Aanchal Mar-17

انتقام محبت

شگفتہ یاسین

ترے نام کی جو روشنی اسے خود ہی تو نے بجھا دیا
نہ جلا سکی جسے دھوپ بھی اسے چاندنی نے جلا دیا
میں ہوں گردشوں میں گھرا ہوا مجھے آپ اپنی خبر نہیں
وہ جو شخص تھا میرا رہنما اسے راستوں میں گنوا دیا

اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل کو دنیا میں سب سے نازک اور حساس بنایا ہے۔ دل ایک شیش محل کی طرح ہوتا ہے اور یادیں گرد آلود آندھیاں‘ جو کبھی تو شیش محل کو گرد آلود کرتی ہیں اور اگر ان کی شدت میں اضافہ ہو تو اس میں دراڑیں بھی ڈال دیتی ہیں۔ جس سے اس شیش محل کی ساری خوب صورتی تباہ اور طاقت مشکوک ہوجاتی ہے۔ نفرت اور محبت کے احساسات ایسا دیمک جو شیش محل کو بھی کھوکھلا کردیتا ہے‘ جیسے میرا دل شیش محل تھا جو پہلے گرد آلود تھا اور اب دراڑوں سے بھرا ہوا۔ پہلے محبت کے احساس نے اور پھر نفرت کے احساس نے میرے دل کو کھوکھلا کردیا تھا جو کسی بھی لمحے گرا چاہتا تھا۔ کسی پل دل کا اضطراب کم نہ ہوتا تھا۔ یادیں تھیں کہ جان نہ چھوڑتی تھیں اور پچھتاوے تھے کہ ناگ کی طرح ڈستے تھے۔

’’سنیں کھانا لگ چکا ہے‘ آجائیں پلیز۔‘‘ علیزہ نے کمرے سے جھانکتے ہوئے کہا۔
’’نہیں مجھے بھوک نہیں ہے۔ تم لوگ کھالو۔‘‘ میں نے انتہائی روکھے انداز سے کہا۔
’’کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہیں ناں؟‘‘ علیزہ نے میرے پاس بیٹھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا۔ نیلے گہرے رنگ کے سوٹ میں بلاشبہ وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔ مجھے پریشان دیکھ کر اس کے چہرے پر پریشانی کے واضح اثرات موجود تھے۔ وہ ایسی ہی تھی میری پریشانی میں پریشان ہونے والی اور میری خوشی میں خوش ہونے والی۔ بلاشبہ میں بہت خوش قسمت تھا جسے اتنی خوب صورت‘ خوب سیرت اور پیار کرنے والی بیوی ملی تھی۔
’’کیا ہوا… کہاں کھوگئے؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ علیزے نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں یار بالکل ٹھیک ہوں۔ بس ذرا لنچ لیٹ کیا تھا تو اس لیے اب بھوک نہیں۔‘‘ میں نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اور کپڑے بھی چینج نہیں کیے؟‘‘ اس نے مجھے مشکوک نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔
’’ہاں کرتا ہوں چینج خیال نہیں رہا۔‘‘ میں نے جلدی سے اٹھتے ہوئے کہا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے دل کے راز وہ جان لے اور میری پریشانی کو اپنے دل پہ لے۔
’’آفس میں سب ٹھیک ہے ناں؟‘‘ علیزے نے پیچھے سے ایک اور سوال کیا۔
’’ہاں یار پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دو۔‘‘ میں نے التجائیہ انداز میں کہا۔ وہ میری کیفیت کو سمجھتے ہوئے سر ہلاتے ہوئے کمرے سے چلی گئی۔
میں بہت پریشان تھا۔ ایم اینڈ جے انڈسٹریز بری طرح مقروض ہورہی تھی۔ پچھلے ایک سال میں ہم کوئی بھی ٹینڈر اپنے حق میں پاس نہ کرواسکے تھے۔ اکائونٹس تیزی سے خالی ہورہے تھے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی مصیبت کھڑی تھی۔ ورکرز کو تنخواہ بمشکل ادا کی جاتی تھی۔ ان سب نے میرے اعصاب پر بری طرح اثر ڈالا تھا۔ کوئی حل دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ہمارے حریف فیروز اینڈ سنز انڈسٹریز نے اس ایک سال میں ہر وہ ٹینڈر حاصل کرلیا تھا جو ہمیشہ سے ہم نے حاصل کیا تھا۔ میرے پاپا جہانداد حسین ایک نامور بزنس مین تھے اور انہیں بزنس کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ جب سے انہوں نے بزنس کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ کوئی ان کے سامنے ٹھہر نہ سکا تھا اور اپنی اسٹڈی کمپلیٹ کرنے کے بعد میں نے آہستہ آہستہ بزنس کی ذمہ داری اٹھانا شروع کردی تھی اور ان کے اس دنیا سے جانے کے بعد یہ ذمہ داری مکمل طور پر میرے کندھوں پر آگئی تھی اور میں نے کسی حد تک اس ذمہ داری کو اچھے سے نبھایا بھی تھا مگر پچھلے ایک سال سے نجانے فیروز اینڈ سنز کے ہاتھ ایسا کون سا پارس لگ گیا تھا جس کے سامنے میری صلاحیتوں کو جیسے زنگ لگ گیا تھا۔ میں اپنی سر توڑ کوشش کے باوجود اس نقصان سے اپنے آپ کو بچا نہیں پایا تھا جس نے جے اینڈ ایم کو بری طرح مقروض کردیا تھا۔ اصل جھٹکا تو مجھے اس روز لگا جب ایک حکومتی ٹینڈر کے سلسلے میں میں خود پریزنٹیشن دینے گیا تھا جب میں نے اسے اس آفس سے نکلتے دیکھا۔ آفس سے باہر نکلتے ہوئے اس کی نظر مجھ پر پڑی تھی اور اس کی آنکھوں میں جو اعتماد تھا اس نے میرا سارا اعتماد چھین لیا تھا۔ میرے منیجر نے جو میرے ساتھ تھا مجھے بتایا۔
’’سر یہ فیروز اینڈ سنز کی جنرل منیجر ہیں۔ جب سے یہ آئی ہیں فیروز اینڈ سنز انڈسٹریز کی کایا پلٹ گئی ہے۔‘‘ میں نے چونک کر اپنے منیجر کو دیکھا شاید تصدیق کے لیے۔ اب مجھے سمجھ آئی تھی کہ فیروز اینڈ سنز کے پاس کون سا پارس تھا‘ کامیابی کی وہ کون سی چابی تھی‘ آج میں نے اسے پانچ سال کے بعد دیکھا تھا‘ وہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ اور سوبر ہوگئی تھی۔ اور شاید خوب صورت بھی یا شاید میرے سوچنے کا انداز بدل گیا تھا۔ ورنہ پانچ سال پہلے وہ مجھے کسی چڑیل سے کم نہ لگتی تھی۔ میں وہیں سے واپس پلٹ آیا اور اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے میں اس سے کبھی جیت نہیں سکتا تھا۔ کبھی نہیں۔

بس اسٹاپ پر کھڑے کھڑے میری ٹانگیں شل ہوگئی تھیں۔ گرمی کی شدت میں پچھلے کچھ دنوں سے اضافہ ہوگیا تھا۔ نجانے آج ٹرانسپورٹ ہڑتال تھی یا شہر میں ٹریفک جام‘ کوئی پوائنٹ نہیں آرہی تھی۔ اکا دکا رکشے والے نظر آرہے تھے‘ گرمی کی شدت اور پیاس کی وجہ سے گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے ساتھ ہی پسینے کے ننھے ننھے قطرے بھی نمودار ہونے لگے تھے۔ آخرکار میں نے اپنے بجٹ کو ڈسٹرب کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک رکشہ روکا اور ایڈریس بتا کر بیٹھ گئی۔ رکشہ مختلف سڑکوں اور راستوں سے گزرتا ہوا پچیس منٹ کے بعد میری منزل مقصود پہ تھا۔ رکشے والے کو کرایہ دے کر جب میں پنجاب یونیورسٹی کے IBA ڈیپارٹمنٹ کے سامنے رکی تو جیسے سانس لینا بھول گئی۔ میرے اطراف میں یونیورسٹی کے وسیع وعریض رقبے پر پھیلے ڈیپارٹمنٹس تھے‘ بڑے بڑے بریج‘ ان کے نیچے سے بہتی خوب صورت نہر اور بریج کے دوسرے سرے پر موجود ہاسٹلز‘ یہ کوئی معمولی بلڈنگ نہیں تھی اور نہ ہی صرف شاندار تعلیمی انسٹیٹیوٹ بلکہ یہ تو میرے خوابوں کا تاج محل تھا۔ جہاں تک پہنچنے کے لیے میں نے شب وروز محنت کی تھی۔ بہت پڑھنا اور آگے جانے کا خواب تو شاید میں نے ہوش سنبھالتے ہی دیکھ لیا تھا اور یہ خواب میں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ میرے گھر کے وسائل ایسے نہ تھے کہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکوں مگر میں زندگی کو ایک چیلنج سمجھ کر آگے بڑھی تھی اور اس راہ میں آنے والی ہر مشکل کو میں نے اپنے ارادوں کے سامنے مٹی کا ڈھیر بنا دیا تھا۔ میٹرک شاندار نمبروں سے پاس کرنے کے بعد میں نے ٹیوشنز پڑھانا شروع کردیا تھا اور انہی پیسوں سے نہ صرف میں اپنا خرچ پورا کرلیتی تھی بلکہ اپنے سے چھوٹے ایک بہن اور بھائی کی اسکول کی فیس بھی ادا کردیتی تھی۔ F.S.C میں اچھے نمبرز لینے کے لیے میں ساری ساری رات پڑھتی تھی اور آرام کرنے کے لیے میرے پاس صرف چند گھنٹے ہی بچتے تھے بمشکل۔ ورنہ کالج سے ٹیوشن اور پھر واپسی پر کالج کا کام۔ میں جیسے اندھا دھند بھاگ رہی تھی۔ اپنے خوابوں کے پیچھے۔ میرے خوابوں نے مجھے سچ میں سونے نہیں دیا تھا اور آج اسی محنت کی بدولت میں یہاں تھی۔ اپنے تاج محل کے سامنے۔ ایکسائٹمنٹ میں میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں‘ ہاتھ لرز رہے تھے‘ ہونٹ خشک اور آنکھوں میں روشنی تھی۔ اچانک سے تیز ہارن کی آواز نے مجھے بری طرح چونکایا اور میں اپنی سوچوں سے باہر نکلی۔ میں یونیورسٹی سے گزرنے والی سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی تھی جس کے دونوں اطراف مختلف ڈیپارٹمنٹس تھے۔ میں جلدی سے ایک سائیڈ پر ہوئی۔ اور وہ کرولا کار 18A کے ڈیپارٹمنٹ کے گیٹ سے اندر داخل ہوگئی۔ اس کے پیچھے میں بھی اپنے خوابوں کے تاج محل میں داخل ہوگئی۔ دس منٹ کے بعد میں اپنے کلاس روم کے سامنے موجود تھی۔ کلاس روم میں موجود لڑکے لڑکیوں کو دیکھ کر میرے ارادے ایک لمحے کے لیے متزلزل ہوئے‘ مگر صرف ایک لمحے کے لیے۔ اس کے بعد میں اپنے اذلی اعتماد سے چلتی ہوئی کلاس روم میں داخل ہوئی اور آخری قطار میں رکھی ایک خالی چیئر پر بیٹھ گئی۔ تمام کلاس فیلوز آپس میں شاید ایک دوسرے سے تعارف کروا رہے تھے‘ میری طرف کسی نے متوجہ ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کی شاید میرا حلیہ اور لباس ایلیٹ کلاس کا نہیں بلکہ مڈل کلاس کا مظہر تھا اور دنیا صرف مہنگے کپڑوں میں ملبوس اور مہنگی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کو ہی سب سے جلدی پہچانتی ہے جو میرے پاس نہیں تھا لیکن مجھے اس بات نے زیادہ پریشان نہیں کیا کیونکہ میں جانتی تھی کہ کچھ عرصے بعد یہی لوگ میرے آگے پیچھے ہوں گے۔ اب آپ اسے میری خوش فہمی سمجھے یا میری ذات کا اعتماد لیکن میں پر یقین تھی کہ ایسا ہی کچھ ہوگا۔

