Aanchal Oct-18

عشق سفر کی دھول

نازیہ کنول نازی

ذرا ٹھہرو…
مجھے محسوس کرنے دو
جدائی آن پہنچی ہے‘ مجھے تم سے بچھڑنا ہے
تمہاری مسکراہٹ‘ گفتگو‘ خاموشیاں سب بھلانا ہے
تمہارے ساتھ گزرے صندلیں لمحوں کو
اس دل میں بسانا ہے
تمہاری خواب سی آنکھوں میں
اپنے عکس کی پرچھائی کو محسوس کرنے دو
ذرا ٹھہرو…
مجھے محسوس کرنے دو
اذیت سے بھرے لمحے بچھڑتے وقت کے قصے
کہ جب خاموش آنکھوں کے کناروں پر
محبت جل رہی ہوگی
کئی جملے لبوں کی کپکپاہٹ سے ہی
پتھر ہورہے ہوں گے
مجھے ان پتھروں میں بین کرتی چیختی گویائی کو
محسوس کرنے دو
مجھے تنہائی کو محسوس کرنے دو
ذرا ٹھہرو…
مجھے محسوس کرنے دو تمہارے بعد کا منظر…
دل برباد کا منظر…
جہاں پر آرزوئوں کے جواں لاشوں پہ کوئی اور نہ ہوگا
جہاں قسمت محبت کی کہانی میں جدائی لکھ رہی ہوگی
مجھے ان سب لمحوں میں سسکتے درد کی گہرائی کو
محسوس کرنے دو…
ذرا ٹھہرو…
ذرا ٹھہرو مجھے تنہائی کو محسوس کرنے دو!
خ…ز…/
یونیورسٹی سے ایزد حسن کو بے دخل کیے جانے کا فیصلہ طے پاچکا تھا۔
سر حفیظ اس کے مستقبل کے حوالے سے بے حد پریشان تھے‘ تب ہی ان کی ہر ممکن کوشش تھی کہ وہ امتحان دے لے۔ اسی سلسلے میں پرنسپل صاحب سے لمبی گفت و شنید کے بعد انہوں نے امر حسین اور اسے پرنسپل صاحب کے آفس میں طلب کیا تھا۔ پرنسپل آفس میں اس وقت وہ بے حد خاموش اور مغموم کھڑا تھا‘ جب کہ اس سے کچھ ہی قدموں کے فاصلے پر امرحہ حسین بھی وہیں موجود تھی۔ مگر اس کا چہرہ بے حد پُرسکون اور مطمئن تھا۔
پرنسپل سمیت ایزد کے تمام اساتذہ بے حد حیران تھے کہ عین امتحانات کے نزدیک بھلا ایزد جیسے لائق فائق طالب علم نے اتنی گری ہوئی حرکت کیوں کی‘ حالات و واقعات ان کے سامنے تھے‘ کسی قسم کی غلط فہمی یا شک کی گنجائش ہی پیدا نہیں ہوتی تھی۔ تاہم پھر بھی وہ وجہ جاننا چاہتے تھے۔ تب ہی ان دونوں کو آفس میں بلوایا تھا۔
سر حفیظ نے امرحہ سے پوچھا۔
’’تم جانتی ہو امرحہ کہ ایزد ایک نہایت شریف‘ سلجھا ہوا اور ذہین لڑکا ہے‘ آج تک کبھی یونیورسٹی کی کسی لڑکی نے اس کے کردار یا غلط چال چلن کی شکایت نہیں کی‘ پھر جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا‘ کیا وجہ تھی اس کی؟‘‘
’’میں نہیں جانتی سر‘ آپ کی طرح میں نے بھی کبھی اس شخص کے بارے میں غلط نہیں سوچا مگر پچھلے کچھ دنوں سے یہ بلاوجہ مجھے تنگ کررہا تھا‘ کبھی راہ روک کر کھڑا ہوجاتا‘ کبھی ہاتھ پکڑ لیتا‘ میں اگر چپ رہی تو صرف اس وجہ سے کہ یونیورسٹی میں بات کا بتنگڑ نہ بن جائے مگر کل تو حد ہی ہوگئی سر…‘‘ اتنا کہہ کر وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا گئی تھی۔
ایزد نے ضبط سے مٹھیاں بھیچ لیں۔
’’کیا ہوا کل؟‘‘ پرنسپل صاحب نے پوچھا۔ امرحہ کا چہرہ جو تھوڑی دیر پہلے تک مطمئن اور پُر سکون تھا۔ اب ایک دم آنسوئوں سے تر ہوگیا تھا۔
’’کل یونیورسٹی کے گیٹ پر میرا راستہ روک کر اس شخص نے مجھے دھمکی دی کہ میں عمر سعید کی حمایت چھوڑ دوں نہیں تو یہ مجھے یونیورسٹی میں منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑے گا‘ میں نے اس کی دھمکی کو اس کی بھڑک سمجھا مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ عمر سعید کی دشمنی میں یہ لائق‘ فائق‘ ذہین اور شریف شخص اتنا گر جائے گا کہ اپنے اور میرے مستقبل کو بھی دائو پر لگا دے گا۔‘‘ رندھے ہوئے لہجے میں عمر سعید کی ہدایت کے عین مطابق وہ اپنا کردار ادا کررہی تھی۔
پرنسپل صاحب اور سر حفیظ دونوں کے سر جھک گئے‘ بھلا کون تھا جو پوری یونیورسٹی میں عمر سعید اور ایزد حسن کے درمیان دشمنی سے واقف نہیں تھا۔
امرحہ کا وجود اب ہچکیوں کی زد میں تھا۔
’’میری تو پوری زندگی برباد ہوگئی سر‘ اب ہر طرف طرح طرح کی باتیں گردش کررہی ہیں‘ بہتان لگ رہے ہیں‘ یہ باتیں باہر نکلیں تو جنگل میں آگ کی طرح پھیل جائیں گی‘ ایسی شہرت کے بعد کون میرا یقین کرے گا‘ کون قبول کرے گا مجھے میں تو برباد ہوگئی۔‘‘ پرنسپل صاحب اور سر حفیظ کے جھکے سر دیکھ کر اس نے مزید جذباتی چوٹ لگائی۔ ایزد حسن اس سارے الزامات کے بعد پتھر کے مجسمے کی مانند ساکت کھڑا رہا تھا۔
’’کیا تمہیں اس شرمناک حرکت کے بعد اپنی صفائی میں کچھ کہنا ہے ایزد؟‘‘ پرنسپل صاحب جو خود چار بیٹیوں کے مشفق باپ تھے اب قدرے کرختگی کے ساتھ اس سے پوچھ رہے تھے‘ اس نے سر اٹھا کر ایک نظر ان کے سخت چہرے پر ڈالی‘ پھر آہستہ سے سر نفی میں ہلادیا۔ سر حفیظ اس کی اس حرکت پر جیسے ششدر سے رہ گئے تھے۔ تب ہی پرنسپل صاحب بولے۔
’’ہونا تو یہ چاہیے کہ تمہاری نہایت غلیظ حرکت کے جواب میں ابھی پولیس کو بلوائوں اور تمہیں ان کے حوالے کردوں‘ مگر جس کرسی پر میں بیٹھا ہوں اس کرسی کا وقار مجھے ایسا کرنے نہیں دے گا‘ تمہاری شرمناک حرکت سے ہوئی بدنامی کے بعد میں اپنے ادارے کی مزید بدنامی نہیں چاہتا‘ لہٰذا تمہارے لیے یہی سزا کافی ہے کہ تمہیں یونیورسٹی سے بے دخل کردیا جائے‘ آج کے بعد میں کبھی تمہاری شکل نہ دیکھوں‘ سمجھے تم؟‘‘ پرنسپل صاحب کے غضب پر ایزد حسن نے ایک نظر سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا پھر سر جھکا لیا۔
اس کے لیے دنیا ختم ہوگئی تھی۔ امرحہ حسین کے لبوں پر فاتحانہ سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ جگر جگر کرتی اس کی آنکھیں کسی روشن ستارے کی مانند چمک رہی تھیں۔ ایزد حسن نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا‘ پھر خاموشی سے پرنسپل آفس سے باہر نکل آگیا تھا۔
خ…ز…/
وہ پرنسپل آفس سے باہر آیا تو میرب بے حد پریشان سی اس کی راہ دیکھ رہی تھی۔ اس کے باہر نکلتے ہی وہ تیزی سے لپک کر اس کی طرف آئی۔
’’ایزد… ایزد یہ سب کیا ہے‘ کیوں تمہارے بارے میں یہ لوگ فضول بکواس کررہے ہیں‘ کیا ہوا ہے؟‘‘
’’پتہ نہیں۔‘‘ تیز قدموں سے پارکنگ کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے قدرے خشک لہجے میں جواب دیا‘ تب ہی وہ اس کی راہ روک کر کھڑی ہوگئی۔
