Aanchal Nov-18

تلخ و شیریں

فاطمہ آفاق

سوال۱: کفالت کی ذمہ داری کب سے سنبھالی؟

سب سے پہلے تو مجھے آپ کی جانب سے لکھے گئے ان کلمات سے اختلاف ہے۔ ضروری نہیں کہ باپ یا شوہر کی عدم موجودگی میںہی خاتون خانہ گھر سے باہر نکلے۔ وہ شوہر کا ہاتھ بٹانے کے لیے بھی گھر سے باہر نکل سکتی ہے۔ میں جب شادی ہوکر اپنے سسرال آئی تو دو نندیں اسکول میں پڑھاتی تھیں، مگر وہ ساری تنخواہ اپنے اوپر ہی خرچ کرتی تھیں۔ شوہر اور ان کے بڑے بھائی بینک میں جاب کرتے تھے اور دونوں بھائیوں کی تنخواہ سے گھر چلتا تھا، گھر بہت بڑا تھا، مگر کمرے چھوٹے چھوٹے تھے۔ اس لیے تین بچوں کے ساتھ ایک کمرے میں بمشکل گزارہ کرتے تھے۔ دو کمروں پر جٹھانی کا قبضہ تھا، باقی تین ساس اور نندوں کے تھے۔ میرا بڑا بیٹا تیسری جماعت میں پڑھتا تھا، جب میرے شوہر کا ایکسیڈنٹ ہوا، ساری جمع پونجی ان کے علاج پر لگ گئی۔ تب بھی وہ ٹھیک نہ ہوسکے اور ایک ٹانگ سے معذور ہوگئے۔میرے بیٹے کی ٹانگ میں بھی پیدائشی لنگ تھا۔ اس کا بھی علاج کرانا تھا۔ اس لیے مجبوراً میں نے ایک فیکٹری میں ملازمت کرلی۔
سوال۲: گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آپ نے کیا قربانی دی؟ خود میں کیا تبدیلی لائیں۔
میں ایک باپردہ خاتون تھی۔ والدین نے کبھی گھر سے باہر قدم رکھنے نہیں دیا تھا۔ جیٹھ صاحب نے جب مدد کرنے سے معذوری ظاہر کی تو میںنے ملازمت کا سوچا۔ پڑھی لکھی نہیں تھی، لیکن سلائی جانتی تھی۔ اس لیے ملازمت کرلی۔ قربانی تو نہیں کہہ سکتے، بس یہ کہ گھر سے باہر نکلی۔ لوگوں کے رویوں کو برداشت کیا۔ میں بہت خوش مزاج ہوں۔ ہنستی مسکراتی رہتی ہوں لیکن پھر خود پر سنجیدگی طاری کی۔ لباس پر دھیان دیا تاکہ کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔

سوال۳: اس عرصے میں گھر والوں کا رویہ آپ کے ساتھ کیسا رہا؟

جٹھانی کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ البتہ ساس نندوں نے خوب باتیں بنائیں، مگر ایک ٹکے کی مدد نہیں کی۔ شوہر نے بہت سہارا دیا۔ وہ بچوں کو سنبھالتے تھے۔ میں صبح کی نکلی شام کو گھر آتی تھی تو میری دل جوئی کرتے تھے۔ وہ زیادہ دیر کھڑے نہیں رہ سکتے تھے، مگر بیٹھے بیٹھے گھر کے کافی کام کر دیا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ انہوں نے کھانا پکانا سیکھ لیا اور مجھے اس طرف سے کوئی فکر نہ رہی۔
سوال۴: اگر کبھی ناگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تو آپ نے کیا طرز عمل اختیار کیا؟
اس دنیا میں حاسدوں کی کمی نہیں۔ کبھی کبھی آپ کی ایمان داری اور قابلیت ہی آپ کی دشمن بن جاتی ہے۔ فیکٹری میں ایک خاتون نے خوا مخواہ ہی مجھ سے دشمنی پال لی۔ فیکٹری کی مالکہ بہت اچھی خاتون تھیں۔ تمام ورکرز کا اور خاص طور پر میرے حالات کی وجہ سے میرا خیال بہت رکھتی تھیں۔ تو اس نے میرے خلاف اٹھتے بیٹھتے باتیں بنانا شروع کردیں۔ میں نے اسے منہ لگانا ہی چھوڑ دیا، ایسے لوگوں کا یہی علاج ہوتا ہے۔

