Aanchal Apr-17

زندگی کے رنگ

ایڈمنز پینل

آنچل کے آفیشل گروپ پر آپ کے پسندیدہ مصنفین سے ان کی تحریروں کے حوالے سے ہمارے آفیشل گروپ اور پیج کے ایڈمنز نے ایک اسپیشل سروے کا اہتمام کیا۔ اس سروے میں بہت سے نو آموز رائٹرز نے بھی حصہ لیا۔
سروے کا سوال یہ ہے۔
ہر انسان کو زندگی کے واقعات پوری جزئیات سے یاد رہتے ہیں چاہے وہ بچپن کے ہوں یا زندگی میں آنے والے دوسرے ادوار سے ہوں تو کیا ہماری رائٹرز اپنے زندگی میں گزرنے والے واقعات، خوشیاں، غم، محبتیں، عادتیں اپنی کہانیوں میں شامل کرتی ہیں؟
کیا آپ کی کہانی کے کرداروں میں آپ کا عکس جھلکتا ہے؟کیا آپ کی خوشیاں کرداروں کے ساتھ مست مگن ہوتی ہیں اور آپ کے غم آپ کے کرداروں کو رنجیدہ کرتے ہیں؟
اس سروے میں مصنفین کی جانب سے موصول ہونے والے جوابات قارئین کے لیے پیش کئے جارہے ہیں۔

سیما مناف

میں نے ہمیشہ لوگوں کے دکھوں پر لکھا ہے۔انسان کا مشاہدہ وسیع ہو اور اور وہ حساس بھی ہو کہانی بن جاتی ہے۔میں ہر افسانہ اور ڈرامہ اسی کیفیت میں لکھتی ہوں۔
رخسار وٹے سٹے پر میری خالہ زاد بہن کی کہانی تھی بے خودی میں نے ایک اخبار میں ایک خبر پڑھ کر لکھا۔وہ خبر پڑھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے کیا محبت اتنی جنونی بھی ہو سکتی ہے؟ کیا اس سے پہلے عو رت کو محبت کے نام پر نہیں لوٹا گیا؟ دوشیزہ ڈائجسٹ میں مجھے اس پر ایوارڈ ملا۔ پسندیدگی کے باوجود کچھ لوگ اس پرباتیں بھی بنا رہے ہیں کہ محبت کرنے والا ہیرو ایسا کیسے کرسکتا ہے تو کیا لڑکیوں کے ساتھ ایسی زیادتیاں نہیں ہوتیں؟پلیز اس کے اینڈ تک صبر کریں مجھے یقین ہے کہ اس ڈرامے کو لکھنے کا مقصد آپ کو پتا چل جائے گا۔
اسی طرح بند کھڑکیاں جو میں ہم ٹی وی کے لیے لکھ رہی ہوں۔اس کا پس منظر کئی سالوں پہلے میری اکلوتی بھانجی حرا کی ایک چھوٹی سی بات پر لکھا ہوا ایک افسانہ تھا وہ اس وقت صرف پانچ یا چھے سال کی ہوگی۔ہم لوگ سی سائڈ پکنک پر گئے تھے اس نے مجھ سے ریت کا گھروندا بنانے کی فرمائش کی میں نے جلد بازی میں ایک گھروندا بنایا اور اس میں ہاتھ مار کے ایک دروازہ بنایا۔اس نے پتا ہے مجھ سے کیا کہا؟
کاکا اس گھر میں تو جو رہے گا اس کا تو دم ہی گھٹ جائے گا اس میں تو کوئی کھڑکی ہی نہیں ہے تو اسے ہوا ہی نہیں ملے گی اور میں اتنی چھوٹی سی بچی کے منہ سے یہ بات سن کر حیران رہ گئی تھی اور میں نے بند کھڑکیاں کے نام سے ایک افسانہ لکھا کیا پتا تھا کہ یہ اس کی اپنی کہانی بن جائے گی۔ دو سال پہلے بتیس سال کی عمر میں اس کا برین ہیمبرج میں انتقال ہو گیا۔ صرف بند کھڑکیوں کی وجہ سے۔
تو یہ ہوتی ہے میرے لکھنے کی وجہ۔

عفت سحر طاہر

اسلام علیکم میں نے آج تک خود کی کہانی نہیں لکھی مگر ہر کردار میں رائٹر کی اپنی ہی جھلک ہوتی ہے۔ہر کردار کا فیصلہ رائٹر کا فیصلہ ہوتا ہے۔میں خود کو کردار کی جگہ رکھ کر سوچتی ہوں کہ اس کی جگہ میں ہوتی تو کیا کہتی یا کیا فیصلہ کرتی۔
زندگی کے واقعات تو نہیں مگرعادتوں کی جھلک تو کہانی میں لازمی ہے۔میرا سینس آف ہیومر بالکل ویسا ہی ہے جیسا میرے کرداروں کا۔ میں رشتوں کے متعلق ویسی ہی کیئرنگ ہوں جیسے میرے کردار۔رائٹر کے پازیٹیو کردار حقیقت میں خود رائٹر ہوتا ہے۔غلط کردار کو سمجھانے والا کردار رائٹر کی اپنی ذات ہوتا ہے۔ورنہ کہانی بن ہی نہ پائے۔
ہاں جی بالکل۔خاص طور پر قسط وار لکھتے ہوئے بہت اٹیچ منٹ ہو جاتی ہے کرداروں کے ساتھ۔ہر کسی کی خوشی۔ خوش اور غم اداس کرتا ہے۔میری خوشی یا غم نے آج تک میری تحریر کو متاثر نہیں کیا۔میں جیسا لکھنا چاہتی ہوں وہی لکھتی ہوں۔
محبت ہاں۔یہ واحد عنصر ہے جو میں اپنی لائف میں سے اپنی کہانیوں میں ڈالتی ہوں۔ہمیں اکثر پوچھا جاتا ہے کہ آپ دونوں کی لو میرج ہے؟تو اپنے میاں صاحب کے بہت سے جملے میں ہیرو سے کہلواتی ہوں ہاہاہاہا‘ میرے سویٹ والے ہیرو اس لیے بہت پراعتماد لونگ اور کئیرنگ ہوتے کہ میرے ہسبینڈ ماشاء اﷲ سے ایسے ہیں۔امید ہے کہ آپ کی تشفی ہو گئی ہو گی ان جوابات سے۔خوش رہیئے۔

