Aanchal Oct-18

غلطی

راحت وفا

باری صاحب ناشتہ کرنے کے لیے ڈائننگ ٹیبل کی طرف آئے تو چائے کی کیتلی لاتی نوجوان حسین لڑکی کو دیکھ کر چونکے… وہ کیتلی رکھ کے چلی گئی تو انہوں نے اپنی بیوی ہما کو دیکھا۔
’’یہ نئی لڑکی کون ہے؟‘‘
’’لڑکی نہیں ملازمہ ہے۔‘‘ ہما بیگم نے ان کی پلیٹ میں فرائی انڈا رکھتے ہوئے کہا۔
’’میرا مطلب یہی تھا۔‘‘
’’ہاں‘ میں نے اس منحوس طاہرہ کو نکال دیا ہے۔‘‘
’’لاحول ولا قوۃ‘ اتنی اچھی خاتون کو نکال دیا۔‘‘ وہ منہ بناکر بولے۔
’’خاک اچھی تھی‘ ہفتے میں دو چھٹیاں اور کام کے معاملے میں ہزار حیلے بہانے۔‘‘
’’لیکن ماما…! پرانی ملازمہ تھی اب نئی کا کیا بھروسہ؟‘‘ ایان نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’تم چھوڑو‘ ناشتہ کرو‘ آفس سے دیر ہو رہی ہے۔‘‘
’’ہما بیگم‘ نوجوان بچی کو ملازمہ رکھنے کا مطلب ذمہ داری اٹھانا ہے۔‘‘ باری صاحب ابھی تک نئی ملازمہ میں الجھے ہوئے تھے۔
’’بھئی ضرورت مند ہے بلکہ اس کی چھوٹی بہن کو میں نے مشہد صاحب کے ہاں رکھوا دیا ہے۔‘‘ ہما بیگم نے بیٹے کے کپ میں چائے ڈالتے ہوئے بتایا۔
’’او خدایا… ایک اور احمقانہ حرکت… مشہد صاحب کے گھر جانتی بھی ہو کہ ان کے گھر میں کوئی خاتون نہیں۔ صرف ایک گیٹ پر چوکیدار ہوتا ہے۔‘‘ باری صاحب کو غصہ آگیا۔
’’ارے اسی لیے تو انہیں چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے ملازمہ کی ضرورت تھی۔‘‘
’’اور تمہیں یہ بچیاں ملیں کہاں سے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’مدرسے میں جو عورت کام کرتی ہے‘ یہ اس کی بیٹیاں ہیں۔ باپ نہیں ہے سو اس نے منت کی تو میں نے بلالیا۔‘‘
’’تو پہلی فرصت میں فارغ کردو اور اس چھوٹی بچی کو تو ابھی اسی وقت مشہد صاحب کے گھر سے بلائو۔‘‘
’’ماما… بابا ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘ ایان نے باپ کی تائید کی اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’دیکھو‘ تمہارے گھر میں بھی جوان بیٹا ہے اور کم از کم اپنی بھانجی رمشہ کا بھی سوچ لو‘ اس کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔‘‘
’’ارے توبہ بھئی‘ رمشہ کا مستقبل کہاں سے خطرے میں پڑگیا۔‘‘
’’ذرا لڑکی کو غور سے دیکھنا۔‘‘ باری صاحب نے کہا اور اٹھ کر چلے گئے۔ ان کی بھی ضروری میٹنگ تھی۔ ہما بیگم نے ان کے جاتے ہی آواز لگائی۔
’’تارہ… تارہ…‘‘ وہ بوتل کے جن کی مانند حاضر ہوگئی۔
’’جی ‘ جی…‘‘ وہ ہکلائی۔
ہما بیگم اسے غور سے دیکھنے لگیں۔ بلاشبہ وہ بہت خوبصورت تھی۔ عام سے شلوار قمیص میں بھی بہت حسین لگ رہی تھی۔
’’جی بیگم صاحبہ۔‘‘ اسے دوبارہ بولنا پڑا۔
’’دیکھو‘ یہ برتن اٹھائو‘ احتیاط سے دھونا۔‘‘ انہیں کہنا کچھ تھا مگر اندر کی الجھن میں کچھ اور کہہ گئیں… وہ برتن اٹھا کر چلی گئی تو انہوں نے فوراً مشہد صاحب کے گھر کا فون نمبر ملایا۔ اتفاق سے وہ ابھی کورٹ کے لیے نکلے نہیں تھے انہوں نے ان سے بچی کو جو ملازمہ کے طور پر رکھی تھی یہاں چھوڑ کے جانے کا کہا۔
اور پھر چند منٹ بعد ہی دس گیارہ سالہ عاشی ان کی نظروں کے سامنے تھی۔ انہیں اطمینان حاصل ہوا۔ اپنے دل میں اس کو بھی اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کرکے وہ مطمئن ہوگئیں۔ اس فیصلے پر باری صاحب کچھ مطمئن ہوئے مگر مشہد صاحب نے اسے بد اخلاقی گردانا… کچھ تلخ ہوگئے تو ہما بیگم نے بڑی منطقی بات کی۔
’’مشہد صاحب‘ آپ کے گھر میں کوئی خاتون نہیں ہیں اس لیے بچی کو کیسے اکیلا چھوڑا جاسکتا ہے؟‘‘
’’واہ‘ یہ خوب کہی مسز باری آپ نے‘ میں ہائی کورٹ کا سینئر وکیل قابل اعتبار نہیں۔‘‘ مشہد صاحب کو غصہ آگیا۔ مگر وہ مزید کجھ کہے سنے بغیر ہی چلے گئے۔
شام کو ہما بیگم نے شوہر کو مشہد صاحب کا جملہ ان ہی کے انداز میں سنایا تو بے ساختہ ہنس پڑے۔ یہ دیکھ کر مسز باری بھنا اٹھیں۔
