Aanchal Feb-17

سال نو کی بہار

سعیدہ نثار

مونا شاہ قریشی… کبیر والا

۱) ترجمہ احساسات بحوالہ آمد سال نو ساکت و جامد یا یوں کہہ لیں مثل موسم سرد ہی رہتا ہے، اس خاموش دائرے میں پڑنے والا نوکیلا پتھر فارورڈ مسیجز ہوتے ہیں۔ جو دھڑ دھڑا موبائل اسکرین روشن کرتے کوفت کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیںکیفیت کو۔

۲) قابل ذکر ماحصل کچھ یوں ہے کہ 2016ء میں لکھی گئی میری ساری تحریریں قبولیت کی مسند پہ محو استراحت ہیں آغاز تا انجام پورا سال یہی کامیابی میرے معصوم قلم اور دل پہ ندرت کا تاثر پیش کرتی رہی، کہ یہ اہل نظر کا کمال ہے جو میرا منتہائے مقصد تکمیل کے سرے کو چھو آیا۔

۳) توقعات کا دل ادھیڑنے میں کوئی ثانی نہیں تب ہی میں اس سرجن قسم کے لفظ توقع کو کم ہی تخیل و عملیات میں شامل کرتی ہوں۔ پورے تو نہیں ہوئے کام رواں سال میںمگر متوقع سال کے لیے موقوف ہیں ان میں میرا ماسٹرز میں ایڈمیشن شامل ہے۔ 

۴) اقبال بانو کی تحاریر لائق داد و تحسین ہیں ان کے افسانوں میں معاشرتی تلخی اور سوز بدرجہ غایت ہے۔ 

۵) مصباح علی (دل تو بچہ ہے جی) اس تحریر نے حس مزاح پہ خوشگوار اثرات مرتب کیے۔ 

۶) سمیرا شریف، سعدیہ امل کاشف، صوفیہ سرور چشتی اور اب میری زبان معذرت بلکہ میرا قلم ضعف کا شکار ہو رہا ہے کہیں اپنا اسم با مسمی نہ لکھ ڈالے۔ 

۷) آنچل کے تمام سلسلے امتیازی صفات کے حامل ہیں آنچل میں تبدیلی یا حرف گیری کے مرتکب میرے الفاظ نہیں ہوسکتے۔ 

۸) ان جامد جذبات کی وجہ بھی ایک ہی ہے شدت سے وقت کی تھال سے سکے سرکتے دیکھ کر زیاں کا احساس خوشی کے لمحات نگل جاتا ہے۔ ایک قلق ایک کاش کہ اچھائیوں سے لبریز پسندیدگی رب سے منسلک کام کر کے گناہ زدہ قبیح کاموں کا دندان شکن جواب دے سکیں شرمندگی کے تاثرات احاطہ قلم میں لانا بھی لازم ہیں شاید لکھی بات کبھی عقل یا قلب کے بند روزن کو کھولنے میں کارگر ثابت ہوجائے۔ حیات کی تصنیف سے ایک صفحہ کا پلٹ جانا گویا رتن (ہیرا، موتی) کا کھو جانا ہے اپنے اعمال سے ذاتی طور پر اس درجہ خائف ہوں کہ لرزیدہ پلکوں کا ہمہ وقت گیلا رہنا بھی مجھے کم لگتا ہے۔ 

۹) واقعات کی تو بھرمار ہے پے در پے زندگی میں واقعات سر نیہواڑے پڑے ہیں قابل ذکر کوئی نہیں ہے یا شاید ایسا ہے کہ میری مشینی زندگی کے واقعات دلچسپی سے عاری ہیں۔ 

نورین مسکان سرور… سیالکوٹ، ڈسکہ

۱) پچھلے سال کے امیدوں کے شیش محل اورکرچیوں سے ٹوٹا دل، آنے والے سال کے لیے خدا سے دعائوں کے ہنڈولے میں جھولتا امیدوں کا نیا محل تعمیر کرتا ہے۔ 

۲) آنچل نے میری پہلی تحریر ’’جہیز‘‘ کو شائع کر کے رائٹر ہونے کا شرف بخشا یہی بڑی کامیابی اور خوشی ہے۔

۳) قلم نے ابھی اپنا حق ادا نہیں کیا یہ کئی اگلے سالوں کی زندگی کی آس پر موقوف ہوا اور بھی ڈھیروں کام ادھورے ہی ہیں ان شاء اللہ 2017ء میں اپنی تکمیل تک پہنچیں گے۔ 

۴) حرا قریشی کی اردو برجستہ انداز، نازیہ کنول نازی آپی اور بشریٰ گوندل مثل ستارہ دل و نظر میں مرکزی حیثیت سے اپنی چکا چوند روشنیاں لیے مسکراتی رہیں۔ 

۵) کہاں ہنساتی ہیں بھئی ہماری ساری مصنفین نے تو ہمیں رلانے کی قسم کھا رکھی ہے ہاں رنگ رنگیلے بہترین رہی۔ 

۶) سب ہی اپنی جگہ اچھی لگتی ہیں۔ 

۷) یہی کہ ما بدولت کو جگہ مل جایا کرے اور بس (ہاہاہا) 

۸) جو صباحت رفیق چیمہ نے لکھا وہ ہماری سوچ کی عکاسی تھی اف اللہ یہ کیا ہوگیا وقت گیا اور ہم خالی کاسہ تھامے گناہ کی دلدل میں سر دھڑ سمیت خزانہ قارون کی مثل دھنسے ہوئے ہیں اور بھاگ کر مصلیٰ پکڑ لیتے ہیں۔ 

۹) یادوں کا ایک جھونکا آیا ہم سے ملنے برسوں بعد

پہلے اتنا روئے نہیں تھے جتنا روئے برسوں بعد

دل کے سنگھاسن پر یادوں کے انبار تہہ بہ تہہ سنبھال کر رکھے ہیں ہم قیمتی چیز رکھ کر گویا بھولنے کی کوشش کر رہے تھے مگر اچھی بری یادوں کے سارے ڈھیر ہم پر ڈھیر ہوگئے۔ ان میں سب سے بیسٹ 2016ء میں آنچل میں تحریر ’’جہیز‘‘ کی اشاعت پر چاروں طرف سے مبارکوں کے تحفے اور دوستوں کا سوئٹ سوئٹ کا گانا اور پھر ان کو کھلانی ہی پڑی بہت یادگار دن تھا وہ جب خوشیوں کے جھمگٹے میں قہقہے بکھیرتے دوستوں میں زندگی کے لمحوں میں سے چند لمحے کشید کر کے انہیں خوشیوں کے پیراہن میں لپیٹنے کا موقع ملا اور یہ موقع بھی آنچل کے توسط ہی نصیب میں لکھا تھا تھینک یو آنچل اینڈ آنچل فیملی، آخر میں یہ اس دعا کے ساتھ رخصت چاہوں گی، 

ہر ترسی نگاہ

ہر پیاسی زباں

ہر بھوک کا مارا

بس دیکھ رہا ہے

ہند سے کو بدلتا

اور آج اس کے لبوں پر

آسودہ مسکان کا پہرہ

اے خدا

تجھے تیری خدائی کا واسطہ

اس بار میرے دیس

کے نہتوں کو

مایوس نہ کرنا

آمین

حسینہ ایچ ایس… مانسہرہ

۱) سال نو کی آمد پر کیا احساسات ہوتے ہیں کچھ بھی نہیں ہوتے بس اپنے رب سے دعا کرتے ہیں اے اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے ملک کو اپنی رحمتوں کے حصار میں رکھنا، دہشت گردی سے ملک کو محفوظ رکھنا، آمین۔

۲) اس سال کی بڑی تو کیا چھوٹی کامیابی نے بھی ہمارے قدم نہیں چومے (ہی ہی ہی)۔

۳) 2016ء سے جو امیدیں تھیں ماشاء اللہ وہ سب پوری ہوئی ہیں، 2017ء پر کوئی کام بھی موقوف نہیں کیا (زندگی پر بھروسہ جو نہیں)

۴) کسی ایک مصنفہ کا نام لیا تو دوسرے مصفنفین کی حق تلفی ہوگی آنچل میں زیادہ تر مسائل پر مبنی کہانیاں ہوتی ہیں ان کے ذریعے بہت سی گھتیاں سلجھ جاتی ہیں لڑکیوں میں اچھائی اور برائی کو سمجھنے کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے میں یہی کہوں گی کہ ہر مصنفہ کی تحریر میں کوئی سبق ضرور چھپا ہوتا ہے۔ 

۵) نزہت جبیں ضیا کی تحریر ’’میرے لیے صرف تم‘‘ نے ہنسنے پر مجبور کردیا اکثر چھوٹی سسٹر بھی مجھے لمبو کہتی ہے (لیکن مجھے غصہ نہیں آتا) کیونکہ مجھے پتا ہے کہ میں لمبو نہیں ہوں، (ہاہاہا)

۶) 2017ء میں ام مریم، ام ثمامہ (پلیز کوئی مکمل ناول ضرور لکھیں) سباس گل، مونا شاہ قریشی (پلیز اس نام کو آنچل میں پڑھنے کی عادت سی ہوگئی ہے اسے مت چینج کریں انتظار شاہ کو انتظار ہی رہنے دیں) اور انعم خان کے مکمل ناول پڑھنے کو دل چاہتا ہے (دل کی ایسی کی تیسی)

۷) آنچل ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہے مزید اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ 

۸) سال کے اختتام پر دکھ ہوتا ہے کہ زندگی کا ایک اور سال کم ہوگیا سوچتی ہوں اللہ کو بھی خوش نہ رکھ سکے اور نہ ہی اس کے بندے خوش ہوتے ہیں کیا فائدہ ایسی زندگی کا؟

