Aanchal Nov-18

تیری زلف کے سر ہونے تک ۲۶

اقراؑ صغیر احمد

یہ عجب ہے محبت، زمانہ جانتا ہے
نہ میں اس کی مانتا ہوں نہ وہ میری مانتا ہے
کوئی جا کے اس سے پوچھے اسے کیا ملا بچھڑ کے
میں بھی خاک چھانتا ہوں، وہ بھی خاک چھانتا ہے

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

سراج کی مدد سے برکھا جہاں آرأ کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتی ہے اور اسے اپنے درمیان طے ہونے والی ڈیل سے آگاہ کرتی ہے لیکن جہاں آرأ انشراح کے نام پر بھڑک اٹھتی ہیں اور رقم دے کر انشراح کو بھول جانے کا کہتی ہیں لیکن برکھا اس سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہوتی جب ہی وہ اسے دھمکیوں سے نوازتی جلد اپنے منصوبے پر عمل درآمد کا کہتی ہے۔ اچھی آپا اور چندا مایوں کے لیے سفید سوٹ کا انتخاب کرتی ہیں لیکن ہر کوئی دلہن کے لیے اس سفید جوڑے پر تنقید کرتا ہے مایوں کی رسم کے دوران شاہ زیب کے مذاق پر وہ خاصی برہم ہوجاتی ہیں اور سودہ اور زید کے کردار کو مشکوک ٹھہراتی ہیں۔ ایسے حالات میں گھر کے بڑے اچھی آپا کو سمجھاتے ہیں واپسی پر وہ پیارے میاں کو تمام حالات اور اپنی بے عزتی کے واقعات سے آگاہ کرتی ہیں تو پیارے میاں بھی بھڑک اٹھتے ہیں سودہ کی طرف سے اس کا دل بدگمان ہوجاتا ہے۔ ساریہ کے والدین ورلڈ ٹور سے واپس آتے ہیں تو وہ نوفل اور ساریہ کے رشتے کی بات کرتے ہیں جس پر نوفل قطعاً آمادہ نہیں ہوتا اس کے صاف انکار پر نوید اور ثمرہ دونوں بھڑک اٹھتے ہیں اور ساریہ کو لے کر وہاں سے چلے جاتے ہیں ان کی اس کام میں لاریب بھرپور مدد کرتا ہے اور نوفل کے خلاف مزید بھڑکاتا ہے جبکہ ساریہ نوفل کے انکار پر شدید صدمے سے دوچار ہوجاتی ہے۔ انشراح کو اپنے مقاصد میں کامیابی مل جاتی ہے جب نوفل اسے دوستی کی پیشکش کرتا ہے لیکن وہ اس کے بڑھے ہاتھ کو جھٹک دیتی ہے اور اس کے کہنے کے مطابق لڑکی اور لڑکے کی دوستی کو معویب قرار دیتی ہے۔ نوفل اپنے رویے پر بے حد شرمندہ ہوتے خلوص دل سے دوستی کی آفر کرتا ہے لیکن وہ جواب نہیں دیتی۔ عمرانہ اپنے طور صالحہ کو نکاح میں آنے کی اجازت دے کر سب کی نظروں میں معتبر ہوجاتی ہیں بالخصوص مائدہ کے سسرال میں۔ سب ان کے اس اقدام کو سراہتے ہیں۔ ایسے میں جنید زید سے معذرت کرتے دوستی کے رشتے کو قائم کرنے کی سعی کرتا ہے جس پر زید مسکرا دیتا ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے اس سب کے پیچھے اس کی بہن مائدہ کا بھی ہاتھ تھا۔ سودہ کے نکاح کی تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں لیکن اچھی آپا کے گھر والے وقت پر نہیں پہنچ پاتے ایسے میں گھر والوں کی تشویش بڑھتی جاتی ہے۔ شاہ زیب اچھی آپا کے گھر پہنچتا ہے اور واپس آکر پیارے میاں اور ان کی فیملی کے اچانک بیرون ملک چلے جانے کی خبر سناتا ہے جس پر سب گھر والے شاکڈ رہ جاتے ہیں۔

(اب آگے پڑھیے)

شاہ زیب کے انکشاف نے ایک بے آواز دھماکہ کر دیا تھا‘ کچھ بے ہنگم سی صدائیں ماحول میں گونج کر رہ گئی تھیں۔ صوفیہ صدمے سے بے ہوش ہوگئی جبکہ منور صاحب نے دل تھام لیا تھا۔ زمرد اور بوا صوفیہ کی طرف متوجہ ہوئیں‘ عمرانہ اور مائدہ بھی اس غیر متوقع صورت حال پر ایک دوسرے کود یکھ رہی تھیں۔
جہاں کچھ دیر قبل شادی کے شادیانے بج رہے تھے وہاں اب ماتم کا سماں تھا۔ لمحوں میں افراتفری پھیل گئی تھی۔ عورتیں صوفیہ کے گرد جمع تھیں اور لڑکیاں بھاگ کر سودہ کے کمرے میں پہنچ گئیں تاکہ پیارے میاں کے فرار کی اطلاع دے سکیں۔ مدثر فون کے ذریعے جہاں جہاں پیارے اور اچھی آپا کی موجودگی کا امکان تھا معلومات لے رہے تھے‘ جب کہ دیگر لوگ منور صاحب کو طبیعت بگڑنے کے باعث ان کے کمرے میں لے گئے تھے۔ شاہ زیب‘ زید اور جنید ان کے ہاتھ پاؤں سہلا رہے تھے۔ وہ آنکھیں بند کیے نڈھال لیٹے تھے۔
’’ہمیں تایا ابو کو لے کر ہاسپٹل جانا ہوگا‘ طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ان کی۔‘‘
’’ہاں انکل کو فوری ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے۔‘‘ جنید بھی ان کے ساتھ موجود تھا۔ وہ شاہ زیب کے ساتھ پیارے میاں کے گھر بھی گیا تھا‘ جہاں گیٹ پر تالا لگا ہوا تھا اور پڑوسیوں سے بھی کوئی خاص معلومات نہ مل سکی تھی۔ دونوں کو ناکام ہی لوٹنا پڑا تھا۔
’’میں ٹھیک ہوں‘ ڈاکٹر کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ ان کا سہارا لے کر اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بے حد رنجیدہ و گلوگیر لہجے میں گویا ہوئے۔
’’میری بچی کے ساتھ کیا اندھیر ہوگیا‘ کس طرح اچھی نے فریب دیا ہے۔ سخت کینہ پرور اور دھوکے باز ثابت ہوئی وہ۔ میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا‘ کس طرح صوفیہ کا سامنا کروں؟ اس نے بہت چاہا یہ رشتہ نہ ہو کہ وہ ان کی اصلیت سے واقف تھی اور میں اس کی ہر بات رد کرکے حامی بھر بیٹھا۔ سگی بہن کی بجائے رشتے دادی پر اعتبار کیا میں نے جس کا صلہ اس رسوائی کی صورت میں ملا ہے۔‘‘
’’آپ کا کیا قصور اس میں‘ آپ نے اچھا ہی سوچا تھا‘ آپ ٹینشن نہ لیں۔‘‘ زید نے انہیں تسلی دینے کی بھرپور سعی کی‘ حالانکہ وہ خود بے حد الجھن اور پریشانیوں کا شکار تھا۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا یہ سب ہوا کیا ہے‘ کل اسٹیج پر ہونے والی معمولی سی بدمزگی سب بڑوں نے مل کر ختم کروائی تھی اور پھر جاتے وقت اچھی آپا اور چندا ہنستی مسکراتی گئی تھیں تو پھر رات ہی رات میں اچانک کیا ہوا تھا کہ وہ چوروں کی طرح فرار ہوگئے تھے۔
’’پورا خاندان موجود ہے نکاح خواں سمیت تمام مہمان انتظار میں ہیں‘ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے اب ہوگا کیا؟ لوگ کس کس انداز میں سودہ کو رسوا کریں گے‘ وہ بے گناہ ہوکر بھی مجرم بن گئی ہے۔‘‘
’’ہم مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں گے انکل… پلیز آپ ریلیکس ہوجائیں۔‘‘
’’کس طرح ریلکس ہوسکتا ہوں‘ کچھ معلوم بھی ہو وہ کیوں گئے اس طرح دھوکہ دے کر اور کہاں چلے گئے کہ کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں۔‘‘
’’پتہ چل گیا ہے بھائی جان ان بدبختوں کا۔‘‘ مدثر وہاں داخل ہوتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’دبئی فرار ہوگئے ہیں‘ وہ تینوں ماں‘ بیٹا اور بیٹی۔ ایئر پورٹ پر انکوائری سے معلوم ہوا ہے دوپہر کی فلائٹ سے بھاگے ہیں وہ لوگ۔‘‘
’’اب ہوگا کیا مہمانوں سے گھر بھرا ہوا ہے‘ صوفیہ کو ہوش نہیں ہے اور سودہ کس حال میں ہے۔ یہ معلوم کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔‘‘
خ…ز…ؤ…/
’’تم سچ کہہ رہی ہو برکھا اس شہر میں موجود ہے‘ کب سے اور کہاں؟‘‘ اس سے سیدھے منہ بات نہ کرنے والی سائرہ قریب ہی بیٹھ گئیں‘ جہاں آرأ مسکین سی صورت بناکر انہیں دیکھ رہی تھیں۔
سرخ وسپید رنگت‘ سیاہ غزالی آنکھیں‘ چھریرا بدن وقت گویا اسے چھوئے بنا گزر گیا تھا۔ البتہ اس کے چہرے پر ایک حزن و ملال موجود تھا جو اس کی شخصیت کو پُروقار بنائے ہوئے تھا۔
’’کل شام ہی ملاقات ہوئی ہے‘ برکھا سے… سراج بھی اس کے ساتھ ملا ہوا ہے‘ دم ہلاتا گھوم رہا ہے‘ اس کے پیچھے پیچھے۔‘‘
’’اس بدذات سے ملتی ہو تم پھر یہاں آنے کا کیا مقصد ہے تمہارا؟‘‘
’’مجھے غلط مت سمجھو‘ میں نے کہا ناں وہ میری نواسی کے پیچھے لگی ہوئی ہے… میری نواسی کا بھی وہ ہی حال کرنا چاہتی ہے جو اس نے تمہاری بیٹی کا کیا تھا۔ تم صبوحی کے نام پر بھی کچھ نہیں کروگی؟‘‘
’’میں کیا کرسکتی ہوں تم کیا چاہتی ہو؟‘‘ وہ شانے اچکاکر بے رخی و بے نیازی بھرے انداز میں گویا ہوئیں۔
’’تم کیا کرسکتی ہو؟ یہ بات تم مجھ سے بہتر جانتی ہو کیا تم نے صبوحی کے مرنے پر برکھا کو مارنے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ کیا تم مہینوں اس کی تلاش میں ناکامی کے بعد دلبرداشتہ پاکستان سے باہر نہیں چلی گئی تھیں؟‘‘ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ چپ رہی تھیں۔
’’بات ساری یہ ہے کہ پرائی آگ میں کوئی کیوں کودے‘ تمہاری بیٹی چلی گئی‘ اب کسی کی بیٹی کے ساتھ کیا ہوتا ہے تمہیں پرواہ کیوں ہونے لگی… یہ تو میں ہی بیوقوف تھی جو اتنی کٹھنائیاں عبور کرکے تم تک پہنچی کہ تم چوٹ کھائی ہوئی ماں ہو‘ میری بچی کا سن کر مدد ضرور کروگی۔‘‘ جہاں آرأ غصے و صدمے سے کھڑی ہوکر گویا ہوئیں۔