’’حد کرتے ہیں آپ بھی‘ ارے اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟‘‘
’’ہما بیگم‘ آپ نے تو مشہد صاحب کے مرد وہ بھی تنہا ہونے پر شک کیا ناں غصہ تو آنا ہی تھا۔‘‘
’’چلو قصہ ختم ہوا۔ اب دونوں ہمارے ہاں ہی کام کریں گی۔‘‘ انہوں نے دو ٹوک فیصلہ سنایا۔
’’جو مزاج یار میں آئے… مگر پھر کہے دیتے ہیں کہ لڑکی بہت حسین ہے اور ایان ابھی بنا لائسنس کے ہے۔‘‘
’’آپ کے تو سامنے بیٹھنا ہی فضول ہے‘ میرے بیٹے کو ملازمہ اور رمشہ کی حیثیت کا فرق معلوم ہے۔ ویسے بھی میں اماں بی کا انتظار کررہی ہوں وہ کوئٹہ سے واپس آئیں تو ایان اور رمشہ کی باقاعدہ منگنی کروں۔‘‘ وہ بولیں۔
’’ویسے اپنے بیٹے سے پہلے رمشہ کے بارے میں کنفرم تو کرلو۔‘‘
’’باری صاحب… وہ میرا بیٹا ہے‘ میں جانتی ہوں۔‘‘
’’خاک جانتی ہو‘ بیٹا ہے‘ ہے تو ایک مرد ہی ناں۔‘‘ باری صاحب نے مزید جلایا۔
’’آپ اپنی طرح نہ سمجھیں۔‘‘
’’اجی… ہم تو فرشتہ صفت ہیں‘ گھر میں داخل ہوتے وقت آیتہ الکرسی پڑھ کر شیطان کو باہر چھوڑ آتے ہیں۔‘‘ وہ سینہ ٹھونک کر بولے۔
’’اچھا… اچھا… میں چپاتی ڈال رہی ہوں‘ آپ ہاتھ دھوکر کھانے کے لیے آجائیں۔‘‘ وہ بولیں۔
’’کیوں‘ وہ آپ کی نئی ملازمہ کہاں گئی؟‘‘
’’اسے تو میں نے چار بجے بھیج دیا تھا‘ جوان جہاں بچی اور دوسری چھوٹی بھی ساتھ تھی۔ شام بڑھ جاتی تو کون چھوڑنے جاتا؟‘‘ وہ فکر مندی سے کہہ کر اٹھیں۔
’’اچھا کیا۔‘‘ انہوں نے سراہا۔
ہما بیگم کے دماغ میں میاں کا جملہ اٹک سا گیا تھا۔
/…ء…/
رات معمول سے ہٹ کر ایان ذرا دیر سے گھر آیا تو اس کے لیے کھانا گرم کرکے ٹرے میں لگایا اور اس کے کمرے میں آگئیں۔
’’ماما جی‘ میں تو کھانا کھا کر آیا ہوں۔‘‘ ایان نے بڑی محبت سے کہا۔
’’ہیں…! کہاں کس کے ساتھ…؟‘‘
’’ارے باہر‘ ہوٹل میں اور کہا؟‘‘ وہ ذرا متعجب سا ہوا۔ اس سے پہلے کبھی انہوں نے ایسا سوال نہیں کیا تھا۔
’’کس کے ساتھ؟‘‘
’’ماما… خیر تو ہے‘ ظاہر ہے دوست ہی ہوسکتے ہیں…‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے‘ مگر گھر میں داخل ہوتے ہوئے آیتہ الکرسی پڑھ لیا کرو۔‘‘ انہوں نے باری صاحب کا جملہ اس کے سر پر دے مارا‘ وہ ہنسنے لگا۔
’’کمال ہے‘ گھر سے نکلتے ہوئے آپ پڑھ کر پھونکتی ہیں‘ سارا دن میں اللہ کی حفاظت میں رہوں اور آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہوتی ہیں۔‘‘ ایان نے پیار سے ماں کا ماتھا چوما تو وہ سرشار ہوگئیں۔
’’ہاں… یہ تو ہے‘ ایان مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے۔‘‘
’’آپ اب جائیں آرام کریں‘ بہت رات ہوگئی ہے۔‘‘
’’ہوں… کل رمشہ کو لے آنا۔‘‘ انہوں نے جاتے ہوئے پلٹ کر کہا۔
’’اوہ… چھوڑیں‘ ماما سر کھا جاتی ہے وہ‘ پھر اس کے الٹے سیدھے شوق بھی تو ہیں… میں نہیں لائوں گا۔‘‘ اس نے صاف انکار کردیا۔
’’حد کرتے ہو‘ آج کل کی بچیاں ایسی ہی ہوتی ہیں‘ میں اس کا تم سے رشتہ پکا کرنے لگی ہوں اور تم بیزار ہورہے ہو اس سے۔‘‘
’’ماما…! اللہ کا نام لیں‘ جائیں سو جائیں‘ مجھے بھی بہت نیند آرہی ہے۔‘‘ ایان نے منت سماجت کرکے انہیں ٹالا۔
اگلی صبح تارہ اکیلی کام پر آئی تو ہما بیگم نے فوراً اس سے عاشی کے متعلق پوچھا۔
’’وہ اماں کے ساتھ کام پر گئی ہے۔‘‘ تارہ نے مہین سی آواز میں جواب دیا۔
’’اچھا چلو تم جلدی سے ناشتہ بنائو‘ دیر ہورہی ہے۔‘‘ تارہ کچن میں مصروف تھی کہ ایان‘ ہما بیگم کے کچن میں ہونے کا سوچ کر اندر آگیا مگر وہاں تارہ عالم محویت میں پراٹھا بنا رہی تھی… اسے اس کے آنے کی بھی خبر نہ ہوئی۔ وہ شرمندہ سا الٹے قدموں باہر نکلا تو سامنے ہما بیگم کھڑی تھیں۔ وہ بوکھلا گیا۔
’’یہ تم اندر کیا کررہے تھے؟‘‘