میں نے نوٹس بورڈ پر نظر ڈالی‘ جہاں پر سر حسان نے کلاس کو مختلف گروپس میں تقسیم کرتے ہوئے ان کو اسائنمنٹ کے لیے کچھ ٹاپکس الاٹ کیے ہوئے تھے۔ میں آج ایک ہفتے کے بعد یونیورسٹی آئی تھی اور پچھلے ہفتے میں میرے ابو کی ناساز طبیعت کچھ اور بگڑ گئی تھی۔ ان کی بیماری کے چکر میں‘ میں یونیورسٹی آنے کے لیے اپنے آپ کو تیار نہ کرسکی تھی۔ خیر نوٹس بورڈ پر میرے نام کے سامنے ’شہریار حسن‘ کا نام لکھا تھا‘ جسے پڑھ کر میں تھوڑا چونک گئی تھی۔ میں چونکہ یونیورسٹی ریگولرلی نہیں آسکی تھی اس لیے میں نہ ہی شہریار حسن کو جانتی تھی اور نہ ہی باقی کلاس کی کسی لڑکی یا لڑکے کو‘ یہ پہلے سمسٹر کا پہلا اسائنمنٹ تھا۔ خیر اس دن تو میں نے ابو کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا تھا‘ میں یونیورسٹی سے جلدی نکل آئی مگر اگلے دن یونیورسٹی جاتے ہی مجھے شہریار حسن کا خیال آیا کہ میں کم از کم اس سے ایک بار مل ہی لوں۔ میں نے زینیہ جو میری کلاس میٹ تھی‘ سے پوچھا شہریار حسن کے بارے میں۔ اس نے مجھے گرائونڈ میں بیٹھے ایک گروپ کی طرف اشارہ کرکے بتاتے ہوئے کہا کہ ’’وہ اس گروپ میں‘‘ وہ تھوڑا جلدی میں تھی اور میں نے بھی اس سے تفصیلات پوچھنے کی بجائے اس گروپ کی طرف جانے میں ہی عقل مندی سمجھی۔
’’ایکسکیوز می… شہریار کون ہے؟‘‘ میں نے اس گروپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ جہاں تین لڑکے اور دو لڑکیاں براجمان تھے۔ لڑکیوں کو تو میں جانتی تھی ’عروشے اور اسمارہ‘ مگر لڑکوں کو میں نہیں جانتی تھی۔
’’موسٹ ہینڈسم پرسنالٹی۔‘‘ ایک لڑکے نے تیزی سے جواب دیا۔ میں نے اس لڑکے کی طرف دیکھا۔ ڈارک برائون شرٹ اور بلیک جینز میں ملبوس بلاشبہ وہ بہت ہینڈسم اور گڈ لکنگ تھا۔ بیشک وہ گڈ لکنگ تھا مگر اس کا اس طرح جتانا مجھے زہر لگا تھا اور اس کی اس اوچھی بات نے میرا دماغ گھما دیا تھا۔
میں نے باقی دونوں لڑکوں کی طرف دیکھا وہ دونوں بھی حیرت بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ایک نے برائون پینٹ کے ساتھ ڈارک برائون لائننگ والی شرٹ پہنی ہوئی تھی‘ آنکھوں پر لگے گلاسز اس کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ وہ شہریار حسن کے جتنا ہینڈسم نہ سہی مگر اچھا خاصا گڈلکنگ تھا بعد میں مجھے اس کا نام پتہ چلا تھا معید علی اور دوسرا لڑکا جس کا نام اوصاف شاہد تھا (یہ بھی مجھے بعد میں ہی پتہ چلا تھا) بہت ہی عام سی شکل وصورت کا مالک تھا۔ میں نے اوصاف شاہد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’او اچھا آپ شہریار حسن ہیں۔‘‘ جہاں اوصاف شاہد کامنہ کھلے کا کھلا رہ گیا وہی شہر یار بھی ہکابکا رہ گیااور باقی سب بھی میری طرف حیرت سے دیکھنے لگے۔

بہت عرصے پہلے شاید تب میں فرسٹ ایئر میں تھی‘ ہمارے کالج کے باہر ایک نجومی بابا آبیٹھا۔ وہ لوگوں کو ان کے حالات کے ساتھ ساتھ مستقبل کی پیشن گوئی بھی کرتا تھا ایک دن وہاں سے گزرتے ہوئے میرے گروپ کی لڑکیوں نے بھی نجومی بابا کو ہاتھ دکھانے کا فیصلہ کیا۔ شہلا جو میری دوست تھی نے کہا۔
’’چلو یار تھوڑا شغل ہی ہوجائے گا۔ ہوسکتا ہے بابا ہمیں مستقبل کے بارے میں نئے خواب ہی دکھا دیں۔‘‘ مجھے نجومیوں پر اتنا خاص اعتبار نہیں تھا مگر دوستوں کے اصرار پر باباجی کو ہاتھ دکھانے پر رضامند ہوگئی۔ میری باری آنے پر جب میں نے بابا جی کو اپنا ہاتھ دکھایا تو نجومی بابا کے الفاظ آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہیں انہوںنے کہا تھا۔
’’بیٹا… تمہارا نصیب بہت اچھا ہے عزت‘ شہرت‘ دولت سب کچھ ہے اس میں مگر…‘‘ وہ یہاں آکر ذرا سا رکے تو میں نے بھی حیرت سے ان سے پوچھا۔
’’مگر کیا باباجی؟‘‘ ان کی ادھوری بات نے میرے اندر ایک تجسس بھردیا تھا۔ باباجی نے پرسوچ انداز میں کہا۔
’’مگر تمہارے ہاتھوں سے کسی کا خون ہوگا۔‘‘ یہ سن کر مجھ سمیت میری تمام دوستیں سکتے میں آگئیں۔ میں نے حیرت سے بابا کی طرف دیکھا۔ باباجی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’مگر بیٹا دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں تم بھی اپنے لیے بہتری کی دعا کرنا۔‘‘ باباجی کی پیشن گوئی کے بعد ہم وہاں سے اٹھ کر کالج کی وین کی طرف چل دیے۔ میری دوستوں کو میری اس بات پر بالکل یقین نہیں آیا کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ میں ضرورت سے زیادہ نرم دل ہوں۔ کسی کی تکلیف مجھ سے دیکھی نہیں جاتی تھی۔ کلاس میں بھی میں ہر ایک کی مدد کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتی تھی۔ میں تو کسی چیونٹی کو بھی نہیں مار سکتی تھی پھر ایک انسان کا قتل تو بہت دور کی بات تھی۔ یہ بات کچھ عرصے تک میرے اعصاب پر طاری رہی پھر بالآخر میں اسے بھول گئی مگر میں نے اس کے ٹلنے کی دعا نہیں کی تھی جیسا کہ باباجی نے مجھے کہا تھا۔
’’کاش میں نے تب اللہ سے دعا کی ہوتی تو شاید میری تقدیر مجھ سے ٹل جاتی۔‘‘

کچھ سیکنڈز کے بعد اوصاف شاہد کی آواز نے اس حیرت کو توڑا۔
’’سوری میں نہیں… یہ ہیں شہریار حسن۔‘‘ اس نے اسی ہینڈسم لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’اوہ…‘‘ میں آرام سے گھاس پر بیٹھتے ہوئے بولی۔ ’’پھر آپ کو یہ غلط فہمی کب اور کیسے ہوئی کہ آپ ہینڈسم ہیں اور وہ بھی یونیورسٹی میں سب سے زیادہ۔‘‘ خلاف توقع آج میرا موڈ بہت اچھا تھا اسی لیے میں اس سے بحث کرنے بیٹھ گئی تھی۔ میں عام طور پر تھوڑی منہ پھٹ تھی اور غلط بات برداشت کرنا میرے لیے بہت مشکل تھا۔ اصل میں مجھے شہریار حسن کا اپنے منہ میاں مٹھو بننا کچھ خاص پسند نہیں آیا۔
میرے سوال پر شہریار صاحب تھوڑا گڑبڑائے‘ اسے شاید مجھ سے یہ امید نہیں تھی کہ میں اس کی کہی ہوئی بات پر اس سے بحث شروع کردوں گی۔
’’پوری یونیورسٹی اس بات کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘ اس نے پراعتماد لہجے میں کہا۔
’’مگر میں تو نہیں کرتی۔‘‘ میں نے فوراً جواب دیا۔ اس پر شہریار حسن سے کوئی جواب نہ بن پایا اور اسے لاجواب دیکھ کر میرا دل خوشی سے بھر گیا۔
’’خیر میں یہاں اس بات پر بحث کرنے نہیں آئی۔ سر حسان نے اسائنمنٹ کی تیاری میں میرا گروپ پارٹنر آپ کو رکھا ہے‘ میں اسی سلسلے میں آپ سے بات کرنے آئی تھی۔‘‘
’’اس کی آپ فکر نہ کریں میں سر حسان سے بات کرکے اپنا گروپ پارٹنر کسی فطین اسٹوڈنٹ کے ساتھ رکھنا چاہوں گا آپ کے ساتھ نہیں کیونکہ…‘‘ اس نے ایک دم بے رخی سے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا۔ شاید اس نے مجھ سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا چاہا تھا مجھے کم ذہن سمجھ کر اور کہہ کر… مگر وہ یہ بھول گیا تھا کہ وہ اپنی وجاہت ثابت کرنے کا کوئی اسکیل نہیں رکھتا مگر ذہانت کو ثابت کرنے کے دنیا میں بہت سے اسکیل ہیں۔ بے اختیار میں اس کی بات پر ہنس پڑی۔ ہنسنے ہی کی تو بات تھی وہ مجھے یعنی ’’تعبیر حسین‘‘ کو کند ذہن کہہ رہا تھا‘ میں جس نے میٹرک سے لے کر اب تک صرف کلاس اور کالج ہی میں ٹاپ نہیں کیا تھا بلکہ ہر کلاس میں بورڈ ٹاپ کیا تھا۔ وہ شاید اخبار نہیں پڑھتا تھا ورنہ میری لکھی ہوئی تحریریں پڑھ کر اسے اندازہ ہوجاتا کہ میں کتنی کند ذہن ہوں۔ میں نے اپنی ہنسی پر قابو رکھتے ہوئے اسے کہا۔
’’اوکے… جیسے آپ کی مرضی۔ کہیں یہ مرضی آپ کو مہنگی نہ پڑ جائے۔‘‘ میں اسے جتاتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی۔
یہ ہماری پہلی ملاقات تھی اور اس کے بعد ملاقاتوں کا ایک سلسلہ تھا مگر یہ سلسلہ ویسا ہرگز نہیں تھا جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔
اس دن گھر واپسی پر میرے ابو کی طبیعت بہت خراب تھی۔ ہم انہیں ایمرجنسی میں ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے۔ انہیں ہارٹ پرابلم تھا اور ڈاکٹروں نے انہیں ایڈمٹ کرلیا تھا۔ دو دن ڈاکٹرز کے زیر نگرانی رہتے ہوئے انہیں ہاسپٹل سے چھٹی مل گئی تھی مگر ان کی طبیعت زیادہ بہتر نہیں ہوپائی تھی جس کی وجہ سے ذہنی طور پر میں بہت پریشان تھی۔ اس وجہ سے میں پورے ایک ہفتے یونیورسٹی نہیں جاسکی تھی۔ ابو کے جنرل اسٹور پر اب میرے بھائی نے بیٹھنا شروع کردیا تھا ویسے وہ آج کل B.com کررہا تھا۔ کالج کے بعد وہ جنرل اسٹور پر بیٹھ جاتا کیونکہ یہی اسٹور تو ہماری مالی مشکلات کا حل تھا۔ انس میرا بھائی بہت سمجھدار اور ذمہ دار تھا‘ اس نے اپنی ذمہ داریاں اٹھانا شروع کردی تھیں۔
ایک ہفتے بعد جب میں یونیورسٹی گئی تو میں ذہنی طور پر بھی بہت اپ سیٹ تھی۔ پہلی کلاس میں ہی بیس منٹ لیٹ تھی۔ سر افتخار جو سب سے سڑیل اور غصے والے مشہور تھے۔ میں کلاس روم کے دروازے پر کھڑی یہ سوچ رہی تھی کہ اندر جائوں یا نہ جائوں۔
’’مے آئی کم ان سر؟‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
’’No‘‘ سر افتخار کی طرف سے سختی سے جواب آیا۔ وہ لیٹ آنے والے اسٹودنٹس کو بہت ناپسند کرتے تھے۔ میں ان سے بنا بحث کیے واپس مڑ آئی کیونکہ وہ مجھے مکمل طور پر نظر انداز کرکے اپنا لیکچر دوبارہ شروع کرچکے تھے۔ میں گرائونڈ میں موجود ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔
’’السلام علیکم!‘‘ کچھ دیر بعد مجھے اپنے قریب آواز سنائی دی۔ میں نے چونک کر آنے والے کی طرف دیکھا۔ وہ اوصاف شاہد تھا۔
’’وعلیکم السلام!‘‘ میں نے حیرانی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا۔
’’آپ ایک ہفتے سے نظر نہیں آئیں سب ٹھیک تو ہے ناں؟‘‘ اس نے فکرمندی سے پوچھا۔ اس نے بلیک جینز کے ساتھ اسکائی بلیو شرٹ پہنی ہوئی تھی‘ وہ عام سی شکل وصورت کا مالک تھا مگر اس کے چہرے پر بلا کی کشش تھی۔ سانولی رنگت‘ ہلکے گھنگریالے بالوں کے ساتھ وہ کافی ڈیسنٹ لگ رہا تھا۔
’’جی گھر میں تھوڑا کام تھا۔‘‘ میں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا۔
’’اگر آپ کو پچھلے ہفتے کے نوٹس چاہئے ہوں تو آپ مجھ سے لے سکتی ہیں۔‘‘ اس نے مجھے آفر کرتے ہوئے کہا۔
’’اور سر حسان کے اسائنمنٹ میں بھی آپ کا کوئی پارٹنر نہیں ہے‘ آپ چاہیں تو میری مدد لے سکتی ہیں۔‘‘
’’جی بہت شکریہ۔‘‘ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ مجھے اس کا اس طرح آفر کرنا اچھا نہیں لگا تھا۔
’’ٹھیک ہے جب آپ کو مدد کی ضرورت ہو آپ مجھے بتاسکتی ہیں۔‘‘ وہ کہتا ہوا گرائونڈ سے نکل گیا۔
مجھے اس پر غصہ آگیا مجھے بھلا اس کی مدد کی کیا ضرورت تھی۔ میں خود ہر کام مینج کرسکتی ہوں۔ سر حسان کے اسائنمنٹ میں صرف دو دن باقی تھے اور بہت کام پڑا تھا۔ ابو کی بیماری کی وجہ سے میں اس اسائنمنٹ کو شروع بھی نہ کرسکی تھی۔ میری اپنی کلاس میں کسی بھی لڑکی سے ہیلو ہائے نہ تھی۔ خیر میں نے جلدی میں اس اسائنمنٹ پر کام ختم کرکے مقررہ دن جمع کروا دیا تھا۔