’’تم ایسا نہیں کرسکتے ایزد‘ میرا دل کہتا ہے ضرور کچھ غلط ہوا ہے‘ میرا دل تمہاری شرافت اور کردار کی گواہی دیتا ہے‘ تم ایسے نہیں ہو۔‘‘ اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں ایزد نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا۔ کیا نہیں تھا اس ایک نظر میں۔
احد‘ عظیم اور افدان بھی بے حد پریشان تھے‘ وہ سب کو نظر انداز کرتا آگے بڑھ رہا تھا۔
’’ایزد… ایزد کچھ تو کہو‘ فرار اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘‘
میرب نے دہائی دی مگر اس نے جیسے سنا ہی نہیں۔ عمر سعید اپنے گروپ کے ساتھ پارکنگ سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑا تھا۔ ایزد رک گیا۔
وہ لوگ ہنس رہے تھے‘ کولڈ ڈرنکس ہاتھ میں پکڑے اپنی راہ کا کانٹا نکل جانے پر جشن منا رہے تھے۔ ایزد کی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا تھا۔
’’چہ چہ چہ… اسے کہتے ہیں شکل مومناں‘ کرتوت کارفراں‘ بڑا چھپا رستم نکلا یہ ایزد تو‘ میں تو سمجھتی تھی اس سے شریف پوری یونیورسٹی میں کوئی نہیں۔‘‘
عمر سعید کے گروپ کے قریب کھڑی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی نے کہا تھا۔ ایزد کے لیے وہاں ایک پل بھی ٹھہرنا دشوار ہورہا تھا۔
جس ادارے میں اپنی عزت اور ساکھ بنانے میں اس نے چار سال لگا دیے تھے اسی ادارے سے وہ آج بے قصور ہوتے ہوئے بھی ذلیل ہوکر نکل رہا تھا۔
خ…ز…/
وہ گاڑی کا لاک کھول رہا تھا‘ جب احد نے پکارا۔
’’کہاں جا رہے ہو اس وقت؟‘‘
’’تھوڑی دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں‘ تم لوگ پریشان مت ہو‘ میں اپنا کوئی نقصان نہیں کروں گا۔‘‘
اس کا لہجہ درد سے چور جب کہ آنکھیں لہو رنگ ہو رہی تھیں۔ میرب احد اور افدان ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔ وہ اس وقت جس اذیت سے گزر رہا تھا اس تکلیف سے یقینا وہ تینوں ہی بے خبر نہیں تھے۔
خ…ز…/
شام ڈھل رہی تھی۔
ایزد یونیورسٹی سے سیدھا ساحل سمندر کی طرف نکل آیا تھا۔ گاڑی پارک کرکے وہ سمندر کی بپھری ہوئی موجوں کے قریب آبیٹھا۔ آج اس لمحے اس کا شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ وہ سمندر میں آگے بڑھتا‘ بپھری ہوئی لہروں کے ساتھ بہتا ہوا کہیں دور نکل جائے۔
اس کی آنکھیں رونے کی خواہش میں سرخ انگارہ ہورہی تھیں‘ مگر وہ کس کی گود میں سر رکھ کر روتا؟ کیسے اپنا دکھ بتاتا ماں تو بچپن میں ہی چھن گئی تھی۔ بچپن سے اب تک پنکھے سے لٹکتی ماں کا جو عکس آنکھوں میں محفوظ تھا اب اس کی جگہ اس عکس میں اسے اپنی شکل نظر آنے لگی تھی۔
اس کے پاس کیا رہا تھا؟ کچھ بھی تو نہیں… اس کا دامن خالی تھا۔ عجیب بے بسی تھی کہ ایک لڑکی نے اس کی پوری زندگی برباد کرکے رکھ دی تھی اور وہ کچھ نہیں کرسکا تھا۔
’’کیا وہ اتنا ہی آسان ہدف تھا؟ شام سے رات ہوگئی‘ وہ وہیں بیٹھا رہا۔
اعصاب کے ساتھ ساتھ جیسے وجود بھی پتھر ہوچکا تھا۔ اس میں اتنی ہمت ہی نہیں ہوئی کہ وہ اٹھ کر گھر چلا جاتا۔
شب کے ساڑھے گیارہ بج گئے۔ جب وہ ساحل سمندر سے اٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔ صد شکر کہ ابھی اس کی تباہی کی خبر گھر نہیں پہنچی تھی تب ہی وہاں سکون تھا۔ سب لوگ اپنے اپنے گرم بستروں میں دبکے سو رہے تھے۔ گاڑی پارک کرنے کے بعد وہ لائونج میں آیا تو عائشہ اس کے انتظار میں جاگ رہی تھی۔
’’ایزد… کہاں تھے تم‘ میں کب سے تمہیں کال کررہی ہوں مگر تمہارا نمبر مسلسل بند ہے۔‘‘ وہ اس کے لیے پریشان تھی۔ ایزد نے نظریں چرالیں۔
’’ایک دوست کے ساتھ تھا میرے سیل کی بیڑی ڈاؤن ہونے کی بنا پر سیل آف ہوگیا تھا‘ بہت تھک گیا ہوں‘ صبح بات ہوتی ہے۔‘‘
بمشکل اپنی سرخ آنکھیں اس سے چھپا کر وہ تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا تھا۔ عائشہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔
خ…ز…/
اگلے روز حمزہ عباسی صاحب ناشتے کے بعد ابھی آفس کے لیے نکلے تھے جب ایزد کی یونیورسٹی سے پرنسپل کی کال آگئی۔ انہیں ضروری بات کرنی تھی لہٰذا حمزہ صاحب نے گاڑی یونیورسٹی کی طرف موڑ دی۔ اگلے بیس منٹ کے بعد وہ پرنسپل صاحب کے آفس میں ان کے مقابل بیٹھے تھے۔
’’حمزہ صاحب جانتے تھے کہ ایزد نہایت لائق فائق ہونہار طالب علم ہے یقینا پرنسپل صاحب نے اسی حوالے سے بلایا ہوگا‘ مگر ان کی سماعتوں کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب پرنسپل صاحب نے ان سے کہا۔
’’ہم نے ایزد کو یونیورسٹی سے نکال دیا ہے وجہ شاید اس نے آپ کو نہیں بتائی ہوگی۔‘‘
’’یونیورسٹی سے نکال دیا…! پر کیوں؟‘‘ انہیں تو جیسے یقین ہی نہیں آرہا تھا۔
’’حمزہ صاحب‘ آپ کا بیٹا اس قابل نہیں ہے کہ کسی بھی اچھے ادارے میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکے۔‘‘
’’مگر کیوں؟ ایسا کیا کردیا ہے میرے بیٹے نے اچانک؟‘‘
ان کے علم میں سرے سے کوئی بات ہی نہیں آئی تھی۔ پرنسپل صاحب کو انہیں الف سے ے تک سارا قصہ سنانا پڑا۔
’’یہ ایک معزز ادارہ ہے حمزہ صاحب‘ لوگ ہم پر اعتماد کرکے اپنی بیٹیاں یہاں پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ آپ خود سوچیں ایسے کیسز میں اگر ہم کوئی ایکشن نہیں لیں گے تو پبلک ہمیں گھسیٹ کر سڑک پر لے آئے گی‘ جو کچھ بھی ہوا ہے بہت افسوس ناک ہے۔ میں ذاتی طور پر بہت رنجیدہ ہوں۔ مگر آئی ایم سوری میں اب ایزد کے لیے مزید کچھ بھی نہیں کرسکتا۔‘‘
ساری بات بتانے کے بعد پرنسپل صاحب نے اپنی مجبوری بیان کی‘ حمزہ عباسی پر جیسے کوئی پہاڑ آگرا۔
بھلا ایزد حسن جیسا شریف‘ باکردار شخص اتنی گری ہوئی حرکت کیسے کرسکتا تھا؟ بے یقینی سی بے یقینی تھی۔ اس وقت وہ پرنسپل کے آفس سے کیسے نکل کے باہر آئے صرف وہی جانتے تھے۔
خ…ز…/
دن کے تقریباً ساڑھے بارہ ہورہے تھے۔ شور کی آواز سے ایزد کی آنکھ کھلی‘ نوال بلند آواز میں چیخ رہی تھی۔
’’اور پرائی اولادوں کو لا کر پالیں‘ دیکھ لیا ناں کیسا نام روشن کیا ہے نواب زادے نے حمزہ ماموں کا‘ پوری یونیورسٹی میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے۔‘‘ جس طوفان کے آنے سے وہ ڈر رہا تھا وہ طوفان آچکا تھا۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھل گئی تھیں۔
