فریحہ شبیر ملالہ اسلم نارسول ہاشمی طاہرہ ملک رومانہ قریشی سمیہ کنول سندس رفیق دلکش مریم فائزہ بتول پروین افضل ریما نور اورساریہ سب محبوب من قارئین کے لیے ڈھیر ساری محبت اور لامحدود دعائیں۔کچھ ایسے نایاب حرف بھی ہیں ان کیف آفریں یادوں کے موسم کے جنہیں جب بھی پڑھوں قلم برق رفتار ہو جاتا ہے اور کئی سجدہ شکر واجب ہو جاتے ہیں۔ اب باری آتی ہے حراقریشی کی ان کے ساتھ ہمارا تعارف تبصرہ نگار کا ساتھا مگر افسانہ نگار کے طور پر بھی انہوں نے بہترین کام دکھایا افسانے کا منفرد سا نام اس کے بعد الگ پیرائے میں سبق دیتی تحریر واقعی پسند آئی ویل ڈن (صدف آصف)

مصنفہ حراقریشی کا شمار ان مصنفین میں ہوتا ہے جن کی کہانی پڑھتے ہی قاری بے اختیار ان کا نام یاد رکھتا ہے جن کی تحریر میں پختگی سحر انگیزی کاعنصر نمایاں ہوتا ہے یاد رہنے والی مصنفین میں سے ایک اور یاد ہر کوئی نہیں رہتا (فاطمہ عبدالخالق)

حرا کے تبصرے تحریر کو زندہ حقیقت کی مانند عیاں کر دیتے ہیں ان کے قلم میں روانی لفظوں میں چاشنی ہے (سعدیہ عابد)

حراقریشی آسمان پر چمکتا ہوا ایک روشن ستارا مگر غرور پھر بھی نہیں آدھی روٹی پڑھ کر اندازہ ہوا کہ مختصر الفاظ میں بھی حرا اپنے قلم کا جادو چلا سکتی ہیں (سیدہ عروج فاطمہ بخاری)

حرا قریشی نئے لکھنے والوں میں ایک خوش کن اضافہ ہیں موضوع پر ان کی گرفت انداز بیاں قابل ستائش! عام قارئین کو ان کی تحریر ثقیل اور بوجھل محسوس ہوتی ہے مگر وہ متروک الفاظ کو غیر محسوس انداز میں نئی زندگی دیتی ہیں جو بلاشبہ اس دور میں قابل قدر عمل ہے (ابن ریاض مایہ ناز کالم نگار)

زندگی کے راستے پر جلتے ہوئے چراغ کی مانند ہیں آپ (میرا حوصلہ کشا جگنو سحر مابدولت)

حراقریشی کے افسانے بہت منفرد ہوتے ہیں۔ (حنا اشرف)

حرا کے پاس الفاظ کا ذخیرہ موجود ہے انہیں سوچ سمجھ کر استعمال کریں تو اوج کمال (مریم جہانگیر)

حرا کے تحریر کردہ الفاظ قرطاس کے ساتھ ساتھ دل میں بھی اترتے ہیں اور مکمل تحریر ذہن میں رقم ہو کر رہ جاتی ہے (عزیزم رفعت خان)

حرا کے الفاظ کا چناؤ قاری کی توجہ کھینچ لیتا ہے۔ (حمیرا نوشین)

حرالاجواب لکھتی ہیں (خدیجہ عطا بیسٹ ایڈیٹنگ ماسٹر)

حرا بہترین لکھتی ہیں اردو بہت بہترین ہے حرا کی آدھی روٹی پڑھ کرمیں بہت اداس ہوگئی تھی۔

اس کے علاوہ تبصرے بھی اچھے ہوتے ہیں مگر کبھی کبھی بہت زیادہ مشکل اردو ہوتی ہے جو کہ سمجھنے میں مجھ جیسی کوڑھ مغز کو تھوڑی دقت ہوتی ہے باقی تو حرا بہت بہترین لکھتی ہیں۔ (مہناز یوسف)

آپ انداز لکھنوی میں دور سلیس میں جتنے مشکل الفاظ کا استعمال کرکے تحریر کو خوبصورت لکھتی ہیں قابل قدر ہے۔ (فیض محمد شیخ صاحب)

ویسے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا کیا ہوتا یہ ایف بی پر بخوبی سمجھ آیا۔

آنچل سے منسلک سب افراد کے لیے دعاؤں کا دائم توشہ آخرت

آپ کی ادنی سی خاکسار دعاؤں کی طلبگار حراقریشی

٭ حرا ڈیئر! آپ کے لیے اتنا ہی کہیں گے۔

گلدستہ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں

ایک پھول کا مضمون ہو تو سو رنگ سے باندھوں

کچھ ایسا ہی انداز ہے آپ کا۔

کوثر خالد… جڑنوالہ

۱) سال مہینہ تاریخ ہمیں کبھی یاد نہیں رہتیں، لوگوں سے پتا چلتا ہے، رہے احساسات تو نہ ہم نے کبھی خوشی منائی نہ ہی غم منایا لہٰذا دل کا موسم ایک سا رہتا ہے سہانا سہانا سکون آور، البتہ گھریلو چپقلش اس سکون کو اجاڑنے کی کوشش ضرور کرتی ہیں مگر ہم دھواں دار تقریروں اور مختلف حربوں سے اپنا من پسند دل کا موسم تلاش کر لیتے ہیں حمد و نعت پڑھ کر۔ 

۲) ہماری حمد و نعت کی کتاب ’’حوض کوثر‘‘ منظر عام پر آئی۔ 

۳) میری باقی تمام شاعری چھپوانا باقی ہے ابھی مرزا غالب کے مصرعوں پر لکھی شاعری جسے ’’نہر تسنیم‘‘ کا نام دیا ہے ان شاء اللہ 2017ء میں امید رکھی ہے۔

۴) رفعت سراج، فاخرہ گل، نمرہ احمد، حرا قریشی و دیگر بہت ساری بھی۔ 

۵) حمیرا نوشین، چندا چوہدری، بشریٰ گوندل، ام طیفور۔

۶) میں رسالے چھوڑ کر صرف قرآن پڑھنا اور لکھنا چاہتی ہوں لہٰذا صرف چھوٹے سلسلے، خط اور شاعری تک محدود رہنا چاہتی ہوں البتہ سرسری جائزہ میں اگر کوئی تحریر کشش کرے تو دیکھا جائے گا۔

