Aanchal Feb-17

(اسلام علیکم (دانش کدہ

مشتاق احمد قریشی

ترجمہ:صرف سلام ہی سلام کی آواز ہوگی۔ (الواقعہ۔۲۶)

تفسیر:یہاں بھی جنت کی منظر کشی کی گئی ہے کہ جب اہل جنت اپنے دائمی ٹھکانوں پر پہنچ جائیں گے تو انعاماتِ الٰہی کی ان پر بارش ہورہی ہوگی اور انوار الٰہی سے وہ فیضیاب ہو رہے ہوں گے۔ وہاں وہ ہر قسم کی بے ہودگیوں‘ یاوہ گوئی‘ جھوٹ‘ مکروفریب‘ غیبت‘ چغلی‘ بہتان‘ گالی گلوچ‘ لاف وگزاف‘ طنز و تمسخر‘ طعن و تشنیع سے محفوظ ہوں گے وہ بدزبان اور بدتمیزلوگوں کی سوسائٹی نہیں ہوگی وہ مہذب لوگوں کا معاشرہ ہوگا۔ دنیا میں توباہم لڑائی جھگڑے ہوتے ہی رہتے ہیں حتیٰ کہ بہن بھائی بھی اس سے محفوظ نہیں ہوتے‘ اس اختلاف ونزاع سے دلوں میں کدورتیں اور بغض و عناد پیدا ہوتا ہے۔جو ایک دوسرے کے خلاف بدزبانی سب و شتم‘غیبت اورچغلی وغیرہ پر انسان کو آمادہ کرتا ہے جنت میں تمام اہل جنت ان تمام اخلاقی گندگیوںاور بے ہودگیوں سے نہ صرف پاک ہوں گے بلکہ وہاں ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آوازیں بلند ہو رہی ہوں گی۔ فرشتوں کی طرف سے بھی اور آپس میں اہل جنت بھی وہاںایک دوسرے کو سلام کرتے رہیں گے یہ سلام تحیہ ہوگا دل وزبان کی وہ خرابیاں نہیں ہوں گی جودنیا میں عام ہیں۔ یہ اہلِ ایمان کے لئے بہت بڑی بشارتِ الٰہی ہے کہ جنت کیسی آرام اورچین کاٹھکانہ ہے یہ ترغیبِ الٰہی بھی ہے تاکہ انسان جنت کے حصول کی کوششوں میں مصروف عمل رہے اور صراطِ مستقیم پر چلتا رہے۔

ترجمہ:سلام ہے تجھے تو اصحاب الیمین میں سے ہے۔ (الواقعہ۔۹۱)

تفسیر:آیت مبارکہ میں اصحاب یمین پر سلام بھیجا جارہا ہے یہ اصحاب یمین کون ہیں۔یمین کے معنی قوت‘ طاقت‘ سعادت اور داہنے ہاتھ کے ہیں‘ اور قسم کے بھی ہیں‘ داہنے ہاتھ کویمین اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ قوت کامظہر ہوتا ہے بر خلاف بائیں ہاتھ کے جو قدرے کمزور ہوتا ہے۔ قسم کو بھی یمین اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے قسم کھانے والا اپنے دعویٰ میں قوت پیدا کرتا ہے۔ نیک بختی اور سعادت کو بھی یمین اس لئے کہتے ہیں کہ حقیقی قوت و طاقت وہی ہے۔

اہل یمین وہ خوش نصیب ہیں جن کو قیامت کے دن ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا گویااس طرح اس حقیقت کا اظہار کیا جائے گا کہ یہ لوگ دنیا میں اپنی خواہشات نفسانی پر غالب رہے اور وہ بدنصیب جن کو ان کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اصحاب الشمال ہوں گے جو اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ دنیا میں اپنی خواہشات نفسانی پر قابو نہ پاسکے تھے۔

قرآن حکیم میں یہ لفظ یمین حلف یا قسم کے معنوں میں سورۃ البقرہ آیت ۲۲۵ میں اور سورۃ مائدہ میں آیا ہے۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اپنے وعدوں پر اور حلف پر قائم رہو۔ جو یہ کرے انہیں اچھا اجر ملے گا جو نہ کرے انہیں سزا ملے گی۔ یمین کا توڑ نا گناہ میں شمار ہوتا ہے اس کی تین اقسام ہیں۔