۹) رمضان میں سحری کے بعد نماز پڑھ کر عموماً بھائی لوگ سو جاتے ہیں صبح کے پانچ بجے کا ٹائم تھا میری پر دادی جان وظیفہ کر رہی تھیں میں نے چپکے سے دراز سے بائیک کی چابی نکالی اور موٹر سائیکل اسٹارٹ کیا ابھی اسٹارٹ ہی کیا تھا کہ چھوٹا بھائی نمودار ہوا اور کہا مجھے بھی بٹھائو ورنہ میں بھائی جان کو بتائوں گا مجبوری میں اسے بھی بٹھانا پڑا ابھی پورے گھر میں ایک چکر مکمل ہوا تھا کہ دوسرے چکر پر موٹر سائیکل میرے کنٹرول سے باہر ہوگیا چھوٹا بھائی تو پیچھے سے اتر گیا اور مجھ بے چاری پر پورا موٹر سائیکل گر گیا گرا کیا بلکہ مجھے بھی ساتھ گھسیٹ لیا اف جلدی سے چابی نکالی تو دیکھا بھائی اور پر دادی خوب ہنس رہے ہیں مجال ہے جو مجھے اٹھانے کی کوشش کی ہو چھوٹا بھائی حنین کہنے لگا اچھا اچھا اب بھائی جان کو بتائوں گا کہ تم نے بائیک کا کیا حال کیا ہے (آہ اس بائیک نے تو مجھے بے حال کردیا ہے) پلیز حنین بھائی کو مت بتانا تمہیں پورے سو روپے دوں گی، پور ایک مہینہ اپنی ٹانگ پر سب سے چھپ کر مرہم لگاتی رہی اب جب بھی ٹانگ کو دیکھتی ہوں تو یہ واقعہ ضرور یاد آجاتا ہے بقول آپی (گل مینا خان) کے ٹانگ پر پڑا نیل تمہیں خوب صورت یاد دلائے گا (ہی ہی… ہاہاہا)

طیبہ خاور پھول… عزیز چک وزیر آباد

۱) یہی سوچتی ہوں سال کا آغاز اچھا ہو کوئی پریشانی نہ ہو خوشی بھی محسوس ہوتی ہے۔ 

۲) اس سال کی خاص بات یہ ہے کہ میری شادی 19 ستمبر کو ہوچکی ہے اور اللہ نے میرے بھائی ابو بکر کو بیٹی سے نوازا ہے۔ 

۳) ساری امیدیں پوری ہوئی ہیں کوئی بھی کام ادھورا نہیں رہا ایک دل کی خواہش ہے وہ دعا کریں کہ پوری ہو جائے آپ سب کی دعائوں کی ضرورت ہے۔ 

۴) ایک کا نام لوں تو صحیح نہیں ہوگا سب ہی داد کی مستحق ہیں اللہ تعالیٰ آنچل کی سب رائٹرز کو کامیاب کرے، آمین۔ سبھی بہت اچھا لکھتی ہیں۔

۵) جی یہ تو اب سوچنا پڑے گا۔

۶) میں عفت سحر طاہر، شازیہ مصطفی، میمونہ خورشید علی، مریم عزیز، ان سب کے مکمل ناولز پڑھنا چاہتی ہوں۔ 

۷) آنچل مکمل پرفیکٹ ہے کوئی تبدیلی نہیں چاہیے۔ 

۸) اس سال کا اینڈ تو بہت دکھ دے کے گیا ہے میرے جان سے پیارے ابو جان کیسے لکھوں ہمیں چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلے گئے ہیں مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا، یکم نومبر رات 9 بجے ابو ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کے چلے گئے ہیں مجھے ایسے لگتا ہے میرے پاس کچھ نہیں رہا سارا دن اور رات ان کو یاد کرتے اور روتے ہوئے گزرتا ہے جب ابو میری نظروں کے سامنے فوت ہوئے تو سب رونے لگے اور میں ابو کے پاس کھڑی ہو کے کبھی ان کی نبض کو چیک کر رہی ہوں کبھی دل کی دھڑکن کو ایسے جیسے مجھ پر کوئی سکتہ طاری ہوگیا ہے اور ساتھ میں بولے جا رہی تھی نہیں ابو زندہ ہیں مجھے یقین نہیں آرہا‘ ابو زندہ ہیں وہ بھلا ہمیں کیسے چھوڑ کے جاسکتے ہیں اس سال نے تو سوچنے کے لیے چھوڑ دیا ہے کیا ہوگا کس سے اتنی باتیں کروں گی کون اتنی اہمیت دے گا کون فرمائش کر کے مجھ سے بار بار نعتیں سنے گا کون دلچسپی کے ساتھ پوچھے گا طیبہ کیا کچھ لکھا آنچل میں مجھے دکھائو طیبہ آنچل کے لیے کچھ لکھ لینا تھا میرے ابو مجھے ہمیشہ یہی کہتے تھے میری بیٹی کسی کو دغا فریب نہیں دے سکتی بہت ایماندار اور سچے دل کی مالک ہے اکثر ایسے ہی بولتے تھے میں اب ابوکو کیسے بلائوں کیسے ان کے گلے لگوں کیسے پاس جائوں کیا کروں کہاں جائوں سب کچھ ختم ہوگیا۔ ۹) ایک بات کی خوشی ہے کہ اپنے والد کے زیر سایہ رخصت ہوئی ہوں میری شادی کا پروگرام دسمبر کا تھا لیکن اللہ کو منظور تھا کہ میں اپنے والد کے زیر سایہ سسرال جائوں اب ابو کی یادیں ہی رہ گئی ہیں جو وہ چار دن اسپتال میں رہے وہ آنکھوں کے آگے گھومتے رہتے ہیں اور مجھے اور زیادہ رونا آتا ہے سب قارئین سے گزارش ہے کہ میرے ابو کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے ابو کے درجات بلند کریں اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین، ڈاکٹر محمد ہاشم مرزا کو بھی اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں جگہ دیں اقرا مایہ (برنالی) آپ کی امی کا پڑھ کر بہت دکھ ہوا اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند عطا فرمائے، آمین، میری دعا ہے آنچل تا قیامت ایسے ہی ترقی کی راہوں پر گامزن رہے، آمین

شبنم کنول… حافظ آباد

۱) سب سے پہلے تو گزر جانے والے سال کا دکھ ہوتا ہے مگر پھر دل یہ سوچ کر خوش ہوجاتا ہے کہ کیا پتا کہ آنے والا سال مجھے گزرے سال سے زیادہ خوشیاں دے خدا مجھے وہ سب اس نئے سال میں دے جس کی میں اس سے التجائیں کرتی رہیں، نجانے کیسا عجب خیال دل کو ہوتا ہے ہر چیز خوب صورت اور حسین لگتی ہے۔ 

۲) سچی ایسی کسی کامیابی نے میرے قدم نہیں چومے جو میری توقع سے بڑھ کر ہو۔ 

۳)بس یہ شعر کہوں گی

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے

بہت نکلے میرے ارماں مگر پھر بھی کم نکلے

۴) متاثر تو سب سے ہوئے لیکن نازیہ کنول، اقرا صغیر، نگہت عبداللہ نے متاثر زیادہ کیا۔ آئندہ بھی ایسا لکھتی رہیں۔ 

۵) سمیرا شریف، رفعت سراج، نازیہ کنول، سباس گل، نگہت سیما ان سب کی تحریروں کو پڑھنا چاہتی ہوں۔ 

۶) جی ہم کیا تبدیلیاں لائیں گے آنچل تو پہلے ہی پرفیکٹ ہے اگر آپ اتنا اصرار کرتی ہیں تو پھر ایک تبدیلی لے ہی آتے ہیں، جو کہانی چل رہی ہو اس کے تمام صفحات پر اس کا نام چھوٹا سا تحریر کردیا کریں۔ 

۷) اس سال کے اختتام پر یہ سوچ ذہن پر قبضہ کر بیٹھی ہے کہ شاید ہم نے گزرے سال میں کتنے نیک عمل کیے جو نیک عمل کیے وہ میرے اللہ کو پسند آئے بھی یا نہیں نجانے کتنے گناہ کر بیٹھی ہے یہ گناہگار بندی، میری وجہ سے نجانے کس کا دل دکھا، کس کو میں نے خوشیاں دیں میری وجہ سے کس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی کس کو آنسو دیے، اللہ جانتا ہے میں کیا جانو آنے والے سال میں دعا کرتی ہوں کہ کسی کو دکھ نہ دوں کسی کا دل نہ دکھے، ہاں اللہ مجھے پانچ وقت کا نمازی بنا دے نیک بنا دے خوش اخلاق بنا دے گزارے سال پر دکھ ہوتا ہے کہ میری زندگی سے ایک سال اور کم ہوگیا مگر پھر آنے والے سال کو خوشیوں بھری نگاہ میں قید کرلیتی ہوں اور دل میں کچھ نئی تمنائیں اور خواہشات جگہ لے لیتی ہیں۔ 

۹) میری زندگی کی حسین یادیں بہت ہیں اور بہت بڑی بڑی بھی مگر ایک چھوٹی سی یاد آپ کے نام وہ دن جب میرے بھتیجے نے مجھے پھوپو کہا اپنے نرم نرم گلاب جیسے ہونٹوں سے میری بھتیجی نے مجھے آنی کہا اور اپنے مسکراتے لبوں سے اور جب میرے ایک اور بھانجے نے مجھے خالہ کہہ کر مخاطب کیا ان سب کی معصوم ادائوں کے لیے میرے پاس کہنے کے لیے کچھ اور نہیں یہ تھی میری چھوٹی مگر بہت بڑی یاد۔

ثنا ریاض چوہدری… بوسال سکھا

۱) نئے سال کی آمد پر احساسات کچھ خاص نہیں ہوتے نئے سال کا پہلا دن ویسے ہی شروع ہوتا ہے جیسے ہر دن ہوتا ہے ویسے تو ہر روز جب رات کو سونے کے لیے لیٹتی ہوں تو دن بھر کیے ہوئے گناہوں کا احساس ہوتاہے تو ان کی معافی مانگ کر سوتی ہوں اب نیا سال شروع ہوا ہے تو سوچتی ہوں کہ پتا نہیںیہ زندگی کا آخری سال ہو بہت افسوس ہوتا ہے کہ زندگی کے اتنے سال ایسے ہی بے مقصد گزار دیے۔ 

۲) 2016ء میں میرا ایف اے اچھے نمبروں سے ہوا اور آگے ڈگری کالج میں ایڈمیشن ہوا اس کے علاوہ کوئی اور ایسی کامیابی نہیں ملی جو توقع سے بڑھ کر ہو۔ 

