Aanchal Aug-18

جنون سے عشق تک

سمیرا اشریف طور

گزشتہ قسط کا خلاصہ
فائفہ کا ماضی ان کی ساری خوشیاں نگل گیا تھا اور یہ بات اب افگن بھی جان گیا ہوتا ہے کہ شہرینہ فائقہ کی بیٹی نہیں۔ فائقہ اور فائزہ دو بہنیں ہوتی ہیں جب کہ ماں باپ کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا ہوتا ہے۔ اماں بی وسیع جائیداد کی مالک ان دونوں کی صرف خالہ ہی نہیں رشتے میں تائی بھی لگتی ہیں۔ اس لیے دونوں کی پرورش کی ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھاتی آرہی ہوتی ہیں۔ فائزہ نے ابھی گریجویشن ہی کیا تھا کہ اماں بی نے ان کی شادی اپنے بڑے بیٹے سے کروادی تھی، جب کہ فائقہ کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ آنے نہیں دی تھی۔ فائقہ لاہور میں تعلیم حاصل کرنا نہیں چاہتی تھی، اس لیے اس کی خواہش کے مطابق اسلام آباد داخلہ کروانے کے ساتھ ہاسٹل کا انتظام کردیا تھا۔ ان دنوں عثمان بھی اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں ملک سے باہر تھا۔ اماں بی نے واضح الفاظ میں سارے خاندان میں کہہ دیا تھا کہ عثمان کی شادی صرف اور صرف فائقہ سے کریں گی۔ ماہ آراء ہاسٹل میں فائقہ کی روم میٹ ہوتی ہے۔ وہ اپنے حوالے سے بہت کم بات کرتی ہے۔ فائقہ کی کوشش سے وہ کچھ عرصے میں اس سے گھل مل جاتی ہے۔ لیکن اپنے حوالے سے زیادہ بات نہیں کرتی ہے ہاسٹل میں ایگزیمز کے بعد تمام لڑکیاں ہی اپنے اپنے گھر جا رہی ہوتی ہیں۔ لیکن ماہ آراء کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہوتا ہے جس پر فائقہ اسے اپنے ساتھ چلنے کی آفر کرتی ہے۔ ماہ آرا شش و پنج میں مبتلا ہوکر پہلے اپنی ماں سے فائقہ کے گھر جانے کی اجازت طلب کرتی ہے جس پر ماہ آرا کی ماں اسے اپنی طبیعت خراب ہونے کی بابت بتانے کے ساتھ حسن آراء کی طرف سے بھی خبردار کرتی ہے۔ ماہ آراء فائقہ کے ساتھ اس کی بہن فائزہ کے گھر آجاتی ہے۔ فائزہ فائقہ سے ماہ آرا کے حوالے سے بات کرتی ہے۔ فائزہ ماہ آراء کے خاندان کے حوالے سے جاننا چاہتی ہے جس پر فائقہ لا علمی کا اظہار کرتی ہے۔ فائزہ اسے محتاط رہنے کا کہتی ہے۔ فائقہ کچھ دن بہن کے پاس رہنے کے بعد ماہ آراء کے ساتھ گائوں آجاتی ہے۔ اماں بی بھی ماہ آرا کے حوالے سے فائقہ سے بات کرتی ہیں۔ جس پر وہ کچھ جھوٹ اور سچ کا سہارا لے کر انہیں مطمئن کردیتی ہے۔ اماں بی فائقہ کو عثمان کی آمد کابھی بتاتی ہیں جس پر وہ خوش ہوجاتی ہے۔ ماہ آرا اسے خوش دیکھ کر عثمان کے حوالے سے بات کرتی ہے۔ فائقہ اس کے سامنے عثمان سے محبت کر اعتراف کرلیتی ہے۔ بابا صاحب اور اماں بی عثمان کے وطن واپس آجانے پر بے حد خوش ہوتے ہیں۔ عثمان اپنی تعلیم مکمل کرکے وطن واپس لوٹ آتا ہے۔ دوسری طرف ماہ آرا عثمان کو دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے۔ ماہ آرا عثمان سے براہ راست ملاقات نہیں کرسکی تھی۔ دوسرے دن ماہ آرا نیند سے جلدی بیدار ہوجاتی ہے۔ جب کہ فائقہ ابھی سو رہی ہوتی ہے تب ماہ آرا لان میں آجاتی ہے اور وہاں اس کی ملاقات عثمان فاروق سے ہوجاتی ہے۔ عثمان فاروق اس کے حسن سے مرعوب ہوکر اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔
اب آگے پڑھیے
خ…ز…/
باجوہ صاحب نے کال کرکے شہرینہ کو داراطفال بلوایا تھا۔ ماہ آرأ کی طبیعت بہتر نہ تھی۔ اسے سخت بخار نے آلیا تھا۔ شہرینہ ماں کو دارالاطفال میں چھوڑنے کے بعد دوبارہ ماں سے ملنے نہیں آئی تھی۔ عثمان صاحب نے اسے فی الحال کچھ دن گھر سے نکلنے سے منع کر رکھا تھا۔ حسن آرأ مسلسل پولیس کی تحویل میں تھی۔ فائقہ بھی چند دن سے مسلسل گھر پر ہی تھیں‘ ان کی تمام تر سوشل سرگرمیاں بھی بند تھیں۔
شہرینہ نے ماہ آرأ کو دیکھا تو پریشان ہوئی۔ ماہ آرأ نے اس سارے حادثے کا کافی اثر لیا تھا۔ اس نے باجوہ صاحب کو ماہ آرأ کو ہاسپٹل شفٹ کرنے کا کہا تو انہوں نے فوراً ایمبولینس کو کال کی۔
وہ ماں کے ساتھ ہی ہاسپٹل آئی۔ ساری ذمہ داریاں وہ خود ہی دیکھتی رہی تھی۔ جس وقت باجوہ صاحب کی کال آئی تھی صبح کا وقت تھا۔ فائقہ اپنے کمرے میں سو رہی تھی وہ کال سنتے ہی نکل آئی تھی۔
اس نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں جارہی ہے۔ کچھ دیر مزید گزری تو فائقہ کی کال آگئی۔
’’شہری بیٹا کہاں ہو آپ؟‘‘ وہ ماہ آرأ کے سرہانے بیٹھی ہوئی تھی‘ ایک نظر ماہ آرأ کو دیکھ کر ایک گہرا سانس لیا۔
’’میں درالااطفال آئی ہوئی تھی۔‘‘
’’خیریت تھی ناں؟‘‘
’’جی…‘‘
’’ماہ آرأ ٹھیک ہے؟‘‘
’’جی ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی‘ انہیں لے کر ہاسپٹل آئی ہوں۔‘‘
’’اوہ… کیا ہوا؟‘‘ دوسری طرف فائقہ پریشان ہوئیں۔
’’کافی شدید بخار ہے۔‘‘
’’اپنا دھیان رکھنا اور ساتھ کون ہے؟‘‘
’’دارالاطفال کے ہی دو تین لوگ ہیں۔‘‘
’’بی کیئر فل اور کس ہاپسٹل میں ہو؟‘‘ اس نے ہاسپٹل کا نام بتادیا۔
’’اوکے اپنا خیال رکھنا میں لیٹ اٹھی تھی تمہیں گھر میں نہ دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی۔ بس اس حادثے نے ڈرا کر رکھ دیا ہے۔ دھڑکا سا ہی لگا رہتا ہے۔‘‘ فائقہ کی آواز میں واقعی فکرمندی تھی۔
’’تھینک یو… آپ پریشان نہ ہوں‘ میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں۔‘‘ اس نے تسلی دی۔
ایک دو اور باتیں ہوئیں اور پھر اس کے بعد ان کی کال بند ہوگئی۔ ماہ آرأ کو ڈرپ لگی ہوئی تھی وہ گہری نیند میں تھیں۔ وہ ماں کے سرہانے بیٹھ کر انہیں دیکھتی رہی تھی۔
خ…ز…/
ابھی ماہ رخ چند ماہ کی ننھی سی بچی تھی جب ایک دن باہر شاپنگ پر نکلی ماہ آرأ کو ’’احسان ڈار‘‘ ملا تھا‘ احسان ڈار حسن آرأ کا خالہ زاد تھا۔ حسن آرأ کی ہی طرح کا بیوپاری اور اس کا سب سے بڑا تعارف یہ تھا کہ وہ ماہ آرأ کے حسن سے گھائل ہوجانے والوں کی لسٹ میں شامل تھا۔ وہ ماہ آرأ کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا تھا۔
’’ماہ آرأ تم‘ یہاں؟‘‘ وہ اکیلی شاپنگ پر نکلی تھی‘ احسان ڈار کو دیکھ کر فوراً بھاگنے لگی تھی۔
’’ارے بھاگ کہاں رہی ہو‘ رکو تو سہی…‘‘ وہ فوراً اس کی راہ میں آیا تھا۔
’’حسن آرأ سے پتا چلا تھا کہ تم نے کوئی بہت بڑی آسامی پھنسا کر شادی رچالی ہے۔‘‘ وہ مزید کہہ رہا تھا۔
’’بکومت… میرا راستہ چھوڑو…‘‘ وہ غصے سے پھنکاری تو وہ ہنس دیا۔
’’بڑا ڈھونڈا ہے تجھے حسن آرأ نے بھی اور میں نے بھی… مزے کی بات بتائوں جس موٹے سیٹھ سے اس نے تیرا سودا کیا ہوا تھا اس نے حسن آرأ کا برا حال کردیا تھا‘ پور ایک ہفتہ وہ تھانے کی ہوا کھا کر آئی تھی اور پھر حسن آرأ کے کسی مہربان نے اسے وہاں سے نکلوایا تھا۔ وہ زخمی شیرنی کی طرح بلبلائی تھی۔ وہ تو تجھے اب بھی ڈھونڈ رہی ہے لیکن تو امریکہ میں چھپی ہوئی ہے… لگتا ہے بڑا اونچا ہاتھ مارا ہے تو نے… بنتی تو بڑی شریف زادی تھی لیکن لچھن تو سارے ماں والے ہیں تجھ میں۔‘‘
’’بکواس بند کرو… میرا رستہ چھوڑو‘ ورنہ میں یہاں کی پولیس کو کال کردوں گی۔‘‘ وہ غصے سے بولی تو احسان کھل کر ہنسا تھا۔
’’شاوا بھئی… بڑا رعب دکھانے لگ گئی ہو۔‘‘ وہ غصے سے اسے دیکھتی رہی تھی۔
’’ویسے رہتی کہاں ہو؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا‘ ماہ آرأ خاموش رہی تھی۔
’’ویسے تجھے مجھ سے گھبرانے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘ میرا حسن آرأ سے ا ب کوئی تعلق نہیں… اس نے اپنا سارا کاروبار دھندا الگ کرلیا ہے اور آج کل کسی گمنام جگہ روپوش ہوچکی ہے۔ کوئی رابطہ ہی نہیں… میں نے ایک فلم میکنگ کمپنی جوائن کی ہے‘ ان کے ساتھ شوٹنگ کے لیے آیا ہوں۔‘‘ ماہ آرأ نے اسے بغور دیکھا۔
واقعی احسان ڈار کے رنگ ڈھنگ ہی بدلے ہوئے تھے۔ خوب صورت قدو قامت رکھنے کے باوجود ماہ آرأ کو اس سے ہمیشہ نفرت محسوس ہوئی تھی لیکن اب تو اس کی کایا ہی پلٹی ہوئی تھی وہ واقعی کوئی فلمی ہیرو لگ رہا تھا۔ بڑا اسٹائلش اور سجا سنورا سا۔
’’فلم میں ہیرو ہو؟‘‘ اس نے پوچھا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔
’’ارے نہیں… ابھی تو ڈائریکٹر ہوں… جتنا پیسہ کمایا تھا سب اس پر لگادیا‘ دیکھنا یہ فلم بڑا بزنس کرے گی۔‘‘ وہ بتا رہا تھا ماہ آرأ خاموشی سے سنتی رہی تھی۔
’’شادی کی تم نے یا ویسے ہی کسی کے ساتھ یہاں گھومنے پھرنے آئی ہو؟‘‘ وہ جتنا بھی اسٹائلش ہوجاتا لیکن اس کا لب ولہجہ وہی تھا‘ وہی آوارہ و بدتہذیب ماہ آرأ نے ناگواری سے اسے دیکھا تھا۔
’’میری ذات سے تجھے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
