Aanchal Feb-17

ریشم کی زنجیر

سیما بنت عاصم

پیار کی روشنی نہیں ملتی
ان مکانوں میں، ان مکینوں میں
وہ محبت نہیں رہی جالبؔ
ہم صفیروں میں، ہم نشینوں میں

نورالصبح دیر سے سر نیہواڑے بیٹھی سوچ رہی تھیں کہ غلطی ان سے کہاں ہوئی۔ اپنی نو عمر بیٹی سنبل کو بیاہ کر یا صولت آپا کے لائق و فائق بیٹے جمشیدہ منیر کا پرپوزل منظور کرکے…

سال بھر پہلے ہی کی تو بات تھی نورالصبح نے سنبل کو بیاہا تو سوچا بھی نہ تھا کہ چار قدم پر بیاہ کر بھی بیٹی کی صورت کو ترس جائیں گی‘ دنیا انہیں سو سو نام دھرے گی وہ الگ۔ وہ اور وقت تھا جب ان کی سمدھن صولت آپا نے ہزار وعدوں کے ساتھ ایک وعدہ یہ بھی کیا تھا کہ وہ سنبل کو بیٹی بنا کے رکھیں گی۔ اس پر کوئی پابندی نہ ہوگی‘ وہ جب چاہے گی میکے آئے گی‘ جائے گی۔ اس وقت وہ سنبل کی ہر ہر ادا پر واری صدقے جاتی تھیں تب نورالصبح کے فرشتوں کو بھی کیا خبر تھی کہ صولت نے اپنی بیٹیاں بیاہنے کے لیے جمشید کے سر میں دھوپ اتار دی تھی۔ تین بیٹیاں بیاہی جاچکی تھیں‘ ایک باقی تھی۔ اپنے فرائض بھگتانے میں جمشید کی عمر نکل گئی تھی‘ اب وہ اس کے لیے معصوم‘ الہڑ دوشیزہ کی تلاش میں تھیں کہ جمشید کو وقت کھونے کا پچھتاوا نہ ہو۔

اللہ بھلا کرے نورالصبح کی نند منی بیگم کا جنہوں نے اپنے بھائی‘ سنبل کے ابور نورالحسن کو کیا کیا نہ سبز باغ دکھائے تھے کہ نورالحسن کی آنکھوں پر پٹی بندھ گئی۔ جمشید اعلیٰ عہدے پر‘ سسر ملک سے باہر‘ باہر کی کمائی گھر بھر میں چمکتی ہے۔ ایک بیٹی لندن میں بیاہی ہے‘ بس ایک بڑھیا کا دم ہے جو دل کی مریض‘ آج مری کل دوسرا دن۔ بیٹیاں ساری اپنے گھروں کی ہیں‘ ایک رہ گئی وہ بھی اچھی شکل و صورت کی ہے جلد ٹھکانے لگے گی‘ اپنی سنبل کا راج ہوگا۔

اگرچہ صولت کو بڑھیا کہنا نا انصافی تھی‘ خاصی ماڈرن لک تھی۔ ٹپ ٹاپ سے رہتیں‘ کروفر سے چلتیں اور اپنی ہی من مانی کیا کرتیں۔ شاید اسی لیے ان کے تھل تھل کرتے بھاری بھرکم منجھلے داماد جمیل نے نورالحسن سے کہا تھا۔

’’ساری باتیں ٹھیک ہیں لیکن یہ ہماری ساس صاحبہ ضدی ہٹیلی بہت ہیں۔ یہ جس چیز پر ہاتھ رکھ دیں اسے ہر قیمت پر حاصل کرکے رہتی ہیں اور جس بات پر اڑ جائیں اس سے ہٹتی بھی نہیں ہیں۔‘‘

اور اتنا تو نورالحسن بھی جانتے تھے کہ جمیل نے آگ نہیں لگائی تھی بس اپنی جھونک میں ایک بات کہہ گیا تھا یا پھر ان کی فطرت کی ایک جھلک دکھائی تھی مگر اب چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں۔ گھر میں سانجھے کی ہماہمی تھی‘ خود نورالحسن کا دماغ کئی جگہ اٹکا ہوا تھا‘ فرصت ہی کہاں تھی کہ وہ جمیل کی بات پر کان دھرتے یا اس کی گہرائی جانچنے میں سر کھپاتے اور جمیل کی یہ بات سو فیصد درست ثابت ہورہی تھی۔

جمشید کے لیے دلہن تلاشنے میں انہوں نے گویا کنوئوں میں بانس ڈلوا رکھے تھے اور سنبل انہیں بھا گئی تھی۔ وہ تھی ہی ایسی نازک کامنی سی‘ نویں کے امتحان کے بعد کچھ شارٹ کورسز میں سر کھپا رہی تھی۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو اس کی شادی کا تو دور دور تک کوئی ذکر ہی نہ تھا‘ خود سنبل کے بڑے دور تک کے ارادے تھے۔ جمشید کی تصویر سامنے آئی تو لوگوں نے دبے اور کھلے لفظوں میں عمر کی زیادتی کو نشانہ بنایا تھا۔

’’اس بندے کا شناختی کارڈ تو بہت پرانا ہے۔‘‘ کئی ایک ہنسی میں کہہ گئے۔ آدھے کا فرق تھا مگر منی آپا نے صولت و اس کے گھرانے اور جمشید کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیئے تھے۔ مردوں کی فطرت کے عین مطابق نورالحسن اپنے کانوں سے کم ہی سنتے اور اپنی آنکھوں سے کم ہی دیکھتے چلے آئے تھے۔ انہیں منی آپا کی ہر بات راست نظر آرہی تھی ان کے سامنے تین بیٹیاں اور تھیں۔ سب سے بڑھ کر بقیہ بچیوں کے مستقبل کی تابناکی نظر آرہی تھی۔

بڑی بیٹی اعلیٰ و اچھے گھرانے میں بیاہی گئی تو بقیہ کے لیے بھی بڑے گھرانوں میں راستے کھلیں گے۔ یہ بھی منی آپا کا دکھایا ہوا خواب تھا‘ نورالحسن نے یہ کہہ کر سب کا منہ بند کردیا تھا کہ منی آپا میری بہن ہیں‘ میرا یا میری اولاد کا برا کیونکر چاہیں گی۔ اس وقت نورالحسن کو کون سمجھتا کہ صولت ایک افلاطون تھیں قصداً ایک عام نچلے گھرانے کی لڑکی تلاشی تھی جو دب کر رہے۔ کچھ وہ پیسے کی چھب دکھا کر منہ بند کیا کرتی تھیں۔ گھرانا غریب مگر شریف ہو تو منہ کو نہیں آئے گا‘ لڑکی کم عمر ہوگی تو جیسا موڑیں گے‘ مڑ جائے گی۔ خوب صورت ہوگی تو بیٹا ماں کے گن گائے گا‘ جمشید ان کا کمائو پوت تھا جسے انتہائی فنکاری سے انہوں نے مٹھی میں کس رکھا تھا۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو پورے دس ماہ یہ منگنی رہی تھی اور یہ دس ماہ کا عرصہ جیسے کوئی خوب صورت خواب دیکھتے گزرا تھا۔ صولت آپا کو کیا کہیے‘ چائو چونچلے جن پر ختم تھے یہ وہ وقت تھا جب وہ سنبل کے واری صدقے جاتیں۔

’’ایک بار میری بیٹی میرے گھر آجائے پھر دیکھنا ہل کے پانی بھی نہ پینے دوں گی۔ رانی بنا کر رکھوں گی‘ شہزادیوں کی طرح راج کرے گی راج۔‘‘

سنبل کا جنم دن آیا تو بیٹیوں کو لے کر تحائف اور سالگرہ کے سامان کے ساتھ دھاوا بول دیا۔ صرف اسی پر بس نہیں تھا وہ جب آتیں اسے لاد کر جاتیں‘ کبھی سونے کی انگوٹھی پہنا دیتیں‘ کبھی پائو کی پازیبیں۔ گرمیوں میں لان کے جوڑے‘ اعلیٰ درجہ کا موبائل فون۔ کبھی وہ انتہائی لاڈ و چائو کے ساتھ جگر جگر کرتی چوڑیوں کی شاپ پہ لے جاکر کھڑا کردیتیں کہ ہاتھ بھر بھر کر چوڑیاں پہنو۔ اسی دریا دلی پر وہ تو وہ دیکھنے والے بھی واہ واہ کرتے۔ ایسا سخی سمدھیانہ کبھی دیکھا نہ سنا‘ اب یہ تو کوئی نورالصبح کے دل سے پوچھتا کہ صولت کا مزاج کیسے پرت در پرت کھلا تھا‘ انہوں نے جس طرح صولت کو بھگتایا بھگت رہی تھیں یہ ان ہی کا دم خم تھا۔ ان کے اندر کو پاجاتیں‘ یا ان کے بس میں ہوتا تو ان کی سات پشتوں میں رشتہ دینے سے کانوں کو ہاتھ لگاتیں۔ صولت آپا کے مزاج‘ الامان الحفیظ اور پیاز کی پرتوں کی طرح تہہ در تہہ کھلتی ان کی فطرت‘ مانو ان کا کلیجہ پھونک کر رکھ دیا تھا۔ عجیب دھوپ چھائوں سا مزاج پایا تھا۔ پل بھر میں نظریں بدلتیں کہ ان کا دل‘ ان کی تیوریوں کے بل گنتے ہی لرزنے لگتا۔ منٹوں میں واری صدقے جاتیں اور اگلے ہی پل گرگٹ کی طرح رنگ بدلتیں۔ منگنی کے بعد تو سنبل جیسے ان کی جاگیر بن گئی تھی۔

’’ہمارے ہاں چولہا چکی بہو سنبھالتی ہے۔‘‘ یہ ایک خاموش تنبیہہ تھی اور نورالصبح نے کھٹ اسے کچن ٹریننگ پر ڈال دیا تھا‘ وہ اسی طرح اپنی ہی منواتی تھیں۔ رشتہ پکا کرنے کی دیر تھی‘ صولت اسی عید کے چاند شادی پر اٹکی تو اٹکی ہی رہیں۔

’’دور کے ڈھول سہانے‘ کچھ عرصہ رشتہ رکھو‘ دیکھو‘ پرکھو۔ ابھی اپنی سنبل کی عمر ہی کیا ہے۔‘‘ کسی بھلی مانس نے لاکھ سمجھایا تھا مگر نورالحسن کے دماغ کو یہ لگی تھی کہ انہیں ایک ہی بیٹی نہیں بیاہنی ہے‘ کچھ منی آپا کے دکھائے خواب دلکش تھے وہ اس گمان میں تھے کہ ان کی بیٹی لاکھوں میں کھیلے گی اور گزرتے وقت کے ساتھ دوسری بیٹیوں کے لیے بھی کھٹا کھٹ دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔

مگر اس کا کیا کیا جائے کہ انسان جو سوچتا ہے وہ ہوتا نہیں۔ ہوتا وہ ہے جو مقدر میں درج ہوتا ہے اور اسے قسمت کا کھوٹا پن نہیں تو اور کیا کہیے کہ صولت کی روش ان کے لیے چمکتی ہوئی ریت ثابت ہورہی تھی۔ سال بھر میں گھر بھر نے وہ پینترے بدلے تھے کہ نورالصبح ہنوز انگشت بدنداں تھیں۔ رشتہ طے پانے سے اب تک انہوں نے صولت کے دھوپ چھائوں سے مزاج کے ہزار رنگ دیکھے تھے مگر ان کا ہٹیلا پن یکساں تھا۔ لاکھ عذر تراشنے پر بھی صولت اسی عید کے چاند شادی کی ضد سے نہ ہٹی تھیں۔ یہاں تک کہ نورالحسن کو تاریخ دینی ہی بن پڑی تھی‘ یہ اور بات کہ اس مختصر عرصہ میں شادی بھگتانے کے لیے انہیں اور نورالصبح کو کیا کیا نہ جتن کرنے پڑے تھے۔

اس کے باوجود وہ قرض دار ہوگئے تھے‘ سنبل کو حیثیت سے بڑھ کر جہیز دیا‘ ان کے سامنے تین بیٹیاں اور تھیں‘ بڑی بیٹی شان سے بیاہی تو دوسروں کے دروازے کھلتے۔ یہ بھی منی آپا کی پڑھائی پٹی تھی‘ جو ان کے دل کو لگی۔ ہاتھی پالو تو دروازے اونچے رکھنے پڑتے ہیں اور یہ کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے اور کیا کہنے صولت کے دوغلے پن کے کہ انہوں نے پھر رنگ بدلا تھا۔

’’آپ نے ناحق اتنی تکلیف کی‘ میں نے ہزار بار کہا کہ بس میری بیٹی میری جھولی میں ڈال دیں۔‘‘ مگر یہ ریمارکس جہیز وصول کرنے کے بعد کے تھے۔ گھر کی اوپری منزل پر خیر سے جدید طرز کے دو کمرے دلہن کے لیے تیار کروائے تھے۔

’’بس اب فرنیچر بک نہ کروایئے‘ فرنیچر ہم خود ڈلوالیں گے۔‘‘ عادت کے مطابق نہ نہ کرتے بھی زیربار کرکے ان کا منہ بند کردیا تھا۔

دس ماہ کی منگنی میں ان کی امارت کا خوب ڈھونڈورا پٹ چکا تھا۔ بری سجی تو دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ یہاں سے وہاں تک ایک سے ایک اعلیٰ بڑھیا ملبوسات و زیورات جگمگا رہے تھے۔ لندن والی نند نے وہاں سے وہ شاپنگ کرکے بھیجی کہ دیکھنے والے اش اش کر اٹھے۔ سسر دبئی میں تھے‘ آتے جاتے رہتے۔ بری کے بیگز‘ جوتے اور عبایا کی شاپنگ وہیں کی رہی۔ جمشید اور اس کے گھر والوں کی امارت و دریا دلی کے خوب ہی چرچے ہوئے۔

نورالحسن کی سات پشتوں میں کوئی لڑکی اتنے بڑے گھر میں نہیں بیاہی تھی۔ اب یہ توکوئی نورالصبح کے دل سے پوچھتا کہ بیٹی کو ان کے شایان شان بیاہنے کے لیے انہیں کیا کچھ نہ کرنا پڑا تھا پھر بھی وہ ہلکی ہی رہی تھیں۔ صولت آپا کا گھرانہ مالدار تھا۔ کئی دنوں تک سنبل کی شادی کا چرچا رہا‘ فائیو اسٹار ہوٹل میں ولیمہ‘ بیش کھانے‘ درجنوں ذائقے کے تو پان تھے‘ دنیا واہ واہ کر اٹھی تھی۔

’’واہ بھئی واہ… مزے آگئے نورالحسن کے تو‘ کیا اعلیٰ سمدھیانہ پایا ہے۔ کیا کہنے… بہت خوب۔‘‘

صولت کی اسی دریا دلی کے سبب رشتہ داروں میں بھی منگنی کے دوران جو شادیاں پڑی تھیں‘ بڑھ چڑھ کر انہیں بلایا تھا کہ سب سے بھاری لفافہ ان کا ہوتا تھا مگر صولت کی شرکت کا اصل مقصد نورالصبح اور نورالحسن کے خاندانی رسم و رواج پر نظر ڈالنا ہوتا تھا سو شادی کے وقت سو عذر حاضر تھے۔

ہمارے ہاں یہ نہیں ہوتا‘ ہمارے ہاں وہ نہیں ہوتا انہیں ہر معاملہ میں اپنی چلانے اور اپنی بات اوپر رکھنے کی عادت تھی اب رشتہ لیتے وقت کی انکساری ختم ہوئی۔ اب سمدھیانہ ان کی مٹھی میں تھا اور یہ سارا کروفر اسی سبب تھا کہ اول اول ہی سمدھیانہ کو دبالیا جائے۔

٭٭٭…٭٭٭

وہ بارات والا ہی دن تھا جب سنبل پارلر سے لوٹ کر کزنز اور سہیلیوں کے جلو میں اسٹیج تک پہنچی۔ مانو دور دور تک اجالا بکھر گیا‘ سنبل کا دمکتا جگمگاتا رنگ و روپ دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ کرگیا۔ باراتی عورتوں میں یہاں سے وہاں تک سرگوشیاں پھیلتی چلی گئیں۔

’’واہ! کیا خوب قسمت ہے‘ اچھی بھلی عمر کے بیٹے کے لیے کیسی گڑیا جیسی بہو تلاشی ہے صولت نے۔‘‘

’’اے بی بی… جانے دو‘ خاندان میں صولت کو لڑکی نہیں جڑتی کیا۔‘‘

’’اب ایسی آسمان سے اتری حور خاندان میں کہاں؟‘‘

’’ارے رہنے بھی دو‘ فلانی تو حور شمائل تھی مگر صولت اور اس کی اولاد کے مزاج کم ہیں کیا۔ یوں کہو خاندان والیاں ایسی دب کر رہنے والی نہیں ہوتی ہیں۔ سب کچے چٹھے کھلے ہوتے ہیں تو کبھی نہ کبھی سر اٹھا ہی لیتی ہیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے مل ہی جاتا ہے۔ یہ جس دل جلی کا بھی تبصرہ تھا‘ سچ ہی تھا صولت کے اپنے خاندان میں لڑکیوں کی کمی نہ تھی۔ اپنے خاندان سے ہٹ کر بھی جمشید جیسے کمائو اور نیک بیٹے کے لیے وہ جہاں منہ مارتیں ناکام نہ لوٹتیں مگر صولت کے مزاج سے کون آشنا نہ تھا‘ انہیں دوسروں کو دبانے کا فن آتا تھا اور ان کا کروفر‘ اللہ بچائے۔ نکاح ہوتے ہی انہوں نے سنبل کو جالیا۔

’’اب یہ دلہن میری ہوگئی۔‘‘ مانو اپنے استحقاق و اختیارات کی مہر لگادی تھی اور یہی استحقاق و اختیار جمانے کو انہوں نے بازو سے پکڑ کر اسے اسٹیج پر کھڑا کردیا اور اسے تھامے جمشید والے اسٹیج کی طرف چلیں۔

’’آنٹی… ارے… یہ کیا کرنے چلی ہیں‘ ارے بھئی ٹھہریں۔‘‘ کئی خواتین بڑی بوڑھیاں مگر وہ اسی استحقاق و کروفر سے اسے لیے بڑھیں۔ سنبل کسی چابی کی گڑیا کی طرح ان کے ساتھ چلتی چلی گئی تھی۔ وہ جمشید کے اسٹیج پر ہی جاکر تھمی تھیں۔

’’چلو بھئی جمشید! اٹھو اپنی دلہن کا استقبال کرو۔‘‘ اور سب ہی نے دیکھا جمشید نے کسی معمول کی طرح اٹھ کر تعمیل کی تھی اور بے چاری نورالصبح دوسروں کو تاویلیں ہی دیتی رہ گئی تھیں۔ اسٹیج ٹوٹا ہوا تھا‘ مووی اس طرف اچھی رہے گی نا‘ یہ وہ… اور پھر اس استحقاق کی گاڑی بہت دور تک چلی۔

سنبل نے ان کے پڑھائے شوہر و سسرال پرستی کے سبق پر اپنا آپ مٹا دیا تھا مگر میکے کے لیے لاحاصل ہوگئی تھی۔ اولاً ہر کوئی اس کی بابت پوچھتا‘ ٹوکتا تب اس کی آمد خاص مواقع کے لیے مخصوص تھی۔ وہ بھی صولت و جمشید یا کسی دم چھلے کی کڑی نگرانی میں صرف چند گھنٹوں کے لیے‘ ایک آدھ بار دبے لفظوں میں صولت کو جتانا بھی چاہا‘ وہ ان کا نہیں تو دنیا کا ہی خیال کرلیں سب پوچھتے ہیں۔

’’کیوں‘ سنبل کوئی اداکارہ‘ گلوکارہ ہے جو سب پوچھتے ہیں۔‘‘ صولت نے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر کر کہا تھا۔

وہ شادی کے اولین دن تھے‘ انہوں نے بیٹی کی قدر و قیمت واضح کرنا چاہی تھی‘ صولت برا مان گئیں۔ انہوں نے بھی آئندہ کے لیے کان پکڑے‘ سنبل کو بھی یہی سبق پڑھایا تھا کہ ان کے رنگ میں رنگ جانا ہے‘ وہ جیسا کہیں‘ جیسا چاہیں کہ خود اپنی زندگی سسرال پرستی میں رگڑی گئی تھی۔ اب انہوں نے بیٹی کو زبان بندی و سسرال پرستی کا درس دیا تو کیا برا کیا اور اس کا یہ مطلب کہاں سے نکلتا تھا کہ وہ خود بھی بیٹی کی صورت کو ترس جائیں۔ سنبل صرف خدمت و اطاعت کے نام پر اپنا آپ مٹا کر رکھ دے۔ وہ ماں تھیں ان کے لیے اس کے آزار نادیدہ نہ تھے‘ وہ نہ بھی کہتی تو وہ خود آشنا تھیں مگر کہیں تو کیا کہیں اور کس سے کہیں۔ لوگوں کو سونے کا نوالہ نظر آتا تھا‘ آنکھ کے آنسو‘ دل کا آزار کہہ سن بھی لیا جاتا تو کیا حاصل تھا‘ دنیا رو کے سنے‘ ہنس کے اڑائے۔