۳) 2016ء میں سب سے بڑی امید میری آپی کی شادی کی تھی جو پھوپو (آپی کی ساس) کی ڈیتھ کی وجہ سے 2017ء پر موقوف ہوئی اس کے علاوہ کچھ میری ذاتی امیدیں تھیں جو پوری نہیں ہوئی، بہرحال امید پر دنیا قائم ہے دعا ہے کہ یہ امیدیں اللہ اس سال پوری کردے آمین۔ اس کے علاوہ میں نے قرآن پاک کا ترجمہ پڑھنا شروع کیا تھا جو بارہ پارے پڑھا اور کالج میں ایڈمیشن کی وجہ سے ادھورا رہ گیا جس کا بہت افسوس اور دکھ ہوتا ہے اللہ مجھے قرآن پاک کو ترجمہ و تفسیر کے ساتھ پڑھنے کا موقع فراہم کرے، آمین۔

۴) 2016ء میں سیدہ غزل زیدی کے ناول ’’کروں سجدہ ایک خدا کو‘‘ نے بہت متاثر کیا اس کے علاوہ حرا قریشی کے مجاہرہ نے بہت متاثر کیا۔ 

۵) 2016ء کی کوئی ایسی تحریر ذہن میں نہیں جس نے ہنسنے پر مجبور کیا ہو، ام ثمامہ کی آزادی یا انقلاب نے خوب ہنسایا تھا جو 2015ء میں شائع ہوئی تھی آج کل کے رائٹرز کی تحریروں میں بہت کم مزاح ہوتا ہے جیسے پہلے رائٹرز کی تحریروں میں کزنز کی محفل میں مزاح ہوتا تھا وہ آج کی تحریروں میں مفقود ہے۔ 

۶) 2017ء میں حرا قریشی، عشنا کوثر، نگہت عبداللہ اور سمیرا شریف کے مکمل ناول پڑھنا چاہتی ہوں۔ 

۷) ویسے تو آنچل بالکل پرفیکٹ ہے اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں اگر اضافی کچھ شامل کرنا چاہتے ہیں تو پھر مہینہ وار اسٹارز کا سلسلہ شروع کیا جائے کہ آپ کا مہینہ کیسا رہے گا۔

۸) سال کے اختتام پر زندگی سے ایک سال منہا ہونے پر یہی خیال آتا ہے کہ اللہ نے ہمیں ایک مکمل انسان بنایا ہے اور زندگی کی ہر نعمت دی ہے اور اس کے بدلے کیا چاہا صرف خلوص دل سے اپنی عبادت اور ہم نا شکرے انسان وہ بھی نہیں کرپاتے۔ 

۹) 2016ء کی کوئی ایسی خوب صورت یاد نہیں جو قارئین سے شیئر کی جائیں سو بنڈل آف سوریاں، آخر میں قارئین کے نام ایک پیغام کہ یہ دل ہی ہے جو بنا آرام کیے سالوں کام کرتا ہے اس لیے اسے ہمیشہ خوش رکھیے چاہے یہ آپ کا اپنا ہو یا آپ کے اپنوں کا پاکستان زندہ باد اینڈ اللہ نگہبان۔

زعیمہ آرزو روشن… آزاد کشمیر

۱) سال کی آمد پر خوشی ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ غم بھی ہوتا ہے کہ اس سال ہم سے کوئی ہمارا چھن نہ جائے بٹ یہی دعا رہتی ہے کہ یہ نیا سال تمام لوگوں کے لیے اچھا اور بابرکت ثابت ہو آمین۔

۲) اس سال مجھے میری نئی زندگی کی کامیابی ملی مجھے ہیپاٹائٹس ہوگیا تھا۔ تمام ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا سب امید ہار گئے تھے مگر زندگی دینے والی تو رب کی ذات ہے میں نہ صرف زندہ بچ گئی بلکہ بالکل ٹھیک بھی ہوگئی اور پھر میں نے اپنی لائف کا ایک اور سال مکمل کیا۔ 

۳) میں بیمار تھی تو میری ایجوکیشن ان کمپلیٹ رہ گئی تھی اب ان شاء اللہ 2017ء میں دوبارہ شروع کروں گی اور باقی تو ہر انسان کی زندگی میں کچھ خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی خواہشات بھی دم توڑ جاتی ہیں۔

۴) اس سال مجھے نازیہ کنول نازی نے بہت متاثر کیا (مائی نے میں کنوں آکھاں)

۵) مجھے صائمہ قریشی کے اناڑی پیا نے بہت ہنسایا اب بھی جب یاد کرتی ہوں تو براحال ہوتا ہے۔ 

۶) سمیرا شریف طور، نازیہ کنول نازی اور سباس گل کو پڑھنا چاہوں گی۔

۷) 2017 میں کچھ خاص تبدیلی نہیں چاہتی مگر اتنا ضرور کہوں گی کہ زیادہ سے زیادہ نئے لکھنے والوں کو موقع دیا جائے۔ 

۸) اس سوال کے جواب میں اتنا کہوں گی کہ ہمیں سال کے اختتام پر خوشی نہیں بلکہ اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے اس سال اپنے لیے کچھ کمایا، کتنی نمازیں پڑھیں، کتنی لوگوں کی غیبت کی اور ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم نے کھویا اور کیا پایا، یہ سال جو گزر گیا اب واپس نہیں آئے گا۔

فرحت اشرف گھمن… سید والا

۱) ایک طرف تو میں اپنی زندگی کے نئے سال کو بہت خوشی سے ویلکم کرتی ہوں بٹ تھوڑی سیڈ بھی ہوتی ہوں کہ میری زندگی کا ایک سال کم ہوگیا نئے سال کے آغاز میں‘ میں اپنے آپ سے عہد کرتی ہوں کہ اس سال میں کسی کی بھی دل آزاری کا سبب نہیں بنو گی اور زیادہ سے زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار دوں گی۔ 

۲) کوئی ایسی بڑی کامیابی نہیں جس نے میرے قدم چومے ہوں، ہاں اس سال یہ خوب صورت سانحہ ہوا ہے کہ مجھے اپنے فیانسی کو جاننے کا موقع ملا اور وہ میری توقع سے بڑھ کر کیئرنگ ثابت ہوئے جو مجھے بہت مغرور اور کھڑوس لگتے تھے۔ 

۳) 2016 ء سے مجھے یہ امیدیں تھیں اول یہ کہ میں فیشن ڈیزائننگ ڈپلومہ میں ایڈمیشن لوں گی یہ کام ادھورا رہا دوسرا یہ کہ مجھے بہت امید تھی کہ میری تینوں کہانیاں آنچل یا حجاب کی زینت بنیں گی مجھے بہت ہی اپنے آپ پر افسوس ہے کہ میں ابھی اس قابل نہیں ہوئی، دو ریجیکٹ ہوگئی تیسری کا ابھی کچھ پتا ہی نہیںچلا اللہ کرے کہ 2017ء میں ایسا کوئی حسین سانحہ ہوجائے آمین۔ 

۴) اس سال مجھے رفعت سراج نے اور نازی نے بہت متاثر کیا نازی کشمیر کے بارے میں بہت آگاہ کرتی ہیں اور رفعت بہت گہرائی میں ڈوبا ہوا لکھتی ہیں۔ 

۵) مجھے نہیں یاد کہ میں نے کسی ایک مصنفہ کی تحریر پڑھی ہو جس نے مجھے ہنسنے پر مجبور کیا ہو کیونکہ اب ہر رائٹر مہنگائی اور غربت پر زیادہ لکھتی ہے اب اتنی بھی پاکستان کی عوام غریب نہیں جتنا رائٹرز بتاتی ہیں ہمارے گائوں فرید آباد میں ہر گھر سے دو تین لڑکے بیرون ممالک میں ہیں ماشاء اللہ ہر گھر خوشحال ہے بندہ رسائل تو مائنڈ ریلیکس اور فریش ہونے کے لیے پڑھتا ہے اگر ان میں بھی وہی معاشرتی مسائل ہوں تو کیا فائدہ وقت اور پیسہ خرچ کرنے کا ادارے کو اس بات کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ ہلکی پھلکی تحریر بھی ہونی چاہیے جو فنی بھی ہو۔ 

۶) 2017ء میں سمیرا نگہت عبداللہ اور ام مریم کے مکمل ناول پڑھنا چاہتی ہوں۔ 

۷) 2017ء میں آنچل میں شوبز یا فیشن کے بارے میں بھی کچھ ہونا چاہیے۔ 

۸) 2016ء کی خوب صورت یادیں یہ کہ ہم ساری فرینڈز ننکانہ صاحب ایگزام دینے جاتی تھیں تو ہم نے بہت انجوائے کیا ایک دن ایک ڈھابہ سے کھاناکھایا اس کھانے کو ہم نے اتنا انجوائے کیا کہ حد نہیںاتنا مزہ تو کسی بڑے ریسٹورنٹ میں بھی نہیں آیا ہم گورو نانک اور ننکانہ رجوٹ پارک گئیں شکلیں بگاڑ بگاڑ کر سیلفیاں اور تصویریں بنائیں جب گھر آکر دکھائیں تو بی جی سے خوب ڈانٹ کھائی میری کہانیاں شائع نہیں ہوئیں میرے بھائیوں اور کزنز نے خوب میرا راگ لگایا ہوا ہے، ابھی ابرار کو (فیانسی) پتا نہیں چلا ورنہ اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا آپ بہنوں کا اگر کبھی ننکانہ آنے کا اتفاق ہو تو ضرور ننکانہ رجوٹ دیکھیے گا۔

عنزہ یونس… حافظ آباد

۱) پہلا سوال ہی بہت مشکل پوچھ لیا ہے آپ نے بہرحال نئے سال کے متعلق احساسات بہت جامد ہوتے ہیں ایک تو نئے سال کے آنے کی خوشی دوسرا گزشتہ سال جانے کا غم (ماضی ہمیشہ ہی انسان کو اچھا لگتا ہے) ایسے میں بہت عجیب سے احساسات ہوتے ہیں مجھے اس بات کا زیادہ قلق ہوتا ہے کہ میں نے حاصل کچھ نہیں کیا اور یہ سال چلا بھی گیا اور اگر حاصل کرلوں تو خوشی ہوتی ہے اور نئے سال کے لیے لائحہ عمل بڑا سخت اور عملی ہوتا ہے جس کے لیے خود کو بڑا پش کرتی ہوں تاکہ نئے سال میں ڈھیروں کامیابیاں سمیٹ سکوں، مختصر احساسات خوشی و غم کے درمیان معلق ہوتے ہیں نئی زندگی کے نئے سال میں داخل ہونے کا احساس تو الگ ہی ہوتا ہے۔ 

