Aanchal Feb-17

پلڑا

مصباح علی سید

آنچل میں پھول لے کے کہاں جا رہی ہوں میں
جو آنے والے لوگ تھے وہ لوگ تو گئے
کیا جانیے افق کے ادھر کیا طلسم ہے
لوٹے نہیں زمین پر اک بار جو گئے

اس نے کوئی دسویں بار اس کا نمبر ڈائل کیا تھا مگر ہر بار ’’ناٹ رسپانڈنگ‘‘ کے جواب اس کا دل بالکل توڑ گیا تھا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ اب کرے تو کیا کرے۔ تین دن نمبر دائل کرتے گزر گئے۔ آج اس نے ایک انجانے نمبر سے فون ملایا تھا‘ وہ سہیلیوں کو تنگ کرنے یا جب کبھی کسی کے ساتھ شرارت کا موڈ ہوتا تب وہ ایسا کرتی تھی۔ انجانے نمبر سے فون کرنا‘ کچھ دیر تنگ کرنے کے بعد زور سے قہقہہ لگانا اور پھر اپنا تعارف کروا دینا لیکن اس نے آج یہ انجانا نمبر شرارتاً نہیں بلکہ ضرورتاً استعمال کیا تھا شاید وہ اس کا نمبر دیکھ کر ریسیو نہ کررہا ہو اور ایسا ہی ہوا تھا کیونکہ دوسری ہی ٹون پر کال ریسیو ہوگئی۔

’’پلیز تابش پلیز… فون بند مت کرنا‘ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔‘‘

’’سوری مشی… مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی اور نہ ہی سنتی ہے‘ آئی ایم سوری…‘‘ اس کے بے رحمانہ لہجے پر اس کا دل کٹ کر رہ گیا۔

’’پلیز تابش… پلیز میں تمہارے لیے سب کچھ کرسکتی ہوں‘ اپنے ماں باپ‘ اپنا گھر‘ ہر چیز چھوڑ سکتی ہوں… سب کچھ… میں مر جائوں گی تمہارے بغیر پلیز…‘‘

’’سوری مشی… تم میری خاطر اپنے ماں باپ کو چھوڑ سکتی ہو مگر میں… میں تو تم سے بہت مختلف ہوں۔ میں تو اپنے والدین کی بات تک نہیں ٹال سکتا جو کچھ انہوں نے تمہاری فیملی کے بارے میں بتایا اور جو کچھ اس دن میں نے آنٹی کے رویے میں دیکھا تو آئی ایم سوری… اس کے بعد میں خود بھی نہیں چاہتاکہ ہم مزید ملیں اور ہاں… اگلے ہفتہ میری کزن سے میرا نکاح ہے سو پلیز آئندہ مجھے فون مت کرنا۔‘‘ وہ کیا کہہ رہا تھا اور اس نے کیا سنا تھا‘ وہ مجسمہ بنتی گئی۔

والدین کی انتہائی لاڈلی اور چہیتی جو کچھ زندگی میں چاہا‘ وہ ہمیشہ چاہت سے زیادہ ملا تھا اور جس چیز کی چاہت دل اور سانسوں نے کی تھی وہ ہی ناپید کیوں ہوگیا تھا؟ کس پاداش میں کس جرم کی سزا میں… اولاد والدین کے لیے صدقہ جاریہ ہے تو کیا یہ کفارہ جاریہ بھی بن جاتی ہے۔ آنسوئوں کے بے بہا سیلاب میں اس نے قسم کھائی تھی کہ ’’تم نہیں تابش تو کوئی بھی نہیں‘ کبھی بھی نہیں…‘‘

ء…/…ء

برآمدے میں ایک کونے میں کریم کلر کا بڑا سا روم کولر رکھا تھا جس کے چاروں طرف مکھیوں نے بے ہنگم کالا چھتا بنا رکھا تھا۔ کولر کی چھت پر ایک پیالی میں تھوڑا سا تیل جس لیموں کے بیج اور کچھ پھوک پڑا سڑ رہا تھا یقینا پچھلے اتوار تیل لیموں بچوں کے سر پر لگایا گیا تھا اور بچا تیل روز قیامت کا فریادی تھا۔ پیالی کے ساتھ ہی لپ اسٹک کھلی رکھی تھی اور ایک ایمرجنسی لائٹ بھی دن میں جانے کب سے روشن پڑی تھی۔ کولر سے کچھ فاصلے پر دیوار میں شیشے نصب تھا جس کی تین شیلف تھیں ایک پر چوسی گنڈیروں کے چھلکے رکھے تھے۔ کچھ مکھیاں چھلکوں کے گرد طواف کررہی تھیں اور کچھ بوسے دے کر عشق کا خراج دے رہی تھیں۔

دوسرے شیلف پر ایک پھٹی سی کتاب‘ قلم رکھا تھا۔ تیسری شیلف پر چابیوں کا گچھا اور سبز رنگ کا ٹیلی فون سیٹ رکھا تھا۔ بکھرے ہوئے گیس‘ بجلی کے بل گلدان سے دبائے ہوئے تھے اور بلوں کے قریب ہی ایک شیشے کا گلاس رکھا تھا جس کی تہہ سرخ شربت پینے کی چغلی کھارہی تھی۔ برآمدے کے دوسری طرف کچن کا دروازہ تھا وہاں بھی مکھیوں کا راج تھا یقینا اندر برتنوں کا طوفان بدتمیزی مچا تھا۔ کلستے ہوئے الماس بی بی کی جھریوں میں مزید ناگواری در آئی غالباً وہ صحن میں بھی ایسے غلیظ مناظر دیکھتی آئی تھیں۔ باہر دس سالہ علیشاء‘ منیشاء کچن کے ساتھ پلاسٹک کی کرسیاں میز رکھے ایک دوسرے کے چہرے پر بیوٹی پارلر کھولے بیٹھی تھیں۔ منیشاء نے دادی کو دیکھتے ہی ناگوار سا منہ چڑھایا اور علیشاء نے تالی بجا کر زور سے قہقہہ لگایا تھا‘ جواب میں الماس نے دونوں کو ناگواری سے پنجہ دکھایا۔

’’دور فٹے منہ۔‘‘ بارہ سالہ رامس ایک کمرے میں ٹی وی پر انگلش مووی دیکھ رہا تھا کیونکہ مار دھاڑ‘ شور کی آواز صحن تک آرہی تھی۔ الماس نے تھوڑا سا اندر جھانکا‘ پوتے کو آواز دی مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی وہ پھر نعیمہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ کمرے کا سفید جالی دار پردہ اس نے ذرا سا سرکایا۔ پردے پر عجیب سی مشک اور چکناہٹ کی اکڑائو کا احساس تھا۔ نیچے سے فریل جگہ جگہ سے ادھڑی تھی اور ریلنگ ہک ٹوٹنے سے پردہ درمیان سے جھول رہا تھا۔ اس نے کراہیت سے پردے کو دیکھا اور پھر سامنے بیڈ پر لیٹی نعیمہ کو‘ وہ ایسے سیدھی لیٹی تھی کہ پائوں بیڈ کرائون کی جانب جھول رہے تھے اور پائنتی پر اس کے لمبے ڈائی شدہ بال پھیلے تھے جن کے سروں سے پانی کے ننھے قطرے کارپٹ پر جذب ہورہے تھے یقینا وہ اپنے بال ائیر کولر کی ہوا میں سکھا رہی تھی۔ گھٹنے جھلاتے ہوئے سائونڈ سسٹم کے فل والیوم پر دھوم فلم کے گانوں نے خوب دھوم مچا رکھی تھی اور ساتھ ساتھ وہ کھوئے کی قلفی چوس رہی تھی‘ الماس بی بی اس کی بے نیازی پر اندر تک کھول گئی۔

’’اندھی کبھی اٹھ کر یہ دھو بھی لیا کر۔ ہاتھ ٹوٹے پڑے ہیں تو وہ جو تیری ماں آتی ہے ناں‘ اسی سے دھلوالے۔‘‘ اس نے کام والی ماسی کو کہا تھا جو دن چڑھے آتی تھی غالباً ان کے ہاتھ سے پردے کی غلاظت کا احساس ابھی تک نہیں گیا تھا۔

’’تمہیں کیا تکلیف ہے؟ دعوت دے کر بلایا تھا کسی نے کہ آکے اپنا تھوبڑا (چہرہ) دکھائو یا میرا گند دیکھنے کے لیے گرتی پڑتی آئو۔‘‘ وہ کرنٹ کھا کر اٹھی‘ خوب صورت لمبے بال بھی پائنتی سے سرک کر چوڑی پشت پر جاٹکے۔

’’مجھے بھی شوق نہیں ہے تجھ جیسی پلیدوں کو دیکھنے کا۔‘‘ الماس بی بی نے ہاتھ میں پکڑی دودھ بھری دیگچی قریب رکھے شیشے کی میز پر رکھی جس پر پہلے ہی جھوٹے برتن‘ بالوں سے جکڑا کنگھا‘ گندے رومال‘ چوڑیاں اور ہئیر کلر کی خالی بوتلیں گری پڑی تھیں۔

’’وہ تیرا باواں نہیں ہے جو گھنٹے بھر گیٹ پیٹتا رہے۔‘‘ وہ دیگچی رکھ کر سیدھی ہوئیں‘ جانے کے لیے مڑی ہی تھیں کہ یاد آگیا۔

’’تیری دیگچیاں تو یقینا دھلی نہیں ہوں گی‘ اب تو مکھیاں بھی چاٹ چاٹ کر گئی ہوں گی‘ کسی جگ‘ پتیلے میں دودھ انڈیل کر میری دیگچی نیچے بھجوا دے‘ میں آپ مانجھ لوں گی۔‘‘ الماس بی بی ناک ماتھے پر ناگواریت لیے باہر کی جانب ہوئیں اور وہ منہ چڑھا کر ’’سٹھیائی بڑھیا‘ جا جا‘‘ کہہ کر مزے سے ٹھنڈی ہوا میں دوبارہ لیٹ گئی اور بقایا قلفی زبان پھیر کر چاروں طرف سے چاٹنے لگی۔

ہاں اگر کھڑی ہوتی تو ساس کو اچھی طرح مزہ چکھاتی یا تو کہنی سے زور کا ٹہوکا دیتی یا پھر پائوں سے کچھ سرکا کر اس کے راستے میں ضرور کچھ کردیتی۔ جس سے وہ الجھ کر گر پڑتی یا کم از کم لڑکھڑا ہی جاتی مگر اس وقت درگزر کیا گیا‘ غالباً یہ سب کرنے کے لیے پہلے اٹھنا پڑتا اور الماس بی بی نے بھی جانے میں ہی عافیت جانی۔ وہ اسی برآمدے سے گزر کر گئیں‘ جہاں پوتیاں پارلر کھولے بیٹھی تھیں اور اب وہ دادی کی بے عزتی ہونے پر ہنس ہنس لوٹ پوٹ ہورہی تھیں۔ ساس کے ساتھ نعیمہ کا تذلیل آمیز رویہ روز کا معمول تھا۔

ساٹھ سالہ نحیف و نزاز الماس بی بی نعیمہ کی سگی پھوپی تھی مگر ان کی ایک دن نہ بنی تھی غالباً بھتیجی پر سستی‘ کاہلی‘ جہالت اور پھوہڑ پن کا ہر لفظ ختم تھا۔ طور طریقے چھوکر نہ گزرے تھے‘ تیرہ سالہ شادی شدہ زندگی میں ایک دن بھی قرینے سے کام نہ کیا تھا۔ کبھی کسی چیز کی کوئی ڈھنگ کی جگہ نہ بنائی تھی جہاں رکھ چھوڑی وہاں جگہ بن گئی اور عرصہ دراز کے لیے بن گئی۔ الماس بی بی شادی سے پہلے بھی ناپسند کرتی تھی غالباً اس کے میکے میں بھی افراتفری اور گندگی کا عالم دیکھ چکی تھی۔ بھاوج لیٹی چارپائی توڑتی رہتی اور بھائی جی حضوری میں لگا رہتا۔ وہ اپنے بیٹے کو ایسے گھر بیاہنے کے بجائے ساری زندگی کنوارا رکھ لیتیں اگر بیٹا کسی طور مان جاتا۔ عباس اس کے گورے چٹے‘ بھرے بھرے چمچماتے جسم‘ چمکتے لمبے بال اور پھر کنواری ادائوں میں ایسا پھنساکہ جیسا مکڑی کے جال میں پھڑپھڑاتا پروانہ‘ اس نے منت سماجت اور واسطے دے کر ماں کو رام کیا۔

’’وہ بہت اچھی ہے‘ اپنے گھر والوں سے مختلف ہے‘ اماں… میں مرجائوں گا اس کے بغیر۔‘‘ الماس بیٹے کی فریاد پر مجبور ہوگئی تھی اور چارو نا چار مان ہی گئی‘ وہ بڑی بہوئوں کی طرح تمام ارمان پورے کرتے ہوئے اسے گھر لائی تھیں‘ اس گھر کی دہلیز پار کرنے سے پہلے ہی عباس نے اسے بتادیا تھا۔

’’اماں بہت مشکل سے راضی ہوئی ہیں‘ صرف تمہاری محبت کی خاطر ماں کو رو دھوکر زبردستی راضی کیا ہے‘ اب مان تم نے رکھنا ہے۔‘‘