فاخرہ گل

میرا نہیں خیال کہ رائٹر کے اپنے غم کسی بھی طرح کرداروں پر اثر انداز ہوتے ہیں یا ہونے چاہئیں ہاں کرداروں کے دکھ سکھ ضرور موڈ بدل دیتے ہیں۔
’’وہی ایک لمحہ زیست کا‘‘ لکھتے ہوئے جب تاجی تعفن میں لپٹی ہوئی مسجد میں جا گھْستی ہے اور اللہ سے گڑگڑا کر معافی طلب کرتی ہے وہ سب لکھتے ہوئے مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں بالکل خدا کے سامنے کھڑی لکھ نہیں رہی وہی الفاظ خود دہرا رہی ہوں دل کی عجیب کیفیت تھی جو بیان سے باہر ہے اسی طرح ابھی پچھلے سال ’’عید ایسی بھی ہوتی ہے‘‘ میں آمنہ کا اپنی شادی سے پہلے اپنے بابا کیے ساتھ گزاری آخری رات اور پھر بابا کے تاثرات لکھتے ہوئے میں باقاعدہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی اور مجھ سے مزید لکھا ہی نہیں گیا تھامیں اس سین کو طویل کرنا چاہتی تھی تفصیل سے بیان کرنا چاہتی تھی لیکن جتنی مرتبہ قلم پکڑا دل بوجھل اور آنکھیں اس قدر نم ہوتیں کہ میں جو اس ناول کو دو حصوں میں لکھنا چاہتی تھی ایک ہی دفعہ میں مکمل لکھ دیامیری کوئی بیٹی تو نہیں لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں نے اپنی بیٹی کو رخصت کرنا ہے اور اف والدین کے لیے یہ وقت کتنا مشکل ہوتا ہے مجھ سمیت کتنے ہی قارئین نے یہ چیز محسوس کی۔
ویسے میں کوئی بہت زیادہ خوا مخواہ والی سنجیدہ انسان نہیں ہوں۔ مجھے ہنسنا مسکرانا اچھا لگتا ہے اسی لیے کچھ عرصے رک مزاح نہ لکھوں تو بے چینی ہونے لگتی ہے۔ مزاحیہ ناول ہو یا کسی ویب سائٹ کے لیے طنزو مزاح پر مبنی مضمون۔ لکھے بغیر سکون نہیں ملتا خواتین مزاح نگاروں کے انسائیکلو پیڈیا میں اپنا نام دیکھ کر اسی لیے خوشی بھی ہوئی تھی کہ یہی تو میں ہوں۔
اور سوال کے مطابق اگر میری محبتیں کہانیوں کو رنگین کرنے لگیں تو آپ کو میری کہانیوں میں صرف دھنک رنگ نظر آئیں لیکن معاشرے میں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جس پر لکھنا چاہتی ہوں اس لیے میرا قلم تلخ و شیریں دونوں ذائقے چکھتا رہتا ہے اور اسی حساسیت کی وجہ سے میرے لکھنے کا اصل میدان سنجیدہ نثر نگاری ہی ہے۔اللہ کرے اس کی دی گئی اس صلاحیت کی ساتھ انصاف کر سکوں۔

نزہت جبین ضیاء

میں ہمیشہ معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہوںآس پاس کے کردار اور کئی کہانیوں کے کرداروں میں میری جھلک دکھائی دیتی ہے۔

ریحانہ آفتاب

اسے میری نالائقی کہیں یا یادداشت کی کمی‘ مجھے بچپن کی کوئی بھی چیز پوری جزائیات کے ساتھ یاد نہیں۔ چیدہ چیدہ چیزیں حافظے میں ہیں بہت خوشی کے پل بہت دکھ کے لمحات ٹھوکر سے ملا سبق یا کوئی یادگار بات جس نے مجھے کچھ سکھایا ہو۔
میں نے جب بھی لکھا ،دل سے لکھا ہاں یہ قبول ہے کہ پہلے بے حد حیالی دنیا میں رہتی تھی۔ سب کو اپنی طرح بے لوث گمان کرتی تھی۔ رائٹر میرے لیے ماورائی مخلوق تھیں۔ میں نے شازیہ چوہدری کو پڑھ کے رسالے پڑھنا شروع کیا۔یہ کہا جائے کہ میں صرف ان کی تحریر کے لیے رسالہ لیتی تھی تو بے جا نہیں ہوگا۔آج وہ ہم میں نہیں۔ اللہ انہیں جنت میں جگہ دے۔ بے حد افسوس کے ساتھ کسک ہے کہ ان سے کبھی بات نا ہو سکی۔
بات ہو رہی تھی خیالی دنیا کی لیکن جب چھوٹی سی عمر میں ایک معتبر ادارے کی اسسٹنٹ ایڈیٹر بنی تو جیسے ساری رعنائی کی قلعی کھل گئی۔ ادبی لوگوں سے بڑا بے ادب کوئی نہیں جب کھلا تو دل اتنا برا ہوا کہ لکھنا چھوڑ دیا۔ جن کو آپ ماورائی مخلوق سمجھیں وہ گری ہوئی حرکت کریں تو ان سے زیادہ آپ ہرٹ ہوتے ہیں کہ انہیں بہت اونچائی پہ رکھا تھا۔ برداشت نہیں ہوتا۔
پھر پچھلے سال کم بیک کیا کہ سب ہضم کرنے میں دس سال لگ گئے اور میں بھی امچیورٹی سے نکل آئی تھی۔
میری ہر تحریر کسی جملے‘واقعے‘رویے کی مرہون منت ہوتی ہے۔ میں نے کبھی بھی صفحے بھرنے کے لیے نہیں لکھا۔
میں اپنے کرداروں کے ساتھ ہنستی ہوں ان کے ساتھ روتی ہوں۔ ابھی میرے قاتل مجھے جینے کا حق تو دو آنسوؤں کے بیچ لکھنا ختم ہوا۔ لکھ رہی تھی اور آنسو پیپر پہ گر رہے تھے۔ مجھے کرداروں کا دکھ اپنا دکھ محسوس ہوتا ہے۔ ہیرو کا رومینٹک جملہ مجھے شرمانے پہ مجبور کر دیتا ہے۔ تب ہی شاید ریڈرز نے بہت کم لکھنے کے باوجود مجھے یاد رکھا ہوا تھا۔
میری محبت، شدت سب میری تحریر میں جھلکتی ہے۔ میری ہیروئن کا ہر محاذ پہ ثابت قدم رہنا، سچ بولنے سے نا ڈرنا، ہیرو کو چیلنج کرنا، مکے مارنا ان سب میں ریحانہ آفتاب موجود ہے۔جو چیز دل سے لکھی جائے وہ دل تک ضرور پہنچتی ہے۔یہ میرا ایمان ہے۔