نیچے لائونج میں یقینا سب جمع تھے۔ سب کے بیچ ایک مرتبہ پھر اس کا تماشہ بن رہا تھا۔ ایک جنگ وہ گھر سے باہر لڑکر آیا تھا۔ اب ایک جنگ یہ تھی جس کا سامنا اسے گھر کے اندر کرنا تھا‘ تیز بخار میں جلتے وجود کے ساتھ وہ ابھی اٹھنے کی ہمت ہی کررہا تھا جب سلمیٰ بیگم چلی آئیں۔
’’ایزد… تمہارے بابا تمہیں اپنے کمرے میں بلا رہے ہیں۔‘‘ ان کے لہجے میں پہلے والی نرمی مفقود تھی۔ ایزد کی آنکھیں بھر آئیں۔
سلمیٰ بیگم پلٹ رہی تھیں‘ جب اس نے تڑپ کر پکارا۔
’’امی…‘‘ وہ رک گئیں مگر انہوں نے پلٹ کر اس کی طرف نہیں دیکھا۔
’’امی… میں بہت چھوٹا سا تھا جب میری ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی‘ سات سال کی عمر سے لے کر ستائیس سال کی عمر تک میں نے آپ کی آغوش میں اپنا ہر اچھا برا لمحہ بسر کیا‘ میری پوری زندگی آپ کے سامنے ہے‘ کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ میں ایسا کرسکتا ہوں؟‘‘
’’پتہ نہیں‘ تمہارے بابا بلا رہے ہیں آکر بات سن لو ان کی؟‘‘ سلمیٰ بیگم کا لہجہ کسی بھی رعایت سے عاری تھا۔ ایزد نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں۔
زندگی ایک دم سے اس پر کتنی تنگ ہوگئی تھی۔ جلتی آنکھوں پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر وہ کمرے سے باہر آیا تو نیچے لائونج میں زہرہ بیگم بارود کا ڈھیر بنی کسی کے ساتھ فون پر مصروف تھیں۔ موضوع گفتگو اسی کی ذات تھی۔ وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتا ابھی سیڑھیاں اتر رہا تھا جب زہرہ بیگم نے موبائل سائیڈ پر رکھ کر اسے پکارا۔
’’کیوں صاحب زادے‘ بڑے گل کھلا کر آئے ہو یونیورسٹی میں‘ ارے میں پوچھتی ہوں کیا یہی دن دیکھنے کے لیے ہم نے تمہیں کھلا پلا کر بڑا کیا تھا‘ نمک حرام۔‘‘
وہ اور ان کی بیٹیاں اس گھر میں شروع سے اس کی مخالف تھیں۔ اب تو گویا انہیں اپنے اندر کا زہر باہر نکالنے کا بہانہ مل گیا تھا۔ ایزد کو لگا جیسے اس کا دماغ پھٹ جائے گا‘ تب ہی وہ خشک لہجے میں تنگ کر بولا۔
’’سوری‘ میں اس وقت نہ تو آپ کے کسی سوال کا جواب دینے کی پوزیشن میں ہوں نہ ہی اپنی کوئی صفائی پیش کرنی ہے مجھے‘ بہتر ہوگا اگر آپ لوگ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں پلیز۔‘‘ اس کے لہجے میں بیزاری تھی۔ زہرہ بیگم کے تو گویا تلوئوں پر لگی سر پر بجھی تھی۔
’’ہاں ہاں کوئی جواب ہوگا تب ہی دو گے ناں‘ ارے میں تو بچپن سے جانتی تھی یہی لچھن ہوں گے تمہارے بڑے ہوکر‘ مگر میری اس گھر میں سنتا کون ہے‘ آگئی ناں اب ساری اصلیت سامنے‘ ہونہہ کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا ہمیں۔‘‘ وہ خوب برس رہی تھیں۔ ایزد خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔
’’آیا بڑا لاڈ صاحب‘ اکڑ دیکھو جیسے امریکہ فتح کرکے آیا ہو‘ ارے میرا بس چلے ناں تو ابھی کی ابھی ہاتھ پکڑ کر باہر کی راہ دکھا دوں ناہنجار کو‘ پتہ نہیں ماں باپ نے کیا اگل کھلائے ہوں گے جو یہ مصیبت ہمارے گلے پڑی۔‘‘
حمزہ عباسی کے کمرے میں داخل ہونے تک زہرہ بیگم کے زہریلے الفاظ اس کی سماعتوں کو ڈستے رہے تھے۔ یہ پہلی بار ہوا تھا جب حمزہ عباسی نے تیز آواز میں بولنے پر اپنی بہن کو ڈپٹ کر چپ نہیں کروایا تھا۔ ایزد حسن کے اندر بہت دور تک جیسے دراڑیں پڑ گئی تھیں۔
بے حد نڈھال سا وہ حمزہ عباسی کے کمرے میں آیا تو وہ اضطراب کے عالم میں پشت پر دونوں ہاتھ باندھے اِدھر سے اُدھر ٹہل رہے تھے۔ وہ چپ چاپ ان کے قریب جاکر کھڑا ہوگیا۔
’’آئو… میں تمہارا ہی انتظار کررہا تھا۔‘‘ حمزہ صاحب کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی انہوں نے بے حد ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا‘ پھر صوفے پر جا بیٹھے۔ ایزد سر جھکائے کھڑا رہا۔
’’مجھے کچھ پوچھنا تھا تم سے‘ امید ہے تم جھوٹ نہیں بولو گے۔‘‘
سلمیٰ بیگم کی طرح ان کا لہجہ بھی بدلا ہوا تھا۔ اس نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلادیا۔
’’امرحہ حسین‘ تمہاری یونیورسٹی فیلو‘ کب سے جانتے ہو اسے؟‘‘
’تین سال سے۔‘‘
’’پھر تو عمر سعید کو بھی جانتے ہوگے تم؟‘‘
’’ جی۔‘‘
’’کیا یہ سچ ہے کہ تمہاری عمر سعید کے ساتھ دشمنی چل رہی تھی؟‘‘
’’دشمن اس نے مجھے بنایا ہے بابا‘ میں نے نہیں۔‘‘
’’جتنا پوچھ رہا ہوں اتنا جواب دو‘ کیا امرحہ عمر سعید کی حامی ہے‘ یونیورسٹی میں؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’تم اس لڑکی کے پیچھے ہال روم میں گئے تھے؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اسے مجھ سے ضروری بات کرنی تھی اس لیے۔‘‘
’’کیسی ضروری بات؟‘‘
’’اپنی بہن سے متعلق۔‘‘
’’کیا وہ ایسی بات تھی کہ جس کے لیے کمرے کا دروازہ بند کیا جانا ضروری تھا؟‘‘
’’دروازہ میں نے نہیں اس نے بند کیا تھا۔‘‘
’’تم نے اس کے چہرے پر تھپڑ مارے تھے؟‘‘
’’جی…‘‘
’’اس لیے کیونکہ اس نے کمرے کا درازہ بند کیا تھا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’اپنی بہن کے بارے میں غلط باتیں کی تھیں اس نے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’وہ عمر سعید کے ساتھ تھی‘ اس کی دوست تھی اس لیے؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
وہ سچ بول رہا تھا مگر سچ کی اس آخری کڑی نے حمزہ عباسی کو بے ساختہ لب بھینچنے پر مجبور کردیا تھا۔ چند لمحے ایک بے یقین سی خاموشی کی گرفت میں رہنے کے بعد وہ بہت شکستہ سے لہجے میں گویا ہوئے۔
’’دیکھو ایزد‘ یہ ٹھیک ہے کہ تم میرے عزیز دوست کے بیٹے ہو اور میں نے بہت محبت سے تمہیں پالا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ میں ایک شریف انسان ہوں‘ ایک عدد جوان بیٹی کے ساتھ ساتھ دو جوان بھانجیاں میرے زیر کفالت ہیں‘ میں نہیں چاہتا جو کچھ تم نے اپنے کسی انتقامی جذبے کی بھینٹ چڑھ کر کسی پرائے کی بیٹی کے ساتھ کیا‘ وہی سب کل کو میری بیٹی یا بھانجی کے ساتھ کرو‘ لہٰذا میں ہاتھ جوڑ کر تم سے درخواست کرتا ہوں کہ پلیز اپنا کہیں اور ٹھکانہ کرلو‘ میں اب اس گھر میں مزید تمہیں نہیں رکھ سکتا‘ تم جو چاہو کرسکتے ہو‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ حمزہ عباسی اس کے سچ سے اپنی مرضی کا نتیجہ نکال کر اپنا فیصلہ سنا چکے تھے۔