۷) سال بعد ہی کیوں ہر پل عمل کی کمی کا احساس ہے اور توبہ ہر پل جاری ہے۔ 

۸) بس ’’حوض کوثر‘‘ رسالوں کی سہیلیاں خاص کر سنبل ملک اور طاہرہ عندلیب کہ انہوں نے رابطہ کیا۔

فرح بھٹو…حیدرآباد

۱) سال نو کی آمد پر اللہ سے دعا مانگتی ہوں کہ یہ نیا سال صحت و سلامتی امن اور سکون سے گزرے اور ہم سب پاکستانیوں کے لئے سعادت والا ثابت ہو۔

۲) اس سال کو اگر میں کامیابیوں کا سال کہوں اپنی ذات کے حوالے سے تو بے جا نہ ہوگا اللہ نے بہت کرم کیا اور میری تحریروں کو بہت پذیرائی ملی , میں نے ایک لکھاری کے طور پر شناخت حاصل کی, شاعری,کالم نگاری اور افسانہ نگاری کے کئی مقابلے جیتے, اعزازی اسناد حاصل کیں اور ایک معتبر ادبی ادارے کی طرف سے میرے افسانے کو اعزازی ایوارڈ سے بھی نوازہ گیا اور اس سال ادارے آنچل کے لئے میری تین اسٹوریز اپرو ہوگئی ہیں جو میرے لئے بے حد خوشی کی بات ہے کہ میرے پسندیدہ ترین ڈائجسٹس میں میری کہانیاں لگیں گی۔

۳) میں صرف اپنے اللہ سے امید رکھتی ہوں اور میری امیدوں سے بڑھ کر اس نے مجھے 2016 میں نوازا ہے الحمدللہ۔

۴) ادھورے کام تو زندگی کے ساتھ پورے ہو ہی جاتے ہیں میرا ماننا ہے کہ ہر کام اپنے وقت پر ہوتا ہے۔

۵) فاخرہ گل کا ذرا مسکرا میرے گمشدہ میرا پسندیدہ رہا۔

میں سنجیدہ تحریروں کی شائق ہوں ہنستی مسکراتی تحریریں مجھے ذیادہ مزہ نہیں دیتیں۔

۶) 2017 میں پڑھنا تو بہت منصفین کو چاہتی ہوں‘ اپنی تحریریں بھی۔ نگہت سیما فاخرہ گل صدف آصف اور بہت لمبی لسٹ ہے جن کو پڑھنا چاہوں گی۔

۷) آنچل ایک بہترین ڈائجسٹ ہے یہ بالکل مکمل ہے تبدیلی تو وقت کے ساتھ آ ہی جاتی ہے۔

۸) سال گزر جانے سے ہی نہیں ہماری زندگی ایک ایک منٹ آگے بڑھنے سے بھی ختم ہوتی جارہی ہے اللہ پاک ہر گھڑی خیر کرے۔

۹) گزر جانے والا پورا سال الحمدللہ بہت خوشگوار یادیں چھوڑ گیا مجھے ماشا اللہ بہت خوشیاں ملیں بہت خوب صورت یادیں اس سال سے منسوب ہیں کافی اچھی رائٹر دوستیں فیس بک کے توسط سے مجھے ملیں میری غزلیں اور نظمیں نئے افق آنچل اور حجاب کا حصہ بنیں جس کی مجھے بے حد خوشی ہے۔

صباء خان… ڈی جی خان

۱) نئے سال کی آمد کچھ اداس اور کچھ خوشی کا احساس اپنے ساتھ لاتی ہے۔

۲) ایسی تو کوئی خاص بات نہیں جس کا ذکر یہاںکیا جائے،مگر سب اچھا ہی رہا۔

۳) بہت سارے کام ہیں جو اس سال شروع کر رکھے تھے مگر وہ 2017 میںجا کر پایہ تکمیل ہوں گے۔

۴) اس سال مجھے آنچل میںچھپنے والے بہت سارے افسانوں ،ناول اور ناولٹ نے متاثر کیا اس لیے خاص طور پر کسی ایک مصنفہ کا نام لکھنا مشکل ہوگا۔

۵) مجھے ساری شگفتہ تحریریں ہنسنے پر مجبور کرتی ہیں کوئی خاص تحریر ذہن میں نہیںہے۔

۶) میں نئے سال میں عفت سحر طاہر،سباس گل، اور صدف آصف کے مکمل ناول پڑھنا چاہوں گی۔

۷) میں اللہ سے معافی کی طلب گار ہوں اور آنے والے سال میںاس کی طرف راغب رہنے کی خواہش مند ہوں۔

۸) مجھے اس سال بہت اچھے دوست ملے ،جن کے ساتھ گپ شپ لگانے میںمجھے بہت مزہ آتا ہے ان کی دوستی میرے لیے خوبصورت یاد بن کر ذہن میںتازہ ہے۔

میری جانب سے تمام اسٹاف اور قارئین کو نئے سال کی نیک خواہشات

ہما خان…لودھراں

۱) خدا کرے یہ نیا سال ارض پاکستان میں بسنے والوں کے لئے خوشیوں کا پیامبر ہو۔ سر زمین پاک میں بسنے والا ہر شہری خوشحال ہو۔

۲) ایسی کوئی خاص کامیابی تو نہیںجس کا یہاں ذکر کیا جائے مگر اللہ کا کرم رہا۔

۳) اس سال بہت ساری ایسی چیزیںرہ گئیں، جیسے ابو ہمارا گھر بنوارہے ہیں، ٹھیکدار نے کہا تھا کہ دسمبر میں مکمل ہوجائے گا اور ہم وہاں شفٹ ہوجائیں گے، مگر اب لگتا ہے کہ 2017 فروری میں ہی ہم لوگ نئے گھر میں شفٹ ہوں گے۔

۴) اس سال کوئی ایک نہیں بہت ساری مصنفات نے متاثر کیا، جیسے راحت وفا، سمیرا، نازیہ کنول نازی، صدف آصف، اقبال بانو اور کچھ نئے لکھنے والوں نے بھی۔

