Hijaab Nov-18

عشق دی بازی

ریحانہ آفتاب

گزشتہ قسط کا خلاصہ

منزہ اچانک آجاتی ہے اور وہ دروازے پر کھڑی ماورا یحییٰ کو اس شخص سے باتیں کرتے دیکھ کر سختی سے اسے اندر جانے کا کہتی ہے اور پھر ماورا کے اندر جاتے ہی وہ اس شخص سے آمد کی وجہ پوچھتی ہے۔ شنائیہ کسی بھی صورت شاہ زرشمعون سے شادی کرنا نہیں چاہتی لیکن اس کی مدد کے لیے دیا بھی تیار نہیں ہوتی ایسے میں اسے سمہان کا خیال آتا ہے تو وہ ناشتے کی ٹیبل پر سمہان کو اکیلے میں ملنے کا کہتی ہے۔ یحییٰ سرفراز کے جانے کے بعد منزہ ماورا پر غصہ کرتی ہے تب ماورا یحییٰ سرفراز کے حوالے سے پوچھتی ہے مگر منزہ ٹال جاتی ہے ماورا‘ انوشا سے یحییٰ سرفراز کے متعلق بات کرتی ہے۔ ایشان جاہ‘ انشراح سے شادی کرنے سے انکار کردیتا ہے صہبا کے پوچھنے پر وہ اسے صرف دوست تسلیم کرکے انہیں حیران کر دیتا ہے دوسری طرف ماورا سے بھی بدلا لینے کا سوچ چکا ہوتا ہے اور اس بات سے چودھری جہانگیر کو بھی آگاہ کردیتا ہے۔ ایشان جاہ کی بات سے وہ بھی طیش میں آجاتے ہیں اور خود ماورا کو راستے سے ہٹانے کا کہتے ہیں جس پر ایشان جاہ منع کردیتا ہے۔ شنائیہ سمہان سے نکاح رکوانے کا کہتی اسے حیران کر دیتی ہے سمہان وجہ جاننا چاہتا ہے جس پر شنائیہ اپنی نا پسندیدگی کا بتاتی ہے تب سمہان شاہ زرشمعون کی تعریف کرتا ہے دوسری طرف عیشال جاہ‘ شنائیہ اور سہمان کو باتیں کرتا دیکھ کر تلملا جاتی ہے۔ نکاح کی شاپنگ کے دوران سمہان‘ عیشال جہانگیر کو منانے کی کوشش کرتا ہے اسے شنائیہ سے ہوئی بات بھی بتاتا ہے لیکن عیشال کچھ سننا نہیں چاہتی۔ منزہ کی کمیٹی کھلی تھی لیکن عین وقت پر یحییٰ سرفراز آکر سارے پیسے چرا لے گیا وہ ماورا اور انوشا کے سامنے افسردہ ہوتی پیسوں کا رونا روتی ہے۔