سعدیہ عابد

سعدیہ عابد جو ایک عام لڑکی ہے وہ کسی بھی تحریر میں آپ کو نہیں ملے گی کیونکہ ہم اپنی ذات پہ ناول نہیں لکھتے کہ ہمیں لگتا ہے کہ فکشن زیادہ تر تخیل اور مشاہدے کے ذریعے تخلیق ہوتا ہے اور زات کا عکس تو سوانح عمری میں اتارا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ہم اپنے کسی بھی ناول میں نہیں ہیں اپنی فیلنگز کبھی نہیں لکھیں کہ اس کے لیے ڈائری ہے۔ اور اسی لیے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ موڈ یا زندگی میں گزرنے والی تلخیوں یا محبت کا اثر تحریر پہ پڑا ہو کیونکہ لکھنے سے پہلے موڈ بہت اچھا ہوتا ہے اور اٹھتے ہیں تو رو رہے ہوتے ہیں اس لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے موڈ کا اثر تحریر پر نہیں پڑتا البتہ تحریر ہمارا موڈ ضرور بدل دیتی ہے دْکھی اسین لکھ کر دْکھی اور اچھا اسین لکھ کر مسکرا لیتے ہیں۔ مگر یہ سب وقتی ہوتا ہے کہ دوڑتی بھاگتی زندگی اور صفحہ قرطاس پہ بکھری زندگی میں بہت فرق ہوتا ہے اور ایک مصنف کبھی بھی صرف اپنے محسوسات نہیں لکھتا کہ اگر مصنف صرف اپنے محسوسات تک محدود ہوجائے تو معاشرے میں پھیلی رنگینیاں اور تلخیاں اسے کبھی نظر نہ آئیں مصنف ’’ میں‘‘کی دوڑ سے نکل کر ’’ہم‘‘کی بنیاد رکھتا ہے اور اسی لیے ہماری ہر ایک تحریر میں تخیل ہے مشاہدہ ہے ذاتیات نہیں ہے ہماری شخصیت کے رنگ نہیں ہیں کہ جو دیکھتے ہیں جو محسوس کرتے ہیں اس پہ اپنا زاویہ نظر بیان کردیتے ہیں کہ مصنف ’’میں‘‘ نہیں ہوتا ’’ہم‘‘ ہوتا ہے اس کی تحریر اپنی زات کا نہیں معاشرے کا عکس ہوتی ہے اس کی حساسیت کی دین ہوتی ہے اور مصنف بذات خود کچھ نہیں ہوتا کہ یہ خداداد صلاحیت ہے اور صلاحیت اور ہنر ہمیشہ دوسروں کو فائدہ پہچانے کے لیے ہوتا ہے سورج کی روشنی کبھی سورج کو فائدہ نہیں دیتی کہ اسے خود اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ اتنا با صلاحیت ہے ایک دنیا اس کے وجود سے روشن ہے ٹھیک اسی طرح مصنف کی تحریر سے مصنف کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچتا قاری کو پہنچتا ہے کہ جب وہ تحریر پڑھ کر دکھ محسوس کرتا ہے اسے لگتا ہے کہ مصنف نے تو واہ میرے دل کی بات کہہ دی اور زندگی کی کچھ تلخیوں کو کم ہوتا محسوس کرتا ہے یا آگے بڑھنے کے لیے زاد راہ مل جاتا ہے تو مصنف کے لکھی ہوئی تحریر کا حق ادا ہوجاتا ہے اور تحریر سے چلا دل سے دل کا سفر جب تک چلتا رہے گا جب تک محسوسات زندہ ہیں جب تک قاری زندہ ہیں کہ مصنف قاری کے بغیر کچھ نہیں کچھ بھی نہیں یار زندہ صحبت باقی۔ فی امان اللہ۔

سحرش فاطمہ

بالکل جھلکتا ہے ہم اپنے کرداروں میں اپنی ہی کوئی شرارتی حرکت یا اپنا کوئی دکھ یا اداسی کا لمحہ ہو اْس کا رنگ بھر دیتے ہیں لیکن یہ بات صرف رائٹر کو ہی پتا ہوتا ہے۔
ہاں جی جب کسی کردارکے لیے ایسا کچھ لکھتی ہوں تو تصور کرتی ہوں تو مجھے بھی ساتھ خوشی ہوتی اْسی طرح اداس بھی ہوجاتی ہوں ایک ناول میں نے لکھنا شروع کیا تھا ڈیرھ سال پہلے اْس میں کچھ ایسا لکھا کہ لکھنے کے بعد رونا آگیا اور دو تین دن اْس فیز سے نکلی ہی نہیں۔
میں بالکل مانتی ہوں کہ ہر انسان کو اپنے گزرے پلوں میں سے کچھ کچھ واقعات یاد رہ جاتے ہیں بچپن سے لے کر اب تک کی زندگی میں جو بھی ہوا ہوتا ہے چاہے وہ تلخ یاد ہو یا چھوٹی سی چھوٹی خوشی بھی اور بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ ہمیں یاد رہ جاتا ہے دوسروں کو نہیں رہتا۔
اور جب ہم بطور لکھاری کچھ بھی تخلیق کرتے ہیں یوہنی ہمارے کردار جو ہم بناتے ہیں ان میں ہم اپنا عکس بھی ڈال دیتے ہیں اور ضروری نہیں کہ صرف اپنا ہی عکس ہو ہمارے ارد گرد اتنے کردار موجود ہوتے ہیں کہ ان کو بھی ہم اپنی تحریروں میں بھر دیتے ہیں۔ کیوں کہ جب ہم لکھ رہے ہوتے ہیں کوئی بھی کردار تو ہمارے دماغ ہمارے ہی ارد گرد موجود لوگوں کو سوچتا ہے اور پھر اْن کا مشاہدہ کرتا ہے پھر ہمیں اْن کی کوئی خاصیت یا برائی اپنے کرداروں کے لیے پسند آجاتی ہے اور ہم انہیں لکھ ڈالتے ہیں۔ لکھاری کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ جب وہ لکھے تو اپنے مزاج کو بھی اْس حساب سے لکھے۔ میں لکھنے کے معاملے میں زیادہ شوخ نہیں ہوں سنجیدہ موضوعات پہ زیادہ لکھا ہے تو اپنے اندر کی تلخیاں یا خوشیاں اْس تحریر میں شامل کردیتی ہوں۔ کچھ تحاریر میری مختلف ہیں جن میں ہلکا پھلکا مزاح بھی شامل ہے تو اْس کی وجہ بھی یہی ہوتی کہ ایسا کچھ ہوچکا ہوتا ہے۔
جب ہم اپنے تخلیق کردہ کردار کو لکھ رہے ہوتے ہیں یا اْن کے حوالے سے سوچ رہے ہوتے ہیں تو تصور میں وہ کردار آجاتا ہے اور جو ہم نے اْس کے حوالے سے لکھا ہوتا ہے وہ ویسی ہی حرکتیں کررہا ہوتا ہے ہمارے تخیل میں۔تو جناب کوئی بھی کردار ہو ہم بھی اْس کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور اْس کو محسوس کرتے ہیں جیسے کہ وہ کردار ہمارے ساتھ ہی موجود ہو۔
جیسا کہ میں نے بتایا کہ ہم لکھتے ہوئے اْن کرداروں کو تصور کرتے ہیں تو اْن کے جو حالات ہوتے ہیں اْسے محسوس بھی کرتے ہیں۔
بھئی ایک بات بتاؤ۔ جب آپ لکھتے ہو تو کیا صرف تلخیاں، اپنے اندر کی اداسیاں، ناکامیاں ہی لکھتے ہو؟ نہیں ناں؟ ہمیں خود کو خوش رکھنا ہوتا ہے تو اْس حساب سے اپنے کرداروں کو بھی خوشی دینی ہوتی ہے پھر وہ چھوٹی سی چھوٹی خوشی ہی کیوں نہ اْس میں جب محبت کا رنگ چھلکتا ہے تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ میں جو بھی لکھوں اچھا لکھوں بے شک وہ محبت پہ ہو یا معاشرتی لیکن ہر کردار اچھا ہو سادہ ہو معصوم سا ہو۔ کوئی کردار برا بھی ہوتا ہے اِس میں بھی اْس کی یہ خوبی ہی تو ہوتی ہے۔
میں رومانوی کہانیاں نہیں لکھ سکتی لیکن کوشش کرتی ہوں کہ کچھ رنگ بھروں اور جب میں نے یہ کوشش کی تو میری پڑھنے والیوں نے مجھے جو کہا اف چھوڑیں۔ مجھے تو سچی شرم آتی ہے ضروری نہیں کہ رومانوی کا مطلب غلط اخذ کیا جائے، رنگ و بہار، پھول، سمندر نظارے بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جن کی منظر کشی کرکے آپ کچھ رومانوی انداز دے سکتے ہیں۔