’’ہماری بلی ہمیں کو میائوں… بڑے نخرے ہیں بھئی۔‘‘
’’رنگ ڈھنگ سے تو لگتا ہے کافی موٹی آسامی ہے۔‘‘ احسان نے اسے سر سے پائوں تک بغور دیکھا تھا۔
اسٹائلش سے لباس میں وہ کافی نکھری نکھری سی لگ تھی بلکہ اب تو اس کا حسن دو چند ہوچکا تھا۔ انتہائی جاذب نظر اور دلکش۔ احسان ڈار کا دل مچلنے لگا تھا۔ اس لڑکی کا حصول ہمیشہ سے اس کی خواہش رہا تھا لیکن یہ لڑکی تھی کہ اس کے ہاتھ میں آہی نہیں رہی تھی۔ اب بھی احسان ڈار کی آنکھوں کی چمک بڑھنے لگی تھی۔
’’چلو جو ہوگیا سو ہوگیا… حسن آرأ جب سے تھانے کے چکروں میں الجھی ہے بالکل ہی ناکارہ ہوگئی ہے۔ سارا کام ٹھپ… اس کے ساتھ ساتھ ہم سب بھی خوار ہورہے تھے‘ ویسے بھی آئے دن پولیس تنگ کرنے لگی تھی۔ یہ فلم انڈسٹری بڑے سکون کی جگہ ہے۔ پرانے سب کام چھوڑ دیئے ہیں میں نے۔ بس اب اپنی ایک انڈسٹری بنانی ہے۔‘‘ وہ بتا رہا تھا اور ماہ آرأ ناگواری سے اسے سن رہی تھی۔
’’تم سے مل کر اچھا لگا‘ ملتی رہا کرو… غیر ملک میں اپنے پن کا احساس مل جانا اچھا لگتا ہے۔‘‘ اس نے کہا تھا۔
’’فی الحال تو تم میرا راستہ چھوڑو… مجھے جانے دو۔‘‘ وہ ہنس دیا اور اس کا رستہ چھوڑ دیا تھا۔
ماہ آرأ نے اتنی جلدی جان چھوٹ جانے پر تشکر کا سانس لیا اور فوراً جانے لگی تھی۔
’’سنو…‘‘ اس نے پیچھے سے پکارا تو وہ رکی۔
’’ابھی ایک ماہ تک میں یہیں ہوں یہ کارڈ رکھ لو اجنبی دیس میں کبھی میری ضرورت پڑے تو یاد کرلینا۔‘‘ ماہ آرأ نے ناگواری سے اسے دیکھا اور پھر جان چھڑانے کے لیے کارڈ پکڑ کر تیزی سے نکل گئی تھی۔ احسان ڈار نے مسکرا کر اسے جاتے دیکھا تھا اور تیزی سے اس کے پیچھے ہولیا تھا۔
خ…ز…/
رات تک ماہ آرأ کی طبیعت کافی بگڑ چکی تھی۔ اس نے کال کرکے فائقہ کو کہہ دیا تھا کہ وہ رات ماہ آرأ کے ساتھ ہاسپٹل میں گزارے گی۔ فائقہ فکرمند تھیں۔ عثمان نے رات بھی گھر نہیں آنا تھا۔ فائقہ نے کچھ سوچا اور پھر ملازم کو گاڑی نکالنے کو کہا۔ سیکیورٹی گارڈ آج کل ہر وقت ساتھ ہوتا تھا‘ وہ ہاسپٹل آگئیں۔ انہوں نے شہرینہ سے پہلے ہی کال پر ہاسپٹل اور کمرہ نمبر پوچھ رکھا تھا۔ گارڈ ساتھ تھا وہ سیدھی روم میں آگئیں۔
’’آپ…؟‘‘ شرینہ فائقہ کو دیکھ کر حیران ہوئی۔
’’کیسی ہو اور ماہ آرأ کیسی ہے؟‘‘ وہ سو رہی تھیں‘ چادر سر تک ماہ آرأ کو ڈھانپے ہوئے تھی۔
شہرینہ نے سر ہلا دیا تھا۔ فائقہ نے ماہ آرأ کی طرف دیکھا۔
’’بہتر ہیں لیکن بخار ابھی بھی ہے۔‘‘ فائقہ نے سر ہلایا۔ ایک عرصے بعد وہ ماہ آرأ کے سامنے تھیں۔ ان کے اندر عجیب سی کیفیت برپا تھی۔ نہ انتقام‘ نہ غصہ اور نہ ہی دکھ بس رحم تھا اور تکلیف۔
’’سو رہی ہیں کیا؟‘‘ فائقہ نے پوچھا۔
’’جی… میڈیسن کا اثر ہے۔‘‘
’’آپ بیٹھیں پلیز…‘‘ شہرینہ نے کرسی کی طرف اشارہ کیا تو وہ ایک طرف بیٹھ گئیں۔
’’تمہارے پاپا کی کال آئی تھی وہ تمہارا پوچھ رہے تھے۔‘‘ شہرینہ خاموش رہی۔ ’’وہ خفا ہورہے تھے کہ تمہیں اکیلے ہاسپٹل نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘
’’تو آپ کو بابا نے میرے پاس بھیجا ہے؟‘‘
’’نہیں… میں خود آئی ہوں۔‘‘ شہرینہ بستر کے ایک طرف بیٹھ گئی۔
’’ڈاکٹر کیا کہتے ہیں کب تک طبیعت بہتر ہوجائے گی؟‘‘ دونوں طرف کچھ دیر خاموشی حائل رہی تو فائقہ نے پوچھا۔
’’کہہ رہے تھے کل تک طبیعت کافی بہتر ہوجائے گی۔‘‘
’’تم ایسا کیوں نہیں کرتی ماہ آرأ کو اپنے گھر لے آئو… وہاں اس کی دیکھ بھال اچھے طریقے سے ہوگی تو جلدی ری کور کرے گی۔‘‘ فائقہ کی بات ہی ایسی تھی کہ شہرینہ نے حیران ہوکر دیکھا۔
’’اپنے گھر…!‘‘ فائقہ نے سر ہلایا۔
’’بھلا کس رشتے سے…‘‘ اس کا لہجہ ایک دم طنزیہ ہوا۔
’’تمہاری مدر کی حیثیت سے۔‘‘ شہرینہ نے لب بھینچ لیے کچھ دیر بعد اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’آپ بہت اچھی ہیں…‘‘ کافی دیر تک دونوں کے درمیان طویل خاموشی قائم رہی اور پھر شہرینہ نے ہی کہا۔
’’آپ نے میری حقیقی ماں سے بڑھ کر مجھے توجہ و پیار دیا ہے۔ میں سب کو جتنا بھی الزام دوں‘ برا بھلا کہہ لوں لیکن یہ سچ ہے آپ نے آفاق اور ٹیپو سے بڑھ کر مجھے چاہا ہے‘ بابا کی سرگرمیوں کی وجہ سے بے شک آپ مجھے فل ٹائم نہیں دے سکیں لیکن میں سچ کہوں تو آپ نے مجھے ہر ممکن توجہ و وقت دینے کی کوشش کی ہے۔‘‘ وہ بول رہی تھی اور فائقہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
وہ سمجھ رہی تھیں کہ شہرینہ کو ان سے لاکھ شکوے وشکایات ہوں گے‘ اب حقیقی ماں کی موجودگی میں وہ ان سے بدظن بھی ہوسکتی تھی لیکن شہرینہ نے ان کی توقع سے بالکل الٹ ثابت کیا تھا۔ ان کی آنکھوں میں ایک دم نمی سی آگئی تھی۔ وہ بے اختیار اٹھ کر شہرینہ کی طرف بڑھیں اور بے اختیار اسے اپنی بانہوں میں لے لیا تھا۔
’’لو یو سو مچ… تم مجھے اپنی حقیقی بیٹی سے بڑھ کر عزیز ہو… آئی سویئر میں نے تمہیں ہر احساس سے بالاتر ہوکر چاہا ہے۔‘‘ شہرینہ کی آنکھوں میں بھی پانی در آیا لیکن اس نے کمال ضبط سے خود کو سنبھال لیا تھا۔
’’میں کوئی کم فہم‘ بے حس وجود نہیں ہوں جو آپ کی محبت کا خالص پن سمجھ نہ پاتی‘ آپ میرے لیے ہمیشہ میری مام ہیں اور رہیں گی۔‘‘ اس نے فائقہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر دلاسا دیا تو فائقہ بے اختیار رو دیں‘ تب ہی ماہ آرأ کے وجود میں جنبش سی ہوئی۔ شہرینہ جو فائقہ کو چپ کروا رہی تھی وہ فوراً ماہ آرأ کی طرف بڑھی۔ ماہ آرأ بخار میں کراہ رہی تھی۔ آنکھیں اس کی بند تھیں اور چادر چہرے سے سرک گئی تھی۔ فائقہ ماہ آرأ کو دیکھ کر شدید سکتے میں تھی۔ اس نے اپنی چیخ روکنے کے لیے بے اختیار اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔
خ…ز…/
فائقہ اپنے انسٹی ٹیوٹ گئی ہوئی تھی‘ ماہ رخ سوئی ہوئی تھی‘ عثمان کسی کام سے باہر نکلے تھے‘ ماہ آرأ گھر پر اکیلی تھی جب اپارٹمنٹ کی بیل بجی تھی۔ ماہ آرأ نہا کر نکلی تھی۔ لمبے بال پشت پر تھے‘ خوب صورت لباس میں وہ بڑی نکھری نکھری نظر آرہی تھی۔ وہ ڈور تک آئی تھی۔ اس نے دروازہ کھولا لیکن اپنے سامنے موجود انسان کو دیکھ کر ششدر رہ گئی تھی۔
’’تم…؟‘‘
’’ہیلو…‘‘ وہ شخص مسکرا کر دروازہ میں آکھڑا ہوا تھا۔
’’کیوں آئے ہو تم یہاں؟‘‘
’’تم سے ملنے…‘‘
’’شٹ اپ… گیٹ لاسٹ۔‘‘ وہ فوراً دروازہ بند کرنے لگی تھی لیکن احسان ڈار نے دروازے پر ہاتھ رکھ کر اس کی کوشش ناکام بنادی تھی۔
’’اندر تو آنے دو…‘‘ وہ زبردستی گھر میں گھس آیا تھا۔ ماہ آرأ خوف زدہ سی پیچھے آئی تھی۔
’’پلیز تم یہاں سے چلے جائو… پلیز۔‘‘ وہ اس کے پاس آکر کہنے لگی تو اس نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا اور پھر گھر کو۔
’’گھر تو بڑا خوب صورت ہے۔‘‘ وہ توصیفی انداز میں وہیں ٹی وی لائونج میں ٹک گیا تھا۔
’’پلیز احسان تم یہاں سے چلے جائو۔‘‘
’’ایسے کیسے چلا جائوں؟ ایک عرصے بعد تو تمہارا پتا چلا ہے۔ رشتہ دار ہوں تمہارا‘ غیر ملک میں اپنوں کی خبر تو رکھنا پڑتی ہے ناں۔‘‘
’’بکواس بند کرو… میں اپنی شادی شدہ زندگی برباد نہیں کرنا چاہتی ورنہ تمہارے جیسے لوگوں کو سبق سکھانا میرے شوہر کے لیے قطعی مشکل نہیں ہے۔‘‘ اس کی بات پر وہ ہنس دیا تھا۔
’’چلو یہ تو پتا چلا کہ تم نے شادی کرلی ہے… ویسے وہ خوش قسمت ہے کون؟‘‘
’’جو بھی ہو تم سے مطلب…؟‘‘
’’ایسے مت کرو… یوں تیور دکھائو گی تو نقصان اٹھائو گی‘ تم جانتی ہو کہ میں اس طرح جان چھوڑنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘ وہ صوفے سے اٹھ کر اس کی طرف آیا تھا۔ ماہ آرأ خوف زدہ ہوچکی تھی۔
’’بہت حسین ہوچکی ہو۔‘‘ اس نے اسے بغور دیکھا تو ماہ آرأ کو اس کی نگاہیں بہت بری لگی تھیں۔
’’تو کیسے جان چھوڑو گے؟‘‘
’’اتنی جلدی تو نہیں بتائوں گا۔‘‘ وہ ہنس دیا۔ وہ اسے وہیں چھوڑ کر اندرونی کمرے کی طرف بڑھا تھا۔
’’اگر تم ابھی نہ نکلے تو میں پولیس کو کال کردوں گی۔‘‘ وہ پیچھے لپکی تھی وہ ہنس دیا۔
’’غلطی سے بھی ایسا مت کرنا ورنہ میں تمہارے شوہر کو کہہ دوں گا کہ تم نے خود بلوایا تھا۔‘‘
’’تم انتہائی گھٹیا انسان ہو۔‘‘ وہ غصے سے بولی۔
’’اس دن تمہارا پیچھا کیا تو تمہارے گھر کا پتہ چل گیا تھا۔ مجھے ساری معلومات ہیں کہ تمہارا شوہر کیا کرتا ہے‘ کب جاتا ہے کب آتا ہے‘ گھر میں کتنے افراد ہیں؟ اور بھی بہت کچھ… تمہارا شوہر کس کمپنی میں جاب کرتا ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔‘‘ ماہ آرأ کے چہرے کا رنگ زرد پڑنے لگا تھا۔
وہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف جارہا تھا‘ یہ فائقہ کا کمرہ تھا‘ ماہ رخ مکمل طور پر فائقہ کی ذمہ داری بن چکی تھی۔ وہ تمام وقت اسے دیکھتی تھی لیکن جب وہ انسٹی ٹیوٹ چلی جاتی تھی تو وہ چند گھنٹے ماہ رخ کو ماہ آرأ سنبھالتی تھی۔
ننھی بچی کاٹ میں سو رہی تھی۔ خوب صورت نرم وملائم روئی کے گالوں جیسی بچی… احسان ڈار اسے دیکھ کر چونکا تھا۔ اتنی خوب صورت بچی‘ یہ تو ماہ آرأ کا بچپن تھی۔
’’تمہاری بیٹی بھی ہے؟‘‘ وہ بچی کی طرف جھکا تھا ماہ آرأ نے چیل کی طرح اسے اٹھا لیا تھا۔
’’خبردار میری بچی کو ہاتھ بھی لگایا تو…‘‘ اس نے بچی کو سینے سے لگایا تو وہ ہنس دیا تھا۔
’’دفع ہوجائو یہاں سے… اب اگر تم مجھے دوبارہ نظر آئے تو میں یہاں کی پولیس کو انفارم کردوں گی۔‘‘ وہ مسکرا کر دیکھتا رہا تھا۔
’’پھر آئوں گا‘ اب چلتا ہوں‘ ویسے ایک بات بتاتا چلوں عثمان فاروق کی کمپنی میں میں کئی بار جاچکا ہوں اور عثمان فاروق سے مل بھی چکا ہوں۔ بس اسے یہ نہیں بتایا کہ میرا تم سے کیا رشتہ ہے؟‘‘ وہ کہہ رہا تھا اور ماہ آرأ کا رنگ زرد پڑنے لگا تھا۔
’’گھبرائو نہیں اگر تم تعاون کروگی تو میں اپنی زبان بند ہی رکھوں گا۔‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔ اس کے جاتے ہی ماہ آرأ نے تیزی سے دروازہ بند کرلیا تھا۔ وہ کافی حد تک خوف زدہ ہوچکی تھی۔ وہ گم صم سی بچی کو کاٹ میں لٹا کر بستر پر بیٹھ گئی تھی۔
اسے یاد آنے لگا تھا۔
اس کی ماں جب زمانے کی ٹھوکریں کھانے کے بعد حسن آرأ کی ماں کے پاس پہنچی تھی تو اس کی ماں نے کھلے دل سے اسے قبول کیا تھا اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس کی ماں کا نکاح پڑھوا دیا تھا۔ بظاہر اس کی ماں کا شوہر اور اس کا بیٹا ان دونوں ماں بیٹی کا آسرا بن چکے تھے لیکن بوٹیاں نوچنے والے لٹیرے تھے۔
اس کی ماں سائے کی طرح اپنی بیٹی کو اپنے شوہر اور اس کے بیٹے سے بچاتی پھرتی تھی اور شوہر کی مار کھا کر بھی اس بات پر متفق نہ ہوئی تھی‘ اس کی ماں نے ہمیشہ اسے ہاسٹل میں رکھا تھا اور چھٹیوں کے چند دن جو وہ گھر جاتی تھی ماہ آرأ کے لیے عذاب بن جاتے تھے۔
اس کی ماں کیسے کیسے ماہ آرأ کو وحشی شوہر اور پھر اس کے بدکردار بیٹے کا شکار ہونے سے بچاتی رہی تھی۔ جب تک فائقہ گھر نہیں آگئی تھی ماہ آرأ روتی رہی تھی۔ فائقہ گھر آئی تو ماہ آرأ کو دیکھ کر پریشان ہوگئی۔
’’کیا بات ہے روتی رہی ہو کیا؟‘‘ فائقہ نے پوچھا تھا۔
ماہ آرأ کے پھر آنسو بہہ نکلے تھے۔ اس نے آہستگی سے سب فائقہ کو بتادیا تھا۔ فائقہ سنجیدگی سے اسے دیکھتی رہی تھی۔
’’اب کیا چاہتی ہو تم؟‘‘
’’عثمان کو اس شخص کے بارے میں علم نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
’’احسان بہت برا انسان ہے ہماری سوچ سے بڑھ کر… وہ عثمان سے مل چکا ہے اور یقینا اس کے ارادے بہت خطرناک ہیں۔‘‘
’’تو تم عثمان کو سب کچھ بتادو… بتادو کہ وہ تمہیں بلیک میل کررہا ہے۔‘‘ ماہ آرأ نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
’’وہ شخص اگر یہاں تک آگیا ہے اور عثمان سے بھی مل چکا ہے تو سب کچھ سوچ سمجھ کر کررہا ہوگا… عثمان کو بتانا نقصان دہ ہے۔‘‘
’’میں سمجھتی ہوں کہ عثمان کو نہ بتانا زیادہ نقصان دہ ہے بہرحال میری یہی رائے ہے کہ عثمان سے کچھ بھی مت چھپائو… آگے تمہاری مرضی۔‘‘ وہ نیک نیتی سے اسے مشورہ دے کر بچی کی طرف متوجہ ہوگئی تھی اور ماہ آرأ سنجیدگی سے اسے کام کرتے دیکھ رہی تھی۔
خ…ز…/
ماہ آرأ کو وقتی طور پر ہوش آیا تھااور پھر وہ غنودگی میں چلی گئی تھی۔ اس نے فائقہ کو نہیں دیکھا تھا‘ فائقہ گم صم اور پریشان سی تھی۔ کہاں حسن وخوب صورتی کا شاہکار نہایت حسین وجمیل ماہ آرأ اور کہاں نہایت نحیف ونزار‘ بدصورت عورت… وہ بے یقین تھی۔
’’جب ان کی بابا سے ڈائیواس ہوئی تھی تو انہوں نے احسان ڈار سے شادی کرلی تھی اور احسان ڈار انہیں حسن آرأ کے پاس لے آیا تھا اور حسن آرأ کے پاس چھوڑ دیا تھا… حسن آرأ ان پر اپنے کام میں شامل ہونے پر زور دیتی تھی تب انہوں نے اپنے اوپر تیزاب گرالیا تھا۔‘‘
’’مائی گاڈ…‘‘ شہرینہ بتارہی تھی اور فائقہ نے از حد تکلیف سے ماہ آرأ کی طرف دیکھا جس کا چہرہ شہرینہ دوبارہ چادر سے ڈھانپ چکی تھی۔
’’یہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں… انہوں نے مجھے سب کچھ بتا دیا‘ اپنی تمام غلطیاں‘ اپنی تمام تر نادانیاں اور اپنے تمام گناہ۔‘‘ فائقہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ شہرینہ ان کے پاس آر کی تھی۔
’’آپ پلیز انہیں معاف کردیں۔‘‘ اس کے لہجے میں دکھ‘ تکلیف کیا کچھ نہ تھا۔ فائقہ نے محبت سے شہرینہ کا ہاتھ تھاما۔
’’ایسے مت کہو…‘‘
’’میں جانتی ہوں آپ کی زندگی کی بہت سی محرومیاں ان کی وجہ سے ہیں… پاپا کا بی ہیویئر‘ آپ سے ان کا سرد مزاج کوئی بھی چیز مجھ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔‘‘ فائقہ حیران ہوئیں۔ کس قدر باریک بینی سے وہ ان کا جائزہ لیا کرتی تھی۔
’’آپ کا صبر اور آپ کے خاموش آنسو انہیں اس مقام پر لائے ہیں… آپ انہیں پلیز معاف کردیں۔‘‘ اب کے شہرینہ کی آواز میں گہرے دکھ واذیت کی آمیزش تھی۔
’’میں نے کسی کو بددعا نہیں دی کبھی بھی۔‘‘
’’لیکن آپ کا صبر تو رنگ لایا ناں۔‘‘ میں پاپا سے اس معاملے میں سخت خفا ہوں… وہ مجبوراً ہی سہی آپ کو اپنے نکاح میں لائے تھے لیکن انہوں نے نہ کبھی آپ پر اعتماد کیا اور نہ ہی آپ سے انصاف… انہوں نے ہمیشہ آپ سے قربانیاں ہی مانگیں اور آپ نے ہمیشہ قربانیاں دیں۔‘‘ فائقہ نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’کیا کرتی پھر؟ اماں بی نے مجھے عثمان فاروق کے ساتھ رخصت کردیا تھا‘ فائزہ آپی اپنی زندگی میں مگن تھیں اور کوئی رشتہ تھا نہیں جس کے پاس عثمان فاروق کو چھوڑ کر چلی جاتی… میں کسی کو بھی اپنی ذات سے تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی‘ میں نے اپنے دل کو سمجھا لیا تھا کہ عثمان فاروق کی زندگی میں سب کچھ ماہ آرأ ہے اور میں محض ایک نام کا رشتہ ہوں اور بس…‘‘ شہرینہ نے بہت دکھ سے انہیں دیکھا۔
’’جو ہوا ایک وقت تھا جو گزر گیا۔‘‘
’’لیکن سب کی زندگی کو ڈسٹرب کر گیا۔‘‘ فائقہ ایک تلخ سی ہنسی ہنس دیں۔
’’جب عثمان فاروق کے دل میں ہی میرے لیے جگہ نہ تھی تو کوئی کیا کرلیتا… میرا سب سے زیادہ عثمان فاروق سے رشتہ تھا لیکن اس نے ہی قدر نہ کی تو کسی اور کو کیا کہوں…‘‘ شہرینہ نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’لیکن مجھے اب کسی سے کوئی شکوہ نہیں… میرے تین بچے ہیں‘ تم تینوں میری طاقت ہو… میں نے صرف اور صرف تمہاری محبت کے لیے عثمان کے سب رویوں کو برداشت کیا ہے کہ کبھی کہیں تمہیں کوئی بتا نہ دے کہ میں تمہاری حقیقی ماں نہیں ہوں لیکن جس طرح تم نے مجھے اہمیت دی ہے اس کے بعد میرے دل سے سب خوف مٹ گئے ہیں۔‘‘ وہ ابھی کہہ رہی تھی کہ فائقہ کے موبائل پر کال آئی۔ انہوں نے اسکرین دیکھی۔ شیرافگن تھا۔
’’ہیلو…‘‘
’’السلام علیکم! کہاں ہیں خالہ جان آپ؟‘‘ انہوں نے شہرینہ کو دیکھا۔
’’تم کہاں ہو؟‘‘
’’میں آپ کے گھر پر ہوں۔‘‘
’’ماہ آرأ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی شہرینہ کے ساتھ ہاسپٹل میں ہوں۔‘‘
’’اوہ… کیا ضرورت تھی آپ کو اس عورت کے لیے وہاں جانے کی؟‘‘ دوسری طرف شیرافگن نہایت ناگواری سے بولا۔
’’بعض کام کسی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ کسی کی محبت کے لیے کیے جاتے ہیں۔‘‘ ان کے لہجے میں زمانے بھر کی محبت تھی۔
’’چچا کے لیے کررہی ہیں؟‘‘ اس کا انداز طنزیہ ہوا۔
’’نہیں… اپنی بیٹی کی محبت میں۔‘‘ دوسری طرف وہ چند لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔
’’لیکن وہ بھی ایک ناقدری لڑکی ہے‘ آپ کی محبت کی اس کے سامنے کوئی ویلیو نہیں۔‘‘ انہوں نے شہرینہ کو دیکھا جو انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ مسکرادیں۔
’’میں شہرینہ کے پاس ہی رکوں گی‘ گارڈ کو میں ساتھ لے آئی ہوں‘ تم ملازمہ کو کہنا وہ کھانا گرم کردے گی تم کھانا کھا کر آرام کرنا۔‘‘
’’میں گائوں سے اماں بی اور بابا صاحب کو ساتھ لایا ہوں‘ وہ دونوں اس وقت میرے ساتھ آپ کے گھر میں ہیں لیکن یہاں آکر دیکھا تو کوئی بھی گھر میں نہ تھا۔‘‘
’’اوہ… کب آئے تم لوگ…‘‘ وہ فوراً متفکر ہوئیں۔
’’کچھ دیر پہلے ہی۔‘‘
’’اماں بی اور بابا صاحب ٹھیک ٹھاک ہیں ناں؟‘‘