انہیں سنبل کے نصیب سے بڑھ کر صولت سے شکوہ تھا‘ بھلا کوئی یوں بھی بدلتا ہے۔

/…ء…/

اور وہ جو کہتے ہیں روپ کی روئیں کرم کی کھائیں تو سنبل کے معاملہ میں یہ بات صد فیصد درست ثابت ہوئی تھی کہ اس کے سارے دل خوش کن خواب ایک ایک کرکے ٹوٹتے چلے گئے تھے۔ یہ شادی کے اولین دنوں کی بات تھی‘ نئی نویلی دلہن کے چائو چونچلے تھے جب ساس صاحبہ اپنی رانی کو سجا سنوار کے اپنے سامنے بٹھائے رکھتیں۔ مانو ان کی جان اس میں ہی اٹکی رہتی‘ ذرا نظروں سے اوجھل ہوتی ان کی سانسیں رکنے لگتیں۔ ابھی دعوتوں اور مبارک باد کا سلسلہ چل ہی رہا تھا‘ منجھلی نند عالیہ نے شاندار ہوٹل میں دعوت کی اور پھر ایسی کئی دعوتوں کا سلسلہ رشتہ داروں میں چلا اور صولت کہتیں۔ یہ سب ان کے دیے کا پھیلائو ہے دیگر جو شریک نہ ہوسکے‘ معذرتیں‘ تاویلیں اور سلامیاں۔ انہوں نے بھی تو آخر لوگوں کو دیا ہی تھا اور ساس کے یہ جتانے کی دیر تھی سنبل کی تمام سلامیاں ازخود ان کی کھیسے میں منتقل ہوگئیں۔

ولیمے کی سلامی کے پیسے جمشید نے یہاں وہاں کے خرچے بتاکر نکلوالیے تھے۔ زیورات ساس صاحبہ کی تحویل میں تھے‘ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو منگنی کے دوران ہی پائو بھر سونا ہوگیا تھا۔ جو نورالصبح کے فرمان کے مطابق ولیمے کے اگلے ہی روز اس نے ساس کے ہاتھ پرلا دھرا تھا نتیجتاً سلامی کے تیرہ سیٹ بھی ان کی ’’محفوظ پناہ گاہ‘‘ میں چلے گئے تھے۔

’’دلہن کے کمرے میں آنا جانا لگا ہے‘ کچھ اِدھر اُدھر نہ ہوجائے۔‘‘ البتہ نظر بد سے بچنے کو سیاہ کرسٹل کے موتیوں کی چین لاکردی۔ سلامی کا سب سے ہلکا سیٹ ہر وقت پہننے کے لیے بخشا‘ بالیاں‘ چین‘ لاکٹ‘ انگوٹھی اسے ضرورت بھی نہ تھی‘ سب ہی کچھ تو میسر تھا۔

یہیں آکر پتا چلا کہ پیسے کی سہولت و فراغت کیا ہوتی ہے‘ دھنا دھن پانی چلتا۔ بجلی ایک پل کو نہ جاتی ورنہ جنریٹر یو پی ایس سب کچھ تھا مگر کچھ گلوں کے ساتھ خار بھی ہوتے ہیں۔ جو گزرتے وقت کے ساتھ روح میں پیوست ہوتے چلے گئے۔

ولیمہ کو دوچار روز گزرے تھے جب دلہن کی وارڈ روب سجانے کے بہانے جہیز کے بکسے کھلے‘ پہنائونیوں کے جوڑے گہنے‘ سہواً لندن والی نند خارج نکلی اور بس یہیں سے گڑبڑ شروع ہوئی۔ ساس کو اختلاج کا دورہ پڑا‘ پسینے میں نہا گئیں اور لمبی پڑگئیں پھر وہ بات کہی جو سنبل نے ہمیشہ کے لیے پلّو سے باندھ لی۔

یہ بات بہت بعد میں پتا چلی کہ سنبل کی سسرال میں اس کی بیاہی نندوں کا راج چلتا تھا۔ جمیشہ ماں کی مٹھی میں تھا اور ساس نندوں کی شیدائی‘ شاید اسی لیے پہنائونی کا جوڑا کم پڑنے پر ہی ساس نے الٹی میٹم دے دیا تھا۔

’’دلہن… میری بیٹیوں کو مجھ سے بڑھ کر سمجھنا۔‘‘ شاید یہ سبق انہیں نورالصبح کے گھر میں بیاہی نندوں کی قدر وقیمت دیکھ کر پڑھانا پڑا تھا‘ اب نندوں نے نورالصبح کے ساتھ جو کچھ بھی کیا‘ وہ ایک لگ کہانی تھی پھر اتنی گہرائی میں ڈوب کر کون دیکھتا ہے۔ دنیا تو بس ظاہریت پر مرتی ہے۔

یہ بھی خوب ہی تھا کہ وہاں پر اچھی امید آنے والی پر رکھ چھوڑی تھی۔ شاید اسی لیے سنبل کی دلہناپے کی مہندی اترتے ہی ساس نے یہ بات کان میں ڈال دی تھی کہ سب سے آخری والی نند سامعہ کی شادی بھی تم ہی نے کروانی ہے آخر کو بڑی بھاوج ہو۔

سامعہ بی ایس سی کررہی تھی‘ سنبل سے اس کی عمر میں انیس بیس کا فرق تھا۔ سب سے بڑی نند شاہین کی بیٹی اس کے برابر تھی مگر اس کا رشتہ ان سب سے بڑا تھا‘ دوسری نند نگہت لندن میں تھی جب بھی آتی اس کا پڑائو میکے میں رہتا۔ گھر کے دو کمرے اس کے جہیز سے ٹھسا ٹھس بھرے پڑے تھے۔ اس کی آئے روز کی کالز کے سبب موبائل صولت کے سرہانے ہی رہتا تھا۔ وہ ایک ہی کال میں گھرانے کا احوال اور فرمائشیں اس کے کانوں میں اتار دیا کرتیں اور پھر نگہت کی پڑھائی پٹیاں بڑی جاندار ہوتیں‘ صولت اس سے ایک انچ نہ سرکتیں۔ وہ وہیں سے بیٹھی ان کی ڈور ہلاتی‘ اتنی دور بیٹھ کے بھی صولت کے سر پر سوار رہتی۔ آخر کو ان کی سب سے مال دار بیٹی تھی‘ شاہین کا تو سراغ ہی نہ ملتا تھا۔ سنا تھا پہلی بار کسی دشمن کی لگائی آگ کے سبب گھر برباد ہوا تھا‘ اب وہ کسی کو اپنے گھر کا راستہ تک نہ بتاتی۔ یہ اور بات کہ گھر کے ہر معاملہ میں سیاہ سفید کا اختیار اسی کے ہاتھ میں تھا۔ ہر اڑی بھڑی میں پہلی پکار اسی کی پڑتی‘ وہ بھی دوڑی دوڑی آتی اور جو سُر صولت کے کانوں میں پھونکتی وہ اسی پر چلتیں۔

اگلی عالیہ کا سسرال چار قدم پر تھا‘ اس کا ناشتا سسرال میں ہوتا تو لنچ میکہ میں‘ اسے مٹاپے نے ناکارہ کر رکھا تھا۔ چلتا پھرتا گوشت کا پہاڑ‘ صولت کو اس کے دم سے بڑا سہارا تھا۔ ہر اچھی بری بات سب سے پہلے اس کے کانوں میں انڈیلی جاتی۔ وہ زبان کی تیز‘ منہ پر کھری کھری سناتیں مگر گانٹھ کی پوری تھی۔ آندھی ہو یا طوفان‘ اس کا ٹکا نہ سرکتا۔ اس کے گھر میں ماچس بھی ختم ہوجاتی تو ڈبیہ میکے سے لے کر جاتی۔ دو بچے قریبی اسکول میں داخل تھے‘ صبح سامعہ کالج جاتی تو انہیں بھی تیار کرکے بھیج دیتی۔

اب تک کا عرصہ سنبل کو یہ سمجھانے کے لیے کافی رہا کہ گھر میں صولت کے بعد اس کی چاروں نندوں کی گوٹی اوپر ہے۔ اس کا نمبر جانے کہاں جاکے پڑتا تھا۔

وہ کچھ دن گزار کر ہنی مون کی تیاری میں تھے کہ لندن والی نند کی آمد ہوگئی۔ نگہت ماں بھائی سے لپٹ کر آٹھ آٹھ آنسو روئی‘ اس کے ارمان جھلس کر رہ گئے تھے۔ اکلوتے بھائی کی شادی میں شرکت نہ کرسکنے کا دکھ۔ اب کیسا ہنی مون اور کاہے کا ہنی مون‘ ساس نے اگلے ہی دن خاندان کے بزرگوں کی فاتحہ پڑھوا کر دلہن سے کھیر پکوالی۔ یہ تقریب بیٹی کی خاطر تھی جو بے چاری چہیتے بھائی کی شادی میں چھٹی نہ ملنے کے سبب شرکت نہ کرسکی تھی۔ سنبل نے چولہا چکی سنبھالا تو فرصت اس کے لیے نایاب ہوگئی۔ سنا تھا شادی کے اولین دنوں میں شوہر نئی نویلی دلہن کے بڑے چائو چونچلے اٹھاتے ہیں مگر جمشید کا مزاج عجیب لیے دیئے سا تھا۔ سنبل کو محبت کے میٹھے بولوں کا انتظار تھا مگر… گربہ کشن روز اول والی بات رہی۔

یہ ان ہی دنوں کی بات تھی۔ ابھی دعوتوں کا سلسلہ چل ہی رہا تھا‘ سنبل کسی دعوت کی تیاری کی غرض سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے لمبے گھنیرے بال سلجھا رہی تھی۔ تیز فیروزی اور آتشی گلابی امتزاج کامدار سوٹ پر ہم رنگ آرگنزا کا جھلملاتا دوپٹہ‘ سامعہ نے خاصی جی جان سے اسے تیار کرکے پھر مرچیں واری تھیں اور کسی پکار پر لپکی گئی تھی۔ جمشید کمرے میں وارد ہوا تو سنبل کا خیال تھا کہ اس کے مبہوت کردینے والے حسن کی توصیف میں ایک آدھ جملہ تو سننے کو مل ہی جائے گا مگر اس کے پلٹتے ہی جمشید کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرے تھے۔

’’اُف اتنا ہیوی میک اپ۔‘‘ وہ نئی نویلی دلہن تھی پھر یہ بھاری بھرکم تیاری اس پر جچ بھی رہی تھی مگر ابھی شادی کو دن ہی کتنے گزرے تھے۔ جمشید کے مزاج تک اس کی دسترس ہی کہاں تھی‘ وہ اس خیال میں رہی کہ جمشید نے یہ بات مذاقاً کہی ہے۔

’’پلیز فوری طور پر یہ میک اپ کم کرو‘ مجھے وحشت ہورہی ہے۔‘‘ اس بار وہ ناقابل برداشت انداز میں کہتے ہوئے آنکھوں پہ بازو رکھ کر بیڈ پر دراز ہوگیا۔