۲) جی بالکل نیا سال میرے لیے بہت سی کامیابیاں لے کر آیا (الحمدللہ) کیونکہ میں نے بہت محنت کی تھی اپنے آپ کو گروم کرنے کی میرا پہلا مقصد اسٹڈی کرنا تھا وہ بھی بہت اچھی خود کو ٹف ٹائم دینا تھا جس میں میں کامیاب رہی (یہ سب اللہ کا احسان ہے) دوسرا آنچل و حجاب میں با مقصد پیغام بھیجا اپنی پہچان بنانا اور خود کو محنت پہ ابھارنا تاکہ مستقبل میں ایز آ رائٹر کام کرسکوں تو الحمدللہ اس مقصد میںکامیابی ملی جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی بے حد شکر گزار ہو اور آنٹی قیصر آرا کی باتوں نے میرا بہت ساتھ دیا۔ 

۳) 2016ء سے جو امیدیں تھیں وہ کافی پوری ہوئیں مثلاً میرا آنچل و حجاب میں دوبارہ لکھنا (جو کے یونیورسٹی میں ایڈمیشن کے بعد ختم ہوگیا تھا) میں اس میں کامیاب رہی، اسٹڈی کے حوالے سے جو میری توقعات تھیں وہ پوری ہوئیں اللہ کے فضل سے‘ اس کے علاوہ بطور مصنفہ کام کرنے کا خواب 2017ء میں داخل ہوگیا ہے ان شاء اللہ اس کے لیے کام تو بہت کیا ہے مگر ڈیو ٹو اسٹڈی پوری طرح کام نہیں کرسکی اب ان شاء اللہ اس کے لیے کام کرنا ہے آپ بھی دعا کیجیے گا۔ 

۴) بہت مشکل سوال ہے میں تو سب مصنفین کی خدمات کو سراہتی ہوں جس نے جو کچھ لکھا نیت اور اچھی محنت سے لکھا تبھی تو کامیابی کا زینہ طے کیا چند نام ہیں جن کے کام کی تعریف ضروری ہے حرا قریشی، انہوں نے بہت اچھا کام کیا محنت و ایمانداری سے تیسری چیز تھی جذبہ ان کے ہر افسانے میں ان کا جذبہ کار فرماں رہا میں ان سے متاثر ہوں، اس کے علاوہ عظمیٰ شاہین ہیں انہوں نے تھوڑا لکھا ہے مگر لاجواب یہ محب الوطن کی عمدہ ترین مثال ہیں اللہ ان کا زور قلم مزید پختہ کریں آمین چندا چوہدری ہلکا پھلکا لکھتی ہین مگر اچھا باقی بھی سب بہت اچھا لکھ رہی ہیں میں سب کے لیے دعا گو ہوں اور آنچل و حجاب کی مشکور ہوں جو نئے لکھاریوں کو سامنے لا رہا ہے، ویلڈن۔

۵) آہم جناب کوئی بھی دھماکے دار مزاحیہ اسٹوری پڑھی ہی نہیں ایک بہت پہلے پڑھی تھی ’’بھائی لوگ‘‘ وہ ہی ذہن پر سوار ہے۔

کچھ خوشیاں کچھ غم دے کے ٹال گیا

زندگی کا اک اور سنہری سال گیا

جی بالکل میں ہر اچھی مصنفہ کو 2017ء میں پڑھنا چاہوں گی جو بھی اپنے قلم سے جہاد کریں گی میری پسندیدگی کو ساتھ پائیں گی (ان شاء اللہ) عظمیٰ شاہین رفیق اور حرا قریشی سے میں بہت مطمئن ہوں سمیرا شریف طور کا بھی انتظار ہے۔ 

۶) آنچل بہت اچھا ہے ماشاء اللہ مگر کچھ تبدیلیاں بھی وقت کے ساتھ ضروری ہیں جیسے کالم نگاری کا سلسلہ حجاب میں شروع ہوا ہے آنچل میں بھی شروع کیا جائے شوبز کی دنیا سے ہر ممکن با خبر رکھا جائے (جیسے حجاب میں) مزاحیہ اسٹوریز کو سراہا جائے اور ان کے لیے مصنفات کا مائنڈ سیٹ کیا جائے تاکہ دکھ و افسردگی کے اس ماحول میں خوش رہنے کا ڈھنگ نہ بھولیں مختصر و پختہ افسانوں کی تعداد بڑھا دی جائے نیو لکھاری کی طبع آزمائی کو پوزیٹیو طریقے سے دیکھا جائے (یعنی ان کی حوصلہ افزائی)

۷) 2017ء کے آنے پر جہاں دل پھول کی طرح کھلا ہوا ہے وہاں 2016ء کے جانے کا دکھ بھی ہے ایک سال مزید ہماری زندگی سے منہا ہوگیا وہ بھی اچھے اعمال کیے بغیر افسوس ہے مگر بخدا خود سے اتنی بھی نہ امید نہیں بے شک زیادہ اچھے کام نہیں کیے مگر کچھ نہ کچھ تو اچھا کیا ہوگا (ان شاء اللہ ) مگر دکھ ہے کہ بہت زیادہ اچھا نہیں کرپائی کچھ رویوں میں ٹھہرائو نہیں آسکا یہ بھی بہت بڑا فالٹ ہے اﷲ ہمیں آگے بہت اچھا کرنے کی توفیق دے مزید کامیابیاں بھی عطا کرے آمین جب تک میم سمیہ ضیا کی دعائیں ہیں میرے ساتھ مجھے کوئی دکھ نہیں چھو سکتا (ان شاء اللہ ) اللہ ان سے میرے تعلقات اور اچھے کرے (جو لڑائیاں ہوتی ہیں کم ہو جائیں) آمین۔ اب اجازت چاہتی ہوں فی امان اللہ۔ ارے ارے رکیے بھئی حد ہوگئی ابھی ہماری گزشتہ سال کے حوالے سے گڈ میموریز تو سنتے جائیں آپ بھی ناں بس بڑے بھلکڑ ہیں۔ 

جی سماعت فرمائیں (آئے ہائے ویڈیو تو دکھائیں) کالج کلر ڈے جو ابھی 19 نومبر کو ہوا ہے اس دن ہم سب فرینڈز بڑے ذوق و شوق سے تیار ہو کے گئیں، کالج لہراتے آنچل خوب صورت مشرقی لڑکیاں واہ دیکھ کر کچھ لوگوں نے نظر لگا دی (اف یار مجھے آپ بھی ناں) ہوا کچھ یوں کے اک پیاری دوست نازیہ احسن نے مجھے بلوایا ہے عنزہ ذرا بات سننا میں گروپ کو ایکسکیوز کرتی اٹھ پڑی نیو اسکائی بلیو فراک کو نازک ہاتھوں میں تھامے دھیرے دھیرے پائوں اٹھا کر نازیہ تک پہنچی جب اس سے بات کر کے نیچے پارک میں اترنے لگی نازیہ اوپر سڑک پر کھڑی تھی جو کالج میں ہوسٹل کی جانب جاتا ہے۔ تبھی میری فرینڈز مصباح دوڑتی ہوئی آئی اور مجھ سے لپٹ گئی اس کے پیچھے رمشہ تھی جو اس سے شوارما چھین رہی تھی بس پھر کیا پکچر شروع ہوگئی ان کے دھکم پیل سے میں نیچے گلاب کی کیاری میں دھڑام اف کیا گھڑی تھی، میرا سر تو پھوٹا سو پھوٹا تو فرینڈز کا بے کراں سمندر آنا فاناً جمع ہوگیا اوپر سے میری فراک گلاب میں اٹکنے کی وجہ سے تین جگہ سے پھٹ گئی میوزک کی بھاں بھاں میں بیچاری نازک مزاج زمین کی سخت سطح پر نہ کسی کو پکار سکی اور نہ ہی کسی نے ہمت کی تبھی میرے گروپ کی علیزے ارشد جم غفیر کو پیچھے ہٹاتی مجھ تک پہنچی اور سہارا دے کر اٹھایاساتھ مسکراتی نگاہیں میرا رنگ خوامخواہ سرخ ہونے لگا دل میں فراک کے پھٹنے کا غم علیحدہ اور فرینڈز کی کھی کھی کا غم علیحدہ بہرحال یہ کچھ دیر کا ڈرامہ تھا میری زندگی کی خوب صورت پکچر بن گئی ہے جسے میں ہمیشہ یاد رکھوں گی کے کیسے میری فرینڈز نے مجھے گرا کر مزہ لیا، بہرحال زندگی کی خوب صورتی تو انہی چھوٹے موٹے ڈراموں میں ہے کہ اسٹوڈنٹ لائف تو پھر خوب صورت پیریڈ ہے لائف کا یقیناً، فی امان اللہ۔ 

کیسے ممکن تھا کسی شخص کو اپنا کرتے

آئینہ لوگ تھے کیا لوگوں سے دھوکہ کرتے

ہنستے پھرتے تھے سر بزم انا کی خاطر ہم

ورنہ حالات تو ایسے تھے کہ رویا کرتے

طیبہ عنصر مغل… راولپنڈی

۱) بہت سارے ڈر ہوتے ہیں دل میں اس لئے نیا سال امن وعافیت لے کے آئے یہ دعا ہوتی ہے۔

۲) جی بہت ساری کامیابیاں ملیں جن میں سرفہرست نعتیہ کلام پہ سند کا ملنا ہے۔

۳) الحمدللہ بہت ساری پوری ہوئی بس عمرہ پہ نہیں جاسکی یہ خواہش پوری نہ ہونے کا ملال ہے اورکچھ کتابیں پبلشنگ کے مراحل میں رہ گئی ہیںاب وہ ان شاء اللہ 2017کا حصہ بنیں گی۔