’’کم تم بھی نہیں ہو‘ جہاں آرأ چور چور کرنا چھوڑ بھی دے تو ہیرا پھیری نہیں چھوڑتا اور چھوڑے بھی کیونکر… پیٹ اور پیٹ کی ضروریات سب کی طرح اس کے ساتھ بھی لگی ہوئی ہیں‘ جیسے تمہارے ساتھ لگی ہوئی ہیں‘ اس منحوس عورت کو سبز باغ تم نے ہی دکھائے ہوں گے جن سے پھل حاصل کرنے وہ آج یہاں آئی ہے؟‘‘ سائرہ کا ان کے ساتھ بھی خاصا وقت گزرا تھا اور وہ ان کی نیچر سے بخوبی واقف تھی کوئی ہمدردی کرنے کے بجائے طنزیہ لہجے میں بولیں۔
’’شک مت کرو مجھ پر‘ نویرہ کے جانے کے بعد اس پیشے سے میرا دل بھی ٹوٹ گیا تھا‘ پھر میں نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی آگے کام بڑھانے کی‘ سب کچھ میرے پاس ہے‘ میں نواسی کو اعلیٰ تعلیم دلوا رہی ہوں تاکہ اچھے اور خاندانی لوگوں میں شادی ہو…‘‘
’’پھر برکھا تمہیں کہاں مل گئی؟‘‘ وہ ان کی کہانی سے ذرا متاثر نہ ہوئیں۔
’’کچھ دن قبل ہی یونیورسٹی سے آتے ہوئے نا معلوم کس طرح مڈبھیڑ ہوگئی اور وہ پیچھا کرکے گھر تک پہنچ گئی اور کہتی ہے اسے وہ لڑکی چاہیے ہر حال میں حالانکہ قسمیں کھا کر بتایا ہے‘ اسے کہ میں دھندہ چھوڑ چکی ہوں‘ میری نواسی بڑی شریف وباکردار ہے… مگر وہ دھمکیاں دے رہی ہے کہ میں نے سیدھے طریقے سے بات نہ مانی تو وہ…‘‘ وہ بے اختیار رونے لگیں۔
’’میری نواسی کو اغوأ کروالے گی اور وہ ایسا کرسکتی ہے یہ تم بھی جانتی ہو۔‘‘
خ…ز…ؤ…/
حمرہ میکے سے واپس آگئی تھیں‘ موڈ بہت خراب تھا‘ وجہ یہ تھی کہ کسی پارٹی میں ان کی ایک دوست نے باتوں باتوں میں ماضی کا کوئی تذکرہ چھیڑ دیا تھا جس میں پارٹی میں شریک ایک خاتون نے بھی حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ باتیں نکلتے نکلتے فلمی دنیا تک پہنچ گئی تھیں۔ وہ عورت کسی مرحوام ڈائریکٹر کی بیوہ تھی‘ جو مزے سے اس وقت کی مشہور ماڈل و ایکٹر نویرہ اور یوسف کے درمیان چلنے والے افیئر سے واقف تھی وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ وہاں یوسف کی بیوی موجود ہے اور خود حمرہ نے بھی دوستوں کو اشارہ کردیا تھا‘ خاموش رہنے کا وہ ان تمام حقیقت کے متعلق جاننا چاہ رہی تھیں۔ اس امر سے وہ بھی واقف تھیں کہ جوانی میں یوسف بہت چارمنگ اور اٹریکٹیو شخصیت کے مالک تھے‘ پھر خاندانی رکھ رکھائو اور منسٹری کا زعم ایک عالم کی توجہ و محبت کا مرکز تھے وہ۔
’’اس وقت کے منسٹر یوسف اور ماڈل نویرہ کے درمیان اندر ہی اندر محبت کی پنیگیں بڑھنے لگی تھیں۔ بہت خفیہ طریقے سے وہ لوگ ملتے تھے کسی کو کبھی خبر ہی نہ ہوسکی تھی۔‘‘ وہ ہنس ہنس کر گوسپ کررہی تھیں‘ اس بات سے بے خبر وہاں موجود حمرہ کے دلِ نشیمن پر بجلیاں گر رہی تھیں کہ انہیں یہ مان تھا کہ یوسف نے صرف ان سے ہی محبت کی ہے‘ ان کی زندگی میں چاہت بن کر داخل ہونے والی وہ ہی واحد عورت ہے۔ وہ اتنے پاک باز اور شریف ہیں‘ جنہوں نے ناپسندیدگی کی بنا پر اپنی پہلی بیوی کو اس لائق ہی نہ سمجھا کہ انہیں بیوی کا درجہ دیا جائے۔
’’ابھی آپ کہہ رہی تھیں بہت خفیہ طریقے سے ان کا افیئر چل رہا تھا پھر آپ کو کس طرح معلوم ہوا ان کے خفیہ افیئر کا؟‘‘ ان کی دوست سونیا ان کی جذباتی حالت سے باخبر پوچھ رہی تھی۔
’’ان دنوں نویرہ نے کئی فلمز سائن کر رکھی تھیں اور ان فلموں کے ڈائریکٹر میرے ہسبینڈ تھے اور شوٹنگ ملتوی ہونے کی وجہ سے وہ بھی پریشان تھے اور اسی دوران نویرہ کی ماں نے راز داری کا وعدہ لے کر بتایا تھا‘ ان کے افیئر کا… بلکہ وہ تو یہاں تک کہہ رہی تھیں…‘‘ وہ دانستہ چپ ہوکر جوس پینے لگی تھی۔
’’جی… آپ کون ہیں؟‘‘ اس خاتون کو اس کی بے تابی عجیب لگی۔
’’مائی فرینڈ حمرہ… مسٹر یوسف کی وائف ہیں۔‘‘ ان کا تعارف سن کر وہ ہڑبڑا کر کھڑی ہوگئی تھیں۔
’’وائف…؟ اوہ مائی گاڈ…‘‘ وہ سخت سراسیمہ ہوگئی تھیں حمرہ کی لہو رنگ آنکھیں خود پر جمی دیکھ کر اس کی بوکھلاہٹ بڑھ گئی تھی۔
’’پلیز‘ مزید میرا امتحان مت لیں آگے بتائیں کیا ہوا؟‘‘ حمرہ کی ذات آندھیوں کی زد میں بے جان پتے کی مانند ڈول رہی تھی۔
’’حمرہ… کم آن‘ کیا ہوگیا ہے تمہیں تم اس کی باتوں پر کس طرح بلیو کر رہی ہو اس کی عادت ہے ہر جگہ ایسی چٹ پٹی گوسپ کرنے کی اور تم…‘‘
’’یہ جھوٹ نہیں ہے زبان جھوٹ کہہ سکتی ہے مگر آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں اور اس کی آنکھیں سچ کہہ رہی ہیں۔‘‘
’’سوری مجھے معلوم نہ تھا آپ یوسف صاحب کی وائف ہیں اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں منہ بند رکھتی۔‘‘ اس عورت کی حالت قابل رحم تھی۔
’’اب منہ کھول ہی لیا ہے تو بات بھی مکمل کرلیں۔‘‘
’’میرا کوئی قصور نہیں ہے مسز یوسف… مجھے جو کچھ میرے ہسبینڈ نے بتایا تھا بلکہ میرے ہسبینڈ کو بھی نویرہ ماڈل کی ممی نے یہ سب بتایا تھا۔‘‘
’’میں آپ کو کب قصور وار کہہ رہی ہوں اور نہ ہی خفگی کا اظہار کر رہی ہوں‘ میں صرف آپ سے یہ گزارش کررہی ہوں‘ بات کو مکمل کریں۔‘‘ ان کے لبوں پر دھیمی مسکراہٹ کسی زخم کی طرح ابھری تھی۔
’’میرے ہسبینڈ کو نویرہ کی ممی نے یہ بھی بتایا تھا کہ… ان دونوں کے تعلقات بہت آگے تک جاچکے ہیں‘ شایدہ وہ ان کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔‘‘ حمرہ کے دل میں خنجر سا پیوست ہوتا چلا گیا تھا۔
’’وہ دونوں جلد شادی کرنے والے تھے مگر پھر نہ معلوم کیا ہوا نویرہ اور اس کی ممی پلٹ کر آئی ہی نہیں‘ اب تو میرے ہسبینڈ کی ڈیتھ ہوئے دس سال بیت گئے ہیں‘ وہ ماں اور بیٹی تب ہی لاپتہ ہوگئی تھیں۔‘‘ داستان گو چپ چاپ وہاں سے چلی گئی تھی اور حمرہ کا واپسی کا سفر نادیدہ انگاروں پر طے ہوا تھا گھر آکر یوسف سے سامنا نہ ہونا ان کے غصے کو اور بھڑکا گیا‘ وہ کسی سے ملے بنا اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھیں۔
خ…ز…ؤ…/
داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دیئے جلانے لگے
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پر گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
اک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
’’زید… کہاں گئی تمہاری گارنٹی… کہاں گیا تمہارا دعویٰ؟ تم تو کہتے تھے پیارے میاں کوئی غلط حرکت کر ہی نہیں سکتا‘ وہ بہت اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے‘ بہت بڑا دل ہے اس کا‘ دیکھا تم نے کس طرح ہمارے چہروں پر کالک پوت کر چلا گیا‘ میری بے قصور بچی کا مستقبل بھی سیاہ کر گیا۔‘‘ صوفیہ ہوش میں آنے کے بعد روئے جا رہی تھیں‘ پھر ان کی نگاہ قریب آتے زید پر پڑی تو اس سے مخاطب ہوئیں‘ جو خود پریشان تھا۔
’’اس بچے کا کیا قصور ہے بھلا… اس نے جو کہا زید نے یقین کرلیا اور شاطر لوگ تو بولتے ہی میٹھی زبان ہیں‘ دل کا حال صرف اللہ ہی جانتا ہے۔‘‘ زمرد نے آہ بھرتے ہوئے بھیگے لہجے میں کہا۔
’’بھابی… بتائیں اب میری بن باپ کی بچی کا کیا ہوگا… کون شادی کرے گا‘ کون ڈولی لے کر جائے گا‘ کیا ہوگا میری بچی کا؟ کیسی قسمت پھوٹ گئی۔‘‘ صوفیہ دوبارہ بے ہوش ہوگئی تھیں‘ سودہ کو بھی بوا اور صالحہ وہاں لے آئی تھیں‘ ریڈ میکسی میں وہ ہلکے پھلکے انداز میں تیار ہوئی تھی اور خود پر ٹوٹنے والی قیامت کا سن کر وہ چپ ہوکر رہ گئی تھی نہ ماں کی طرح ماتم کیا تھا‘ نہ بڑی مامی کی طرح رو رو کر حشر خراب کیا تھا‘ نہ بوا کی طرح سینہ کوبی کی تھی۔ اس کے اندر ہزاروں طوفان مچل رہے تھے۔ پر باہر سے وہ ندی کی مانند شانت و پُرسکون ماں کو سنبھالنے میں لگی ہوئی تھی۔ صالحہ کو سب کے درمیان موجود دیکھ کر عمرانہ اور مائدہ اپنے کمروں میں آگئی تھیں‘ عمرانہ اپنے ساتھ جنید کی دادی کو بھی لے آئی تھیں۔
’’آئیں آپ آرام سے بیٹھیں‘ نیچے تو افراتفری ناجانے کب تک پھیلی رہے گی۔ جنید بتا رہے تھے آپ زیادہ دیر تک بیٹھ نہیں پاتیں۔‘‘ انہوں نے بیڈ پر انہیں بیٹھنے میں مدد دی جب کہ مائدہ کشنز لگانے لگی تھی۔
’’بے حد شکریہ بیٹا… بس بڑھاپا اسی کا نام ہے کوئی کام سیدھا نہیں ہوتا‘ یا یوں کہہ لیں زندگی نارمل نہیں رہتی۔‘‘
’’اللہ آپ کو صحت دے‘ مائدہ چائے بناکر لائیں ساتھ اسنیکس بھی۔‘‘ عمرانہ خوش اخلاقی کی مثال بنی ان کے قریب ہی ٹک گئی تھیں۔
’’ارے نہیں بیٹا… یہ تکلفات کا بالکل بھی ٹائم نہیں ہے‘ سودہ بچی کے ساتھ بہت برا ہوا ہے‘ کیسی پھولوں کی مانند شاداب بچی ہے اور نصیب دیکھیں کیسے کانٹوں سے بھرا ہے‘ ماں کو غش پر غش آرہے ہیں۔‘‘ دادی کے لہجے میں سودہ اور صوفیہ کے لیے ہمدردی و پیار ان دونوں ماں بیٹی کے لیے برداشت کرنا بڑا مشکل عمل تھا مگر برداشت کرنا بھی ضروری تھا۔