’’لو جی‘ سگی پھوپی کا خون کتنا سفید ہے کہ وہ ہی نہیں چاہتی کہ میں اس کی بہو بنوں‘ اب سب سے پہلے اسی کا پتا صاف کروں گی‘ جینا حرام نہ کردیا تو نعیمہ نام نہیں۔‘‘ وہ دل میں تہیہ کرکے سیج پر بیٹھی تھی‘ میاں تو پہلے ہی عاشق تھا مزید اپنی دلربا ادائوں سے اندھا کردیا۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ تقریباً ہر مرد پیدائشی طور پر لنگڑا‘ گونگا‘ بہرہ اور اندھا اور بند دماغ ہوتا ہے۔ سارے جسمانی اعضاء میں بس ایک دل ہوتا ہے جو اس کا اپنا ہوتا ہے جسے ذرا دھڑکنے کے لیے نرم میٹھا جھونکا چاہیے۔ اس جھونکے کی مٹھاس کے لیے وہ ساری زندگی کسی نسوانی دماغ‘ کان‘ آنکھ‘ زبان یا پھر ٹانگ کا سہارا ڈھونڈتا ہے۔ وہ اپنی نام نہاد طاقت کے زعم میں مانے یا نہ مانے مگر یہ صنف نسواں کسی بھی رشتے یا تعلق میں اس پر حاوی ضرور رہتی ہے۔ کسی پر ماں کی صورت کسی پر بہن یا بیٹی کی صورت اور عباس کا تعلق مردوں کے کثیر طبقے سے تھا یعنی بیوی نعیمہ اس کی بینائی‘ گویائی‘ سماعت‘ دماغ سب بن گئی۔ ایسا ہرگز نہیں تھا کہ اسے اپنی ماں سے محبت نہیں تھی‘ اسے پالا‘ پوسا‘ کھلایا‘ پلایا‘ سکھایا بنایا سب یاد تھا مگر…

’’اماں… اب بوڑھی ہوگئی ہے‘ چڑچڑی اور تنک مزاج پہلے ہی تھی۔ دونوں بڑی بھابیوں کی بھی یونہی برائیاں کیا کرتی تھی جیسے نعیمہ کی کرتی ہیں۔ ساس ہے ناں‘ نہیں برداشت ہوتی ہوگی بیٹے کی تقسیم‘ بہو کا آرام‘ حالانکہ اتنی اچھی تو ہے۔ بیوی‘ خوب صورت نرم گداز‘ ہنستی چمکتی بے ضرر سی‘ طبیعت ٹھیک ہو تو کام بھی کر ہی لیتی ہے۔ نسل الگ پیدا کرتی ہے‘ بس اماں تو یونہی…‘‘ وہ اماں کی باتیں خاموشی سے سنتے ہوئے دل میں سوچتا رہتا آخر میں قائل کرنے کی ایک ہی دلیل…

’’اماں… طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس کی‘ رات سے کمر میں شدید درد ہے دوائی لایا ہوں۔‘‘ غالباً وہ کچھ دیر پہلے ہی باہر سے آیا تھا‘ سیڑھیاں چڑھنے لگا تو الماس بی بی نے اس کا دھیان میلے کپڑوں کی ابلتی میشن کی طرف دلوایا اور وہ فکر مندی سے دوائی دکھاتا ہوا ماں کی طرف پلٹتا لمحہ بھر رکا۔ چند نوٹ خرچہ کے نام پر ان کی ہتھیلی پر رکھ کر‘ فرماں برداری کا ثبوت دیا اور دل میں ساس کی فطرت کو سوچتا سیڑھیاں چڑھ گیا۔

’’جا… تلوے چاٹ اپنی زن کے‘ زن مرید۔‘‘ الماس پہلے نوٹ اور پھر خالی سیڑھیاں دیکھتے ہوئے اندر تک کلس گئی۔

وہ تلوے کیوں نہ چاٹتا آخر نعیمہ اس کی خوش بختی کا ستارہ تھی۔ ابھی شادی کو چند ماہ ہی ہوئے تھے جب اس کی التجائوں پر بیرون ملک مقیم بڑے بھائیوں نے اسے بھی لیبر ویزے پر بلوالیا۔ عباس آٹو مکینک کا کام سیکھ رہا تھا‘ وہاں جاتے ہی وارے نیارے ہوگئے اور وہ دونوں بڑے بھائیوں سے زیادہ کمانے لگا‘ سال بعد ایک ڈیڑھ ماہ کے لیے چکر لگاتا۔

اس کے آنے سے پہلے اوپر کے پورشن کی خوب صفائی‘ چمکائی ہوتی‘ رنگ و روغن ہوتے‘ پردے بدلے جاتے۔ بچوں سمیت بیگم کے نئے جوڑے‘ جوتے ہر چیز آتی۔ الماس بی اماں کے بھی سیل سے دو جوڑے لاکر دیتی‘ اب ہر چیز نئی‘ چمک دار‘ سجا سجایا گھر اور بیگم بیمار… فل میک اپ‘ رنگے بال‘ نئے طرز کے اسٹائلش سے کپڑے ہشاش چہرہ مگر چال میں صدیوں کی تھکاوٹ‘ اٹھتے بیٹھتے ’’ہائے اوئی‘‘ بیماریوں کی لمبی فہرست اور جوتی بھی میاں کے سر پر۔

’’شادی کے وقت کیسی ہٹی کٹی ماں باپ نے پال کے دی تھی مگر اب سارا دن تمہارے بچوں کے آگے پیچھے خوار ہوتی رہوں۔ سارے گھر کے کام‘ تمہاری اماں اور پاگل بہن کی خدمت اور پھر ان کی ڈانٹ پھٹکار‘ جلی کٹی باتیں‘ کیسے بنے صحت؟‘‘ وہ بات بے بات رونے کو ہوجاتی۔

’’کوئی بات نہیں یار… میری خاطر برداشت کرلیا کرو۔‘‘ عباس کو ٹوٹ کر پیار آتا۔

’’تمہاری خاطر ہی کررہی ہوں عباس میری جگہ کوئی اور ہوتی ناں تو کب کی چھوڑ کے جاچکی ہوتی۔ اب دیکھ لو‘ اپنی اور بچوں کی چیزیں لانے سے پہلے پھوپی کو لاکر دیں مگر نہ جی تمہارے سامنے کیوں پہنے اوڑھے‘ کہیں تم میری تعریف نہ کردو۔ تمہارے جاتے ہی ایک سے ایک پہنے اوڑھے گیں اور ایک میں ہوں بے وقوف‘ اس بیماری میں بھی تمہارے سامنے اچھا کھا پہن رہی ہوں تاکہ تم ہمیں خوش دیکھ کر جائو اور وہاں بھی خوش رہو۔ تمہارے پیچھے تو اللہ ہی جانتا ہے ہمارا کیا حشر ہوتا ہے۔‘‘ اس کی رندھی آواز پر میاں کے پیار میں شدت کے ساتھ ترس کی آمیزش بھی ہوجاتی اور خرچا مزید بڑھ جاتا غالباً آج اسے میاں کی نظروں سے اندازہ ہوا کہ وہ ماں‘ بہن کے اوڑھے دوپٹے کا نعیمہ اور بچوں کے رہن سہن کو نظروں میں تول رہا تھا۔ جس کی اس نے اتنی لمبی چوڑی تمہید باندھ کر ایسا عقل پر ہاتھ رکھا کہ آنکھوں کے راستے اسی کا دماغ اپنی سوچ بن گئی نہ اس نے چیزوں کی بابت کبھی ماں سے پوچھا اور نہ ہی ماں کو عادت تھی‘ چیزوں کا رونا رونے کی۔ میاں کی پنشن آتی تھی جو ماں بیٹی کے لیے کافی تھی۔ بیٹے بھی الگ سے ماں بہن کا خرچہ بھیجتے تھے مگر وہ بہوئویں مشترکہ گیس‘ پانی و بجلی کے بلوں کے بہانے نکلواتی تھیں اگر کچھ بچ جاتا تو نعیمہ اٹھتے بیٹھتے ایسے طعنے مارتیں کہ وہ خود دار عورت خود ہی چیک اس کے منہ پر دے مارتی۔ کبھی کسی بیٹے نے کوئی حساب کتاب نہ لیا اور الماس بی بی کو ان دنیاوی چیزوں سے رغبت نہ تھی۔ انہیں تو صرف کھلتی تھی تو حد سے زیادہ فضول خرچی یا پھر نعیمہ کا پھوہڑ پن اور بد زبانی‘ جس کا وہ اکثر بیٹے سے گلہ کرتیں اور جواب میں وہ تاویلیں دیتا۔

’’اماں… یکے بعد دیگر بچوں کی پیدائش نے اس کا یہ حال کردیا‘ اسی لیے کچھ بیمار بھی رہنے لگی ہے اور پھر چڑچڑی بھی اسی وجہ سے ہوگئی ہے۔‘‘ اس کی بصارت نعیمہ کی دین تھی‘ ماں کی بات پر کھسیانا سا ہنستا اور پھر کمرے میں چلا جاتا۔

ء…/…ء

الماس بی بی کی ایک بیٹی اور تین بیٹے تھے‘ اکلوتی بیٹی کا دماغی توازن قدرے ٹھیک نہیں تھا۔ دیکھنے والے پاگل‘ جھلی‘ سائیں‘ اللہ لوک کہتے تھے لیکن ایسا نہیں تھا۔ پیدائشی طور پر اس کا دماغ اپنی عمر سے کچھ پیچھے تھا‘ ضرورت سے زیادہ خاموش‘ سہمی‘ ڈری ڈری مگر صوم و صلوٰۃ کی پابند۔ پاکی‘ ناپاکی کی تمیز‘ اپنے پرائے کی پہچان‘ یہاں تک کہ اپنے رہائشی علاقے گرین ٹائون کے راستوں کو خوب جانتی تھی۔ الماس بی بی کے تینوں بیٹے قطر میں لیبر ویزے پر تھے۔ بڑے دونوں بیٹے پلمبر اور چھوٹا عباس آٹو مکینک‘ وہاں ان کا کام جس بھی پیمانے پر تھا مگر یہاں ان کے بڑے ٹھاٹ تھے۔ ان کے خون پسینے کی کمائی بیویاں دونوں ہاتھوں سے لٹا رہی تھیں۔ ماربل سے بنا بڑا سا شاندار بائیس مرلے کا کھلا سا گھر‘ پہلی منزل پر دو پورشنز تھے جن میں دونوں بڑی بہوئیں بچوں سمیت رہ رہی تھیں۔ دونوں پورشنز کے درمیان الماس بی بی کا کمرہ اور اسٹور تھا۔ دوسری منزل پر نعیمہ براجمان تھیں‘ ایک تو کسی کی جرأت نہیں تھی اس کی راج دھانی میں قدم رکھنے کی‘ جتنی وہ شیر و شکر نظر آتی تھی اتنی ہی گھر والوں کے لیے نبولی کی طرح حلق میں پھنسی تھی‘ خاص کر الماس بی بی کے۔

دوسرے کسی کام کا طریقہ‘ سلیقہ نہیں تھا۔ حدکی پھوہڑ‘ جہاں کھایا جھوٹن وہاں ہی چھوڑ دی۔ صحن میں کہیں گلاس‘ چمچ پیالی گری پڑی ہے تو کہیں چھلکے جہاں بیٹھ کر کنگھی چوٹی کی بالوں بھرا بُرش وہاں ہی پڑا رہا۔ جہاں سرخی پائوڈر لگایا‘ اٹھانا بھول گئی یہاں تک کہ روٹی بناتے ہوئے چولہے اور بیلن کے گرد خشک آٹے کا حصار بن جاتا۔ بیلن وہاں سے اٹھ گیا‘ کھانا کھا لیا گیا مگر آٹے کا حصار نہ ٹوٹا۔ ہنڈیا بھونتے ہوئے سرا میک کی ٹائلوں پر مصالحے اور گھی کے جابجا چھینٹے اگلے دن تک ماسی کی دہائیاں ڈالتے رہتے‘ ماسی آتی تو اپنی مرضی سے تھی مگر گھر کو چمکاتی اور نعیمہ خود کو چمکاتی رہتی۔ ماسی کے نکلتے ہی خود بھی بچوں کو اسکول سے لینے کے بہانے نکلتی‘ کچھ دیر میڈم کے پاس ساس کے رونے روتی‘ پاگل نند کے پھیلاوے بتاتی اور چھٹی پر بچوں کو لے کر‘ راستے سے تنور والے سے روٹیاں ہوٹل والے سے مرغی کی بھنی بوٹیاں لیں‘ پھیری والے سے نمکین چنے اور بھٹے خرید لیے۔ وہ اور بچے پھانکتے پھانکتے گھر تک آجاتے۔

الماس بی بی اس کے لچھن دیکھ کر کڑھتی نہ تو اور کیا کرتی‘ بے شک ان کی بڑی بہوئوں سے بھی کوئی خاص سبھائو نہ تھا غالباً وہ بھی ان کے بیٹوں کی مشقت کی کمائی کو ہاتھ کا میل تو کیا گرد سمجھ کر جھاڑتی‘ ٹھاٹ کی زندگی گزر رہی تھی۔ پہننے‘ اوڑھنے میں چادر سے باہر مگر نعیمہ کی طرح پھوہڑ اور بدزبان نہیں تھیں اگر کبھی ان سے تلخ کلامی ہوجاتی تو گردن مار کر اپنے اپنے کمروں میں چلی جاتیں‘ آگے سے زبان نہیں چلاتی تھیں مگر نعیمہ کی آواز تو گڑھے مردے اکھاڑ دے‘ جب کبھی الماس بڑی بہوئوں کے سلیقے کی تعریف کردیتی تو وہ بالکل ہی ہتھے سے اکھڑ جاتی تھیں۔

’’ہاں… ہاں‘ اپنی جڑوں میں پناہ جو دے رکھی ہے‘ تم جیسی گلہری کو۔ تمہیں تو وہ اچھی لگیں گی۔‘‘