فرح طاہر

بالکل ایسا ہی ہوتا ہے کہی نہ کہی کسی نہ کسی لفظ میں کردار میں رائٹر خود کو بیان کر جاتی ہے۔رہا رائٹرز سے جڑے واقعات ، اْن کی خوشی اْن کے غم کا کہانیوں سے جڑے سوال کا تو ایسا بالکل ہوتا ہے، اکثر ہم سے جڑا یا ہمارے ارد گرد ہوتا چھوٹا سا واقعہ چھوٹی سی بات پوری کہانی لکھنے کا سبب بن جاتی ہے۔ چھوٹے سے پوائنٹ کو نوٹ کرکے ہم کہانی بنا ڈالتے ہیں۔ اور جب میں کہانی لکھتی ہوں تو میں پوری طرح خود کو اپنے کرداروں میں اپنے لفظوں میں ڈھال لیتی ہوں ایسے میں میری خوشی میرا غم میری کہانی کے کرداروں میں ڈھل جاتا۔ جہاں میں خوش ہوتی وہاں میرے لفظ کھلکھلا اٹھتے ہیں اور جس لمحے میں اداس ہوتی ہوں میرے لفظ سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ البتہ میری پوری کوشش ہوتی میرے لفظ بھلے سے اداس ہوں مگر غمگین نہ ہوں۔ پھر جب بات آتی کرداروں کی تو میں اپنی کہانی کے کرداروں کے سنگ ہنستی بھی ہوں جہاں وہ اداس ہوتے تو اْن کے دکھ پر باقاعدہ غمگین بھی ہوتی ہوں۔ اس سارے مرحلے میں یہ بات کہنا بالکل بجا ہے کہ ایک لکھاری اپنے ہر کردار میں اپنے ہر لفظ میں موجود ہوتا ہے۔ابھی تک میں خود اپنے اوپر کوئی کہانی نہیں لکھ سکی ہوں ہاں مگر میری بہت سی کہانیاں میں نے اپنے ارد گرد سے اصل مواد اٹھا کر لکھی ہیں اور ہوتا بھی یہی ہے۔ بیس پوائنٹ تو اصل ہی ہوتا ہے پھر کہانی کی باقی امیجینیشن تصوراتی ہوتا ہے جس میں بہت سی جگہوں پر لکھاری کبھی کسی کردار میں اپنی عادت کو نمایاں کرجاتا ہے۔اور کبھی کبھی اپنی کہانی کے کسی ایک کردار میںمکمل طور پر خود کو بیان کرجاتا ہے۔
اور آپ کا آخری سوال کہ کیا ہماری محبتیں ہماری کہانی کو رنگین بناتی ہیں‘ ہاں ایسا بھی ہوتا ہے کبھی کبھی ہماری محبتیں ہمارے کرداروں کو رنگین کردیتی ہیں۔ مگر اصل میں جب رائٹر پوری طرح خود کو کرداروں میں ڈھال کر کہانی لکھتا ہے تو اْس وقت کرداروں کی محبت ہمیں رنگین بنا کر چپکے چپکے مسکرانے پر مجبور کردیتی ہے اور جب ہم اس طرح مسکرا کر اپنے کردار کی محبت میں گم ہوتے ہیں تو انجان لوگ ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھنا شروع کردیتے ہیں تب ہمیں انہیں سمجھانا پڑتا ہے کہ جی ہم بطور لکھاری اپنے لکھے ہوئے کردار سے محبت ہوگئی ہے یا ہورہی ہے اس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لکھاری اپنی کہانیوں میں کس حد تک موجود ہوتا ہے۔

نفیسہ سعید

ہاں میرے کردار میرے آس پاس سانس لیتے ہیں۔میں جو کچھ لکھتی ہوں اس میں میری زندگی کا ہر ایک لمحہ شامل ہوتا ہے۔

ماہم علی

ہاں جی ہم جو کچھ اپنے اردگرد دیکھتے ہیں وہی لکھتے ہیں۔میں نے زیادہ نہیں لکھا مگر جتنا بھی لکھا اس میں نصیحتیں ہی لکھیںتو میں خود ایسی ہوں تو ویسا ہی لکھا۔اور واقعی لکھتے وقت کرداروں کے ساتھ محبت ہو جاتی ہے۔وہ خوش ہوں تو ہم مسکراتے ہیں وہ دکھی ہوں تو ہمارہ چہرہ بھی غم کی تصویر بنا ہوتا ہے۔

ثمینہ فیاض

جی میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے درحقیقت ہر انسان اپنے اندر مثبت اور منفی پہلو دونوں پہلو رکھتا ہے۔جب ہم منفی کردار لکھتے ہیں تو چاہے امیجینیشن ہی کیوں نا ہو سوچ رائٹر ہی کی ہوتی ہے اسی طرح جب کوئی مثبت کردار لکھتے ہیں تو رائٹر کی پوزیٹیو سوچ جاگ جاتی ہے۔اردگرد کا ماحول اور واقعات بھی اپنا اثر ڈالتے ہیں۔اور خود پر بیتی بھی کبھی ذہن کے کسی کونے سے باہر جھانکتی ہے تو کاغز پر خود با خود قلم بند ہوجاتی ہے

