Aanchal Jun-18

ہمارا آنچل

ملیحہ احمد

رباب کنول…حیدر آباد

ڈیئر قارئین، اسلام علیکم، آپ سب اور آنچل کے لیے ڈھیر ساری دعائیں لیے رباب کنول انصاری حاضر خدمت ہے، اس امید کے ساتھ کہ میرا یہ چھوٹا سا تعارف آپ کو پسند آئے گا، تو جی جناب ایک بڑی بہن (نسرین صدف) اور چار بھائیوں کے بعد ہمارا نمبر ہے۔ 14 اگست کو اس دنیا میں آئی۔ بچپن سبھی بچوں کی طرح شرارتوں سے مزین تھا جو اب تک اسی طرح موجود ہے۔ مجھ سے چھوٹی ایک بہن ماہم نور ہے، جو میری طرح یا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ میں اس کی طرح ’آنچل‘ کی دلدادہ ہوں۔ ماہم نور میری بہن پلس دوست ہے، ویسے دوستوں کی فہرست بہت طویل ہے، تاہم عروسہ اینڈ ماہ نور رسالوں کی وجہ سے ٹاپ پر ہیں، باقی اور فرینڈز کا ڈائجسٹ وغیرہ پڑھنے کا رحجان نہیں ہے، میری امی میری سب سے اچھی دوست اور وہ واحد دوست جن سے میں ہر بات شیئر کرتی ہوں، اب آتے ہیں خوبیوں اور خامیوں کی طرف تو میری سب سے اچھی خوبی جس کی دوسرے بھی تعریف کرتے ہیں وہ یہ کہ میں ہر ایک سے محبت اور عزت کے ساتھ پیش آتی ہوں، خامیاں بہت ساری ہیں لیکن جو مجھے خود ناپسند ہے وہ یہ کہ میں ایک غیر مستقل مزاج لڑکی ہوں۔ میرا شوق مطالعہ کرنا، ریڈیو سننا اور کرکٹ کھیلنا ہے۔ سیاست سے گہری دلچسپی ہے، وطن سے محبت میرا نصب العین ہے۔ محنتی، سچے اور بہترین نظریاتی لوگ پسند ہیں۔ بزرگوں اور بجوں سے خاص انسیت ہے، شعر و شاعری سے شغف ہے۔ کوکنگ کرنا پسند ہے۔ فیروزی رنگ، مٹی کی خوشبو، آئس کریم، بریانی، سیر و تفریح اور موسم بہار دل کو بھاتے ہیں۔ مصروفیت اچھی لگتی ہے، فرصت کے لمحات میں ماہم اور میں بچپن کو یاد کرتے اور ان باتوں، حماقتوں پر تادیر ہنستے ہیں، فیورٹ سنگرز عابدہ پروین صاحبہ اور سجاد علی ہیں، پسندیدہ لباس وہ جس سے آپ کی حیا اور پاکیزگی چھلکے، آئیڈیل شخصیت ﷺ ، حضرت علی اور محمد علی جناحؒ ہیں۔ میری کامیابی میرے ولدین کی خدمت میں پوشیدہ ہے،کیونکہ والدین کی خدمت آپ کو دنیا کی ہر ناکامی سے بچالیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کا سایہ ہمارے سرپر سلامت رکھے۔ آمین۔ آخر میں بس اتنا ہی، جن کی سانسوں میں دعائیں ہیں، ایسی ہستیاں صرف مائیں ہیں۔

ہرتمنا ہی میری لاحاصل
پھر کس دھن میں جیئے جا رہا ہوں
اس محبت کو اپنے دل سے نکال کر
میں اپنے آپ سے آزاد ہوتا جا رہا ہوں

