Aanchal Jan-17

ہمارا آنچل

ملیحہ احمد

فائقہ اشرف

السلام علیکم! سجنو تے مترو سنائو جی کی حال نے تویاڈے او یہ کون آگیا پیور پنجابی بولن والا جی جناب اے آسی تشریف لائے آجی میرا نام ہے فائقہ اشرف اور مابدولت یکم مئی کو گجرات کے ایک خوب صورت گائوں حاجی والا میں پیدا ہوئی جس موسم میں ہم آئے اس موسم کے اثرات ٹھیک ٹھاک ہمارے اندر پائے جاتے ہیں ہم پانچ بہن بھائی ہیں جن میں میرا آخری نمبر ہے ۔ میں نے میٹرک کے بعد فی الحال فارغ ہوں‘ کیونکہ میں ابھی بیمار ہوں اور باقاعدہ ٹریٹمنٹ لے رہی ہوں۔ اس لیے تعلیم جاری نہیں رکھ سکی‘ دعا کریں اللہ مجھے صحت دے‘ آمین پھر میں بہت سارا پڑھوں گی‘ مجھے شوق بلکہ جنون ہے کہ میں وکیل بنوں (اچھا جی چلو چھڈووکیل بن کے وی عدالتاچہ تکے کھانے نے)مجھ سے بڑے بھائی رضوان ہیں جو کہ انجینئرنگ کے تیسرے سال میں ہیں ‘ مجھے بہت پسند ہیں اور اس سے بڑے بھائی عمران حافظ قرآن ہیں‘ اس سے بڑے بھائی عدنان ہیں جو سعودیہ میں جاب کرتے ہیں ان کے بعد میری آپی ہیں جو کہ شادی شدہ ہیں اور ان کی تین کیوٹ کیوٹ سی بیٹیاں ہیں اور سب سے اہم ہیں میرے لیے میرے امی ابو جن سے میں بہت پیار کرتی ہوں‘ میرے ابو بیمار ہیں‘ دعا کریں اللہ انہیں صحت دے۔ کھانے میں سب کچھ کھالیتی ہوں لیکن سب سے زیادہ کریلے‘ بریانی‘ کڑھی پکوڑے‘ برگر اور دوسری چٹ پٹی چیزیں بہت پسند ہیں۔ لباس میں ساڑھی‘ شلوار قمیص اور لمبا دوپٹہ پسند ہے ۔ نصرت فتح علی ‘ ابرار الحق‘ افشاں زیبی‘ عاطف اسلم کی آواز پسند ہے اور کوکنگ کا شوق تو ہے لیکن پکانا کچھ نہیں آتا‘ بس کھانا آتا ہے( جی گل اے کے ایسی تے بس خوبیاں دے مالک آ‘ خامیاں کوئی نئیں)۔ خامی یہ ہے کہ جو بات ہو منہ پر کہنے کی عادی ہوں یعنی منہ پھٹ ہوں اور اچھی عادت یہ ہے کہ میں کسی کا برا نہیں چاہتی ۔ باتیں تو ابھی بہت ساری کرنی تھیں لیکن اجازت چاہوں گی‘ اللہ حافظ۔

