Aanchal Aug-18

پہلو میں ہے چاند

ماورا طلحہ

الگنی سے کپڑے اتارتے ہوئے اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔ سورج آسمان کے وسط میں براجمان اس کے ناتواں جسم کا امتحان لینے پہ تلا ہوا تھا۔ پیشانی پہ آیا پسینہ دوپٹے کے پلو سے صاف کرتے ہوئے قہر برساتی نظر آسمان پہ ڈالی اور پیر پٹختی کپڑوں کا ڈھیر اٹھائے دادی جان کے کمرے کی جانب چل دی۔ وہ ہانپتی کانپتی کمرے میں داخل ہوئی اور سارے کپڑے دادی جان کے بیڈ پر ایک سائیڈ پہ رکھ دیئے۔
’’یہ لیں دادی جان‘ آپ کے محل کا چھوٹے سے چھوٹا کپڑا بھی اس ملازمہ نے دھو دیا ہے امید ہے اب مجھ معصوم پہ مزید کوئی ستم نہیں ڈھایا جائے گا۔‘‘ اس نے کپڑوں کے ڈھیر پہ لیٹتے ہوئے بڑے دل گداز انداز میں دہائی دی۔
’’تیرا بیڑ اتر جائے نکمی‘ میں نے تجھ جیسی نالائق لڑکی پورے خاندان میں نہیں دیکھی۔‘‘ انہوں نے غصے سے کہتے ہوئے ایک زور دار دھموکا اس کے کندھے پہ جڑ دیا۔
’’کیا ہے دادی جان‘ یہ اتنے کپڑوں کا ڈھیر دھلوانے کے بعد بھی خاندان کی نکمی میں ہی نظر آرہی ہوں اور یہ دھموکا کس خوشی میں عنایت کیا مجھے؟‘‘ دادی کا ہاتھ پڑتے ہی وہ بلبلا اٹھی۔
’’ابھی کپڑے دھوئے ہیں اور آتے ساتھ ہی ان پہ ایسے بازو پھیلا کر لیٹ گئی ہو جیسے میں نے تمہیں جنگ لڑنے بھیجا تھا۔‘‘ دادی جان اب بھی کڑے تیور لیے اسے گھور رہی تھیں۔
’’تو میرے لیٹنے سے آپ کا انمول خزانہ گندا ہوجائے گا کیا؟‘‘ وہ دکھ بھرے انداز میں کہتے ہوئے دوبارہ وہیں پر بیٹھ گئی۔
’’کبھی بات مان بھی لیا کرو‘ تمہارے پسینے کی بدبو پورے کمرے میں پھیلی ہوئی ہے تو ان کپڑوں کا کیا حال ہوا ہوگا۔‘‘ دادی جان نے کہتے ہوئے دوپٹہ ناک پہ رکھ لیا اور اس کا تن بدن سلگ گیا۔
’’میرے پسینے سے بھی خوشبو آتی ہے‘ میں جہاں جہاں سے گزرتی ہوں وہاں وہاں پوچھا جاتا ہے کہ یہ کس کی خوشبو ہے۔‘‘ وہ ہاتھ اٹھا کر اپنی تعریف میں رطب اللسان تھی کہ دادی جان نے چھڑی پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر اب کی بار وہ اس وار کے لیے تیار تھی اور چھڑی پڑنے سے پہلے ہی چھلانگ لگا کر دور ہٹ گئی۔
’’اللہ جنت میں گھر کرے تیری ماں کا اور بھلا کرے تیرے باپ کا جو خود دوسری بیگم لے کر گوروں کے دیس میں بیٹھ گیا اور تجھ جیسی بلا کو دونوں میرے سر منڈھ گئے۔ نہ کسی کی سنتی ہے اور نہ مانتی ہے‘ میرے سر میں خاک ڈلوائے گی۔‘‘ دادی جان کا پارہ آسمان چھونے لگا اور جب بول بول کر تھک گئیں تو اس کی تلاش میں ارد گرد دیکھا مگر وہ نہ جانے کب کی کھسک چکی تھی۔
’’اب رو رو کر منہ سوجھا لے گی اور لڑکا بے چارا کام سے تھکا ہارا آکر کھانے کے لیے ہمارا منہ دیکھے گا۔‘‘ انہوں نے دروازے کی جھری سے اس کی تلاش میں نظریں دوڑائی مگر ناکامی ہوئی تو سر ہاتھوں میں تھام لیا۔
۹…YYY …۹
دوپہر سفر کرتے ہوئے شام کی دہلیز پہ دستک دینے لگی‘ سائے لمبے ہوتے جارہے تھے۔ گرمی کا پارہ بھی نیچے کی جانب آنے لگا تھا‘ سورج تھکا ہارا آرام کی غرض سے ڈوب رہا تھا۔ آنگن میں لگی بیل سے ہوا چھیڑ خانی کررہی تھی۔ وہ چابی سے گھر کا گیٹ کھول کر اندر داخل ہوا تو خلاف معمول گھر میں اندھیرے کا راج تھا۔ صحن اور آنگن کے ایک کونے میں چھوٹا سا لان بھی سنسان تھا۔ اس نے بائیک کھڑی کی اور تشویش زدہ سا آگے بڑھ گیا۔ لائونج میں کسی کو نہ پاکر وہ دادی جان کے کمرے کی طرف آیا اور توقع کے مطابق وہ اسے وہیں مل گئیں۔
’’السلام علیکم!‘‘ دادی جان کے آگے سر جھکاتے ہوئے اس نے کہا۔
’’وعلیکم السلام! اللہ صحت وتندرستی والی زندگی عطا کرے۔ بیٹھو بیٹا میں تمہارے لیے پانی لاتی ہوں باہر تو گرمی بھی بہت ہے۔‘‘ اس کے لیے پلنگ پہ جگہ بناتی وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’آپ کہاں جارہی ہیں دادی جان۔ لالی کہاں ہے؟ وہ لے آتی ہے پانی۔‘‘ اس نے جلدی سے انہیں پکڑ کر بٹھایا۔
’’لالی تو مراقبے میں گم ہوگی‘ دو دن سے پہلے تو اب نہیں ملے گی۔‘‘ وہ اپنے تہہ شدہ کپڑے رکھنے کے لیے الماری کی طرف بڑھ گئی۔
’’یہ تو افسوس ناک خبر سنائی آپ نے مگر اب یہ سوگ کس وجہ سے ہے؟ کسی ڈرامے کا ہیرو مر گیا یا ہیروئن کی سوتیلی ماں نے اس کی شادی ولن سے کردی۔‘‘ دادی کی بات پہ مسکراتے ہوئے اس نے لالی کے سوگ کی وجہ پوچھی۔
’’آئے ہائے بیٹا… نہ پوچھو‘ اللہ بخشے تمہارے دادا جان کو کہ کیا کمال وقت گزرا ان کے ساتھ اور ایسے دیدہ دلیر کہ مقابل کی خامی اس کے منہ پہ دے مارتے‘ مجھے کہا کرتے تھے کہ میرے منہ کے آگے خندق ہے اور سچ ہی کہا کرتے تھے۔‘‘ وہ بات کرتے ہوئے وقت کے چکر میں کھو گئی تھیں۔
’’دادی جان میں آپ سے لالی کا پوچھ رہا ہوں اور آپ دادا جان کے جاہ وجلال کی قصے سنانے لگیں۔ میں لاتعداد مرتبہ آپ سے ان کا ذکر خیر سن چکا ہوں اس لیے سمجھ نہیں پارہا کہ اب ان کا ذکر کیوں؟‘‘
’’ایک تو تم اکیسویں صدی کے بچے… کہتے ہو سوال زبان سے نکلے نہ اور جواب حاضر ہو… وہ ہی تو بتا رہی ہوں کہ تمہارے دادا جان ٹھیک کہتے تھے اس کی مثال ہی دیکھ لو… بچی صبح سے میری انگلی کے اشارے پہ ناچ رہی تھی اور ذرا سی تھک ہار کر بیٹھی تو میں نے اسے کوسنا شروع کردیا اور کیا ہی ظالمانہ بات کہہ دی کہ اب دل میں ہول اٹھ رہے ہیں۔‘‘ دادی جان کے چہرے سے پریشانی ہویدا تھی۔
’’آپ نے ایسا بھی کیا کہہ دیا جو اب پریشان ہورہی ہیں۔‘‘ اسے کسی بات کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔
’’میں نے کہہ دیا کہ تمہاری ماں مر گئی اور باپ دوسری بیگم لیے گوروں کے دیس میں بیٹھ گیا اور تم جیسی بلا مجھ بوڑھی کے سر منڈھ گئے… آئے ہائے اللہ مغفرت کرے تمہارے دادا جان کی کہ انہیں یہ پتا چل گیا تھا کہ میرے منہ کے آگے خندق ہے تو انہوں نے اس خندق کو بند کرنے کا کیوں نہیں سوچا؟ آج بچی میری زبان کے نشتر سے لہولہان تو نہ ہوئی ہوتی۔‘‘ وہ ہاتھ ملتے ہوئے باقاعدہ دہائیاں دے رہی تھیں اور شہیر ہاتھوں میں سر تھامے ان کا واویلا سن رہا تھا۔
’’آئے ہائے میاں‘ تم بھی پورے باپ پر گئے ہو میں کب سے بولے جارہی ہوں اور تم منہ میں گھنگھیا ڈالے بیٹھے ہو۔ کوئی ایک تسلی کا بول تمہاری زبان سے نہیں نکلا۔‘‘ اس کی خاموشی کا احساس ہوتے ہی وہ فوراً چپ ہوئیں۔
’’دادی جان آپ ہماری بڑی ہیں اگر کسی بات پر آپ نے کچھ بول بھی دیا تو ہمارا فرض ہے ہم آپ کا مطلب سمجھیں نہ کہ دل سے لگالیں۔‘‘ اس نے ان کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
’’اللہ تمہیں نیک سعادت مند بنائے رکھے‘ یونہی دل کی ٹھنڈک بنے رہو۔‘‘ انہوں نے خوش ہوتے ہوئے اس کی پیشانی چوم لی۔
’’آپ اب فکر نہ کریں‘ میں لالی کو دیکھتا ہوں کس کونے میں چلہ کاٹ رہی ہے اور دیکھیے گا ابھی کان سے پکڑ کر لاتا ہوں تاکہ آپ سے معافی مانگے۔‘‘ وہ انہیں پُرسکون کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’بیٹا آرام سے بات کرنا اور کان سے پکڑ کر لانے کی کوئی ضرورت نہیں‘ بہنیں چند دن کی مہمان ہوتی ہیں‘ ان سے اچھے سلوک پر ہی تو مالک بے شمار نوازتا ہے۔‘‘ ان کی بات پر سر ہلاتا وہ باہر نکل گیا۔
وہ سیڑھیاں پھلانگتا اوپر کی جانب آگیا‘ یہ پورشن بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا مگر اس کی توقع کے عین مطابق ٹیرس کا دروازہ کھلا تھا اور اسے کامل یقین تھا کہ وہ وہیں جھولا جھول رہی ہوگی‘ اس نے آہستگی سے ٹیرس کا رخ کیا اور دبے قدموں چلتا اس کے پیچھے جاکھڑا ہوا۔
’’تمہارا نام لالی رکھنے کا قصور تو ہم سے ہوگیا مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم ہر وقت مکھڑے پہ لالی سجائے رکھو۔‘‘ اس نے ایک دم جھولا گھمایا اور اس کا رخ اپنی طرف موڑ لیا۔
’’آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میرا نام لالہ رخ ہے اور میرے مکھڑے پہ لالی قدرتی ہے اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔‘‘ وہ غصے سے بولی۔
’’ویسے تم لڑکیاں بھی کمال ہو جہاں تم لوگوں کی خوب صورتی پہ بات آئے وہاں کیل کانٹے سے لیس ہوکر میدان میں اتر آتی ہو۔‘‘ اس نے شرارت سے جھولے کو جھٹکا دیا۔
’’آپ ہم لڑکیوں پہ تحقیق کرنا چھوڑیں اور اِدھر آنے کا مقصد بتائیں۔‘‘ اس نے تنک کر جھولا چھڑوایا۔
’’اب اپنی بہن سے ملنے کے لیے بھی مجھے احتیاط سے کام لینا پڑے گا؟ گھر آتے ہی مجھے تم نظر نہ آئو تو الجھن ہوتی ہے اسی لیے تمہاری تلاش میں یہاں آگیا۔‘‘ اس نے پیار سے اس کے بال بکھیرئے۔
’’مجھ سے بہانے بازی کرنے کی ضرورت نہیں‘ میں جانتی ہوں دادی جان نے آپ کو یہاں بھیجا ہے۔‘‘ لالی نے غصے سے اسے دیکھا اور بکھرے بال دوبارہ کان کے پیچھے اڑسے۔
’’یار وہ ہماری بڑی ہیں اگر کچھ کہہ دیتی ہیں تو برداشت کرلیا کرو‘ چہرے پہ بارہ بجا کر خود کو بھی تکلیف دیتی ہو اور انہیں بھی پریشان کرتی ہو۔‘‘ اس نے لالی کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور ٹیرس کی دیوار کے ساتھ آکھڑا ہوا۔
’’سارا دن کام کرواتی رہتی ہیں‘ کبھی کپڑے دھلوانا‘ کبھی گھر کے کونے کھدروں کی صفائی اور اگر کچھ نہ ملے تو باوا آدم کے زمانے کے صندوق کھلوا لیتی ہیں اتنا کچھ کرکے بھی ڈانٹ سنتی ہوں تو میں کام کیے بنا ہی سن لوں گی۔‘‘ دیوار پہ کہنی ٹکاتے ہوئے اس نے اداسی سے کہا۔
’’اچھا تم اداسی چھوڑو میں دادی جان کے لیے کسی ملازمہ کا انتظام کرتا ہوں‘ تمہیں بھی فراغت مل جائے گی اور دادی جان اپنے کام بھی کروالیا کریں گی‘ مجھ غریب کو بھی گھر آتے ہی کچھ کھانے کو مل جایا کرے گا۔‘‘ وہ بھی اس کا بھائی تھا۔
’’اس نے چونک کر شہیر کو دیکھا تو احساس ہوا وہ اتنی دیر سے اس کے ساتھ سر کھپا رہا ہے اور یقینا بھوک پیاس سے برا حال ہورہا ہوگا۔
’’ویسے لالی میں سوچ رہا ہوں‘ رمضان آنے میں کچھ دن ہیں مگر میں ابھی سے روزے رکھنا شروع کردیتا ہوں تاکہ رمضان آنے تک عادت ہوجائے۔‘‘
’’آپ بھی تو دادی کے ہی پوتے ہیں‘ تاک تاک کر نشانہ مارنا ان کی طرح خوب آتا ہے۔‘‘ اس نے ناک سکیڑ کر کہا تو شہیر کا قہقہہ بے ساختہ بلند ہوا۔
’’آجائیں نیچے کچھ نہ کچھ آپ کی خدمت میں پیش کر ہی دوں گی ورنہ آپ کی دادی کے عتاب سے مجھے کون بچائے گا۔‘‘
’’اب اتنی عجلت میں کیا پکائوگی‘ تم پانچ منٹ میں تیار ہوجائو باہر چلتے ہیں‘ کچھ پیٹ پوجا بھی ہوجائے گی اور تمہارا غصہ بھی نو دو گیارہ ہوجائے گا۔‘‘ اس نے چٹکی بجاتے حل پیش کیا۔
’’ارے واہ… اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے۔‘‘ اس نے خوشی سے اچھلتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن دادی جان اکیلی گھر میں کیا کریں گی؟‘‘ دادی کا خیال آتے ہی اس کی خوشی ماند پڑگئی۔
’’یہ خیال تو مجھے آیا ہی نہیں‘ چلو دنوں بہن بھائی مل کے کچھ بناتے ہیں۔‘‘ شہیر نے مسکراتے ہوئے تجویز پیش کی تو لالی نے بھی اثبات میں سر ہلایا اور دونوں نے نیچے کا رخ کیا۔
دادی جان نے دونوں کو مسکراتے ہوئے نیچے آتے دیکھا تو اطمینان کی لہر ان کے وجود میں سرایت کر گئی‘ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھیں کہ جب لالی آپے سے باہر ہوجائے تو صرف شہیر ہی اس کے مزاج کو معتدل کرسکتا ہے۔
۹…YYY …۹