ایزد حسن کو لگا جیسے اس کا وجود تیز آندھی کی نذر ہوگیا ہو۔ صرف دنیا ہی نہیں اس پر زندگی بھی تنگ ہوگئی تھی۔ سزائے موت جیسا فیصلہ سننے کے بعد وہ چند لمحے تک اپنا حوصلہ جمع کرتا رہا‘ پھر رندھے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’سزائے موت کے مجرم کو بھی سزا سنانے سے پہلے اپنی صفائی کا ایک موقع دیا جاتا ہے‘ کیا میرا جرم سزائے موت سے بھی بڑھ کر ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ حمزہ صاحب اپنے سینے پر پتھر رکھ چکے تھے‘ انہیں اب کمزور نہیں پڑنا تھا۔
ایزد حسن کی رہی سہی امید بھی ختم ہوگئی تھی۔
’’کیا آپ کو اپنی پرورش پر بس اتنا ہی یقین تھا؟‘‘
’’یقین کی بات مت کرو ایزد‘ یقین تو سگی اولاد پل میں توڑ کر کرچی کرچی کردیتی ہے۔ تم تو پھر پرائے ہو۔‘‘ وہ ٹھان چکے تھے کہ اسے لہولہان کرنا ہے۔
ایزد کے پاس کہنے اور سننے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں۔ وہ اس وقت وہاں حمزہ عباسی کے کمرے سے اپنا زندہ وجود نہیں اپنی لاش گھسیٹ کر لایا تھا۔
خ…ز…/
امرحہ پرنسپل آفس سے باہر آئی تو اسے اپنے کیے پر کوئی پشیمانی نہیں تھی۔ اس نے عماد حسن اور اس کے سارے خاندان سے ان کی ساری زیادتیوں کا بدلہ لے لیا تھا۔ لبوں پر فاتح مسکراہٹ سجائے ابھی وہ پرنسپل آفس سے کچھ ہی دور آئی تھی جب فاطمہ نے اس کا راستہ روک لیا۔ وہ بے حد رنجیدہ اور غصے میں نظر آرہی تھی۔ امرحہ لاپروائی سے مسکرادی۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’تمہیں کچھ اندازہ ہے امرحہ کہ تم نے کیا کیا ہے؟‘‘
’’نہیں… تم بتادو کیا کردیا میں نے ایسا جو تم یوں خفا ہو رہی ہو؟‘‘
’’تم نے بہت غلط کیا ہے امرحہ‘ کاش تم یہ بات سمجھ سکو۔‘‘
’’دیکھو فاطمہ‘ تم میری دوست ہو ناں کہ اس اسٹوپڈ ایزد حسن کی۔‘‘
’’تمہاری دوست ہوں اسی لیے سمجھا رہی ہوں‘ مت گڑھے کھودو اپنے لیے‘ پلیز۔‘‘ وہ صرف رنجیدہ نہیں بلکہ اس کے لیے بے حد فکر مند بھی تھی۔
امرحہ کو اس کی یہ فکر مندی پسند نہیں آئی‘ تب ہی خفگی سے بولی۔
’’میرا خیال ہے کہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے‘ تمہیں اس میں اتنا جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’جانتی ہوں تمہارا ذاتی معاملہ ہے مگر پھر بھی میرا دل تمہارے اس ذاتی معاملے کو لے کر بے حد پریشان ہے۔ تم نے ایک گھٹیا انسان کی باتوں میں آکر‘ ایک نہایت شریف اور قابل انسان کا دل دکھایا ہے‘ صرف یہی نہیں پوری زندگی تباہ کردی ہے تم نے اس کی‘ تم پچھتائو گی امرحہ‘ وہ گھٹیا انسان تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا‘ دیکھ لینا تم۔‘‘ نم آنکھوں کے ساتھ انگلی اٹھاتی اسے وارن کرتی وہ واپس پلٹ گئی تھی۔
امرحہ خاموش کھڑی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی تھی۔
خ…ز…/
میرے روگ کا نہ ملال کر میرے چارہ گر
میں برا ہوا اسے پال کر‘ میرے چارہ گر
سب ہی درد چن میرے جسم سے کسی اسم سے
میرا انگ انگ بحال کر‘ میرے چارہ گر
یہ بدن کے عارضی گھائو ہیں انہیں چھوڑ دے
میرے زخم دل کا خیال کر‘ میرے چارہ گر
فقط ایک قطرہ اشک میرا علاج ہے
مجھے مبتلائے ملال کر‘ میرے چارہ گر
میں جہانِ درد میں کھو گیا تجھے کیا ملا؟
مجھے امتحان میں ڈال کر میرے چارہ گر
مجھے اپنے زخم کی خود بھی کوئی خبر نہیں
سو نہ مجھ سے کوئی سوال کر میرے چارہ گر
تیرا حال دیکھ کر روئے گا تیرا چارہ رگر
میرا دل نہ دیکھ نکال کر‘ میرے چارہ گر
خ…ز…/
وہ گھر آئی تو تھکن سے برا حال تھا۔
شفاء کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کررہی تھی جب کہ حسین صاحب مسجد گئے ہوئے تھے‘ وہ فریش ہونے کے بعد شفاء کے پاس کچن میں چلی آئی۔
’’کیا پک رہا ہے آج؟‘‘
’’قیمہ مٹر‘ ساتھ میں تمہاری فیورٹ کھیر اور بریانی ہے۔‘‘
’’وائو‘ کوئی آرہا ہے کیا آج؟‘‘
’’ہاں‘ ابو کے کوئی عزیز ہیں‘ ان کے بیٹے کا کیس چل رہا ہے یہاں عدالت میں‘ وہی موصوف آرہے ہیں۔‘‘
’’کس چیز کا کیس ہے؟‘‘
’’جائیداد کا‘ خیر تم سب چھوڑو یہ بتائو آج اتنی لیٹ کیسے ہوگئیں یونیورسٹی سے؟‘‘ بریانی کو دم لگاتے ہوئے اس کی مکمل توجہ بھی اپنے کام کی طرف تھی۔ امرحہ پائوں لٹکا کر کچن کے سلیب پر بیٹھ گئی۔
’’آج ایک عظیم معرکہ سر انجام دے کر آرہی ہے تمہاری بہن‘ یوں سمجھو عماد حسن اور اس کے نام نہاد شریف گھر والوں نے جو کچھ بھی تمہارے ساتھ کیا‘ میں نے آج ان لوگوں سے ان کی زیادتی کا بدلہ لے لیا ہے۔‘‘
’’کیا…! یہ کیا کہہ رہی رہی ہو تم؟‘‘ شفاء کو جیسے اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہوا‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہوں‘ عماد حسن کا لائق فائق بھائی میرا یونیورسٹی فیلو ہے‘ پوری یونیورسٹی میں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا میں نے اسے۔‘‘ وہ فخر سے یوں بتا رہی تھی جیسے پتہ نہیں کتنا اچھا کام کرکے آرہی ہو‘ شفاء جیسے جیسے سارا ماجرا سنتی گئی اس کے چہرے کا رنگ بدلتا گیا۔
’’تم سے کس نے کہا یہ سب کرنے کے لیے؟‘‘ وہ خاموش ہوئی تو اس نے حیرانگی سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ امرحہ نے رخ پھیر لیا۔
’’ میرے دل نے۔‘‘
’’مگر کیوں‘ جو نقصان ہوا میرا ہوا‘ جو بھی ان لوگوں نے برا کیا میرا کیا‘ پھر تم کیوں اتنا بڑا قدم بغیر کسی کو بتائے بغیر کسی سے پوچھے اٹھانے پر تیار ہوئیں۔‘‘
’’میں تم سے الگ نہیں ہوں شفاء‘ تم میری بہن ہو‘ تمہارا دکھ میرا دکھ ہے۔‘‘
’’شٹ اپ‘ تمہیں اندازہ ہے تم نے کتنا غلط کیا ہے‘ صرف عماد حسن کے بھائی کے ساتھ نہیں بلکہ خود اپنے ساتھ بھی۔‘‘ ہاتھ میں پکڑا چمچ اس نے غصے سے سائیڈ پر پھینکا۔
