Aanchal Aug-18

الکوثر

مشتاق احمد قریشی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر عطا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بہت بڑی نعمت سے سرفراز فرمایا‘ اس نعمت کی شکر گزاری کا حکم اس آیتِ مبارکہ میں دیا جارہا ہے۔ آیت کے پہلے حصے میں نماز پڑھنے کی تاکید کی ہے اور اس حصے میںقربانی کرنے کی تاکید کی جارہی ہے جس طرح نماز ایک اہم عبادت ہے ایسے ہی قربانی بھی اہم عبادت ہے۔ قربانی کے معنی ہیں تقربِ الٰہی حاصل کرنے کی کوشش اور سعی کرنا شریعتِ اسلام میں اصطلاحاً عبادت کی نیت سے ایک خاص وقت میں حیوان (ذیبحہ اور حلال) کو ذبح کرنے کو کہتے ہیں قربانی جائز اور حلال جانور کی ہوتی ہے لیکن ایسے جانور جو حلال تو ہیں لیکن اُن کی قربانی نہیں ہوتی مثلاً ہرن‘ بارہ سنگھا اور نیل گائے وغیرہ قربانی کے لیے چھ جانور مقرر ہیں گائے‘ اونٹ‘ بکرا‘ مینڈھا‘ دبنہ ان میں نر مادہ کی کوئی پابندی نہیں۔
اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب میں بھی قربانی کو عبادت کا درجہ حاصل ہے یہودیوں کے ہاں توکثرت سے قربانی کے احکام بیان کے گئے ہیں کہ شاید کسی اور عبادت کے متعلق اتنی تفصیل نہیں بیان کی گئی۔ عیسائیوں کے مذہب کی بنیاد ہی قربانی پر ہے اُن کے یہاں قربانی ہی اصل ذریعہ نجات ہے۔ ہندو مذہب کی معتبر کتب میں بھی قربانی کی تفصیل ملتی ہے ایسے ہی دیگر مذاہب میں بھی قربانی عام ہے۔ دیوی دیوتائوں کی خوشنودی کے لیے کہیں کہیں تو نوخیز لڑکیوں‘ لڑکوں تک کو بھی قربان کیا جاتا ہے اسلام میں اور دیگر مذاہب میں قربانی میں بڑا فرق ہے اسلام میں قربانی خالص اللہ کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے کی جاتی ہے جبکہ دیگر مذاہب میں غیر اللہ یعنی دیوی دیوتائوں کی خوشنودی کے نام پر شرک کے طور پر کی جاتی ہے جس کی اسلام نے ممانعت کی ہے۔ کیونکہ قربانی کا شمار بھی اہم ترین عباداتِ الٰہی میں ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اُن کے لیے اور اُن کی اُمّت کے لیے جتنا بڑا انعام عطا فرمایا ہے اس کا شکر و احسان بھی اتنا ہی بڑا ہونا چاہیے۔ اس لیے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنی اُمّت کے لیے کامل نمونہ تھے اور جن کی ہر ہر بات و حرکت اور عمل کی اتّباع کا حکم ہے وہ اپنی روح‘ بدن اور مال و اسباب سے ہر ہر طریقے سے اپنے رب کی عبادت میں مصروف رہتے‘ بدنی و روحی عبادت میں سب سے بڑی چیز اور شکر گزاری نماز کے ذریعے ادا ہوتی ہے اور مالی عبادت میں قربانی ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ قربانی کی اصل حقیقت جان کر قربانی کرنا ہی اصل قربانی ہے۔ جانوروں کی قربانی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض حکمتوں اور مصلحتوں کی بنا پر اصل قربانی کے قائم مقام کے طورپر مقرر کردی ہے۔
دنیا میں سب سے پہلی قربانی بطور نذر حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں ہابیل اور قابیل نے پیش کی پھر حضرت نوح علیہ السلام نے ایک قربان گاہ بنائی اور بہت سے جانوروں کی سوختنی قربانی دی پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی پیش کی بقول یہودی علماء کے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہلے روٹی اور شراب بطور قربانی پیش کی پھر حسب وحی بچھیا‘ بکرا‘ مینڈھا اور کبوتر ذبح کیا (سفر النکوین ۹ تا ۱۷) پھر حسب الحکم بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کیا۔ اسلام سے پہلے بھی عرب میں یہ سنتِ ابراہیم جاری تھی‘ قربانیاں کیں جاتی تھیں اور گوشت فقرا کو بانٹ دیا جاتا تھا لیکن سوختنی قربانی کا دستور صرف یہودیوں میں تھا کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دونوں قسم کی قربانیاں کیا کرتے تھے۔ عیسائیوں میں قربانی کا دستور نہیںتھا۔ ان کے عقیدے کے مطابق مسیح نے اپنی قربانی دے کر سارے عالم کے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا تھا۔ لیکن مسیح کے خون کے بدلے شراب اور گوشت کے بدلے روٹے دینے کا اُن میں دستور تھا۔ یونانی قربانی میں جو اور نمک دیتے تھے۔ جسے وہ ایک ٹوکری میں رکھ کر تھوڑا تھوڑا حاضریں میں تقسیم کرتے تھے جرمنی اور پرتگال کے بعض علاقوں میں انسانی قربانی دی جاتی تھی۔ (لغات القرآن عبدالرشید نعمانیؒ)
قربانی کے سلسلے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بہت ہی ممتاز اور اہم ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو خواب میں اشارہ ملنے پر اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت اور تسلیم و رضا سر تسلیم خم کرنے کا اعلیٰ ترین معیار کیا ہوتا ہے یہ واقعہ اطاعتِ امرِ رب کی اعلیٰ ترین مثال ہے اور اعلیٰ اور بلند ترین مرتبہ پر وہی لوگ پہنچتے ہیں جنہوں نے اپنے نفوس کی تربیت اعلیٰ مقاصد کے لیے کی ہو اور ان کی نظر احکام الٰہی اور اس کی تعمیل پر ہو جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعات میں اطاعتِ ربی اپنے عروج پر نظر ٓتی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ واقعی تسلیم و رضا کی اعلیٰ ترین مثال قرار پایا۔ یہ بہت ہی مشکل تعمیل تھی قرآن حکیم میں سورۃ الصّفّت میں اس واقعے کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہو گا کہ قربانی کیا ہے اور اس کے معنے کیا ہیں۔
ترجمہ۔ اے میرے رب مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔ تو ہم نے اسے ایک برد بار بچے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب بتا کہ تیری رائے کیا ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا لایئے انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ غرض جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بَل گرا دیا۔ تو ہم نے آواز دی اے ابراہیم! یقینا تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا‘ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا۔ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا۔ (الصفت۔ ۱۰۰ تا ۱۰۷)
تفسیر۔ ان آیاتِ مبارکہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام چھیاسی ۸۶ برس کی عمر تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے اور اس عرصے میں آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ شام پہنچ کر آپ نے ایک صالح بیٹے کی التجا کی جو قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک صالح و حلیم بیٹے کی پیدائش کی خوش خبری دی۔ جب وہ بیٹا جس کا نام اسماعیل رکھا تھا اس وقت وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا جب اسماعیل علیہ السلام کی عمر چودہ سال کی ہوئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر تقریباً سو سال کی تو آپ کے یہاں حضرت سارہ کے بطن سے دوسرا بیٹا حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے۔ لیکن حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش سے ایک سال قبل ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے پیارے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں۔ کیونکہ پیغمبر کا خواب بھی وحیِ الٰہی اور حکمِ الٰہی ہوتا ہے جس پر عمل ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے آپ سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنا فرزند قربان کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ آپ نے اپنا خواب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سنایا۔ اس سے آپ کا مقصد بیٹے کا امتحان بھی تھا اور امر ربی سے اسے آگاہ بھی کرنا تھا۔ انہوں نے بیٹے سے پوچھا اب تم بتائو تمہاری کیا رائے ہے جواب میں حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا۔ ’’ابا جان جو کچھ آپ کو حکم ہوا ہے اس کی تعمیل کیجیے آپ انشاء اللہ مجھے صابروں میں پائیں گے۔
یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی اور ان کا وہ طرزِ عمل سامنے آتا ہے جو پوری انسانی تاریخ میں ایک منفرد طرزِ عمل ہے۔ ان کی زندگی میں تو وہ بہرحال ایک یادگار طرزِعمل تھا۔ ان کا یہ عمل اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس قدر پسند آیا کہ قیامت تک کے لیے اُمّتِ مسلمہ کے لیے ایک اعلیٰ و ارفع مثال بن گیا۔
ہم اگر ان کے اس عمل پر غور و فکر کریں تو حیرت ہوتی ہے۔ ایک ایسا بوڑھا سا شخص جسے اس کے اقرباء اور رشتے داروں نے چھوڑ دیا ہو اور جو اپنے وطن سے دور ہو۔ اس بڑھاپے اور کسمپرسی میں بڑی منتوں اور مرادوں اور دعائوں کے بعد اللہ نے ایک بیٹا عطا کیا جس کا انہوں نے برسوں انتظار کیا تھا۔ جب اللہ نے انہیں ایک ذی صلاحیت اور ممتاز صالح بیٹا عطا کیا جس کے مرتبے و مقام کی شہادت بھی دی۔ وہ بچہ ابھی پوری طرح جوان بھی نہیں ہوا تھا۔ ماں باپ ابھی پوری طرح مانوس بھی نہیں ہوئے تھے۔ بس وہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ضرور ہو گیا تھا۔ تب ہی اللہ کی طرف سے انہیں خواب میں وحی ہوئی کہ اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کردو۔ اس خواب سے آپ کسی تردود یا خلجان میں نہیں پڑے نہ ہی کسی قسم کے شک و شبہہ میں مبتلا ہوئے بس جذبہ اطاعتِ الٰہی پیش نظر تھا آپ فوراً تسلیم امر ربی پر آمادہ ہو گئے۔ حالانکہ یہ تو محض ایک اشارہ تھا کیونکہ براہ راست کوئی وحی نہیں آئی تھی۔ لیکن آپ نے اپنے رب کی طرف سے اشارے کو ہی کافی جانا اور اسی اشارۂ الٰہی پر لبیک کہتے ہوئے تعمیل پر آمادہ ہو گئے۔ بغیر کسی اعتراض و سوال کے۔ اپنے اکلوتے اور لاڈلے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ا ن پر نہ تو کسی قسم کی اضطرابی کیفیت طاری ہوئی نہ کسی وسوسے میں پڑے بلکہ اس تسلیم و رضا کے پیکر نے نہایت اطمینان سے پورے وقار سے ٹھہرائو اور تسلیم و رضا کے ساتھ یہ تجویز اپنے بیٹے کے سامنے رکھ دی۔ ان کے اس وقار تسلیم رضا کا اندازہ یہاں آیت نمبر ۱۰۲ سے بخوبی ہو رہا ہے جس میں وہ اپنے بیٹے کو اپنا خواب سنا رہے ہیں اور اس کی رائے معلوم کررہے ہیں یہ الفاظ اس محترم شخصیت کے ہیں جن کو اپنے اعصاب پر پوری طرح قابو ہے اور درپیش اہم ترین معاملے کے بارے میں پوری طرح مطمئن ہیں اور یقین ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کریں گے یہ ایک مومن کا عمل ہے جسے اپنے رب پر پورا پورا یقین و اعتماد ہے وہ یہ خوب اچھی طرح جانتے تھے اور سمجھ رہے تھے جو میں کرنے جارہا ہوں وہ عین اللہ کی مرضی و منشا کے مطابق ہے۔ اسی وجہ سے نہ وہ کسی طرح خوف زدہ ہوئے اور نہ اس عمل سے گزر جانے کے لیے کسی قسم کی جلد بازی یا گھبراہٹ کا اظہار کیا بے شک یہ مرحلہ ان کے لیے انتہائی سخت اور جان لیوا ہو سکتا تھا کہ ان کے ایسے اکلوتے پیارے بیٹے کی قربانی کا مسئلہ تھا جو عمر کے آخری حصے یعنی ضعیفی میں انہیں ملا تھا اور یہ قربانی بھی کوئی ایسی قربانی نہیں تھی کہ بیٹے کو کہیں کسی محاذ پر جانے کو کہا جارہا ہو نہ ہی کسی ایسے کام کے لیے کہا گیا ہو جس سے ان کی زندگی کو خطرہ درپیش ہو سکتا ہو۔ یہاں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے پیارے بیٹے کو ذبح کرنے کا قطعی حکم صادر فرمایا تھا اور وہ بھی اپنے ہاتھ سے۔ یہ حکم جب وہ اپنے بیٹے کے سامنے رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے محسوس کیا تھا کہ میرے رب کی یہی مرضی ہے۔ وہ چونکہ اللہ کی رضا میں راضی رہنے والے تھے لہٰذا انہوں نے سوچا کہ بچے کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے۔ بیٹا بھی آخر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیٹا تھا۔ اس نے اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا۔ آخر جب ان دونوں نے امر وحی کو تسلیم کرلیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو ماتھے کے بَل لٹا دیا۔ ایک بار پھر اطاعت یہاں سربلند ہوتی ہے۔ ایک انسان اپنے پیارے اکلوتے بیٹے کو منہ کے بَل گراتا ہے تاکہ اسے ذبح کرسکے اور بیٹا بھی ذبح ہونے کو تیار‘ بے حس و حرکت گرا ہوا ہے۔ بات اب عمل تک آن پہنچی بس چُھری چلنے کی دیر ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے حق بندگی ادا کردیا اور پوری طرح تسلیم و رضا کا اظہار کردیا۔ امر الٰہی کو وہ روبعمل لے ہی آئے اور اپنا فرض پورا کردیا۔ چُھری چلتی خون بہتا اور روح پرواز کر جاتی۔ اللہ کے یہاں روح کی کوئی اہمیت نہیں۔ اللہ تو اپنے بندے کی نیت اور اخلاص دیکھتا ہے۔ اللہ کے اپنے ناپنے کے پیمانے ہیں جس میں ان دونوں باپ بیٹے نے اپنے اخلاص نیت اور بندگی‘ عزم و ارادے کا وزن رکھ دیا۔ اللہ تعالیٰ خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ ان کی شعوری کوشش کیا ہے۔ ان کا جذبہ کیا ہے۔