بشری گوندل

میرے زیادہ ناولز کامیڈی ہیں۔ مجھے کامیڈی لکھتے ہوئے زیادہ مزا آتا ہے۔لیکن عام لائف میں میں بہت سیریس سی ہوں۔ سیریس اسٹوریز لکھتے ہوئے میں کافی اداس ہوجاتی ہوں بلکہ رونے لگ جاتی ہوں۔فل اسٹوریز تو میںنہیں لیکن کچھ ڈایئلاگز اور کرداروں میں رائٹر موجود ہوتا ہے۔

رابعہ افتخار

کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کردار میں رائیٹر موجود ہوتا ہے۔میں نے کم لکھا لیکن وہی لکھا جو دل سے محسوس کیا۔اپنے اردگرد چلتی پھرتی کہانیوں کو پہلے خود پڑھا پھر لکھا

رضوانہ آفتاب

جہاں تک میری کہانیوں کی بات ہے مجھے اپنی کہانیوں میں اپنا عکس نہیں دکھتا (یہ میری خود کی رائے ہے ) کیونکہ نا چاہتے ہوئے بھی میرے کرداروں میں دکھ کا عنصر بھر جاتا ہے کہانی غمگین ہوجاتی ہے حالانکہ میں دکھی لڑکی نہیں ہوں شاید کچھ زیادہ حساس ہوں اس لے ایسا ہوسکتا ہے۔
ہاں کچھ ایسے واقعات کو ضرور اپنی کہانی کا جزو بناتے ہیں جو حقیقی زندگی میں رونما ھویہوں کرداروں کے ساتھ ذاتی وابستگی ہوجاتی ہے ان کے ساتھ ہنستے روتے ہیں دراصل یہ ہمارا ہی عکس ہے جو کرداروں میں جھلکتا ہے
حقیقی زندگی میں ہم جیسا کر نہیں سکتے کردار کو اپنی جگہ رکھ کر وہ کام کرواتے ہیں دل کو بے حد تسکین ملتی ہے
ہاں بالکل کچھ ایسے ڈائیلاگز ضرور ہوتے ہیں جسے میسجز سے کاپی کر کے ضرور لکھتی ہوں اس سے کہانی میں محبت اور مزاح دونوں کا رنگ عود کر آتا ہے 🙂

ندا حسنین

اپنی زندگی میں آنے والے واقعات تحریر نہیں کیے اب تک آگے کروں گی یا نہیں کچھ کہہ نہیں سکتی۔ میری کہانی کے واقعات زیادہ تر ٹریجیڈیز پر مبنی ہوتے ہیں جیسے سختیاں جھیل کے سونا قیمتی بنتا ہے میں اپنے کردار بھی ایسے ہی کندن بناتی ہوں۔
میرے ہر کردار میں کہیں نہ کہیں میری جھلک ضرور موجود ہوتی ہے۔ بھلے وہ مثبت کردار ہو یا منفی مگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کپ محبت کا فسانہ یا کبھی کبھی کی ہیروئن ندا حسنین کا پر تو ہے ہاں ان میں میری جھلک ضرور موجود ہوگی‘ خوشی کے عالم میں میرے کردار مشکل دور سے گزر رہے ہوتے ہیں کیونکہ اس مشکل دور کے بعد میں نے خوشیاں لکھنی ہوتی ہیں۔

میرے غم میرے کرداروں کو حساس بناڈالتے ہیں
میری محبتیں میری کہانی کو خوبصورت بنا ڈالتی ہیں

حمیرا نوشین

رائٹر اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف کیفیات سے گزرتا ہے اور یہ سچ ہے کہ اس کی تحاریر میں یہ سب جذبات و کیفیات کئی جگہوں پر جھلکتے ہیں۔
دکھ میں وہ جس کیفیت سے گزرتا ہے وہ اسے اپنی کسی بھی تحریر میں ضرور صفحۂ قرطاس پر بکھیر کر سکون محسوس کرتا ہے اور خوشی کے لمحوں کو الفاظ کا پیراہن اوڑھا کر تسکین حاصل کرتا ہے گو کہ میں نے ابھی بہت مختصر لکھا ہے مگر میں نے بہت سی کہانیوں میں اپنی خوشی،محبت و محرومی کے جذبات تحریر کیے۔

بشری سیال

رائٹر کبھی بھی ماحول اور اردگرد سے کٹ کر نہیں لکھتا ہم جو لکھتے ہیں وہ کہیں نہ کہیں حقیقت میں ہو رہا ہوتا ہے۔ابھی حال ہی میں کرن ڈائجسٹ میں میرا افسانہ ’’ردائے شہر‘‘شائع ہوا ہے جو کہ حقیقی کہانی تھی۔
جی ہاں تحریر موڈ پر بہت ڈیپینڈ کرتی ہے اور میرے کردار میرے دل کے بہت قریب ہیں ان کی خوشیوں پر ہنستی ہوں اور دکھوں پر روتی بھی ہوں۔

عائشہ پرویز صدیقی

میں اپنی تحاریر میں کر چکی ہوں یہ کام اور مزے کی بات پکڑ میں بھی آ گئی۔

مسکان احزم

میں تو ابھی چھوٹی سی رائٹر ہوں۔ میرا پہلا سلسلے وار ناول شہیدِوفا ابھی میرے قلم سے بتدریج تخلیق ہوکر ریڈرز تک پہنچ رہا ہے۔اس لیے ان سوالوں کا جواب میں اسی ناول کے حوالے سے دوں گی۔ جی بالکل اس کہانی کے کچھ کردار ایسے ہیں جو مجھے اپنے جیسے دکھائی دیتے ہیں۔جو میرا عکس ہیں۔ ہرکردار کی کوئی نہ کوئی عادت مجھ سے ضرور ملتی ہے۔ مجھے آرمی سے بہت محبت ہے اس لیے میں اس کہانی میں اپنے کرداروں کے ذریعے اپنے دل کی بات لوگوں تک پہنچا رہی ہوں۔وہ جو کچھ میں کرنا چاہتی تھی وہ اب میرے یہ کردار کر رہے ہیں۔
میں محبت کے یہ کردار لکھتے ہوئے بہت پرجوش ہوتی ہوں۔ اس لیے میری خوشیاں ان پر اثرانداز نہیں ہوتیں بلکہ ان کی خوشیاں میرے اندر کا موسم بدل دیتی ہیں۔
میرے غم میرے کرداروں کے آگے کوئی معنی نہیں رکھتے۔یہ اپنی رو میں بہہ رہے ہیں۔میرا اداس موسم ان پر خزاں مسلط نہیں کرسکتا۔
آخری سوال کا یہی جواب دوں گی کہ میری محبت میرے ناول کے کردار ہیں۔ ان کی ہر محبت جو وہ لوگوں سے کرتے ہیں وہ جو اس ملک سے کرتے ہیں۔وہ حقیقی زندگی میں مجھ پر بہت گہرے اثرات چھوڑ رہے ہیں۔ان کی محبتیں میری زندگی کو رنگین بنا رہی ہیں۔