میں نے فیصل آڈیٹوریم میں داخل ہوکر ادھر ادھر دیکھا۔ پورا حال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا‘ سامنے اسٹیج پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ساتھ نامور اساتذہ اور مہمان خصوصی براجمان تھے۔ میں نے ایک طرف اپنی پوری کلاس کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ عروشے نے میری طرف اشارہ کیا اور میں اس کی طرف چل دی۔ وہ کلاس میں واحد لڑکی تھی جو میری کسی حد تک دوست تھی۔ جس سے میں ہیلو ہائے کرتی تھی اور فری پریڈز میں اس کے ساتھ گپ شپ کرلیتی تھی اور اس کا رویہ بھی میرے ساتھ کافی حد تک اچھا تھا۔
’’کہاں رہ گئی تھی؟ کب سے انتظار کررہی ہوں۔‘‘ عروشے نے مجھے اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے دیکھ کر اونچی آواز میں کہا۔
’’ہاں بس تھوڑا لیٹ ہوگئی۔‘‘ میں نے مدہم آواز میںکہا۔
’’آج یہ تقریب ایک تقریری مقابلے کے لیے منعقد کی گئی تھی جس میں یونیورسٹی کے نامور طلباء جو نامور مقرر بھی تھے کا مقابلہ تھا اور اس مقابلے میں میں نے بھی اپنا نام لکھوایا تھا۔ آخر میں ایک رائٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی مقرر بھی تھی۔ میرے قلم میں جتنا کاٹ تھا میری زبان بھی اتنے ہی تیر پھینکتی تھی‘ مگر یہ بات اب تک میری کلاس نہیں جانتی تھی۔ مزے کی بات تو یہ کہ ایک دم میری کلاس فیلوز میں سے کچھ لوگ رائٹر تعبیر حسین کے بارے میں بات کررہے تھے‘ تعریف کررہے تھے‘ سراہ رہے تھے‘ مگر کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ رائٹر میں ہوں۔ کیونکہ ابھی تک مجھے اپنے جوہر دکھانے کا موقع نہیں ملا تھا۔ اسٹیج پر موجود اینکر نے شہریار حسن کا نام پکارا۔ میں نے حیران ہوتی نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ آج بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس اپنے سلکی بالوں کو جیل کے ساتھ خوب صورت اسٹائل میں جمایا ہوا تھا۔ بلاشبہ وہ مردانہ وجاہت کا ایک شاہکار تھا‘ جو اس وقت بھی بھرپور تالیوں میں اسٹیج کی طرف بڑھتا ہوا اتنا باوقار اور بارعب لگ رہا تھا جیسے یہ ساری محفل اسی کے لیے سجائی گئی ہو۔ اس نے اپنی تقریر شروع کی اور اس کے شروع کے چند منٹوں میں ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ کتنا اچھا مقرر تھا۔ اس کی خوب صورت بارعب آواز‘ دلکش لہجہ اور زہر آلود الفاظ سب نے جیسے ہال میں سحر پھونک دیا تھا۔ سب خاموش ہوکر اس کی تقریر میں کھوگئے تھے۔ پانچ منٹ کے مقررہ وقت پر اس نے تقریر ختم کی اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ بلاشبہ وہ ایک بہترین تقریر تھی۔
’’واہ… کیا زبردست پرسنالٹی ہے یار اور اوپر سے تقریر اتنی شاندار‘ دیکھنا یہی ونر ہوگا۔‘‘ عروشے نے میرے کان میں کہا۔
اس کے بعد یکے بعد دیگرے تین اور مقرروں کو بلایا اور انہوں نے بھی اپنی تقریر میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ شہریار حسن میرے پیچھے والی قطار میں بیٹھا تھا اور وہ کافی پراعتماد بھی تھا۔
مگر اصل جھٹکا سب کو تب لگا جب اینکر نے ’’تعبیر حسین‘‘ کا نام پکارا تھا اور مجھے نشست سے اٹھتے دیکھ کر پوری کلاس ساکت رہ گئی۔ اسٹیج پر جاکر میں نے اپنی تقریر مخصوص انداز میں شروع کی۔ اگر کسی مقرر نے کوئی کسر چھوڑی تھی تو وہ تعبیر حسین نے پوری کردی تھی۔ میں ہمیشہ سے ایک اچھی مقررہ رہی تھی اور اس بار میں نے اپنی تقریر پر دل وجان سے محنت بھی کی تھی۔
میری تقریر کے اختتام پر مہمان خصوصی منسٹر طلعت حسین شاہ نے کھڑے ہو کر تالی بجائی تھی اور میں نے میلہ لوٹ لیا تھا۔ مقابلے کے اختتام پر بنا کسی اختلاف کے مجھے اول پوزیشن کا حق دار ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ سب کچھ جہاں میری کلاس کے لیے حیران کن تھا وہیں شہریار حسن کے لیے پریشانی کا باعث۔ یہ ابتداء تھی اور انتہا ابھی باقی تھی۔

’’مس تعبیر حسین آپ نے یہ اسائنمنٹ نیند میں کیا تھا کیا؟‘‘ سر حسان کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ کافی مایوس لگ رہے تھے‘ میری کارکردگی سے۔ آج دو ہفتوں کے بعد انہوں نے کلاس میں تمام اسائنمنٹس ڈسکس کرنے کے لیے ایک ایکسٹرا کلاس رکھی تھی تاکہ اسٹوڈنٹس کو ان کی ترجیحات کا علم ہوسکے۔
شہریار حسن کی اسائنمنٹ کو بہترین قرار دیتے ہوئے انہوں نے دوسری اسائنمنٹ میری اٹھالی تھی۔ شہریار حسن کے مقابلے میں میری کارکردگی صفر تھی۔ اپنے ابو کی بیماری کی وجہ سے میں واقعی اس اسائنمنٹ پر دھیان نہیں دے سکی تھی۔
’’آپ نے ٹاپک سے ریلیٹڈ کچھ بھی نہیں لکھا۔‘‘
انہوں نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ میں ان کی بات سن کر ساکت رہ گئی تھی کیا مجھ سے واقعی اتنی بڑی غلطی ہوگئی تھی کہ میں نے ٹاپک سے ہٹ کر لکھا تھا۔
’’یہ پکڑیں اور اس کو دوبارہ لکھئے۔‘‘ مسلسل خاموشی کو اقبال جرم سمجھتے ہوئے انہوں نے مجھے میرا اسائنمنٹ پکڑا دیا تھا اور میں واپس بیٹھ گئی تھی۔ اس بار مجھ پر ہنسنے کی باری شہریار حسن کی تھی اور اس نے اس کا بھرپور فائدہ بھی اٹھایا۔ کلاس ختم ہونے کے بعد جیسے ہی میں کلاس سے نکلی اس نے مجھے آگھیرا۔
’’ہیلو… مس تعبیر حسین…‘‘ اس نے بھرپور انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔ بلیک ٹی شرٹ اور بلیک جینز میں اس کی مردانہ وجاہت میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ میں نے اس کی طرف حیران نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہائے…‘‘
’’اب تو آپ سمجھ ہی گئی ہوں گی کہ میں نے آپ کے ساتھ پارٹنر شپ کیوں نہیں کی۔‘‘ اس نے مجھے جتاتے ہوئے کہا۔
’’ارے تعبیر تم یہاں ہو‘ پلیز میرے ساتھ مین لائبریری تک چلو۔ مجھے ایک بک چاہیے۔‘‘ عروشے نے میرا بازو کھینچتے ہوئے کہا۔ اور میں اس کے ساتھ چل پڑی۔ ساتھ چلتے چلتے ایک دم عروشے نے مجھ سے پوچھا۔
’’یہ شہریار تمہیں کیا کہہ رہا تھا؟‘‘
’’ابھی تو کچھ نہیں کہا تھا۔ کہنے لگا تھا مگر تم نے سننے کہاں دیا۔‘‘ میں نے بھی اسے خوشگوار انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا۔

’’ڈاکٹر صاحب… بچے کی حالت کیسی ہے اب؟‘‘ میں ڈاکٹر کو i.c.u سے باہر نکلتے دیکھ کر ان کی طرف لپکی۔
’’بچے کی حالت بہت نازک ہے‘ آپ دعا کیجیے اور خون کا بندوبست بھی۔‘‘ ڈاکٹر نے پریشانی سے میرے ساتھ چلتے ہوئے کہا۔
’’ویسے آپ ان کی کیا لگتی ہیں؟‘‘ انہوں نے اچانک مجھ سے سوال کیا۔
’’میں خالہ ہوں اس کی۔‘‘ میں نے سوچتے ہوئے تیزی سے کہا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ ڈاکٹر کو پتہ چلے کہ میری گاڑی کی ٹکر سے یہ بچہ اس قدر زخمی ہوا ہے۔ ورنہ ڈاکٹر پولیس کیس بنائے بناء علاج کرنے سے انکار کردیتا۔ اسی خطرے کے پیش نظر میں نے جھوٹ بولا تھا۔
’’آپ باقی فیملی کو کال کرلیں اور خون کا ارینج بھیB+ بلڈ گروپ…‘‘
’’بچے کے والدین باہر ہیں ملک سے۔ اسی لیے یہ میرے ساتھ رہ رہا ہے۔ خون کا بندوبست میں کرتی ہوں۔‘‘
آج کالج سے واپسی پر موڑ کاٹتے ہوئے یہ بچہ نجانے کہاں سے اچانک سے میری گاڑی کے سامنے آگیا تھا۔ بریک لگانے کے باوجود گاڑی نے بچے کو ٹکر مار دی۔ میں دروازہ کھول کر گاڑی سے باہر نکلی تو مجھے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا‘ میں بچے کو لے کر فوراً ہی سٹی ہاسپٹل پہنچی۔ جہاں ڈاکٹر نے بچے کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور مجھے اس کی حالت سے مطلع کیا۔ دس منٹ کے بعد میں نے ڈاکٹر کو i.c.u کے سامنے دیکھا تو میں دوڑ کر ان تک پہنچی۔
’’ڈاکٹر صاحب‘ میرا بلڈ گروپ B+ ہے میں دوں گی جتنا بلڈ چاہیے۔‘‘
’’ok آپ آئیں میرے ساتھ‘ آپ کے کچھ ضروری ٹیسٹ کرلیتے ہیں جلدی کیجیے۔‘‘
تمام ضروری ٹیسٹ کے بعد میرے جسم سے خون بچے کے ننھے جسم میں منتقل ہونے لگا۔ شام ہوگئی اور پھر رات اور پھر اگلی صبح بچے کی حالت میں کچھ خاص بہتری نہیں آئی اور میری پریشانی دو چند ہوگئی۔ دعائیں مانگ مانگ کر میں تھک چکی تھی۔ خون دینے کی وجہ سے اور مسلسل پریشانی میں اتنے گھنٹے بیٹھ بیٹھ کر میں بہت تھکن اور کمزوری محسوس کررہی تھی۔ صبح دس بجے کے قریب میں نے ڈاکٹر کو i.c.u سے نکل کر اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا۔
’’مس… آپ کا بچہ ہوش میں آگیا ہے‘ تھوڑی دیر میں اسے روم میں شفٹ کردیا جائے گا تب آپ اس سے مل سکیں گی۔‘‘
’’اوہ… تھینک گاڈ۔‘‘ میرے حلق سے بے اختیار پرسکون سانس خارج ہوئی۔
’’آپ بھی کچھ کھالیں‘ کل سے اسی حالت میں بیٹھی ہیں۔‘‘ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میں اٹھ کر کینٹین کی طرف آئی وہاں سے جوس کا پیکٹ پکڑ کر سوچنے لگی کہ بچے کے ماں باپ کا پتہ کیسے لگوائوں۔ ورنہ کل سے تو میرے دماغ نے کام کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ میں جوس ختم کرکے اٹھی اور چکراتے سر کے ساتھ پارکنگ کی طرف بڑھی۔ کیونکہ میرا پرس اور موبائل گاڑی میں ہی تھے۔ اپنا ہینڈ بیگ اٹھاتے ہوئے میری نظر پچھلی سیٹ پر پڑی جہاں ایک اسکول بیگ پڑا ہوا تھا۔ میں نے جلدی سے بیگ کھولا کیونکہ یہ میرے لیے امید کی ایک کرن تھا۔ جہاں بکس‘ نوٹ بکس‘ پنسلیں اور مارکرز کا ڈھیر لگا ہوا تھا‘ میں نے جلدی سے نوٹ بک اٹھائی جس کے مین کور پر اسکول کا نام درج تھا۔ میں نے جلدی جلدی ساری نوٹ بکس کھول کر دیکھیں وہاں پر بچے کا نام درج تھا صرف عاریز حسن‘ کلاس فور۔
میں ہاسپٹل کے اندر بھاگی‘ ڈاکٹر کو مطلع کرنے کے لیے کہ میں ایک گھنٹے تک آتی ہوں اور گاڑی میں آبیٹھی۔ پچیس منٹ کے بعد میں کانونٹ اسکول کی شاندار بلڈنگ کے سامنے تھی۔ میں پرنسپل کے آفس گئی‘ جہاں پر میں نے بچے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ وہ بچے کے والدین کو اطلاع کردیں یا مجھے ان کا نمبر دے دیں۔ انہوں نے ریکارڈ سے بچے کے گھر کا نمبر نکالتے ہوئے میرے سامنے ہی کال کردی اور ہاسپٹل کا نام اور روم نمبر بتادیا۔ میں نے بے اختیار سکون کا سانس لیا اور گھر واپس آکر چینج کیا اور واپس ہاسپٹل کی طرف دوڑی۔ دو دن میں میرا براحال ہوگیا تھا۔ میں روم میں داخل ہوئی تو عاریز ادویات کے زیر اثر سویا ہوا تھا۔ میں حیران تھی کہ عاریز کے والدین ابھی تک پہنچے کیوں نہیں تھے۔ دو گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد میں نے اسکول کی پرنسپل کو کال کی اور عاریز کے والدین کے بارے میں دریافت کیا‘ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ بچے کے والدین دوسرے شہر میں مقیم ہیں اس لیے وہ ابھی تک نہیں پہنچے۔ میرے پاس انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ میں عاریز حسن کے پاس بیٹھ گئی وہ بہت خوب صورت اور معصوم بچہ تھا۔ میں باہر گرائونڈ میں آگئی۔ موسم سرما کی گرم دھوپ بہت اچھی لگ رہی تھی۔ میرا دل ایک دم اداسی سے بھر گیا کیونکہ اس وقت میں بھری دنیا میں تنہا تھی۔ میرے پاس کوئی ایسا دوست اورغمگسار نہیں تھا جس کے کندھے پر سر رکھ کر میں روسکتی۔ وہ شخص جاتے جاتے اپنے ساتھ میری دنیا بھی لے گیا تھا‘ میری خوشیاں‘ میرے احساسات‘ سب اس کے ساتھ ہی دفن ہوگئے تھے۔ میں تھکے تھکے قدموں سے عاریز کے روم کی جانب چل پڑی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑی ہستی پر نظر پڑتے ہی میں ہکابکا رہ گئی۔

