Hijaab Nov-18

سگِ لیلیٰ

سباس گل

’’بھوں بھوں…‘‘ کتا بھونکنے لگا تو مجنوں بھائی نے پلٹ کر دیکھا۔ اعلا نسل کا سفید ٹمی اس کے پیچھے رکھی کرسی کے عقب میں کھڑا اظہار خیال کررہا تھا۔
’’ہائیں… شادی کی تقریب ہے۔ یہاں کتے کا کیا کام؟‘‘ مجنوں بھائی نے تیوری چڑھا کر کہا تو لیلیٰ کے ابا میاں سیٹھ قدرت اللہ بولے۔
’’یہ میری بیٹی کا کتا ہے۔ کوئی للو پنجو کتا نہیں… وہ جان دیتی ہے اس پر‘ بھلا یہ اپنی مالکن کی شادی میں شریک کیسے نہ ہوگا؟ اور تم کیا جانو کتا بہت وفا دار ہوتا ہے۔‘‘
’’اچھا… تو پھر کتے سے ہی کروا دیتے اپنی بیٹی کی شادی۔‘‘ مجنوں بھائی نے چڑ کر کہا تو جواب فوری آیا۔
’’اسی لیے تو تجھ سے کروا رہا ہوں۔‘‘
’’ابے لے… یہ تو بڑی کراری بے عزتی والی جگت مار دی سسر جی نے۔ اب کیا بولے گا استاد؟‘‘ مجنوں بھائی کے بغل میں کھڑا گڈو مدھم آواز میں چکرا کے بولا۔
’’تین دفعہ… ’قبول ہے‘ بولوں گا۔‘‘
’’اب بھی؟‘‘ گڈو نے مجنوں بھائی کو حیرت سے دیکھا۔
’’کیا مطلب اب بھی… اب کیا شادی کا سیزن آف ہوگیا ہے؟‘‘
’’نہیں مگر جتنی لیلیٰ کے باپ نے تمہاری عزت افزائی کی ہے ناں، تمہیں تھوڑی سی تو محسوس ہونا چاہیے تھی… غیرت مند مرد ہونے کا ڈیمو ہی دے دیتے۔‘‘ گڈو آہستگی سے بولا۔
’’تو چپ کر جا سالے… تیرا ڈیمو دینے کے چکر میں میری لیلیٰ میرے ہاتھ سے نکل جائے گی۔‘‘ مجنوں بھائی نے اسے ڈپٹ کر کہا تو وہ سر کھجاتے ہوئے بولا۔
’’ہاں‘ یہ تو میں نے سوچا ای نیٔں۔‘‘
’’جو کام تیرے بس کا نہیں ہے اس پر وقت نہ برباد کیا کر سمجھا۔‘‘
’’اچھا استاد… اب سسر کا بدلہ مجھ سے کیوں لے رہے ہو۔ تمہارے نکاح پر ڈھول تاشے بھی تو ہم یار دوست‘ بھائی لوگ ہی بجائیں گے ناں؟‘‘ گڈو نے مجنوں بھائی کی ٹھوڑی کو چھوتے ہوئے کہا تو وہ بیزاری سے بولا۔
’’ہاں اگر لیلیٰ کے ابا میاں نے بجانے دیے تو… وہ تو تمہارا بینڈ بجانے کو پر تول رہے ہیں۔‘‘
’’آپ کہیں تو ان کے پر کاٹ دیں۔‘‘ گڈو فوراً وفاداری اور یاری نبھانے والے انداز میں بولا۔
’’وہ کیسے؟‘‘ مجنوں بھائی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’یہ تم اپن پر چھوڑ دو اور پھر دیکھو تماشا۔‘‘
’’یاد رکھیو، اگر تیرا پلان فیل ہوا تو تیرا انجام عبرت ناک ہوگا۔‘‘ مجنوں استاد نے اسے متوقع نتیجے سے ڈرایا۔
’’ابھی تو تم اپنی ناک بچائو استاد… اپنی لیلیٰ کو بیاہو اور گھر لے آئو۔‘‘ گڈو نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا کر بولا۔
’’وہ تو ان شاء اللہ تعالیٰ میں لے ہی آئوں گا۔ بس تو سارے انتظام دیکھ لینا نہیں تو میں تجھے دیکھ لوں گا۔‘‘
’’ارے تم فکری نہ کرو استاد۔ گڈو کے ہوتے ہوئے آپ کو ٹینشن لینے کی نہیں۔ بس آپ یہ دیکھ لو کہ آپ کی لیلیٰ بھی کہیں آپ کے ہونے والے سسر جی کی ہم مزاج تو نہیں؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ لیلیٰ لیلیٰ کرتے سر میں خاک ڈالے سڑکوں صحرائوں میں نکل جائو اور لیلیٰ بھی آپ کو پتھر مارنے والوں میں شامل ہو اور یہ گانا بھی نہ گائے آپ کو پتھر کھاتے دیکھ کر کہ…
کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو
کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو‘‘
گڈو اسے دیکھتے ہوئے اپنی رو میں بولتا چلا گیا وہ بھڑک کر بولا۔
’’ابے چپ کر منحوس، کالی زبان والے… کیسی بدفال منہ سے نکال رہا ہے۔ شکل تو تیری اچھی ہے نہیں کم از کم بات تو اچھی کرلے۔‘‘
’’ناراض کیوں ہوتے ہو استاد… میں تو صرف خدشہ ظاہر کررہا تھا تاکہ تم حفاظتی اقدامات کرسکو۔‘‘ گڈو مسکرا کر بولا۔ مجنوں بھائی تپے ہوئے انداز میں بولے۔
’’بس رہنے دے تو، کچھ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں… بس یہ یاد رکھیو کہ اگر انتظامات میں کوئی کمی ظاہر ہوئی نا تو میں تجھے اپنے بچائو کے لیے حفاظتی اقدامات کرنے کی مہلت بھی نہیں دوں گا۔ اللہ اللہ کرکے تو وہ موٹا راضی ہوا ہے میری اور لیلیٰ کی شادی کو، اب رنگ میں بھنگ نہیں پڑنا چاہیے۔‘‘
’’ارے کہا ناں استاد… فکر نہ کرو۔ تم بس دولہا بننے کی تیاری کرو۔ ہم تمہارا کمرہ بھی اپنے ہاتھوں سے سجائیں گے۔‘‘ گڈو نے مسکراتے ہوئے بہت جوشیلے لہجے میں کہا۔
’’اب ہم چلتے ہیں۔‘‘ گڈو نے مفلر نما کپڑا اپنے گلے میں ڈالتے ہوئے کہا۔
’’تو پہلے کیا رینگتے تھے؟‘‘
’’کیا استاد… تم بھی نہ بہت جگتیں مارتے ہو۔ اسٹیج تھیٹر پر کام کرو۔ قسم سے ہزاروں لاکھوں کمائو گے۔‘‘ گڈو نے ہنس کر مفت مشورہ دیا۔
’’کیا گالیاں؟‘‘ مجنوں استاد بولا۔
’’اپنے استاد کے لیے کچھ اچھا نہ سوچیو۔ یہ تیرے بس کا کام ہے ہی نہیں۔ چل شاباش جو کام کہا ہے ناں وہ کر جاکے۔‘‘
’’اچھا استاد… ملتے ہیں بریک کے بعد۔‘‘ گڈو مسکراتا ہوا بولا اور وہاں سے چلا گیا۔ مجنوں استاد خوشی سے مسکراتے ہوئے اپنی بڑھی ہوئی شیو والی ٹھوڑی پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
’’ہاں لیلیٰ پیاری… ملتے ہیں بریک کے بعد۔‘‘ وہ زیرلب بولا۔ اس کے چہرے پر خوشی مسکراہٹ کی صورت کھلی پڑ رہی تھی۔
خ…ؤ…خ
یوں تو مجنوں خوش شکل عملی آدمی تھا بلکہ اٹھائیس سالہ جوان تھا۔ محلے میں بڑی سی پرچون کی دکان تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے جنرل اسٹور میں بدل گئی تھی‘ شہر کے وسط میں ورکشاپ بھی تھی‘ محنتی تھا تب ہی ترقی کر گیا۔ محلے میں ہر کسی کے کام آتا مگر کسی کی غلط بات برداشت نہیں کرتا تھا۔
تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ مجنوں کے ابا فرہاد حسین کو گزرے تین برس بیت گئے تھے۔ جانے کیا سوچ کر ابا فرہاد نے بیٹے کا نام مجنوں رکھا تھا۔ مجنوں کی اونچی لمبی قامت اور کھلی کھلی گندمی رنگت کے ساتھ دلکش نین نقش والی شخصیت پر بہت سی دوشیزائوں کے دل دھڑکتے تھے مگر مجنوں میاں تو بس نام کے ہی مجنوں تھے۔ کسی کو عاشق کی نظر سے دیکھنا بھی گناہ سمجھتے تھے۔ ان کی اماں نادرہ بیگم کو ان کا گھر بسانے کی تمنا تھی اور وہ تھے کہ کسی لڑکی کے لیے ہاں نہیں کرتے تھے۔
’’استاد تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ خالہ کو ہر وقت تمہاری شادی کی فکر رہتی ہے۔ اچھا کھاتے کماتے ہو ایک سے ایک اچھے گھر کی لڑکی کا رشتہ موجود ہے تمہارے لیے، تم پتا نہیں کیوں ہاتھ پیلا کراتے؟‘‘ ایک دن گڈو نے سنجیدگی سے اس سے بات کی۔ گڈو اس کا خالہ زاد بھائی تھا اور ورکشاپ پر اس سے کام سیکھتا رہا تھا۔ اب ماہر مکینک بن گیا تھا۔ ایک طرح سے اس کا دایاں بازو تھا اور وہ اگر کسی سے کہہ سن لیتا تھا تو وہ گڈو ہی تھا اور اگر وہ بات نہ کرنا چاہتا تو خاموش رہتا۔ ابھی بھی ایسا ہی ہوا تو گڈو نے چڑ کر اس کا کندھا ہلایا۔
’’مجنوں استاد…‘‘
’’کیا ہے ابے؟‘‘ وہ بولا۔
’’تم شادی کیوں نہیں کرتے؟‘‘
’’جب محبت ہوجائے گی تو شادی بھی کرلیں گے۔‘‘ مجنوں بھائی کا سیدھا سا جواب آیا تو گڈو زچ آکر بولا۔
’’اچھا اور یہ محبت کب ہوگی؟‘‘
’’کب ہوگی، یہ تو اب اللہ ہی جانے۔ محبت پوچھ کر، وقت کا حساب کتاب کرکے تھوڑی ہوتی ہے۔ یہ تو بس ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔‘‘ مجنوں استاد نے گہرے لہجے میں کہا۔
’’اللہ کرے اس مجنوں کو لیلیٰ جلد مل جائے۔‘‘ گڈو نے اسے ہمدردانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے دعا کی۔
’’مل جائے گی… مل جائے گی تو فکر نہ کر کام کر۔‘‘ مجنوں استاد نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور اس کی کمر پر تھپکی دی۔
’’اچھا استاد۔‘‘ وہ منہ بسور کے پھر سے کام پر لگ گیا تھا۔
خ…ؤ…خ
اس روز مجنوں استاد ورکشاپ پر اکیلا کام کررہا تھا۔ گڈو چائے لینے گیا تھا باقی کاریگر بھی قریبی ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھانے گئے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک سفید رنگ کی ہونڈا سوک آکر ورکشاپ کے قریب رکی۔ مجنوں استاد کرسی پر بیٹھا سامنے رکھے میز پر کاریگروں کا کھاتہ کھولے ہوئے نظریں دوڑا رہا تھا۔ گاڑی کی آواز سن کر اس نے نگاہ اٹھائی تو سفید کار میں سے سیاہ رنگت والی لڑکی برآمد ہوئی۔
’’یہ کیا… یہ سنگھاڑا الٹا ہوگیا کیا؟‘‘ مجنوں استاد نے اس لڑکی کو دیکھتے ہی بے اختیار کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ گھونگھریالے بالوں والی ماڈرن سی لڑکی، سرخ ٹرائوزر اور پیلی شرٹ میں ملبوس تھی۔ دوپٹا آج کل کے ماڈرن فیشن کے مطابق غائب تھا۔ لہٰذا وہ بھی بنا دوپٹے کے، اٹھلاتی ہوئی اپنے ہاتھوں میں سفید رنگ کا شیفرڈ کتے کی زنجیر تھامے ورکشاپ میں داخل ہوئی۔
’’یہ کتیا کے ساتھ کتے کا کیا کمبینیشن ہے بھئی؟‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’سنو… میری گاڑی بار بار بند ہورہی ہے۔ ذرا چیک کرنا کیا مسئلہ ہے۔‘‘ اس لڑکی نے اپنے سن گلاسز اتارتے ہوئے مجنوں استاد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی اچھا… گاڑی کی چابی دیں میڈم جی۔‘‘
’’چابی کیوں؟‘‘
’’نبض ہاتھ میں لوں گا تو پتا چلے گا ناں کہ مرض کیا ہے؟‘‘
’’پتا نہیں کیا بول رہے ہو… یہ لو چابی۔‘‘ لڑکی نے چابی اس کی طرف بڑھائی۔ مجنوں استاد نے کتے کو بھنویں سُکیڑ کے دیکھا اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ اس کا بونٹ کھلا تو کتا بھی اس کے قریب آگیا اور اسے دیکھتے ہوئے بھونکا۔
’’کیا ہے؟‘‘ مجنوں استاد نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا۔
’’یہ پوچھ رہا ہے کہ گاڑی میں کیا مسئلہ ہے؟‘‘ جواب میں لڑکی بولی۔
’’اگر یہ کتا اتنا ہی سمجھ دار ہے تو اسے ہی بھیج دیا ہوتا۔ گاڑی خود لانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ وہ جل کر بولا۔