’’اور اگر نہ کروں تو…؟‘‘ اس کے قریب بیٹھ کر لہکتے مہکتے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے جمشید کی آنکھوں سے بازو ہٹانے کی کوشش کی تھی مگر جمشید کے چہرے پر شدید غصہ کے تاثرات ابھرے تھے۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور اسے ہکابکا سا چھوڑ کر تیزی سے کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا پھر کار میں بیٹھ کر کسی بچے سے اسے بلوایا اور آندھی طوفان کی طرح گاڑی دوڑاتے ہوئے اسے میکے کے دروازے پر چھوڑ گیا تھا۔ ادھر اس کا اجڑا بکھرا حلیہ دیکھ کر نورالصبح کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔ ابھی شادی کو دن ہی کتنے گزرے تھے‘ بیٹی میکے آکر بیٹھے گی تو کتنی جگ ہنسائی ہوگی اور پھر اگر نورالحسن کے کانوں میں بھنک بھی پڑگئی تو ان کی عمر بھر کی ریاضت خاک میں مل جائے گی۔ وہ الٹے قدموں اسے لے کر لوٹی تھیں اور دس باتیں کرکے سب کو منا کر اسے چھوڑ کے آگئی تھیں اور یہ واقعہ سنبل کو یہ سمجھانے کے لیے کافی رہا کہ جمشید ناک پر مکھی بٹھانے کا بھی روا دار نہیں ہے۔ یہ انا پرست‘ آن پر مرنے والے لوگ ہیں‘ انکار یا حجت وہ بھی بہو کی کسی طور انہیں منظور نہیں ہے لہٰذا زبان تالو سے چپکا کر رکھنے ہی میں عافیت ہے۔ اس وقت سنبل کو کون بتاتا کہ زبان بندی سے بھی بڑھ کر ایک پالیسی ہوتی ہے اور وہ ہے ڈپلومیسی۔ نورالصبح نے اپنی ساری زندگی شوہر کی جی حضوری و سسرال پرستی میں گزاری مگر وہ کبھی ڈپلومیسی نہ اپنا پائیں تو یہ ان کی سادگی تھی اور شاید اسی سبب وہ ہمیشہ سسرالیوں کے زیر عتاب رہیں مزید نورالحسن کا ہوا انہیں سہماتا رہا۔ وہ کانوں کے کچے بیوی کو جوتی تلے دبا کے رکھنے والے شوہروں میں سے تھے۔ زندگی بھر ان کی ان ہی دو خصوصیات نے نورالصبح کا لہو پیے رکھا‘ سو بیٹی کو بھی زبان بندی پڑھائی۔ سسرال و شوہر کے مزاج کو سمجھ پرکھ کر چلنا‘ انہیں اگر زبر ہی رہنا ہے تو یہی سہی وہ نورالصبح کے پڑھائے سارے سبق رٹ کر پلٹی تھی۔

یہیں آکر اسے پتا چلا کہ چولہا چکی سنبھالنے پر اتنا زور کیوں رہا۔ کچن کی ڈیوٹی ہی ایسی تھی کہ جو کچن سنبھالتا‘ بس اسی کا ہوکر رہ جاتا۔ سال دو سال بعد سہی لندن والی نند جب بھی آتی تو وقت گھومنے پھرنے‘ رشتہ داروں سے ملنے میں گزرتا۔ کھانا وہ پرہیزی جیسا کھاتی تھی‘ بغیر نمک مرچ‘ تیل کا۔ اس کے لیے ہانڈی الگ سے تیار ہوتی‘ عالیہ کے دونوں بچے فیڈر پیتے تھے‘ وہ ایک فیڈر بھرتی‘ دوسرا ابالنے کو رکھ دیتی۔ چھ فیڈر تھے‘ سنبل کچن میں ہوتی تو ڈیوٹی اس کے سر لگ جاتی۔ سسر چائے کے رسیا تھے‘ ساس میٹھے کی شوقین‘ ہر وقت کیتلی چولہے پر دھری رہتی۔ کدو کش پر لوکی‘ گاجر رگڑتے حلوے بھونتے ہاتھ دکھ جاتے۔ ہتھیلیاں چھل جاتیں‘ اب سنبل کے میکے میں کہاں اتنے چھنک بگھار چلتے تھے۔ اس پر مزاج ایسے کہ الامان‘ روٹی کی سکائی گلابی پن سے اوپر جاتی تو وہ جلی ہوئی‘ کہہ کر پرے کردی جاتی۔ عالیہ کے شوہر کو دنیا زمانے کی بیماریاں تھیں تب بھی وہ رج کے کھاتا‘ صولت ہر چیز بطور خاص ان دونوں کے لیے رکھواتیں۔ دونوں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ ایک ہی چکی کا آٹا کھاتے ہیں۔ ترازو کے پلڑوں میں بٹھا دو تو وزن برابر نکلتا۔

جمشید کی تاکید تھی کہ سنبل اس کے لوٹنے تک نیچے ہی رہے‘ منٹوں میں امی کی طبیعت بگڑتی ہے۔ کچن نیچے تھا اور واش روم بھی‘ وہ ناشتا ان کے ساتھ کرتا یا کم از کم ان کے سامنے‘ ناشتے کا سلسلہ طویل تھا سب کی اپنی پسند الگ اور وقت الگ ناشتے ناشتے میں ہی دوپہر کے کھانے کا وقت ہوجاتا۔ صد شکر کہ صفائی ستھرائی‘ اوپر کے کاموں کے لیے ماسی آجاتی۔ اس کے سر پر کھڑے ہوکر صفائیاں دھلائیاں کروانا مگر کچن میں ماسی کا داخلہ بھی ممنوع تھا۔ اس کی کڑی نگرانی لازمی تھی‘ ماسیاں چور ہوتی ہیں اور ناقابل اعتبار کہیں سے ٹوائلٹ دھوکر آرہی ہوں گی اور کہیں روٹی پکانے کھڑی ہوجائیں گی۔ گندے ہاتھوں سے دھلے برتن نامنظور جو ایک بار پکتا وہ بچ کے ماسی کے ساتھ جاتا‘ شام کے لیے الگ اہتمام ہوتا۔

ساس بذات خود ایک ذمہ داری تھیں‘ مزاج کی کراری‘ نام کی بیماری ان کی نام نہاد تیمار داری سامعہ کے ذمہ تھی۔ وہ بی ایس سی کررہی تھی‘ اسے گھر کے لیے فرصت ہی نہ تھی۔ کالج سے لوٹتی تو گھوڑے گدھے بیچ کر سوتی۔ صولت رگڑ رگڑ کر اس کے سر میں تیل کی مالش کرتیں‘ سائنس کی پڑھائی معمولی بات ہے بھلا۔ اب ان سے کون پوچھتا کہ پہلے یہ دھندے کون بھگتاتا تھا اور یہ کہ جن بیٹیوں کو انہوں نے سر چڑھا رکھا ہے‘ وہ آخر ہیں کس مرض کی دوا‘ اس سے پہلے بھی تو آخر گاڑی چل ہی رہی تھی۔

ساس ہو یا نند‘ پہلے کچھ کرتیں نہ کرتیں مگر اب سچ مچ پیر اٹھا کر چارپائی پر رکھ لیے تھے تو اس کی بلا کی ہنر مندی و ذمہ داری کے سبب۔ وہ سلائی کڑھائی اچھی کرتی تھی‘ سو گھر بھر کے کپڑوں کے ساتھ بہن‘ بہنوئی‘ ان کے بچوں کے کپڑوں کی سلائی اس کے کھاتے میں آن پڑیں۔ ایک نہ دو‘ تین بیاہی نندیں تھیں‘ جن کی سسرال میں آئے روز کچھ نہ کچھ نکلتا ہی رہتا تھا۔ چھٹی‘ چھلے شادیاں‘ دعوتیں‘ صولت تینوں کو برابر نوازتیں۔ سردیوں میں سوئٹر‘ لحاف‘ کمبل‘ گرمیوں میں لان کے جوڑے‘ بچوں کے کپڑے‘ بستر یہ وہ… جمشید کی تنخواہ آتے ہی بٹ جاتی تھی‘ سسر شاہی مزاج رکھتے تھے۔ اپنی مرضی سے کماتے‘ اڑاتے‘ زیادہ وزن جمشید کی جیپ پر تھا جو صولت کے قبضہ میں تھی۔ یہ بات بہت آگے جاکر پتا چلی کہ وہ منہ موتیوں سے بھر کر بند کرنے کی عادی تھیں۔ ایک ہاتھ سے بھر کر زمانہ بھر سے تالیاں پٹوا کر دوسرے ہاتھ سے نکلوانے کی فنکاری تو بس دلہن کے کام آتی تھی۔ دوغلی چکنی چپڑی فطرت دہری پالیسی‘ ڈپلومیسی‘ صولت اس ڈپلومیسی سے کام نہ لیتیں‘ پیسے کی چھب نہ دکھاتیں تو بھلا آج کل کی لڑکی جمشید جیسے کرخت مزاج‘ دگنی عمر والے معمولی شکل و صورت کے بندے پر ہاتھ دھرتی؟

اسی چکنی چپڑی فطرت نے ان کے اصل کو بہت دیر سے کھولا تھا‘ گھر بھر نے اسے مانو محبت سے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ بہت سی زنجیریں ریشم سے بنی ہوتی ہیں‘ وہ دو چار گھڑی کو میکہ آہی جاتی تو کسی نہ کسی کا روتا پیٹتا فون آجاتا۔ کبھی ساس لمبی پڑ جاتیں‘ کبھی نندوں کا کوئی کام نکل آتا اور سامعہ کا تو سنبل کے بغیر نوالہ ہی حلق سے نہ اتراتا تھا۔ خوشی ہو کہ غمی‘ ادھر اس نے میکہ کی دہلیز پر قدم رکھا‘ ادھر سسرال بھر میں بے چینیاں پھیل جاتیں۔ فون پر فون کھڑکائے جاتے‘ اب کون سا میکہ اور کا ہے کی میکہ یاترا‘ کسی کو چھینک بھی آگئی تو فون کھڑکا دیا۔

’’اور لیجیے جناب… دلہن صاحبہ کا ڈولا واپسی کے لیے تیار۔‘‘

وہ ان ہی جھمیلوں میں پھنس کر فرصت کے لمحے تک بھول گئی تھی‘ خود کے لیے وقت ہی نہ بچتا تھا۔ اپنے کمرے میں جاتی تو دیواروں سے تو سر پھوڑنے سے رہی‘ جمشید ہوتا بھی تو ان دیواروں جیسا ہی تھا۔ ایک چلتا پھرتا الوژن‘ ننھے مہمان کی آمد کی خبر بھی اس کے تاثرات نہ بدل سکی تھی مگر اس کا مزاج سب ہی کے لیے ایسا تھا سو سنبل نے بھی سنبھل کے چلنا سیکھ لیا تھا۔ یہ ان ہی دنوں کی بات تھی‘ جب میکہ و سسرال میں ننھے مہمان کی آمد کی تیاریاں عروج پر تھیں کہ صولت بیگم نے ایک نیا شوشا چھوڑ دیا۔

’’ساتویں مہینے میں گود بھرائی کی رسم…‘‘

’’ہائیں…‘‘ نورالصبح سٹپٹائیں‘ وہ تو اس اندیشے سے سہمی جارہی تھیں کہ بیٹی کی پہلی زچگی کہیں ان کے گلے نہ پڑجائے اور سمدھن نے انہیں دوسری طرح سے گھسیٹ لیا تھا۔ ان کی پشتوں میں کبھی گود بھرائی کی رسم نہ ہوئی تھی مگر وہی ان کی ہٹیلی فطرت۔