پہلے سمسٹر کا رزلٹ آئوٹ ہوچکا تھا اور تمام اسٹوڈنٹس نوٹس بورڈ کے سامنے جمگھٹا لگا کر کھڑے ہوئے تھے اپنا اپنا رزلٹ دیکھنے کے لیے۔
’’اللہ تعبیر تم تو واقعی چھپی رستم ہو۔ پوری کلاس کو پیچھے چھوڑ دیا۔‘‘ عروشے مجھے دیکھتے ہی چلائی۔ پورے سمسٹر کے دوران میری عروشے سے بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی اور ابھی بھی وہ مجھے میرے رزلٹ کے بارے میں آگاہ کررہی تھی۔
’’کیا بنا رزلٹ کا؟‘‘ میں نے بے قراری سے پوچھا۔
’’کیا بنا رزلٹ کا؟‘‘ عروشے نے میری نقل کرتے ہوئے کہا۔ ’’جیسے تمہیں تو پتہ ہی نہیں ہے کہ رزلٹ کا کیا بنا ہے۔ میدان مار لیا یار تم نے۔‘‘
’’اوکے… اوکے ایک بار میں خود دیکھ لوں۔‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔ کیونکہ وہ کوئی بھی بات واضح نہیں بتارہی تھی۔ کبھی تم رستم ہو‘ کبھی میدان مار لیا‘ اول فول بولے جارہی تھی۔ اپنی آنکھوں سے اپنا نام ٹاپ آف دی لسٹ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی۔ میرے بعد شہریار کا نام تھا اور اس کے بعد معید علی کا۔ میرا دل چاہا میں زور زور سے ہنسو‘ شہریار حسن پر۔ جس نے مجھے صرف ایک اسائنمنٹ میں مجھ سے زیادہ ریمارکس لینے پر طعنہ مارا تھا کہ میں کند ذہن ہوں‘ اس اسائنمنٹ کے علاوہ میں نے سے ہر پراجیکٹ میں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ میں نے اسے کبھی آگے نکلنے نہیں دیا تھا۔ میں جانتی تھی ہر بار مجھ سے ہار کر اس کی کیا حالت ہوتی ہوگی مگر وہ بے بس تھا نہ ہی وہ میری ذہانت مجھ سے چھین سکتا تھا اور نہ ہی کام کرنے کا جنون۔
آج فائنل رزلٹ والے دن بھی وہ مجھ سے پیچھے تھا۔ اس دن پوری کلاس نے مجھے مبارک باد دی تھی ماسوائے میرے حریف شہریار حسن کے جسے میں نے بری طرح پچھاڑا تھا۔ میں نے آپ کو کہا تھا نہ کہ کچھ عرصے بعد یہی قیمتی ملبوسات اور گاڑیوں والے مغرور لوگ میرے آگے پیچھے ہوں گے تو دیکھ لیجیے وہ وقت آگیا تھا صرف چند مہینوں کے بعد‘ خیر اگلے دو سمسٹرز میں بھی وہ اپنی سر توڑ کوشش کرنے کے بعد مجھ سے آگے نہیں نکل سکا تھا۔ کلاس کے تمام اسٹوڈنٹس مجھ سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے۔ میرے نوٹس کے لیے میرے آگے پیچھے پھرتے تھے اور اب پوری کلاس تعبیر حسین کی تحریروں کی دیوانی تھی۔ کبھی کوئی اپنی دوست کو اور کبھی اپنے کسی کزن کو مجھ سے ملوانے کے لیے لاتے تھے کہ یہ تعبیر حسین ہے جو اتنے خوب صورت کالمز لکھتی ہے۔ تمام ٹیچرز میری بات کو اہمیت دیتے تھے اور کوئی بھی پراجیکٹ میرے حوالے کرنے میں وہ بہت پراعتماد ہوتے تھے کہ یہ پراجیکٹ تعبیر حسین کرے گی تو بلاشبہ پرفیکٹ ہوگا۔ فورتھ سمسٹر میں سر حسان نے ایک دن مجھے اپنے آفس بلایا۔ وہ میرے پسندیدہ اور بہترین ٹیچر تھے۔ سچے‘ کھرے‘ ایمان دار‘ محنتی‘ بے حد قابل اور فعال‘ ان کے جیسا قابل استاد میں نے آج تک نہیں دیکھا تھا وہ دیکھنے میں بھی اتنے گڈ لکنگ تھے کہ بس بیان سے باہر۔ جب میں آفس پہنچی تو شہریار حسن وہاں پہلے سے موجود تھا۔ میرا ازلی حریف‘ ہم نے زبان سے کبھی کچھ نہیں کہا تھا مگر سب جانتے تھے کہ ہمیں ایک دوسرے سے اللہ واسطے کا بیر تھا۔ اس وقت بھی سر حسان کے سامنے والی چیئر پر بیٹھا ڈارک بلیو شرٹ اور بلیو جینز میں ملبوس وہ انتہائی مغرور لگ رہا تھا۔ وہ جتنا ہینڈسم تھا اس کی ڈریسنگ بھی اتنی ہی شاندار تھی۔ ڈیپارٹمنٹ کی تمام لڑکیاں نہ صرف اس سے دوستی کی خواہش مند تھیں بلکہ اس کے لیے وہ دل وجان سے کوشش بھی کرتی تھیں۔ اور وہ بھی پچھلے ڈیڑھ سال میں مختلف لڑکیوں کے ساتھ پایا گیا تھا۔
’’آئیے مس تعبیر حسین آپ وہاں کیوں کھڑی ہیں؟‘‘ سر حسان کی آواز نے مجھے سوچوں سے نکالا۔
میں شہریار حسن کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔
’’آپ دونوں کو میں نے اس لیے بلایا ہے کیونکہ فورتھ اینڈ فائنل سیمسٹر کے فائنل پراجیکٹ کے لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ دونوں ایک ساتھ کام کریں۔ میں سمجھتا ہوں آپ دونوں ہی بہت قابل اور ذہین اسٹوڈنٹس ہیں اگر آپ اس پراجیکٹ پر مل کر کام کریں گے تو یہ اب تک کا فائنل بہترین پراجیکٹ ہوگا۔‘‘ سر حسان نے ہم دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
’’میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ دونوں میں کچھ خاص دوستی نہیں ہے اس لیے میری آپ لوگوں کو یہ تجویز ہے کہ آپ اپنے اختلافات بھلا کر اس پراجیکٹ پر کام کریں کیونکہ یہ مستقبل میں آپ کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ آپ لوگوں کو کوئی اعترض ہو تو آپ مجھے بتاسکتے ہیں۔‘‘
شہریار حسن سے دشمنی اپنی جگہ مگر میں سر حسان کی کوئی بات نہیں ٹال سکتی تھی۔ کیونکہ وہ میرے محسن اور آئیڈیل تھے۔ اس سے پہلے کہ شہریار حسن کچھ بولتا میں نے فوراً سے کہا۔
’’مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے سر۔‘‘ اور کچھ لمحوں کے بعد شہریار حسن نے بھی اس کی تائید کردی۔
سر نے ہمیں پراجیکٹ کی تمام تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے اپنی بھرپور مدد کی آفر کی۔ سر کی اجازت سے ہم سر کے آفس سے نکلے۔ ہم دونوں ہی خاموش تھے۔ ڈیپارٹمنٹ لائبریری کے پاس پہنچتے ہی میں نے پہل کرتے ہوئے کہا۔
’’مسٹر شہریار حسن اگلے دو دن میں بہت بزی ہوں۔ میرے بھائی کی شادی ہے‘ اب ہم پیر سے ہی اس پراجیکٹ پر کام کرسکیں گے۔‘‘ شہریار حسن نے فوراً مجھے اوکے کہا اور کلاس روم کی جانب چل پڑا۔ اس کے موڈ اور مختصر بات کرنے سے یہ بات صاف ظاہر تھی کہ وہ میرے ساتھ کام کرنے پر کچھ زیادہ خوش نہیں تھا اور ہونا بھی نہیں چاہیے تھا کیونکہ وہ میں ہی تو تھی جس نے اس کے غرور کو ٹھکانے لگایا تھا۔
اگلے تین دن بھائی کی شادی کے سلسلے میں بہت مصروف گزرے۔ میرا بھائی مجھ سے چھوٹا اور ماوریٰ سے بڑا تھا مگر میری امی کو اس کے سر پر سہرا دیکھنے کا بہت ارمان تھا۔ اور پھر انہوں نے جب اپنے لیے B.com کے دوران اپنی کلاس فیلو کو پسند کرلیا تو ہم نے بھی اس کی خواہش کو رد نہ کیا‘ ماوریٰ جو گریجویشن کرچکی تھی اسے پڑھنے کا کوئی خاص شوق نہیں تھا مگر گھر کے کاموں میں اس کا شوق دیدنی تھا۔ گریجویشن بھی اس نے مر مر کر کیا تھا اور اب ایم اے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ ابتدائی مراحل کے بعد اب انس کی شادی ہونے جارہی تھی۔ جمعتہ المبارک کے روز فائزہ ہماری بھابی کے روپ میں ہمارے گھر آچکی تھی۔ وہ بھی مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اس لیے ہمیں اس کی ایڈجسٹمنٹ کی زیادہ فکر نہ تھی۔ آخر یہ چار دن بھی گزر گئے۔