’’یہ باوچی خانہ ہے‘ یہاں کیا کرنا چاہیے؟‘‘ وہ حواس بحال کرکے بولا۔
’’جو کام ہوا کرے مجھے بتایا کرو تمہیں‘ میں تارہ سے کہہ دوں گی… تارہ سے کوئی بات نہیں کرنی۔‘‘ انہوں نے دھیرے سے کہا۔
’’مطلب‘ تارہ میڈم سے بات کرنے کے لیے درمیان میں ایک ملازم ہونا چاہیے۔ پیغام رسانی کے لیے۔‘‘ ایان نے چڑ کر کہا۔
’’بکو مت‘ بولو کیا چاہیے؟‘‘
’’بس ایک کپ چائے اور دو گولی سر درد کے لیے۔‘‘ وہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ ہما بیگم نے اسے پہلے چائے بنانے کا کہا اور بہت نرمی سے بولیں۔
’’تارہ… یہ میرا بیٹا ہے ایان‘ ذرا لا ابالی ہے اس کی بات کو محسوس نہ کرنا۔‘‘
’’جی…‘‘ فقط اتنا بولی۔
وہ چائے اور دو گولی پینا ڈول لے کر باہر آگئیں۔
’’ایان… بیٹا خالی پیٹ دوا نہیں کھاتے‘ ساتھ میں کچھ لے لو۔‘‘
’’تو آپ لے آتیں ناں اس ملازمہ کو خود نہیں پتا کہ…‘‘
’’بس چپ کرو‘ کیا ملازمہ ملازمہ لگا رکھی ہے‘ اسے آئے دو دن ہوئے ہیں۔ دھیرے دھیرے پتا چلے گا۔‘‘
’’تو کس نے کہا تھا کہ طاہرہ خالہ کو نکال دیں… نہ جان نہ پہچان بس رکھ لیا۔ آج کل حالات اتنے خراب ہیں۔ ہاتھ دکھا گئی تو روتی رہیے گا۔‘‘ ایان بولتا چلا گیا۔ انہوں نے کچھ نہ کہا‘ غصے میں بڑبڑاتی ہوئی ڈائننگ روم میں آگئیں۔ باری صاحب انہماک سے اخبار پڑھ رہے تھے‘ انہیں دیکھ کر اخبار رکھ دیا اور مسکرا کر بولے۔
’’کیا ہوا؟ تیور بگڑے بگڑے سے نظر آتے ہیں۔‘‘
’’یہ آپ کا اکلوتا بیٹا بے چاری تارہ کو نکلوا کر دم لے گا۔‘‘
’’اوہ ہو…! کیا برا وقت آگیا ہے کہ صبح صبح ناشتے سے پہلے ایک ملازمہ زیر بحث ہے‘ کیا ہوگیا ہے بیگم آپ کو۔‘‘ باری صاحب نے اچھا خاصا طنزیہ انداز اختیار کیا تو انہیں اور غصہ آگیا۔
’’بھئی بے چاری غریب بچی ہے اس کی ماں شریف عورت ہے۔ معلمہ باجی اس کی ضامن ہیں پھر اس کے کام کرنے پر ایان کو کیوں اعتراض ہے؟‘‘
’’اعتراض اور احتیاط دونوں لازمی ہیں‘ نیا ملازم یا ملازمہ رکھتے ہوئے۔ اس نے ایسا کیا برا کہہ دیا۔‘‘
’’اب طاہرہ تو گئی‘ کیا اس کو بھی چلتا کردوں‘ مجھ سے تو گھر کے کام نہیں ہوتے۔‘‘
’’تو آپ کو کون کہہ رہا ہے کہ کام کرو‘ بس لڑکی پر نگاہ رکھو‘ مزید پوچھ گچھ کرلو اور ہاں دل نہ جلائو‘ ناشتہ لگوائو دیر ہورہی ہے۔‘‘ باری صاحب نے بڑے ٹھنڈے میٹھے لہجے میں ان کا غصہ زائل کردیا… وہ مطمئن ہوگئیں۔
/…ء…/
چند ہی دن میں تارہ نے ہما بیگم کا دل جیت لیا۔ ہر کام کرنے کا طریقہ سیکھ لیا۔ ناشتے میں کیا کھایا جاتا ہے؟ دوپہر کے کھانے میں کس طرح کی چیزیں تیار کی جاتی ہیں؟ برتن کچن کے کس کس ریک میں رکھے جاتے ہیں۔ چھوٹا سا گھرانہ تھا۔ کل تین آدمی‘ تین کمرے اس میں سے بھی ایک آج کل بند تھا۔ اماں بی اپنی بیٹی یعنی عارفہ کے پاس کوئٹہ گئی ہوئی تھی۔ عارفہ باری صاحب کی چھوٹی بہن تھیں۔ پچھلے ایک ماہ سے اماں بی اس کے پاس گئی ہوئی تھی۔ ایان صاحب کے کمرے میں ہر چیز سلیقے سے رکھنے اور اچھی صفائی کرنے پر ہما بیگم نے تعریف کی۔ پانچ سو روپے انعام دیا… اچھے سے دو جوڑے عارفہ کی الماری سے نکال کردیے‘ وہ خوش ہوگئی۔ اگلے دن وہ نہا کر ایک جوڑا پہن کر آئی تو ہما بیگم نے اس کی بہت تعریف کی… باری صاحب نے موبائل پر نظریں جمائے ہوئے انہیں ستانے کی خاطر کہہ دیا۔
’’دیکھ لو ہما بیگم ایان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھنا…‘‘
’’پھر بدفال منہ سے نکالی‘ لے دے کر آپ ایان کو کیوں درمیان میں لے آتے ہیں؟‘‘ وہ آگ بگولہ ہوئیں۔
’’یہی تو بات ہے کہ خواتین خود ہی اپنا نقصان کرتی ہیں۔‘‘
’’افوہ! بھئی کیا جرم کردیا میں نے…‘‘ وہ بگڑ کر چلائیں۔
