Hijaab Nov-18

کفارہ

نادیہ احمد

جیسے ہی لاؤنج کی گھڑی نے نو بجائے‘ میں بے چینی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔ آج رات گھر میں دعوت تھی‘ میری دونوں نندیں شوہر اور بچوں سمیت کھانے پہ مدعو تھیں۔ یوں تو یہاں آنے کے لیے انہیں کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں تھی کہ ان کا جب دل چاہتا اور جب دل نہیں بھی چاہتا وہ پہنچ جاتی تھیں۔ اکثر ایسا ہوتا کہ وہ اپنے گھروں سے کہیں اور جانے کے لیے نکلتیں لیکن سب کام نبٹا کر یہاں آدھمکتیں۔ اللہ جانے ہر بار ہمارا گھر ان کے راستے میں کس طرح آجاتا تھا کہ جب بھی آتیں یہی فقرہ دہراتیں۔
میں اکثر سوچتی بھلا میرا میکہ کبھی میرے راستے میں کیوں نہیں آتا؟ پر سچ تو یہ ہے مجھے اپنے میکے جانے میں بال برابر دلچسپی نہیں تھی۔ وہاں میری نندوں کی طرح لاڈ اٹھانے کو ماں زندہ تھی اور نہ ہی صاحبِ جائیداد باپ کہ بیٹیاں فخر سے باپ کی دہلیز پر آئیں اور مان سے سسرال جائیں۔ ماں کی تو شبیہہ تک اب مجھے یاد نہیں تھی پر سنا ہے وہ بڑی نیک عورت تھیں شاید اسی لیے اللہ نے مجھے چھ سال کی عمر میں ان کے سائے سے محروم کرکے انہیں اپنے پاس بلالیا۔ ابا معمولی سرکاری ملازم تھے اور اب کئی سالوں سے ریٹائرڈ بیٹوں کے آسرے پر تھے۔ ایسے میں گھر پہ بھائیوں کا اختیار تھا اور ان سے بڑھ کر بھابیوں کی حکمرانی تھی۔
میں کبھی مہینوں بعد ابا سے ملنے چلی جاتی تو ان کے ماتھے کے بل چھپائے نہ چھپتے۔ ایک پیالی چائے بھی مانگ کر ہی پینا پڑتی۔ بھابیوں کا رویہ تو خیر سمجھ آتا تھا کہ میری حالت ان سے پوشیدہ نہیں تھی لیکن بھائیوں کی بے اعتنائی میری سمجھ سے بالکل باہر تھی۔ شاید انہیں لگتا تھا میں کہیں ایک بار پھر ان کے در پہ نہ آبیٹھوں لیکن یہ تو اب طے تھا کہ میں مر کر بھی ان کی دہلیز پر نہیں جاؤں گی۔ اس پہ ابا کی شرمندہ نگاہیں مجھے اندر ہی اندر مارتیں۔ بس اسی لیے میں نے وہاں جانا چھوڑ دیا۔ شروع میں ابا نے فون پہ چند بار میرے نہ آنے کا شکوہ کیا پر میں نے گھر میں مصروفیت کا بہانہ بنا کر معذرت کرلی۔ وہ خود ملنے چلے آئے۔ پھر آہستہ آہستہ ان کا پوچھنا اور میرے بہانے بنانا بھی موقوف ہوا۔ بھائیوں کو تو خیر عید‘ شبِ برأت پر بھی کبھی توفیق نہیں ہوئی تھی کہ ملنا تو درکنار فون پر ہی مبارک باد دے دیتے۔ بھابیاں البتہ گاہے بگاہے فون کر دیتیں اور مجھے اندازہ ہوجاتا کہ یقینا آج ان کے پاس مجھے سنانے کو کوئی بڑی شیخی ہوگی۔
ڈیزائینر سوٹ‘ سونے کے کنگن یا پھر بچے کا کسی بڑے اسکول میں داخلہ۔ میرے پاس نہ تو ڈیزائینر سوٹوں کی کمی تھی نہ سونے کے زیورات کی‘ اسکول چھوٹے ہوں یا بڑے‘ مہنگے ہوں یا سستے ان سے میرا کوئی لینا دینا نہیں تھا کیونکہ میں کون سا صاحبِ اولاد تھی۔ وہ اچھی طرح جانتی تھیں میرے سسرالی حالات ان سے دوگنے چوگنے بہتر ہیں اور کم سے کم مجھے کسی مالی دشواری کا سامنا نہیں پھر بھی میرے سامنے بڑائیاں جھاڑے بناء ان بیچاریوں کا کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا۔ میں بھی خاموشی سے سن کر حسبِ عادت مبارک باد دیتی اور ان کے احساسِ تفاخر کو تقویت پہنچاتی۔
خیر تو ابھی میں بات کررہی تھی اپنی نندوں کی دعوت کی۔ بڑی مشکل سے میں نو بجے تک باورچی خانے سے فارغ ہوکر اپنے کمرے میں پہنچی اور جھٹ پٹ دروازہ مقفل کرکے سیل فون اٹھایا۔ ہینڈز فری لگا کر ریڈیو پہ اپنا مطلوبہ اسٹیشن لگا لیا۔ صد شکر ابھی بس اشتہار ہی چل رہے تھے اور پروگرام شروع نہیں ہوا تھا۔ میں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے‘ پاؤں پسارے‘ سکون سے سیل فون جھولی میں رکھے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ دن بھر کی تھکان اس وقت عروج پہ تھی۔ اچانک ہینڈز فری میں ابھرتی آواز میرے کانوں تک پہنچی۔ کچھ ہی لمحوں میں یوں لگا جیسے میری ساری تھکن اُتر گئی ہو۔ میں آنکھیں موندے اس کا حرف حرف اپنے اندر اتارتی رہی۔ یوں لگتا تھا وہ میری روح پر دستک دے رہا ہے۔ وہی ٹھہرا ہوا لہجہ‘ میں سوچتی لفظوں کو سلیقے سے ادا کرنا شاید صرف اسی کو آتا ہے۔ ہر بار جب وہ اپنی لوچ دار اور مدہم آواز میں نستعلیق لہجے میں شعر پڑھتا تو میرے اندر طوفان اٹھنے لگتے۔
رات نو سے بارہ بجے تک چلنے والا ریڈیو پہ ’’شامِ سخن‘‘ نامی یہ پروگرام میرے لیے نشہ بنتا جارہا تھا اور مجھے اس نشہ کا عادی کرنے میں کچھ تو ہاتھ میری تنہائی کا تھا پر زیادہ حصہ اس پروگرام کے آر جے یاسر علی کا تھا جو اپنے منتخب رومانوی شعروں اور غزلوں کو کچھ اس انداز میں ادا کرتا کہ میری جان پہ بن آتی۔ ایک تو میری ازلی تنہائی تھی کہ یہ وقت کمرے میں آکر عذاب سا لگتا تھا اور کچھ عرصہ پہلے تک میں جان بوجھ کر آدھی رات تک لاؤنج کے صوفہ پہ بیٹھی ٹی وی کے آگے اونگھتی رہتی تھی پھر جب نیند قابض ہونے لگتی تو پیر گھسٹتی کمرے میں چلی آتی اور بستر پہ گرتے ہی نیند کی وادی میں کھو جاتی لیکن پھر اچانک میری زندگی میں یاسر علی آگیا۔