پیر کے دن ہماری پہلی کلاس نو بجے ہوئی تھی اس لیے میں نو بجے یونیورسٹی میں موجود تھی لیکن کلاس کے دوران مجھے کہیں شہریار حسن نظر نہیں آیا تھا۔ دو گھنٹے کی کلاس ختم ہوگئی مگر شہریار حسن کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ ہم پہلے ہی چار دن لیٹ ہوچکے تھے اور اگلے مہینے کے پہلے ہفتے میں ہمیں اپنا پراجیکٹ جمع کروانا تھا اور آج دس تاریخ تھی دیکھا جائے تو صرف ایک ماہ ہی بچا تھا۔ وقت بہت کم تھا اور کام بہت زیادہ اور مجھے شہریار حسن کی غیر موجودگی کی وجہ سے آج کا دن بھی ضائع ہوتا نظر آرہا تھا۔ میرے پاس اس کا کنٹیکٹ نمبر بھی نہیں تھا لیکن بارہ بجے کے قریب میں نے اسے کلاس روم کے دروازے پر دیکھا تھا۔ وہ لیٹ تھا مگر شکر کہ وہ آگیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک بہت ہی خوب صورت اور ماڈرن لڑکی سرخ اور پیلے رنگ کے خوب صورت فراک میں ملبوس تھی۔ اس کے ساتھ اس نے ہم رنگ چوڑی دار پائجامہ پہنا ہوا تھا۔ ریڈ کلر کا اسٹائلش سا جوتا اس کے پائوں کی دلکشی میں مزید اضافہ کررہا تھا۔ بلاشبہ وہ ایک حسین لڑکی تھی۔ گوری رنگت اور لمبے سنہری بال اس کے حسن کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ وہ واقعی شہر یار حسن جیسے بندے کے ساتھ کھڑی جچ رہی تھی۔ شہریار حسن بھی کافی پرجوش اور خوش دکھائی دے رہا تھا۔ جیسے وہ اس لڑکی کی ہمراہی کو اپنے لیے باعث فخر سمجھ رہا تھا۔
’’ان سے ملیے یہ ہے علیزہ ہاشمی میری کزن اور…‘‘ شہریار حسن نے اس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا۔ ایک لمحے کو رکتے ہوئے اس نے محبت پاش نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے اپنا فقرہ مکمل کیا۔
’’میری ہونے والی منگیتر… کچھ ماہ میں ہماری منگنی ہونے والی ہے۔‘‘ وہ اس بات سے کتنا خوش تھا اور وہ اس لڑکی سے کتنی محبت کرتا تھا یہ اس کی باڈی لینگویج سے صاف ظاہر ہورہا تھا۔ اس نے اسے اپنے تمام فرینڈز سے باری باری ملوایا تھا۔ میں بھی اس منظر کو کافی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔ سب سے ملوانے کے بعد وہ میری طرف بڑھا۔
’’یہ ہیں تعبیر حسین‘ ہماری کلاس کی سب سے ذہین لڑکی‘ بہت ہی اچھی رائٹر مقرر اور میری سب سے بڑی اور کھلم کھلا حریف۔‘‘ اس نے میرا یہ تعارف کروا کر جیسے اپنی ہار تسلیم کی ہو جس کی مجھے بالکل توقع نہیں تھی۔ میں نے خیر مقدمی انداز میں اپنا ہاتھ آگے کیا اور اس نے پرتکلف انداز میں تھام لیا۔
’’بہت ذکر سنا تھا میں نے آپ کا اور آج دیکھ بھی لیا۔‘‘ علیزہ نے کافی سرد لہجے میں کہا۔ میں بھرپور طریقے سے مسکرائی کیونکہ میں جانتی تھی کہ اس نے میرا ذکر کس حوالے سے سنا ہوگا اور وہ اپنے منگیتر کی وجہ سے میرے لیے کیا جذبات رکھتی ہوگی۔
’’تعبیر میں آپ سے پراجیکٹ کے سلسلے میں ایک گھنٹے میں ملتا ہوں‘ لائبریری میں۔ آئیے علیزہ…‘‘ شہریار حسن نے یہ بات بھی کافی خوشگوار انداز میں کہی تھی جس پر مجھے بہت حیرت ہوئی تھی شاید وہ علیزہ کی وجہ سے اچھے موڈ میں تھا۔
میں فارغ ہونے کے بعد لائبریری چلی گئی اور وہ بھی ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد لائبریری میں تھا۔ اس کا میرے ساتھ رویہ بہت حیران کن تھا۔ وہ اس طرح مجھ سے بات کررہا تھا جیسے ہم پرانے دوست ہوں۔ اس کے اتنے اچھے رویے کے جواب میں مجھے بھی ہماری دشمنی بھلانا پڑی تھی۔ ریسرچ‘ سروے‘ تجزیے‘ حقائق کو ثابت کرنے میں کب ہمارا مہینہ ختم ہوا ہمیں پتہ بھی نہیں چلا۔ اس دوران مجھے یہ ضرور پتہ چل گیا کہ وہ ویسا نہیں تھا جیسا میں نے اسے سمجھا تھا۔ وہ کھلم کھلا میری ذہانت کا اعتراف کرتا تھا اور اس نے مجھے پہلی ملاقات میں کند ذہن کہنے کی معافی بھی مانگ لی تھی۔ اس نے مجھ سے وعدہ بھی لیا تھا کہ میں اس کی اور علیزہ کی منگنی میں ضرور شرکت کروں گی۔ میرے اس کے بارے میں جو خیالات تھے وہ بالکل بدل گئے تھے۔ بلکہ میں کسی حد تک ان پر نادم بھی تھی۔ آخر دس ستمبر کا دن آپہنچا جب ہمیں اپنا فائنل پراجیکٹ نہ صرف جمع کروانا تھا بلکہ ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ‘ ہیڈ آف دی پراجیکٹ‘ مائیکرفنانس کمیٹی اور بھی بہت سے ماہرین جو کچھ پاکستان سے تھے اور باقی بیرون ملک سے آئے ہوئے تھے کے سامنے ریپریزینٹ کرنا تھا۔ ہم نے اس پراجیکٹ کے لیے دن رات محنت کی تھی پراجیکٹ کو بہترین اور پریزنٹیشن کو اعلیٰ بنانے کے لیے‘ میں کافی ایکسائیٹڈ تھی میں جانتی تھی کہ سر حسان کس قدر خوش ہوں گے کہ ہم نے ان کے اعتبار کو توڑا نہیں۔
دس بجے تمام لوگ وہاں جمع تھے تمام انتظامات مکمل تھے۔ ہماری پوری کلاس اپنے پراجیکٹس کے ساتھ وہاں موجود تھی۔ سر حسان نے مجھے اور شہریار کو بیسٹ آف لک کہا۔ میں تو کافی پر اعتماد تھی مگر مجھے شہریار حسن کچھ پریشان لگ رہا تھا شاید وہ نروس تھا۔ مائیک پر ہمارا نام لیا گیا‘ پروجیکٹر پر سلائیڈز کے ذریعے ہمارے نام اور پراجیکٹ کا ٹاپک دکھایا گیا‘ میں کافی اعتماد سے چلتی ہوئی اسٹیج تک پہنچی۔ اپنا اور پراجیکٹ کا تعارف کروانے کے بعد میں نے پریزنٹیشن کا آغاز کیا۔ پہلی سلائیڈ… دوسری سلائیڈ… تیسری سلائیڈ… میں حیرت سے سلائیڈز کی طرف دیکھ رہی تھی۔ چند لمحوں میں میری حیرانی پریشانی میں تبدیل ہوئی اور اس کے بعد میرے پائوں کے نیچے سے زمین سرکنا شروع ہوگئی تھی۔