۴) اس سال سحر ساجد نے بہت متاثر کیااور نمرہ احمد اور عمیرا کی تحریر لاجواب رہیں۔

۵) ام طیفور کی تحریر نے بہت ہنسایا ماشاء اللہ کمال لکھتی ہیں۔

۶) انجم انصار،قیصرہ حیات ،سیمامناف کو پڑھنا چاہتی ہوں۔

۷) آنچل یوں تو مکمل ہے لیکن چاہتی ہوں کہ کچھ سماجی مسائل پہ زیادہ توجہ دی جائے نئی رائٹرزکے تعارف اور انٹرویوز لگائے جائیں۔

۸) یہی سوچتی ہوں بہت وقت برباد کیا جو بہت اچھے کاموں میں استعمال ہوسکتا تھا،اب جانے اس سال میں یہ مہلت ملے نہ ملے لیکن مایوس نہیں ہوتی کہ مایوسی کفر ہے اللہ تعالیٰ اس سال موقع دے گا۔

۹) بہت ساری خوب صورت یادیں ہیں میری بیٹی کی تعلیمی کامیابی اس کے پہلے افسانے کی اشاعت میرا بہت سے افسانے اور شاعری مقابلے میں اول آنا بہت سی رائٹرز کی محبتیں جن میں سر فہرست سیما مناف،قیصرہ حیات،انجم انصار ہیںاور ساری سکھیاں بشمول اقبال بانو،فاخرہ گل،صائمہ چوہدری ان کے ناول کا بھی انتظار ہے یہ سب بھی مکمل ناول لکھیں،ان سب کی پیاری باتیں بھی یادگار ہیں۔

فیاض اسحاق مہانہ… سلانوالی

٭ سال نو کی آمد پر ہمارے احساسات کچھ ملے جلے ہوتے ہیںکیونکہ ہر سال 30 دسمبر کو میرے پاپا کی برسی ہوتی ہے۔ اس لیے دسمبر کا مہینہ آتے ہی دل اداس ہوجاتا ہے اور 30 دسمبر کو یہ اداسی اور بڑھ جاتی ہے‘ سال نو کی خوشی اپنی جگہ۔

٭ میرے لیے ہر سال بہت سی خوشیاں لاتا ہے اگر آپ ہر لمحہ انجوائے کرو اور کسی کو ہرٹ نہ کرو تو اس سے بڑھ کر میں سمجھتی ہوں اور کوئی بڑی کامیابی نہیں ہوسکتی۔

٭ یہ سال پلک جھپکتے ہی گزر گیا ہے‘ شکر ہے اس ذات باری تعالیٰ کا ہر خوشی ملی جو چاہی کچھ ادھوری رہ گئی ہیں‘ ان شاء اللہ العزیز وہ 2017ء میں پوری ہوجائیں گی۔

٭ اس ستمبر کے شمارے میں عظمیٰ شاہین رفیق کا ایک ناولٹ ’’جرأتوں کے امین‘‘ نے کچھ زیادہ ہی انسپائر کیا ہے‘ ان تمام جرأتوں کے امین کو میرا سلیوٹ جو کہ اس طرح اپنی جان کی بازی لگا کر اپنے ملک کی حفاظت کررہے ہیں۔

٭ کئی ایسی تحریریں ہیں جنہوں نے ہنسنے پر مجبور کیا ہے‘ نام اس وقت یاد نہیں آرہے۔

٭ 2017ء میں نازیہ کنول نازی اور سمیرا شریف طور کے ہی ناول پڑھنا پسند کریں گے‘ یہ دونوں رائٹرز میری موسٹ فیورٹ ہیں۔

٭ سال کے اختتام پر کاسۂ عمل کے خالی ہونے پر صرف یہ ہی کہنا چاہوں گی۔

ساتھ دل کے چلے دل کو نہیں روکا ہم نے

جو نہ اپنا تھا اسے ٹوٹ کر چاہا ہم نے 

اک دھوکے میں کٹی عمر ساری اپنی

کیا بتائیں کسے کھویا کسے پایا ہم نے

٭ 2016ء کی بہت سی خوب صورت یادیں ہیں‘ اسپیشلی میرے اسکول کی یادیں‘ ہر لمحہ کوانجوائے کیا۔ اس سال جب میں اور میری فرینڈ صبا آصف جب ہم سرگودھا این ٹی ایس کے لیے گئے تو میں نے ویل کیا ہوا تھا‘ وہاں ہم اسٹیٹ دینے کے لیے گئے تھے اور شو ایسے کیا کہ جیسا میں یہاں سینٹر سپرٹنڈنٹ ہوں‘ وہاں ہر لڑکی مجھ سے کہتی تھی میم پلیز بتائیں میرا رول نمبر کہاں ہے اور میں سب کو گائیڈ کرتی رہی‘ جب پیپر کا ٹائم ہوا تو مجھے میرا رول نمبر نہ ملا اور ٹائم اسٹارٹ ہوگیا پھر وہاں ایک سر نے مجھے میرے مطلوبہ رول نمبر تک پہنچایا جب میں وہاں پہنچی تو خیر سے چیئر پر رول نمبر نہیں تھا۔ فائنلی تھک ہار کر سر نے کہا کہ بیٹا آپ اسی چیئر پر بیٹھ جائو۔ یہ واقعہ جب بھی یاد آتا ہے تو خوب ہنسی آتی ہے۔ آخر میں میری طرف سے تمام قارئین کو دل کی گہرائیوں سے سال نو بہت بہت مبارک ہو۔ رب ذوالجلال یہ سال آپ سب کے لیے خوشیوں کا گہوارہ بنادیں‘ آمین۔

پروین افضل شاہین… بہاولنگر

اللہ کرے یہ نیا سال امت مسلمہ کے لیے مبارک ثابت ہو۔

٭ وہ کامیابی میں نے صرف اپنے میاں جانی پرنس افضل شاہین سے شیئر کی ہے۔

٭ اولاد کی نعمت سے محروم رہی‘ امید ہے اللہ تعالیٰ 2017ء میں میری گود ضرور بھردے گا۔

٭ رفعت سراج نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔

٭ فاخرہ گل۔

٭ نازیہ کنول نازی اورصائمہ اکرم چوہدری کے مکمل ناولز۔

٭ 2017ء میں آنچل میں یہ تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کے ہر مستقل سلسلے میں انعامات دیئے جائیں۔

٭ دل کو تمہاری چاہ ہوگئی ہے

تم سے چاہت بے پناہ ہوگئی ہے

آبیٹھے ہو تم میری آنکھوں میں

حسین تر میری نگاہ ہوگئی ہے 

٭ 2016ء کی خوب صورت یادیں یہ ہیں کہ ہمیں پورا سال حجاب باقاعدگی سے پڑھنے کو ملتا رہا اور میں اپنے میاں جانی پرنس افضل شاہین کو خوب بے وقوف بناتی رہی اور وہ بے چارے ہر وقت بے وقوف بنتے رہے۔

مدیحہ نورین مہک… گجرات

٭ السلام علیکم! سب سے پہلے قارئین کو نیا سال بہت مبارک ہو۔ سال نو کی آمد پر بہت اچھے احساسات ہوتے ہیں‘ انوکھی سی خوشی ہوتی ہے۔نئے سال کے پہلے دن ایسا لگتا ہے جیسے کہ ایک نئی زندگی کی شروعات ہو۔ یکم جنوری کو میری سالگرہ ہوتی ہے اور اس طرح نیا سال میرے لیے ڈبل خوشی کا باعث بنتا ہے‘ خوشگوار احساسات ہوتے ہیں۔

٭ یہ سوال تو بہت اچھا ہے اس سال کی کامیابی جس نے میرے قدم چومے اور وہ میری توقع سے بڑھ کر تھی وہ کامیابی یہ تھی کہ میں نے بی اے کاایڈمیشن خود بھیجا اور خود ڈیٹ شیٹ آئی تب تیاری شروع کی‘ کوئی اکیڈمی نہیں رکھی کسی سے گائیڈنس نہیں لی یہاں تک کہ فارسی اور اسلامیات کا پیپر دینے گئی تو پتا چلا کہ سلیبس تو بدل چکا ہے اور میرے ہوش اڑ گئے‘ پر پیپر پورا کرکے آئی۔مجھے امید نہیں تھی کہ کسی ایک بک میں سے پاس ہوں گی کیوں کہ سنا تھا بی اے کی انگلش بہت مشکل ہوتی ہے پر جب رزلٹ آیا میری سیکنڈ ڈویژن تھی‘ دل کرے ناچوںہائے وہ دن کبھی نہیں بھولے گا مجھے۔

٭ 2016ء میں جتنے کام سوچے تھے سب پورے ہوئے‘ سب امیدیں پوری ہوئیں‘ کوئی کام ادھورا نہیں رہا۔

٭ ماشاء اللہ آنچل کی تمام رائٹرز بہت اچھا لکھتی ہیں اور ایسا لکھتی ہیں جو پڑھنے والے کو تفریح کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ سیکھنے کو بھی ملتا ہے اور یہاں ایک رائٹر کا نام لکھنا نا انصافی ہوگی۔

٭ وہ تمام رائٹرز جو ہمارے چہرے پر ہنسی لانے کے لیے اپنے قلم کو حرکت میں رکھتی ہیں ان سب کی تحاریر بہت اچھی ہوتی ہیں‘ اس سوال میں بھی کسی ایک کا نام لکھنا مناسب نہیں۔

٭ 2017ء میں عائشہ نور محمد‘ نایاب جیلانی‘ نمرہ احمد‘ ام مریم کے مکمل ناول پڑھنا چاہتی ہوں کیوں کہ مجھے ان کی تحاریر بہت پسند ہیں اور ان کے موضوعات بھی بہت عمدہ ہوتے ہیں۔

٭ 2017ء میں آنچل میں یہ تبدیلی دیکھنا چاہتی ہوں کہ وہ رائٹرز جو آنچل میں نہیں لکھتیں‘ گزارش ہے کہ ان کو بھی آنچل کے رائٹرز کے طورپر شامل کریں پلیز اور باقی آنچل بہت اچھا ہے اور کوئی تبدیلی نہیں چاہیے۔