’’تکلف کی بات نہیں ہے آنٹی‘ مائدہ ابھی بنا کر لے آئے گی۔‘‘
’’نہیں نہیں عمرانہ… یقین جانیں میرا دل اس لڑکی میں اٹک گیا ہے۔ چائے تو کیا پانی پینے کی طرف بھی طبیعت مائل نہیں‘ کیسی صابرہ شاکرہ بچی ہے۔ ایک آنسو نہیں نکلا اس کی آنکھ سے بڑی ہمت و حوصلے سے ماں کو سنبھال رہی ہے‘ بڑے ہی بدبخت لوگ ہیں جو ایسے ہیرے کو کھو کر چلے گئے‘ آپ کے گھرانے کی لڑکیاں بہت منفرد ہیں۔‘‘
’’آنٹی… دولت تو آنی جانی شے ہے‘ رہنے والی شے عزت ہوتی ہے ہمیں تو یہی درس دیا گیا ہے کہ عزت اور اخلاق سب سے قیمتی دولت ہے۔‘‘
’’بے شک بالکل درست بات ہے۔ اخلاق و عزت سے ہی خاندانوں کی پہچان ہوتی ہے میں اپنے دل کی بات بتا رہی ہوں‘ جنید نے جب مجھ سے مائدہ کے لیے پسندیدگی کا اظہار کیا تب میں سوچ میں پڑ گئی تھی۔ مائنڈ مت کرنا عمرانہ…‘‘ وہ ایک دم اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر مسکرا کر کہہ اٹھیں اور عمرانہ اور مائدہ محض سر ہلا کر رہ گئی تھیں۔
’’ایسی عورت نے بیٹی کی تربیت کیا کی ہوگی جس کا خاوند بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی کے سنگ رہتا ہو… مگر پھر زید کے اخلاق و مروت یاد آئی تو میں نے مائدہ کو بہو بنانے کا ارادہ کرلیا اور اب مجھے فخر ہے کہ اچھے اور رشتوں کا مان رکھنے والوں میں ہم لوگ جڑ گئے ہیں۔‘‘
خ…ز…ؤ…/
بس اک شخص ہی کل کائنات ہو جیسے
نظر نہ آئے تو دن میں بھی رات ہو جیسے
میرے لبوں پر تبسم موجزن ہے اب تک
کہ دل کا ٹوٹنا چھوٹی سی بات ہو جیسے
شب فراق مجھے آج یوں ڈراتی ہے
تیرے بغیر پہلی رات ہو جیسے
اس کی یاد کی یہ بھی اک کرامت ہے
ہزر میل پر ہوکے بھی ساتھ ہو جیسے
تیرا سلوک مجھے روز زخم تازہ دے
کسی کو پہلی محبت میں مات ہو جیسے
’’میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔‘‘ وہ بے حد سنجیدگی سے بابر سے مخاطب ہوا۔
’’کس بارے میں فیصلہ کیا ہے… خیریت ہے نہ خاصے سنجیدہ لگ رہے ہو؟‘‘ بابر نے پوری توجہ اس پر مرکوز کرتے ہوئے پوچھا۔
’’میں انشراح سے شادی کرنے کا فیصلہ کرچکا ہوں۔‘‘
’’وہاٹ…؟‘‘ بابر کو گویا برق چھوگئی تھی وہ یک دم اچھل پڑا۔
’’اس قدر حیران کیوں ہورہے ہو‘ شادی کرنا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔‘‘ اس نے اس کے کھلے منہ اور پھٹی آنکھوں کو دیکھ کر کہا۔
’’مگر تم انشراح سے شادی کے خواہشمند ہو یہ حیرانی سے بھی آگے کی بات ہے مائی ڈیئر برادر…! یہ اچانک کایا پلٹ کیسے ہوئی بھلا؟ کل تک تو تم کہہ رہے تھے وہ تمہارے قابل نہیں ہے۔‘‘
’’میں نہیں جانتا یہ کایا پلٹ کیوں اور کیسے ہوئی… بس یہ مجھے یقین ہے… وہ ہے تو زندگی ہے وگرنہ کچھ بھی نہیں۔‘‘ بہت ٹھہرائو اور بے چارگی و ربط تھا اس کے لہجے میں‘ بابر ششدر ہوگیا تھا۔ اس کی ناپسندیدگی اور نفرت کے ہر پہلو سے وہ واقف تھا۔
’’آئی ڈونٹ بلیو یار…! کیا تم اس سے محبت کرنے لگے ہو؟‘‘
’’محبت…!‘‘ اس کے لبوں پر لمحے بھر کو تبسم چھلکا۔
’’میں محبت کا اقرار نہیں کرسکتا‘ بی کوز میں نہیں جانتا محبت کیا بلا ہے؟‘‘
’’پھر یہ آناً فاناً شادی کرنے کی کیا سوجھی ہے تمہیں؟‘‘
’’یہ سب اچانک نہیں ہوا بابر‘ کچھ عرصے سے میں اپنے اندر ایک خلا سا محسوس کررہا ہوں‘ ایک کمی… ایک ادھورا پن جو مجھے کسی جوگی کی مانند اِدھر اُدھر بھٹکائے رکھتا ہے مجھے کسی شاخ سے ٹوٹے برگ کی طرح آوارہ گردی میں سرگرداں رکھتا ہے‘ اب میں تھک گیا ہوں۔‘‘ وہ بہت شکستہ اور بکھرا ہوا سا لگا‘ بابر اسے سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
’’تم انشراح سے محبت بھی نہیں کرتے اور اسے پانا بھی چاہتے ہو یعنی شادی کے خواہشمند بھی ہو اور تم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہو اس کا بیک گرائونڈ کیا ہے وہ کس سوسائٹی سے تعلق رکھتی ہے؟‘‘
’’وہ تعلق نہیں رکھتی‘ ماضی میں اس کی ماں اور نانی کا تعلق رہا ہے۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر گویا ہوا تھا۔
’’آئی نو‘ بٹ تم انکل اور آنٹی کو کنونس کرلو گے؟ پھل میٹھا ہو یا کڑوا اس کی پہچان درخت سے ہی ہوتی ہے اور تم اس کی نانی کی لالچی طبیعت سے بخوبی واقف ہو‘ وہ عورت کسی طرح بھی اپنی نیچر سے باز نہیں آئے گی۔ اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے قبل خوب سوچ سمجھ لو۔‘‘
خ…ز…ؤ…/
مغرب کی نماز کا وقت عنقریب تھا۔
’’مہمانوں کا جم غفیر ہال روم میں موجود تھا‘ صوفیہ پر بار بار غشی طاری ہورہی تھی۔ منور صاحب کا ڈاکٹر چیک اپ کر گیا تھا‘ سخت ذہنی دبائو کے باعث ان کی طبیعت ناساز ہورہی تھی یہ اطلاع پاکر جنید کی دادی بھی عمرانہ کے ہمراہ وہاں آگئی تھیں‘ زمرد‘ زید‘ شاہ زیب‘ مدثر اور جنید وہاں پہلے سے ہی موجود تھے۔ ایک تو پیارے میاں اور اس کی ماں کے فرار نے خوشیوں بھرے گھر کو ماتم کدے میں تبدیل کردیا تھا‘ دوئم منور اور صوفیہ کی بگڑتی طبیعت نے انہیں دہرے مسائل میں مبتلا کردیا تھا۔
’’منور بیٹے… حوصلہ پکڑیں‘ بے شک دکھ و غم کی گھڑی بڑی بھاری ہے ظالموں نے کاری وار کیا ہے‘ عزت پر صدمے کی بات تو ہے مگر آپ کو ہمت و حوصلے سے کام لینا ہوگا‘ بچے خدانخواستہ آپ کو کچھ ہوگیا تو وہ بچی سودہ خود کو کس طرح سنبھال پائے گی۔‘‘ انہیں سخت مضطرب و بے چین دیکھ کر جنید کی دادی نے متانت بھرے انداز میں سمجھایا۔
’’آنٹی… کیا کہوں گا میں سودہ سے؟ کس طرح سامنا کروں گا اس مظلوم بیٹی کا جس نے اپنے نصیب کی ڈور ہمارے ہاتھ میں تھمادی تھی‘ جس نے کبھی اپنی مرضی استعمال نہیں کی ہر فیصلے کا اختیار ہم کو دیتی آئی ہے۔‘‘ وہ بچوں کی مانند پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے‘ انہیں دلاسہ دینے میں سب ہی پیش پیش تھے‘ جنید کی دادی جن کے مراسم ان لوگوں سے ان دونوں کی دوستی کی وجہ سے پرانے تھے وہ منور کے قریب بیٹھ کر انہیں سمجھا رہی تھیں‘ مدثر بھی ان کا ہاتھ تھامے سرہانے بیٹھے تھے۔
انہیں روتے دیکھ کر زید اپنی جگہ سے جنبش بھی نہ کرسکا تھا اور ششدر سا بیٹھا رہا۔ عمرانہ بھی دادی کو متاثر کرنے کے چکر میں اخلاق و مروت کا سمبل بنی وہاں موجود تھیں۔ دراصل جنید اور اس کی دادی نے ان کے مزاج سے بے خبر ہوتے ہوئے انہیں اس قدر تعریف و توصیف سے نوازا تھا کہ اب دکھاوے کے لیے ہی انہیں اچھے پن کا مظاہرہ کرنا پڑ رہا تھا۔
’’بھائی جان… آپ تو سودہ کی عادت سے واقف ہیں ناں‘ آپ کو اس حال میں دیکھ کر وہ خود کو الزام دے گی۔‘‘ مدثر نے ان کا ہاتھ سہلاتے ہوئے رسانیت سے کہا۔
’’گھر بیٹھے بیٹھے میری بچی رسوا ہوگئی‘ حقیقت کوئی جاننے کی سعی نہیں کرتا‘ اس طرح عین نکاح والے دن بارات کا نہ آنا لوگوں کو کس قدر باتیں بنانے کا موقع فراہم کرچکا ہے… اب مدتوں تک کوئی اس کا سوالی بن کر نہیں آئے گا۔‘‘
’’ایسا کچھ نہیں ہوگا خود کو کیوں ہلکان کررہے ہیں بھائی صاحب۔‘‘ عمرانہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
’’اللہ نے سودہ کے لیے اس بدبخت لڑکے سے زیادہ بہترین و لائق بر منتخب کیا ہوگا۔ آپ حوصلہ نہ ہاریں‘ جو ہوگا اچھا ہوگا۔‘‘
’’آنٹی… برے کے بعد کیا اچھا ہوگا اگر اچھا ہی ہونا ہوتا تو آج برا نہ ہوتا‘ مجھے ہر طرف مشکل ہی مشکل دکھائی دیتی ہے۔‘‘
’’رب یہی فرماتا ہے ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔‘‘ مدثر نے پھر سے بھائی کو سمجھانے کی کوشش کی۔
’’بھائی جان… آپ پریشان نہ ہوں‘ میری دیرینہ آرزو تھی سودہ میری بہو بنے‘ مگر ایسا ممکن نہ ہوا۔‘‘ انہوں نے عمرانہ و زید کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں اعلان کرتا ہوں… شاہ زیب اور سودہ کے نکاح کا جو ابھی اور اسی وقت ہوگا۔‘‘ انہوں نے مضبوط لہجے میں کہا تھا۔
خ…ز…ؤ…/
سراج نے سگریٹ پیتی برکھا کو دیکھا جو کسی سوچ میں گم ہونٹوں سے دھواں اڑا رہی تھی‘ پھر اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ کر گویا ہوا۔
’’میں کہتا ہوں سانپ اور جہاں آرأ پر اعتبار کرنے کا مقصد ہے خود کو ہلاکت میں ڈالنا‘ کب اور کہاں وہ دھوکہ دے جائے‘ کچھ پتہ نہیں چلتا تم اس پر بھروسہ کرکے بہت برا کر رہی ہو‘ برکھا میڈم۔‘‘
’’فکر مت کرو سراج… اگر وہ سانپ ہے تو میں نیولا ہوں‘ اس نے مجھ سے کوئی چال چلی تو دیکھنا دوسرے لمحے سانس بھی نہ لے پائے گی۔‘‘ برکھا کے لہجے میں بھی بلاکی خود اعتمادی وہٹ دھرمی تھی۔