اس دن میں فہد کے بھیجے گئے اس نئے ماڈل کے اسمارٹ فون سے اپنی بوریت اور تنہائی کم کرنے کی کوشش کرتی ہوئی اس کا پوسٹ مارٹم کررہی تھی کہ بناء سوچے سمجھے ریڈیو لگا لیا۔ وہی بے سرے بے ہنگم گانے جن پہ خوشی سے زیادہ نوحہ کرنے کا دل چاہتا۔ بے سر پیر کی مصنوعی گفتگو اور شور وغوغا سے اکتا کر چینل بدلتے بدلتے اچانک میں اس اسٹیشن پہ پہنچی تھی۔
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
نہ میری زندگی گلشن تھی نہ اس پر کسی بہار کا گمان پر یاسر کا لہجہ‘ اس کی لفظوں کی ادائیگی۔ مجھے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ سی ہوتی محسوس ہوئی تھی۔ اس رات وہ تین گھنٹے کیسے گزرے مجھے احساس بھی نہیں ہوا اور پھر تو جیسے یہ میرا معمول بن گیا کہ ہفتے میں چار دن میں بلاناغہ اس کا یہ پروگرام سننے لگی۔ اس دوران بہت سے لوگ اسے لائیو کال کرتے اور سراہتے‘ اس سے اپنی فرمائشیں کرتے اور اپنی پسند کی غزلیں اس کی آواز میں سننا چاہتے۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں‘ کبھی کبھی شرارتی لہجے میں ان سے گفتگو کرتا اور میں اس کے جوابوں پہ یوں ہی بے مقصد اکیلی بیٹھی مسکراتی رہتی۔
آپ بھی سوچتے ہوں گے شاید میں کوئی کم عمر‘ ٹین ایجر‘ غیر سنجیدہ سی لڑکی ہوں جو دنیا میں سب سے لاتعلق اور بیزار ہوکر بس ایک ان دیکھے آر جے کے لفظوں کے حصار میں جا الجھی ہوں تو ایسا ہرگز نہیں… میں ایک تیس سالہ‘ شادی شدہ عورت ہوں۔ فہد‘ میرے شوہر شادی سے پہلے ہی قطر میں رہتے تھے۔
فہد کا نام پہلی بار میں نے کب سنا‘ مجھے یہ تو یاد نہیں پر ان کے نام سے میرا نام جڑنا جیسے برسوں سے میرے لاشعور میں تھا۔ فہد ابا کے ایک قریبی اور پرانے دوست کے بیٹے ہیں۔ ابا اور میرے سسر کی خواہش پر ہی یہ رشتہ جڑا تھا۔ میں نے میٹرک کے بعد بھابیوں کی زبانی اپنے اور فہد کے رشتے کی بازگشت سنی۔ پھر کالج کا تمام عرصہ میری سہیلیاں مجھے فہد کا نام لے کر چھیڑتیں اور میں چھوئی موئی سی سمٹ جاتی‘ حیا سے لال ہوجاتی۔
میں نے فہد کو شاید ایک دو بار ہی دیکھا تھا اور پتا نہیں انہوں نے مجھے دیکھا بھی تھا یا نہیں۔ شاید نہیں دیکھا ہوگا۔ اسی لیے تو ہماری شادی ہوگئی۔ ان کی وہی جانیں‘ پر میرے تو ہر احساس سے ان کا وجود جڑا تھا۔ پتا نہیں اب یہ محبت تھی یا وفا کہ میں اس شخص سے رشتہ جڑتے ہی اپنا ہر جذبہ اس کے نام لکھ چکی تھی۔ کالج کے راستے میں کبھی کوئی مجھے آنکھ اٹھا کر دیکھتا کہ کہنے والے کہتے تھے میں بہت حسین ہوں اور اس میں ان بے چاروں کا کوئی قصور نہیں‘ شاید اسی لیے تو دونوں بھابیاں بھی حسد کرتی تھیں۔ لیکن مجھے ان کا دیکھنا آگ لگاتا تھا۔ جی چاتا آنکھیں نوچ لوں۔ مجھے دیکھنے کا انہیں کوئی حق نہیں ہے۔ مجھ پہ صرف اور صرف فہد کا حق تھا۔ بس وہی تھے جو مجھے نگاہ بھر کر دیکھ سکتے تھے۔
پانچ سال پہلے فہد سے میری شادی ہوئی تو زندگی اس رات کچھ اور بھی حسین لگنے لگی تھی۔ جس احساس کے ساتھ میں برسوں سے جڑی تھی وہ آج مجسم میرے سامنے تھا۔ سرخ جوڑے میں ملبوس میں حیا سے سمٹتی رونمائی کی منتظر تھی جب فہد کمرے میں آئے اور میری طرف دیکھے بناء اپنی الماری کھولے‘ افراتفری سے کچھ ٹٹولنے لگے۔ مجھے یہ بے وقت کی تلاشی عجیب لگی۔ کچھ دیر بعد وہ میری طرف پلٹے تو ہاتھ میں ایک خوب صورت سا سنہری باکس تھا۔ مجھے اپنی طرف حیرت سے دیکھتا پاکر انہوں نے وہ باکس میرے سامنے رکھ دیا اور پھر خود ہی اسے کھول کر اس میں رکھا خزانہ مجھے دکھانے لگے۔ میں حیرت زدہ سی وہ سب سامان دیکھتی رہی۔
کانچ کی فیروزی ٹوٹی ہوئی چوڑیاں‘ ایک سنہری جھمکا‘ چند تصاویر کچھ خطوط اور ہاں ایک پائل بھی تھی چاندی کی۔ فہد نے کہا میں اگر انہیں اس اثاثے سمیت قبول کر سکتی ہوں تو آج اور ابھی سے ہم اپنی نئی زندگی کی شروعات کریں گے۔ مجھے میرا حق ملتا رہے گا پر ان کے دل پہ حکمرانی فقط ماہم کی ہوگی جو ان کی پہلی اور آخری محبت ہے۔
میرے لیے یہ انکشاف چونکا دینے والا تھا۔ کیسے بتاتی کہ میں تو خود آپ کی محبت میں چور ہوں۔ کس طرح محبوب کو رقیب کے تصور سے بانٹ لوں۔ اس وقت تو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ انہیں رقیب کو سونپنا بھی پڑ سکتا ہے۔ شاید بجلی گرنا اسی کو کہتے ہیں۔ میں سن سی بیٹھی یہ بھی نہیں بتا سکی کہ برسوں سے انہیں کتنا چاہتی ہوں۔ بس وہی کہتے رہے۔ اپنی اور ماہم کے عشق کی داستان سناتے رہے۔