’’جوان اور خوبصورت ملازمہ نہیں رکھنا چاہیے۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی‘ ان کا کوئی کمانے والا نہیں‘ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا کسی برے رستے پر چلنے سے تو بہتر ہے کہ گھر کا کام کرلے… شریف بچی ہے‘ آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتی۔‘‘ انہوں نے اچھی خاصی تقریر جھاڑی۔
’’چلو‘ جیسی تمہاری مرضی۔‘‘ باری صاحب نے ہتھیار ڈال دیے۔
’’اس کی ماں اتنی دعائیں دے رہی تھی‘ عاشی کے لیے بھی شکریہ کہہ رہی تھی۔ وکیل صاحب کے گھر میں بچی غیر محفوظ تھی۔‘‘
’’اچھا ایک کپ چائے پلوا دو‘ پھر میں ذرا مارکیٹ ہو آئوں…‘‘
’’تو مجھے شاہین کی طرف چھوڑ دیں‘ واپسی پر لے لیجیے گا۔‘‘
’’یہ لینے دینے میں نہیں آئوں گا۔ شاہین کے ڈرائیور کے ساتھ آجانا۔‘‘ انہوں نے ٹکا سا جواب دے دیا۔
’’ٹھیک ہے‘ میں آجائوں گی۔‘‘
انہوں نے تارہ کو ایک کپ چائے اور رات کے لیے سالن پکانے‘ آٹا گوندھنے کا کا بھی کہہ دیا۔ اس نے اثبات میں گردن ہلادی۔
’’بھولی بچی‘ چھٹانک کی زبان نہیں ہلاتی‘ کلو کا سر ہلا دیا۔‘‘ ہما بیگم نے مسکرا کر اس کے سر پر پیار بھری چپت لگائی… جب سے تارہ آئی تھی‘ وہ درس قرآن کے بعد گھر آکر آرام کرتی تھیں… سب کام تارہ نے جو سنبھال لیے تھے۔
’’تارہ اکیلی رہے گی۔‘‘ باری صاحب نے چلنے سے پہلے پوچھا۔
’’تو کیا ہوا‘ قابل اعتبار ہے۔‘‘ انہوں نے بڑے وثوق سے کہا۔
ان کی واپسی تقریباً دو ڈھائی گھنٹے بعد ہوئی۔ باری صاحب تو پہنچے بھی نہیں تھے‘ رمشہ گاڑی ڈرائیو کرکے انہیں چھوڑنے آئی تھی۔ ایان اپنے کمرے میں تھا۔ اس کی گاڑی دیکھ کر رمشہ کا چہرہ کھل اٹھا۔ ہما بیگم نے اسے ایان کے پاس جانے کا کہا۔ خود وہ تارہ کے پاس آگئیں جو فارغ بیٹھی ان ہی کی منتظر تھی۔ انہوں نے اسے گھر جانے کی اجازت دی اور فریج سے گزشتہ رات والے سالن کا ڈونگہ نکال کر اسے دیا ساتھ کچھ پھل بھی دے دیے۔ وہ خوشی خوشی چلی گئی۔
آج وہ خود بھی کافی خوش تھیں‘ شاہین نے اور اس کے شوہر فیاض نے رمشہ کے رشتے کے لیے کھل کر رضا مندی کا اظہار کردیا تھا اور اب اماں بی کے آنے پر منگنی ہونی تھی۔ رات کھانے کے دوران انہوں نے تذکرہ کیا تو ایان تو اچھل ہی پڑا۔
’’ماما…! کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ رمشہ آپ کی بھانجی ضرور ہے مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اسے میرے سر پر تھوپیں۔‘‘
’’ہیں…! ہیں…! کیا ہوگیا ہے برخوردار؟‘‘ باری صاحب بولے۔
’’بابا… زمانے بھر میں ایک رمشہ ہی میرے لیے رہ گئی ہے‘ مجھے رمشہ ٹائپ لڑکیاں بالکل پسند نہیں۔‘‘ ایان نے آج کھل کر مخالفت کردی۔
’’ارے…! کیا خرابی ہے رمشہ میں‘ پڑھی لکھی‘ دیکھی بھالی اور خوبصورت بھی ہے۔‘‘ ہما بیگم نے رمشہ کی وکالت کی۔
’’جی… فضول فیشن زدہ لڑکی‘ خالہ‘ خالو کو تو نظر نہیں آتا‘ کتنا چست لباس پہنتی ہے اور دوپٹا تو موصوفہ نے کبھی دیکھا تک نہیں‘ اوپر سے میک اپ کی تہ… بولے تو شالیمار ٹرین پیچھے رہ جائے۔‘‘
’’تو کیا گونگی بہری لڑکی چاہیے؟‘‘ ہما بیگم نے بھڑک کر پوچھا۔
’’بس فی الحال اس بکھیڑے میں‘ میں پڑنا نہیں چاہتا‘ کوئی لڑکی پسند آئے گی تو بتادوں گا۔‘‘ وہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔ ہما بیگم ہکابکا رہ گئیں۔ باری صاحب نے موبائل فون میں اپنے لیے عافیت ڈھونڈی۔
/…ء…/
بات آئی گئی ہوگئی تھی مگر ہما بیگم کے دل میں گرہ سی پڑ گئی تھی۔ ایان نے سخت اور دو ٹوک لفظوں میں رمشہ کے لیے انکار کردیا تھا۔ کچھ اعتراض ایان کا ٹھیک بھی تھا۔ انہیں خود بھی رمشہ کی ٹائٹس اور چست جینز ناگوار گزرتی تھی۔ ایان کی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے شاہین کو فون پر دبے دبے لفظوں میں سمجھایا مگر شاہین کو یہ بات اچھی نہ لگی بس احتراماً خاموش ہوگئی اور وہ بھی اٹھ کر اپنے کپڑوں کی الماری سیٹ کرنے لگیں۔