یہ ایک امتحان تھا جو گزر گیا۔ اس میں اس کے بندے فتح یاب ٹھہرے۔ عبادت کے معنی اسلام میں ابتلا اور تعذب نہیں ہے۔ اللہ کے لیے خون اور جسم کی کوئی نہ اہمیت ہے نہ وقعت بس بندہ اپنے رب کی رضا کے لیے پورے اخلاص سے مشکل حکم کی تعمیل کے لیے اپنے دل و جان سے تیار ہوجائے تو اس کا فرض پورا ہو جاتا ہے اور وہ امتحان میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اللہ خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دونوں سچے ہیں‘ اس لیے اللہ نے ان کی تیاری کو ہی ان کا سچا عمل سمجھ لیا اور اگلی آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ ’’اور ہم نے ندا دی اے ابراہیم تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کو اللہ تعالیٰ نے اتنا پسند فرمایا کہ اسے سنتِ جاریہ بنا دیا۔ اُمّتِ مسلمہ ہر عیدالاضحی پر اس عظیم واقعے کی دائمی یادگار کے طور پر اس پر عمل کرتی ہے۔ اس عمل میں ایمان اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ اس میں اطاعت ‘ حسن ‘ تسلیم و رضا کی بلندی و عظمت نظر آتی ہے۔ اُمّتِ مسلمہ اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتی رہتی ہے تاکہ یہ اُمّتِ اپنے جدِّ امجد کی عظمت و معرفت کو تازہ کرے اور ان کے عقائد و ایمانیات کا اچھی طرح سے ادراک کرسکے جو ملّتِ ابراہیمی کی میراث ہیں اور ہر مسلمان کو یہ معلوم ہو کہ مسلمان وہی ہوتا ہے جو احکامِ الٰہی پر بے چون و چرا عمل کرے اور خوشی خوشی پورے اخلاص و محبت سے اللہ کی بندگی و اطاعت اس طرح کرے جس طرح سے حکم ملا ہے۔ نہ اپنا کوئی اسلوب اختیار کرے نہ کوئی ایسا طور طریقہ اپنائے جو اللہ کی مرضی و منشا کے خلاف ہو۔
قربانی اسلام میں ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام کا درجہ رکھتی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی اس کو عبادت ہی سمجھا جاتا تھا۔ لوگ بتوں کے نام پر قربانی کیا کرتے تھے۔ آج بہت سے مذاہب میں قربانی رسم کے بطور ادا کی جاتی ہے۔ مشرکین اور بتوں کے نام پر عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام پر قربانی کرتے ہیں۔ کیونکہ عیسائی مذہب میں حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا اور شریک مانتے ہی اس لیے اُن کی قربانی میں اللہ کے ساتھ ساتھ حضرت عیسیٰ اور روح القدس میں شریک ہوتے ہیں اسی طرح یہودی اللہ کے ساتھ حضرت عذیر علیہ السلام کو اللہ کا شریک مانتے ہیں ان کی قربانی بھی خالص اللہ کے لیے نہیں ہوتی لیکن سورۃ کوثر جس کی ہم یہاں تشریح کررہے ہیں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ جس طرح نماز صرف اللہ کے لیے ہے اور کسی کے لیے نہیں ہو سکتی۔ ایسے ہی قربانی بھی صرف اللہ کے ہی نام پر ہونی چاہیے۔ سورۃ الانعام میں بھی تاکید کی جارہی ہے۔
ترجمہ۔ آپ فرما دیجئے کہ میری نماز میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے۔ (الانعام۔۱۶۲)
تفسیر۔ گو کہ اس آیتِ مبارکہ میں خطاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے دین حق کے تمام پیرو کار اس کے مخاطب ہیں۔ ایک اللہ کو ماننے والے اور اسے ہی اپنا رب ماننے والے اللہ کی ذات و صفات و اختیار اور حقوق میں کسی کو بھی کسی طرح شریک نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو جوابدہ سمجھتے ہوئے آخرت پر ایمان رکھتے ہیں‘ مسلمان کی نماز قربانی سب اللہ کے لیے ہوں چونکہ آیت مبارکہ میں لفظ نسک استعمال ہوا ہے جس کے معنی قربانی کے بھی ہیں اور اس کا اطلاق عمومیت کے ساتھ بندگی اور پرستش کی دوسری تمام صورتوں پر بھی ہوتا ہے اور اللہ کے لیے قربانی بذات خود ایک عظیم اور اہم عبادت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد دس سال مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال قربانی کرتے تھے۔ (ترمذی) اس سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف مکہ مکرمہ میں حج کے موقع پر ہی واجب نہیں بلکہ ہر صاحبِ نصاب شخص پر ہر شہر میں واجب ہو گی۔ بشرطیکہ شریعت نے قربانی کے واجب ہونے کے لیے جو شرائط اور قیود بیان کی ہیں۔ وہ پائی جاتی ہوں چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو اس کی تاکید فرماتے تھے۔ اس لیے علمائے اسلام کے نزدیک قربانی واجب ہے۔ (شامی) (آپ کے مسائل ان کا حل جلد سوم شہیدِ اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی)
اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینا ہر حال میں قابل قدر اور افضل ہے مگر ان کی قدر و قیمت کا تعین موقع کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ ایک موقع وہ ہوتا ہے جب کفر کی بڑی طاقت ہو اور خطرہ ہو کہ کہیں اسلام کے مقابلے میں کفر غالب نہ ہو جائے اور دوسرا موقع وہ ہوتا ہے جب کفر کے مقابلے میں اسلام غالب ہو اور اہل ایمان کو کفر کے مقابلے میں فتح و نصرت حاصل ہورہی ہو۔ ان دونوں حالتوں میں اہمیت کے لحاظ سے بڑا فرق ہے۔ جو لوگ دین کے ضعف کی حالت میں اس کی سربلندی کے لیے اپنی جانیں اپنا مال صرف کریں گے۔ ان کا درجہ یقینا بلند ہو گا جنہوں نے راہ حق میں اسلام کے غلبے کی حالت میں مزید فروغ وتعمیر کے لیے قربانیاں اور مال خرچ کیا ہو گا۔ راہ حق میں جو مال خرچ کیا جاتا ہے وہ اللہ کے ذمہ قرض ہے اور اللہ اپنے ذمہ قرض نہیں رکھتا۔ وہ اس مال کو کئی گنا بڑھا کر اپنی طرف سے اجر کے ساتھ لوٹاتا ہے۔ آخرت میں نور الٰہی انہی اہل ایمان کو حاصل ہو گا جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کیا ہو گا اور قربانی دی ہو گی۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ میں فرمایا گیا ہے۔
ترجمہ۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور سلوک و احسان کرو‘ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (سورۃ البقرہ۔ ۱۹۵)
تفسیر۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مراد اللہ کے دین کو قائم کرنے کی سعی و جہد میں مالی قربانیاں کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر انسان اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اپنا مال خرچ نہ کرے اور اپنے ذاتی مفادات کو عزیز رکھے تو یہ دنیا میں ہلاکت کا موجب ہو گا اور آخرت میں بھی ذلیل و رسوا ہو گا‘ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا دین قائم کرنے کے لیے خرچ کرنا ہے کیونکہ اللہ کی راہ میں خرچ ہونے والے مال سے اسلامی معاشرے اور اسلامی نظامِ حیات کو تقویت ملتی ہے۔ اللہ اپنے ضرورت مند بندوں مساکین‘ غربا و فقرا‘ والدین‘ رشتہ داروں کی ضروریات کا اس طرح بندوبست فرماتا ہے کیونکہ اسلام صرف عبادت کا مذہب نہیں بلکہ انسانی معاشرے کی ترقی و استحکام اور معاشرتی انصاف کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں احسان کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی کسی غیر کے ساتھ بھلائی کرنا‘ نیک کام کو انجام دینا اور کسی کام کو خوبی کے ساتھ کرنے کے ہیں۔ کسی بھی عمل کو پورا کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں ایک تو اسے بس پورا کردیا جائے اور ایک اسی کام کو احسن طریقے سے پوری قابلیت و اہمیت اور اپنے تمام تر وسائل کو کام میں لاتے ہوئے دل و جان سے کیا جائے پہلا درجہ اطاعت کا ہے جب کہ دوسرا درجہ تقویٰ‘ خوف الٰہی ہے۔ دوسرے درجے میں احسان قلبی‘ لگائو اور محبت کا گہرا ہونا ظاہر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی یہی ادا سب سے پیاری ہے۔ سورہ الحدید میں اللہ تعالیٰ اس طرح فرما رہا ہے۔
ترجمہ۔ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض دے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لیے پسندیدہ اجر ثابت ہوجائے۔ (سورۃ الحدید۔۱۱)
تفسیر۔ اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دینے کا مطلب ہے اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنا۔ جو مال انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے‘ اس کے باوجود اللہ کو قرض دینا یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر فضل و احسان ہے کہ وہ اس انفاق پر اسی طرح اجر دے گا جس طرح قرض کی ادائیگی کرنا ضروری ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی شانِ کریمی ہے کہ اگر کوئی انسان اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے تو اسے وہ اپنے ذمہ قرض قرار دے رہا ہے۔بشرطیکہ وہ قرض حسن یعنی اچھا قرض ہو یعنی پورے اخلاص نیت کے ساتھ ذاتی اغراض کے بغیر دیا جائے۔ اس میں کسی قسم کی ریا کاری‘ نام وَری‘ شہرت ‘ دکھاوا نہ ہو اور اسے دے کر کسی پر احسان بھی نہ جتایا جائے۔ دینے والا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لیے دے رہا ہو کسی اجر و ثواب کالالچ و خواہش نہ رکھتا ہو۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنے مخلص اہل ایمان سے دو وعدے فرما رہا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اس کو کئی گنا بڑھا کر لوٹائے گا دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے بہترین اجر بھی عطا فرمائے گا۔
حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اسے لوگوں نے سنا تو حضرت ابوالدحداح رضی اللہ عنہ انصاری نے عرض کیا یارسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔ ’’ہاں اے ابو الدحداح‘‘ جواب سن کر انہوں نے کہا ذرا اپنا ہاتھ مجھے دکھایئے یارسول صلی اللہ علیہ وسلم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا تو انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔ میں نے اپنے رب کو اپنا باغ قرض دے دیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے چھ سو درخت تھے۔ اس میں ان کا گھر تھا وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کہہ کر وہ سیدھے گھر پہنچے اور بیوی کو پکار کر کہا۔ دحداح کی ماں نکل آئو میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے۔ وہ بولیں ’’تم نے نفع کا سودا کیا دحداح کے باپ۔‘‘ اور اسی وقت اپنا سامان اور اپنے بچے لے کر باغ سے نکل گئیں۔ (ابن ابی حاتم)
اس واقعے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مخلص اہل ایمان کا طرز عمل اپنے رب کے احکام کو بجا لانے کے لیے کیسا ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ وہ کیسا قرض حسنہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ کئی گنا بڑھا کر واپس دینے اور ساتھ ہی اجرِ عظیم عطا کرنے کا وعدہ فرما رہا ہے۔
قربانی دراصل اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور شکر کا نذرانہ ہے اور یہ شکرانہ و نذرانہ اللہ تعالیٰ نے دو عظیم الشان عبادتوں کی تکمیل پر ضروری قرار دیا ہے تاکہ مسلمان اپنی عبادتوں کی ادائیگی پر اللہ تعالیٰ کے حضور نذرانہ پیش کریں جس کا نام قربانی ہے۔ وہ دو عظیم عبادتیں رمضان کے روزے جن کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ نے عید الفطر کو رکھا اور عیدالاضحی کو اس وقت رکھا جب حج کی عظیم الشان عبادت کی تکمیل ہورہی ہے۔ عیدالفطر پر اپنی خوشی کا اظہار صدقۂ فطر ادا کر کے کرو اور عیدالاضحی کے موقع پر اپنی خوشی کا اظہار اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کر کے کرو۔
قربانی خالص عبادت الٰہی ہے۔ اسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب فرما کر اسے سنت ابراہیمی کا درجہ عطا فرما دیا۔ قربانی دراصل ہے کیا؟ اسے سمجھنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کفار مکہ جو خود کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل کہتے تھے وہ اپنے دیوی دیوتا کو خوش کرنے کے لیے بطور نذر قربانی کیا کرتے تھے۔ کفار مکہ اور اہل قریش اپنے معبودوں کے لیے قربانی کیا کرتے تھے اور قربانی جیسا کہ اوپر کی سطور میں اظہار کیا گیا ہے کہ اظہار تشکر کا ایک انداز ہے جسے اللہ نے اُمّت مسلمہ کے لیے سنت ابراہیمی کے بطور مسنون کردیا۔
سب سے پہلی قربانی حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے دو بیٹوں کے درمیان جھگڑا نمٹانے اور ان کے درمیان مفاہمت کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی۔ جس طرح ابتداء سے تمام انسانیت کا ایک ہی مذہب ایک ہی دین اسلام ہے جو شیطان مردود کی کارستانیوں کے باعث زمانے کے ساتھ ساتھ بدلتا رہا اور توحید الٰہی کو بھول کر لوگ شرک و کفر کا شکار ہو گئے اور وہ قربانی جو اپنے معبود حقیقی کے حضور پیش کرنا تھی اسے بھی اپنے معبود ان باطل کو پیش کرنے لگے۔ سورۃ المائدہ میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا واقعہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کو نصیحت اور تنبیہ کے لیے دیا ہے اسے سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ قربانی کی ابتداء کیسے ہوئی جسے کفار نے بعد میں کیا سے کیا رنگ دے دیا۔
ترجمہ۔ اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بے کم و کاست سنا دو۔ جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا اس نے جواب دیا اللہ تو متّقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔ (سورۃ المائدہ۔۲۷)
تفسیر۔ قرآن کریم میں حضرت آدم کے ان دونوں بیٹوں کے نام اور زمان و مکان کے بارے میں تفصیلات نہیں دی ہیں۔ البتہ مشہور یہ ہے کہ ان کے نام ہابیل اور قابیل تھے یہ دونوں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ ان کے درمیان انسانیت کا پہلا تنازعہ پیدا ہوا جو دو بہنوں کے بارے میں تھا۔ ابتداء میں حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا علیہ السلام کے ملاپ سے حکم ربی سے بیک وقت ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتی تھی اسی طرح دوسرے حمل سے پھر ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتی۔ ایک حمل کے بہن بھائی کا نکاح دوسرے حمل کے بہن بھائی سے کردیا جاتا لیکن ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی بدصورت تھی جب کہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی خوب صورت تھی۔ اس وقت کے اصول کے تحت ہابیل کا نکاح قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی کے ساتھ ہونا تھا اور قابیل کا نکاح ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی سے ہونا تھا۔ لیکن قابیل چاہتا تھا کہ اس کا نکاح ہابیل کی بہن کے بجائے اپنی بہن یعنی اپنے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی سے ہو کیونکہ وہ خوب صورت تھی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اسے سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا بالآخر حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں کو بارگاہ الٰہی میں قربانیاں پیش کرنے کا حکم دیا اور فرمایا جس کی قربانی قبول ہوجائے گی اسی کے ساتھ قابیل کی بہن کا نکاح کردیا جائے گا۔ (یہ واقعہ تاریخ انسانیت کا پہلا تنازعہ بھی ہے اور پہلی قربانی کا ذریعہ بھی ہے) دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے طور پر اللہ کی بارگاہ میں قربانی پیش کی ہابیل نے ایک عمدہ دنبے کی قربانی پیش کی اور قابیل نے گندم کی بالیوں کی قربانی پیش کی۔ ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی اس طرح کہ آسمان سے آگ آئی اور دنبے کو کھا گئی جو اس کے قبول ہونے کی دلیل تھی ہابیل کی قربانی قبول ہونے پر قابیل حسد کا شکار ہو گیا اور اس نے بغاوت کردی اور اپنے بھائی کو قتل کرنے کی دھمکی دی اور بعد میں اسے قتل کر ڈالا۔ (اس قصے کے بارے میں نہ تو قطعی روایات یا ثبوت ہیں نہ ہی احادیث میں اس کا ذکر ہے لیکن اکثر مفسرین کرام نے اسے تحریر کیا ہے یہ قصہ دراصل اہل کتاب کے عہد نامۂ قدیم میں آیا ہے جہاں پوری تفصیل سے اسے درج کیا گیا ہے) یہاں اس واقعے کو نقل کرنے کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ اللہ کی بارگاہ میں قربانی کا رواج کیسے اور کب ہوا جو بتدریج بگڑتے بگڑتے کفر کی حد میں داخل ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے بطور عبادتِ خاص رائج فرمایا اور اس کی فضیلت یہ بتائی گئی جب کوئی شخص اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتا ہے تو اس قربانی کے نتیجے میں اس جانور کے جسم پر جتنے بھی بال ہوں گے اس کے ہر ہر بال کے عوض ایک ایک گناہ معاف کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں کو اجر و ثواب سے نوازنے کے لیے حیلے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ جب بندہ کوئی جانور قربان کرتا ہے تو جانور کا خون ابھی زمین پر گرتا بھی نہیں ہے کہ اس سے پہلے قربانی اللہ تعالیٰ کے یہاں پہنچ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جب یہ دیکھتے ہیں کہ میرا بندہ یہ دیکھے بغیر کہ یہ بات عقل میں آرہی ہے یا نہیں اور یہ دیکھے بغیر کہ اس کے مال کا فائدہ ہورہا ہے یا نقصان صرف اللہ کے حکم کو مانتے ہوئے صرف ایک اللہ کے لیے جانور کے گلے پر چھری پھیر رہا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جوش میں آجاتی ہے اور وہ اپنے بندے کو اجرِ عظیم عطا فرماتا ہے۔
قربانی ہر امت کے نظام عبادت کا ایک لازمی جزو رہی ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں سورۃ الحج میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔
ترجمہ۔ اور ہر اُمّت کے لیے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر کردیے ہیں تاکہ وہ ان چوپایے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں۔ سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہو جائو عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔ (الحج۔۳۴)
تفسیر۔ اس آیت مبارکہ سے دوباتیں سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ قربانی تمام شرائع الٰہیہ کے نظامِ عبادت کا ایک لازمی حصہ ہے اور توحید فی العبادت کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان نے جن جن صورتوں سے غیر اللہ کی بندگی کی ہے ان سب کو غیر اللہ کے لیے ممنوع کر کے صرف اللہ کے لیے مختص کردیا جائے۔ جیسے انسان نے عبادت کے لیے غیر اللہ کے آگے رکوع و سجود کئے شرائع الٰہیہ نے اسے صرف اللہ کے لیے خاص کردیا۔ انسان نے غیر اللہ کے سامنے مالی نذرانے پیش کیے۔ شرائع الٰہیہ نے انہیں قطعی روک دیا اور زکوٰۃ و صدقات صرف اللہ کے لیے واجب کردیئے۔ انسان نے ان غیر اللہ معبودانِ باطل کی تیرتھ یاترا (مقدس دریا کے کنارے زیارت کرنا) کی شرائع الٰہیہ نے بیت اللہ کو مقدس قرار دے کر اس کی زیارت اور طواف کا حکم دے دیا۔ انسان نے غیر اللہ کے نام کے روزے رکھے شرائع الٰہیہ نے انہیں بھی اللہ کے لیے مختص کردیا۔ ٹھیک اسی طرح خود ساختہ معبودوں کے لیے جانوروں کی قربانی بھی انسان کرتا تھا شرائع الٰہیہ نے اس کو بھی غیر اللہ کے لیے قطعی حرام قرار دے کر اللہ کے لیے واجب کردیا۔
اس آیت مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اصل چیز صرف اللہ کے نام پر قربانی دینا ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں میں حالات کے لحاظ سے فرق رہا ہے لیکن سب کی روح سب کا مقصد ایک ہی رہا کہ ایک اللہ کے لیے اس کی رضا و منشا کے لیے قربانی کی جائے کب کہاں اور کس طرح کی جائے اس کی تفصیلات مختلف زمانوں میں ضرور مختلف رہیں مگر مقصد صرف اللہ کے حضور قربانی پیش کرنا ہی رہا۔ قربانی چونکہ عبادت شمار کی جاتی ہے اس لیے اللہ کے نام پر قربانی کرنا اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لیے جانور کی قربانی کرنا عبادت ہے اسی لیے غیر اللہ کے نام پر ان کی خوشنودی کے لیے جانور ذبح کرنا حرام ہے قربانی ہر طرح سے ہر قسم کی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے اور یہ ہر ملت و قوم میں رائج رہی ہے۔
اسلامی نظام زندگی یہ ہے کہ وہ انسان کے احساسات اور رحجانات کو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے وابستہ کرتا ہے۔ اسلام میں ہر حرکت‘ ہر عادت ہر عمل و سرگرمی کو شعوری طور پر ایک سمت دی جاتی ہے اور ہر چیز کو اسلامی نظریۂ حیات کے رنگ میں رنگ دیا جاتا ہے۔ اسی نکتہ نظر سے اسلام نے ایسے تمام مذبوحہ جانوروں کو حرام قرار دے دیا‘ جن پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو یا کسی غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ اسلام میں یہ ضروری ہے کہ ہر ذبح کے وقت قربانی کی نیت صرف اللہ کے لیے کی جائے اور ذبح کے وقت بلند آواز میں اللہ اکبر کہا جائے۔ اسلام میں تمام بنیادی شعائر میں ربط پیدا کر کے ذات باری تعالیٰ کو ہر چیز کا محور بنا دیا جائے اس طرح اسلام کا نظامِ عبادت‘ اس کے عقائد و نظریات اور قوتِ عمل میں کوئی تضاد نہیں رہتا اور نفسِ انسانی اور عملِ انسانی کے درمیان کوئی ابہام‘ کوئی تضاد و کشمکش نہیں رہتی۔
