Aanchal Feb-17

ہمارا آنچل

ملیحہ احمد

سوفی خان

آنچل کی تمام پیاری پیاری قارئین اور رائٹرز کو محبتوں اور چاہتوں بھرا سلام قبو ہو۔ جناب مجھے کہتے ہیں سوفی خان! ہم بھرپور سردی کے موسم یعنی یکم دسمبر 1997ء کو پیارے سے گائوں چھتروہ میں جلوہ افروز ہوئے۔ ہم سات بہن بھائی ہیں‘ ماشاء اللہ ۔ میں اکلوتی ہوں اور چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن اور رانی خان اور ارتقی غزل کی چہیتی دوست ہوں۔ کیا خیال ہے پسندو ناپسند کی بات ہوجائے‘ سب سے پہلے میری فیورٹ شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور فیورٹ کتاب قرآن مجید ہے۔ رنگوں میں مجھے فیروزی‘ اسکائے بلیو‘ بلیک اور پنک پسند ہیں۔ کھانے میں بریانی اور شامی کباب کی دیوانی ہوں‘ خوشبو گیلی مٹی کی بہت زیادہ پسند ہے اس کے علاوہ بلیو لیڈی‘ ہیوک اور ایکسیا پسند ہے۔ کرکٹ جنون کی حد تک پسند ہے اور ما شاء اللہ بہت اچھا کھیل بھی لیتی ہوں (آہم)۔ فیورٹ پلیئر جنید خان ہیں‘ فیورٹ ایکٹر شاہد کپور اور ایکٹریس کترینہ کیف ہیں ۔ ہر انسان کی طرح خوبیاں اور خامیاں مجھ میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ میرا شمار بھی ان لوگوں میں سے ہے جو ایک مرتبہ ٹھوکر کھاکر سنبھلتے ہیں اور میں سمجھتی ہوں یہی میری سب سے بڑی خوبی ہے (میری نظر میں تو یہ خوبی ہی ہے‘ آپ کا اس بارے میں کیا فیصلہ ہے ضرور بتایئے گا)۔ میری کوشش ہوتی ہے اگر کسی سے ملاقات ہوجائے تو اس سے خلوص و محبت سے بات کروں تاکہ وہ بندہ مجھے ہمیشہ یاد رکھے۔ خامی یہ ہے کہ غصہ جلدی آتا ہے اگر کوئی غلط بات کرے تو پھر غصے کو کنٹرول کرنا میرے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ اپنے والدین ‘ اپنے بھائیوں اور اپنی سویٹ فرینڈز سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں۔ رانی خان اور ارتقی غزل میری بچپن کی سہیلیاں ہیں‘ میری دکھ سکھ کی ساتھی اور میری راز دان۔ اس کے علاوہ میری دو فرینڈز ہیں جویریہ اور فاطمہ‘ ہائے فرینڈز کیسی ہو؟ (منہ تو بند کرو یار مکھی گھس جائے گی‘ ہاہاہا)۔ نومبر کے شمارے میں شہناز اقبال نے کہا تھا کہ اگر کوئی ان سے دوستی کرنا چاہے تو ‘ جناب ہم آپ سے دوستی کرنے کے خواہاں ہیں اگر قارئین میں سے کوئی ہم سے دوستی کرنا چاہے تو کھلے دل سے ویلکم۔ میں فرصت کے اوقات میں ناول پڑھتی ہوں‘ مجھے ناولز سے بہت محبت ہے اور ناولز لکھنے والیوں سے تو اور بھی زیادہ پیار ہے۔ سمیرا شریف طور‘ نازیہ کنول نازی‘ ام مریم اور نادیہ فاطمہ رضوی بہت پسند ہیں۔ باقی تمام رائٹرز بھی بہت سپر ہٹ ہیں اور بہت اچھا لکھتی ہیں‘ ماشاء اللہ۔ لگتا ہے کہ اب ہمارے جانے کا وقت ہورہا ہے تو جاتے جاتے جناب یہی کہیں گے اللہ آنچل کو پاکستان کو اور ہر انسان کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے‘ آمین۔ اپنی دعائوں میں ضرور یاد رکھیے گا کسی بھی غلطی کے لیے معاف کریئے گا‘ جاتے جاتے صرف ایک بات آپ مجھے یاد تو کریں گے نا‘ اللہ نگہبان۔