شعبان کا آغاز ہوچکا تھا۔ رمضان کی آمد سے پہلے ضروری امور سر انجام دیئے جارہے تھے‘ رمضان میں استعمال ہونے والا سودا سلف زیر قلم لایا جارہا تھا۔ گھر کی تفصیلی صفائی ستھرائی کی جارہی تھی‘ پچھلے کئی دنوں سے سارے کام نبٹاتے ہوئے لالی بے حال ہورہی تھی۔ ایسے میں شہیر حتی الامکان مدد کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
’’لالی… آج شہیر کام سے آئے تو اسے کہو کسی دن وقت نکال کر تمہارے ساتھ مارکیٹ کا چکر لگا لے‘ کاموں کا ڈھیر اس کی فرصت کے منتظر ہیں۔‘‘ وہ شہیر کی قمیص کے بٹن ٹانکنے میں مصروف تھی جب دادی جان نے اسے کہا۔
’’میں کبھی کبھی سوچتی ہوں میری اولاد کتنی خود غرض ہے‘ میلوں دور جاکر بیٹھے ہیں‘ ہفتوں بعد فون کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں حق ادا ہوگیا اگر تم دونوں میرے پاس نہ ہوتے تو مجھ بوڑھی کا کیا بنتا؟‘‘ ان کے جھری زدہ چہرے پہ اداسی نمایاں تھی۔
’’دادی جان آپ یہ فضول باتیں کیوں سوچتی ہیں؟ انہیں یاد نہیں آتی تو آپ کیوں ان کے لیے آہیں بھر رہی ہیں؟ اللہ مغفرت کرے اگر دادا جان ہوتے تو کہتے تمہاری دادی کو ہماری یاد آتی نہیں اور رقیب کے لیے دل میں یاد کے دیئے روشن کیے ہوئے ہیں۔‘‘ وہ بات مکمل کرتے ہی وہاں سے اٹھ کر بھاگ کھڑی ہوئی کیونکہ دادی جان کے ہاتھ میں جوتی آچکی تھی۔
’’آہ…‘‘ دادی جان نے جوتی نشانے پہ ماری مگر نشانہ چوک گیا اور دروازے سے اندر آتے شہیر کو جا لگی۔
’’یہ کیا ہورہا ہے؟ دادی جان ویسے آپ کو نظر نہیں آتا اور نشانے آپ ایسے لگاتی ہیں کہ کیا ہی کوئی ماہر شکاری لگاتا ہوگا۔‘‘ وہ سر پہ ہاتھ رکھے ان کے پاس آبیٹھا۔
’’تمہیں کس نے کہا تھا کہ سامنے آجائو۔‘‘ انہوں نے الٹا چورکوتوال کو ڈانٹے والا حساب کیا۔ ’’اب تم وہاں کھڑی دانت ہی نکالتی رہوگی یا بھائی کو پانی بھی پلائوگی۔‘‘ انہوں نے دور کھڑی ہنستی ہوئی لالی کو بھی جھڑکا تو وہ ہنستی ہوئی کچن میں چلی گئی۔
’’اصغر کا تمہارے ساتھ کوئی رابطہ ہوا؟‘‘ لالی کے جاتے ہی انہوں نے شہیر سے پوچھا۔
’’دادی جان وہ اپنی دنیا میں مگن ہیں‘ انہیں کیا ضرورت کہ وہ ہم سے کوئی رابطہ رکھیں۔ انہیں تو یاد بھی نہیں ہوگا کہ اپنی ماں پہ وہ دو بچوں کا بوجھ ڈال آئے ہیں۔‘‘ ان کے سوال نے اسے شکستہ کردیا تھا۔
’’ارے تم بھی حد کرتے ہو‘ میری زندگی تم لوگوں سے ہی منسلک ہے تو بوجھ کیسا ہوا؟ اللہ بخشش کرے تمہارے دادا جان کی کہ وہ کہا کرتے تھے بچے جنت کے پھول ہوتے ہیں۔ ان سے ہی گھر میں رونق ہوتی ہے‘ اب تم لوگ بڑے ہوچکے ہو تو جنت کے پھول کہنا عجیب لگے گا۔‘‘ چند پل کے لیے خاموشی ہوئی پھر بولیں۔ ’’چلو جنت کے درخت کہہ لیتے ہیں۔‘‘ بات کے اختتام پہ وہ مسکرا دیا کہ دادی جان کی خاموشی پھول کا مترادف سوچنے کے لیے تھی۔
۹…YYY …۹
’’دادی جان صبح سے سب کو یاد کررہی ہیں‘ آپ چچا جان سے اسکائپ پہ بات کروا دیں شاید کچھ دل بہل جائے۔‘‘ لالی نے ان کی اداسی دور کرنے کے لیے مشورہ دیا۔
’’ارے گولی مارو موئے اسکائپ کو جو سامنے دیکھ کر نظروں کو سکون ملتا ہے وہ اس ڈبے میں دیکھ کر نہیں آتا۔‘‘ شہیر نے ان کی اداسی محسوس کرتے ہوئے انہیں بانہوں میں لیا مگر لاکھ سود اصل سے پیارا ہو کبھی پانی کی پیاس دودھ سے نہیں بجھتی‘ انہوں نے اس کی پریشانی کا سوچتے ہوئے آنسو پی لیے مگر دل اداسی کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔
’’دادی جان… یہ لیں فون‘ بات کریں۔‘‘ وہ دل کو سمجھانے میں مصروف تھیں جب لالی کارڈ لیس پکڑے ان کے پاس آئی۔
’’کس کا فون ہے؟‘‘ انہوں نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’چچا جان کا کہہ رہے ہیں بہت ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی جھٹ فون انہوں نے پکڑ لیا۔
’’وعلیکم السلام! آگئی مجھ بوڑھی کی یاد‘ تمہیں خیال آگیا کہ ایک ماں پیچھے چھوڑ آئے ہو۔‘‘ چچا جان کے سلام کرتے ہی دادی جان شروع ہوگئیں۔
’’تم کمانے کی غرض سے باہر گئے تو میں نے تمہاری خواہش کے سامنے لب سی لیے اور ساتھ بیوی بچے بھی لے گئے کہ ان کے بغیر تمہارا رہنا مشکل ہے‘ کبھی یہ سوچا ہے کہ میں کیسے اپنی اولاد کے بنا رہ رہی ہوں‘ ہر سانس آخری لگتی ہے‘ نہ جانے کب بلاوا آجائے مگر تم لوگوں کو کیوں خیال آئے گا۔‘‘ دادی جان کوئی بات سنے بنا بولے جارہی تھیں۔
’’تم بول لو میں خاموش ہوجاتی ہوں۔ اتنے عرصے بعد فون کرتے ہو اور اوپر سے شکوہ کہ میں تمہاری سن نہیں رہی۔‘‘ ان کے جواب پہ وہ دونوں مسکرائے۔ دادی جان چچا جان کو خوب آڑے ہاتھوں لیے رہی تھیں۔
’’کیا… تم سچ کہہ رہے ہو؟‘‘ وہ اچانک اونچی آواز میں بولیں تو وہ دونوں بھی ان کی جانب متوجہ ہوئے۔
’’اتنی دیر سے باتیں بنا رہے ہو اور کام کی بات اب بتائی ہے۔ اب فون بند کرو‘ مجھے یہ خوش خبری بچوں کو سنانے دو۔‘‘ انہوں نے چچا جان کے جواب کا انتظار کیے بنا فون لالی کو پکڑا دیا۔
’’کیا ہوا دادی جان‘ یہ ایک دم چہرے پہ رونق کیسے آگئی؟‘‘ شہیر نے تعجب سے پوچھا۔
’’اکبر کہہ رہا تھا سارے بچے ضد کررہے ہیں پاکستان جانے کی اور وہ چند دنوں تک پاکستان آرہے ہیں۔‘‘ دادی جان کی آواز میں خوشی کی کھنک تھی۔
’’اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سن لی شاید کبھی ہماری بھی سن لی جائے۔‘‘ لالی نے دادی جان کو گلے لگا لیا۔
’’اب اداسی چھوڑو اور اوپر کا پورشن صاف کرو‘ تمہارے چچا کو عقل آگئی تو تمہارے باپ کو بھی آجائے گی۔‘‘ دادی جان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خود ہی اوپر کے پورشن کا جائزہ لینے پہنچ جائیں اس لیے پورشن کی صفائی کی ذمہ داری لالی کو سونپ دی تھی۔
۹…YYY …۹
رات کا اندھیرا زمین پہ دستک دینے لگا تھا‘ گرمی کی تپش بھی مدھم ہوا کے باعث ختم ہوگئی تھی‘ لائونج میں محفل جمی ہوئی تھی‘ وہ گھر جہاں لالی کی آوازیں گونجتی تھیں‘ اب وہاں طرح طرح کی آوازیں سننے کو مل رہی تھیں‘ شور کا یہ عالم کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی‘ دادی جان کسی بات پہ ہنستی تو خوشی ان کی آنکھوں کو نم کردیتی تھی‘ لالی کچن اور لائونج کے درمیان گھن چکر بنی ہوئی تھی۔
’’لالی‘ تم بھی بیٹھ جائو۔‘‘ وہ چائے کے خالی کپ اٹھائے واپس کچن میں جارہی تھی کہ چچی جان بول اٹھیں۔
’’چچی جان‘ کچن کا تھوڑا سا کام رہ گیا ہے پھر آپ لوگ مجھے اپنے درمیان ہی پائیں گے۔‘‘ اس نے جاتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا۔
’’ارے شکر کرو کام کررہی ہے ورنہ اسے اٹھانے کے لیے منتیں کرنی پڑتی ہیں۔‘‘ اس کے جاتے ہی دادی جان نے دھیمی آواز میں کہا تو سب مسکرا دیئے۔
’’اماں‘ یہ شہیر کہاں گیا؟ ہمیں چھوڑ کر ایسا غائب ہوا کہ دوبارہ نظر نہیں آیا۔‘‘ اکبر صاحب نے سوال کرتے ہوئے متلاشی نگاہیں اردگرد گھمائیں۔
’’وہ کب عادی ہے ایسی محفلوں کا اسی لیے شرماتے ہوئے کہیں بیٹھ گیا ہوگا۔ تم بھی تو لڑکیوں کا ڈھیر اٹھا لائے ہو اور لڑکوں کو وہاں چھوڑ آئے۔‘‘ دادی جان نے چچا کے سوال پہ ایسا دبنگ جواب دیا کہ انہیں خاموشی میں ہی عافیت محسوس ہوئی۔
’’اماں‘ یہ سب فارغ تھیں تو یہاں آنے کی ضد کرنے لگیں‘ لڑکوں کے امتحان ہونے والے تھے اگر ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرتے تو یہ چکر بھی کھٹائی میں پڑ جاتا۔ ہمیں یہی بہتر لگا کہ ابھی چکر لگا لیتے ہیں لڑکوں کا کیا ہے آتے جاتے رہیں گے۔‘‘ چچی جان نے تفصیلی جواب دیا تاکہ دادی جان مطمئن ہوسکیں۔
’’تم نے تو آتے جاتے ایسے کہا ہے جیسے پچھلی گلی سے آنا ہے۔ مجھے بوڑھی سمجھ کر سبز خواب دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘‘ دادی جان نے لڑکوں کے نہ آنے کا غصہ خوب نکالا۔
’’دادی جان… بابا کہتے تھے آپ غصے کی بہت تیز ہیں مگر مجھے تو بہت فنی لگ رہی ہیں۔‘‘ لائبہ نے کہا تو لالی نے اسے ایسے دیکھا جیسے دماغی حالت پہ شبہہ ہو۔
’’ہاں بیٹا مجھے مسخریاں ہی تو آتی ہیں۔‘‘ انہوں نے ایسے انداز میں کہا کہ لائبہ چپ کر گئی۔ لالی لبوں تلے مسکراہٹ دباتے ہوئے شہیر کو بلانے چلی گئی۔
۹…YYY …۹
سورج افق پہ اپنی متوالی چال چل رہا تھا اور نیچے دنیا اس کے غصے کا نشانہ بنی ہوئی تھی۔ ہر کوئی قہرباز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا مگر اس کی بے نیازی عروج پہ تھی فلک سے کالے بادلوں کا گروہ اٹھا اور دیکھتے دیکھتے ہر سو اپنی راجدھانی قائم کر گیا۔ لمحوں میں آسمان کا رنگ سنہری سے کالا ہوگیا۔ فضا مسحور کن ہوئی اور بادلوں کے کسی ٹکڑے نے عالم سرور میں اپنا بند کھولا تو آسمان سے سفید بوندوں کا تانتا بندھ گیا۔ چند لمحوں میں جلتی زمین پانی سے جھل تھل ہوگئی تھی۔
’’لالی آپی… کیا آپ فارغ ہیں؟‘‘ وہ ٹی وی پہ کوئی ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھی جب دھیمے قدموں سے آئمہ اس کے پاس آکھڑی ہوئی۔
اس نے مسکراتی نگاہوں سے سامنے کھڑی پونی ٹیل میں بالوں کو قید کیے ہاتھوں کو مروڑتی کنفیوژ سی لڑکی کو دیکھا۔ چچا جان کی فیملی میں یہ لڑکی اسے سب سے زیادہ کیوٹ لگی تھی۔
’’میں فارغ تو نہیں ہوں۔‘‘ اس کے فارغ نہ ہونے کا سن کر اس کا منہ لٹک گیا۔
’’لیکن اگر اتنی پیاری گڑیا چاہ رہی ہے کہ میں سب کام چھوڑ دوں تو میں اس کا دل کیسے توڑ سکتی ہوں۔‘‘ کچھ دیر کے بعد اس نے بات مکمل کی تو اترا ہوا چہرہ پل میں کھل اٹھا۔
’’تو پھر جلدی سے اٹھیے اور میرے ساتھ باہر لان میں چلیے‘ اتنا اچھا موسم ہے کہ پوچھئے نہیں۔‘‘ اس نے جوش سے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ کھینچتی ہوئی باہر لے گئی۔
بارش کی بوندوں نے اس پہ بھی خوشگوار اثر ڈالا اور پل میں ساری کوفت بھول کر وہ آئمہ کے ساتھ موج مستی میں مگن ہوگئی تھی۔ چھوٹے سے لان میں بھاگتے‘ ایک دوسرے کو پکڑتے‘ وہ ایسے کھلکھلا رہیں تھیں کہ آوازیں پورے گھر میں گونج رہی تھیں۔
’’آئمہ باقی سب کہاں ہیں؟‘‘ اسے اچانک محسوس ہوا کہ وہ دونوں اکیلی ہیں۔
’’ماما‘ پاپا کسی سے ملنے گئے ہیں اور باقی سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ میں اکیلی بور ہورہی تھی تو آپ کے پاس آگئی۔‘‘ وہ لان کے وسط میں کھڑی بازو کھولے منہ اوپر کیے ننھی بوندوں کو خوش آمدید کہہ رہی تھی۔
’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ لالی جواب دینے ہی لگی تھی کہ شہیر کی جھنجلائی ہوئی آواز سنائی دی۔ وہ دو دن سے آفس کے کام کے سلسلے میں شہر سے باہر تھا۔ چچا جان کی فیملی سے بھی اس دن سرسری ملاقات ہوئی تھی آج کچھ دیر پہلے گھر آیا اور لیٹے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ باہر سے آنے والی آوازوں نے ساری نیند رفو چکر کردی تھی۔
’’ارے وائو… شہیر بھائی مجھے پتا نہیں تھا آپ بھی گھر میں ہیں‘ واقعی آج بہت اچھا دن ہے۔‘‘ آئمہ خوشی سے چیخی اور ساتھ ہی اس کے نہ نہ کرنے کے باوجود اسے بھی لان میں گھسیٹ لائی۔ اس کی خوشی دیکھتے ہوئے شہیر بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔
لالی ریکٹ شٹل لے آئی‘ وہ دونوں ایک ٹیم بن گئی اور شہیر اکیلا ان کے مقابل تھا۔ بارش کھیل کا مزا دوبالا کررہی تھی تائبہ بارش کا مزا لینے ٹیرس پہ آئی تو نیچے سے آنے والی آوازوں پر چونکی۔ اس نے نیچے دیکھا تو حیران رہ گئی۔