(۱)یمین الغموس۔ماضی میں کی گئی کسی بات پر حلّف اٹھانا۔ اس کے بارے میں حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جس نے جھوٹا حلّف اٹھایا وہ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

(۲)یمین المنعقد۔ کسی کے سامنے درپیش بات پر حلف اٹھانا کہ وہ یہ کام کرے گا یانہیں کرے گا۔ اگر اس پر عمل نہ کرسکے تو سزا وار ہوگا۔ جس کا کفارہ ایک مسلمان غلام کوآزاد کرنے یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانے یاکپڑے دینے کا ہے۔

(۳)یمین لغو۔ماضی کی کسی بات پرحلف اٹھانا۔

ترجمہ:وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے نہایت پاک سراسرسلامتی‘ امن دینے والا‘نگہبان‘ سب پرغالب اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا‘ اوربڑا ہوکر رہنے والا پاک ہے اللہ اس شرک سے جو لوگ کررہے ہیں۔ (الحشر۔۲۳)

تفسیر:یہ آیت مبارکہ قرآن حکیم کی اہم آیات میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی کئی صفات بیان کی گئی ہیں سب سے پہلے تویہ بات واضح کردی گئی ہے کہ ایک اللہ ہی ہے جو ہر قسم کی پرستش وعبادات کامستحق ہے اس کے سوا کوئی اور کسی بھی طرح سے عبادات وپرستش کانہ مستحق ہے اور نہ ہی کسی بھی طرح ہوسکتا ہے۔اس کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ کی جو صفت عظیم آتی ہے وہ الملک استعمال ہوتی ہے جس کے معنی ہیں اصل بادشاہ یعنی سارے جہان کا بادشاہ ہے۔ پوری کائنات پر اس کی حکمرانی اور فرمانروائی محیط ہے وہی ہر چیز کا مالکِ مطلق ہے ہرشے اس کے تصرف اور اقتدار وحکم کی تابع ہے اس کی حاکمیت کو محدود کرنے یا مداخلت کرنے والی کوئی شے نہیں ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی بادشاہی کے ان سارے پہلوئوں کی پوری طرح وضاحت کی گئی ہے۔

ترجمہ:زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اس کی مملوک میں ہے سب اس کے تابع فرمان ہیں۔ (الروم۔۲۶)

ترجمہ: آسمان سے لے کر زمین تک وہی ہرکام کی تدبیر کرتا ہے۔ (السجدہ۔۵)

ترجمہ:زمین وآسمانوں کی بادشاہی اسی کی ہے اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملات رجوع کئے جاتے ہیں۔ (الحدید۔۵)

ترجمہ:بادشاہی میںکوئی اس کاشریک نہیں ہے۔ (الفرقان۔۲)

ترجمہ:ہرچیز کی سلطانی وفرماںروائی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ (یسیٰن۔۸۳)

ترجمہ:جوچاہے اُسے کرگزرنے والا ہے۔ (البروج۔۱۶)

ترجمہ:وہ اپنے کاموں کے لئے (کسی کے آگے)جواب دہ نہیں اور سب(اس کے آگے) جواب دہ ہیں۔ (الانبیاء‘۲۳)

ترجمہ:اوراللہ فیصلہ کرتا ہے‘ کوئی اس کے فیصلے پر نظرثانی کرنے والانہیں۔ (الرعد۔۴۱)

ترجمہ:اوروہ پناہ دیتا ہے اور کوئی اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دے سکتا۔ (المومنون۔۸۸)

ترجمہ:آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے‘ تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بے شک تو ہرچیز پرقادر ہے۔ (آل عمران۔۲۶)

ان آیات سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بادشاہی‘ حاکمیت کسی محدود مجازی مفہوم میں نہیں بلکہ اس پورے مفہوم میں‘ اس کے مکمل تصور کے ساتھ حقیقی بادشاہی ہے اور اگر حاکمیت بادشاہی کسی چیز کا نام ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہی بادشاہت ہے اس کے علاوہ کوئی بادشاہی نہیں اگر کسی کو کہیں کوئی حاکمیت حاصل ہے بھی تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا عطیہ ہے جو کبھی کسی کو ملتی ہے کبھی چھین لی جاتی ہے دنیا کے ہر حاکم کو کسی دوسری‘ اپنے سے بڑی طاقت سے خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اس کا دائرہ اختیار بھی محدود ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی جن صفات عالیہ کا اس آیت مبارکہ میں ذکر کیا گیا اس میں صرف اللہ تعالیٰ کاکائنات کاحاکم مطلق بادشاہ ہونے کے علاوہ بھی کئی اور صفات ہیں یہ بھی ہے کہ وہ صرف بادشاہ ہی نہیں ہے بلکہ ایسا بادشاہ ہے جو قدوس ہے۔ سلام ہے مومن ہے‘ مہیمن ہے عزیز ہے جبار ہے متکبر ہے خالق ہے باری ہے اور مصورہے۔