تعبیر حسن کے چہرے پر ہوائیاں اڑتے دیکھ کر میرے دل کو ایک پل کے لیے خوشی نصیب ہوئی‘ مگر اگلے ہی لمحے جب اس نے میری طرف دیکھا تو جیسے میرا دل دھڑکنا بھول گیا۔ اس کی آنکھوں میں نجانے کیا تھا دکھ‘ تکلیف‘ حقارت‘ نفرت اور بھی نجانے کیا کچھ… وہ تیزی سے اسٹیج سے اتری اور بھاگتی ہوئی ہال سے چلی گئی۔ میں جانتا تھا اس وقت وہ کس قدر تکلیف میں ہوگی کیونکہ اس نے دھوکہ کھایا تھا وہ بھی اپنے سب سے بڑے حریف پراعتبار کرکے۔ میں نے اسے یہ دھوکہ بلاوجہ نہیں دیا تھا بلکہ وہ اس کی مستحق تھی۔ وہ اپنے آپ کو بہت ذہین سمجھتی تھی مگر میں نے اسے منہ کے بل گرادیا تھا۔ وہ اب کسی کو منہ نہیں دکھا سکتی تھی۔ میں نے اسے اس قابل چھوڑا ہی کہاں تھا۔ اس نے بھی تو مجھے کوئی کم تکلیفیں نہیں دیں‘ پچھلے ڈیڑھ سال سے وہ مجھے تکلیف پر تکلیف دے رہی تھی‘ میں یعنی شہریار حسن اپنے والدین کی اکلوتی اولاد‘ ذہین‘ فطین‘ ہینڈسم اور محنتی بیٹا تھا جس پر وہ جتنا فخر کرتے کم تھا۔ میں نے ہمیشہ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے اعلیٰ گریڈز حاصل کیے تھے‘ نصابی سرگرمیوں کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ تقریری مقابلہ ہویا ٹینس کا میچ‘ میں نے کسی کو آگے نکلنے نہیں دیا تھا۔ M.B.A کرنے کے لیے بھی میں بیرون ملک جانا چاہتا تھا مگر میرے والدین نے اپنے لاڈلے اکلوتے سپوت کو اپنی نظروں سے دور کرنا مناسب نہیں سمجھا اور مجھے مجبوراً پنجاب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا پڑا۔ یہاں بھی ایک ہی ہفتے میں پوری کلاس میری خوبیوں کی قائل ہوچکی تھی۔ میری گڈلکنگ نے جہاں میری کلاس سمیت میرے ڈیپارٹمنٹ پر بجلیاں گرائی تھیں وہیں میری ذہانت اور حاضر جوابی کا بھی چرچا تھا پروفیسر بھی میری اہمیت کو تسلیم کرتے تھے۔ کلاس میں موجود تعبیر حسین نام کی عام سی لڑکی کو تو میں جانتا تک نہ تھا۔ اس سے میری پہلی ملاقات تب ہوئی جب وہ اسائنمنٹ کے سلسلے میں مجھ سے ملنے آئی اور اس نے میری گڈلکنگ کو محض میری خام خیالی کہا اور مجھ سے اس بات کا ثبوت مانگ لیا جب میں نے اسے کہا کہ ’’یہ بات پوری یونیورسٹی تسلیم کرتی ہے۔‘‘ تو اس نے انتہائی بے نیازی سے کہا تھا۔ ’’میں تو نہیں کرتی۔‘‘ وہ عام سی لڑکی نارمل شکل وصورت کی مالک اس وقت بھی وہ معمولی پنک کلر کاسوٹ پہنے سر پر سلیقے سے دوپٹہ لیے اتنی پراعتماد تھی جیسے وہ اس ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ ہو اس کی گہری کالی آنکھیں اس کے ذہین دماغ کی غماز تھیں۔ مگر مجھے تب یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ مجھ سے زیادہ ذہین ہے۔ اس نے مجھ سے اسائنمنٹ کے بارے میں پوچھا تھا اور میں نے اسے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ آپ اس بارے میں فکر نہ کریں میں سر حسان سے کہہ کر اپنا گروپ کسی ذہین وفطین بندے کے ساتھ رکھنا چاہوں گا‘ آپ کے ساتھ نہیں۔‘‘ میں نے اسے اس طرح کند ذہن ہونے کا طعنہ بلا سوچے سمجھے دیا تھا مگر مجھے کچھ ہی عرصے میں پتہ چل گیا تھا وہ طعنہ کس قدر مہنگا پڑا تھا۔ وہ نہ صرف ذہین تھی بلکہ اعلیٰ درجے کی ذہین تھی۔ اس اسائنمنٹ کے علاوہ میں اسے کبھی پیچھے نہ چھوڑ سکا تھا۔ میری شب وروز کی محنت بھی مجھے اس سے آگے نہیں نکال سکی تھی وہ ہر امتحان میں اور ہر نصابی اور غیر نصابی سرگرمی میں مجھ سے آگے تھی۔ اس نے میری جگہ چھین لی تھی۔ تمام کلاس فیلوز اب اس کے گرد جمع تھے کوئی اس کی تقریر کا دیوانہ تھا تو کوئی تحریر کا‘ سب اس کے نوٹس کو اہمیت دیتے تھے‘ پروفیسرز اس کی رائے کو بہترین سمجھتے تھے اور ان سب کے دوران وہ مجھے جن نظروں سے دیکھتی تھی میرے لیے مر جانے کا مقام ہوتا تھا۔ اس عرصے میں‘ میں اس قدر پریشان ہوا تھا کہ میں نے گھر سے باہر نکلنا تک چھوڑ دیا تھا۔ آئوٹنگ‘ پارٹیاں‘ ہلہ گلہ سب آہستہ آہستہ مجھ سے چھوٹ گیا تھا۔ میرے سامنے صرف ایک ہی مقصد رہ گیا تھا‘ تعبیر حسین کو پیچھے چھوڑنے کا۔ میری اس خواہش نے جنون کا روپ دھار لیا تھا۔ میرے والدین بھی میرا یہ جنون دیکھ کر پریشان تھے کیونکہ میں کبھی اسٹڈیز کے پیچھے اس طرح پاگل نہیں ہوا تھا۔ تین سمسٹرز گزر جانے کے باوجود میں تعبیر حسین کو پیچھے چھوڑنے میں بری طرح ناکام رہا تھا۔ فورتھ سمسٹر کے تیسرے ہفتے میں سر حسان نے مجھے اپنے آفس میں بلایا۔ میرے وہاں پہنچنے کے چند منٹ بعد ہی میں نے اسے نمودار ہوتے دیکھا۔ وہ آج لائٹ ریڈ کلر کے لانگ شرٹ اور ہم رنگ ٹراوزر میں ملبوس تھی۔ وہ خوب صورت نہیں تھی مگر بہت پرکشش تھی۔ وہ میرے ساتھ والی چیئر پر آکر بیٹھ گئی تو سر حسان نے ہمیں بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم فائنل پراجیکٹ میں ایک ساتھ کام کریں۔ تعبیر حسین نے بناء کسی اعتراض کے سر حسان کا پرپوزل قبول کرلیا تھا تو مجھے بھی مجبوراً اوکے کرنا پڑا۔ ورنہ سر سمجھتے کہ سارے اختلافات میری طرف سے ہیں۔ سر نے ہمیں کچھ تفصیل بتائی اور ہم آفس کے باہر نکل آئے۔ وہ چار دن کی چھٹی پر جارہی تھی اس کے ساتھ پراجیکٹ کرنے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ہوتی بھی کیوں‘ وہ ہی تو تھی جس نے میری اہمیت کو ہر جگہ ختم کردیا تھا۔ میں اس بات پر خاصا برہم تھا کہ سر حسان نے مجھے اس کے ساتھ پراجیکٹ کرنے کے لیے کیوں کہا۔ گھر آنے کے بعد بھی میں مسلسل اسی کے بارے میں سوچتا رہا‘ آخر چار دن مسلسل سوچنے کے بعد میرے ذہن میں وہ پلان آہی گیا جس سے میں تعبیر حسین سے سارے بدلے لے سکتا تھا‘ اس کو نیچے گرا سکتا تھا‘ اس کا جرم بھی تو بہت بڑا تھا۔ مجھے یعنی شہریار حسن کو پیچھے چھوڑ دینے کا (میں شاید تب غرور میں تھا) تب میرے دل کو تھوڑا سکون ہوا۔ جیسے جلتے میں کسی نے پانی ڈال دیا ہو۔ میں نے پیر سے ہی اپنے پلان پرکام شروع کردیا تھا۔ میں اپنے ساتھ اپنی کزن علیزہ ہاشمی کو بھی یونیورسٹی لے گیا تھا۔ وہ صرف میری کزن ہی نہیں تھی بلکہ ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے اور چند مہینوں میں ہماری منگنی ہونے والی تھی۔ وہ اتنی شاندار پرسنالٹی کی مالک تھی کہ مجھے اسے اپنا ہمسفر بنانے میں کوئی عار نہ تھی وہ مجھے ڈیزرو کرتی تھی۔ میں ایک تو تعبیر حسین کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ میری چوائس کس قدر خوب صورت ہے اور دوسرا اسے مطمئن بھی کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ میرے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ہوئے کبھی یہ خیال نہ کرے کہ میں اسے ٹریپ کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ میں نے اس دن پہلی بار تعبیر حسین سے ہنس کر اور خوشگوار انداز میں بات کی یقینا وہ حیران ہوئی ہوگی لیکن اسے اپنے جذبات پر بہت کنٹرول تھا۔ وہ علیزہ سے بھی بہت خوشگوار انداز میں ملی جیسے اسے بہت خوشی ہوئی ہے مگر میں جانتا تھا کہ وہ جل کر رہ گئی ہوگی۔ اس کے بعد ہمارا پراجیکٹ کے حوالے سے بہت سا وقت ساتھ گزرنے لگا۔ میں اسے بہت توجہ دیتا تھا‘ اس کی ذہانت کا اعتراف کرتا تھا اور وہ بیوقوف لڑکی خوش ہوتی رہتی تھی۔ کبھی کبھی وہ مجھے گہری نگاہوں سے دیکھتی تو مجھے لگتا کہ وہ میرے اندر تک پہنچ گئی ہے مگر وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکی۔ اس کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے اس کی کچھ عادتوں اور خوبیوں کا پتہ چلا۔ وہ کافی حد تک مذہبی تھی۔ کام کے دوران بھی وہ نماز پڑھنے کے لیے اٹھ جاتی تھی۔ ہر ایک کی مدد کے لیے وہ ہمہ وقت تیار رہتی تھی۔ اسے اپنی فیملی سے بہت محبت تھی۔ سب سے اہم بات یہ کہ اسے اپنے کم حیثیت ہونے پر کوئی احساس کمتری نہ تھا۔ وہ ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور میں مشہور انڈسٹریلسٹ جہانداد حسن کا اکلوتا بیٹا اور ان کی اربوں کی جائیداد کا تن تنہا وارث۔ اس دوران میں نے اسے احساس کمتری میں مبتلا کرنے کی کوشش بھی کی تھی مگر اس کا اعتماد ذرا بھی نہیں ڈگمگایا تھا۔ میں نے اسے کبھی مجھ سے متاثر نہیں دیکھا تھا۔ میں اکثر اسے گھر ڈراپ کرنے کی پیشکش کرتا تھا مگر وہ اتنے صاف انداز میں انکار کرتی تھی کہ پھر ہفتہ بھر مجھے اسے آفر کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ وہ بڑے فخر سے پوائنٹ کا انتظار کرتی اور پوائنٹ آتے ہی تیزی سے اس میں چڑھ جاتی۔
ایک مہینے میں ہمارا پراجیکٹ ریڈی تھا۔ میں نے اب دیکھا تھا کہ وہ کس قدر محنتی تھی اور کتنی محبت اور لگن سے کام کرتی تھی اور اوپر سے اللہ نے اسے شاید آئن اسٹائن کا دماغ دیا تھا جو ایک چیز اس کی نگاہوں سے گزر جاتی وہ پھر کبھی نہ بھولتی تھی۔ میرے پلان کی کامیابی کا وقت قریب سے قریب تر تھا۔ پراجیکٹ مکمل ہونے کے بعد ہم نے پریزنٹیشن تیار کی۔ نو ستمبر کو میں نے وہ سارا ڈیٹا اپنے لیپ ٹاپ میں اور USB میں محفوظ کرلیا تھا۔ میں ایک کال کا بہانہ کرتے ہوئے لائبریری سے باہر آیا اور چند منٹ بعد واپس جاکر کہا۔
’’مجھے آج گھر جلدی واپس جانا ہے شاید کوئی ایمرجنسی ہے ماما کی کال تھی۔‘‘ اس نے انتہائی فکرمندی سے کہا۔
’’ہاں ٹھیک ہے تم جائو مجھے کال کرکے بتادینا کہ سب خیریت ہے نا؟‘‘
میں نے جلدی سے لیپ ٹاپ اٹھایا۔ USB جیب میں ڈالی اور اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
’’تم فکر مت کرنا میں کل یہ ڈیٹا فائنل کرکے لے آئوں گا۔ بس تم اچھے سے تیاری کرلینا۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے کل صرف تمہارا دن ہے۔‘‘ وہ کھل کر مسکرائی۔
’’صرف میرا نہیں تمہارا بھی۔‘‘ میں تمام چیزیں لے کر گاڑی میں آبیٹھا‘ کچھ پل کے لیے تو میرا دل بھی مجھ سے بغاوت کرنے پر آمادہ ہوا تھا کہ مجھے تعبیر حسین جیسی اچھی اور مصعوم لڑکی کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ MBA کی ڈگری اس کے لیے بہت اہمیت کی حامل تھی۔ مگر پھر میرے دماغ نے ڈپٹ کر ان خیالات کو بھگایا۔ کل کے بعد میں جانتا تھا صرف تعبیر کو ہی نہیں مجھے بھی یونیورسٹی سے نکال دیاجائے گا مگر مجھے اس ڈگری کے ادھوری رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔ کیونکہ مجھے پاپا کا بزنس ہی دیکھنا تھا۔ یہ ڈگری تو میرا اور ماما پاپا کا شوق تھا‘ مگر تعبیر حسین کا سارا کیریئر تباہ ہوجاتا۔ اور یہی میں چاہتا تھا۔ صبح سات بجے ہی مجھے تعبیر کا فون آگیا۔ یہ پوچھنے کے لیے کہ کیا گھر میں سب خیریت تھی اور یہ کہ میں ان ٹائم یونیورسٹی پہنچ جائوں گا ٹھیک نو بجے۔
میں نو بج کر پندرہ منٹ پر یونیورسٹی میں تھا‘ ہال میں تمام انتظامات مکمل تھے تمام پروفیسرز اور مہمان آچکے تھے۔ سب سے پہلا پراجیکٹ میرا اور تعبیر کا تھا جو ہمیں پریزنٹ کرنا تھا‘ میں نے پروجیکٹر میں اپنی USB اٹیچ کی‘ مائیک پر ہمارا نام پکارا گیا اور تعبیر حسین انتہائی ایکسائیٹڈ انداز میں اسٹیج کی جانب بڑھی۔ تب میں نے سوچا ہر انسان آنے والے لمحات سے کس قدر بے خبر ہوتا ہے جیسے تعبیر حسین بے خبر تھی اور جیسے… جیسے میں بے خبر تھا۔ پروجیکٹر پر ٹاپک کا نام چلایا گیا اور اس کے بعد پریزنٹیشن کی سلائیڈز چلنا شروع ہوئی‘ تعبیر حسین کے ساتھ وہاں ہر کوئی دم بخود تھا۔ کیونکہ یہ وہ سلائیڈز نہیں تھیں جو میں نے اور تعبیر حسین نے مل کر بنائی تھیں‘ یہ وہ سلائیڈز تھیں جو صرف میں نے بنائی تھیں‘ اپنی اور تعبیر حسین کی تصویروں سے مزین‘ وہ تصاویر جو کام کے دوران میرے کہنے پر معید علی نے اپنے موبائل سے بنائی تھیں۔ دشمن کا دشمن اپنا دوست ہوتا ہے۔ میں نے اور معید علی نے اسی فامولے پر کام کیا تھا۔ جس طرح تعبیر حسین نے مجھے پیچھے چھوڑا تھا‘ اسی طرح میںنے اور تعبیر حسین نے معید علی کو پیچھے چھوڑا تھا مگر اس پراجیکٹ کی ناکامی اور جگ ہنسائی کے بعد معید علی کو سب سے ٹاپ پر ہونا تھا‘ اسی لالچ میں معید علی نے میرا ساتھ دیا تھا اور میں نے تعبیر حسین کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے آپ کو بھی تھوڑا نقصان پہنچا کر معید علی کو آگے آنے کا موقع دیا تھا۔ ایک… دو… تین… سلائیڈز کے بعد جو مختلف جگہوں کی تصویریں تھیں جن میں ہم دونوں کافی قریب بیٹھے تھے‘ تعبیر حسین نے میری طرف دیکھا اور جن نظروں سے اس نے مجھے دیکھا تھا میرا دل لرز کر رہ گیا تھا۔ اس کے بعد وہ بھاگتی ہوئی ہال سے چلی گئی تھی۔ میں نے اس کا دل‘ اعتماد‘ یقین سب توڑ ڈالا تھا۔ آج وہ کتنا خوش تھی بلیک کلر کے ریشمی سوٹ میں وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی اس نے اپنے لمبے اور ریشمی سیاہ بالوں کو کھولا ہوا تھا اور پھر انہیں دوپٹے سے ڈھانپنے کی ناکام کوشش کی تھی جس سے اس کے بالوں کی لٹیں اس کے صبیح چہرے کے گرد پڑی ہوئی تھیں۔ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے بعد میرا دل جیسے ڈوب گیا تھا۔ بجائے خوش ہونے کے مجھے اس کا حلیہ‘ مسکراتا چہرہ‘ بار بار یاد آرہا تھا اور پھر غمزدہ اور شرمندہ چہرہ لیے ہال سے بھاگنا بھی۔ جہاں پوری کلاس دم بخود تھی‘ وہاں ہال میں موجود پروفیسرز پر بھی سکتہ طاری ہوگیا تھا۔ میں سب کو نظر انداز کرتے ہوئے اسٹیج سے اترا اور ہال سے باہر آگیا۔ میں نے لاشعوری طور پر تعبیر کو ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر صد شکر کہ وہ مجھے کہیں نظر نہیں آئی۔ گھر واپس آنے کے بعد میں کمرے میں بند ہوگیا تھا۔
علیزہ نے مجھے بہت کالز کی لیکن میں نے اٹینڈ نہ کی۔ میرے دل پر ایک بوجھ آپڑا تھا۔ میں شدید شرمندگی میں مبتلا تھا کہ یہ میں نے کیا کردیا تھا۔ اس قدر نیچ حرکت کیا میں نے ہی کی تھی‘ میں اتنا کم ظرف تو کبھی نہ تھا‘ پھر اب کیا ہوگیا تھا‘ میں نے ایک معصوم اور بھولی بھالی لڑکی کو اپنے انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا تھا‘ میں نے اس کا اعتبار توڑا تھا اسے منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ میں نے اس سے انتقام لیا تھا وہ بھی کس بات کا کہ میں اس کے جتنا ذہین نہیں تھا‘ اس میں نہ ہی اس کا کمال تھا اور نہ میرا قصور‘ وہ تو دینے والے کی دین تھی۔ میں نے اپنا انتقام لے لیا تھا اورتعبیر کا انتقام ابھی باقی تھا۔ کیونکہ میں اس کے انتقام کی ایک جھلک دیکھ چکا تھا جب میں نے اسے فیروز اینڈ سنز کی جی ایم کے طور پر دیکھا تھا۔ یہی تو وہ پارس تھا جو کہیں سے فیروز اینڈ سنز انڈسٹریز کے ہاتھ لگ گیا تھا۔ میرے لیے اب اس کا مقابلہ کرنا ناممکن تھا‘ ایک تو وہ مجھ سے زیادہ ذہین تھی اور دوسرا اب زخمی ناگن تھی۔ میں بھلا اپنے شرمندگی کے بوجھ تلے کیسے اس کا مقابلہ کرتا۔ میں بمشکل گاڑی تک پہنچا تھا‘ جوانی کے جوش میں میں نے سات سال پہلے جو غلطی کی تھی آج اس کا نتیجہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ میں جو ایک لڑکی کو بدنام کرکے اس کے کیریئر اور خوابوں کو تباہ کرکے سات سال تک میں سکون کی نیند نہیں سوسکا تھا‘ مگر یہ سزا کافی نہیں تھی۔ میرے پاس پرسکون گھر تھا‘ خوب صورت‘ وفادار اور پیار کرنے والی بیوی تھی اور پانچ سال کا عاریز تھا‘ جس نے ہمارے گھر اور دنیا کو مکمل کردیا تھا مگر دس ستمبر کا وہ دن شاید ہی کبھی ایسا ہو کہ میری یاد کے دریچوں سے نہ جھانکا ہو‘ تعبیر حسین کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے نہ گھوما ہو۔ اس سے بچھڑنے کے بعد مجھے پتہ چلا تھا کہ میں اس کی محبت میں کس قدر گرفتار تھا۔ اپنی جیلسی اور انتقام کے جذبوں میں محبت جیسا جذبہ تو دھندلا ہی گیا تھا‘ میں چاہتا تھا کہ کاش وہ مجھے ایک بار مل جائے میں اس سے معافی مانگ سکوں‘ تو شاید میرے دل کو سکون آجائے پھر سوچتا تھا اگر میری سوچ کے مطابق وہ میری سازش کے نتیجے میں سچ میں برباد ہوگئی تو پھر میں اس کا سامنا کیسے کرسکوں گا۔ اسی کشمکش میں سات سال گزر گئے تھے اور ان سات سالوں میں میں اللہ کے قریب ہوگیا تھا‘ سکون کی تلاش میں‘ مگر مجھے سکون نہیں ملا تھا‘ ملتا بھی کیسے یہ تو حقوق العباد کا معاملہ تھا‘ جب تک تعبیر حسین مجھے معاف نہ کرتی مجھے سکون کیسے مل سکتا تھا۔ آج جب تعبیر حسین مجھے مل گئی تھی تو معافی تو دور کی بات مجھے اس سے بات کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوئی تھی۔ وہ واپس آگئی تھی مجھ سے میرا رہا سہا آرام وسکون چھیننے‘ یہ میری بھول تھی کہ میں اسے برباد کردوں گا‘ منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گا‘ مگر میں یہ کیوں بھول گیا تھا کہ جب وہ مجھے ہر کام میں پیچھے چھوڑ سکتی تھی تو اس کام میں بھی پیچھے چھوڑ سکتی تھی۔ وہ مجھ سے زیادہ فطین تھی‘ میں نے اسے نقصان پہنچایا تھا یہ کیوں بھول گیا تھا کہ وہ مجھے نقصان نہیں پہنچاسکتی‘ اس نے یہی کیا تھا فیروز اینڈ سنز کو عرش پر پہنچانے کے ساتھ ساتھ ایم اینڈ جے انڈسٹریز کو فرش پر پٹخ دیا تھا۔ یہ کام صرف تعبیر حسین ہی کرسکتی تھی جو اس نے کر دکھایا تھا۔

