Aanchal May-17

ذرا مسکرا میرے گمشدہ

فاخرہ گل

غمِ یار کی تب و تاب پر‘ میری زندگی بھی نثار ہے
میں ہزار خوشیاں پرکھ چکا‘ غمِ یار پھر غمِ یار ہے
یہ زبان و دل کی رقابتیں‘ نہ شکایتیں نہ حکایتیں
لبِ بند میرے سخن سرا‘ میری خامشی بھی پکار ہے

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

اجیہ کے گھر پر تالا دیکھ کر اربش بے حد متفکر ہوجاتا ہے جب ہی وہ اس سے فون پر رابطہ کرتا ہے دوسری طرف اجیہ اپنے گھر میں موجودگی کی اطلاع دیتے اس کو حیران کردیتی ہے سکندر صاحب کے جارحانہ رویوں اور اجیہ کے غزنی سے نکاح کا سن کر وہ شاکڈ رہ جاتا ہے اور اپنے دوست حسن کی مدد سے گھر کا لاک کھولنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اجیہ کی والدہ اربش کو اپنی زندگی کی تمام حقیقت سے آگاہ کرتے اپنی مجبوریوں کے متعلق بتاتی ہیں جب ہی اربش اجیہ سے فوری نکاح پر آمادگی ظاہر کرتا ہے اس مقصد کے لیے وہ بوا کو اپنے ساتھ لے کر اجیہ کے گھر پہنچتا ہے جبکہ بوا اربش کے نکاح کا جان کر شاکڈ رہ جاتی ہیں وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہوتی ہیں کہ اربش کی ممی شرمین کو اپنی بہو بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں جب ہی وہ اپنے نکاح میں شریک ہونے والی بات کسی پر ظاہر نہ کرنے کا کہتی ہیں اربش ان کی مجبوری کو سمجھتے ان سے وعدہ کر لیتا ہے اور یوں بوا اور چند گواہاں کی موجودگی میں اجیہ کا نکاح اربش سے ہوجاتا ہے دوسری طرف غزنی دل کی مراد بر آنے پر بے حد مسرور ہوتا ہے اسے اجیہ کی تلخ باتیں وقتی جذباتیت اور حماقت نظر آتی ہیں گھر کے سب ہی لوگ اس خوشی میں بے حد خوش ہوتے ہیں غزنیٰ شرمین کو بھی آفس نہ آنے کا کہتا اپنی شادی کا تذکرہ کرتا ہے اور اجیہ سکندر کے نام پر شرمین چونک جاتی ہے کیونکہ اس اجیہ سے تو اس کے پرانے تعلقات تھے لیکن وہ بھی اجیہ اور غزنیٰ کی شادی کا سن کر خوش نظر آتی ہے۔ بوا اور اربش کے ہمراہ اجیہ اپنے گھر کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیتی ہے ایسے میں اربش اس کے جذبات و احساسات کا بے حد خیال رکھتا ہے اور اس کے لیے خوب صورت جوڑا خرید کر اسے پارلر میں تیار ہونے بھیج دیتا ہے اجیہ اس کا ساتھ پاکر تمام خدشات بھول جاتی ہے۔ دوسری طرف سکندر صاحب گھر پہنچ کر اجیہ کی غیر موجودگی کا سن کر مشتعل ہوجاتے ہیں اور اس کے کردار کو مشکوک قرار دیتے ہیں غصے کے عالم میں وہ طلاق کا لفظ بھی منہ سے نکالتے ہیں مگر حنین انہیں دوسری طرف لے جاتی ہے اسی جھگڑے کے دوران حنین پر اصلیت کھلتی ہے کہ وہ سکندر صاحب کے دوست کی بیٹی ہے جسے انہوں نے پالا ہے یہ حقیقت اپنی ماں سے جان کر وہ شاکڈ رہ جاتی ہے دوسری طرف سکندر صاحب اپنے بھائی کو تمام حقیقت بتانے کا ارادہ کرتے ہیں اور غزنیٰ کو فون پر بارات نہ لانے کا کہتے ہیں اجیہ کی گھر سے گمشدگی کی خبر غزنیٰ کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتی اجیہ اربش کے ہمراہ دلہن بنی اس کے گھر پہنچتی ہے کہ وہاں اربش کی ممی اپنی اسکول ٹیچر اجیہ کو اربش کے پہلو میں دیکھ کر شاکڈ رہ جاتی ہیں۔
(اب آگے پڑھیے)
/…ء…/
کسے خبر تھی
اک مسافر مستقل زنجیر کرے گا
اور سفر کے سب آداب بدل جائیں گے
کسے یقین تھا
وقت کی رو جس دن
مٹھی میں بند ہوگی
ساری آنکھیں سارے خواب بدل جائیں گے
ہمیں خبر تھی
ہمیں یقین تھا
تبھی تو ہم نے توڑ دیا تھا رشتۂ شہرت عام
تبھی تو ہم نے چھوڑ دیا تھا شہر نمود و نام
لیکن میرے اندر کا کمزور آدمی
شام سویرے مجھے ڈرانے آجاتا ہے
نئے سفر میں کیا کھویا ہے کیا پایا ہے
سب سمجھانے آجاتا ہے
اور صرف ممی ہی نہیں‘ اس وقت خود اجیہ کا دل بھی ایک عجیب بے یقین کیفیت سے گزر رہی تھی۔ ایک تو میکہ اس طرح چھوڑنے کا دکھ اور پھر اسے دیکھتی ہی ممی کی آنکھوں سے ابلتا آتش فشاں‘ اسے لمحے کے ہزارویں حصے میں بہت کچھ سمجھ آگیا تھا۔ وہ اربش کے سہارے اپنی زندگی کے اس نئے سفر پر پہلا قدم رکھ تو چکی تھی لیکن یہ سفر خوش گوار بھی ہوگا یا نہیں‘ اس بات کا یقین کرنا ابھی باقی تھا۔
ممی ابھی تک اپنی جگہ سے اٹھی نہیں تھیں اور نہ ہی اب تک ان کے دیکھنے کے انداز میں کوئی بھی تبدیلی واقع ہوئی تھی۔ یقینی طور پر انہیں اب تک اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا‘ حیرت اس قدر تھی کہ ذہن میں کوئی سوال تک نہیں تھا‘ وہ بس دیکھے جارہی تھیں ان کی آنکھوں میں کیسے تاثرات ہیں وہ اس سے بھی بے خبر تھیں۔
بوا‘ ممی سے نظریں چراتی محسوس ہوئیں لیکن ممی کو ان کی طرف دیکھنے کا ہوش ہی کہاں تھا‘ وہ تو اربش اور اجیہ سے نظریں ہٹا ہی نہیں پارہی تھیں۔
’’ممی… یہ اجیہ…‘‘ آخرکار اربش نے خود ہمت کرکے ایک بار پھر انہیں مخاطب کیا۔
’’جانتی ہوں…‘‘ ممی نے مختصر جواب دے کر خاموشی اختیار کی‘ انداز ایسا تھا کہ جیسے کہہ رہی ہوں… ’’آگے بولو‘ کیا بولنا چاہتے ہو؟‘‘ لیکن یہ الفاظ انہوں نے ہونٹوں کے بجائے آنکھوں سے ادا کیے تو اربش کے لیے جواب دینا مشکل ہوگیا اب بھلا وہ خود سے کیسے بتاتا کہ اجیہ ان کی بہو ہے اس کے خیال میں تو یہ تھا کہ ممی اس سے کچھ پوچھیں گی اور جواباً وہ تمام حالات سے آگاہ کردے گا لیکن ان کا جواب اس قدر مختصر اور روکھا تھا کہ اربش اگلی بات شروع کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈنے لگا۔
ممی اجیہ کو جانتی ہیں یہ بات اس کے لیے قطعی طور پر حیرت کا باعث نہیں بنی تھی کیونکہ اجیہ نے آج اسے بتادیا تھا کہ وہ انہی کے اسکول میں جاب کرتی ہے اور قرآن خوانی کے روز بھی وہ ایک ٹیچر کی حیثیت سے ان کے گھر آچکی ہے لہٰذا اس تمام موجودہ صورت حال میں حیرت صرف اور صرف ممی ہی کے حصے میں آئی تھی۔
’’ممی جیسے کہ آپ اجیہ کو دلہن کے روپ میں دیکھ ہی رہی ہیں تو وہ اس لیے کہ… ہم دونوں نے نکاح کرلیا ہے۔‘‘ اربش نے ممی کے قریب آکر انہیں بتایا اجیہ بھی اس کے ساتھ کھڑی تھی۔ اس کے کپڑوں والی اٹیچی اربش نے قدرے فاصلے پر رکھ دی تھی۔
’’اربش… یہ تم کیا کہہ رہے ہو اور… اور تم یہ سب بھلا کیسے کرسکتے ہو؟ میری خوشی‘ رضا مندی‘ میرے مشورے اور سب سے بڑھ کر میری موجودگی کے بغیر تم یہ نکاح آخر کیسے کرسکتے ہو؟‘‘ اربش کے قریب آنے پر جیسے ان کا سکتہ ٹوٹا تھا۔
عروسی لباس میں ملبوس اجیہ کو اربش بطور خاص بیوٹی سلیون سے تیار کروا کر لایا تھا کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ساتھ شروع کی گئی اجیہ کی نئی زندگی میں کبھی بھی کوئی محرومی‘ کوئی آس باقی رہے۔ وہ اس کی زندگی کے تمام کاش اور اس کی تمام ادھوری خواہش مکمل کردینا چاہتا تھا اور وہ جانتا تھا کہ دلہن بننا کسی بھی لڑکی کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے اور وہ اجیہ کی آنکھوں میں اس خواب کی تعبیر کسی طور بھی پھیکی نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اسے مکمل دلہن کے روپ میں ہی اپنے ساتھ اس گھر میں لایا جسے دیکھتے ہی ممی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں تھیں۔
’’آپ کی موجودگی کے بغیر میں کبھی یہ قدم نہ اٹھاتا ممی… اگر اجیہ کے گھر میں غیر متوقع حالات نہ ہوتے اسی وجہ سے اجیہ کی امی بھی بے حد پریشان تھیں کہ…‘‘
’’تمہیں اس کی امی کی تو بڑی فکر ہوئی‘ اپنی ماں کے بارے میں تم نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ میرے دل پر کیا گزرے گی۔ تمہاری اس بچگانہ حرکت سے؟ اور جب میں تمہیں بتاچکی تھی کہ میں نے تمہارے لیے ایک لڑکی پسند کی ہے تو تم نے میری پسند کو ذرا اہمیت نہ دی؟ میرے جذبات اور خوشی کے متعلق تم نے نہیں سوچا کہ تم میرے اکلوتے بیٹے ہوکر جب مجھے بتائے بغیر‘ میری پسند کے بغیر شادی کرو گے تو میرے دل پر کیا گزرے گی؟ کیا اس دن کے لیے میں نے تمہیں پال پوس کر اتنا بڑا کیا تھا؟ تم پر اپنی خوشیاں قربان کی تھیں کہ تم ایک جھٹکے سے میرے وہ تمام خواب توڑ دو جو میں نے تمہاری زندگی کے حوالے سے دیکھے تھے؟ تمہیں ایک پل کے لیے بھی میرا خیال نہ آیا؟‘‘ وہ بے حد جذباتی ہورہی تھیں اور یقینا یہ ان کی طرف سے ایک فطری ردعمل تھا ان کی جگہ کوئی بھی خاتون ہوتیں تو شاید ایسا ہی بلکہ اس سے زیادہ ردعمل کا اظہار کرتیں۔
’’نہیں ممی… ایسا نہیں تھا…‘‘ وہ وہیں کھڑے کھڑے ان کے سامنے بیٹھ گیا اور نیچے کارپٹ پر بیٹھے بیٹھے ان کے پائوں پکڑلیے لیکن ممی نے ناگواری سے نہ صرف یہ کہ اپنے پائوں ایک دم پیچھے کیے بلکہ کرسی بھی پیچھے کھسکائی۔ اجیہ کے لیے یہ صورت حال انتہائی مایوس کن تھی۔
’’ممی… میرے لیے آپ اب بھی دنیا کی سب سے قیمتی چیز ہیں‘ آپ پر میں نے نہ تو آج کسی کو ترجیح دی ہے اور نہ ہی آئندہ دوں گا لیکن پلیز ممی آپ یہ بات سوچئے کہ مجھے کن حالات میں ایسا قدم اٹھانا پڑا اور اگر میں آج یہ فیصلہ نہ کرپاتا تو کتنی ہی زندگیاں‘ ان کی خوشیاں اور ان کے خواب سب بکھر جاتے اور ایسے بکھرتے کہ پھر انہیں سمیٹنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوجاتا۔‘‘
’’ہاں تو بہت اچھا کیا ناں تم نے کہ باقی سب کی زندگیاں اور خوشیاں بچالیں‘ میرا کیا ہے میں تو شروع سے اکیلی ہی تھی اور اب بھی تم نے مجھے اکیلا ہی ثابت کردیا…‘‘ ان کی آنکھیں بھیگ گئیں تو اربش کا دل مزید ٹوٹ گیا اس نے شکستگی سے سر جھکا لیا تھا۔ اجیہ کو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر اس سارے منظر میں اسے کس طرح کا کردار نبھانا چاہیے اور پھر کچھ سوچ کر وہ بھی آگے بڑھی اور اربش کے ساتھ زمین پر ہی بیٹھ گئی اور اسی طرح اربش کی تقلید کرتے ہوئے ممی کے پیروں پر ہاتھ رکھ دیئے۔
’’یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے جس کے لیے میں آپ سے معافی چاہتی ہوں لیکن یقین کیجیے اب سے چند گھنٹے پہلے تک اربش یا خود میرے بھی علم میں نہیں تھا کہ زندگی اب یہ کروٹ لینے لگی ہے۔ خود میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے اپنے میکے سے یوں چوری چھپے رخصت ہونا پڑے گا‘ باوجود اس کے کہ میں نکاح کرکے وہاں سے آئی ہوں لیکن پھر بھی میں جانتی ہوں کہ طریقہ کار غلط تھا اور اس بات کو مانتی بھی ہوں لیکن میرا یقین کیجیے کہ یہ سب دانستہ نہیں ہوا۔ میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں کہ اس سارے معاملے میں قصووار صرف اور صرف میں ہوں لیکن آپ میری وجہ سے اربش سے ناراض ہوں تو میرے لیے یہ بات تکلیف کا باعث ہوگی۔ اس لیے میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز ممی اربش کو اور مجھے معاف کردیں جو ہونا تھا ہوا‘ آئندہ جیسے آپ کہیں گی سب کچھ ویسا ہی ہوگا۔‘‘ اس کے منہ سے ممی سن کر وہ ایک دم چونکی۔
انہیں عادت ہی نہیں تھی کہ اربش کے علاوہ کوئی اور انہیں اس طرح مخاطب کرے اور یہی وجہ تھی کہ انہیں اچھا بھی نہیں لگا تھا جبھی ناپسندگی کے تاثرات چہرے پر ابھرنے لگے تو انہوں نے چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔
’’خبردار اجیہ… جو تم نے مجھے آج کے بعد ممی بلانے کی جرأت بھی کی تو…‘‘ وہ ایک دم چیخیں اربش نے چونک کر اپنا جھکا ہوا سر اوپر اٹھایا۔ اس وقت اسے ممی کے روپ میں وہی ایک عام چیختی چلاتی عورت نظر آئی جو ہمارے معاشرے کے اکثر گلی کوچوں میں اپنے شوہر‘ بچوں‘ سسرال والوں اور تقدیر میں لکھی اپنی قسمت کا رونا روتی نظر آتی ہے۔
اسے حیرت تھی کہ ممی اس طرح کا رویہ بھلا کیسے اپنا سکتی ہیں‘ وہ تو بہت پیار کرنے والی اور خوش مزاج خاتون ہیں جو اپنے اکلوتے بیٹے پر جان چھڑکتی ہیں اور اس کی خوشی کی خاطر کچھ بھی کرسکتی ہیں تو اب وہ یہ بات کیوں نہیں سوچ رہیں کہ اربش کی خوشیوں اجیہ کے ساتھ شادی کرنے میں ہی تھی اور وہ اس عمل کو اپنی انا کا مسئلہ بناتی کیوں نظر آرہی ہیں اور یہی بات اس کے لیے تکلیف کا باعث تھی۔
’’میں صرف اور صرف اربش کی ممی ہوں‘ اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے شخص کو میں یہ لفظ استعمال کرنے یا اس طرح مخاطب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی‘ سمجھیں تم؟‘‘ وہ اسی طرح اس پر چلائی تھیں جیسے کوئی ٹیچر اپنے نالائق ترین اسٹوڈنٹ پر چلاتی ہے ایسا نالائق اسٹوڈنٹ جسے دیکھتے ہی ٹیچرز کا پارہ ہائی ہونے لگے اور تب اجیہ کو شرمین کا انہیں ممی کہہ کر مخاطب کرنا یاد آیا مگر وہ خاموش رہی۔ اسے اپنے ساتھ ہی زمین پر بیٹھے اربش سے ہمدردی محسوس ہورہی تھی جو اسے بیاہنے کے جرم میں شکستہ حال لگ رہا تھا۔
’’دیکھا بوا… آپ نے کہ میری قربانیوں کا ثمر میرے اکلوتے بیٹے نے کیسے میرے منہ پر جوتا مار کردیا۔‘‘ ذرا حواس بحال ہوئے تو انہیں بوا کا بھی خیال آیا جو ان کے دائیں طرف موجود کرسی پر بیٹھی تھیں اور اب تک اس صورت حال میں کچھ بھی نہیں بولی تھیں۔
’’نہیں… نہیں ایسے مت کہو اربش تم سے بہت پیار کرتا ہے۔‘‘ بوا نے دھیمے لہجے میں بات کی تو وہ مزید آگ بگولا ہوئیں۔
’’ایسے نہ کہوں تو کیسے کہوں‘ آپ بتادیں مجھے اور کیا ایسے کرتے ہیں پیار کہ ماں کی غیر موجودگی میں اس کی رضامندی و پسند کے بغیر ہی اپنی زندگی کا اتنا بڑا و اہم فیصلہ کرلیا جائے۔ ارے انسان تو دیوار سے بھی مشورہ کرلیتا ہے لیکن اربش نے تو مجھے اس قابل بھی نہ سمجھنا۔‘‘ وہ رونے لگیں۔