’’کیا کہا؟‘‘ وہ اسے گھورتے ہوئے بولی۔
’’گاڑی کا انجن گرم ہوگیا ہے۔ پانی ختم ہوگیا ہے، تھوڑی دیر اسے ٹھنڈی ہوا لگائو، پانی پلائو اپنے آپ ٹھنڈی ہوجائے گی۔‘‘ مجنوں استاد نے گاڑی کو اچھی طرح چیک کرنے کے بعد کہا۔
’’یعنی مجھے رکنا پڑے گا۔‘‘
’’مرضی ہے آپ کی میڈم جی… آپ نہ رکنا چاہو تو اپنا کتا یہاں چھوڑ جائو۔ یہ گاڑی ٹھیک ہونے پر لے آئے گا۔‘‘ مجنوں استاد نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کتے کو دیکھ کر کہا تو وہ پھر بھونکنے لگا۔
’’شٹ اپ۔‘‘ لڑکی نے برا مناتے ہوئے کہا۔
’’اپنے کتے کو بھی شٹ اپ کرالو میڈم جی… خوامخواہ بھونکے چلا جارہا ہے۔‘‘
’’اسے تمہاری بات بری لگی ہے اسی لیے بھونک رہا ہے۔‘‘
’’واہ بھئی بڑا حساس کتا ہے یہ تو۔‘‘ مجنوں استاد تمسخرانہ انداز میں ہنسا۔ اتنے میں کتا بھونکتے بھونکتے تیزی سے سڑک کی طرف بھاگا۔
’’ٹمی… ادھر آئو میرے پاس۔‘‘ لڑکی کتے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تو مجنوں استاد نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا اور پھر کتے کو دیکھا جو بھاگا جارہا تھا کہ ایک طرف سے تیز رفتار ویگن آئی اور قریب تھا کہ کتا ویگن کی زد میں آجاتا مجنوں استاد نے بھاگ کر اس کی دم پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ فضا میں کتے کی درد ناک چیخ کے ساتھ اس کی مالکن کی خوفناک چیخ بھی گونجی تھی۔
’’ابے کیا ہوگیا۔ ذرا سی بات کا اتنا برا منا لیا کہ خودکشی کرنے چلا تھا۔ واہ بھئی، تُو تو بہت ہی نازک مزاج اور حساس طبیعت کا کتا نکلا۔‘‘ مجنوں استاد نے کتے کو دیکھتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔
کتا مسلسل بھونکے جارہا تھا اور اس اچانک افتاد پر ہانپ بھی رہا تھا۔ لڑکی بھاگ کر اس کے قریب آئی اور کتے کو اس کے ہاتھوں سے لے لیا۔
’’اوہ مائی ٹمی… تھینک گاڈ تم ٹھیک ہو۔‘‘ وہ کتے کو اپنے ساتھ لپٹا کر بول رہی تھی۔ مجنوں استاد حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ لڑکی اس سے مخاطب ہوئی۔
’’تھینک یو ویری مچ… تم نے میرے ٹمی کی جان بچالی۔‘‘
’’ہمارے محلے میں ایک خالہ رہتی ہے۔ انہوں نے اپنے پوتے کا نام ٹمی رکھا ہے تمکین عرف ٹمی اور آپ نے اپنے کتے کا نام ٹمی رکھا ہوا ہے۔ غریب آدمی پیار میں جو نام اپنے بچوں کا رکھتا ہے۔ وہی نام امیر آدمی اپنے بلی کتوں کے رکھتا ہے عجیب ہی معاملہ ہے۔ بھئی اپنی تو سمجھ سے باہر ہے۔‘‘ مجنوں استاد نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میرے لیے یہ صرف کتا نہیں ہے۔‘‘ لڑکی بولی۔ ’’یہ میرا دوست‘ باڈی گارڈ ہے‘ اس نے ایک دفعہ میری جان بچائی تھی۔‘‘ لڑکی نے بتایا۔
’’اچھا…! وہ کیسے؟‘‘
’’مجھے مارکیٹ میں کچھ لڑکے چھیڑنے لگے۔ یہ اچانک کہیں سے آگیا اور ان پر جھٹ پڑا۔ وہ ڈر کر چیختے چلاتے اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگ گئے۔‘‘
’’ویسے کیا واقعی آپ کو لڑکوں نے چھیڑا تھا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’اندھے تھے کیا؟‘‘ مجنوں استاد کی زبان پھسلی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ لڑکی نے اسے گھورا۔
’’میڈم جی… بنا دوپٹے، چادر کے جب آپ بازار میں گھوموگی تو کوئی بھی چھیڑ سکتا ہے چاہے مذاق میں ہی سہی۔ خیر اپنے ٹمی کو سنبھال کے رکھیں۔ ابھی کتے کی موت مارا جاتا۔‘‘ مجنوں استاد نے گاڑی کا بونٹ بند کرتے ہوئے کہا۔ کتا پھر سے بھونکنے لگا۔ مجنوں استاد نے بھی اسے گھورا۔
’’اللہ نہ کرے اسے کچھ ہو۔ اسے تو میں ہر وقت اپنے ساتھ رکھتی ہوں۔ جب سے اس نے میری جان بچائی ہے‘ اسے اپنے ساتھ ہی کھلاتی پلاتی ہوں۔‘‘
’’پھر تو ساتھ سلاتی بھی ہوں گی اس کو۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’کچھ نہیں… میں کہہ رہا تھا کہ مجھے آپ امیروں کی امیری آج تک سمجھ نہیں آئی۔ کتے بلے تو خود پالتے ہیں اور ان کے اپنے بچے نوکر پالتے ہیں۔‘‘ مجنوں استاد نے صاف گوئی سے کہا تو وہ ہنس کر بولی۔
’’تم بہت دلچسپ آدمی ہو‘ اچھے لگے‘ یہ میرا کارڈ رکھ لو۔ کبھی ضرورت ہو تو ملنے آجانا۔ تم نے میری ٹمی کی جان بچائی ہے اس لیے تم میرے محسن ہو۔‘‘ لڑکی نے اسے اپنی گاڑی کے ڈیش بورڈ میں سے اپنا کارڈ نکال کردیا۔
’’اچھا جی، میں… ویسے مجنوں نام ہے میرا۔‘‘
’’میرا نام لیلیٰ ہے۔‘‘ لڑکی نے ایک دم سے خوش ہوکر اپنا تعارف کرایا۔
’’اچھا جی… یہ تو بڑا سنگین اتفاق ہوگیا پھر تو قیس بھی یہیں کہیں دم دبائے بیٹھا ہوگا۔‘‘ مجنوں مسکراتے ہوئے بولا تو وہ بے اختیار ہنس دی۔ مجنوں کو لگا جیسے کہیں بادل سے گرجے ہوں۔
’’یا اللہ خیر… آپ ہنس رہی ہو یا ڈرا رہی ہو۔‘‘
’’تم واقعی دلچسپ آدمی ہو۔‘‘
’’شکریہ… یہ سیٹھ قدرت اللہ آپ کے والد گرامی ہیں کیا؟‘‘ مجنوں استاد نے اس کا دیا ہوا وزیٹنگ کارڈ پڑھ کر پوچھا۔
’’ہاں یہ میرے ڈیڈی ہیں تم جانتے ہو انہیں؟‘‘ لیلیٰ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’لو، انہیں کون نہیں جانتا۔ پرانی مارکیٹ میں کباڑیے کی دکان تھی ناں ان کی؟ واہ رے اللہ کی قدرت… قدرت اللہ آج سیٹھ قدرت اللہ بنا ہوا ہے پرانا مال بیچ بیچ کر نیا مال بنا لیا… سنا ہے کاغذ کا کارخانہ لگالیا ہے قدرت اللہ نے مگر پرانا کاٹھ کباڑ اب بھی خرید رہا ہے وہی ہے ناں یہ؟‘‘ مجنوں استاد نے اسے دیکھتے ہوئے ہنس کر طنزیہ لہجے میں کہا تو وہ خجل سی ہوکر سٹپٹا کر بولی۔
’’نہیں تو، ایسا کچھ نہیں ہے میرے ڈیڈ نے بہت محنت سے بنایا ہے سب کچھ… ہمارے باپ دادا بھی کافی امیر تھے۔‘‘
’’مان لو میڈم جی کہ آپ نئے نئے امیر ہوئے ہو‘ نو دولتیے ہو‘ ذرا حلیہ تو دیکھو اپنا۔ یہ لال پیلے کپڑے کالا رنگ اور سفید کار… یہ جدی پشتی فقیری اور غریبی کی د استان سنا رہے ہیں۔ غریب آدمی کو تین رنگ کا لباس پہننے کی عادت ہوہی جاتی ہے۔ کسی رنگ کی شلوار پہن لی، کسی رنگ کا کرتا پہن لیا۔ دوپٹا پھٹا پرانا میلا سا ملا تو اوڑھ لیا، زیادہ غربت بڑھ جائے تو دوپٹا بھی اتر جاتا ہے۔ بس یہی بیک گرائونڈ ہے آپ کا بھی۔‘‘ مجنوں استاد بولتا چلا گیا یہ دیکھے بنا کہ لیلیٰ کو اس کی باتوں سے سبکی محسوس ہورہی تھی۔
’’شٹ اپ… تم چھوٹے اور غریب لوگوں کا یہی مسئلہ ہے۔ ذرا سا مسکرا کر بات کرلو یا تعریف کردو تو تم لوگ اپنی اوقات بھول جاتے ہو اور سر پر چڑھ کر ناچنے لگتے ہو۔ یہ پکڑو اپنے کام کا معاوضہ، اینڈ شٹ یور مائوتھ۔‘‘ لیلیٰ نے غصے سے تیز لہجے میں کہتے ہوئے اپنے پرس میں سے سو کا نوٹ نکالا اور وہاں رکھی میز پر پھینک دیا اور ٹمی کو لے کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ ٹمی مجنوں استاد کو دیکھتا بھونک رہا تھا۔ مجنوں استاد کو غصہ آگیا اور وہ اسے ہاتھ سے مارنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
’’ابے چپ کر سالا… کتا کہیں کا۔‘‘ لیلیٰ نے ٹمی کو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ سن گلاسز آنکھوں پر لگائے، گاڑی اسٹارٹ کی اور وہاں سے چلی گئی۔
خ…ؤ…خ
گڈو نے اسے گاڑی میں بیٹھتے اور جاتے دیکھا تھا مجنوں استاد کے پاس آکر پوچھنے لگا۔
’’استاد… وہ سانولی حسینہ کون تھی کتے کے ساتھ؟‘‘
’’سات سلام ہیں تیری سوچ پر‘ ہمیشہ چھوٹی سوچ ہی رکھنا‘ نہ تجھے اتنی بڑی کار نظر نہیں آئی جس میں وہ لڑکی بیٹھ کے گئی ہے۔ وہ چھٹانک بھر کا شیطانی کتا تجھے نظر آگیا۔‘‘ مجنوں استاد پہلے ہی لیلیٰ کی باتوں کی وجہ سے غصے میں تھا، گڈو کے پوچھنے پر بھڑک اٹھا۔
’’اچھا اب بتائو ناں کون تھی وہ لڑکی؟‘‘ گڈو نے اس کا غصہ نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
’’لیلیٰ تھی۔‘‘
’’ہیں… وہ مجنوں والی لیلیٰ۔‘‘ گڈو پر جوش لہجے میں بولا۔
’’تیرا دماغ خراب ہوا ہے کیا؟ وہ سیٹھ قدرت اللہ کی بیٹی تھی۔‘‘
’’یہاں کیوں آئی تھی؟‘‘ گڈو کا سوال خاصا بے تکا تھا۔ مجنوں استاد کا پارہ ہائی ہونا لازمی تھا۔
’’پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے تھے اس کے‘ اس لیے وہ یہاں چورن پھکی لینے آئی تھی۔ ایک دوں گا الٹے ہاتھ کا، سالے یہاں کوئی کیوں آتا ہے اپنی گاڑی لے کر‘ خراب ہوتی ہے تو ہی آتا ہے ناں؟‘‘ مجنوں استاد نے اسے غصے سے گھورتے ہوئے ناراض اور تپے ہوئے لہجے میں کہا تو وہ خجل سا ہوکر گاڑی ٹھیک کرنے کے کام میں لگ گیا۔ مجنوں استاد کافی دیر تک لیلیٰ کی باتوں پر کڑھتا رہا۔
’’مجنوں استاد… اول درجے کے منہ پھٹ اور بد لحاظ ہو تم۔ ایک لڑکی کو ایسی جلی کٹی طنز بھری باتیں سنائو گے تو کیا وہ خاموش رہے گی۔ لیلیٰ نے جو کہا۔ ٹھیک کہا تم کو اس کی امیری غریبی سے کیا لینا… کل اس کا باپ کباڑیہ تھا آج سیٹھ ہے تو اس میں برائی کیا ہے۔ اس کے دن پھر گئے ہیں تو یہ اللہ کی قدرت اور رحمت ہے ناں اس پر۔ تو کون ہوتا ہے اس کی بیٹی کو طعنے دینے اور بے عزت کرنے والا… شرم کر ایک لڑکی کو تو اس کی غربت یاد دلا کے اس کی دولت کا مذاق اڑا رہا تھا تو لیلیٰ کو آئینہ نہیں دکھا رہا تھا۔ اصل میں تو اپنا کم ظرف ہونا، اپنا جلاپا دکھا رہا تھا وہ بکواس کرتے وقت، تف ہے تیری سوچ پر۔‘‘ مجنوں استاد کو سارا وقت اس کا ضمیر کٹہرے میں کھڑا کیے لعن طعن کرتا اور شرم دلاتا رہا۔
رات کو وہ سونے لیٹا تو بند آنکھوں کے سامنے وہ کالی لیلیٰ پوری آب و تاب کے ساتھ آکر مسکرانے لگی۔ مجنوں استاد نے گھبرا کے آنکھیں کھول دیں۔ کچھ دیر میں پھر سے آنکھیں موندیں پھر وہی لیلیٰ نظر آنے لگی۔ چار پانچ بار اسی طرح ہوا تو وہ جھنجھلا کر بیٹھ گیا۔