اسلام وہ دین کامل ہے جو آفرنیش سے لے کر اپنی تکمیل تک تمام ادوار میں ایک ہی رہا۔ مختلف ادوار میں گمراہ ہو جانے والوں کی ہدایت کے لیے رب ذوالجلال اپنی رحمت و کریمیَّت کے اظہار کے لیے بار بار اپنے رسول و پیغمبر بھیجتا رہا ہے تاکہ اس نے جس مخلوق کو اپنا نائب بنایا ہے وہ کسی وجہ سے گمراہی میں گر کر اپنی دائمی زندگی کو خراب نہ کرلے اس لیے تمام ادیان کے داعی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کا پیغام دیتے رہے‘ یہی پیغام نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر تشریف لائے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے لائے ہوئے دین اسلام میں تمام ادیان اور ان کے داعیوں ان کی کتابوں کو تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت و تسلیم و رضا کی ادا بہت زیادہ پسند آئی۔ اس لیے اسے رہتی دنیا تک کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے قائم فرما دیا۔
سورۃ الکوثر کی دوسری آیت کی تشریح کررہے تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی‘ دلداری کے لیے اللہ تعالیٰ نے انعام فرمائی چونکہ قربانی اطاعت کا ذریعہ ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں انعام الٰہی پر نماز ادا کرنے اور شکر کے طور پر قربانی کرنے کی ہدایت فرما رہا ہے۔ یہ ہدایت نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ان کی تمام اُمّت کے لیے بھی ہے کہ وہ اپنی ہر کامیابی‘ اپنی ہر مسرت و خوشی اور اپنی ہر ناکامی و نامرادی پر اپنے رب کا شکر اداکرتے رہیں ۔ نماز پڑھیں اور اپنے مال کی قربانی اللہ کی راہ میں دیں تاکہ اللہ ان کے اخلاص و اطاعت کا انہیں بھرپور اجر عطا فرمائیں۔ اس طرح ایک مومن اہل ایمان کا اپنے رب سے تعلق و قربت بھی ہو گی اور حقِ بندگی بھی ادا ہو سکے گا۔

یقینا تمہارا دشمن ہی بے نام نشان ہے

یہ سورۃ کوثر کی تیسری اور آخری آیت ہے۔ اس میں لفظ شانئک استعمال ہوا ہے۔ شانی شن سے ہے جس کے معنی ایسے بغض اور عداوت کے ہیں جس کی وجہ سے کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے۔ یہاں شانئک سے مراد ہر وہ شخص ہے جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی اور عداوت پر کمربستہ تھا اور کرے گا اپنی دشمنی میں ایسا اندھا ہو گیا تھا اور آج بھی ہورہا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگاتا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلا ف بدگوئی کرتا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف طرح طرح کی الزام تراشی کر کے دل کا بخار نکالتا تھا یا آج کے زمانے میں بھی ایسا کررہا ہو۔
سورۃ الکوثر جن حالات میں نازل ہوئی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شدید ترین مشکلات کا دور تھا۔ پوری کی پوری قوم دشمنی پر تلی ہوئی تھی۔ عزیز رشتہ دار اور دوست‘ دشمن بن چکے تھے۔ مزاحمتوں کے پہاڑ کے پہاڑ راستے میں حائل تھے۔ مخالفت کا طوفان ہر طرف برپا تھا۔ حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے چند مٹھی بھر ساتھیوں کو دور دور کامیابی کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تقاضۂ بشریت نے پریشان کر رکھا تھا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے اور محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے‘ ان کی ہمت بندھانے کے لیے سورۃ کوثر کا نزول فرمایا۔ اس سورۃ مبارکہ سے اللہ تباک و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی بھی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین دشمنوں کی تباہی و بربادی کی پیشن گوئی بھی فرما دی۔ کیونکہ کفار قریش کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ساری قوم سے کٹ گئے۔ ان کی حیثیت ایک بے کس و بے یارو مددگار کی سی ہو گئی ہے۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو اسلام کی دعوت دی تو کفار قریش کہنے لگے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم سے کٹنے کی وجہ سے ایسے ہو گئے ہیں جیسے کوئی جڑ کٹا درخت جو کچھ عرصے بعد خود بہ خود سوکھ کر پیوند خاک ہو جائے گا۔ (نعوذ باللہ)
’’وہی ابتر ہے‘‘ آیت شریف کے اس حصے میں فرمایا جارہا ہے وہی ابتر ہے۔ درحقیقت جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتا ہے وہی خود ابتر ہے۔ یہ لفظ بتر سے صفت ہے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں مگر محاورے میں یہ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں نماز کی اس رکعت کو جس کے ساتھ کوئی دوسری رکعت نہ پڑھی جائے بتیراء کہا گیا ہے۔ یعنی اکیلی رکعت‘ ایک اور حدیث میں ہے ہر وہ کام جو کوئی بھی اہمیت رکھتا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ بھی ابتر ہے‘ یعنی اس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔ اسے کوئی استحکام نصیب نہیں ہو گا یا اس کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔ نامراد انسان کو بھی ابتر کہتے ہیں۔ ذرائع و وسائل سے محروم ہو جانے والے کوبھی ابتر کہتے ہیں۔ جس شخص کے لیے کبھی خیر اور بھلائی کی توقع باقی نہ رہے اور کامیابی کی ساری امیدیں ختم ہو چکی ہوں وہ بھی ابتر ہے۔ جو فرد اپنے کنبے‘ برادری‘ اعوان و انصار سے کٹ کراکیلا رہ گیا ہو وہ بھی ابتر ہے اور جس شخص کی اولاد نرینہ یعنی بیٹا نہ ہو یا مر گیا ہو وہ بھی ابتر ہے کیونکہ اس کے پیچھے اس کا کوئی نام لیوا باقی نہیں رہتا اور مرنے کے بعد وہ بے نام و نشان ہو جاتا ہے۔ تقریباً ان سب ہی معنوں میں کفار قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے اس پر ربّ کائنات نے اپنے محبوب نبی سے فرمایا کہ ’’تم ابتر نہیں ہو بلکہ تمہارے دشمن ابتر ہیں۔ یہ کوئی جوابی حملہ نہیں تھا بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی بڑی اہم پیشن گوئی تھی جو حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ جس وقت یہ پیشن گوئی کی گئی تھی اس وقت کفار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر سمجھ رہے تھے اور بہ ظاہر دور دور کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار کیسے ابتر ہو جائیں گے جو نہ صرف مکہ میں بلکہ پورے عرب میں بڑے ہی نام ور تھے ۔ کامیاب ‘ مال و دولت اور اولاد والے تھے۔ بہت سی نعمتیں رکھتے تھے۔ سارے ملک میں جگہ جگہ ان کے اعوان و انصار موجود تھے‘ تجارت میں اجارہ دار تھے اور حج کے منتظم ہونے کی وجہ سے تمام عرب قبائل سے ان کے وسیع تعلقات تھے لیکن چند سال نہیں گزرے تھے کہ کایا پلٹ گئی۔ کہاں تو یہ حالات تھے کہ سن ۵ ہجری میں غزوہ احزاب کے موقع پر جب قریش بہت سے عرب اور یہودی قبائل لے کر مدینے پر چڑھ آئے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو محصور ہو کر شہر کے گرد خندق کھود کر مدافعت کرنا پڑی تھی وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ تین سال بعد ہی وہ وقت آگیا جب سن ۸ ہجری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر چڑھائی کی تو قریش کا کوئی حامی و مددگار نہیں تھا اور انہیں بے بسی سے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اس کے بعد ایک سال کے اندر اندر پورا عرب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ نگر تھا۔ ملک کے گوشے گوشے سے قبائل کے وفود آ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کررہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام دشمن بے بس و بے یارو مددگار ہو کر رہ گئے تھے۔ پھر وہ ایسے بے نشان ہوئے کہ ان کی اولاد اگر دنیا میں باقی رہی بھی تو ان میں سے آج کوئی نہیں جانتا کہ وہ ابوجہل یا ابولہب یا عاص بن وائل یا عقبہ بن ابی معیط وغیرہ دشمنان اسلام کی اولاد ہیں اور اگر جانتا بھی ہو گا تو کوئی اپنی نسبت ان سے کہنے کے لیے تیار نہ تھا کہ ان کے اسلاف یہ لوگ تھے۔ جب کہ اس کے برعکس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر آج دنیا بھر میں درود سلام بھیجا جاتا ہے کروڑوں کیا اربوں مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پر فخر ہے۔ لاکھوں انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے خاندانوں سے اپنی نسبت و انتساب پر فخر کرتے ہیں اور باعث شرف سمجھتے ہیں۔ کوئی سید ہے‘ کوئی علوی ہے‘ کوئی عباسی تو کوئی ہاشمی اور صدیقی ہے اور کوئی فاروقی‘ عثمانی‘ زبیری‘ انصاری مگر کبھی کہیں بھی کوئی ابو جہلی یا ابولہبی نہیں ملا نہ سنا۔ تاریخ نے ثابت کردیا کہ کہ ابتر کون تھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو نہیں ہاں ان کے دشمن ضرور ابتر تھے۔
دشمنان اسلام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی میں سب سے پیش پیش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا ابولہب تھا۔ زمانہ قدیم میں جب کہ پورے عرب میں بدامنی غارت گری اور طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا اور صدیوں سے یہ حالت تھی کہ کسی شخص کے لیے اس کے اپنے خاندان اور خونی رشتے داروں کی حمایت کے سوا جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ تھی۔ اس لیے عرب معاشرے میں اخلاقی قدروں‘ صلہ رحمی (رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک) کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور قطع رحمی کو بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی انہی روایات کا یہ اثر تھا کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت حق دی تو قریش کے دوسرے خاندانوں اور سرداروں نے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی مگر بنی ہاشم اور بنی المطلب (ہاشم کے بھائی مطلب کی اولاد) نے نا صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہیں کی بلکہ وہ کھلم کھلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے رہے حالانکہ ان میں سے اکثر افراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان نہیںلائے تھے۔ قریش کے دوسرے خاندان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خونی رشتہ داروں کی حمایت کو عرب کی اخلاقی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے کبھی انہوں نے بنی ہاشم اور بنی المطلب کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم ایک دوسرا دین پیش کرنے والے کی کیوں حمایت کر کے اپنے آبائی دین کے خلاف ہو گئے ہو۔ کیونکہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ کوئی بھی خاندان اپنے کسی فرد کو کسی بھی حالت میں دشمن کے سامنے اکیلا نہیں چھوڑتا۔ اپنے عزیز کی ہر حال میں پشت پناہی کرنا اہل عرب کا ایک فطری امر تھا۔