’’پریشان نہ ہو‘ ہم نہیں جانتے کہ اربش نے اتنا بڑا فیصلہ کن حالات میں کیا۔ میں مکمل طور پر تم سے متفق ہوں کہ اس نے غلط کیا لیکن اب تو بہرحال یہی حقیقت ہے جو اربش اور اجیہ کے روپ میں ہمارے سامنے ہے۔‘‘ بوا اٹھ کر ان کے قریب آگئی اور ان کا کندھا سہلاتے ہوئے انہیں سمجھانے کی کوشش کرنے لگیں۔
’’لیکن بوا مجھے یہ حقیقت منظور نہیں اور بس…‘‘ روتے روتے انہوں نے آنکھیں مسلیں اور کرسی کھسکا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
/…ء…/
سنا ہے اس محبت میں
بہت نقصان ہوتا ہے
مہکتا جھومتا جیون
غموں کے نام ہوتا ہے
سنا ہے چین کھو کر وہ
سحر سے شام روتا ہے
محبت جو بھی کرتا ہے
بہت بدنام ہوتا ہے
سنا ہے اس محبت میں
کہیں بھی دل نہیں لگتا
بنا اس کے نگاہوں میں
کوئی موسم نہیں جچتا
خفا جس سے محبت ہو
وہ جیون بھر نہیں ہنستا
بہت انمول ہے یہ دل
اجڑ کر پھر نہیں بستا
سنا ہے اس محبت میں
بہت نقصان ہوتا ہے
حنین کے لیے اس کی زندگی کے سخت ترین دن شروع ہوگئے تھے‘ اسے لگتا تھا کہ اس کی آج سے پہلے تک کی زندگی تو گویا کوئی خواب تھی جو خوشیوں میں ہی ہنستے کھیلتے لاڈ اٹھواتے گزر گئی لیکن اب امی نے جو بات کی تھی اس نے تو گویا ہلا کر رکھ دیا تھا۔
’’وہ ان کی سگی بیٹی نہیں…!‘‘ یہ انکشاف تو اسے لگتا تھا جیسے اس کی جان لے لے گا۔ امی کے ان لفظوں نے اسے ویسے بھی ادھ موا کردیا تھا اور رہی سہی جان سکندر صاحب کی طرف سے دی گئی صفائیوں‘ ندامت و شرمندگی سے جھکی نظروں اور ان کے زرد پڑتے چہرے نے نکال دی تھی۔ اس نے آج تک سکندر صاحب کو اپنا حقیقی باپ ہی سمجھا تھا اور ان کے ساتھ ہمیشہ اسی طرح لاڈ اور نخرے کرتی جیسے بیٹیاں اپنے باپ کے ساتھ کرتی ہیں لیکن اب امی نے جو الفاظ خنجر کی صورت اس کے دل میں پیوست کردیئے تھے‘ وہ اس کے جسم کا ایک ایک قطرہ نچوڑنے پر تلے تھے اور ابھی تو وہ غزنی کی اجیہ کے لیے محبت کا جان کر پوری طرح نہیں سنبھلی تھی‘ ابھی تو اسے اپنی محبت کا سوگ منانا تھا کہ یہ نیا سانحہ اس کی روح کی بنیادیں تک ہلا گیا اور پھر اب اجیہ بھی تو نہیں تھی‘ آخر وہ کس سے بات کرتی کہ اس وقت وہ اندرونی طور پر چور چور تھی اور اسے کسی دوست‘ سہارے کی اشد ضرورت تھی۔ کسی ایسے انسان کی جس کے سامنے وہ اپنا دل کھول کر رکھ دے اور جو اس کے تمام کراہتے الفاظ اپنی سماعتوں میں سمیٹ لے۔
ویسے بھی جب انسان دکھی یا پریشان ہوتا ہے تو اس کے لیے سب سے زیادہ ضروری ایک سامع ہوتا ہے جو صرف سنے‘ اس کے دل میں آئی سب باتیں سنے اور سنتا جائے‘ صحیح غلط کہے بغیر ٹوکے اور سرزنش کیے بنا۔ لیکن دکھ تو یہ تھا کہ اب اسے ایسا کوئی کاندھا میسر نہیں تھا جس پر سر رکھ کر وہ روتی اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر پاتی لیکن پھر بھی دھیرے دھیرے بہتے آنسوئوں پر اس کا کنٹرول نہیں رہا تھا اور عین اس وقت کہ جب روتے روتے اس کی آواز کمرے کی دہلیز پار کرنے ہی والی تھی کہ اسے امی کی نقاہت سے بھرپور آواز سنائی دی۔ وہ اجیہ کو پکار رہی تھیں حنین نے ان کی آواز سنی تو ان کی آج تک کی محبت کو پل بھر میں یکسر نظر انداز کرکے ایک زبردست قسم کی نفرت کی نظر سے دروازے کی طرف دیکھا۔
اسے امی پر شدید قسم کا غصہ تھا۔ وہ یہ بات برداشت نہیں کر پارہی تھی کہ انہوں نے سکندر صاحب پر الزام لگایا‘ ان کے کردار پر شک کیا کیونکہ وہ جیسے بھی تھے جتنے بھی برے تھے لیکن ان کے مـضبوط کردار کے لیے گواہی دیتے ہوئے آنکھیں بند کرکے بھی قسم کھاسکتی تھی۔ وہ اس بات کے لیے بھی قسم کھاسکتی تھی کہ سکندر صاحب نے ہمیشہ اسے صرف اور صرف ایک بیٹی ہی کی نظر سے دیکھا اور پیار کیا۔ ان میں لاکھ برائیاں خامیاں موجود ہونے سے باخبر حنین اس بات سے تھی بہت اچھی طرح واقف تھی کہ وہ جیسے بھی تھے مگر کردار کے برے انسان نہیں تھے۔
یہی وجہ تھی کہ اس کا دل ہی نہ چاہا کہ امی کی پکار پر پہلے کی طرح لپک کر جائے اور ان سے پوچھے کہ آخر انہوں نے اسے کیوں بلایا؟ اور پھر انہوں نے تو اجیہ کو آواز دی تھی‘ اسے تو پکارا ہی نہیں تھا۔ وہ چپ چاپ گھنٹوں میں سر دے کر لائونج میں رکھے صوفے پر بیٹھے رہی اس کے اور اجیہ کے مشترکہ کمرے میں امی تھیں اور سکندر صاحب اپنے کمرے میں تھے۔ گھر کی فضا میں ماتمی سوگواریت رچی ہوئی تھی ایسے لگتا تھا جیسے ابھی گھر سے جنارہ اٹھا ہو۔ وہ امی کی پکار ان سنی کرکے بیٹھی رہی اور اس کے بعد بہت سارا وقت گزرنے کے باوجود نہ تو سکندر صاحب اپنے کمرے سے باہر آئے اور نہ ہی امی نے دوبارا پکارا۔
اس نے چاہا کہ امی اور سکندر صاحب کو ایک جگہ بٹھا کر اس معاملے پر بات کرے جو اس کی ذات کے ساتھ جڑا ہوا ہے اگر امی اپنے الزام میں سچی ہیں تو پھر وہ اس گھر میں کیوں اور کس حیثیت میں رہ سکتی ہے اور اگر سکندر صاحب سچے ہیں تو پھر امی کو اپنے کہے گئے الفاظ کو واپس لینا اور معافی مانگنا ہوگی بصورت دیگر اس کے لیے یہاں رہنا مشکل ہوگا۔
’’لیکن پھر وہ جائے گی کہاں؟ اس کا تو اس گھر کے سوا دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی آسرا بھی نہیں۔‘‘
یہ خیال اس نے فی الحال ایک طرف رکھ دیا کیونکہ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی تھا کہ آنے والے دنوں میں اسے کیا فیصلہ کرنا ہے لہٰذا اپنی جگہ سے اٹھی‘ ایک نظر سکندر صاحب کے کمرے کے بند دروازے پر ڈالی تو دل پر بوجھ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا اور اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ شروع ہی سے ہونے والی بدمزگی کی وجہ سے کس قدر دل گرفتہ ہوں گے اور اب امی کی طرف سے پیدا کیا گیا نیا مسئلہ لیکن فی الحال وہ ان کے کمرے میں نہیں جانا چاہتی تھی اور چاہتی تھی کہ امی کو اپنے ساتھ لے کر ان کے کمرے تک جائے اور بات کرے۔ اسی مقصد کے لیے وہ اپنے کمرے کی طرف گئی‘ کمرے کا دروازہ آدھا بند تھا اور سامنے سے کہیں پر بھی امی بیٹھی یا لیٹی نظر نہیں آئی تھیں۔ اس نے بڑی بے چینی سے کمرے کے اندر داخل ہوتے ہوئے ادھ کھلے دروازے کو مکمل کھولا تو اس کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔
امی دروازے کے ذرا پیچھے دیوار سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی تھیں ان کی آنکھیں بند اور گردن کندھے پر گری ہوئی تھی۔ ہونٹ سفید اور خشک ایسے تھے جیسے جانے کتنے ہی عرصے سے کچھ بھی مائع چیز ان کے ہونٹوں سے نہ ٹکرائی ہو اس پر چہرے کا زردی مائل رنگ‘ فوری طور پر تو وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی کہ آخر یہ سب کیا ہے اور اب امی کی اس کنڈیشن میں اس کا رویہ اور احتیاطی تدابیر کیا ہونی چاہئیں کہ ڈاکٹر کے آنے تک وہ زیادہ پیچیدہ صورت حال میں نہ پھنس جائیں۔ وہ فوراً ان کے پاس نیچے بیٹھ کر ان کے گلے لگی تھی۔
’’امی… امی… کیا ہوا آپ کو؟ آنکھیں کھولیں… مجھے دیکھیں امی… میں حنین ہوں… حنین آپ کی اپنی بیٹی… مجھے دیکھیں ناں امی… پلیز مجھے دیکھیں‘ مجھ سے بات کریں۔‘‘ وہ ان کے گال تھپتھپانے کے ساتھ ساتھ روتی جارہی تھی۔
لیکن امی نے آنکھیں نہ کھولیں تو بھاگ کر پانی لے آئی اور ان کے چہرے پر چھینٹے مارے لیکن صورت حال وہی رہی جو تھی۔
’’امی آپ کو کیا ہوا ہے؟ پلیز مجھے بتائیں‘ دیکھیں اب تو اجیہ بھی چلی گئی ہے۔ میں اکیلی رہ گئی ہوں‘ آپ مجھے بتائیں۔‘‘ ایک تو ویسے ہی وہ چھوٹے دل کی تھی ذرا ذرا سی بات پر اس آس پر رونے لگتی کہ اب مجھے چپ کروایا جائے گا۔ ابھی اسے چپ کروانے والا تو کوئی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود آنسو تھے کہ تھمے کا نام بھی نہ لے رہے تھے۔
اسی دوران اسے یاد آیا کہ وہ گھر پر اکیلی نہیں ہے بلکہ سکندر صاحب بھی گھر میں موجود ہیں لہٰذا امی کو اسپتال لے جانا بھی ناممکنات میں سے نہیں ہے سو امی کو اسی حالت میں چھوڑ کر وہ سکندر صاحب کے کمرے کی طرف بھاگی۔ امی کی اس حالت کو دیکھ کر وہ اتنی بوکھلائی ہوئی تھی کہ اسے یاد ہی نہ رہا کہ آج ہی تو امی نے اس کے متعلق ایک انکشاف کیا تھا۔
’’بابا جانی… بابا جانی جلدی آئیں‘ امی کو دیکھیں انہیں پتا نہیں کیا ہوگیا ہے؟‘‘ کمرے میں داخل ہوکر وہ رکی نہیں بلکہ جس رفتار سے آئی تھی اسی رفتار سے ان کا بازو پکڑ کر کمرے سے باہر لانے لگی اور سکندر صاحب جو انتہائی کرب کے عالم میں بیٹھے آنے والے دنوں کا سوچ رہے تھے اس کے ساتھ کسی روبوٹ کی طرح بغیر سلیپرز پہنے دوڑے آئے اور دیوار کے ساتھ بے سدھ پڑی امی کو دیکھا۔
’’یہ دیکھیں‘ امی کو پتا نہیں کیا ہوگیا ہے؟ پتا نہیں کب سے اسی طرح پڑی ہوں گی۔ انہوں نے اجیہ کو بھی آواز دی تھی ایک بار لیکن اس کے بعد کچھ بھی نہیں کہا اب تک۔‘‘ بوکھلاہٹ میں وہ بولتی ہی جارہی تھی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسا کیا کرے جس سے امی پہلے کی طرح بولنے لگیں اور ٹھیک ٹھاک دکھائی دیں لیکن اس کی حیرت اور دکھ کی انتہا نہ رہی جب اس نے سکندر صاحب کے چہرے پر طمانیت دیکھی۔ انہوں نے امی کو یوں فرش پر پڑے دیکھ کر ان کی طرف ایک بھی قدم نہیں بڑھایا تھا بلکہ جہاں کمرے میں جاکر کھڑے ہوئے تھے وہیں سے فاتحانہ انداز میں بولے۔
’’یہ ہے اللہ کا انصاف‘ دیکھا تم نے… تم نے دیکھا میری بچی کہ اس عورت نے ابھی چند گھنٹے پہلے میرے کردار پر کیچڑ اچھالی تھی‘ میری نیک نیتی پر شک کیا تھا اور یہ دیکھو کیسے اللہ تعالیٰ نے آن کی آن میں بدلہ چکایا‘ میرا نصاف کیا۔‘‘ حنین کو آج زندگی میں پہلی مرتبہ سکندر صاحب کے لیے دل میں نفرت محسوس ہوئی تھی۔ یہ احساس تو اسے امی کی طرف سے کی گئی ان باتوں پر بھی نہیں ہوا تھا جن میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ ان کی سگی بیٹی نہیں ہے لیکن کیا کوئی شخص اس قدر پتھر دل‘ خود غرض اور انا پرست بھی ہوسکتا ہے کہ زندگی اور موت کی کشمکش میں پڑے انسان سے بھی بدلہ لینے اور اسے مزید ایذا پہنچانے کا سوچے‘ ابھی کچھ دیر پہلے اس کے دل میں جو تمام ہمدردی سکندر صاحب کے لیے موجزن تھی وہ ساری محبت کے ساتھ جمع ہوکر اب امی کی طرف ہوگئی تھی لیکن یہ وقت فی الحال ان باتوں کا نہیں تھا۔
’’اور وہ جو اجیہ میرا منہ کالا کرکے اس گھر سے بھاگی ہے ناں‘ تو تم دیکھنا کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا۔ ایسی بدترین حالت میں زندگی گزارے گی کہ مرنا چاہے گی ناں تو موت بھی نہیں آئے گی۔‘‘
’’لیکن بابا جانی… یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے‘ کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ جلدی سے امی کو ہسپتال لے جانے کا انتظام کریں اگر انہیں کچھ ہوگیا تو میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘ وہ بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ایک بار پھر رونے لگی تھی۔ سکندر صاحب نے حنین کو ایک نظر دیکھا اور پھر دانت پیستے ہوئے روئی سی سفید پڑتی امی کو اور یہ سچ تھا کہ ان کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ امی کو ہسپتال لے کر جائیں لیکن حنین کی مثال جادوگر کے اس طوطے جیسی تھی جس میں اس کی جان ہوتی ہے اور جس کی خاطر اسے کچھ بھی کرنا پڑے تو وہ کر گزرتا ہے۔
’’تم اسے سنبھالو میں کسی گاڑی کا بندوبست کرتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے بابا جانی… لیکن جلدی پلیز ذرا جلدی…‘‘ اس نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا تو سکندر صاحب فوراً باہر کی طرف بھاگے۔ وہ امی کے ساتھ فرش پر ہی بیٹھی تھی ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پہلے دھڑکن کو سنا اور پھر ناک کے سامنے ہاتھ رکھ کر سانس کا آنا محسوس کیا اور دیوانہ وار ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چومنے لگی‘ کبھی ہونٹوں سے اور کبھی آنکھوں کو ان کے ہاتھ مس کرتے اسے اجیہ کی بے حد یاد آئی تھی۔
اجیہ نے امی کو بچوں کی طرح ہی رکھا ہوا تھا ان کا یوں خیال رکھا کرتی جیسے وہ ان کی اولاد نہیں بلکہ ماں ہے‘ ان کی خوشی‘ جذبات‘ کھانے پینے سے لے کر ہر چیز کا یوں دھیان رکھتی‘ جیسے امی کی ذمہ داری ہیں اور حنین کو بھی یہی سمجھاتی کہ اگر بابا نے امی کے ساتھ تمام عمر درشت رویہ رکھا اور ہم بھی امی کے ساتھ بہترین سے بڑھ کر اچھا رویہ نہیں رکھیں گے تو ان کی زندگی کیسے گزرے گی۔ لیکن اب اجیہ نہیں تھی اور حنین اکیلی رہ گئی تھی۔ امی کے ہاتھ اور ان کے چہرے کو چومتی ہوئی حنین بھی بے شک اس وقت جذباتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تو تھی لیکن ساتھ ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی‘ ان کے بال سنوارتی اور ساتھ ہی روتے ہوئے کہے جارہی تھی۔
’’امی… میری ماں صرف اور صرف آپ ہیں‘ آپ ٹھیک ہوجائیں بس مجھے اور کچھ نہیں چاہیے اور مجھے اس بات سے بالکل کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مجھے کس نے پیدا کیا تھا کیونکہ میرے لیے تو آپ کی محبت اور توجہ اہم ہے جو آپ نے مجھے دی۔ آپ پلیز ایک مرتبہ آنکھیں کھول کر دیکھیں اور مجھے موقع دیں کہ میں آپ کو بتائوںکہ آپ اس دنیا کی سب سے بہترین ماں ہیں اور یہ جو بابا نے کہا ہے ناں کہ اللہ تعالیٰ نے آن کی آن میں ان کا بدلہ لیا ہے آپ سے‘ تو قسم سے امی ایسا نہیں ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو خود بابا جانی بھی اسی حالت سے دوچار ہوتے۔ آپ تو میری امی ہیں میری سب سے پیاری اور سب سے زیادہ پیار کرنے والی ماں۔‘‘ وہ آنسوئوں اور ہچکیوں کے درمیان بولتے ہوئے ان سے لپٹی ہوئی تھی ایسا لگتا جیسے کوئی امی کو لینے آچکا ہے اور وہ انہیں اپنے بازوئوں میں بھینچ کر انہیں روکے ہوئے ہے۔