’’جی الحمدللہ۔‘‘
’’اوکے میں کوشش کرتی ہوں آجائوں۔‘‘
’’ایک منٹ… شہرینہ کے پاس اور کون کون ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’صرف میں ہی ہوں۔‘‘
’’اوہ… یعنی جب آپ آجائیں گی تو وہ اکیلی ہی ہوگی… دماغ ٹھیک ہے ناں اس کا…؟‘‘ اس نے پوچھا تو فائقہ ایک دم ہنس دیں۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب وطلب کچھ نہیں… میں کچھ دیر میں پہنچ رہا ہوں‘ میں وہاں آتا ہوں تو پھر آپ واپس آجائیے گا… میں شہرینہ کے پاس رک جائوں گا۔‘‘ اس نے کہا تو فائقہ کو اس کا شہرینہ کا اس طرح خیال کرنا اچھا لگا۔
’’اوکے میں انتظار کرتی ہوں۔‘‘ افگن نے اللہ حافظ کہہ کر کال بند کردی۔ فائقہ نے شہرینہ کو دیکھا۔
’’کیا ہوا… کون تھا؟‘‘ دو دن سے افگن گائوں گیا ہوا تھا‘ لیکن اب افگن کا سن کر وہ پوچھ بیٹھی۔
’’افگن کی کال تھی… اماں بی اور بابا صاحب گائوں سے آئے ہوئے ہیں۔‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’خیریت سے آئے ہیں؟‘‘
’’کوئی کام ہوگا اب یہ تو ان سے مل کر ہی پتا چلے گا۔‘‘ شہرینہ نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’آپ گھر جارہی ہیں؟‘‘
’’ہاں افگن کچھ دیر میں پہنچ جائے گا تو چلی جائوں گی۔‘‘ شہرینہ کے دل میں عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔
یعنی ان کے چلے جانے کے بعد وہ پھر تنہا ہوگی۔ وہ گہرا سانس لیتی کمرے کی کھڑکی کی طرف بڑھ گئی۔
خ…ز…/
احسان ڈار اس دن کے بعد بھی کئی بار آیا تھا‘ عثمان فاروق اور فائقہ کی غیر موجودگی میں اور جب بھی آتا ماہ آرأ کے لیے ایک قیمتی تحفہ لے کر آتا تھا۔ ماہ آرأ جو اسے دیکھ کر پہلے پہل خوف زدہ ہوگئی تھی اور فائقہ سے سب کچھ کہہ بیٹھی تھی اس کے بعد محتاط ہوگئی تھی۔ وہ فائقہ سے کچھ نہیں کہتی تھی اب۔ احسان ڈار جب بھی آتا تھا اسے قائل کرنے کی کوشش کرتا کہ عثمان فاروق کو چھوڑ کر وہ اس کے ساتھ چلے لیکن ہر بار وہ اسے ٹال دیتی تھی۔
ایک دن وہ اپارٹمنٹ میں بالکل اکیلی تھی جب بیل بجی وہ ڈر گئی تھی اس کا خیال تھا کہ احسان ڈار ہوگا لیکن دروازہ کھولنے پر اس کے سامنے جو شخصیت کھڑی تھی اسے دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی ۔
’’حسن آرأ…‘‘ اس کا خون منجمد ہونے لگا تھا۔ حسن آرأ خود ہی اندر آگئی تھی۔
’’کیسی ہو؟‘‘
’’احسان نے بتایا کہ تم یہاں ہو تو رہا نہیں گیا پہلی فلائٹ سے چلی آئی۔‘‘ وہ حیرت زدہ ہوئی تھی۔
’’احسان بتا رہا تھا کہ بڑی پُرسکون اور خوشگوار زندگی گزار رہی ہو‘ سوچا خود چل کر دیکھ آئوں۔‘‘
’’کیوں آئی ہو تم یہاں…؟‘‘
’’تم تو یوں غائب ہوئی تھی گویا گدھے کے سر سے سینگ… تمہاری ماں ہمارے لقموں پر جیتی رہی ساری زندگی اور تم نیک پروین بننے چلی ہو… خیر جو ہوا سو ہوا لیکن میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی معاف نہیں کرتی۔‘‘ اسے دیکھ کر ماہ آرأ کا خون تو ویسے ہی خشک ہوچکا تھا لیکن نجانے وہ خود کو کیسے قابو میں رکھے ہوئے تھی۔ وہ خاموشی سے حسن آرأ کو دیکھ رہی تھی۔ حسن آرأ اس سے کافی باتیں کررہی تھیں وہ بس ہوں ہاں میں ہی جواب دے رہی تھی۔
حسن آرأ نے اسے بہت کچھ بتایا تھا جو اس کی وجہ سے اسے جھیلنا پڑا تھا اور جس کی وجہ سے وہ روپوش ہونے پر مجبور ہوئی تھی۔
احسان ڈار نے اس کی کچھ لڑکیوں کو شوبز انڈسٹری میں متعارف کروایا تھا‘ جس کی وجہ سے وہ ایک بار پھر منظر عام پر آنا شروع ہوچکی تھی۔ وہ کافی دیر تک اس کے پاس رہی تھی اور پھر دوبارہ آنے کا وعدہ کرکے چلی گئی تھی۔
ان دنوں ماہ آرأ بہت پریشان رہنے لگی تھی۔ عثمان فاروق پر اس کی توجہ بھی کم ہوگئی تھی‘ وہ عثمان فاروق سے کھنچی کھنچی اور الجھی الجھی سی رہنے لگی تھی۔ ایک طرف احسان ڈار اور حسن آرأ اور دوسری طرف عثمان فاروق اور فائقہ… انہی دنوں اچانک اشفاق فاروق چلے آئے تھے۔
وہ تو یہاں کی زندگی دیکھ کر ہی ششدر رہ گئے تھے۔ فائقہ کی اجاڑ اور خاموش زندگی اور دوسری طرف عثمان فاروق کی بے حسی… دونوں بھائیوں میں شدید لڑائی ہوئی تھی۔ اشفاق فائقہ پر بھی خوب برسے تھے جو خاموشی سے یہ سب برداشت کررہی تھی اور کسی سے ذکر تک نہ کیا تھا۔ انہوں نے پاکستان فون کرکے اماں بی اور بابا صاحب کو سب بتادیا تھا۔ اماں بی کا تومارے صدمے کے برا حال تھا اور بابا صاحب انہوں نے فائقہ سے بات کی تھی۔
’’ہم وہی فیصلہ کریں گے جس میں تمہاری رضا ہوگی… تم بتائو کیا چاہتی ہو؟‘‘
’’میں عثمان فاروق کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ لوگوں کا رشتہ خراب ہو۔‘‘ وہ ان چاہی زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھی‘ بابا صاحب نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔
’’عثمان اس عورت کو چھوڑ دے گا کیا…؟‘‘
’’عثمان اس عورت کے لیے مجھے چھوڑ دے گا بابا صاحب۔‘‘
’’ٹھیک ہے ہم جو کریں گے سب کی بہتری کے لیے کریں گے تم کوئی سوال نہیں اٹھائو گی بلکہ کچھ دنوں کے لیے تم اشفاق کے ساتھ واپس آجائو۔‘‘
’’لیکن میں ماہ رخ کے بغیر واپس نہیں آسکتی…‘‘
’’اس عورت کی اولاد سے ہمارا کوئی تعلق نہیں…‘‘ ان کے انداز میں قطعیت تھی۔
’’لیکن وہ عثمان فاروق کی اولاد بھی تو ہے‘ بابا صاحب آپ کا اپنا خون… خدانخواستہ وہ غلط ہاتھوں میں پہنچ گئی تو… میں برداشت نہیں کرسکتی‘ مجھے اس بچی سے بہت محبت ہے اور میں اس کی زندگی تباہ نہیں کرسکتی۔‘‘
’’ٹھیک ہے… میں اشفاق کو کہتا ہوں وہ جو بھی کرے گا تم ان دونوں بھائیوں کے درمیان نہیں آئوگی… عثمان فاروق کی اولاد ہماری نسل ہی سہی لیکن تمہاری وجہ سے ہم اسے قبول کرنے کو تیار ہیں۔‘‘
’’شکریہ بابا صاحب۔‘‘ انہوں نے اسے کچھ ہدایات دی تھیں۔
عثمان فاروق سے اشفاق کی بات ہوئی تھی اور پھر اشفاق فائقہ کو لے کر ایک علیحدہ فلیٹ میں شفٹ ہوگئے تھے۔ بابا صاحب نے عثمان فاروق کو کال کرکے صاف اور واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ اگر وہ اس عورت کو اپنی زندگی میں رکھنا چاہتا ہے تو پھر ان سے ہر طرح کا تعلق ختم کرنا ہوگا… وہ ان کی دولت‘ جائیداد ہر چیز سے عاق کردیا جائے گا۔ عثمان بہت غصے میں تھا۔ اس نے بھی کہہ دیا تھا کہ اسے ان کی دولت جائیداد سے کوئی سروکار نہیں۔
ماہ آرأ کے سامنے یہ ساری صورت حال تھی۔ وہ عثمان فاروق سے کئی بار بحث کرچکی تھی لیکن عثمان کی انا اور ضد آڑے آرہی تھی۔
اشفاق صاحب عثمان کی کمپنی میں بھی گئے تھے‘ کچھ دنوں بعد عثمان فاروق کو اس کی کمپنی سے چند ایشُوز کی بنا پر فارغ کردیا گیا تھا۔
پاکستان سے پیسوں کی آمد ورفت بالکل بند ہوچکی تھی۔ جاب سے فارغ ہونے اور پیسوں کی ترسیل بند ہونے کے بعد عثمان فاروق کو ایک دم شدید جھٹکا لگا تھا۔ بہترین ایریا میں ایک لگژری اپارٹمنٹ کے اخراجات افورڈ کرنا عثمان کے بس کی بات نہ تھی۔ وہ ماہ آرأ کو لے کر ایک عام سے فلیٹ میں شفٹ ہوگیا تھا۔
بچی کی تمام تر ذمہ داری ماہ آرأ پر تھی‘ ماہ آرأ کو پہلی بار احساس ہوا کہ فائقہ ان دونوں کے لیے کس قدر اہم تھی اس نے دونوں کے بہت سے کام ذمے لے رکھے تھے‘ سب سے اہم بچی کی ذمہ داری تھی۔
اشفاق فاروق یہاں بزنس کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے فائقہ روٹین کے مطابق اپنے انسٹی ٹیوٹ جارہی تھی۔ ماہ آرأ سے بچی کو سنبھالنا بہت مشکل ہوگیا تھا بچی ہر وقت روتی رہتی تھی اور چند دنوں میں ہی وہ بیمار ہوگئی تھی۔ عثمان فاروق اسے ہاسپٹل لے آیا تھا لیکن بچی کی حالت دن بدن بگڑتی جارہی تھی۔ عام سی جاب کے ساتھ سب اخراجات پورے کرنا عثمان فاروق پہلی بار زندگی کا یہ رخ دیکھ رہا تھا‘ اور ماہ آرأ وہ بھی بیزار رہنے لگی تھی ہاسپٹل‘ گھر اور عثمان فاروق کی ذمہ داریاں وہ پاگل ہونے لگی تھی۔ بچی کی حالت بہت بگڑ چکی تھی‘ ماہ آرأ نے بہت سوچا تھا اور پھر اس کے ذہن نے جو راہ دکھائی تھی اس نے اس پر عمل کیا تھا۔ وہ فائقہ کے انسٹی ٹیوٹ گئی اور فائقہ کو ماہ رخ کی بیماری کے بارے میں بتایا تو وہ بے چین ہوگئی تھی۔
وہ ماہ آرأ کے ساتھ ہاسپٹل آئی تھی‘ بچی بہت کمزور اور بیمار ہوچکی تھی۔ عثمان کو علم ہوا تو وہ ماہ آرأ پر خفا ہوا تھا لیکن ماہ آرأ خاموش تھی‘ فائقہ روزانہ ہاسپٹل آجاتی تھی اور کافی وقت بچی کے ساتھ گزارتی تھی بچی اب بہتر ہو رہی تھی۔ عثمان فاروق کے لیے بچی کی یہ اٹیچ منٹ بہت پریشان کن تھی لیکن وہ اپنی بچی کی وجہ سے خاموش تھا۔