’’میڈم… تم نہیں جانتی جہاں آرأ کے مکار ذہن کو‘ اس کی سوچ وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں دشمن کی سوچ ختم ہوتی ہے۔‘‘
’’اگر وہ مکار و چالاک ہے تو میرے آگے لومڑیاں بھی شرما جاتی ہیں‘ پھر وہ ایک تنہا و بے بس عورت ہے‘ ایک عرصہ ہوچکا اسے بازار چھوڑے ہوئے‘ نئی نسل اس کے نام سے بھی نا واقف ہے اور تم اس سے اس قدر خوف زدہ ہو گویا وہ عورت نہیں کوئی عفریت ہو۔‘‘ اس نے سگریٹ ایش ٹرے میں پھینکتے ہوئے طنز سے کہا۔
’’وہ ایک بھیانک عفریت ہی ہے‘ بہت ہلکا لے رہی ہو تم اس بلا کو‘ تیس سال میں نے اس کے سنگ گزارے ہیں اور اس کی حرکتوں کا مجھے خوب اندازہ ہے۔ اسے کچھ کر گزرنے کے لیے ہجوم کی ضرورت نہیں ہوتی… اپنے شکار کو وہ خود گھیر کر مارنے کی عادی ہے۔‘‘
’’تُو تو بہت بزدل ہے سراج… جو بزدل ہوتا ہے میں اسے مرد نہیں مانتی‘ نہ جانے ایسا کیا دیکھا ہے تو نے جو دم دبا کر بیٹھ جاتا ہے اس کے نام پر ہونہہ‘ خود ڈرتا رہ‘ مجھے ڈرانے کی کوشش نہیں کر میں کسی سے ڈرنے والی نہیں ہوں‘ بڑے بڑے پھنے خان کو دھول چٹائی ہے۔‘‘ جواباً سراج نے بحث کرنا فضول سمجھا‘ برکھا کسی کی سننے والی نہ تھی اور جہاں آرأ کی مہلت جو اسے چند دنوں کے لیے دی گئی تھی وہ اسے بہت کھٹک رہی تھی۔
’’اچھا اب یوں منہ بنا کر مت بیٹھ چل فون ملا کر دے بات کرتی ہوں۔ اس کتیا سے جس سے تیری جان جا رہی ہے پاگل آدمی نہ ہو تو۔‘‘ اس نے مسکرا کہا‘ سراج نے نمبرز پش کرنے شروع کردیے‘ دوسری طرف بیل جا رہی تھی‘ بیل جارہی تھی لیکن کسی نے کال پک نہ کی اور ایک بار نہیں کئی بار کال کرنے پر جواب نہیں ملا تھا۔
’’گئی بھینس پانی میں۔‘‘ سراج ریسیور رکھتا ہوا کہہ اٹھا۔
’’ہوں… فون کیوں نہیں اٹھایا اس نے اور موبائل بھی بند جا رہا ہے… ٹھیک کہتے ہو تم‘ کہیں وہ لڑکی کو لے کر بھاگ نہ گئی ہو؟‘‘ برکھا کی پیشانی پر تردد آمیز شکنیں در آئیں۔
’’جب ہی کہہ رہا تھا ڈھیل نہیں دو اس عورت کو وہ اعتبار کے قابل نہیں… ایک لمبا عرصہ اس کے اشاروں پر چلا ہوں میں اور اس نے صلہ کیا دیا‘ میرا سارا پیسہ ہڑپ کر گئی اور جیل میں مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دیا‘ پھر تم سے ملے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں‘ وہ تمہارے ساتھ وفا کیوں کرے گی۔‘‘
’’اگر بھاگی بھی ہے تو مجھ سے بھاگ کر کہاں جائے گی‘ میں اپنے دشمنوں کو قبروں سے نکال لیا کرتی ہوں اور دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ چھپ جائے‘ تم گاڑی نکالو۔‘‘ وہ سخت لہجے میں گویا ہوئی تھی۔
خ…ز…ؤ…/
جہاں آرأ نے کال ریسیو نہ کی بلکہ موبائل ہی آف کردیا تھا۔ جب تک لینڈ لائن فون کی بیل بجتی رہی تب تک وہ مضطربانہ انداز میں انشراح کے کمرے کی طرف دیکھتی جہاں اس کے ساتھ بالی بھی موجود تھی اور انہیں خوف تھا بالی بیل کی آواز سن کر باہر نہ آجائے کیونکہ وہ گھر کے معاملات میں بڑی چوکنا ومستعد رہتی تھی۔ دوسری طرف بیل مسلسل ہو رہی تھی وہ سمجھ گئی تھیں سراج فون کر رہا ہے۔ یہ سراج کا انداز تھا وہ کئی بار فون کرنے کا عادی تھا۔
’’سراج… کمبخت صبر کرلے تو بڑا اکڑ رہا ہے‘ جس دن بھی ہاتھ لگ گیا تیرا تو ایسا حشر کروں گی مدت بعد بھی اپنی درگت نہ بھولے گا۔‘‘ وہ پیچ و تاب کھاتی ہوئی بڑبڑا رہی تھیں اور فون کی بیل کے خاموش ہوتے ہی انہوں نے پھرتی سے لائن کنکشن سے پن نکال کر توڑ دی تھی۔ فون از خود اس عمل سے ڈیڈ ہوگیا تھا۔
’’ماسی… کب سے بیل ہورہی ہے۔‘‘ وہ اس مصیبت سے نجات حاصل کرکے بیٹھی ہی تھیں کہ بالی وہاں آکر فون کی طرف بڑھتی ہوئی گویا ہوئی۔
’’تمہارے کان بج رہے ہیں فون نہیں بج رہا ہے۔‘‘ وہ دل میں اپنی کامیابی پر خوش ہوتی ہوئی گویا ہوئیں۔
’’ارے یہ فون کو کیا ہوا یہ تو ڈیڈ پڑا ہے؟‘‘ بالی حیران ہوکر فون دیکھتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’ہوگیا ہوگا ڈیڈ… یہ تو ہر کچھ دن بعد ہوجاتا ہے اور تمہیں کہاں سے گھنٹیاں بجتی سنائی دے رہی تھیں… کہیں پینے وینے تو نہیں لگی؟‘‘ وہ خوش مزاجی کا مظاہرہ کرنے لگیں۔
’’اﷲ توبہ… کیسی باتیں کرنے لگی ہو ماسی میں کیوں پیوں گی بھلا۔‘‘ بالی جھینپ کر گویا ہوئی۔
’’انشراح سے کہو تیار ہوجائے آج ڈنر کرنے باہر چلتے ہیں‘ بہت دن ہوگئے ہیں باہر ڈنر نہیں کرنے گئے۔ گھر کا کھانا کھا کھا کر بور ہوگئی ہوں۔‘‘
’’کبھی کبھی تو سمجھ سے بالکل باہر دکھائی دیتی ہو ماسی‘ کل تک تم کہہ رہی تھیں ہم گھر سے باہر نکلنے میں احتیاط کریں‘ بلا ضرورت گھر سے کہیں نہ جائیں اور اب کہہ رہی ہو کھانے کے لیے باہر چلنا ہے۔‘‘
’’وہ تو میں نے ایسے ہی کہہ دیا تھا اب تُو ہر بات پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے… اگر نہیں جانا چاہتی تو نہ سہی گھر میں ہی ٹھوس لینا پھر حد ہوتی ہے۔ خیال ہی نہیں رکھنا چاہیے الٹا دور آگیا ہے شکر ہی کرنا نہیں آتا۔‘‘ جہاں آرأ ذہنی الجھنوں کا اس حد تک شکار تھیں کہ بات بے بات غصہ انہیں آگ بگولہ کر دیا کرتا تھا‘ اس وقت بھی یہی ہوا تھا۔
’’میں کہتی ہوں ماسی‘ جو بھی پریشانی ہے کم از کم مجھے تو بتائو‘ میں جانتی ہوں کوئی نہ کوئی مسئلہ چل رہا ہے تمہارے ساتھ جو تم بتا نہیں رہی ہو۔‘‘ بالی اس کے قریب بیٹھ کر گویا ہوئی۔ اس کے انداز میں اتنی محبت اور فکر تھی کہ جہاں آرأ کے مضطرب دل نے چاہا کہ اپنی پریشانی بتا کر من کو شانت کرلے کہ دل کی بات کسی ہمدرد کو بتا کر کچھ سکون تو حاصل ہوتا ہے‘ ویسے بھی بالی دلجوئی کرنے اور وفاداری نبھانے میں کوئی ثانی نہ رکھتی تھی… مگر پھر وہ ہی ایک کمزوری تھی اس کی انشراح کے متعلق کوئی غلط بات سننا بھی اس کے لیے ناممکن و ناقابل برداشت تھا۔
’’کچھ نہیں… کوئی پریشانی نہیں ہے۔‘‘ وہ کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں۔
خ…ز…ؤ…/
مدثر صاحب کا اعلان کسی سناٹے میں ہونے والے دھماکہ ثابت ہوا… وہ سب ہک دک سے مدثر صاحب کو رکھتے رہ گئے‘ شاہ زیب کو شدید جھٹکا لگا‘ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ قرعہ فال اس کے نام نکلے گا۔
’’ڈ… یڈ… ی! سودہ سسٹر ہے میری…‘‘
’’سگی بہن نہیں ہے تمہاری وہ جس سے شادی ممکن نہ ہو۔‘‘ وہ اس وقت جوالہ مکھی بنے ہوئے تھے پُرطیش انداز میں گویا ہوئے۔
’’لیکن میں سگی بہن سے زیادہ محبت کرتا ہوں سودہ سے۔‘‘
’’صاف کیوں نہیں کہتے پیارے کی طرح تم بھی پیٹھ دکھا کر جانے والے ہو‘ وقت کی نزاکت کا تمہیں بھی خیال نہیں ہے‘ یہ میری بیٹی کے مستقبل کا معاملہ ہے سودہ کے آگے میں نے کبھی بھی تم لوگوں کو اہمیت نہیں دی‘ تمہیں اس سے ابھی اور اسی وقت نکاح کرنا ہوگا یہ میرا حکم ہے۔‘‘ وہاں موجود تمام نفوس سراسیمگی میں مبتلا تھے‘ البتہ عمرانہ کے چہرے سے کوئی تاثر نہیں جھلک رہا تھا‘ ان کی یہاں موجودگی بھی جنید کی دادی کی مرہون منت تھی‘ وگرنہ وہ تو مدثر صاحب کی شکل بھی دیکھنے کی روا دار نہ تھیں۔
’’مدثر… یہ بندھن زبردستی باندھنے کے نہیں ہوتے… زندگی بھر کا سنجوگ ہوتا ہے‘ چند دنوں کی بات نہیں ہے کہ دل پر جبر کرکے سب کچھ برداشت کرلیا جائے۔‘‘ منور صاحب نے شاہ زیب کے لہجے میں سچائی کھوج لی تھی۔
’’زبردستی کس بات کی بھائی جان؟ سودہ میں کیا برائی ہے۔ ظاہری یا اخلاقی برائی کوئی شکل وصورت میں کسی سے کم ہے کیا؟‘‘
’’یہی فیصلہ آپ کو مدثر بیٹے اس وقت کرنا چاہیے تھا جب اس بدبخت پیارے کا پرپوزل سودہ کے لیے قبول کیا تھا۔ گھر کی لڑکی گھر میں رہتی یوں تماشہ تو نہ بنتا مجھے تو افسوس ہے اتنی دیر سے فیصلہ ہوا۔‘‘
’’آنٹی… میری تو دلی خواہش تھی سودہ میری بہو بنتی… بڑی بہو‘ میں نے ہمیشہ سودہ کو زید کے حوالے سے اور زید کے ساتھ ہی دیکھا۔‘‘ انہوں نے گہری نگاہ زید کے چہرے پر ڈالی جو اس عجیب صورت حال پر گم صم بیٹھا تھا۔
’’میں نے پہلے زید کی مرضی ہی معلوم کی تھی‘ زید نے انکار کردیا تو پھر شاہ زیب سے کہا اور اس نے یہی جواب دیا جو اب دے رہا ہے کہ وہ اسے بہن سمجھتا ہے اور اس وقت میں نے بھی زبردستی کرنا مناسب نہ سمجھا تھا کہ میں بھی یہ بات جانتا ہوں‘ شادی تا حیات نبھانے والا بندھن ہے… لیکن میں اب اس مشکل وقت میں کس طرح بہن اور بھانجی کو بے آسرا چھوڑ دوں۔ آج نہیں تو کل شاہ زیب اس رشتہ کو دل سے قبول کرلے گا۔‘‘ مدثر اپنی ضد پر کسی پتھر کی مانند ڈٹ گئے تھے‘ شاہ زیب کا چہرہ دھواں دھواں ہورہا تھا تو زید کے دل و دماغ میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
اس کی محبت!
اس کی چاہت!
اس کی آرزو!