نجمہ انور بھٹی

آنچل کے تمام قارئین کو میری طرف سے السلام علیکم! جی ہم ہیں پیار کے راہی مطلب آنچل کے پیار میں دیوانے۔ نام ہمارا نجمہ انور اور کاسٹ بھٹی ہے۔ تعلیم میٹرک ہے‘ پڑھنے کا شوق تھا مگر کچھ وجوہات کی بناء پر یہ سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔ آنچل اور میرا ساتھ آٹھ سال پرانا ہے‘ آنچل میں اور میری سسٹر فرینڈ ’’بشریٰ باجوہ‘‘ مل کر پڑھتے ہیں۔ بشریٰ آپی میری ہمسائی بھی ہیں پھر ہم مل کر تبصرہ کرتے ہیں۔ فیورٹ کلر بلیک‘ سی گرین۔ فیورٹ کھانا مٹر پلائو‘ کسٹرڈ۔ فیورٹ پھل مالٹا‘ آم‘ انگور ہیں۔ ہمارے کھیتوں میں بھی مالٹے ‘ امرود‘ جامن ‘ بیر کے درخت ہیں اور گلاب کے پھول بھی۔ سادہ پانی ڈرنک میں اور شیزان‘ لباس میں شلوار قمیص اور فراک پسند ہے۔ موسم بہار کا پسند ہے‘ گرمی پسند نہیں۔ رائٹرز میں عمیرہ احمد‘ نمرہ احمد‘ سمیرا شریف طور‘ ثمرہ بخاری‘ عفت سحر‘ نازیہ کنول نازی‘ ام مریم‘ حمیرا نگاہ‘ غزالہ رائو‘ ماہا ملک پسندہیں۔ فیورٹ شاعر وصی شاہ‘ علی حسنین (کراچی)‘ پروین شاکر‘ غزالہ رائو‘ راشد ترین‘ قدیر رانا‘ ارشد محمود ارشد‘ بشریٰ باجوہ ہیں۔ گھر کے کام سلائی کڑھائی ‘ کوکنگ میں ایکسپرٹ ہوں‘ ہم ہوتے ہیں اور گھر کے کام ہوتے ہیں حتیٰ کہ بجلی کے سوئچ اور بلب اور تاروں کے جوڑ خود لگاتی ہوں۔ نرم مزاج اور ہنس مکھ ہوں اور ایسے ہی لوگ اچھے لگتے ہیں‘ سنجیدہ ہوں ویسے میں۔ میری فرینڈز میں بشریٰ باجوہ‘ فوزیہ (ساہیوال) اور باقی بچھڑ گئیں‘ باقی آنچل میںفضہ اسلم‘ شازیہ آبرو (گوگیرہ) اوکاڑہ کی فرینڈز ہیں۔ جاناں اچھی لگتی ہے‘ نرجس رانی اور ایک مہک اعوان ملک تھی پتا نہیں کہاں گئی وہ۔ آنچل کے فیورٹ سلسلے دوست کا پیغام آئے‘ کام کی باتیں ہیں۔ فیورٹ ناول ’’محبت دل پہ دستک‘ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا‘ پیر کامل‘ قراقرم کا تاج محل‘ جو چلے تو جاں سے گزر گئے‘ درد گر‘ یہ چاہتیں یہ شدتیں۔‘‘ سنگر علی عباس اچھا لگتا ہے۔ میرے دو بھائی اور میں اکلوتی بہن ہوں‘ میری بھابی ہیں پیاری سی معراج عابد وہ بھی آنچل پڑھ لیتی ہیں۔ اس کے علاوہ میری پھوپو مسرت جہاں بھی ڈائجسٹ لے جاتی ہیں‘ مجھے اپنی فیملی سے بے حد محبت ہے۔ میری تاریخ پیدائش 17 جون ہے‘ اسٹار کا پتا نہیں۔ڈ رامے بھی دیکھتی ہوں پی ٹی وی کے۔ اداکار نعمان اعجاز‘ احسن خان پسند ہیں۔ سارہ چوہدری‘ جاناں ملک‘ ماریہ واسطی‘ ایمان عابد پسند ہیں۔ شاپنگ کی شوقین ہوں‘ سادہ مزاج ہوں سادگی پسند ہوں‘ میک اپ پسند نہیں۔ جیولری میں صرف چوڑیاں پسند ہیں ‘ بچے پسند ہیں اور گلاب اور موتیا کے پھول پسند ہیں۔ ہمارے گھر میں کبوتر‘ بکری کے بچے ہیں اور سفید گھوڑا بھی‘ وہ بہت لاڈلہ ہے ہمارا اور میری آپی بشریٰ باجوہ کا بھی۔ سرسبز کھیت پودے پسند ہیں‘ گرمی میں بارش اچھی لگتی ہے‘ پورا چاند اٹریکٹ کرتا ہے۔ میرا پیغام یہ ہے کہ خود دکھی رہو مگر دوسروں کو دکھی نہ کرو‘ خوشیاں بانٹو‘ اپنی ہار پر مت رو کیونکہ تمہاری ہار کسی اور کی جیت ہے۔ بتائیے ضرورمیرا یہ بونگا سا انٹرویو کیسا لگا‘ سب آنچل رائٹرز قارئین و اسٹاف کو سلام‘ اللہ حافظ۔