’’لائبہ… ان تینوں نے نیچے اولمپک کا آغاز کردیا ہے‘ آئو ہم دونوں بھی شامل ہوجاتی ہیں۔‘‘ تائبہ فوراً واپس مڑی اور اسے بھی ساتھ آنے کو کہا۔
’’یہ بچوں والے کام تم سب کو ہی مبارک ہوں۔‘‘ اس نے کتاب سے نظر اٹھائی اور تائبہ کو ایسے دیکھا جیسے اس نے بے وقوفانہ بات کردی ہو۔
’’تم ایک کتاب پڑھ کر فلاسفر بن جائو‘ ہم بے وقوف ہی بھلے۔‘‘ اس نے بھی دوبدو جواب دیا اور نیچے بھاگ گئی۔
’’ارے تم دونوں نے کیا شہیر بھائی کو اکیلا سمجھا ہوا ہے؟ ان کی بہن آگئی ہے اب تم لوگ اپنی خیر منائو۔‘‘ اس نے آتے ہی کمر کس لی۔
’’لالی آپی… یہ کہاں سے آگئی؟ اب ہماری ہار پکی ہے۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘ لالی نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔
’’کیونکہ یہ محترمہ کالج لیول پہ چمپئین رہ چکی ہیں اور یہ چند ماہ پہلے کی بات ہے۔‘‘ آئمہ کے منہ کے زاویے بگڑ رہے تھے۔
تائبہ نے شروعات کی اور پھر شہیر بھی صرف برائے نام کھیلتا رہا‘ لان کا کون سا کونا تھا جہاں اس نے ان دونوں کو نہیں دوڑایا۔ وہ دونوں ایک شاٹ کو ریورس کرنے بھاگی مگر شاٹ پک کرنے سے پہلے وہ دونوں آپس میں ٹکرا گئیں اور زور دار چیخ گونجنے پہ وہ دونوں ان تک آئے تھے۔
’’بچت ہوگئی یا نئے اسپئر پارٹس لگوانے پڑیں گے۔‘‘ شہیر نے جھکتے ہوئے بظاہر ہمدردانہ لہجے میں کہا تو ان دونوں نے سر اٹھاتے ہوئے قہربار نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
ان کے چہروں پہ بنے مٹی کے نقش ونگار نے لان میں قہقہوں کے شگوفے کھلا دیئے تھے مگر سب سے اونچا قہقہہ ٹیرس پہ گونجا تھا۔ شہیر نے چونک کر پیچھے ٹیرس کی سمت دیکھا تو وہ خود کو نارمل کرچکی تھی مگر ہونٹوں کے کناروں پہ مچلتی مسکراہٹ وہ دیکھ چکا تھا۔ اس کے نہ آنے پہ وہ سمجھا تھا کہ اسے یہاں کے لوگ شاید پسند نہیں آئے مگر اب یہ قہقہہ نئی کہانی سنا رہا تھا۔ اس نے مطمئن ہوتے ہوئے چہرہ موڑ لیا جہاں تائبہ ان دونوں کو اٹھانے کی کوشش کررہی تھی۔
۹…YYY …۹
سارے افراد ڈائننگ ٹیبل پہ بیٹھے تھے جب کہ لالی کچن سے ٹیبل تک چکر لگا رہی تھی۔ دادی جان سب لڑکیوں سے ان کے پسندیدہ کھانوں کا پوچھ رہی تھیں کیونکہ چند دنوں میں رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہونے والا تھا اور وہ نہیں چاہتی تھیں ان سب کو کسی چیز کی کمی محسوس ہو۔ وہ شاید ان سب کو اتنا مطمئن کرنا چاہ رہی تھیں کہ وہ دوبارہ یہاں آنا چاہیں۔
شہیر سب کی باتوں سے بے نیاز لالی کو گھن چکر بنے دیکھ رہا تھا۔ سب باتوں میں مگن تھے کسی کو اس کی کمی محسوس نہیں ہورہی تھی۔ اس نے چند لمحے برداشت کیا اور پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ سب نے اسے اٹھتے دیکھا مگر پوچھا کچھ نہیں۔ لالی ہاٹ پاٹ اٹھائے مڑی تو وہ غصے سے بھرا پیچھے کھڑا ہوا۔
’’تم کسی کی ملازمہ نہیں ہو لالی‘ تمہاری کوئی ہیلپ نہیں کرسکتا تو تمہیں بھی اتنے لوازمات تیار کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ غصہ ضبط کرتے دبی آواز میں بولا۔
’’کیا ہوگیا بھائی… آپ ایسے کب سے سوچنے لگے؟‘‘ وہ حیرانگی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
’’میں اتنے دنوں سے دیکھ رہا ہوں تم حواس باختہ اِدھر سے اُدھر چکراتی پھر رہی ہو اور ساری دنیا باتوں میں مگن ہوتی ہے۔ اگر کسی کو تمہارا احساس نہیں تو تمہیں بھی ان کے لیے اتنا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس نے ہاٹ پاٹ پکڑ کر واپس سلیب پہ رکھ دیا۔
’’بھائی…! وہ سب یہاں مہمان ہیں اور اگر آپ کی باتیں دادی جان نے سن لیں تو انہیں کتنا برا لگے گا۔ آپ ایسی باتیں کرتے بالکل اچھے نہیں لگتے۔‘‘ وہ ہاٹ پاٹ لینے واپس مڑی تو اس کی نگاہوں میں کچن سے دور ہوتا سیاہ آنچل آیا اس کے بدترین خدشے کی تصدیق ہوگئی تھی۔
’’مجھے لگتا ہے کسی نے سن لیا بلکہ لائبہ نے سب سن لیا اور وہ تو پہلے ہی محتاط رہتی ہیں‘ آپ بھی ناں… نہ جانے کیا اول فول بولے چلے جاتے ہیں۔‘‘ وہ اس کے ہاتھوں سے خود کو چھڑاتی پریشانی سے باہر لپکی۔
اس کے آتے ہی کھانا شروع ہوگیا مگر سارا وقت وہ دزدیدہ نگاہوں سے لائبہ کو ہی دیکھتی رہی۔ اؔس کے چہرے پہ کوئی تاثر نہیں تھا جس سے وہ کچھ اخذ کرپاتی۔
’’لالی… تیرا دھیان کہاں ہے؟ کھانا سامنے ہے اور تو اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی ہے۔ اللہ بخشے‘ تیرے دادا جان کہا کرتے تھے رزق کی بے حرمتی کرنے سے اللہ سخت ناراض ہوتا ہے اور جس نے رب کو ناراض کردیا اس نے سب کھو دیا۔‘‘ دادی جان اس کی بے خیالی بھانپ گئیں اور سختی سے ٹوکا۔
’’بیٹا… آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ناں؟ سارا دن کاموں میں لگی رہتی ہو۔ تم سب کل سے بہن کے ساتھ ہاتھ بٹائوگی۔ اپنا گھر ہے اس لیے اب یہ مہمان داری والا قصہ ختم کرو۔‘‘ چچی جان نے اس کی خاموشی کو طبیعت کی خرابی سمجھتے ہوئے سب لڑکیوں کو وہی بات کہہ دی جس سے وہ بچنا چاہ رہی تھی۔ چچی کی بات کے اختتام پہ اس نے تلخ نظروں سے شہیر کو دیکھا تو وہ نگاہ چرا گیا‘ جب کہ لائبہ کے تاثرات اس پل بھی سپاٹ تھے۔ دن میں ہونے والا نگاہوں کا تصادم اپنا اثر کھو چکا تھا۔
سب کھانا کھا کر کچھ دیر بعد سونے کے لیے چلے گئے اور ایک وہ تھی جو رات گئے بھی سوگوار چہرہ لیے ٹی وی لائونج میں بیٹھی تھی۔ ٹی وی پہ کوئی ڈرامہ چل رہا تھا مگر اس کی نگاہیں کسی نادیدہ مرکز پہ ٹکی ہوئی تھیں۔ شہیر پانی پینے کے لیے کمرے سے باہر نکلا تو اسے دیکھ کے رک گیا۔
’’تم یہاں کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ اس نے حیرانی سے پوچھا مگر جواب ندارد اور اس نے رخ بھی پھیر لیا تھا۔
’’میں نے ایسی بھی کوئی بات نہیں کہہ دی تھی لالی‘ جس پہ یوں روٹھا جائے‘ تمہاری فکر کی اور الٹا مجھے ہی مورد الزام ٹھہرا رہی ہو۔ اب یوں رات گئے نیند کو دور بھگاتی ہوئی تم مجھے خوامخواہ ندامت کا شکار کرنے کی کوشش کررہی ہو۔‘‘ اس کا چہرہ اپنی جانب کرتے ہوئے اس نے بات مکمل کی۔
’’ہاں تو آپ کو ہونا چاہیے نادم… آپ نے غلط کیا بلکہ بہت غلط کیا‘ اتنے سالوں بعد لگا کہ اس گھر میں مکین رہتے ہیں۔ دادی اور آپ کے ہوتے ہوئے بھی مجھے ایک بہن کی کمی ہمیشہ محسوس ہوئی اور اب اگر چند دن مجھے اپنے لیے مل رہے تھے تو آپ نے ہلاکو خان ضرور بننا تھا‘ لائبہ نے سب سن لیا اور اگر وہ لوگ یہاں سے چلے گئے تو میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی۔‘‘ اس نے ریموٹ غصے سے پٹخا اور اتنے شدید ردعمل پہ وہ دنگ رہ گیا۔
’’لالی… وہ لوگ چند دنوں کے لیے آئے ہیں‘ تمہارا اتنا لگائو بعد میں تمہارے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے‘ اپنی زندگی کو دوسروں کا محتاج نہیں بناتے اپنے دل کی ڈور دوسرے کے ہاتھ میں تھما دیں تو کچھ ٹھیک نہیں ہوتا۔ وہ نہ جانے کب ڈور اتنی کھینچ لے کہ سانس لینا مشکل ہوجائے اور کب اتنی ڈھیل دے کہ کوئی اور وہ ڈور کاٹ دے‘ آپ کبھی واپس مڑ ہی ناسکیں۔‘‘ اس نے لالی کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی۔
’’وہ لوگ پاپا کی طرح نہیں ہیں کہ کبھی پیچھے رہ جانے والے کو نہ دیکھیں اور اگر آپ چاہیں تو ہم لائبہ کو روک سکتے ہیں۔ آپ ایسا کرسکتے ہیں اور میرے لیے آپ کو ایسا کرنا ہوگا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں کوئی خیال ابھرا تو اس نے شہیر کے ہاتھ زور سے دبوچ لیے۔
’’مجھے تمہاری دماغی حالت پہ شبہہ ہورہا ہے۔‘‘ وہ پل میں اس کی سوچ پڑھ گیا تھا۔
’’اس کی دماغی حالت ٹھیک ہے برخوردار‘ تم اپنی نظر اور دماغ کا علاج کرائو۔‘‘ دادی جان نہ جانے کب ان کے پیچھے آن کھڑی ہوئی تھیں۔
’’مجھ سے اکبر بھی اس بارے میں بات کرچکا ہے اگر ایسا ہوجائے تو اس میں حرج بھی نہیں ہے۔ تمہارا باپ تو بھول گیا کہ اس کی کوئی اولاد بھی ہے‘ تم لوگوں کا فرض میں نے ہی ادا کرنا ہے اور اگر چچا سے تعلقات مضبوط ہوجائیں گے تو میرا گھرانہ جڑا رہے گا۔‘‘ وہ پہلے ہی سارے سود وزیاں کا حساب لگائے بیٹھی تھیں۔
’’دادی جان… آپ کی ہر بات سر آنکھوں پہ مگر میں لالی کا فریضہ ادا کیے بغیر اپنا نہیں سوچ سکتا‘ مجھ سے پہلے آپ اس کے متعلق سوچیں۔‘‘ اس نے اپنی بات کہنے میں ایک پل نہیں لگایا۔
’’لو تو میں پاگل ہوں جو اس کو اپنے سر پہ بٹھا کے رکھوں گی‘ اکبر نے بڑے بیٹے کے لیے تمہاری اس نالائق بہن کا کہا ہے‘ ماشاء اللہ نوکری سے لگ گیا ہے اور رمضان کے آخری عشرے میں پاکستان بھی آرہا ہے تم دونوں اپنے گھروں کے ہوجائو گے تو میری جان کو بھی سکون آئے گا۔‘‘ انہوں نے اسے مکمل آگاہی دی۔
وہ جو اپنی بات پہ شش وپنج کا شکار تھا لالی کے ذکر پہ مطمئن ہوگیا تھا۔ سادات سے اس کی سوشل میڈیا پر سلام دعا تھی۔ ایم بی اے کے بعد جاب کی تلاش میں تھا اور اب دادی کی زبانی اس کی نوکری کا بھی علم ہوگیا تھا۔ خوش شکل‘ خوش لباس اور اچھے اخلاق کا حامل سادات اسے کافی حد تک پسند تھا اور اب لالی کے لیے اس کا رشتہ اسے دلی آسودگی دے رہا تھا۔
’’میں تو بھائی کی بات کررہی تھی یہ میرا ذکر کہاں سے آگیا؟‘‘ اس نے کوفت سے کہتے ہوئے دونوں کو دیکھا۔
’’پہلے تمہاری بات بعد میں اس کا کچھ ہوگا اور اللہ کی مار اپنے رشتے میں بھی ایسے پٹرپٹر بول رہی ہے‘ کچھ شرم کرو اور یہاں سے جائو۔‘‘ دادی جان نے اپنا زور اس کے کندھے پہ آزمایا۔
’’آپ میں سے کسی نے اسے دیکھا نہیں‘ کوئی جانتا بھی نہیں‘ اتنے سال ہوگئے اسے یہاں سے گئے پتا نہیں کیسے طور طریقے ہوں گے‘ ہر بات سے لاعلم ہوتے ہوئے آپ کیسے اتنی بڑی بات سوچ سکتے ہیں۔‘‘ وہ کہاں چپ رہنے والی تھی کندھا سہلاتے ہوئے بولی۔
’’ہمارا خون ہے‘ تمہارے چچا کا بیٹا ہے‘ اس سے بڑھ کر کیا جاننا اس کے بارے میں… اللہ بخشے‘ تمہارے دادا جان کہا کرتے تھے‘ اپنے مار کے بھی چھائوں میں پھینکتے ہیں اور میں کبھی اختلاف نہ کروں ان کی باتوں سے۔‘‘ دادی جان نے کانوں کو ایسے ہاتھ لگایا جیسے بات کرتے ہوئے بھی کسی گناہ کا ارتکاب کررہی ہوں۔
’’واہ دادی جان… کیا ہی عجیب بات کی آپ کے سرتاج محترم نے‘ جب مر ہی گئے تو کیا فرق دھوپ میں پھینکے یا چھائوں میں‘ مر جانے کے بعد دھوپ چھائوں کا احساس کہاں رہتا ہے؟‘‘ وہ لالہ رخ تھی کسی بات کو آسانی سے ہضم نہ کرنے والی اور اس کا جواب دادی جان کو سر پکڑنے پہ مجبور کر گیا تھا۔
’’شہیر اسے کہو میری نظروں کے سامنے سے دور چلی جائے ورنہ میں کچھ برا کہہ دوں گی۔‘‘ انہوں نے غصے سے پاس پڑی لاٹھی پکڑی تو اسے بھاگتے ہی بنی۔
’’اس پاگل لڑکی کو تم ہی سمجھاؤ‘ ماں باپ کے بنا اولاد کو کون پوچھتا ہے؟ یہ تو چچا ہے‘ خون کی کشش فیصلہ کروا گئی اس سے ورنہ اس کی اولاد کو کمی تھی رشتوں کی… مگر یہ احمق اپنے پائوں پہ خود ہی کلہاڑی مارنا چاہ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے بے بسی سے سامنے بیٹھے پوتے کو دیکھا۔
’’آپ فکر نہ کریں میں بات کروں گا اس سے اور وہ مان جائے گی۔‘‘ اس نے انہیں مطمئن کرنا چاہا۔
’’اس کے ماننے کی مجھے کب پروا ہے‘ میں نے جو کہہ دیا بس وہی ہوگا۔‘‘ انہوں نے حتمی لہجے میں کہا اور لاٹھی ٹیکتی ہوئی واپس چل دیں اور اسے سوچوں کے بھنور میں اکیلا چھوڑ گئیں۔