اسی دوران باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی اور ساتھ ہی سکندر صاحب برق رفتاری سے ان کے کمرے تک پہنچے تھے۔ وہ امی کو اسپتال لے جانے کے لیے حنین کے کہنے پر گاڑی لے آئے تھے۔
/…ء…/
جہاں بھی ہو چلے آئو‘ تمہیں یادیں بلاتی ہیں
تمہارے ساتھ جو گزری تھیں وہ شامیں بلاتی ہیں
یہ نہ سمجھو تمہارے بن کیسی کا دل نہیں روتا
کسی کی آج بھی تم کو‘ اداس آنکھیں بلاتی ہیں
سارا دن یونہی بے مقصد وقت گزارنے کے بعد اب غزنی نہ چاہتے ہوئے بھی واپس گھر لوٹ آیا تھا تو صرف اس لیے کہ اسے معلوم تھا گھر میں اماں ابا اس کا انتظار کررہے ہوں گے اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید وہ آج گھر نہ آتا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ گھر میں اب تک اس کی شادی کے لیے کی گئی سجاوٹ موجود ہوگی۔ اس کے کمرے کی دیواروں پر دوستوں نے اجیہ اور غزنی کا نام لکھ کر درمیان میں ربن سے جو تیر بناکر لگایا تھا اور اس کے ساتھ دل کی شکل کے پھول دیوار پر چپکائے تھے وہ سب ایک بار پھر دیکھنے کی ہمت اس وقت وہ اپنے اندر محسوس نہیں کررہا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ گھر میں کی گئی تمام سجاوٹ دیکھ کر وہ اپنے دل پر کسی قسم کا بوجھ محسوس کرے اور اسی بوجھ کا اثر چہرے پر ظاہر ہونے سے اماں ابا مزید پریشان ہوں کیونکہ اپنا دکھ تو انسان جیسے تیسے سہہ ہی لیتا ہے لیکن اپنے پیاروں کا دکھ انسان کو مٹی کردیتا ہے اور پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ اگر وہ دکھ ہمارا ہو تو پھر کرب کی دیمک ایسے چاٹتی ہے کہ باقی کچھ بھی نہیں بچتا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ گھر آنے سے کترا رہا تھا اماں ابا کا سامنا کرنے سے بچ رہا تھا لیکن آخر کب تک؟ آخرکار گھر ہی تو آنا تھا اور اگر بالفرض آج وہ گھر نہ لوٹتا تو کیا کل بھی نہ لوٹتا‘ پرسوں بھی نہیں؟ اس کے بعد بھی نہیں اور اگر وہ گھر نہ آتا تو تکلیف کیسے ہوتی؟ صرف اماں ابا کو اور یہی تو وہ نہیں چاہتا تھا لہٰذا دل پر پتھر رکھ کر شام ڈھلے گھر واپس آیا تو حیران رہ گیا کیونکہ گھر میں شادی کا کوئی خیال تک نظر نہیں آرہا تھا۔ کوئی ایسا فرد جو آج صبح تک ہونے والی شادی بیاہ کی تیاریوں سے ناواقف ہو‘ وہ نہیں بتاسکتا تھا کہ کبھی یہاں شادی کا کوئی تصور بھی تھا۔ وہی صحن جس کی دونوں اطراف بنی کیاریوں میں اماں نے مختلف سبزیاں لگائی ہوئی تھیں۔ کپڑے سکھانے کے لیے لگائی گئی تاریں اور تاروں پر پڑے گیلے کپڑے جنہیں یقینا اب سے تھوڑی دیر پہلے ہی دھو کر ڈالا گیا تھا۔ دیوار کے ساتھ کھڑی ابا کی موٹر سائیکل اور ایک طرف موجود چار کرسیاں اور میز سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا آج سے پہلے ہوا کرتا تھا۔
گھر میں آئے ہوئے مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے منگوائی گئی اضافی کرسیاں‘ دیواروں پر لگائی آرائشی بلب‘ برقی قمقمے‘ صحن میں لگی جھنڈیاں اور رونقیں کچھ بھی تو نہیں تھا ایسا کہ اسے لگتا یہ وہی گھر ہے جس میں اس کی شادی کی تیاریاں‘ رونقیں‘ قہقہے تھے اور سب لوگوں کی مبارک بادیں تھیں اور چھیڑ چھاڑ تھی۔ یقینا جس طرح افراتفری میں اس کے دوستوں نے وہ تمام سجاوٹ کی تھی اسی طرح عجلت میں سب کچھ اماں یا ابا کے کہنے پر اتار بھی دیا تھا۔ صرف اس لیے کہ غزنی گھر واپس آئے تو اس کا مزید دل برا نہ ہو۔ اس کی موٹر سائیکل کی آواز آتے ہی اماں باہر صحن میں آئی تھیں اسے دیکھا تو سکون کا سانس لیا۔
’’السلام علیکم اماں!‘‘ موٹر سائیکل ابا کی موٹر سائیکل کے پیچھے کھڑی کرتے ہوئے اس نے خود کو ہشاش بشاش ظاہر کرنے کی کوشش تو کی لیکن ہر کوشش کامیاب بھی نہیں ہوتی ناں۔
’’وعلیکم السلام میری جان… اتنی دیر‘ کہاں تھے آج سارا دن؟‘‘ ان کے چہرے پر تفکر صاف نظر آرہا تھا اور ان کے اسی تفکر نے غزنی کو مزید شرمندہ کردیا تھا۔
’’بس اماں‘ ذرا دوستوں کے ساتھ مصروف رہا‘ کچھ ایک دو کام نمٹانے تھے سو انہیں مکمل کرنے میں لگا رہا۔ اب کہیں جاکر فارغ ہوا تو اسی وقت گھر چلا آیا۔‘‘ اماں کو مطمئن کرنے کے لیے اس نے جھوٹ کا سہارا لیا‘ اماں جان تو گئی تھیں کہ وہ ان سے جھوٹ بول رہا تھا لیکن کبھی کبھار سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے دانستہ طور پر بھی کچھ معاملات کی پردہ پوشی کے لیے انجان بننا پڑتا ہے لہٰذا انہوں نے بھی یہی طریقہ کار اپنایا۔
’’ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن ایک ہی دن سارے کام کرکے خود کو تھکانے سے کہیں بہتر ہوتا ہے کہ بندہ آہستہ آہستہ کام انجام دے لیکن چلو اچھا ہوا جتنا ہوسکتا تھا کرلیا۔‘‘ آپس میں بات چیت کرتے کرتے وہ دونوں اندر آگئے تھے جہاں ابا ٹی وی دیکھ رہے تھے‘ اسے دیکھا تو مسکراتے ہوئے اشارے سے اپنے پاس بیٹھنے کو کہا۔ شاید آج کے معاملے پر بات کرنے سے وہ تینوں ہی کترا رہے تھی لیکن پھر بھی ابا نے بات کا آغاز کیا۔
’’غزنی بیٹا… پریشان ہو؟‘‘ ابا کا وہی دو ٹوک انداز تھا اور یہ ان کی عادت تھی کہ ویسے عام حالات میں چاہے اول و آخر کی تفصیلات کرتے رہیں لیکن جب کوئی خاص بات ہوتی تو کسی بھی قسم کی تمہید باندھے بغیر ڈائریکٹ کام کی بات کرتے اور ان کی اسی بات پر اب تک خود کو کمپیوز رکھتا غزنی اچانک گڑبڑا سا کیا۔
’’پریشان… لیکن ابا کس بات پر؟‘‘ اس نے خود کو سنبھالا۔
’’یہی جو سب کچھ آج ہوا۔‘‘
’’سچ کہوں تو… ہاں۔‘‘ اس نے گہری سانس لے کر جواب دیا پھر بات جاری رکھی۔ ’’اور ویسے بھی ابا… یہ ایک نارمل بات ہے میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو وہ بھی پریشان ہو ہی جاتا لیکن اگر سچ کہوں تو مجھے آپ دونوں کی وجہ سے زیادہ پریشانی اس لیے بھی تھی کہ آپ نے اتنے چائو اور ارمانوں سے اتنا اہتمام کیا‘ مہمان مدعو کیے‘ سجاوٹ کی‘ خریداری کی لیکن پھر سب کے سامنے سبکی اٹھانا پڑے‘ لوگوں کی باتیں سننا پڑیں اور پھر مزید آپ کو یہ بھی پریشانی رہی کہ اس واقعے کی وجہ سے مجھے پریشانی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ میں اب گریبان پھاڑ کر جنگلوں میں نکل جائوں گا۔ زندگی اب بھی پہلے کی طرح بہترین انداز میں گزرے گی‘ میں ضرور کچھ دن پریشان رہوں گا لیکن صرف کچھ دن۔ کیونکہ آپ کو تو پتا ہے ناں کہ میں کسی بھی انسان کو اتنی اہمیت نہیں دیتا کہ اس کی وجہ سے میری زندگی خراب ہو‘ بس دو بلکہ ایک ہی دن بعد مجھے یاد بھی نہیں رہے گا کہ میں نے شادی کرنے کا کبھی سوچا بھی تھا۔‘‘ اپنی بات مکمل کرکے وہ خو ہی ہنسا۔ اس کے اکیلے قہقہے کی آواز کمرے میں گونجی تو اتنی کھوکھلی اور اجنبی آواز محسوس ہوئی کہ دیواروں نے واپس لوٹا دی۔
’’لیکن ہاں اگر میں ایک دن سے زیادہ پریشان رہا تو وہ صرف اس صورت میں ہی ہوگا کہ اگر آپ دونوں پریشان ہوئے ورنہ اگر آپ خوش رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے پریشان نہیں کرسکتی۔‘‘
’’میں اب تک یہ بات نہیں سمجھ سکی کہ ایسا کیوں ہوا؟ اجیہ کی اگر شادی میں رضا مندی نہیں تھی تو پھر اس نے منگنی کیوں کی؟ اور اگر اس نے منگنی بھی کر ہی لی تھی تو کم از کم مجھ سے تو بات کرتی۔ مجھے بتاتی تو سہی ناں کہ آخر کیا مسئلہ ہوا اور اس نے اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا۔‘‘ اماں نے کہا۔
’’مجھے تو رہ رہ کر سکندر کا خیال آرہا ہے‘ وہ ویسے ہی اتنا سخت مزاج ہے اجیہ کا یوں گھر چھوڑ کر جانے کے بعد اس کا کیا حال ہوگا؟ اور اس نے باقی گھر والوں کا کیا حال کیا ہوگا؟ بھابی کے ساتھ تو ویسے بھی وہ اول روز سے ہی کھینچا کھینچا رہتا ہے اور اب اس واقعے کا تمام تر ملبہ بھی انہی کے سر پر ڈالا ہوگا۔‘‘ ابا کو اب بھی سکندر صاحب پر غصہ نہیں آرہا تھا وہ انہیں ملامت نہیں کررہے تھے بلکہ ان کے اور ان کے گھر والوں کے لیے فکرمند تھے اور یہ سچ تھا کہ اپنا اپنا غم چھپائے دکھی وہ تینوں تھے لیکن انتقام کا جذبہ صرف اور صرف غزنی کے اندر پنپ رہا تھا اور صرف وہی تھا جو بدلہ لینے کی سوچ رکھتا تھا اور خود سے عہد کرچکا تھا کہ اجیہ کو کسی بھی طرح اور کہیں سے بھی ڈھونڈ نکالے گا اور پھر اس کے ساتھ وہ سلوک کرے گا کہ خود اجیہ کو بھی اپنے آپ پر ترس آئے گا۔
ابا اور اماں کو صرف غزنی کی خوشی عزیز تھی اور اس کی خوشی کو بھانپتے ہوئے ہی یہ رشتہ طے کیا گیا تھا لیکن اب جبکہ ایسا نہیں ہوسکا تو وہ رنجیدہ تو تھے لیکن اپنی افسردگی غزنی کے سامنے ظاہر نہ کرنے کی بھی ٹھان رکھی تھی کیونکہ وہ دونوں جانتے تھے کہ غزنی اپنی تکلیف تو بھلا سکتا ہے لیکن اگر اس نے اجیہ کے اس قدم کی وجہ سے ان دونوں کو پریشان دیکھ لیا تو پھر ان کی آنکھوں میں آئے آنسوئوں کے بدلے وہ کچھ بھی کرسکتا تھا۔ اماں اور ابا کی محبت اس کے لیے اتنی قیمتی تھی کہ وہ کسی کو بھی اجازت نہیں دے سکتا تھا کہ کوئی اس کی وجہ سے ان کی آنکھوں کو نم کرے لہٰذا خوشیوں کو لگ جانے والی نظر کے اس اچانک دھچکے سے چاہے وہ ہفتوں بعد سنبھلتے لیکن غزنی کے سامنے ان کا رویہ ایسا ہی تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور یہ بات غزنی کے لیے اطمینان بخش تھی کہ اماں ابا نے اس صدمے کو دل پر نہیں لیا تھا۔
’’ویسے اب تو دونوں گھرانوں کے درمیان کا تعلق اس واقعے کے بعد ختم ہوگیا ہے ورنہ سکندر صاحب سے پوچھنا تو بنتا ہے کہ اگر اجیہ اس رشتے پر خوش نہیں تھی تو پھر منگنی کیوں کی؟‘‘ اماں نے کہا۔
’’اجیہ نے بتایا مجھے…‘‘ غزنی نے دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلی سے اپنی آنکھوں کو ذرا سا دبا کر پھر پلکیں جھپکائیں‘ اماں اور ابا دونوں ہی اس کی بات پر چونکے تھے۔
’’مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ اجیہ نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اس رشتے پر رضا مند نہیں تھی اس لیے مجھے چاہیے کہ میں اس رشتے سے انکار کردوں۔‘‘
’’تم انکار کردو؟‘‘
’’جی‘ اس نے مجھے ہی اس شادی سے انکار کے لیے کہا تھا کیونکہ چچا جان اس کی رائے کو شاید اہمیت نہیں دے رہے تھے۔‘‘ پھر غزنی نے قرآن خوانی سے واپسی کی تمام تر تفصیلات ان کے گوش گزار کردیں۔
’’لیکن ابا ایک بات‘ آپ اور اماں جب چاہیں حنین سے ملیں چچا جان سے ملیں ان کے گھر جائیں‘ فون پر بات کریں کیونکہ جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا‘ یوں ترک تعلق کرنے سے واپس نہیں ہوسکتا اور میری خاطر آپ اپنے سگے بھائی سے ملنا‘ بات کرنا چھوڑ دیں تو آپ کے لیے تو یہ باعث تکلیف ہوگا ہی خود میں بھی اپنے آپ کو مجرم سمجھوں گا۔‘‘
’’وہ تو سب ٹھیک ہے بیٹا مگر…‘‘ ابا نے اماں کو دیکھتے ہوئے کچھ کہنا چاہا مگر غزنی پھر بول پڑا۔
’’مگر یہ ابا کہ… اپنوں کے ہوتے ہوئے اپنوں سے کٹ کر صرف دن گزر سکتے ہیں پوری زندگی گزارنا ممکن نہیں ہوتا۔‘‘
’’اور تم؟‘‘
’’میں بھی جایا کروں گا‘ آپ کے ساتھ بھی اور اکیلا بھی بالکل اسی طرح جیسے پہلے جایا کرتا تھا کیونکہ جو وہاں نہ جانے کی وجہ بن سکتی تھی وہ گھر چھوڑ کر جاچکی ہے تو پھر ایسے میں وہاں جانے میں کیا ممانعت ہوسکتی ہے۔‘‘ وہ مسکرایا۔
ابا نے اس کے اعلیٰ ظرف ہونے کی داد دی کیونکہ وہ تو اپنے ذہن میں اب ہمیشہ کے لیے سکندر صاحب سے قطع تعلق کا سوچ چکے تھے۔ خود اماں کا بھی یہ ہی خیال تھا کہ اب انہیں زیب نہیں دیتا کہ اس بے عزتی کے بعد اس گھر میں داخل بھی ہوں لیکن غزنی نے ہی انہیں سمجھایا کہ اس گھر میں رہنے والے بھی صدمے کی اسی حالت سے گزر رہے ہوں گے جس کیفیت میں وہ لوگ ہیں بلکہ انہیں دنیا والوں کے طعنوں کو ان سے کئی گنا زیادہ سامنا ہے کیونکہ اجیہ نے جو بھی کچھ کیا وہ اس کا انفرادی فعل تھا‘ جس میں گھر کے باقی تینوں افراد شامل نہیں تھے لہٰذا اجیہ کے غلط کام کی سزا باقی افراد کو دینا قطعاً غلط اور غیر مناسب ہے۔
غزنی کی ان باتوں نے اماں ابا کے سامنے اسے ایک انتہائی سمجھ دار اور معاملہ فہم انسان کے طور پر نمایاں کیا تھا جو انا کی ضرب سے رشتوں پر وار کرنا مناسب خیال نہیں کرتا جبکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ غزنی نے اگر انہیں سکندر صاحب کے گھر جانے سے منع نہیں کیا بلکہ جانے کو بہترین سمجھا ہے تو صرف اس لیے کہ وہ جانتا تھا کہ اجیہ کے سراغ ڈھونڈنے کا کوئی نہ کوئی سرا یہاں سے بھی مل سکتا ہے اور وہ جلد از جلد اجیہ کو ڈھونڈ کر اسے اس کے عمل کی بھرپور سزا دینا چاہتا تھا اور اس کے اس منصوبے میں سکندر صاحب کے گھر آنا جانا اس لحاظ سے بہترین معاون ثابت ہوسکتا تھا کہ شاید ان میں سے کوئی یہ بتاسکتا یا کسی کے منہ سے یہ بات پھسل ہی جاتی کہ وہ کس سے شادی کرنا چاہتی تھی یا یہ کہ وہ گھر سے فرار ہوکر کس کے ساتھ گئی ہے اور اگر طے شدہ منصوبے کی تحت اسے یہ بھنک بھی پڑجاتی کہ اجیہ کہاں ہے تو اس سے آگے کے تمام راستے کھولنا غزنی کے لیے کوئی مشکل نہ تھا۔