فہد اور ماہم ایک دوسرے سے شدید محبت کرتے تھے۔ ماہم ان کی کلاس فیلو تھی۔ میرے سسر اپنے دوست کو زبان دے بیٹھے تھے اور انہوں نے اس معاملے پہ فہد کی ایک نہیں سنی۔ وہ غصے سے گھر چھوڑ کر قطر چلے گئے اور وہیں بس گئے پر یہ بات میرے سسرال والوں نے ہم سے چھپائی۔ وہ اگر اسی وقت ابا کو سچائی بتا دیتے تو رشتہ ختم ہوجاتا پر دکھ وقتی ہوتا۔ چند ماہ نہیں تو چند سال بعد میری شادی کہیں اور ہوجاتی پر میں اس نارسائی کی تکلیف سے بچ جاتی۔ فہد کی غیر موجودگی میں ماہم کے گھر والوں نے اس کی شادی کردی۔ پھر جب فہد کچھ سیٹل ہوکر واپس آئے تو ماہم غیر کی ہوچکی تھی۔ مجبوراً انہوں نے مجھ سے شادی کرلی لیکن وہ اب بھی اپنی پہلی محبت کے حصار سے نکلنا نہیں چاہتے تھے۔ ان کے لیے میرا وجود کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ وہ مجھے کبھی اپنے دل میں محبت کا مقام نہیں دے سکتے تھے۔ میں سر جھکائے اندر ہی اندر آنسو پیتی رہتی۔ آخر اتنے شاندار تحفہِ رونمائی کے بعد اتنا خراج تو بنتا ہی تھا۔ میری خاموشی انہیں میرا اقرار محسوس ہوئی۔ رات قطرہ قطرہ گزرتی صبح میں بدلی لیکن میرا مقدر نہ بدلا۔ فہد جس طرح آئے تھے اسی طرح تنہا واپس لوٹ گئے۔
میں ساس سسر کے ساتھ رہنے لگی۔ گھر کے حالات آسودہ تھے پھر میرے سسر پیسے والے تھے۔ گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ بناء مانگے سب کچھ مل جاتا۔ فہد بھی ہر مہینے میرے نام سے اچھی خاصی رقم میرے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیتے تھے۔ ہاں اگر کچھ نہیں ملتا تھا تو وہ تھا ان کا ساتھ‘ ان کی محبت۔ ہفتے میں ایک بار فون پہ دو چار لمحے خیریت پوچھتے۔ اس دوران ماہم کا ذکر بھی کرنا نہ بھولتے کہ وہ آج بھی اس کے حالات سے باخبر تھے۔ میں ہاں اور نہیں میں جواب دیتی ان چند لمحوں کو زندگی سمجھ کر جیتی رہی۔ پھر ایک دن زندگی ریت کی طرح میری مٹھی سے نکل گئی۔
ماہم کے شوہر کا ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا۔ فہد پاکستان آئے اور اس کی عدت پوری ہونے کے بعد اس سے شادی کرکے اپنے ساتھ قطر لے گئے۔ یہ بات مجھے اور میرے ساس سسر کو انہوں نے شادی کے بعد بتائی۔ ساس خاموش رہیں‘ سسر نے واویلا کیا۔ میں کیا کہتی؟ انہوں نے کسی کی نہیں سنی تو میری کیا سنتے۔ زندگی عجب مقام پہ آٹھہری تھی۔ ہر لمحہ بوجھ لگنے لگی تھی۔ انا اور خوداری کا شوق چڑھا تھا مجھے کہ ان چاہی اور بے مول بن کر اس گھر میں نہیں رہوں گی۔ یہی سوچ ابا کے پاس واپس لے آئی لیکن یہاں آکر پتا چلا کہ مجھ جیسی عورت کا انا اور خوداری سے کوئی واسطہ ہے ہی نہیں۔ میں بڑے مان سے بھائی اور باپ کے در پہ آئی تھی پر میرا لوٹنا ان کے لیے تہمت بن رہا تھا۔ بھابیاں الگ بیزار تھیں۔ اپنا گھر ٹوٹنا ہی کیا کم عذاب تھا جو بھائیوں کے گھر توڑنے کا موجب بنتی۔ مجبوراً سر جھکائے واپس سسرال آگئی۔
سسر نے آگے بڑھ کر سر پہ ہاتھ رکھا۔ ساس نے ناک بھوں چڑھائی۔ نندوں نے شادی شدہ عورت کی حدود اور عزتِ نفس پہ لیکچر دیے۔ گرہستی اور گھر کیسے بسائے جاتے ہیں ان پہ اپنی مثالیں دے کر وضاحت کی پر شکر کہ انہوں نے مجھے واپس اپنے گھر میں جگہ دے دی۔ اسی رات فہد نے بھی فون کیا۔ دھیمے انداز میں سمجھایا کہ انہوں نے کچھ ایسا انوکھا نہیں کیا بلکہ مرد کو تو چار شادیوں کی اجازت ہے۔ پھر وہ ہمیشہ میری ضروریات کا خیال رکھیں گے۔ لیکن انہوں نے ایک بار بھی مجھ سے نہیں پوچھا کہ آخر میری ضروریات ہیں کیا؟
پوچھتے تو بتاتی کہ فہد میری ضرورت آپ ہیں۔ وہ پیسے جو آپ مجھے ہر ماہ بھیجتے ہیں وہ میری مادی ضروریات تو پوری کردیتے ہیں لیکن میرا نفس اور میری روح تشنہ رہتی ہے۔ اس کمی کو آپ کا پیسہ پورا نہیں کرسکتا۔ ہمیشہ کی طرح میں نے اس بار بھی خاموش رہ کر ان کی باتیں سنیں اور پھر کال بند ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے اپنے باپ بننے کی خوشخبری سنائی۔ ماہم امید سے تھی اور وہ بے حد خوش تھے۔ انہیں اس کی صحت کی بھی بہت فکر تھی اور وہ نہیں چاہتے تھے اس دوران میری طرف سے انہیں کوئی پریشانی ملے۔ میں نے آنسو پیتے کال بند کردی کہ انہیں مبارک باد دینے کا ظرف نہیں تھا مجھ میں۔
خ…خ…خ
میرے سسرال والوں نے اپنی عزت اور شان کے سبب فہد کی دوسری شادی کو چھپالیا۔ فہد کی بیوی ہونے کے ناتے ہر ذمہ داری مجھ سے ہی منسوب تھی کہ میں اس خاندان کی بہو تھی۔ فہد کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا کہ اس بہانے ان کے بوڑھے والدین کو ان کی غیر موجودگی میں آخر میں نے ہی سنبھال رکھا تھا۔ وہ تو اپنی محبت کے ساتھ راضی اور خوش تھے۔ فہد سال میں ایک دفعہ آتے لیکن میرے پاس رہ کر بھی وہ میرے نہیں تھے۔ اس دوران میں نے بانجھ اور بے اولاد ہونے کے طعنے کثرت سے سنے۔ رشتے دار‘ محلے والے‘ میری بھابیاں‘ سب ہی مجھے بے اولادی پہ باتیں سناتیں۔ کوئی ڈاکٹروں کے پتے دیتا تو کوئی وظیفے کرنے کو کہتا۔ میں بانجھ تھی نہ مجھے کسی علاج کی ضرورت تھی۔ میرا روگ میری تنہائی تھی۔