عربوں کے اس اخلاقی اصول کو زمانہ جاہلیت میں بھی تمام عرب بڑی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ پورے عرب معاشرے میں صرف ایک شخص ہی ایسا تھا جو اسلام دشمنی میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ اس نے عربوں کی تمام اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال دیا اور تمام اخلاقی حدود و قیود کو پھلانگ گیا۔ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کا بیٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سگا چچا ابو لہب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد عبداللہ اور ابولہب ایک ہی باپ کی اولاد تھے۔ لیکن دونوں کی مائیں الگ الگ تھیں حضرت عبداللہ کی والدہ فاطمہ بنت عمر تھیں جبکہ ابوالہب کی والدہ لبنیٰ بنت عامہ تھیں۔ عرب معاشرے میں چچا کو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا خصوصاً جب کہ بھتیجے کا باپ انتقال کر چکا ہو تو عرب معاشرے میں چچا سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھے گا لیکن اس شخص ابو لہب نے اسلام دشمنی اور کفر کی محبت میں تمام عرب روایات کو پامال کردیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے چچا ابو طالب نے اپنی تمام تر عرب اقدار و روایات کے عین مطابق اپنے والد عبدالمطلب کے انتقال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کہ صرف آٹھ برس کے تھے تو چچا ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی ذمہ داری سنبھال لی اور چچا ابو طالب نے اپنے بچوں سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز رکھا۔ ایک چچا ابولہب تھا اور ایک چچا ابوطالب‘ دونوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ ابو طالب نے بھی گو کہ اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن وہ ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سینہ سپر رہے۔ کفار قریش اگر آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کرتے تب بھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی حمایت و تائید کرتے جب کہ ابو لہب جی جان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی پر کمربستہ رہتا۔ اس کی اس دشمنی کے باعث اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی میں ہی اس کے لیے قرآن کریم میں رہتی دنیا تک کے لیے ہی نہیں بلکہ آخرت کے زندگی کے لیے بھی بددعا فرمائی اور قرآن حکیم میں سورۃ اللھب نازل فرمائی جس سے وہ ہمیشہ ہمیشہ معتوب اور ذلیل ہوتا رہے گا۔ قرآن حکیم میں ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنان اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمّت کی گئی ہے۔ حالانکہ مکہ میں اور مدینے میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت میں ابو لہب سے کسی طرح کم نہیں تھے۔ تو پھر کیوں ابولہب کو خصوصیت سے نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم عربی معاشرے کو سمجھیں اور سورۃ اللھب کی تشریح اور تفسیر پر غور کریں۔یہ سورہ مبارکہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی اپنے پیارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے خلاف پُر اثر سزا بھی ہے۔ اس سورہ میں سزا کا دو ٹوک اعلان ہے۔
ترجمہ۔ ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ۔ اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا۔ ضرور شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا اور (اس کے ساتھ) اس کی بیوی بھی لگائی بجھائی کرنے والی‘ اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہو گی۔ (سورۃ تبت۔ آیات ۱ تا ۵)
یہ سورۃ مبارکہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ یہسورۃ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام کے دشمن ابو لہب کے نام سے منسوب ہے۔ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ اور مدینہ کے علاوہ دیگر قبائل عرب میں دشمنوں کی کمی نہیں تھی۔ دین اسلام کے بدخواہوں کی اذیت رسانیاں‘ دل آزاریاں اور اسلام کو بحیثیت دین ناکام کرنا ہی ان سب کا مقصد حیات تھا۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خصوصیت سے اس سورۃ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ہی دشمن سے کیوں منسوب فرمایا؟ جہاں یہ سورۃ ابولہب اور اس کی بیوی ام جمیل کے لیے دائمی بددعا ہے وہیں اپنے محبوب نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و نسبت کا اظہار بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی کا مژدہ بھی ہے۔
جہاں محبت و شفقت کی توقع ہو وہاں اگر نفرت و عداوت کا لاوا پھوٹ پڑے جہاں تائید و اعانت کی امید ہو وہاں مخاصمت و مخالفت کا طوفان امڈ پڑے تو یقیناً یہ سب کچھ نا صرف غیر متوقع اور تکلیف دہ بھی ہو گا کیونکہ ابو لہب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ ایک ہی باپ کی اولاد اور سگے حقیقی بھائی تھے۔ اس لیے بجا طور پر امید کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنے سگے بھائی کے یتیم بیٹے کی تائید و حمایت میں اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔ اُن کی تائید و نصرت میں بھرپور مددگار و حمایتی ہو گا۔ جب کہ اس کے برعکس اس کا پورا قبیلہ بنی ہاشم جس کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چشم و چراغ تھے‘ نے اس کے باوجود کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے تھے لیکن جی جان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ و حمایتی تھے۔ عرب کے تمام قبائل میں یہ رواج تھا کہ وہ ہر حال و صورت میں اپنی قوم‘ قبیلے‘ اپنے خاندان کے فرد کی حمایت و حفاظت ہر قیمت پر کرتے تھے۔ چاہے وہ کتنا ہی ظالم کیوں نہ ہو۔
ابولہب تو خونی اور خاندانی رشتے کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمسایہ بھی تھا۔ دونوں گھروں کے درمیان صرف ایک دیوار حائل تھی۔ پڑوسی کا حق دنیا کے تمام معاشروں میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ پڑوسی ہونے اور چچا ہونے کے ناتے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی زندگی و حالات سے بھی بخوبی آگاہی رکھتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے داغ کردار سے پوری طرح باخبر تھا۔ اس کے باوجود جب اس نے اسلام دشمنی میں انتہا کردی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ہر طرح پریشان اور تکلیف پہنچاتا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی اس کی ہر طرح مدد کرتی۔ دین حق سے اس کا بغض و عناد اتنا شدید تھا کہ وہ ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگا رہتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتا رہتا۔ اس لیے ہی اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کو اس کے نام سے منسوب فرمایا۔ اس سورۃ کے مطالعے سے ہمیں بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ بارگاہِ رسالت میں معمولی سے معمولی گستاخی بھی رب کائنات کو کس قدر ناگوار گزرتی ہے۔ یہ سورۃ مبارکہ رہتی دنیا تک اگر ابولہب اور اس کی بیوی کے لیے بددعا کی حیثیت رکھتی ہے۔ تو اہلِ ایمان کے لیے ایک واضح تنبیہہ بھی ہے کہ حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں معمولی سی بے ادبی کے بھی کتنے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں کہ کب غضب الٰہی کی بجلی کوندے اور بے ادب گستاخ کو جلا کر رکھ دے۔
اس سورہ میں ابولہب کا نام لے کر اس کی مذمّت کی گئی ہے۔ ایسا اس لیے کیا گیا کہ مکہ کے باہر کے عرب جب حج کے موقع پر آتے اور مختلف بازاروں میں جمع ہوتے تو ان کے سامنے ابولہب جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سگا چچا تھا وہ ان کی سرعام مخالفت اور برائی کرتا جب کہ یہ عرب کی معروف روایات کے بالکل خلاف بات تھی کہ کوئی اپنا خونی رشتہ دار اس کی مخالفت کرے اور خاص طور پر چچا جو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا۔ وہ خود سب کے سامنے اپنے بھتیجے کو برا بھلا کہے اور اسے پتھر مارے۔ اس پر الزامات عائد کرے لوگ ابو لہب کی باتوں سے متاثر ہو کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شک میں پڑ جاتے لیکن جب یہ سورہ نازل ہوئی تو ابو لہب نے مارے غصے کے اول فول بکنا شروع کردیا تو لوگوں نے از خود سمجھ لیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں اس شخص کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ شخص اپنے سگے بھتیجے کی دشمنی میں پاگل ہو گیا ہے۔
ابو لہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا۔ابو لہب اسے اس کے رنگ کے باعث کہا جاتا تھا جو سرخ و سفید چمکتا ہوا تھا۔ لہب آگ کے شعلے کو کہتے ہیں۔ ابو لہب کے معنی شعلہ رُو کے ہوتے ہیں۔ یہاں اس کے نام کے بجائے اس کی کنیت سے پکارا گیا ہے۔ اس لیے کہ وہ زیادہ تر اپنی کنیت ابولہب سے ہی پکارا جاتا تھا۔ دوسرے اس کا اصل نام تو ایک خالص مشرکانہ نام تھا۔ عبدالعزیٰ یعنی عزیٰ کا بندہ اور عزیٰ کفار قریش کے ایک بُت کا نام تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کیسے پسند کرتا کہ اس کے کلام میں اسے اس مشرکانہ نام سے پکارا جائے ۔ تیسری اور سب سے اہم یہ کہ سورۃ میں جو انجام اس کا بیان کیا گیا ہے اس کے لیے اس کی کنیت ہی زیادہ مناسب ہے۔ علاوہ ازیں اسے اپنے انجام کے اعتبار سے جہنم کی آگ کا ایندھن بننا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی بیوی ام جمیل بھی دشمنی میں اپنے خاوند سے کسی طرح کم نہیں تھی۔
اس آیت کے نزول کے سبب میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم الٰہی ہوا کہ اپنے رشتے داروں کو ڈرائو اور ان سے تبلیغ کا آغاز کرو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ کی پہاڑی پر چڑھ کر آواز لگانے لگے۔ ’’یاصباحاہ‘‘ اس طرح کی آواز قبائل میں خطرے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ اس آواز پر آپ کے تمام رشتہ دار جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذرا بتلائو اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر ایک گھڑ سوار لشکر ہے جو حملہ آور ہوا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے؟ تو سب نے مل کر کہا کیوں نہیں ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کبھی جھوٹا نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر سن لو کہ میں تمہیں ایک بہت بڑے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں (اگر تم اسی طرح کفر و شرک میں مبتلا رہے) یہ سن کر سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سگے چچا ابولہب نے کہا ’’تبالک‘‘ تیرے لیے ہلاکت ہو‘ کیا تُو نے ہمیں یہاں یہی سنانے کے لیے جمع کیا تھا؟ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرمائی۔ (صحیح بخاری‘ تفسیر سورۃ تبت مسند احمد ‘ مسلم‘ ترمذی‘ ابن جریر)
حضرت ابن زید رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابو لہب نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روز دریافت کیا کہ اگر میں تمہارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں کو ملے گا۔ اس پر اس نے کہا میرے لیے کوئی خاص فضیلت نہیں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ کیا چاہتے ہیں؟ اس پر وہ بولا ناس جائے اس دین کا جس میں‘ میں اور دوسرے لوگ برابر ہوں (ابن جریر)