انہی دنوں بچی گھر شفٹ ہوگئی تو ماہ آرأ نے فائقہ کو قائل کرلیا تھا کہ عثمان کی غیر موجودگی میں وہ بچی کو دیکھنے آجایا کرے گی۔ فائقہ پہلے دن اس فلیٹ میں گئی تو اسے فلیٹ کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا تھا‘ لیکن اشفاق صاحب اور بابا صاحب کے سامنے وہ کچھ بھی کہنے سے قاصر تھی۔
وہ چند دن سے انسٹی ٹیوٹ کے بعد ماہ آرأ کے ہاں چلی جایا کرتی تھی اس نے اشفاق صاحب سے اپنی اس روٹین کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اس دن بھی وہ بچی کے ساتھ مصروف تھی جب ماہ آرأ کے ساتھ کوئی شخص گھر میں داخل ہوا تھا۔
’’یہ فائقہ ہے۔‘‘ وہ نووارد کو بتارہی تھی فائقہ کے لیے یہ شخص قطعی اجنبی تھا۔
’’اور یہ احسان ڈار…‘‘ اس نے فائقہ سے کہا تھا اور فائقہ نے ناگواری سے اجنبی کو دیکھا تھا۔ اس انسان کے دیکھنے کا انداز بہت عجیب تھا۔
وہ اس کے بارے میں جانتی نہ ہوتی تو بھی سمجھ جاتی کہ اس طرح دیکھنے والا کوئی اچھی فطرت کا انسان نہ تھا۔ وہ تو حیران تھی ماہ آرأ کی احسان ڈار سے بے تکلفی پر۔ وہ تو اس شخص سے سخت نفرت کرتی تھی۔ وہ اس شخص کی شکل تک دیکھنے کی روادار نہ تھی لیکن اب تو ماہ آرأ کی کایا ہی پلٹی ہوئی تھی۔
’’یہ لڑکی بھی بڑی خوب صورت ہے۔‘‘ وہ فائقہ کو دیکھ کر ماہ آرأ سے بولا تھا۔
’’اکثر اسے تمہارے پرانے اپارٹمنٹ سے باہر جاتے دیکھتا تھا۔‘‘ ماہ آرأ کی آنکھوں کی چمک بڑھی تھی۔
’’تو پھر کیا خیال ہے؟‘‘ اس نے بس تیر پھینکا تھا۔
’’یہ ہے کون؟‘‘ احسان ڈار فوراً سنجیدہ ہوا تھا۔
’’یہ عثمان فاروق کی کزن ہے‘ پڑھنے کے لیے یہاں آئی ہے۔‘‘ وہ اسے بتا رہی تھی‘ بتاتے ہوئے دونوں باہر نکل گئے تھے۔ فائقہ کو یہ سب کچھ بڑا حیران کررہا تھا۔ ماہ آرأ مکمل طور پر بدلی ہوئی تھی۔ عثمان فاروق جاب پر نکلا ہوا تھا‘ وہ آج کل چھوٹی موٹی جابز کررہا تھا‘ جس سے ان کے اخراجات بمشکل پورے ہورہے تھے۔ اس کی غیر موجودگی میں احسان ڈار سے ماہ آرأ کی اس قدر بے تکلفی… ماہ آرأ اسے اپنے بیڈ روم میں لے گئی تھی‘ تھوڑی دیر بعد وہ فائقہ کے پاس آئی تھی۔
’’ذرا چائے تو پکا دو پلیز۔‘‘ فائقہ نے سنجیدگی سے اسے دیکھا تھا‘ بچی سوچکی تھی وہ اسے وہیں لٹا کر کچن میں آکر چائے پکانے لگی تھی۔
چائے بنا کر وہ ماہ آرأ کے بیڈ روم میں آئی تھی‘ احسان بڑے فرینک انداز میں بستر پر لیٹا ہوا تھا جبکہ ماہ آرأ موجود نہ تھی۔ وہ چائے رکھ کر اطراف میں دیکھنے لگی تھی۔
’’ماہ آرأ کہاں ہے؟‘‘
’’وہ کسی کام سے باہر گئی ہے تم بیٹھو۔‘‘ اس نے کہا اور فائقہ کو اس کی بے تکلفی اچھی نہ لگی تھی۔
’’نو تھینکس… ماہ آرأ آئے تو کہہ دیجیے گا میں جارہی ہوں۔‘‘ وہ کہہ کر پلٹی تھی۔
’’ارے… اتنی جلدی… رکو تو سہی۔‘‘ وہ فوراً اس کے سامنے آیا تھا۔
’’شٹ اپ… ہٹو رستے سے۔‘‘ وہ غصے سے بولی تھی۔
’’بڑے تیور ہیں بھئی۔‘‘ وہ ایک دم اپنے آوارا پن پر اتر آیا تو فائقہ پہلی بار خوف زدہ ہوئی تھی۔ اس شخص کی یہاں موجودگی اور ماہ آرأ کی غیر موجودگی۔
وہ سائیڈ سے ہوکر وہاں سے جانے لگی تھی‘ جب ایک دم اس شخص نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔
’’ارے ایسے کیسے جارہی ہو… ماہ آرأ سے پورا معاملہ طے ہوا ہے‘ بیٹھو ادھر…‘‘ فائقہ ساکت رہ گئی تھی۔
اس شخص کی اس قدر جرأت‘ وہ بے پناہ اذیت میں گھر گئی تھی۔ حیرانی سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی مزاحمت کرتے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’ماہ آرأ نے خود کال کرکے بلایا تھا۔ اس نے سارا معاملہ طے کیا تھا کہ تم شوبز میں آنا چاہتی ہو اور تم میرے کہنے پر کچھ بھی کرنے کو تیار ہو… اس نے آج اسی لیے تم سے ملنے کو بلوایا تھا۔‘‘
’’بکواس بند کرو… جھوٹ بولتی ہے وہ عورت‘ خبردار مجھے ہاتھ بھی لگایا تو…‘‘ ایک دم غصے میں آکر اس نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور باہر جانے لگی تھی لیکن اسی وقت دروازہ کھلا تھا۔
ماہ آرأ کے ساتھ ساتھ عثمان فاروق بھی کمرے میں داخل ہوا تھا۔
’’یہ دیکھیں یہ ہورہا تھا یہاں سب کچھ۔‘‘ ماہ آرأ فائقہ کی طرف اشارہ کرتے بول رہی تھی اور فائقہ کچھ سمجھ نہ پائی تھی۔ عثمان تو فائقہ کو یہاں دیکھ کر ہی حیران تھا۔
’’مجھے نہیں پتا یہ شخص کون ہے‘ فائقہ کے ساتھ اس کے انسٹی ٹیوٹ میں پڑھتا ہے۔ کئی بار دونوں اس طرح گھر میں ملتے رہے ہیں میں نے کئی بار بتانا چاہا لیکن فائقہ کی دھمکیوں کی وجہ سے چپ رہتی تھی کہتی تھی میں تمہیں طلاق دلوادوں گی۔ اب ہمارے اس فلیٹ میں بھی لے کر آگئی یہ تو…‘‘ ماہ آرأ کمال معصومیت کا مظاہرہ کررہی تھی اور فائقہ اس کا تو وہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
’’شٹ اپ… میں تو جانتی تک نہیں ہوں اس شخص کو تمہارا ہی کچھ لگتا ہے یہ‘ بہانے سے بلا کر اب مجھے پھنسا رہی ہو تم۔‘‘ چند سیکنڈ تک یہ سکتہ رہا تھا اور پھر وہ ایک دم پھٹی تھی۔
’’یہ دیکھیں اپنا الزام چھپانے کے لیے یہ اب مجھ پر الزام لگا رہی ہے۔‘‘
’’جھوٹ بولتی ہے یہ۔‘‘ وہ فوراً بولی تھی۔
’’بکواس بند کرو…‘‘ عثمان ایک دم غصے سے بولا تھا۔ اور پھر اس نے احسان ڈار کو دیکھا تھا۔
’’تمہیں تو میں اچھی طرح جانتا ہوں تم وہی انسان ہو نا جو میری پرانی کمپنی میں کئی بار مجھ سے مل چکے ہو۔‘‘ احسان ڈار مسکرایا تھا۔
’’ہاں میں کئی بار فائقہ کے کہنے پر تم سے بات کرنے گیا تھا‘ لیکن دل کی بات نہ کہہ سکا تو لوٹ آتا تھا۔‘‘ عثمان نے بہت سنجیدگی سے فائقہ کو دیکھا تھا۔
’’جھوٹ مت بولو… میں نے آج سے پہلے کبھی اس شخص کو دیکھا تک نہیں… یہ ماہ آرأ کا کچھ لگتا ہے بلکہ مجھے تو بہت اچھی طرح اب سمجھ آرہی ہے کہ یہ شخص اصل میں ماہ آرأ کا لگتا کیا ہے جو اس کے ساتھ مل کر یہ گیم کھیل رہا ہے۔‘‘ فائقہ نے کہا۔
’’شٹ اپ۔‘‘ عثمان نے مشتعل ہوکر فائقہ کے چہرے پر تھپڑ مارا تھا اور فائقہ وہ تو اذیت کی گہری بھٹی میں جاگری تھی۔
’’اور تم دفع ہوجائو… یہاں سے…‘‘ اس نے احسان ڈار کو وہاں سے نکالا اور پھر فائقہ کو دیکھا تھا۔
’’اشفاق بھائی کو کال کرتا ہوں اور تمہیں ابھی طلاق دیتا ہوں۔‘‘ عثمان نے کہا اور ماہ آرأ وہ مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔
’’اسے ابھی دھکے دے کر یہاں سے نکالو… یہ ایک سیکنڈ بھی یہاں رہی تو میں اسے شوٹ کردوں گا۔‘‘ عثمان نے کہا تھا۔ ماہ آرأ اسے پُرسکون ہونے اور غصہ نہ کرنے کی تلقین کررہی تھی۔
اس نے فائقہ کو وہاں سے چلے جانے کا اشارہ کیا۔ فائقہ وہاں سے آگئی تھی۔ وہ سیدھا فلیٹ پر آئی تھی‘ اتفاقاً اشفاق صاحب موجود تھے‘ اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے اور اس نے روتے ہوئے انہیں سب کچھ بتادیا تھا۔ ساری حقیقت سن کر وہ انتہائی غم زدہ ہوگئے تھے۔
’’اس عورت نے بڑی گھٹیا چال چلی ہے اور عثمان کس قدر کم ظرف نکلا۔ تم جیسی حیا دار‘ پاک صفت لڑکی کے شاید وہ قابل ہی نہیں ورنہ ہیرے اور پتھر کی پہچان تو کرسکتا تھا… میں ملتا ہوں اس سے۔‘‘ وہ عثمان کے پاس گئے تھے اور عثمان کا ایک ہی موقف تھا وہ فائقہ کو چھوڑنے پر بضد تھا۔
’’ٹھیک ہے ضرور دو لیکن فائقہ کا حق مہر بھی ادا کرنا ہوگا تمہیں‘ اس کے حق مہر میں کروڑوں کی مالیت کی زمین لکھی تھی بابا صاحب نے‘ پہلے وہ ادا کرو پھر طلاق دینا۔‘‘ عثمان کو ایک دم سانپ سونگھ گیا تھا۔ وہ تو چند لاکھ بھی دینے کے قابل نہ تھا‘ کجا کروڑوں کی مالیت کی زمین۔
’’لیکن ایسی بدکردار عورت کو میں اپنے نام کے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔‘‘
’’اپنی زبان سنبھال کر بات کرو عثمان‘ اب تک ہم لوگ محض تمہاری جذباتی محبت سمجھ کر سب نظر انداز کرتے رہے تھے لیکن تمہیں تو انسان کی پہچان ہی نہیں… یہ عورت جس کی آنکھوں سے تم دیکھ رہے ہو اور جس کی زبان تم بول رہے ہو یہ تمہیں بھی دھتکار کر چلی جائے گی۔ ایسی عورتیں کسی کی نہیں ہوتیں۔ روپیہ پیسہ ہی ان کے لیے سب کچھ ہوتا ہے اور بس۔‘‘ اور پھر انہوں نے ماہ آرأ کو دیکھا تھا۔
’’تمہارے اس احسان ڈار سے بھی میں اب نبٹ لوں گا… غلط لوگوں پر ہاتھ ڈالا ہے تم نے… اپنے انجام کی فکر کرو اب تم۔‘‘ وہ کہہ کر نکل آئے تھے۔ ماہ آرأ واقعی پریشان ہوگئی تھی۔
