Aanchal Jul-18

حمد و نعت

محمد اعظم چشتی/وقار صدیقی اجمیری

حمد
لائقِ حمد تری ذات کہ محمود ہے توُ
لائقِ سجدہ تری ذات کہ مسجود ہے تُو
انکساری مرا مقسوم کہ بندہ ہوں میں
خود نمائی ترا دستور کہ معبود ہے تو
بعد اتنا کہ کبھی آنکھ نے دیکھا نہ تجھے
قرب اتنا کہ مری جان میں موجود ہے تو
ہے وراء حد تعین سے تری ذاتِ قدیم
کون کہتا ہے کسی سمت میں محدود ہے تو
حسن پردے میں بھی بے پردہ نظر آتا ہے
اتنا چھپنے پہ بھی منظور ہے مشہور ہے تو
میری کیا بود کہ معدوم تھا معدوم ہوں میں
تیری کیا شان کہ موجود تھا موجود ہے تو
ایک اعظم ہی نہیں عاشق ناچیز ترا
سب کا مطلوب ہے محبوب ہے مقصود ہے تو

(جناب محمد اعظم چشتی)

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
تابندہ مقدر کا ستارہ نظر آئے
جب آنکھ اٹھے گنبدِ خضرا نظر آئے
ان آنکھوں کا ورنہ کوئی مصروف ہی نہیں ہے
سرکارﷺ تمہارا رخ زیبا نظر آئے
تم اس کے طرفدار ہو تم اس کے مددگار
جو تم کو نکمے سے نکما نظر آئے
یہ عز و شرف اور کسی کو نہیں حاصل
بالا نہیں بالا سے بھی بالا نظر آئے
اللہ کے ہر وصف کو پایا ہے مجسم
سرکارﷺ دو عالم ہمیں کیاکیا نظر آئے
ایسی بھی سحر مجھ کو وقار آئے میسر
اک اک سے کہوں میں شۂ بطحا نظر آئے

( جناب وقار صدیقی اجمیری)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close