Aanchal Jan-17

(اسلام علیکم(دانش کدہ

مشتاق احمد قریشی

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت کی جمع جنات ہے اور جنات لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں۔(۱)جنت الفردوس(۲)جنتِ عدن(۳)جنت النعیم(۴)دارالخلد(۵)جنت الماویٰ(۶)دارالسلام(۷)عیلین۔

بعض اہل تحقیق نے بہشت کے آٹھ درجات قائم کئے ہیں۔(۱)عدن(۲)جنت الماویٰ(۳)فردوس(۴)نعیم(۵)دارالقرار(۶)دارالخلد(۷)دارالسلام(۸)دارالجلال۔محققین کے مطابق سات درجے تو انسانوں کی قیام گاہ کے لئے ہیں جبکہ آٹھواں دیدار الٰہی کے لئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک دیدار حق تعالیٰ کے لئے مقام عیلین ہے۔

علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر ’’کشاف‘‘میں جنت کے ناموں کی ترتیب اس طرح تحریر کی ہے۔ دارالخلد۔دارالمقام۔دارالسلام۔جنت عدن۔دارالقرار۔جنت نعیم۔جنت الماویٰ۔ جنت الفردوس۔علامہ نے سورۃ الزاریات کی تفسیر میں تحریر کیا ہے کہ عدن کو زمردسبز سے بنایا گیا ہے۔ اس میں سخی عادل ونمازی وزاہد اور آئمہ مساجد رہیں گے۔

جنت الماویٰ کو نور سے تیار کیا گیا ہے اور یہ مقام ہے شہیدحقیقی‘ خیرات کرنے والوں‘ غصہ کو برداشت کرنے والوں‘ اورتقصیروں کے معاف کرنے والوںکا۔

جنت فردوس‘ اس کو جلالِ کبریائی کے نور سے بنایا گیا ہے۔ اس میں انبیاء علیہم السلام رہیں گے اس کے درمیان غرفہ نوررضا کا بنایا ہے اسے مقام محمود کہتے ہیں جس میں نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوں گے۔

جنت نعیم۔ اس کوزبرجدسبسز سے بنایا ہے اس میں شہید حکماء اور موذّن رہیں گے۔

دارالقرار۔ اس کو مروارید روشن سے بنایا گیا ہے۔ اس میں عام اہل ایمان مومنین رہیں گے۔

دارالسلام۔ اس کو یاقوتِ سرخ سے بنایا گیا ہے۔ اس میں فقیر‘ صابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کے لوگ رہیں گے۔

دارالجلال۔اس کو زمردسرخ سے بنایا گیا ہے اس کو دارالمقام بھی کہتے ہیں اس میں اس اُمّت کے اغنیأ وشاکر رہیں گے۔

قرآن حکیم میں لفظ جنت صیغہ واحد‘ تشنیہ‘ اور جمع میں ایک سو انچاس مرتبہ آیا ہے اور بعض جگہ اضافتوں کے ساتھ بھی آیا ہے۔

قرآن کریم میں دنیا کی زندگی کے بعد آنے والی زندگی جو دائمی اور غیر فانی ہوگی کا گھر ہر قسم کے آزار اور پریشانی سے پاک ہوگا باغ یعنی جنت کہا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان لوازم کا بھی ذکر کیا گیاہے جن سے ہم اس دنیا کی زندگی سے مانوس ہیں‘ مثلاً باغ‘ مرغزار‘ آب رواں گل وثمر‘ عمدہ مشروبات وملبوسات وغیرہ۔قرآنی آیات سے جنت کا جو تصور قائم ہوتا ہے وہ مثالی تصور ہے۔جنت نیکوکاروں کے ایسے گھر سے عبارت ہے جس میں انسانوں کی اعلیٰ ترین تمنائیںاور آرزوئیں پوری ہوں گی۔ جنت کی ایک صفت خلود بھی ہے یعنی اس گھر میں پہنچ کر لوگ ایسی مسرتوں سے بہرہ مند ہوں گے جنہیں زوال ہی نہیں ہوگا۔ یہاں کی مسرتیں ہر قسم کے غم وحزن سے پاک ہوں گی۔ یہ ایسی پاکیزہ جگہ ہوگی جس میں کینہ‘ حسد‘رشک اور ہر قسم کی لغویات کا قطعی گزر نہیں ہوگا۔ وہ امن وسلامتی کا گھر ہے۔مقامِ رحمت ہے۔ مقامِ نوراور مقامِ رضوان‘مقامِ طیبہ وطاہر ہے مقامِ تسبیح وتہلیل اور مقامِ قرب الٰہی اور مقامِ نعمت دیدار ایزدی ہے۔

طبرانی اور شعرانی نے بیان کیا ہے کہ جنت عام طور پر بلند ترین آسمان کے اوپر اور عرش الٰہی کے نیچے بتائی جاتی ہے۔ جنت کے مختلف طبقات یامقامات تک پہنچنے کے لئے آٹھ بڑے دروازے ہیں۔ ہر طبقہ اپنی جگہ عموماًکئی درجوں میں منقسم ہے بلند ترین درجہ کو جو ساتویں آسمان پر یا اس سے بھی ماورا ہے عدن اور فردوس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔

جنت کے دروازوں کو کھولنے کی چابی کے تین دندانے ہیں جو ایک حدیث میں بیان ہوئے ہیں اور وہ یہ ہیں (۱)توحید کا اقرار(۲)اطاعتِ خداوندی(۳)تمام غیر شرعی کاموں سے احتراز۔

جنت میں سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوں گے۔ ایک حدیث میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہشت کے سودرجے ہیں اور ہر درجے کی مسافت ارض وسماء کی مسافت کے برابرہے اور اس کے اعلیٰ درجے فردوس پر عرش ہے اور وہ بہشت میں درمیان کی چیز ہے اور اسی سے چار نہریں جاری ہیں۔ سو تم جب اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو اس لئے کہ یہ بہشت کا اعلیٰ درجہ ہے۔

سورۃ الواقعہ میں جنت کی منظر کشی اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس طرح کی ہے۔

’’مرصع تختوں پر تکئے لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی مجلسوں میں ابدی لڑکے شراب چشمہ جاری سے لبریز پیالے اور کنستر اور ساغر لئے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔جسے پی کر نہ سر چکرائے گا نہ عقل میں فتور آئے گا اورپرندوں کے گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندے کا چاہیں استعمال کریں اوران کے لئے خوب صورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی۔ ایسی حسین جیسے چھپاکے رکھے ہوئے موتی۔ یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا کے طورپر انہیں ملے گا جو دنیا میں کرتے رہے تھے۔وہاں وہ کوئی بے ہودہ کلام یاگناہ کی بابت نہ سنیں گے جو بات بھی ہوگی نیک ہوگی‘ اور دائیں بازو والے‘ دائیں بازووالوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا وہ بے خار بیریوں اور تہ بہ تہ چڑھے کیلوں اور دور تک پھیلی ہوئی چھائوں اور ہر دم رواں پانی اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بے روک ٹوک ملنے والے بکثرت پھلوں اور اونچی نشست گاہوں پر ہوں گے۔ ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے اور انہیں باکرہ بنادیں گے اپنے شوہروں کی عاشق اور عمر میں ہم سن۔(الواقعہ۔۱۵تا۳۷)

ترجمہ:پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور کہہ دیں(اچھا بھائی) سلام! انہیں عنقریب(خودہی)معلوم ہوجائے گا۔ (الزخرف۔۸۹)

تفسیر:آیت مبارکہ میں سورۃ مریم۴۷‘ اورسورۃ اقصص۵۵‘سورۃ الفرقان۶۳کی مانند یہاں بھی سلام متارکہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رب کائنات بتارہا ہے کہ آپ کہہ دیجئے کہ دین کے معاملے میں میری اور تمہاری راہ الگ الگ ہے۔ تم اگر باز نہیں آئے تو اپنا عمل کئے جائومیں اپنا کام کئے جارہاہوں‘ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑدیجئے‘ ان کی کارروائیوں اور ریشہ دوانیوں کی کوئی پروا نہ کریں مطمئن رہیں‘ نہایت امن‘ سلامتی اور شرافت کے ساتھ اپنی راہ پرچلتے رہیں۔اس جملے پر اگر غور کیا جائے تو بہ خوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کفر وعناد اور ایمان نہ لانے والوں کو کیسی سخت دھمکی اورعذاب کی وعید سنا رہا ہے۔ اس دن جب سب پوشیدہ ظاہر ہو جائیِ گا۔ اللہ کے نبی کو سمجھایا جارہا ہے کہ ان سے درگزر کرو اور انہیں ’’سلام‘‘ کہہ کر آگے بڑھو۔اسلام تہذیب وشائستگی اور آداب کا دین ہے‘ وہ اپنے ماننے والوں‘ اہل ایمان کو راستی‘ اخوت‘ بھائی چارے کادرس دیتا ہے۔ آیت مبارکہ میں دشمنوں سے بھی نرمی اور آہستگی کی تعلیم دی جارہی ہے۔ یہ نہیں کہاجارہاجو تمہاری بات نہ مانے اس کی بات تم بھی نہ مانو اور اسے دھتکار کر اپنی راہ لو بلکہ تاکید کی جارہی ہے کہ اس سے لڑنے جھگڑنے کی بجائے آہستگی اور نرمی سے ترک تعلق کرلو اگر کوئی آپ کی بات نہ مانے نہ سنے تو اس سے لڑنے جھگڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کرلی جائے یہی دین اسلام کی تعلیم ہے اسی کی ہدایت آیت مبارکہ میں دی جارہی ہے جیسا کہ سورۃ الشوریٰ میں رب کائنات فرمارہا ہے۔

ترجمہ:اور جو شخص صبر کرلے اور معاف کردے یقینا یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ یہی بات سورۃ المدثر میں بھی کہی گئی ہے۔ (الشوریٰ۴۳)