وہ پہلے ہی الجھی ہوئی تھی۔ وہ فائقہ کو عثمان کی زندگی سے نکالنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی‘ وہ جو احسان ڈار کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی اس نے اس سے ایک معاملہ طے کیا تھا۔ فائقہ کو عثمان فاروق کی نظروں میں گرانے کا معاملہ اور اس کے بدلے وہ احسان ڈار سے مراسم بڑھانے کو تیار تھی اور یہ مراسم فی الحال دوستی تک رکھنا چاہتی تھی اور مطلب نکلنے پر احسان ڈار کو بھی صاف جواب دے دینا تھا لیکن وہ جانتی نہ تھی کہ وہ کس آگ سے کھیلنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس نے جو کھیل شروع کیا تھا وہ اب اس کے دامن کو بھی جلانے کو تیار تھا۔ اشفاق کے لیے احسان ڈار تک پہنچنا مشکل نہ تھا۔ وہ احسان ڈار سے ملے تھے۔
احسان ڈار پیسے کا پچاری تھا‘ اس کا منہ کھلوانے کے لیے انہوں نے اسے منہ مانگی رقم دی تھی اور اس سے ماہ آرأ کے خاندان اس کی اصلیت کی ساری داستان سن لی تھی اور پھر وہ اسے لے کر عثمان تک گئے تھے لیکن ماہ آرأ نے عثمان کی کچھ اس طرح کی برین واشنگ کر رکھی تھی کہ وہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہ تھا۔ احسان ڈار نے تمام ثبوت عثمان فاروق کے سامنے رکھ دیے تھے۔ عثمان قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔
وہ ماہ آرأ کے پاس گیا اور ماہ آرأ وہ تو احسان ڈار سے کسی بھی تعلق رکھنے سے انکاری تھی۔ وہ تو سرے سے ہر تعلق سے ہی منکر ہوگئی تھی۔
’’عثمان یہ سب جھوٹ کہہ رہے ہیں یہ سب مجھے آپ کی زندگی سے نکالنے کے لیے سازش کررہے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس پیسہ ہے‘ وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں کیا آپ کو لگتا ہے میں ایسا کرسکتی ہوں‘ میں اتنا گرسکتی ہوں۔‘‘ ماہ آرأ کا رو رو کے برا حال تھا اور عثمان خاموش تھا‘ بالکل خاموش۔
اشفاق نے پاکستان کال کی تھی‘ فائقہ کا رو رو کر برا حال تھا۔ بابا صاحب کا حکم تھا کہ فائقہ کو لے کر فوراً پاکستان آجائے۔ اشفاق صاحب فائقہ کو لے کر پاکستان چلے گئے تھے۔
دوسری طرف عثمان عجیب سے مخمصے میں تھا۔ وہ احسان ڈار سے ملا تو اس نے اسے حسن آرأ سے ملوادیا تھا جو ان دنوں وہیں تھی۔
’’تم ماہ آرأ پر بہت یقین کرتے ہو لیکن وہ ان عورتوں میں شامل ہے جن کی فطرت میں مرد کو دھوکا دینا لکھا ہوتا ہے۔ ہم تمہیں مجبور نہیں کریں گے لیکن تم خود دیکھنا اس نے تمہاری دولت دیکھ کر تم سے شادی کی تھی‘ تمہاری شخصیت‘ تمہاری امارت سے مرعوب تھی… اس نے ہمیشہ اپنی ماں کی وجہ سے روپے پیسے کی ریل پیل دیکھی ہے‘ وہ اب جو زندگی گزار رہی ہے وہ اس کی عادی نہیں ہے‘ بے شک وہ عزت کی زندگی جینا چاہتی ہے لیکن ایک بات یاد رکھنا تم سے تمہاری دولت وغیرہ سب چلا گیا تو وہ تمہارے ساتھ بہت دیر تک نہیں رہے گی۔‘‘ حسن آرأ نے حقیقت بتائی اور عثمان فاروق یقین کرنے کو تیار نہ تھا۔ حسن آرأ سے ملنے کے بعد عثمان کے دل ودماغ پر عجیب سی کیفیت چھا گئی تھی۔ اس نے وہ فلیٹ بھی تبدیل کرلیا تھا اس نے بہت ہی پسماندہ علاقے میں نہایت خستہ حال ایک کمرے کا فلیٹ لے لیا تھا۔ وہ لاشعوری طور پر ماہ آرأ کو شاید آزمانا چاہتا تھا اور ماہ آرأ اس نے کبھی ایسا ماحول نہ دیکھا تھا۔ اس کی ماں نے جیسے بھی پیسہ کمایا تھا لیکن بیٹی کو ایک آرام دہ اور پُرسکون زندگی دی تھی اس کی زیادہ تر زندگی ہاسٹلز میں ہی گزری تھی لیکن اس کی رہائش ہمیشہ شہر کے سب سے اچھے ہاسٹل میں ہوتی تھی‘ اسے زندگی کی تمام بنیادی سہولیات میسر تھیں۔
عثمان فاروق نے شاید اس سے محبت کی تھی لیکن اس نے عثمان فاروق کی شخصیت کی خوب صورتی اور اس کی امارت دیکھی تھی۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ اس شخص کے ساتھ پُرسکون‘ آرام دہ اور عزت کی زندگی گزار سکے گی۔ صرف عزت کی زندگی اس کی ترجیح ہوتی تو اس کے لیے باقی سب بے معنی ہوجاتا لیکن عزت کی زندگی کو اس نے عثمان فاروق کی ذات اور امارت کے ساتھ مشروط کرلیا تھا اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
وہ نئے فلیٹ میں شفٹ تو ہوگئی تھی‘ اسے یہ زندگی بڑی مشکل لگنے لگی تھی‘ بچی کے ساتھ ساتھ گھر کی ذمہ داریاں۔ عثمان فاروق کو جاب مل گئی تھی‘ ایک بہت اچھی کمپنی تھی وہ چاہتا تو ماہ آرأ کو ایک بہت اچھی زندگی دے سکتا تھا لیکن اس نے فلیٹ نہیں بدلا تھا۔ ان کا کھانا پینا اور رہن سہن بہت معمولی سا تھا۔ بہت جلد ماہ آرأ اس ماحول اور سیٹ اپ سے فیڈاپ ہوگئی تھی۔
’’عثمان کوشش کریں کوئی اچھی سی جاب ڈھونڈیں ہم کب تک اس طرح کی زندگی گزاریں گے… میں اس طرح کے ماحول کی عادی نہیں ہوں۔‘‘ ایک دن اس نے بہت غصے سے کہا تھا۔ عثمان نے اسے بغور دیکھا تھا۔ شادی کے اولین دنوں والا ان دونوں میں کوئی رنگ باقی نہ رہا تھا۔
’’میں بھی اس طرح کے ماحول کا عادی نہیں ہوں‘ بابا صاحب نے مجھے اپنی تمام تر دولت وجائیداد سے عاق کردیا ہے‘ ان کی صرف ایک ہی شرط ہے کہ تمہیں طلاق دے دوں ورنہ ان کی دولت وجائیداد پر میرا کوئی حق نہیں… اس ملک میں درجہ دوم کا شہری بن کر کوئی اچھی جاب حاصل کرنا ناممکن بات ہے اور ہر طرح کی جاب میں نہیں کرسکتا۔‘‘ ماہ آرأ خاموش ہوگئی تھی۔
کچھ دن گزرے تو ماہ آرأ نے اسے بتایا تھا کہ ایک اسٹور میں اسے ملازمت مل گئی ہے وہ اب کل سے جاب پر جایا کرے گی اور بچی کو وہ کسی مونٹیسوری میں داخل کروا دے گی‘ دونوں کے درمیان شدید بحث ہوئی تھی لیکن ماہ آرأ دوسرے دن جاب پر چلی گئی تھی۔ چند دن ایسے گزرے تو عثمان فاروق کی برداشت جواب دینے لگی تھی۔
’’مجھے یہ سب پسند نہیں… اگر میری زندگی میں رہنا ہے تو تمہیں صرف اور صرف گھر میں رہ کر زندگی گزارنا ہوگی اور میری بچی کی پرورش کرنا ہوگی‘ ورنہ ہم اپنے رستے الگ کرسکتے ہیں۔‘‘ انداز قطعی تھا۔ ماہ آرأ بھی غصے میں آگئی تھی۔
’’میں تھک گئی ہوں غربت سے بھی نیچے افلاس کی یہ زندگی گزارتے… میں اپنے سکھ کے لیے یہ جاب کررہی ہوں‘ میں جاب نہیں چھوڑوں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے ہم اپنے رستے الگ کرلیتے ہیں۔‘‘ عثمان کا انداز فیصلہ کن تھا۔
ماہ آرأ بھی شاید تھک چکی تھی یا اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ عثمان فاروق کے ساتھ رہتے ہوئے اب اسے یہی غربت زدہ زندگی گزارنا ہوگی۔ بہت سارے دن دونوں کے اسی کشمکش میں گزرے تھے۔ ماہ رخ مکمل طور پر مونٹیسوری میں ہوتی تھی۔ عثمان فاروق کو بیٹی سے بڑا پیار تھا لیکن ماہ آرأ ابھی کسی بھی طرح کے سمجھوتے پر آمادہ نہ تھی۔
اس نے کسی اور شہر میں جاب کے لیے اپلائی کیا ہوا تھا اور پھر اسے جاب مل گئی تو اس نے ماہ آرأ سے بات کی تھی۔ آخری اور فیصلہ کن بات۔
’’میں بہتر روزگار کے لیے کچھ دنوں کے لیے دوسرے شہر جارہا ہوں تم میرے ساتھ چلو گی؟‘‘
’’سوری عثمان… میری اپنی جاب بہت اچھی ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتی اور کچھ دن کی چھٹی ملنا مشکل ہے پلیز تم چلے جائو… میں یہاں ہی رہوں گی بلکہ میں نے سیکنڈ ٹائم جاب کے لیے بھی اپلائی کیا ہے‘ نائٹ شفٹ ہوا کرے گی ایک ہوٹل میں سرونگ کا کام ہے میرا نکلنا بہت مشکل ہے۔‘‘
’’اوکے… ایک بات بتائو… اگر تمہیں مجھ سے بہتر مرد ملے تو کیا تم مجھے چھوڑ دوگی۔‘‘
’’ابھی تک تو تمہارے ساتھ ہوں‘ بعد کا پتا نہیں۔‘‘ ماہ آرأ کا انداز قطعی تھا۔
’’اور ہماری بیٹی کا کیا مستقبل ہوگا کبھی تم نے سوچا ہے۔‘‘
’’جیسی زندگی یہاں کے لوگ گزارتے ہیں وہ بھی گزارنا سیکھ جائے گی اب پاکستانی مائوں کی طرح میں چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ تو چمٹی نہیں رہ سکتی۔‘‘ یہ آخری الفاظ تھے جو عثمان فاروق کے دل میں چبھ گئے تھے۔ یہاں کے لوگ کیسی زندگی گزار رہے تھے۔ مادر‘ پدر آزاد‘ بے باک‘ آزاد زندگی۔ جو اخلاقیات جیسے دائرہ سے کوسوں دور تھی۔ عثمان فاروق کے وجود میں ایک کپکپی سی طاری ہوئی تھی۔
اسے نجانے کیوں پاکستان یاد آنے لگا تھا۔ اماں بی‘ فائزہ بھابی اور نجانے کون کون؟ وہ اپنی بچی کو ایک اخلاق باختہ زندگی نہیں دے سکتا تھا۔ یہ بات نہ اس کی طبیعت گوارا کرتی اور نہ ہی اس کی مذہبی سوچ… وہ خاموش ہوگیا تھا اور اگلے دن وہ دوسرے شہر روانہ ہوگیا تھا اور جانے سے پہلے اس نے ماہ رخ کو ساتھ لے لیا تھا۔
ماہ آرأ صبح صبح ہی گھر سے نکل گئی تھی ماہ رخ کو مونٹیسوری میں چھوڑنے کی ذمہ داری عثمان کی تھی اس نے آرام وسکون سے اپنا اور اس کا سامان پیک کیا تھا اور پھر ایک صفحے پر کچھ لائنز لکھ کر صفحہ تکیے کے نیچے رکھ دیا تھا۔