٭ سال کے اختتام پر یہ سوچتی ہوں کہ آنے والا سال زندگی میں نجانے کتنی تبدیلیاں لائے گا اور اس سال کی خوشیاں نئے سال میں ہوں گی کہ نہیں‘ کاسۂ عمل کے خالی ہونے پر یہ سوچتی ہوں کہ نئے سال کے آغاز پر ان شاء اللہ کاسۂ عمل میں ایسے اعمال اکٹھے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کے حق دار ہوں گے۔ 

٭ 2016ء کی خوب صورت یادیں تو بہت سی ہیں ایک بی اے کا رزلٹ تھا جو اوپر لکھ چکی ہوں اور بہت سی ایسی یادیں ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اور بھی خوب صورت ہوجاتی ہیں۔ اسکول میں گزرنے والا ہر دن ہر لمحہ خوب صورت اور یادگار ہوتا ہے ‘ بریک ٹائم ایک دوسرے کو تنگ کرنا اور ایک دوسرے کی چیزیں چھپانا یہ دن بہت یادگار ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

ارم کمال… فیصل آباد

٭ وقت کتنی تیزی سے گزرتا جارہا ہے‘ سال نو کی آمد پر بے اختیار منہ سے نکلتا ہے ’’ارے اتنی جلدی نیا سال آگیا‘ ابھی کچھ پہلے ہی 2016ء شروع ہوا تھا‘‘ ساتھ ہی گزرے سال کی ساری باتیںذہن میں دوڑنے لگتی ہیں۔

٭ ہماری ساری کامیابیاں آس پاس رشتوں سے مشروط ہوتی ہیں‘ جیسے گزرے سال 2016ء میں میری بیٹی صبیحہ کمال نے میٹرک کے امتحان میں نمایاں نمبر لے کر سیروں خون بڑھادیا۔ بچوں کی کامیابی اپنی کامیابی ہی لگتی ہے کام تو جب تک زندگی ہے ختم نہیں ہوتے جو کام رہ گئے وہ اب اگلے سال یعنی 2017ء میں ہی ہوں گے جن میں سرفہرست گھر کو رینوویٹ کروانا‘ رسالوں میں دلجمعی سے لکھنا‘ ادھوری کہانیاں مکمل کرنا وغیرہ وغیرہ۔

٭ اس سال میرے زیر نظر مستنصر حسین تارڑ رہے‘ میں ان سے بہت متاثر ہوں جو اُن کی کتاب پڑھتا ہے وہ کتاب کے منظر میں خود کو پاتا ہے۔

٭ ویسے تو کئی مصنفات ہیں جن کی تحریر ہنسنے پر مجبور کردیتی ہے جن میں انجم ابصار کے علاوہ فاخرہ گل کی تحریر میں بھی ہنسنے ہسنانے کے کافی عناصر پائے جاتے ہیں۔

٭ 2017ء میں ہم انہی مصنفات کو پڑھنا چاہیں گے جن کو 2016ء میں پڑھا جیسے نازیہ کنول نازی‘ صدف آصف‘ نگہت عبد اللہ‘ فاخرہ گل اور عنیقہ محمد بیگ وغیرہ۔ اس کے علاوہ جو اچھی چونکا دینے والی تحریر ہوں گی ہم وہ سب پڑھنے کے مشتاق رہیں گے۔

٭ 2017ء میں بھی ہم اپنے آنچل کو ایسے ہی سجا سنورا دیکھنا چاہیں گے کیونکہ آنچل میں کوئی کمی نہیں ہے بس ذرا ٹائٹلز پر دھیان دیا کریں کبھی کبھی بہت ہی بور اور ڈل ٹائٹل ہوتے ہیں۔ ہماری شان اور آن ہمارے پیارے آنچل کی مرہونِ منت ہے۔

٭ گزرے سال کے آخری لمحے اور نئے سال کے پہلے لمحے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور یہ احساس دل تڑپا کر رکھ دیتا ہے کہ ہم دنیا کے لیے کتنی پلاننگز کرتے ہیں‘ یہ کرنا ہے ‘ یہاں جانا ہے‘ یہ خریدنا ہے لیکن جو ہمارا ابدی گھر ہے جہاں ہمیں ہمیشہ رہنا ہے اس کے لیے ہم کوئی پلاننگ نہیں کرتے یہ سوچ کر دامن اشکوں سے تر ہوجاتا ہے۔

٭ گزرے سال کئی خوشگوار یادیں ہیں اگر وہ ساری شیئر کرلیں تو سارے آنچل میں ہم ہی ہم ہوں گے۔ اس لیے تھوڑی سی یادیں میں ضرور شیئر کرنا چاہوں گئی۔ میں اس سال نانی کے عہدے پر فائز ہوئی اور یہ میرے لیے بہت بڑی اور میٹھی خوشی ہے‘ پیارے سے فوزان نے آکر میرا رتبہ بڑھایا۔ فوزان کی پیدائش کراچی میں ہوئی اس لیے ہم سارے ریل گاڑی کے ذریعہ کراچی آئے‘ احمد اور طیبہ نے ریل گاڑی کے سفر کو بہت انجوائے‘ مئی کے مہینے میں تقاریر کے مقابلے میں‘ میںنے اور صبیحہ نے اول انعام حاصل کیا۔

انیلہ طالب… گوجرانوالہ

٭ میرے احساسات دوسرے لوگوں سے کافی ہٹ کے ہوتے ہیں۔ دوسروں کو نیا سال آنے کی خوشی ہوتی ہے اور مجھے اس بات کا غم کہ میری زندگی کا ایک اور قیمتی سال آناً فاناً بغیر کچھ اچھا کیے گزر گیا۔ اس کے علاوہ ویسے بہت سی امیدیں بہت سے خواب بھی نئے سال کے موقع پر پلان کرتی ہوں۔ سچی بات تو یہ ہے مجھے نئے سال کی خوشی کم اور غم زیادہ لگتا ہے مگر اس سال میں میری بہت سی کامیابیاں میرے کمرپر شاباش اور حوصلہ دیتی نظر آرہی ہیں‘ ملے جلے جذبات ہیں۔

٭ الحمدللہ! اس سال مجھے خدائے لم یزل نے بہت سی کامیابیاں عطا کیں چند ایک مہینوں کے ہر مہینے میں ایک بڑی کامیابی میرا مقدر بنی جیسا کہ 18 جنوری کو میری پی ٹی وی ہوم پر مارننگ ودھ جگن میں اداکار و ماڈل آپی جگن کاظم سے بات ہوئی انہیں میں نے نظم سنائی ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے انہوں نے میری اتنی حوصلہ افزائی کی کہ مجھے بہت ہی اچھا لگا۔ فروری میں میں نے حضرت قبلہ ابو دائود محمد صادق صاحب کی مختصر سوانح حیات کو نظم کی شکل میں ترتیب دیا‘ 130 سے زائد اشعار‘ مارچ میں میں نے خوشحال پاکستان پراجیکٹ بنایا۔ اپریل میں مجھے ماہنامہ تعلیم و تربیت میں کہانی لکھنے پر دوسری پوزیشن ملی۔ مئی میں میرا ناول دعا تقدیر بدل دیتی ہے‘ مکمل ہوا جبکہ 26 مئی کو میری دوبارہ آپی جگن کاظم سے بات ہوئی۔ 18سال 4 ماہ کی عمر میں میں نے پی ٹی وی کے لیے ایک ڈرامہ اور ایک پروگرام اسکرپٹ لکھا‘ مارچ میں ماہنامہ پھول میں مختلف سلسلوں میں حصہ لیا۔جولائی کے مہینے سے چند روز قبل میرا ناول شائع ہوا‘ اگست میں ماہنامہ پھول میں میرا لطیفہ ٹاپ آف دی لسٹ دیا جبکہ ستمبر اور اکتوبر کے درمیان میں نے مائیکرو سافٹ کے بانی مسٹر بل گیٹس کو لیٹر لکھ کے امریکہ بھیجا۔ نومبر کا مہینہ خالی رہا جبکہ دسمبر کی آج 2 تاریخ ہے یاد آیا 30 نومبر کو انکل شعرزا‘ ایڈیٹر پھول و صور پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی کی جانب سے اے پی ایس کے شہدا اور زخمی لوگوں کے لیے کارڈ بنانے پر شکریہ اور حوصلہ افزائی کا خط موصول ہوا۔ یہ کامیابیاں بھلے چھوٹی موٹی ہی ہیں مگر میری زندگی میں ان کی بہت اہمیت ہے۔ عمیرہ احمد کے بقول یہ میری زندگی کا پہلا قدم ہے اور پہلا قدم اٹھائے بغیر چلا بھی تو نہیں جاتا‘ آپ سب کی کامیابیوں کے لیے بھی تہہ دل سے رب کے آگے دعا کرتی ہوں‘ آپ بھی اپنی دعائوں میں یاد رکھیں۔

٭ بہت سی امیدیں پوری ہوئیں یہ سال میری زندگی کا کامیاب ترین سال رہا۔ ترجمہ دوبارہ ریپیٹ کرنا 2017ء پہ موقوف ہوا‘ اس کے علاوہ بہت سی خواہشات مکمل ہوئیں۔

٭ ماہنامہ آنچل میں تو مجھے فاخرہ گل نے مجھے بے حد متاثر کیا۔

٭ دو تین چند ایسی تحریریں ہیں پر فی الحال ذہن میں نہیں آرہا‘ آپی صائمہ قریشی کا اناڑی پیا بھی اس فہرست میں شامل ہے۔

٭ میں آپی عمیرہ احمد‘ آپی فاخرہ گل‘ آپی سباس گل‘ آپی نبیلہ ابر راجا اور آپی عائشہ نور محمد کو پڑھنا چاہوں گی بالخصوص آپی عمیرہ کو۔