’’اب تک میں عماد حسن پر حاوی تھی‘ وہ میرا مجرم تھا‘ میں اس کی مجرم نہیں تھی‘ مگر تم نے یہ احساس بھی چھین لیا مجھ سے زیادتی کی شکار ہونے کے باوجود اب تا عمر میں اس کی مجرم بن کر زندہ رہوں گی۔‘‘ غصے سے کہتے اس کا گلا رندھ گیا تھا۔ امرحہ کا سر جھک گیا۔
’’انہوں نے ہمارے ساتھ بہت غلط کیا تھا شفاء‘ اس روز مارکیٹ میں ان کی پھوپو نے…‘‘
’’بھاڑ میں گئی ان کی پھوپو‘ وہ تو شروع سے ایسی ہیں‘ میں نے اگر دوبارہ سو سائیڈ کی کوشش کی تو میں غلط تھی‘ بہت شرمندہ بھی‘ مگر تم نے تو حد کردی امرحہ‘ ابو کو پتہ چلے گا تو پتہ نہیں کیا ہوگا۔‘‘ دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر وہ وہیں کچن میں دھری کرسی پر بیٹھ گئی‘ امرحہ نے فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر اس کے سامنے رکھ دی۔
’’میں نے جو بھی کیا صرف ان کی زیادتیوں کا بدلہ لینے کے لیے کیا‘ پھر بھی اگر تم سمجھتی ہو کہ میں نے غلط کیا ہے تو میں ایزد حسن سے معافی مانگ لوں گی اور جاکر پرنسپل صاحب کو سب سچ بتادوں گی۔‘‘
’’یہ سب اتنا آسان نہیں ہے‘ جتنا تم سمجھ رہی ہو‘ کاش تم نے یہ قدم اٹھانے سے پہلے صرف ایک بار مجھ سے مشورہ کرلیا ہوتا۔‘‘ شفاء کا ملال نہیں جارہا تھا‘ امرحہ لب کاٹ کر رہ گئی۔
حسین صاحب تک ابھی بات نہیں پہنچی تھی۔ امرحہ اگلے روز یونیورسٹی گئی تو سب سے پہلے پرنسپل صاحب کے آفس پہنچی۔
کل پوری رات آنکھوں میں کاٹنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ اسے اپنے جرم کا اعتراف کرلینا چاہیے۔ وہ ساری عمر اپنے اعصاب پر ایک نادیدہ بوجھ لے کر نہیں جی سکتی تھی۔ مگر پرنسپل صاحب کے آفس میں پہنچنے کے بعد اسے پتہ چلا کہ وہ طبیعت کی ناسازی کے باعث چھٹی پر ہیں۔ امرحہ کے دل پر منوں بوجھ آگرا تھا۔
وہ جتنی جلدی اپنے دل و دماغ پر حاوی ایک عجیب سے بوجھ سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اتنا ہی وقت اب اس کا امتحان لے رہا تھا۔ اسی الجھن میں گرفتار وہ پرنسپل آفس سے باہر آئی تو عمر سعید سے مڈ بھیڑ ہوگئی۔ امرحہ کو وہ بے حد خوش باش نکھرا نکھر سا لگا۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔
’’کیسی ہو امرحہ؟‘‘
’’ٹھیک ہوں‘ تم کیسے ہو؟‘‘ فائل سینے سے لگائے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہی تھی۔ جب اس نے اس کے ساتھ چلنا شروع کردیا۔
’’میں ٹھیک‘ تم یہاں پرنسپل آفس میں‘ سب ٹھیک تو ہے؟‘‘
’’ہوں‘ سب ٹھیک ہے بس میں اپنے جرم کا اعتراف کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’مطلب؟‘‘ عمر ٹھٹک کر رکا جب وہ سامنے دیکھتے ہوئے اطمینان سے بولی۔
’’مطلب میں پرنسپل صاحب کو سب سچ بتانا چاہتی ہوں‘ جو کچھ بھی کل ہوا اس بارے میں۔‘‘
’’تم پاگل تو نہیں ہوگئی ہو دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟‘‘
’’ہوں‘ ٹھیک ہے اسی لیے تو سب سچ بتانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’تم ایسا کچھ نہیں کرو گی‘ آئی سمجھ؟‘‘
’’کیوں… کیوں نہ کروں میں ایسا؟‘‘
’’کیونکہ اس سچ میں تمہارے ساتھ میرا نام بھی آئے گا اور میں نہیں چاہتا کہ جو بھی کل ایزد حسن کے ساتھ ہوا وہ میرے ساتھ ہو‘ میرے ڈید کو مجھ سے بہت امیدیں ہیں‘ میں ان کی امیدوں کو ٹونے نہیں دوں گا۔‘‘
’’امیدیں تو ایزد حسن کے ڈیڈ کو بھی بہت ہوں گی اس سے‘ مگر ہم نے اس کی ساری امیدوں سارے خوابوں پر پانی پھیر کر رکھ دیا۔‘‘
’’تمہیں یہ سب پہلے سوچنا چاہیے تھا۔‘‘
’’ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے۔‘‘
’’میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ تمہیں ایزد حسن کے ساتھ ایک دم ہمدردی کا بخار کیوں ہوگیا ہے؟‘‘ وہ چراغ پا ہوا‘ امرحہ نظر انداز کیے آگے بڑھتی رہی۔
’’ضمیر جاگ ہی جاتا ہے اگر زندہ ہو
کبھی گناہ سے پہلے کبھی گناہ کے بعد‘‘
’’تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ تم اس ضمیر کو اب سلائے ہی رکھو کیونکہ اگر تم نے پرنسپل صاحب یا کسی کو بھی سچ بتانے کی کوشش کی تو یاد رکھنا امرحہ‘ میں جتنا اچھا دوست ہوں‘ اس سے کہیں زیادہ برا دشمن ہوں ایسا نہ ہو کہ ایزد حسن کے ساتھ ساتھ خود تم بھی کسی کو منہ دکھلانے لائق نہ رہو۔‘‘ غرا کر وارن کرتے ہوئے عمر سعید کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہوگیا تھا۔
امرحہ بے یقینی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔ بے ساختہ اس کی سماعتوں میں فاطمہ کے الفاظ گونجے تھے۔
’’تم پچھتائو گی امرحہ حسین‘ وہ گھٹیا انسان تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا‘ دیکھ لینا تم۔‘‘ فاطمہ کتنی سمجھ دار تھی اور وہ کتنی بے وقوف‘ کاش اس نے اس شخص کی باتوں میں آکر ایزد کی زندگی برباد نہ کی ہوتی‘ وقت اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا‘ اب وہ لکیر پیٹ رہی تھی‘ عمر سعید اسے وارن کرکے جاچکا تھا۔ وہ تھکی ہوئی سی فاطمہ کی تلاش میں ادھر ادھر پھرتی رہی۔
امتحانات کی وجہ سے اس کا پورا ڈیپارٹمنٹ سونا پڑا تھا۔ تقریباً سب ہی طلبہ طالبات امتحانات کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اس نے فاطمہ کا نمبر ڈائل کیا۔ وہ بند جارہا تھا۔ اس کا دل چاہا وہ موبائل سامنے دیوار پر دے مارے۔
صرف فاطمہ ہی ان مشکل حالات میں اسے بہتر مشورہ دے کر اس کی مدد کرسکتی تھی مگر وہ چھٹی پر تھی۔ وہ پریشان سی گھر چلی آئی۔
وہ شفاء اور حسین صاحب کو سلام کرتی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ تھوڑی دیر میں شفاء فارغ ہوکر اس کے پاس آئی۔
’’کیا بنا‘ بات ہوئی پرنسپل صاحب سے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کیوں‘ کہیں ارادہ تو بدل نہیں گیا تمہارا؟‘‘
’’نہیں‘ پرنسپل صاحب چھٹی پر ہیں۔‘‘
’’اوہ… کب تک آئیں گے؟‘‘
’’پتہ نہیں‘ شاید کل پرسوں تک۔‘‘
’’چلو کوئی بات نہیں‘ تم کل مل لینا ان سے۔‘‘
’’شفاء…‘‘ شفاء اسے تسلی دے کر اس کے لیے کھانا لینے جا رہی تھی جب اس نے پکارا۔
’’ہوں۔‘‘ اس نے پلٹ کر دیکھا اور امرحہ نے جیسے تھک کر بیڈ کی پشت سے سر ٹکا لیا۔