شہناز فضل…

السلام علیکم! ڈیئر قارئین کو۔ کافی عرصے بلکہ یوں کہنا چاہیے بیالس سال سے پڑ ھ رہی ہوں۔ جب حور، حنا پاکیزہ وغیرہ آتے تھے۔ میرے والد صاحب اڑسٹھ میں انتقال کرگئے تھے۔ میری امی جان بہت بیمار رہتی تھیں تو وہ مجھ سے کہانیاں سنتی تھیں۔ جب ہی سے شوق ہوا تھا۔ پھر آٹھ بہن بھائی ہیں مجھ سے بڑی دو بہنیں ہیں۔ پھر میں ہوں، پھر بہن اور پھر چار بھائی ہیں۔ میں مڈل پاس ہوں، لیکن معلومات بہت ہے کیونکہ ’اخبار جہاں‘ بھی بچپن سے پڑھتی ہوں۔ بچوں کی کہانیاں بھی پڑھتی ہوں۔ عمران سیریز بھی پڑھتی تھی۔ اور پیاری نازیہ کنول نیازی، بشری رحمن بہت اچھا لکھتی ہیں ، اور امر مریم ، سمیرا شریف، فائزہ گل، نمرہ احمد، عمیرہ احمد پسندیدہ لکھاریوں میں شامل ہیں۔ اگر میں سب کے نام لکھوں تو یہ تو ایک افسانہ بن جائے۔ میری پسند گیلی مٹی ہے۔ وائٹ کلر پسند ہے، شلوار قمیض پسند ہے، موتیا کے پھول بہت پسند ہیں اور جو بھی کتاب ہاتھ لگ جائے ختم کئے بغیر سکون نہیں ملتا ہے۔ ہم شریر بھی بہت تھے۔ اب ایک عمر ہوگئی ہے میرے تین بیٹے ہیں۔ بڑے کی شادی ہوگئی ہے۔ ایک دبئی میں ہے اور چھوٹا پاکستان میں۔ شوہر جدہ میں ہوتے ہیں بلکہ سارے ہی سسرال والے جدہ میں ہوتے ہیں۔ میری آئیڈیل شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں ابھی عمرہ بھی کرکے آئی ہوں،میں آنچل، حجاب، پاکیزہ، کرن، شعاع،حنا، خواتین ڈائجسٹ سب ہی پڑھتی ہوں۔ کیونکہ بیٹی نہیں ہے، میرے بیٹے فیصل کی شادی ہوئی تو میں کوئی کام بھی نہیں کرتی ہوں۔ میرے گردے خراب ہیں، تو کھانے کا بھی شوق نہیں۔ہاں پکانے کا بہت شوق تھا۔ اور ابھی بھی ہے۔ اب بات خوبیوں اور خامیوں پر تو مجھے غصہ بہت آتا ہے۔ جو برداشت میں ہوتا ہے۔ دل کی بہت اچھی ہوں، درگرز کرتی ہوں۔ دوستی کرنا اچھا لگتا ہے اور کوئی دوستی کرنا چاہے تو موسٹ ویلکم ‘شب ہجر کی پہلی بارش ناریہ کنول نازی کی یہ تحریر بہت ہی پسند ہے۔ ویسے سب ہی اچھا لکھتی ہیں۔ مجھے بارش بہت پسند ہے۔ ویسے مجھے اپنا اخلاق بھی بہت پسند ہے۔ میں پہلی بار لکھ رہی ہوں پتہ نہیں ٹھیک لکھا ہے یا نہیں ‘اب اجازت چاہتی ہوں۔’’اچھا سوچیے۔ اچھی باتیں کرنا یہ بھی صدقہ جاریہ ہوتا ہے۔‘‘