۵) ہنستی مسکراتی تحریروں کی کچھ کمی سی لگتی ہے،مگر اس سال چھپنے والی تمام تحریروں نے متاثر کیا ہے۔

۶) نازیہ کنول نازی،صدف آصف،رفعت سراج ، اقبال بانو۔

۷) وقت کس قدر تیزی سے گزر جاتا ہے۔

۸) میری بڑی بہن کے یہاںکافی سالوں بعد اولاد ہوئی تو اس دن امی ابو کی خوشی کا جو عالم اب بھی یاد آتا ہے تو میں مسکرا دیتی ہوں۔

میری جانب سے سب لوگوں کو نیا سال مبارک ہو

جویریہ ثناء…ملتان 

۱)سال نو کی آمد پر میرے دل میں کبھی کوئی خاص فیلنگز نہیں جاگیں ملی جلی کیفیت میں پچھلے سالوں کی طرح سال نو گزر ہی جاتا ہے۔

۲)اس سال میری ایم ایس سائیکالوجی کی ڈگری مکمل ہوئی جو میں نے بہت اچھے نمبروں سے پاس کی یہ میری توقع سے بڑھ کر تھی۔ 

۳) جی 2016 میں جو مجھے امیدیں تھیں وہ اللہ کے فضل وکرم سے سب پوری ہوئیں ایم فل سائیکالوجی میں ایڈمیشن لینے کی خواہاں تھی اور امید تھی ہو جائے گا (ہو گیا) اس کے علاوہ جو کام ابھی تک ادھورا ہے وہ میری پڑھائی سے متعلق ٹیسٹ جو اس سال کچھ پرابلمز کی وجہ سے رہ گیا اور آئندہ 2017 میں پورا کرنے کی امید رکھتی ہوں۔ 

۴)اس سال مجھے جس مصنفہ کی تحریر نے متاثر کیا وہ نازیہ کنول نازی کی شب ہجر کی پہلی بارش ہے بہت عمدہ انداز بیاں ہے ان کا اور اس تحریر نے مجھے ڈائجسٹ خریدنے پہ مجبور کیا۔ 

۵)صائمہ قریشی کی تحریر اناڑی پیا۔ 

۶)نادیہ احمد صدف آصف ندا حسنین فاخرہ گل نازیہ کنول نازی ان تمام مصنفات کے مکمل ناول پڑھنا چاہوں گی۔ 

۷)آنچل کے تمام سلسلے بہت زبردست ہوتے ہیں ہر اسٹوری ناولٹ ایک سے بڑھ کے ایک ہے میرے خیال کے مطابق اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے پورا رسالہ پرفیکٹ ہوتا ہے۔ 

۸)ہم کیسی غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں زندگی اللہ تعالٰی کی دی ہوئی ایک خوب صورت نعمت ہے لہذا اس کو اسی کے کاموں کے لیے وقف کریں اور قرآن سنت کے مطابق زندگی گزاریں یہ دنیا فانی ہے سب سے پیار محبت اور مل جل کر رہیں۔ 

۹)ویسے تو مادرعلمی کے گزرے دو سال ہی خوب صورت یادوں پر مشتمل ہیں لیکن 2016 میں نیشنل کانفرنس جو تین روز پر مشتمل تھی جہاں ہم تینوں فرینڈز نے بہت زیادہ انجوائے کیا تھا (ارم سعدیہ) خوف اور خوشی کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ سائیکاٹرسٹ وارڈ میں گزاری گئی ایک رات اور دسمبر کی ٹھٹھرتی آدھی رات کو عمران بھائی کا ہمیں وارڈ سے نشتر گرلز ہاسٹل میں منتقل کرنا (سعدیہ کے ہاتھ میں استری ارم کا دائیں بائیں بازو میں میرا بہت سارا سامان منتقل کرنا اور مریضوں کا بار بار ہمیں مڑ کر دیکھنا نشتر کی بیک پہ چاول چنوں کے ساتھ انکل کے چھری چمچ اٹھانا)یہ لمحے جنہیں میں بھلانا چاہوں تو کبھی نہیں بھول سکتی۔

جیا چوہدری… ملتان

۱) عین ممکن ہے کہ اس نئے سال میں مجھے میری کھوئی ہوئی منزل مل جائے۔

۲)جی میں نے اپنا ماسٹرز بڑے شاندار نمبروں سے پاس کرلیا۔

۳) نہیںاس حوالے سے تو کچھ کہنا مشکل ہوگا ،کیونکہ بہت کچھ ہے جو ابھی ادھورا ہے۔

۴) میںآنے والے سال میں بہت ساری لکھنے والوںکو آنچل کے صفحات میںدیکھنا چاہتی ہوں۔جن میںخاص طور پر نائلہ طارق ،اقرا صغیر ،شازیہ مصطفی اور صدف آصف شامل ہیں۔

۵) کسی ایک کا نام تو نہیںلکھ سکتی مگر یہ ضرور کہنا چاہو گی کہ ایسی تحریریں چند لمحوں کے لیے ہی سہی، چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہیں جو کہ اس پْرآشوب دور میں نفسا نفسی کے عالم میں غنیمت ہیں۔

۶)میں اس سال نائلہ طارق اور صدف آصف کے مکمل ناول پڑھنا چاہتی ہوں۔

۷)اس سال آنچل میں کہانیوںکا معیار مزید بلند ہو اور یہاں صرف چند لکھنے والوںکی اجارہ داری نہ ہو بلکہ سب کو موقع ملے۔

۸)اے نئے سال بتا، تْجھ میں نیا پن کیا ہے؟

ہر طرف خَلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے

روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی 

آج ہم کو نظر آتی ہے ہر ایک بات وہی

۹) مجھے راحیل شریف کے دور میں ہونے والی تبدیلیوں نے متاثر کیا، نئے آرمی چیف سے بھی یہ ہی امید ہے۔

صوبیہ بلال… ظاہر پیر

۱) ہر سال ہمارے ملک پر بہت ہی سخت گزرتا ہے اس لیے ہر سال نو کی آمد پر یہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ میرے ملک اور ملک کے تمام لوگوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمارا وطن مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہو، دسمبر کے گزرنے پر دکھ اور ملال بھی ہوتا ہے اور نئے سال کی آمد پر اللہ کا شکر بھی ادا کرتی ہوں کہ زندگی کی مہلت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ 