تارہ ان کے کمرے کی صفائی کے لیے آئی تو ہما بیگم نے بغور اسے دیکھا۔ عارفہ کے فیروزی سوٹ میں وہ بہت نکھری نکھری لگ رہی تھی۔ ہما بیگم کو ایک دم جیسے کسی نے نشتر چبھویا۔ ایسا لگا کہ ایان سے تارہ متاثر ہے۔ وہ چپ سی ہوگئیں۔ مگر تیسرے دن شام کو تارہ کی ماں اور عاشی اسے لینے آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں ہما بیگم سے درخواست کی کہ تارہ کا رشتہ خود کہیں کرادیں‘ ان کا کوئی سہارا نہیں ہے۔ اس بات نے ان کا رہا سہا سکون چھین لیا‘ ہما بیگم کا دل وسوسوں سے بھر گیا۔ بظاہر اثبات میں گردن ہلادی۔ مگر دل ہی دل میں وہ الجھن کا شکار تھیں۔
باری صاحب کو بھی محسوس ہورہا تھا مگر انہوں نے کچھ وقت ہما بیگم کو دانستہ دیا تاکہ وہ خود جب مناسب سمجھیں بتادیں۔ پھر ایسا ہی ہوا… عشاء کی نماز پڑھ کر انہوں نے معمول کے مطابق تسبیح پڑھی اور پھر باری صاحب کے ہاتھ سے ریموٹ لے کر ٹی وی بند کردیا۔ وہ متوجہ ہوئے۔
’’جی فرمائیے…‘‘
’’آپ کے آفس میں کوئی کلرک‘ کوئی بندہ ایسا ہے جو غیر شادی شدہ ہو؟‘‘ وہ بے ربط سا بول گئیں… باری صاحب کے چہرے پر حیرت نمایاں ہوئی۔ پھر لبوں پر شریر سا تبسم آگیا۔
’’بیگم آپ بھول رہی ہیں کہ آپ شادی شدہ ہیں۔‘‘ ذو معنی جملے پر ہما بیگم کا پارہ چڑھ گیا۔
’’ہوش کے ناخن لیں‘ جو منہ میں آتا ہے اول فول بک دیتے ہیں۔‘‘
’’بات ہی ایسی پوچھی ہے آپ نے…‘‘
’’دراصل تارہ کی ماں چاہتی ہے کہ کسی اچھی جگہ اس کا رشتہ کرادیں۔ بیوہ عورت ہے‘ کوئی پرسان حال نہیں۔ جوان بچی ہے۔ نیکی کا کام ہے۔‘‘ وہ چاہتی تو بہت کچھ تھیں‘ مگر اختصار سے بات کی۔ باری صاحب اصل بات سمجھ گئے۔
’’بیگم… ہمارا چھوٹا سا کاروبار ہے‘ تھوڑے سے ملازم ہیں‘ ان میں تمہارا ایان ہی غیر شادی شدہ ہے ایک بس۔‘‘
’’اوہو… فضول بات۔‘‘ وہ بگڑیں۔
’’بہترین حل یہ ہے کہ تارہ کو فارغ کردو اور دوسرا ملازم رکھ لو‘ ایک دو جتنے چاہو تارہ کی طرف سے جو فکر ہے اس کا یہی حل ہے‘ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔‘‘ باری صاحب نے حل نکالا۔
’’ارے ایک غریب بچی کو بے روزگار کردوں‘ کتنی مصیبت میں پڑ جائے گی۔‘‘
’’بہت سے گھر ہیں‘ کوئی نہ کوئی ملازم رکھ لے گا۔‘‘
’’کسی کے گھر کا کیا بھروسا‘ میرے دل میں اللہ کا خوف ہے۔‘‘ وہ بولیں۔
’’پھر اللہ پر بھروسا رکھو‘ تمہارا بیٹا اتنا بھی احمق نہیں۔‘‘ باری صاحب نے بڑی گہری بات کردی تھی۔
/…ء…/
چند دن انہوں نے خود کو سمجھایا بجھایا۔ تارہ کے طور طریقے معمول کے مطابق تھے انہیں ذرا اطمینان ہوا مگر اب یہ ان کا مشن بن گیا تھا کہ تارہ کی اچھی جگہ شادی کرانی ہے۔ اسی حوالے سے وہ اپنی کالونی کے سامنے والی کالونی میں مسز الیاس سے ملنے چلی گئیں۔ مسز الیاس کا میرج بیورو تھا۔ پہلے تو مسزا الیاس کو لگا کہ وہ ایان کے لیے رشتہ چاہتی ہیں لیکن پھر ملازمہ کا بتایا تو انہیں حیرت کے ساتھ خوشی ہوئی کہ آج کے دور میں اپنے ملازمین کے حوالے سے درد مند دل رکھنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ضرور کوئی رشتہ تلاش کردیں گی۔
ہما بیگم نے یہ کام کرکے خود کو کے ٹو کی چوٹی سر کرنے والی خاتون سمجھا‘ وہ بہت خوش تھیں کہ انہوں نے نیکی کا کام کیا ہے مگر جب گھر پہنچیں تو ان کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ تارہ ایان کا سر دبا رہی تھی۔ وہ بیڈ پر آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔ انہیں دیکھ کر وہ گھبرا سی گئی۔
’’یہ… وہ… چھوٹے صاحب کو بخار ہے۔‘‘
’’تم کیا کررہی تھیں۔‘‘ انہیں شدید غصہ آگیا۔
’’ماما… میں نے سر دبانے کو کہا تھا۔ بہت شدید درد ہے۔‘‘ ایان نے صفائی دی۔
’’اس کا مطلب یہ نہیں‘ چلو جائو تم باہر…‘‘ انہیں تارہ پر پہلی مرتبہ شدید غصہ آیا۔
’’تم نے ملازمہ کو سر پر بٹھالیا‘ حد کرتے ہو‘ ڈاکٹر کو بلا لیتے‘ سر درد کی گولی کھا لیتے۔‘‘ ہما بیگم کا طیش عروج پر تھا۔