’’لعنت ہے تیری شکل پر۔‘‘ الماس بی بی نے گھورا تو وہ گیرل پر جھکی اگلے پچھلے حساب برابر کرنے لگی‘ ساتھ چھوٹی منیشاء بھی ماں کی طرف داری کرتے دادی کو منہ چڑانے کے بعد ہنسی کا شغف جاری و ساری رکھے ہوئی تھی۔

’’لعنت تو تم پر پڑ رہی ہے پھوپی… جانے تم نے جوانی میں کیسا گناہ کیا تھا جو پاگل‘ جھلی بیٹی کی صورت تمہارے منہ پر لگا۔ قبر میں ٹانگیں اتر گئیں پر ناں بھٔی‘ تم توبہ نہ کرنا۔‘‘

’’خدا کے قہر سے ڈر بدبخت‘ جب اس نے رسّی کھینچی تو دم نکلے گا نہ رہے گا۔‘‘ وہ الماس کی چنگھاڑ سننے سے پہلے ہی سر جھٹک کر جاچکی تھیں‘ بات بات پر پاگل نند کے طعنے دینا اس کا معمول تھا اور بی بی الماس سے بیٹی کا طعنہ برداشت نہ ہوتا تھا۔ آنکھیں نم ہوجاتیں اور لہجہ گلوگیر مگر کیا کرتیں‘ اللہ کی حکمت کے آگے بے بس تھیں اور نعیمہ کو بددعا نہیں دے سکتی تھیں۔ آخر بیٹے کی نسل اسی سے جنم لے رہی تھی‘ وہ خاموش زہر حلق میں اتار لیتیں یا کبھی کبھار محلے پڑوس میں اپنی ہم عمر کے آگے رو دھو کر دل ہلکا کرلیتیں۔ بیٹے سے شکوہ بے کار تھا‘ بھائی سے کہتیں تو۔

’’تمہارے گھر کا معاملہ ہے بہن…‘‘ کہہ کر چپ ہوجاتے۔

عباس کی چند دنوں میں آمد آمد تھی‘ اوپر پورشن میں خوب صفائی ستھرائی کی ہلچل مچی تھی۔ کھٹر پٹر‘ شور شرابا‘ اتنی اٹھا پٹخ‘ الماس کے سر میں کئی دن سے درد تھا‘ وہ سر باندھے چارپائی پر لیٹی تھی اس کے پاس زلیخا (بیٹی) بیٹھی دھلے کپڑے الٹے سیدھے تہہ لگا کر سمیٹ رہی تھی۔ وہ ہر تہہ کے بعد اداسی سے ماں کو دیکھتی پھر فرش پر کچھ تلاشتی اور پھر تہہ لگانے بیٹھ جاتی۔ باہر گیٹ پر کوئی تیسری بار گوالے نے دستک دی‘ ہر دستک پر گیٹ دھڑ دھڑانے سے وہ بری طرح کانپ جاتی‘ آخر تنگ آکر الماس اٹھی اور صحن میں نکل کر ٹیرس کی طرف منہ کیے زور سے چلائی۔

’’اے… آکر لے لے دودھ‘ وہ تیرا باواں (باپ) بجا بجا کر میرا سر پھاڑ دے گا۔‘‘ تیسری چوتھی پکار پر بھی جب کوئی جواب نہ آیا تو وہ بڑبڑاتی ہوئی‘ اپنا ہی برتن لیے چلی گئی۔

’’کم بخت‘ مریض سے کہاں اترا جاتا ہے۔ نہیں اترا جاتا تو ہٹوا دے اپنے لگتے سگتے کو۔‘‘ وہ نیم بڑبڑاہٹ میں اپنی دیگچی پکڑے ابھی گیراج تک پہنچی تھی کہ وہ دھپ دھپ سیڑھیاں اترتی نیچے آدھمکی۔

’’بیٹوں سے موٹی موٹی رقم بٹورتے دم نہیں نکلتا‘ صرف دودھ لیتے ہی جان نکلتی ہے تمہاری۔‘‘ اس نے جتاتے ہوئے انہی کی دیگچی ان کے ہاتھ سے چھینی کہ وہ ساری ہل گئیں۔

’’کم بخت۔‘‘ الماس کو اس کی ڈھٹائی پر غصہ آگیا۔ ’’جب نیچے مر رہی تھی تو اپنا برتن لاتے ہاتھ ٹوٹ رہے تھے۔‘‘ ابھی بے بس سی الماس کے منہ میں لفظ تھے کہ اس نے پہلے اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھول کر گھورا پھر دانت کچکچائے۔

’’لو‘ مری جا رہی ہو‘ میرے پاس کون سا برتن نہیں۔‘‘ اس نے دھکیلنے کے انداز میں انہیں دیگچی زور سے تھمائی کہ وہ بری طرح لڑکھڑائیں پھر پھسلیں‘ وہ سہج سہج کرتی اوپر چڑھ گئی یقینا باہر شور گوالے نے بھی سنا تھا اور دوسری بہوئوں نے بھی۔ گوالہ تو وقت ضائع ہونے کی برابر دہائی دیتا رہا اور بہوئوں کے کان پر جوں نہ رینگی‘ کون سا انہوں نے بڑھیا کو گرایا ہے جس نے گرایا ہے وہ اٹھا بھی دے۔

ء…/…ء

گھر میں خوب افراتفری شور ہنگامہ تھا‘ تقریباً تمام مہمان آچکے تھے۔ سفید قمقموں نے سرسبز لان کی رونق مزید دوبالا کردیا۔ انہیں اس گھر میں شفٹ ہوئے تقریباً تیرا سال کا عرصہ ہوگیا تھا‘ گھر والوں کے طعنے‘ محلے پڑوس کی عجیب و غریب باتوں سے تنگ آکر انہوں نے نہ صرف اپنا مشترکہ گھر بلکہ محلہ بھی چھوڑ دیا تھا غالباً جب تیرہ سال پہلے وہ پاکستان آئے تو مصلحتاً یہاں کے ہی ہوگئے۔ اپنی ورک شاپ بنالی جو ترقی کرتی کرتی بہت جلد مکینکل کمپنی میں بدل گئی۔ نیک بخت بیوی کا ستارہ عروج پر تھا‘ اچھے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا ہوا تو رشتے بھی اچھے آنے لگے۔ بڑی بیٹی علیشا کا رشتہ اپنے دوست ریحان کے توسط سے ایک اچھے گھرانے میں طے ہوگیا۔ سسرال والوں نے منگنی کی بجائے نکاح کو اہمیت دی۔ رخصتی چند ماہ بعد طے تھی‘ غالباً لڑکے کا ایم بی اے کمپلیٹ ہونے میں چند ماہ تھے‘ سب سے چھوٹی اور لاڈلی منیشاء اپنی یونیورسٹی فیلو تابش کو چاہنے لگی۔ ماں باپ سے اجنبیت کا رشتہ تو تھا نہیں اس لیے بتادیا نہ صرف بتادیا بلکہ ایک دو بار اسے گھر بھی لے آئی اور سب سے ملوایا۔

عباس اور نعیمہ کو لڑکا بہت پسند تھا‘ انہیں کوئی اعتراض نہ تھا اور منیشاء خود بھی یونیورسٹی سے ایک دو بار تابش کے گھر گئی تھی۔ تابش اور اس کی ساری فیملی اسے بے انتہا پسند تھی۔ علیشاء کے بعد اسی کی باری تھی‘ اکلوتا بیٹا رامس باپ کے ساتھ مل کر پکا کاروباری بن گیا۔ رنگ و روپ اللہ کی دین سے بہت ملا تھا‘ وہ اپنے خوب صورت کمائو پوت کے لیے کسی ہیرے کی تلاش میں تھی‘ کوئی لڑکی نظر میں نہ بھاتی اب بھی وہ ساڑھی کا پلّو تھامے تمام بیگمات سے ملتی ملاتی‘ ان کی بیٹیوں کو نظر میں تولتی‘ نقص نکالتی عباس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوگئی۔

’’وہ جو دانت پھاڑ کر ہنس رہی ہے‘ وہی ہے ناں قریشی صاحب کی بیٹی۔‘‘ گیٹ کے سامنے کھڑے عباس میاں کو وہ متوجہ کرتے ہوئے بولی تھیں تو انہوں نے بھی بند ہونٹوں سے ’’ہوں‘‘ کہہ دیا۔

’’قد تو کچھ خاص نہیں ہے‘ کہاں ہمارا رامس لمبا چوڑا‘ گھبرو اور کہاں وہ… مجھے تو ذرا اچھی نہ لگی۔‘‘ ان کی سرگوشی میں واضح ناگواریت تھی جس کو عباس نے محسوس کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔

’’چلو جیسے تمہاری مرضی بیگم۔‘‘ وہ دھیرے سے کہہ کر دو قدم مزید گیٹ کی طرف بڑھ گئے اور گردن اونچی کیے باہر سڑک پر جھانک رہے تھے غالباً رامس بہت دیر سے علیشاء کو پارلر لینے گیا ہوا تھا‘ بارات آچکی تھی اور وہ خاصے فکر مند ہورہے تھے۔

’’آتے ہی ہوں گے آپ بیٹھ جائیں۔‘‘ وہ میاں کی فکرمندی سمجھتے ہوئے قریب ہوئی اور بہت رسان سے کہتی سامنے رکھی کرسی کی طرف اشارہ کرنے لگی۔

’’آئیں ناں۔‘‘ وہ کرسیوں پر بیٹھے اور مہمانوں پر تبصرہ شروع کردیا کہ چمکتی سفید ایکس ایل آئی گیٹ سے اندر داخل ہوئی اس کے رکتے ہی وہ دونوں بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔

علیشاء کے جھلملاتے آتشی گلابی اور سنہری شرارے کو منیشاء ایک طرف سے اٹھائے آگے بڑھ رہی تھی۔ دلہن بنی علیشاء کا ایک ہاتھ رامس پکڑے اسے اسٹیج تک لے آیا۔ دلہا اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ پنڈال میں پہلے ہی براجمان تھا‘ دلہن کے آتے ہی سب ادب میں اٹھے اور اس کے بیٹھتے ہی سب بیٹھ گئے گویا آج اس کا نکاح تھا۔ نکاح کے سائن ہوتے مبارک سلامت کا شور مچ گیا‘ کھانے کے بعد دلہا کا دل رخصتی کے لیے مچل رہا تھا غالباً وہ اسی فریاد کے لیے منمنایا۔

’’انکل سے بات تو کریں آپ اماں… حرج ہی کیا ہے اس میں۔‘‘

’’تم سیدھے ہوکر چلتے ہو یا…‘‘ ماں کی گھرکی اور بہن بھابیوں کی ’’کھی کھی‘‘ پر وہ خاصا کھسیانا ہوا اور سیدھا چلتا بنا۔ اسی تقریب میں نعیمہ کو رامس کے لیے گوہر نایاب بھی مل گیا‘ جس کی منظوری نہ صرف رامس بلکہ میاں اور بیٹیوں نے بھی نظروں ہی نظروں میں دے دی تھی۔

ء…/…ء

ڈھلتی شام میں دھوپ چھائوں کی آمیزش تھی‘ شفق کے کناروں سے ٹھنڈی ہوا دل کو لبھانے آرہی تھی۔ دھوپ کی روشنی سمٹتے سمٹتے درخت کے اوپری پتوں پر رہ گئی‘ آسمان پر آتے جاتے بادلوں کے کسی کسی ٹکڑے میں ہلکی ہلکی گرج چمک ہونے کے آثار تھے۔ لگتا تھا کہ کچھ دیر میں ہلکی پھوار پڑنے لگے گی‘ وہ دونوں ٹیرس پر نکل آئے۔ بہت دیر رامس کا چائے پر انتظار کرتے رہے بالآخر نعیمہ نے کل وقتی ملازمہ کو آواز دے کر چائے وہاں منگوالی‘ نعیمہ نے عباس کو چائے پکڑانے کے بعد چکن نگٹس کی پلیٹ ان کی طرف کی۔ انہوں نے کرسی کی پشت چھوڑتے ہوئے ایک پیس اٹھایا اور پھر ٹیک لگا کر کھانے لگے۔

’’میری کیا اوقات تھی بیگم… یہ تو سب تمہاری خوش بختی ہے۔‘‘ انہوں نے چائے کا سپ لیا۔

’’آخر کوئی تو اچھا عمل تھا ہی کہ سارے کام اللہ نے سبھائو سے کردیئے۔‘‘ وہ بات کے دوران بار بار گیٹ پر نظر ڈالتے غالباً اس کو فیکٹری سے آنے میں خاصی دیر ہوگئی تھی جہاں نظریں منتظر تھیں وہاں لہجے میں خوشی اور تشکر گھلا جارہا تھا‘ جس سے نعیمہ کے فخریہ تنے اعصاب میں مزید کھنچائو آگیا۔

’’یہ تو تم کہتے ہو ناں ورنہ تمہارے گھر والے ہونہہ…‘‘ اس نے اپنا کپ تیار کیا اور ایک نگٹس پرچ میں رکھا اس پر کیچپ انڈیلی اور سیدھے ہوکر بیٹھتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ رکھ لی۔

’’میں نے کتنے جی جان سے ان کی خدمت کی اور انہوں نے صرف طعنے دیئے۔ پھوپی کو تم الگ سے خرچہ بھیجتے تھے اور وہ بدلے میں بددعائیں دیتی مر گئیں‘ کوسنے دینے کے لیے اس پاگل کو چھوڑ گئیں‘ یہ صلہ دیا ہماری قربانیوں کا۔‘‘ اس نے ناک بھوں ایسے چڑھائی جیسے نگٹس چکن کے نہیں بلکہ کریلے کے ہوں۔