٭میں چاہتی ہوں کہ نو آموز لکھاری جنہیں ہم دیگر رسائل میں بھی پڑھتے رہتے ہیں ان کا انٹرویو بھی اس میں شامل ہو اور وہ خود سے سوال بنائیں اور خود ہی جواب لکھیں۔ اصل میں نئے رائٹرز اپنی منزل کی طرف بڑی سختیاں جھیل کے آتے ہیں‘ ہمیں ان کی منزل تک پہنچنے تک ان کی ہمت بندھانی چاہیے کیونکہ ایک پختہ ادیب تو اپنی جگہ آپ بنالیتا ہے مگر ننھے منھے ادیب پیچھے رہ جاتے ہیں ان کے لیے آنچل ایک پلیٹ فارم کی طرح ہونا چاہیے۔اس میں نئی رائٹرز کو بھی بھرپور موقع ملنا چاہیے‘ کسی بڑی رائٹر کا انٹرویو شامل ہو تاکہ لوگ ان سے سیکھیں۔

٭ یہ بات تو کافی تکلیف دہ ہے کہ ہماری قیمتی زندگی کا سال پانی کے بلبلے کی مانند ختم ہوگیا اور ہم غافل رہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل اگر ساتھ ہو تو ہی ہم بخشے جاسکتے ہیں ورنہ تو کاسۂ عمل نیکیوں سے خالی ہے۔ اس پروردگار سے رحم کی التجا ہے۔

٭ بہت سی ہیں لیکن ایک یاد تو جب بھی آتی ہے بے اختیار مسکراہٹ آجاتی ہے۔ ایک بار میں اور مما صحن میں بیٹھی تھیں چپ کرکے‘ ہمارے گائوں سے ایک عورت آئی ہمارا موبائل فون خراب ہوگیا تو ہم نے اسے دیا کہ یہ ٹھیک کروادو۔ آپ کا شوہر تھوڑا بہت دیکھ جو لیتا ہے وہ پنجابی میں بولی‘ اے فون تے ہماری جے کل میرے ویر دا فون آیا تے بار بار کوئے (بولے) تے میں آکھاں ہودے‘ انج ای پئیا کوندا ای۔ اگے وی کدی کدی کوندا اے تے میں آکھیا ادا تے کم اے بالاں تیرا (طرح) رولا پانا‘ میں اور ماما تو ہنس ہنس کے دہرے ہوگئے۔ سچ ہے زندگی میں کچھ لوگ اتنے بھولے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی معصومیت کا بھی پتا نہیں ہوتا‘ دوسرا واقعہ یہ کہ ایک دفعہ ابو جی سے ملنے کوئی آدمی آیا۔ ایک بچے نے آکے بتایا کہ ان سے کوئی ملنے آیا ہے تو میں نے اسے کہا کہ جاکے ابو جی سے کہو ایک آدمی آیا ہے باہر‘ اس کے دو کان ہیں‘ دو آنکھیں اور ایک ناک۔ آپ سے ملنے آیا ہے‘ اس بچے نے اس قدر معصومیت سے جاکر ابو جی کو بتایا کہ وہ تھوڑے پریشان ہوگئے اور کہنے لگے ’’ہیں وہ کون سا آدمی ہے؟‘‘ ہم سب کے لیے یہ یادگار واقعات بڑے دلچسپ اور خوشگوار رہے۔

سلمیٰ عنایت حیا کھلابٹ ٹائون شپ

٭ سال نو کی آمد پر خوشی و غم سے ملے جلے احساسات و جذبات ہوتے ہیں۔ خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ میرے اللہ تعالیٰ نے ہمیں گزشتہ سال کسی بڑی مصیبت سے بچائے رکھا اور میرے اپنے میرے ساتھ ہیں اور سال نو کی آمد پر بچھڑے ہوئے لوگ یاد آتے ہیں جو ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ نجانے آنے والے سال میں کون ہم سے بچھڑ جائے‘ ساتھ ہی ساتھ دعا بھی کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ آنے والے سال کو ہمارے لیے بہتر بنائے۔

٭ واہ جی واہ ! کیا سوال پوچھ لیا‘ میں تو کھوگئی ہوں اس سال ایک بہت بڑی کامیابی جس نے میرے قدم چومے وہ یہ ہے کہ میں نے ایف ایس سی کے امتحانات دیئے ہیں اس دوران میری ماں جان بہت بیمار رہتی تھیں میں جب بھی امی کی خدمت کرتی تو دعائیں دیتی۔ کہ میرا رزلٹ بہت اچھا آئے ہوا یوں ایک دن پاپا کو بورڈ سے کال آئی کہ مبارک ہو‘ سلمیٰ کی پوزیشن آئی ہے بورڈ میں اور اس کا اسکالر شپ بھی ہے دوسال کے لیے۔ یہ وہ کامیابی ہے جو مجھے میری امید سے بڑھ کر ملی ‘ کامیابی تو یقینی تھی مگر پوزیشن کا نہ سوچا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے الحمدللہ مجھے میری ٹیچرز خصوصاً مس عاجلہ اور مس صوبیہ اور والدین کی دعائوں نے ٹاپ 20 میں پوزیشن عطا کی۔

٭ 2016ء میں جو امیدیں تھیں‘و ہ ماشاء اللہ ساری کی ساری پوری ہوئیں بلکہ بہت کچھ ایسا بھی ملا جو میری امید سے بڑھ کر تھا اس لیے کوئی ایسا کام نہیں ہے جو 2017ء پر موقوف ہو۔

٭ ماشاء اللہ سے آنچل کی تمام مصنفین بہت ہی اچھا لکھ رہی ہیں‘ تمام مصنفین نے نہ صرف ہمیں متاثر بلکہ ہمیں مطمئن بھی کیا۔ انہوں نے اپنے لفظوں کی حلاوت‘ شگفتہ اور شیریں لہجے میں ہمیں زمانے کے‘ زندگی کے ‘ بہت سے نشیب و فراز سے آگاہ کیا کسی ایک کا نام نہیں لے سکتی کیونکہ سب نے ہی خوب لکھا۔

٭ اس سال کس مصنفہ کی تحریر نے ہنسنے پر مجبور کیا تو جناب مجھے اس وقت یاد نہیں آرہا۔

٭ 2017ء میں میری خواہش ہے کہ حرا قریشی اپنے ناول کے ساتھ حاضر ہوں‘ میں ان کا ناول پڑھنا چاہتی ہوں۔

٭ میرا آنچل جیسا ہے ویسا ہی رہے کیونکہ آنچل ماشاء اللہ بہت ہی اچھا اور صاف ستھرا‘ تفریح سے بھرپور رسالہ ہے۔ بس دعا ہے کہ آنچل کو اللہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا کرے۔

٭ سال کے اختتام پر زندگی سے ایک سال منہا ہونے اور کاسۂ عمل کے خالی رہنے کی وجہ سے میں اپنا محاسبہ ضرور کرتی ہوں پھر اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگتی ہوں اور آنے والے سال میں خدا کو حاصل کرنے کی سوچ ہوتی ہے۔ اپنی سوچ میں‘ میں اپنا ہی محاسبہ کررہی ہوتی ہوں کہ میں نے کیا کچھ کیا؟ کتنے لوگ مجھ سے خوش ہوئے پھر دل میں پہلے سب سے معافی مانگنے کا ارادہ کرتی ہوں اور اپنی ساری فیملی سے جو سال بھر میرے قریب رہے تو میں ان سے معافی مانگتی ہوں ساتھ ہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نئے سال کو ہمارے اور ہمارے ملک کے لیے کامیابی و کامرانی کا سال بنادے‘ آمین۔

٭ ہر وہ لمحہ جس میں میرے اپنے مجھ سے خوش نظر آتے ہیں تو وہ لمحہ میرے لیے خوب صورت و حسین یاد بن جاتا ہے جو دل پر اپنے نقش چھوڑ دیتا ہے۔ 2016کی ایسی بہت سی یادیں ہیں جو میں قارئین کے گوش گزار کرنا پسند کرتی ہوں‘ وہ لمحہ جب میری پوزیشن کی خبر ملی تو میرے والدین کے چہرے پر جو خوشی و مسرت کے جگنو چمک رہے تھے وہ میں کبھی نہیں بھول سکتی‘ جب میرے پاپا نے سب سے پہلے فرطِ محبت میں مجھے گلے سے لگایا‘ ماتھے پر بوسہ دیا‘ ڈھیروں دعائیں دیں پھر امی نے پیار کیا اور دعائیں دیں۔ میری پھوپو‘ بہن بھائی اتنے خوش کے بیان سے باہر‘ میں نے پھر کہا دعا کرو اللہ آخرت میں بھی ایسی ہی بلکہ اس سے بڑھ کر کامیابی دے۔ وہ دن جب میری ٹیچرز‘مس صوبیہ اور مس عاجلہ نے میری حوصلہ افزائی کی اور بے شمار دعائوں سے نوازا۔ مس عاجلہ کی ایک بات جو اکثر میرے کانوں میں گونجتی ہے سلمیٰ! اﷲآپ کو ہر موڑ پر کامیاب کرے‘ ٹیچر نے مجھے یہ بھی کہا تھا کہ سلمیٰ آپ تو بہت حساس ہیں۔ اس کے علاوہ میری پیاری کزن زبیر ماموں کی بیٹی نائمہ جو میری گڑیا تھی‘ اللہ نے دی اور سات ماہ کے بعد لے لی۔ 18 نومبر 2016ء کو فوت ہوئی‘ میری کزن میرے بہت قریب تھی اس کی بڑی بڑی آنکھوں کا مجھے دیر تک تکنا‘ مجھے دیکھ کر مسکرانا ‘ رو رہی ہوتی تو مجھے دیکھ کر مسکراتی۔ اس کی چھوٹی چھوٹی معصوم و دلکش حرکات جو میرا دل موہ لیتی تھیں‘ اس کے جانے کے بعد میرے لیے ایک یاد بن گئیں‘ نائمہ کے لیے ایک شعر کہ ہم نائمہ کو بھول نہیں پارہے۔

بچھڑ جائیں گے ہم لیکن

ہماری یاد کے جگنو

تمہاری شب کے آنچل پر

ستارے بن کے چمکیں گے

فزینہ طاہر… سرائے عالمگیر

سال نو کی آمد پر اس بار تو کوئی احساسات نہیں ہیں جو آپ سب سے شیئر کروں۔

آتے جاتے سال نئے برس کی ابتدا ہے

گئے برس کی انتہا ہے نئے غموں کی آمد ہے

گئے غموں کا خاتمہ ہے ایسے آتے جاتے

سالوں سے ہم بھلا کیا آس لگائیں گے

٭ اس سال کوئی ایسی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ‘ کوئی ایسی خوشی حاصل نہیں ہوئی جس سے انسان خوش ہو ‘ اس سال تو صرف پریشانیوں نے پیچھا کیا۔