’’کیا ہوگیا ملازمہ سر دبا دے تو گناہ ہے؟‘‘ ایان بھی چلا اٹھا۔
’’یہی سمجھ لو‘ جوان ملازمہ کی ذمہ داری ہوتی ہے‘ بس آئندہ خیال رکھنا۔‘‘ انہوں نے خوب سختی سے تاکید کی۔
تارہ پر اگلے چار چھ دن اس واقعہ کا بہت اثر رہا۔ اچاٹ طبیعت کے ساتھ کام کرتی رہی پھر دبے دبے لفظوں میں کام چھوڑنے کا عندیہ دیا تو ہما بیگم کے دل میں کھدبد ہونے لگی۔ گھر کا کام کرنا ان کے بس کا روگ نہیں تھا… زیادہ ملازم رکھنے کے وہ حق میں نہیں تھیں۔ ان کے خیال میں سادہ سی زندگی بسر کرنے کے لیے ایک ملازمہ کافی ہوتی ہے۔ بہت پُرتعیش زندگی بسر کرنے کے لیے زیادہ ملازمین کی فوج درکار ہوتی ہے۔ ان کے ہاں تو بس ایک چوکیدار اور ایک گھریلو ملازمہ کی ضرورت تھی۔ طاہرہ سے تنگ آکر اسے ہمدردی کی بنیاد پر کام دیا۔ مگر اب اس کی طرف سے فکر لاحق ہوگئی تھی۔
ہما بیگم کا مزاج بھی تو غیر متعدل سا تھا۔ رحم بھی کھانا اور پھر وسوسے اور شک کے ہاتھوں پریشان بھی رہنا۔ تارہ سے ہمدردی تھی‘ اس کا خیال تھا‘ مگر یہ فکر بھی دامن گیر تھی کہ ایان اس سے بے تکلف نہ ہو‘ وہ یہ برداشت نہیں کرسکتی تھیں کہ تارہ ایان کے سرہانے بیٹھ کر سر دبائے… ان کے اس خیال سے باری صاحب بھی متفق تھے۔ انہوں نے پھر یہی حل بتایا کہ… تارہ کو فارغ کردو۔
’’ارے کہاں کام کرے گی؟‘‘ وہ پریشانی سے بولیں۔
’’یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے۔‘‘
’’باری صاحب‘ وہ گھر بیٹھ نہیں سکتی‘ پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور کسی غلط گھر میں گئی تو…؟‘‘
’’پھر یہیں رکھو‘ مگر پریشان ہونا چھوڑ دو…‘‘ باری صاحب چڑسے گئے۔
’’اسی لیے تو چاہتی ہوں کہ ایان کی جلد شادی ہوجائے۔‘‘
’’ایان پر شک کرنا چھوڑ دو۔‘‘
’’ایک تو بی اماں بھی کوئٹہ جاکر بیٹھ گئیں۔‘‘
’’فون کرلو‘ جلد آنے کا کہہ دو۔‘‘ وہ یہ کہہ کر چل دیے اور ہما بیگم پھر بھی اس ذہنی الجھن میں پڑا گئیں کہ تارہ کے لیے کیا کیا جائے۔
/…ء…/
دوپہر شاہین اور رمشہ انہیں زبردستی اپنے ساتھ شاپنگ کے لیے ساتھ لے گئیں۔ انہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی تارہ کو تنہا گھر میں چھوڑا اور اسے محتاط رہنے کی سخت تاکید کی‘ ویسے بھی انہیں اندازہ تھا کہ ایان اور باری صاحب چار بجے کے بعد ہی آفس سے گھر آتے ہیں۔ بڑی بے دلی سے انہوں نے شاپنگ کی۔ تین بج رہے تھے جب وہ گھر پہنچیں۔ باری صاحب اپنے کمرے میں آرام کررہے تھے۔ تارہ کچن میں برتن دھو رہی تھی۔
’’صاحب کب آئے…؟‘‘
’’جی ابھی کچھ دیر پہلے۔‘‘
’’کھانا کھا لیا انہوں نے؟‘‘
’’جی نہیں‘ چھوٹے صاحب نے کھا لیا ہے۔‘‘
’’مطلب ایان آیا تھا…!‘‘ وہ چونکیں۔
’’جی‘ میں نے کھانا لگادیا تھا۔‘‘ وہ بولی۔
’’ایان…!‘‘ وہ نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبائے ششدر سی کھڑی رہ گئیں۔ یہ بالکل غیر معمولی بات تھی۔
’’ٹھیک ہے کھانا لگائو۔‘‘ وہ کچھ سختی سے کہہ کر باری صاحب کے پاس آگئیں… وہ آنکھیں موندے لیٹے تھے… وہ شش و پنج میں چادر اٹھا کر اور اپنا پرس اور موبائل فون لے کر گھر سے باہر نکل آئیں… قدم مدرسے کی جانب تھے۔ ذہن میں لاوا پک رہا تھا اور یہ لاوا جاتے ہی تارہ کی ماں پر انڈیل دیا کہ تارہ کو یہاں اپنی جگہ کام پر رکھوائو اور خود میرے پاس کام کرو‘ یہاں خواتین کا آنا جانا ہے‘ عاشی کے ساتھ وہ بھی رہ لے گی۔
’’میری مجبوری سمجھو۔ میں تنہا عورت ہوں‘ جوان بیٹا ہے‘ شوہر ہے۔ بچی کی طرف سے ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی۔‘‘ انہوں نے تارہ کی ماں کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی کہ انہوں نے یہ کہہ کر چپ کرادیا۔
’’حمیدہ‘ میری مجبوری سمجھو‘ تارہ یہاں معملمہ باجی کے پاس محفوظ رہے گی۔‘‘