حضرت ربیعہ بن عبادالدیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا میں اپنے والد کے ساتھ ذوالحجاز کے بازار میں گیا تو وہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ ’’لوگو کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے فلاح پائو گے۔‘‘ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک شخص یہ کہتا جارہا تھا کہ ’’یہ جھوٹا ہے‘ اپنے آبائی دین سے پھر گیا ہے۔‘‘ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔ (مسند احمد۔ بہیقی) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے جاتے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے وہاں پہنچ جاتا اور لوگوں کو بات سننے سے روکتا۔ ان ہی حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت بھی ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک ایک قبیلے کے پڑائو پر جاتے اور فرماتے ’’اے بنی فلاں بنی فلاں میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ میں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو تم میری تصدیق کرو اور میرا ساتھ دو تاکہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا اور وہ کہتا کہ بنی فلاں یہ تم کو لات اورعزیٰ سے پھیر کر اس بدعت و گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے جسے یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی بات ہرگز ہرگز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو۔ میں نے اپنے باپ سے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔ (مسند احمد۔طبرانی)
حضرت طارق بن عبداللہ المحاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ذوالحجاز کے بازار میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے کہتے جاتے ہیں کہ ’’لوگوں لاالہ الا اللہ کہو فلاح پائو گے اور پیچھے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مار رہا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیاں تک خون سے تر ہو گئیں اور وہ شخص ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے اس کی بات نہ مانو۔ میں نے لوگوں سے دریافت کیا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے۔ (ترمذی۔ مسند احمد۔ طبرانی)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ساتویں سال میں قبیلہ قریش کے تمام خاندانوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کی پاداش میں بنی ہاشم اور بنی المطلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا اور یہ دونوں خاندان اپنی اخلاقی خاندانی عرب روایات کو نبھاتے ہوئے اس کے باوجود کہ وہ دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے ان کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں تنہا یہی شخص ابو لہب تھا جس نے عرب اور اپنی خاندانی اخلاقی روایات کے خلاف کفار قریش کا ساتھ دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خاندان کے افراد کا یہ بائی کاٹ یعنی مقاطعہ تین سال تک جاری رہا۔ اس عرصے میں دونوں خاندانوں بنی ہاشم اور بنی المطلب پر فاقوں کی بھی نوبت آگئی مگر ابولہب کا یہ حال تھا کہ جب کوئی تجارتی قافلہ مکہ میں آتا اور شعب ابی طالب سے کوئی فرد محصورین کے لیے خوراک کا سامان خریدنے آتا تو ابولہب تاجروں سے پکار پکار کر کہتا کہ ان کے ہاتھ سامان نہ بیچو ان سے اتنی قیمت مانگو کہ یہ خرید نہ سکیں۔ اس طرح تمہیں جو نقصان ہو گا وہ میں پورا کروں گا۔ چنانچہ وہ ان محصورین شعب ابی طالب سے اتنی قیمت طلب کرتے جسے وہ ادا نہ کرسکتے اور خالی ہاتھ لوٹ جاتے حالانکہ ان کے بچے بھوک سے بلک اور تڑپ رہے ہوتے تھے پھر وہ ان تاجروں سے وہ چیز بازارکے بھائو سے خرید لیتا۔ (ابن سعد و ابن ہشام)
ابو لہب کی ان ہی تکلیف دہ باتوں اور اعمال کے باعث اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں اس کا نام لے کر اس کی مذمّت کی ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اسلام کی مخالفت اور کفر پر اصرار کی وجہ سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کی بھی کوئی اہمیت نہیں تاکہ لوگوں کے دلوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ بات صاف ہو جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاندانی رشتے کی وجہ سے دین کے معاملے میں کوئی رعایت مل جائے گی۔ جب علی الاعلان اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے پر ان کے سگے چچا کی خبر لے لی تو اوروں کی کیا حیثیت و اہمیت اس دین اسلام میں کسی لاگ لپیٹ کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ ایمان لے آنے پر غیر اپنا ہو سکتا ہے اور ایمان نہ لانے سے اپنا غیر ہو جاتا ہے اگر وہ کفر کرے اور کفر پر قائم رہے اسلام کے معاملے میں کوئی نسبت‘ کوئی تعلق اہمیت نہیں رکھتا۔ صرف دین اسلام میں داخل ہو کر ایک اللہ ایک رسول کی اطاعت و اتّباع سے ایسے رشتے بن جاتے ہیں جو خونی اور موروثی رشتوں سے کہیں مضبوط اور اہم ہوتے ہیں اس کی سب سے اہم اور بڑی مثال غزوات میں ملتی ہے جب باپ بیٹے کے سامنے‘ بیٹا باپ کے سامنے‘ بھائی بھائی کے آمنے سامنے تمام رشتوں ناتوں کو بھول کر مدمقابل آجاتے رہے ہیں۔
۔تَبت کا لفظ خسران‘نامرادی و بربادی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ (قرطبی) ‘تبت یدا یہ بددعا ہے۔ یہاں وتب فرمایا گیا ہے جس کے معنی ہیں وہ تباہ ہو گیا۔ ٹوٹ پھوٹ کر رہ گیا۔ اس کا جسم ریزہ ریزہ ہو گیا۔ یہ جملہ جزائیہ ہے۔ اس سے مراد بد دعاکے ہیں اور ابو لہب نے تڑپ تڑپ کر جان دی۔ اس کے جسم کا گوشت گھل گھل کر گرنے لگا۔ اس کے بیٹوں نے جن پر اسے بہت ناز تھا‘ اسے گھر سے باہر نکال دیا۔ جہاں اس نے نامرادی ‘ مایوسی کے عالم میں جان دی۔
یدا‘ ید (ہاتھ) کاتثنیہ ہے معنی ہاتھ کے ہیں۔ اس سے مراد نفس بھی ہے جز کہہ کر کل مراد لیا گیا ہے۔ یعنی ہلاک و برباد ہو جائے یہ بددعا ان الفاظ کے جواب میں ہے جو ابولہب نے غصے اور عداوت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہے تھے (اور وہ ہلاک ہو گیا) آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اسے بددعا کے ساتھ ساتھ اس کی ہلاکت و بربادی کی خبر بھی دی ہے۔ اس آیت میں ابولہب کے ہلاک ہونے کی خبر ‘ پیش گوئی ہے کوئی کوسنا نہیں یا ہلاک کیے جانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اس کے معنی ہیں۔ ’’وہ ہلاک ہو گیا‘‘ آئندہ پیش آنے والے واقعے کو ماضی کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے گویا اس کا ہلاک ہونا ایسا یقینی امر ہے جیسے وہ ہو چکا ہو اور پھر ایسا ہی ہوا اس سورہ کے نزول کے چند سال بعد جنگ بدر کے چند روز بعد ابولہب طاعون سے بدتر بیماری عدسیہ میں مبتلا ہو کر مرا۔ تین دن تک اس کی لاش بے گور و کفن پڑی رہی۔ اس کے گھر والوں نے اسے یوں ہی چھوڑ دیا۔ کیونکہ انہیں چھوت لگنے کا خوف تھا مرنے کے بعد بھی تین روز تک کوئی اس کے قریب نہیں جا سکا اس کی لاش پڑے پڑے سڑ گئی۔ سخت بدبو پھیلنے لگی تو لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دینا شروع کردیئے ۔ ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے کچھ حبشیوں کو اجرت دے کر اس کی لاش اٹھوائی اور ان ہی مزدوروں نے اسی طرح بے کفن گڑھا کھود کر ڈنڈوں کی مدد سے لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینک دیا اور اوپر سے مٹی اور پتھر ڈال کر قبر کو بند کردیا۔ (اسیر التفاسیر)
اللہ اکبر کیسی عبرت ناک موت نصیب ہوئی کہ اس کے دونوں بیٹے زندہ تھے اور اس کے باوجود انہوں نے اپنے باپ کی لاش کے قریب جانا قبول نہیں کیا جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزدگان تو رحلت فرما گئے تھے۔ تب اس نے اور اس کے ساتھیوں نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جڑ کٹ گئی۔ وہ بے نشان ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام عربوں کو ہی نہیں بلکہ آنے والے زمانوں تک کے لوگوں کو دکھا دیا کہ جڑیں مضبوط اور نشاوروں کی موجودگی کے باوجود وہ کیسے اور کس طرح اپنے گمراہوں کو سزا دے کر نشانِ عبرت بنا دیتا ہے اور کس طرح اس کی جڑ کٹ گئی۔ اس کی سب سے بڑی شکست اس وقت ہوئی جب اس کی بیٹی ’’درہ‘‘ ہجرت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئی اور اسلام قبول کرلیا جس دین کی راہ میں اس کے باپ نے روڑے اٹکائے‘ اس کی راہ روکنے میں اپنی پوری زندگی گزار دی تھی اور پھر فتح مکہ کے موقع پر اس کے دونوں بیٹوں عُتہ اور مُعّتب‘ حضرت عباس ؓ جو ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے‘ کی وساطت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور اپنے باپ کی ساری زندگی کی مخالفت اور گمراہی جس میں انہوں نے اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا یک لخت بھلا دیا اور دین اسلام کو اپنا لیا۔
نہ تو اس کا مال اس کے کسی کام آیا اور نہ ہی اس کی کمائی اس کے کسی کام آئی۔ کمائی میں مال و دولت اور اولاد سب شامل ہے۔ ابولہب ایک مال دار صاحب حیثیت شخص تھا۔ اس کی مالداری کے بارے میں قاضی رشید بن زبیر اپنی کتاب الذخائرو القطفہ میں لکھتے ہیں کہ ابولہب مکہ کے ان چار مالدار لوگوں میں سے ایک تھا جو ایک قنطار سونے کے مالک تھے۔ (تقریباً آٹھ سیر سونا) ابو لہب انتہائی زر پرست اور بخیل انسان تھا۔ مکہ کے لوگ اس کے بارے میں قطعی اچھی رائے نہیں رکھتے تھے۔ عاص بن ہشام کی طرف اس کے چار ہزار درہم قرضے کے نکلتے تھے‘ جب کہ وہ بالکل دیوالیہ ہو چکے تھے۔ ان سے قرض وصول کرنے کی اس نے یہ ترکیب نکالی کہ جنگ بدر کے موقع پر قبیلہ قریش کے تمام سردار لڑنے کے لیے گئے مگر ابولہب نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو یہ کہہ کر بھیجا کہ میرے چار ہزار درہم تمہاری طرف واجب ہیں اگر تم میری جگہ جنگ کرنے جائو تو میرا قرضہ وصول ہو جائے گا۔ جیسا کہ پہلے آچکا ہے کہ وہ جنگ بدر جس میں قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے جو اسلام دشمنی میں پیش پیش اور ابولہب کے ساتھی تھے۔ مکہ میں جب جنگ بدرمیں قریش کی شکست کی خبر پہنچی تو ابو لہب اس صدمے کو برداشت نہ کرسکا اور ایک ہفتے کے اندر اندر عبرت ناک موت سے ہم کنار ہو گیا۔ اس کی دولت اس کے کسی کام نہ آسکی۔ نہ اپنی زندگی بچانے میں نہ اسلام کو شکست سے دو چار کرنے میں‘ نہ اس کی چالاکی و مکاری اسے عبرت ناک موت سے بچا سکی۔ یہ تو تھا دنیا میں اس کا انجام۔ آخرت میں کیا ہو گا یہ اللہ ہی جانتا ہے۔