’’کیا مصیبت ہے یار… یہ لیلیٰ کیوں میری آنکھوں میں گھسی چلی آرہی ہے۔ وہ بھی ہیل والی جوتی سمیت؟ حالانکہ میں نے تو ٹھیک ٹھاک سی بے عزتی کردی تھی اس کی۔‘‘ اچانک مجنوں استاد پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ اس لیلیٰ کے عشق میں مجنوں ہورہا ہے۔ یہ انکشاف کسی صدمے سے کم نہ تھا مجنوں استاد کے لیے اور ان سے بڑھ کر ان کی اماں نادرہ بیگم کے لیے۔ وہ تو سنتے ہی غش کھا گئیں۔
’’ارے وہ حبشن ہی ملی تھی تجھے دل لگانے کو… میں کسی حبشی حسینہ کو اپنی بہو نہیں بنانے کی کہہ دیا میں نے۔‘‘ ہوش آیا تو اماں کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے مگر مجنوں استاد اپنا مرض لے کر لیلیٰ کے دیئے کارڈ پر لکھے پتے پر پہنچ گئے۔
لیلیٰٰ نے اسے گھر میں دیکھا تو خوش گوار حیرت میں گھر گئی۔ وہ اس وقت اپنے ٹمی کو گود میں لیے لان میں چیئر پر بیٹھی تھی۔ مجنوں استاد وہیں چلا آیا۔
’’سلام میڈم جی۔‘‘ مجنوں استاد نے لیلیٰ کو دیکھتے ہوئے سلام کیا۔ وہ سیاہ شرٹ و ٹرائوزر میں ملبوس اپنے گھونگھریالے بال کھولے سچ مچ حبشی عورت دکھائی دے رہی تھی۔
’’وعلیکم سلام… تم یہاں کیسے آئے؟‘‘
’’رکشے سے آیا ہوں۔‘‘ جواب برجستہ دیا۔
’’شاید تم اس دن کی گئی بدتمیزی اور بے عزتی کی معافی مانگنے آئے ہو۔‘‘ لیلیٰ نے اسے دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا۔
’’آیا تو مانگنے ہوں‘ پر معافی نہیں تمہارا ہاتھ۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ کھڑی ہوگئی، ٹمی اس کی بانہوں میں تھا اور مجنوں استاد کو دیکھتا عجیب عجیب آوازیں نکال رہا تھا۔
’’مجھے محبت ہوگئی ہے تم سے… اس لیے تمہارے ابا سے تمہارا ہاتھ مانگنے آیا ہوں۔ بولو مجنوں سے شادی کروگی؟‘‘ مجنوں استاد نے ایک دم سے تمہید باندھے بغیر اظہار محبت کرنے کے ساتھ ہی اسے شادی کی پیشکش بھی کردی وہ تو دنگ رہ گئی نہ صرف دنگ بلکہ دل ہی دل میں خوشی سے جھوم اٹھی تھی کہ اسے اتنا ہینڈسم لڑکا شادی کی پیشکش کررہا ہے مگر مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے بولی۔
’’کیوں… میں تم سے شادی کیوں کروں؟‘‘
’’دو چار کالے کالے بچے پیدا کرنے کے لیے۔‘‘ وہ چڑ کر بولا۔
’’سیدھا سیدھا بول رہا ہوں کہ محبت ہوگئی ہے جب ہی شادی کی آفر کررہا ہوں… منظور ہے تو بولو ورنہ رہنا ساری زندگی اپنے اس کتے کے ساتھ۔‘‘
’’تمہارا دماغ خراب ہوا ہے کیا؟‘‘ وہ تنک کر بولی اور ٹمی کو نیچے لان میں چھوڑ دیا۔
’’جی ہاں، دماغ ہی خراب ہوا ہے ورنہ صحیح دماغ رکھنے والا بھلا تمہیں کیوں پروپوز کرے گا۔‘‘
’’شٹ اپ۔‘‘ وہ مجنوں کے طنزیہ لہجے پر غصے سے بولی۔
ٹمی نے ایک قاتل نگاہ مجنوں استاد پر ڈالی اور بھونکتا تیزی سے گھر کے اندر کی جانب بھاگ گیا۔
’’لو بھئی، تمہارا ٹمی تمہارے ابا سے شکایت لگانے گیا ہے۔ ان کی خوف صورت میرا مطلب ہے خوب صورت بیٹی کو خوبرو نوجوان شادی کے لیے پروپوز کررہا ہے۔‘‘
’’شٹ اپ اینڈ گیٹ آئو فرام ہیئر۔‘‘ لیلیٰ تیز لہجے میں بولی۔
’’بات سنو میڈم جی… یہ شٹ اپ‘ سوری‘ گیٹ آئوٹ جتنی انگریزی ہمیں بھی آتی ہے۔ اس سے زیادہ سیکھ لو تو شاید کوئی کالا انگریز تمہیں اپنے نکاح میں قبول کرلے۔ ورنہ ہم تو ہیں ہی۔ یہ میرا کارڈ ہے۔ ایک فون کردینا اپن بارات لے کر آجائے گا۔ میرا مطلب ہے ہم بینڈ باجہ بارات کے ساتھ حاضر ہوجائیں گے۔ چلتے ہیں اپنے کباڑیے سے مشورہ کرلیجیے گا۔ اللہ حافظ۔‘‘ مجنوں استاد اپنی بات مکمل کرکے سامنے میز پر اپنا وزیٹنگ کارڈ رکھ کر وہاں سے چلا گیا۔ لیلیٰ وہیں کھڑی سوچتی رہ گئی۔
خ…ؤ…خ
سیٹھ قدرت اللہ کو مجنوں کا رشتہ غنیمت لگا اور فوراً ہاں کردی۔ ان کا خیال تھا کہ وہ مجنوں کو گھر داماد بنا لیں گے۔ اس کا جنرل اسٹور اور ورکشاپ تو تھا ہی ساتھ ہی اپنے کاروبار میں شراکت کا لالچ دے کر اسے اپنی مٹھی میں کرلیں گے۔ لیلیٰ کی ماں کا انتقال ہوچکا تھا۔ لیلیٰ کو الٹے سیدھے بے ڈھنگے ملبوسات اور فیشن کا شوق تھا۔ تعلیم واجبی سی تھی یعنی بارہ جماعت پاس اور وہ بھی تھرڈ ڈویژن میں… بظاہر اس میں کوئی بھی ایسی خوبی نہ تھی کہ کوئی لڑکا اس سے شادی کا طلب گار ہوتا۔ ایسے میں مجنوں کا رشتہ باد صبا کے جھونکے سے کم نہ تھا۔
سیٹھ قدرت اللہ کا خیال تھا کہ مجنوں اس کی بیٹی کے ذریعے اس کی جائیداد پانے کا خواہاں ہے تب ہی وہ اس کی کم صورت بیٹی سے محبت کا اظہار کرکے شادی کرنا چاہ رہا ہے۔ مجنوں کے سامنے اس نے خود کو بڑا معتبر اور بااختیار ظاہر کرنے کی کوشش کی اور اسے جتا بھی دیا کہ بیٹی کی پسند اور خوشی کا خیال کرتے ہوئے یہ رشتہ قبول کیا ہے۔ ادھر مجنوں استاد کی ماں نادرہ بیگم بیٹے کی پسند کے آگے ہار ماننے پر مجبور ہوگئی تھیں۔
’’میں نے تو دل پر پتھر رکھ کے اس حبشن کا رشتہ مانگا ہے… دل تو چاہ رہا تھا وہی پتھر اس حبشن کے سر پر دے ماروں۔ ہائے اس کالی نے کالا جادو کروایا میرے مجنوں پر ورنہ کیا مجنوں کے لیے لڑکیوں کا کال تھا۔‘‘ نادرہ بیگم نے آہیں بھرتے ہوئے صدمے سے کہا تو مجنوں کی چھوٹی بہن بولی۔
’’اماں… بیٹے کی خوشی کے لیے یہ کڑوا گھونٹ پی لو۔‘‘
’’کڑوا گھونٹ کہاں ہے؟ یہ تو زہر کا گھونٹ ہے۔‘‘ نادر بیگم نے دکھی دل کے ساتھ کہا۔
’’قسمت کا لکھا ٹل تو نہیں سکتا ناں خالہ۔‘‘ گڈو بولا۔
’’ہر بلا ٹل سکتی ہے کالی بلا بھی صدقے میں دی جائے تو۔‘‘ مجنوں کی بہن بولی۔
’’اگر کوئی خود ہی بلا کو اپنے گلے کا ہار بنانا چاہے تو کوئی کیا کرسکتا ہے؟ خیر چھوڑو اس افسوس ناک بحث کو۔ مجنوں کی خوشی کے لیے اٹھ جائو بس۔‘‘ نادرہ بیگم نے خود کو سنبھالتے ہوئے ان سب کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ بھی تیار ہونے چل دیے۔
خ…ؤ…خ
شادی کی تقریب کا انعقاد لیلیٰ کے بڑے سے بنگلے کے لان میں تھا۔ مجنوں بارات لے کر صحیح وقت پر پہنچ گیا تھا۔ پٹاخے، انار پھوڑے جارہے تھے۔ گڈو کے ساتھ ساتھ مجنوں استاد کے سب یار دوست کزن ڈھول کی تھاپ پر نہ صرف بھنگڑے ڈال رہے تھے بلکہ منہ سے عجیب و غریب آوازیں بھی نکال رہے تھے۔ سیٹھ قدرت اللہ نے آدھے گھنٹے تک تو یہ سب ہلہ گلہ بڑے ضبط سے برداشت کیا اور آخرکار چیخ کر بولا۔
’’ابے بس کرو… یہاں کوئی ناچ گانے کا مقابلہ ہورہا ہے کیا؟ مراثیوں کی طرح ناچے چلے جارہے ہیں یہ اپنے فن کا مظاہرہ کہیں اور جاکے کرلینا۔ ابھی وہ کام کرو جس کے لیے یہاں آئے ہو۔‘‘
’’او چاچا… کوئی چائے پانی کا تو پوچھ لے باراتیوں کو یا سوکھے منہ نکاح کے کلمے پڑھوا کے چھوہارے ہی کھلائے گا؟‘‘ گڈو نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’او چھوہارے جیسے منہ والے… تم لوگ ٹک کے بیٹھو گے تو ہم چائے پانی کا پوچھیں گے ناں۔ چلو بیٹھو ادھر پنڈال میں۔‘‘ سیٹھ قدرت اللہ نے گڈو کو دیکھتے ہوئے چڑ کے کہا اور پھر اپنے ملازم سے مخاطب ہوا۔
’’او بالے… ٹھنڈی بوتلیں پہنچا ادھر… پلا باراتیوں کو تپے وے آئے ہیں سارے۔‘‘
’’ابھی لایا سیٹھ جی۔‘‘ ملازم فوراً حکم کی تعمیل میں لگ گیا۔ باراتیوں کو ٹھنڈی بوتلیں پلانے کے بعد نکاح خواہ کو نکاح پڑھوانے کے لیے بلایا گیا۔ مجنوں استاد سفید کرتے شلوار پر سیاہ سنہری کام والی شیروانی پہنے ہوئے تھا۔ پائوں میں کھوسہ پہنے دلکش نین نقش اور کلین شیو چہرے کے ساتھ خوب جچ رہا تھا۔ نادرہ بیگم تو اس کی بلائیں لیتے تھک نہیں رہی تھیں۔ گھر سے نکلنے سے پہلے مجنوں استاد کا صدقہ بھی دیا گیا تھا۔ ایک کالے بکرے کا کالی اور بری بلائوں سے محفوظ رکھنے کے لیے۔ قبول ایجاب کی رسم شروع ہوئی تو گڈو کی زبان پھسلی۔
’’اسے کہتے ہیں آبیل مجھے مار۔‘‘
’’نہ نہ بیل نئیں آبلا مجھے رلا۔‘‘ نادرہ بیگم اس کی بات کی تصحیح کرتے ہوئے بولیں۔
’’دولہا دلہن آمنے سامنے بیٹھیں گے تب ہی نکاح ہوگا۔‘‘ مجنوں استاد نے عجیب سی فرمائش کردی۔
دلہن لیلیٰ تو اندر اپنے کمرے میں بیٹھی تھی اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں۔
’’ہیں… بائولا ہوا ہے کیا؟‘‘ نادر بیگم جو برابر والے صوفے پر براجمان تھیں، اس کی بات سن کر بولیں۔
’’آپ کو ابھی بھی شک ہے۔‘‘ گڈو کی رگ ظرافت پھڑکی۔ اس کا اشارہ مجنوں استاد کی لیلیٰ جیسی کم صورت لڑکی سے بیاہ رچانے کی طرف تھا۔
’’ارے مجھے تو یقین ہے۔ ضرور اس لیلیٰ نے جادو کروایا ہے۔‘‘ نادرہ بیگم کھسر پھسر کرتے ہوئے بولیں تو مجنوں استاد نے کہا۔
’’میری بھی سن لو یا آپس میں اظہار ہمدردی ہی کرتے رہوگے۔‘‘
’’میں کس طرح کہوں سیٹھ سے کہ بیٹی کو نکاح سے پہلے دولہے کے سامنے لاکے بیٹھا دے۔‘‘ نادرہ بیگم چڑ کر بولیں۔
’’اماں… میں اندر جاکے دلہن کو دیکھ آئوں؟‘‘ مجنوں استاد کی بہن عامرہ نے اجازت طلب کی تو نادرہ بیگم جلے ہوئے لہجے میں بولیں۔
’’کیوں؟ ایسی کون سی حور پری ہے وہ جو تو اسے دیکھنے کو اتاولی ہوئی جارہی ہے۔ آجائے گی تھوڑی دیر میں یہاں پھر ساری زندگی دیکھیو۔‘‘
’’اماں… دولہا دلہن کا نکاح آمنے سامنے بیٹھ کر ہی ہوگا۔‘‘ مجنوں استاد نے پھر سے کہا تو نادرہ بیگم غصے سے بولیں۔
’’صبر نہیں ہوتا تیرے سے۔‘‘
’’خالہ مان لو اس کی بات۔ ہوسکتا ہے لیلیٰ کو سامنے دیکھ کر مجنوں استاد اپنے فیصلے پر غور کرلیں اور اپنا ارادہ بدل لیں۔‘‘ گڈو نے آہستگی سے ان کے کان میں کہا تو وہ پُرسوچ انداز میں سر ہلاتے ہوئے بولیں۔
’’کہہ تو ٹھیک رہا ہے۔ اللہ تیری زبان مبارک کرے۔ ٹھہر جا میں قدرت اللہ سے بات کرتی ہوں۔‘‘ نادرہ بیگم نے سیٹھ قدرت اللہ سے دلہن کو اسٹیج پر لانے کی بات کی تو وہ جیسے انتظار میں ہی تھا ادھر انہوں نے کہا ادھر دلہن حاضر ہوگئی۔ سرخ عروسی جوڑے میں طلائی زیورات سے لدی پھندی گہرے میک اپ میں میچنگ چوڑیاں، میچنگ جوتے پہنے ریڈ انڈین لگ رہی تھی۔ مجنوں استاد سمیت ان سب نے دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔
’’اوئی ماں… یہ تو لگ رہا ہے کوئلے کی کان میں آگ لگ گئی ہے۔‘‘
’’تجھے کیوں آگ لگ رہی ہے… تیری شادی نئیں ہورہی اس لیے؟‘‘ مجنوں استاد نے اسے گھورتے ہوئے کہا تو وہ فوراً بولا۔
’’ایسی شادی سے بہتر ہے کہ میری شادی نہ ہو۔‘‘
’’ہاں ہاں دیکھ لوں گا میں بھی تو کون سی حور پری بیاہ کے لاتا ہے؟‘‘ مجنوں استاد نے چھیڑنے اور چڑانے والے انداز میں کہا۔
’’اللہ کرے تجھے کسی بھینگی بھنگن سے محبت ہوجائے پھر پوچھوں گا تجھ سے بڑا آیا میری محبت میں کیڑے نکالنے والا۔‘‘
’’کیڑے تو نہیں نکال رہا البتہ دانت ضرور نکال رہا ہے ہر باراتی دلہن کو دیکھ کے۔‘‘ گڈو نے پٹ سے جواب دیا۔
’’تم دونوں آپس میں چونچیں لڑاتے رہنا۔ چل گڈو… دیکھ جاکر نکاح نامہ پر کررہے ہیں وہ لوگ؟‘‘ نادرہ بیگم نے دونوں کو گھورتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی گڈو کو حکم دیا۔
وہ اپنی ہنسی دباتا مولوی اور سیٹھ قدرت اللہ کی جانب چلا گیا اور چند منٹ بعد ان کے پاس آتے ہی مجنوں استاد سے مخاطب ہوا۔
’’مجنوں استاد… حق مہر کتنا لکھوانا ہے؟‘‘
’’ان سے پوچھ لو جو کہیں رکھ لو۔‘‘ مجنوں استاد نے دلہن اور سیٹھ قدرت اللہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ لوگ سامنے اسٹیج پر موجود تھے اور یہ ان کے سامنے موجود تھے۔
’’وہ تو پانچ لاکھ کہہ رہے ہیں۔‘‘ گڈو نے بم پھوڑا۔
’’کیا…؟‘‘ مجنوں استاد کو تو جیسے کرنٹ لگ گیا۔
’’ابے کیا جنت سے حور پکڑ کے لائے ہیں۔ بڑے آئے پانچ لاکھ… اس شکل پر کوئی پانچ روپے نہ دے اسے۔‘‘
’’اور آپ اسے اپنی پوری زندگی دینے چلے ہو استاد۔‘‘ گڈو نے بے ساختہ کہا۔
نادرہ بیگم پانچ لاکھ کے حق مہر کا سن کر بھڑک اٹھیں۔
’’ہمیں اس سیٹھ نے بے وقوف سمجھ رکھا ہے کیا؟ بول دے اسے پانچ ہزار حق مہر منظور ہے تو نکاح پڑھائیں، نئیں تو ہم لے جائیں گے بارات واپس۔ ہمارے لڑکے کو لڑکیوں کی کمی نہیں… اس جیسی تو ہزاروں مل جاویں گی۔‘‘ ان کی بات سنتے ہی گڈو دوسری طرف جا پہنچا اور سیٹھ قدرت اللہ سے کہنے لگا۔
’’سیٹھ جی‘ وہ کہہ رہے ہیں کہ پانچ ہزار حق مہر رکھنا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ مجنوں استاد کے لیے لڑکیاں بہت۔‘‘ لیلیٰ کا کوئی رشتہ نہیں آرہا تھا اب اتنا خوب صورت جوان داماد کی شکل میں مل رہا تھا تو سیٹھ بے جا ضد اور ہٹ دھرمی دکھا کے اسے گنوانا نہیں چاہتا تھا سو جھٹ سے ان کی بات مان لی۔
’’مولوی صاحب… نکاح شروع کریں حق مہر دلہے کی پسند کا ہی رکھیں، میں لڑکے پر اس کی حیثیت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔ وہ خوشی سے اور آسانی سے جو دے سکے وہی ٹھیک ہے۔‘‘ اور یوں چند منٹ بعد لیلیٰ مجنوں نکاح کے بندھن میں بندھ گئے۔ مبارک سلامت کا شور بلند ہوا۔ دولہا کو دلہن کے برابر میں بٹھا دیا گیا۔ تصویریں اتاری جانے لگیں۔ دولہا دلہن دونوں ہی بہت خوش تھے۔
دولہا اس لیے خوش تھا کہ اسے اپنی محبت مل گئی تھی اور دلہن اس لیے خوش تھی اسے اس رنگ روپ کے باوجود ایک چاہنے والا مرد شوہر کے روپ میں مل گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد کھانا کھول دیا گیا۔ کھانے میں صرف زردہ، پلائو اور سلاد تھا اور ساتھ سادہ پانی۔ وہ جو مرغ روسٹ اڑانے کی نیت سے آئے تھے۔ ان کی امیدوں پر پانی پڑچکا تھا۔ مجنوں استاد کو تو بہت غصہ آرہا تھا یہ اہتمام دیکھ کر۔ سیٹھ قدرت اللہ کو دیکھتے ہوئے وہ بول ہی پڑا۔
’’سیٹھ صاحب… یہ کھانا آپ نے ہماری حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بنوایا ہے یا اپنی حیثیت و استطاعت کے حساب سے پکوایا ہے؟‘‘
’’بھئی کھانا تو میں نے حکومت کا حکم مانتے ہوئے پکوایا ہے۔ حکومت نے ون ڈش کی اجازت دی ہے ناں شادی بیاہ میں تو میں نے تو حکومت کے کہے پر عمل کیا ہے ورنہ پولیس کے چھاپے حوالات جیل جرمانے کون بھگتتا میاں؟‘‘ سیٹھ قدرت اللہ نے مرغ پلائو پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے جواب دیا۔
’’سچ کہا آپ نے مگر ہمارے ولیمے کا پکوان دیکھنا سیٹھ جی۔ آپ کو اپنی حیثیت یاد آجائے گی۔‘‘ مجنوں استاد نے مسکراتے ہوئے کہا اور کھانا کھانے لگا کہ رزق کی ناقدری کرنے والوں میں سے نہیں تھا وہ حق حلال کی محنت کی روزی روٹی کھاتا تھا لہٰذا رزق کی قدر تھی اسے۔ کھانے کے بعد رخصتی کا شور اٹھا۔ سیٹھ قدرت اللہ نے پُر نم آنکھوں کے ساتھ لیلیٰ کو مجنوں کے سنگ وداع کردیا۔
مجنوں استاد کے گھر بارات پہنچی تو اس کا شاندار استقبال کیا گیا۔ تمام رسمیں ادا کی گئیں۔ لیلیٰ کے ہاں تو نکاح کے علاوہ کوئی رسم ہی ادا نہ ہوئی تھی۔ دلہن کا رنگ روپ دیکھ کر محلے والیاں باتیں بنا رہی تھیں۔ مذاق اڑا رہی تھیں، مگر منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں مسکرا مسکرا کر مبارک باد بھی دے رہی تھیں۔
لیلیٰ کا کتا ٹمی اور ایک عدد درمیانی عمر کی ملازمہ بھی اس کے ساتھ آئے تھے۔ محلے والیاں جو رات کے وقت دلہن دیکھنے کے شوق اور تجسس میں مبتلا ہوکر وہاں آئی تھیں انہیں خاصی مایوسی ہوئی تھی۔
’’اے لو یہ ہے دلہن؟ اسے تو کل پرسوں بھی آکے دیکھ لیتی میں، خوامخواہ میری نیند خراب کری بہو تم نے۔‘‘ ایک پڑوسن کشور بی بی اپنی بہو سے خفا ہوتے ہوئے بولی۔
’’امی جی… میں تو سمجھی تھی مجنوں کی دلہن بھی اس کی طرح گوری چٹی پیاری ہوگی۔ اب مجھے تھوڑی نہ پتا تھا کہ اس نے ویسٹ انڈیز کی لڑکی پسند کرلی ہے۔‘‘ بہو نے بدمزہ ہوکر جواب دیا۔
’’ہیں… یہ کیا اٹھا لائی نادرہ؟ وہ تو چاند سی بہو ڈھونڈ رہی تھی اپنے مجنوں کے لیے تو یہ چاند ملا اسے۔ توبہ یہ تو توے کی طرح سیاہ ہے اوپر سے لال جوڑا پہنا دیا۔ مجنوں کی تو مت ماری گئی تھی جو اس لڑکی کو بیاہ لایا۔‘‘ ایک اور محلے کی خاتون نے دبے دبے لہجے میں کہا۔
’’مجنوں کی عقل پر پتھر پڑ گئے تھے کیا جو اس لیلیٰ سے پیار کر بیٹھا؟‘‘ ایک موٹی سے خاتون بولیں جو کب سے مجنوں پر نظریں لگائے بیٹھی تھیں کہ وہ ان کا داماد بن جائے۔
’’خالہ… تم نے وہ پرانی لوک داستان تو سنی ہوگی لیلیٰ مجنوں کی، سنا ہے کہ لیلیٰ بہت کالی تھی۔ پھر بھی کرماں والی تھی کہ مجنوں اسے دیوانوں کی طرح چاہتا تھا۔ پیار تو ایسا ہی ہوتا ہے خالہ… پاگل کردینے والا۔ دنیا کی باتوں اور ذاتوں سے بے پرواہ۔‘‘ بائیس سالہ ریحانہ نے محبت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تو وہ عورت اس کی ماں کشور بی بی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
’’اے کشور… اپنی لڑکی کی باتیں سن رہی ہے۔ کیسی محبت پیار کے سبق سنا رہی ہے۔ نظر رکھ اس پر، جوانی کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ کہیں یہ بھی تیرے واسطے کوئی کالا کلوٹا داماد نہ پسند کر بیٹھے۔‘‘
’’ہائے ہائے تیرے منہ میں خاک… میری بیٹی کیوں ایسا لڑکا پسند کرنے لگی؟ پڑھی لکھی ہے۔ تجھے ایک تو عقل کی بات سمجھا رہی ہے اور تو اسے اپنی لڑکی کی طرح سمجھ رہی ہے۔‘‘ کشور بی بی تو اس کی بات سن کر بھڑک اٹھیں اور اسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہونہہ…‘‘ اس موٹی عورت نے نخوت سے منہ پھیر لیا تھا۔
خ…ؤ…خ
کمرہ بہت خوب صورتی سے سجایا گیا تھا۔ گلاب اور موتیے کے پھولوں کی لڑیاں دلہن کی سیج کے چہار اطراف لہرا رہی تھیں جن کی خوشبو سانسوں کو معطر کررہی تھی۔ لیلیٰ کو اس شاندار سجاوٹ سے مجنوں کی اپنے لیے محبت کا بخوبی اندازہ ہوگیا تھا۔ وہ سوچ کر ہی ہوائوں میں اڑ رہی تھی کہ مجنوں بری طرح اس پر مرمٹا ہے۔ اب اسے تھوڑی سی لگاوٹ اپنائیت اور چاہت دکھا کر مجنوں کو بالکل ہی اپنے بس میں کرنا تھا کہ اسے اس گھر اور محلے سے نکال کر اپنے عالیشان بنگلے میں لے جائے جہاں وہ اس کے ساتھ خوب عیش و آرام سے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارے پہلے کی طرح۔
’’بھوں بھوں۔‘‘ ٹمی کے بھونکنے نے اسے چونکنے پر مجبور کردیا۔ اس کی سوچوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا اور اس نے آواز کی سمت دیکھا۔ اس کا کتا ٹمی اس کی ملازمہ زبیدہ کے ہاتھوں میں مچل رہا تھا۔ لیلیٰ اسے دیکھتے ہی کھل اٹھی اور بانہیں پھیلا کر بولی۔
’’لائو اسے مجھے دے دو۔‘‘ اسی وقت مجنوں کمرے میں داخل ہوا یہ منظر دیکھ کر تپ ہی تو گیا تھا وہ اور ٹمی بھی اسے دیکھ کر یوں بھونکا تھا جیسے کہہ رہا ہو کہ بچو میری اہمیت دیکھ لے میں تیرے کمرے میں تجھ سے پہلے پہنچا ہوں۔
’’یہ کتا یہاں کیا کررہا ہے؟‘‘ مجنوں استاد نے لیلیٰ کو دیکھتے ہوئے ابرو اچکا کر سپاٹ لہجے میں سوال کیا۔
’’زبیدہ… تم اسے پاپا کے گھر لے جائو مگر صبح جلدی لے آنا۔‘‘ لیلیٰ نے اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے زبیدہ سے کہا تو وہ ٹمی کو لے کر وہاں سے چلی گئی۔
’’میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے یہ کتا اس وقت یہاں کیا کررہا تھا؟‘‘
’’مجھے شادی کی مبارک باد دے رہا تھا۔‘‘ وہ چڑ کر بولی۔
’’اچھا… پھر تو اس نے تمہیں منہ دکھائی بھی دی ہوگی کیا دیا؟‘‘ وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔
’’اوہو… چھوڑو ناں یہ بتائو مجھے منہ دکھائی میں تم کیا دے رہے ہو؟‘‘ لیلیٰ نے قدرے شرمانے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا تو وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے زیرلب بڑبڑایا۔
’’دل تو چاہ رہا ہے کہ ایک جھانپڑ دوں الٹے ہاتھ کا۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ وہ استفہامیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