وہ چلا گیا تھا‘ اس شام ماہ آرأ گھر لوٹی تو خوش تھی‘ اس کی اچھی پرفارمنس کی بنا پر اسے دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں شفٹ کردیا گیا تھا۔ وہ آرام کی غرض سے لیٹ گئی تھی۔ رات گئے تک عثمان اور ماہ رخ نہ آئے تو وہ الجھی تھی۔ عثمان ہی بچی کو مونٹیسوری میں چھوڑتا اور واپسی پر پک کرتا تھا۔ اس کی بے چینی بڑھنے لگی تھی۔ اس نے یونہی تکیہ اٹھایا تو وہاں وہ صفحہ ملا تھا۔
’’تم سے میں نے حقیقی محبت کی تھی۔ سب رشتے توڑ کر تم سے رشتہ جوڑا تھا لیکن اب مجھے لگنے لگا ہے کہ ہم بہت دور تک ساتھ نہیں چل سکتے‘ اس سے پہلے کہ یادیں تلخ ہوں میں تمہیں ایک خوشگوار یاد کی طرح اپنی زندگی میں رکھنا چاہتا ہوں اس لیے سب تعلق توڑ کر جارہا ہوں‘ تمہیں کچھ دن میں طلاق کے پیپرز مل جائیں گے۔ میری طرف سے تم آزاد ہو۔‘‘ الفاظ ختم ہوچکے تھے اور ماہ آرأ وہ گم صم سی تھی۔ وہ نہ دکھی تھی اور نہ ہی خوش۔
وہ چند دن وہاں رہی تھی‘ اسے کچھ دن بعد طلاق کے پیپرز مل گئے تھے‘ وہ اپنا مختصر ساسامان اور کاغذات وغیرہ سمیٹ کر ایک اسٹور ورکر کے ساتھ اس کے فلیٹ میں آگئی تھی۔
وہ اپنی جاب سے مطمئن تھی‘ اس کی زندگی گزر رہی تھی۔ اسے ماہ رخ کی کبھی یاد نہ آئی تھی‘ مونٹیسوری سے پتا کرنے پر اسے معلوم ہوگیا تھا کہ عثمان ماہ رخ کو ساتھ لے گیا تھا۔ وہ پُرسکون زندگی گزار رہی تھی جب ایک دن اس کے اسٹور میں احسان ڈار آیا تھا۔ وہ تو اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا لیکن وہ سرد مزاجی سے ملی تھی۔
اس کے بعد وہ اکثر آنے لگا تھا‘ رفتہ رفتہ وہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی قیمتی تحفہ لانے لگا وہ شروع میں انکار کرتی تھی لیکن پھر ساتھی ورکرز کی موجودگی میں لے لیتی تھی۔
پھر ایک دن وہ فلیٹ تک آگیا تھا۔ وہ بیمار تھی اسٹور نہیں گئی تھی‘ وہ وہاں آیا تھا اس کی ساتھی ورکر جو اسے جانتی تھی نے اسے ماہ آرأ کی بیماری کا بتایا تو وہ اس سے ایڈریس جان کر اس کے پاس آگیا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر شاکڈ ہوگئی تھی۔
’’میں پاکستان چلا گیا تھا‘ اب پھر ایک شوٹنگ کے لیے یہاں آیا ہوں۔ کچھ دن رکوں گا۔‘‘ اس نے بتایا تھا۔
’’تمہاری ساتھی بتا رہی تھی کہ تمہاری ڈائیورس ہوگئی تھی اب تم اس کے ساتھ رہ رہی ہو۔‘‘ وہ تب بھی خاموش رہی تھی۔
اور پھر وہ جب تک ادھر تھا اکثر کبھی فلیٹ اور کبھی اسٹور میں آتا رہتا تھا۔ وہ شاید بہت امیر ہوگیا تھا۔ اس کی ساتھی ورکر کے وارے نیارے ہونے لگے تھے۔ وہ جب بھی آتا تو ہر بار ماہ آرأ کو یہی یقین دلاتا کہ وہ بہت بدل گیا ہے‘ اس نے سب غلط کام چھوڑ دیئے ہیں اور پھر اس نے ایک دن اسے شادی کا پروپزل دیا تھا۔ ماہ آرأ نے انکار کردیا تو اس نے اس کے سامنے کچھ صورتیں رکھ دی تھیں۔
’’حق مہر تمہاری مرضی کا ہوگا… جیسی زندگی کی تم خواہش رکھتی ہو ویسی ہی عزت بھری زندگی گزانے کو ملے گی‘ چاہے تو اسٹیمپ پیپر پر لکھوا لو۔‘‘ ماہ آرأ گم صم ہوگئی تھی۔
اسے ایک بار ایک اچھا انسان عثمان فاروق ملا تھا لیکن قسمت کا چکر تھا کہ وہ اس کی زندگی سے نکل گیا تھا۔ وہ احسان ڈار سے ملنے لگی تھی۔ احسان ڈار جب بھی پاکستان سے آتا وہ اس سے مل لیتی تھی شاید احسان ڈار کی کوششیں تھیں کہ اس نے شادی کی حامی بھرلی تھی لیکن اس نے اس سے باقاعدہ لکھوا لیا تھا کہ وہ صرف اور صرف اس کی بیوی ہوگی اس کے کاروباری معاملے میں وہ اسے شامل نہیں کرے گا۔ اس نے حق مہر بھی اپنی مرضی سے لکھوایا تھا۔
شادی کے بعد کچھ ماہ دونوں امریکہ رہے تھے اور پھر گھومنے پھرنے کے لیے وہ اسے پاکستان لایا تھا اور یہاں وہ اسے حسن آرأ کے پاس لایا تھا۔
’’یہ لوحسن آرأ تمہاری ضدی چڑیا تو تمہیں دھوکہ دے کر اڑ گئی تھی اس کے پرکاٹ کر لایا ہوں‘ یہ اب کبھی اڑنے کی جسارت نہیں کرسکے گی۔‘‘
’’کیا بکواس ہے یہ…‘‘ وہ چیخی لیکن سب بے سود تھا۔
اس نے زندگی میں ایک بار عثمان فاروق کو دھوکہ دیا تھا فائقہ کو اس کی زندگی سے نکالنے کے لیے‘ اس بار احسان ڈار نے دھوکہ دیا تھا اور حسن آرأ نے اسے قید کرلیا تھا اور پھر اپنی من پسند زندگی کی طرف لانا چاہا لیکن وہ اکڑ گئی تھی۔ وہ دھوکہ کھا گئی تھی لیکن عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتی تھی۔ اس نے حسن آرأ اور احسان ڈار کے مجبور کرنے پر خوو کو سزا دینے کے لیے اپنے چہرے پر تیزاب گرا لیا تھا اور پھر اس کی حسین وجمیل زندگی کا اختتام ہوگیا تھا۔
وہ کئی ماہ تک ہاسپٹل میں رہی تھی اور پھر جب وہ ہاسپٹل سے گھر آئی تو کوئی اور ہی ماہ آرأ تھی۔ وہ ماہ آرأ جس کے تعاقب میں کسی ننھی بچی کی قلقاریاں گونجتی تھیں اور جس کے کانوں میں کسی عثمان فاروق کے محبت بھرے جملے ماتم کرتے تھے۔ وہ روتی‘ چیختی‘ چلاتی تھی اور پھر خود کو پیٹنے لگ جاتی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو خود سزا دی تھی اور اس سزا کے طوق میں اسے تب تک سڑنا تھا جب تک آخری سانس باقی تھی۔
خ…ز…/
شیرافگن آیا تو فائقہ چلی گئی تھیں۔ شیرافگن گاڑی تک چھوڑنے آیا اور گارڈ کو اچھی طرح تاکید کرکے وہ انہیں بھیج کر واپس آیا تو شہرینہ اسے دیکھ کر چونکی۔
’آپ گئے نہیں؟‘‘
’’مجھے کہاں جانا تھا؟‘‘
’’مام کے ساتھ…‘‘
’’وہ تو چلی گئی اور میں یہاں رکوں گا… اب رات بھر تمہیں اکیلے تو نہیں چھوڑ سکتے نجانے کب حسن آرأ کا کوئی ساتھی آجائے اور ہم پھر پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھنڈتے پھریں۔‘‘ شہرینہ خاموش رہی یعنی اب رات بھر وہ اس کے اعصاب پر سوار رہنے والا تھا۔
’’کیا ہوا انہیں؟‘‘ اس عورت سے ان لوگوں کی کوئی بھی اچھی یاد نہیں جڑی تھی لیکن شہرینہ کی وجہ سے وہ پوچھ رہا تھا۔
’’بخار تھا۔‘‘
’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘
’’بہتر ہے۔‘‘ اس نے ڈبل بیڈ والا روم لیا تھا‘ تاہم وہ ماں کے سرہانے کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھی تھی۔
’’تم ریسٹ کرلو۔‘‘ شیرافگن نے اسے بغور دیکھا تو فیل ہوا کہ وہ جیسے نیند سے لڑ رہی ہے۔
’’اٹس اوکے… اگر آپ نے لیٹنا ہے تو لیٹ جائیں۔‘‘ انداز بہت دو ٹوک تھا۔ وہ کندھے اچکا کر بیڈ کی طرف بڑھ گیا تھا۔ وہ واقعی تھکا ہوا تھا اس لیے لیٹ گیا تھا۔
’’اماں بی اور بابا صاحب بھی میرے ساتھ آئے ہیں۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’کیوں؟‘‘
’’ان کے بیٹے کا گھر ہے کیا وہ بغیر کسی وجہ کے نہیں آسکتے۔‘‘ وہ بھی الٹے سوال کا جواب گھما کر دے رہا تھا۔
’’میں کون ہوتی ہوں منع کرنے والی… ان کے بیٹے کا گھر ہے سو بار آئیں۔‘‘ وہ ہنس دیا۔ اس کے جواب پر وہ کوفت زدہ ہوگئی تھی۔
’’ویسے وہ ان سارے حالات پر اظہار افسوس کرنے آئے ہیں۔‘‘ وہ خاموش رہی۔
’’اور ان کے آنے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔‘‘ وہ کہہ کر خاموش ہوا۔ وہ خاموش رہی تھی اس کا خیال تھا کہ وہ خود ہی وجہ بھی بتادے گا لیکن وہ تو کروٹ بدل کر آنکھیں بند کر گیا تھا۔
’’سخت تھکا ہوا ہوں‘ سو رہا ہوں۔‘‘ وہ جل بھن ہی تو گئی تھی۔ وہ جاگ رہی تھی اور وہ محترم سونے کی کوشش میں تھا۔
اس کا جی چاہا کہ اسے اٹھا کر کمرے سے باہر پھینک دے۔ وہ کڑھتی رہی اور کرسی پر بیٹھی نجانے کب اس کی آنکھ لگی شیرافگن کی دو تین گھنٹے بعد کھٹکے سے آنکھ کھلی تھی۔
ماہ آرأ نے شاید کروٹ لی تھی چادر چہرے سے سرک گئی تھی۔ عجیب سے خدوخال والا چہرہ دیکھ کر شیرافگن بھی ساکت رہ گیا تھا۔ یہ ماہ آرأ تھی جس پر کسی دور میں عثمان فاروق فدا ہوا تھا‘ وہ بے یقین تھا‘ وہ بستر سے اٹھ کر ان کے پاس آیا۔
شہرینہ کرسی پر ہی ٹانگیں سمیٹ کرسوئی ہوئی تھی۔ شیرافگن نے چادر دوبارہ ماہ آرأ کے چہرے پر کردی اور خود شہرینہ کی طرف آیا۔ وہ گہری نیند میں تھی وہ ایک دو پل اسے دیکھتا رہا۔ انتہائی تلخ وتند مزاج رکھنے والی سر پھری لڑکی اس وقت خاموش قیامت بنی ہوئی تھی۔
’’شہرینہ…‘‘ اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا لیکن وہ غالباً گہری نیند میں تھی۔ اس نے تھوڑا سا دبائو ڈالا۔
’’شہرینہ…‘‘ اس نے اس کی طرف جھک کر اس کے کندھے سے پیچھے ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف کیا تھا۔ تب ہی وہ ہڑبڑا کر اٹھی۔
’’کون… کیا… کیا کررہے ہیں آپ؟‘‘ وہ ایک دم ہڑبڑائی۔ آنکھیں مکمل طور پر کھلی اور حیرت سے پھٹی ہوئی تھیں۔
’’ابھی تک تو میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔‘‘
’’شٹ اپ۔‘‘ وہ ناگواری سے بولی۔