ایمان زہرا شہزادی

آپ سب حیران ہیں کہ میں کون ہوں تو جناب سب سے پہلے تو میرے سلام کا جواب پھر بتاتی ہوں کہ میں کون ہوں السلام علیکم؟ جی ہوں تو میں بہت پرانی خاموش قاری لیکن براہ راست آج پہلی دفعہ کسی بھی ڈائجسٹ میں آئی ہوں آنچل کے صفحات پر لکھتی اس لیے نہیں ہوں کہ ایک خوف ہوتا ہے چھپے گا نہیں اس لیے ہمت کرتے ہوئے پھر ہار جاتی ہوں مگر پھر رب پر توکل کرکے خط لکھا تو جب ڈائجسٹ میں آیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ ان شاء اللہ میں جو بھی لکھوں گی ضرور چھپیے گا (رب پر جو توکل ہے رب ہر کسی کی خواہش کو پورا کرے)۔ جی تو میرا نام ہے ایمان زہراہ شہزادی پلیز پورا نام ضرور لکھیں میرا تعلق ڈھڈیال و ضلع چکوال سے ہے۔ ہمارا ڈھڈیال تقریباً شہر کی مانند ہے ہر چیز مل جاتی ہے۔ میں نے اس فانی دنیا میں 14 اگست کو آنکھ کھولی‘ ہم دو بہنیں تھیں۔ میری چھوٹی بہن کا نام شکیلہ بتول ہے‘ جو صرف چھ ماہ کی تھی مجھے چھوڑ کر چلی گئی‘ میں آج بھی اس سے بہت پیار کرتی ہوں۔ میری ماما ہیں‘ بابا ہیں‘ ایک ماموں‘ ایک ہی خالہ اور نانا ابو ہیں۔ میری خالہ سائرہ کی شادی ہوگئی ہے‘ وہ بھی بہت یاد آتی ہیں مجھے لکھنے پڑھنے کا بہت جنون ہے ۔ میں ہر طرح کے میگزین ڈائجسٹ جو مل جائے پڑھتی ہوں‘ ایم اے عربی کیا ہے۔ شاعری میں نے تب شروع کی جب میں آٹھویں کلاس میں تھی یہ تو رب کی دین ہوتی ہے جسے چاہے نواز دے‘ بعض اوقات کچھ حادثات واقعات ایسے رونما ہوجاتے ہیں کہ انسان کے قلم سے خودبخود لفظ نکلنا شروع ہوجاتے ہیں جو شاعری کا روپ دھارلیتے ہیں۔ میں نے اپنی شاعری منگوال کے شاعر عابد جعفری صاحب کو دکھائی تو انہوں نے کہا کہ شاعری میں بہت گہرائی ہے اور افسانے ناول بھی کافی عرصہ ہوا لکھنا شروع کیے ہیں۔ ایک ڈائجسٹ میں شائع ہوئی تھی پھر مجھے وقت نہیں ملا کہ دوبارہ بھیج سکوں کیونکہ میں ہاسٹل میں رہتی تھی ویسے تو لکھ کر رکھے ہیں میں جب بھی ناقابل اشاعت کہانیوں کے نام دیکھتی تھی تو اس ڈر کی وجہ سے بھیج نہیں سکتی کہ کہیں میری کہانی بھی ان میں شامل نہ ہو (ویسے رب نہ ہی کرے تو بہتر ہے)۔ میری ماما مجھے بہت رہنمائی حوصلہ افزائی کرتی ہیں‘ ابو کو دلچسپی نہیں ہے سو میں اپنی والدہ کی بہت شکر گزار ہوں ‘ میں اپنے والدین سے بہت پیار کرتی ہوں۔ میرے دوست اتنے خاص نہیں ہیں‘ میں مدیحہ بتول ہمدانی کو بہت مس کرتی ہوں بس زندگی کے سفر میں وہ کہیں مل جائے اگر آپ کو کہیں کوئی اچھا دوست ملتا ہے تو اسے ضرور اپنائو کیونکہ اچھا دوست رب کی عظیم نعمت ہے اور برا دوست زحمت بقلم خود ایمان زہرا شہزادی کے خدا مجھے عزت بھی دے‘ دولت و شہرت بھی دے مگر کبھی تکبر نہ دے‘ ہمیشہ اس چیز سے دور رہوں اور جہاں تک ممکن ہو صرف نیکی کرتے زندگی گزرے ‘ آمین۔خدا کرے زندگی کا سفر بہت اچھا گزرے‘ نجانے زندگی کی شام کس موڑ پر اختتام پذیر ہو پر ابھی دعا کریں جو خواہش ہے وہ پوری ہوجائے۔ میرے استاد عابد جعفری نے مجھے آٹھویں سمندر اپنی کتاب دی تھی جو مجھے بہت پسند آئی اس کے علاوہ ان کی شاعری کی کتب نقش رگ جاں کے گواچے سکھ ہیں‘ مزید لکھ رہے ہیں۔ انسان کی زندگی میں بہت سی مشکلات آتی ہیں اور بعض اوقات یہ اپنے ہی اپنوں کو ذلت کی پستی میں گرانے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگاتے ہیں اگر ایسا لمحہ آ بھی جائے تو کوشش کرو‘ درگزر کرو کیونکہ جو انسان کسی کے ساتھ برا کرتا ہے اس کے ساتھ دگنا برا ہوتا ہے جو کسی کے لیے گڑھا کھودے گا وہ اس میں ضرور گرتا ہے۔ میں ایک نظم بابل کا آنگن اور کچھ میری سنہری سنہری باتیں میں کچھ میری اپنی باتیں۔ سب سے بہترین دوست ماں میری ڈائری میرا خدا اور چاند ہے جب بہت زیادہ پریشان ہوں اور چوہدویں کا چاند بھی ہو تو میں ہر بات اس سے کرتی ہوں۔ڈائری سے بھی کرتی ہوں‘ رب سے بھی کرتی ہوں۔ رب سے دعا ہے کہ جو میری منزل ہے بس اس کو چھوسکوں۔ آپ بھی دعاگو رہیے گا‘ زندگی میں سب سے زیادہ کمی بھائی اور بہن کی محسوس ہوئی‘ بہت شدت سے آج بھی ہوتی ہے اب اجازت دیں مجھے۔ رب العزت سب کی پریشانیوں کو دور کرے‘ ہمارے وطن میں امن و سکون کی لہر دوڑا دے‘ اللہ حافظ۔