’’مگر…‘‘ حمیدہ نے کچھ کہنا چاہا لیکن انہوں نے ایک نہ سنی۔
’’حمیدہ کل سے تم کام پر آؤ۔‘‘ ہما بیگم یہ کہہ کر الٹے قدموں واپس آگئیں۔
باری صاحب نے سری بات سنی تو غیر معمولی سنجیدگی ان کے لہجے میں آگئی۔
’’تمہارے اندر بڑی وہمی اور سخت دل عورت ہے یہ مجھے اندازہ نہیں تھا۔ اچھا بننے اور برا بننے کے حصار میں رہتی ہو… مجھے خوف محسوس ہورہا ہے۔‘‘
’’کیا مطلب ہے آپ کا‘ جوان بیٹے کو بھکٹنے دوں۔‘‘ وہ گرجیں۔
’’آہستہ بولو‘ یہ آدھا رحم میری سمجھ سے باہر ہے۔‘‘ وہ جھنجھلائے‘ مگر ہما بیگم نے ذرا پروا نہ کی… شام کو حمیدہ کے ساتھ تارہ کو چلتا کردیا۔ جاتے وقت تارہ کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ جس کی سزا اسے دی گئی تھی۔ ہما بیگم نے سنگدلی کی انتہا کردی تھی۔ ایان نے کڑی مذمت کی۔
’’ماما… بلاوجہ آپ نے ظلم کیا ہے‘ یا تو پہلے رکھتی ہی نہیں۔‘‘
’’ارے‘ تمہاری ماما کو یہ فکر لگ گئی کہ کہیں تم رمشہ کو ریجیکٹ نہ کردو…‘‘ باری صاحب نے جتلایا۔
’’وہ تو میں کرچکا ہوں اور میرے لیے ایسی بات سوچی بھی کیسے…؟‘‘ ایان غصے میں آگیا۔
’’میں ماں ہوں‘ ماں اپنی اولاد کی بہتری چاہتی ہے۔‘‘ انہوں نے کڑک لہجے میں کہا۔ ایان بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔ ہما بیگم نے سکھ کا سانس لیا۔
تارہ کو نکال کر جیسے ایان کو مورچا بند کردیا۔ ان کو پُر سکون نیند آئی لیکن ہول تو اس وقت اٹھے جب صبح سے دوپہر ہوگئی اور حمیدہ کام کے لیے نہ آئی‘ انہیں سب کام خود کرنے پڑے‘ ساتھ ساتھ حمیدہ کو برا بھلا بھی کہتی رہیں۔ شام کو باری صاحب کو روداد سنانا ہی چاہتی تھیں کہ انہوں نے ان کا ٹرین کا ٹکٹ سامنے رکھ دیا۔ وہ حیران ہوئیں مگر انہوں نے حیرت دور کردی۔
’’تیاری کرلو‘ رات کو ٹرین سے کوئٹہ جانا ہے‘ اماں سیڑھیوں سے گر گئی ہیں فریکچر ہوگیا ہے۔ عارفہ اکیلے تو نہیں سنبھال سکتی‘ اس کیا حالت تم تو جانتی ہو۔‘‘ انہوں نے لقمہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
’’مگر…‘‘
’’اگر مگر کیا؟ بس جانا ہے۔‘‘ باری صاحب بہت سنجیدگی سے بولے۔
’’میں اکیلی ٹرین سے…!‘‘
’’فلائٹ کوئی مل نہ سکی اور اکیلے میں کیا مسئلہ ہے ایان تمہیں چھوڑ کر آئے گا۔ میں اتنا لمبا سفر کر نہیں سکتا۔‘‘ وہ بولے… ہما بیگم جانے پر رضا مند تو ہوگئیں لیکن بڑبڑاہٹ میں غصہ شامل تھا۔
’’اتنے دن سے بلا رہے تھے اب مصیبت میں ڈال کر خوش ہیں بی اماں۔‘‘
نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں جانے کی تیاری کرنا پڑی‘ مگر ایان نے ساتھ جانے سے صاف انکار کردیا۔ اس کی کلائنٹ کے ساتھ بزنس مٹینگ تھی۔ مجبوراً ہما بیگم کو ٹرین میں بٹھا دیا گیا۔ وہ جا تو رہی تھیں لیکن دل گھر میں ہی اٹکا ہوا تھا۔ بس ذرا سی تسلی تھی کہ حمیدہ سب کچھ سنبھال لے گی… دو چار روز میں بی اماں کو جہاز کے ذریعے لے آئیں گی مگر یہ محض ان کی سوچ رہی۔
بی اماں کا آپریشن ہوا تھا۔ وہ تو ہل بھی نہیں سکتی تھیں۔ اسپتال میں تھیں… عارفہ بے چاری پورے دنوں سے تھی۔ یہ تو بھلا ہو محکمے کا کہ عارفہ کے میاں کو چار چھ ملازم ملے ہوئے تھے۔ عارفہ سے خود تو ہلنا جلنا دشوار تھا لیکن ملازمین سب کام دیکھ رہے تھے۔ بی اماں کے پاس کسی کا ہونا ضروری تھا۔ انہیں ہسپتال میں ٹھہرنا تھا۔ وہ سفر کی تھکن بھی نہیں اتار سکیں۔ یہاں تک کہ باری صاحب کو یا ایان کو فون تک نہیں کرسکیں۔ باری صاحب نے خود بی اماں کی خیریت معلوم کی تو انہوں نے حال احوال پوچھا۔
’’باقی سب تو ٹھیک ہے‘ تمہاری حمیدہ بیگم ایک دن کے بعد سے نہیں آرہیں…‘‘ باری صاحب نے بتایا۔
’’ہیں…! کیوں؟‘‘
’’مجھے کیا پتا‘ خیر تم پریشان نہ ہو چوکیدار کی بیوی ریشم کھانا پکاکر بھیج دیتی ہے۔‘‘ باری صاحب نے حسب عادت بڑا عام سا انداز رکھا اور فون بند گردیا۔ بات ادھوری رہ گئی تھی۔