کس طرح بے وقعت و ارزاں ہوگئی تھی کہ بوسیدہ چیز کی مانند کسی کے بھی سر تھوپی جا رہی تھی اور وہ بے حیمت بنا بالکل چپ بیٹھا تھا… وہ ہی ماں سے کیے گئے وعدوں کی بیڑیاں سرتاپا جکڑے ہوئے تھیں۔ وہ اپنے باپ مدثر‘ جنید اور شاہ زیب کی تپتی نگاہیں پوری شدت سے خود پر محسوس کررہا تھا۔
’’یہ ایک بڑا فیصلہ ہے اس میں صالحہ کی رضا مندی بھی بے حد ضروری ہے مدثر تمہیں صالحہ کو بھی اپنے فیصلے سے آگاہ کرنا چاہیے۔‘‘ زمرد بیگم نے انہیں جلدی جلدی کا شور کرتے دیکھ کر مشورہ دیا۔
’’صالحہ کی فکر نہیں ہے مجھے‘ وہ ہمیشہ میری مانتی آئی ہے اور سودہ کو وہ پسند بیھ بہت کرتی ہے‘ اسے بہو بناکر وہ خوش ہوگی۔‘‘ صالحہ کے لیے جو ان کے لہجے میں محبت اور اعتماد تھا وہ سب نے محسوس کیا تھا مگر عمرانہ ان کی محبت پر ششدر رہ گئی تھیں کہ وہ آج تک یہی سمجھتی رہی تھیں‘ وہ ان کی ضد میں صالحہ کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں‘ وگر نہ صالحہ ان کے آگے کسی بجھے ہوئے چراغ کی مانند تھی اور ان کا حسن آج بھی روشن تھا۔
’’ہاں بھئی… تم کیا کہتے ہو شاہ زیب بیٹا‘ کوئی بوجھ تو محسوس نہیں کررہے… اگر کوئی پریشانی محسوس ہو رہی ہے یا دل نہیں مان رہا تو بتا دو‘ ہم آج اس نکاح کو ملتوی کردیتے ہیں‘ جب آپ دلی طور پر قبول کرلیں گے اس رشتے اور تعلق کو تو پھر ہم صرف نکاح ہی نہیں ساتھ میں رخصتی کی بھی تقریب کردیں گے لیکن نیک کام دل کی خوشی کے ساتھ ہونا چاہیے۔‘‘ منور صاحب نے شاہ زیب کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں ابھی راضی ہوں سودہ سے نکاح کرنے کے لیے۔‘‘
خ…ز…ؤ…/
’’یوسف صاحب کاروباری سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ ایک دن بعد واپس ہوئی تھی‘ پہلے وہ آفس گئے وہاں سے کاروباری امور نبٹانے کے بعد انہوں نے تنویر کی سرگرمیوں کی رپورٹ طلب کی تھی‘ کیونکہ تنویر جس طرح نوفل کو دھمکی دے کر گیا تھا اس سے اس کا کینہ و بغض ظاہر ہوگیا تھا اور وہ جانتے تھے کہ تنویر سطحی ذہنیت کا مالک اور کینہ پرور آدمی ہے وہ رشتے کے لحاظ کو بالکل ملحوظ خاطر نہ رکھے گا اور نوفل کے ساریہ سے شادی نہ کرنے کا بدلہ ضرور لے گا۔ اس کام کے لیے انہوں نے اپنے قابل بھروسہ لوگوں کو مامور کردیا تھا‘ جو جاسوسی کا کام اعلیٰ پیمانے پر کیا کرتے تھے اور ان سے ملنے والی رپورٹس میں متواتر لاریب کا نام دیکھ کر وہ چونکے تھے کہ نہ صرف وہ ان سے ملتا رہا تھا بلکہ اس پلان میں بھی شریک رہا تھا جو تنویر نوفل کے خلاف بنا رہا تھا اور یہ بات انہیں شاکڈ کر گئی تھی۔
لاریب کس بنا پر نوفل کا دشمن بن گیا‘ ایسا کیا ہوا تھا ان کے درمیان جو وہ اس نہج پر پہنچ گیا تھا کہ نوفل کے دشمن کا ساتھ دے رہا تھا‘ پھر سوچ کے گھوڑے دوڑانے میں انہیں زیادہ وقت نہ لگا تھا۔ انہیں سمجھ آگئی تھی ان کے درمیان وجہ دشمنی یقیناً لاریب کی بے راہ روی بنی ہوگی۔ نوفل کے مزاج میں جس قدر سادگی‘ شرافت اور سنجیدگی تھی لاریب کا مزاج بالکل متضاد تھا۔ اس کی جوانی میں انہیں اپنی جوانی کی جھلک دکھائی دیتی تھی اور اس عمر میں آکر انہیں معلوم ہوا تھا لمحے لمحے کی قیمت چکانی پڑتی ہے‘ نیکیوں میں گزرا وقت صدقہ جاریہ بن جاتا ہے اور گناہوں میں گزرا وقت عذاب مسلسل کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ لاریب کو انہوںنے اونچ نیچ سے آگاہ کرنے کی بہت سعی کی تھی مگر نفس کی سرکشی پر ہر کسی کو فتح حاصل نہیں ہوتی اور سرکش لوگوں کو ان کے حال پر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بھی یہی سوچ کر چھوڑ دیا کہ جوانی کی چڑھتی ندی اترے گی تو سب معمول پر آجائے گا مگر یہاں معمول سے ہٹ کر ہوا تھا۔ وہ آفس سے تہیہ کرکے نکلے تھے کہ لاریب سے خاموشی اور سختی کے ساتھ ان معاملات پر بات کریں گے۔ نوفل سے چھپانے کا مطلب تھا دونوں کے درمیان کوئی تکرار نہ ہو‘ دلوں میں عناد نہ پیدا ہو۔
گھر آئے تو ان کے لیے ایک نیا محاذ منہ کھولے کھڑا تھا۔ حمرہ کو کئی ماہ بعد واپس آئے دیکھ کر وہ خوش خوش ان کی طرف بڑھے تھے۔
’’ہائو آر یو مائی سوئٹ ہارٹ؟‘‘ حمرہ کو بانہوں میں بھرنا چاہا تھا۔
’’ہونہہ… مجھے بے وقوف نہیں بنائیں آپ۔‘‘ وہ ہاتھ جھٹک کر دور ہوئیں۔
’’ارے کیا ہوا اتنے دنوں بعد آئی ہو اور الٹا خفا ہورہی ہو حالانکہ خفا ہونے کا حق مجھے ہے‘ ایک ماہ کا کہہ کر گئی تھیں اور تین ماہ کے بعد آرہی ہو۔‘‘ ان کے عجیب سرد و روکھے رویے نے یوسف صاحب کو دنگ کردیا تھا‘ وہ حیران و پریشان سے گویا ہوئے تھے۔ حمرہ نے نفرت بھری نگاہیں ان پر جما کر کہا۔
’’میں آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی‘ آپ طلاق دیں مجھے۔‘‘
’’حمرہ…! یہ کیسا مذاق ہے؟‘‘ حمرہ نے جتنے سکون سے جما جما کر لفظوں کی ادائیگی کی تھی یوسف صاحب اتنے ہی بے اوسان ہوکر چیخے تھے۔
’’چیخیں مت مجھ پر جتنی بلند انداز میں بولیں گے اتنی ہی رسوائی ہوگی آپ کی نہ میں مذاق کررہی ہوں نہ یہ بات مذاق میں کی جاتی ہے۔‘‘
’’مجھے سمجھ نہیں آرہا… یہ مذاق نہیں ہے پھر کیا ہے؟ تم… تم کیوں طلاق لینا چاہتی ہو… کیا ہوا ہے… کس بات نے تمہیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے‘ ایسا کیا ہوا ہے؟‘‘ حمرہ کے لہجے کی مضبوطی‘ بے لچک انداز اور آنکھوں سے برستی یگانگی کہہ رہی تھی جو بھی معاملہ ہے بے حد سنگین ہے‘ ان کی سوچ سے بڑھ کر گمبھیر بھی۔
’’جو بھی وجہ ہے وہ میں نہیں بتا سکتی۔‘‘ وہ رخ موڑ کر بولیں۔
’’ایسی بھی کیا وجہ ہے جو تم کہنے سے گریزاں ہو؟‘‘ یوسف صاحب نے زبردستی شانے سے پکڑ کر انہیں اپنی طرف کیا۔
’’تمہیں بتانا ہوگا حمرہ‘ پھانسی دینے سے قبل مجرم کو بتایا جاتا ہے کہ اس سے کیا جرم سرزد ہوا ہے‘ کس جرم کی سزا اس نے پائی ہے‘ تم سے جدائی میرے لیے موت سے کم سزا نہیں ہے موت ہی کی سزا ہے۔‘‘ یوسف صاحب حقیقتاً بے حد جذباتی اور متفکر ہوکر گویا ہوئے تھے۔
’’کل تک آپ کی یہ باتیں میرے لیے سرمایہ حیات تھیں‘ دنیا کی خوش نصیب ترین عورت تصور کرتی تھی میں خود کو‘ کوئی ہم پلہ دکھائی نہ دیتا تھا مجھے…‘‘
’’وہ تم آج بھی ہو میرے دل کی سلطنت پر تمہارا راج آج بھی ہے۔‘‘
’’شٹ اپ‘ مجھے سب معلوم ہوگیا ہے‘ آپ کے گھنائونے ماضی کے متعلق… آپ کی ناجائز اولاد کے بارے میں سب جان گئی ہوں۔‘‘
خ…ز…ؤ…/
جہاں آرأ نے بڑی بے تابی سے دو تین دن گزارے تھے وہ ہر لمحہ برکھا کی طرف سے کسی بری خبر کی منتظر رہی تھیں‘ سائرہ نے یہی کہا تھا کہ دو تین دن سے زیادہ کی مہلت وہ برکھا کو زندہ رہنے کی نہیں دے گی اور دن پہ دن گزر رہے تھے‘ برکھا سراج کے ساتھ کئی چکر وہاں کے لگا چکی تھی اور بدقسمتی سے اسے ناکام لوٹنا پڑ رہا تھا‘ جہاں آرأ چوکیدار کو ڈبل تنخواہ دے کر خرید چکی تھیں۔ چوکیدار دور سے ہی برکھا کی کار کو دیکھ کر الرٹ ہوجاتا اور اس کے حوالے سے کئی حیلے بہانے بناکر واپس لوٹا دیتا اور وہ دونوں جہاں آرأ کو گالیوں سے نوازتے لوٹ جاتے تھے۔
برکھا کس طرح بھی عام حالات میں اس طرح ناکام لوٹنے والی نہ تھی‘ بات یہ ہوئی تھی کہ خبر اسے بھی سائرہ کے واپس آنے کی مل گئی تھی اور وہ جانتی تھی آتے ہی وہ اس کی جستجو میں لگ گئی ہوگی اور اسے خوف تھا اگر سائرہ کو اس کی یہاں موجودگی کا پتہ چل گیا تو وہ اسے مارنے میں ذرا دیر نہ لگانے والی تھی اور یہی خوف اسے یہاں محتاط انداز میں کام کرنے پر مجبور کررہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ جہاں آرأ اس کی گرفت سے چکنی مچھلی کی مانند پھسلی جا رہی تھی۔
جہاں آرأ نے فون ڈیڈ کردیا تھا‘ موبائل فون آف کر رکھا تھا چوکیدار سے وہ اس کی آمد کے بابت پوچھتی رہتی تھی‘ غافل وہ خود بھی نہیں تھیں۔ گیٹ کے قریب سے گزرنے والی ہر گاڑی کی آواز پر اوپر اپنے کمرے کی کھڑکی سے وہ پردے کی اوٹ سے جھانک کر دیکھا کرتیں اور برکھا کی گاڑی دیکھ کر وہ اس وقت تک کھڑی رہتیں جب تک وہ واپس پلٹ نہ جاتی تھی… لیکن وہ فکر مند تھیں یہ چوہے بلی کا کھیل کب تک جاری رہے گا۔ ابھی تک قسمت ساتھ دیتی آرہی تھی اور قسمت کب دغا دے جائے‘ کچھ پتہ نہ تھا اور قسمت کی دغا بازی سے قبل وہ انشراح کی قسمت کو محفوظ کردینا چاہتی تھیں۔
سائرہ کو بھی کئی مرتبہ کال کرچکی تھیں‘ مگر وہ فون نہ اٹھا رہی تھی پھر اس سے روبرو ملاقات کرنا چاہی تو انہیں گیٹ کے باہر سے ہی چوکیداروں نے واپس کردیا تھا۔ ان کی ایک نہ سنی گئی۔ وہ واپس آکر مزید ڈسٹرب ہوگئی تھیں۔ پہلی بار فکر و پریشانی کے باعث ان کی بھوک و پیاس اڑگئی تھی۔ سائرہ نے اپنا وعدہ وفا نہ کیا تھا برکھا کو مارنے کے لیے ابھی تک آدمی نہیں بھیجے تھے۔
’’سمجھ نہیں آتا کیا کروں میں؟‘‘ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھیں۔
’’کیا کرنے کا ارادہ ہے نانو… کوئی بزنس کرنا چاہ رہی ہیں آپ؟‘‘ ان کی زور دار بڑبڑاہٹ وہاں آتی انشراح نے بھی سن لی تھی مسکرا کر کہتی وہ ان کے قریب بیٹھ گئی‘ پیچھے بالی بھی آگئی تھی۔