۹…YYY …۹
صبح کا اجالا ہر سو پھیل چکا تھا۔ اس کی آنکھ کھل چکی تھی مگر وہ کسلمندی سے لیٹی رہی۔ اسے باہر کی کوئی فکر نہیں تھی اور نہ جانے کیوں وہ اتنی لاپروا ہورہی تھی۔ اسے چچا جان کی سوچ پہ غصہ آرہا تھا‘ انہوں نے کیسے اسے اس کے گھر سے دور کرنے کا سوچا‘ لائبہ کو روکنے کے سارے ارادے مٹتے ہوئے محسوس ہوئے‘ دل اور دماغ کی الجھن نے اسے ہلکے سے بخار میں مبتلا کردیا اور آنکھوں کے کنارے نم ہوگئے تھے۔
’’لالی آپی… یہ دیکھیں ماما نے آپ کے لیے سوپ بھیجا ہے۔ اب جلدی سے پیں اور اٹھ کر باہر آئیں‘ آپ کے بنا کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘ وہ جو یہ سوچ کر کڑھ رہی تھی کہ کسی کو اس کی فکر نہیں‘ آئمہ کی آمد اور سوپ کا پیالہ اس کی ساری اداسی دور بھگا گیا اس نے اٹھتے ہوئے سوپ لے لیا۔
’’آپ میری وجہ سے بیمار ہوگئی ہیں‘ لائبہ آپی بھی مجھے ڈانٹ رہیں ہیں کہ کیوں آپ کو بارش میں لے کر گئی۔‘‘ اس نے ندامت سے کہا تو لالی کو اس پہ بے تحاشہ پیار آیا۔
’’میں لائبہ سے پوچھتی ہوں کہ کیوں بلاوجہ آپ کو ڈانٹ رہی ہے؟ آپ تو میری سویٹ سی فرینڈ ہو۔‘‘ اس کی ساری اداسی اڑن چھو ہوگئی تھی۔
’’یہاں کیا رازو نیاز ہورہے ہیں؟ کچھ ہمیں بھی تو پتا چلے…‘‘ اسی پل تائبہ بھی وہیں چلی آئی۔
’’تمہاری برائی کررہے تھے۔‘‘ لالی کے چڑانے پہ وہ ہنس دی۔
’’آپ تو دشمنوں کو برا نہ کہیں ہم تو پھر آپ کے دوستوں میں ہیں۔‘‘ اس نے شرارت سے لالی کو کندھا مارا تو وہ اسے گھور کے رہ گئی۔
’’لائبہ کہاں ہے۔‘‘ لالی کے دل میں وہم پنپ رہا تھا کہ وہ ابھی تک ناراض ہے۔
’’لیں جی… جس کام کے لیے آئی تھی بلکہ بھیجی گئی تھی وہ تو بھول ہی گئی۔ سامنے والے شاید گھر کی شفٹنگ کررہے ہیں تو آپی ٹیرس پہ کھڑی دیکھ رہی ہیں۔ ایسے بے ڈھنگے طریقے سے سامان اِدھر اُدھر کررہے ہیں کہ ہنس ہنس کے برا حال ہے۔ لائبہ نے کہا آپ کو بھی بلا لائو مل کے انجوائے کرتے ہیں۔‘‘ اس کی بات سے وہ ہلکی پھلکی ہوگئی تھی یعنی لائبہ بات بھول گئی۔
’’چلو چلتے ہیں۔‘‘ اس نے فوراً سے دوپٹہ لیا اور ان کی ہمراہی میں باہر نکل آئی۔
’’یہ سارا ٹولہ کہاں جارہا ہے؟‘‘ انہوں نے سیڑھیوں پہ پائوں ہی رکھا تھا کہ دادی جان کی آواز پہ رکنا پڑا۔
’’دادی جان… ٹیرس کے سامنے جو گھر ہے ناں وہاں کچھ لوگ شفٹنگ کررہے ہیں تو وہ دیکھنے جارہے ہیں۔‘‘ آئمہ نے فٹ سے ساری بات اگل دی۔
’’لو یک نہ شد دوشد… یہ ایک پاگل تھوڑی تھی جو ساتھ یہ بھی مل گئیں۔ شفٹنگ بھی کوئی دیکھنے والی چیز ہے؟ اور وہ کیوں کہیں جانے لگے ان کا تو آبائی گھر ہے۔ تم سب کا دماغ چل گیا ہے۔‘‘ دادی جان نے چچی جان کو یوں دیکھا جیسے اس سب میں ان کا قصور ہو۔
’’اماں جان دیکھنے دیں یہی تو چار دن ہیں پھر رمضان المبارک کی آمد ہے‘ عبادت سے ہی فرصت نہیں ملے گی۔‘‘ انہوں نے دادی جان کو باتوں میں لگایا اور انہیں ہاتھ کے اشارے سے جانے کا عندیہ دیا۔
لائبہ ٹیرس کی دیوار پہ کہنی ٹکائے سامنے دیکھنے میں مگن تھی اور اس مشغلے میں وہ تینوں بھی شامل ہوگئیں۔
’’دیکھو لالی‘ یہ لوگ کب سے الماری اوپر لے جانا چاہ رہے ہیں مگر صرف شور ہی کررہے ہیں الماری تو ایک انچ نہیں ہل پائی۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’مجھے نہیں لگتا شفٹنگ ہورہی ہے۔‘‘ لالی نے حالات کا جائزہ لیتے اپنا تجزیہ پیش کیا۔
’’مطلب…؟‘‘ وہ تینوں یک زبان بولیں۔
’’جو انکل سامان رکھوا رہے ہیں انہیں کبھی کبھار یہاں دیکھا ہے تو مطلب وہی لوگ یہاں رہ رہے ہیں‘ دروازے کے پاس لائٹنگ کا سامان نظر آرہا ہے اور گھر میں برتنوں کا ڈھیر بھی دھویا جارہا ہے۔‘‘
’’تو پھر یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ آئمہ نے تجسس سے پوچھا۔
’’میرے خیال میں کسی کی شادی ہے۔‘‘ اس نے دونوں آنکھیں گھماتے ہوئے یقین سے کہا۔
’’کیا…؟‘‘ وہ سب اتنے زور سے چیخیں کہ سامان اٹھانے والے بھی چونک گئے مگر ان کے متوجہ ہونے سے پہلے وہ سب نیچے بیٹھ چکی تھیں۔
’’اس میں اتنا چیخنے کی کیا بات تھی؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’یار ہم نے کبھی پاکستانی شادی نہیں دیکھی‘ مگر دیکھنے کا اشتیاق بہت زیادہ ہے‘ مہندی‘ ڈھولک‘ بارات‘ ڈولی… ان سب کا بس سنا تھا اب دیکھ بھی لیں گے۔‘‘ ان کی آنکھیں ایسے چمک رہی تھیں کہ جیسے گوہر نایاب ہاتھ آگیا ہو۔
’’آئو ماما کو بھی بتاتے ہیں۔‘‘ وہ سب نیچے چل دیں تو وہ بھی ان کے ہمراہ ہوگئی۔
’’دیکھ آئیں جو دیکھنے گئی تھیں۔‘‘ انہیں نیچے اترتا دیکھ کر دادی نے پوچھا۔
’’جی دادی جان… ہم تو شفٹنگ سمجھے تھے مگر لالی کہہ رہی ہے کہ سامنے والے گھر میں شادی ہے‘ اس مرتبہ ہم بھی پاکستان کی کوئی شادی دیکھیں گے۔‘‘ تائبہ نے جوش سے انہیں بتایا۔
’’کس کی شادی ہے لالی؟‘‘ نئی خبر سن کے وہ بھی متجسس ہوئیں۔
’’مجھے کیا پتا دادی جان‘ میں کب محلے کی سن گن لینے میں لگی رہتی ہوں۔ بس سامنے والے گھر میں تیاری دیکھ کر احساس ہوا کہ کسی کی شادی کی تیاری ہے اور جس سامان کو یہ شفٹنگ کہہ رہی ہیں میرے خیال میں جہیز کا سامان ہے۔‘‘ لالی نے دادی جان کے تجسس کو دیکھتے ہوئے مفصل جواب دیا۔
’’جہیز تو اس سامان کو کہتے ہیں ناں جو لڑکی میکے سے لاتی ہے؟‘‘ تائبہ نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا تو دادی جان نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’افف دادی جان… اتنا زیادہ اور مہنگا سامان لانا پڑتا ہے دلہن کو… دو ٹرک بھر کے آئے ہیں سامان کے‘ کیا ہر کسی کو ایسا کرنا پڑتا ہے؟‘‘ اس کی نگاہوں میں کچھ دیر پہلے کے مناظر گھوم گئے۔
’’بس کیا کہیں بیٹا‘ رسم ورواج کے نام پہ ایسے امور سر انجام دیئے جاتے ہیں جن کا ہمارے مذہب میں نام ونشان بھی نہیں۔‘‘ دادی جان نے تاسف سے تلخ حقیقت بتائی۔
’’تم لوگ بھی کیا گفتگو لے کر بیٹھ گئی… تم سب کی عمر نہیں ہے ایسی باتیں کرنے کی۔ اس لیے جائو اور مل جل کر کھانے کا انتظام کرو۔‘‘ نفیسہ چچی نے ان کی نان اسٹاپ چلتی زبانوں کو بریک لگائے اور وہ سب منہ کے بگڑے زاویے لیے کچن کی سمت چل دیں۔
۹…YYY …۹
چائے کی مہک نے لائبہ کی طلب بھی بڑھا دی اور کسی کو پاس نہ پاکر وہ خود ہی نیچے جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ سفید کیپری پہ شارٹ نیوی بلیو قمیص پہنے ہوئے تھی۔ ڈوپٹہ گلے میں ڈالے کچن کے دروازے پہ آن رکی۔ وہ جو مطمئن سی چلی آرہی تھی کچن میں موجود شہیر کو دیکھ کر ٹھہر گئی وہ بھی اسے دیکھ کر چند پل ٹھٹکا اور اگلے ہی لمحے رخ موڑ گیا‘ اس کی بے نیازی لائبہ کو سلگا گئی۔ اس نے واپسی کے لیے قدم موڑے کہ سامنے سے آتی لالی کو دیکھ کر رک گئی۔
’’آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں؟‘‘ لالی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’بس ایسے ہی آئی تھی‘ تمہیں نہ پاکر واپس جارہی تھی۔‘‘ اس نے چائے کی طلب کو گول کرتے ہوئے لمحہ میں بات بنائی۔
’’بھائی ابھی آفس سے آئے تو ان کے لیے چائے پکا رہی تھی۔ ایک کام کے لیے اندر گئی اور آپ اسی دوران آگئیں۔ آئیے کچھ دیر یہیں باتیں کرلیتے ہیں۔‘‘ اس نے لائبہ کا ہاتھ پکڑا اور کچن میں چلی آئی۔
’’لالی… میرے سر میں بہت درد ہے کیا یہ چائے مجھے مل سکتی ہے؟ دراصل صبح سے چائے نہیں پی تو اب سر دکھنے لگا ہے اوپر سے سامنے والوں نے اتنا شور مچایا ہوا ہے کہ سکون کا ایک پل نہیں مل رہا۔‘‘ لالی نے چائے کپ میں ڈالی ہی تھی کہ وہ کن اکھیوں سے شہیر کو دیکھتے ہوئے بولنے لگی۔ اس نے چونک کر سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا جو چند لمحے قبل بالکل تروتازہ تھی اور اب ایک ہاتھ سے کنپٹی کو مسل رہی تھی۔ لالی نے ایک لمحہ سوچے بنا کپ اسے پکڑایا اور وہ اس پہ غصیلی نظر ڈالتا وہاں سے نکل گیا۔ وہ خوب سمجھ رہا تھا کہ اس کا سر درد کس لیے تھا؟ لالی سے اس کی گفتگو وقتی ابال کے زیر اثر تھی اگر وہ گفتگو لائبہ سن چکی تھی جبکہ اس بات پہ مقابلے کے لیے آمادہ تھی تو اسے پیچھے ہٹنا ہی مناسب لگا تھا۔ اس کی وجہ قطعاً یہ نہیں تھی کہ دادی جان ان دونوں کے رشتے کے متعلق سوچ رہی تھیں بلکہ وہ لالی کے لیے کوئی مشکل کھڑی نہیں کرنا چاہتا تھا‘ سادات بہت اچھا لڑکا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی ذات کی وجہ سے لالی کی زندگی سے کوئی خوشی روٹھ جائے۔
’’چائے کے ساتھ میڈیسن بھی لے لیں۔‘‘ لالی نے فکرمندی سے کہا تو اس نے انکار میں سر ہلایا۔
’’لائبہ… آپ اس دن کی گفتگو سے ناراض ہیں کیا؟‘‘ لالی نے اسے تنہا اپنے ساتھ دیکھا تو دل کا خدشہ ظاہرکیا۔
’’نہیں میں تم سے قطعاً ناراض نہیں ہوں ہر انسان کی اپنی سوچ ہوتی ہے اور اس پہ دوسرا پابندی نہیں لگا سکتا لیکن تم اس سب کے لیے خود کو قصور وار نہیں سمجھو‘ یہ میرا اور تمہارے بھائی کا معاملہ ہے اور میں اسے بہتر طریقے سے حل کرسکتی ہوں۔‘‘ اس نے کپ سلیب پہ رکھا‘ مسکراتے ہوئے اس کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔
وہ اس سے کچھ اور بھی کہنا چاہ رہی تھی مگر باہر سے آنے والے ڈھول کی آواز اس کی آواز کو دبا گئی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا کے رہ گئیں۔
’’لالی آپی‘ لائبہ آپی‘ آپ لوگ یہاں ہو اوپر اتنا مزا آرہا ہے‘ گلی میں لڑکے بھنگڑا ڈال رہے ہیں… آئیں جلدی سے اوپر چلیں۔‘‘ آئمہ چھت سے بھاگتی ہوئی نیچے آئی اور انہیں اطلاع دے کر واپس چلی گئی۔ وہ چھت پہ آئیں تو گلی میں روشنی کا طوفان آیا ہوا تھا۔ کیمرہ مین کے فلیش‘ مووی میکر کی لائٹس‘ آرائشی لائٹس اور انار جلنے سے پوری گلی روشنی میں نہا گئی تھی۔
’’وہ دیکھیں شہیر بھائی بھی نیچے کھڑے ہیں۔‘‘ آئمہ نے ایک سمت اشارہ کیا اور اسی پل شہیر کی نظر بھی ان سب پہ پڑی تھی۔ اس کی پیشانی پہ لمحے میں بل پڑے تھے۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے ان سب کو پیچھے ہٹنے کو کہا۔
’’چلو جتنا دیکھ لیا اتنا ہی کافی ہے ورنہ بھائی الگ ڈانٹیں گے اور دادی جان الگ باتیں سنائیں گی۔‘‘ لالی اس کا اشارہ سمجھتے ہوئے پیچھے ہٹ گئی اور انہیں بھی پیچھے آنے کا کہا۔
’’بھئی ابھی تو دلہا ہی نہیں دیکھا۔‘‘ تائبہ نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
’’کل دیکھ لیں گے‘ بارات کے وقت بھائی آفس میں ہوں گے تو آسانی سے دیکھ لیں گے کہ قربانی کا بکرا کون سا ہے۔‘‘ لالی نے بہترین حل پیش کیا۔ لائبہ کا دل قطعاً اس کے ایک اشارے پہ پیچھے ہٹنے کو آمادہ نہیں تھا مگر صورت حال کا تقاضا یہی تھا۔
چھت سے نیچے آنے کے بعد وہ سب منہ لٹکائے لائونج میں بیٹھی تھیں۔ ڈھول کی آوازیں ان کی بے چینی کو دگنا کررہی تھیں۔
’’یہ کہاں کا انصاف ہے کہ خود باہر سب کچھ دیکھیں اور ہم اندر بیٹھ کر حسرتوں پہ ماتم کریں؟‘‘ تائبہ کی دہائیاں جاری تھیں۔
’’ایسی کون سی آفت آگئی جو لڑکے نے نیچے جانے کا کہہ دیا؟‘‘ دادی جان نے حیرت سے ان کے واویلے کا سبب پوچھا۔
’’دادی جان ہم دلہا ہی نہیں دیکھ پائے۔‘‘ اس نے اپنا دکھ بتایا۔
’’لو تو دلہا دیکھ کے کیا کرنا تھا؟ ادھر ہی رہتا ہے پھر کبھی دیکھ لینا۔‘‘ دادی جان کو ان عذر بے تکا لگا۔