اور پھر میری تنہائی کا علاج یاسر علی کی آواز نے کر دیا۔ میر سے فیض تک اس کی زبان سے نکلا ہر شعر مجھے اپنے زخموں پہ مرہم رکھتا محسوس ہوتا۔ پچھلے چھ ماہ سے میں اس کا پروگرام سن رہی تھی۔ اس کی آواز زیادہ تر سننے والی لڑکیاں ہی تھیں۔ جو اس کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کرنے کے بعد اس سے اپنی فرمائشی غزل سنانے کو کہتیں۔ یاسر ہمیشہ اپنے پروگرام میں دسیوں بار اپنا ای میل اور فون نمبر دہراتا تاکہ سب کی فرمائش اس تک پہنچ سکے۔ مجھے یہ دونوں چیزیں زبانی یاد تھیں پر میں نے کبھی اس کے پروگرام میں کال نہیں کی کیونکہ میرے پاس کوئی خاص فرمائش تھی ہی نہیں یا پھر اس کی ہر بات مجھے اپنی ہی فرمائش محسوس ہوا کرتی تھی۔ ایسا لگتا تھا وہ میرے ہی دل کی ترجمانی کرتا ہوا یہ پروگرام کررہا ہے۔
یہ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے جب یاسر نے پروگرام کرنا شروع کیا تو مجھے اس کی آواز بوجھل لگی۔ اس نے پروگرام کے دوران بتایا کہ وہ آج ذرا بیمار ہے اور زکام کے باوجود بھی وہ اپنے سننے والوں کے لیے اسپیشل پروگرام کررہا ہے۔ اس دن میں خود کو روک نہیں پائی اور بلا ارادہ ہی اسے کال کر بیٹھی۔ اس نے مجھے اپنے پروگرام میں خوش آمدید کہا اور میری فرمائش جاننا چاہی لیکن میری تو کوئی فرمائش تھی ہی نہیں۔ میں تو فقط اس کی خیریت پوچھنا چاہتی تھی۔ اور میں نے اس سے یہی پوچھا تھا۔ اس نے میری تشویش پر میرا بے حد شکریہ ادا کیا اور پھر میرے لیے ایک خصوصی غزل پڑھی۔
وہ رات میری زندگی کی حسین ترین رات تھی۔ صبح تک یاسر کے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہے اور میں خود کو فضاؤں میں اڑتا محسوس کرتی رہی۔ یہی وجہ تھی کہ اگلے دن پھر میں نے اس کے پروگرام میں کال ملائی لیکن اس بار پورا دن میں نے اپنی فرمائشی غزل کے متعلق سوچا تھا۔ پھر تو جیسے یہ سلسلہ معمول ہی بن گیا۔ اب اگر کسی دن میری کال نہ مل پاتی تو یاسر علی میرا نام لے کر مجھے یاد کرتا کہ وہ جانتا تھا میں اس کی ریگولر سننے والی ہوں۔ اس دوران ایک دو بار میں نے لائن نہ ملنے کی صورت میں اسے مایوس نہ کرنے کی خاطر ای میل کر دی۔ جواب میں اس نے بھی مجھے ای میل پہ شکریہ کہا اور میری فرمائش کو پروگرام میں شامل کرلیا۔ مجھے کال سے زیادہ ای میل کرنا اچھا لگتا۔ وہاں میں اپنی فرمائش کے علاوہ اس کی خیریت اور تعریف بھی اپنے انداز میں کردیتی۔
پھر یوں ہوا کہ ہم دونوں کے درمیان یہ رسمی رابطہ غیر رسمی ہونے لگا اور ہمیں اس کا احساس ہی نہیں رہا۔ ای میل سے سوشل میڈیا اور پھر فون نمبر تک رسائی ہوئی۔ سارا دن اب ہم کسی نہ کسی طرح رابطے میں رہتے۔ واٹس ایپ کے فارورڈ میسیج‘ سوشل میڈیا پہ کوئی ٹیگ پوسٹ یا پھر فارغ اوقات میں کال کے ذریعے ہمارا تعلق ایک دوسرے سے جڑا رہا تھا۔
خ…خ…خ
یاسر سے میں نے اپنے متعلق کچھ بھی جھوٹ نہیں کہا تھا۔ وہ جانتا تھا میں ایک شادی شدہ عورت ہوں اور میرے شوہر ملک سے باہر ہوتے ہیں۔ خود اس نے اپنے متعلق مجھے یہی بتایا کہ وہ پیشے کے لحاظ سے بینکر ہے اور ریڈیو پہ آر جے کی پارٹ ٹائم جاب اس کا شوق ہے۔ اسے شعر و شاعری سے شغف تھا اور تقریباً اس کی ہر بات میں کسی نہ کسی شعر کا حوالہ ہوتا تھا۔ آہستہ آہستہ میں یاسر کے رنگ میں رنگنے لگی تھی۔
میری اب زندگی سے شکایات کم ہورہی تھیں اور فہد کو تو شاید اب میں بھول ہی چکی تھی یا پھر معاف کرچکی تھی۔ مجھے اب ان سے کوئی شکایت نہیں تھی اور امید تو اتنے برسوں میں ختم ہو ہی چکی تھی۔ شاید اسی لیے تو جب پچھلے ماہ چند روز وہ میرے ساتھ گزار کر گئے تو مجھے اس دوران ان کی موجودگی بے چین کررہی تھی۔ ایسا لگتا تھا زندگی چلتے چلتے کسی ان دیکھے‘ مشکل اور پیچیدہ موڑ پہ مڑنے لگی ہے۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔ ان کا رویہ نہ ان کی بیگانگی‘ پر یہ جو کچھ دن کی قربت تھی یہ مجھے بوجھل کررہی تھی۔ لگتا تھا مجھ سے میری آزادی‘ میرا سکون چھین لیا گیا ہے۔ ان دس دنوں میں یاسر سے بات نہیں کر پائی اور ایسے لگتا تھا جیسے سانس نہیں لے پارہی ہو۔ فہد کی واپسی کے بعد یاسر مجھ سے سخت خفا تھا کہ میں ہرگز اس کی اچھی دوست نہیں ہوں جو شوہر کے آتے ہی اسے بھول گئی۔ اب میں اسے کیا سمجھاتی کہ بھلا کوئی سانس لینا بھی بھول سکتا ہے۔ ایک وہی تو تھا میرا اپنا جس کے سامنے مجھے اپنا حالِ دل سناتے ہوئے جھجک محسوس نہیں ہوتی تھی۔ میں نے اسے منانے کی بہت کوشش کی لیکن اپنی ناراضی ختم کرنے کے لیے اس نے ملاقات کی شرط رکھی۔ فون تک تو ٹھیک تھا پر اس سے ملنا؟
ایسا نہیں تھا کہ مجھے اس پہ اعتبار نہیں تھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری دوستی اعتبار کی سرحد چھوتی جارہی تھی۔ پھر اس کا میرا بے تحاشا خیال رکھنا‘ مجھے اپنی تمام تر مصروفیت کے باوجود توجہ دینا یہ سب مجھے باور کرانے کے لیے کافی تھا کہ اسے میری پرواہ ہے۔ بھلے اس رشتے کا کوئی نام نہیں تھا کہ چھپے ہوئے تعلق بے نام ہی نہیں بدنام بھی ہوتے ہیں لیکن وہ میرے ہر اس رشتے سے زیادہ اپنا تھا جو معاشرے کی نگاہ میں قابلِ احترام کہلاتے تھے کیونکہ یہ حقیقت تو بس میں ہی جانتی تھی ناں کہ ان سب نے میرا کتنا استحصال کیا ہے۔