’’چھوڑو بیگم… پرانی یادیں اور باتیں دہرا کر تم اپنا خون کیوں جلاتی ہو‘ کسی کا کیا جائے گا اپنی صحت تباہ کرلو گی۔ انہوں نے اپنا عمل کیا‘ تم نے اپنا‘ لوگوں کی عادت ہوتی ہے اچھا کھاتے پیتے دیکھ کر جلنے‘ کڑھنے کی‘ جھوٹ گھڑنے کی۔‘‘ وہ لمحہ بھر کے لیے رکے۔ ’’تم تو شکر کرو‘ اللہ نے تمہیں اتنا نوازا دیا کہ ہر لگا داغ خودبخود دھل گیا۔‘‘ وہ ہمیشہ کی طرح بیوی کے دکھ میں برابر کے شریک ہوئے‘ دلجوئی کرتے رہے اور وہ حق سمجھ کر وصول کررہی تھی ہمدردی۔

منیشاء لائونج سے تقریباً پریڈ کرنے کے انداز میں بھاگتے ہوئے ان کے قریب آئی‘ اس کی شکل سے لگ رہا تھا کہ وہ انتہائی مجبوری میں آئی ہے کیونکہ وہ کافی دیر سے تابش سے چیٹنگ کررہی تھی۔ وہ سب کچھ چھوڑ سکتی تھی مگر تابش سے سلسلہ کلام نہیں‘ اسے باپ کے موبائل کا بار بار مخل ہونا نہایت ناگوار گزرا تھا۔ کتنی بار تو وہ کال کاٹتی رہی مگر کرنے والا نہایت ہی بے کل تھا‘ اسے بابا پر غصہ آیا‘ اپنا موبائل خوامخواہ ہی ادھر اُدھر رکھ کر چلے جاتے ہیں۔ اس نے ناک چڑھاتے ہوئے موبائل کو دیکھ کر سوچا تابش کو ’’ایک منٹ یار! بابا کو موبائل دے آئوں‘‘ کہہ کر وہ بھاگتی ہوئی آئی اور موبائل پکڑا کر اسی رفتار سے واپس چلی گئی۔ عباس نے آنکھیں سکیڑ کر غیر شناسا نمبر دیکھا۔ کپ میز پر رکھا اور پھر بٹن دبا کر سیل کان سے لگالیا۔

’’ہیلو۔‘‘ ہیلو کے ساتھ ہی بھنوئوں کا درمیانی فاصلہ سمیٹنے لگا اور پتلیاں دائیں بائیں گھومنے لگیں۔

’’یہ… یہ کیا کہہ رہے ہو‘ یہ سب کیسے ہوگیا۔‘‘ وہ کن پٹی سہلاتے ہوئے جھٹکے سے اٹھے۔ نعیمہ بھی آنکھ بھنوئوں سے ’’کیا ہوا‘‘ پوچھتی ہوئی برابر کھڑی ہوئی۔ خبر اتنی ہولناک تھی کہ لفظوں میں لپٹ کر ان کی بربادی کی نوحہ کناں تھی‘ نعیمہ نے سنتے ہی دونوں ہاتھوں سے سینہ کوبی شروع کردی۔

’’ہائے میرا رامس کہاں ہے‘ ہائے ہائے وہ ٹھیک تو ہے نا؟‘‘

ء…/…ء

فاصلے جانے کیسے سمٹ گئے کہ اس قدر پریشانی کے عالم میں بھی عباس لمحے میں اپنی میکینکل فیکٹری پہنچے وہاں دھوئیں‘ آگ کے علاوہ سائرن بجاتی ریسکیو کی گاڑیاں اور ایمبولینس تھیں‘ ان کی فیکٹری میں اچانک گیس سلنڈر پھٹنے سے دھماکہ ہوا تھا اور دھماکے کی نوعیت اتنی شدید تھی کہ لوہے کی بھاری مشینری پھٹ کر بکھرگئی۔ الیکٹرک وائرنگ میں آگ لگ کر ہر چیز پگھلی اور دھواں ہونے لگی۔ رامس اس وقت مینوفیکچرنگ ہال میں تھا‘ مشین کے قریب ہونے کی بناء پر ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئیں بلکہ چہرہ اور جسم بری طرح جھلس گیا۔ وہ اور بہت سے ورکرز تشویش ناک حالت میں ہسپتال پہنچائے گئے تھے۔

ء…/…ء

غم و پریشانی میں وہ بالکل نچڑ کر بیمار رہنے لگے تھے۔ خوش بختی کا ستارہ کہیں ڈوب سا گیا تھا اور وہ اندھیروں میں ہاتھ مارتے چکرا کر رہ گئے تھے‘ جمع جتھا کرنے کی عادت شروع سے نہ تھی پھر بھی جو زیورات اور کچھ رقم تھی۔ وہ چند ہفتوں میں ہی رامس کی زندگی پر لگ گیا‘ یہ بھی اللہ کا کرم تھا کہ صرف ایک ٹانگ پر اس کی زندگی بچ گئی تھی لیکن اپنا کاروباری سفر پھر صفر سے شروع کرنا تھا اور اس چیز کے لیے واحد آسرا گھر ہی تھا۔ نعیمہ کا ڈگمگاتا دیا منڈیر پر رکھا تھا مگر یکے بعد دیگرے جو کچھ ہورہا تھا‘ وہ انہیں بوڑھا تر کرنے لگا اور کھڑے ہونے پر چکر آنے لگے غالباً رامس کے گھر آنے کے چند ہفتے بعد تابش اپنے والدین کے ساتھ عیادت کے لیے گھر آیا تھا۔ ایک مقصد رشتہ داری بنانا بھی تھا‘ وہ جلد از جلد منیشاء کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا۔

ء…/…ء

وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے چائے پی رہے تھے‘ مردوں میں گفتگو تو رامس کے حادثے سے شروع ہوکر فیکٹری کے نقصان‘ ملکی حالات اور پھر سیاست کی طرف مڑچکی تھی اور عورتوں میں حادثے کے غم کے بعد آہستہ آہستہ خاموشی ہوتی گئی۔ تابش کی والدہ خاصی خاموش لگ رہی تھیں‘ وہ چائے کی چسکیاں لیتی ہوئی مسلسل نعیمہ کو دیکھتی پھر میز پر لگے لوازمات پر اور جب نظر رامس پر ٹکتی تو کچھ دیر کے لیے رک سی جاتیں گویا وہ اپنی یادداشت کھنگال رہی تھیں۔

’’آپ کبھی گرین ٹائون میں بھی رہے ہیں؟‘‘ اس کے اچانک سوال پر نہ صرف عباس نے چونک کر انہیں دیکھا بلکہ نعیمہ کو لگا جیسے گرم چائے نے زبان‘ سینہ‘ معدہ تک جلا دیا ہو۔ اس نے نظروں کا زاویہ لمحہ بھر عباس کی طرف پھیرا اور پھر اطمینان سے اپنی پیالی ٹیبل پر رکھ کر سیدھی ہو بیٹھی۔ صوفے کے بازو پر کہنی جماتے ہوئے ناگواری سی آواز نکلی۔

’’جی… میری سسرال ہے وہاں۔‘‘

’’ہوں۔‘‘ تابش کی والدہ نے کچھ سوچتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔

’’میرا خیال ہے کہ آپ وہی ہیں ناں‘ جس نے اپنی ساس…؟‘‘ ان کے سوالیہ انداز سے رک جانے پر نعیمہ کی آنکھیں پھٹیں اور وہ پہلو بدل کر خاصی تنک کر بولی۔

’’آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں؟ ذرا کھل کر بات کریں۔ آپ نے آنکھوں سے کچھ دیکھا تھا‘ ایسے ہی سنی سنائی میں آگئیں۔‘‘ اس کے نخوت سے گردن مارنے اور لہجے کا پینترہ بدلنے پر نہ صرف تابش کی ماں کی آنکھیں پھیل گئیں بلکہ وہ کچھ حیراں اور پشیمان بھی تھیں‘ اس بات پر منیشاء سمیت سب پر سکتہ طاری ہونے لگا۔ تابش بھی نعیمہ کے حد درجہ بدلے انداز پر نا صرف حیران تھا بلکہ کچھ سوچ بھی رہا تھا جب کہ منیشاء نے ماں کو کئی بار چپ کروانے کے لیے کہنیوں اور گھرکیوں سے کام لیا مگر وہ بھی اپنے نام کی ایک ہی تھی‘ کسی کی نہ سننے والی‘ مزید اونچی آواز میں ہاتھ نچا کر بولی۔

’’ایک دن جو اس عورت نے مجھے چین لینے دیا ہو‘ کہنے کو تو سگی پھوپی تھی مگر مرتے ہوئے بھی مجھے ہی بدنام کرنے کی کوشش کی اگر میں اتنی ہی بری ہوتی تو اللہ مجھے یوں پھل لگاتا۔‘‘ وہ اپنے ہاتھ سے سجے سجائے گھر کی طرف اشارہ کررہی تھیں۔

’’لوگوں کی تو عادت ہے جلتی پر تیل ڈالنے کی۔‘‘ نعیمہ کے بدلتے انداز پر تابش کی والدہ کبھی بیٹے اور میاں کو دیکھ رہی تھیں اور کبھی منہ بند کیے اور دانت کچکچاتی منیشاء کو جو شرمندگی سے گردن جھکائے ایسے بیٹھی تھی جیسے ماں کو چپ کروانا چاہتی ہو۔

اچھے بھلے خوش گوار ماحول میں ایک دم تنائو آگیا‘ ہر چہرہ دوسرے کو اجنبی لگنے لگا تھا۔ شناسائی کے پردے پر برعکس کی بیگانگی دھند دکھاتی تن گئی‘ وہ بمشکل چند لمحے رکنے کے بعد خاموشی سے چل دیئے۔ تابش کا ننھیال گرین ٹائون میں رہتا تھا اور ماموں کے بچے بھی اسی اسکول میں پڑھتے تھے‘ جہاں نعیمہ کے‘ تابش کی والدہ کا اکثر اپنے میکے آنا جانا رہتا تھا اور پھر جب الماس بی بی کا واقعہ پیش آیا تو بھاوج نے نعیمہ کے کپڑوں‘ جوتوں‘ حال حلیے سے اچھی طرح یاددہانی کروائی تھی۔ وقت کی گردش نے یادداشت پر دھول تو ڈال دی تھی مگر ذرا سا زور دینے پر سب دھول جھڑ گئی تھی اور اس کے لب و لہجہ نے مزید وضاحت کردی… واپسی پر ماما نے خاصے طنزیہ لہجے میں تابش سے پوچھا۔

’’تم اس فیملی میں رشتے کے خواہش مند ہو؟‘‘ جواباً وہ ہونٹ کاٹتا رہ گیا۔

’’بیٹا… ایک عورت پوری نسل کو آباد یا برباد کرنے کے لیے کافی ہے بہرحال فیصلہ تمہارا ہوگا… مگر دل کے بجائے دماغ سے کام ضرور لینا۔‘‘ تابش کے والد کہہ رہے تھے اور وہ فرماں برداری سے سن رہا تھا۔ وہ ان کا خاصا سمجھ دار اور فرماں بردار بیٹا تھا‘ لہٰذا اس نے خود ہی اپنا راستہ الگ کرلیا تھا‘ جس پر منیشاء نے گھر میں طوفان مچادیا‘ مکمل بھوک ہڑتال‘ کبھی خود کشی کی کوشش اور کبھی گھر سے بھاگنے کے ڈراونے‘ مطالبہ یہی تھا کہ ماں جاکر اپنے رویے کی معافی مانگے اور کسی بھی طرح انہیں راضی کرے۔ ایک طرف بیٹے کی بیماری‘ کاروباری ٹینشن اوپر سے روز روز اپنی چہیتی کی چیخ و پکار‘ نعیمہ بپھر گئی۔

’’کیا تیرے آگ لگی ہے منحوس… وہ کون سا دنیا کا آخری مرد تھا جو تو کنواری مری جارہی ہے۔‘‘

’’وہ آخری مرد نہیں ہے ماما… مگر پھر بھی میرے لیے وہ آخری ہی تھا۔‘‘ کچھ دیر بعد وہ پھر چلائی۔

’’مگر آپ جو پیچھے جھنڈے گاڑھ آئی ہیں ناں‘ لہراتے ہوئے ان کا یہ سایہ اس چوکھٹ تک ضرور آئے گا اور ہم کنواری ادھر ہی رہ جائیں گی۔‘‘ وہ دانت پیستے ہوئے اتنی زور سے چلائی کہ ’’حرافہ‘‘ کہتے ہی نعیمہ کا ہاتھ اس پر اٹھ گیا۔ منیشاء نے فوراً ہی اس کی کلائی پکڑی ماں کی وحشت زدہ آنکھوں کی پروا کیے بغیر اس کا بازو ’’ہونہہ‘‘ کہہ کر زور سے جھٹکا۔

’’میں الماس بی بی نہیں ہوں۔‘‘ وہ اگلے دانت جماکر نتھنے پھلاتے ہوئے نفی میں سر ہلارہی تھی۔

’’آپ ہی کی بیٹی ہوں اور یہ رویہ میں نے آپ ہی سے سیکھا ہے۔‘‘ اس نے سر سے پائوں تک ایک نظر گم صم ماں کو دیکھا اور پھر پائوں پٹختی کمرے میں چلی گئی۔