۲) مجموعی طور پر یہ سال میرے لیے کامیابی کا سال نہیں تھا، ہاں اس سال ٹیچنگ کرنے کا تجربہ ہوا۔

۳) ہاں واقعی 2016ء سے بہت امیدیں جڑی تھیں مگر افسوس وہ پوری نہیں ہو سکیں، اللہ سے دعا ہے کہ 2017ء میں ادھورے خواب پورے ہو جائیں۔ 

۴) ما شاء اللہ ساری مصنفین بہت اچھا لکھ رہی ہیں مجھے عائشہ نور محمد کی تحریریں بہت اچھی لگیں۔ 

۵) ویسے تو زیادہ تر سنجیدہ موضوعات پر لکھی تحریریں ہوتی ہیں صائمہ قریشی کی تحریریں کچھ ہلکی پھلکی ہوتی ہیں ۔

۶) یہ اچھا سوال ہے ویسے تو بہت ساری سینئر رائٹرز لکھ رہی ہیں اللہ کا شکر ہے اکثر رائٹرز اسلامی نقطہ نظر سے لکھ رہی ہیں بہت خوشی ہوتی ہے نیو رائٹرز میں بھی عائشہ نور محمد کی تحریریں پڑھنا چاہوں گی۔ 

۷) میرے خیال میں تو آنچل کو کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں سارے سلسلے بہت اچھے ہیں۔

۸) زندگی سے ایک سال کم ہونے پر ملال تو ہوتا ہے اور نئے سال یہی کوشش ہوتی ہے کہ دلوں کو ہر طرح کے گلے شکوے سے صاف کر لیں اور زیادہ سے زیادہ نیک کام کریں تاکہ اگلی زندگی میں مثل راہ بن جائیں۔ باقی توفیق تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ 

۹) 2016ء سے متعلق میرے پاس شیئر کرنے کے لیے کچھ نہیں، دعائوں میں یاد رکھیے گا اللہ حافظ۔

عریشہ سہیل… کراچی

جواب ۱: سالِ نو کی آمد پہ دل میںبہت سی امیدیں جاگ جاتی ہیں،خوشی کے ساتھ ساتھ بہت سی آرزوئیں اور تمنائیں دل میں مچلتی ہیں لیکن ساتھ ہی دل بہت اداس بھی ہو جاتا ہے۔ ہر سال جشن کے نام پہ ہونے والی فائرنگ سے بہت سے لوگ جاں بحق و زخمی ہو جاتے ہیں۔ دکھ ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ ہماری قوم میں اتنا شعور بھی نہیں ہے کہ خوشی کس طرح منائی جاتی ہے۔ 

جواب ۲: اس سال الحمداللہ بہت سی کامیابیوں نے قدم چومے۔ وہ کامیابیاں میرے لیے تو بہت بڑی تھیں لیکن شاید آپ لوگوں کے لیے وہ اتنی اہمیت کی حامل نہ ہوں ۔ سال کا آغاز شاندار تھا، پہلے ہی مہینے میں ایک معلوماتِ عامہ کے مقابلہ میں تیسرا انعام حاصل کیا،آنچل سمیت کئی رسالوں میں شاعری شائع ہوئی،بطور سینئر نائب مدیرہ ایک ڈائجسٹ سے تعلق جڑا، بی ۔اے کے سالانہ امتحانات میں پہلی ڈویژن حاصل کی، ایک افسانہ اور ایک مختصر آرٹیکل شائع ہوئے، زندگی کا پہلا انٹرویو شائع ہوا اور بھی بہت سی چھوٹی چھوٹی کامیابیاں سمیٹیں۔ (مبارک ہوں)

جواب ۳: الحمداللہ ۲۰۱۶ میرے لیے بہت اچھا ثابت ہوا۔ بہت سی کامیاں اور خوشیاں نصیب ہوئیں۔کچھ کام ادھورے بھی رہے اور کچھ امیدیں دم بھی توڑ گئیں ۔ میں چاہتی تھی کہ اس سال بہت سی کہانیاں لکھ کر آنچل میں بھیجوں تاکہ جلد از جلد شائع ہونے کی باری آئے لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں زیادہ نہیں لکھ سکی، قلم کی رفتار دھیمی رہی۔ اب ارادہ یہی ہے کہ ان شاء اللہ ۲۰۱۷میں وہ سب کچھ لکھوں گی جو ذہن میں کھلبلی مچائے ہوئے ہے۔

جواب ۴: یوں تو سبھی لکھاریوں نے قلم کے ساتھ انصاف کیا لیکن مجھے طلعت نظامی، عرشیہ ہاشمی اور نادیہ فاطمہ رضوی کی تحریروں نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔

جواب ۵: بات یہ ہے کہ مجھے ہنسی ذرا کم ہی آتی ہے ، زیادہ تر بس مسکرانے پہ ہی اکتفا کرتی ہوںاس لیے کسی بھی مصنفہ کی تحریرپر ہنسی تو نہیں آئی البتہ اکثر تحریریں پڑھتے ہوئے چہرے پر تبسم پھیل جاتاہے۔

جواب ۶: ۲۰۱۷ میں طلعت نظامی اور فاخرہ گل کے مکمل ناول پڑھنے کی خواہا ںہوں۔طلعت نظامی موضوع کا چنائو بہترین کرتی ہیں جبکہ فاخرہ گل تو کسی تعریف کی محتاج نہیں ہیں۔ ماشاء اللہ وہ جو بھی لکھتی ہیں کمال لکھتی ہیں۔

جواب ۷: میرے نزدیک آنچل ایک ایسا ڈائجسٹ ہے جسے کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ یہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ آتا ہے اور آتے ہی سب کے دل میں گھر کرلیتا ہے۔

جواب ۸: گزرتے وقت کے بارے میں جب بھی سوچتی ہوں تو افسردہ ہو جاتی ہوں۔ میں کبھی بھی خود سے اور اپنے کام سے مطمئن نہیں ہو پاتی، میں اب تک اپنے اس دنیا میں آنے کے مقصد کو نہیں کھوج سکی، میں بہت کچھ کرنا چاہتی ہوں لیکن اب تک ایک چوتھائی کام بھی نہیں کر سکی۔ ہر گزرتا سال اس بات کا شدت سے احساس دلاتا ہے کہ نہ میں اللہ کو راضی کر سکی اور نہ ہی اپنے ارد گرد کے لوگوں کو۔ کبھی کبھی جب خود احتسابی کے عمل سے گزرتی ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نہ میں ایک اچھی مسلمان بن سکی اور نہ ہی انسان۔