’’دادی جان‘ دلہے کا پتا ہوتا تو ہم اسے نہ دیکھتیں کسی اور کو دیکھ لیتیں۔‘‘ لائبہ نے کہا تو سب کے قہقہے بے ساختہ تھے اور اسی پل شہیر نے لائونج میں قدم رکھا۔ لائبہ کی بات اس کی تیوریوں کو مزید گہرا کر گئی۔ اسی پل لائبہ کی نگاہ اس کے چہرے سے ٹکرائی تو اس نے اپنے لب دانتوں میں بھینچ لیے۔
’’افف… میں جب بھی کوئی بے تکی بات کرتی ہوں یہ کیوں آن دھمکتا ہے؟‘‘ اس نے بے بسی سے دل میں سوچا۔
اس نے ان سب میں بیٹھنا فضول سمجھتے ہوئے کمرے میں جانا مناسب سمجھا مگر ایک کڑی نگاہ اس پہ ڈالنا نہیں بھولا تھا جب کہ لائبہ نے اس کے جانے پہ شکر ادا کیا تھا۔ وہ نہ جانے کیوں اس کی ایک پل کی نظر سے کیوں خائف ہوئی تھی۔
۹…YYY …۹
رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا آغاز ہوچکا تھا۔ ہر چہرہ پُرنور ساعتوں سے منور اور ہر دامن رحمتوں سے بھر رہا تھا۔ سحرو افطار میں ایک پاکیزہ سی ہلچل ہوتی۔ دادی جان نے بھی گھریلو امور سے کنارہ کشی کرتے ہوئے سارا دھیان عبادت کی جانب مرکوز کر رکھا تھا۔ لڑکیوں نے بھی فضول کی چھیڑ چھاڑ ترک کرتے ہوئے ایک معمول بنا لیا تھا تاکہ رمضان کے مہینے سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ سحری کے بعد نماز اور قرآن کی تلاوت ہوتی‘ نمازوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ نوافل و اذکار کا ورد بھی کیا جاتا۔
دادی جان کا حکم تھا کہ افطاری سے تھوڑی دیر پہلے سارے گھر والے دستر خوان پہ موجود ہوں کیونکہ یہ وقت دعائوں کی قبولیت کا ہوتا ہے‘ پہلا عشرہ اختتام کی طرف گامزن تھا اور لڑکیاں دادی جان کے کہنے کے مطابق افطاری سے پہلے ہی دستر خوان لگا دیتیں‘ روزہ کھلنے میں وقت باقی تھا اور سب بیٹھے دعائوں میں مشغول تھے۔ دادی جان بے چینی سے پہلوں بدل رہی تھیں اور وجہ اکبر صاحب اور شہیر کا نہ ہونا تھا۔
’’بہو… یہ دونوں چچا بھتیجا کہاں ہیں؟ افطار کا وقت قریب ہورہا ہے اور ان دونوں کی خبر ہی نہیں۔ ایسی لاپروائی پہلے تو دیکھنے میں نہیں آئی۔‘‘
’’پتا نہیں اماں جان کسی ضروری کام کا کہہ کر نکلے تھے مگر ابھی تک واپسی نہیں ہوئی۔‘‘ نفیسہ بیگم نے ان کی تشویش دیکھتے ہوئے کہا۔
’’لڑکیوں… تم میں سے کوئی تو فون کرو اور پوچھو کہ کس ضروری کام کو نکلے ہیں جو ابھی تک نہیں ہوا؟‘‘ دادی جان کے کہنے پہ لائبہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’کس کو فون کیا جارہا ہے؟‘‘ وہ فون اسٹینڈ تک پہنچی تھی کہ اکبر صاحب مسکراتے ہوئے لائونج میں داخل ہوئے۔
’’اکبر حد ہے نالائقی کی‘ اللہ بخشے تمہارے ابا جان کہا کرتے تھے چھوٹے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور آج دیکھ بھی لیا یہ شہیر کبھی ایسے غائب نہیں ہوا اب دیکھو اس کا بھی نہیں پتہ کہ کہاں نکل گیا۔‘‘ دادی جان نے سارا غصہ چچا جان پہ نکالا۔
’’اماں جان اتنا غصہ ٹھیک نہیں… ہم تو ان نالائقوں کو لینے گئے تھے اور بتایا اس لیے نہیں کہ سب کو سرپرائز دینا چاہتے تھے۔‘‘ انہوں نے دادی جان کو بانہوں میں گھیرتے ہوئے مطمئن کرنا چاہا اور سب نے لائونج میں داخل ہوتے شہیر کو دیکھا جس نے ہاتھ میں بیگ پکڑ رکھا تھا۔ اس کے پیچھے سادات اور عماد مسکراتے ہوئے اندر داخل ہورہے تھے۔
’’بھائی جان…‘‘ ان کو دیکھ کر آئمہ کی چیخ سب سے بلند ہوئی۔
’’تم دونوں کتنے چالاک ہوگئے ہو؟ ہمیں تو کہہ رہے تھے کہ عید کے بعد آئو گے۔‘‘ لائبہ بھی شکوہ کرتے ہوئے ان دونوں سے مل رہی تھی۔
’’ہمارا کوئی قصور نہیں کیونکہ یہ سب شہیر بھائی کا پلان تھا۔‘‘ عماد نے سارا ملبہ شہیر کے سر ڈالا۔ وہ اپنی جھوک میں اس کی طرف پلٹی مگر اس کو سوالیہ نگاہوں سے اپنی سمت دیکھتے پاکر کچھ نہیں کہہ سکی‘ وہ اس کے بولنے کا منتظر ہی رہا اور لائبہ واپس پلٹ گئی۔
’’بس کرو لڑکیوں اور اب آکر دستر خوان پر بیٹھو وقت ہوچکا ہے افطار کا‘ یہ ملنا ملانا بعد میں کرلینا۔‘‘ دادی جان کے کہنے پر ان کی جان بخشی ہوئی۔
رات گئے تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ دادی جان دونوں کو پاس بٹھائے سالوں کی پیاس بجھانے میں مصروف تھیں۔ بہنیں بھی بھائیوں کے گرد گھیرہ ڈالے بیٹھی تھیں جب کہ لالی کچن میں اکیلی جل بھن رہی تھی گھر میں کسی کا دھیان بھی اس کی طرف نہیں تھا۔ وہ نظروں سے بچتی ہوئی اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ سادات نے ایک نظر جاتے ہوئے وجود پہ ڈالی اور مسکرا کے رخ پھیر لیا۔ اس کی کہانیاں تو وہ بہنوں سے سن چکا تھا مگر ایک نئی کہانی وہ اپنی مرضی سے لکھنا چاہ رہا تھا۔
گفتگو کا سلسلہ منقطع ہوا تو سب نے اپنے کمروں کا رخ کیا۔ دادی جان نے اکبر صاحب اور شائستہ بیگم کو روک لیا تھا۔
’’شائستہ… کچھ دن پہلے اکبر نے بچوں کے متعلق اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا‘ یقینا تم بھی باخبر ہوگی۔ لالی اور شہیر کی طرف سے میں ہاں کرتی ہوں مگر میں چاہتی ہوں تم لوگ بھی بچوں سے پوچھ لو‘ میں کسی زور زبردستی کی قائل نہیں ہوں۔‘‘ انہوں نے بات ختم کرتے ہوئے سوالیہ نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
’’اماں جان ہمیں بھی اپنے بچوں پہ پورا بھروسہ ہے مگر آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں بچوں کی رائے ضرور معلوم کرلوں گی۔‘‘ شائستہ بیگم نے انہیں بھرپور مطمئن کرنا چاہا۔
’’اکبر تم ایک بار اس سلسلے میں اصغر کی رائے بھی پوچھ لو‘ دل تو نہیں کررہا کہ اس کی اتنی بے رخی کے باوجود اس سے کچھ پوچھا جائے مگر بچوں کا باپ ہے‘ وہ خود کو جتنا بھی دور کرلے ہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے۔‘‘ آج پھر ان کے اندر دکھ کا ابلتا لاوا باہر نکل آیا اور آنکھوں میں نمی آگئی۔
’’آپ فکر نہ کریں میں ضرور بات کروں گا۔‘‘ انہوں نے بھرپور تسلی دی تو دادی جان آنکھوں کی نمی صاف کرنے لگیں جبکہ دروازے کی اوٹ میں کھڑی لالی بہتے آنسوئوں سمیت مڑ گئی تھی۔ ان کے باپ نے زندگی کے ہر موڑ پہ انہیں تنہا کردیا تھا۔ اسے نہیں چاہیے تھے ایسے رشتے جن کے لیے ترسنا پڑے یا بھیگ مانگنی پڑے۔ اسے ہمیشہ اپنی ذات بھکاری لگی تھی جو باپ کے دو میٹھے بول اپنی ذات کے خالی کشکول میں ڈالنا چاہتی تھی تو آج فیصلہ ہوگیا تھا کہ لالی کا کوئی باپ نہیں… اگر زندگی میں کبھی اپنا حق جتانے آئے بھی تو وہ اس حق سے مکر جائے گی۔ اس نے سختی سے دل کی بات پہ مہر لگاتے ہوئے آنکھیں رگڑیں۔
۹…YYY …۹
’’لائبہ… ابو جان تمہیں بلا رہے ہیں۔‘‘ وہ نماز پڑھ کے فارغ ہوئی تو تائبہ اسے بلانے آن پہنچی۔ وہ اس بلاوے کا مقصد اچھی طرح جانتی تھی تب ہی ایک پل کو ٹھٹکی‘ جب سے وہ لوگ پاکستان آئے تھے تب سے دبی دبی سرگوشیوں میں وہ اپنے نام کے ساتھ شہیر کا ذکر سن رہی تھی مگر یہ سب اسے پایہ تکمیل تک پہنچتا نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ اپنے متعلق اس کی رائے جان چکی تھی۔ اس کی نگاہوں میں ہمیشہ ایک نافہم تاثر نظر آیا اور اب وہ پل آگیا تھا کہ اسے بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جارہا تھا۔
’’جی ابو‘ آپ نے بلایا مجھے۔‘‘ دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا مگر اندر سادات کو دیکھ کر اسے مزید حیرانی ہوئی‘ سادات اس سے چھوٹا تھا مگر فطرتاً بھائی سے جھجک رہی تھی۔
’’آئو بھئی بیٹھو‘ تم سے چھوٹی سی رائے درکار ہے۔‘‘ ابو نے اسے سامنے کرسی پر بیٹھنے کو کہا تو وہ ہاتھ مروڑتی ہوئی بیٹھ گئی۔
’’بیٹا… اب تم لوگ بڑے ہوگئے ہو‘ اپنا برا بھلا بہتر سمجھنے لگے ہو مگر اس سب کے باوجود میں تم لوگوں کے متعلق فیصلہ کرنا چاہتا ہوں مگر اس سے پہلے تم دونوں کی رائے لینا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔‘‘ ان کی تمہید پہ اس کا دل بے اختیار دھڑکا۔
’’میں‘ تمہاری امی اور دادی جان چاہتی ہیں کہ ہم اپنے رشتے اور مضبوط کرلیں اور اس سلسلے میں سادات کے لیے لالی اور تمہارے لیے شہیر کا انتخاب کیا گیا ہے‘ سادات کو ہمارے فیصلے سے انکار نہیں اور اب میں آپ کی مرضی جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ اکبر صاحب فیصلے کا اختیار اسے سونپ کر کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور وہ جو خود کو آؤٹ اسپوکن سمجھتی تھی اس پل گنگ رہ گئی۔ الفاظ اس کے گلے میں اٹکنے لگے تھے۔ لبوں کو باہم پیوست کیے ہونٹوں کی کپکپاہٹ روکنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس نے ہاتھوں کا ارتعاش روکنے کے لیے مٹھیاں بھینچ رکھی تھیں۔
’’کیا ہوا لائبہ‘ کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے‘ اگر کوئی مسئلہ ہے تو تم ہمیں بتاسکتی ہو؟‘‘ اس کی خاموشی نے ماحول میں عجب سا تنائو پیدا کردیا تھا اور اسی تنائو سے گھبرا کر شائستہ بیگم کہہ اٹھیں۔
وہ ماں کے لہجے کی کپکپی محسوس کر گئی تھی۔ ان کا لہجہ کس ڈر سے کانپا تھا وہ جان گئی تھیں‘ بیٹیوں کی مائیں کیسے کیسے خوف دل میں لے کر بیٹھی ہوتی ہیں‘ اس کا اندازہ ماں کے چہرے کی اڑی رنگت دیکھ کر بخوبی ہورہا تھا۔
’’آپ لوگ جیسے بہتر سمجھیں‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ والدین کی مسکراہٹ اسے مطمئن کرنے کے لیے کافی تھی۔
’’ٹھیک ہے تو پھر میں اماں سے بات کرتا ہوں۔ تم لوگ بھی تیاری شروع کرو‘ ان شاء اللہ رمضان کے بعد رشتوں کی ڈور مزید مضبوط کرتے ہیں۔‘‘ اکبر صاحب نے خوشی سے کہتے ہوئے دونوں بچوں کے سر پہ ہاتھ رکھا اور باہر کان لگائے کھڑی تائبہ خوشی سے بے حال ہوگئی۔ لالی اور شہیر دونوں ہی اسے بے حد پسند آئے تھے۔ لائبہ کے ساتھ شہیر کا جوڑ سن کر ان کی من کی مراد پوری ہوگئی تھی۔
۹…YYY …۹
افطاری کے بعد سب نے مل کر دستر خوان سمیٹا‘ لالی نے نماز پڑھنے کے بعد کچن سمیٹنا شروع کیا۔ برتنوں کے ڈھیر سے اسے الجھن ہوتی تھی اسی لیے وہ نماز کے فوراً بعد کچن کی صفائی میں جت جاتی تھی۔ سب کچھ پہلے جیسا تھا۔ وہی شب وروز وہی معمول مگر اس کے ہونٹوں پر جامد چپ آن ٹھہری تھی۔ مسکرانا بھی اسے کسی بوجھ کی مانند لگ رہا تھا‘ سب اس کی خاموشی کو شرم سمجھ رہے تھے مگر وہ اندر ہی اندرکانچ کی طرح ٹوٹ کے بکھر رہی تھی۔
’’لالی شہیر بھائی سب کو باہر لے جارہے ہیں‘ تم بھی آجائو جلدی سے۔‘‘ تائبہ اسے کہتے ہوئے مڑی۔ اس کا دل بس تنہائی کا تمنائی تھا مگر وہ جانتی تھی اس کے دل کی کوئی نہیں مانے گا۔ اسے زبردستی لے جایا جائے گا۔ اسی لیے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اس نے کمرے کا رخ کیا۔ بڑی سی چادر اپنے گرد لپیٹتے ہوئے باہر نکل آئی۔ وہ سب اس کے منتظر کھڑے تھے۔ سب کے ہنستے مسکراتے چہروں میں ایک وہی دکھوں کا اشتہار لگ رہی تھی۔ اسی لیے وہ چاہ کر بھی اپنے قدموں کو ان سب کے ساتھ نہیں ملا پائی۔ سست روی سے چلتے ہوئے وہ ان سب سے کافی پیچھے رہ گئی تھی۔ گلی کا موڑ مڑتے ہوئے شہیر نے پیچھے دیکھا تو وہ کافی دور تھی‘ وہ رک کر اس کا انتظار کرنا چاہتا تھا مگر پیچھے سے آتے سادات نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چلتے رہنے کو کہا تو وہ سب کو لیے آگے بڑھ گیا۔