سورۃ الحشر کی اس آیت میں دوسری صفتِ الٰہی’’القدوس‘‘ آئی ہے‘ یہ مبالغے کا صیغہ ہے اس کامادہ قدس ہے اور قدس کے معنی ہیں تمام بری صفات سے پاکیزہ اور منزہ ہونا اورقدوس کامطلب ہے وہ اس سے بدرجہابالا وبرتر ہے کہ اس کی ذات میں کوئی عیب یا نقص‘یا کوئی قبیح صفت پائی جائے۔ بلکہ وہ ایک پاکیزہ ترین ہستی ہے جس کے بارے میں کسی برائی کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ قدوسیت حاکمیت کے اولین لوازم میں سے ہے قدوسیت کے بغیر اقتدار مطلق ناقابل تصور ہے اور یہ صفت عظیم‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کے سوا کسی اور میں نہیں ہوسکتی اور کسی زمینی حاکم کے لئے قدوسیت کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا ہے۔

تیسری صفت الٰہی آیت میں ’’السلام‘‘ آئی ہے جس کے معنی سلامتی کے ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ سراسر سلامتی ہی سلامتی ہے اس کی ذات عالی اس سے قطعی بالاتر ہے کہ کوئی آفت‘ کوئی کمزوری یا خامی اس کو لاحق ہویاکبھی اس پر زوال آئے بلکہ وہ تو اپنی تمام مخلوقات کی سلامتی اور پرورش کا ذمہ دار بھی ہے۔ وہی ذات واحد ہے جو اپنی تمام مخلوقات کو سلامتی فراہم کرتی ہے اس کے سوا تمام جہانوں میں کوئی دوسری ہستی ہے نہ ہوسکتی ہے کہ وہ کسی معمولی سے معمولی کیڑے مکوڑے تک کو سلامتی فراہم کرسکے۔ سلامتی اللہ تبارک وتعالیٰ کی صفت خصوصی ہے۔

چوتھی صفت الٰہی’’المھیمن‘‘ استعمال ہوئی ہے اس کے تین معنی ہیں۔ ایک نگہبانی اور حفاظت کرنے والا دوسرے شاہد کے‘ یعنی کون کیا کررہا ہے دیکھنے والا۔اور اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کی ایک ایک حرکت بلکہ سانس کی جنبش تک سے پوری طرح باخبر رہتا ہے۔ وہی ذات ہے جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے۔ اس لئے اس سے زیادہ کون ہماری ذات سے باخبر ہوسکتا ہے۔تیسرے معنی ہیں قائم بامورالخلق‘یعنی جس نے لوگوں کی ضروریات وحاجات پوری کرنے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ یہاں بھی چونکہ مطلقاً لفظ المھیمن استعمال ہوا ہے اور اس فاعل کا کوئی مفعول بھی بیان نہیں کیا گیا کہ وہ کس کا نگہبان ومحافظ ہے‘ کس کاشاہد ہے‘ کس کی خبرگیری کا ذمہ دار ہے‘ اس لئے اس کااطلاق خودبخود تمام مخلوقات پر ہوگا کہ ان کی نگہبانی وحفاظت کررہا ہے سب کے اعمال کو دیکھ رہا ہے‘ اور کائنات کی ہرمخلوق کی خبر گیری اورپرورش اور ضروریات کا اس نے ذمہ اٹھا رکھا ہے۔پانچویں صفت الٰہی العزیز آئی ہے جس سے مراد ایسی زبردست ہستی‘ جس کے مقابل کوئی سرنہ اٹھاسکے اور جس کے فیصلوں کی مزاحمت کرنا کسی کے بس میں نہ ہو‘ جس کے آگے سب بے بس ومجبور ہوں۔ جس کاحکم‘ حکمِ مطلق ہو۔