ء…/…ء

قدرت انسان کو غلطی کرنے کے بعد اسے سدھارنے کا موقع ضرور دیتی ہے‘ اکثر اوقات یہ موقع اتنا خوب صورت اور طویل ہوتا ہے کہ انسان اپنی خوش قسمتی پر رشک کرتا ہے اور لوگ اسے حسرت سے تکتے ہیں۔ وہ اس رشک میں تفاخر سے اتنا تن جاتا ہے کہ اپنی غلطی تو جانے کس کنویں میں گئی‘ کب ہوئی‘ کیسے ہوئی کچھ یاد نہیں رہتا۔ یاد رہتی ہے تو صرف دکھاوے کی نیکیاں جن کا اجر و رشک اور لوگوں کی آنکھوں میں حسرت دیکھ کر فخر سے وصول کرتا ہے مگر اس کے رشک کو جانے کس نظر لگ گئی تھی پہلے رامس کی پریشانی کم تھی‘ اوپر سے منیشاء نے بھی ڈال دی۔

ء…/…ء

اس کی طبیعت کئی دن سے خراب تھی‘ جسم تھکا تھکا اور ٹوٹا سا لگتا‘ سر پر ہاتھ لگتے ہی ٹیسیں اٹھنے لگتی۔ بستر پر لیٹتی تو سانس اکھڑنے لگتی‘ اٹھ کر بیٹھنے پر چکر آنے لگتے۔ اب بھی وہ بے چینی میں کتنی ہی کروٹیں بدل چکی تھی بالآخر بال سمیٹتے ہوئے اٹھی‘ بالوں کو لپیٹ کر جوڑا بنایا اور بیڈ کرائون سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔

’’لیٹ جائو بیگم… اللہ پاک خیر کرے گا۔‘‘ عباس بھی خدشوں سے بے چین بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے مگر بیگم کی بے چینی دیکھی نہ گئی۔

’’کیا خیر ہوگی‘ میری تو قسمت ہی خراب ہے‘ پہلے ساس نند نے ستایا اب تمہارے بچے…‘‘ وہ گھٹنوں پر کہنیاں رکھے‘ ہاتھوں میں سر تھامے بیٹھی رہی غالباً منیشاء کا رویہ باپ سے ڈھکا چھپا تو تھا نہیں‘ جس طرح کے لب و لہجہ میں تربیت ہوئی تھی۔ جوانی میں وہی انداز اپنائے‘ اب غصے اور ضد میں وہ انداز بھڑک کر سامنے آرہے تھے جس پر دونوں ماں باپ چکرا رہ گئے۔

’’تم علیشاء کو تو چلتا کرو‘ یہ نہ ہو کہ چھوٹی کی بد زبانی اس کے سسرال تک پہنچ جائے اور کوئی نیا ہی چاند چڑھ جائے۔‘‘ اس نے ہاتھوں سے سر اٹھا کر میاں کو دیکھا‘ وہ خاموش تھے مگر لمبا ہنکارہ بھر کر چھت گھورنے لگے۔

’’میں نے کیا کہا؟ سنا بھی یا نہیں۔‘‘ اس کے کندھا ہلانے پر وہ خواب کی سی کیفیت میں بولے۔

’’تم جو کہہ رہی ہو نا وہ میں کرچکا ہوں۔ کئی بار پیغام بھجوا چکا ہوں مگر وہ تو ایسے ٹال مٹول کررہے ہیں جیسے ابھی ارادہ نہ ہو۔‘‘ وہ ان کی بات سنتے ہی پوری ان کی طرف گھوم گئی۔

’’ضماد کو ڈگری تو مل گئی ہے‘ اب کیا تکلیف ہے انہیں رخصتی لینے میں۔‘‘

’’پتا نہیں۔‘‘ انہوں نے لمبی آہ بھری۔ ’’بہرحال کل میں خود جائوں گا‘ ان کی طرف‘ تم پریشان مت ہو‘ لیٹ جائو۔‘‘ انہیں نعیمہ کی پریشانی اتنی کھلی کہ صبح پہلی فرصت میں ہی وہ علیشاء کے سسرال جاپہنچے‘ وہاں بے حسی کا وہی عالم تھا۔ والد صاحب اور بڑے بھائی گھر میں نہ تھے‘ والدہ اور بہنیں تھیں جن کے رویوں پر یاسیت چھائی تھی۔ کچھ دیر گھما پھرا کر بات کرنے کے بعد ماں بیٹے کی بے روزگاری کا رونا رونے لگی۔

’’ضماد کی نوکری لگے تو میاں کچھ آگے کا سوچیں‘ اب ٹٹ پونجیے پر کیا کنبے کا بوجھ لادوں؟‘‘ عباس ان کی بات پر حیرت زدہ ہوگئے غالباً انہیں معلوم تھا کہ کامرس کالج میں اسے پچھلے مہینے نوکری مل چکی ہے پھر بھی…

’’وہ کالج جا تو رہا ہے غالباً۔‘‘ ان کی یاددہانی پر اس نے ناگواری سے ناک چڑھائی۔

’’ہاں بھیا… یہ پرائیوٹ کالج کی نوکری میں بھلا کیا بنتا ہے‘ اٹھارہ بیس ہزار میں بھی بھلا گھر چلتے ہیں۔‘‘

’’اللہ کرے کوئی اچھی نوکری مل جائے یا…‘‘ وہ ’’یا‘‘ خاصا کھینچ کر بولی۔ ’’یا کوئی اور مدد‘ پھر ہی بات بنے گی۔‘‘ ان کے چھپے اشارے کو وہ خوب سمجھتے تھے مگر خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کچھ دیر خاموش بیٹھ کر واپس آگئے۔

ء…/…ء

صبح کی چمکتی کرنیں پل بھر کے لیے پھوٹتیں اور زرد دھوپ چاروں طرف بکھیر دیتیں‘ زردی سمٹتے سمٹتے سیاہی میں گھلنے لگی۔ سارا ماحول سیاہ گھٹا ٹوپ ہوجاتا۔ دو ماہ ان کی طرف سے انتظار کرنے کے بعد بالآخر اپنے دوست ریحان کو بیچ میں ڈالا‘ جس کے توسط سے رشتہ ہوا تھا۔ ڈرائنگ روم کے صوفوں پر دونوں دوست بہت دیر سے آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ عباس مسلسل اپنی کن پٹی مسل رہے تھے‘ ریحان بھی سر پکڑے بیٹھے تھے غالباً تسلی‘ دلاسہ دینے کے الفاظ ان کے پاس نہیں تھے کہ ان کی وجہ سے دوست کی بیٹی پھنس گئی نعیمہ کچھ دیر پہلے ہی چائے لے کر آئی اور پھر وہاں ہی بیٹھ گئی۔ وہ کبھی ریحان کو دیکھتی تو کبھی عباس کو‘ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کرے تو کیا کرے۔

’’بس‘ بھابی دنیا بھری ہے ایسے لوگوں سے۔‘‘ ریحان نے بھی آہ بھر کر تسلی دینا چاہی۔

’’اچھے وقت کے سب ساتھی ہوتے ہیں‘ چڑھتے سورج کو سلامی دی جاتی ہے۔ ہم سے پہچان میں غلطی ہوگئی بہرحال…‘‘ انہوں نے بیٹھے بیٹھے پہلو بدلا۔

’’علیشاء میری بھی بیٹی ہے‘ میں کچھ کرتا ہوں اس کے لیے۔‘‘ دراصل علیشاء کی ساس نے بڑا گھر‘ بڑا کاروبار‘ خوب صورت لڑکی دیکھ کر منگنی کے بجائے نکاح کو اہمیت دی کہ اکلوتے سالے کے ساتھ مل کر بیٹا سسر کا کاروبار سنبھالے گا مگر جیسے ہی فیکٹری کو نقصان پہنچا۔ بزنس تو کیا وہاں جہیز کے لالے پڑگئے تو ان کے رویوں پر بھی برف کی سل رکھی گئی‘ ایسے میں انہوں نے ریحان کے سامنے لگی لپٹی رکھے بغیر صاف کہہ دیا۔

’’میاں… یا تو کوئی اچھی نوکری لگوادو‘ یا پھر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار تو آج ہی رخصتی کرلیتے ہیں نہیں تو پھر بھیا… ابھی انتظار کرو۔‘‘ اور یہ انتظار جان کا عذاب لگنے لگا تھا‘ غم و پریشانی میں وہ صدیوں کے بیمار لگتے تھے۔ عباس کے چہرے پر پژمردگی دیکھ کر نعیمہ اپنی جون میں لوٹ آئی اور دونوں ہاتھ ملتے ہوئے عادتاً کوسنے دینے لگی۔

’’خدا غارت کرے ان کے بھائیوں کو‘ کم بختوں کی نظریں لگ گئیں‘ کیسے دیدے پھاڑ پھاڑ کر ضماد اور علیشاء کو دیکھ رہے تھے۔‘‘ اس کے بین پر ریحان اور عباس دونوں نے بھنویں اچکا کر انہیں دیکھا مگر وہ مسلسل کراہتے ہوئے ماتم کناں تھیں۔

’’ہائے بھائی صاحب… میں نے تو انہیں منع کیا تھا‘ مت بلائو انہیں مگر نہ…‘‘ وہ شہادت کی انگلی دائیں بائیں ہلاتے گردن بھی ساتھ ساتھ انکار میں ہلانے لگی۔

’’یہ میری سنتے کہاں ہیں‘ بانہیں اکڑی جارہی تھی لے لو اب مزہ…‘‘ غالباً گرین ٹائون چھوڑنے کے بعد انہوں نے اپنے بھائیوں سے کوئی تعلق نہ رکھا تھا‘ ایک بار بڑے بھائی‘ بھابی کا ایکسیڈنٹ ہوا مگر بیگم نے جانے نہ دیا۔ دوسرے بھائی نے اپنی بیٹی کی شادی کا بلاوا بھیجا تو اپنی طبیعت خرابی کا بہانہ کرکے ٹال گئے پھر زلیخا شدید بیمار پڑی اور ہسپتال میں داخل ہوئی۔ بھائی نے پیغام بھی بھجوایا کہ وہ عباس سے ملنا چاہتی ہے مگر نعیمہ نے صاف انکار کردیا۔

’’ہماری جاتی ہے جوتی‘ وہ پاگل‘ جھلی ہمیں دیکھتے ہی کوسنے دینے لگتی ہے۔ پڑھ پڑھ کر پھونکیں مارتی ہے اور ہم عیادت کے لیے جائیں؟ نہ میں جائوں گی اور نہ تمہیں جانے دوں گی۔ کم بخت نے سارے محلے میں مجھے ذلیل کردیا‘ اب یاد میں تڑپ رہی ہے ڈرامہ باز‘ موت کے وقت معافی یاد آرہی ہوگی نا جھوٹی کو۔‘‘ نعیمہ نے سنتے ہی اتنا واویلا مچایا کہ عباس ملنے کا عندیہ دے کر شرمندہ ہوگئے۔ گویا بہن نے زک بھی تو خوب پہنچائی تھی کہ احتجاج حق بجانب تھا مگر پھر بھی وہ کچھ دن بعد چوری چھپے چند منٹ کے لیے بہن کی عیادت کر آئے۔ وقت آگے نکلا اور علیشاء کا نکاح کرنے لگے‘ اپنی پہلی خوشی میں وہ اپنے بہن بھائیوں کو بلانا چاہتے تھے۔ نعیمہ تو کسی صورت نہ مانی مگر جب انہوں نے کہا۔

’’یار صرف بھائیوں کو تو بلالینا چاہیے‘ نئے رشتہ داروں پر بھی رعب پڑے گا۔‘‘ وہ ناک منہ چڑھا کر چپ کر گئیں۔

بھائیوں نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا اور کچھ دیر کے لیے نکاح میں شامل ہوگئے۔ نعیمہ کو ان کا آنا تب بھی کھٹکا تھا اور اب بیٹی کا معاملہ کھٹائی میں دیکھ کر ساری کرتا دھرتا ان کے سر ڈال دی۔

’’بھائی صاحب… کوئی مانے نہ مانے‘ ضرور ان بدبختوں نے جادو‘ ٹونے کروائے ہوں گے۔ سارا دن عاملوں کے پاس پھیرتے کاٹتی تھیں ان کی بہن بھابیاں‘ دیکھو تو سہی بیٹھے بٹھائے چلتا کاروبار ختم ہوگیا۔ بیٹا چارپائی سے لگ گیا‘ ایک بیٹی ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے‘ دوسری اجڑنے کو بیٹھی ہے۔ ہائے ہائے… میں کہاں جائوں‘ کس کو پکاروں۔‘‘ ان کے باقاعدہ چلا چلا کر ہاتھوں کے ساتھ بین کرنے اور رونے دھونے پر ریحان بھونچکا رہ گئے۔

’’بھابی… آپ حوصلہ رکھیں‘ مشکل آہی جاتی ہے مگر…‘‘ ان کی ادھوری تسلی کو میز پر چائے کے برتن سمیٹتی منیشاء نے فوراً کاٹ دیا۔

’’مگر کیا انکل‘ کون سی مشکل‘ کس آسانی کی امید… کس بات کی تسلی دے رہے ہیں آپ۔ اب ان کی زندگی میں مکافاتِ عمل شروع ہوچکا ہے جو دوسروں کے لیے گڑھے کھودتے ہیں ناں‘ کوئی گرے نہ گرے وہ خود ضرور گرتے ہیں۔‘‘ وہ برتن وہاں ہی چھوڑ کر سیدھی کھڑی ہوگئی اور ہرنی جیسی آنکھیں پھاڑے‘ دانت جمائے ماں باپ کو دیکھ رہی تھی۔