’’محترمہ کافی بے آرام حالت میں کرسی پر سو رہی تھیں مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں بستر پر سوئوں اور تم یہاں… تمہیں دو تین بار پکارا تم نہیں اٹھی تو سوچا کہ خود ہی ہمت کرکے تمہیں بستر پر لٹا دوں۔‘‘ وہ مزے سے بغور دیکھتے کہہ رہا تھا اور شہرینہ اس کا بس ہی نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے کچا ہی چبا ڈالے۔
’’شیم آن یو…‘‘ اس نے دانت کچکچائے۔
’’میں نے کیا کیا ہے اور شرم کس بات کی‘ بیوی ہو میری۔‘‘
’’جسٹ منکوحہ۔‘‘ وہ کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی‘ افگن ہنس دیا۔
’’منکوحہ بھی بیوی کو ہی کہتے ہیں محترمہ۔‘‘
’’میرے ساتھ اس طرح کے ڈائیلاگ بولنے کی قطعی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ ایک دم غصے سے انگلی اٹھا کر بولی۔ شیرافگن کو نجانے کیوں اس کی کیفیت لطف دینے لگی تو وہ اور اس کے قریب ہوا تھا۔ دونوں ہاتھ کرسی کے بازوئوں پر ٹکا کر وہ اس پر جھکا۔ شیرافگن کے ملبوس سے اٹھتی تیز کلون کی مہک… شہرینہ کو لگا گویا اس کا سانس اس کے سینے میں اٹکنے لگا ہو۔
رات کی خاموشی… کمرے کا سناٹا… اور ایسے میں افگن کے تیور۔ وہ پریشان ہوگئی تھی۔
’’میں نے تمہارے ساتھ اس طرح کے تو ایک طرف کسی اور طرح کے ڈائیلاگز بھی کبھی بولے ہی نہیں۔‘‘ شیرافگن کی نگاہیں مکمل طور پر شہرینہ کے چہرے پر رقصاں تھیں۔ وہ پزل ہونے لگی تھی۔
’’میرے ساتھ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں… پیچھے ہٹیں۔‘‘ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس نے اسے پیچھے ہٹانا چاہا لیکن ایک انچ بھی افگن کو پیچھے نہ دھکیل سکی۔
’’کیا مسئلہ ہے‘ کیوں کررہے ہیں آپ ایسا؟‘‘ وہ پھر بولی تو شیرافگن نے ایک گہرا سانس لیا۔ شیرافگن کی سانس کی گرماہٹ سے شہرینہ کو اپنا چہرہ جلتا محسوس ہوا تھا۔
شیرافگن کی نگاہوں کا تاثر اور وجود کی حدت اسے لگا وہ بے بس ہوجائے گی جبکہ وہ اس شخص کے سامنے کبھی ہارنا نہیں چاہتی تھی۔
’’پلیز پیچھے ہٹیں… مجھے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘ وہ نگاہیں جھکا کر بولی۔ وہ شیرافگن کی نگاہوں کا سامنا نہیں کرپا رہی تھی۔
آواز کی پستی اس کے اندر ہونے والی اتھل پتھل کا صاف پتادے رہی تھی اس کا چہرہ آگ کی طرح دہک رہا تھا۔ شیرافگن نے اسے بغور دیکھا اور پھر ہنس دیا۔
’’لیکن مجھے یہ سب قطعی برا نہیں لگ رہا۔‘‘ وہ تھوڑا سا مزید جھکا ممکن تھا وہ کچھ جسارت کرتا‘ شہرینہ نے غصے میں آکر پوری قوت سے اسے پیچھے دھکیل دیا تھا۔ وہ پیچھے ہوا اور شہرینہ تیزی سے کرسی سے اٹھی۔ شیرافگن ہنس دیا تھا۔
’’بڑا دم ہے بھئی تم میں۔‘‘
’’انتہائی واہیات انسان ہیں آپ… اب آئندہ آپ نے میرے ساتھ کوئی غلط حرکت کی تو زمین آسمان ایک کردوں گی۔‘‘ وہ شدید غصے میں تھی لیکن اعصاب جھنجلائے ہوئے تھے۔ اسے شیرافگن سے اس رویے کی توقع نہ تھی۔
’’میں نے تو ابھی کچھ کیا ہی نہیں۔‘‘ شیرافگن کے انداز میں ابھی بھی شرارت گھلی ہوئی تھی۔ شہرینہ نے لب بھینچ کر گھورا۔
’’اوکے… اوکے… میں تو پہلے ہی گھائل ہوچکا ہوں آپ محترمہ پہ… نظروں کے تیر چلانے بند کردیں… ریلیکس میں مذاق کررہا تھا۔‘‘ اس نے کہا اور شہرینہ مسلسل اسے گھورے جارہی تھی۔
کچھ پل بعد وہ کھڑکی کے پاس کھڑی ہوئی‘ کھڑکی کے باہر گہرا اندھیرا تھا‘ اس نے افگن کو دیکھا۔ وہ کرسی پر ٹک گیا تھا۔
’’آرام سے بستر پر سو جائو۔ میں اب ادھر ہی ہوں۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا اور شہرینہ خاموش رہی‘ کچھ دیر پہلے افگن نے جو کیا اس کے بعد وہ اب اس کی موجودگی میں غافل ہوکر سونے کا رسک نہیں لے سکتی تھی۔ وہ اسی طرح کھڑکی میں کھڑی رہی۔
کچھ دیر بعد وہ پلٹی تو دیکھا افگن کرسی پر بیٹھا اسے ہی گھور رہا تھا۔ وہ کچو دیر بعد بستر پر آبیٹھی۔
’’سو جائو…‘‘
’’میں آپ کے حکم کی منتظر نہیں ہوں۔‘‘ اس نے تلخی سے کہا اور افگن مسکرادیا۔
’’تو کس چیز کی منتظر ہو؟‘‘
’’فضول گوئی کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’یہ تو بڑا مسئلہ ہوجائے گا نیند تو اب میری اڑ چکی ہے دونوں خاموش رہے تو رات کیسے گزرے گی۔‘‘ شہرینہ نے گھورا اور پھر کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔
’’میرے ساتھ اب اگر دوبارہ ایسی ویسی بدتمیزی کی تو آپ جانتے نہیں کہ میں کیا کرسکتی ہوں‘ کسی بھول میں مت رہیے گا۔‘‘ اس نے کروٹ بدل کر کہا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔ شہرینہ کے اندر شدید غبار اٹھا لیکن نیند سے برا حال تھا‘ وہ لب دبا کر آنکھیں بند کر گئی تھی۔
خ…ز…/
عثمان کچھ عرصہ اِدھر اُدھر گھومتا رہا اور پھر ایک دن اس کے نمبر پر کال آئی تھی۔ نجانے کہاں سے ان لوگوں نے اس کا یہ نیا ایڈریس اور نمبر ڈھونڈ نکالا تھا۔
’’فائقہ کو آزاد کردو… ہم اسے ساری عمر تمہارے نام پر بٹھا نے کے حق میں نہیں ہیں‘ ہم اس کی جلداز جلد شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ بابا صاحب کی کال تھی۔
اشفاق صاحب کسی بھی لمحے عثمان فاروق سے غافل نہ رہے تھے فائقہ کو پاکستان چھوڑنے کے بعد انہوںنے پھر ایک دوبار امریکہ کا چکر لگایا تھا‘ انہوں نے بہت جلد پتا کروا لیا تھا کہ عثمان کہاں ہے؟ اس کا ایڈریس اور نمبر حاصل کرنا مشکل نہ تھا۔ انہیں علم ہوچکا تھا کہ عثمان فاروق ماہ آرأ کو چھوڑ چکا ہے‘ اس لیے کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد بابا صاحب نے پھر اسے کال کی تھی۔
’’ٹھیک ہے… میں طلاق کے کاغذات بھجوا دوں گا۔‘‘
’’خالی کاغذات نہیں… حق مہر کی مالیت بھی ایک اور خبر بھی ہے تمہاری ماں سخت بیمار ہے وہ تمہیں دیکھنے کو تڑپ رہی ہے‘ وہ چاہتی ہے کہ تم فائقہ کو طلاق پاکستان آکر دو… وہ طلاق دینے سے پہلے ایک بار تم سے بات کرنا چاہتی ہے۔‘‘ عثمان خاموش ہوگیا تھا۔ اس نے ایک عورت کے لیے اتنے رشتے توڑے تھے لیکن آخرکار وہ عورت بھی اس کی نہ بن سکی تھی۔
’’ٹھیک ہے میں اپنی واپسی کی اطلاع دے دوں گا۔‘‘ رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔
کچھ دن لگے تھے پاکستان جانے میں ماہ رخ ساتھ تھی‘ وہ وہاں پہنچا تو اماں بی واقعی بیمار تھیں لیکن بیٹے کو دیکھ کر آبدیدہ ہوگئی تھیں۔ انہوں نے اس سے ایک بات کی تھی۔
’’تم فائقہ کو آزاد کردو بیٹا لیکن ایک بار ضرور سوچنا تمہاری ماں جیتے جی مر جائے گی‘ مجھے پتا ہے تم اس عورت کو طلاق دے چکے ہو کہیں نہ کہیں تو شادی کروگے ہی ناں تو پھر فائقہ کیوں نہیں… میری بات ٹھنڈے دل سے سوچ لو اور پھر کوئی فیصلہ کرنا۔‘‘ اور عثمان فاروق نے بہت سوچا اور پھر ماں کو فیصلہ سنا دیا تھا اور ماں فیصلہ سن کر پھر سے رو دی تھی لیکن اس بار آنسو تشکر وخوشی کے تھے۔
اماں بی کے کہنے پر عثمان نے امریکا کی جاب چھوڑ دی تھی وہ کچھ دن کے لیے واپس گیا تھا اور پھر سب کچھ کلیئر کرکے آگیا تھا۔ وہ اسلام آباد شفٹ ہوگیا تھا۔ ماہ رخ فائقہ کی مکمل طور پر ذمہ داری بن چکی تھی۔ بچی اتنی پیاری اور معصوم تھی کہ سب ہی نے اسی خوش دلی سے قبول کیا تھا۔ فائقہ نے سختی سے منع کردیا تھا کہ کوئی بھی اسے اس کی سوتیلی بیٹی نہ کہے‘ وہ اسے لے کر بہت خوش تھی‘ عثمان کا رویہ اسی طرح سرد تھا‘ پھر نرمی آئی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ۔
فائقہ کے لیے عثمان کا ساتھ ہمیشہ ایک آزمائش بنا رہا تھا۔ وہ اسے اپنی زندگی کے اس تکلیف دہ دور کا ذمہ دار سمجھتا تھا اور فائقہ اس نے بھی زندگی گویا انگاروں پر چلتے گزار دی تھی۔
خ…ز…/
وہ صبح اٹھی تو شیرافگن کمرے میں نہیں تھا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اپنا موبائل اٹھا کر دیکھا تو حیران ہوئی دن کے دس بج رہے تھے۔ وہ بہت دیر تک سوئی تھی۔ جلدی سے اٹھ کر کمرے سے ملحق واش روم میں گئی واپس منہ ہاتھ دھو کر نکلی تو شیرافگن کمرے میں موجود تھا۔
’’گڈ مارننگ۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔ وہ سنجیدہ چہرے سے محض سر ہلا سکی۔ شیرافگن نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ڈسپوزیبل چائے کا کپ اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔
’’ناشتہ کرلو۔‘‘ چائے کے ساتھ ساتھ ٹرے میں کھانے کے کچھ اور لوازمات بھی تھے۔ شہرینہ نے کپ لے لیا۔
’’آپ نے خوامخواہ تکلف کیا… مام نے گھر سے کچھ نہ کچھ بھجوا دینا تھا۔‘‘ افگن نے شاپر میں سے باقی کھانے کی چیزیں نکال کر اس کے سامنے کیں‘ اس نے صرف فروٹ کیک لیا تھا۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close