’’مجھے تم سے کچھ شیئر کرنا تھا۔‘‘
’’ہوں کہو‘ سب خیر تو ہے؟‘‘
’’پتا نہیں‘ آج جب میں پرنسپل آفس سے باہر نکلی تو عمر سعید ملا‘ میں نے اسے بتایا کہ میں پرنسپل صاحب کو سب سچ بتانے جارہی ہوں‘ اس نے یہ جان کر مجھے دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے کسی کو بھی سچ بتایا تو وہ ایزد کی طرح مجھے بھی کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑے گا۔‘‘ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو آپس میں مسلتے ہوئے اس نے سر جھکا کر بتایا‘ شفاء کی پیشانی پر بل پڑگئے۔
’’دیکھا میں نے کہا تھا ناں تم نے اپنے لیے خود گڑھا کھود لیا ہے‘ بھگتو اب۔‘‘ وہ برہم ہوئی تو امرحہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’میں نے یہ سب اس طرح سے نہیں چاہا تھا شفاء‘ میں تو صرف تمہارے ساتھ ہوئی زیادتی کا بدلہ لینا چاہتی تھی بس۔‘‘
’’واہ… بدلہ بھی لیا تو اس شخص سے جو کسی بھی طرح میری کسی بھی تکلیف میں حصے دار ہی نہیں تھا۔‘‘
’’میں آل ریڈی شرمندہ اور پریشان ہوں شفاء اوپر سے تم مزید مجھے پریشان کررہی ہو۔‘‘ وہ روہانسی ہورہی تھی۔ شفاء کو اس پر ترس آگیا۔
’’جو کام بڑوں کے علم میں لائے بغیر اپنی مرضی سے کیے جائیں‘ اس میں اکثر یوں ہی پچھتانا پڑتا ہے‘ چلو خیر دیکھتے ہیں کیا بہتر ہوسکتا ہے اس سارے مسئلے میں تم پریشان مت ہو فی الحال تمہارا یونیورسٹی جانا بھی بند ہے جب تک امتحان شروع نہیں ہوجاتے‘ آئی سمجھ؟‘‘
’’ہوں۔‘‘ شفاء کی ہدایت پر اس نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
ایک غلطی شفاء سے ہوئی تھی‘ جس نے اس کی زندگی برباد کردی تھی‘ اب ایک غلطی وہ کر بیٹھی تھی جس کا بھگتان اسے بھگتنا تھا۔
خ…ز…/
وہ اپنا سامان پیک کررہا تھا جب روئی روئی سی آنکھوں کے ساتھ عائشہ وہاں چلی آئی‘ ایزد کے ہاتھ رک گئے وہ لپک کر اس کی طرف بڑھا۔
’’عائشہ… کیا سب کی طرح تم بھی مجھے گناہ گار سمجھتی ہو؟‘‘ آنکھوں میں کتنی آس لیے وہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ عائشہ نے غیر محسوس انداز میں آہستگی سے اپنے ہاتھ اس کی گرفت سے نکال لیے۔
’’میرے کچھ ماننے نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ایزد۔‘‘
’’مجھے فرق پڑتا ہے عائشہ‘ تم جانتی ہو میری زندگی میں تمہاری کیا حیثیت ہے‘ بہت چاہا ہے میں نے تمہیں‘ بھلا تمہارا ہوکر بھی کسی اور لڑکی کے ساتھ ایسی گھٹیا حرکت کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتا ہوں۔‘‘ اس نے پھر اس کے ہاتھ تھامے‘ عائشہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’اب ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ایزد‘ جو ہونا تھا ہوچکا ہے۔ ہم ابو کے فیصلے کے خلاف نہیں جاسکتے۔‘‘ سلمیٰ بیگم کی طرح وہ بھی دامن چھڑا رہی تھی۔
ایزد کے اندر جیسے سب کچھ ختم ہوگیا۔
’’بس… یہی رشتہ تھا ہمارا عائشہ؟‘‘ دھواں ہوتی نگاہوں کے ساتھ کتنے دکھ سے اس نے اس کی طرف دیکھا‘ عائشہ کا سر جھک گیا تھا۔
’’میں سچ اور جھوٹ کے بارے میں نہیں جانتی ایزد‘ بس میرے پاس تمہاری ایک امانت تھی اس وقت وہی لوٹانے آئی ہوں‘ ہوسکے تو مجھے بھلا دینا‘ پلیز۔‘‘ آنکھوں کے نم گوشوں کے ساتھ اس نے مٹھی میں دبی رنگ ایزد کے ہاتھ پر رکھ دی‘ پھر کچھ لمحوں تک اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں دبا کر کھڑی رہی۔
’’اپنا خیال رکھنا‘ اللہ حافظ۔‘‘ اپنے نرم ہاتھوں کا لمس اس کے سرد ہوتے سخت ہاتھوں میں چھوڑ کر وہ تیزی سے پلٹ گئی‘ ایزد کے لیے اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہنا دشوار ہوگیا تو وہ بیڈ پر ڈھے گیا۔
کتنا کمتر ہوگیا تھا وہ اپنوں کی نظر میں‘ اتنا کمتر کہ کسی نے بھی اسے اچھی طرح جاننے کے باوجود اس کا اعتبار کرنا گوارہ نہیں کیا۔
کیا وہ واقعی اسی سزا کے لائق تھا؟
عائشہ کی خاموشی اور بے اعتباری نے تو اسے زندہ رہنے کے قابل بھی نہ چھوڑا تھا۔ اس سے اچھی تو میرب تھی جو اس کی صرف اچھی دوست تھی‘ لیکن وہ اس کے کردار کی گواہی دیتی تھی۔
رات دھیرے دھیرے سر رہی تھی۔
وہ بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے‘ پلکیں موندے کتنی ہی دیر ایک ان دیکھی سی آگ میں جلتا رہا۔ اگلے روز اس گھر میں صبح کا سورج طلوع ہوا تو وہ جاچکا تھا۔
بہت سالوں کے بعد اس گھر میں ایک بے حد خاموش‘ اداس صبح طلوع ہوئی تھی۔ سوائے زہرہ بیگم اور ان کی بیٹیوں کے کسی نے بھی ناشتہ نہیں کیا تھا۔
سلمٰی بیگم مارے رنج کے اپنے کمرے سے ہی باہر نہیں آئی تھیں۔
جانے والا جاچکا تھا مگر وہ جیسے آدھی موت مر گئی تھیں‘ جاتے ہوئے وہ کسی سے مل کر بھی نہیں گیا تھا۔
زہرہ بیگم کو جیسے ہی اس کے جانے کا پتہ چلا ان کے دل میں ٹھنڈ پڑ گئی تھی۔
’’چلو بھئی خس کم جہاں پاک۔‘‘ ناشتے کی میز پر دونوں ہاتھ جھاڑتے ہوئے انہوں نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا۔
خ…ز…/
امتحانات سر پر آگئے تھے۔
امرحہ اس روز شفاء کو بتا کر فاطمہ کے گھر چلی آئی تھی۔
دل پر جو بوجھ تھا وہ کسی صورت قرار لینے نہیں دے رہا تھا۔ فاطمہ لائونج میں صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ جب وہ اس کی مما سے لان میں دعا سلام کرکے سیدھی وہیں چلی آئی۔
’’السلام علیکم۔‘‘ لائونج میں قدم رکھتے ہی اس نے بلند آواز میں سلامتی بھیجی‘ فاطمہ نے بے ساختہ چونک کر دیکھا۔
’’وعلیکم اسلام‘ تم یہاں؟‘‘
’’ہوں‘ تم یونیورسٹی نہیں آرہیں‘ فون تمہارا مسلسل بند مل رہا ہے تو جناب مجبوراً مجھے یہیں آنا تھا۔‘‘ آگے بڑھ کر اس کے گلے لگتے ہوئے وضاحت دی‘ فاطمہ مسکرادی۔
’’مجبوراً؟‘‘
’’ہوں‘ چلو تمہارے کمرے میں چلتے ہیں‘ کچھ ڈسکس کرنا ہے تم سے۔‘‘
’’خیریت؟‘‘
’’ہوں‘ فی الحال تو خیریت ہی ہے۔‘‘ وہ بے چین دکھائی دے رہی تھی۔ فاطمہ نے ٹی وی آف کردیا۔
’’ہاں اب کہو کیا بات ہے؟‘‘ اپنے کمرے میں آکر اس نے دروازہ بھی بند کردیا تھا۔