’’انہوں نے ساری زندگی دادی اور پھوپو کو دکھ پہنچانے کے علاوہ کیا کیا تھا؟ اب میں اتنی بھی چھوٹی نہیں تھیں کہ کچھ یاد نہ ہو نہ صرف خود انہیں برا بھلا کہتی تھیں بلکہ ہم سے بھی گالیاں دلواتی تھیں‘ مذاق اڑاتیں‘ ان سے خرچا چھین لیتیں‘ کس جرم کی سزا میں… ہمارے باپ کے دل میں ہر لمحہ ان کی نفرت بوئی… وہ بھی آنکھیں بند کیے‘ نفرت کی فصل پکاتے رہے بلا تفتیش کیے۔‘‘ اسے بے وفائی کی ضرب ہی اتنی کاری لگی تھی کہ اب سنبھلنا بہت مشکل تھا بگڑی ہوئی پہلے ہی تھی اب مزید خود سر ہوگئی۔ وہ ماں کو مسلسل کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی کچھ دیر چپ رہ کر دانت جما کر بولی۔

’’ماما… اللہ کی طرف سے سزا و جزا وہی ہوتی ہے جو اولاد کی صورت ملے۔ انسان کو اولاد ہر چیز سے پیاری ہوتی ہے ناں‘ اسی لیے اللہ پیاری چیز سے انصاف کرتا ہے۔ نیک اولاد ماں باپ کی نیکی کا صلہ ہوتی ہے اور بدنصیب ہونہہ… بدنصیب ماں باپ کی کرتا دھرتا۔‘‘

’’بکواس بند کر اپنی منحوس…‘‘ نعیمہ کیسے صبر سے اس کی تقریر برداشت کرتی فوراً چلاتے ہوئے بولی۔

’’کیوں… کیوں چپ کروں۔‘‘ وہ بھی انہی کی بیٹی تھی‘ مزید چلا کر بولی۔ ’’حقیقت نگلی نہیں جارہی‘ اللہ عجلت میں کسی کا بدلہ نہیں لیتا بلکہ بہت سکون اور مہلت دے کر انصاف کا پلڑا برابر کرتا ہے۔ اس نے تو آپ کو بہت مہلت دی‘ بار بار معافی مانگنے کے رستے بتاتے مگر آپ ہونہہ… آپ کی یادداشت کام کرے نہ کرے مگر اس کی یادداشت بہت اچھی ہے وہ سب یہاں ہی پلٹا کر منہ پر مارتا ہے‘ ضروری نہیں ماما… آپ کسی کا بازو توڑیں تو بدلے میں آپ کی ٹانگ‘ بازو ہی ٹوٹے۔ دل بھی ٹوٹ سکتا ہے‘ سکون بھی ٹوٹ سکتا ہے‘ آپ کی کرنی آپ کی اولاد کو بھگتنی پڑ رہی ہے۔‘‘ چلاتے چلاتے اس کی آواز رندھ گئی‘ لہجہ گلوگیر ہوگیا اور آنکھوں کے دھندلکے میں وہ تمام منظر تھے جب وہ بہت چھوٹی تھی اور نعیمہ اس کی دادی‘ پھوپی سے کیا سلوک کرتی تھی۔ باپ کے سامنے جھوٹی رٹی رٹائی باتیں سنانے پر چاکلیٹ‘ ٹافیاں اور پیسے دیتی تھی اور خاص کر وہ دن کتنا ہی عرصہ اسے ڈراتا رہا جب پہلی بار اسے تنہائی سے خوف آیا۔ اندھیرے میں جانے سے ڈرتی‘ سوتے میں سرخ پانی ڈرانے لگتا۔ دادی کے سر سے نکلتا خون اور اکھڑتی سانسیں‘ سوچتے ہی اس کی اپنی سانسں تیز چلنے لگتی۔ غالباً جب تیرہ سال پہلے نعیمہ دودھ لینے نیچے اتری تھی‘ ساس کی سرزنش پر آپے سے باہر ہوگئی اور ان کی اسٹیل کی دیگچی یک لخت ان ہی کے منہ پر دھکیلنے کے انداز میں دے ماری جو ماتھے کے قریب زور سے لگی تھی۔ اس اچانک حملے سے الماس بی بی کے آگے تارے ناچنے لگے اور وہ لڑکھڑا کر ماربل کے فرش پر پھسلیں۔ گیراج میں دیوار کے ساتھ واٹر پمپ نصب تھا‘ ان کا سر اس سے ٹکرایا‘ نعیمہ پروا کیے بغیر اوپر چلی گئی۔

زلیخا نے کھڑکی سے دیکھا تھا‘ وہ تہہ کیے ہوئے کپڑے چھوڑ چھاڑ کر باہر لپکی‘ ماں کے سر سے خون ابلتا دیکھ کر زور زور سے چلانے لگی۔ نعیمہ اپنا جگ لے کر نیچے اتری تھی اور خوف زدہ سی منیشاء بھی اس کے ساتھ لگ کر اتر آئی‘ وہ عادتاً ماں کے ساتھ ساتھ رہتی تھی اور اس وقت تو ٹیرس کی گرل سے سارا منظر دیکھ چکی تھی۔

’’دفع ہوجا تُو اوپر‘ ان ماں بیٹی کے ڈرامے ہی ختم نہیں ہوتے۔‘‘ اس نے اپنے ساتھ چپکی منیشاء کو دھپ لگائی اور گردن جھٹک کر گیٹ کھولا‘ دودھ لیا اور وہ ابھی پلٹی ہی تھی کہ دونوں جٹھانیاں بھی کمروں سے نکل آئیں۔ چھوٹی نے اپنا بیٹا دوڑا کر رکشہ منگوالیا اور بڑی چیخنے کے ساتھ ساتھ زلیخا کی مدد سے انہیں اٹھانے کی کوشش کررہی تھی۔ زلیخا نے ماں کے سر پر قریب لٹکا تولیہ لپیٹ دیا‘ نعیمہ اور منیشاء پتھر کی بت بنی پھٹی پھٹی آنکھوں کھلے منہ بس تکے جارہی تھیں۔ بے شک اسے پھوپی الماس سے شدید نفرت تھی اور دن میں کوئی دس بار اسے مرنے کے کوسنے دیتی تھی مگر یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کے ہاتھوں یہ سب ہوجائے گا۔

اور ہوگا بھی تب جب عباس آنے والا ہوگا‘ اس کے ہاتھوں میں دودھ والا جگ لرزا اور ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پھیلتی ہوئی قدموں تک جاپہنچی۔ الماس کی حالت زیادہ بگڑتی دیکھ کر اس نے جگ منیشاء کو تھمایا اور خود مرے مرے قدموں سے آگے بڑھی‘ ابھی جھک کر پھوپی کو اٹھانے کی کوشش کی ہی تھی کہ زلیخا نے اسے پورے زور سے پرے دھکیل دیا۔

’’پرے ہٹ… چلی جا۔‘‘ وہ پورا منہ کھولے ہانپتے ہوئے بولی۔

’’تُو نے مارا ہے‘ اللہ نہیں بھولے گا‘ اللہ نہیں بھولتا۔‘‘ وہ انگشت اوپر کی اٹھائے بیٹھے بیٹھے کی جھومتی‘ ہانپتی کانپتی بس ایک ہی جملہ کہہ رہی تھی۔ اس کے آنسو گالوں سے بہہ کر منہ میں جانے لگے پھر ہسپتال میں دوسرے دن ہی الماس بی بی نے جان دے دی تھی۔

تینوں بیٹے ایمرجنسی ٹکٹ پر پاکستان آگئے‘ زلیخا کی زبانی تفصیل سن کر بھڑکے تو تھے مگر معاملے کو گھر میں دبانے کی کوشش کی تھی۔ ایک بدنامی کا ڈر تھا‘ دوسرے تھانے کچہریاں پھر پاگل بہن کی گواہی کے علاوہ کوئی واضح ثبوت نہ تھا اور صاف لگ رہا تھاکہ پھسل کر گرنے سے چوٹ لگی ہے۔ بڑی جٹھانیاں غالباً اسی لیے چپ تھیںکہ بڑھیا تو مرگئی اب خوامخواہ بدزبان‘ جاہل دیورانی سے بیر کیا باندھنا۔ نعیمہ رو رو کر الگ سچی ہورہی تھی بہرحال جو بھی تھا اور زلیخا کتنی ہی کم دماغ یا پاگل سہی مگر اس نے نعیمہ کو جنازے کے قریب تک نہ آنے دیا تھا‘ وہ اسے دیکھتے ہی چلاتی۔

’’ہاتھ نہ لگا‘ تُو نے مارا ہے… اللہ نہیں بھولتا۔‘‘ اس کے انداز پر عورتوں میں خاصی چہ مگوئیاں ہونے لگیں‘ کچھ تجسس فطرت عورتوں نے اسے کرید کرید کر پوچھا۔

’’آخر خود کیسے گر گئیں‘ ہوا کیا تھا؟‘‘ غالباً سارا محلہ اس کے انداز و اطوار سے واقف تھا۔

ء…/…ء

وقت گزر گیا تھا‘ لمحوں کا پنچھی ڈال ڈال کودتا چٹان پر جا بیٹھا تھا۔ تیرہ سال پہلے بھی گھر کی سرد جنگ‘ بہن بھائیوں کی طنزیہ نظریں‘ چیرتا سا کوئی لفظ اور عجیب احساسِ ندامت سے نکلنے کے لیے عباس نے تنہائی میں نعیمہ سے پوچھا تھا۔

’’مجھے سچ بتادو‘ آخر ہوا کیا تھا؟‘‘

’’آپ کے خیال میں‘ میں جھوٹ بول رہی ہوں۔‘‘ وہ آواز میں آنسوئوں کی آمیزش بھرتے ہوئے اس کے قریب کھسک گئی۔ ’’کیا میں اتنی ظالم ہوں کہ اپنی سگی پھوپی کو مار دوں گی‘ اس پاگل کی باتوں پر یقین کررہے ہیں‘ میرا اعتبار نہیں رہا آپ کو۔‘‘

’’اعتبار ہے تبھی پوچھ رہا ہوں‘ بھائیوں کی سوالیہ نظروں کا سامنا نہیں ہوتا مجھ سے زلیخا کے لفظ کن پٹیاں پھاڑ رہے ہیں۔‘‘ وہ آنکھیں بند کیے لمبی لمبی سانس لینے لگے جس پر نعیمہ نے بھی ’’سوں سوں‘‘ کرتے زور سے سانس کھینچی اور ہچکیاں لیتے ہوئے باقاعدہ رونے لگی۔

’’زلیخا اور پھوپی کے کیا کہنے‘ انہیں تو میں اس گھر میں آنے سے پہلے ہی ناپسند تھی۔ ہر بات میں مجھے روکا‘ ٹوکا برا بھلا کہا۔ کبھی میری کوئی تعریف کی تمہارے سامنے؟ جب سامنے برا بھلا کہتی تھیں تو اندازہ لگا لو پیچھے کیا کرتی ہوں گی؟ انہیں تو بس اللہ نے بہانہ دے دیا۔ میرا قصور تو صرف اتنا ہے‘ میں دودھ لینے نیچے آئی تھی۔ پتا نہیں پھوپی کی کس چیز سے ٹکر ہوئی اور پھسل کر گرگئیں۔‘‘ وہ سانس لینے کے لیے چند لمحے رکی اور دوپٹے سے خوب ناک رگڑ کر دوبارہ شروع ہوئی۔

’’میں نے تو انہیں اٹھانے کی کوشش کی تو زلیخا نے مجھے زور سے دھکا دے دیا‘ اوپر سے جھوٹ بول بول کر سارے گھر کو اکٹھا کرلیا‘ تم بے شک مجھ سے قسم لے لو رامس کی۔‘‘

’’بس بس‘ بچوں کی قسم کیوں اٹھا رہی ہو۔‘‘

’’آپ یقین بھی تو نہیں کررہے۔‘‘ وہ کچھ منہ بھلا کر بولی۔

’’منیشاء پاس تھی بے شک اس سے پوچھ لو۔‘‘ وہ ہر پل ماں کی گواہ بننے کو تیار تھی۔ اسے ماں سے محبت بھی تو بے پناہ تھی‘ اب بھی فوراً بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوگئی‘ سب سے لاڈلی اور چھوٹی منیشاء اس کا بہترین ہتھیار تھی‘ عباس کے روکنے کے باوجود اس نے زور سے منیشاء کو پکارا۔

’’جی ماما۔‘‘

’’بتا اپنے باپ کو تیری دادی کیسے گری تھی؟‘‘ وہ ہاتھ سے روکنے کے اشارے کرتے رہے مگر منیشاء ماں کے رٹے رٹائے سبق میں خود سے اضافہ کرتی ماں کو بھی حیران کر گئی۔

’’پاپا… دادی خود ہی پھسل کر گری تھی‘ ٹھوکر لگنے سے ہمارا سارا دودھ بھی گر گیا تھا۔ تائی امی اور پھوپو نے مل کر ماما کو مارا کہ تم نے دھکا دیا ہے اور پاپا…‘‘ وہ کہتے کہتے باپ کے کندھے پر جھولنے لگی۔ ’’ماما نے مجھ سے رکشہ بھی منگوایا تھا‘ دادی کو ہسپتال لے جانے کے لیے مگر پھوپو اسد کے لائے رکشے پر گئیں اور جاتے جاتے مجھے تھپڑ بھی مارا تھا۔‘‘ نعیمہ بیٹی کی خود بیانی پر جہاں حیرت زدہ تھی‘ وہاں دل ہی دل میں اپنی تربیت کو داد بھی دے رہی تھی۔ منیشاء ابھی جانے اور کیا کیا کہتی‘ عباس نے اس کا بازو کندھے سے ہٹایا۔