جواب ۹: جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ ۲۰۱۶ میرے لیے بہت اچھا ثابت ہوا یہی وجہ ہے کہ یہ سال میرے لیے بہت خوبصورت یادیں چھوڑ کر جا رہا ہے۔اس سال سے وابستہ تمام یادیں یہاں لکھنا ممکن نہیں پھر بھی کچھ تحریر کر رہی ہوں۔ اس سال میں نے وہ سب حاصل کیا جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اور سب سے زیادہ خوشی یہ دیکھ کر ہوتی ہے کہ میرے والدین نہ صرف مجھ سے خوش ہیں بلکہ انہیں مجھ پر فخر بھی ہے۔

صالحہ عزیز صدیقی… کراچی

۱) بس اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں خدا کرے میرے وطن پر کوئی ناگہانی مصیبت نہ آئے جیسا کہ شروع سال اور جاتے ہوئے سال میں اکثر ایسے حادثات ہوجاتے ہیں جو نہ کبھی بھولنے والے ہوتے ہیں۔ 

۲) جی ہاں یہ سال میرے لیے خوش کا پیغام لے کر آیا میری بیٹی اور بیٹے نے اپنی تعلیم مکمل کی اور میں سجدہ شکربجا لائی اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ 

۳) ہاہاہا انسان خواہشوں کا پتلا ہے ایک خواہش پوری نہیں ہوتی کہ دوسری جنم لے لیتی ہے یہی حال ہمارا ہے۔ میری دلی خواہش ہے کہ میں بچوں کی کہانیاں جو لکھی ہیں ان کو کتابی شکل میں لے آئوں، ان شاء اللہ اس سال متوقع ہے اگر آپ لوگوں کی دعائیں ہمارے ساتھ رہیں۔

۴) ارے واہ نیکی اور پوچھ پوچھ میں اپنی گمشدہ مصنفہ بہن لبنیٰ غزل کا مکمل ناول پڑھنا چاہوں گی جو یقیناً لکھنے کے میدان میں آچکی ہیں۔ 

۵) جب میری کہانی کو آنچل نے سہارا دیا تو میں سمجھ گئی یہ وہ ماں ہے جس کی چھائوں میں معصوم لکھاری پرورش پاتے ہیں اور حوصلہ افزائی سے بڑھ کر کیا صلہ مل سکتا ہے صحیح کہا ہے کسی نے کسی چیز کو پانے کے لیے ہمیں اس کی گہرائی میں جانا پڑتا ہے جس کا مجھے آج احساس ہوا میں ناحق اِدھر اُدھر ڈولتی ہوں شکریہ آنچل آپ جیسے ہو ویسے ہی رہنا مجھے اچھا لگتا ہے تیرے آنچل کا سایہ۔

۶) زندگی کا ایک دن جاتا ہے تو دل اداس ہوتا ہے اور سوچتی ہوں یہ دن گزارا اس میں میں نے کیا کھویا کیاپایا، اسی طرح دن مہینوں اور مہینے سال میں تبدیل ہوجاتے ہیں پوری زندگی کا احاطہ کرنے میں مجھے فیصلہ کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے میں نے کسی کے ساتھ برا سلوک تو نہیں کیا اپنے بہن بھائیوں کی دل آزاری تو نہیں کی یا جانے انجانے میں اپنا تکبر جیسا لہجہ تو نہیں استعمال کیا میں معافی مانگنا چاہوں گی ان سب سے جن کو میری بات سے ٹھیس پہنچی ہو۔ 

۷) جی ہاں یہ سال یعنی 2016ء میری زندگی کا اہم سال تھا میں اس سال اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان ٹور پر گئی تھی جہاں ہم نے بالا کوٹ، کاغان، لولوسر لیک کے علاوہ دیگر تفریحی مقامات کی سیر کی جو میں کبھی نہیں بھول سکتی یہ پل میری یادوں کے ساتھ ہمیشہ رہیں گے۔ 

سمہان آفریدی…ڈسکہ

۱) نیو ایئر کے حوالے سے کچھ پلان ہوتے ہیں، کچھ خواب ہوتے ہیں، کچھ امیدیں ہوتی ہیں جو ہر نئے سال میں پورے کرنے ہوتے ہیں، مگر زندگی اتنا حسین موقع کب دیتی ہے کہ ہر خواہش پوری ہو، سو اس حوالے سے اللہ سے ایک یہی دعا ہوتی ہے کہ وہ اپنے خزانے سے میری خواہش پوری کرے۔ 

۲) میرا انٹر کا رزلٹ آیا، جو میری خواہش سے بہت اچھا تھا، مجھے تو امید ہی نہیں تھی کہ میں پاس ہوں گا لیکن والدین کی دعائوں اور اپنی محنت کا صلہ مل گیا، جس کے لیے میں اللہ کا بہت شکر گزار ہوں۔ 

۳) سچ بتائوں تو 2016ء بہت کچھ سکھا گیا، آگے بڑھنے کا حوصلہ، بہادری، یہ سب سکھاکر گیا، جہاں تک بات ہے امید اور خواہشوں کی تو کچھ پوری ہوئیں اور کچھ 2017ء میں پوری کرنے کا عہد دیا، اب دیکھو 2017 کتنی پوری کرتا ہے۔ 

۴) سباس گل، نادیہ فاطمہ رضوی، سلمیٰ فہیم گل، عشنا کوثر سردار، اقرا صغیر، صائمہ قریشی، نزہت جبین ضیا، فاخرہ گل، رفعت سراج اور نیو رائٹرز خصوصاً سحرش آپی۔

۵) فاخرہ گل کی ف سے فیس بک، صائمہ قریشی کی اناڑی پیا۔

۶) ویسے اگر یہ خواہش اگر حقیقت میں پوری ہوئی تو میں صرف ام مریم اور عشنا کوثر کے کمپلیٹ ناول چاہتا ہوںپڑھنے کے لیے (میں جانتا ہوں یہ پوری نہیں ہوسکتی لیکن دل کا کیا کریں…)