عافیہ جہانگیر

ارے ارے حیران مت ہو‘ یہ ہم ہی ہیں عافیہ جہانگیر سب قاری بہنیںمجھے حیران ہوکے ایسے دیکھ رہی ہیں جیسے آسمان سے اتری کوئی حور آگئی۔ بھئی آپ سب حیران مت ہو‘ میں حور نہیں ہوں لیکن حور جیسی لگتی ضرور ہوں (آہم آہم) ۔ جی تو اب آتی ہوں اپنے تعارف کی طرف‘ میرا پورا نام عافیہ جہانگیر ہے‘ امی اور نانو امی پیار سے عافو بلاتی ہیں جبکہ ساری دوستیں کزنز اور کلاس فیلو عافی کے نام سے پکارتے ہیں اور باقی گھر والے عافیہ کہتے ہیں جبکہ بچوں میں آپی کے نام سے مشہور ہوں۔ میں 23 ستمبر 1999ء میں اس دنیا میں تشریف لائی ‘ ہم سات بہن بھائی ہیں (تین بہنیں چار بھائی)۔ جن میں میرا دوسرا نمبر ہے‘ میں میٹرک پاس ہوں‘ ڈاکٹر بننے کا بہت شوق تھا لیکن کچھ مسائل کی وجہ سے نہ بن سکی اور یہ خلش ہمیشہ میرے دل میں رہے گی کہ میں ڈاکٹر کیوں نہ بنی۔ جی تو اب بات ہوجائے پسند ناپسند کی تو میں کھانے سب ہی کھالیتی ہوں (آپ لوگ اب مجھے پیٹو بھی نہ سمجھنا) کھانے کی شوقین نہیں ہوں لیکن جی پیٹ بھرنے کے لیے کھانا تو پڑنا ہے نا۔ میرا فیورٹ کلر سفید اور بلیک ہے‘ فیورٹ لباس بیلٹ والی شلوار اور قمیص اور بڑا سا دوپٹہ ہے۔ ویسے مجھے ساڑھی پہننے کا بھی بہت شوق ہے جو کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔ فیورٹ سنگر میں سے عاطف اسلم‘ راحت فتح علی خان‘ فریحہ پرویز ہیں۔ فیورٹ فنکاروں میں عمران عباس‘ صبا قمر‘ مہوش حیات‘ سجل علی‘ شہروز سبزواری اور نور ہیں۔ فیورٹ رائٹرز میں عمیرہ احمد‘ نازیہ کنول نازی‘ سمیرا شریف طور‘ سباس گل‘ مصباح علی اور صدف آصف ہیں۔ فیورت کتابوں میں قرآن پاک‘ پیر کامل‘ میری ذات ذرہ بے نشاں اور ’’خدا اور محبت‘‘۔ فیورٹ نعت خواں حافظ ابو بکر اور جنید جمشید ہیں۔ میری بہت سی دوستیں ہیں جن سے اب میں دور ہوگئی ہوں لیکن یاد بہت آتی ہیں عائشہ ‘ طیبہ‘ تنزیلہ‘ ہادیہ‘ سلمیٰ‘ سلطانہ‘ عالیہ‘ عالیہ احمد‘ بشریٰ‘ ماریہ‘ سائرہ‘ سمیرا‘ جویریہ‘ مریم‘ سعدیہ اور کائنات میری دوستیں ہیں لیکن میری بہترین دوستیں جویریہ‘ سعدیہ‘ سمیرا اور مریم ہیں۔ مجھے اپنی سب دوستیں بہت عزیز ہیں اور لو جی میں اپنی پیاری سی باجی کا تو نام لینا ہی بھول گئی‘ جی تو باجی جویریہ میری چھوٹی خالہ ہے لیکن ہم سب اسے باجی کہتے ہیں (ایک میری دوست جویریہ ہے اور ایک میری باجی جویریہ ہے)۔ باجی کے ساتھ بھی میری بہت دوستی ہے اور بالکل بھی نہیں لگتا کہ وہ میری خالہ ہے (ہے نا حیرانگی کی بات)۔ جی تو اب آتی ہوں خوبیوں اور خامیوں کی طرف‘ مجھے بات بات پر رونا آجاتا ہے اور میں اپنا دفاع بھی نہیں کرپاتی۔ غصہ بہت جلدی آتا ہے لیکن غصہ پر قابو پالیتی ہوں‘ اپنے دل کی بات کسی کو بھی نہیں سمجھاپاتی اور جی خوبیوں کی تو بات ہی نہ کریں‘ مجھ میں بے مثال خوبیاں ہیں (آہم)۔ امی ابو کی فرماں بردار ہوں‘ چاہے جو کچھ بھی ہوجائے ان کا کہنا ہرحال میں مانتی ہوں‘ کم گو ہوں۔ گھر میں سنجیدہ ہوں جبکہ دوستوں میں شرارتی ہوں۔حساس بہت ہوں اپنے سے زیادہ دوسروں کا خیال رکھتی ہوں‘ کسی سے شکوہ کرنے کی عادت نہیں ہے‘ کسی سے ناراض بھی نہیں رہ سکتی اور نہ کسی کو ناراض دیکھ سکتی ہوں۔ ہر بات کو گہرائی میں سوچنے کی عادت ہے ‘اپنے سے وابستہ لوگوں کو ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتی ہوں۔ کسی کو روتے دیکھ کے خود بھی رونا شروع کردیتی ہوں‘ پانچوں وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتی ہوں بہرحال میں اللہ کا شکر ادا کرنے کی کوشش کرتی ہوں جس نے مجھے مکمل انسان بنایا ہے۔ شاعری سے بہت زیادہ لگائو ہے اور جو بھی شعر میرے دل کو بھاتا ہے اسے اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیتی ہوں۔ کشمیریوں کے دکھ پر اکثر رو پڑتی ہوں جب ان کے دکھوں کی داستانیں پڑھتی ہوں تو ان پر بہت ترس آتا ہے۔ کاش میرے بس میں ہو تو ان کے سارے دکھ میں لے لوں اور بدلے میں انہیں خوشیاں ہی خوشیاں دے دوں۔ اللہ پاک انہیں ہمیشہ کے لیے دکھوں سے آزاد کرے‘ آمین۔ او کے جی قارئین میرے خیال میں آپ مجھے پڑھ پڑھ کے بور ہوگئے ہوں گے‘ اوکے جی اللہ حافظ۔ تعارف کیسا لگا ضرور بتایئے گا۔