ولربک فاصبر۔(المدثر۔۷)اور اپنے رب کی راہ میںصبر کر۔ اسلام صبر وبرداشت کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام تہذیب وشائستگی سکھاتا ہے۔وہ مخالف فریق سے علیحدگی بھی بڑے باوقار اور تدبر کے ساتھ کرنے کی ہدایت کرتا ہے اہل ایمان کی تمام تر دوستی اور مخالفت صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ ہی ہمیںشائستگی اور نرم روی کی تعلیم دے رہا ہے کہ اپنی ناراضگی و خفگی کو اللہ پر چھوڑ دو وہ خود ان سے نمٹ لے گا یا تو انہیں راہ راست پر لے آئے گا یا پھر ان کے دلوں کو مہرلگادے گا۔

ترجمہ:تم اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائو۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔ (سورۃ ق۔۳۴)

تفسیر:آیت مبارکہ میں وہ منظر کشی کی گئی ہے جب اللہ تعالیٰ کی عدالت سے فیصلہ ہوگا کسی متقی‘ پاک باز‘ اہل ایمان کو فی الفور اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا جنت اس کے سامنے ہوگی اسے کوئی مسافت طے کرکے چل کے نہیں جانا پڑے گا اس کے اور جنت میں داخلے کے درمیان کوئی فاصلہ کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔ بلکہ جیسے ہی فیصلہ ہوگا ویسے ہی وہ متقی پرہیزگار جنت میں داخل کردیا جائے گا اور فرشتے اسے کہیں گے داخل ہوجائو سلامتی کے گھر میں یہ تمہارے ہمیشہ رہنے کا ٹھکانا ہے اور آج کے دن سے تمہاری دائمی زندگی کاآغاز ہورہا ہے تم ہر قسم کے غم وفکر اور آفات سے محفوظ ہو کرجنت میں داخل ہوجائو اور وہ فرشتے کہیں گے آئو اس جنت میں اللہ اور اس کے فرشتے تم کوسلام کہتے ہیں۔

اس آیت میں بھی گزشتہ آیات کی طرح یہ بات کھل کر سامنے آرہی ہے کہ وہ صفات عالیہ کیا ہیں جن سے انسان جنت کا مستحق ہوتا ہے۔وہی تقویٰ‘ رجوع الی اللہ‘ اللہ سے اپنے تعلق کی حفاظت ونگہداشت‘اللہ کو دیکھے بغیر اس کی ہستی پر یقین رکھتے ہوئے اس سے ڈرنا‘ اوراللہ کی طرف رجوع کرنے والا دل‘ مرتے دم تک اطاعتِ الٰہی اور احکامِ الٰہی’ اتّباع رسول کریم پر قائم رہنا ہی ہمیں متقی افراد کی صف میں شامل کرسکتا ہے اور تب ہی ہمیں جنت نصیب ہوسکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ انسان اپنی روزمرہ زندگی‘ اسلامی نظامِ حیات کے مطابق گزارے تاکہ آخرت کی دائمی زندگی عیش وآرام کے ساتھ میسر آسکے۔

ترجمہ: وہ جب اس کے ہاں آئے تو کہا آپ کوسلام ہے اس نے کہا آپ لوگوں کو بھی سلام ہے۔ (اور کہا یہ تو) اجنبی لوگ ہیں۔ (الذاریات۔۲۵)

تفسیر: آیت میں مذکورواقعہ سورۃ ہود ۶۹ میں اور ۷۴ میں اور سورہ العنکوت۔۳۱ میں آچکا ہے۔ جو فرشتے قوم لوط علیہ السلام پرعذاب نازل کرنے کے لئے بھیجے گئے تھے۔ وہ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی ولادت کی بشارت سنائی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جب یہ دونوں فرشتے آئے تو وہ انسانی شکل میں تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں پہچان نہیں سکے اس لئے انہوں نے ان فرشتوں سے دریافت کیا کہ آپ حضرات سے پہلے کبھی ملاقات نہیں ہوئی شاید آپ اس علاقے میں نئے نئے تشریف لائے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کے سلام کا جواب دے کرحضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لئے کھانے کابندوبست کرنے جاتے ہوئے اپنے خادم سے کہا یہ کچھ اجنبی سے لوگ ہیں پہلے کبھی اس علاقے میں اس شان اور وضع قطع کے لوگ دیکھنے میں نہیں آئے یعنی یہ مہمان ہیں ان کے لئے کھانے کاانتظام کرنے چلے گئے اور اپنی اہلیہ کا پالا ہوا خوب فربہ بچھڑابھون کر ان کے سامنے لاکر رکھ دیا۔جب ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہ بڑھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں خوف پیدا ہوا۔ وہ اس لئے کہ اس معاشرے میں یہ رواج تھا کہ اگر اجنبی مسافر کسی کے گھر جاکر کھانے سے پرہیز کرتا تھاتو سمجھا جاتاتھا کہ اجنبی کسی برے ارادے سے یادشمنی کی نیت سے آیا ہے لیکن جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ یہ فرشتے ہیں جوانسانی شکل میں آئے ہیں اور انہوں نے حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت سنائی اور بتایا کہ وہ قوم لوط کی طرف سزا دینے جارہے ہیں۔

(جاری ہے)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close