’’نہیں میری جان کیسا بزنس؟ اب تو تھک گئی ہوں میں تمہاری نانی بوڑھی ہوگئی ہے‘ بہت زیادہ بوڑھی ہوچکی ہوں۔‘‘ انہوں نے تھکے ہوئے انداز میں اس کی طرف دیکھتی ہوئی کہا‘ ان کے انداز پر دونوں نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ وہ میک اپ سے عاری چہرے کے ساتھ سچ میں بوڑھی لگ رہی تھیں۔
’’کل تک تم مجھ سے چھوٹی دکھائی دینے کے دعوے کر رہی تھیں اور آج بوڑھی ہوگئی ہو۔‘‘ بالی نے ماحول کی خاموشی دور کرنی چاہی۔
’’وقت اوقات یاد دلائے تو لمحہ ہی لگتا ہے بالی۔‘‘
’’بہت تبدیلی آگئی ہے نانی آپ میں سچ سچ بتائیں کیا پریشانی ہے‘ میں نے کبھی بھی آپ کو اس قدر بکھرے ہوئے نہیں دیکھا‘ آپ نے ہر طرح کے حالات کا بنا ڈرے مقابلہ کیا ہے‘ پھر اب کوئی انہونی بات ہوئی ہے کیا؟‘‘ انشراح کے لہجے میں بھی پریشانی در آئی تھی وہ ان سے لپٹ کر گویا ہوئی۔
خ…ز…ؤ…/
شاہ زیب کی آواز میں ایک دکھ تھا‘ نمی کی چمک آنکھوں سے ظاہر ہورہی تھی۔ وہ بھری آنکھوں سے زید کی طرف دیکھ رہا تھا اور زید کی نگاہوں کا محور بھی وہ ہی تھا‘ آنکھوں میں نمی اس کے بھی ابھرنے لگی تھی۔
’’خوش رہو بیٹا… تم نے میرا مان رکھ لیا… مجھے ایک اذیت سے نجات دلا دی۔‘‘ مدثر نے اٹھ کر شاہ زیب کو گلے لگاتے ہوئے کہا‘ فرط جذبات سے ان کی آواز کانپ رہی تھی‘ زمرد بیگم اور منور صاحب بھی اٹھ کر قریب آگئے تھے۔
’’یہ کیسا فیصلہ ہے… خاندانی لوگوں میں ایسی باتیں کہاں ہوتی ہیں کہ بڑا بیٹا بٹھا رہ جائے اور چھوٹے بیٹے کو رشتۂ ازدواج سے منسلک کردیا جائے… ہماری سات نسلوں میں ایسا نہیں ہوا‘ آپ بھی خاندانی لوگ ہیں‘ پھر ایسا فیصلہ کیوں کیا جارہا ہے؟‘‘ جنید کی دادی عینک درست کرتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئیں تو عمرانہ کو بھی طوعاً و کرہاً اٹھنا ہی پڑا۔
’’بے شک ہمارے یہاں بھی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بڑے کی موجودگی میں چھوٹے کے سر پر سہرا سجایا جائے… ہمارا ہاں بھی یہ بے حد معیوب بات مانی جاتی ہے… مگر اس وقت جو ہم پر قیامت گزری ہے اس سے آپ بخوبی واقف ہیں آنٹی۔‘‘
’’زید میاں کیا منگنی شدہ ہیں یا کسی لڑکی کو پسند کرتے ہیں؟‘‘ دادی کی عینک کے دبیز شیشوں کے پیچھے سے چمکتی نگاہیں زید کے زرد پڑتے چہرے پر تھیں جب کہ مخاطب وہ عمرانہ بیگم سے تھیں۔
’’ارے نہیں آنٹی… زید نہ منگنی شدہ ہیں نہ کسی لڑکی کو پسند کرتے ہیں۔ زید کو بزنس بہت بلندی پر لے جانے کی تمنا ہے‘ اس لیے شادی کے نام سے بھی بھاگتے ہیں اور اب تو ماڈرن دور ہے بیٹا چھوٹا ہو یا بڑا کون دیکھتا ہے اور بیٹے ہی کیا بیٹیوں کی بھی شادیاں کردی جاتی ہیں۔‘‘
’’یہاں میں آپ سے اختلاف کروں گی عمرانہ بلاوجہ ایسے کام نہیں ہوتے… مجبوری میں ایسے کام کیے جاتے ہیں پھر بھی انگشت نمائی کا حصہ بنتے ہیں‘ پھر وہ بیٹا ہو یا بیٹی رسوائی کا ہی سبب بنتے ہیں۔ لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے اندر کوئی عیب ہے کوئی کمی ہے… میں نے کئی واقعات دیکھے ہیں اس طرح کے کہ لڑکے اور لڑکیوں کو عمدہ جوڑ میسر نہیں آتے۔‘‘ انہوں نے ایک نیا مسئلہ کھڑا کردیا تھا۔ سب ہونق بنے کھڑے تھے۔ وہ محض اب جنید کی دادی نہ تھیں بلکہ اس گھر کی بیٹی کی دادی ساس ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا اور یہ ان کے خاندان کا وطیرہ خاص تھا کہ بچوں کے سسرالیوں کی بے حد عزت کی جاتی تھی‘ یہی وجہ تھی کہ انہیں بولنے کا موقع آسانی سے مل گیا تھا‘ مگر کوئی بھی ان کی منطق سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
’’آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں‘ دادی جان… صاف بات کیجیے وقت تیزی سے گزر رہا ہے‘ نکاح خواں بھی جانے کی اجازت طلب کررہے ہیں۔‘‘ جنید نے آگے بڑھ کر دادی سے مودبانہ انداز میں استدعا کی۔
’’زید کو میں نے بچپن سے آپ کے ہمراہ دیکھا ہے اور آپ کی طرح ہی میں زید سے محبت کرتی ہوں‘ میں نہیں چاہتی کہ شاہ زیب سودہ سے شادی کریں اور زید کی طرف لوگ مشکوک نگاہوں سے دیکھیں کہ اس میں ایسی کیا خامی ہے جو اس کے بجائے چھوٹے بھائی سے شادی کرائی جارہی ہے۔‘‘ وہ اس کی طرف بڑھیں اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولیں۔
’’زید بیٹا… آپ لوگوں کی چبھتی ہوئی نگاہوں اور زہر اگلتی زبانوں کو سہہ پائو گے… برداشت کرلو گے اپنی بے عزتی؟‘‘
’’دادی جان… لوگ ایسا کیوں کریں گے بھلا یہ ہمارا میٹر ہے۔‘‘ وہ سمجھی نہ سمجھی کے بھنور میں چکرا رہا تھا عجیب مرحلہ درپیش تھا۔
’’ایسے معاملات کو لوگ اپنا معاملہ بنالیتے ہیں‘ انسانوں کے معاشرے میں رہ کر ہم خود کو کس طرح معاشرے سے الگ کرسکتے ہیں؟ میرا مشورہ یہی ہے کہ… سودہ سے آپ شادی کرو۔‘‘
’’وہاٹ…؟‘‘ عمرانہ کی آواز پھٹ کر رہ گئی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر زید کا بازو ان سے چھڑا کر خود پکڑا اور سب تہذیب و آداب بھول کر ان کی طرف دیکھتے ہوئے غرا کر کہنے لگیں۔
’’آپ کون ہوتی ہیں مشورہ دینے والی؟ زید یہ شادی ہرگز نہیں کرے گا۔‘‘
’’عمرانہ… بیٹی مجھے غلط مت سمجھو میں زید کی بھلائی کے لیے کہہ رہی ہوں‘ بات کو سمجھنے کی سعی کرو۔‘‘ وہ نرم مزاجی سے گویا ہوئیں۔
’’مجھ سے بڑھ کر زید کی بہتری و بھلائی کوئی نہیں چاہ سکتا۔‘‘
’’بے شک… بے شک اس میں کوئی دو رائے نہیں۔‘‘
’’سودہ کی شادی زید سے نہیں ہوگی‘ وہ دو ٹکے کی لڑکی میری بہو بننے کے لائق نہیں… آپ کو اس سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو آپ جنید کی بیوی بنا دیں سودہ کو۔‘‘ وہ کہہ کر چلی گئی تھیں۔
خ…ز…ؤ…/
انشراح کے بے حد اصرار پر جہاں آرأ نے ساری بات پوری سچائی کے ساتھ بتادی‘ جہاں آرأ اس بار پوری طرح سے ٹوٹ چکی تھیں‘ یہی وجہ تھی کہ وہ فرفر بولتی چلی گئیں۔
’’آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ کوئی آپ سے مجھ کو جدا کرسکتا ہے‘ ایسا کوئی پیدا نہیں ہوا جو آپ کو مجھ سے جدا کرنے کی جسارت بھی کرسکے۔‘‘ اس کے پُر اعتماد و نڈر انداز نے ان کے اندر توانائی بھردی تھی ہر وقت طاری رہنے والی دہشت و فکر میں قدرے کمی واقع ہوئی تھی‘ جب کہ بالی یہ سب سن کر خوف زدہ ہوگئی تھی۔ اس کی مارے خوف کے حالت غیر تھی۔
’’تم کیوں مرے جا رہی ہو‘ کیا ہوجائے گا کوئی مجھے ہاتھ تو لگا کر دکھائے؟‘‘ اس کے خوف سے وہ چڑ کر گویا ہوئی۔
’’ماسی کی حالت ڈرپوک چوہیا جیسی ہورہی ہے‘ ان کی حالت نے بتادیا ہے کہ برکھا اور وہ منحوس سراج کتنے خطرناک ثابت ہوں گے۔‘‘
’’اینی ویز‘ مجھے جانا ہے اور پلیز میرا موڈ خراب مت کرو‘ ویسے بھی اس گھونچو کے سامنے اداکاری کرتے ہوئے اکتاہٹ ہونے لگتی ہے۔‘‘ لمبے گھنے بالوں کا سادہ سا جوڑا بناتے ہوئے وہ منہ بناکر گویا ہوئی۔
’’گھونچو…! توبہ ہے انشی‘ اگر تم ان سے محبت نہیں کرسکتیں تو کم از کم عزت تو کرلو‘ اتنے ہینڈسم شخص کو گھونچو تو نہ کہو۔‘‘
’’گدھے کو گدھا ہی کہا جاتا ہے‘ کہاں تو اتنی اکڑ تھی کہ نظر اٹھا کر دیکھنا بھی توہین سمجھتا تھا‘ اب یہ حال ہے کہ ملنے کے لیے مرے جا رہا ہے ایڈیٹ۔‘‘ اس نے پرفیوم چھڑکتے ہوئے استہزائیہ لہجے میں کہا تو بالی گہری سانس لے کر رہ گئی‘ اس کے مزاج کا یہ رنگ برداشت نہیں ہوتا تھا۔
نوفل کی کئی اصرار بھری کالز نے اسے ملاقات کے لیے راضی کرلیا تھا۔ وقت اس کا ساتھ دے رہا تھا وہ موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتی تھی۔ کار سمندر کی طرف خراماں خراماں بڑھ رہی تھی۔ موسم بدل رہا تھا جاتی گرمی اور آتی سردی کی آمد آمد تھی۔ ہوائیں سمندر کی نمی لیے چل رہی تھیں‘ آسمان پر گہرے سیاہ بادلوں کا راج تھا‘ جس سے ماحول بھی سرمئی سرمئی غبار میں لپٹا ہوا لگ رہا تھا۔ ان دونوں کے درمیان رسمی جملوں کے علاوہ کوئی اور بات نہ ہوئی تھی۔
’’کہیں رکیں گے بھی یا چلتے رہیں گے؟ آبادی تو بہت پیچھے رہ گئی ہے۔‘‘ دائیں طرف سمندر پُرسکون انداز میں ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ بائیں طرف چھوٹے بڑے پہاڑوں کا سلسلہ تھا سرخی مائل‘ بھورے اور مٹیالے رنگوں کا لامتناہی سلسلہ تھا‘ ان پہاڑوں اور سمندر کے درمیان وہ سڑک سیدھی چل رہی تھی۔ ان کی کار کے علاوہ دوسری کوئی گاڑی نہ تھی۔
’’آبادی بہت پیچھے رہ گئی ہے‘ ڈر لگ رہا ہے تمہیں؟‘‘ نوفل نے سیاہ گلاسز کے پیچھے سے مسکرا کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’کیا آپ سے مجھے ڈر لگنا چاہیے؟‘‘ وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی۔
’’یہی پوچھ رہا ہوں‘ اب بھی ڈرنے کی گنجائش باقی ہے؟‘‘
’’نہیں… میں نے بڑے دل سے آپ پر اعتبار کیا ہے اور مجھے یقین ہے آپ میرے اعتماد و بھروسے کی لاج رکھیں گے۔‘‘ انشراح کے لہجے میں اعتماد و یقین کی پختگی تھی‘ جس نے نوفل کو خاصا اعتماد بخشا تھا اور کچھ دور جاکر ایک پہاڑی کٹاؤ کے آگے کار رک دی تھی۔