ء…/…ء
ممی ان دونوں سے ناراض ہی تھیں اور بے شک وہ دونوں ان کے سامنے کارپٹ پر بیٹھے رہے تھے مگر ممی انہیں وہیں پر معافیاں مانگتا چھوڑ کر اپنے بیڈ روم میں چلی گئی تھیں اور اب تک وہیں تھیں‘ سو اربش اجیہ کو لے کر اپنے کمرے میں چلا آیا تھا۔ اجیہ کو اب تک یہ سب کچھ خواب ہی لگ رہا تھا‘ ایسا خواب جو اسے کبھی یقین ہی نہیں تھا کہ حقیقت میں ڈھل سکتا ہے۔
خوب صورت فرنیچر‘ دبیز قالین‘ بیش قیمت پردے‘ دیوار پر نصیب ٹی وی‘ اٹیچ باتھ روم جو اس کے اور حنین کے کمرے کے برابر تھا۔ اس ایک کمرے میں ہی اتنا کچھ تھا کہ وہ یہ بات مکمل طور پر مان ہی نہیں پارہی تھی کہ یہ پورا گھر جو اس کے لیے کسی محل کی حیثیت رکھتا تھا اب اس کا اپنا ہے۔ اربش نے اسے ایک نظر دیکھا وہ کمرے کا جائزہ لینے کے بعد گردن جھکائے بیٹھی تھی مگر انداز وہ روایتی دلہنوں والا نہیں تھا۔
’’آئی ایم سوری اجیہ…‘‘ اربش نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا تو اجیہ نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا‘ وہ پریشان لگ رہا تھا۔ یہ وہ اربش نہیں تھا جو آج سے پہلے اس سے ملا کرتا تھا۔ آج وہ کچھ بکھرا‘ الجھا ہوا سا دکھائی دیا‘ باوجود اس کے کہ اجیہ اس کے کمرے میں اس کی دلہن کے روپ میں بیٹھی ہوئی تھی مگر اس کے باوجود اس کے چہرے پر وہ اطمینان اور سکون نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھا‘ اجیہ کو اربش کی آنکھوں میں خوشی کے بجائے اداسی محسوس ہوئی تھی۔
’’کس بات کی سوری؟‘‘
’’ممی کے رویے پر میں تم سے معذرت چاہتا ہوں لیکن یہ سب فطری ہے کیونکہ میں نے آج تک ممی کی پسند اور ان کے مشورے کے بغیر کوئی کام نہیں کیا اور آج صورت حال ہی کچھ ایسی بن گئی کہ… مجھے اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ ان کے بغیر اور انہیں بتائے یا ان سے مشورہ لیے بغیر کرنا پڑا جس پر میں ممی سے بھی شرمندہ ہوں اور میری وجہ سے ممی نے تمہارے ساتھ بھی جس ناراضگی کا اظہار کیا تو میں تم سے بھی شرمندہ ہوں۔‘‘
’’تم نے ایسا کیوں سوچا اربش کہ ممی کے رویے کی وجہ سے میں برا محسوس کروں؟ وہ اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہیں ناں‘ آخر ہر ماں کی طرح ان کے دل میں بھی تو بیٹے کی شادی دھوم دھام سے کرنے کے ارمان ہوں گے ناں‘ وہ بھی پتا نہیں کب سے ایسا سوچتی ہوں گی کہ شادی میں یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے۔ دل کے تمام ارمان پورے کرنے ہیں لیکن یہ سب کچھ اس قدر اچانک ہوا کہ واقعی سب لوگ اپنی اپنی جگہ ساکت سے ہوکر رہ گئے… صرف تمہاری ممی ہی نہیں بلکہ سوچو میرے گھر والوں کا کیا حال ہوگا اور وہ کسی طرح اس تمام صورت حال کا سامنا کررہے ہوں گے… اور انصاف کی بات تو یہ ہے کہ مجھے سب سے معذرت کرنی چاہیے کیونکہ جو کچھ بھی ہوا صرف اور صرف میری وجہ سے اور صرف ایک میری وجہ سے ہی اتنے لوگوں کی زندگی میں پریشانی نے جنم لیا اور اتنی آنکھوں میں آنسو آئے‘ میں تم سے بھی معافی مانگتی ہوں کہ تم نے میری وجہ سے اتنا بڑا اسٹیپ لیا‘ صرف میری زندگی میں خوشیاں لانے اور میری آنکھوں کے خواب پورے کرنے کے لیے تم نے ممی کی بھی ناراضگی مول لے لی۔ آئی ایم سوری اربش… آئی ایم رئیلی سوری۔‘‘ وہ اپنے مہندی لگے ہاتھ اس کے سامنے جوڑ کر رو پڑی لیکن اربش کے لیے بھلا یہ کسی طرح قابل قبول تھا کہ اب جبکہ اجیہ اس کی عزت اور اس کی ذمہ داری تھی تو اس کی آنکھیں بھیگ جاتیں اس نے فورً اس کے معافی کا انداز لیے ہوئے ہاتھوں کو الگ کیا اور اس کی ہتھیلیوں سے اپنی ہتھیلیاں مس کردیں۔
’’پاگل مت بنو‘ میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں بلکہ تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہوں۔ ایک بات پر یقین رکھو کہ جو کچھ ہوا ہے یہ سب اسی طرح ہی ہونا لکھا تھا اور اسے میں‘ تم یا کوئی بھی بدل نہیں سکتا تھا لیکن ہاں آنے والے دنوں میں اسے بہتر ضرور بنا سکتے ہیں اور میرا تم سے وعدہ ہے اجیہ کہ میں کبھی تمہاری ان آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دوں گا۔‘‘ اربش نے اس کی پلکوں میں اٹکے آنسو کو اپنی انگلیوں کی پوروں میں جذب کیا۔
’’میں جانتا ہوں کہ تمہارے بابا نے آج تک تم سے نہیں بلکہ پیسے سے پیار کیا تھا اور تم تینوں اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو بھی دبانے پر مجبور تھیں۔‘‘ اجیہ نے ہاں میں سر ہلایا کیونکہ اس رات اس نے خود ہی یہ سب معاملات اربش کے ساتھ واٹس ایپ میسجز کے ذریعے شیئر کیے تھے۔
’’لیکن وہ سب تمہارا ماضی تھا‘ میں تمہیں کسی چیز کے لیے ترسنے نہیں دوں گا‘ یہ گھر اور اس میں موجود ہر چیز اتنی ہی تمہاری ہے جتنی کہ میری‘ ہر چیز پر آج سے مکمل حق ہے تمہارا اور نہ صرف چیزوں پر بلکہ مجھ پر بھی اب صرف تمہارا ہی حق ہے۔‘‘ بات کرتے کرتے اس نے ایک دم ہی اپنے لہجے کی ٹون بدلی اور اس کے سر سے سر کو ہلکا سا ٹکراتے ہوئے مسکرا کر بولا۔
اجیہ کے آنسو تو وہ صاف کر ہی چکا تھا اس کی بات پر چہرے پر بھی مسکراہٹ ابھر آئی تھی۔ اسی وقت بوا نے دروازے پر دستک دی۔
’’ارے بوا آیئے ناں اندر آیئے۔‘‘ اربش نے ان کے لیے مکمل دروازہ کھولا‘ بوا نے سامنے اربش کے بیڈ پر بیٹھی اجیہ کو دیکھا۔
’’نہیں بیٹا… معذرت چاہتی ہوں لیکن بس میں نے کھانے کا پوچھنے کے لیے ہی دستک دی تھی۔‘‘
’’معذرت… وہ کس چیز کی؟ بوا پلیز آپ تو اجنبی نہ بنیں۔‘‘ اربش نے کہا تو وہ سر ہلا کر دھیما سا مسکرائیں۔
’’ممی نے کھانا کھا لیا کیا؟‘‘
’’آج سے پہلے کبھی تمہارے بغیر کھایا ہے انہوں نے‘ جو آج کھالیتیں۔‘‘
’’اجیہ…‘‘ اربش نے وہیں کھڑے کھڑے مڑ کر اجیہ کو دیکھا۔
’’میں اور ممی ایک دوسرے کے بغیر کھانا نہیں کھاتے اور ممی ابھی تک بھوکی ہوں گی۔‘‘
’’تو… میں سمجھی نہیں۔‘‘ اجیہ نے کہا تو اس نے پہلے بوا اور پھر اسے مسکرا کر دیکھا۔
’’میرا مطلب ہے کہ میں تھوڑی دیر کے لیے ممی کے پاس جارہا ہوں ورنہ وہ شاید کھانا نہ کھائیں۔‘‘
’’اگر تمہیں برا نہ لگے تو میں بھی تمہارے ساتھ چلوں؟‘‘
’’تم…؟‘‘
’’ہاں میں‘ پہلے تم دونوں اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے تو آج سے کیوں ناں ایسا کریں کہ ہم تینوں ایک دوسرے کے بغیر کھانا نہ کھائیں۔‘‘ اجیہ کی بات پر اربش کی شفاف آنکھوں کی چمک یک دم بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’ہاں یہ ٹھیک ہے اور بوا کو تو ویسے بھی دوائی کی وجہ سے استثنیٰ حاصل ہے۔‘‘ اس کی بات پر بوا بھی مسکرائی تھیں‘ اجیہ‘ اربش کے کہنے پر بیڈ سے اتر کر اس کے ساتھ ہی ممی کے کمرے کی طرف چل دی تھی۔ بوا کو اجیہ کی یہ بات بہت پسند آئی تھی اور انہوں نے اندازہ کرلیا تھا کہ اجیہ اس گھر کے لیے ایک بہترین اضافہ ہوگی کیونکہ جو لڑکی مل جل کر رہنے کی خواہش رکھتی ہو ان کی کسی بھی گھر میں شادی ہو وہ اس گھر کے لیے برکت ثابت ہوتی ہیں۔ اربش نے ممی کے کمرے کے پاس پہنچ کر ہلکا سا دروازہ کھٹکھٹایا اور پھر اندر داخل ہوگیا‘ اجیہ اور بوا بھی اس کے ساتھ تھیں۔
’’تم… کیوں آئے ہو اس وقت؟‘‘ خفگی اور ناراضگی اب تک برقرار تھی اور ساتھ اجیہ کو دیکھا۔
’’ہم آپ کو بلانے آئے ہیں ممی کہ کھانے کا وقت ہوگیا ہے آجائیں مل کر کھانا کھاتے ہیں۔‘‘ اربش نارمل انداز میں بات کرتا ان کی طرف بڑھا لیکن انہوں نے رخ موڑ لیا۔
’’مجھے بھوک نہیں…‘‘
’’اگر آپ نہیں کھائیں گی تو پھر میں بھی نہیں کھائوں گا‘ اسی طرح بھوکا سوجائوں گا۔‘‘ اربش کو یقین تھا کہ ممی یہ بات کبھی بھی برداشت نہیں کریں گی کہ وہ بھوکا سوئے اور وہ کھانے کے لیے حامی بھرتے ہوئے آخرکار ان کا ساتھ دیں گی لیکن ایسا نہ ہوا۔
’’میں بھی تو بھوکی ہی سوئوں گی‘ ایسے میں اگر تم بھی بھوکے سوجائو گے تو کوئی بڑی بات نہیں۔‘‘ انہوں نے یہ سب کہہ تو دیا تھا لیکن وہی جانتی تھیں کہ انہوں نے کس دل سے یہ الفاظ کہے تھے۔
’’ممی… مجھے معلوم ہے کہ میں نے غلطی کی ہے اور اس کے لیے میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں لیکن پلیز میری غلطی کی سزا بھوکا رہ کر خود کو تو نہ دیں۔ آپ مجھ سے فی الحال بات نہیں کرنا چاہتیں تو یہ بات قابل برداشت ہے لیکن میری وجہ سے آپ خود کو بھوکا رہنے کی اذیت دے کر مجھے مزید پریشان کریں گی‘ پلیز ممی مجھے معاف کردیں اور کھانا کھالیں۔‘‘ ممی کا دل پگھلنے لگا تھا انہوں نے نظر بھر کر اربش کو دیکھا۔
یہ ان کا اکلوتا بیٹا ان کی کل کائنات ہی تو تھا‘ شوہر کی وفات کے بعد اس کے مستقبل کے ہی سہارے انہوں نے اپنی ساری عمر گزاری تھی۔ اس کی خاطر محنت کی‘ اپنا آپ نظر انداز کیا لیکن یہی کوشش رہی کہ باپ کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی شخصیت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ کل کو وہ یہ سوچے کہ کاش میرا باپ زندہ ہوتا تو میں یہ کام کرسکتا‘ وہ چیز خرید سکتا۔ انہوں نے آج تک اس کی کسی بھی خواہش کو حسرت بننے نہیں دیا تھا لیکن اب جبکہ انہوں نے بہو لانے کے معاملے میں اپنی خواہش ظاہر کرنا چاہی تو وہ حسرت بن کر ان کے دل میں رہ گئی اور یہی وجہ تھی کہ انہیں سامنے موجود اجیہ جو اپنی ایک اسکول ٹیچر کے طور پر انتہائی با اخلاق‘ ایکٹو اور پُرکشش شخصیت کی مالک لگتی تھی اب اس پر نظر پڑتے ہی ان کا حلق تک کڑوا ہوجاتا‘ وہ انسیت جو انہیں اجیہ میں پہلی ملاقات اور اس کے بعد محسوس ہوئی تھی اسے اب وہ خطرے کی وہ گھنٹی سمجھ رہی تھیں جس کے بارے میں قدرت نے انہیں پہلے سے انفارم کردیا تھا۔ ان کے اسکول کی وائس پرنسپل نے آکر کہا تھا کہ اجیہ میں آپ کی مماثلت محسوس ہوتی ہے تو شاید اس لیے کہ پھر اجیہ ہی نے آخر ان کی ہر چیز سنبھالی تھی اور پھر اسکول میں سب کو کیا جواب دینا ہوگا؟ ممی کے ذہن میں بہت کچھ گڈمڈ ہورہا تھا اور سب سے بڑھ کر سامنے موجود اربش اور اجیہ کا چہرہ۔
’’ممی… پلیز اربش اور مجھے ہم دونوں کو معاف کردیجیے‘ آپ پلیز مجھے تھوڑا سا موقع دے کر دیکھیں میں آپ کو بالکل بھی مایوس نہیں کروں گی۔ آپ جیسا کہیں گی میں ویسا ہی کروں گی اور اگر میں نے آپ کو کبھی بھی مایوس کیا تو جو سزا دیں گی میں اُف تک نہیں کروں گی لیکن پلیز آپ ہم سے ناراض نہ ہوں اور کھانا کھالیں۔‘‘ اجیہ نے بھی اپنے تئیں کوشش کی تھی جسے بوا اور اربش نے دل ہی دل میں سراہا اور ممی جو اربش کے کہنے کے بعد اب دل ہی دل میں اپنے رویے پر نظرثانی کررہی تھیں اور اکلوتے بیٹے کی بھوک کے خیال سے دو نوالے کھانے کا سوچا ہی تھا کہ اجیہ کی طرف سے کی گئی اس درخواست پر پھر سے ان کے اندر کی انا نے زہریلے ناگ کی طرح پھن پھلایا لیا۔
ویسے بھی انا زہریلے ناگ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ ناگ کے زہر سے تو انسان زندہ ہی نہیں بچتا‘ ختم ہوجاتا ہے جبکہ اس انا کا ڈسا ہوا انسان زندہ تو ہوتا ہے لیکن اس کی روح انا کے زہر سے مرچکی ہوتی ہے اور چلتے پھرتے وجود کے اندر مری ہوئی روح کا بوجھ کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے کہ انسان نہ تو حقیقی خوشی کا لطف لے سکتا ہے اور نہ ہی اپنی زندگی مکمل طور پر آسانی کے ساتھ جی سکتا ہے۔ کتنے ہی ایسے کام جن سے حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہو‘ انا ہمیں کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتی اور یوں انسان کی حالت کسی بہترین طرز تعمیر کے حامل مگر بوسیدہ مکان جیسی ہو جاتی ہے جس کے کھڑے رہنا محض ایک عارضی خواب سے بڑھ کر نہیں ہوتا اور یہی سب کچھ ممی کے ساتھ بھی ہوا تھا۔
اربش کے معافی تلافی کرنے پر اس کے بھوکا رہنے کے خیال سے وہ کھانا کے لیے کمرے سے نکلنے کا سوچ ہی رہی تھیں کہ اجیہ کی‘ کی گئی درخواست پر ان کی انا پھن پھیلا کر رستے میں آگئی۔
’’بوا… ان دونوں کو کہیں یہاں سے چلے جائیں۔‘‘
’’ممی پلیز پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کردیں‘ آئندہ…‘‘ اجیہ نے آخری کوشش کے طور پر کہا۔
’’تم بکواس بند کرو‘ سمجھیں اور آج کے بعد اگر تم نے میرے کمرے میں قدم بھی رکھا تو پھر تم دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرتی ہوں۔‘‘
’’اوکے آپ مجھ سے بات نہ کریں میں آپ کے کمرے میں داخل تو دور کی بات ہے‘ میں اپنے کمرے سے قدم بھی باہر نہیں نکالوں گی لیکن آپ صرف اربش کو معافی کردیں‘ میں کبھی آپ کو نظر بھی نہیں آئوں گی۔‘‘
’’شٹ اپ اجیہ… اب تم مجھ سے میرے بیٹے کی سفارش کرو گی؟ جائوں بی بی جائو اور جاکر آئینے میں اپنا منہ دیکھو‘ تم اپنی اوقات بھول رہی ہو۔‘‘
’’ممی پلیز…‘‘ ان کا انداز اس قدر کڑوا اور تلخ تھا کہ اربش کو بیچ میں بولنا ہی پڑا۔
’’آپ زیادتی کررہی ہیں۔‘‘
’’اور جو زیادتی اس نے میرے ساتھ کی ہے وہ تمہیں نظر نہیں آئی کہ کس طرح اس نے تمہیں مجھ سے بھی دور کردیا۔‘‘
’’ایسا نہیں ہوا ممی… آپ بہت زیادہ حساس ہورہی ہیں اور پھر کیا آپ میری اس غلطی کو میری خوشی نہیں سمجھ سکتیں جبکہ اجیہ آپ سے معافیاں مانگ رہی ہے‘ کہہ رہی ہے کہ جو آپ کہیں گی وہ کرنے کو تیار ہے تو پھر اب اور کیا کریں۔‘‘