سوال۵: آپ اچھے تو سب اچھا… کیا واقعی محض آپ کا اچھا ہونا کافی ہے؟

ہرگز نہیں… اچھوں کے ساتھ اچھا اور بروں کے ساتھ برا بننا پڑتا ہے اور سامنے والے کے رویے اور کردار کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔

سوال۶: کبھی پیشہ ورانہ رقابت کا شکار ہوئیں؟

میں نے بتایا نا کہ ایک خاتون پیچھے ہی پڑگئی تھیں۔ باقی خواتین سے میرے خلاف نہ جانے کیا الٹی سیدھی باتیں کیں کہ سب مجھے عجیب نظروں سے دیکھتیں۔ بہر حال میری نیت صاف تھی اور ضمیر مطمئن تھا۔

سوال۷: دوران ملازمت آپ کا جونیئرز اور سینئرز کے ساتھ کیسا رویہ رہا؟

میں ایک خوش مزاج عورت ہوں، سب کے ساتھ بے تکلفی سے پیش آتی ہوں۔ ہمارے والدین نے بڑوں کی عزت کرنا سکھایا ہے۔ اسی لیے ملازمت ہو یا سسرالی تعلقات، میںنے ہمیشہ بڑوں کی عزت کی اور چھوٹوں سے دوستی رکھی۔ فیکٹری میں بھی یہی رویہ تھا۔

سوال۸: نوکری برقرار رکھنے کے لیے کبھی عزت نفس کا سوداکیا؟

نہیں… اور میرا خیال ہے کہ کوئی بھی غیرت مند انسان چاہے مرد ہو یا عورت اس کے پاس سب سے قیمتی چیز عزت ہی ہے تو اس چیز کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔ نوکری تو دوسری مل جائے گی، مگر عزت کمانا اور اسے سنبھال کر رکھنا ضروری بھی ہے اور مشکل بھی۔

سوال۹: ملازمت کے لیے محض ایمان داری، محنت‘نیک نیتی اور قابلیت کافی نہیں، خوشامد اور چاپلوسی بھی ضروری ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے۔

بالکل سچ بات ہے۔ محنتی اور ایمان دار منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور خوشامدی لوگ اپنی چرب زبانی سے کہاں سے کہاںپہنچ جاتے ہیں۔ لیکن جس طرح ہر بندہ محنت نہیں کرسکتا یا ایماندار نہیں ہوتا اسی طرح خوشامد کرنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

سوال۱۰: اگر آپ نے اپنے اہداف اور مقاصد حاصل کرلیے ہیں تو اب گھر والوں کا رویہ کیسا ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں تو طمانیت کا احساس ہوتا ہے یا رائیگانی کا؟

جب میرے شوہر معذور ہوئے تو کچھ ہی عرصے بعد سسرال میں سب نے کھانا پینا الگ کرلیا۔ وہ بہت مشکل دن تھے۔ شوہر نے گھر اور بچوں کو سنبھالا اور میںنے باہر کا ہر کام سنبھالا ملازمت بھی کی۔ آج الحمد للہ میرا بڑا بیٹا سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہے۔ شوہر کے سامنے ہی اس کی شادی کردی تھی، وہ اپنے گھر میں خوش ہے۔ بیٹی کی بھی شادی کردی ہے۔ میں چھوٹے بیٹے کے ساتھ رہتی ہوں۔ ماشاء اللہ دونوں بہوویں بہت اچھی ہیں۔ اپنا گھر بنالیا ہے۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے مگر اب شوہر ساتھ نہیں ہیں۔ دس سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا تو وہ بہت یاد آتے ہیں۔ جب محنت کے دن تھے تو انہوں نے بھر پور ساتھ دیا۔ آج جب عیش کے دن ہیں تو میں اکیلی ہوں مگر اللہ کا شکر ہے کہ عزت سے زندگی گزر گئی۔ جو باقی بچی ہے وہ بھی گزر جائے گی لیکن میں تمام مائوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ بیٹیوں کو تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر بھی ضرور سکھائیں کیونکہ برے وقت کا کچھ پتا نہیں ہوتا۔ ایسے میں یہ ہنر ہی آزمائش کی گھڑیوں میں کام آتا ہے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close