’’لیجیے آگئی آپ کی منزل اور کوئی حکم بندے کے لیے؟‘‘ نوفل نے گلاسزا اتارتے ہوئے انشراح سے کہا‘ جو ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی۔ یہ ایک خوب صورت ریسٹ ہائوس تھا جس میں دلکش لان اور سوئمنگ پول موجود تھا‘ اندر بھی لائونج کچن‘ ڈائننگ روم‘ اسٹڈی روم اور کئی بیڈ روم تھے‘ گیلری بے حد بڑی تھی اور گیلری کے ساتھ ہی اوپر جاتی سیڑھیاں چھت پر ختم ہورہی تھیں اور چھت سے سمندر کا نظارہ دور دور تک دکھائی دے رہا تھا‘ چھت پر سیٹنگ کا انتظام بہت اچھا کیا گیا تھا۔ بنیاد سے لے کر چھت تک پیسے کا استعمال بے دریغ کیا گیا تھا۔
’’ریسٹ ہائوس پسند آیا تمہیں… میری پسندیدہ جگہ ہے یہ‘ جب بھی بور ہونے لگتا ہوں یہاں چلا آتا ہوں‘ دنیا کے ہنگاموں سے دور بہت سکون ہے یہاں۔‘‘ انشراح وہاں موجود جھولے میں بیٹھ گئی تھی۔ وہ قریب ہی سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ ڈراک بلو اسکارف میں لپٹا اس کا سادہ چہرہ موسم کا سارا حسن سمیٹے ہوئے نگاہوں کو مبہوت کررہا تھا۔ وہ نظر باز نہیں تھا مگر بے اختیار نگاہ پھسل رہی تھی۔
’’بہت بیوٹی فل ہے… میں نے ایسی حسین و پُرسکون جگہ پہلے کبھی نہیں دیکھی‘ بابر بھائی اور عاکفہ بھی ہمارے ساتھ ہی آتے تو اچھا ہوتا وہ لوگ ابھی تک نہیں آئے۔‘‘ وہ اس کی وارفتگی سے بھرپور نگاہوں سے کنفیوز ہوکر بولی۔ اس کی نگاہوں میں چاہت کا سمندر موجزن تھا۔
’’انشراح… میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں‘ یہ بات ہم دونوں کے درمیان ہو تو زیادہ بہتر ہوگی‘ اسی وجہ سے وہ دونوں ساتھ نہیں آئے۔‘‘ وہ ایک دم ہی بہت سنجیدہ ہوا‘ اتنا سنجیدہ کہ انشراح کا دل بیٹھنے لگا۔
’’ایسی کیا بات ہے جو آپ اتنے سیریس ہوگئے ہیں؟‘‘ وہ اٹھ کر اس کے قریب چلی آئی‘ نوفل کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا اور اس سرخ چہرے کی سرخی آنکھوں کی شفاف سطح پر بھی چھانے لگی تھی۔
’’میں نے اپنی زندگی کا ایک اہم و بڑا فیصلہ کیا ہے انشراح‘ یہاں تمہاری رضا مندی کو اہمیت حاصل ہے‘ زبردستی مجھے کبھی گوارا نہیں ہوگی… بی کوز… میری مما اور ڈیڈی کی لو میرج ہوئی تھی… بٹ…‘‘ وہ کچھ گم صم سا ہوا پھر گویا کسی کرب میں مبتلا ہوکر آہستہ سے بولا۔
’’انشراح… کیا تم میری زندگی میں آنا چاہوگی؟‘‘
خ…ز…ؤ…/
منور صاحب کے کمرے میں ہونے والے فیصلوں سے بے خبر صالحہ اور سودہ صوفیہ کو ہال روم سے باہر لے آئی تھیں‘ ان کا رونا پچھتانا بے ہوش ہونا اور وہاں موجود لوگوں کی چہ میگوئیاں ایک تماشہ بن کر رہ گیا تھا۔ سودہ نے منہ ہاتھ دھو کر ڈریس چینج کرلیا تھا۔ اس کی آنکھیں خشک اور چہرہ سپاٹ تھا‘ اس کے ساتھ کیا اور یہ کیوں ہوا تھا؟ یہ تمام سوالات سہم کر ذہن کے کسی تاریک گوشے میں روپوش ہوگئے تھے۔ ماں کی بگڑتی طبیعت نے دل بے سکون کر ڈالا تھا وہ سب کچھ فراموش کیے صوفیہ کا سر دبا رہی تھی۔
’’سودہ… آپ آرام کرلیں بیٹا‘ صوفیہ کا سر میں دبا دیتی ہوں۔‘‘ صالحہ کو لائٹ پنک سوٹ میں ملبوس اس بچی پر رشک آرہا تھا جو خود پر گزرنے والی اس افتاد کو بالکل نظر انداز کیے ماں کی خدمت میں لگی تھی‘ بہت بلند حوصلہ و اعلیٰ ظرف لڑکی تھی وہ۔
’’آپ فکر مت کریں آنٹی میں ٹھیک ہوں ممی کا کام کرکے مجھے ہمیشہ سکون ملتا ہے اور آج سے قبل میں نے ممی کو اتنا پریشان کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ اس نے جھک کر دوائوں کے زیر اثر سوئی صوفیہ کی پیشانی چومی۔
’’صدمہ بھی تو بہت بڑا اٹھایا ہے کیا عجیب بات ہے میرے قدم اس گھر میں آئے اور خوشیاں غم میں بدل گئیں‘ بہت سبز قدم ہوں میں۔‘‘ صالحہ نے دل میں ابھرتی بات کہہ دی سودہ اٹھ کر ان کے قریب چلی آئی۔
’’پلیز… آپ کسی بھی غلط سوچ کو دل میں جگہ نہ دیں‘ یہ سب میرے مقدر کا لکھا ہے اور مقدر سے کون فرار حاصل کرسکتا ہے… مقدر سے کوئی فرار حاصل نہیں کرسکتا‘ اس کا تجربہ مجھے کئی بار ہوا ہے۔‘‘
’’یہ سب جو ہوا ہے اتنا بڑا صدمہ‘ اتنی بڑی اذیت نے تمہاری آنکھوں کو خشک کیوں کر رکھا ہے سودہ؟ تمہیں رونا چاہیے‘ تم روئو دل کھول کر غم منائو۔ تمہارے ساتھ بھیانک حادثہ ہوا ہے‘ سب سے گھنائونا مذاق تمہارے ساتھ تقدیر نے کیا ہے۔‘‘ صالحہ نے اسے سینے سے لگا کر گلو گیر لہجے میں کہا۔
’’دل بڑا نازک ہوتا ہے‘ اس پر بوجھ نہ رکھو اس دکھ کو آنسوئوں کے ذریعے باہر نکالو بہنے دو میری بچی‘ دکھ اندر رہتے ہیں تو ناسور بن جاتے ہیں۔‘‘
’’اگر قسمت میں ناسور لکھا ہے تو میں کس طرح بچ پائوں گی؟ راحتیں دامن بچا کر گزر جائیں تو دکھوں سے کمپرومائز کرلینا بہتر ہے۔‘‘ یہاں صالحہ اس نازک سی لڑکی کے حوصلوں کو سراہ رہی تھیں جبکہ دوسری طرف جنید بگڑے موڈ کے ساتھ مائدہ کے پاس پہنچا‘ مائدہ عمرانہ کی غصے میں کہی باتیں سن کر بدحواس ہوگی تھی اور اب جنید کے موڈ نے متوحش کر دیا تھا۔
’’گھر بلا کر بے عزت کرنے کا شکریہ آنٹی کو ادا کردینا میں دادی کو لے کر جا رہا ہوں واپس کبھی نہ پلٹ کر آنے کے لیے تم سے میرا اب کوئی رشتہ نہیں جو تھا بھی وہ ٹوٹ گیا ہے۔‘‘ وہ پُر طیش انداز میں گویا ہوا۔
’’آپ ایسی باتیں نہ کریں پلیز…‘‘
’’میں ایسی باتیں نہ کروں اور تمہاری مما ہر قسم کی باتیں کرسکتی ہیں؟‘‘
’’کول ڈائون جنید… میں مما سے بات کرتی ہوں…‘‘
’’اب کوئی ضرورت نہیں ہے میں جارہا ہوں دادی کو لے کر۔‘‘
’’پلیز… پلیز… میری بات تو سنو‘ میں ممی سے بات کرتی ہوں۔‘‘ مائدہ کی جان پر بن آئی تھی جنید کے تیور بے حد بگڑے ہوئے تھے اور وہ اس سے جدائی کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔
’’تمہاری ممی کی باتیں سننا ہی کافی نہیں ہے اب تمہاری بھی سنوں؟‘‘ وہ اکھڑے لہجے میں بے حد اجنبی و کٹھور لگ رہا تھا۔
’’اب ایسے لہجے میں بات نہ کریں میں ممی کو سمجھاتی ہوں۔‘‘ وہ اس کے بازو سے لپٹ کر رونے لگی مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔
’’تم سمجھائو گی وہ سمجھ جائیں گی‘ آنٹی کو میں بہت کول اور سوئیٹ سمجھا تھا بٹ۔‘‘
’’میں نے کہا نہ مجھے ایک موقع دو آپ میں ممی کو منا لوں گی۔‘‘
’’کس لیے منائو گی؟‘‘
’’بھائی اور سودہ کی شادی کے لیے۔‘‘
’’تمہاری بات مان جائیں گی؟‘‘
’’ایگزیکٹیلی… انہیں منانا مجھے آتا ہے میں جانتی ہوں آئیڈیا۔‘‘
’’اوکے‘ اب یہ بھی میری انا کا مسئلہ ہے اگر یہ شادی نہ ہوئی تو یاد رکھنا ہماری شادی بھی کبھی نہیں ہوگی‘ میں دادی کی انسلٹ بھول ہی نہیں سکتا۔‘‘ مائدہ اسے کمرے میں چھوڑ کر عمرانہ کے کمرے میں چلی آئی۔
’’آپ کو کچھ پتہ ہے ممی… آپ کہاں کہاں آگ لگا آئی ہیں؟‘‘ وہ اس کے روبرو کھڑے ہوکر اشتعال بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’اپنی بیٹی کی زندگی میں‘ فیوچر لائف میں اور ہر سمت۔‘‘
’’کیا اول فول بک رہی ہو کچھ اندازہ ہے تمہیں؟‘‘ وہ جھنھلائیں۔
’’اندازہ آپ کو نہیں ہے کہ آپ کی زبان درازی آپ کی بیٹی کا گھر بسنے سے پہلے اجاڑنے کے درپے ہے‘ جنید کو اپنی دادی کی انسلٹ برداشت نہیں ہورہی… وہ مجھے چھوڑ کر جانے کو تیار ہے آپ تو جانتی ہیں وہ چلا گیا تو میں برداشت نہیں کرپائوں گی۔‘‘ وہ بری طرح بپھری۔
’’اس بڑھیا کو تمہارے رشتے سے ذرا عزت کیا دے دی وہ سر چڑھنے لگی‘ کہتی ہے یہ عزت دار خاندان کا دستور نہیں ہے کہ بڑے بھائی کی موجودگی میں چھوٹے بھائی کے سر پر سہرا سجایا جائے اور جرأت دیکھو کہتی ہیں… زید کی شادی سودہ سے ہونا چاہیے… سودہ وہ لڑکی جو مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی… وہ منحوس جاتے ہوئے پھر رک گئی اور وہ بڑی بی اُس کو میرے متھے مارنے کی کوشش میں ہیں۔‘‘ ان کے لہجے میں نفرت حقار‘ اکتاہٹ و بیزاری تھی کوئی اور وقت ہوتا تو وہ بھی ماں کا بھرپور ساتھ دیتی مگر معاملہ اس کی محبت کا آگیا تھا۔ جنید نے آسانی سے اسے چھوڑنے کی بات کردی تھی جب کہ وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی دنیا چھوڑ سکتی تھی مگر جنید کو چھوڑنے کی تاب نہ تھی۔
’’ممی… سودہ اور بھائی کی شادی کرنے پر راضی ہوجائیں پلیز…‘‘ اس کے عام سے انداز میں کی گئی بات کا عمرانہ پر شدید ردعمل ہوا۔
’’مائدہ…! یہ تم کہہ رہی ہو؟‘‘ کئی لمحوں بعد ان کا سکتہ ٹوٹا۔
’’جی… یہ میری ہی نہیں جنید کی بھی خواہش ہے۔‘‘
’’صاف صاف کہو جنید تمہارا دماغ خراب کررہا ہے کس قدر شیطان ہیں وہ دادی پوتے بے مقصد میرے گھر میں آگ لگا رہے ہیں۔ میں انہیں اپنے معاملے میں بولنے کی اجازت ہرگز ہرگز نہیں دوں گی‘ ابھی دھکے دے کر نکالتی ہوں‘ نہیں کرنی ایسے گھٹیا و بے غیرت لوگوں میں اپنی بیٹی کی شادی…‘‘ غصے اور جنون سے اس کی بری حالت تھی‘ پھر وہ اسی اشتعال انگیزی میں کمرے سے نکلنا چاہتی تھیں کہ آناً فاناً مائدہ نے فروٹ کاٹنے والی چھری اٹھالی۔
’’ممی… آپ نے اس ارادے سے ایک قدم بھی باہر نکالا تو میں کلائی کاٹ لوں گی‘ آپ کو یہ شادی کروانی ہوگی ورنہ میں چھری چلا دوں گی۔‘‘ مائدہ کا انداز سو فیصد ہذیانی تھا‘ وہ حواسوں میں نہ تھی‘ تیز دھار چھری وہ اس انداز سے کلائی پر رکھے ہوئی تھی کہ معمولی سی جنبش بھی خطرناک ثابت ہوتی۔ عمرانہ سہم کر وہیں رک گئیں۔