شہباز اکبر الفت

میں نے ابھی تک جو چند ایک کہانیاں لکھی ہیں ان میں سے کئی ایک جزوی طور پر میری زندگی اور ذات سے ہی متعلق ہیں بالخصوص قسمت کی پڑیا، نئے جوتے اور کہانی کار۔قسمت کی پڑیا تو خیر میری آپ بیتی کا ہی حصہ تھی لیکن نئے جوتے لگ بھگ اسی فیصد اور کہانی کار بھی تقریبا ستر فیصد میری اپنی کہانی ہے اور ان کا مرکزی کردار میں خود ہوںدراصل خود پر جو بیتی ہو، اسے زیادہ صراحت، بہتر تاثر اور جذبات کی چاشنی کے ساتھ تحریر کیا جاسکتا ہے ابھی جو میری دو نئی کہانیاں آ رہی ہیں فیک آئی ڈی اور ایک کا ابھی نام نہیں رکھا، ان کا بھی میری زندگی سے گہرا تعلق ہے۔

محمود ظفر اقبال ہاشمی

میں اس سے باہر کچھ نہیں جو کچھ میری تحریروں اور میرے کرداروں کے اندر ہے۔

افشاں علی

خود ساختہ یا خیالی سی دنیا بسا کہ خود نمائی سے بہتر، اپنے آس پاس بکھری کہانیوں کو یکجا کرنا، اور اپنے اندر اٹھتے جذبات و طوفانوں پہ بند باندھ کر صفحۂ ابیض پہ تحریر کرنا گویا ایک فنکار کا اصلی فن ہے۔
میں ہمیشہ معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہوں۔اب ان کہانیوں کے کرداروں میں میری جھلک دکھائی دیتی ہے یا ان کہانیوں میں میرا عکس‘ بات بس اتنی سی ہے، کہ ان کہانیاں میں کہیں نہ کہیں میں موجود ہوتی ہوں،جنھیں میری بصارت و حساسیت نے محسوس کیا ہو۔ انہی کرداروں کو سمیٹ کر میں قلمبند کرتی ہوں آخر میں بس اتنا کہوں گی،

تنقید کیجیے نہ تقریر کیجیے
جو آنکھ دیکھتی ہے اسے تحریر کیجیے

ڈاکٹر صبا خان

ہر انسان کی زندگی میں بے شمار واقعات اور کہانیاں ہوتی ہیں ،جو دیوار زندگی میں رکھے ایک ایک اینٹ کی طرح ہوتی ہیں ،شاعر اور ادیب وہی ہوتے ہیں جو ان کو منظر عام پہ لاتے ہیں ،اور ہر ادیب کی ہر کہانی اس دیوار کی ایک ایک اینٹ ہوتی ہے جسے وہ نکال کے باہر کرتا ہے لہذا ہر کہانی میں کہیں نہ کہیں اپنی جھلک ضرور ہوتی ہے۔

صبا احمد خان

میرا قلم سے ناتہ جڑا ہی اس وجہ سے ہے کہ میں اپنے چند لوگوں کے بھیانک روپ لوگوں تک لا سکوں‘ میری جتنی بھی کہانیاں ہیں وہ سب حقائق پر مبنی ہیں۔ان میں کہی نا کہی میرا کردار شامل ہے۔
میں اپنی خوشیوں سے کرداروں کو مست نہیں کرتی بلکہ ان کو خوشیاں دئے کر ان کو مست کرتی ہوں۔کبھی کبھی میرے اندر کے غم میرے کرداروں کو رنجیدہ کر دیتے ہیں۔محبت کا جذبہ تو ہے ہی رنگین۔میری زندگی میں شاید محبتوں کی کمی نے ہی مجھے یہ احساس دلایا تھا کہ محبت کا جذبہ کتنا رنگین ہے۔

نادیہ احمد

یہ تو ایک لازمی امر ہے کہ ہر لکھاری کی کہانی میں کہیں نا کہیں اس کی شخصیت کا رنگ جھلکتا ہے۔میرا ذاتی خیال یہ ہے قلم اٹھایا ہی اس وقت جاتا ہے اپنے اندر کا غبار باہر نکالنا ہو پھر وہ بھلے محبت ہو، نفرت ہو یا معاشرے کا اصلاحی پہلو جہاں تک بچپن کے واقعات کا تعلق ہے تو جی ہاں میں نے ان میں سے چند ایک کو اپنی کہانی کا حصہ بنایا ہے یا میری کوئی ایسی فینٹسی ہو تو میں اس میں اپنے قلم سے کہانی کا رنگ بھرنے کی کو شش کرتی ہوں۔کہانی کے کرداروں میں مجھ سے زیادہ میرے آئیڈیلز کا عکس جھلکتا ہے۔
میں وہ لکھتی ہوں جو مجھے اچھا لگتا ہے
کہانی تو آپ کے بچے کی طرح ہوتی ہے
پہلی سطر سے آخری حرف تک آپ اسے بڑھتا ہوا دیکھتے ہیں اس کے واقعات کو محسوس کرتے ہیں تو یہ ایک فطری عمل ہے کہ کرداروں سے انسیت ہوجاتی ہے
پھر چند کردار تو یوں بھی آپ بہت سنوار کر لکھتے ہیں تو ان سے لگاؤ ہوجاتا ہے۔

صدف آصف

ایسا ہوتا بھی ہو شاید ،مگر زیادہ تر معاشرے کے کردار یا ان میں پھیلی کہانیوں سے متاثر ہوکر لکھا ہے، ویسے یہ بات تو سچ ہے کہ کہانیوں میں کبھی کبھی لکھاری کا رنگ بھی جھلک جاتا ہے۔مگر ایسا ہونا ضروری نہیں،ہم اپنے مشاہدے اور جگ بیتی پر لکھنا پسند کرتے ہیں،ہمارے ارد گرد پھیلے ایسے دلچسپ کردار جن کو پکڑ کر اپنے افسانے کا حصہ بنالیتے ہیں،گویا انگوٹھی میں نگینہ فٹ ہو جیسے، غم کہانی کے کرداروں پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ہاں محبت ضرور اثر دکھاتی ہے۔ویسے ہمیں اپنے بچپن کے واقعات مکمل جزئیات سے یاد نہیں ہیں۔

غزالہ جلیل راو

جی ہاں میری تحریروں میں میری جھلک ہوتی ہے۔ چاہے وہ کسی بھی کیفیت کی ہو…کیونکہ جب ہم لکھتے ہیں تو لا شعوری طور پر کردار کی انگلی تھام کر چلنے لگتے ہیں۔بہت ساری کہانیوں میں میری جھلک دکھائی دیتی ہے۔