۷) 2017ء میں آنچل میں یہی تبدیلی چاہتا ہوں کہ پرانی رائٹرز بھی حصہ لیتی رہیں اور نئی رائٹرز کو موقع ملنا چاہیے، اس کے علاوہ تو آنچل مکمل پرفیکٹ ہے۔ 

۸) سوچ نہیں دعا ہوتی ہے، اے اللہ پاک آپ کی یاد سے جو غفلت کے پل اس سال میں گزرے اس کا دوبارہ موقع مت دینا 2017ء میں۔

۹) بہت سی یادیں ہیں سوئیٹ سی، ایک شیئر کرتا ہوں، ہوا کچھ یوں کہ عید الفطر پر میں نے اور میرے کزن نے آئوٹنگ کا پلان بنانا لیکن بابا نے اجازت نہیں دی، ان کا کہنا تھا کہ عید پر رش زیادہ ہوتا ہے اور بائیک پر ایکسیڈنٹ کا بھی خطرہ ہے۔ لیکن میرے کزن کو نہ جانے کیا سوجھی جھٹ سے بولا تایا ابا ٹھیک ہے ہم نہیں جاتے وہاں مگر میرے دوست کی امی بیمار ہیں عید سے چند دن پہلے ان کی طبیعت خراب ہوئی اگر آپ اجازت دیں تو ہم ان کی عیادت کر آئیں، عید کا دن ہے ان کو بھی اچھا لگے گا اور میرے بابا ٹھہرے ہمدردی کے دیوانے، بولے ٹھیک ہے جائو مگر آ ٹائم سے جانا، پھر کیا جناب خوشی سے ہمارے پائوں زمین پر نہیں ٹھہرے، وہ کہتے ہیں نا کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے جب نکلنے لگے تو میرے منہ سے بلند آواز سے نکلا ولی اپنا فون تو اٹھائو تصویر نہیں لینی کیا وہاں کی۔ پھر کیا جناب بابا نے پکڑ لی ہماری چوری اور پھر غصہ کرنے لگے، مگر ہماری سپورٹر دادو اس وقت کام آئیں، شام سے پہلے گھر پہنچنے کی شرط پر ہمیں اجازت مل گئی، مگر ہم بھی جناب شام کے بعد ہی گھر پہنچے۔ ہاہاہاہاہا

صائمہ مشتاق… سرگودھا

۱) میرے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ کرن اور آنچل کی وجہ سے مجھے پہچان ملی اور سب سے بڑھ کر میرے لیے یہ بڑی کامیابی ہے کہ ہمارے خاندان میں کوئی بھی لڑکی جاب وغیرہ نہیں کرسکتی لیکن میں نے اپنا بیوٹی پارلر بوتیک اور ٹیوشن سینٹر بنایا میرے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ 

۲) 2016ء میں کچھ امیدیں پوری ہوئی ہیں اور ابھی کچھ ادھوری ہیں میرے ادھورے کام جو رہ گئے ہیں وہ یہ کہ دو سال سے ایک ناول لکھ رہی ہوں لیکن ابھی تک مکمل نہیں کرپا رہی لیکن انسان چاہتا کچھ اور ہے اور ہوتا کچھ اور ہے جو خدا کو منظور ہوگا وہی ہوگا۔

۳) کسی ایک کا لکھوں تو دوسروں سے نا انصافی ہوگی۔ اقرا صغیر احمد۔

۴) فاخرہ گل کی تحریر جولائی 2016ء میں پڑھی اس کا نام تھا۔ ع سے عید بہت مزہ آیا پڑھ کر۔

۵) 2017ء میں صائمہ قریشی نمرہ احمد نگہت عبداللہ، نازیہ کنول نازی، سمیرا شریف طور کو پڑھنا چاہتی ہوں۔ 

۶) سال کے اختتام پر دکھ تو ہوتا ہی ہے لیکن یہ قدرت کا نظام ہے اس کو روکنا ہمارے بس میں نہیں، سال کے اختتام پر سوچتی ہوں کہ اس سال میں، میں نے کیسے عمل کیے کسی کو تکلف تو نہیں دی کسی کو میری وجہ سے کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی۔ 

۷) 2016ء کی خوب صورت یادیں بہت کم ہی ہیں ہاں 2016ء جنوری میں میرے دادا ابو نے(میاں منظور حسین) عمرے کی سعادت حاصل کی تھی تو سارے خاندان والے امی کے ہاں جمع ہوئے تھے بہت مزہ آیا تھا وہ دن آج بھی میں یاد کروں تو بہت خوش ہوتی ہوں کیونکہ انسان اپنی زندگی میں اتنا مصروف ہوگیا ہے کہ کسی کے ساتھ ملنے کا وقت ہی نہیں یوں کسی موقع پر سب کا اکٹھا ہونا بہت اچھا لگتا ہے۔ 

۸) 2017ء میں آنچل میں، میں یہ تبدیلی دیکھنا چاہتی ہوں کہ آرٹسٹوں وغیرہ کا بھی انٹرویوں لیا کریں اور جس کا سب سے زیادہ اچھا تبصرہ ہوگا اس کومیئر آف دا منتھ کا ٹائٹل دیا کریں یہ قارئین کے لئے کہہ رہی ہوں۔

اقرا مزمل، آصفہ دائود… ظاہر پیر

۱) سال نو کی آمد پر یہی احساس ہوتا ہے کہ آخرت کا ساماں اس سال بھی بہت کم کیا۔ 

۲) ہم نے جو بھی آنچل میں لکھا ہے وہ اگر شائع ہوگیا تو وہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ 

۳) کچھ تو پوری ہوگئی کچھ باقی ہیں آنچل اور حجاب میں مکمل ناول لکھنا۔ 

۴) اس سال جس نے ہمیںمتاثر کیا ہے اقرا صغیر احمد، نگہت سیما۔

۵) جس مصنفہ نے ہمیں ہنسنے پر مجبور کیا وہ ہیں صائمہ قریشی، ام ایمان قاضی۔

۶) 2017ء میں ہم سمیرا شریف طور، ام مریم، سباس گل، صائمہ قریشی کو پڑھنا چاہیں گے۔ 

۷) قسط وار ناولوں کے صفحات بڑھائیں۔

۸) ہماری جو سب سے بڑی خواہش ہے وہ اس سال بھی پوری نہیں ہوئی، حج و عمرہ کی سعادت ہمیں اللہ تعالیٰ نصیب کرے، آمین۔