’’اچھا بیٹا تم جائو۔‘‘

بھائی‘ بھابیوں اور محلے والوں کی دبی دبی طنزیہ نظروں سے بچنے کے لیے انہوں نے یہی حل نکالا کہ یہ محلہ چھوڑ دینا چاہیے۔ اس الزام بھری ندامت سے پیچھا چھڑاتے چھڑاتے تیرہ سال بعد آج پھر وہ نعیمہ کے روبرو سراپا سوال تھے چیخ چلا کر ماں باپ کو حیرت کے سمندر میں ڈبو کر منیشاء اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ ریحان نے بھی وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی تھی اور عباس سر تھامے گنگ نعیمہ کو پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔

’’یہ کیا کہہ گئی ہے؟‘‘ ان کے سوال پر نعیمہ نے بھونچکا کر انہیں دیکھا‘ وہ لمحہ بھر ہی دیکھ سکی تھی پھر پریشان نگاہیں ادھر اُدھر کارپٹ پرجم گئی تھیں۔

’’میں تم سے کیا پوچھ رہا ہوں نعیمہ بیگم… منیشاء کیا کہہ گئی ہے؟‘‘

’’کیا خبر کیا کہہ رہی تھی‘ کم بخت کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔‘‘ اس نے ناگواری سے سلوٹ ماتھے پر ڈالی اور ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے وہاں سے اٹھنے لگی۔

’’بیٹھو یہاں۔‘‘ ان کے گرم لہجے پر وہ یک لخت ہی دم سادھے بیٹھ گئی۔

’’مجھے صرف اتنا بتادو کہ جو زلیخا کہتی رہی ہے‘ وہ سچ تھا؟‘‘ میاں کی عدالت میں آج آنسوئوں اور ہچکیوں سے کام نہیں چلنا تھا‘ اسی لیے وہ قدرے تنک کر بولی۔

’’ہاں… اس پاگل جھلی پر سب کو اعتبار ہے اور میں ہی جھوٹی ہوں۔ چھبیس سال تمہارے ساتھ گزار دیئے پھر بھی یقین نہیں تم کو۔‘‘

’’مزید جھوٹ نہیں…‘‘ وہ دانت جماکر اس سے زیادہ زور سے چیخے‘ جس پر وہ ساری کی ساری کانپ گئی۔

’’تم نے رامیس کی قسم اٹھائی تھی نا‘ یاد ہے تمہیں۔‘‘ ان کے مزید زور سے چلانے پر اس نے لمحہ بھر ہی انہیں دیکھا اور جب مطلب سمجھ میں آیا تو آنکھیں پتھرا کر پھیلتی چلی گئی‘ دل میں کوئی بھالا سا پیوست ہوتا جارہا تھا۔

’’میرا رامس اپاہج ہوگیا ہے… جھوٹی عورت…‘‘ انہوں نے جبڑے دباکر ایک سانس میں کہا اور دونوں ہاتھوں سے اسے جھنجھوڑا اور وہ کسی بے جان چیز کی طرح ہلتی چلی گئی اور آنکھیں رامس کا سوچتے ہی ساکت ہوتی گئیں۔

’’تمہاری یہ خاموشی بہت بڑی صداقت ہے‘ بہت بڑی صداقت کا پیش خیمہ۔‘‘ وہ نفرت سے اسے دھکیل کر پرے ہوگئے۔ ’’بہت بڑی غلطی ہوگئی مجھ سے‘ بہت بڑی بھول‘ تمہارے حسن کی اندھی پٹی میری آنکھوں پر بندھی رہی۔ بہت دیر سے اتری ہے یہ پٹی جب سب کچھ تباہ ہوگیا‘ برباد ہوگیا میں۔‘‘ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پیٹ رہے تھے‘ وہ اپنا بھاری بھر کم سن ہوتا وجود لے کر اٹھی اور دھپ سے ان کے قدموں میں جاگری۔

’’مجھے معاف کردو‘ اللہ کے لیے مجھے معاف کردو۔ میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا بس روز روز ان کی ڈانٹ ڈپٹ پر غصہ آگیا تھا۔ غصہ میں ہی…‘‘ اس کے لفظ پورے ہونے سے پہلے انہوں نے جھٹکے سے اپنے پیر چھرائے۔

’’قتل کبھی پیار و محبت میں نہیں ہوتے بیگم… غصے میں ہی دوسروں کی زندگی چھینی جاتی ہے‘ ایسے ہی تو غصہ حرام نہیں اور معافی… ہونہہ…‘‘ وہ خاصا آگے بڑھ کر منہ موڑ کر کھڑے ہوگئے‘ انہوں نے تنے اعصاب ڈھیلے کرتے ہوئے گردن پیچھے کو جھٹکی۔

’’معافی کا پاکیزہ لفظ قاتل کے لیے نہیں بنا‘ میرے بھائیوں نے تو نام نہاد عزت کی خاطر تمہیں پتا نہیں کیسے معاف کردیا مگر میں‘ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔ میری ماں کی موت میری تباہی‘ میری اولاد کی بربادی سب کی ذمہ دار ہو صرف تم۔‘‘ وہ زمین سے اٹھی‘ بازو سے پکڑ کر انہیں اپنی طرف موڑنا چاہا مگر انہوں نے جھٹکے سے اسے پیچھے کیا اور انگشت اٹھائی۔

’’ہاتھ مت لگانا مجھے‘ مظلوم کے آنسو عرش چیر دیتے ہیں‘ آہوں کا قرض سود سمیت پلٹتا ہے۔ تمہاری وجہ سے وہ سود پلٹا ہے مجھ پر… نفرت ہورہی ہے تمہارے وجود سے‘ نفرت…‘‘ وہ شعلہ بار نگاہیں اس پر گاڑتھے باہر نکل گئے۔

ء…/…ء

وہ کتنی ہی دیر روتی‘ سلگتی رہی‘ اک اک لمحہ کرب بن کر رگ و پے میں اتر رہا تھا۔ عباس شام کے گئے اگلی صبح تک نہ پلٹے تھے‘ تینوں بچے بھی اپنے کمروں میں قید تھے۔ وہ ساری رات صوفہ پر اینٹھی‘ بدحواس کے عالم میں اپنے ناخن‘ پوریں چباتی‘ ہونٹ نوچتی رہی۔ جرم کرنا اور جرم ثابت ہونا الگ معاملہ تھا اور ثابت بھی اس پر جو جان کی طرح چاہتا تھا‘ جس نے کبھی پوری آنکھیں کھول کر ڈپٹا بھی نہ تھا۔ آج مار کر گیا تھا‘ نفرت کررہا تھا اور وہ اولاد… جسے کبھی کچھ نہ کہا تھا اور نہ کسی کو کہنے دیا۔ منہ سے نکلنے سے پہلے ہر خواہش پوری کی‘ لاڈلی چہیتی منیشاء کا جنون‘ اکلوتے رامس کا ادھورا پن اور پھر پہلی اولاد علیشاء کی بربادی کے خوف سے سلگتی آنکھیں۔

یہ وقت کی کون سی گردش تھی‘ گھومتے پہیے کا ہر بلند حصہ لمحے میں ہی مٹی سے جالگا تھا۔ غلطیاں‘ کوتاہیاں‘ ظلم و زیادتی اس کی تھی تو پھر سزا‘ پاداش‘ ندامت‘ پچھتاوے اسی کو بھگتنے چاہئیں۔ اولاد کی صورت میں تو بہت اذیت ناک تھی یہ بھگتن…

ء…/…ء

گھڑیال پر دس کی ٹن ٹن سن کر وہ وہاں سے اٹھی‘ اپنا دوپٹہ کھول کر لپیٹا اور گھر سے باہر نکل گئی۔ شام نے اپنے پر پھیلائے پھر رات کے پنجے گڑھ گئے۔ اگلا دن بھی تپتا سلگتا نمودار ہوگیا۔ عباس تو اس دن شام میں گھر لوٹ آئے‘ نعیمہ کے بارے میں کسی سے استفسار نہیں کیا مگر علیشاہ کچھ بے کل تھی اور اگلے دن یہ بے کلی سوا ہوگئی۔ نعیمہ کل سے غائب تھی‘ ایک دن اور گزر گیا عباس تو اسے قطعاً نہ ڈھنڈتے‘ ان کے خیال میں وہ میکے دفع ہوگئی تھی مگر علیشاء نے رو رو کر برا حال کرلیا تھا۔

’’کیوں رو رہی ہو؟‘‘ انہوں نے اس کے سر پر دست شفقت رکھا۔ ’’جتنی وہ ڈھیٹ عورت ہے ناں‘ اسے کچھ نہیں ہونے لگا‘ اپنی ماں کے پاس منہ چھپائے پڑی ہوگی۔‘‘ لہجے کی حقارت پر وہ ہچکیاں لیتی گھٹنوں کے بل ان کے قریب بیٹھ گئی۔

’’پاپا… وہ وہاں نہیں ہیں‘ میں نے نانو کو فون کیا تھا۔‘‘ وہ ان کے گھٹنے پر سر رکھے اور زور سے رونے لگی۔ ظاہر ہے جیسی بھی تھی مگر وہ اس کی ماں تھی اور بغیر بتائے دو دن سے غائب تھی۔ اس نے ملنے ملانے والی ہر جگہ پتا کرلیا تھا مگر وہ کہیں بھی نہ تھی۔ عباس اپنی بھنوئوں کے درمیانی حصے کو پوروں میں بھینچے بیٹھے تھے‘ گویا شدید ڈپریشن میں تھے۔ وہ ایک ہاتھ سے سر تھپک رہے تھے‘ انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اب کریں تو کیا کریں۔ ان کی سوچوں اور علیشاء کی سو سو کو موبائل کی ٹون نے مختل کیا‘ اس نے موبائل اٹھا کر باپ کو پکڑایا۔ وہ چند لمحے دیکھتے رہے‘ بہت عرصہ بعد یوں اچانک بھائی کی کال کچھ سمجھ نہ آرہی تھی‘ انہوں نے بٹن پریس کرکے فون کان سے لگالیا اور بھائی نے بھی رسمی علیک سلیک کے بعد پولیس کی آمد کا بتایا تو ان کی پوری آنکھیں پھٹ گئیں اور وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑے ہوئے‘ وہ نعیمہ کے پردہ پوش ہونے پر سب کچھ سوچ سکتے تھے مگر یہاں تک گمان نہیں تھا۔

’’لو… اتنی ہمت ہے اس میں ہونہہ؟‘‘ انہوں نے کھڑے کھڑے استہزائیہ انداز میں کہا اور ایک نظر روتی ہوئی علیشا پر ڈالی‘ وہ بھی ناسمجھی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔

’’آخر معاملہ کیا ہے‘ یہ سب ہو کیا رہا ہے۔‘‘ بھائی کی الجھن پر انہوں نے ناگوار سا بل پیشانی پر ڈالا۔

’’خود آرہا ہوں‘ آپ کی طرف۔‘‘ اس نے کہتے ہی فون بند کیا اور آنسوئوں سے تربتر حیران ہوتی بیٹی کو ایک نظر دیکھا پھر اس کے سر کو تھپتھپا کر باہر نکل گئے۔

ء…/…ء

غالباً نعیمہ کا دماغ منیشاء اور عباس کے الفاظ اور انداز سے اس قدر تھک گیا کہ وہ بلا سوچے سمجھے گرین ٹائون سے ملحقہ سٹی تھانے میں سیدھی ایس ایچ او کے کمرے میں چلی گئی۔ اس نے وہاں جاکے نہ صرف اعتراف جرم کیا تھا بلکہ خود کو گرفتاری کے لیے بھی پیش کردیا۔ ایس ایچ او حیران تھا کہ صبح ہی صبح کوئی عورت آئے اعتراف جرم کرے‘ گرفتاری پیش کرے اور جائے وقوع کے علاوہ کوئی اتا پتا نہ دے۔ اس نے سوچتے ہوئے کانسٹیبل سے پرانی فائلز کھنگالنے کو کہا۔

بارہ تیرہ سالہ ریکارڈ میں کہیں بھی کوئی ایسا کیس فائل میں نہیں تھی۔ وہ خاصا پریشان ہوگئے‘ دیکھنے میں وہ لحیم شحیم کھاتے پیتے گھرانے کی عورت اور ملزم… پہلا خیال تو یہی آیا کہ ہوسکتا ہے گھریلو پریشانیوں‘ لڑائیوں سے تنگ آکر راہ فرار تھانہ ملا ہو یا پھر دماغی توازن کا کوئی مسئلہ ہو بہرحال اس نے اسے ایک چھوٹے سے کمرے میں بند کردیا اور اس کے بتائے جائے وقوع پر دو کانسٹیبل بھیجے لیکن اس پتا پر تالا تھا۔ اگلے دن ویک اینڈ آگیا اس سے اگلے دن کانسٹیبل دوبارہ گئے اور گیٹ بڑے بھائی نے کھولا۔ وہ کانسٹیبل کی پوچھ گچھ‘ تفتیش پر پہلے تو گھبرا گئے پھر عقل مندی کا مظاہرہ کیا اور تھانے آکر ایس ایچ او سے ملنے کا کہہ کر ٹال دیا‘ ان کے جاتے ہی بھائی نے پہلی کال عباس کو ملائی تھی۔

ء…/…ء

تینوں بھائی ڈرائنگ روم میں سر پکڑے بیٹھے تھے‘ زلیخا اپنے مخصوص انداز میں گردن جھکائے غائب دماغی سے باری باری تینوں بھائیوں کو دیکھ رہی تھی یقینا عباس اپنی بے حسی کوتاہیوں کا اعتراف کرچکے تھے اور سر جھکا کر بری طرح سے رو رہے تھے۔ چھوٹے بھائی کا اس قدر رونے سے بڑے بھائی کا دل پسیج گیا اور ہمت بندھاتے ہوئے کاندھے کو دبایا۔