امبر بخاری

السلام علیکم ! قارئین‘ ریڈرز اور آنچل اسٹاف آپ سب کو امبر بخاری پر خلوص محبتوں سے گندھا چاہتوں بھرا سلام پیش کرتی ہے۔ ہمارا آنچل میں بہت سی بہنوں دوستوں سے ملاقات ہوتی رہتی ہے تو میں نے سوچا امبر بخاری کیوں گمنامی کی زندگی گزار رہی ہو‘ دنیا اتنی اہم ہستی سے بے خبر ہے (آہم) تو جناب اس اہم ہستی سے ملاقات ہوجائے‘ تیار ہوجایئے۔ میرا نام امبر بخاری ہے‘ تحصیل خیرپور کے قریب چھوٹا سا خوب صورت گائوں ہے ‘ 1990ء میں پیدا ہوئی۔ مجھ سے چھوٹی دو بہنیں ہیں پھر پیارا سا اکلوتا بھائی اس سے چھوٹی دو بہنیں نا م نہیں بتائوں گی بھئی انہوں نے خود منع کیا ہے۔میرا اسٹار ورگو ہے جس کی تمام خوبیاں خامیاں مجھ میں بدرجہ اتم موجود ہیں‘ ایف اے کیے دو سال ہوگئے ہیں۔دو سال ضائع ہوگئے جس کا افسوس ہے‘ اب ان شاء اللہ ایڈمیشن لوں گی چونکہ پہلی اولاد تھی اس لیے بہت ناز نخرے اٹھائے ہیں سب نے لیکن اب مجھے اپنی فیملی سے بہت سی شکایتیں ہیں۔

مجھے اکثر اپنوں سے چاہت کا شکوہ رہتا ہے دوست

کیونکہ کبھی اپنوں نے چاہا نہیں مجھے اپنوں کی طرح

فرینڈز تو میری اور چھوٹی بہن کی مشترکہ ہیں جن میں نادیہ‘ نازیہ‘ رابعہ‘ سعدیہ‘ مہوش‘ صوبیہ‘ آصفہ ‘ شاہین‘ پروین اور یہ سب بے وفا ہیں (مذاق کررہی تھی) اور میری خاص دوستیں (ارم‘ روزینہ) جو کہتی تھیں ’’امبر ہم تمہارے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتیں‘‘ موسم کی طرح بدل گئی ہیں اس کے باوجود میں ان دونوں کو کبھی نہیں بھلا سکتی اور فوزیہ تو میری کسی نیکی کاصلہ ہے‘ دوستوں کے لیے میں اتنا ہی کہوں گی…