’’کچھ نہیں۔‘‘
’’کچھ نہیں دو گے؟‘‘ لیلیٰ کا منہ اتر گیا۔
’’ارے دوں گا ناں صبر تو کرلو۔‘‘ وہ اپنے کرتے کی جیب ٹٹولتے ہوئے بولا اور آخرکار جیب میں سے سونے کی ایک انگوٹھی برآمد کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
خ…ؤ…خ
اگلے دن ولیمے کی تقریب بہت شاندار ہوئی۔ وہ بھی ہوٹل میں جہاں چھ قسم کے کھانے پیش کیے گئے تھے۔ سیٹھ قدرت اللہ تو اتنا عمدہ اہتمام دیکھ کر ہی دل میں شرمندہ سا ہوگیا۔ کہاں وہ خود کو سیٹھ کہلواتا تھا اور کہاں اتنی کنجوسی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی میں دو کھانے رکھ کر اور اب اسے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے مجنوں اس پر ہنس رہا ہو اور اسے یقین بھی ہوگیا جب مجنوں نے اس کے پاس آکر پوچھا۔
’’کیوں سیٹھ جی پسند آیا ہمارے ولیمے کا کھانا؟‘‘
’’ہاں پسند تو آیا مگر یہ بتا قرضہ کتنا چڑھا لیا؟‘‘
’’اللہ کے فضل و کرم سے ایک ایک پیسہ مجنوں کی حق حلال کی محنت کی کمائی کا ہے سیٹھ جی… جنرل اسٹور اور ورکشاپ کے کام میں اوپر والے نے برکت ڈال رکھی ہے… الحمدللہ، قرضہ ورضہ لینے کی نوبت نہ آئی کبھی۔‘‘ مجنوں نے احساس تشکر سے پُر لہجے میں کہا تو سیٹھ قدرت اللہ کھسیانا سے ہوکر مسکرانے لگا۔
’’کھائو کھائو مرغ مسلم پر ہاتھ صاف کرو سیٹھ جی… آپ کو تو کم کم ہی نصیب ہوتا ہوگا؟‘‘ جاتے ہوئے مجنوں استاد اسے جملہ مار گیا، مگر وہ کباڑیے سے سیٹھ بنا تھا۔ اچھا کھانے کی اور مفت کا کھانے کی بھوک تو پوری موجود تھی۔ اس نے مجنوں کی بات ان سنی کرتے ہوئے مال مفت دل بے رحم والی ضرب المثل پر عمل کرتے ہوئے مرغ روسٹ اور بریانی قورمے پر ہاتھ صاف کیے۔
’’سیٹھ کی بیٹی ہے یہ کالی دلہن… ضرور سیٹھ نے اپنی بیٹی کو لاکھوں کا جہیز دیا ہوگا۔ کوئی زمین مکان پلاٹ کچھ تو دیا ہوگا۔ مجنوں نے ایسے ہی تو لیلیٰ سے شادی نہیں کرلی۔‘‘ عامرہ کی ساس بولی تو صابرہ کی نند نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا اور کہنے لگی۔
’’اورکیا بھلا اتنی کالی، موٹے ہونٹوں والی لڑکی سے اپنا مجنوں محبت کی شادی کرے گا‘ نہ چاچی نہ یہ ضرور پیسے کا چکر ہے۔ دولت کی چمک تو ویسے ہی آدمی کو اندھا کردے اور محبت بھی اندھی ہوتی ہے لہٰذا محبوب کی بدصورتی کہاں دکھتی ہے چاچی… کچھ عیب محبت ڈھک لیتی ہے اور کچھ برائیوں، خامیوں پر دولت کا پردہ پڑ جاتا ہے۔ یہی ہوا ہے مجنوں کے ساتھ بھی۔‘‘
’’محبت اندھی ہے یہ بات میں بھی مانوں پر یہ دولت کے چکر میں لیلیٰ سے شادی کرنے والی بات میں نہیں مانتی۔ میرے بھائی نے صرف لیلیٰ سے پیار کیا ہے اس کو پیسے کی کمی نہیں ہے، اس کی مثال یہ شاندار ولیمہ ہے اس کے اپنے پیسوں سے ہوا ہے۔‘‘ صابرہ کو اپنی نند کی بات بہت بری لگی تھی فوراً ہی تیزی سے صفائی اور وضاحت پیش کی تو ان سب کے منہ بن گئے۔
’’چلو بھئی اللہ مجنوں کو سکھی رکھے۔‘‘ عامرہ کی ساس نے مسکرا کر بے دلی سے دعا دی۔
’’آمین۔‘‘ صابرہ نے دل سے آمین کہا۔
ولیمے کی تقریب اختتام پذیر ہوئی تو مہمان اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے تو مجنوں کی نظر لیلیٰ کی ملازمہ پر پڑی اور اسے ٹمی کتا یاد آگیا جب ہی اس سے پوچھنے لگا۔
’’کیوں بھئی زبیدہ، وہ کہاں ہے؟‘‘
’’وہ کون صاحب جی؟‘‘ زبیدہ اسے دیکھنے لگی۔
’’وہی سگ لیلیٰ۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
’’تو کھڑا تو ہے ادھر اور کہاں ہوگا؟‘‘ نادرہ بیگم نے غصیلے لہجے میں دبی ہوئی آواز میں کہا تو وہ چونکتے ہوئے پلٹا۔ وہ ناراض نظروں سے اسے گھور رہی تھیں۔
’’اماں… اپنے سگے بیٹے کو تم نے سگ لیلیٰ بنا دیا، قسم اللہ پاک کی دل کو خنجر کی طرح لگی ہے تمہاری یہ بات۔‘‘ مجنوں نے ماں کو دیکھتے ہوئے شکوہ کیا لہجے میں افسردگی تھی۔
’’اور جو میرے دل کو تیر تلوار کی طرح لگ رہی ہیں لوگوں کی باتیں؟ ہر کوئی بک رہا تھا کہ مجنوں نے دولت کے لالچ میں لیلیٰ سے شادی کی ہے ورنہ اس کالی میں تھا کیا۔ جو مجنوں اسے چاہ سے بیاہ لایا اور اتنا اچھا ولیمہ کردیا۔‘‘ نادرہ بیگم نے جلتے دل کے ساتھ غصیلی اور بھرائی آواز میں کہا۔
’’اماں لوگوں کا تو کام ہے بک بک کرنا، ان کو کیا تکلیف ہے، میں کالی لڑکی سے بیاہ کروں یا پیلی نیلی سے… میں گوری کو بیاہ لاتا نہ پھر بھی ان کی زبان بند نہ ہوتی ان لوگوں کی تو ٹینشن نہ لے اماں۔‘‘ مجنوں نے نادرہ بیگم کے شانوں کے گرد اپنا بازو حمائل کرتے ہوئے کہا اور گڈو کو آواز دینے کا حکم صادر کیا۔ یوں شاندار ولیمے کی تقریب نبٹا کر گاڑی میں بیٹھ کر سب گھر کی جانب روانہ ہوگئے تھے۔
خ…ؤ…خ
ولیمے کے دوسرے دن لیلیٰ مکلاوے کے لیے میکے آگئی۔ مجنوں اسے چھوڑنے آیا تھا۔ چائے پانی پی کر جاتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا۔
’’کتنے دن رکو گی یہاں؟‘‘
’’میرے پاپا کا گھر ہے جتنے دن چاہوں میں یہاں رک سکتی ہوں۔‘‘ لیلیٰٰ نے ٹمی کے سر پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے ادائے بے نیازی سے جواب دیا اور ٹمی کو نیچے قالین پر اتار دیا۔
’’بی بی… تم اپنے پاپا کے گھر مکلاوے کے لیے آئی ہو سیدھی طرح بتا دو، دو دن میں لینے آئوں یا ہفتے بعد؟‘‘
’’تم بھی یہیں رک جائو ناں میرے پاس۔‘‘ لیلیٰ نے اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر بہت دلار سے کہا۔ ’’اتنی تو جگہ ہے یہاں۔‘‘
’’یہاں کہاں؟‘‘ مجنوں اس کے لمس سے بے خود سا ہونے لگا۔
’’میرے دل میں، میرے گھر میں، بس تم بھی یہیں رہ جائو ہم اب واپس اس پرانے محلے میں تمہارے گھر نہیں جائیں گے۔ چھوڑو وہ محلہ اب یہ عالیشان بنگلہ تمہارا اسٹیٹس ہے۔‘‘
’’اور اماں… اسے چھوڑ دوں… ماں ہے وہ میری۔‘‘ مجنوں کی بے خودی ایک پل میں کافور ہوگئی تھی۔ سپاٹ لہجے میں بولتے ہوئے اس کی بانہوں کو اپنے گلے سے دور کردیا۔
’’انہیں چھوڑنے کو کون کہہ رہا ہے؟ کبھی کبھار مل آیا کرنا ان سے، پیسے وغیرہ دے آنا۔ وہ بوڑھی ہوچکی ہیں۔ ان کو اپنے پرانے محلے سے، محلے داروں، رشتے داروں سے لگائو ہے۔ ان کا جی تو وہیں لگے گانا اور وہ تمہیں ترقی کرتا دیکھ کر اس بنگلے میں رہتے دیکھ کر خوش بھی ہوں گی۔‘‘ لیلیٰ نے اس کی دلکش آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اس چہرے پر اپنی نظریں گاڑ کے سپاٹ لہجے میں بولا۔
’’تو تم مجھے گھر داماد بنانا چاہ رہی ہو۔ چاہتی ہو کے میں اپنے پچھلوں کو بھول کر تم میں گم ہوجائوں۔ ایسا تو ہونے سے رہا۔ مجنوں کی لیلیٰ تم ایسا کرو کہ تم یہاں رہو۔ تم یہاں اپنے گھر میں رہ کر ہی خوش ہوگی ناں… میں کبھی کبھار تم سے ملنے آجایا کروں گا اور رہی بات پیسے کی تو وہ تمہارا سیٹھ باپ ہی تمہیں بہت دے سکتا ہے۔ میرے دیئے پیسوں میں پورا نہیں پڑے گا اب میں چلتا ہوں۔‘‘
’’ارے ارے، ایسے کیسے چلتا ہوں؟‘‘ وہ بھاگ کر تیزی سے اس کے سامنے آگئی۔
’’لیلیٰ ٹھنڈا کرکے کھائو۔ گرم گرم منہ میں ڈالو گی تو اپنا ہی منہ جلائو گی اور خالی ہاتھ رہ جائو گی۔‘‘ لیلیٰ کے دماغ نے اسے صلاح دی تو اس نے پینترا بدلتے ہوئے پیار سے مجنوں کو رام کرنے کی کوشش کی۔
’’یہ گھر اب تمہارا ہے۔ صرف تمہارا ہی نہیں ہے۔ تمہاری اماں اور بہنوں کا بھی ہے۔ ہم اماں کو بھی یہاں لے آتے ہیں مجنوں… میری ماں تو نہیں ہے لیکن اب تمہاری ماں ہی میری ماں ہے۔‘‘
’’میرا دل جیتنا ہے تو تجھے ان کی خدمت ہی کرنا پڑے گی اور خدمت بھی ان کے اپنے گھر میں رہتے ہوئے۔ وہ نہیں آنے کی بہو کے میکے میں اور دنیا والے کیا کہیں گے سیٹھ کی بیٹی سے اپنے لونڈے کو بیاہ کے خود بھی بڑھیا بہو کے گھر میں جا بسی۔ نہ بابا نہ یہ تو ہونے سے رہا۔ تو جتنے دن چاہے رہ لے جب آنے کو دل کرے تو مجھے بتا دیجیو آکے لے جائوں گا۔‘‘ اپنی بات مکمل کرکے وہ وہاں سے سیدھا گھر چلا آیا۔ اور نادرہ بیگم کو ان کی بہو کے نادر خیالات سے آگاہی بخشی۔
’’اے ہے‘ میں کیوں جاکے رہنے لگی اس کے گھر میں۔ وہ رہے وہاں جب تک اس کا دل چاہے اور تیرا دل چاہے تو‘ تُو بھی اپنی لیلیٰ کے پاس جاکے رہ لے۔‘‘
’’لو ابھی اتنا پاگل نہیں ہوا میں اس کے عشق میں کہ اپنی اماں کو چھوڑ جائوں۔ میں نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے اسے کہ میں اپنی اماں کو نہیں چھوڑوں گا اسے ادھر آکے تیری خدمت کرنا پڑے گی۔‘‘ وہ تیزی سے پیار سے بولا۔
’’اس نے کرلی خدمت اور میں نے کروالی۔ اسے تو ہر وقت اپنے کتے کی خدمت اور محبت سے ہی فرصت نہیں ملتی، وہ میری کیا خدمت کرے گی اور تو میری چھوڑ تیری خدمت بھی نہیں کرنے والی وہ۔ وہ تو بڑی خوش ہے اس کے تو پائوں ہی زمین پر نہیں ٹک رہے کہ اتنا خوب صورت دلہا مل گیا اسے۔‘‘ نادرہ بیگم نے جلے دل کے ساتھ خفگی سے کہا تھا۔
خ…ؤ…خ
’’مجنوں… ہم ہنی مون پر کہاں جائیں گے؟‘‘ لیلیٰ نے فون پر اس سے بات کرتے ہوئے پوچھا۔
’’چاند پر جائیں گے۔‘‘ وہ فٹ سے بولا۔
’’مذاق نہیں کرو۔ سچی سچی بتائو ناں؟‘‘
’’پہلے یہ بتائو کہ ہم دونوں میں سے ہنی کون ہے اور مون کون…؟‘‘
’’ظاہر ہے ہم دونوں ایک دوسرے کے ہنی بھی ہیں اور مون بھی… کبھی میں تمہیں ہنی کہہ لیا کروں گی تو کبھی تم مجھے مون کہہ لینا۔‘‘ لیلیٰ نے بہت ادا اور ناز سے کہا تو وہ ہنس کر بولا۔
’’تمہیں مون کہوں گا تو اصلی مون تو شرما جائے گا بلکہ تمہارے حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے شرم سے غش کھا جائے گا۔‘‘
’’یہ تم میری تعریف کررہے ہو کہ مذاق اڑا رہے ہو؟‘‘
’’بھئی میں کیوں تمہارا مذاق اڑانے لگا باقی لوگ مر گئے ہیں کیا؟‘‘ مجنوں نے بے ساختہ کہا تو وہ موبائل کان سے ہٹا کر گھورنے لگی۔
اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کہہ کیا رہا ہے، تنگ آکے اس نے فون بند کردیا اور جب مجنوں اور لیلیٰ اپنے ایک ہفتے کے ہنی مون سے واپس آئے تو مجنوں کی تو کایا ہی پلٹی ہوئی تھی۔ وہ تو دم دبائے اپنی لیلیٰ کے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا۔ اس کی جی حضوری میں لگا رہتا تھا ہر دم۔ مجنوں کی ماں اور بہنوں کو تو تشویش لاحق ہوگئی تھی کہ ان کا سیدھا سادا مجنوں سگ لیلیٰ بن کے رہ گیا تھا۔ اب تو دبے دبے لفظوں اور دھیمی آوازوں میں محلے والوں نے بھی اسے جورو کا غلام اور سگ لیلیٰ کہنا شروع کردیا تھا۔ لیلیٰ نے بڑے طریقے سے مجنوں کو گھر داماد بنانے کے منصوبے پر عمل شروع کردیا تھا۔ وہ اس سے وجہ بے وجہ، وقت بے وقت محبت اور چاہت لٹاتی جتلاتی تھی کہ مجنوں کو اس کی بات نہ ماننے کا خیال ہی نہ آتا۔
’’مجنوں مجھے پاپا کی بہت فکر رہتی ہے۔ اب دیکھو ناں وہ بوڑھے ہوگئے ہیں اور کاروبار اتنا پھیلا لیا ہے اور نہ ہی اللہ نے مجھے کوئی بھائی دیا کہ وہ پاپا کا ہاتھ بٹا سکتا اور پاپا کو آرام نصیب ہوتا۔‘‘ لیلیٰ نے مجنوں کو دیکھتے ہوئے متفکر لہجے میں سنجیدگی سے کہا۔
’’ہاں کہہ تو ٹھیک رہی ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’مجنوں… میں چاہتی ہوں کہ تم پاپا کا ہاتھ بٹائو۔ دیکھو تم ان کے داماد ہو اور داماد بھی تو بیٹے کی طرح ہی ہوتا ہے ناں؟ اور پاپا کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ میرا اور تمہارا ہی تو ہے ناں؟‘‘ لیلیٰ نے مجنوں کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بہت مدھم اور نرم لہجے میں کہا مجنوں نے جو اس کے سحر یا اثر میں تھا اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بولا۔
’’ہاں داماد بھی بیٹا ہی ہوتا ہے اگر سمجھا جائے تو۔‘‘
’’بس تو پھر تم چلو میرے ساتھ میرے پاپا کے گھر۔ ان کا اتنا بڑا بنگلہ خالی پڑا ہے۔ پاپا کا دل بھی اداس رہنے لگا ہے۔ ہم وہاں جاکے رہیں گے تو ان کا گھر پھر سے آباد ہوجائے گا۔ اماں بھی ہمارے ساتھ ہوں گی تو تمہیں بھی ان کی ٹینشن نہیں ہوگی۔ سب خوش ہوجائیں گے۔‘‘ لیلیٰ نے اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بہت جوشیلے لہجے میں کہا تو مجنوں اماں کو ساتھ رکھنے والی بات سن کر مطمئن اور اس کا مزید گرویدہ ہوگیا اور فوراً مان گیا۔
’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو پھر کب چلنا ہے؟‘‘
’’کل ہی چلتے ہیں۔ بس اپنا ضروری سامان ساتھ لے جائیں گے۔ باقی سب تو ہے ناں پاپا کے گھر۔‘‘ لیلیٰ اپنی پلاننگ کامیاب ہوتے دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھی۔
لیلیٰ نے اماں کو ساتھ رکھنے کی بات جان بوجھ کر کہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ مجنوں کی ماں ایک خود دار اور عزت نفس پر مرمٹنے والی عورت ہے۔ وہ بیٹے کی خوشی کی خاطر دو چار دن تو اس کے سسرال میں رہ لے گی لیکن مستقل رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اپنی طرف سے اماں کو ساتھ لے جانے کی بات کرکے مجنوں کی نظروں میں اچھی بھی بن گئی تھی اور اسے خوش بھی کردیا تھا اور مجنوں ماں کو منانے چل دیا۔
’’اماں… تم نہیں جائوں گی تو لیلیٰ کا دل ٹوٹ جائے گا اور ساتھ ہی مجنوں کا بھی۔‘‘ وہ ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا۔
’’اور جو تیری اماں کا بھرم ٹوٹے گا اس کا کیا؟ سسرال میں تیرے رنڈوے سسر کے گھر میں جاکے رہنے لگوں میں اس عمر میں۔ میرے سر میں خاک ڈلوائے گا تو؟ لوگ تھو تھو کریں گے تیرے پر بھی اور میرے پر بھی۔ تو آپ تو لیلیٰ کا کتا بن گیا اب ماں کو بھی اس کی نوکرانی بنانے پر تلا ہے۔ تیری آنکھوں پر تو اس کالی لیلیٰ کے عشق کا پردہ پڑگیا ہے جو تجھے اپنی اور اپنی ماں کی آبرو کچھ بھی دکھائی نہ دیوے ہے۔‘‘ نادرہ بیگم غصے میں بولتی چلی گئیں۔ مجنوں سٹپٹا کر بولا۔
’’اماں…‘‘
’’چپ کر اماں کا بچہ۔ بے شرم بے غیرت، بیوی کے اشاروں پر ناچتا ہے اور اب ماں کو بھی اس کے حکم پر چلانے چلا ہے۔ لیلیٰ کا کتا بن کے رہنے میں تجھے خوشی ملے ہے تو جا اور اس کی ایک آواز پر دم ہلاتا اس کے آگے پیچھے پھریو۔‘‘ اماں نے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے اچھی طرح لتاڑا۔
’’ٹھیک ہے اماں… تم مجھے لیلیٰ کا کتا ہونے کا طعنہ دے لو مگر ایک بات سن لو اماں… دل توڑنا اور دل دکھانا بھی گناہ ہے اور اکلوتے بیٹے کی خوشی میں خوش نہ ہونا ایک ماں کے شایان شان نہیں ہے۔‘‘ وہ دل مسوس کر رونی صورت بنا کر بولا تو نادرہ بیگم کے دل پر چوٹ سی پڑی تھی اس نے ان کی ممتا اور محبت کو چیلنج کردیا تھا۔
’’ٹھیک ہے تیری خوشی کی خاطر میں تیرے ساتھ چلوں گی پر دو تین دن سے زیادہ نہیں رکنے کی تیرے سسرال، سمجھ گیا اور تو مجھے روکنے کی کوشش بھی نہ کریو اور قسم بھی نہ دیجیو کان کھول کے سن لے دو تین دن سے زیادہ میں نہیں رکنے کی وہاں۔‘‘ نادرہ بیگم نے اس کی خوشی کی خاطر ہار مانتے ہوئے کہا تو وہ خوشی سے ان سے لپٹ گیا۔
خ…ؤ…خ
تیسرے دن کا سورج طلوع ہوا انہوں نے اپنا سامان سمیٹ لیا اور واپسی کا قصد کیا تو جہاں لیلیٰ کو اپنے منصوبے کی کامیابی پر خوشی ہوئی وہیں مجنوں کو پریشانی نے گھیر لیا تھا۔ وہ اماں کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا پر انہوں نے صاف انکار کردیا تھا۔
’’دیکھ مجنوں… جس طرح تجھے لیلیٰ پیاری ہے ناں بالکل اسی طرح مجھے میرا گھر‘ میرا محلہ پیارا ہے۔ مجھے تو وہیں سکون ملے گا۔ تجھے تیری خوشی کے واسطے یہاں چھوڑنے آئی تھی۔ اب نہ روکیو مجھے۔ میں نہیں رکنے کی۔‘‘ نادرہ بیگم نے سپاٹ اور فیصلہ کن لہجے میں کہا اور اپنے گھر کے لیے نکل گئیں۔
سیٹھ قدرت اللہ نے اپنی گاڑی اور ڈرائیور کے ساتھ گھر بھیجنا چاہا مگر نادرہ بیگم نے رکشے کو ترجیح دی اور واپس لوٹ آئیں، محلے والیوں نے انہیں رکشے سے اترتے دیکھ لیا تھا۔ سن گن لینے ان کے پاس چلی آئیں۔
’’نادرہ بہن تم واپس آگئیں؟‘‘ کشور نے حیرانی سے پوچھا۔
’’ہاں تو نہ آتی واپس…؟ بھئی میرا گھر ہے میں اپنا گھر کیوں چھوڑ کے جانے لگی۔ بہو کے ہاں دعوت میں گئی تھی۔ اس کے سب رشتے داروں سے ملاقات کرنا تھی سو دو دن بہت تھے۔ مجھے تو نیند ہی نہ آکے دی وہاں اور آتی بھی کیسے؟ اپنے گھر اور بستر کا سکون غیر کے گھر اور بستر پر تھوڑی ملتا ہے۔‘‘ نادرہ بیگم نے کہا تو شبانہ بولی۔
’’سچ کہا بھابی جی… اپنے گھر کا سکھ آرام کہیں نہیں ملتا، چاہے آپ محلوں میں جاکے رہ لو۔ یہاں محلے میں تو یہ باتیں گردش کررہی تھیں کہ مجنوں گھر داماد بن گیا اور تم گھر ساس بن کے بہو کے گھر جابسی ہو۔ اب دیکھ لو جتنے منہ اتنی باتیں۔‘‘
’’منہ توڑ کے ہاتھ میں دے دوں گی جو میرے بارے میں کسی نے الٹی سیدھی بکواس کی تو۔‘‘
’’نادرہ لے پانی پی۔ کیوں اپنی طبیعت خراب کرنے پر تلی ہے۔‘‘ ہمسائی ہاجرہ نے انہیں پانی کا گلاس دیتے ہوئے کہا۔ سب ہی اپنی اپنی جگہ چور بنی ہوئی تھیں کیونکہ سب ہی نے حسب توفیق ان کی بہو کے بارے میں مدح سرائی کی تھی۔ نادرہ بیگم نے بھی سوچ لیا تھا کہ مجنوں کے بغیر رہنا ہے تو لوگوں کی باتوں سے ڈر کے دب کے یا شرمندگی سے منہ چھپاکے نہیں رہنا اور ایسا کون سا جرم کیا ہے ان کے بیٹے نے۔ ایک کالی رنگت والی لڑکی سے شادی ہی تو کی ہے اسے بھگا کے تو نہیں لایا تھا وہ۔ لہٰذا وہ پہلے سے زیادہ پر اعتماد اور دلیر بن گئی تھیں۔
خ…ؤ…خ
’’مجنوں… میں ذرا بیوٹی پارلر سے ہو آئوں تم تب تک ٹمی کو سنبھال لو پلیز۔‘‘ لیلیٰ نے ٹمی کتا اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تو ٹمی بھونکنے لگا۔
’’یہ تو ماں کا لاڈلا؟ میرے پاس تھوڑی ٹکے گا۔ تو اسے اپنے ساتھ ہی لے جاپارلر میں۔‘‘ مجنوں نے بھنویں سیکڑ کر ٹمی کو گھورتے ہوئے کہا تو وہ جھنجلا کر بولی۔
’’افوہ، تم سے ایک کتا نہیں سنبھالا جاتا، کچھ دیر کے لیے۔ مجھے فیشل کروانا ہے پیڈی کیور، مینی کیور کروانا ہے وہاں میں اسے کہاں رکھوں گی؟‘‘
’’اور یہ تو بیوٹی پارلر والوں کو کیوں چیلنج کرنے چلی ہے۔ ان کا امتحان لینے کی کیا ضرورت ہے جب کہ یہ کنفرم بات ہے کہ وہ پاس نہیں ہونے والے۔ وہ اگر اپنی ساری کریمیں بھی تیرے پر آزمالیں ناں، پھر بھی کوا سفید نہیں ہونے والا۔‘‘ مجنوں نے حسب عادت پر مزاح لہجے میں کہا تو وہ سلگ اٹھی۔
’’اف… کس جاہل سے شادی کرلی ہے میں نے۔‘‘
’’ہاں تو ٹمی سے کرلیتیں شادی۔ میں نے منع تھوڑی کیا تھا۔‘‘ مجنوں نے بھی بے مروتی سے جواب دیا تھا۔
خ…ؤ…خ
’’مجنوں ڈارلنگ پاپا کو تم کار خانے لے جایا کرو۔ ڈرائیور کو پاپا نے نکال دیا ہے۔‘‘ ایک دن لیلیٰ نے مجنوں سے کہا۔
’’نکالنے کی وجہ؟‘‘
’’اس نے پاپا کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔‘‘
’’اوہ… تو تمہارے پاپا جی کو بدتمیزی محسوس ہوگئی تھی کمال ہے۔‘‘ مجنوں نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔
’’مذاق بند کرو اور کل سے پاپا کو لانے لے جانے کا کام تم کرو گے۔ ویسے بھی تم فارغ ہی ہوتے ہو۔‘‘
’’ہائیں… تجھے کس نے کہہ دیا کہ میں فارغ ہوتا ہوں‘ جنرل اسٹور اور ورکشاپ تیرا باپ چلاتا ہے کیا؟ آدھا وقت تو تیرے اور تیرے باپ کے ناز نخروں میں گزر جاتا ہے باقی کا وقت میں اپنے کاروبار کو دیتا ہوں۔ تو نے تو مجھے کتا بنا کے رکھ دیا ہے۔ کبھی ادھر کبھی ادھر دوڑائے رکھتی ہے۔ کل کو کہے گی کہ میرے پاپا جی کا منہ بھی تم دھو دیا کرو۔‘‘ مجنوں نے سلگتے ہوئے لہجے میں کہا تو وہ بڑی ادا سے بولی۔