وہ خود اردگرد سے بے نیاز سست روی چل رہی تھی۔ دماغ مختلف خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا اور دل بے حسی کے لبادے میں گم ہورہا تھا۔ یونہی چلتے ہوئے ٹھوکر لگی تو اس نے خیالات کی دنیا سے نکل کر پائوں دیکھا۔ انگوٹھے کا ناخن تھوڑا اکھڑ گیا تھا۔ پائوں سے نظر ہٹاتے ہوئے سامنے دیکھا تو کوئی شناسا وجود نہیں تھا۔ وہ گلی کے وسط میں کھڑی عجب نظروں سے سامنے دیکھ رہی تھی کہ کیسے وہ لوگ اسے پیچھے چھوڑ گئے‘ ایسے میں اپنے عقب میں کسی کا احساس ہوتے ہی اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ اس نے ڈرتے ہوئے پیچھے دیکھا تو دو روشن نگاہیں اس پہ مرکوز تھیں‘ وہ ہاتھ باندھے اسے ایسے دیکھنے میں مصروف تھا جیسے اس سے ضروری اور کوئی کام نہیں۔ وہ بے بس سی اس کے سامنے کھڑی اپنی بے وقوفی کو کوس رہی تھی۔
’’وہ سب بہت آگے نکل گئے اس لیے بہتر ہے ہم واپس چلتے ہیں۔‘‘ اس نے بات مکمل کرتے ہی واپسی کے لیے قدم بڑھائے اور وہ بھی اس کے پیچھے چل دی۔ وہ ہر پانچ منٹ بعد مڑ کر اسے دیکھتا اور وہ کوفت زدہ ہوکر رہ جاتی۔ اس کا بار بار دیکھنا لالی کو اپنی بے وقوفی یاد دلا رہا تھا۔ وہ یہی سوچ کر ہول رہی تھی کہ اگر وہ پیچھے نہ ہوتا تو وہ کیا کرتی‘ گھر کیسے پہنچتی؟ دادی جان تو اسے مار ہی دیتی۔ اپنی بے وقوفیوں کے متعلق سوچتی سر جھکائے اس کے پیچھے چلتی رہی اور وہ اس کی بدذوقی پہ جی بھر کے بد مزا ہوتا رہا۔ ان دونوں کے نام ایک ساتھ جڑنے والے تھے‘ وہ زندگی کے ساتھی بننے والے تھے اور یہ لڑکی اپنی ہی ذات میں مگن تھی۔
گھر آنے پہ وہ دونوں رکے اندر جانے اور باہر ٹھہرنے کی کشمکش میں دونوں مبتلا تھے۔
’’شکریہ…‘‘ لالی نے ہولے سے کہا اور اس کے پاس سے گزر کے آگے بڑھ گئی۔
’’سنیے…‘‘ وہ چند قدم کے فاصلے پر تھی کہ اس نے پکارا۔
’’آپ پیچھے میرے لیے رکی تھیں یا کوئی اور وجہ تھی…؟‘‘ اس نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا تو لالی کی آنکھوں میں غصہ اترنے لگا کہ وہ اسے ایسا سمجھ رہا تھا مگر جب نظر مقابل کی نگاہ سے الجھی تو وہاں شرارت اپنے عروج پر تھی۔ اس کے لبوں کے کنارے دھیمی سی مسکراہٹ سے آشنا ہوئے اور وہ فوراً مڑی کہ اپنی بے اختیاری اسے خود عجیب لگی‘ وہ کیسے چند قدموں کے سفر میں اس کی نگاہوں کی زبان سمجھنے لگی تھی؟ حیرتوں کے آنچل اس کے وجود کو لپیٹنے لگے تھے‘ دل پہ چھایا غبار چھٹنے لگا تھا۔
۹…YYY …۹
رمضان کا آخری عشرہ چل رہا تھا‘ رحمتوں کا نزول چند دنوں کا مہمان تھا‘ جب بادلوں نے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لیا تو موسم بے حد حسین ہونے لگا اور ایسے میں دادی جان اور شائستہ بیگم نے شاپنگ کا عندیہ دے دیا۔ ایک تو گرمی کا زور کم تھا دوسرا عید میں کچھ دن باقی تھے اس سے زیادہ تاخیر مشکل پیدا کرسکتی تھی۔ شاپنگ کا سنتے ہی تائبہ اور آئمہ کا خوشی سے برا حال تھا۔ لالی بھی مطمئن اور پچھلی کیفیت سے کسی حد تک نکل چکی تھی کہ جب خوشیاں دروازے کے سامنے کھڑی ہوں تو دروازہ بند کیے ماضی کے اندھیرے میں گم رہنا دانش مندی نہیں ہوتی۔
’’بہو‘ بچیوں کی ساری خواہش پوری کرنا‘ کئی سالوں بعد اس گھر میں خوشیاں آنے والی ہیں میں نہیں چاہتی کسی کے ارمان رہ جائیں۔ اللہ میرے بچوں کے نصیب اچھے کرے۔‘‘ ان کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا اور ان کی خوشی سب کو مسرت بخش رہی تھی۔
شائستہ بیگم نے سب کو تیار ہونے کا کہا۔ دادی جان کے کہنے پہ سادات اور شہیر بھی ساتھ جارہے تھے۔ سب جلد از جلد تیار ہوکر لائونج میں پہنچ گئے جبکہ لائبہ کا اتا پتا نہیں تھا۔ اس کی تاخیر شہیر کو کوفت میں مبتلا کررہی تھی۔ وہ بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا‘ اس کی بے چینی بھانپتے ہوئے چچی جان نے تائبہ کو اسے بلانے بھیجا‘ دس منٹ بعد وہ منہ کے بگڑے زاویے لیے سیڑھیوں سے اترتی نظر آئی اور اس کا یہ رویہ بازار میں بھی رہا۔ چچی جان نے سب کی پسند کو ملحوظ رکھا‘ سادات نے منگنی کے لیے جوڑا پسند کیا اور سوالیہ نگاہوں سے لالی کو دیکھا تو وہ مسکراتے ہوئے رخ پھیر گئی۔ رائل بلیو کلر کی میکسی سب کو ہی پسند آئی‘ جبکہ انگوٹھی بھی سادات نے پسند کی لی۔ لالی کے لیے اس کے انداز پہلے سے جدا تھے۔ وہ چاہ کر بھی سر نہیں اٹھا پارہی تھی۔ شہیر بہن کے لیے مطمئن تھا مگر لائبہ کے انداز اسے کشمکش میں مبتلا کررہے تھے۔ وہ کسی چیز میں دلچسپی نہیں لے رہی تھی۔ اس نے کئی مرتبہ اس کی طرف نگاہیں کیں مگر وہ کسی بت کی طرح ایک جانب دیکھنے میں مگن رہی تو اس نے بھی سب چچی جان کی مرضی پہ چھوڑ دیا۔ گھر آنے تک شہیر کی نرم دلی پہ غصہ حاوی ہونے لگا تھا۔ اس نے سب میں بیٹھ کر شاپنگ پہ ڈسکس کرنے کی بجائے کمرے کا رخ کیا اور لالی اس کے انداز دیکھ کر ازحد پریشان ہوگئی تھی۔
رات گئے سب کاموں سے فارغ ہوتے ہی اس نے شہیر کے کمرے کا رخ کیا۔ اسے دیکھ کر وہ مسکرایا مگر اس کی مسکراہٹ کا پھیکا پن وہ پل میں پہچان گئی۔
’’آپ خوش نہیں؟‘‘ اس کے پاس بیٹھتے ہی وہ مطلب کی بات پہ آئی۔
’’تم خوش ہو ناں‘ میرے لیے بس یہی کافی ہے۔‘‘ اس نے مسکرا کر بات ختم کردی۔
’’میں مانتی ہوں ہم دونوں کا ایک دوسرے کی خوشی غمی سے گہرا تعلق ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میری خوشی کے لیے آپ اپنی خوشیوں سے منہ موڑ لیں۔‘‘ بات مکمل کرنے تک اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔
’’تم پاگل ہو‘ میں تو بہت خوش ہوں اور تم یہ الٹے سیدھے خیال اپنے دل سے نکال دو۔‘‘ شہیر نے مسکراتے ہوئے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
’’آپ سیدھی طرح بتا رہے ہیں یا میں دادی جان کو بتائوں یہ سب کچھ۔‘‘ اس نے دھمکی آمیز انداز میں کہا اور جانے کے لیے کھڑی ہوئی۔
’’میں کسی بھی تعلق کو ایک دم قبول نہیں کرتا‘ کچھ وقت لگتا ہے اپنے ساتھ کسی دوسرے کو قبول کرنے میں اور یہی وجہ تھی کہ میں تم سے چچا جان کی فیملی کے بارے میں کچھ عجیب بول گیا مگر جیسے جیسے وقت گزرا تو میری سوچ نکھرنے لگی‘ لائبہ کے متعلق بھی میں سیریس ہوچکا ہوں مگر اس کا انداز عجیب ہے یوں جیسے یہ رشتہ اس کے لیے بوجھ ہو‘ میں کوئی ناپسندیدہ انسان ہوں… میں یہ تعلق زبردستی کا نہیں بنانا چاہتا۔‘‘ اس نے سوچتے ہوئے اپنے خیالات اس کے سامنے رکھ دیئے۔
’’بھائی‘ آپ کی باتیں لائبہ نے سنی تھیں‘ اس کے بعد آپ نے اس کی غلط فہمی بھی دور نہیں کی تو ہوسکتا ہے وہ انہی باتوں کو دل سے لگائے بیٹھی ہو‘ وہ بھی یہی سمجھ رہی ہو کہ وہ آپ پر بوجھ کی طرح مسلط کی جارہی ہے اور آپ میرے لیے برداشت کررہے ہیں۔‘‘ اس نے بھرپور طریقے سے لائبہ کا دفاع کیا۔
لالی کی باتیں شہیر کے لیے سوچ کے نئے در وا کر گئے‘ دل سے بے یقینی کے بادل چھٹنے لگے تو اس کے ہونٹوں پہ حقیقی مسکراہٹ جھلکنے لگی‘ کسی خوب صورت خیال نے دستک دی تو اس نے خیال پہ عمل پیرا ہونے کا ارادہ کرلیا۔
۹…YYY …۹
دادی جان تراویح سے فارغ ہوئیں تو کمرے میں کسی کی آمد کا احساس ہوا۔ انہوں نے رخ موڑا تو چچا جان ان سے چند قدموں کے فاصلے پہ کھڑے تھے۔ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے ان کو بیٹھنے کا کہا اور خود دعا میں مصروف ہوگئیں۔ دعا سے فراغت کے بعد وہ چچا جان کے ساتھ آبیٹھیں۔
’’اکبر… مجھے یقین نہیں آرہا کہ کل کا دن اس گھر کو دوبارہ خوشیوں سے بھر دے گا‘ تم بھی سوچتے ہوگے کہ میرے پاس اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت موجود ہے پھر بھی میں یہ بات کیوں کرتی ہوں؟ میں خوش اور مطمئن ہوں مگر اصغر کی بے رخی نے میرے بچوں کے دل توڑ دیئے‘ شہیر تو خاموشی کے لبادے میں اپنا دکھ چھپا گیا مگر لالی کے آنسو میں نے اپنے ہاتھوں سے پونچھے ہیں۔‘‘
’’نہیں اماں جی… لالی سمجھ دار بچی ہے میرا نہیں خیال کہ وہ اس سب کو لے کر پریشان ہوگی۔‘‘ انہوں نے واقعی لالی کے چہرے پہ مسکراہٹ کے سوا کوئی اور تاثر کم ہی دیکھا تھا۔
’’تم نہیں جانتے مگر مجھے سب خبر ہے‘ فون کی ہر گھنٹی پہ میں نے اسے چونکتے دیکھا‘ ماں باپ کے ذکر پہ اس کی آنکھوں میں چمکتے جگنو میں نے دیکھے‘ تم اپنی بیٹیوں کو سینے سے لگاتے ہو تو اس کے چہرے پہ پھیلتے محرومی کے رنگ میں ہی دیکھتی ہوں۔‘‘ ان کے چہرے پہ اداسی کا رنگ حاوی ہوگیا۔
’’اماں جی… آپ بالکل پریشان نہ ہوں لالی ہمارے لیے بیٹی ہی ہے وہ اور سادات بہت مطمئن زندگی گزاریں گے۔ پہلے میں صرف منگنی کرکے ہی واپس جانا چاہتا تھا مگر اب سوچ رہا ہوں کہ جلد نکاح کا فرض بھی ادا کردیں۔‘‘ انہوں نے اپنی طرف سے بھرپور تسلی کرانے کی کوشش کی اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی رہے۔
’’بہت وقت ہوگیا ہے صبح ڈھیروں کام ہیں‘ اب تم بھی آرام کرو تاکہ صبح تاخیر نہ ہو۔‘‘
’’اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہوگا ان شاء اللہ۔‘‘ دادی جان کو مطمئن دیکھ کر وہ وہاں سے اٹھے مگر کمرے میں جانے کی بجائے لائونج میں بیٹھ گئے۔
’’کیا ہوا‘ ادھر کیوں بیٹھے ہیں؟‘‘ انہیں سوچوں میں الجھے کافی وقت گزرا جب شائستہ بیگم ان کی تلاش میں آئیں۔
’’بھائی جان کے متعلق سوچ رہا تھا۔‘‘
’’کیوں‘ کیا ہوا؟‘‘ وہ بھی ساتھ ہی بیٹھ گئیں۔
’’پاکستان آنے سے پہلے میری ان سے بات ہوئی تھی اور میں نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ میں بچوں کے رشتے کی نیت سے جارہا ہوں‘ ہمیں آئے ہوئے بھی مہینے سے زیادہ ہوگیا مگر انہوں نے اس سلسلے میں ایک فون تک نہیں کیا۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ اتنا کٹھورپن ان میں کیسے آگیا؟‘‘ ماں کی پریشانی نے انہیں بھی پریشان کردیا تھا۔
’’آپ فکر نہ کریں‘ سب ٹھیک ہوجائے گا‘ اگر آپ ہمت ہار دیں گے تو اماں جان اور بچوں کو کون دیکھے گا؟ میں لاکھ چچی سہی مگر خونی رشتہ تو آپ سی ہی ہے جو تسلی‘ دلاسہ انہیں آپ سے ملے گا وہ میں نہیں دے سکتی۔‘‘ انہوں نے مجازی خدا کو تسلی دینے کی کوشش کی اور اس وقت وہ اس کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھیں۔
۹…YYY …۹
خوشیوں کا دن آن پہنچا‘ گھر میں عجب ہلچل تھی۔ ہر کوئی مصروف تھا۔ مرد عید کی نماز کے بعد باہر کے امور نبٹانے لگے جب کہ لڑکیاں صفائی اور کھانا پکانے میں مصروف ہوگئیں‘ دادی جان بھی سب فکریں بھول کر سارے گھر میں گھوم رہی تھیں‘ صفائی کے لیے لالی کو آگے کر رکھا تھا جبکہ کچن میں شائستہ بیگم کو بھی ہدایات دیتی رہی تھیں۔
’’یہ لیں دادی جان‘ آپ کے شاہی کمرے کے پردے دھو دیئے‘ اب کسی دوسری ملازمہ سے لگوا لیں۔‘‘ لالی نے پردے ان کے پاس رکھتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی خود بھی بیٹھ گئی۔
’’ایک تو آج کل کی لڑکیاں‘ ایک کام کرلیں تو ایسے واویلا کرتی ہیں جیسے پہاڑ سر کر لیا ہو اور ہمارے زمانے تھے جب سارا سارا دن کام ختم نہیں ہوتے تھے مگر مجال ہے جو منہ سے اف بھی نکل جائے۔‘‘ لالی ابھی کمر سیدھی بھی نہیں کرسکی تھی کہ دادی جان نے جھاڑ پلائی۔
’’دادی جان اس گھر میں اب آپ کی اور پوتیاں بھی ہیں مگر سارے ملازموں والے کام آپ کو مجھ سے ہی کروانے یاد رہتے ہیں کسی اور طرف بھی نظر کرم کرلیا کریں‘ یہ تائبہ سے کہیں ہر وقت فارغ دانت نکالتی رہتی ہے۔‘‘ اس کی درگت سنتے دیکھ کر تائبہ ہنس رہی تھی اور لالی نے بروقت بدلہ چکایا کیونکہ دادی جان کا رخ اب اس کی طرف ہوگیا تھا۔