ہم نہ بدلیں گے کبھی وقت کی رفتار کے ساتھ اے دوست

ہم جب بھی ملیں گے انداز پرانا ہوگا

دوستوں کی بے وفائی اور کچھ اپنوں بلکہ بہت پیارے رشتوں نے اتنی تکلیف دی کہ دنیا سے کٹ کر رہ گئی۔ چھوٹی بہن نے مجھے بہت سنبھالا اور میرا ساتھ بھی دیا لیکن پھر بھی ضدی اور تھوڑی بدمزاج ضرور ہوگئی ہوں‘ غصہ تو ہر وقت ناک پر دھرا رہتا ہے‘ پلیز آپ خوف زدہ نہ ہوں‘ غصہ تو صرف ان کے لیے ہے جنہوں نے مجھے تکلیفیں دی ہیں (کیا کہا؟) خوبیاں اور خامیاں بتائوں‘ ٹھیک ہے اٹینشن ہوجایئے۔ صاف گو بہت ہوں جو بات دل میں ہو منہ پر کہہ دیتی ہوں۔ لوگ مجھے منہ پھٹ کہتے ہوں گے لیکن پیٹھ پیچھے (تو جناب ہر کوئی میری طرح بہادر تھوڑی ہے) جو حق پر ہو اسی کا ساتھ دیتی ہوں۔ مجھے چاپلوس ‘ خود غرض‘ خوشامدی اور دوغلے لوگوں سے سخت نفرت ہے اور ایسے لوگوں سے دنیا بھری پڑی ہے اور میرا خاندان بھی۔ پلیز عزیزم ناراض مت ہو پتا تو ہے نا آپ کو بہت صاف گو ہوں۔ خیر کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہوا کرے (سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے نا)۔ میں بہت مخلص ہوں لیکن میرے ساتھ کوئی بھی مخلص نہیں ہے سوائے فوزیہ اور روزینہ کے۔ ہر کسی نے میرے ساتھ کوئی نہ کوئی زیادتی ضرور کی ہے اور کبھی تنگ آکے میں بدلے میں دوچار سنا دوں تو بدلحاظ بھی میں کہلائی جاتی ہوں اور ویسے بھی میرے خاندان کو تو کچھ زیادہ ہی شکایتیں ہیں مجھ سے (بھئی اب اپنے گریبان میں کون جھانکتا ہے) لیکن مجھے اپنے رب پر پورا یقین ہے کہ اس نے میرے حصے کی محبت ضرور کہیں نہ کہیں رکھی ہوگی۔میرے دل میں کسی کے لیے کوئی کھوٹ نہیں ہے لیکن میرے عزیز تو یقین نہیں کریں گے (نہیں تو نہ سہی)۔ تنہائی پسند ہوں اور آپ لوگ منہ کے زاویے درست کیجیے‘ تنہائی پسند ہونا اتنی بری بات بھی نہیں ہے ویسے کبھی کبھی ہلہ گلہ بھی چل جاتا ہے جو لوگ میرے ساتھ مخلص ہیں مجھے دل سے اپنا مانتے ہیں ۔ ان کے لیے تو میں جان بھی دے سکتی ہوں (آزما کر دیکھ لیجیے گا)۔ موڈی بہت ہوں (پل میں تولہ پل میں ماشہ) بلاوجہ کسی کو تکلیف نہیں دیتی‘ کسی کی دل آزاری نہیں کرتی (اچھا اچھا اپنی پسند ناپسند کے بارے میں بتائوں) اوکے جناب (آپ کا حکم سر آنکھوں پر) لباس مجھے شلوار قمیص اور بڑا سا دوپٹہ لینا پسند ہے۔ ویسے فراک اور چوڑی دار پاجامہ بھی پسند ہے۔ کھانے پینے کی زیادہ شوقین ہوں‘ زردہ بہت پسند ہے اس کے علاوہ کسٹرڈ بھی پسند ہے۔ ڈرنک میں صرف مینگو شیک ‘ سبزیوں میں گوبھی مٹر باقی بھی بس کھاہی لیتی ہوں۔ چکن سے الرجک ہوں‘ سخت ناپسند ہے۔ خوشبو پوائزن کی پسند ہے‘ گلاب اور چنبیلی کے پھول بہت زیادہ پسند ہیں‘ اپنی فیملی سے محبت تو بہت کرتی ہوں لیکن جب اعتبار ٹوٹ جائے تو… سنجیدہ لوگ پسند ہیں‘ مذاق ایک حد تک اچھا لگتا ہے میں بنا اجازت کسی کی کوئی چیز نہیں اٹھاتی۔کتنی گری ہوئی غیر اخلاقی حرکت ہوتی ہے نا بغیر اجازت کسی کی چیزیں اٹھالینا اور پھر اپنی غلطی بھی تسلیم نہ کرنا۔چھوٹے بچے بہت پسند ہیں اور میں نے جتنی محبت اپنے بھتیجے بہادر علی سے کی ہے آج تک کسی بچے سے نہیں کی ہے۔ باقی خواہش کے بارے میں تو آپ کیا پوچھتی ہیں‘ پہلی خواہش کہ بہت ساری تعلیم حاصل کروں بہت کریزی ہوں تعلیم کے سلسلے میں۔بعض اوقات تو لگتا ہے کہ ڈھیر ساری ڈگریاں لینے کے بعد بھی میری تشنگی نہیں مٹے گی (دنیاوی‘ دینی دونوں تعلیم کے بارے میں کہہ رہی ہوں) اور آخری خواہش کہ آرمی میں چلی جائوں اور در حسینؓ پر جاسکو ں۔آرمی میرا عشق ہے‘ آرمی میں چلی بھی جاتی مگر (ہائے رے ظالم سماج) زہر لگتے ہیں وہ لوگ مجھے جن کو دوسروں کی خوشی برداشت نہیں ہوتی پلیز مجھے گھوریں مت جانے لگی ہوں‘ مجھے لوگوں کی پروا نہیں ہے میں تو اپنے آنچل دوستوں قارئین سے پوچھوں گی کہ کیسا لگا میرے بارے میں جان کر پلیز ضرور بتایئے گا‘ جانے سے پہلے چھوٹی سی خوب صورت بات کہوں گی ’’نماز پڑھو قبل اس کے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے‘‘ دعاگو اور دعائوں کی طالب‘ اللہ حافظ۔