’’ہمارے ہاں ہوتی ہے اور آپ کو کرنی پڑے گی۔ گلابی جوڑا‘ چوڑیاں‘ بچے کا سارا سامان آئے گا۔ اس نندوں کے جوڑے ہوں گے اور ہاں… ہمارے سمدھیانوں… بیاہی بیٹیوں کو نہ بھولنا‘ کہیں سسرال میں ان کی ناک نیچی ہو‘ پہنائونیوں کی طرح ایک آدھ جوڑا کم پڑجائے۔‘‘ نورالصبح کو مانتے ہی بن پڑی‘ شاید ایسے ہی وقتوں کے لیے کہا گیا ہے کہ مرتا کیا نہ کرتا۔ بیٹی بیاہنے کے بعد تو جیسے ان کے لبوں پر مہر لگ گئی تھی‘ کبھی کبھی تو یقین کی ڈور تھامنی دشوار پڑجاتی‘ یہ وہی صولت آپا تھیں جو سنبل کے واری صدقے جاتی نہ تھکتی تھیں۔ اس کی ایک ایک ادا پر جان دیتیں‘ پیسہ پانی کی طرح بہاتیں۔ اب ایک ہاتھ سے نوازتیں تو دوسرے ہاتھ سے نکلواتیں۔ صد شکر کہ سنبل نے ماں کی طرح صبر و شکر کے اوصاف پائے تھے ورنہ غضب کی ٹھن جاتی۔

گود بھرائی کا مرحلہ طے بھی نہ ہوپایا تھا کہ گھر بھر میں کھسر پھسر چلی۔ پتا چلا سامعہ کو عشق ہوگیا اور واہ ری قسمت کہ شادی بھی طے پاگئی‘ اب کون سی پڑھائی اور کاہے کی پڑھائی۔ کالج چھوڑ چھاڑ شادی کا بھوت سوار ہوا تو سنبل کا بکس‘ اٹیچی کیس کھلے کافی سامان ابھی ان چھوا پڑا تھا۔ زیورات تو ساس ہی کے تصرف میں تھے‘ کافی بچت نصیب ہوئی صولت کے گھر میں کسی چیز کی کمی تھوڑی تھی۔ پھر سنبل کی گود بھرائی اور سامعہ کا مانجھا ایک ہی ٹھہرا‘ مانو صولت کا ایک اور بازو کٹ گیا تھا۔ بیمار ساس سامعہ کی ذمہ داری تھیں اور سامعہ کی ہوگئی رخصتی سو ان کی تیمارداری خودبخود سنبل کے کھاتے میں آن پڑی اور ساتھ ہی ہمیشہ ان سے لگے رہنے کا بہانہ ہاتھ آلگا۔ وہ تنہا و بیمار ہیں‘ پل بھر کو انہیں چھوڑنا خود غرضی اور ڈپلومیسی تو کوئی صولت سے سیکھے‘ کہیں کوئی زیادہ اصرار کرتا وہ صاف دامن بچالیں۔

’’بھئی سنبل سے ہی پوچھ لو‘‘ اور سنبل کے پاس کاموں کا ایسا انبار تھا کہ وہ ہامی کا تصور بھی نہ کرسکتی تھی لہٰذا بہانے ہی بناتی رہ جاتی۔

سسرال کے جھمیلے‘ نندوں کے اٹکائو‘ ذمہ داریوں کا انبار‘ اگرچہ وجود آرام کا طالب رہتا اس کے کاموں کا بوچھ دگنا تھا۔ اسکول سے لوٹ کر عالیہ کے بچے اس کی جان کھاتے رہتے۔

’’مانی… منا کب آئے گا؟‘‘ وہ گڑ کر رہ جاتی‘ کیا کہتی بڑے آپریشن کا کیس تھا مگر پروا کسے تھی۔

اب ایسی زندگی کو کیا کہیے کہ سارا دن دوسروں کی تیوری کے بل ہی سیدھے کرنے میں گزر جائے اور اتنی جان مار کے بھی انسان ستائش و توجہ کے ایک لفظ سے بھی محروم رہے تو بدنصیبی اور کسے کہتے ہیں یہاں وہ معاملہ تھا کہ کھلائو سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ سے… کبھی کہیں جو کوئی خوشی غمی نکل آتی‘ ساس پارلر لے کر جاتیں‘ ڈھیروں ڈھیر شاپنگ کرواتیں لوگ چھو چھو کر دیکھتے‘ ترستے اور پوچھتے۔

’’کیا عمدہ اور نفیس ڈریس ہے‘ کہاں سے لیا؟‘‘ جواب میں کسی بڑے شاپنگ مال کا نام سننے کو ملتا تو نہ ماننے والی بات ہی نہ تھی۔ سنبل کے ٹھاٹ تو نظر آتے تھے مگر وہ لوگوں کے لیے گم ہوکر رہ گئی تھی۔ ایسے میں دنیا طنز کا ڈھیلا مارنے کا بھی موقع نکال ہی لیتی ہے‘ وہ تاویلیں دیتی تھک جاتی اور جواباً شہد میں ڈبو ڈبو کے جوتے مارے جاتے۔

’’ہاں بھئی‘ اب ہم غریبوں کو لفٹ کہاں؟‘‘ وہ کس منہ سے کہتی‘ کنگال تو وہ خود ہوگئی تھی اپنی ذات تو جیسے کھوکر رہ گئی تھی۔ ایک وقت تھا‘ وہ کھل کر ہنستی من چاہی کرتی‘ اڑتی پھرتی‘ ضدیں منواتی مگر اب سر تاپا بدل گئی تھی۔ مانو اپنا آپ کھو بیٹھی تھی مگر دنیا کو آنسو دل کا آزار کہاں نظر آتے ہیں۔

صولت خود بیاہی بیٹیوں کو پٹیاں پڑھا کر زبر رہنے کے گُر سکھاتیں تو ان سے بھی یہی امید رکھتیں سو میکے کے لیے اس کا وجود گم ہوگیا تھا‘ رہی دنیا… تو دنیا چیز ہی ایسی ہے۔ دوسروں کے دکھ چھیڑ کر مزے لینے کا فن تو کوئی دنیا سے سیکھے‘ آپ سونے کے بھی بن جائو تب بھی کوئی نہ کوئی برا کہنے کھڑا ہوہی جائے گا مگر ستم تو یہ ہے انسان دنیا سے ہٹ کر جی بھی نہیں سکتا۔

اور دنیا داری… الامان الحفیظ… حلق میں اٹکی ہڈی ہو جیسے…

ء…/…ء

سنبل نے بیٹی کو جنم دیا تو کم عمری کے سبب اس کی جان کے لالے پڑگئے تھے مگر صولت سمیت سب کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی اور صولت ایک افلاطون‘ شہد میں ڈبو کے جوتا مارنے کی ماہر۔

’’دلہن کی کوکھ ماں پر پڑگئی‘ ان پر پڑتی تو پہلا بیٹا ہوتا۔‘‘ جانے انہوں نے کس کو الزام دیا تھا مگر سنبل کے دل پر منوں بوجھ پڑگیا تھا۔

نیگ پھر بٹا۔ اس بار ناک کان میں پڑا ہلکا سیٹ کام آیا‘ دلہن کی چین‘ لاکٹ‘ انگوٹھی‘ بالیاں‘ سب دودھ دھلائی کے پیالے میں پڑگئیں۔ سامعہ کے لیے صولت نے اپنے ہاتھ کا کنگن ڈال دیا‘ نیا نیا سمدھیانہ تھا۔ اپنی دھاک بھی تو بٹھانی تھی‘ سامعہ یوں بھی ان کی زیادہ منہ چڑھی تھی‘ بات بات پر روٹھ کے میکے آبیٹھتی تو یہ صولت ہی کی بخشی ہوئی کمک تھی۔ سنبل کی شادی سے نورالحسن کے پورے گھرانے کو دھچکا لگا تھا‘ ان کی مالی پوزیشن ہل کر رہ گئی تھی۔ اس پر نت نئے بہانوں سے مزید خرچے‘ مگر کمی اب بھی نہ تھی۔ نورالصبح نے اس بار بھی اوقات سے بڑھ کر چھوچھک سے نوازا تھا مگر صولت کا آزار کم نہ پڑتا‘ بیٹا ہوتا تو جمشید کا بازو مضبوط ہوتا‘ خیر امید پر دنیا قائم ہے۔

اگلی بار سہی مگر اس کی نوبت آئی تو جمشید کا باہر کا چانس بن گیا۔ میلوں کے فاصلے دنوں میں سمٹ گئے اور نہ جانے وہ تنہا تھی کہ تنہا ہوگئی تھی۔ زندگی جہد مسلسل کا نام بن کر رہ گئی تھی‘ اب وہی ستائش تو اس کے لیے زبانی جمع خرچ سے کام چلتا۔ آنے بہانے نندوں کی آمدورفت چلتی‘ دستر خوان بچھتے اور چٹخارہ پر چٹخارے چلتا۔

’’دلہن کے ہاتھ میں بڑا ذائقہ ہے۔‘‘ اور اس ذائقے کے لیے دلہن کو کتنی جان مارنی پڑتی‘ یہ کوئی دلہن کے دل سے پوچھتا۔ بچی کی پیدائش کے بعد کچھ اور دفعات لگ گئی تھیں‘ بچی روئی تو روئی کیوں اور سوئی تو سوئی کیوں… یوں جیسے وہ دشمن ہی تو ہو۔ بچی‘ دادی‘ پھوپیوں کی گود میں یہاں سے وہاں‘ وہاں سے یہاں سفر کرتی اور ہزار نکتہ چینیاں سسرال وہ افلاطون کہ اپنا کلیجہ بھی نکال کے رکھ دو تو کچل کے گزر جائے‘ گھوم پھر کے برائی سر پر آن ہی پڑتی۔

دنیا کا مشکل ترین کام اس سے اگر کوئی پوچھتا تو وہ سیدھے سبھائو کہتی کہ پرایوں کو اپنا بنانے کا کام بڑے دل گردے کا ہے۔ پیتل کے لوگوں پر سونے کی قلعی چڑھا دینے سے ان کی اصلیت نہیں بدلتی‘ اب بھی اگر سنبل کے میکے سے بھولے بھٹکے کوئی آہی جاتا۔ یہاں سے وہاں تک دستر خوان بچھتا مگر صولت‘ سنبل کی چیل کی طرح چوکسی کرتیں خود پل بھر کو نہ سرکتیں اور سنبل کو انگلیوں پر نچاتیں۔ دلہن دستر خوان پر یہ رکھ دیا‘ وہ رکھ دیا‘ دلہن یہ‘ دلہن وہ دلہن پھرکی کی طرح پھرتی نظر آتی۔ دلہن کے رشتہ داروں میں سے ہر کوئی اش اش کرتے بنگلے‘ ساس کی مدارات و اخلاق کے گن گاتے لوٹتا۔ سنبل کے آزار‘ آنسو بھلا کس کو نظر آتے تھے‘ دنیا سے بڑھ کر ظاہر بین بھی کوئی ہوسکتا ہے بھلا۔

اب ایسی بھی کیا زندگی کہ دن سب کے آگے پیچھے پھرے اور تیوریوں کے بل سیدھے کرنے ہی میں گزر جائے‘ واہ ری قسمت۔