چھٹی صفت الٰہی ’’الجبار‘‘ استعمال ہوئی ہے جس کامادہ جبر ہے اور جبر کے معنی ہیں کسی شے کو طاقت سے درست کرنا کسی چیز کی بزور اصلاح کرنا۔ گو کہ عربی میں کبھی کبھی محض اصلاح کے لئے بھی جبر بولا جاتا ہے اور کبھی صرف زور زبردستی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا حقیقی مفہوم‘ اصلاح کے لئے طاقت کا استعمال ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جبار اس معنی میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی کائنات کا نظم وضبط بزور درست رکھنے والا ہے اور اپنے ارادے کو سراسر حکمت پرمبنی رکھتا ہے۔جبراً نافذ کرنے والا ہے۔ اس کے علاوہ لفظ جبار میں عظمت کا مفہوم بھی شامل ہے۔

ساتویں صفت الٰہی ’’المتکبر‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے دومفہوم ہیں ایک جوفی الحقیقت بڑانہ ہومگر خواہ مخواہ بڑا بنے۔ دوسرے وہ جو حقیقت میں بڑا ہی ہو۔شیطان یا انسان یا کسی اور مخلوق کا جوفی الواقع بڑا نہ ہو اور اپنے آپ کوبڑا سمجھے اور دوسروں پر اپنی بڑائی جتائے۔ یہ جھوٹی بڑائی ہوگی جو بڑا ہی عیب اور گناہ کبیرہ ہے۔اس کے برعکس اللہ تبارک وتعالیٰ حقیقت میں بڑا ہے اور تمام بڑائی اسی کو زیب دیتی ہے اور کائنات کی ہر چیز اس کے آگے حقیر وذلیل ہے اسی سے اس کا بڑا ہونا اور بڑاہو کررہنا ثابت ہے اس میں کوئی نہ تو تصنع ہے نہ بناوٹ ہے بلکہ یہ تو امر قطعی ہے اور ایک بہت بڑی صفت الٰہی ہے بلکہ ایک ایسی خوبی جو اس کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتی۔اس میں بھی وہ یکتا واکیلا ہے اور جب ایسی عظیم وبرتر ذات اپنے بندوں میں سے کسی خاص بندے پرسلامتی بھیجے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کیسی عظیم الشان سلامتی ہوگی اس کے لئے کتنی عظیم بشارت ہوگی اوراس بشارت کے سننے کے لئے بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ راہ متعین کردی وہ طریقہ سکھا اور سمجھادیا جو بہت ہی آسان اور سیدھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور احکامِ الٰہی کو بالکل ویسے ہی تسلیم کرنا اور ان پر عمل کرنا جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا ہے۔

ترجمہ: وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک۔ (القدر۔۵)

تفسیر: آیت مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ اہل ایمان کو ہدایت فرمارہا ہے کہ لیلتہ القدر کو فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی سربراہی میں اپنے رب کا ہر حکم جو وہ دیتا ہے لے کر زمین پر اترتے ہیں اور وہ مغرب کے وقت سے لے کر اذانِ فجر تک رہتے ہیں اور یہ رات سراسر سلامتی کی رات ہوتی ہے۔ اس میں کسی شرکا‘شیطانی کام کا دخل نہیں ہوتا۔ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے تمام فیصلے انسانوں کی بھلائی بہتری اور فلاح کے لئے ہوتے ہیں ان میں کوئی برائی نہیں ہوتی۔

وہ رات جس کا یہاں تذکرہ کیا گیا ہے یہ وہی رات ہے جس کاذکر سورۃ دخان کی ۳ تا۶ آیات میں ہوا ہے۔

ترجمہ:بے شک ہم نے اس کو بابرکت رات میں اتارا ہے۔ یقینا ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے ہیں۔ اس رات میں تمام حکیمانہ امور ہمارے حکم سے طے ہوتے ہیں۔اور بے شک ہم رسول بھیجنے والے ہیں۔ یہ تمہارے لئے رحمت کا باعث ہے۔ یقینا وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ (الدخان۔۲تا ۶)

اور یہ رات رمضان شریف کی ہی راتوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تصریح سورۃ البقرہ میں ہوئی ہے۔

ترجمہ:رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا‘ جو انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کے واضح دلائل اور حق وباطل میں فرق کرنے والی واضح تعلیمات ہیں۔ (البقرہ۔۱۸۵)

(جاری ہے)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close