’’میں نے ایزد حسن کے ساتھ واقعی بہت غلط کیا‘ فاطمہ بہت پچھتا رہی ہوں میں‘ یونیورسٹی بھی گئی تھی پرنسپل صاحب کو سب سچ بتانے مگر وہ نہیں ملے‘ عمر سعید کو پتہ چلا کہ میں پرنسپل صاحب کو سب سچ بتانا چاہتی ہوں تو اس نے مجھے وارن کیا کہ اگر میں نے ایسی کوئی کوشش کی تو وہ ایزد کی طرح مجھے بھی کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑے گا‘ شفاء نے اس روز کے بعد مجھے یونیورسٹی نہیں جانے دیا مگر میں بہت بے چین ہوں فاطمہ‘ رات سکون سے سو نہیں پاتی‘ پلیز تم ہی بتائو میں کیا کروں۔‘‘ وہ واقعی بہت پریشان تھی‘ فاطمہ گہری سانس لے کر رہ گئی۔
’’میں نے کہا تھا تم سے… تم پچھتائو گی مگر تب میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی تھی‘ بہرحال تمہیں کس احمق نے مشورہ دیا تھا کہ تم عمر سعید کو یہ سب بتائو‘ اس کے علم میں لائے بغیر بھی تو تم پرنسپل صاحب اور سر حفیظ کو سب سچ بتا سکتی تھیں‘ بعد میں جو ہوتا دیکھا جاتا۔‘‘
’’یار مجھے انداز نہیں تھا کہ وہ اتنا برا بن کر پیش آئے گا۔‘‘
’’مگر مجھے اندازہ تھا اسی لیے میں تمہیں اس سے دور رہنے کا مشورہ دیتی تھی‘ چلو خیر جو ہوا اس پر مٹی ڈالو اور ابھی میرے سامنے تم پرنسپل صاحب کو فون کرکے سب سچ بتائو‘ ساتھ ہی عمر سعید کی دھمکی کا بھی بتانا تاکہ وہ محتاط رہیں اور بات باہر نہ پھیلے۔‘‘ وہ سمجھ دار تھی اور ہمیشہ اچھے مشورے دیتی تھی۔
اس وقت بھی امرحہ کو اس کا مشورہ خاصا معقول لگا‘ تب ہی تھوڑی دیر سوچ و بچار کے بعد اس نے پرنسپل صاحب کا نمبر ڈائل کیا۔
تیسری بیل پر اس کی کال ریسیو ہوگئی تھی۔ امرحہ نے کانپتی ٹانگوں کے ساتھ اپنا تعارف کروا کر ساری بات سچ سچ ان کے گوش گزار کردی۔ صرف اتنی سی چالاکی اس نے کی کہ خود پر الزام لینے کی بجائے اس نے سارا ملبہ عمر سعید کی ذات پر ڈال دیا‘ ساتھ ہی اس کی دی گئی دھمکی کے بارے میں بھی مطلع کردیا تھا۔
پرنسپل صاحب نے ساری روداد سننے کے بعد اسے خاصا لتاڑا‘ ساتھ ہی عمر سعید کو اس کی اس شرمناک حرکت پر سبق سکھانے کا عندیہ دے دیا۔
امرحہ نے بے ساختہ سکون کا سانس لیا۔ وہ صاف بچ گئی تھی۔ دل کا بوجھ بھی اتر گیا تھا‘ فاطمہ بھی اس کے اعترافِ گناہ پر مسرور تھی۔
گھر آکر اس نے شفاء کو بتایا تو اس نے بھی اس کی حوصلہ افزائی کی۔
اگلے روز حمزہ عباسی کے نمبر پر پھر پرنسپل صاحب کی کال آئی تھی۔
اس بار انہوں نے جو سنا وہ انہیں زندہ درگور کردینے کے لیے کافی تھا۔ پرنسپل صاحب ایزد کو یونیورسٹی بلا رہے تھے مگر ایزد تو جاچکا تھا۔
کہاں… یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتے تھے‘ پھر انہیں کیا بتاتے۔
وہ ایک بار پھر شرمندہ ہوگئے تھے۔
کاش گزرے ہوئے پل کسی طور واپس آسکتے۔ ان کی سماعتوں میں بار بار ایزد حسن کے سوال گونج رہے تھے۔ اس نے کہا تھا۔
’’سزائے موت کے مجرم کو بھی سزا سنانے سے پہلے اپنی صفائی کا ایک موقع دیا جاتا ہے‘ کیا میرا جرم سزائے موت سے بھی بڑھ کر ہے؟‘‘
’’آپ کو اپنی پرورش پر بس اتنا ہی یقین تھا؟‘‘
کتنا دکھی اور بے بس تھا وہ‘ مگر انہوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا تھا۔ وہ اب جتنا بھی خود کو ملامت کرتے کم تھا۔
خ…ز…/
عمر سعید کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔
صرف یہی نہیں بلکہ اسے پولیس کے حوالے بھی کردیا گیا کیونکہ اس کے خلاف امرحہ حسین کے علاوہ بھی کئی طالبات کی شکایت تھی۔
امتحانات سے پہلے یونیورسٹی کی ساری فضاء جیسے مکدر ہوگئی تھی۔
عمر سعید کو یونیورسٹی سے بے دخل کیے جانے پر اس کے دوستوں نے اپنے حامیوں کو ساتھ ملا کر ہڑتال کرد تھی۔
ایزد حسن کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں چلا گیا ہے۔ اس سے رابطے کی ہر کوشش ناکام ہوگئی تھی۔
سلمیٰ بیگم کا بخار اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا جب کہ دوسری طرف عائشہ کو جب سے ایزد کی بے گناہی کا پتہ چلا تھا وہ اپنے کمرے کی ہوکر رہ گئی تھی۔
ہنسنا‘ بولنا‘ سب ترک کردیا تھا اس نے‘ کھانا بھی برائے نام کھاتی‘ حمزہ صاحب یہ سب دیکھتے تو مزید ندامت کے گڑھے میں گر جاتے۔
ایک امرحہ حسین تھی جو کسی بھی انجام کی پروا کیے بغیر اپنے جرم کا اعتراف کرنے کے باوجود بے قرار تھی۔ اس کا دل ہر لمحے بس ایک ہی خواہش کے حصار میں تھا کہ کاش کہیں سے ایزد حسن اس کے سامنے آجائے اور وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اس سے معافی مانگ لے۔
دن یوں ہی سبک روی سے گزر رہے تھے۔
اس روز حسین صاحب کے بہت قریبی دوست کے بیٹے کی شادی تھی۔ ان کی طبیعت ناساز تھی۔ لہٰذا وہ خود تو نہیں جاسکتے تھے تاہم انہوں نے ضد کرکے شفاء اور امرحہ کو تھوڑی دیر کے لیے ڈرائیور کے ساتھ بھیج دیا تھا۔
نیوی بلیو شیفون کے سوٹ میں‘ ہلکے پھلکے میک اپ کے باوجود شفاء بے حد خوب صورت لگ رہی تھی جب کہ امرحہ نے لائیٹ پرپل رنگ کے شموز کے سوٹ کا انتخاب کیا تھا۔ دونوں بہنیں سادگی میں بھی ساری محفل پر بھاری پڑ رہی تھیں۔
یہ الگ بات تھی کہ اجنبی جگہ اور اجنبی لوگوں کی وجہ سے وہ تھوڑی گھبراہٹ کا شکار تھیں۔ جب اچانک اس کا کندھا‘ سائیڈ سے نکلتے کسی شخص سے ٹکرا گیا تھا۔
پلیٹ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے زمین پر جا گری تھی جب کہ اس کے مقابل کھڑا شخص اس سے معذرت کررہا تھا۔
’’سوری‘ مجھے پتہ نہیں چلا آپ آرہی ہیں۔‘‘
’’کوئی بات نہیں۔‘‘
صرف ایک نظر اٹھا کر اس نے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا پھر واپس پلٹ گئی تھی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ امرحہ نے اسے خالی ہاتھ آتے دیکھا تو پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔
’’کچھ نہیں‘ یوں ہی چکر سا آگیا تھا جائو تم کھانا لے آئو۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ تم ٹھیک تو ہو ناں؟‘‘
’’ہوں۔‘‘ شفاء کی تسلی پر امرحہ آگے بڑھ گئی۔
شفاء نے دیکھا اس کے کندھے سے ٹکرانے والا شخص اس سے کچھ ہی قدموں کے فاصلے پر اپنے دوست کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا۔