پھر ایک اور کمال ہوا‘ سامعہ کو سسرال بری نصیب ہوئی یا سسرال والوں نے ہی اسے منظور نہ کیا۔ نتیجہ ایک ہی رہا یعنی سامعہ کی شوہر سمیت میکے واپسی۔ نچلے دو کمروں میں لندن والی نند کا سامان بند تھا۔ وہ آتیں تو وہیں قیام فرماتیں‘ بقیہ دو کمرے سامعہ کے تصرف میں ٹھہرے مگر اس طرح کہ دیوار اٹھا کر پورشن الگ کردیا گیا۔ اللہ اللہ خیر صلا‘ مانو صولت کا ایک بازو اور مضبوط ہوگیا۔

ء…/…ء

ہوا تو کچھ بھی نہ تھا مگر پل بھر میں جیسے بہت کچھ بدل کر رہ گیا تھا۔ جمیل کو بس ایک دل کا اٹیک پڑا اور روتی پیٹتی عالیہ بیوگی کی سفید چادر اوڑھے میکے لوٹ آئی۔ جمیل کا بہت کچھ تھا‘ بنگلہ‘ کاروبار مگر ہر اک چیز پر سسرال والوں نے قبضہ کرلیا۔ وہ جن دنوں اسپتال کے آئی سی یو میں تھا‘ سارا خرچ صولت کے کھیسے سے جاتا رہا۔ سنبل کے تصرف میں اوپری منزل کے دو کمرے تھے‘ ایک کی ضرورت عالیہ کے لوٹنے پر پڑی۔ عالیہ بیوہ ہوکر آئیں تو ایک کمرا سہولت سے ان کے کھاتے میں جا پڑا۔ سنبل کو تو یوں بھی ضرورت نہ تھی‘ دن بھر وہ نچلی منزل پر رہتی تھی‘ اس کا اپنا جہیز بھرا ہوا تھا۔ وہ کب سے فرنیچر نکالنے کا سوچ رہی تھی‘ فرنیچر نکلا تو گنجائش خودبخود بن گئی۔ نچلے آدھے پورشن پر سامعہ کا قبضہ تھا کہ جہیز بھر کے ملا تھا‘ سنبل کو ایک کمرا خالی کرنا پڑا‘ صولت روتیں نہ پیٹتیں مگر انہیں ایک چپ سی لگ گئی تھی۔ ان کی بیٹیوں کے نصیبوں کو کسی ’’بدنظر‘‘ کی نظر کھا گئی تھی۔ آفتوں نے مانو ان کا گھر ہی دیکھ لیا تھا‘ شاید اسی کو صلہ کہتے ہیں مگر کون سمجھتا ہے۔

جمشید نے جاتے ہی سنبل کو بلوبیری بھیجا تھا مگر اس وعدہ کے ساتھ کہ اسے صرف جمشید کی کال کے لیے مختص رکھنا ہے یہ بظاہر ایک محبت بھری تاکید تھی مگر… عموماً گھر کے لینڈ لائن پر بات ہوتی جو نچلے پورشن کے لائونج میں تھا نہ بھی ہوتا تو بھلا جمشید کہاں اس کے دکھ سننے والا تھا۔ اسے اپنی ماں بہنوں کی فکرات سے ہی فرصت نہ تھی‘ سب کا احوال پوچھتے فرمائشیں سنتے… وہ بیوی کو بھول جاتا مگر ہوتا ہے نا‘ کچھ چیزیں نادیدہ ہونے کے باوجود سر پر سوار رہتی ہیں‘ جمشید کا ہوا سہمائے رکھتا اور صولت کے دو غلے پن تو اللہ ہی بچائے۔ یہاں آکے وہ جمشید کے کندھوں پر رکھ کر بندوق چلاتیں۔

’’سنبل سے کہنا‘ عالیہ سامعہ کا خاص خیال کرے۔ برے وقت میں اپنے ہی کام آتے ہیں‘ بیٹی میکے نہ جائے گی تو کہاں جائے۔‘‘ خود اس کا نمبر جانے کہاں جاکے پڑتا تھا۔ گویا دور بیٹھے بیٹے کو یہ جتایا جاتا کہ بہو ان کی منکر ہی تو ہے اور ماں کی تابع داری تو کوئی جمشید سے سیکھے جب کبھی فون آتا۔ پہلے بچوں کی بابت پوچھتا پھر بہنوں کی خبر لیتا۔

’’ان کا خیال رکھنا‘ ان کا ہمارے سوا ہے ہی کون؟‘‘ گویا وہ تو کسی گنتی ہی میں نہ تھی شاید ایسے ہی وقتوں کے لیے کسی نے کہا تھا لڑکی راج کرے گی راج۔ مگر امید پر دنیا قائم ہے‘ سنا تو یہی ہے کہ وقت کیسا بھی ہو بدلتا ضرور ہے۔ مگر وقت کے بدلنے کا بھی ایک وقت ہوتا ہے‘ ایک ڈھب‘ ایک چلن ہوتا ہے۔ وقت کبھی بھی انسان کی منشاء و امید کے مطابق نہیں بدلتا وگرنہ وقت ہی کیوں کہلائے‘ سنبل کے وقت بدلنے کا وقت بھی ایک نئے ڈھب نئی چلن کے ساتھ آیا تھا۔

جمشید کی روانگی کے وقت سنبل کے یہاں ایک بار پھر خوش خبری متوقع تھی مگر اس بار حالت پہلے سے بڑھ کر ناگفتہ بہ تھی۔ اس بار پھر بڑے آپریشن کی امید تھی مگر ذمہ داریوں کا بار پہلے سے بڑھ کر تھا‘ اس کی تھکن روم روم میں اتر کر آنے والے پر اثر انداز ہورہی تھی۔ وہ وقت سے کہیں پہلے ہسپتال جا پہنچی تھی اور شاید اسی سبب میکہ میں آرام کی اجازت مل گئی تھی۔

نورالصبح نے اس کا مقدمہ جانے کب اور کیونکر لڑا‘ صولت اب گم صم ہی رہتیں۔ سنبل نیم جان سی تھی‘ کوئی الزام اپنے سر لینے سے بہتر یہی سمجھا کہ کچھ دنوں کے لیے نورالصبح کے حوالے کردیں اور سنبل جیسے ڈھے گئی تھی مانو عرصہ سے سنبھالا ہوا وجود اپنے ہی قدموں میں آرہا تھا۔ نورالصبح ماں تھیں‘ اس کے آزار جانتی تو تھیں مگر اب کھل کر جان گئی تھیں۔ ہسپتال جانے سے اب تک جمشید نے ایک بار بھی اس کا احوال نہ لیا تھا۔ خود اس کا موبائل وہیں رہ گیا تھا یا رکھ لیا گیا تھا۔ ایک روز وہ بکھر اٹھی تھی۔

نورالحسن سے لپٹ کر دھواں دھار روئی کہ ایک ایک زخم کھل گیا‘ ان کا اپنا دل پسیج گیا تھا۔ اس کی نیم مردہ حالت اس کی مشقت وصبر کی غماز تھی اور اس نے کبھی لب کھول کر نہ دیئے تھے‘ یہی اس کی بلند کرداری تھی مگر اب پانی سر سے اونچا ہورہا تھا اسے لینے کے لیے کچھ ہی دنوں میں سسر صاحب وارد ہوئے تو نورالحسن نے کڑے تیوروں کے ساتھ انہیں لوٹا دیا۔

’’سنبل اگلی زچگی تک یہیں رہے گی‘ ہم نے اپنی بیٹی آپ کو فروخت نہیں کردی ہے۔‘‘ وہ بنا کچھ کہے لوٹ گئے مگر مانو یہاں سے وہاں تک کھلبلی مچ گئی۔ بات زبان در زبان سفر کرتی جمشید کے کانوں میں اس طور اتاری گئی‘ مانو ہزار خطائوں کا ہار پرو کر سنبل اور اس کے گھر والوں کے گلے میں ڈال دیا گیا اور نورالحسن سمیت سارے گھر کو اس بات کا بخوبی ادراک تھا تبھی ایک روز صبا (چھوٹی بہن) نے جمشید کا نمبر ملا کر موبائل اس کے ہاتھ میں لا تھمایا تھا۔

’’اپنا مقدمہ خود لڑنا سیکھو آپی… اپنے رب پر بھروسہ رکھو۔ تمہارا صبر رائیگاں نہیں جائے گا‘ جیت ہمیشہ سچائی کی ہوتی ہے۔ وہ تمہارا شریک حیات ہے‘ اسے تمہارے دکھ سکھ کا سنگی ہونا ہی چاہیے۔‘‘

اور سنبل گنگ سی سوچتی ہی رہ گئی‘ وہ کیا کہے گی‘ کیسے کہے گی اور کہاں سے شروع کرے گی۔ جمشید کی شخصیت اتنی دبنگ تھی کہ وہ اس کے سامنے خودبخود کمزور پڑ جاتی۔ وہ اپنے رشتوں کے معاملہ میں اتنا مضبوط تھا کہ ان کے لیے لب کھولنا اس کی ازدواجی زندگی کی تباہی بن جاتا مگر صبا کہتی۔ جمشید جیسے لوگوں کو دوسرے نظر ہی تب آتے ہیں جب وہ سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ زندگی ہے اور زندگی کے لیے رسک لینا ہی پڑتا ہے مگر وہ موبائل کان سے لگائے منتظر ہی رہی مگر بیل جاتی رہی‘ کال ریسیو نہ ہوئی۔ آگ لگ چکی تھی‘ پھیل گئی تھی۔ اب جمشید اس کی جانب کیسے مڑتا‘ سب نے اپنا اپنا کردار مرچ مسالا لگا کر ادا کردیا تھا۔ ایک بار‘ دوبار‘ کئی بار… مگر جمشید نے کسی کی کال ریسیو نہ کی۔

کچھ دن اذیت ناک خاموشی رہی پھر ایک نیا پینترا بدلا گیا‘ سسر صاحب سامعہ سمیت بچی لینے آئے تھے۔ نورالحسن جانچ گئے تھے۔ یہ انہیں کمزور کرکے اپنی منوانے کی چال ہے مگر ان کی کمزوری‘ ان کا دبنا ان کی بیٹی کا ہمیشہ کا استحصال بن جاتا۔ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے‘ ان کی دلائی ہمت سے سنبل نے بچی نورالحسن کے حوالے کردی تھی بعد ازاں وہ یوں تڑپ کے مچلی اور روئی کہ گھر بھر کے لیے اسے سنبھالنا دشوار ہوگیا تھا اور سامعہ ٹھسے سے کہہ کے چلتی بنی تھی۔

’’ہونہہ… بٹھا کے رکھیں اسے‘ چند ہی دنوں میں اپنے بھائی کی دوسری شادی نہ رچا دوں تو نام بدل دینا۔‘‘