ثنا نواز جھنگ

السلام علیکم! آنچل کے تمام قارئین کومیری طرف سے پیار بھرا سلام، سنائیے کیسے ہیں آپ سب یقینا ٹھیک ہوں گے۔ میں ہر بار کوشش کرتی ہوں، لیکن پتا نہیں کیوں لکھ نہیں پاتی لیکن آخر میں نے ہمت کر ہی لی۔
اور ایک راز کی بات بتائوں، میں یہ لیٹر کلا س میں بیٹھ کر لکھ رہی ہوں۔ اسٹوڈنٹ پوچھ رہے ہیں ٹیچر جی آپ اپنا کام کر رہی ہیں اور ہم نے کہا یہی سمجھ لو، اچھا تو آپ نے میرا نام اوپر تو پڑھ ہی لیا ہوگا، لیکن پھر بھی بتاتی چلوں میرا نام ثناء نواز ہے، میں1998ء کو اس دنیامیں حاضری لگانے آگئی۔ میں بی اے پارٹ ون کی اسٹوڈنٹ ہوں اور ٹیچر بھی ہوں فیوچر میں، میںنے ڈیزائنر بننا ہے اور یہ میرا خواب ہی نہیں بلکہ میرا جنون ہے۔ میں جھنگ کے گائوں منگالی شریف میں رہتی ہوں۔ اب بات ہوجائے فیملی کی تو ہم سات بہن بھائی ہیں، چار بہنیں اور تین بھائی ہیں اور میں سب سے چھوٹی ہوں، میرے علاوہ سب کی شادیاں ہوچکی ہیں اور سب اپنے بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی جی رہے ہیں، بس ایک بھائی اور سسٹر کی اولاد نہیں، اللہ ان کو صاحب اولاد کرے۔ آمین۔
اب مزے کی بات بتائوں جب میری بڑی آپی کی شادی ہوئی تھی تب میں دو سال کی تھی۔ مجھے اور میری بھابی جویریا میں تین چار سال کا فرق ہے۔ اس کی اور میری آپس میں بہت بنتی ہے، ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کرتی ہیں۔ اس کی آنکھیں بہت پیاری ہیں، گہری جھیل جیسی، ان میں ڈوب جانے کو من کرتا ہے، کیونکہ وہ ہے ہی اتنی پیاری۔ ہائے کہیں دوسری آپی ناراض ہی نہ ہوجائے، ہاں بھئی ان کی بیٹیاں ثانیہ ثمر اور مناہل بھی بہت پیاری اور کیوٹ ہے اور میرے بھائیوں کی بیٹیاں بھی بہت پیاری ہیں، سعدیہ نادیہ خدیجہ کنزا اور میرے بھیجتے عدنان فیضان اور احمد فراز ہیں وہ بہت ناٹی بوائے ہیں اور بھانجے حسان اور شہزاد ہیں، سب ہی مجھے پیارے لگتے ہیں کیونکہ میں ان کی چھوٹی پھوپو اور خالہ جو ہوں۔ اور میں اپنے امی اور ابو سے بہت پیار کرتی ہوں خدا میرے ماں باپ کو صحت والی عمر عطا فرمائے آمین۔ میری ماں دنیا کی سب سے اچھی ماں ہے اور میں اپنی امی کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہوں، امی آئی لویو، اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ صحت مند رکھے اور عمرہ کی سعادت نصیب فرمائے۔آمین۔ مطالعہ کرنے کا بے حد شوق ہے، میں ڈائجسٹ بہت شوق سے پڑھتی ہوں، ہاں ایک بات بتائوں کالج لائف میں نہیں پڑھ سکتی تھی کیونکہ امی کہتی تھیں کہ اس سے تمہاری پڑھائی پر اثر پڑے گا اور دوسرا میری سسٹر صائمہ کو رسالہ سے بڑی چڑ ہوتی تھی کہ تم ہر وقت رسالہ لے کر بیٹھی رہتی ہو، لیکن اب تو اس کی بھی شادی ہوگئی ہے۔ اللہ اس کو اپنے گھر میں آباد رکھے۔