ایمن بتول

السلام علیکم! آنچل اسٹاف اور دیگر رائٹرز کو میرا سلام یعنی مابدولت ایمن بتول کی طرف سے۔ کلثوم گرامر اسکول‘ بھڑتھ کی سابقہ طالبہ اتنی بھی سابقہ نہیں ہوں بس چار ماہ پہلے۔ 24 فروری 2014ء کو اسکول سے فیئر ویل پارٹی میں شریک ہونے کے بعد تین سے چار بجے تک گھر کو رخصت ہوگئی۔ اپنی تمام کلاس فیلوز‘ خزیمہ سے لے کر سب سے کچھ کہنا چاہتی ہوں اس نامور آنچل کے توسط سے۔ اول تو میری کلاس میں سے کسی کو میگزین پڑھنے کا شوق نہیں ہے لیکن پھر بھی اگرکوئی لڑکی آنچل پڑھ رہی ہو تو اس کو میرا سلام‘ ایمن بتول تم سب کو بہت یاد کرتی ہے ۔ فضول باتیں بہت ہوگئیں‘ اب اپنی فطرت کے بارے میں آپ کو بتاتی ہوں ۔ میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر رو دیتی ہوں‘ اس لیے نرم دل ہوں۔ کسی سے زیادہ ناراض نہیں رہ سکتی لیکن کچھ کزنز جیسا کہ ماموں شاہد کی بیٹیاں‘ خدیجہ اور فاطمہ اور ایک ان کے بڑے بھائی جناب منافقت کی واضح مثال محمد حمزہ شاہد بھٹی عرف ہامو سے سخت غصہ اور ناراضگی ہے۔ یہ چھ بہن بھائی ایک جیسے ہیںمیں انہیں ایف او ایف کہتی ہوں ‘ کیوں کہتی ہوں بھیا (حمزہ) جانتے ہیں لیکن ایف او ایس کسی کی اوبزرویشن ہے۔ نہیں بتا سکتی آخر ان لوگوں کی بھی عزت ہوتی ہے نہ‘ اُف میں بھی کیا قصہ و ذکر لے کر بیٹھی ہوں ۔ غصہ بہت آتا ہے لیکن قرآن اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہونے کی بھرپور کوشش ہے‘ اس لیے پی جاتی ہوں اگر غصہ زیادہ ہو‘ ڈانٹ ڈپٹ کرکے چپ ہوجاتی ہوں۔ ایک دو گھنٹے میں غصہ خود ہی ختم ہوجاتا ہے یا پھر سونے کے بعد۔ سبزیاں اور دالیں‘ گائے کا گوشت بالکل بھی پسند نہیں۔ پکوڑے‘ چاٹ‘ پزا‘ شوارما‘ بریانی نیز چٹ پٹی ہر چیز پسند ہے۔ لانگ شرٹ‘ چوڑی دار پاجامہ‘ ریڈی میڈ کُرتا شلوار بہت پسند ہے۔ ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں‘ دعا کریں بن جائوں۔ ہائی ہیل پسند ہے‘ میوزک تو جان ہے لیکن جب سے سنا ہے کہ حرام ہے ‘ چھوڑ رہی ہوں آہستہ آہستہ۔ سب سے بڑی خواہش ہے کہ میرے پسندیدہ ناولز جیسا کہ ’’جھیل کنارہ کنکر‘ لاحاصل‘ پیر کاملؐ، جنت کے پتے‘ اور کچھ خواب‘ بھیگی پلکوںپر‘‘ اور ’’مجھے ہے حکم اذاں‘‘ ہر وقت میرے پاس رہیں‘ کتابوں کی صورت میں لیکن والدین خاص طور پر امی اجازت نہیں دیتیں۔ ایک بار جس سے دوستی ہوجائے اسے بے یارو مددگار اور تن تنہا نہیں چھوڑتی لیکن اسوہ اور حمزہ جیسوں کو چھو ڑدیا۔ نازی آپی‘ سمیرا آپی‘ اقراء آپی‘ عشنا آپی‘ عمیرہ احمد اور نمرہ احمد آپیو میں پکوڑے بڑے مزے دار بناتی ہوں‘ کھائیں گی؟ پسندیدہ ایکٹرز سلمان خان اور سیف علی خان ہیں۔ اچھا اب آپ لوگ بور ہوگئے ہوں گے‘ آپی ایمن پلیز ناراض نہ ہونا میں نے کوئی غلط بات نہیں کی اس میں‘ اب سب کو اللہ حافظ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close