اس سورہ مبارکہ اللھب کا طرزِ ادا اس کے موضوعات اور معنی سب کے سب ہم آہنگ ہیں۔ سورہ میں قضا کے اعتبار سے مناسب طرز تعبیر اختیار کیا گیا ہے۔ اس سورۃ کے نزول سے ابو لہب کی بیوی ام جمیل جس کا اصلی نام اروی بنت حرب ابن امیہ تھا۔ وہ ابو سفیان کی بہن تھی۔ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت حق کے خلاف ابولہب کی معاون و مددگار تھی۔ اس سورہ کے نزول پر وہ برافروختہ ہو کر پاگل ہو کر رہ گئی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت اسماء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب یہ سورہ نازل ہوئی اور ام جمیل نے اسے سنا تو وہ بپھری ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلی۔ اس کی مٹھی میں پتھر بھرے ہوئے تھے اور وہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جاتی تھی۔ جب وہ حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آرہی ہے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر یہ کوئی بے ہودگی ضرور کرے گی۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مجھے دیکھ نہیں سکے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موجود ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ ہی نہیں سکی اور وہ حضرت ابو بکر صدیق سے بولی میں نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا اس گھر کے رب کی قسم انہوں نے تمہاری ہجو نہیں کی۔ اس پر ام جمیل نے کہا خدا کی قسم اگر وہ مجھے ملتا تو میں ان پتھروں سے اسے مارتی۔ خدا کی قسم میں بھی تو شاعرہ ہوں۔ اس کے بعد اس نے ہجو کے اپنے اشعار پڑھے اور واپس چلی گئی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ اس نے مجھے نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کو مجھ سے کھینچ لیا تھا اور فرشتے مجھ پر‘ پر پھیلائے رہے جب تک وہ نہیں گئی۔ (ابن حاتم۔ سیرۃ ابن ہشام)
ام جمیل ایک انتہائی خود پسند اور مغرور عورت تھی۔ وہ ایک بڑے اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی لیکن قرآن حکیم نے اس کی جو تصویر کشی کی وہ اپنے بے پناہ اثر کی وجہ سے فوراً ہی مکہ میں ہر طرف پھیل گئی۔ جس سے اس خود پسند عورت کا دل چُور چُور ہو کر رہ گیا۔ اُسے اپنے حسب نسب پر بڑا ہی غرور تھا اس کی ایسی بھیانک تصویر کشی کی گئی کہ ابولہب اور ام جمیل پریشان ہو کر رہ گئے۔
سید قطب شہید اپنی کتاب ’’مناظر قیامت‘‘ میں تحریر کرتے ہیں۔ ’’ابو لہب (شعلوں کاباپ) ایک ایسی آگ میں تپایا جائے گا جو شعلہ زن ہو گی اور اس کی عورت جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں خار دار جھاڑیاں لا کر ڈالا کرتی تھی وہ جہنم میں اس حال میں گرائی جائے گی کہ اس کے گلے میں مونجھ کی رسی بندھی ہو گی۔‘‘
اس کے الفاظ باہم متناسب اور صوتی ہم آہنگی رکھنے والے ہیں جس جہنم میں اسے گرایا جائے گا وہ شعلہ بار ہے۔ اس میں شعلوں کے باپ (ابولہب) کو گرایا جائے گا۔ اس کی عورت لکڑیاں لا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں ڈالتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتی ہے۔ اس کے خواہ حقیقی معنی لیے جائیں یا استعارہ کے لکڑیوں سے آگ بھی بھڑکائی جاتی ہے اور ان لکڑیوں کو رسیوں سے باندھ کر لایا جاتا ہے۔ اس لیے جہنم شعلہ زن میں اسے مونجھ کی رسّی سے باندھ دیا جائے گا۔ یہ وہی رسّی ہو گی جس سے وہ لکڑیاں باندھ کر لاتی تھی تاکہ سزا ایسی ہو جیسا جرم کیا تھا۔
ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل دعوتِ اسلام کے شدید دشمن تھے اور یہ جنگ انہوں نے اپنی پوری زندگی جاری رکھی۔ کسی وقت بھی اس میں انہوں نے کوئی کمی‘ کوئی رُو رعایت نہیں کی۔ ابولہب کا گھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے ساتھ ہی تھا۔ اس لیے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینے کے مواقع بھی زیادہ حاصل تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ام جمیل کانٹے جمع کر کے لاتی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے اور راستے میں بچھا دیتی تاکہ صبح جب فجر کی نماز کے لیے اندھیرے میں آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں میں کانٹے چبھ جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچے۔ (ابن ہشام)
مرنے کے بعد سخت شعلہ زن آگ میں پہنچنے والا ہے۔ شاید اسی نسبت سے اس کی کنیت ابولہب قائم رکھی گئی۔ دنیا اسے ابولہب اس لیے کہتی تھی کہ اس کے رخسار شعلے کی طرح چمکدار تھے لیکن قرآن کریم نے بتا دیا کہ اپنے انجام کے اعتبار سے بھی واقعی ابولہب کہلانے کا مستحق تھا چونکہ اسے جہنم کی آگ کا ایندھن بننا تھا۔ اس لیے نہ تو اس نے دعوتِ حق قبول کی نہ دینِ حق کی مخالفت سے باز آیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خونی رشتہ تھا سگا چچا ہونے کے باوجود اس کا یہ تعلق اسے جہنم سے نہ بچا سکا۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ مرد ہو کہ عورت‘ اپنا ہو کہ بیگانہ‘ چھوٹا ہو کہ بڑا جو حق سے عداوت رکھے گا وہ تباہ و برباد ہو کر ذلیل و رسوا ہو جائے گا۔ جب پیغمبر برحق کی قرابت داری بھی اس کے کام نہ آئی اور حق سے بغاوت اور کفر پر اڑے رہنے کا انجام وہی ہے جو کسی عام انسان کا ہو سکتا ہے۔ اسلام میں سب سے مضبوط رشتہ ایمان کا ہے۔ باقی سب رشتے ناتے اس کے بعد قائم ہوتے ہیں۔ ان کی اہمیت و حیثیت دین اسلام پر جمع ہونے سے ہی بنتی ہے۔
ابولہب کی بیوی ام جمیل کے بارے میں اس آیتِ مبارکہ میں وعید کا اعلان ہے۔ ام جمیل ایک مالدار سردار کی بیوی ہونے کے باوجود بڑی بخیل عورت تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا و تکلیف پہنچانے کے لیے وہ خود جنگل میں جاکر کانٹے دار لکڑیاں چن چن کر لاتی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ‘ حضرت ابن زید رضی اللہ عنہ‘ حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ اور ربیع بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام جمیل راتوں کو خار دار ٹہنیاں لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ڈال دیتی تھی۔ اس لیے اسے لکڑیاں ڈھونڈنے والی کہا گیا ہے۔ قتادہ‘ عکرمہ‘ حسن بصری‘ مجاہد اور سفیان ثوری رضوان اللہ اجمعین کہتے ہیں کہ وہ لوگوں میں فساد ڈلوانے میں بڑی ماہر تھی۔ لوگوں کی چغلیاں کھاتی پھرتی تھی۔ اس لیے اسے عربی محاورے کے مطابق لکڑیاں ڈھونڈنے والی کہا گیا ہے۔ عرب میں یہ عام رواج تھا کہ جو شخص اِدھر کی بات اُدھر لگاتا اور دنگے فساد کی آگ بھڑکاتا اسے لکڑیاں ڈھونے والا کہتے۔ ہماری اردو میں ہم ایسے شخص یا عورت کو بی جمالو کہتے ہیں۔ مفسیرین نے اس کے معنی گناہوں کا بوجھ ڈھونے والی بھی کئے ہیں اور یہ بھی کئے کہ آخرت میں اس کا حال یہ ہو گا کہ وہ لکڑیاں لا لا کر اس آگ میں ڈالتی جائے گی جس میں ابولہب جل رہا ہو گا۔ یوں وہ اپنے شوہر پر ہونے والے عذاب الٰہی کی آگ کو تیز کرتی رہے گی (ابن اثیر) جس طرح اس نے دنیا میں اپنے خاوند کی مدد کی‘ کانٹے دار لکڑیاں لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں بچھاتی رہی‘ ایسے ہی وہ اپنے شوہر ابولہب کی آگ کو مزید تیز تر کرنے کے لیے لکڑیاں لا لا کرڈالتی رہے گی۔
ام جمیل کی گردن کے لیے جید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ عربی میں یہ لفظ ایسی گردن کے لیے بولا جاتا ہے جس میں زیور پہنا گیا ہو۔ حضرت سعید بن الُمسیّب رضی اللہ عنہ‘ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ‘ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام جمیل اپنی گردن میں ایک بہت ہی قیمتی ہار پہنا کرتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ لات و عزیٰ کی قسم میں اپنا یہ ہار بیچ کر اس کی قیمت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عداوت پر خرچ کردوں گی۔ اسی بناء پر جید کا لفظ یہاں بطور طنز کے استعمال ہوا ہے۔ وہ دنیا میں اپنے گلے میں پڑے ہوئے ہار پر فخر کیا کرتی تھی‘ جیسا کہ قرآن حکیم میں ایسے افراد کے لیے متعدد جگہ فرمایا گیا ہے۔ ’’ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری دے دو۔‘‘
جید گردن کو اور مسد مضبوط بٹی ہوئی رسّی کو کہتے ہیں۔ وہ مونجھ کی یا کھجور کے پوست کی ہو یا آہنی تاروں کی یا اونٹ کی کھال یا اس کے صوف سے بنی ہوئی رسّی‘ بعض نے کہا کہ وہ دنیا میں جو رسّی لکڑیاں باندھ کر لانے کے لیے ڈالے رکھتی تھی لیکن صحیح یہ اندازہ ہے کہ جہنم میں جو طوق و سلاسل اس کے گلے میں پڑا ہو گا وہ آہنی تاروں سے بٹا ہوا ہو گا۔ مسد تشبیہہ ہے اس کی شدت اور مضبوطی کی چونکہ زندگی میں جو ہار وہ پہنتی تھی جس کے لیے وہ کہتی تھی کہ اسے بیچ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت پر خرچ کردے گی اس لیے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی گردن جہنم میں بھی خالی نہیں رکھی اور ہار کی جگہ طوق نے لے لی اور لکڑیوں کے گٹّھے کی رسی اس کے گلے میں آ پڑی۔ جس سے اس کا دَم گھٹ گیا اور وہ مرگئی دنیا اور آخرت دونوں جگہ میاں بیوی کا انجام انتہائی عبرت ناک ہوا۔
اس آیت مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوّلین دشمن کا جو حشر بیان کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے دائمی طور پر قرآن حکیم میں رقم فرما دیا ہے۔ جس طرح اللہ کی کتاب لازوال ہے ایسے ہی ان دونوں کی مذمّت بھی لازوال ہے۔ یہ وہ سزا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت حق کے خلاف سازش کرنے اور اس کی مذمّت کرنے کی انہیں ملی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی دعوتِ اسلام اور داعیانِ حق کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کرتے ہیں ان کی قسمت میں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ناکامی اور ہلاکت لکھی ہوئی ہے۔ وہ یہاں بھی ہلاک و برباد ہوں گے اور آخرت میں بھی سخت سزا سے دوچار ہوں گے۔
سورہ الکوثر میں اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رنجیدگی‘ اداسی کو خوشی میں بدلنے ‘ انہیں حوصلہ دینے کے لیے خوش خبری کی بشارت دی ۔ ایسے ہی اس سورہ اللھب میں بھی۔ اگر بہ غور دیکھا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش خبری دی گئی ہے تاکہ آپ کی دل جوئی ہوسکے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن نیست و نابود ہو کر رہے گا اس کے وہ ہاتھ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتا رہا ہے ٹوٹ جائیں گے اور اس کی ایسی جڑ کٹے گی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ لوگوں کی جڑ تو ان کا مال لٹ جانے سے‘ دیوالیہ ہو جانے سے‘ اولاد نرینہ کے مر جانے سے کٹتی ہے لیکن ابولہب کی جڑ تو ایسی کٹی کہ سب کچھ اس کے پاس تھا۔ مال و دولت بھی‘ بیوی بچے‘ جوان لڑکے۔ سب موجود تھے لیکن اس کے کچھ کام نہ آیا اور بڑی ذلت آمیز اور عبرت ناک موت سے دو چار کر دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے محبوب و پیارے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بڑے کرم و محبت کا اظہار بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی کا سامان بھی ہے۔