اب بات ہوجائے خوبیوں اور خامیوں کی تو مجھ میں پہلی اور خاص خامی یہ ہے کہ مجھے غصہ بہت آتا ہے، خاص کر ان لوگوں پر جو جھوٹ بولتے ہیں، ایک کی بات سن کر دوسرے کو بتا دیتے ہیں، ان پر مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ دل کرتا ہے ان کو شوٹ کردوں، لیکن ایسا میں کر نہیں سکتی، دل کی صاف ہوں اگر کوئی میرے ساتھ زیادتی کر بھی لے تو میں اس کو معاف کردیتی ہوں۔ میری اتنی زیادہ دوستیں نہیں۔ میری کالج لائف میں چار دوستیں تھیں، غزالہ صوفیہ، اقراء اور ارم اور میں ہمارا اپنا ہی ایک علیحدہ گروپ تھا۔ بہت مزا آتا تھا، اب کالج لائف کو بہت مس کرتی ہوں، غزالہ کی تو اب شادی ہوچکی ہے اور پتا نہیں وہ مجھے یاد بھی کرتی ہوگی کہ نہیں، وہ کرے نہ کرے لیکن میں اس کو ہر روز یاد کرتی ہوں۔
میرے فیورٹ کلرز گرین بلو اور سفید ہیں، میں کپڑوں میں ہمیشہ شلوار قمیص ہی پہنتی ہوں اور کھانے میں جو ملے کھاپی لیتی ہوں، موڈی نہیں ہوں لیکن میں مٹن بریانی بڑے شوق سے کھاتی ہوں۔ میری فیورٹ کتاب قرآن مجید ہے اوررائٹرز میں سمیرا شریف طور، نازیہ کنول نازی موسٹ فیورٹ رائٹر ہیں۔ مجھے سونگ سننے پسند ہیں، مجھے ٹی وی دیکھنے سے زیادہ اسٹوری پڑھنے میں مزا آتا ہے۔ مجھے ان اداکاراؤں پر بہت غصہ آتا ہے جو انڈیا میں فلمیں بنانے چلی جاتی ہیں، ان کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ ہمارا دشمن ملک ہے اس کے وہاںپہنچ جاتے ہیں، چلو لڑکوں کی بات اور ہے وہ جائیں، لیکن لڑکیوں کو نہیں جانا چاہئے، میری تو یہی رائے ہے، وہاں پر لڑکیوں کو بیہودہ لباس زیب تن کروایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ لباس ایک مسلم عورت کو زیب نہیں دیتا۔ ہاں مجھے ایک بات یاد آئی میرے خط نہ لکھنے کی وجہ میری لکھائی بھی تھی، میں سوچتی تھی کہ میری خراب لکھائی کا مذاق اڑائیں گے۔ میں جب آٹھویں جماعت میں تھی تو مس عفت نے مجھے کہا تھا کہ ثنا اب ایگزمنیشن میں ٹانگوں سے نہ لکھ دینا ہاہاہا۔ آپ لوگوں کو بھی ہنسی آرہی ہوگی۔ میری فیورٹ ٹیچر خورشید موہل ، مس راحیلہ صاحبہ، مس عذرا، مس عصمت اور مس سندس تھیں، وہ بہت اچھی ٹیچرز تھیں۔ اچھا اب آپ لوگ بھی بور ہو گئے ہوں گے، بس آخر میں ایک بات کہنا چاہتی ہوں کہ انسان جتنی بھی کوشش کرلے اور لاکھ ہاتھ پائوں مار لے کہ میں نے زندگی میں ہر چیز حاصل کرنا ہے اور کچھ بن کر دکھانا ہے، لیکن ہوتا وہی ہے جو قسمت میں ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں کسی سے حسد نہیں کرنا چاہیے کہ اس کے پاس یہ ہے میرے پاس نہیں، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو جلاکر خاکستر کردیتی ہے، یعنی راکھ کردیتی ہے۔ ہاں میں نے ایک بات رسالے سے نوٹ کی تھی ایک لڑکی نے لکھا ہوا تھا کہ اپنی عزت کی حفاظت کرنا اور اپنے کردار کو بلند رکھنا، کیونکہ دنیا میں ہر چیز واپس مل سکتی ہے، مگر عزت نہیں۔ تو اس نے بالکل اچھا لکھا تھا کہ لڑکیوں کو اپنے ماں باپ کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے اور میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اگر پاکستان میں اس طرح کی لڑکیاں پیدا ہوجائیں تو ہمارا معاشرہ سنوار جائے اور شاید لڑکیوں کی سمجھ میں آجائے ۔ماں‘باپ کی عزت کتنی اہم ہوتی ہے، خاص کر ہماری اپنی عزت کیونکہ ان محبت نما دھوکوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ والسلام۔