’’میری جان چھوڑ دو بس اور نکل جائو میرے کمرے سے تم دونوں۔‘‘ ممی اربش کے منہ سے اجیہ کی حمایت سن کر تپ گئی تھیں۔
’’چلو اجیہ… کھانا کھائیں۔‘‘ اربش نے مڑ کر اجیہ کو دیکھا۔
’’اربش لیکن… ممی…‘‘
’’میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں‘ سمجھیں تم؟‘‘ ممی ہذیانی کیفیت میں بری طرح چلائی تھیں۔ اب تک خاموش ہوکر ایک طرف کھڑی بوا ممی کے قریب آئیں۔
’’غصہ نہ کرو‘ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ ممی نے اپنا منہ دوسری طرف کرلیا تھا۔ اربش کو افسوس ہورہا تھا کہ ممی اس کی پرابلم نہیں سمجھ پا رہیں اور وہ صرف اور صرف اپنا ہی سوچے جارہی ہیں کہ انہیں اہمیت نہیں دی گئی‘ پوچھا نہیں گیا‘ یہ اور اس طرح کی دوسری باتوں کی‘ وہ اور اجیہ ان سے کئی بار معذرت بھی کرچکے تھے لیکن اب تک ان کا انداز وہی تھا۔
وہ سمجھتا تھا کہ آہستہ آہستہ ممی سمجھ جائیں گی‘ پہلے کی طرح پیار کرنے لگیں گی لیکن یہ سب مستقبل کی باتیں تھیں جو ہمیشہ مخفی رہتا ہے۔ ابھی انہیں حال کا سامنا تھا جس میں ممی نے قطعاً ان دونوں کی بات سمجھنے بلکہ مکمل طور پر سننے کی بھی زحمت نہیں کی تھی۔
’’ممی پلیز ہمارے ساتھ نہ سہی تو بوا کے ساتھ ہی کھانا کھالیجیے گا پلیز…‘‘ اربش کے کہنے پر بوا نے چلے جانے کا اشارہ کیا تاکہ بات مزید نہ بڑھے اور اربش نے اجیہ کا ہاتھ پکڑا اور ممی کے کمرے سے باہر نکل گیا۔
ء…/…ء
عمر کا بھروسہ کیا‘ پل کا سات ہوجائے
ایک بار اکیلے میں اس سے بات ہوجائے
دل کی گنگ سرشاری اس کو جیت لے لیکن
عرض حال کہنے میں احتیاط ہوجائے
یاد کرتا جائے دل اور کھلتا جائے دل
اوس کی طرح کوئی پات پات ہوجائے
ایک ابر تو کھیلے وہ میری طرح اور پھر
جیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہوجائے
شرمین نے رات کا کھانا کھانے کے بعد برتن سمیٹ کر دھونے کے لیے سنک میں جمع کیے اور خود کرسی پر دونوں پائوں سمیٹ کر بیٹھ گئی۔ ذہن ممی سے ہوتا ہوا اربش تک جا پہنچا تھا اس کی خواہش ہی رہی کہ کبھی اربش کے ساتھ کچھ وقت اکیلے گزار پاتی۔ اس سے باتیں کرتی اور اس کی سنتی لیکن شومئی قسمت کہ جب بھی اربش سامنے آیا تو تھوڑے سے وقت کے لیے اور جب کبھی اس کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملنے کو چانس بنا تو کسی نہ کسی کے آجانے کی وجہ سے وہ موقع بھی ضائع ہوگیا لیکن اسے یقین تھا کہ جلد یا بدیر اربش کو اسی کا ہی ہونا ہے کیونکہ بوا اور امی کے اندر اور ان کی آنکھوں میںاس نے اپنے لیے جو پسندیدگی محسوس کی تھی وہ بس یونہی نہیں تھی اور پھر بوا نے تو اشاروں کناروں میں بھابی سے جو باتیں شرمین اور اس کی منگنی یا رشتے وغیرہ کے لیے پوچھی تھیں تو بے جانہ تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ شرمین یقین کی حد تک مطمئن تھی کہ ممی آج نہیں تو کل رشتہ کی بات ضرور کریں گی۔ ممی کا خیال آتے ہی اس کا دل چاہا ذرا ان سے فون پر بات کی جائے۔
’’دونوں پائوں جوڑ کر یہاں کرسی پر بیٹھی ہوئی ہو‘ بندہ برتن ہی دھو دیتا ہے کبھی۔‘‘ بھابی نے کچن میں داخل ہوتے ہی شکوہ کیا لیکن اس کے پاس ہمیشہ اور ہر بات کا جواب ریڈی ہوتا تھا اس لیے لمحہ بھر کی بھی تاخیر کیے بغیر فٹ سے بولی۔
’’برتن دھوتی ہی بڑی ہوئی ہوں‘ ورنہ میں کوئی کاغذ کی پلیٹوں میں نہیں کھاتی تھی اور پھر آپ کا گھر ہے‘ میاں ہے‘ بچے ہیں۔ سارے برتن تو آپ کے ہی ہوتے ہیں ناں۔ میرا کیا ہوتا ہے زیادہ سے زیادہ ایک نہیں دو پلیٹیں اور ایک گلاس… اسے میں اگر میں کبھی برتن دھو دیا کروں تو میری مہربانی سمجھا کریں اور نہ دھوئوں تو شکایت نہ کیا کریں مجھ سے۔‘‘ شرمین نے تن کر جواب دیا۔
’’توبہ ہے… تم سے تو بندہ ایک بات کہہ دے تو جواب میں پوری تقریر کرنے لگ جاتی ہو قسم سے۔‘‘ بھابی نے منہ بسورا۔
’’اچھا پھر لیٹنے لگے ہیں ہم سب تو تم بھی کچن کی لائٹ بند کرکے اپنے کمرے میں جاکر سو جائو بل آتا ہے بلب روشن کرنے کا بھی۔‘‘
’’پتہ ہے بھابی ان بلوں کا بھی پتا ہے بار بار جتایا مت کرو اور جائو سوجائو تم سب میرا بھی جب دل کرے گا سو جائوں گی۔‘‘
’’مرضی ہے بھئی میری بلا سے تو ساری رات اسی کرسی پر بیٹھے بیٹھے اکڑ جائو مجھے کیا۔‘‘ بھابی گردن جھٹک کر کچن سے نکل گئی تھیں لیکن ایک بار پھر پلٹیں۔
’’اچھا سنو جب بیٹھے بیٹھے کمر دکھنے لگے ناں تو پھر اٹھ کر برتن دھو لینا۔‘‘
مشورہ دے کر وہ اپنے کمرے میں جا گھسی تھیں اسی لیے شرمین کی طرف سے جوابی تقریر سننے سے بال بال بچ بھی گئیں ورنہ شرمین انہیں بغیر کچھ سنائے چھوڑنے والی نہیں تھی لیکن ان کی بات کا یہ اثر ہوا کہ شرمین جو کہ ابھی مزید وہیں پر ہی بیٹھے رہنے کا ارادہ رکھتی تھی ضد میں آکر اسی وقت وہاں سے اٹھی اور اپنے کمرے میں بیڈ پر جاکر بیٹھتے ہی ممی کو فون ملایا۔ دو تین بیلز کے بعد ہی انہوں نے فون اٹھا لیا تھا اور رسمی سلام دعا کے بعد بولی۔
’’اور سنائو بیٹا خیریت سے ہی فون کیا ہے ناں؟‘‘
’’جی بس خیریت ہی ہے ایسے ہی بس آج اپنی امی کی بہت یاد آرہی تھی تو سوچا کہ آپ کو فون کرلوں۔‘‘ شرمین مکمل طور پر جھوٹ گھڑا کیونکہ فون کرنے کی کوئی تو وجہ بتانی ہی تھی سو اس نے امی کی یاد کو وجہ بنا لیا۔
’’ویسے بھی آپ سے بات کرتی ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے اپنی ماں ہی سامنے ہو اتنا سکون اور اس قدر پیار ہے آپ کی شخصیت میں کہ میں نے تو آج تک کسی اور میں یہ کشش محسوس ہی نہیں کی جو آپ کے لیے کرتی ہوں یقین کریں میں جتنی بھی تھکی ہوں پریشان ہوتی ہوں یا اور کوئی وجہ… لیکن آپ کی آواز کان میں پڑتے ہی لگتا ہے جیسے اب کوئی ٹینشن پریشانی میری زندگی میں باقی رہے گی ہی نہیں۔‘‘ شرمین نے دل بھر کر جھوٹ بولتے ہوئے ان کی خوشامد کی۔
’’کاش کہ ایسا ہوتا شرمین بیٹا۔‘‘ ممی بولیں تو ان کا لہجہ نڈھال تھا۔
’’کیا مطلب ہے…! آپ ٹھیک تو ہیں ناں؟‘‘ وہ بے چین ہوگئی تھی۔ ’’اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو میں بھیا سے کہتی ہوں وہ مجھے ابھی آپ کے پاس لے آتے ہیں رات بھر ہم دونوں ایک ساتھ باتیں وغیرہ کرتے گزاریں گی تو آپ کی طبیعت بھی بہتری محسوس کریں گی۔‘‘ اندھا کیا چاہیے دو آنکھیں شرمین تو چاہتی ہی یہی تھی لہٰذا اس نے تصور میں خود کو بھائی کے ساتھ ان کے گھر جاتے اور ممی کے ساتھ رات بھر گزرتے ہی نہیں بلکہ اربش کے ساتھ خود کو باتیں کرتے بھی دیکھ لیا تھا اور اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سونے کے لیے اپنے کمرے میں جانے والے بھائی کو فوراً سے گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا کر گاڑی چلانے بلکہ اڑانے کی ہدایت کردے۔
’’ارے نہیں بیٹا تم کہاں تکلیف کرو گی اور ویسے بھی جو ہنگامہ اس گھر میں کھڑا ہوچکا ہے اس میں بھلا تم کر بھی کیا سکتی ہو؟‘‘
’’ممی آپ مجھے کچھ بتائیں گی بھی یا صرف پریشان ہی کرتی رہیں گی پلیز مجھے مکمل بات وضاحت کے ساتھ بتائیں مجھے تو بہت سخت بے چینی ہورہی ہے۔‘‘ شرمین کی بات پر ممی نے گہری سانس لی اور پھر بولیں۔
’’میری کتنی خواہش تھی کہ تم اس گھر میں بہو بن کر آئو کیونکہ تمہارا اخلاق انمول ہے اور میں چاہتی تھی کہ تم میرے بیٹے کی زندگی میں ایسے آئو کہ اس کی آنے والی نسل میں بھی تمہارے کردار و اطوار کی خوبیاں پائی جائیں لیکن…‘‘
’’لیکن کیا ممی؟‘‘ کسی اور وقت ممی اس کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کرتیں تو وہ دکھاوے کے لیے ہی سہی لیکن شرمانے کی اداکاری کرلیتی لیکن ممی نے جس تاسف بھرے لہجے میں بات کی تھی وہ شرمین کو الجھا رہی تھی۔
’’اربش نے شادی کرلی…‘‘ ممی نے بات ہی تو کی تھی لیکن شرمین کو ایسا لگا جیسے کسی نے اس کی سماعتوں پر بم پھوڑ دیا ہو اور وہ بھی ایک نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے کئی بم۔
’’لیکن کب اور کس سے؟‘‘ وہ بمشکل اتنا ہی کہہ پائی تھی کمرے میں فوراً سے ہی گھٹن کا احساس اس قدر بڑھتا ہوا محسوس ہوا جیسے کوئی اس کمرے کی ساری آکسیجن اڑا لے گیا ہو۔
’’آج اس نے میری ہی اسکول کی ایک ٹیچر سے شادی کرلی ہے بیٹا۔‘‘ شرمین نے ان کی آواز کا کھوکھلا پن محسوس تو کیا لیکن اس وقت وہ خود کھوکھلی ہوچکی تھی۔
’’لیکن ایسا کیوں کیا اربش نے؟ اور وہ بھی آپ کو بتائے بغیر۔‘‘
’’اسی بات کا تو دکھ مجھے سنبھلنے نہیں دے رہا کہ اس کل کی لڑکی کے سامنے میری عزت تو پھر ایک ٹکے کی بھی نہیں رہی۔‘‘ ممی اپنی عزت کے لیے افسردہ تھیں تو شرمین اپنے خوابوں کے بکھرنے پر ماتم کناں اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اربش کی بیوی اس کے سامنے آئے اور وہ اس کا منہ اپنے لمبے ناخنوں سے نوچ لے۔
’’کون سی ٹیچر ہے ایسی جو آپ کی ناک کے نیچے سے آپ کا بیٹا لے اڑی اور آپ کو کانوں کان خبر تک نہ ہوسکی؟‘‘ شرمین نے پوچھا اس لیے تھا کہ اسے اگر خطرہ تھا تو صرف اور صرف اجیہ سے جس کی آج غزنیٰ سے شادی ہوچکی تھی تو اور ایسی کون سی ٹیچر تھی جس نے اتنا لمبا ہاتھ مارا تھا۔
’’تم نے شاید قرآن خوانی پر دیکھا ہوگا اسے… اجیہ… اجیہ سکندر ہے اس کا پورا نام۔‘‘
’’اجیہ سکندر…؟‘‘ شرمین کو حیرت و ذلت کا ایک بھرپور جھٹکا لگا تھا۔
’’لیکن اس کی تو آج غزنیٰ کے ساتھ شادی تھی۔‘‘ شرمین نے انکشاف کیا۔
’’کون غزنیٰ تم جانتی ہو کیا اسے؟‘‘ ممی نے چونک کر فون ایک کان سے دوسرے کان پر لگایا۔
’’جانتی کیا ممی بلکہ جس ٹریول ایجنسی میں جاب کررہی ہوں ناں، وہ غزنیٰ ہی کی ہے اور ہم دونوں یونیورسٹی فیلو بھی رہ چکے ہیں لیکن… ایک بات مجھے سمجھ نہیں آرہی…‘‘ شرمین نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑا۔
’’کون سی بات؟‘‘
’’یہی کہ اجیہ اور غزنیٰ تو ایک دوسرے سے بے تحاشا محبت کرتے تھے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتے تھے اور یہ میں ابھی کی بات نہیں کررہی بلکہ ہم دونوں یونیورسٹی میں تھے اس وقت غزنیٰ، اجیہ کو سب دوستوں سے ملوانے لایا تھا تو اس کا تعارف اپنی منگیتر کہہ کر ہی کرایا تھا اور جس طرح دونوں آپس میں چپک چپک کر بیٹھ رہے تھے تو ہم نے بڑا ریکارڈ لگایا تھا ان دونوں کا اور تب سے یہ دونوں اکٹھے تھے مگر آج صبح ہی غزنیٰ نے مجھے فون کرکے ٹریول ایجنسی بند ہونے کا بتایا تھا میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ اجیہ اور میرے بارے میں تو تمہیں سب کچھ معلوم ہی ہے تو بس ہمیں اچانک شادی کرنا پڑ رہی ہے اور اس شادی کو کتنی ایمرجنسی میں کیا جا رہا تھا آج اس کا اندازہ آپ صرف اس بات سے ہی لگا سکتی ہیں کہ صرف سات آٹھ قریبی رشتے داروں کے علاوہ اور کسی کو بھی مدعو نہیں کیا گیا تھا کیونکہ غزنیٰ اور اجیہ کے پاس شاید اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ چند دن رک کر سب کو مدعو کرلیتے اور انتظامات ہی بہتر کرلیتے۔‘‘ شرمین کا شیطانی ذہن بہت تیزی سے کام کررہا تھا اور اس کی توقعات کے بالکل برعکس لگنے والے اس نفسیاتی جھٹکے کے سبب اس نے خود کو ہتھیار ڈالنے نہیں دیے تھے بلکہ پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ ایک بار پھر میدان میں ایسا اتری کہ ممی کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
’’کیا تم وہی کہہ رہی ہو شرمین جو میں سمجھ رہی ہوں؟‘‘ ممی نے حیرت سے گنگ ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’جی ہاں ممی میں سو فیصد سچ کہہ رہی ہوں آپ چاہیں تو میرے فون کے کال لاگ میں صبح غزنیٰ کی آئی ہوئی کال بھی دیکھ سکتی ہیں اور اگر مزید تصدیق چاہیں تو کسی کو بھی غزنیٰ کے محلے میں بھیج کر اجیہ اور اس کے بارے میں پوچھ سکتی ہیں۔‘‘ شرمین کے لہجے میں اس قدر یقین تھا کہ ممی آن کی آن میں اس پر یقین کر بیٹھیں۔
’’اگر غزنیٰ اور اجیہ کئی برس سے منگنی شدہ تھے اور اب ان کی شادی بھی ہونے والی تھی تو پھر ایسے میں ان دونوں کے درمیان بھلا اربش کی کہاں جگہ بنتی ہے۔‘‘ ممی نے پوچھا۔
’’ہوسکتا ہے کہ یہ شادی اجیہ اور غزنیٰ کی کوئی چال ہو اس لیے کہ اربش کے ساتھ شادی کی صورت میں اجیہ، اربش کی تمام جائیداد، بینک بیلنس وغیرہ کے بارے میں جانتی ہوگی اور قوی امکان تو یہی ہے کہ یہ شادی صرف تب تک ہی چلانے کا منصوبہ ہو جب تک غزنیٰ اور اجیہ کے پاس ایک معقول رقم یا کوئی پراپرٹی وغیرہ نہ آجائے۔‘‘ اور یہی بات ممی کے لیے سب سے زیادہ تکلیف کا باعث اس لیے بنی تھی کہ ان کا بیٹا جو کہ مکمل طور پر مخلص اور صاف دل کا انسان تھا اس کو دھوکے سے صرف اور صرف اپنی لالچ پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور اسے اس بات کی خبر بھی نہیں اور پھر اجیہ جو کہ غزنیٰ کی منگیتر ہے وہ صرف پیسے کی لالچ میں اربش سے شادی کرکے اس گھر میں بھی آچکی ہے انہیں ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اربش کی کم عقلی اور نادانی پر ان کا دماغ چکرا جائے گا۔
’’اور پھر سب سے بڑھ کر ان کی ایمرجنسی میں شادی…‘‘
’’میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا شرمین بیٹا کہ میں کیا کروں ابھی بوا کو بلا کر انہیں ساری اصلیت بتاتی ہوں اجیہ کی۔‘‘
’’ارے ممی کرنا کیا ہے صرف اور صرف ہاتھ پکڑ کر باہر نکال دیں اس کا اور کیا؟‘‘
’’بات تو تمہاری بالکل درست ہے کیونکہ اس کو اربش کی زندگی میں برقرار رکھنا بھی خود اربش کے ساتھ ہماری نا انصافی ہوگی۔‘‘