’’یار مجھے ان مڈل کلاس لڑکیوں کی بالکل سمجھ نہیں آتی‘ نخرے ان کے آسمان سے باتیں کررہے ہوتے ہیں‘ جب کہ ہم جیسا کوئی رئیس زادہ تھوڑی سی لفٹ کرا دے تو فوراً پیچھے چلی آتی ہیں‘ اللہ معاف کرے بڑی شاطر ہوتی ہیں یار یہ…‘‘
شفاء کی طرف دیکھتے ہوئے اس شخص کا دوست اپنے خیالات کا اظہار کررہا تھا۔ اس کے تو تلوئوں پر لگی سر پر بجھی تھی۔
’’ایکسکیوز می۔‘‘ اگلے ہی پل وہ ان کے مقابل کھڑی تھی۔
وہ دونوں تو یوں ہی اسے تنگ کررہے تھے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا وہ یوں دیدہ دلیری سے سامنے آجائے گی۔ تب ہی وہ قدرے حیران ہوئے۔
شفاء نے دونوں بازو سینے پر باندھ لیے۔
’’مڈل کلاس لڑکیوں کے بارے میں آپ کی نہایت چھوٹی سوچ، صنف نازک سے متعلق آپ کی ناقص معلومات اور غلط تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے‘ میں مڈل کلاس لڑکی ہوں مگر میں کسی بھی آپ جیسے رئیس زادے کی آفر پر لعنت بھیجوں گی‘ یاد رکھیے گا‘ اپنی دولت کے کھنکتے سکوں سے آپ کسی مجبور عورت کا جسم تو خرید سکتے ہیں‘ دل نہیں‘ آئی سمجھ۔‘‘ جذباتی تو وہ شروع سے تھی‘ ایسے موقعوں پر تو ویسے بھی اس کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا تھا۔
احد جو پہلی نظر میں ہی اس کا اسیر ہوگیا تھا اس کی اس دیدہ دلیری اور صاف گوئی پر تو جیسے چاروں شانے چت ہوگیا تھا۔
اس کی ستاروں سی چمکتی سیاہ آنکھیں جگر جگر کررہی تھیں‘ شفاء چکی تھی مگر وہ جس راہ پر قدم رکھ چکا تھا وہاں سے اس کا پلٹنا اب تقریباً ناممکن تھا۔
خ…ز…/
زمینوں اور زمانوں میں محبت پھیلتی جائے
محبت اسم اعظم ہے
کبھی بھولے سے بھی اس کی کہانی ٹوک مت دینا
محبت ہونے دینا تم‘ محبت روک مت دینا
محبت ٹوک دی جائے تو پھر
خاموشیوں کا اک سفر آغاز ہوتا ہے
دوبارہ بولنے میں بات کا چہرا
کبھی ویسا نہیں رہتا
کہاں پر کون سا جملہ کہا تھا؟ کیا بتایا تھا؟
دوبارہ یاد کرنے کے عمل میں اتنی وحشت ہے
کہ بندہ مر بھی سکتا ہے
(سب ہی مجھ سے نہیں ہوتے بہت سے مر بھی جاتے ہیں)
مجھے مرنے سے یاد آیا
محبت پر کبھی بھی شک نہیں کرنا۔
تمہیں جس سے محبت ہو اسے پابندیوں میں قید مت کرنا۔
اسے یہ بھی نہیں کہنا
مجھے تم سے محبت ہے تمہیں مجھ سے محبت کیوں نہیں آخر؟
کبھی بھی یوں نہیں کرنا
محبت سے کبھی کچھ پوچھنا چاہو
بھروسہ کرکے کچھ بھی پوچھ لینا سب بتائے گی
محبت کا تو سارا مسئلہ ہے
اسے چھپنا نہیں آتا
بہت معصوم ہوتی ہے
کبھی یہ روٹھ بھی جائے تو پھر بھی دل میں کہتی ہے
’’سنو مجھ کو منالو ناں۔‘‘
منا لینا…
محبت ماننے میں دیر کرنے کا ڈرامہ جس قدر بھی کرسکے کرلے
مگر یہ مان جاتی ہے
اور اس کے بعد یہ سو جان سے قربان جاتی ہے
محبت سے کبھی بیزار مت ہونا
محبت پھیلنے دینا!
اس روز امرحہ کا پہلا پیپر تھا۔
شفاء نے پچھلے تین چار روز سے اس کا ایک ماں کی طرح خیال رکھا تھا۔ رات گئے تک وہ اٹھ اٹھ کر اسے کبھی چائے تو کبھی کافی دیتی رہی تھی۔
تیاری اچھی تھی۔ لہٰذا پُر جوش سی ناشتہ کرکے وہ گھر سے اپنے اسٹاپ کے لیے نکل گئی۔
شفاء نے گھر سے نکلتے وقت اس پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی تاکہ وہ ہر قسم کی مشکل اور حادثے سے محفوظ رہ سکے۔
اسٹاپ پر آج بالکل بھی رش نہیں تھا کیونکہ اسکول کالج کے اوقات کار اس کے امتحانات کے وقت سے الگ تھے۔
وہ سامنے دیکھ رہی تھی جب قریب سے گزرتی سیاہ رنگ کی کار تھوڑے فاصلے پر جاکر رک گئی تھی۔
امرحہ کا اس کی طرف دھیان نہیں تھا۔ یہی بے دھیانی اسے مہنگی پڑ گئی تھی۔
گاڑی میں سے کمانڈو ٹائیپ جو شخص باہر نکلا تھا اس نے پیچھے سے آکر امرحہ کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے بچائو کے لیے کچھ کر پاتی‘ اس کے حواس اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ اگلے پانچ منٹ کے بعد گاڑی اسے لے کر فراٹے بھرتی ہوئی اپنی منزل کی جانب گامزن ہوگئی تھی۔
خ…ز…/
نیم تاریک کمرے میں جس وقت اس کی آنکھ کھلی اسے اغوأ ہوئے پورے سات گھنٹے ہوچکے تھے۔ اس کا سر بے حد بھاری ہورہا تھا۔
کئی بار اس نے آنکھ کھولنے کی کوشش کی مگر ہر بار یوں لگا جیسے اس کے پپوٹے آپس میں جڑ گئے ہوں‘ پورا جسم دکھ رہا تھا۔
چند لمحے وہ یوں ہی بے حس و حرکت پڑی رہی‘ پھر آہستہ آہستہ اس نے پوری آنکھیں کھول کر دیکھا۔ وہ ایک سادا سا مگر صاف ستھرا کمرہ تھا۔ باہر شام ڈھل رہی تھی۔
امرحہ کے حواس آہستہ آہستہ بیدار ہوئے تو اس نے دیکھا وہ ایک رہائشی کمرا تھا۔ صاف ستھرا بیڈ‘ ایک بڑی سی سیمنٹ کی بنی الماری‘ جس میں مردانہ کپڑے لٹک رہے تھے۔ ایک کونے میں میز رکھی تھی جس پر کچھ کتابیں موجود تھیں۔ دیوار کے ساتھ ایک چھوٹا سا آئینہ بھی لٹک رہا تھا۔
وہ ایک ایک چیز پر سرسری نظر ڈالتی دروازے کی طرف آئی جو باہر سے مقفل تھا۔
’’کوئی ہے؟‘‘ دروازے کے قریب ہی کھڑکی میں جھانک کر اس نے صدا لگائی مگر باہر پھیلے اندھیرے کی وجہ سے اسے کچھ بھی صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
گزرتے ہر لمحے کے ساتھ اندھیرا بڑھتا جارہا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس کی گھبراہٹ بھی۔ وہ جانتی تھی وہ اغوأ ہوچکی ہے اور اب تک یقینا اس کے اغوأ ہونے کی خبر شہر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی ہوگی‘ مگر شفاء اور اس کے والد اس خبر کے بعد کس حال میں ہوں گے یہ وہ نہیں جانتی تھی۔
شفاء اور فاطمہ جس انہونی کے ڈر سے خوف زدہ تھیں وہ انہونی ہوچکی تھی‘ تو گویا ایزد حسن کی طرح اس کی زندگی بھی سوالیہ نشان بن گئی تھی۔
ابھی جانے آگے اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔
’’کوئی ہے؟‘‘ ایک مرتبہ پھر اپنی ساری ہمت جمع کرکے اس نے صدا لگائی مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ بس… دور آسمان پر ابھرتا اداس چاند تھا۔
سرد ہوا تھمی اور مہیب سناٹا…
اسے اغوأ کرکے لانے والے غالباً اس کے وجود سے بے خبر ہوچکے تھے۔
(تیسرا اور آخری حصہ ان شاء اللہ اگلے ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close