۹) 2016ء میں پہلی بار میں نے 12 ربیع الاول کا میلا کروایا ہے یہ بہت ہی خوب صورت یاد ہے میرے لیے۔ 

اقرا لیاقت… حافظ آباد

۱) کیا سوال پوچھ لیا آپ نے نئے سال کے متعلق احساسات ہر بار علیحدہ ہوتے ہیں کبھی خوشی کبھی غم اس دفعہ بہت خوش ہوں وجہ معلوم نہیں (لگتا ہے کوئی بڑی خوشی ملنے والی ہے) نیو ایئر کے احساسات پچھلے سال بہت عجیب تھے مارننگ شو دیکھتے ہوئے جگن کی بات پسند آئی کہ نئے سال کے لیے گول سیٹ کرو انہیں لکھ لو اور جب سال جانے لگے تو دیکھو کیا کیا حاصل کیا ہے میں نے ایسا کیا 15 گول سیٹ کیے اور آپ کو حیرانی ہوگی کہ آنچل میں لکھے یہ سوالات پڑھتے یہ بات یاد آئی ڈائری نکالی تو بس گول واقع ہی گول ہوئے پڑے تھے جناب پھر کہا جو مائز گول تھے وہ پانچ دن میں حاصل کیے اور آئندہ ایسے کام کرنے سے پناہ مانگی (جو کرنے نہیں تھے) اب احساسات بہت اچھے ہیں کیونکہ سنا ہے جنوری میں ہمارا فن فیئر اور مارچ میں ٹور جانا ہے تو آئم سو ایکسائٹڈ۔

۲) سو سیڈ‘ ایسی کوئی کامیابی نہیں جو میری توقعات سے بڑھ کر ثابت ہوئی ہو مگر خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہر پل خوشیوں سے بھرپور دیا اور کامیاب بنایا اس کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے میرے لیے میرا اللہ ہی کافی ہے اس کی نصرت سے بڑھ کر کسی کی مدد نہیں خدا تمام انسانوں کی دلی نیک خواہشات پوری کرے اور مجھے میرے مقاصد میں کامیاب کرے آمین۔ اس کے علاوہ میم سمعیہ سے رابطہ بحال کرائے میں تو ترس جاتی ہوں ان سے بات کرنے کو۔ 

۳) 2016ء سے بہت سی امیدیں تھیں بعض پوری ہوئیں اور بعض ادھوری رہ گئیں آنچل میں افسانہ لکھنا چاہتی تھی جو بوجہ وقت کی قلت ممکن نہیں ہوا امید ہے 2017ء میں مجھے بہت محنت کرنی ہے پوزیشن لینی ہے اور باقاعدگی سے نماز پڑھنی ہے (ان شاء اللہ) اللہ توفیق دے آمین اور مجھے خدا پر یقین ہے کہ اس سال میری کزن عنزہ بہت جلد اپنا مقام بنا لے گی ان شاء اللہ اور میم سمعیہ ڈگری کالج جلال پور آئیں۔ 

۴) ہر مصنف ہی بہت اچھا ہوتا ہے لیکن مجھے حرا قریشی اور عظمیٰ شاہین نے بہت متاثر کیا انہوں نے قلم کا حق ادا کردیا ہے اس کے علاوہ حجاب کے تمام افسانہ رائٹرز نے کمال لکھے ۔ اللہ انہیں مزید ترقیاں اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ 

۵) مجھے نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آنچل میں اس سال کوئی ایسی تحریر نہیں تھی جس نے مجھے ہنسنے پر مجبور کیا ہو ہر فرد تنقید اور تعریف کا حق رکھتا ہے اور الحمدللہ آنچل نے یہ حق سب کو دیا ہے، آنچل کو ایسی تحریریں ضرور شائع کرنی چاہیے جو چند لمحوں کی خوشی کا باعث بنیں اور ایسے رائٹرز کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے سیدہ غزل زیدی پلیز کم بیک قلم کے ذریعے جہاد جاری رکھیں۔ میں سیدہ غزل زیدی، حرا قریشی، عظمیٰ شاہین سے بہت متاثر ہوں اور نمرہ احمد تو موسٹ فیورٹ ہیں فائزہ افتخار بہت بہترین رائٹر ہیں میں آنچل کے صفحات پر نمرہ احمد کو دیکھنا چاہتی ہوں اس کے علاوہ سیدہ غزل زیدی اور ام مریم کو ویلڈن آپ تینوں ضرور آنچل میں انٹری دے دیں پلیز آپی نمرہ یو مسٹ۔

۶) ظاہر سی بات ہے لائف کا ایک سال کم ہونے کا دکھ کسے نہیں ہوتا ہاں دکھ ہے کہ لائف کا ایک سال کم ہو رہا ہے خوشی بھی ہے کچھ اچھے کام کیے لیکن برے کام بھی بہت کیے لیکن اللہ کریم سے دعا ہے کہ آئندہ سال زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

میرے گناہ ہیں زیادہ یا تیری رحمت

کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

بس امید ہے کہ اللہ معاف کرنے والا ہے معاف کر دے گا ان شاء اللہ میں چاہتی ہوں کہ میں باقاعدگی سے نماز ادا کروں اللہ مجھے اس کی توفیق عطا فرمائے ایک بات کی بہت خوشی ہوئی کہ میم حنا پرنسپل بن گئی اور دکھ یہ کہ میم سمعیہ ہم سے ملنے نہیں آئیں آئندہ سال آئیے گا پلیز میم۔

۷) کیا پوچھ لیا آپ گڈ میموریز تو بہت ساری ہیں لیکن ایک آپ کے گوش گزار کرتے ہیں کہ ہم چار کزنز نماز پڑھ رہی تھیں اور بھائی نے پوچھا سات روپے کس کے ہیں میز کے نیچے سے ملے ہیں تو ہم چاروں کی چاروں نے نماز توڑ کر (استغفراللہ) کہا ہمارے ہیں پھر کیا ہوا سب کے ہنس ہنس کے پیٹ میں بل پڑ گئے اور ہم چاروں شرمندہ متعلقہ شرمندگی سے بچنے کے لیے دوبارہ سے نماز شروع کردی (اللہ ہمیں معاف کرے) خوشیاں تو کافی ملیں الحمداللہ اللہ مزید دے آمین، آپ کو بھی اور ہمیں بھی چلیں جوابات زیادہ لمبے نہ ہو جائیں اس لیے خدا حافظ۔