اجیہ نے اگر شرمین کے مقابلے میں صرف ایک جست لگا کر ہی اربش سمیت سب کچھ ہی حاصل کرلیا تھا تو اس میں یقینی طور پر شرمین کے لیے دکھ تھا اور یہی وجہ تھی کہ جتنی بڑی چوٹ اسے لگی تھی اس نے بھی جوابی طور پر اتنی ہی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کیا تھا اور اس کی باتوں پر ممی کے جو تاثرات فون پر اس نے محسوس کیے تھے ان کی بنیاد پر اسے یقین تھا کہ ممی اب اجیہ کو اس گھر میں ٹکنے نہیں دیں گی اور ان کے رد عمل کو عملی جامع پہنانے کے لیے شرمین نے اپنی خدمات پیش کردی تھیں۔
’’اپنی زندگی کی لگا کر آپ نے اربش کو پالا اسے بڑا کیا اور اسے اس قابل بنایا کہ وہ دنیا کے تمام تقاضوں کو بہترین طریقے سے پورا کرتے ہوئے اپنی زندگی گزار سکے یہ سب آپ نے اس لیے نہیں کیا تھا ناں کہ اجیہ کی طرح کوئی بھی لڑکی پیسے کی لالچ میں اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر نہ صرف یہ دولت سمیٹ کر لے جائے بلکہ اربش کے سچے اور کھرے جذؓبوں اور اس کے خلوص کی بھی توہین کرے۔‘‘ غرض یہ کہ شرمین نے اپنے حسد میں بہہ کر ممی کو مکمل طور پر اجیہ سے بدظن کرنا چاہا اور اس میں سو فیصد کامیاب اس لیے بھی رہی کہ وہ پہلے ہی اس سے نفرت کرنے لگی تھیں اب شرمین کی باتوں اور اس کی طرف سے پہنچائی گئی معلومات کے بعد وہ کسی بھی طور پر اجیہ کو گھر میں اور اربش کے ساتھ برداشت نہیں کرسکتی تھیں۔
ء…/…ء
خود وہ آغوش کشادہ ہے جزیدے کی طرح
پھیلے دریائوں کی مانند ہے محبت اس کی
وہ کبھی آنکھ بھی جھپکے تو لزر جاتا ہوں
مجھ کو اس سے بھی زیادہ ہے ضرورت اس کی
امی کو اسپتال لائے تو وہ بے ہوش ہی تھیں اسپتال کے گیٹ کے باہر ہی پارکنگ میں گاڑی روک کر سکندر صاحب اسٹریچر لینے اسپتال کے اندر فرسٹ طبی امداد کے کائونٹر پر پہنچے انہیں امی کی حالت کے بارے میں بتایا اور اسٹاف کے کہنے پر ایک وارڈ بوائے کو ساتھ لے کر امی کے پاس واپس پہنچے وارڈ بوائے کے ہاتھ میں اسٹریچر تھا جس پر امی کو منتقل کرنے کے بعد تیز رفتاری سے وہ سب ایمرجنسی کی طرف بھاگے تھے جہاں چوبیس گھنٹے یقینی طور پر ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں۔ حنین جس وقت گھر سے نکلی تھی مسلسل امی پر کچھ نہ کچھ پڑھ کر پھونکتی ہی جارہی تھی اسے یاد تھا کہ اجیہ ہوتی یا وہ اگر ان دونوں میں سے کسی کو بخار بھی ہوجاتا تو امی تسبیح لے کر ان کے بیٹھ پر آبیٹھتیں اور مختلف آیات پڑھ پڑھ کر دیر تک ان پر پھونکا کرتیں اور اب آج حنین کی زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا کہ امی کی جگہ اس نے لے لی تھی اور ان پر ہر وہ آیت یا سورت جو اسے یاد تھی پڑھ کر پھونکتی ہی جارہی تھی۔
ڈاکٹرز امی کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہے تھے موجودہ یا سابقہ بیماریوں کا پوچھ رہے تھے ان کی کیس ہسٹری مانگ رہے تھے لیکن اول تو یہ کہ آج تک ان کا علاج مکمل طور پر کبھی کروایا ہی نہیں گیا تھا اور دوسری بات یہ کہ اجیہ کے ساتھ جاکر جو ٹیسٹ انہوں نے کروائے تھے وہ حنین کو بوکھلاہٹ اور پریشانی میں ساتھ لانے یاد ہی نہیں رہے تھے۔ ڈاکٹر امی کے چیک اپ کے دوران انہیں ہدایات دیتا رہا کہ اگر اس وقت ان کے پاس تمام رپورٹس ہوئیں تو دوبارہ سے نہ کرانی پڑتیں پیسے بھی ضائع نہ ہوتے اور وقت بھی‘ سکندر صاحب نے ملامتی نظروں سے حنین کو دیکھا کہ اس کی لاپروائی کی وجہ سے اب دوبارہ پیسے بھرنے پڑیں گے۔
’’ڈاکٹر صاحب گھر پر ساری رپورٹیں موجود ہیں بس ہم جلدی میں لانا بھول گئے اگر آپ کہیں تو میں ابھی لے آئوں؟‘‘ سکندر صاحب کے پوچھنے پر ڈاکٹر نے حیرت سے انہیں دیکھا اور پھر سامنے بے سدھ پڑی ہوئی امی کو جن کے ایک بازو پر بلڈ پریشر اور شوگر وغیرہ چیک کی جارہی تھی اور دوسرے بازو پر کنولا لگا کر مختلف ٹیسٹ کرنے کے لیے خون لیا جارہا تھا۔
’’آپ کے اس آنے جانے میں آپ کی مریضہ کے لیے رسک ہے کیونکہ جتنی دیر میں آپ جائیں گے اس سے کہیں پہلے ان کی ٹریٹمنٹ شروع ہوجانی چاہیے۔‘‘
’’ڈاکٹر صاحب یہ جو آپ ٹیسٹ اب کریں گے اندازاً کتنے روپے لگیں گے ان پر۔‘‘
’’دس بارہ ہزار تو ان پر لگ ہی جائیں گے اور باقی فیس وغیرہ ظاہر ہے الگ ہوگی۔‘‘ بات مکمل کرکے ڈاکٹر امی کے چیک اپ کے متعلق اسٹاف کو ہدایات دینے لگا تھا۔
’’دس بارہ ہزار، کیا پہلے بھی اتنے ہی لگے تھے؟‘‘ انہوں نے حنین سے پوچھا۔
’’جی بابا جانی تقریباً اتنے ہی لگے تھے۔‘‘
’’تو پھر وہ پیسے کس نے دیے تھے تم لوگوں کے پاس گھر میں تھے اتنے پیسے؟‘‘ وہ حیران ہوئے۔
’’اجیہ نے دیے تھے بابا جانی وہ ہی اپنی تنخواہ سے امی کی دوائیاں وغیرہ بھی لاتی تھی اور یہ سب ٹیسٹ چیک اپ بلکہ میرے کالج کی فیس اور کتابیں تک سب کچھ وہ اپنی جاب سے ہی تو پورا کرتی تھی ناں ورنہ ہم کہاں سے لاتے ہمیں کون دیتا اجیہ کے سوا دینے والا؟‘‘ حنین کے منہ سے اجیہ کا نام سن کر وہ چونکے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ ٹیسٹ وغیرہ اس قدر مہنگے ہیں جن پر اجیہ خرچ کررہی ہے۔
’’کال سینٹر میں رات کی شفٹ والوں کے پیسے زیادہ ملتے تھے ناں اس لیے وہ کال سینٹر والی جاب نہیں چھوڑنا چاہتی تھی کہ اگر جاب چھوڑ دی تو میری اور امی کی تمام ضروریات کون پوری کرے گا۔‘‘
’’لیکن حنین بیٹا تم ایسا نہ کہو کیونکہ تمہیں تو میں ہمیشہ پیسے دیتا آیا ہوں ہر اس وقت جب تم نے مانگے۔‘‘
’’جی بابا جان آپ سچ کہہ رہے ہیں لیکن پھر مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تھا ناں کہ میں تو آپ سے پیسے لے کر اپنی ضروریات پوری کرلوں اور اجیہ اور امی ایک ایک روپے کے لیے ترستی رہیں اس لیے تو ایک عرصہ ہوا میں نے آپ سے مانگنے بھی چھوڑ دیے تھے اور پھر نہ ہی آپ نے خود سے کبھی پوچھا اور نہ دیے۔‘‘ حنین بات کرکے اب امی کے اسٹریچر کی طرف مڑی ان دونوں سے قدرے فاصلے پر ڈاکٹرز امی کی بیماری کی تشخیص میں لگے ہوئے تھے اور اب انہیں یہیں کھڑا رہنے کا کہہ کر اسٹریچر ایمرجنسی روم میں لے گئے انہیں بیڈ پر منتقل کیا۔
سکندر صاحب اور حنین تب تک باہر ہی موجود تھے حنین مسلسل دعائیں مانگ رہی تھی کہ وہ ہوش میں آجائیں ایک مرتبہ تو جی چاہا کہ اجیہ کو فون کرکے بلوا لے پھر اپنا ارادہ ملتوی کردیا وہ اسے اس کی نئی زندگی کے شروعات پر پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
’’بابا جانی… اگر آپ کہیں تو میں غزنیٰ اور تایا ابو کو امی کی اس حالت کے بارے میں فون کردوں۔‘‘
’’انہیں کس منہ سے فون کرو گی تم؟ اجیہ نے کسی سے بھی بات کرنے کے قابل چھوڑا ہے کیا ہمیں؟‘‘ ان کا چہرہ سرخ ہونے لگا۔
’’بابا جانی اجیہ نے کیا کیا ہے اور کیا نہیں کیا یہ سب سننے کے لیے پوری عمر پڑی ہے لیکن یہ موقع ایسا ہے کہ اگر ہمارے فون کرنے پر تایا ابو اور تائی امی، امی کو دیکھنے اسپتال آگئے تو جیسے تیسے دونوں گھروں میں آنا جانا بحال رہے گا چاہے خوشی غمی پر ہی سہی لیکن اگر آج ان کو نہیں بلاتے یا ہمارے بتانے کے باوجود وہ ایک دوسرے کا منہ تک دیکھنے کے روادار نہیں ہوں گے۔‘‘ حنین کی بات سکندر صاحب کے دل کو لگی تھی اور انہوں نے حنین سے کہا کہ وہ انہیں فون کرے۔ حنین نے ان کے گھر کے نمبر پر فون کیا تائی امی نزدیک ہی بیٹھی تھیں لہٰذا انہوں نے ہی فون اٹھایا۔
’’السلام علیکم تائی امی میں حنین بول رہی ہوں۔‘‘
’’حنین؟‘‘ اس وقت حنین کی کال انتہائی غیر متوقع تھی اور پھر آج ہونے والے واقعے کے بعد تو اس بات پر یقین کرنا ممکن نہیں تھا کہ اجیہ کے گھر سے کسی کا بھی فون آتا حنین کا نام سن کر غزنیٰ اور ابا دونوں نے چونک کر اماں کو دیکھا۔
’’جی تائی امی… میں نے آپ کو صرف یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کہ امی کی طبیعت بہت بگڑ گئی تھی مسلسل بے ہوشی میں ہیں اور ہم انہیں اسپتال لے آئے ہیں۔‘‘
’’مسلسل بے ہوشی میں، لیکن کب سے؟‘‘ اماں کے پوچھنے پر غزنیٰ اور ابا نے ان سے اشارے میں ’’کون‘‘ پوچھا مگر اماں نے جواب نہ دیا۔
’’بہت دیر ہوگئی ہے ابھی تو آئی سی یو میں شاید… وہ ڈاکٹر تو آرہا ہے۔‘‘ حنین نے سامنے سے ڈاکٹر کو آتے دیکھا اور عجلت میں فون بند کرنے سے پہلے انہیں اسپتال کا نام بتایا اور ڈاکٹر کی طرف لپکی۔ سکندر صاحب اس سے پہلے ہی ڈاکٹر کے قریب پہنچ چکے تھے۔
’’آپ کی مریضہ کے دماغ پر فالج کا اٹیک ہوا ہے۔‘‘
’’کیا… امی کو فالج…!‘‘
’’فی الحال ان کا دماغ جسم کو کوئی بھی ہدایات دینے سے قاصر اور مفلوج ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ہاتھ پائوں اور یہاں تک کہ زبان یا آنکھوں تک کو حرکت نہیں دے سکیں گی لیکن… لیکن یہ کہ وہ زندہ ہیں الحمدللہ۔‘‘ حنین وہیں کھڑے کھڑے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی اسے شروع ہی سے اپنے آنسوئوں پر گرفت نہیں تھی بات بات پہ رونے لگتی بلکہ اجیہ تو ہمیشہ کہتی کہ اس کے آنسو پلکوں پر دھرے رہتے ہیں۔ ذرا سی بات ہوتی فوراً آنکھوں سے لڑھکنے لگتے ہیں۔
’’آپ فکر نہ کریں اور دعا کریں بہت سے کیسز میں مریض ٹھیک ہوکر دوبارہ سے اپنی نارمل زندگی گزارنے لگتے ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مریض کے پاس رہنے والے افراد بھرپور کوشش کریں ان کے قریب بیٹھ کر ایسی باتیں کریں جو انہیں زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد دیں مایوسی، پریشانی والی باتوں سے پرہیز کریں اس کے علاوہ ماضی میں اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا ہو تو ان کے قریب بیٹھ کر آپس میں بھی اس کے بارے میں بات کرنے سے گریز برتا جائے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ ان کی سماعت کسی حد تک کام کررہی ہے اس لیے رسک ہی کیوں لیں اور مجھے امید ہے کہ وہ بہت جلد بہتر ہوجائیں گی۔‘‘
’’ڈاکٹر صاحب کیا میں امی کے پاس چلی جائوں۔‘‘ مسلسل بہتے ہوئے آنسوئوں کے ساتھ حنین نے پوچھا تو ڈاکٹرز نے منع کردیا۔
’’نہیں فی الحال نہیں… لیکن بس تھوڑی دیر میں ضرور۔‘‘ ڈاکٹر نے اپنی پیشہ وارانہ مسکراہٹ سے کہا اور جاتے جاتے کچھ یاد آنے پر پھر لوٹا اور سکندر صاحب سے مخاطب ہوا۔
’’آپ ایسا کریں گھر پر ان کی جو رپورٹس موجود ہیں وہ بھی منگوالیں کیونکہ ان سے مزید معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔‘‘
’’جی بہتر میں لے آتا ہوں۔‘‘ اور ڈاکٹر کے جانے کے بعد اس سے پہلے کہ سکندر صاحب گھر کے لیے نکلتے انہوں نے غزنیٰ کو ابا اور اماں کے ساتھ داخل ہوتے دیکھا اور اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے ہاتھ ہلایا وہ لوگ انہیں دیکھتے ہی سیدھا ادھر ہی آگئے تھے۔
’’بھائی صاحب میں شرمندہ ہوں اور آپ سے بہت معذرت چاہتا ہوں کہ میری وجہ سے آج غزنی اور آپ لوگوں کو شرمندہ ہونا پڑا لیکن میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں یہ سراسر اجیہ اور اس کی ماں کا کارنامہ ہے ورنہ میں تو آپ کے پائوں پکڑ کر معافی مانگنے کو تیار ہوں۔‘‘
’’یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے چچا جان آپ پلیز فی الحال یہ ذکر رہنے ہی دیں تو بہتر ہے ہم صرف اور صرف چچی کی اس قدر طبیعت خرابی کا سن کر بھاگے چلے آئے ہیں ہمیں نہیں معلوم کہ اجیہ کون ہے یا اس نے کیا کیا اور نہ ہی ہم چاہتے ہیں کہ اس کا ذکر دہرایا جائے۔‘‘ غزنیٰ نے سکندر صاحب کو انتہائی روکھا جواب دے کر اماں ابا کو کسی بھی قسم کی تسلی یا وضاحت سے بچا لیا تھا۔
’’حنین میری بچی، بتائو تو آخر ہوا کیا ہے ایک دم… اور ڈاکٹر کیا کہتا ہے۔‘‘ اماں نے آگے بڑھ کر حنین کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنے بازوئوں کے گھیرے میں لے لیا تو وہ جو ابھی بمشکل خود کو رونے سے روک رہی تھی ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اماں نے اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا تھا اس کا ماتھا چوما آنسو صاف کیے اور کمر سہلاتے ہوئے خاموش ہونے کی تلقین کرتی رہیں اس دوران سکندر صاحب نے انہیں وہ تمام تر تفصیلات بتائیں جو ان کے آنے سے پہلے ڈاکٹر بتا کر گیا تھا۔
’’غزنیٰ بیٹا… ایک کام تو کرو…‘‘
’’جی کہیے۔‘‘
’’گھر پر کچھ رپورٹس رکھی ہیں جو ڈاکٹر نے ابھی منگوائی ہیں ہم تو کسی کی گاڑی میں اسے لائے تھے اور وہ بھی واپس بھیج دی ہے اگر تم ابھی جا کر لے آئو تو…‘‘ غزنیٰ نے سانس کھینچتے ہوئے لب بھینچ کر اماں کو دیکھا انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کی منت کی تو بولا۔
’’آپ فکر نہ کریں میں لے آتا ہوں جاکر… آپ بس مجھے یہ بتا دیں کہ رپورٹس رکھی ہوئی کہاں ہیں۔‘‘ اس نے سکندر صاحب سے کہا لہجے کی تلخی برقرار تھی جو بات کرنے سے محسوس بھی ہورہی تھی لیکن ان کا یہاں آنا ہی غنیمت تھا اور وہ بھی اس صورت حال میں جبکہ سکندر صاحب کی وجہ سے وہ اس قدر کرب اور اذیت سے گزرے ہوں بلکہ خود ابا دل ہی دل میں غزنیٰ کے احسان مند تھے جس نے انہیں سکندر صاحب سے ملنے پر نہیں روکا تھا۔ اور اگر بالفرض وہ انہیں منع کردیتا ساری زندگی کے لیے ابا کو سکندر صاحب سے قطع تعلق رکھنے کا کہہ دیتا تو وہ بھلا کیا کرلیتے۔ کیا کہہ سکتے تھے کیونکہ غزنیٰ کو چھوڑ کر وہ کسی سے بھی نہیں مل سکتے تھے کیونکہ غزنیٰ ان کا بیٹا تھا اور اس کی خوشی میں ہی ان دونوں کی بھی خوشی تھی۔