میں ان دنوں کچھ ایسی ہی سوچ میں مبتلا تھی۔ خود ترسی اور احساسِ کمتری سے نکل کر اب میں غصے اور بغاوت کے دَور میں داخل ہوچکی تھی۔ پر مشکل تو یہ تھی میں کیا کہہ کر اس سے ملنے جاؤں گی۔ میں تو اکیلی شاپنگ کے لیے مارکیٹ بھی نہیں جاتی تھی۔ فہد نے کبھی نگاہ بھر کر نہیں دیکھا تو میرے بھی سارے شوق میرے اندر ہی دم توڑ گئے تھے۔ سجنے سنورنے‘ اچھے کپڑے پہننے کا شوق برسوں گزرے ختم ہوچکا تھا۔ میری زیادہ تر شاپنگ ساس اور نندیں ہی کرلاتیں۔ پتا نہیں کس کس برانڈ کے جوڑے ہوتے میں ان سے فقط تن ڈھانپنے کا کام کرتی تھی۔ فہد آتے تو کوئی نہ کوئی زیور دے جاتے۔ اسے بھی چند روز ان کی موجودگی میں پہن کر میں لاکر میں رکھ دیتی لیکن اب یاسر نے مجھے مشکل میں ڈال دیا تھا۔
اسے مناتے‘ سمجھاتے اسی کشمکش میں چند اور دن گزر گئے لیکن اس کی بس اب ایک ہی رٹ تھی کہ جب تک خود نہیں آؤ گی میں نہیں مانوں گا۔ میرا بھی دماغ گھوما اور میں نے دو ٹوک منع کر دیا۔ نتیجتاً اس نے کال کرنا بند کردی۔ ایک آدھ دن انا اور ضد میں‘ میں نے بھی رابطہ نہیں کیا۔ وہ اکثر اپنے پروگرام میں ڈھکے چھپے انداز میں میرا تذکرہ کرتا تھا جس میں ہماری کسی گفتگو کا حوالہ ہوتا۔ جب اس رات اس نے پروگرام کے دوران مغموم و مضطرب کلام پڑھ کر اپنے بہت پیارے دوست سے منسوب کیا تو میری ساری رنجش پانی بن کر بہہ گئی۔ میں نے پروگرام ختم ہوتے ہی اسے کال کی۔ وہ بھی جیسے میرا ہی منتظر تھا۔
بہرحال اس مختصر وقفے کے بعد ہمارا رابطہ ایک بار پھر بحال ہوگیا۔ دو دن بعد اس کی سالگرہ تھی۔ وہ جانتا تھا میں اس سے ملنے والی نہیں پھر بھی اس نے مجھے لنچ کی دعوت دی۔ اس وقت تو میں خاموش رہی لیکن اب میرا ذہن کچھ اور سوچ رہا تھا۔ مجھے اسے سالگرہ پہ تحفہ تو بھیجنا ہی تھا اور ظاہر سی بات ہے تحفہ میں کسی سے منگوا نہیں سکتی تھی۔ اس کے لیے تو مجھے خود ہی جانا تھا۔ پہلی بار میں نے ساس سے جھوٹ بولا اور بھابی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جانے کا بہانہ بنایا۔ ساس میری کچھ حیران تو ہوئیں کہ اس سے پہلے تو کبھی برسوں میں میری بھابیوں نے مجھے اپنے کسی کام سے ساتھ چلنے کو نہیں کہا پر چونکہ یہ پہلی بار تھا تو بناء چون چرا اجازت دے دی۔
میں نے جھٹ کپڑے بدلے۔ سلیقے سے ہلکا سا میک اپ کیا جو شاید آخری بار فہد کے قطر سے آنے پہ میری نند کے زبردستی کہنے پر ہی کیا تھا۔ جب انہیں میں ہی دکھائی نہیں دیتی تھی تو پھر میرا سنگھار کہاں سے نظر آتا۔ لاکر سے کچھ جیولری نکال کر پہنی اور چادر اوڑھ کر گھر سے نکل گئی۔ مارکیٹ سے یاسر کے لیے نہایت قیمتی پرفیوم‘ شرٹ اور سب سے بڑی بیکری سے کیک خرید کر میں نے اسے کال ملائی۔ میں نے اسے بتایا کہ اس وقت فلاں مارکیٹ میں ہوں۔ وہ پہلے تو حیران پریشان سا سنتا رہا۔ شاید اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میں اس طرح اچانک اسے سرپرائز دینے پہنچ جاؤں گی لیکن پھر فوراً ہی فون بند کرکے اپنے سب کام چھوڑ میرے پاس پہنچ گیا۔ میں اس سے چند منٹ مل کر یہ سب چیزیں پکڑا کر گھر جانا چاہتی تھی لیکن جیسے ہی میں اس کی گاڑی میں بیٹھی اس نے گاڑی وہاں سے بھگا لی۔
میں نے سمجھایا میرے پاس زیادہ وقت نہیں یہ تو بس میں اس کی سالگرہ کے تحائف دینے آئی تھی لیکن اس نے میری ایک نہیں مانی۔ کہنے لگا کیک کاٹے بغیر بھلا میں کیسے واپس جاسکتی ہوں۔ چارو نا چار مجھے اس کی بات ماننا ہی پڑی۔ وہ بے حد خوش تھا اور ڈرائیو کے دوران مجھ سے ڈھیروں باتیں کرتا رہا۔ اس دوران کئی بار اس نے میری تعریف کی کہ میں اسے اس کی امید سے بڑھ کر حسین نظر آئی تھی۔ میرا خیال تھا ہم کسی ریسٹورنٹ میں جا رہے ہیں مگر بیس بائیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد اس نے گاڑی ایک رہائشی علاقے کی طرف موڑ لی جو نسبتاً غیر گنجان آباد تھا۔ یہ کوئی نئی سوسائٹی تھی اور یہاں ابھی زیادہ تر مکان زیرِ تعمیر تھے۔ میرا دل ایک پل کو دھڑکا‘ میرے پوچھنے پر اس نے کہا ریسٹورنٹ میں کسی کی نظر پڑ سکتی ہے اور اسے اپنی نہیں میری رسوائی کا خدشہ ہے کہ میں بہرحال ایک شادی شدہ عورت ہوں اور اگر میرے خاندان میں سے کسی نے مجھے وہاں اس کے ساتھ دیکھ لیا تو میرے لیے مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔ اسی لیے وہ مجھے اپنے گھر لے آیا ہے تاکہ ہم آرام سے بات چیت کے ساتھ اس کی سالگرہ مناسکیں۔ اس کی مثبت سوچ نے میرے دل میں اس کا مقام کچھ اور بلند کیا تھا لیکن اس وقت مجھے نہیں معلوم تھا اس کا بڑھتا مقام مجھے پاتال میں دھکیل دے گا۔