عباس نے شرمساری سے انہیں دیکھا اور پھر گلے لگ گئے‘ سسکیاں لیتے ہوئے سر قدرے اٹھایا تو نظر معصوم زلیخا پر گئی۔ اصل مجرم تو اس کے تھے‘ نقصان تو سب سے زیادہ اس کا ہوا تھا۔ وہ شرمساری سے صوفے میں دھنستے چلے گئے‘ خواہ بیوی نے کچھ بھی کیا ہو مگر برابر کے شریک خود بھی رہے تھے۔ اسے اتنی ڈھیل کیوں دے دی؟ اتنا طاقت ور زعم سے بھرا مرد اندر سے کتنا بودا ہوتا ہے کہ ایک عورت اسے آسانی سے بیوقوف بنالیتی ہے آخر وہ تصویر کا ہر رخ عورت کی آنکھ سے کیوں دیکھتا ہے؟ اسے ہی حقیقت سمجھتا ہے؟ ایک ہی رشتے سے کیوں جڑ جاتا ہے‘ ہر رشتے میں توازن کیوں قائم نہیں رکھ سکتا کیوں… آخر کیوں؟

جب نعیمہ اسے ماں بہن کے رویے بتاتی رہی‘ بچوں سے گواہیاں دلواتی رہی تو اس نے ماں سے باز پرس کیوں نہ کی۔ بہن تو چلو پاگل تھی‘ ماں تو ٹھیک تھی۔ بیوی کے آنسو ہی کیوں نظر آتے رہے‘ ماں کی آنکھوں کی نمی کیوں نہ دیکھی؟ اپنی بربادی کا میں خود ذمہ دارہوں۔ قصور تو سارا میرا ہی تھا‘ نعیمہ نے کیا درست کیا تھا کیا غلط… سوچ سوچ کر ان کے آنسوئوں میں روانی آگئی‘ وہ بہت مشکل سے ہمت کرکے اٹھے اور زلیخا کے قدموں میں بیٹھ کر زور زور سے رونے لگے۔ وہ بھی گرتے مینار کی طرح بیٹھتی چلی گئی۔

ء…/…ء

وہ بہن بھائی ان چار دنوں میں کوئی پانچویں‘ چھٹی بار ایس ایچ او کے آفس میں اکٹھے ہوئے تھے۔ موضوع بحث نعیمہ کا غیر مناسب رویہ تھا‘ ایس ایچ او ان کا دور کا جاننے والا نکل آیا‘ اس نے بڑے بھائی کی التجا پر ابھی تک کوئی کارروائی نہ کی تھی بلکہ وہ ان سب کو فون کرکے بلاتا اور معاملہ نمٹانے کا کہتا ورنہ دوچار روز میں معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل جانا تھا۔ بڑے دونوں بھائیوں نے اسے اللہ کے واسطے معاف کرنے کو کہا مگر عباس کسی صورت میں نہیں مان رہے تھے‘ بڑے بھائیوں نے بہت سمجھایا۔

’’ہم بال بچے دار ہیں‘ بیٹیوں والے ہیں سزا و پاداش سے ہماری ماں تو واپس نہیں آسکتی مگر ہماری اولاد کے لیے بہت سے مسائل کھڑے ہوجائیں گے۔‘‘ انہوں نے بہت تحمل سے سمجھایا مگر آج بھی عباس قائل نہ ہوئے۔

’’دیکھو ابھی بات ایس ایچ او کے ہاتھ میں ہے اگر کیس فائل ہوگیا یا میڈیا کو پتا چل گیا تو تھانے کچہریوں میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے‘ خاندان بھر میں رسوا ہوجائیں گے۔‘‘

دوسرے نمبر والے بھائی زیادہ پریشان تھے انہوں نے چند دن پہلے ہی بیٹی کا رشتہ طے کیا تھا مگر عباس پر کسی کی پریشانی کوئی اثر نہیں کررہی تھی جتنی انہیں اس سے نفرت ہورہی تھی۔ اس سے زیادہ خود سے وہ نہ اس کی صورت دیکھنا چاہتے تھے نہ دکھانا‘ اسی لیے ہونٹ سختی سے بند کیے نفی میں سر ہلاتے رہے۔

’’ٹھیک ہے سر مجھے اجازت دیں کہ میں کیس فائل کروں۔‘‘ ایس ایچ او بڑا سا رجسٹر کھول کر صفحے الٹ پلٹ کرنے لگا‘ ساتھ ساتھ عباس کو بھی دیکھ رہا تھا۔

’’لیکن سر… تفتیش پہلے دن سے ہوگی۔‘‘ اس نے ہاتھ میں پکڑا پوائنٹر پیپر پر رکھا۔ ’’تمام لوگوں کے بیانات درج ہوں گے‘ موقع پر موجود تمام خواتین کو یہاں آنا پڑے گا اور یقینا کیس چلنے پر وقفے وقفے سے عدالت جانا پڑے گا۔ ہوسکتا ہے مجسٹریٹ صاحب قبر کشائی کا حکم دیں‘ پوسٹ مارٹم ہو۔ ملزمہ کا جرم ثابت ہونے پر آپ جانتے ہی ہیں جو سزا ہوگی۔‘‘ اس نے پیشہ وارانہ انداز میں صفحہ تیار کرنا شروع کیا تو بھائی جان نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ لیا۔

’’ایک منٹ یار… تم رکو تو سہی۔‘‘ وہ منت بھرے لہجے میں کہتے عباس کو دیکھ رہے تھے‘ وہ سختی سے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا اور آنکھوں سے تواتر پانی بہہ رہا تھا غالباً قبر کشائی کا سنتے ہی ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔ انہوں نے اپنی ماں کو دیا ہی کیا تھا بچپن سے جوانی تک پڑھائی‘ لکھائی پھر کام کاج سیکھنے کے عرصے میں اپنے ناز اٹھوائے‘ چھوٹے ہونے کا اعزاز حق سمجھ کر وصول کیا‘ اپنی پسند کی شادی کی‘ باہر چلے گئے‘ چند نوٹ خرچے کے نام پر ادا کیے اور ہر طرح کی ذمہ داری سے نبرد آزما رہے۔ بیوی کی سنی سنائی میں ماں کو چڑچڑی‘ تنک مزاج جانا اور اب جب دنیا کے جھمیلوں سے ان کی جان چھٹے تیرہ سال ہوگئے تو ان کی قبر کشائی ہو‘ پوسٹ مارٹم ہو‘ زندگی میں تو ان کی خدمت نہ کی‘ سکون نہ دیا اب مرنے کے بعد روح بھی میری وجہ سے گھائل ہو۔ سوچتے سوچتے ان کی گردن مزید جھکتی گئی۔

’’عباس پھر کیا خیال ہے؟‘‘ بڑے بھائی نے انہیں گم صم دیکھ کر نرمی سے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا‘ عباس نے ایک نظر انہیں دیکھا اور لمبی آہ بھری شاید ان کی خاموشی اور سرد آہیں نیم رضا مندی تھے۔ بڑے بھائی کو بھی ان کی کیفیت پر دکھ ہورہا تھا‘ انہوں نے ایس ایچ او کو مخاطب کیا۔

’’ہاں بھئی… اب بتائو ہمیں کیا کرنا ہوگا۔‘‘

’’یہ ایک سرکاری پیپر ہے‘ معافی نامہ سمجھ لیں اس پر آپ سب کے دستخط ہوں گے‘ وکیل کے دستخط ہوں گے۔‘‘ دراز سے موٹا گدلا سا کاغذ نکال کر دکھانے پر نہ صرف بھائی جان کی آنکھیں بھنویں سکڑ گئیں بلکہ عباس سمیت دوسرے بھائیوں نے بھی چونک کر دیکھ گویا انہیں سمجھ نہ آئی ہو یقینا اسی لیے اس نے مزید وضاحت کردی۔

’’ایک طرح سے اعتراف نامہ سمجھ لیں اگر کبھی کوئی شخص اس کیس کو اٹھائے گا تو محکمہ کو سیکیور کرنے کے لیے ہمارے پاس پروف ہوگا کہ آپ لوگ قصاص لے چکے یا معاف کرچکے ہیں۔‘‘ بڑے بھائیوں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کاغذ پکڑا اور باری باری منتخب جگہ پر سائن کردیئے اور عباس کتنی دیر اس کاغذ پر درج تحریر دیکھتے رہے اور روتے رہے اور اپنے ہاتھ کی بند مٹھی ہتھوڑے کی طرح اپنی پیشانی پر مارتے رہے اور لمبی سانس بھر کر ٹوٹے پھوٹے دستخط کیے۔ کرسی دھکیل کر اٹھے اور تیزی سے باہر نکل گئے۔ دونوں بھائیوں نے ایس ایچ او سے ہاتھ ملایا اور کھڑے ہوگئے۔ اسی کے حکم پر ایک کانسٹیبل تھوڑی دیر میں نعیمہ کو لے کر آیا‘ وہ ان تین دنوں میں بالکل بدل چکی تھی‘ آنکھوں کے گرد حلقے‘ پیلا زرد رنگ‘ خشک پپڑیاں جمے ہونٹ… سرخ اور نیلی پٹی کے لمبے برآمدے کے ایک طرف چھوٹے چھوٹے کمرے تھے‘ وہ من من بھاری پائوں گھسیٹتے ہوئے اپنے دونوں جیٹھوں کے پیچھے کسی روبورٹ کی طرح چلتی رہی‘ وہ دونوں گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا چھوڑ کر آگے بیٹھ گئے‘ عباس تیزی سے باہر نکلے تھے اسی تیزی سے جا بھی چکے تھے۔ اس کے بیٹھتے ہی گاڑی انہی پتھریلی سرمئی شاہراہوں پر بھاگ رہی تھی جن پر وہ روز سفر کرتی تھی مگر آج ہر پتھر میں چھپا ایک ایک ذرہ اسے تماش بین لگ رہا تھا۔ ایک ندامت تھی‘ جس میں وہ غرق ہوتی جارہی تھی۔ اس کی رہی سہی ہمت بھی مفقود ہوتی جارہی تھی‘ اس کی کوٹھی کے سامنے گاڑی چرچراہٹ کے ساتھ رکی‘ وہ دونوں اس کے اترتے ہی تیزی سے گاڑی بھگالے گئے‘ وہ برائون آہنی گیٹ کو تکتی رہ گئی۔ اپنوں کی نفرت و حقارت سے دامن چھڑانے کے لیے یہ راہِ فرار تھا جو نہ ملا تھا۔

ء…/…ء

انسان کی فطرت ہے کہ وہ زیادتی و جرم اپنوں کے سامنے دھڑلے سے کرتا ہے مگر سزا غیروں کے سامنے پر فوقیت دیتا ہے۔ اس نے بھی اعتراف جرم اور سزا غیروں کے سامنے پانے پر فوقیت دی تھی مگر اس نفرت و سزا نے اس کے ساتھ ساتھ سفر کرنا تھا‘ گاڑی میں تو وہ کچھ لمحوں کے لیے اجنبی بنی بیٹھی رہی مگر وہ اجنبیت گھر کے اندر سوا ہوگئی۔

ء…/…ء

بے شک الماس بی بی کی عمر اتنی ہی لکھی تھی مگر اس کے جسم سے روح کو جدا کرنے میں وہ خدائی فیصلوں میں شریک رہی تھی اور اس کے لیے معافی ہو نہیں سکتی تھی۔ سزا یہی بہت تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنی اولاد کے بیچ اجنبی بن کر رہے‘ بے شک وہ لفظوں میں اسے کچھ نہیں کہہ رہے تھے مگر ان کے رویے اور نگاہیں ہر پل نفرت کے نشتر جسم میں پیوست کرتی رہیں کیا یہ بھگتن کم تھی کہ اس کا دم بھرتا‘ بے جا ناز اٹھاتا شوہر اسی شہر میں رہتے ہوئے بھی اس کی شکل نہ دیکھے یا پھر کبھی گھر آئے تو چند لمحوں کے لیے اور وہ صرف اور صرف اپنے بچوں کے دیدار کے لیے اور اس پر نگاہ ڈالنا بھی حرام سمجھے۔

ء…/…ء

چٹختی ٹوٹی پھوٹی مٹی کی راہ گزر پر زندگی کا پہیہ گھومتے تین سال گزر گئے‘ ریحان کی مدد اور منت سماجت سے علیشاء کی رخصتی ہوگئی۔ عباس نے بینک سے قرض لے کر اپنا کاروبار دوبارہ شروع کیا اور خود زلیخا کے ساتھ اپنے آبائی گھر میں رہنے لگے۔ رامس کا ایک غریب گھرانے میں بڑی مشکل سے رشتہ ہوگیا مگر منیشاء نے کبھی شادی نہ کرنے کی قسم کھاتے ہوئے کہا کہ ’’تابش نہیں تو کوئی نہیں‘‘ اسپیشل بچوں کے ادارے میں جاب کرلی تھی۔

بے شک اللہ یادداشت کل ہے اور بہت سے معاملات میں پلڑا دنیا میں ہی برابر کردیتا ہے کہ نعیمہ نے ببول لگا کر پھولوں کی خواہش کی تھی حالانکہ خار تو اس کے اپنے لگائے تھے۔ اس نے الماس کی زندگی کو تیرہ سال جہنم بنائے رکھا اور اللہ نے تیرہ سال اسے خوب نوازا۔ معافی کی کئی بار مہلت دی مگر اس کے غرور و خود سری کا تیرہ سالہ قرض اتنا بڑھ گیا تھا کہ ان کا سود ساری زندگی پر محیط ہوگیا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close