اور دوسروں کا جمشید پر یہ استحقاق ہی تو سنبل کا آزار تھا‘ ان سب سے کچھ بعید نہ تھا اور ستم تو یہ تھا کہ اپنا ہی کھونٹا کمزور تھا اور پھر ایک طویل خاموشی چھا گئی تھی۔ نہ نہ کرتے بھی بات کھل گئی تھی‘ زبان در زبان سفر کررہی تھی۔ ہمدردی کی آڑ میں نمک پاشی مگر فائنل فیصلہ جمشید کی آمد پر ہونا تھا۔ نورالحسن ٹھان چکے تھے‘ آر یا پار اچھی بری تمام خبریں ان کے کانوں تک پہنچ رہی تھیں یا پہنچائی جارہی تھیں۔ اب صولت کا کردار تماشائی سا تھا‘ ان کا دم خم قدرے ٹوٹ گیا تھا مگر جن بیٹیوں کو وہ سر چڑھا چکی تھیں سب پیش پیش تھیں۔ وہی ماں کی طرح دوسروں کو جوتی تلے دبا کر رکھنے کی فطرت وگرنہ مقابل کو توڑنے کے لیے آخری حد سے گزر جانا۔ دکھاوے کی محبت و لگاوٹ کی اصلیت کھل کر اب سامنے آچکی تھی۔

پھر سنا کہ جمشید آگیا‘ اس سے احوال پرسی کی امید تو کھوچکی تھی مگر نورالحسن تصفیہ طلب تھے۔ فیصلے کے منتظر‘ کوئی اشارہ‘ کوئی آمد یا بلاوا یا دعویٰ ہی سہی مگر ایک نئی خبر ملی جمشید کی اگلی شادی…

مانو اک دھماکا‘ اک بم تھا جو سب کے سر پر پھٹا تھا۔ سنبل کا ساتواں مہینہ تھا‘ معاملات اس سے مخفی ہی رکھے جاتے مگر وہ اتنا کھوٹا سکہ ثابت ہوگا‘ کسی کو امید نہ تھی۔ جمشید کی شادی ایک بار پھر دھوم دھام سے رچائی جارہی تھی‘ مانو اس کے ساتھ کسی کا وجود منسلک ہی نہ تھا یا اس کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ وہ اپنے ہر فیصلے ہر عمل میں خود مختار تھے‘ یہی ان کا خود پر زعم کھوکھلی انا تھی۔

ڈاکٹر نے سنبل کو مکمل بیڈ ریسٹ بتایا تھا‘ اس کی دوا‘ غذا‘ آرام ہر چیز کا بے حد خیال رکھا جاتا مگر اس کے رنج کا کون مداوا کرتا یوں بے مول ہوجانے کا دکھ اور وہ جو حاصل زیست تھا۔ اس کی بے مہری‘ کج ادائی‘ اس کا دل پل پل خون کے آنسو روتا۔ اب ہر اچھی امید ٹوٹ چکی تھی‘ وہ جھکنے والے لوگ نہ تھے‘ یہ وہ بھی جانتی تھی‘ دل بچی کے لیے تڑپتا اور آنے والے کا مستقبل بھلا کیا ہوگا؟ پھر اس معاملہ میں سب سے بھرپور اور جنگجو کردار منی آپا کا رہا۔

گئی تو تھیں وہ سمجھا بجھا کر مصالحت کی کوئی راہ نکالنے کے لیے مگر ادھر تو منظر ہی بدلا ہوا تھا‘ گھر کے باہر قناتیں اور دیواروں چھتوں پر قمقمے سجے تھے۔ اندر بڑے ہال کمرے میں بری سجائی جارہی تھی‘ اگلے روز جمشید کی بارات تھی۔ منی آپا کے تلووں سے لگی سر پر بجھی‘ ان کی نازک کومل چاند سی بھتیجی کی ایسی ناقدری‘ وہ پھٹ پڑیں۔

’’اے بی بی… کچھ خدا کا خوف کرو‘ بھاوج میکے بیٹھی ہے بجائے اس کے کہ تم اسے منا ٹھنا کر لے کے آتیں بھائی کے سر پر دوسرا سہرا سجانے چلی ہو؟‘‘

’’نا تو بھاوج کو کیا ہم چھوڑ کے آئے تھے؟ اپنی مرضی سے گئی تھی‘ ہزار بار منایا مگر اس کے تو دماغ آسمان پر ہیں۔ الٹا بچی ہمارے منہ پر دے ماری‘ تو کیا ہمارے بھائی کو کوئی دوسری نہ جڑتی؟ اسے اجڑا بکھرا پھرنے دیتے؟‘‘ سب سے پہلے شاہین خم ٹھونک کر میدان میں آئی تھی۔ پہلے ہی بیان میں کھوٹ پڑگیا تھا‘ کچھ دس تماشائیوں پر اپنا کھرا پن ثابت کرنا بھی مقصود تھا اور کچھ ان کو ذلیل کرکے لوٹانا بھی تھا۔

’’بہت اچھے بی بی… سنبل نے اپنا آپ مٹادیا تم سب کے لیے اور اس کا یہ صلہ‘ اس کا دم لبوں پر آگیا تھا چار روز میکے میں آرام کے لیے روک لیا تو کیا غضب کردیا۔ اے بی بی… دنیا کی بیٹیاں میکہ جاتی ہیں‘ اتنا تو خیال کرلو وہ کس حال سے ہے۔ تم نے تو اس کی خبر تک نہ لی۔‘‘

’’سنبل پر پہاڑ نہیں توڑ دیئے تھے‘ پیسے کی کمی نہیں ہے ہمارے گھر۔ دس نوکرانیاں رکھ سکتے ہیں اور دنیا کی ہر عورت گھر کے کام کاج کرتی ہے۔ سنبل کی پشتوں میں کسی نے اتنے عیش نہ کیے ہوں گے جتنے اس گھر میں اس نے کیے ہیں۔ گھر بسانے والی ہوتی تو پیر دھو دھوکے پیتی ایسی سسرال کے۔‘‘ سامعہ بھی میدان میں اتر آئی تھی۔

’’اچھا… تو تم نے کیوں نہ کریں سسرال کی خاطر خدمتیں‘ کیوں دو چار مہینے میں رسّے تڑا کر ماں کے کھونٹے سے لگ کر بیٹھ گئیں۔ تم بھی اپنے سسرالیوں کے پیر دھو دھو کے پیتیں۔ میرا منہ نہ کھلوائو تمہیں خوشی سے بیاہ کے لے کے ہی کون گیا تھا تو کیا خاک سر آنکھوں پر بٹھاتے؟‘‘ سامعہ تلملا کے رہ گئی۔

’’ہونہہ… دو ٹکے کی اوقات نہیں اور آنکھوں میں گھسی چلی آرہی ہیں۔ اب اس حال میں بٹھایا ہے تو کسی بڑے ہسپتال میں لاکھوں کا خرچہ اٹھائیں گے تب پتا چلے گا آٹے دال کا بھائو۔‘‘

’’اے بی بی… جائو جائو‘ آٹے دال کا بھائو انہیں بتائو جو بھیک مانگ کر کھاتے ہیں۔ ایسی راج کماری تھیں تو کسی محل سے شہزادی بیاہ کے لاتیں‘ تمہیں کوئی اپنے جیسی کیوں نہ جڑی‘ کیوں نورالحسن کے گھر جوتیاں رگڑی تھیں۔ جب تو بڑی للو چپو کرتی تھیں تم ماں بیٹیاں۔‘‘ منی آپا بھی آخر منی آپا ہی تھیں‘ خوب ہی لتے لیے‘ صولت بیماری کا بہانہ بنائے منہ سر لپیٹے پڑی تھیں۔ انہیں متواتر اختلاج کے دورے پڑرہے تھے‘ ہر اچھی بری خبر ان سے مخفی ہی رکھی جاتی جو سچ پوچھا جائے تو اس انتہائی اقدام پر دل ان کا بھی آمادہ نہ تھا مگر بیٹیوں نے ہی بڑھ چڑھ کر سب کچھ کیا تھا۔ بھائی کے کانوں میں زہر اتار نے سے لے کر صولت پر اس کی تنہائی امڈنے اور بکھرنے کا ایسا بھیانک نقشہ کھینچا تھا کہ وہ اب تک غیر جانبدار ہی تھیں۔ پے درپے بیٹیوں کے صدمات نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا مگر بیٹیاں ان کی کمک مضبوط کرتی رہتیں‘ جن کے نزدیک سنبل اور اس کے گھر والوں کی بغاوت‘ سرتابی اور احتجاج ناقابل معافی جرم تھا۔ انہیں ہر حال میں اس کی سزا ملنی ہی چاہیے کہ سات پشتیں یاد رکھیں۔ آخر میں عالیہ نکل کر آئی تھی۔

’’جایئے… جایئے… اپنا کام کریئے اور بٹھا کے رکھیں اب ساری زندگی سنبل کو اور یاد رکھیے اگلا بچہ بھی ہم چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ اپنی نسل‘ اپنا گھر ہم خود سنبھال سکتے ہیں۔‘‘ سفاکی کی انتہا تھی۔ منی آپا کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

’’ہاں ہاں سنبھالو اپنا گھر‘ اپنی نسل اور اپنے گھر والے۔ اسی لیے تو میرے اﷲ نے تمہیں اجاڑ کر دوبارہ لوٹا دیا کہ تم اپنا میکہ ہی بھگتتی مر جائو۔‘‘ عالیہ کو سانپ سونگھ گیا۔

ہال کمرے میں یہاں سے وہاں تک کھسر پھسر پھیلتی چلی گئی‘ ان سب نے ہزار کہانیاں گھڑی تھیں‘ مرچ مصالحہ لگا کر یہاں سے وہاں پھیلائی تھیں۔ سنبل اور اس کے گھر والوں کو مجرم قرار دے کر خود کو اہل ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا۔ محض اپنی کھوکھلی انا کا پرچم بلند رکھنے کے لیے‘ دنوں وہ منتظر رہیں کہ سنبل کو لے کر کوئی نہ کوئی ان کی دہلیز پر ناک رگڑتا چلا آئے گا۔ اس کے لیے اتنے دنوں کی بے رخی کا یہ سبق کافی ہوگا۔ اپنی پسپائی پر اس کا سر اور جھک جائے گا وہ اور دب کر رہے گی مگر ایسا نہ ہوسکا تھا تب بچی چھین کر انہوں نے اپنی دانست میں چوکا مارا تھا کہ اب تو وہ جھکے ہی جھکے مگر اس بار بھی مات مقدر ٹھہری۔

نورالصبح اور نورالحسن کو سنبل کی زندگی سے بڑھ کر کچھ نہ تھا۔ وہ جمشید کے لوٹنے پر فیصلہ کے منتظر تھے مگر یوں پے در پے پسپائی نے بالآخر انتقام کی آگ بھڑکا دی تھی۔ دور بیٹھے جمشید کے کانوں میں وہ شروع سے اتارتی رہی تھی کہ بات کو یہاں تک پہنچانے کے ذمہ دار سنبل اور اس کے گھر والے ہیں‘ ان کی لاکھ کوششوں پر بھی وہ کسی طور لوٹنے پر آمادہ نہیں ہے مزید یہ کہ اس کے گھر والے کسی سمجھوتے یا نرمی کی بجائے اپنی مرضی چلا رہے ہیں۔ مگر دنیا زبان ہی نہیں کان اور آنکھیں بھی رکھتی ہے۔ سنبل کا شفاف کردار سب کے سامنے تھے‘ اس کا حسن اخلاق‘ خاموش طبع مزاج اور سسرال پرستی۔ سب دیکھتے کہ وہ گھر بھر کے اشاروں پر پھرکی کی طرح ناچتی پھرتی تھی‘ صولت اور ان کا گھرانا معزز سہی مگر سب جانتے تھے۔ انہیں اپنی گوٹی اوپر رکھنے کی عادت ہے‘ سب جانتے تھے کہ انہوں نے مصالحت کی کوشش ہی نہ کی۔ کبھی بہو کا میکہ جھانکا نہ اس کی احوال پرسی کی‘ سسرال سے وابستگی کے نام پر خدمت گزاری اس کا مقدر رہی۔ اس پر اب جمشید کی شادی‘ سراسر زیادتی تھی بلکہ ظالمانہ فعل۔ سب دیکھ رہے تھے‘ سمجھ رہے تھے‘ انہوں نے جانے کیا کہانیاں فٹ کرکے اسے اگلی شادی پر آمادہ کرلیا تھا۔