’’پاپا کا تو نہیں ابھی تو تم ٹمی کا منہ دھودو، اسے نہلا دو۔ یہ کافی دن سے نہایا نہیں ہے۔ اس کا ٹب اور شیمپو علیحدہ سے رکھا ہے۔ بیرونی غسل خانے میں وہیں اسے نہلانا۔ وہ غسل خانہ ہم نے ٹمی کے لیے ہی مخصوص کیا ہے۔‘‘ لیلیٰ نے اس کی باتوں کے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے مزید احساس ذلت اور اس کی نظروں میں مجنوں کو اپنی قدر وحیثیت کا احساس دلایا۔
’’یہ نیک کام تو خود ہی کرلے یا اپنے ملازم سے کروالے میں کتے بلے نہیں نہلاتا۔‘‘ مجنوں نے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کوئی کام کرتے بھی ہو تم۔ ہر کام سے انکار ہی کرتے ہو نکمے کہیں کے۔‘‘ لیلیٰ بدتمیزی سے بولی۔
لیلیٰ نے مجنوں کو شوہر کے بجائے ایک نوکر بنا کے رکھ دیا تھا۔ جو کام وہ اپنے ملازموں سے کرواتی تھی اب وہی کام وہ مجنوں سے لینے لگی۔ صرف وہی نہیں سیٹھ قدرت اللہ بھی مجنوں کو چھوٹے چھوٹے کام کہتا جو داماد کے نہیں ملازم کے کرنے کے ہوتے۔ اسے کاروبار میں حصہ دار ہونے کا کہہ کر اس سے ملازموں والے کاموں پر لگایا ہوا تھا۔ شروع میں تو مجنوں بھاگ بھاگ کر دونوں کے حکم کی تعمیل کیا کرتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، آہستہ آہستہ اپنی بے حمیتی اور کم مائیگی کا احساس ہونے لگا تھا۔ وہ جو سب کا استاد کہلاتا تھا اب سب کی ہنسی مذاق کا ہدف بن رہا تھا۔ کتنی عزت تھی اس کی گلی محلے میں، جنرل اسٹور ورکشاپ پر سب ہی اسے استاد استاد کہتے نہ تھکتے تھے اور آج ہنستے نہ تھکتے تھے۔ اب تو گھر کے اور کارخانے کے ملازم بھی اسے لیلیٰ کا کتا کہنے لگے تھے اور اسے اپنا آپ سچ مچ کتے جیسا لگنے لگا جو دم ہلاتا اپنی مالکن لیلیٰ کے آگے پیچھے پھرا کرتا تھا۔
’’مجنوں ٹیلر کے پاس جائو اور میرے ڈریس اٹھا لائو سل گئے ہیں۔‘‘ وہ ان ہی سوچوں میں گم بیٹھا تھا کہ لیلیٰ کی حاکمانہ آواز نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔
’’کسی ملازم سے کہہ دو، وہ لے آئے گا۔‘‘ وہ بولا۔
’’میں نے ملازم کی چھٹی کردی ہے۔‘‘
’’تو جب وہ چھٹی سے واپس آجائے گا تو تب منگوا لینا۔‘‘
’’چھٹی مطلب ہمیشہ کے لیے پکی چھٹی کردی ہے، نوکری سے نکال دیا ہے ملازم کو۔‘‘ لیلیٰ نے بیزار لہجے میں اپنی بات کی وضاحت کی تو اس نے فوراً پوچھا۔
’’کیوں تنخواہ دینا مشکل ہورہا تھا کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’پھر کیوں نکال دیا ملازم کو؟ تمہارے کام کون کرے گا اب؟‘‘
’’تم کس مرض کی دوا ہو؟ تم کرو گے میرے کام ویسے بھی میں تمہاری بیوی ہوں۔ میرے کام کرنا تمہارا فرض ہے۔‘‘ لیلیٰ نے ناخن فائلر سے فائل کرتے ہوئے جتلانے والے انداز میں بدتمیزی سے کہا تو وہ بھی تیز سپاٹ اور حاکمانہ لہجے میں بولا۔
’’پھر تو میرے کام کرنا بھی تیرا فرض ہے۔ چل شاباش اٹھ جا، میرے کپڑے استری کر اور جوتے پالش کرکے لاکے دے مجھے۔‘‘
’’واٹ…؟ میں یہ کام کروں گی‘ میں بیوی ہوں تمہاری، ملازمہ نہیں ہوں، سمجھے تم۔‘‘ وہ شاکڈ سی ہوکر تیزی سے بولی۔
’’میں بھی شوہر ہوں، تیرا ملازم نہیں ہوں سمجھی۔‘‘ مجنوں نے غصیلے اور تیز لہجے میں کہا اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اسے فیصلہ کرنے میں ایک پل لگا تھا، وہ شیر بن کے جینا چاہتا تھا کتا بن کے نہیں اور اس کے دماغ نے اسے سمجھایا تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی کتے کی ہزار دن کی زندگی سے لاکھ درجہ بہتر ہے۔ محبت کی خاطر وہ مر تو سکتا تھا لیکن کتا بن کے جی نہیں سکتا تھا لہٰذا اس نے واپس اپنی کچھار میں جاکر شیر بن کے جینے کو ترجیح دی۔
یوں بھی اس محبت نے اسے سوائے جگ ہنسائی کے دیا ہی کیا تھا؟ لیلیٰ نے اس کی محبت کا ناجائز فائدہ اٹھایا تھا۔ قدم قدم پر اسے ذلیل کیا تھا۔ کم حیثیت ہونے کا طعنہ دیا تھا۔ بات بے بات اسے اس کی اوقات یاد دلائی تھی۔ ہنسی مذاق میں اس کی عزت نفس مجروح کی تھی۔ مجنوں کے گھر داماد بنتے ہی ملازموں کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔ کیونکہ گھر دامادکی صورت میں انہیں مفت کا ملازم جو مل گیا تھا۔ لیلیٰ کا خیال تھا کہ مڈل کلاس کا مجنوں جو اس سے پیار کرتا ہے۔ اس پیار میں اور اس کی دولت کے لالچ میں ساری زندگی اس کے ساتھ بندھا رہے گا اور وہ اس کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتی رہے گی لیکن یہ اس کی بھول تھی۔ اول تو مجنوں کو اس کی دولت امارت میں کوئی دلچسپی تھی ہی نہیں کیونکہ وہ محنت کرکے کمانے کھانے پر یقین رکھتا تھا۔ دوم وہ محبت بے غرض ہوکر کرتا تھا اگر کوئی خود غرض اسے اپنی ضرورت اور غرض کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا تو مجنوں اسے اپنی محبت کی تذلیل و توہین سمجھتے محسوس کرتے ہوئے اس انسان سے کوسوں دور چلا جاتا تھا اور لیلیٰ نے تو اسے شروع دن سے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا تھا دن بدن بدلتا اس کا رویہ مجنوں کے دل سے اس کی محبت کے دریا کو بوند بوند کرکے کم کرتا رہا۔ یہ ساری باتیں تلخ حقیقتیں بن کر مجنوں کی ہنسی اڑا رہی تھیں۔
خ…ؤ…خ
’’مجنوں… کہاں جارہے ہو تم؟‘‘ لیلیٰ نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے سامنے سے آتے مجنوں کو ہاتھوں میں سوٹ کیس اٹھائے دیکھا تو چونک کر پوچھا تو اس نے معنی خیز جواب دیا۔
’’جہاں سے آیا تھا۔‘‘
’’کیا مطلب اور یہ سامان؟‘‘
’’چیک کرلے۔ اس میں تیری یا تیرے سیٹھ پاپا کی دی ہوئی کوئی چیز رکھ کے نہیں لے جارہا صرف وہی چیزیں لے جارہا ہوں جو میں اپنے ساتھ لایا تھا۔‘‘ مجنوں نے سوٹ کیس فرش پر رکھ کر ان دونوں باپ بیٹی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’مگر تو جا کہاں رہا ہے؟‘‘ سیٹھ قدرت اللہ چائے کا کپ میز پر رکھ کر متفکر نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’بتایا تو ہے واپس اپنے گھر جارہا ہوں اپنی اماں کے پاس، اونچا سنتے ہو کیا؟‘‘ مجنوں نے چڑ کر تیز لہجے میں کہا۔
’’ایسے کیسے جاسکتا ہے تو، تیری بیوی ہے اس گھر میں۔‘‘ سیٹھ قدرت اللہ نے بھڑک کر کہا تو وہ بھی ان ہی کے انداز میں تیز لہجے میں بولا۔
’’بیوی ہے تو بیوی بن کے شوہر کے گھر میں رہے ناں‘ باپ کے گھر میں کیا کررہی ہے؟‘‘
’’مجنوں… یہ تمہیں اچانک کیا ہوگیا ہے؟‘‘ لیلیٰ نے اس کے قریب آکر تشویش زدہ لہجے میں سوال کیا۔
’’آنکھوں پر جو تیرے پیار کا پردہ پڑا تھا وہ اب اتر گیا ہے۔ تیری اور تیرے باپ کی ساری چالاکی سمجھ میں آگئی ہے۔ نہیں رہنا مجھے گھر داماد کے نام پر کتا بن کے تیرے باپ کے گھر میں۔ تجھے یہ کتا پیارا ہے شوہر نہیں۔ کتے کی فکر میں ہلکان ہوئی جاتی ہے کہ ٹمی نے کچھ کھایا پیا کہ نہیں۔ ٹمی ٹھیک سے سویا کہ نہیں۔ کبھی اپنے شوہر سے بھی پوچھا چائے کھانے کا؟ بڑی باتیں کرتی تھیں کہ یہ گھر تمہارا ہے، تم پاپا کے بیٹے ہو۔ کاروبار تمہارا ہے‘ تمہاری ماں میری ماں ہے۔‘‘ مجنوں نے سخت اور سپاٹ لہجے میں جواب دیا تو وہ سٹپٹا کر بولی۔
’’مجنوں تم غلط سمجھ رہے ہو۔‘‘
’’غلط تو میں شروع دن سے سمجھتا رہا۔ ابھی تو درست سمجھنے لگا ہوں لیلیٰ میڈم جی… تم رہو اپنے سیٹھ باپ کے گھر اپنے ٹمی کے ساتھ۔ میں اب یہاں نہیں آنے کا۔‘‘
’’تم ٹمی سے جل رہے ہو؟‘‘
’’نہیں میں اس بات سے جل رہا ہوں کہ تو نے مجھ میں اور ٹمی میں کوئی فرق ہی نہیں سمجھا۔ وہ کتا ہے تو تُو نے مجھے بھی کتا سمجھ لیا۔ لیکن لیلیٰ میڈم جی‘ مجنوں نے لیلیٰ سے پیار ضرور کیا تھا۔ لیلیٰ پیاری تو لیلیٰ کا کتا بھی پیارا تھا مگر میں ساری زندگی تیرے پیچھے دم ہلاتا نہیں پھر سکتا نہ ہی تیرے ٹمی کی طرح تیرے پائوں چاٹ سکتا ہوں اس لیے جارہا ہوں اور دوبارہ اس گھر میں نہیں آنے کا۔ کان کھول کر سن لو۔‘‘
’’کیسے نہیں آئو گے؟ میں بیوی ہوں تمہاری تم پر حق ہے میرا۔‘‘ لیلیٰ نے تیزی سے اس کے آگے آکر راستہ روکتے ہوئے یاد دلایا۔
’’بیوی ہونے کا حق چاہیے تو شوہر کا گھر آباد کرو بی بی… ایسے ہی حق نہیں جتایا کرتے۔ کچھ اپنے فرض بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔‘‘ مجنوں نے اس کے چہرے کی سیاہی میں مزید اضافہ کیا۔
’’تو میری بیٹی کو اس کا فرض یاد دلا رہا ہے؟ ابے اپنی اوقات بھول رہا ہے۔ تجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا میری بیٹی نے۔‘‘ سیٹھ قدرت اللہ نے رعونت سے کہا تو مجنوں بھڑک کے بولا۔
’’مجھے اپنی اوقات اچھے سے یاد ہے کچرا سیٹھ لیکن تم بھول رہے ہو کہ تمہاری کیا اوقات تھی۔ آج یہ حیثیت ہے پر دماغ‘ دل اور سوچ میں آج بھی تم دونوں کے کچرا ہی بھرا ہے۔ رشتوں اور جذبوں کو پیسوں میں تولتے ہو۔ انسانوں کو کتوں کی طرح برتتے ہو‘ پلید جانور کو اپنی میز پر کھانا کھلاتے ہو اور قریبی رشتے کو حقیر سمجھ کر ٹکے ٹکے کاموں میں لگائے رکھتے ہو۔ تم دونوں نے سمجھ لیا تھا کہ ایک کاٹھ کا الو ہاتھ آگیا ہے تو اس سے اپنا الو سیدھا کیے جائو۔ مجنوں کو تم دونوں نے الو ضرور بنایا آٹھ مہینے تک پر مجنوں اتنا بھی سیدھا نہیں ہے کہ اپنے ساتھ کھیلا جانے والا کھیل سمجھ ہی نہ سکے۔‘‘
’’مجنوں… تمہیں جانا ہے تو جائو۔ زیادہ باتیں بگھارنے کی ضرورت نہیں… تمہیں گھر داماد بن کے رہنا پڑے گا ورنہ…‘‘ لیلیٰ نے اتراتے ہوئے اپنی دولت کی زعم میں کہا۔
’’تجھے ورنہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کلو پری‘ میں تو خود ہی یہ جہنم چھوڑ کے اپنی ماں کی جنت میں جارہا ہوں۔‘‘ مجنوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روکتے ہوئے کہا اور اپنا سامان اٹھا کے دروازے کی جانب قدم بڑھا دیے۔