’’بتائو حنین بیٹا کہاں رکھی ہوئی ہیں اور رونا دھونا بند کردو اب، کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ اسے بات کرتے ہوئے انہوں نے حنین کی آنکھوں سے مسلسل بہتے ہوئے آنسو دیکھے تو اسے ڈپٹ دیا۔
’’سکندر بچی ہے، اور ظاہر ہے صدمہ تو ہے ہی کہ آخر کو ماں ہے اس کی روتی ہے تو اچھا ہے رونے دو تاکہ اچانک ملنے والا یہ دکھ دل کے اندر رہ کر اعصاب کو کمزور نہ کرے۔‘‘ ابا نے سکندر صاحب کو سمجھایا اس سے پہلے ہی حنین اپنی آنکھیں مسل رہی تھی اور چاہتی تھی کہ اب مزید آنسو نہ نکلیں لیکن پتا نہیں ان سیاہ پتلیوں کے پیچھے کون سی آبشار تھی کہ آنسو بہتے ہی چلے جارہے تھے مگر اب جب اس نے سب کی آنکھیں خود پر مرکوز دیکھیں تو خاموش ہونے کی کوشش کرنے لگی۔
’’وہ جو ہمارا روم ہے ناں، اس میں جو بیڈ کے سائیڈ پر الماری رکھی ہے اس الماری کا دایاں پٹ کھولیں گے تو سب سے سامنے جو دراز ہے اس میں سب سے اوپر امی کی رپورٹس رکھی ہیں۔‘‘ حنین نے تفصیل سے سمجھایا۔
’’لیکن تم رو کیوں رہی ہو پاگل، سب ٹھیک ہوجائے گا اور تم اپنی امی کے ساتھ بھی پہلے کی طرح بات چیت کر پائو گی۔‘‘ باقی گھر والوں کے ساتھ غزنیٰ کا جیسا بھی اختلاف تھا اور ان کے خلاف اب اس کے دل میں جتنا بھی غصہ تھا لیکن حنین کے لیے اب بھی وہ اپنے دل میں وہی دوستانہ جذبات رکھتا تھا جو پہلے تھا اور اسے روتا دیکھ کر خود غزنی کو بھی بے چینی ہونے لگی تھی کیونکہ سکندر صاحب کے گھر میں صرف ایک حنین ہی تو تھی جو ہمیشہ اسے یکسان گرم جوشی سے خوش آمدید کہا کرتی تھی اجیہ کو تو شروع سے ہی غزنیٰ سے چڑ تھی سکندر صاحب کا رویہ بھی گھر کے حالات کے ساتھ اوپر نیچے ہو ہی جاتا تھا اور یہی حال امی کا بھی تھا لیکن حنین ہمیشہ اس کے لیے ایک اچھے دوست کی صورت دستیاب رہی تھی اور یہی نہیں بلکہ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ جب کبھی امی کچھ ایسی نئی چیز پکاتیں جو غزنی کی بھی پسندیدہ ہوتی تو حنین خاص طور پر اسے میسج کرکے بتاتی کہ امی نے آج تمہاری پسندیدہ فلاں چیز پکائی ہے جلدی سے آجائو تاکہ مل کر کھائیں لیکن سنو کسی کو بتانا نہیں کہ میں نے تمہیں میسج کرکے بتایا ہے کہ آج کیا پکا ہے۔‘‘
وہ خاص طور پر اسے یہ راز رکھنے کا کہتی اور امی اور اجیہ ہمیشہ حیران ہوا کرتیں کہ آخر یہ ہمیشہ اسی دن کیوں عین وقت پر پہنچ جاتا ہے۔
’’تم پلیز جلدی سے جائو اور رپورٹ لے آئو۔‘‘ حنین نے اسے کہا۔
’’ڈاکٹرز اپنا کام کرچکے ہیں وہ صرف ان رپورٹس کے لیے نہیں بیٹھے ہوئے لیکن یہ تو بس انہوں نے احتیاطاً دیکھنے کے لیے منگوائی ہیں کیونکہ وہی سب ٹیسٹ وہ دوبارہ کرچکے ہیں اور شاید کر بھی رہے ہیں بے شک دوچار گھنٹے بعد لے آؤ یا صبح بھی آگئیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ سکندر صاحب نے بتایا۔
’’نہیں میں ابھی لے آتا ہوں، تم فکر نہ کرو حنین، ویسے بھی رات کے اس وقت سڑک پر رش نہیں ہوتا، ٹریفک بہت کم ہوتی ہے بس میں ابھی گیا اور سمجھو ابھی آیا لیکن تم نے فکر نہیں کرنی کیونکہ یہ سب تو زندگی کا حصہ ہے بس دعا کرو کہ وہ ٹھیک ہوجائیں اور پہلے کی طرح باتیں کرنے لگیں۔‘‘
’’ان شاء اللہ وہ ضرور ٹھیک ہوں گی میری دعا ضرور پوری ہوگی۔‘‘ حنین نے پھر سے آنکھوں میں آئے آنسوئوں کو ہتھیلی سے رگڑا۔
’’سب کچھ ہوگا لیکن پلیز پہلے تم یہ رونا بند کرو اماں سنبھالیں ناں اسے۔‘‘ غزنیٰ نے کہا تو امی نے اسے گلے سے لگا لیا۔
’’گھبرائو مت میری جان میں بھی تو تمہاری ماں ہی ہوں ناں تمہیں ہمیشہ اپنی بیٹی ہی سمجھا ہے میں نے پھر تم کیوں پریشان ہوتی ہو یہ سب تو انسان کے لیے آزمائش ہوتی ہیں بس تم اللہ سے دعا کرو سب بہتر ہوجائے۔‘‘ حنین نے تائید میں سر ہلاتے ہوئے ایک بار پھر آنکھیں رگڑیں جو ابھی تھوڑی دیر ہی رونے اور مسلنے سے سوج چکی تھیں اور اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔
’’اماں آپ اس کا خاص دھیان رکھیں پلیز حنین تم یہ سامنے کولر سے پانی پیو میں بس ابھی آیا۔‘‘ کہتے ہوئے وہ خود ہی سامنے رکھے الیکٹرک کولر کی طرف بڑھا اور گلاس میں پانی ڈال کر حنین کے لیے لے آیا اسے گلاس تھمایا اور خود ہاتھ میں چابی لیے تیزی سے باہر پارکنگ ایریا کی طرف بڑھ گیا۔
ء…/…ء
خوشبو کی پوشاک پہن کر
کون گلی میں آیا ہے
کیسا یہ پیغام رساں ہے
کیا کیا لایا خربیں
کھڑکی کھول کے باہر دیکھو
موسم میرے دل کی باتیں
تم سے کہنے آیا ہے
ممی نے اگر اجیہ اور اربش کے کہنے کے باوجود ان کی منت سماجت اور ہاتھ جوڑنے تک کی پروا نہ کرتے ہوئے کھانا کھانے سے انکار کردیا تھا تو اربش کہاں تک بھوکا بیٹھا رہتا اور پھر اپنے لیے تو وہ سب کچھ برداشت کرسکتا تھا لیکن اب جبکہ اس کے ساتھ اجیہ بھی تھی اور اجیہ کسی اور کی نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری تھی اس کی وجہ سے اس گھر میں آئی تھی اور قانون اور مذہب نے اب اجیہ کی تمام تر ذمہ داری اربش کو سونپی تھی تو وہ کسے اس کو بھوکا رہنے دیتا اور پھر شادی والے دن ہی اس گھر میں اربش کے ساتھ ہونے والی اس پہلی رات میں ہی وہ کیسے اجیہ کو بھوکا سونے دیتا۔ اس نے خود تو آج تک کبھی بھی ممی کے بغیر کھانا نہیں کھایا تھا لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ کھانا نہ کھاتا تو یقینی طور پر اجیہ بھی مروت اور محبت میں کھانا نہ کھا پاتی اور انکار کردیتی لہٰذا پہلے تو اربش نے اجیہ سے اصرار کیا کہ وہ کھانا کھا لے لیکن وہ نہ مانی تو اربش نے بوا سے کہہ کر کھانا گرم کرایا اور اپنے کمرے میں ہی منگوا لیا بوا نے اجیہ کے اہتمام میں کافی کچھ بنا لیا تھا اور شاید پہلے گھر آنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ چاہتی تھیں کہ اپنی طور پر جتنا ممکن ہوسکے اجیہ کا اس گھر میں پہلے دن کا اہتمام کرلیں کیونکہ ممی کا رد عمل متوقع تھا لیکن اس حد تک غصہ کریں گی یہ بات شاید بوا کے لیے بھی اس لیے حیران کن تھی کہ انہوں نے اپنی آج تک کی زندگی میں ممی کو کبھی بھی اربش پر غصہ کرتے نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی اربش نے انہیں خود پر غصہ کرنے کا کوئی بھی موقع دیا تھا اور اب اگر وہ غصہ کررہی تو اس قدر شدید کہ ان دونوں کی طرف سے ہاتھ جوڑنے پر بھی غصہ کم ہونے میں نہیں آرہا تھا۔ لہٰذا بوا نے اربش کے کہنے پر بڑے ہی اہتمام سے کھانے کی ٹرے سیٹ کررہی تھی کہ اجیہ کچن میں آگئی۔
’’ارے بیٹا… تم یہاں کیوں آئی ہو؟‘‘ وہ اجیہ کو دلہن بنے کچن میں کھڑا دیکھ کر شرمندگی محسوس کررہی تھیں۔
’’میں نے سوچا اگر کچھ تیار کرنا ہے تو میں خود ہی کرلیتی ہوں آپ پلیز میری وجہ سے کسی بھی قسم کی زحمت نہ کریں۔‘‘
’’ارے کیسی باتیں کرتی ہو بیٹا کیوں مجھے شرمندہ کررہی ہو اربش کی ماں بھی دراصل ہے بہت اچھی نرم گو اور صاف دل تم تو جانتی ہی ہو ناں اسکول سے لیکن پتا ہے کیا یہ سب دراصل اس قدر اچانک ہوا ہے کہ وہ سنبھل نہیں پا رہی اور اس کا دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ اربش اس کی مرضی کے بغیر بھی کچھ کرسکتا ہے، لیکن تم فکر مت کرو اور گھبرانا نہیں اسے سب کچھ سمجھادوں گی۔‘‘
’’شکریہ بوا آپ بہت اچھی ہیں۔‘‘ اجیہ نے احساس تشکر سے کہا کہ کوئی تو ہے جو اس کو بھی پیار کرتا ہے اور اچھا سمجھتا ہے اسے بوا کا مزاج بہت اچھا لگا تھا۔
’’اربش کی ماں جو ہے ناں… وہ مجھ سے بھی اچھی ہے تم دیکھنا ذرا بس یہ دو چار دن گزر جانے دو۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘
’’اب ایسا کرو تم جائو اپنے کمرے میں اربش تمہارا انتظار کر رہا ہوگا۔‘‘
’’یہ ٹرے میں لے جاتی ہوں۔‘‘
’’ہاں چلو ٹھیک ہے تم لے جائو باقی سب میں لے آتی ہوں۔‘‘
گھر میں موجود ایک ایک چیز کو دیکھتی وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی حنین اور امی کا خیال بھی ساتھ ساتھ تھا کہ پتا نہیں اس کے گھر سے آنے کے بعد بابا نے ان دونوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا۔ کمرے میں داخل ہوئی تو اربش چینج کر چکا تھا ٹرائوزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا وجیہہ تو وہ ویسے بھی تھا مگر آج اس کا انداز کچھ منفرد ہی معلوم ہورہا تھا اجیہ کھانے کی ٹرے لے کر کمرے میں پہنچی تو اربش کی نظریں اجیہ پر مرکوز تھیں اور اس کے دیکھنے کے انداز میں جانے کیا تھا کہ اجیہ اس کے یوں وارفتگی سے دیکھنے پر گھبرا سی گئی تھی اس میں ہمت ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ نظر اٹھا کر اسے دیکھتی کیونکہ نہ دیکھنے پر بھی اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کررہی تھی۔
’’میں بس یہی لے کر آئی ہوں باقی بوا لا رہی ہیں۔‘‘ اس نے ٹرے رکھتے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ ہی بوا بھی کھانا لیے آگئیں اور دونوں کو اچھی طرح کھانے کی تاکید کرتے ہوئے دعا دے کر کمرے سے رخصت ہوئیں۔
اجیہ کو اپنے قریب بٹھا کر اربش نے پہلا نوالہ توڑ کر اس کے منہ میں ڈالا اور دوسرا نوالہ اپنے منہ میں ڈالنے ہی والا تھا کہ اجیہ نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ روک کر نوالہ لیا اور خود اسے کھلایا۔
’’میں تمہاری احسان مند ہوں اربش کہ تم نے میری خاطر اتنا اسٹیپ لیا صرف اور صرف میری خوشی برقرار رکھنے اور میرے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے تم نے جس طرح میرا ساتھ دیا ہے‘ اس کے بدلے میں ساری عمر تمہاری احسان مند رہوگی۔‘‘ اجیہ پوری سچائی اور دل سے یہ بات کررہی تھی کیونکہ وہ یہ بات مانتی تھی کہ اربش نے اس سے محبت کا اظہار کیا تھا اسے پانے کی خواہش کی تھی لیکن اس کی طرف سے ایسا کچھ نہیں تھا اور اگر اس نے اربش کے پروپوزل پر غور کیا تھا تو صرف اور صرف اس لیے کہ وہ دولت مند اور امیر تھا اور اس کی زندگی میں موجود تمام محرومیاں ختم کرکے حنین اور امی کے معیار زندگی کو بھی بہتر بنا سکتا تھا لیکن یہ سب کچھ اس طرح ہوگا یہ تو کبھی ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا۔
’’اس طرح کی باتیں کرکے تم مجھے غیر ثابت کررہی ہو اجیہ… کیونکہ میں نے تم پر احسان نہیں کیا بلکہ تم سے محبت کی ہے ایسی محبت جس میں کوئی اپنی محبت پانے کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے اور تم دیکھنا اجیہ میں اپنی زندگی کی آخری سانس تک یہ محبت اس طرح نبھائوں گا کہ بالفرض اگر میں نہ بھی رہا تو تمہیں دنیا بھر میں اتنی محبت کرنے والا کوئی نہیں ملے گا کیونکہ میرے بعد…‘‘ اجیہ نے اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے مزید کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا۔
’’کیوں اربش تمہارے بعد کیوں… میرا وجود‘ میرا جینا مرنا‘ خوشی اور غم سب کچھ صرف اور صرف تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارے ساتھ تک ہی ہیں‘ تمہارے بغیر نہ ہی اب میں کچھ ہوں اور نہ ہی مجھے تمہارے بغیر ہونے کا کوئی بھی گمان یا خیال بھی ہے اور اگر آج کے بعد تم نے کوئی بھی اس طرح کی الٹی سیدھی بات کرکے مجھے جذباتی کرنے کی کوشش کی ناں تو پھر دیکھنا میں تمہیں ہرگز معاف نہیں کروں گی۔‘‘
’’اچھا بابا… اچھا غلطی ہوگئی آئندہ نہیں کروں گا لو بھئی میں نے کان پکڑے۔‘‘ اربش نے اس کے کان پکڑے تھے جس پر وہ پہلے حیران ہوئی پھر ہنسنے لگی۔
’’یہ بھی اچھا طریقہ ہے واہ بھئی واہ۔‘‘
’’ہاں تو اور کیا… اب دیکھنا میں اپنے دوستوں سے کہا کروں گا میری بیوی تو اتنی ظالم ہے کہ شادی کی پہلی رات ہی میں نے کانوں کو ہاتھ لگایا لیا پائوں پکڑے۔‘‘
’’پائوں کب پکڑے۔‘‘ وہ ہنستے ہنستے حیران ہوکر بولی۔
’’محترمہ جب تم کچن میں گئی تھیں اور میں نے چینج کیا جوتے اتارے تو جرابیں اتارتے ہوئے میں نے اپنے پائوں بھی تو پکڑے تھے ناں۔‘‘ وہ دنیا بھر کا معصوم بنتے ہوئے اپنی ہنسی چھپانے کی ناکام ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا۔
’’اوہو… تو یہ کیا بات ہوئی کان میرے پکڑے پائوں اپنے پکڑے اور لوگوں میں مجھے ایک ظالم بیوی مشہور کروائوں گے تو یاد رکھنا پھر میں اصلی والی ظالم بیوی بن جائوں گی۔‘‘
’’تم اور ظالم…؟‘‘
’’ہاں تو اور کیا میں ظالم نہیں بن سکتی کیا؟‘‘
’’بن سکتی ہو بھئی تم تو اب جو کہو میں اس پر ہاں کہنے کو تیار ہوں۔‘‘
’’اچھا مطلب یہ کہ تم سمجھتے ہو کہ میں اتنی بری ہوں کہ ظالم تک بن سکتی ہوں۔‘‘
’’ہاں ناں… نن… نہیں… نہیں بن سکتی ظالم۔‘‘
’’میرے اندر اتنا ٹیلنٹ ہے کہ دو منٹ میں کچھ بھی بن سکتی ہوں۔‘‘
’’ہاں تو یہی تو میں کہہ رہا تھا کہ تم جو چاہو بن سکتی ہو، ظالم حسینہ۔‘‘