٭ 2016ء سے جو میری امیدیں تھیں سب ادھوری ہیں‘ کوئی خواہش پوری نہیں ہوئی‘ سب امیدیں ٹوٹ گئیں اور شاید پوری بھی نہ ہو اور جس امید نے پورا نہیں ہونا اس کا پیچھا کرنے کا فائدہ ہی کیا۔ ارے بھئی جتنی بھی پریشانی ہو میں ٹینشن کو سرپر سوار نہیں کرتی۔

کسی بھی حالت میں اپنا

حوصلہ مت چھوڑو

کیونکہ لوگ گرے ہوئے

مکان کی اینٹیں بھی اٹھا کر لے جاتے ہیں

٭ ارے جی اس سال تو مجھے (باقی سب کا پتا نہیں) جس مصنفہ نے متاثر کیا وہ ہے ہما عامر جی ان کی تحریر ’’گمشدہ رشتے‘‘ بہت اچھی تھی۔

٭ او جی وہ کہانی عفت سحر طاہر کی ہے‘ پورا دکھ اور آدھا چاند پڑھی تو سبین کی شرارتوں پر خوب ہنسی تھی۔

٭ 2017ء میں سمیرا شریف طور اور عفت سحر طاہر کا مکمل ناول پڑھنا چاہوں گی۔

٭ 2017ء میں آنچل ڈائجسٹ میں ہم تو ایک ہی تبدیلی چاہیں گے‘ آنچل ڈائجسٹ کو اتنا موٹا کردیں کہ میں جتنا بھی پڑھوں بس یہ ختم نہ ہو اور تو اللہ کا شکر ہے آنچل ڈائجسٹ ہر لحاظ سے مکمل ڈائجسٹ ہے۔

٭ پہلے تھی پر اب کچھ نہیں رہا‘ کوئی احساس نہیں‘ کوئی سوچ نہیں‘ کوئی خوشی نہیں۔ 2016ء میں تو میرے لیے کچھ اچھا نہیں ہوا‘ جس سے کوئی سوچ رکھی جائے بس دعا ہے کہ…

خدا کرے کہ یہ نیا سال

ہمارے (تیرے) دامن میں وہ

سارے پھول کھلادے

کہ جن کی خوشبو نے ہمارے

خیال میں شمعیں جلائے رکھی تھیں

٭ 2016ء کی یادیں نہ ہی بیان کروں تو اچھا ہے‘ یہ سال میرے لیے کوئی خوشی نہیں لایا۔ 

اگر یادیں ریت ہوتیں تو کیا خوب ہوتا محسن

مٹھی سے نکل جاتیں میں پیروں سے اڑا دیتا

اقراء ماریہ… برنالی

کچھ خاص نہیں بس روٹین کے لحاظ سے ہی ٹائم گزرتا ہے۔

٭ کامیابی تو ایسی کوئی بھی نہیں ملی لیکن ایک سانحہ ایسا ہوا جس نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا اور 28 اگست 2016ء کو میری امی جان کا انتقال۔

٭ 2016ء سے کوئی بھی ایسی امیدیں نہیں رکھیں‘ بس یہی سوچ ہوتی ہے کہ جو جیسا ٹائم آئے گا دیکھا جائے گا اور کام جو 2016ء میں ہونے تھے ہوگئے اور جن کا ہونا ہی 2017ء میں تھا وہ پیچھے رہ گئے اور اب ان شاء اللہ جو روکے ہوئے ہیں وہ 2017ء میں ہوجائیں گے‘ خود سے تو کوئی بھی کام 2017ء کے لیے موقوف نہیں کیے۔

٭ سلمیٰ غزل‘ رفعت سراج اور حرا قریشی کی تحریروں نے بے حد متاثر کیا۔

٭ ایسی تو کوئی تحریر یاد نہیں ہے۔

٭ عائشہ نور محمد اور سمیرا شریف طور کے مکمل ناول پڑھنا چاہوں گی۔

٭ نہ جی نہ کوئی بھی تبدیلی نہیں چاہیے‘ ہمیں آنچل جیسا ہے‘ چل رہا ہے ہمارا آنچل بیسٹ ہے‘ بہت اچھا ہے۔ بس صفحات بڑھا دیں۔

٭ سال کے اختتام پر زندگی کے ایک سال کے کم ہونے پر دکھ بھی ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کا ایک اور سال کم ہوگیا اور ہم نے کوئی بھی ایسا عمل نہیں کیا جس سے آخرت میں سر اٹھا کر دربار الٰہی میں حاضر ہوسکیں پھر یہ سوچ تھوڑی مطمئن کرتی ہے کہ دعا کرتی ہوں کہ آنے والے سال میں ہم اچھے اچھے اعمال کریں۔

٭ 2016ء کی خوب صورت یادیں آہا… 28 اگست 2016ء سے پہلے کا وقت بہت یاد آتا ہے‘ یہ وقت بہت یادگار ہے اور بہت یاد آتے ہیں امی کے ساتھ بیتے ہوئے پل۔

نورین مسکان سرور… سیالکوٹ‘ ڈسکہ

٭ بھئی سیدھی سی بات ہے‘ میری زندگی میں سسرال نامی کوئی چیز نہیں ہے تو میں نابلد ہوں۔

٭ محبتیں اور مسکراہٹیں‘ ساری کائنات مسکراتی ہوئی نظر آتی ہے۔ میرے معمولات میں زیادہ تر مرد حضرات کے استری شدہ کپڑے دوبارہ سے استری کرنا ہی شامل ہوتا ہے۔

٭ بازار جانے کو جلد تیار ہوجاتی ہوں کیونکہ میں نے کبھی بازار جانے کو تیار ہونے کی زحمت نہیں کی بلکہ کوشش ہوتی ہے کہ تیار ہونے کا تکلف ہو ہی ناں‘ بازار میں ہمارے معاشرے کے مردوں کی نگاہیں مجھے بہت بری لگتی ہے البتہ میں ہر فنکشن پر نہایت دلجمعی سے تیار ہوتی ہوں‘ مجھے تیار ہونا بہت اچھا لگتا ہے۔

٭عید کی شاپنگ عموماً ابو جان کی جیب کا بوجھ ہوتی ہے مگر میں چونکہ ایک عید پر تین سے چار سوٹ لینے کی عادی ہوں تو صرف ایک سوٹ پاپا کی جیب سے باقی خود ہی لے لیتی ہوں۔

٭ خاص تو نہیں ویسے اکثر استغفر اللہ کی تسبیح کرتی ہوں۔ مجھے قرآن پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے اور وہ بھی رمضان المبارک میں‘ روزے کی حالت میں۔ سچ میں لگتا ہے میں حقیقت میں سانس لینے لگتی ہوں ورنہ تو دل مردہ ہی رہتا ہے۔

٭ میرے سر عموماًڈریسز کی تیاری ہوتی ہے۔

٭ مجھے فراک زیادہ پسند ہے‘ ویسے زیاہ شلوار قمیص ہی پہنتی ہوں ویسے میرا ڈریس بہت خاص ہوتا ہے اور میری تیاری اس سے دوگنا آگے۔

٭ امی‘ ابو ‘ چاچو اور چچی بلکہ فیملی کے ہر فرد کے ساتھ ہی شاپنگ کرتی ہوں۔

٭ الحمدللہ ہم جوائنٹ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اور ہماری ہر چاند رات فسوں فیز ہوتی ہے۔ ہم جولیاں‘ سکھیاں‘ راز داں اور بہنیں‘ ہم سب کزنز ہی سب کچھ رہتی ہیں‘ ساری رات مہندی اور ہلے گلے میں گزار دیتے ہیں۔

٭ ایسا کچھ نہیں آتا‘ پھوہڑ نمبر ون ہوں اس لیے اتنا ہی کہوں گی کہ عید کے دن محبتوں کے خلوص دل کی طشتری میں اپنوں کو پیش کریں‘ ہر ٹپ پر بازی لے جائیں گی قسم سے‘ دعائوں میں یاد رکھنا‘ اللہ حافظ۔

ڈاکٹرشمائلہ خرم …اسلام آباد

۱۔ سال نو کی آمد پر میری کوئی خاص فیلنگز نہیں ہوتی کیونکہ جہاں سال نو کی آمد کی خوشی ہوتی ہے وہی ایک سال گزر جانے کا غم بھی ہوتا ہے کیونکہ سال کے ختم ہوتے ہی حیات زند گی کی دیوار سے ایک اینٹ گر جاتی ہے۔

۲۔ جی گریجویشن بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا جو کے توقع سے بڑھ کر ہے۔

۳۔ ۶۱۰۲ سے بہت سی امیدیں وابستہ تھی کچھ پوری ہوئی اور کچھ ادھوری ہے امید ہے وہ بھی اپنے مقرر وقت پر پوری ہو جا ئے گی کیونکہ اللہ نے ہرکام کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔

۴۔ کسی ایک کا نام تو نہیں لکھ سکتی۔

۵۔ فاخرہ گل کی ف سے فیس بک اور ع سے عید نے مسکرانے پر مجبور کر دیا۔

۶۔ ۲۰۱۷ میں فاخرہ گل‘ صدف آصف کے مکمل ناول پڑھنا چاہتی ہوں۔

۷۔ آنچل میں کوئی خاص تبدیلی نہیں بس اتنا ضرور کہوں گی کہ نئے لکھاریوں کو بھی جگہ دی جائے۔

۸۔ زندگی کو سال ہی نہیں ہر گزرتا دن بھی کم کرتا ہے اس لیے دعا ہے کے جو پل ۲۰۱۶ میں غفلت میںگزرے اس بار ہر لمحہ ذکر الٰہی میں گزرے۔

۹۔ گزرنے والہ سال الحمدللہ بہت خوشگوار گزرا۔ ماشاء اللہ سب سے بڑی خوشی بھانجے اور بھتیجے کی صورت میں ملی۔ دعائوں میں یاد رکھیے گا۔ اللہ حافظ

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close