یہی عرب جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ان کے مخالف ہو گئے‘ ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھے اور مخالفت میں انتہا کو پہنچ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل تک کی منصوبہ بندی کی گئی اور یہی وہ لوگ تھے جن کے بارے میں قرآن حکیم سورۃ فاطر میں یوں فرما رہا ہے کہ یہی عرب بعثت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہماری طرف کوئی رسول آیا تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور اس پر ایمان لانے میں ایک مثالی کردار ادا کریں گے۔
ترجمہ۔ اور ان کفار نے بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امّت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے۔ پھر جب ان کے پاس پیغمبر آپہنچے تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا۔ (سورۃ فاطر۔۴۲)
تفسیر۔عرب قوم کا یہ بیان و خواہش اس آیت مبارکہ کے ساتھ ساتھ سورۃ الانعام ۱۵۶ اور ۱۵۷ میں بھی ہے اور سورۃ الصافات کی ۱۶۷‘۱۷۰ میں بھی ہے لیکن جب انہیں خبردار کرنے والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو ان کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے کی خاطر اور بُری چالیں چلنے لگے۔
جزیرہ نما عرب میں سب سے پہلے دین حق کی روشنی حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام کے ذریعے پہنچی تھی‘ جو زمانہ قبل از تاریخ میں گزرے‘ جب ان کے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے جن کا زمانہ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈھائی ہزار سال قبل گزرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل حضرت شعیب علیہ السلام آئے تھے۔ اس کے بعد سرزمین عرب میں آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ یعنی جزیرہ نما عرب میں کل پانچ پیغمبر گزرے ہیں۔
اہلِ عرب دیکھتے تھے کہ یہودی جو جزیرہ نما عرب میں ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کو ایک کتاب ملی ہوئی ہے اور وہ اپنے دین سے منحرف اور بے عمل ہو چکے ہیں۔ عرب ان کی تاریخ پڑھتے تھے کہ انہوں نے بے شمار رسولوں کو قتل کیا اور جب جب ان کے پاس سچائی آئی انہوں نے اس سے منہ پھیرا ہے۔ اس وقت عرب یہودیوں کے مقابلے میں خود کو بڑا سمجھتے ہوئے قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے ہمیں کوئی پیغمبر دیا اور وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو ہم دنیا کی تمام اُمّتوں سے بڑھ کر نیک ہوں گے۔ اس سے مراد ان کی یہ تھی کہ ہم یہودیوں سے بڑھ کر دین کی ہدایات پر قائم رہیں گے۔ یہ تھا عربوں کا حال و عقیدہ لیکن جب خود ان میں سے ایک نبی ان کی خواہشات کے عین مطابق مبعوث ہوا تو انہوں نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ یہودیوں کی روش پر چل کر انہیں ختم کرنے‘ انہیں قتل کرنے تک کی کوشش کی۔ کہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل وہ راہ راست پانے کے لیے قسمیں کھایا کرتے تھے اور پھر انہوں نے اپنی قسموں کے برعکس یہ رویہ اختیار کیا۔ تکبّر و غرور کی وجہ سے اور اپنی بری سازشوں کی وجہ سے قرآن حکیم کی آیات سے ہی نہیں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے انکار کرنے لگے۔ ان کے ان اعمال و افکار کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ریکارڈ کردیا ہے اور ان کی مکاریوں اور فریب کا جواب قرآن حکیم میں دے دیا گیا ہے جو لوگ ایسی قبیح حرکت کریں ان کا ایمان کیا ہو گا۔ ان کا انجام کیا ہو گا۔ ان پر وہی مصائب آجائیں جو ان سے پہلی اقوام پر آئے تھے۔
عرب قوم قسمیں کھا کھا کر یہ دہائی دے رہی تھی کہ کاش ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آجائے اور ہمیں سیدھے راستے کا پتا بتا دے تو ہم ثابت کردیں گے کہ دنیا بھر میں صرف ہم عرب ہی سب سے بہترین اُمّت ہیں۔ یہ خواہش و دعا وہ قوم کررہی تھی جو صدیوں سے سخت جہالت و پستی‘ بدحالی میں مبتلا تھی اورجب اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائوں کے جواب میں ان کے اندر ان ہی میں سے ایک بہترین رہنما کو منتخب فرمایا اور جہالت کی تاریکیوں سے نکلنے کے لیے خود اپنا کلام اس رہنمائے عظیم پر نازل فرمایا تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہو کر اپنے جاہلانہ اوہام کے چکر سے نکل سکیں اور صحیح راستہ اختیار کرسکیں تو اس قوم کے نادان لوگوں اور ان کے خود غرض قبائلی سرداروں نے اس عظیم رہنما کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے اور اسے ناکام کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا پورا زور لگا دیا‘ یہاں تک کہ ان کی جان کے درپے ہو گئے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے کہ۔
کیا تمہاری نالائقی کی وجہ سے ہم تمہاری اصلاح کی کوشش چھوڑ دیں‘ اس درسِ نصیحت کو روک دیں اور تمہیں اسی پستی میں پڑا رہنے دیں جس میں تم صدیوں سے گرے ہوئے ہو؟ کیا تمہارے نزدیک واقعی ہماری رحمت کا تقاضہ یہی ہونا چاہیے؟ تم نے کچھ سوچا بھی کہ اللہ کے فضل کو ٹھکرانا اور حق سامنے آجانے کے بعد باطل پر اصرار کرنا تمہیں کس انجام سے دو چار کرے گا۔ (سورہ زخرف۔۵)
اور اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا۔ جن لوگوں نے دعوتِ حق کو قبول کرلیا اور سیدھے راستے کو اپنا لیا وہ نجات پا گئے اور جنہوں نے دعوتِ حق کو قبول نہ کیا اور اس کی مخالفت پر کمربستہ رہے ان سب کا حشر ابولہب سے کسی طرح کم نہیں ہوا۔ ان کی دنیا تو غارت ہوئی تھی آخرت بھی انہوں نے اپنے عمل سے غارت کر لی اور اپنے لیے دائمی ٹھکانے کے طور پر جہنم کا انتظام کرلیا۔ یقیناً سورۃ الکوثر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش خبری دی گئی کہ انہیں حوض کوثر (نہر کوثر) عطا کردی گئی تاکہ وہ روز قیامت اپنی اُمّت کو ناصرف اس حوض سے سیراب فرمائیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے بھی فیض یاب ہوں اور اپنی دائمی بخشش کا اہتمام بھی دیکھ لیں اور اپنے اعمال کی جزا حاصل کر کے جنت میں اپنی دائمی قیام گاہوں میں داخل ہو جائیں۔ بے شک یہ اللہ کا سب سے بڑا انعام اُمّت مسلمہ پر ہے کہ ان کی بخشش کی جو جو دعائیں نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مالک و پروردگار سے مانگیں وہ اس کی بارگاہ میں قبول ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی و تسلی و تشفی کے لیے اس نے نہر کوثر‘ حوض کوثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام کدورت و تشویش کو ختم فرما دیا۔ اب یہ اہتمام و انتظام کرنا ہر مومن مسلمان کا فرض ہے کہ وہ کس طرح حوض کوثر پر پہنچتا ہے اور اس سے کس طرح فیض یاب ہوتا ہے۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے اور حوض کوثر پر حاضر ی اور دیدار محبوب الٰہی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرفراز فرمائے‘ آمین۔

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
دعائے تکمیل تفسیر الکوثر

اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ اس نے سورۃ الکوثر کی تشریح مجھ ناچیز‘ کم علم سے مکمل کرا دی آج بروز اتوار ۲۹ جمادی الاوّل ۱۴۲۵ھ کو میں اپنے رب کے حضور سر بسجود ہوں کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے اپنے اس عاجز بندے کو اس کام کے لیے توفیق خاص عطا فرمائی۔ قرآن حکیم کی چھوٹی سے چھوٹی خدمت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و اعانت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ میرے رب کا کرم خاص ہے کہ اس نے مجھ کم فہم‘ کم علم کو میری بساط سے کہیں بڑے کام کے لیے منتخب فرمایا۔ بارگاہ الٰہی میں دست بہ دعا ہوں کہ وہ میری اس ناچیز کوشش کو قبول فرمائے اور لوگوں کے لیے اسے نافع بنائے۔ (آمین)
اے میرے مالک!‘ میرے آقا‘ اے ربّ العزت تیرے کرم کا‘ تیرے احسانات کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔ تُو نے ہی اپنے فضل و کرم سے مجھ ناچیز کو اپنے حبیب سید الانبیاء و اشرف المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا امّتی ہونا نصیب فرمایا۔ اے اللہ اپنے کرم و فضل سے میرے علم میں اضافہ فرما۔ مجھے توفیق مزید عطا فرما کہ تیرے کلام کو تیرے بندوں تک پہنچانے‘ انہیں سمجھانے کے لیے آسان طریقوں سے اور آسانی سے ادا کرسکوں۔
اے اللہ اپنے رحم و کرم سے مجھے ‘ میری اولادوں کو‘ میری آنے والی نسلوں کو صراطِ مستقیم پر چلنے والا بنا اور ہمیں نبی مکرم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا وفادار امّتی بنا اور ہم سب کو حوض کوثر پر پہنچا اور اس سے سیراب ہونا نصیب فرما اور جس طرح آپ نے اس سورۃ عظیم الکوثر میں دشمنانِ اسلام اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو نیست و نابود کرنے کی وعید دی ان سب کو جو اور جس جس طرح دین اسلام کی احیاء و بقا کے راستے میں مزاحمت کرتے ہیں یا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کوبے نشان کر اور اسلام کو رہتی دنیا تک سربلند فرما۔ اسلام کو غلبہ و شوکت عطا فرما۔ یااللہ اسلام اور تمام مسلمانوں کو عزت غلبہ و نصرت عطا فرما اور دین پر ثابت قدم رہنے والا بنا اور ہر حال میں استقامت عطا فرما۔ ہمارا جینا‘ ہمارا مرنا سب دین اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں اور اپنے احکام کے مطابق کردے۔ ہمیں دین دنیا کا چین و سکون عطا فرما اور ہمیں قرآن حکیم کا علم عطا فرما۔ ہماری اولادوں اور آنے والی نسلوں کو قرآن حکیم پڑھنے کا اس پر عمل کرنے کا ذوق و شوق عطا فرما‘ یااللہ بے شک ہدایت آپ کے دستِ قدرت میں ہی ہے‘ آپ جس کو چاہیں ہدایت نصیب فرمائیں‘ یااللہ اپنی ہدایت ہمارے لیے مقدر فرما اور ہمیں اُسی ہدایت پر چلنے والا‘ جینے مرنے والا بنا اے اللہ آپ نے جو مال و دولت اس دنیا میں عطا کیا ہے اُس کے حقوق کی ادائیگی کا ہر حال میں اہل بنا مال و دولت کے فتنے سے بچا اپنی رضا کے لیے اُسے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
مجھے‘ میرے والدین‘ بھائی‘ بہن اور اولادوں کو میرے اساتذہ و شیوخ کو اور اُن تمام افراد کو جنہوں نے اس کتاب کی تکمیل میں میری مدد کی اُن سب کو اپنی رحمت سے نواز اور ہماری بخشش کا سامان فرما دے۔
آمین یاربّ العالمین۔

حوالہ جات
(۱) صحیح بخاری شریف۔
(۲) صحیح مسلم شریف۔
(۳) صحیح ترمذی شریف۔
(۴) بیان القرآن۔ حکیم الامت حضرت اشرف علی تھانویؒ
(۵) ضیاء القرآن از حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ۔
(۶) موضوعِ القرآن از حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ۔
(۷) القرآن کریم ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی تفسیر مولانا صلاح الدین یوسف۔
(۸) تفہیم القرآن از مولانا ابولامودودیؒ۔
(۹) تفسیر عزیزی از حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ۔
(۱۰) فی ظلال القرآن سید قطب شہید ترجمہ سید معروف شاہ شیرازی۔
(۱۱) آثار سعید از حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ۔
(۱۲) مناظر قدرت از سید قطب شہیدؒ۔
(۱۳) قیامت کے ہولناک مناظر از امام جلال الدین سیوطیؒ۔
(۱۴) لغاتِ القرآن۔ از حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی ؒ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close