ابھی وہ دونوں کھانا کھانے کے دوران ہی ہنسی مذاق کررہے تھے کہ باہر سے آتی ممی کی آواز پر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر چونک گئے۔ ممی انتہائی غصے میں اربش کو آوازیں دے رہی تھیں اور یہی آوازیں آہستہ آہستہ ان کے کمرے کے نزدیک تر ہوتی گئیں اربش کے لیے ممی کا یہ رویہ حیرت انگیز تھا وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ ’’کیا ہر ماں ساس بنتے ہی ایک دم بدل جاتی ہے؟ اگر اس کی ممی جیسی نرم طبیعت، محبت کرنے والی اور بہترین اخلاق والی ماں ساس کا منصب سنبھالتے ہی اس قدر بدل سکتی تھی تو اسے اس بات پر یقین ہوگیا تھا کہ دنیا کی سب سے زیادہ پیار کرنے والی ماں بھی شاید ساس بنتے ہی اونچا بولنے والی‘ شکی مزاج عورت کا روپ دھارے کیونکر ممی کو تیز بولنا کسی کا بھی پسند نہیں تھا اور اب جبکہ وہ جانتی ہیں کہ گھر میں ایک نئے فرد کا اضافہ ہوچکا ہے تو اس کے باوجود ذرا سا بھی لحاظ نہ کرنا یہ کہاں کا طریقہ تھا اور پھر اس طرح کے روپ کا اظہار اس وقت کرنا جبکہ وہ جانتی ہیں کہ آج ان کے اکلوتے بیٹے کی شادی کی پہلی رات ہے۔‘‘ اجیہ پر ان کا تاثر کیا بنتا ہے اس بات کی تو انہیں ویسے بھی کوئی فکر نہیں تھی کیونکہ وہ اجیہ کو شرمین کے انکشافات کے بعد سے ذراہ برابر بھی اہمیت دینے کی روداد نہیں تھیں۔
اور پھر انہوں نے دھڑام سے دروازہ کھولا جو اربش کی توقعات کے بالکل برعکس تھا اجیہ نے گھبرا کر اربش سے ذرا فاصلہ اختیار کیا ان دونوں کو آرام سے کھانا کھاتے دیکھ کر تو انہیں مزید غصہ آگیا تھا۔
’’آج سے پہلے میرے بغیر منہ میں لقمہ نہ ڈالنے والا بیٹا شادی کے چند گھنٹوں بعد ہی ماں کو ایسا بھولا کہ بیوی کو نوالے کھلاتے ہوئے بھی ماں کی یاد نہ آئی کہ وہ بھی کہیں بھوکی پڑی ہوئی ہوگی۔‘‘
’’سوری ممی… لیکن اجیہ کی وجہ سے مجھے کھانا پڑا تاکہ یہ بھوکی نہ رہے۔‘‘ وہ شرمندہ ہوا۔
’’ہاں ماں بھوکی مرتی ہے تو مر جائے لیکن بیوی بھوکی نہیں رہنی چاہیے ہاں بھئی آخر کو تو بیوی کا ہی درجہ ماں سے زیادہ ہوتا ہے ناں۔‘‘ انہوں نے گہرا طنز کیا۔
’’آئی ایم سوری ممی میری وجہ سے آپ دونوں میں…‘‘ اجیہ کو اپنا آپ برا لگ رہا تھا کہ اس کی وجہ سے گھر میں اتنی بدمزگی ہورہی تھی۔
’’بکواس بند کرو غلیظ لڑکی اور اپنی گندی زبان سے اب دوبارہ مجھے ممی کہا تو میں تمہاری زبان کھینچ لوں گی۔‘‘
’’ممی… آپ زیادتی کررہی ہیں اجیہ کے ساتھ۔‘‘ اربش کو بیچ میں بولنا ہی پڑا۔
’’کیونکہ وہ خود اس گھر میں یا ہماری زندگی میں زبردستی داخل نہیں ہوئی بلکہ میں خود اسے اپنی مرضی، پسند اور محبت سے باقاعدہ نکاح کرکے اس گھر میں لایا ہوں۔‘‘
’’سب جانتی ہوں اور مجھے اس کی ایک ایک رگ کے بارے میں اتنا پتا چل چکا ہے کہ اگر میں تمہیں بتائوں تو تم اس کے منہ پر تھوکنے لگو لیکن تم بھولے ہو جس طرح کا صاف دل تمہارا اپنا ہے تو سب کو ویسا ہی سمجھتے ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے میری جان… اس لڑکی نے تمہیں استعمال کیا ہے‘ تمہارے ساتھ بہت بڑی گیم کھیلی ہے اس نے‘ جو تم عشق میں اندھے ہوکر سمجھ ہی نہیں پا رہے ہو۔‘‘
’’پہلیاں نہ بجھوائیں ممی کیا بات کہنا چاہ رہی ہیں آپ پلیز مکمل تفصیل سے بتائیں۔‘‘ وہ ممی کی باتوں سے الجھ گیا تھا ایک نظر اجیہ کے چہرے پر پھیلی سوگواریت دیکھی تو دوسری طرف ممی کے چہرے پر فاتحانہ چمک، لیکن اس کے پیچھے کے محرکات ہی جاننے کے لیے تو وہ بے چین تھا لہٰذا ممی سے کہا کہ تفصیل سے اپنی بات کریں۔
ء…/…ء
غزنیٰ حنین اور اجیہ کے مشترکہ کمرے تک پہنچا جہاں ہر چیز بکھری ہوئی تھی اسے ایسا محسوس ہوا جیسے ابھی کہیں سے اجیہ اس پر غصے کی نظر ڈالتی کمرے میں داخل ہوگی۔ اس گھر کی فضائوں میں یہاں کے ماحول میں اسے اجیہ کی خوشبو محسوس ہوتی تھی بے شک وہ اسے ناپسند کرتی تھی اس نے غزنیٰ پر کسی اور کو ترجیح دی تھی اور غزنیٰ کو دنیا والوں کے سامنے موضوع گفتگو بنا گئی تھی لیکن پھر بھی اس سب کے باوجود اس کا دل اجیہ کے لیے ہی دھڑکتا تھا۔ ابھی اس کا کمرہ اس کی چیزیں دیکھ کر غزنیٰ کے دل کی حالت ایسی ہو رہی تھی جیسی کہ مرنے والے کی ہوتی ہے کہ اسے اپنے سامنے دنیا کی رنگینیاں نظر تو آتی ہیں لیکن وہ محض افسوس سے ہاتھ ملتا ہی رہ جاتا ہے کہ وہ دنیا میں موجود ان تمام رنگینیوں کو اب کسی طور اس لیے حاصل نہیں کرسکتا کہ اس کا وقت اب پورا ہوچکا تھا اور وہ اپنی قسمت کا لکھا حاصل کرچکا تھا اور وہ کچھ بھی کرلیتا اب اسے یہ سب کچھ دوبارہ نہ مل پاتا یعنی کہ دنیا اس کے سامنے ہے مگر اب اس کی نہیں اور اس کے لیے نہیں۔
یہی حال غزنیٰ کا بھی تھا کہ اس کے سامنے اجیہ کی تمام استعمال کی چیزیں موجود تھیں لیکن اس کے لیے نہیں تھیں اور ان سب چیزوں کو وہ صرف اور صرف دیکھ ہی سکتا تھا اس کی کتابیں، پرفیوم، انگلیوں میں پہنی جانے والی چند انگوٹھیاں وہیں موجود تھیں اس نے کسی میکانکی انداز میں ہر چیز کو چھوکر دیکھا پھر الماری کھولی اور اس میں ہینگر میں موجود کپڑے دیکھ کر دل پر بوجھ بڑھ گیا وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اجیہ نے اسے کیوں ریجیکٹ کیا تھا آخری کمی کیا تھی اس میں؟ الماری کا دروازہ بند کرکے اس نے بے دھیان میں اجیہ کا عام استعمال میں پہنے جانے والا گولڈ کا لاکٹ اٹھا کر غور سے دیکھا۔ یہ وہ لاکٹ تھا جو اجیہ کی پیدائش پر اس کے نانا ابو نے امی کو تحفے میں دیا تھا اور جیسے یہی اجیہ کچھ بڑی ہوئی امی نے اپنی چین میں یہ لاکٹ ڈال کر اجیہ کو پہنا دیا تھا تب سے لے کر اب تک یہ لاکٹ ہمیشہ اجیہ کے گلے میں ہی رہتا تھا اور آج پہلا موقع تھا کہ غزنیٰ نے یہ لاکٹ یوں ہی رکھے دیکھا اجیہ نے کیوں اتارا ہوگا یہ تو وہ نہیں جانتا تھا لیکن ہاں اجیہ کی ایک نشانی کے طور پر اس نے خاموشی سے وہ لاکٹ اور چین اپنی جیب سے والٹ نکال کر اس میں رکھ لیا تھا اس کی نیت چوری کی نہیں تھی اس لیے اس کا ارادہ تھا کہ اس کی مالیت لگوا کر کسی بہانے اتنی ہی رقم اجیہ کی کسی کتاب میں یا کہیں اور رکھ جائے گا اور چونکہ اب تو حنین اور امی اسپتال میں ہیں اس لیے یہ سب اتنا مشکل نہ ہوتا ویسے بھی حنین کی موجودگی میں بھی وہ آزادانہ ہر چیز کو استعمال کرتا ہی رہتا تھا۔
اجیہ کے معاملے میں وہ عجیب سے دھوپ چھائوں والے مزاج میں تھا اسے اجیہ سے محبت بھی تھی اور وہ اس سے انتقام بھی لینا چاہتا تھا۔ اجیہ کے زیر استعمال رہنے والی چین اور لاکٹ کو وہ بطور اس کی نشانی اپنے پاس رکھنا ہی چاہتا تھا اور اسے نشان عبرت بھی بنا دینا چاہتا تھا کہ اس نے کیوں غزنیٰ کو ٹھکرایا اور اس پر کسی اور کو فوقیت دی۔ یہی سب کچھ سوچتے اس نے ٹائم دیکھا وہ بہت دیر سے یہاں موجود تھا لہٰذا حنین کی بتائی ہوئی الماری کے دراز سے رپورٹس نکالیں اور رپورٹس کے عین نیچے ایک انتہائی خوب صورت نظر آنے والی ڈائری پر جیسے اس کی نظر جم کر رہ گی اسے لگا کہ یہ بھی اجیہ ہی کی ہوگی لمحہ بھر کی بھی تاخیر کیے بغیر اس نے جھٹ سے ڈائری کھول تو لی لیکن ڈائری میں درج تحریریں پڑھ کر جیسے وہ اپنی جگہ پر ساکت ہی تو رہ گیا تھا وہ ایک ایک کرکے صفحات الٹتا جاتا پڑھتا اور اس کی حیرت میں مزید اضافہ ہونے لگتا اس وقت اس نے جو صفحہ کھول رکھا تھا اس پر رنگ برنگے مارکرز کے ساتھ انتہائی خوب صورتی سے حنین اور غزنیٰ کے نام لکھے گئے تھے ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا۔
ڈیئر غزنیٰ!
اداس موسم کے رت جگوں میں
ہر ایک لمحہ بکھر گیا ہے
ہر ایک رستہ بدل گیا ہے
پھر ایسے موسم میں کون آئے
کوئی تو جائے
ترے نگر کی مسافتوں کو سمیٹ لائے
تری گلی میں ہماری سوچیں بکھیر لائے
تجھے بتائے کہ کون کیسے
اچھالتا ہے وفا کے موتی
تمہاری جانب
کوئی تو جائے
مری زباں میں تجھے بلائے
تجھے منائے
ہماری حالت تجھے بتائے
تجھے رلائے
تو اپنے دل کو بھی چین آئے
تمہیں کیا معلوم غزنی کہ جنہیں آدھی رات کی دعائوں میں مانگا جائے اور وہ نہ ملیں تو اس دل کی کیا حالت ہوتی ہے اور تم یہ سب جان بھی کیسے سکتے ہو کیونکہ تم نے تو اجیہ کو چاہا اور آج اسے اپنے نام کی انگوٹھی بھی پہنا گئے‘ تم تو خوش ہوگئے ناں بہت خوش جسے بندہ چاہے اور اس کا ساتھ زندگی بھر کے لیے مل جائے تو اس سے بڑھ کر کوئی کیا مانگ سکتا ہے البتہ جو میری حالت ہے وہ تم کبھی بھی سمجھ نہیں پائو گے کہ میں نے تمہیں پانے کے لیے کتنی دعائیں مانگی تھیں‘ کون سی منت نہیں مانی تھی باوجود اس کے کہ مجھے لگتا تھا تم میرے جذبوں کی سچائی سے واقف ہو۔ لیکن شاید یہ سب میری بھول تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اگر تم دیوانہ وار ہمارے گھر کے چکر لگاتے ہو تو صرف اس لیے کہ یہاں میں رہتی ہوں لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہاں میرے علاوہ اجیہ بھی رہتی ہے جس سے تم محبت کرتے ہو اور جس کی ایک جھلک دیکھنے کی خاطر تم ساری ساری رات ہمارے کمرے میں چٹائی پر بیٹھے میرے ساتھ لڈو کھیلتے رہتے تھے۔ مجھے افسوس ہے کہ میری محبت ادھوری رہی لیکن اس کے باوجود کہ اب تم اور اجیہ جلد نئے رشتے میں بندھنے والے ہو تو میری کوشش ہوگی کہ اپنا ذہن بدل سکوں یہ سب کچھ میرے لیے مشکل تو ہوگا لیکن اب اس کے سوا کوئی بھی چارہ بھی تو نہیں ہے ناں اجیہ تمہیں مل گئی اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ میں نے جس قدر تمہیں اللہ سے اپنے لیے مانگا تھا‘ تم نے اس سے کہیں زیادہ اجیہ کو اپنے لیے مانگا۔ شاید تمہارے جذبوں میں زیادہ سچائی تھی اسی لیے تمہاری محبت کامیاب رہی اللہ کسی کو ادھوری محبت کا دکھ نہ دے۔‘‘
اس کے بعد ڈائری پر ہرے نیلے پیلے سرخ اور پتا نہیں کون کون سے رنگوں سے حنین اور غزنی کے ناموں کے ساتھ ساتھ آئی لو یو غزنیٰ لکھا ہوا تھا۔ غزنیٰ نے ایک بار پھر ڈائری پر لکھے الفاظ دیکھے اور پھر جیب میں رکھی اجیہ کی چین اور لاکٹ کے خیال سے ذہن میں اترتے سکون کو محسوس کیا۔ یہ لا ابالی سی حنین اس سے اتنی شدید محبت کرتی ہے یہ تو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
ء…/…ء
’’یہ سب آپ کو پتا بھی ہے کہ آپ کہہ کیا رہی ہیں؟‘‘ ممی کی باتوں سے اربش کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا اتنا شور سن کر بوا بھی کمرے میں آگئی تھیں۔
’’جانتی ہوں کہ میں کیا کہہ رہی ہوں اور کس سے کہہ رہی ہوں، کوئی بچی نہیں ہوں میں کہ اتنی بڑی بات خوامخواہ منہ سے نکال دوں۔‘‘
’’ممی جو کچھ بھی ہے لیکن مجھے آپ سے اس رویے کی امید ہرگز نہیں تھی۔‘‘
’’اس وقت تمہارے سر پر شادی کا بھوت چڑھا ہوا ہے نئی نویلی سجی سنوری بیوی پہلو میں بیٹھی ہے تو تمہیں میری باتیں بری ہی تو لگیں گی ناں مگر یہ سو فیصد سچ ہے کہ یہ اور غزنیٰ کئی سالوں سے ایک دوسرے سے عشق کرتے ہیں ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں اور اب جب گڑبڑ ہوگئی اور بغیر شادی کے دنیا والوں کی تھو تھو کا ڈر ہوا تو ایک دن ارے بلکہ ایک دن بھی کیا چند گھنٹوں کے نوٹس پر شادی کرنے لگے اور ماں باپ بھی تو ظاہر ہے اپنی اولاد کے کارناموں سے واقف تھے ناں بغیر کسی چوں چراں کے فوراً شادی رکھ لی بلکہ شکر ادا کیا کہ یہ دونوں شادی پر تو مانے۔‘‘
’’ممی فار گاڈ سیک یہ بہت بڑا الزام ہے۔‘‘ اربش کا لہجہ دھیما پڑتا خود اجیہ نے بھی محسوس کیا تھا اور اس کے لہجے کی بدلتی اسی ٹون نے اسے چونک کر اربش کی طرف گردن موڑ کر دیکھنے پر مجبور کیا تھا۔
’’اور پھر جانے انہوں نے کیا پروگرام بنایا کہ دولت، ہتھیانے کے لیے اس نے تم سے نکاح کرلیا میں قسم کھا کر کہتی ہوں اربش یہ صرف تمہاری دولت کے لیے تمہارے ساتھ ہے جیسے ہی یہ تمہاری دولت سنبھال لے گی پھر سے غزنیٰ کی ہوجائے گی اور یہ جو اس نے ڈرامہ کیا ہے ناں سب زبردستی شادی کرانے کا اور سب کچھ تو صرف اس لیے کہ تم بھی اس پر رحم کھائو اور اس کی زندگی بچانے کے لیے فوراً اس سے نکاح کرلو ورنہ تو تم مجھے ان کے گھر لے کر جاتے اور میں ساری چالاکی بھانپ لیتی بس یہی تو یہ چاہتی ہی نہیں تھی کہ ایسا ہو اور تم اس کے ہاتھ سے نکل جائو۔‘‘ اربش ممی کی باتوں پر سر جھکا کر بیٹھ گیا تھا لہٰذا وہ بولتی ہی چلی جارہی تھیں۔
’’اس کی محبت کے جال میں تم پھنسے تھے میں نہیں اور نہ ہی میں اس کی طرح کی لالچی اور دو نمبر لڑکیوں کو اس گھر میں ایک رات بھی گزارنے دوں گی میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اسے ابھی اور اسی وقت باہر سڑک پر چھڑ کر آئو۔‘‘ انہوں نے تحکمانہ انداز میں فیصلہ سنایا۔
بوا امی کی تمام باتوں پر اب دم بخود تھیں اجیہ پہلے بھی سکندر صاحب کی طرف سے بہت کچھ سنتی آئی تھی اس لیے کچھ بھی کہے بغیر فی الحال ضبط کیے خاموش ہوکر اپنی قسمت کا فیصلہ سننے کی منتظر تھی۔ وہ کوئی صفائی بھی نہیں دینا چاہتی تھی اور اس نے سوچ لیا تھا کہ اگر اربش ممی کی بات مان کر اسے ابھی گھر سے نکال بھی دے گا تو وہ ایک لفظ بھی کہے بغیر یہاں سے نکل جائے گی کوئی صفائی دیے بغیر کوئی درخواست کیے بنا۔
’’اور اگر تم یہ اس کی سب اصلیت جاننے کے باوجود بھی یہ مکھی نگلنے کو تیار ہو تو پھر میرا ہاتھ پکڑو اور مجھے اس گھر سے نکال دو سڑک پر چھوڑ آئو کیونکہ میں اسے برداشت نہیں کرسکتی کسی صورت نہیں اور کبھی بھی نہیں۔‘‘
اربش اب تک سر جھکا کر بیٹھا تھا۔ بوا، ممی اور اجیہ سمیت سبھی اس کے فیصلے کے منتظر تھے کہ وہ ماں پر اجیہ کو ترجیح دے گا یا اجیہ پر ماں کو۔ یہ فیصلہ اس کی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ تو تھا لیکن جلد یا بدیر اسے فیصلہ تو کرنا ہی تھا لہٰذا جب اس نے سر اٹھایا تو اجیہ سے نظریں ملانے پر کترا رہا تھا۔

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close