رخسانہ اختر بٹ

آنچل اسٹاف‘ تمام قارئین اور آنچل کی تمام پریوں کو پیار بھرا سلام‘ آنچل ہمارا موسٹ فیورٹ شمارہ ہے جو ہم ہر ماہ پڑھتے ہیں تو اس دفعہ دل نے کہا کہ چل بچہ تو بھی اپنا تعارف بھیج ہی دے تو ہم نے اپنا تعارف لکھنے اور بھیجنے کی جسارت کر ہی لی۔ مابدولت کا نام رخسانہ اختر بٹ ہے ہم پانچ بھائی بہن ہیں‘ میرا نمبر تیسرا ہے دو بھائی بڑے ہیں پھر مجھ سے چھوٹی دو بہنیں ہیں۔ میں شاہینوں کے شہر سرگودھا میں پیدا ہوئی‘ مجھے فخر ہے اپنے پاکستانی ہونے پر ہم تینوں بہنیں بی ایس اردو کی طالبات ہیں اور الحمدللہ کالج میں کافی عزت ہے لڑکیوں میں۔ کالج لائف بہت اچھی ہے ہم سب فرینڈز اسے بہت انجوائے کررہی ہیں‘ میرا موسٹ فیورٹ کلر پیچ ہے‘ شاپنگ کا بہت زیادہ شوق ہے۔ پاک آرمی بہت ہی زیادہ پسند ہے (پاکستان زندہ باد‘ پاک آرمی پائندہ باد)۔ پسندیدہ ہستیوں میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘ حضرت علیؓ اور قائد اعظم محمد علی جناح شامل ہیں۔ پسندیدہ کتاب قرآن مجید ہے اور اللہ تعالیٰ کے گھر کے دیدار کی حسرت ہے دل میں‘ اللہ تعالیٰ پوری فرمائے‘ آمین۔ دوستی ایک بہت مقدس رشتہ ہے میں کہتی ہوں دوستی کے بغیر زندگی کچھ بھی نہیں ہے‘ میری دوستوں میں فروا اظفر‘ مومنہ عرف مومو‘ عائشہ قاسم اور کائنات شامل ہیں اور ویسے کالج میں ہر کسی کے ساتھ اچھی دعا سلام ہے۔فروا میری بیسٹ فرینڈز ہے اور بقول فروا کے رخسانہ میری دوسری دوستوں کو بھی برداشت کرلیا کرو اور میرا جواب یہ ہے کہ ہر اس دوست کو برداشت کرلوں گی جو دوستی کی ہی غرض سے آئے مگر اسے کبھی بھی برداشت نہیں کرسکتی جو دوستی کی آڑ میں دوستوں کو جدا کرنے آئے (اب اسے تم میری خامی کہو خود غرضی یا…)۔ شاعری کا شوق ہے تھوڑی بہت کی بھی ہے مابدولت رائٹر بھی ہیں۔ ہم نے اخبار جہاں میں بچوں کے لیے کہانیاں لکھی ہیں اور عمران ڈائجسٹ میں بھی تھوڑا بہت لکھا ہے اے آر کاشمیری کے نام سے ۔ پسندیدہ شاعر فراز ہے اور اقبال تو ہیں ہی ٹاپ آف دی لسٹ۔پسندیدہ رائٹرز میں نمرہ احمد‘ نازیہ کنول نازی‘ اقراء صغیر احمد‘ فاخرہ گل شامل ہیں باقی سب بھی بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔ تو اب آتے ہیں اپنی خامیوں اور خوبیوں کی طرف تو بقول عائشہ‘ کائنات (بہنیں) باجی سدرہ (بھابی) اور فروا (فرینڈز) ان سب کے خیال میں یا پھر ان کی رائے کہہ لیں میں غصہ بہت زیادہ کرتی ہوں ۔ ذرا سی بات پر بھڑک جاتی ہوں مجھے اپنی اس خامی کو کنٹرول کرنا چاہیے (اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے غصہ ختم کرنے کی) بقول میری بہن عائشہ اختر بٹ کے تم کیئرنگ بھی بہت ہو (آخرکار مابدولت کے سینے میں بھی دل ہے۔ ایک بہت بڑی خامی یہ ہے امی کی نظر میں کچن میں نہیں جاتی یار کوکنگ کے لیے تو میرا دل ہی نہیں کرتا کرنے کو۔خوبی یہ ہے بقول باجی سدرہ کے دل کی بری نہیں ہو بظاہر غصہ کرتی ہو مگر دل میں پشیمانی ہو تی ہو اور جلدی سوری بول لیتی ہو۔بقول میری کزن نمرہ شفیع بٹ کے آپی! آپ دل کی بہت اچھی ہو جو آپ کے ساتھ تھوڑا برا کرے اس کو بھی اچھائی میں جواب دیتی ہو۔ جی جناب بہت ہوگیا کہیں آپ لوگ بور ہی نہ ہوجائو اور آخری بات یہ کہ اپنے آپ سے منسلک رشتوںکو کبھی بھی دکھ نہ دو کیونکہ اپنوں کے دیئے دکھ قبر تک ہمارے دل میں ساتھ ہی رہتے ہیں اور انسان اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتا ہے اور اس کا رشتوں پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے سو اپنے رشتوں کو ہمیشہ خوشیوں کا تحفہ دیں اور ان کو اذیت سے بچائیں‘ فی امان اللہ دعائوں میں یاد رکھیے گا۔

 

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close