’’یس سر…‘‘ تعبیر حسین نے فون کی گھنٹی کی آواز سن کر ریسیور اٹھاتے ہوئے کہا‘ وہ انتہائی اہم فائل کے مطالعے میں غرق تھی۔ یہ آخری پراجیکٹ تھا جس کے بعد اس کا مطلب اور مقصد دونوں پورے ہوجاتے۔ ایم اینڈ جے انڈسٹریز کو تالے پڑجاتے‘ کل انتہائی اہم ٹینڈر فیروز اینڈ انڈسٹریز کے حق میں پاس کروانے کے بعد تعبیر حسین نے جیسے ایم اینڈ جے انڈسٹریز کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ ڈالا تھا۔ اس آخری پراجیکٹ کے بعد شاید اس کے بدلے کی آگ ٹھنڈی ہوجاتی‘ جس نے اسے آٹھ سال تک جھلسائے رکھا تھا۔
’’مس تعبیر آپ نے آج کا اخبار پڑھا…‘‘ سر کی فکرمندی سے بھری آواز سنائی دی۔
’’نہیں سر… مجھے وقت نہیں ملا۔‘‘ تعبیر نے تھکی ہوئی آواز میں کہا۔
’’تو ابھی پڑھیے جلدی۔‘‘ سر کی عجلت بھری آواز سنائی دی۔ تعبیر نے جلدی سے اخبار کے فرنٹ پیج پر نظر دوڑائی‘ جہاں واضح الفاظ میں لکھا تھا۔
’’ایم اینڈ جے انڈسٹریز کے آنر شہریار حسن مشہور انڈسٹرسٹ جہانداد حسن کے اکلوتے بیٹے…‘‘ اسے لگا زمین وآسمان میں ایک زوردار دھماکہ ہوا یا شاید آسمان زمین پرگر پڑا یا پھر صور اسرافیل پھونک دیا گیا تھا یا پھر تیز رفتار ٹرین نے اس کے بدن کو پرخچوں میں اڑا دیا تھا اور وہ مر رہی تھی۔ ریسیور اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا اور اس کی گردن کرسی پر دائیں جانب لڑھک گئی تھی۔