فائزہ بھٹی… پتوکی

۱) پہلے سے خدوخال ہیں نہ پہلے سے وہ خیال

ہم ایک سال کے اندر کتنے بدل گئے

جہاں تک احساسات کی بات ہے تو ایک دم سرد، جامد دسمبر جنوری کی ٹھٹھرتی اداس شاموں اور راتوں کی طرح جنوری کے آنے سے پہلے تو مجھے دسمبر کے جانے کا غم ہی کھائے جاتا ہے مجھ سے تو یہ دسمبر رکتا نہیں تو پھر دل کرتا ہے کہ سب کو پکڑ پکڑ کر بولوں کوئی تو جاتے دسمبر کو روک لے کوئی تو پھر میرے دل سے ایک عجیب سی دعا نکلتی ہے کہ اللہ مجھے ایک اور دسمبر دکھا دے ایک اور…

اکثر تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی لوگ کیسے نئے سال پر پٹاخے پھوڑتے ہیں کون سی خوشی انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے ان کے اندر ایسا کون سا انوکھا جذبہ جو انہیں یہ سب کرنے پر اکساتا ہے ہم سے تو نہ ہوسکا آج تک ہمیں تو ایک ہی بات رولائے دیتی ہے۔ 

ساجد کوئی کلی نہ کھلی شاخ غم پر

یہ سال بھی عذاب جہالت میں کٹ گیا

ہاں یہ ہوتا ہے کہ اپنے پیاروں کے لیے دعا کرتی ہوں کہ اس سال بھی ہمارے ساتھ ہوں۔

۲) ایسی کوئی بڑی کامیابی تو نہیں ہاں مگر یہ ہوا کہ مارچ میں بخیر و عافیت اسپتال سے گھر واپس آئی، اگست میں ایم اے پارٹ ون کے پیپر ہوئے ستمبر میں اکلوتے بھائی کی شادی دیکھی کچھ زیادہ بڑی نہیں مگر چھوٹی چھوٹی کامیابیاں ساتھ ساتھ چلیں۔

۳) 2015ء کافی برا سال گزرا تو 2016ء سے کوئی خاص امیدیں وابستہ ہی نہیں کیں مگر پھر بھی 2016ء میں بہت کچھ ایسا اچھا ہوا جس کی مجھے قطعی امید نہیں تھی اور اس کے علاوہ دل ناراض کو خوش کرنے میںبہت سا سامان رہ بھی گیا، زندگی میں کچھ بھی یکدم پورا نہیں ہوتا ہمارے بھی کچھ ادھورے کام ہیں، جن کے کرنے کو من بے تاب و بے قرار مگر ان ادھورے کاموں کی تشہیر پر راضی نہیں بس دعا کریں 2017ء خوشی کا پیغام لے کر آئے ہم سب کے لیے۔ 

۴) ہر مصنفہ نے اپنے اپنے طور پر متاثر کرنے کی بھرپور کوشش کی کیونکہ ہر تحریر کوئی نہ کوئی مقصد لیے ہوتی ہے کسی ایک کا نام لینا دوسرے کے ساتھ زیادتی ہوگی مگر پھر بھی… پھر بھی 

یہ اور بات کہ دوچار نام ایسے ہیں

جنہیں بھلانا بھی چاہوں تو میں بھلا نہ سکوں

۵) یہ ذرا مشکل سوال ہے ہمیں ذرا کم ہی کسی ناول پر ہنسی آتی ہے۔ 

۶) 2017ء میں بہت سی رائٹرز کے ناول پڑھنا چاہوں گی سب سے پہلے تو اپنی سمیرا شریف طور سے مکمل ناول لکھوائیے، عشنا کوثر کو بھی پکڑیے، نادیہ جہانگیر، سائرہ رضا، سمیرا حمید، نایاب جیلانی، نبیلہ عزیز، عفت سحر، آسیہ مرزا سے 

کوئی ایک ایک تو ناول ضرور لکھوائیے اگر ایسا کرلیا تو (یہ دل آپ کا ہوا)۔

۷) 2017ء میں آنچل میں تبدیلی کوئی خاص نہیں،

کون سی بات ہے تم میں ایسی

اتنے اچھے کیوں لگتے ہو؟

دماغ ایک دم خالی کسی ٹین ڈبے کی طرح جیسے بجانے پر خالی پن کا احساس ہوگا اور کچھ بھی نہیں ہر خیال، ہر سوچ پر برف پڑ جاتی ہے کیونکہ گزرے برس میں بعض چیزیں بعض یادیں ہوتی ہی ایسی ہیں جامد سرد کردینے والی۔ 

کتنی سارنگ ہے زندگی

۹) ہر گزرنے والے دن میں کچھ نہ کچھ اچھا اور برا ہوتا ہے اور ہر لمحے پر یاد کا موسم ٹھہر جاتا ہے کچھ یادیں تو دل کو گدگدانے والی ہوتی ہیں جن کے تصور میں آتے ہی رگ و جاں میں سرمستی کی ہی کیفیت طاری ہوجاتی ہے لمحے گنگناتے لگتے ہیں سرگوشیاں ہوتی ہیں قہقہے گونجتے ہیں دل ویران میں رنگ برنگے پھول کھلنے لگتے ہیں بہاریں رقص کرتی ہیں مگر بعض یادیں ساری رعنائیوں کو نگل لیتی ہیں خزاں کی طرح ہیں نا خوب صورت یادیں، بہت خوب صورت بھی ہیں، بتائوں گی مگر ایسے نہیں اسے کسی اور وقت کسی اور ملاقات کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ 

کچھ چیزیں اور باتیں راز رہنے دیں نا مجھے اب کھلی کتاب تو نا بنائیں بعض کتابیں کھلنے کے لیے نہیں بند رہنے کے لیے ہوتی ہیں ان کے لیے کچھ خاص وقت خاص لوگوںکا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ 

(جاری ہے)

 

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close