’’تم اتنی سیلفش نکلوگی میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ماہدہ…‘‘
’’اپنی خوشیوں کے لیے میں کسی بھی حد سے گزر سکتی ہوں‘ آپ جانتی ہیں نہ جنید کی خاطر بھی میں نے ایک بار خودکشی کی تھی اور اب بھی میں اس کی خاطر موت کو گلے لگانے میں ذرا تردد نہیں کروں گی۔‘‘ عمرانہ بیٹی کی ہٹ دھرم طبیعت سے واقف تھیں۔ یہ معلوم نہ تھا وہ اتنی خود غرض و مفاد پرست ہوچکی ہے کہ جنید کی خاطر وہ ماں کی پسند اور ناپسند کو کوئی اہمیت نہ دے گی اپنی ہی مرضی پر چلے گی۔
’’آپ کی خاموشی بتا رہی ہے آپ کو اپنی ضد عزیز ہے بیٹی کی زندگی نہیں… ٹھیک ہے پھر کرتی رہیں اپنی قدریں پوری…‘‘ اس نے طیش میں آکر چھری چلانی چاہی تھی کہ معاً وہ چیخ کر گویا ہوئیں۔
’’میں تیار ہوں اس شادی کے لیے… دل سے راضی ہوں۔‘‘
خ…ز…ؤ…/
جہاں آرأ کو سائرہ کی طرف سے کال موصول ہوگئی تھی کہ وہ آئندہ اس سے کبھی رابطہ کرنے کی حماقت نہ کرے وگرنہ وہ اس کے حق میں بہتر نہ ہوگا… ساتھ ہی یہ خوش خبری بھی سنائی تھی کہ جلد ہی وہ برکھا سے حساب برابر کرنے والی ہے۔ محض چند دنوں بعد وہ اپنی نواسی کے ساتھ خوشی سے رہنا چاہتی ہے۔ اس آنی والی کال نے جہاں آرأ کے بے سکون دل کو سکون فراہم کردیا تھا۔ ڈوبتی ابھرتی سوجوں کو بھی کنارا مل گیا تھا۔ انہوں نے سوچا اب وقت آگیا ہے برکھا سے ملاقات کرنے کا ہر وقت کی نگرانی و خوف سے وہ عاجز بھی آگئی تھیں۔
’’شکر ہے زندہ ہو‘ ہم تو سمجھے تھے تم خوف سے بچی کے ساتھ سمندر میں ڈوب مری ہو جو نہ آرہی تھیں‘ نہ فون اٹھا رہی تھیں اور نہ بنگلے پر موجود تھیں۔‘‘‘ سراج نے دیکھتے ہی طنزیہ انداز میں کہا۔
’’ارے میں کیوں مروں… مریں میرے دشمن… جہاں آرأ جرأت و بہادری کا نام ہے‘ اگر سمندر میں ڈوب مرنا ہی ہوتا تو پہلے تجھے ڈوبو کر مارتی‘ تو بڑا بدذات اور نمک حرام ہے۔‘‘
’’آپا… تمہیں مجھ سے ایسی ہی شکایت و شکوے رہتے ہیں‘ کبھی مروت سے بھی بات کرلیا کرو پرانی دوستی کا خیال کرلیا کرو۔‘‘
’’سراج چپ ہوجا کام کی بات کرنے دے ہر وقت اپنا راگ نہ الاپا کر۔‘‘ بنارسی ساڑی اور تیز میک اپ میں اندر سے برکھا نے برآمد ہوکر ڈپٹا۔
’’ماشاء اللہ آج تو چودھویں کا چاند لگ رہی ہو۔‘‘ سراج نہ بلائیں لیں۔
’’اور تو چاند میں لگا داغ دکھائی دے رہا ہے۔‘‘ جہاں آرأ نے طنز کیا۔
’’فالتو باتیں بند کرو‘ یہ بتائو لڑکی کو آج بھی نہیں لائی؟‘‘ برکھا اس کے مقابل ہی بیٹھ گئی اور سخت لہجے میں استغفار کیا۔
’’بس… اب زیادہ ٹائم نہیں ہے میں جلد لڑکی تمہارے حوالے کر جائوں گی۔‘‘
’’کم از کم کتنا ٹائم مزید لگے گا‘ میں یہاں سے جلد از جلد جانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’ایک ہفتے کی مہلت دے دو مجھے۔‘‘
’’ایک ہفتہ بہت زیادہ ہے۔‘‘
’’میں لڑکی کو رضی کررہی ہوں جس میں مجھے اتنا ٹائم لگ رہا ہے‘ اگر اس نے راستے میں کوئی ہنگامہ کردیا تو مسئلہ تمہارے لیے ہوگا۔‘‘
’’یہ بات تمہاری ماننے والی ہے‘ اس نے راستے میں کوئی شور و غل کیا تو معاملہ کھٹائی میں پڑسکتا ہے چلو‘ ایک ہفتہ تمہیں دیا… لیکن یاد رکھنا صرف ایک ہفتہ… اس ایک ہفتے کے بعد میں کوئی حیلہ بہانہ نہیں سنوں گی۔‘‘ وہ سخت لہجے میں دھونس سے گویا ہوئی۔
’’مجھے دال میں کالا لگ رہا ہے جہاں آرأ اتنی سیدھی نہیں ہے جتنا تم اسے سمجھ رہی ہو میڈم‘ سمجھ نہیں آتا کیوں رعایت پر رعایت دیتی ہو؟‘‘ اس کی آمد ہر مرتبہ سراج کو الجھن میں مبتلا کر دیتی تھی‘ اب بھی وہ تپ کر بولا تھا‘ معاً تمام لائٹس آف ہوگئی ہیں اور ساتھ ہی بھاگتے قدموں کی آوازیں وہاں گونج اٹھی تھیں۔
’’ارے یہ اندھرا کیسے ہوگیا اور یہ آوازیں کیسی ہیں سراج معلوم کر…‘‘ اندھیرے میں برکھا کی گھبرائی ہوئی آواز گونجی تھی‘ معاً جہاں آرأ کو بھی شدید خطرے کا احساس ہوا تھا وہ سمجھ گئی سائرہ کے بھیجے ہوئے لوگ آگئے ہیں۔ تب ہی کمرہ فائرنگ کی آواز سے گونج اٹھا ساتھ انسانی چیخوں کی بھی آوازیں گولیوں کی تڑٹراہٹ میں شامل ہوگئی تھی۔
خ…ز…ؤ…/
ایجاب و قبول کے وہ لمحے بڑے خواب ناک اور سنہرے تھے‘ سب کے چہروں پر سجی مسرتوں کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں‘ لگتا تھا شاہ زیب شہر کے سارے گلاب خرید لایا ہے ہر طرف گلاب ہی گلاب مہک رہے تھے۔ ماتم زدہ گھر میں مسرتوں کے شادیانے بج اٹھے تھے‘ صوفیہ پر شادیٔ مرگ کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ اللہ نے ان کے صبر کا کتنا بڑا اجر دیا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔ زید جیسا خوب صورت و حسین ہر طرح سے مکمل شخص ان کا داماد بنے گا؟ سودہ کے نصیب پر وقتی طور پر چھانے والے اندھیرے کے پیچھے چمکتا دمکتا اجالا ہوگا۔
’’واہ رے میرے مولا… تیری رحمت کے لیے میں تیرا شکر ادا کرتی ہوں۔‘‘ صوفیہ سب سے جھپ کر پہلے شکرانے کے نفل ادا کرنے کھڑی ہوئیں۔ نکاح ہوچکا تھا‘ مبارک سلامت کا شور ہر سمت برپا ہوگیا تھا سب سے پہلے مدثر نے زید کو پیشانی چوم کر سینے سے لگایا۔ ان کی خوشی نا قابل بیان تھی‘ کئی بار انہوں نے اسے سینے سے لگایا تھا پھر منور صاحب‘ زمرد بیگم‘ صالحہ‘ بوا‘ فرداً فرداً سب نے مبارک باد دی‘ جنید نے بھی بڑی گرم جوشی سے گلے لگا کر مبارک باد تھی‘ اس کی دادی کی دعائوں کے حصار میں رہا تھا چہ میگوئیاں خوش گپیوں‘ قہقہوں میں بدل گئی تھیں‘ اس محفل کے دو مرکزی کردار جن کے حوالے سے یہ شور شرابہ تھا وہ قریب بیٹھے ارد گرد سے بے خبر سوچوں میں گم تھے۔
سودہ سکتے کی کیفیت میں گم تھی‘ زید کی بے چین نگاہیں دور کھڑی سب سے مبارک بادیں وصول کررہی تھیں‘ ان کے مسکراتے خوشی سے کھلتے چہرے پر ذرا بھی دکھ و پریشانی کا شائبہ بھی موجود نہ تھا اور زید کے لیے یہ سب حیرت سے بھی زیادہ حیران کن بات تھی کہ جس لڑکی کی پرچھائیں سے بھی وہ بچاتی رہی تھیں… بلکہ کل ہی تو وہ کہہ چکی تھیں کہ اگر سودہ کو بنانا ہوتا تو بہت پہلے بناچکی ہوتیں اور پھر اچانک سے یہ کایا پلٹ کیسی ہوگئی تھی کچھ دیر قبل تک وہ جنید کی دادی کی بات پر تن فن کرتی چلی گئی تھیں‘ پھر یہ آناً فاناً کیا ہوا تھا کہ نہ صرف وہ راضی ہوئی تھیں بلکہ سودہ کو بہو بناچکی تھیں اور اس کی بے یقینی و حیرانی کسی طرح کم نہیں ہورہی تھی۔ وہ گاہے بگاہے ماں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ یہ سب حقیقت ہے یا خواب؟ اس نے ہمیشہ خزاں کے آلودہ جھکڑ و بے ثباتی دیکھی تھی‘ پھولوں کی مہک اور گداز پن نصیب میں کہاں تھا‘ کانٹوں کی چبھن ہمیشہ ساتھ رہی تھی‘ سودہ کے خواب اسے اسی طرح ورغلاتے تھے اس کی ہونے کا فریب دیتے تھے۔
’’بھابی جان اور میری پیاری بھابی جان اسلام علیکم!‘‘ شاہ زیب کارپٹ پر دوزانو بیٹھ کر سودہ سے مخاطب ہوا تو وہ جو گم صم گردن جھکائے بیٹھی تھی اپنی زندگی میں آنے والی عجیب و غریب تبدیلی نے اسے دنگ کردیا تھا۔ وہ گھریلو کپڑے میں بیٹھی ہی ماں کو تسلی دے رہی تھی معاً دونوں ماموں اور ممانیاں وہاں چلی آئیں‘ تب بڑے ماموں نے کہا تھا۔
’’سودہ بیٹی… ہم تمہارا نکاح زید سے کرنا چاہتے ہیں… آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہمارے فیصلے پر؟‘‘ یہ ایک رسمی سی اجازت تھی جو مانگی گئی تھی۔ جس کی ہاں‘ نہ کا انتظار کیے بنا مولوی صاحب کو بلوالیا گیا اور دیگر لوگ بھی کمرے میں چلے آئے تھے‘ مائدہ نے دادی کے کہنے پر اپنے سوٹ کا سرخ زرتار دوپٹہ لاکر سودہ کے سر پر ڈال دیا تھا اور اس طرح کچھ دیر بعد وہ سودہ سے سودہ زید بن چکی تھی‘ پھر انہیں ہال روم میں صوفے پر لاکر بٹھا دیا گیا تھا۔ جہاں وہ چکراتے ذہن کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔
’’بھائی… آپ نے بھابی کو منع کیا ہے مجھ سے بات نہ کریں یہ؟‘‘ سودہ کو چپ دیکھ کر وہ زید سے مخاطب ہوا اور اس کی آواز پر زید اتنی تیزی سے چونکا گویا گہری نیند سے جاگا ہو۔
’’بائی گاڈ… بھائی آپ کوئی خواب نہیں دیکھ رہے یہ سب حقیقت ہے کہ سودہ بھابی آپ کی بن گئی ہیں… اب آپ کو چھپ چھپ کر ان سے محبت کرتے ہوئے آہیں بھرنی نہیں پڑیں گی۔‘‘ وہ اپنے مخصوص شوخ انداز میں اسے چھیڑ رہا تھا اور پہلی بار زید کے لبوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ ابھری تھی‘ وہ کھل کر مسکرا دیا تھا۔
’’ہاں… یہ سب تمہاری شرارت ہے؟‘‘
تمام مہمان کھانے میں مصروف ہوگئے تھے‘ سارا دن برپا رہنے والا ہنگامہ ابتدائی رات کی ان خوشگوار گھڑیوں میں اختتام پذیر ہونے جا رہا تھا۔
’’یہ شرارت ہے؟ کیا کہہ رہے ہیں بھائی آپ یہ شرارت نہیں شادی ہے۔‘‘
’’پہلے شک تھا‘ اب یقین ہے تم نے کوئی گیم کیا ہے‘ کیا کیا ہے ذرا بتائو تو سہی؟ سودہ کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ…‘‘ سودہ کی آنکھیں بند ہوتی چلی گئی تھیں۔

(ان شاء اﷲ کہانی کا بقیہ حصہ آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close