’’بس یہ تھی تمہاری محبت؟‘‘ لیلیٰ نے چبھتا ہوا سوال کیا۔
’’محبت کو محبت نہ ملے تو چلتا ہے پر اگر محبت کو عزت نہ ملے تو سب ختم ہوجاتا ہے۔ وہ کہانی ہی اور تھی لیلیٰ کو مجنوں سے پیار ہوگیا تھا اس لیلیٰ کو تو نہ پیار راس آیا نہ عزت۔‘‘ مجنوں نے اسے غصیلی نظروں سے دیکھتے ہوئے صاف گوئی سے کہا اور اپنا سامان اٹھا کر وہاں سے باہر نکل گیا اور اپنے گھر کا رخ کیا جہاں اس کی ماں اس کی آمد کی منتظر تھی۔
خ…ؤ…خ
’’اللہ بخشے میری ماں بہشتن کہا کرتی تھی کہ انسان کو دنیا میں دو چیزیں نصیب سے ملیں۔ ایک پیار اور دوسرا پیسہ… پیسہ مل جاوے تو اپنی کھال میں رہو اپنا کل، اپنی اوقات نہ بھولو اور اگر پیار ملے تو اس کو پیار دلار سے، عزت حفاظت سے، سینت سینت کے سنبھال کے رکھو۔ اس کی قدر کرو۔ نہیں پیار سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ پھر ہزار جتن بھی کرو گے تو سچا پیار کرنے والا، چاہنے والا نہیں ملنے کا۔‘‘ سیٹھ قدرت اللہ نے رات کو کھانے کی میز پر لیلیٰ کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو لیلیٰ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
’’دادی کی یہ باتیں آپ کو پہلے کیوں نہیں یاد آئیں اور آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں سمجھائیں یہ باتیں؟‘‘ لیلیٰ نے خالی پلیٹ میں چمچ پھیرتے ہوئے سوال کیا۔ لہجہ شکایتی تھا۔
’’پیسہ ملنے پر اپنی اصل، اپنا کل، اپنی اوقات جو بھول گیا تھا میں۔ غریب آدمی کو اچانک سے اتنی دولت مل جائے تو وہ پیار محبت کو بھی بکائو مال سمجھنے لگتا ہے جسے وہ اپنی دولت سے خریدلے گا۔ ہم نے بھی مجنوں کے پیار کو اپنے پیسے میں تولا تھا۔ وہ تو تیرے پیار میں سب کو چھوڑ چھاڑ کے ہمارے ساتھ آن بسا تھا پر ہم نے اس کی قدر ہی نہ جانی اور اسے اپنا نوکر سمجھ لیا۔ ذر خرید غلام کا سا سلوک اور رویہ رکھا اس بھلے آدمی کے ساتھ۔‘‘ سیٹھ قدرت اللہ نے اپنی زیادتیوں اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ڈیڈ… ہم نے اس کی قدر نہیں کی۔ قدرت نے تو مجھ جیسی کم صورت لڑکی کو اتنا حسین چاہنے والا خوب صورت شوہر دیا تھا اور میں اپنی دولت اور امیری کے نشے میں ایسی غرق تھی کہ اسے خاطر میں نہ لائی۔ وہ خود دار اور محنتی شخص تھا تب ہی اپنی عزت نفس اور محبت کی یہ تذلیل برداشت نہیں کرپایا اور چلا گیا یہاں سے۔‘‘ لیلیٰ نے احساس ندامت سے پُر لہجے میں کہا آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔
’’ہاں صحیح کہا تو نے بیٹا… مجھے مجنوں کو نوکر بنانے سے پہلے، اسے ذلیل کرنے سے پہلے اپنی بیٹی کی شکل اور اپنا کل ضرور دیکھ لینا چاہیے تھا بہت بڑی بھول ہوگئی مجھ سے میں نے باپ ہو کے بھی اپنا فرض نہیں نبھایا۔ بیٹی کو گھر بسانے کا سبق نہیں پڑھایا۔ دولت نے مجھے اندھا کردیا تھا۔ اللہ مجھے معاف کرے۔ بہت بڑی بھول ہوگئی مجھ سے بلکہ گناہ کیا ہے میں نے۔ دل آزاری بہت بڑا گناہ ہے اور ہم نے مجنوں کی دل آزاری ہی نہیں کی بلکہ اس کی بوڑھی بیوہ ماں کو بھی دکھ دیا ہے۔ برا کیا ہم نے بہت برا کیا۔‘‘ سیٹھ قدرت اللہ نے شرمندگی اور بے بسی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا اور کرسی کھسکا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’شرمندگی سے رونے پر تو اللہ بھی معاف کردیتا ہے تو مجنوں معاف نہیں کرے گا کیا؟‘‘ لیلیٰ نے استفسار کیا۔
’’مجنوں اعلا ظرف ہے۔ معافی کی امید رکھی جاسکتی ہے پر تو اچھی طرح سوچ لے تو چاہتی کیا ہے؟‘‘
’’میں مجنوں کا ساتھ چاہتی ہوں، پاپا مجھے مجنوں کی بیوی بن کے رہنا ہے۔ اس کا ساتھ چاہیے مجھے پاپا۔‘‘ لیلیٰ نے روتے ہوئے کہا وہ شدید احساس جرم واحساس ندامت میں مبتلا روئے جارہی تھی۔
’’یہ اچھی بات ہے لیلیٰ بیٹی… تجھے مجنوں سے معافی مانگنا ہوگی۔‘‘
’’مانگ لوں گی معافی غلطی اور زیادتی بھی تو میری ہے ناں۔‘‘ لیلیٰ نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
’’اب عقل پر پڑا پردہ ہٹ گیا ہے تو پھر چل میں خود تجھے تیرے سسرال چھوڑ کے آئوں گا ابھی۔‘‘
’’اوکے پاپا… میں ابھی اپنا ضروری سامان پیک کرکے آتی ہوں۔‘‘ لیلیٰ نے تیزی سے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔
خ…ؤ…خ
مجنوں کے گھر کا دروازہ اور گھنٹی ایک ساتھ بجے تھے۔ دونوں ماں بیٹا ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھے۔ مجنوں نے دیوار گیر گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔
’’اس وقت کون آگیا۔ اللہ خیر کرے۔‘‘ نادرہ بیگم فکر مندی سے بولتی اٹھ کر بیٹھ گئیں۔
’’میں دیکھتا ہوں اماں… تم لیٹی رہو۔‘‘ مجنوں نے بستر سے اترتے ہوئے کہا اور صحن میں آکر دروازہ کھولا تو سامنے لیلیٰ اور سیٹھ قدرت اللہ کھڑے تھے۔
’’تم یہاں اور اس وقت؟‘‘ مجنوں کی حیرت دیدنی تھی۔
’’ہاں میں، ہٹو راستہ دو۔‘‘ لیلیٰ بڑے دھڑلے اور استحقاق سے اسے ہاتھ سے ایک طرف کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوگئی۔ پیچھے پیچھے سیٹھ قدرت اللہ بھی اس کے سوٹ کیس اٹھائے اندر چلے آئے۔ مجنوں نے اس کے پیچھے آتے ہوئے تیزی سے کہا۔
’’اے اے یہ کیا تم بنا اجازت گھر میں گھسی چلی آرہی ہو پوچھنا تک گوارہ نہیں کیا؟‘‘
’’اپنے گھر آنے کے لیے اجازت کی ضرورت تھوڑی ہوتی ہے نہ ہی کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہوتی ہے، سمجھے۔‘‘ لیلیٰ نے بڑی ادا سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ نادرہ بیگم بھی آوازیں سن کر کمرے سے باہر چلی آئیں اور اپنی بہو اور اس کے باپ کو دیکھ کر حیران رہ گئیں۔
’’بیٹا… لیلیٰ بیٹی کو اپنی زیادتیوں غلطیوں اور بدتمیزیوں کا احساس ہوگیا ہے۔ یہ شرمندہ ہے تجھ سے، بہت چاہتی ہے تجھے۔ تیرے آنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ یہ تیرے بغیر کچھ بھی نہیں ہے یہ اپنا گھر بسانا چاہتی ہے تیرے ساتھ۔‘‘
’’اچھا…؟ بڑی جلدی احساس ہوگیا۔‘‘ مجنوں نے بے یقینی سے لیلیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا جو شرمندہ دکھائی دے رہی تھی۔
’’شکر ہے ناں جلدی احساس ہوگیا، دیر ہوجاتی تو سب ختم ہوجاتا۔ وہ کہتے ہیں ناں دیر آید درست آید تو تم مجھے معاف کردو۔ میری ہر بدتمیزی اور زیادتی کے لیے پلیز۔ آئندہ تمہیں کبھی کوئی شکایت نہیں ہوگی مجھ سے آئی پرامس۔ پلیز معاف کردو مجنوں۔‘‘ لیلیٰ نے ندامت سے کہتے ہوئے اس کے سامنے کان پکڑے اور اپنے ہاتھ جوڑے تو مجنوں کو اس کے انداز میں سچائی محسوس ہوئی وہ اپنی ماں کی طرف دیکھ کر بولا۔
’’اماں… صبح کا بھولا اگر شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے پر اگر صبح کا بھولا رات کو گھر لوٹ کے آئے تو اسے کیا کہیں گے؟‘‘
’’اسے مجنوں کی لیلیٰ کہیں گے۔ آجائو بہو‘ یہ تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔‘‘ نادرہ بیگم نے بھی بیٹے کی خوشی میں خوش ہوتے ہوئے لیلیٰٰ کو بڑھ کر گلے سے لگا لیا۔
’’اور سیٹھ جی… وہ کہاں ہے۔ آپ کی بیٹی کا وفادار۔‘‘ مجنوں نے سیٹھ قدرت اللہ کو دیکھتے ہوئے سوال کیا تو وہ کہنے لگے۔
’’ٹمی تو میرے گھر پر ہے اور کل صبح میں اسے اپنے ایک دوست کے پاس بھیج رہا ہوں ہمیشہ کے لیے۔ اسے کتے پالنے کا شوق ہے وہ ٹمی کو بھی اچھے سے رکھے گا اب تم دونوں بھی اچھے سے رہو۔ میں تو چلا۔ اللہ حافظ۔‘‘
’’ارے سیٹھ جی رکو تو سہی۔‘‘ مجنوں آواز دیتا رہ گیا اور وہ تیزی سے باہر نکل گئے۔ مجنوں دروازہ بند کرکے لیلیٰٰ کے قریب چلا آیا۔
’’لیلیٰ… واقعی میرے ساتھ رہو گی ہمیشہ؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ لیلیٰ نے شرما کر مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اس گھر میں اے سی نہیں ہے جنریٹر بھی نہیں ہے، رہ لے گی؟‘‘
’’رہ لوں گی۔ تم بھی تو رہتے ہو یہاں۔‘‘
’’اچھا… گھر کے کام بھی تمہیں خود ہی کرنے پڑیں گے۔ نوکرانی نہیں ہے یہاں۔‘‘
’’میں ہوں ناں آپ کی کنیز۔ میں سب کام کرلوں گی۔‘‘ لیلیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا تو وہ حیرت و مسرت سے بے ہوش ہوتے ہوئے رہ گیا۔
’’سوچ لو… تمہارے ابا جتنی دولت بھی نہیں ہے میرے پاس۔ روز روز شاپنگ نہیں کرائوں گا تمہیں۔‘‘
’’میں بھی روز روز شاپنگ کی فرمائش نہیں کروں گی لیکن ضرورت کی ہر چیز لاکے دینا ہوگی تمہیں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’واہ اماں… آپ کی بہو تو ایک ہی دن میں بدل گئی۔‘‘ مجنوں نے ماں کو مخاطب کرکے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔
’’بیٹا مجنوں… عورت اگر گھر بسانا چاہے ناں تو اپنے آپ کو سر سے پیر تک، سوچ سے عمل تک بدل ڈالے ہے۔‘‘
’’ہاں اور میری سمجھ میں آگیا ہے کہ گھر دولت سے نہیں محبت اور عزت سے بنتے اور بستے ہیں۔ محبت اور عزت کرنے والا جیون ساتھی مل جائے تو جھونپڑی بھی محل بن جاتی ہے اور اگر محبت، عزت ہی نہ ہو تو محل بھی دوزخ سا لگتا ہے۔‘‘ لیلیٰ نے سمجھ دارانہ انداز میں کہا۔
’’لیلیٰ… تم اتنی اچھی نہ بنو کہ میں تمہارے جیسی ایک اور ڈھونڈنے چل دوں۔‘‘ مجنوں نے شوخ لہجے میں کہا تو وہ دونوں ہنس پڑیں۔
’’تم مجھے ہی بھگت لو تو کافی ہے۔‘‘ لیلیٰ نے اسے شوخ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ بھی بے ساختہ ہنس دیا۔
نادرہ بیگم نے اپنے بہو بیٹے کو ہنستے دیکھا تو اللہ کا شکر ادا کرتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔ ان کے بیٹے کا گھر بالآخر بس ہی گیا۔ اتنی بڑی خوشی کا سجدہ شکرانہ تو بنتا تھا ناں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close