قراۃ العین سکندر

جی سب کردار ہمارے اردگرد ہی موجود ہوتے ہیں لیکن اپنی ذات پر لکھنے کا تجربہ نہیں ہوا اس کی کئی وجوہات ہیں شاید اس کی وجہ میری ریزروڈ طبیعت ہو مگر کہانیوں میں جو محبت کے رنگ چھلکتے ہیں اور تلخیاں امڈتی ہیں یہ سب وہی ہے جو معاشرے سے آپ نے لیا ہوتا ہے۔ قلم اٹھا تے وقت کوئی خاص سوچ نہیں ہوتی پھر جب لکھنا شروع کریں تو کردار بولنے لگتے ہیں ہنستے بھی ہیں اور روتے بھی ہیں ان سب کے ساتھ ہر تحریر میں آپ کا خاص انداز ضرور چھلکتا ہے اور آپ کی چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔

صائمہ قریشی

میں سمجھتی ہوں کہ ایک رائٹر کے پاس ایک ’’تیسری آنکھ ‘‘ ہوتی ہے جس سے وہ ہر دکھ، خوشی، پریشانی اور محبت کو ایک خاص نظریے سے دیکھتے ہیں، ہر اینگل سے اس کو پرکھتے ہیں۔
میرے خیال میں ہر رائٹر کی انتہائی ذاتی زندگی، اس کی سوچ، اس کی محبت، نفرت سب اس کی آئیڈیل ہوتی ہے اور وہ ہر جذبے کو جس زاویے سے بھی دیکھتا ہے وہاں محبت موجود ہوتی ہے۔ عملی زندگی میں چاہے وہ ویسا نہ کر سکے جیسے چاہتا ہے لیکن اپنی کہانیوں میں اپنے کرداروں کی قسمت کے فیصلے کرنے کا اختیار رائٹر کے پاس ہوتا ہے اور ہر کردار چاہے وہ چھے ماہ کا بچہ ہو یا ساٹھ سالہ کوئی کردار رائٹر کی جھلک اس میں ہوتی ہے کیونکہ رائٹر اس کو ویسے تخلیق کرتا ہے جیسے وہ آئیڈیل پرسنلٹی ہو جسے وہ آئیڈیلایزڈ کرتا ہے۔
ہاں میری تحریروں میں میرا اپنا تجربہ، میری خوشیاں، میرے غم سب ہوتے ہیں اور میری محبت میری کہانیوں میں ہوتی ہے، ہیروئن کی برجستگی ہو یا ہیرو کا رومانٹک انداز سب میری زندگی کا حصہ ہیں۔ لیکن ابھی تک صائمہ قریشی سامنے نہیں آئی ہے ابھی تک وہ اپنا کردار لکھ نہیں سکی ہے۔حساس کردار ہو یا شوخ چنچل کردار میرے شب و روز کی وجہ سے کبھی اثر انداز نہیں ہوئے۔ وہ کردار ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے میں چاہتی ہوں کے ہو۔

حساس دل بھی بہت کچھ تخلیق کرواتا ہے
ویسے یہ محبتیں ساری میری اپنی ہیں

سامعہ عبید

میرا خیال ہے کہ ایک رائٹر کا عکس اس کے کرداروں میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی انداز میں جھلک ہی جاتا ہے چاہے ایک فیصد ہی سہی۔زندگی کے واقعات اور رائٹر کا موڈ کہانی پر بہت اثر انداز ہوتا ہے۔
واقعات لکھتی تو نہیں پر ہاں زندگی کی ایک کمی ضرور اپنی کہانیوں میں اکثر اوقات شامل کرتی ہوں ’’بھائی‘‘کی کمی۔میرا ناول ’’بن تیرے میں ہوں بے نشاں‘‘میرا پہلا ناول تھا پر مجھے لگتا ہے کہ وہ اسی لیے میں اچھے سے لکھ پائی کہ اس کے کردار میرے دل کے بے حد قریب ہیں۔ بالخصوص ’’بھائی جان‘‘ کا کردار۔
خوشیاں اور غم تھوڑا بہت اثر تو کرتے ہیں مگر میں ان کی وجہ سے کبھی اپنی کہانی کو اور اپنے کرداروں کو بھٹکنے نہیں دیتی۔
محبتیں… یوں تو ہر رائٹر کی طرح میں بھی اپنی کہانی پورے دل سے لکھتی ہوں مگر میں اپنی کہانی میں ان رشتوں اور ان کے مابین ہوئی ہر بات کو سب سے زیادہ دل سے لکھتی ہوں جو محبتوں سے گندھے ہوں‘ ان کو لکھتے ہوئے میں اپنا دھیان زرا بھی بھٹکنے پر بْری طرح جھنجھلا جاتی ہوں۔

عمارہ عماد

میری کہانیوں میں میں خود بھی ہوتی ہوں اور کئی ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جو میں نے خود دیکھے اور خود جھیلے ہیں اور میرے کئی احساسات بھی جوکہانی کے کردار بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ایک لکھاری معاشرے سے ہی کہانیاں اور کردار لیتا ہے اور اپنی جھلک بھی ضرور ہوتی ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ میں کچھ غلط دیکھوں تو اس حقیقی کردار کو روکنے یا سمجھانے کی استطاعت نہ ہو تو اس کی نشاندہی اپنے افسانوں کے ذریعے کر کے خود کو پر سکون محسوس کرتی ہوں۔میں نے ایک ناول لکھا اس کے منفی اور مثبت کردار میرے بہت دیکھے بھالے ہیں۔جیسے آج کل میں ایک ناول لکھ رہی ہوں اس میں ہیرو کے والد کا کردار بہت مثبت ہے تو اس کی خصوصیات لکھتے ہوئے میں نے اس کردار کے ذریعے اپنے ابو جی کوبیان کیا ہے۔اس لیے میں نے تو جو کچھ بھی ،تھوڑا بہت لکھا ہے ان میں خود بھی ہوں اور میرے ارد گرد بستے لوگ بھی ہیں۔میرے غم یا خوشیاں میرے کرداروں کو متاثر تو کرتے ہیں لیکن بہت اثر انداز نہیں کرتے میں نے انہیں جیسے لکھنا ہو ویسے ہی لکھتی ہوں بلکہ لکھتے ہوئے میں ان کے احساسات کوخود پر اثر پذیر ہوتا محسوس کرتی ہوں۔جی محبت بھی کہانی پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کا رنگ بھی کچھ نہ کچھ تحریر کا حصہ بنتا ہے۔