’’حمیدہ کو کیا موت پڑگئی؟ کوئی کھانا ہی تو مسئلہ نہیں ہوتا‘ پورا گھر باپ بیٹوں نے کباڑ خانہ بنادیا ہوگا۔ عارفہ نے تسلی دی۔
’’بھابی‘ ایک ملازمہ پر بھلا گھر چلتے ہیں کیا؟ ماشاء اللہ بزنس مین کا گھر ہے‘ چار پانچ ملازم تو ہونے چاہیں۔‘‘
’’ایک ملازمہ کی اور چوکیدار کی ذمہ داری اٹھالوں تو بڑی بات ہے‘ زیادہ ملازم تو درد سر بن جائیں گے۔‘‘ عارفہ نے مزید بحث غیر ضروری سمجھی کیونکہ وہ ہما بیگم کی سوچ سے بخوبی واقف تھی۔
بی اماں کو اسپتال سے گھر منتقل کردیا گیا مگر ابھی بہت احتیاط کی ضرورت تھی۔ انہوں نے ایان سے ذکر کیا تو اس نے کہا۔
’’ماما… کوئی بات نہیں ہم بچے تو نہیں ہیں اور کچھ نہیں ہوا آپ کے گھر کو۔‘‘
’’دارالقرآن جاکر حمیدہ کا پتا تو کرنا تھا۔‘‘
’’دفع کریں حمیدہ کو‘ ہمیں کوئی پرابلم نہیں ہے‘ چوکیدار کی بیوی ریشم کو پیسے دیے تھے بابا نے‘ اس نے سب کپڑے دھو دیے‘ کچھ صفائی وغیرہ بھی کردی۔‘‘ ایان لاابالی تو ہمیشہ سے تھا۔
’’تو کیا میں یہیں بیٹھی رہوں…؟‘‘
’’عامر انکل سے کہیں جہاز کی ٹکٹ کرادیں یا پھر یہاں سے کراتا ہوں‘ مگر بی اماں کے ڈاکٹر سے پہلے پوچھ لیں‘ ہم وہاں بار بار جا نہیں سکتے۔‘‘
’’ارے ہمارے لاہور میں ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں کیا؟‘‘ وہ اشتعال میں آگئیں۔
’’چلیں پھر میں کچھ کرتا ہوں‘ آپ تیاری رکھیں۔‘‘
ایان کی تسلی کے باوجود ان پر عجیب قسم کی پریشانی طاری تھی۔ کسی کام میں جی نہیں لگ رہا تھا۔ وہ گھڑی کی چوتھائی میں اڑ کر گھر پہنچنا چاہتی تھیں مگر ایان نے ایک ہفتہ مزید گزار دیا۔ آٹھویں دن اطلاع دی۔
’’آن لائن ٹکٹ مل گئے ہیں۔ کل صبح دس بجے کی فلائٹ ہے۔‘‘ انہوں نے سکھ کا سانس لیا۔ سب تیاری مکمل تھی۔ اگلی صبح عامر اور ڈرائیور انہیں ایئر پورٹ چھوڑنے آئے۔ اللہ اللہ کرکے سفر طے پایا۔ لاہور ایئر پورٹ پر ایان اور باری صاحب لینے آئے تھے‘ بی اماں کو گھر لانے کے بعد ہما بیگم تو جیسے سکتے میں آگئیں… گھر کی تو بہت بری حالت ہوگئی تھی۔ ہر چیز پر دھول مٹی سے اٹی پڑی تھی… کچن میں گندے برتنوں کا ڈھیر‘ چولہے پر گری ہوئی چائے‘ دودھ اور تیل کے باعث جیسے کوئی اینیمل چڑھ گیا تھا۔ میلی بستر کی چادریں‘ گندے تولیے… وہ تو چکرا ہی گئیں۔
’’کوئی جاکر تو دیکھتا منحوس ماری حمیدہ کو‘ کم بخت چاند پر چلی گئی ہے کیا؟‘‘ وہ جھاڑن سے گرد جھاڑتی جا رہی تھیں اور بول رہی تھیں۔ مگر ان کی بات سننے کو کوئی موجود ہی نہیں تھا‘ دونوں باپ بیٹا تو جاچکے تھے۔ انہیں اس بات پر اور بھی غصہ آیا۔ چوکیدار سے کہہ کر اس کی بیوی ریشم کو بلایا۔ فرش دھونے کا کام اسے دیا اور خود چادر اوڑھ کر ارادہ کر ہی رہی تھیں کہ معلمہ باجی سے جاکر ماں بیٹیوں کا پتا کیا کریں کہ چوکیدار نے گیٹ پر آنے کو کہا… وہ تیز قدموں سے باہر نکلیں تو مشہد وکیل صاحب کو موجود پایا۔
’’السلام علیکم‘ بھابی صاحبہ‘ یہ مٹھائی اور نکاح نامہ کی کاپی آپ کے لیے ہے۔‘‘ مشہد صاحب نے مسکراتے ہوئے مٹھائی کا ڈبہ اور ایک سفید فائل ان کے ہاتھ میں تھمائی۔
’’جی…؟‘‘
’’آپ نے میرے گھر میں عورت نہ ہونے کے باعث ملازمہ کو غیر محفوظ سمجھا تھا۔ آپ کے اپنے شوہر نے اسی لیے تارہ سے نکاح کرکے اسے‘ اس کی ماں اور بہن کو محفوظ گھر دے دیا ہے… یقین نہیں تو فائل کھول کر دیکھ لیں۔ آپ غلطی پر تھیں‘ تارہ آپ کے ہاں غیر محفوظ تھی ہاہاہا…!‘‘ مشہد صاحب کا قہقہہ انہیں چاروں سمت گونجتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔
ان کا خدشہ درست نکلا تھا مگر اس کا روپ بدل گیا تھا۔ وہ سر تھام کر وہیں بیٹھ گئی تھیں۔
 

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close