دو کمروں کے اس چھوٹے سے گھر کی حالت دیکھتے ہی اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ایک کنوارے کی رہائش گاہ ہے۔ جا بجا بکھرے میلے کپڑے‘ مختصر سامان اور پھیلی ہوئی چیزیں دیکھ کر مجھے اس کی بے ترتیبی اور آلکسی پہ شدید غصہ آیا تھا۔ پر چونکہ آج اس کی سالگرہ تھی لہٰذا اسے ڈانٹنے کا پروگرام موقوف کرتے میں نے اسے کیک کاٹنے کو کہا تاکہ جلد از جلد وہ مجھے واپس گھر ڈراپ کرسکے۔ چھوٹی سی لکڑی کی میز پہ کیک کا ڈبہ رکھ کر وہ اس میں سے کیک نکالنے لگا۔ سامنے کچن دیکھ کر میں خود ہی چائے بنا لائی۔ اگلے پانچ سات منٹ میں ہم کیک اور چائے سے لطف اندوز ہوچکے تھے۔
اسے وقت کا احساس دلاتے ہوئے میں نے واپس چلنے کو کہا لیکن اس نے کچھ دیر اور رکنے کی فرمائش کی۔ مجھے اب واقعی گھر کی طرف سے پریشانی ہورہی تھی۔ مبادا میری ساس‘ بھابی کو کال کر دیں اور میرا جھوٹ کھل جائے تو میں ان کا سامنا کس طرح کروں گی۔ میں نے اس کی منت کرتے ہوئے اسے سمجھایا کہ دیکھو پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے اب مجھے ہر صورت گھر پہنچنا ہے اس بار میرا لہجہ تھوڑا سنجیدہ اور دو ٹوک تھا۔ اچانک اس کے چہرے کی مسکراہٹ سمٹی۔ وہ میز کے دوسری طرف پڑی کرسی پہ بیٹھا تھا۔ ایک جھٹکے سے اٹھا اور صوفہ پہ میرے برابر آبیٹھا۔ اس وقت ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ اس کی بھوری آنکھوں میں پھیلی وحشت میری آنکھوں میں خوف بن کر ناچ رہی تھی۔ میں وہیں بیٹھی بیٹھی پیچھے سرکی۔ یک دم اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ ماتھے پہ بل ڈالے میں نے اپنی پوری ہمت جمع کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کو پرے دھکیلا پر سچ تو یہ ہے میں اس وقت اتنی خوفزدہ تھی کہ زبان سے ایک لفظ نہ نکلا۔ مسکرا کر اس نے میری چادر سے نکلتی بالوں کی لٹوں کو چھوا اور مخمور لہجے میں ایک رومانوی شعر پڑھ کر میرے حسن کی تعریف کی۔
وہی اشعار جو ہر بار اس کی زبانی سننے پہ مجھے بے چین کرتے تھے‘ آج اس کی حد درجہ قربت اور اپنی بے بسی سوچ کر انگارہ بن کر لگے تھے۔ میں نے اسے ٹوکتے ہوئے اس کے اور اپنے تعلق کی حد کا احساس دلایا۔ جواب میں اس نے کہا۔
’’ایسے چھپے ہوئے تعلقات کی کبھی کوئی حد نہیں ہوتی۔‘‘
میں نے اسے سمجھایا میں ایک شادی شدہ با عزت عورت ہوں۔ وہ میرے ساتھ کسی بھی برے ارادے سے باز رہے لیکن اس نے کہا وہ فقط میری تنہائی دور کرنا چاہتا ہے۔ وہی تنہائی جس کا رونا میں اس کے آگے رویا کرتی تھی۔ اب ایک شادی شدہ عورت کی تنہائی تو اسی طرح دور کی جاسکتی ہے ناں… میں نے آج یاسر علی کا وہ مسخ شدہ چہرہ اپنے سامنے دیکھا جو اتنے مہینوں میں نہیں دیکھ پائی تھی۔
اس فینٹیسی لینڈ میں اس کی آواز سے جڑے اپنے جذبات کو میں نے ہمیشہ ہمارے تعلق کی طرح بے نام رہنے دیا تھا لیکن اس نے ایک عام مرد بن کر اس بے رنگ محلول میں اپنی ہوس کا زہر گھول کر مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ میری چیخیں اس ویران اور دور دراز مقام پہ بنے اس چھوٹے سے گھر کی دیواروں پہ ماتم کرتیں لوٹ آئیں پر اسے مجھ پہ رحم نہ آیا۔ لٹی پٹی میں جب اس گھر سے نکلی تو خود اپنے آپ سے نگاہیں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی۔ میری زندگی میں تکالیف پہلے ہی کون سی کم تھیں جو میرے ماتھے پر ذلت کا یہ نیا داغ لگا دیا گیا تھا۔ پر غلطی تو میری ہی تھی۔ اپنوں کے استحصال سے نالاں میں غیروں سے خلوص کی متمنی تھی۔ کیسے بھول گئی تھی کہ مرد سے عورت کا رشتہ فقط محرم کا ہے۔ اس حد سے آگے نکلنے والوں کو انگاروں پہ چلنا پڑتا ہے۔ کبھی کالج کے راستوں پہ کھڑے لوفروں کی خود پہ جمی نگاہیں میرا خون کھولا دیا کرتیں تھیں۔ آج ایک بھیڑیے نے مجھے نوچتے ہوئے میری روح کو قتل کر ڈالا اور کیا عجب کہ میں زندہ تھی۔ خود نہیں مری تو اسے ہی مار دیتی۔ پر میں شاید اتنی بہادر نہیں تھی اس لیے اپنی تار تار عزت کو پونے تین گز کی چادر میں ڈھانپے‘ ڈگمگاتے قدموں سے وہاں سے چلی آئی۔
نہیں جانتی میں کس طرح گھر پہنچی کہ اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں تھی۔ ایک چپ تھی جو زبان پہ تالا بن کر لگ گئی تھی۔ کسی سے نگاہ ملانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی‘ جانے کون کب کس وقت میری آنکھوں کی وحشت بھانپ لے۔ میرے چہرے پہ لکھا درد پڑھ کر سمجھ جائے کہ میرے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے۔ زندگی یکسر بدل گئی تھی۔ وہ جمود جو پچھلے چھ سالوں سے میری زندگی میں تھا اور یاسر کے آنے پہ ٹوٹا تھا لیکن اس کے نتیجے میں میری شخصیت کا وقار‘ میرا مان ہی لٹ گیا تھا۔ ہر آتی جاتی سانس کے ساتھ میں اس وقت کو کوستی جب میں اس کی زبان کے پُر فریب جال میں مکھی کی طرح پھنس گئی تھی۔ پر سچ تو یہ ہے میری خود ترسی نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔
کبھی وہ وقت تھا کہ تنہائی مجھے عذاب لگتی تھی اور آج میں خود اس عذاب میں قید رہنا چاہتی تھی۔ سب سے الگ تھلگ‘ میں بس اب ہر وقت اپنے کمرے میں رہتی۔ گھر والوں نے پوچھا تو طبیعت کی خرابی کا بہانہ بنایا۔ انہوں نے بھی ہمیشہ کی طرح مجھے میرے ہی حال پر چھوڑ دیا۔ اس دوران فہد کی کال آئی لیکن میں ایک لفظ نہ کہہ پائی بس روتی رہی۔ اس سے پہلے میں نے اگر کبھی ان سے شکوہ شکایات نہیں کی تھیں تو اپنے آنسو بھی ان کے سامنے ضائع نہیں کئے تھے کہ میں اپنا ہر غم اپنے اندر رکھنا چاہتی تھی۔ پھر اسے بتانے سے کیا حاصل جو میری اس حالت کا ذمہ دار تھا لیکن آج میں بے بس ہوگئی تھی۔ وہ میرے رونے سے بوکھلا سے گئے اور وجہ پوچھنے لگے۔ اب کیا کہتی کہ یہ تو میری ندامت ہے جو آنسوؤں کی صورت بہہ رہی ہے۔ میں اپنی اور ان کی عزت کی حفاظت نہیں کر پائی۔ اتنے برسوں میرے اندر ایک یہی تو مان تھا کہ اپنے شوہر کی بے اعتنائیوں کے باوجود کردار کی ہلکی نہیں تھی۔ پر آج میرا یہی غرور مٹی میں مل گیا تھا۔ شاید جب دل میں غرور آجائے تو ریاضتوں سمیت دھتکار دیا جاتا ہے۔
فہد پہلی بار میرے لیے تشویش کا شکار ہوئے اور گھبرا کر انہوں نے میری ساس کو فون کردیا۔ ان کے یہ کہنے پر کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں رہتی فہد نے انہیں مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کو کہا۔ میں جانا نہیں چاہتی تھی کیونکہ مجھے اپنی بیماری کا علم تھا پر میری ساس پہ فہد کا دباؤ تھا اس لیے انہوں نے میرے انکار پہ توجہ نہیں دی۔ میں ان کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلی گئی۔ مجھے یقین تھا ڈاکٹر میرے درد کی تشخیص کرنے میں ناکام ہوگی کہ وہ جسم کا علاج کرتے ہیں روح کے مرض کا نہیں لیکن شاید ابھی میرا امتحان‘ میری آزمائش ختم نہیں ہوئی تھی۔ وہاں جاکر پتا چلا میں امید سے ہوں۔ ماں بننے والی ہوں۔ چھ سال سے جس خبر کو سننے کے لیے میرے اور میرے سسرال والوں کے کان ترس گئے تھے وہ زندگی کے اس مقام پر ملی جب مجھے خود اپنے ہی وجود سے نفرت ہوچکی تھی۔ میری ساس نے خوشی خوشی واپس آکر فہد کو خبر دی۔ وہ کچھ بے یقین سے ہوئے لیکن ان کے انداز سے لگتا تھا وہ بھی کافی خوش ہیں۔
میرے سسر نے آج تک ماہم کو اپنی بہو مانا تھا نہ ہی اس کی بیٹیوں کو اپنی پوتی خوشی سے ان کے تو پیر زمین پہ نہیں ٹکتے تھے۔ دادا بننے کی خوشی میں ڈھیروں مٹھائیاں بانٹیں۔ دوسری طرف ابا الگ نِہال تھے۔ بس ایک میں ہی تھی جو چاہ کر بھی مسکرا نا پائی تھی۔ میری چپ اور بھی گہری ہوگئی تھی۔ دل میں ایک ہی خوف تھا کہ یاسر کا گناہ میری کوکھ میں پل رہا ہے کیونکہ یہ صرف میں جانتی تھی یہ بچہ فہد کا نہیں ہے۔
میرا وجود اچانک گھر کے کونے میں پڑی ناکارہ شے سے بدل کر اہم ہوگیا تھا۔ قطر میں ماہم کے یکے بعد دیگرے دو بیٹیاں ہوئیں‘ میری ساس اٹھتے بیٹھتے پوتے کی دعائیں کرتیں۔ وہی روائتی سی سوچ کہ وارث تو بیٹے ہی ہوتے ہیں۔ پھر بھلے وہ فہد جیسے بے انصاف ہوں یا یاسر جیسے شیطان تو کیا ایسے وارث سے لاوارث ہونا بہتر نہیں؟ یہ میری ساس کی باتوں کا اثر تھا یا پھر دو بیٹیوں اور ماہم کی چار سالہ رفاقت کے بعد عشق کا زور کم پڑنے لگا تھا۔ اچانک فہد کا رویہ مجھ سے بدل رہا تھا۔ اب وہ اکثر میری خیریت پوچھنے کے لیے فون کرتے اور اپنا خیال رکھنے کی تنبیہہ کرتے۔ دبے دبے لفظوں میں بیٹے کی خواہش بھی کر دیتے اور میں سسک کر رہ جاتی۔ کیسا وقت آیا تھا مجھ پر کہ زندگی میں اس مقام پر میرے بے معنی وجود کو میرے شوہر کی نگاہوں میں اہمیت ملی تھی جب خود مجھے اپنی ذات اور اس میں پلتے وجود سے نفرت ہوچکی تھی۔ میرا بس نہیں چلتا تھا میں پوری دنیا کو آگ لگادوں اور خود بھی اس آگ میں کود جاؤں۔
جیسے جیسے دن گزر رہے تھے میرا احساسِ ندامت اور شرمندگی احساسِ گناہ بنتا جارہا تھا۔ میں کمزور تھی‘ سچ بتا کر دنیا کی ملامت سہہ نہیں سکتی تھی لیکن اس احساس کے ساتھ زندہ رہنا بھی مشکل ترین ہوچکا تھا کہ میں سب کو دھوکا دے رہی ہوں۔ کئی بار سوچا فہد سے کہہ دوں لیکن ہمت ہی نہیں ہوئی اور پھر ایک دن اسی کیفیت میں خود کو ختم کرنے کی ٹھان لی۔
چوہے مار گولیاں اٹھائے میں اپنے کمرے میں چلی آئی۔ ارادہ تھا کہ آج اس مستقل اذیت سے چھٹکارہ حاصل کرکے رہوں گی۔ بند دروازے کے پیچھے میں اس وقت بوتل کا ڈھکن کھول رہی تھی کہ اچانک مجھے اپنے اندر پلتے نفس کی پہلی کروٹ محسوس ہوئی۔ ایک سنسنی میری ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کرتی مجھے سر سے پیر تک جھنجھوڑ گئی۔ خوف سے گولیوں کی شیشی میرے ہاتھ سے گر کر فرش پہ چکنا چور ہوگئی۔
تو کیا میرا بچہ میرے اس اقدام سے باخبر تھا۔ تو کیا وہ سب دیکھ رہا تھا‘ محسوس کررہا تھا جو اس نے عین اس وقت مجھے اپنے ہونے کا احساس دلایا جب میں اپنی اور اس کی جان لینے والی تھی۔ تو کیا وہ میری طرح مرنا نہیں چاہتا… وہ زندہ رہنا چاہتا ہے؟ اس دنیا میں آنا چاہتا ہے۔