مصباح بتول…

السلام علیکم آنچل اسٹاف، ریڈرز اینڈ رائٹرز اور تمام چاہنے والوں کو مابدولت کی طرف سے پیار بھرا سلام قبول ہو اور ڈھیروں دعائیں مجھ ناچیز کو مصباح بتول کہتے ہیں، میں آنچل کی خاموش قاری ہوں، میرا آنچل سے تقریباً آٹھ نو سال کا پرانا اور گہرا تعلق ہے۔ تمام ڈائجسٹوں میں سے مجھے آنچل پسند ہے۔ آنچل سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، ہم پانچ بہن بھائی ہیں، چار بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں، والد محترم کا انتقال ہوگیا۔ میرے ابو جان مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ دسمبر دوہزار سولہ میں مجھ پر یہ پہاڑ ٹوٹا، میرے والد محترم چپکے سے ہمیں چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے۔ اللہ تعالیٰ میرے والد محترم کو جنت الفردوس کی تمام نعمتوں سے مالا مال فرمائے۔ آمین۔ میری تعلیمی قابلیت میٹرک ہے۔ میری امی جان ذہنی مریضہ ہیں، امی جی کی بیماری کی وجہ سے مزید پڑھ نہ سکی۔ پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن اکلوتی بہن ہوں ، والدہ کی بیماری اور گھر کی ذمہ داری کی وجہ سے مزید تعلیم نہ حاصل کرسکی، اللہ میری والدہ کو تندرستی عطا فرمائے۔ ہماری والدہ کا سایہ ہم پر سلامت رکھے۔ ہماری کاسٹ جٹ ہے۔ اب بات ہوجائے پسند و ناپسند کی، تو مجھے پھولوں میں سرخ گلاب پسند ہے، اور کھانے میں مجھے بریانی، سموسے بہت پسند ہیں اور آئس کریم بہت شوق سے کھاتی ہوں اور کھانے میں جو ملے کھالیتی ہوں، نخرہ نہیں کرتی۔ گھر والوں کو تنگ نہیں کیا کبھی اور نہ کبھی کسی چیز کے لیے ضند کی اور ڈریسز میں مجھے فراک بہت پسند ہے اور کلرز میں زنک اور پنک کلرز بند ہیں ۔ چودھویں کا چاند اچھا لگتا ہے۔ بارش بہت پسند ہے۔ جیولری میں لاکٹ، چوڑیاں، رنگ بہت پسند ہے۔ دوستی کے رشتے کو مانتی ہوں، اسکول لائف میں رضیہ، سعدیہ، ارم، امتیاز، شمائلہ، فضہ، سامیہ سے میری اچھی دوستی رہی، اب بھی ہے… اب بھی وہ میری بیسٹ فرینڈ ہے اب آتے ہیں اچھائی اور برائی کی طرف۔برائی یعنی خامی یہ ہے کہ غصہ بہت جلدی آتا ہے، کنٹرول نہیں ہوتا ویسے جلدی ختم ہوجاتا ہے، جب غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ غصہ نہیں کرنا چاہیے، لیکن کیا کروں غصہ کا کوئی علاج بھی نہیں اور بھروسہ بہت جلد کرتی ہوں اور نقصان اٹھاتی ہوں۔ اچھائی یہ ہے کہ بقول صائمہ کے خوش اخلاق ہوں، اچھے اخلاق سے ہر کسی سے بات کرتی ہوں۔ اور میں کسی سے حسد نہیں کرتی، نہ کسی کا کبھی برا سوچا ہے۔ انگیجڈ ہوں، بہت جلد شادی ہونے والی ہے بلکہ اب تو کچھ دن ہی رہ گئے ہیں شادی میں۔ میری فیورٹ جگہ خانہ کعبہ ہے، میری دعا ہے اللہ تعالیٰ مجھے اور میری امی جان کو اپنے ییارے گھر کی زیارت نصیب فرمائے ‘ آمین۔ اور میری فیورٹ ٹیچرز میں ٹیچر سمیرا اور صائمہ اور ٹیچر فرح ہیں۔ میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ مجھے پیارے نبیﷺ سے بہت پیار ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close