پردہ پڑا تھا صرف جمشید کی عقل اور آنکھوں پر‘ تابع داری کے نام پر استحصال کا۔ سنبل سے اس کا دلی رشتہ بنا ہی نہ تھا یا بننے ہی نہ دیا تھا اس کے پاس وقت ہی نہ ہوتا۔ منی آپا بکتی جھکتی نکلی تھیں اور گھر کے دروازے پہ ان کا ٹکرائو جمشید سے ہوگیا تھا۔ مانو ان کے اندر بھڑکتی آگ کو روزن نصیب ہوگیا‘ منی آپا اس کی صورت پر نظر پڑتے ہی سرتا پا جھلس اٹھی تھیں۔

’’شاباش ہے میاں… خوب تابعداری نبھائی ہے‘ خوب جنت کمالو۔ بیوی بچوں کے لیے کوئی سوال نہ ہوگا تم سے‘ بس ماں بہنوں کو بھرتے بھگتتے رہو۔ اسی میں تمہاری بھلائی ہے اے میاں… انسان ہو کہ مٹی کے مادھو‘ کچھ اپنی عقل سمجھ کو بھی کام میں لائو۔ سنبل جیسی ہیرا لڑکی سے تمہیں بری امید تھی؟ جس نے جو کہا‘ ایمان لے آئے اور اسی کی دکھائی راہ پر چل پڑے‘ کچھ اپنے نفع نقصان کے بارے میں بھی سوچا ہے؟ یوں یک طرفہ معاملات سن کر زندگی کے اتنے بڑے فیصلے کیے جاتے ہیں کیا؟ وہ بیوی ہے تمہاری‘ تمہاری اولاد کو جنم دینے والی ہے۔ کچھ اس سے بھی کہا سنا؟ اس سب میں نقصان سراسر تمہارا ہے اور نفع صرف دوسروں کا‘ مرد ہوکے دوسروں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہو‘ کیا کہنے تمہاری عقل شریف کے۔‘‘ جمشید گنگ سے رہ گئے‘ منی آپا کی باتیں کاٹ دار سہی مگر سچے لفظوں کی مضبوطی دل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ وہ اب تک کھوکھلی کہانیاں سن رہے تھے‘ جنہیں عقل تسلیم کرتی تو دل آمادہ نہ ہوتا۔ اتنا سب کچھ ان کے پیچھے ہی کیوں ہوا تھا‘ سنبل کا مزاج ان پر کم کھلا تھا۔ وہ اتنی ہی خاموش طبع تھی یا پھر دوسروں کے لیے وقف ہوکر رہ گئی تھی مگر وہ اپنی عقل سے سوچتے تب نا‘ سچ تو یہی تھا کہ وہ اب تک دوسروں کے کانوں سے سنتے اور ان ہی کی آنکھوں سے دیکھتے چلے آرہے تھے۔ معاملہ اتنا گمبھیر تھا نہیں جتنا بنادیا گیا تھا اور انہوں نے سنبل سے بھی تو ایک لفظ کہا سنا نہ تھا۔ بس جو ماں بہنوں نے اس کے خلاف زہر اگلا‘ وہ ایمان لے آئے۔ منی آپا کی یہ بات ٹھاہ کرکے ان کے دل کو لگی تھی کہ اس سب میں نقصان سراسر ان کا تھا۔ انہیں دوسری بیوی مل بھی جاتی تو ان کے بچے بن ماں کے ہی رہتے۔

دنیا کی کوئی عورت ماں کا نعم البدل نہیں ہوسکتی پھر ہر عورت سنبل جیسی خاموش طبع تابعدار نہیں ہوسکتی۔ اس پر اتنے الزامات کی بوچھاڑ تھی جتنی کہ انہیں اس سے امید بھی نہ تھی اور خود انہوں نے بھی سنبل سے کسی بات کی تصدیق کہاں مانگی تھی۔ انہیں اتنا بدگمان کردیا گیا تھا کہ انہوں نے کسی کی کال تک نہ ریسیو کی تھی اور اس سب کا سرا بس اسی بات سے جاکر ملتا تھا کہ انہیں گھر بھر کو بھگتنا تھا‘ وہ ذمہ داریاں بھی نبھائی تھیں جو درحقیقت ان کی تھیں بھی نہیں لہٰذا بہو بھی بیٹے کی مانند مٹی کا مادھو درکار تھی اور یہ ساری زور آزمائی اسی سبب تھی‘ بات سمجھ میں آنے والی تھی۔ مگر بعض کو ٹھوکر کھاکر سمجھ آتی ہے کاتب تقدیر کے ترکش میں ابھی ایک فائنل تیر باقی تھا جس نے سارے گھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا بس ایک فائنل چھکا جس نے ان کی نام نہاد خوشیوں کے پرخچے اڑا دیئے تھے۔ بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے لندن سے آنے والی جمشید کی بہن نگہت کا جہاز کریش ہوگیا تھا۔ میاں‘ بیوی‘ بچے‘ سارا گھر خاک میں مل گیا‘ لاشوں تک کے نشان نہ مل سکے۔ خانۂ شادی‘ خانہ غم بن گیا‘ صولت پر گویا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ انہیں شدید دل کا اٹیک پڑا‘ وہ ہنوز آئی سی یو میں تھیں جہاں ڈھولکی رکھ کر سہاگ گیت گائے جارہے تھے‘ وہاں اب سفید چاندنیاں بجھ گئی تھیں۔ قرآن خوانی‘ آیت کریمہ کا ورد ہورہا تھا‘ مرنے والوں پر رویا جائے یا صولت کی زندگی مانگی جائے شاید یہ بددعا تھی یا احتساب مگر وقت گزرا تھا اور اسی روز جمشید کے والد نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر گھر بھر کی ایک ایک خطا کا اعتراف کیا تھا کہ وہ کیا کیا کر گئے تھے۔

کیا کرنے جارہے تھے‘ سب جانتے تھے اس گھر پر بیٹیوں کا راج چلتا تھا اور سب ایک ایک کرکے تقدیر کے وار کا نشانہ بن گئی تھیں بالآخر اس گھر کی آخری وکٹ گر گئی تھی‘ غم سے کلیجہ پھٹا جارہا تھا۔ میتوں کے نام و نشان مل جاتے تو اس گھر سے ایک ساتھ کئی جنازے اٹھتے‘ قیامت سی قیامت تھی اور اب صولت موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا تھیں۔ اسے احتساب نہیں تو اور کیا کہتے ہیں‘ منی آپا سب کو صاف آئینہ دکھا کر گئی تھیں‘ سمجھ میں تاخیر سے آئی۔ جمشید کو صولت نے آلۂ کار بنائے رکھا‘ خود بیٹیوں کے اشاروں پر ناچتی رہیں۔ قصداً ان کے لیے کم مایہ گھر کی حسین کم عمر لڑکی تلاشی تاکہ جمشید کو عمر گنوانے کا احساس نہ ہو‘ وہ سنبل تھی جس نے لب سیے۔ سسرال پرستی کے نام پر خود پر روا ہر زیادتی خود تک محدود رکھی اور بس ایک سرتابی ہی کے سبب معتوب ٹھہری‘ وہ خطارکار نہ تھی۔ بنادی گئی تھی کہ ان سب کو دوسروں کا اپنے سامنے سر اٹھانا منظور ہی کب تھا‘ لاکھوں لٹاتے مگر اپنی منواتے۔ وہ جتنا سوچتے‘ دائرے سے دائرے بنتے چلے جاتے‘ اپنے تمام فرائض کی ادائیگی کے بعد بھی صولت کا بیٹیوں کو بھرنا‘ سامعہ جیسی بیٹی کو ہدایت دینے کی بجائے اپنے گھٹنے سے لا بٹھانا۔ عالیہ کے ساتھ جو ہوا‘ وہ تقدیر کا لکھا سہی مگر شاہین کا کردار بھی اس گھر کے لیے کم ستم قاتل نہ تھا۔

بات بے بات میکے کے معاملات میں مداخلت و استحقاق اس گھر کے لیے کم ستم قاتل نہ تھا اور ساری صولت کی بخشی ہوئی کمک تھی۔ میٹھی چھری کے وار محبت کے گھیرائو‘ انہیں بے زبان بنا گیا تھا۔ وہ سر جھکائے بس ماں کے اشاروں پر ناچتے رہے‘ کبھی خود کے لیے برا یا بھلا سوچا نہ انہوں نے موقع دیا اور یہی بے زبانی اسے درکار تھی‘ اس کے کردار میں کجی نہ تھی مگر وہ اپنا آپ مٹا کر بھی ناقدری‘ بے رخی جھیل رہی تھی تو اس سب میں خود جمشید کی زندگی کہاں تھی؟ ان کی زندگی تو کھلونا بن کر رہ گئی تھی اور وہ ایک خاموش آلۂ کار گویا ان کی خوشیاں‘ ان کا وجود بس ایک کٹھ پتلی تھا۔ وہ خود بے مایہ تھے تبھی تو سنبل بھی ناقدری ٹھہری۔ ان کی خوشیاں مقدم ہوتیں تو سنبل کو سر آنکھوں پر رکھا جاتا اب وہ اتنی زیادتیوں کے بعد کیا نئی زندگی ہنسی خوشی گزار سکیں گے؟

سنبل کی بددعا‘ رب کا احتساب‘ جس نے انہیں وقت سے پہلے کھینچ لیا تھا۔ منی آپا کا فرمان یہی تھا‘ وہ مٹی کے مادھو ہی تو تھے آنکھیں بند کیے بس دوسروں کی بتائی سمت چلتے رہے۔ وہ سب اپنائیت کے نقاب میں لپٹے مفاد پرست تھے پھر تقدیر انہیں پٹخی کیوں نہ دیتی۔ صولت اس ساری گیم کا اصل مہرہ تھیں تو قدرت ان سے احتساب کیوں نہ کرتی اور احتساب پر اتر آئے تو کہیں جائے پناہ نہیں ملتی‘ معافی اور تدارک‘ ایک ارزاں سی کوشش۔

جمشید کی آنکھیں کھل گئی تھیں پھر انہوں نے اپنی تمام کوتاہیوں کے تدارک و معافی کے لیے ہی سنبل کے گھر کی جانب قدم بڑھائے تھے کہ اس نازک کومل سی لڑکی سے تمام اچھے گمان اور امیدیں وابستہ تھیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close