اس واقعے کے بعد سر حسان اسے سمجھانے آئے تھے کہ ’’جو حالات سے بھاگتے ہیں وہ بزدل ہوتے ہیں‘ لیکن میں جانتا ہوں آپ بہت بہادر ہو۔ میں جانتا ہوں‘ تعبیر حسین کبھی کچھ غلط نہیں کرسکتی‘ صرف مجھے ہی نہیں پورے ڈیپارٹمنٹ کو آپ پر پورا بھروسہ ہے۔‘‘ میں نے حیران ہوکر ان کی طرف دیکھا‘ کیا وہ سچ کہہ رہے تھے؟ کیا سب نے اس دھوکے کی حقیقت کو جان لیا تھا؟
’’بیٹا میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے جیسے میرے دل کی بات کو سمجھ لیا تھا۔ میں آپ کو یہی بتانے آیا تھا کہ آپ اس بات کو بھول جائیں آپ نے ڈگری کے لیے بہت محنت کی ہے‘ آپ کو ایک کم ظرف انسان کی وجہ سے اپنی زندگی برباد کرنے کی ضرورت نہیں‘ آپ اپنے پراجیکٹ کے لیے ایکٹینشن لے سکتی ہیں۔‘‘
’’نہیں سر… وہاں موجود لوگوں کا فی الحال میں سامنا نہیں کرسکتی۔ ان سب چیزوں کے لیے مجھے کچھ وقت چاہیے۔‘‘ میں نے ان کی بات کے جواب میں دل گرفتگی سے کہا۔
’’ٹھیک ہے بیٹا‘ جیسے آپ مناسب سمجھو۔‘‘ وہ چلے گئے مگر مجھے نئی روشنی تھما کر۔
سر حسان کے جانے کے بعد میں نے دو ہفتے اپنے آپ سے جنگ لڑی تھی زندگی کا جوا کھیلنے کے لیے میں اپنی جمع پونجی لے کر دوبارہ چل پڑی تھی۔ زندگی کی راہوں پر مگر اس بار صرف جیتنے کے لیے‘ اپنی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو یاد کرنے کے لیے‘ اس سے انتقام لینے کے لیے۔ ایسا انتقام جو اس کی نسلیں یاد رکھیں اور وہ دوبارہ کبھی کسی لڑکی کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کریں‘ میں نے اپنا M.B.A سر حسان کی فیور کی وجہ سے کمپلیٹ کرلیا تھا۔ اس کے بعد میں ایک دن منہ اٹھا کر ملک کی نامور انڈسٹری فیروز اینڈ سنز کے ہیڈ آفس چلی گئی کیونکہ اسی انڈسٹری کے ذریعے ایم اینڈ جے انڈسٹریز کو ہراسکتی تھی‘ برباد کرسکتی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے کو کہا تھا۔
’’مجھے یہاں کے ایم ڈی سے ملنا ہے۔‘‘ اس دن میری قسمت نے یاوری کی اور انہوں نے مجھے اندر بلالیا۔ ان کے روبرو کرسی پر بیٹھے ہوئے میں نے کہا۔ ’’ایکچوئیلی مجھے یہاں جاب چاہیے‘ یہ میری C.V ہے۔‘‘ میں نے اپنی فائل انہیں پیش کرتے ہوئے کہا۔
’’مگر ہم نے تو کوئی اشتہار نہیں دیا جاب کے لیے۔‘‘ انہوں نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔ وہ انتہائی معزز ہستی قیمتی سوٹ میں ملبوس‘ شاندار آفس میں بیٹھے ہوئے ان کی عمر پچپن اور ساٹھ کے لگ بھگ تھی۔ وہ اتنے بارعب لگ رہے تھے کہ مجھے ان سے بات کرنا مشکل ہورہی تھی مگر مجھے ہمت تو کرنا ہی پڑی۔
’’میں جانتی ہوں مگر اتنی بڑی انڈسٹری میں ایک ایمپلائی کے لیے جگہ تو آپ نکال ہی سکتے ہیں۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس بار ان کی حیرت میں دو چند اضافہ ہوا۔ شاید وہ سمجھ رہے تھے کہ میرا دماغ چل گیا تھا جو میں اتنی بڑی اور نامور انڈسٹری کے ایم ڈی کے سامنے ایسی بہکی بہکی باتیں کررہی ہوں۔
’’مگر ہم آپ کے لیے ایک ایمپلائی کی وکینسی کیوں نکالیں۔‘‘ اس بار انہوں نے بھی مسکراتے ہوئے مجھ سے سوال کیا۔
’’کیونکہ میں جانتی ہوں‘ پچھلے دو سال سے فیروز اینڈ سنز انڈسٹریز مسلسل خسارے میں جارہی ہے۔‘‘ میری اس بات پر ایم ڈی حمید رضوی کو ایک زور دار جھٹکا لگا۔ ’’دو سال سے آپ کوئی بھی سرکاری ٹینڈر اپنے نام نہیں کرواسکے۔ ایم اینڈ جے کی وجہ سے آپ کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے آپ کے تمام اکائونٹس تیزی سے خالی ہورہے ہیں۔ ایک فیکٹری مکمل طور پر بند ہوچکی ہے اور آپ کے ان تمام مسائل کا حل میرے پاس ہے۔‘‘ میں نے ایک لمحے کے لیے رک کر ان کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں پر اب گہری سنجیدگی تھی۔ ’’یہ میری C.V ہے اس میں صرف میرے گریڈز لکھے ہیں مگر یہ جو دماغ ہے نہ میرے پاس‘ C.V اس کی مظہر نہیں ہوسکتی۔ اس پر میرا کنٹیکٹ نمبر بھی درج ہے اگر آپ کو میری بات پر یقین آئے تو آپ مجھے ایک کال کرسکتے ہیں۔‘‘ میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔ ’’ایک بات اور یہ سب میں آپ کے لیے یا اس انڈسٹری کے لیے نہیں کروں گی‘ بلکہ اپنے لیے کروں گی کیونکہ ایم اینڈ جے کو برباد کرنا میری زندگی کا مقصد ہے۔‘‘ میں یہ کہتے ہوئے روم سے باہر آئی۔ اس بات کو دو ہفتے گزر گئے تھے مگر فیروز اینڈ سنز انڈسٹریز کی طرف سے مجھے کوئی کال نہیں آئی تھی اب میری امیدیں مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبنے لگی تھیں۔ وہاں جاب کرنا میرے لیے کس قدر اہمیت کا حامل تھا یہ صرف میں ہی جانتی تھی۔ میں ہر وقت اپنے موبائل کو ہاتھ میں پکڑے رکھتی تھی‘ ہر کال فوراً اٹینڈ کرتی تھی مگر وہ کال نہ آئی جس کا مجھے انتظار تھا۔ اب میں نے نئے پلانز بنانا شروع کردیئے تھے مگر مجھے کوئی بھی پلان جاندار نظر نہیں آرہا تھا کہ اچانک تیسرے ہفتے مجھے میری بہن نے موبائل لاکر پکڑایا۔
’’آپی موبائل کب سے بج رہا ہے دیکھ تو لیں آپ۔‘‘ میں نے موبائل اسکرین پر نظر ڈالتے ہوئے کال اٹینڈ کی۔
’’ہیلو دس از حمید رضوی ایم ڈی آف فیروز اینڈ سنز انڈسٹریز…‘‘ آواز سنتے ہی جیسے مجھے کرنٹ لگا‘ میں فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ میں اس قدر مایوس ہوچکی تھی کہ مجھے نمبر دیکھ کر ایک بار بھی یہ خیال نہیں آیا۔
’’یس سر…‘‘ میں فرحت سے بولی۔
’’مس تعبیر آپ کل سے جوائن کرسکتی ہیں‘ باقی باتیں ہم کل آفس میں فیس ٹو فیس کریں گے۔‘‘
’’یس سر… شیور۔‘‘ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کل کے لیے تیاری کرنے لگی۔ وہ دن اور آج کا دن میں نے فیروز اینڈ سنز کو آسمان پر پہنچا دیا تھا اور ایم اینڈ جے کو فرش پر اور آج شہر یار حسن کی موت کی خبر اخبار میں پڑھ کر میرے پائوں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی۔ چار دن کی بیہوشی کے بعد جیسے ہی مجھے ہوش آیا تھا تمام واقعات ایک فلم کی طرح میرے دماغ کی اسکرین پر چلنے لگے تھے۔ وہ مرگیا تھا‘ میں نے اسے مار ڈالا تھا‘ میں نے اس بندے کا خون کر ڈالا تھا جسے نجانے میں کب سے پسند کررہی تھی‘ اور پھر شاید اس کی محبت میں مبتلا ہوگئی تھی اور اس کے بعد وہ محبت نفرت اور انتقام کی آگ میں ایسی جلی کہ صرف راکھ ہی باقی رہ گئی۔ ہاسپٹل کے i.c.u میں لیٹی میں ان حالات واقعات کا جائزہ لے رہی تھی‘ جنہوں نے مجھے خونی بنا ڈالا تھا اور برسوں پہلے نجومی کی کہی ہوئی بات سچ ثابت ہوگئی تھی۔ شہریار حسن کی ڈیتھ نیوز سننے کے بعد میرا شدید نروس بریک ڈائون ہوا تھا۔ ایم اینڈ جے کو میں نے جو شدید خسارہ پہنچایا تھا شہریار حسن اس کو برداشت نہ کرسکے۔ صدمے سے انہیں ہارٹ اٹیک ہوا اور اسی اٹیک کی وجہ سے وہ چل بسے۔ ان چار دنوں میں بے ہوشی کے عالم میں صرف شہریار حسن یاد رہا تھا اور ہوش میں آنے کے بعد بھی وہی میرے حواسوں پر سوار رہا تھا۔ اگر میں اس سے انتقام نہ لیتی تو آج وہ زندہ ہوتا‘ ایک یہی خیال مجھے مار رہا تھا‘ میرے ہوش میں آنے کے بعد تمام فیملی ممبرز‘ آفس اسٹاف‘ مجھ سے ملنے آئے تھے ایک وہی نہیں تھا اس دنیائے ہجوم میں‘ جو میرے لیے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ وہ چلا گیا تھا‘ ہمیشہ کے لیے‘ وہ میرے انتقام کی بھینٹ چڑھ گیا تھا۔ میں کتنی کم ظرف تھی اور کتنا چھوٹا دل تھا میرا جو میں اس کی چھوٹی سی غلطی کو درگزر نہیں کرسکی تھی۔ اس نے مجھے بدنام کرنے کی‘ میرا کیریئر تباہ کرنے کی کوشش ضرور کی تھی مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا‘ اللہ نے اس کی ہر کوشش کو ناکام بنادیا تھا کیونکہ وہی بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ نہ ہی میں بدنام ہوئی تھی اور نہ ہی میرا کیریئر تباہ ہوا تھا‘ پھر میں نے اس سے کس بات کا بدلہ لیا تھا۔ میرا ضمیر مجھ سے چیخ چیخ کے پوچھ رہا تھا کس غلطی کی سزا میں نے اسے موت کی صورت میں دی تھی۔ اللہ تو معاف کرنے والوں کو پسند کرتا تھا‘ پھر میں نے اسے کیوں معاف نہیںکیا تھا۔ ڈسچارج ہونے کے بعد میں نے سب سے پہلے اپنا استعفیٰ لیٹر آفس بھجوادیا تھا۔ پھر وہاں سے بے حد اصرار پر بھی میں نے ری جوائن نہیں کیا تھا۔ زندگی کی گاڑی کو کھینچنے کے لیے میں نے پرائیویٹ کالج میں جاب کرلی تھی۔ دو سالوں میں‘ میں ایک رات بھی نہیں سوسکی تھی‘ سارا دن غم روزگار میں گزر جاتا اور ساری رات پچھتاوئوں میں۔ امی ابو کے شدید اصرار کے باوجود میں نے شادی نہیں کی تھی۔ ان دو سالوں میں‘ میں نجانے کتنی بار شہریار حسن کے گھر کے سامنے گئی تھی مگر اندر جانے کی ہمت نہیں تھی۔ دو سال کے بعد شہریار حسن کی دوسری برسی کے دن آخر اللہ کو مجھ پر رحم آگیا اور اپنی عظیم بارگاہ میں میری معافی قبول فرمالی تھی۔

’’آپ…‘‘ میں نے کانپتی آواز سے پوچھا۔
’’جی… یہ عاریز کی والدہ ہیں۔‘‘ وہاں موجود نرس نے مجھے آگاہ کیا۔ نرس کے الفاظ نے مجھ پر جیسے بم گرایا تھا۔ آج پھر میں نے اسی کے بیٹے کو تکلیف پہنچائی تھی‘ کیا اس کو تکلیف پہنچانا میرے مقدر میں تھا۔ ابھی تو پہلے گناہوں کا کفارہ بھی ادا نہیں ہوا اور مجھ سے ایک اورگناہ ہوگیا تھا۔
’’تم تعبیر حسین؟ تم نے میرے بیٹے کو اس حال تک پہنچایا ہے‘ کب تک تم ہمیں تکلیف پہنچائوگی۔ آخر تم ہماری زندگی سے نکل کیوں نہیں جاتی…‘‘ علیزہ ہاشمی شہریار حسن کی بیوی اور عاریز حسن کی والدہ جو مجھے دیکھتے ہی غضب ناک ہوئی تھی اور وہ اس پر حق بجانب بھی تھی۔ میں ہی تو تھی جس نے اس کے بسے بسائے گھر کو برباد کرکے ان دونوں کو بے سائباں کردیا تھا اور آج اس کا بیٹا بھی میری وجہ سے موت کے منہ سے لوٹ کر آیا تھا۔
’’مگر میڈم… انہوں نے تو آپ کے بچے کی جان بچائی ہے‘ اگر یہ وقت پر انہیں ہاسپٹل نہیں لاتی تو نجانے کیا ہوجاتا اور انہوں نے ہی آپ کے بیٹے کو بروقت خون دیا۔ اگر یہ آپ کی مدد نہ کرتی تو آج آپ کا بچہ آپ کی آنکھوں کے سامنے نہ ہوتا۔‘‘ نرس نے مودبانہ انداز میں علیزہ کو وضاحت دی۔ علیزہ نے حیرت سے نرس کی طرف دیکھا۔ وہ آج بھی پہلے کی طرح حسین تھی لیکن افسردہ تھی اور کمزور بھی‘ جس کا اتنا ڈیشنگ اور خوب صورت پیار کرنے والا شوہر اسے تنہا چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوجائے‘ وہ بھلا خوش کیسے رہ سکتی تھی۔ اس کی حالت تو اس سے بھی بدتر ہوتی مگر علیزہ نے اپنے آپ کو سنبھالا ہوا تھا۔ میں چپ چاپ روم سے باہر نکل آئی۔ وہاں سے گاڑی نکال کر قریبی پارک میں آبیٹھی‘ مجھے تنہائی کی اشد ضرورت تھی‘ علیزہ کو دیکھتے ہی میرے زخموں سے کھرنڈ اتر گیا تھا۔ وہ یونیورسٹی‘ شہریار‘ وہ واقعہ اور میرا انتقام سب میرے دماغ میں پھر سے تازہ ہوگیا تھا۔ آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی تھی اور دل اس قدر غم زدہ تھا کہ جیسے پھٹ جائے گا۔ کیا مجھے کبھی معافی نہیں ملے گی؟ آخر ملے بھی کیوں؟ میں نے کب شہریار حسن کو معاف کیا تھا اس کی غلطی کے بدلے جس سے مجھے کوئی نقصان بھی نہیں پہنچا تھا‘ میں کیوں بھول گئی تھی کہ معافی ہی بہترین انتقام ہے۔ ہر طرف اندھیرا چھانے لگا تو مجھے ہوش آیا‘ میں پارک سے نکلی اور سیدھی ہاسپٹل پہنچی۔ شہریار حسن کے نقصان کے لیے نہ سہی مگر میں عاریز کے نقصان کے لیے علیزہ سے معافی ضرور مانگ سکتی تھی۔ اگر علیزہ مجھے معاف کردیتی تو شہریار حسن بھی کردیتا۔ کیونکہ وہ علیزہ سے بہت محبت کرتا تھا۔ مجھے علیزہ روم کے باہر ہی نظر آگئی۔ مجھے دیکھتے ہی علیزہ میری طرف بھاگتی ہوئی آئی۔
’’تعبیر مجھے معاف کردو۔ میں نے تمہیں اتنا برا بھلا کہا اپنے محسن کو برا بھلا کہا۔‘‘ میں نے حیرانگی سے علیزہ کی طرف دیکھا۔ معافی تو مجھے مانگنا تھی‘ پھر یہ کیوں مانگ رہی تھی۔
’’نہیں علیزہ… تم مجھے معاف کردو۔ میں نے انتقام میں اندھے ہوکر تمہارا گھر اجاڑ دیا اللہ کے لیے مجھے معاف کردو‘ شہریار کی موت سے لے کر آج تک میں نے اپنے ضمیر کی عدالت میں سزا پائی ہے‘ اب مجھے اس سزا سے بری کردو۔ تم مجھے معاف کروگی تو شہریار بھی مجھے معاف کردے گا۔‘‘ میں نے علیزہ کے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔ اس نے مجھے محبت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’نہیں تعبیر… شہریار تمہارا مجرم تھا اور میں نے آٹھ سال تک اسے تڑپتے ہوئے دیکھا ہے تمہارے لیے۔ وہ تم سے معافی مانگنا چاہتا تھا اس نے تمہیں بہت تلاش کیا تھا مگر تم نہ ملی اور جب تم ملی تب وہ تم سے معافی مانگنے کی سچویشن میں نہیں تھا۔ تم بھی شہریار کو معاف کردو۔ آج تم نے عاریز کی جان بچا کر ہم پر احسان کیا ہے۔‘‘ میرے دل کو اس کے الفاظ سے جیسے ٹھنڈک مل گئی تھی۔
’’میں تو کب کا شہریار کو معاف کرچکی ہوں۔‘‘
’’ہیلو لیڈیز… عاریز اب ٹھیک ہے آپ دونوں بہنیں رو کیوں رہی ہیں۔‘‘ ڈاکٹر نے ہمارے قریب آتے ہوئے کہا۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ میں عاریز کی خالہ ہوں‘ اسی نسبت سے اس نے ہم دونوں کو بہنیں سمجھ لیا تھا۔
’’یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔‘‘ علیزہ نے تیزی سے جواب دیا۔ میں اپنے ضمیر کے بوجھ سے آزاد تھی۔ اب میں سر حسان کو ہاں بول سکتی تھی‘ اس رشتے کے لیے جو انہوں نے اپنے انجینئر بیٹے کے لیے میرے سامنے پیش کیا تھا۔ میں تیزی سے پارکنگ کی طرف بڑھی۔ کیونکہ اب نئی راہیں میری منتظر تھیں۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close