صباحت رفیق چیمہ

اکثر اوقات شامل کرتی ہوں۔ جیسے وہ ایک ملکہ محبت میں سین جب وداد آفندی اپنی ڈائری پہ یہ الفاظ لکھ رہی ہوتی ہے کہ میں صبح فجر کے لیے اْٹھنا چاہتی تھی خلوصِ دل سے نیت بھی کرتی الارم بھی لگاتی لیکن پھر بھی میری آنکھ نہ کھل پاتی یہ اس بات کی واضح علامت تھی کہ میرا اللہ مجھ سے ناراض ہے۔ ایسا میرے ساتھ حقیقت میں ہوا اور یہ الفاظ تب میں نے اپنی ڈائری پہ لکھے تھے جنہیں بعد میں میں نے ناولٹ میں شامل کر لیا۔
تھوڑا بہت میرا عکس میری ہر کہانی کے کرداروں میں اکثر جھلکتا ہے۔بالکل اگر کرداروں کی زندگی میں خوشیاں لکھ رہی ہوتی ہوں جب تو میں بھی خود کو ایسے خوش محسوس کرتی ہوں جیسے میں اْن کی دْنیا ہی کا تو ایک حصہ ہوں۔نہیں ایسا بالکل نہیں ہوتا کہ میرے غم میرے کرداروں کو رنجیدہ کریں میں جتنا مرضی غم زدہ ہوں بھی تو میں اپنے کرداروں پہ اثر انداز نہیں ہونے دیتی۔
میری محبت کہانی کو رنگین بنا دے اگر میں دْنیا کی تلخ حقیقتوں سے نظر چْرا لوں بلکہ اکثر اوقات میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے اگر میں محبت پہ لکھ رہی ہوں تو میرے دماغ پہ یہ سوال بارہا دستک دیتا ہے کہ ایسا حقیقت میں کب ہوتا ہے جیسے کہانیوں میں محبت مل جاتی ہے ایسے حقیقی زندگی میں کب ملتی ہے محبت بہت نایاب ہوتی ہے۔

افشاں شاہد

پہلے تو عمدہ سوالات پوچھنے پر داد وتحسین قبول کیجیے۔
ہر کہانی میں تو رائٹر کا عکس نہیں چھلک سکتا کیونکہ ہر کردار کا ایک اپنا وجود ہوتا ہے جو اکثر ارد گرد کے لوگوں سے متاثر ہو کر رائٹر کے قلم سے وجود میں آتا ہے۔
میں کوشش کرتی ہوں کہ جس بھی کردار کے بارے میں لکھوں اسے محسوس کروں اور جب افسانے میں ہیروئن روئے تو میری آنکھیں بھی نم ہو جائیں ،اور میری خوشیاں اور غم کرداروں پر اثر انداز ہوتے ہیں ایک دفعہ ایک جگہ میں بہت ہرٹ ہوئی تھی اور میں نے دوسری صبح اس سچویشن پر افسانہ لکھا تھا لیکن میں محبت کے بارے میں لکھتے وقت بہت احتیاط سے کام لیتی ہوں یا پھر میں بہت کم اظہار کرتی ہوں اس لیے محبت کے بارے میں کھل کر نہیں لکھ پاتی۔

فرح بھٹو

میری کہانیوں میں ارد گرد کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔ جو آس پاس یا معاشرے کی باتیں مجھے پن کرتی ہیں وہ میں لکھ لیتی ہوں۔اور اب تک افسانے جو لکھے ہیں میرے مشاہدے پر مشتمل ہیں۔میں ہوں ان میں مگر بہت کم کہیں جھلک دکھادیتی ہوں اپنی ورنہ تھرڈ پرسن بن کر صرف لطف اندوز ہوتی ہوں کرداروں کی خوشیوں میں خوش اور غم پر افسردہ ہوتی ہوں۔خود کی کوئی بات یا واقعہ کہانی میں ہی سہی شامل کرنا میرے لیے انتہائی مشکل ہے۔ کیونکہ میں ایسی ہی ہوں ریزوڈ اپنی خوشیاں اپنے غم سینت سینت کر رکھنے والی۔

جہانہ آفتاب

جو الفاظ قلم کی نوک سے بہتے ندی کی مانند قرطاس پر موتیوں کی طرح بکھر جاتے ہیں وہ الفاظ دراصل دل سے نکلتے ہیں اور جو لفظ دل کی ذمین سے پرپھوٹتے ہیں وہ درحقیقت الفاظ نہیں ہوتے وہ دل کی چیخ ہوتے ہیں آہ و بکا ہوتی ہے جو درد کے سمندر میں ڈوبنے سے نکل آتی ہے ایک لکھاری وہی لکھتا ہے جو دیکھتا ہے اور جو محسوس کرتا ہے لکھاری بھلے دوسروں کی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات لکھ رہا ہو مگر کیفیات وہ ہوتی ہیں جو اس کا دل محسوس کرتا ہے۔کرداد کوئی بھی ہو اس کے محسوسات میں لکھاری کا عکس ہوتا ہے میری تحریر کے ہر غم اور ہر خوشی میں میرے ذاتی محسوسات شامل ہیں میری شخصیت کے بہت سے رنگ میری تحریر کے کرداروں میں چھلکتے ہیں۔

کوثر ناز

جی بالکل ایسا ہوتا ہے۔ ہر رائٹر اپنی کہانی کے تقریباً سبھی کرداروں میں موجود ہوتا ہے چاہے وہ منفی ہو یا مثبت۔ میں ہمیشہ وہی لکھتی ہوں جو محسوس کرتی ہوں میں اپنے کرداروں کو خود جیتی ہوں ان کی خوشی لکھتی ہوں توخوش ہوتی ہوں۔ غم لکھتی ہوں تو اداس بھی ہوتی ہوں۔ کہانی لکھاری کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔

مریم جہانگیر

میں نے ایسا کچھ نہیں لکھا جو میں نے محسوس نہ کیا ہو !

قراۃ العین خرم ہاشمی

میری تحریروں کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک میرا مشاہدہ اور دوسرا میری حد سے بڑھی ہوئی حساسیت۔ اس لیے جو بھی لکھا اس میں کہیں نہ کہیں میری سوچ کا کوئی رنگ ضرور جھلکتا ہے۔ اپنے بچپن کالج لائف پھر میرڈ لائف کے بہت سے تجربات و واقعات اپنی کہانیوں میں لکھے ہیں۔ بلکہ زیادہ تر وہ ہی لکھا جس نے حساسیت کی سطح پرآکر بہت شدت سے ہلچل مچائی اور اپنے ہونے کا شور ڈالا۔

عریشہ سہیل

ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ بلکہ میرا ماننا یہ ہے کہ ہر لکھاری اپنی کہانی کے کسی نہ کسی کردار میں اپنا عکس دکھاتا ہے اور اپنی ذاتی زندگی کے واقعات قلم بند کرتا ہے۔ اسی طرح میں نے بھی اپنی کہانیوں میں بہت سی ایسی باتیں لکھی۔ یہی وجہ ہے کہ لکھاریوں کو حساس کہا جاتا ہے۔

بشکریہ فیس بک گروپ اور پیج ایڈمنز
صباء عیشل‘ حنا مہر‘ راؤ رفاقت علی‘ ماورا طلحہ‘ عصر خان‘ نرمین نعیم۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close