Aanchal Jan-17

حمدونعت

عبرت صدیقی/عابد نظامی

رقص میں حسرت وجد میں ارمان بزمِ اتمنا جھوم رہی ہے
حمد خدا کے گیت چھڑے ہیں مست ہے دنیا جھوم رہی ہے
صبح کی حسن افروز فضا میں جلوے ہی جلوے بکھرے پڑے ہیں
کاہکشاں کا باندھ کے سہرا شام تمنا جھوم رہی ہ
نقش و نگار صحنِ گلستاں رنگ و جمالِ فضل بہاراں
صنعتِ رب کا دیکھ کے نقشہ چشم تماشا جھوم رہی ہے
قسمت جاگ اٹھی عابد سارے سنسار کی
جشن عید میلاد النبی ہے آمد ہے سرکار کی
لب بہ ترنم چاند ستارے‘ساز بکف یہ نور کے دھارے
عالم وجد و کیف میں فطرت چھیڑ کے نغمہ جھوم رہی ہے
رنگِ نظام بزم دو عالم یہ حکمت یہ حسنِ سلیقہ
وصف خدا کی دھن میں ازل سے محو ہے دنیا جھوم رہی ہے
اوجِ فلک پر حد نظر تک نور کے عبرت پھول کھلے ہیں
چاند ستاروں کی محفل میں مست ہے زہرا جھوم رہی ہے
جناب عبرت صدیقی…

آج عبد اللہ کے انگنا میں رُت آئی بہار کی
جشن عید میلاد النبی ہے آمد ہے سرکار کی
کیا چراغاں کسی نے کوئی گھی کے دیے جلائے
کسی نے جشن نبی منایا کوئی بگل بجائے
سب نے خوشی منائی نبیوںکے سردار کی
جشن عید میلادالنبی ہے آمد ہے سرکار ﷺ کی
بارہ ربیع الاوال کے دن صبح کے ٹھنڈے سائے
دائی حلیمہ تیرے گھر میں پیارے محمد ﷺ آئے
ہوئی ولادت پیر کے دن رب کے دلدار کی
جشن عید میلا د النبی ہے آمد ہے سرکار ﷺ کی
حوا مریم دیکھ کے بولیں پیارے نبی ﷺ کا مکھڑا
آمنہ تیرا بچہ ہے یا کوئی نور کا ٹکڑا
طالب ہر شے ہونے لگی ان کے دیدار کی
جشن عید میلاد النبی ہے آمد ہے سرکار ﷺ کی
دینے مبارک عرش سے آئی سب نبین کی ٹولی
کوئل باغ میں کوک رہی تھی میٹھی میٹھی بولی
جناب عابد نظامی کراچی والے

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close