لیکن یہ دنیا تو بہت بری ہے۔ ایسی بری دنیا میں آکر وہ بھی برا بن جائے گا؟
نہیں…
بری تو میں ہوں کہ میری ایک غلطی نے مجھے گناہ گار بنا دیا۔ دنیا تو سدا سے ایسی ہی ہے۔ خیر کے ساتھ شر بھی ہے تو کیوں میں خیر کے راستے سے ہٹ کر شر کی راہ پہ چلنے لگی۔ یہ سچ ہے میری بدلتی سوچ کے پیچھے میرے اپنوں کی خود غرضی اور میری مستقل جذباتی تناؤ کی کیفیت پوشیدہ تھی پر کیوں میں نے صبر کرنے کے بجائے اپنے جذبات کو بہکنے دیا۔ کس لیے یاسر سے چھپ کر بات کی‘ کیوں اسے اپنی ذاتی باتیں بتائیں۔ جھوٹ بول کر اس سے ملنے چلی گئی۔ ہاں میں ہی بری تھی‘ میں ہی گناہ گار تھی تو کفارہ بھی میں ہی ادا کروں گی۔ اس بچے سے زندہ رہنے کا حق میں نہیں چھین سکتی کہ یہ تو امانت بنا کر مجھے سونپا گیا ہے۔ یہ قدرت کا فیصلہ تھا اسے بدل کر میں ایک کے بعد دوسرا گناہ نہیں کرسکتی تھی۔
اس بچے کے دنیا میں آنے کا وقت اسے تخلیق کرنے والے نے چنا تھا پھر کس طرح میں اسے قتل کرسکتی تھی۔ بے اختیار میرا ہاتھ میری کوکھ پہ جا ٹھہرا۔ میں ایک بار پھر اسے محسوس کرنا چاہتی تھی۔ دیکھنا چاہتی تھی کہیں یہ میرا وہم تو نہیں۔ اس نے ایک بار پھر مجھے اپنے ہونے کا احساس دلایا… اس وقت میں نے فیصلہ کیا میں اس بچے کو دنیا میں لاؤں گی۔ فہد کا نہیں لیکن یہ میرا خون تو ہے۔ اس کی بدولت چھ سال بعد میری زندگی میں ٹھہرا جمود ٹوٹا ہے۔ میری بے معنی زندگی کو معنی ملے ہیں۔ میں نے ہمیشہ اپنا ہر رشتہ ایمان داری سے نبھایا پر شیطان نے مجھے بہکا کر میرے خلوص میں بے ایمانی کی ملاوٹ کر دی لیکن اس کا ازالہ کرتے ہوئے میں اپنے اس رشتے کو پوری دیانت داری سے نبھاؤں گی۔ یہ بیٹی ہوئی تو اسے باکردار ہونے کے ساتھ مضبوط اور اپنا تشخص قائم رکھنے کی تلقین کروں گی تاکہ آگے جاکر میری طرح کوئی اس کا استحصال نہ کرسکے۔ وہ میری طرح سہارے ڈھونڈنے کی بجائے اپنی ذات پہ انحصار کرنا جانتی ہو۔ بیٹا ہوا تو اسے محافظ بناؤں گی۔ اپنے سے جڑے رشتوں کے حقوق کا محافظ‘ دوسروں کی عزت کا محافظ۔ وہ اپنے باپ سا موقع پرست اور ہوس کا مارا نہیں ہوگا۔
میں اپنی تربیت پہ خون کی تاثیر کو حاوی نہیں ہونے دوں گی۔ اپنے اس فیصلے کے بعد مجھ پہ وہ کڑا وقت آسان ہوگیا تھا۔
خ…خ…خ
چند ماہ بعد سعد کو جب نرس نے میری جھولی میں ڈالا تو اس کے پھول سے نازک وجود کو سینے سے لگائے مجھے اپنا ہر غم بھول چکا تھا۔ اس ایک لمحے میں زندگی سے میرے شکوے شکایت ختم ہوگئے تھے۔ فہد بالخصوص سعد کی پیدائش پہ ہم سے ملنے آئے تھے۔ ان کا رویہ مجھ سے پہلے ہی بدل چکا تھا‘ اب تو خوشی سے بے حال تھے پر سچ تو یہ ہے مجھے اب اس بدلے ہوئے رویے سے خوشی نہیں ملتی تھی۔ ایک وقت تھا جب میں ان کی تھوڑی سی توجہ کے لیے تڑپتی تھی۔ میں نے اپنی شادی کے شروع کے دن کہ ان دنوں جذبات بھی عروج پہ تھے‘ ماتم میں کاٹے۔ فہد کے دل و دماغ پہ ماہم کا خیال میری حقیقت پہ حاوی تھا۔ میں تو ان دونوں کی شادی کو بھی بہ حالتِ مجبوری قبول کرچکی تھی لیکن وہ میرے ساتھ شوہر بن کر انصاف نہیں کرپائے پھر آج جب میری زندگی بکھر چکی تھی‘ میرے احساسات میرے اندر ہی گھٹ گھٹ کر دم توڑ گئے تھے‘ ان حالات میں انہیں میں نظر آنے لگی تھی تو اس کی وجہ سعد تھا جسے وہ اپنا بیٹا سمجھتے تھے۔ یعنی آج بھی خود غرضی و ضرورت نے رخ موڑنے پہ مجبور کیا تھا۔ کاش وہ جان پاتے کہ رشتے خلوص کی بنیاد پہ بے لوث ہوکر نبھائے جاتے ہیں نہ کہ ضرورت کے لیے۔ اس سے تو اچھا وہ پہلے کی طرح مجھے اہمیت نہ دیتے تو کم سے کم میرے دل میں ان کا مقام تو بنا رہتا۔
اب میری زندگی کا مقصد بدل چکا تھا۔ میرے جینے کی وجہ میری اولاد بن گئی تھی جس نے مجھے اس دنیا کے سب سے مقدس مقام پہ لا کھڑا کیا تھا۔ ماں بننے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اللہ نے مجھے کتنی بڑی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ آج یہ معصوم جو خود سے کروٹ نہیں بدل سکتا‘ اپنی ہر ضرورت کے لیے میرا منتظر ہے کل اسے یہ معاشرہ سنبھالنا ہے۔ اس کی تربیت کتنی اہم ہے۔ اس کے کردار اور شخصیت پہ ہمارے معاشرے کی بنیاد ہے۔ سیدھا راستہ کٹھن ہے۔ شیطان ہر موڑ پہ بہکانے کو کھڑا ہے تو گناہوں کی شاہراہ میں نہ کوئی موڑ ہے نہ پڑاؤ۔ بس چلتے چلے جانا ہے اور انسان رکتا وہاں ہے جہاں اسے ٹھوکر لگتی ہے۔
میں بھی تو اسی شاہراہ پہ نکل چکی تھی اور پھر ایک ٹھوکر نے مجھے قبر میں اتار دیا‘ اندھیروں میں دھکیل دیا۔ آج میرے سامنے طویل اندھیرے کے بعد روشنی کی ایک کرن نمودار ہوئی تھی۔ میں اب اس روشن لکیر کے ساتھ چلتے زندگی کی طرف لوٹ رہی تھی۔
اللہ کے پاس ضرور میرے اس گناہ کی بھی معافی ہوگی مگر میرا یہ کفارہ میرا سکون‘ میرا مان نہیں لوٹا سکتا۔ اب مجھے ساری عمر ندامت کے ساتھ بسر کرنا ہوگی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close