’’تم کیا کھی کھی کررہی ہو‘ جائو ماں کی مدد کرو۔ اللہ بخشے تمہارے دادا جان کہتے تھے لڑکیوں کی ہنسنے کی آواز گھر کی دیواروں کو بھی سنائی نہیں دینی چاہیے۔‘‘ ان کی بات پر تائبہ وہاں سے کھسک گئی۔
’’آپ کے مجازی خدا کے کہنے کے مطابق ہم ہونٹ سی لیں؟‘‘ لالی کی زبان پہ کھجلی ہوئی تو اس نے فٹ سے سوال کیا جس کا جواب دھموکے کی صورت میں فوری ملا۔
’’زبان کو لگام دو اور جاکر یہ پردے لگائو۔‘‘ دادی جان کے اگلا حکم صادر کرنے پہ اس نے زور سے پیر پخٹا‘ اسی پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ بچوں کی طرح منہ بسورتے ہوئے سر انکار میں ہلانے لگی۔
سادات کسی کام سے باہر جارہا تھا کہ اس کی نظر لالی پہ پڑی اور وہ بے ساختہ رک گیا‘ آج اسے پہلی بار وہ لالی نظر آئی جس کے تذکرے وہ مہینوں سے سن رہا تھا۔ دادی جان اور لالی کی جنگیں زبان زدو عام تھیں مگر وہ ابھی تک اس نظارے سے محروم تھا۔ اب اچانک اسے وہ نظر آگیا جس کا اس نے صرف ذکر سن رکھا تھا۔ اس سے پہلے کہ لالی کی نظر اس پہ پڑتی‘ وہ مسکراہٹ دباتا وہاں سے نکل گیا۔
’’اماں جی اب لڑکیوں کو معاف کردیں تھوڑی دیر میں مہمان آجائیں گے اور یہ ایسے سر جھاڑ ملیں گی‘ انہیں کہیے کہ جاکر تیار ہوں ظہر کے بعد منگنی کی رسم ہے۔‘‘ لالی جو کہ روتے ہوئے پردے اٹھا رہی تھی چچی جان کی آمد نے اسے بچا لیا۔
’’مہمان کون سے آرہے ہیں؟‘‘ دادی جان نے لاعلمی سے پوچھا کیونکہ دعوت تو کسی کو نہیں دی تھی۔
’’اماں جی اکبر نے اپنے کچھ دوستوں کو بلایا ہے۔‘‘ انہوں نے دادی جان کو مطمئن کیا اور اسے تیار ہونے کے لیے بھیج دیا‘ لائبہ پہلے ہی جاچکی تھی۔
ظہر کی نماز ادا کرنے وہ کمرے میں آئیں اور روتے ہوئے بچوں کی خوشیوں کی دعائیں مانگنے لگیں۔ کئی لمحوں بعد اطمینان محسوس ہوا تو نہ جانے دل میں کیا سمائی کہ کمرہ بند کرتے ہوئے فون لیے بیڈ پہ آبیٹھی‘ ڈائری سے نمبر نکالا اور تمام ہندسے دھیان سے ملانے لگیں۔ اس سے پہلے یہ کام شہیر اور لالی کیا کرتے تھے مگر اس بار وہ خود کرنا چاہ رہی تھیں‘ کسی کے علم میں لائے بنا کیونکہ آج عید کا دن تھا بچوں کی خوشی کا دن خراب نہیں کرنا چاہتی تھیں‘ کئی مرتبہ نمبر ملانے کے بعد بھی دوسری جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو انہوں نے تھک کر فون سائڈ پہ رکھا اور تکیے سے ٹیک لگاتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔ آنکھوں میں بے تحاشہ نمی پھیلنے لگی تھی۔
وہ نہ جانے کتنی دیر اپنی اداسی لیے کمرے میں بیٹھی رہتیں مگر دروازے پہ ہونے والی دستک پر اٹھنا پڑا‘ آنکھوں کی نمی پلو سے صاف کرتے ہوئے دروازے تک آئیں اور دروازہ کھولتے ہوئے فوراً مڑ گئیں۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ آنے والا ان کی آنکھوں کی سرخی دیکھ کر پریشان ہو۔
’’اماں جی…‘‘ انہیں پکارا گیا۔
’’اکبر تم باہر بیٹھو میں تھوڑا کام کرکے آئی اور شائستہ سے کہو بچے…‘‘ وہ بولتے ہوئے ایک دم ساکت ہوئیں۔ ایک احساس ان کے وجود میں سرائیت کر گیا‘ انہیں ایک دم محسوس ہوا کہ آواز کسی اور سے ملتی جلتی تھی‘ اماں جی کہنے والا کوئی اور تھا۔
انہوں نے دھیرے سے پیچھے دیکھا اور احساس کو مجسم پایا‘ انہوں نے سہارے کے لیے کرسی تھامی۔ کئی سال انہوں نے آنے والے کے انتظار میں کاٹے تھے۔ کئی لمحے سامنے کھڑے وجود کو یاد کیا تھا‘ کئی پہر اس کے خیالوں میں گم روتے ہوئے گزارے اور آج اس کے سامنے آنے پہ آگے بڑھ کے گلے نہیں لگا سکیں۔ انہوں نے کرسی پہ بیٹھتے ہوئے رخ موڑ لیا آنکھوں کا پانی بہنے لگا تھا۔
’’اماں جی میں بہت برا ہوں مگر خدارا مجھ سے منہ نہ موڑیے‘ مجھے سزا ضرور دیں مگر مجھے صفائی کا موقع بھی دیجیے۔‘‘ وہ ماں کا ہاتھ پکڑے سر جھکائے سامنے بیٹھ گئے۔
’’تم کیوں آئے ہو اور آج ہی کیوں آئے؟ اتنے سال اپنی جدائی کی مار ماری ہے تو اب بھی نہ آتے… میرے بچے تمہیں بھول رہے تھے‘ اپنی زندگی میں آنے والی خوشیوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ تم کیوں آئے ہو اصغر؟‘‘ انہوں نے اپنا ہاتھ چھڑایا‘ چہرے پہ تلخی کا تاثر لے آئیں مگر آنکھوں پہ بند نہیں باندھ سکیں۔
’’اماں جی میں مانتا ہوں کہ میرا جرم بہت بڑا ہے آپ کے علاوہ میں بچوں کا بھی گناہ گار ہوں مگر یہ سب قسمت کا لکھا ہے اس میں میرا ذاتی فیصلہ شامل نہیں‘ میں بھی آپ سب کے لیے بہت تڑپا ہوں مگر آنہیں سکا‘ مجھے معاف کردیں‘ میں آپ کے سامنے ہوں‘ ہر سزا کے لیے تیار مگر مجھے معاف کردیں۔‘‘ ان کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔ مقابل بھی ماں تھی۔ کب تک دل پہ پتھر رکھ سکتی تھیں۔
’’ایسی بھی کیا مجبوری کہ اپنی ماں کو بھول گئے؟ اپنے معصوم پھول سے بچے یاد نہ رہے جو پہلے ہی ماں کی ممتا بھرے لمس سے محروم تھے۔‘‘ ان کا لہجہ نرم ہونے لگا تھا۔
’’دادی اماں…‘‘ شہیر انہیں بلانے آیا مگر قدم دروازے پہ ہی رک گئے۔ دادی اماں اور ان کے سامنے بیٹھے اصغر صاحب نے مڑ کر دروازے کی سمت دیکھا جہاں وہ ساکت کھڑا تھا۔
’’اماں‘ یہ شہیر ہے ناں؟‘‘ انہوں نے ایک نظر میں پہچان لیا۔ وہ ہوبہو ان کی جوانی کی تصویر تھا۔ ان کے سوال پہ دادی جان نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ ایک دم اٹھ کر اس کی جانب لپکے۔
’’دادی جان… سب آپ کو باہر بلا رہے ہیں جلدی سے آجائیے۔‘‘ انہیں اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر اس نے قدم واپس موڑ لیے۔
’’اماں یہ کیا ہوگیا؟ کیا اتنا وقت گزر گیا کہ واپسی کی کوئی صورت نہیں؟‘‘
’’اتنے سال تیرے بغیر گزارے ہیں‘ تیری راہ تکتے ان کی آنکھیں پتھرا گئیں اب کچھ دیر تو لگے گی انہیں تمہاری واپسی تسلیم کرنے میں… آج تمہارے بچے اپنا زندگی کا نیا سفر شروع کرنے والے ہیں ان کی خوشیوں کے لیے دعا کرو۔‘‘ انہیں بیٹے کی پریشانی کا اندازہ تھا مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکتی تھیں کیونکہ کچھ فیصلے وقت کے محتاج ہوتے ہیں۔
’’اماں میری آپ سے گزارش ہے کہ بچوں کی منگنی کی بجائے نکاح کردیا جائے‘ میں جانتا ہوں مجھے یہ کہنے کا حق نہیں مگر میں یہ موقع گنوانا نہیں چاہتا۔‘‘
’’میری بھی یہی خواہش تھی مگر میں یہ فریضہ تمہاری موجودگی میں ادا کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے ابھی منگنی کی رسم کا اہتمام کیا ہے لیکن اب تم آگئے ہو تو بچوں کو نکاح جیسے بندھن سے منسوب کرنا ہی بہتر رہے گا۔ میں اکبر سے بات کرتی ہوں۔‘‘ دادی جان سب بھول کر نئے سرے سے پُرجوش ہوچکی تھیں اور یہ خصوصیت صرف مائوں کے پاس ہوتی ہے کہ وہ اولاد کی ہر غلطی‘ نادانی بھولنے میں لمحہ نہیں لگاتیں۔
۹…YYY …۹
خوشیوں کا تعلق براہ راست دل سے ہوتا ہے‘ ہر سو شادمانی ہو مگر دل اداسی کا چولا اوڑھ کر بیٹھا ہو تو شہنائیاں بھی کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی مانند لگتی ہیں۔ ایسی ہی صورت حال اس کمرے میں واضح تھی‘ لالی نے آنے والی خوشیوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے دل کے دروازے وا کردیئے اور اس کی فراغ دلی کا ثبوت اس کے چہرے سے چھلکتا اطمینان دے رہا تھا‘ جبکہ اس کے ساتھ بیٹھی لائبہ آسمانی رنگ کے کامدانی سوٹ میں اتنی ہی پھیکی لگ رہی تھی۔ دل عجب لے پہ دھڑک رہا تھا اور وہ ہر ساز سے انجان بننے کی کوشش کررہی تھی۔
’’آپ دونوں تیار ہوگئی؟‘‘ وہ دنوں اپنی اپنی سوچوں میں مگن تھیں کہ تائبہ کی آمد سے چونکیں۔ دونوں نے اثبات میں سر ہلایا اور ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئیں کیونکہ ان سب کے بیٹھنے کا انتظام لائونج میں تھا۔
’’ارے تم لوگ کیوں کھڑی ہوگئیں؟ آپ یہیں تشریف رکھیے مولوی صاحب آپ کے پاس تشریف لارہے ہیں۔‘‘ تائبہ ان کی تیزی پہ ہنستے ہوئے بولی۔
’’مولوی صاحب کیوں؟‘‘ لائبہ اپنے خیالوں میں اس قدر گم تھی کہ بات کا مطلب سمجھے بغیر سر ہلاتے ہوئے واپس بیٹھ گئی جب کہ لالی نے حیرت سے پوچھا اور اس کے پوچھنے پہ لائبہ بھی چونکی۔
’’وہ تو سرپرائز ہے۔‘‘ وہ جواب دے کر کمرے سے نکل گئی۔
وہ دونوں اسی شش وپنج کا شکار ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہی تھیں کہ شائستہ بیگم اندر آئیں۔ ان کے پیچھے اکبر صاحب‘ مولوی صاحب اور اصغر صاحب بھی کمرے میں داخل ہوئے۔ لائبہ جلدی سے سر جھکا گئی مگر لالی موقع محل نظر انداز کیے چچا جان کے ساتھ کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی‘ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اسے آنکھوں کا دھوکا سمجھتی مگر سامنے کا منظر حقیقت تھا۔ چچی جان نے آگے بڑھ کر دوپٹہ نیچے کیا مگر وہ پھر بھی چہرہ اٹھائے انہیں دیکھ رہی تھی۔ آنکھیں دھندلانے لگیں‘ پانی گالوں کو تر کرنے لگا‘ اس کی بے خودی نے کمرے میں عجب ماحول پیدا کردیا تھا۔
مولوی صاحب تیسری بار اس کا جواب پوچھ رہے تھے مگر وہ ہر آواز‘ جذبے اور احساس سے محروم ہوچکی تھی۔ چچی جان نے آگے بڑھ کر اس کا سر اثبات میں ہلایا‘ سائن کی جگہ اس کا ہاتھ پکڑ کر انگوٹھا لگایا‘ جیسے ہی سب لوگ کمرے سے نکلے تو اس کا سکتہ ٹوٹا‘ اس نے بے یقینی سے ساتھ بیٹھی لائبہ کو دیکھا جو اپنے خیالات کو جھٹکے اس کے لیے فکرمند تھی۔
’’میں تمہارے لیے پانی منگواتی ہوں۔‘‘ وہ اس کے کندھے پہ تسلی بھرا ہاتھ رکھتے ہوئے پانی لینے کے لیے باہر چلی گئی۔
اسے سامنے کوئی لڑکی نظر نہیں آرہی تھی اور خود کچن میں جانا عجیب لگ رہا تھا‘ کچن میں جانے کے لیے لائونج سے گزرنا پڑتا اور وہ اس وقت کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی‘ خاص طور پہ اس انسان سے جس کے ساتھ اس کا رشتہ لمحے میں بدل گیا تھا۔
’’لائبہ… آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں؟‘‘ وہ نہ جانے کہاں سے اس کے پیچھے آکھڑا ہوا تھا‘ وہ جی جان سے کانپی۔ دل کا خدشہ اس کے پیچھے کھڑا تھا‘ مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق اسے شہیر کی طرف چہرہ کرنا پڑا۔
’’پانی چاہیے تھا‘ اس لیے کسی لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔‘‘ اس نے دھیرے سے جواب دیا۔ اس کی بے باکی اور ہٹ دھرمی اس پل نہ جانے کہاں جا سوئی‘ وہ بھی اس کے مدھم لہجے پہ خوش گماں ہوا۔
’’لائبہ… یہ سب جو ہوا میں بھی اسے قبول نہیں کرپا رہا‘ لالی بہت جذباتی ہے وہ اس لمحے بالکل ٹوٹ چکی ہوگی‘ پلیز تم اس کا خیال رکھنا۔‘‘
’’مجھ سے زیادہ سہارا اسے آپ دے سکتے ہیں۔‘‘ اس کی فکرمندی اور حساسیت اس کے دل کو چھو گئی‘ سادات بھی ان سب کی یونہی فکر کرتا تھا۔
’’میں ابھی خود کو نہیں سمجھا پارہا اسے کیسے سمجھاؤں گا؟‘‘ اس کے لہجے سے پریشانی ہویدا تھی۔
’’کسی کو صفائی کا موقع ضرور دینا چاہیے‘ کیا پتا جو آپ کے لیے غلط ہو وہ دوسرے کے لیے اس پل درست ہو۔ ایک موقع تو بڑی سے بڑی عدالت بھی دیتی ہے مجرم کو تاکہ وہ اپنی صفائی بیان کرسکے۔‘‘ وہ جانے کے لیے مڑا تھا جب وہ بولی اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ٹھہر گیا‘ وہ سمجھ نہیں سکا تھا یہ بات وہ اپنی صفائی دینے کے لیے کہہ ر ہی تھی یا اسے ان حالات میں درست سمت دکھانے کے لیے۔
’’میں لالی کو دیکھ لوں گی‘ آپ فکر نہ کریں۔‘‘ اس کی آنکھوں کا سوال پڑھتے ہوئے بھی اس نے جواب نہیں دیا کیونکہ کچھ جواب خود تلاش کرنے چاہیں۔ اس کی لالی کے حوالے سے فکرمندی دور کرتے ہوئے وہ وہاں سے واپس مڑ گئی۔ اس سب میں شہیر کے ہونٹوں پہ اس رشتے کے حوالے سے پہلی مرتبہ سچی مسکراہٹ آئی تھی۔
سارے مہمان رفتہ رفتہ رخصت ہوئے تو گھر والوں کی محفل لائونج میں جم گئی۔ دادی جان بیٹے کو پاس بٹھائے سالوں کی پیاس بجھا رہی تھیں۔ باتوں کا محاذ گرم تھا جب اچانک دادی جان کو لالی اور شہیر کی کمی محسوس ہوئی۔
’’بہو… یہ باقی بچے کہاں ہیں؟‘‘
’’شہیر اپنے کمرے میں ہے جبکہ لائبہ لالی کے پاس ہے۔‘‘ انہوں نے بچوں کے متعلق انہیں بتایا۔
’’سادات… جائو شہیر کو بلا کر لائو اور لڑکیوں کو بلانے بھی کسی کو بھیجو۔‘‘ ان تینوں کی غیر موجودگی انہیں اچھی نہیں لگی۔ کچھ دیر میں شہیر سنجیدہ سا سادات کے ساتھ آیا اور خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا جبکہ تائبہ اکیلی ہی واپس آئی۔ دادی جان کے اصرار پہ دو تین دفعہ انہیں بلاوا بھیج مگر جانے والا ہر بار خالی لوٹ آیا۔
دادی جان کی کسی بات پہ سب ہنس رہے تھے کہ سیڑھیوں سے دھم دھم کرتی وہ اتر رہی تھی اور افتاں وخیزاں لائبہ بھی اس کے پیچھے تھی۔ دونوں انہی کپڑوں میں تھیں فرق صرف یہ تھا کہ لالی کا چہرہ بالکل صاف تھا یوں جیسے وہ تیار ہی نہ ہوئی ہو۔
’’اگر آپ سب کو یہ لگتا ہے کہ مجھے مجبور کرکے ان کو معاف کرنے کے لیے کہیں گے اور میں مان لوں گی تو یہ آپ سب کی غلط فہمی ہے۔ کل تک آپ سب ان کے جرم کے گواہ تھے اور آج ایسے جڑ کے بیٹھے ہیں جیسے انہوں نے کچھ کیا ہی نہ ہو۔‘‘ وہ آتے ہی پھٹ پڑی اور سب اس کے یہ تیور دیکھ کر انگشت بدنداں رہے گے۔
’’لالی… تم بڑوں کا ادب ولحاظ بھول رہی ہو۔‘‘ دادی جان فوراً بولیں۔
’’بس کردیں آپ بھی‘ اتنے سال انہوں نے مڑ کے پوچھا بھی نہیں آپ کو اور آپ سب کچھ بھول کر انہیں ساتھ لگائے بیٹھی ہیں‘ کہاں گئی ہماری محبت؟ ساری دنیا ٹھیک کہتی ہے جو درد اپنی ماں کو ہوتا ہے وہ کسی کو نہیں ہوتا… آج وہ ہوتی تو اتنے سالوں کا حساب مانگتیں‘ آپ کی طرح کسی بوجھ کی طرح پھینک نہ دیتیں۔‘‘ وہ ایسے بپھرے پانی کی مانند تھی جو اپنے ساتھ بہت کچھ بہالے جاتا ہے۔ بولتے ہوئے سب کچھ بھول بیٹھی تھی۔
’’لالی… تم دادی سے کس طرح بات کررہی ہو؟‘‘ سب حیرت سے لالی کے انداز دیکھ رہے تھے ایسے میں شہیر ہی اٹھ کر اس تک آیا۔
’’ہاں میں ایسے ہی بات کروں گی‘ انہوں نے ان کے کہنے پہ ہماری زندگی کے فیصلے بدل دیئے‘ یہ ہوتے کون ہیں میرا فیصلہ کرنے والے‘ یہ کس حق سے مجھے اپنی بیٹی سمجھ رہے ہیں؟ انہیں بتادیں کہ یہ سارے حقوق کھوچکے ہیں… ان کی لالی اس دن مر گئی تھی جس دن انہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے بچے پھینک کر دوسری عورت کے ساتھ نئی زندگی شروع کرلی تھی۔ کچھ نہیں لگتے یہ میرے‘ میرا ہر تعلق ان کے ساتھ ختم ہوچکا ہے۔‘‘ وہ اس قدر چیخ کر بولی کہ اس کے گلے میں خراشیں پڑنے لگیں‘ آواز بیٹھ گئی۔ اس نے اک قہر بھری نگاہ سب پر ڈالی اور واپس مڑگئی۔
’’میں باہر کمانے کی غرض سے نہیں گیا تھا بلکہ محبوب بیوی کی موت کا غم بھولانے کے لیے ایک ایسے سفر کو چن لیا جس کی کوئی منزل نہیں تھی۔‘‘ وہ سیڑھیوں تک پہنچی تھی کہ اسے بکھری ہوئی آواز سنائی دی اور وہ چاہ کر بھی قدم آگے نہ بڑھا سکی۔
’’کاروبار شراکت داری کی بنیاد پر شروع کیا اور اسی انسان نے اپنی بہن کا رشتہ میرے سامنے رکھا‘ مجھے اپنے بچوں کے لیے واپس آنا تھا اس لیے میں نے انکار کردیا البتہ اس بات سے اماں جی کو آگاہ کردیا۔ اس انسان نے مجھے دھوکہ دیا‘ کاروبار میں غبن کیا اور الزام میرے سر ڈال دیا‘ مجھ پہ کیس چلا اور کئی سال کی سزا ہوگئی۔ کبھی کبھار اماں جی سے چند منٹوں کی بات ہوتی تو وہ واپسی کا سوال میرے سامنے رکھ دیتیں‘ ان حالات میں میرے پاس صرف دو راستے تھے ایک میں ساری حقیقت بتا دیتا لیکن میں جانتا تھا وہ یہ برداشت نہیں کرپائیں گی اور اس کے ساتھ مجھے یہ خیال ستاتا کہ اماں جی کے بعد تم دونوں کا کیا ہوگا؟ اس لیے مجھے یہ کہانی بننا زیادہ آسان لگی‘ میری بیوی‘ بچے اور اچھی زندگی سب فرضی باتیں تھیں۔‘‘ وہ اپنی بات مکمل کرکے خاموش ہوگئے۔ لائونج میں اتنا سکوت تھا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنائی دیتی‘ لالی اپنے قدموں کو بمشکل گھسیٹتی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔ عید کا دن جس کا سب کو بے چینی سے انتظار تھا عجب انداز سے اختتام پذیر ہوا۔ سب اپنی جگہ خود کو مجرم سمجھ رہے تھے‘ ہر کوئی دوسرے سے نظریں چرا رہا تھا۔ شہیر کے دل سے سارا غصہ ختم ہوگیا تھا مگر پشیمانی اس قدر تھی کہ وہ چاہ کر دوبارہ ان کا سامنا نہیں کرسکا۔ وہ ٹیرس پہ کھڑا اپنی سوچوں میں گم تھا کہ کوئی اس کے ساتھ آکھڑا ہوا۔
’’ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا سب کچھ بہتر ہوسکتا ہے۔‘‘ اس کے لہجے سے عجیب ڈھارس ملی۔
’’کئی دفعہ ہم غلط فہمیوں کے کتنے بلند پہاڑ کھڑے کرلیتے ہیں کہ دوسری طرف کا منظر دکھائی ہی نہیں دیتا۔‘‘ اس کی آواز میں عجب ملال تھا۔
’’جب سب کچھ واضح ہوچکا ہے تو گلے ملنے میں دیر کس بات کی؟‘‘ وہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’ابھی ہمت مفقود ہے کس طرح اپنی غلطیوں کا اعتراف کروں؟‘‘
’’کچھ زیادہ مشکل نہیں‘ دل سے اقرار کریں تو زبان خود ہی ساتھ دینے لگے گی۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے مقابل کھڑے انسان کو دیکھا جو چند گھنٹوں میں ہی دل کی زمین فتح کر گیا تھا۔
’’لائبہ…‘‘ وہ جانے کے لیے مڑی ہی تھی کہ اس نے پکارا۔ ’’تمہارے بارے میں شروع میں میری رائے کچھ اچھی نہیں تھی‘ مجھے تم کچھ مغرور سی لگیں لیکن اب مجھے یہ اعتراف ہے کہ ہر لڑکی میں اتنی اکڑ اور غرور ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی حفاظت کرسکے… اس دن میری باتوں سے تمہیں تکلیف ہوئی اور میں جانتا ہوں‘ میں غلط تھا۔ میں کافی دنوں سے تم سے معذرت کرنا چاہ رہا تھا مگر چاہتے ہوئے بھی نہیں کرسکا۔ میری سب دل دکھانے والی باتوں کے لیے معذرت…‘‘ اس کے الفاظ لائبہ کے دل کے خدشات ختم کررہے تھے۔ اس کی ساری غلط فہمیاں اختتام پذیر ہوئیں اس نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا‘ یہ معذرت قبول کرنے کا عندیہ تھا۔
۹…YYY …۹
کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا‘ رات کی تاریکی اس کے وجود کو بھی گھیرے ہوئی تھی۔ اس کے الفاظ بے ہودہ صورت لیے اس کے سامنے کھڑے تھے۔ اس وقت اپنی سوچ سے بڑھ کر کوئی چیز اسے کریہہ نہیں لگ رہی تھی۔ وہ گھٹنوں میں سر دیئے خود کو ملامت کرنے میں مصروف تھی۔ سارا غصہ تو آنسوئوں کے راستے بہہ گیا تھا‘ اب جو باقی تھا وہ صرف ندامت و پچھتاوا تھا۔ اس کی سوچوں میں خلل دروازے پہ ہونے والی دستک نے کیا۔ وہ مسلسل دستک کو نظر انداز کررہی تھی مگر آنے والا بھی مستقل مزاج تھا۔
’’کیا مسئلہ ہے؟‘‘ اس نے غصے سے دروازہ کھولا مگر سامنے سادات کو دیکھ کر باقی ماندہ الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔
’’کیا میں اندر آسکتا ہوں؟‘‘ اسے دروازے کے سامنے ایستادہ دیکھ کر اس نے پوچھا تو وہ آہستگی سے پیچھے ہٹ گئی۔
’’میں اتنا بھی ڈرائونا نہیں کہ میرا ساتھ ملنے پہ یوں اندھیرے کمرے میں بیٹھ کر رویا جائے۔‘‘ وہ اندھیرے میں بھی اس کا رونا جان گیا تھا۔
’’ویسے میں تو تمہیں خاموشی کی ملکہ سمجھتا تھا مگر آج جانا تم تو رائفل کی طرح زبان سے گولے اگلتی ہو۔‘‘ وہ مسلسل بول رہا تھا اور وہ ہونٹ دانتوں میں دبائے ضبط کررہی تھی۔
’’جانتی ہو جس دن سے تمہیں دیکھا یہ ہی دعا کررہا تھا کہ منگنی کی بجائے تمہارے سارے حقوق اپنے نام لکھوا لوں۔ اس دل نے اچھا خاصا خوار کیا… میں اس قدر تنگ آچکا تھا کہ میرا دل کرتا تھا میں دل لگی کرنے پہ اس دل کی وہ حالت کروں جو اسکول میں اساتذہ کسی نالائق طالبعلم کی کرتے ہیں۔‘‘ وہ اپنی بات کے اختتام پہ خود ہی کھلکھلا کر ہنس دیا۔
’’بس کردیں… یہ جھوٹی مسکراہٹ‘ کھوکھلی باتیں اور محبت کے دعوے‘ میں جانتی ہوں ایسا کچھ بھی نہیں ہے‘ اس لیے آپ وہی کہیں جو کہنے آئے ہیں۔ میں بہت بری ہوں جو اتنے سالوں بعد آئے باپ سے اس طرح بول گئی… ہاں میں بری ہوں‘ آپ یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ جو اپنے باپ کی نہیں بن سکی وہ آپ کی کیا بنے گی تو سوچتے رہیں میں ایسی ہی ہوں اور ایسی ہی رہوں گی۔‘‘ وہ چیخ کر بولی اور بولتے ہوئے رو دی۔
’’میں ایسا کچھ بولنے نہیں آیا‘ میں جانتا ہوں تم اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہو‘ غلطی انکل کی ہے قصور وار وہ ہیں۔ تم نے جو کیا صحیح کیا‘ تمہاری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا۔ انہوں نے جو کیا اس کی سزا تو ملنی چاہیے ناں۔‘‘ وہ زورو شور سے اس کی حمایت میں بولا۔
’’سادات… اللہ کے واسطے چپ کر جائیں۔‘‘
’’کیوں…! کیا ہوا؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’میرے ان سے اختلاف اپنی جگہ مگر آپ یوں ان کے خلاف بولیں یہ میں برداشت نہیں کروں گی۔‘‘ وہ آنسو پونچھتے ہوئے سر اٹھا کر اس سے مخاطب ہوئی۔ اس کے روکنے پہ وہ بے ساختہ مسکرایا۔ اس نے دایاں ابرو اٹھاتے ہوئے مسکراہٹ کی وجہ پوچھی۔
’’تم یہ برداشت نہیں کرسکی کہ میں انہیں ذرا بھی غلط کہوں تو یہ کیسے برداشت کررہی ہو کہ بنا کسی قصور کے انہیں سزا کے طور پر ان کی اولاد سے جدا کردو؟‘‘ وہ ہاتھ باندھے پرکھتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا اور وہ ندامت کے گڑھے میں گرتی جارہی تھی۔
’’وہ مجھے معاف کردیں گے ناں؟‘‘ وہ پُرامید نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
’’بالکل کریں گے اور اگر نہیں کریں گے تو میں تمہاری جگہ کان پکڑ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ جائوں گا۔‘‘ وہ کان پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔
’’ارے یہ کیا کررہے ہیں‘ کھڑے ہوجائیں کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا؟‘‘ اس نے گھبرا کے اسے کھڑے ہونے کو کہا۔
’’بس یہی کہے گا کہ سادات اپنی منکوحہ سے بہت ڈرتا ہے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کھڑا ہوگیا۔
وہ جو اس ساری بحث میں اپنا رشتہ بھولی بیٹھی تھی ایک دم سے نگاہیں جھکا گئی۔ دل کیا دھڑکا لب بھی مسکرانے لگے۔
’’چلو… انکل کے پاس چلتے ہیں۔ لائبہ اور شہیر بھی پہنچ چکے ہیں صرف ہمارا انتظار ہورہا ہوگا۔‘‘ اس نے اپنا کشادہ ہاتھ لالی کے آگے کیا جسے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے اس نے تھام لیا۔
اس نے مسکراتے ہوئے اپنے ساتھ چلتے شخص کو دیکھا اور اسے یہ خوبصورت ادراک ہوا کہ اس کے پہلو میں چاند سا شخص تھا جس کا ساتھ اس کے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close