اب آگے پڑھیے

’’آہ… اتنا ظلم… ظالم کو ذرا رحم نہیں آیا…؟ اب کیسے اپنی بچی کی شادی کی تیاری کروں گی؟‘‘ منزہ واویلا کرنے لگیں۔ دونوں ان کی بات کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کرتے انہیں سنبھالنے لگیں۔
’’اماں… حوصلہ کریں کیا ہوا ہے‘ بتائیں تو سہی۔‘‘ ماورا ان کے ہاتھ پائوں سہلانے لگی۔ انوشا بھاگ کے پانی کا گلاس لے آئی مگر منزہ نے گلاس ہاتھ سے دور کردیا۔ دل اتنا برا ہورہا تھا کہ وہ سدھ بدھ کھو بیٹھی تھیں۔
’’کیا پیسے چوری ہوگئے اماں…؟‘‘ ان کے دگرگوں انداز سے دونوں نے یہی نتیجہ اخذ کیا۔
’’ہاں کسی نے نکال لیے… اب ہم کیا کریں گے؟‘‘ رندھی آواز میں بتا کر منزہ پھر سے رونے لگیں… دونوں کے چہرے پہ افسوس کے رنگ پھیل گئے۔
’’اماں… پیاری اماں‘ رونے سے آپ کی طبیعت مزید خراب ہوجائے گی۔ نکل آئے گا کوئی نا کوئی حل… روئیں نا۔‘‘ ماں کی اندرونی حالت جانتی‘ انہیں اس بے قراری سے روتے دیکھ کر ماورا ان کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھر کے خود بھی سسک پڑی۔
’’اللہ غارت کرے ان بسوں میں سفر کرنے والے چور اچکوں کو۔‘‘ انوشا بھی آنکھیں خشک کرتی ماں کی حالت پہ دلگرفتہ تھی۔
’’شادی میں بہت کم وقت ہے‘ ہم کہاں سے پیسے لائیں گے؟ چوری کرنے والے کو ذر اشرم نہیں آئی۔‘‘ منزہ کا بس نہیں چل رہا تھا یحییٰ سرفراز کا سر قلم کردیں۔ پیٹ کاٹ کاٹ کر سالوں کمیٹی بھری تھی۔ اس آس پہ کہ بیٹیوں کے کام آئے گی اور بروقت کمیٹی ملنے کی نوید ملی تو اس حسن اتفاق نے ان کی آدھی پریشانی دور کردی لیکن جو ہوا وہ سہا نہیں جارہا تھا۔
یحییٰ سرفراز سے انہیں اس درجہ کی بے غیرتی کی امید تو تھی تب ہی وہ اسے قابل بھروسہ نہیں سمجھ رہی تھیں اور پھر بھی وہ انہیں تہی دامن کر گیا تھا۔ پولیس کا ڈراوا وہ اسے دے تو آئی تھیں لیکن بنا کسی سرپرست کے دو جوان بیٹیوں کو لے کر وہ تھانے جاکر شکایت درج کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں تھیں۔ بس اپنی بے بسی پر آنسو ہی بہا سکتی تھیں اور وہی کررہی تھیں۔ برسوں بیت گئے تھے… یحییٰ سرفراز جیسے ناگ سے بچنے کے لیے انہوں نے ساری زندگی بیوگی کی چادر میں گزار دی لیکن وہ ایک بار پھر انہیں ڈس گیا تھا۔ منزہ روتے روتے بے دم سی ہو کر سر دیوار سے ٹکا گئی تھیں۔
’’اماں… شادی کی تاریخ آگے بڑھا دیں‘ مزید وقت لے لیں‘ اگر وہ لوگ منع کردیں تو بے شک رشتہ ختم کردیں… مجھے شادی کی بالکل جلدی نہیں ہے۔‘‘ انوشا اس گھڑی خود کو مجرم سمجھنے لگی تھی۔ اس کی وجہ سے منزہ ادھ موئی ہوئی جارہی تھیں۔ شادی اور نئی زندگی اسے اپنی ماں سے زیادہ ہرگز عزیز نہیں تھی۔ منزہ ساکت نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔
’’وقت لے لوں… وقت ہی تو نہیں ہے میرے پاس۔‘‘ خلاء میں گردش کرتی نظروں کے ساتھ منزہ کے لب ہولے سے لرزے تھے۔ انوشا دور تھی سمجھ ناسکی۔ ماورا یحییٰ ان کی خود کلامی سن کر ان کا ٹھنڈا ہاتھ سختی سے جکڑ کر شدت سے رو دی تھی۔
خ…ز…خ
’’کہاں چھپی بیٹھی ہو… پہلے تو آکر خوب رونق لگائی لیکن جب تمہاری باری آئی تو منہ سر لپیٹ کے پڑ گئیں۔‘‘ شنائیہ چودھری ہال میں آئی تو حویلی کی تمام عورتیں‘ لڑکیاں براجمان تھیں۔ شہر سے کی گئی شاپنگ سب پہلے بھی کئی بار دیکھ چکی تھیں لیکن ایک بار پھر بازار سا سج گیا تھا۔ سب اپنی میچنگ چیزیں لگا لگا کے دیکھ رہی تھیں تو کوئی ڈریس پہن کر سب کی رائے لے رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہی یمنیٰ نے کلاس لی۔
’’کوئی مجھ سے محبت نہیں کرتا… میری خوشی‘ رضا مندی کی ذرا اہمیت نہیں ہے… آپ دونوں کی نظر میں… میں سگی بیٹی ہی ہوں ناں؟‘‘ رات ہی تو وہ دیا کے سامنے ایموشنل گیم کھیل رہی تھی۔ جب کہنے سے بات نا بنی تو وہ آنسو بہا کر دیا کا دل موم کرنے کی کوشش کرنے لگی مگر دیا کا دل ذرا بھی نہیں پگھلا تھا۔ الٹا وہ اسے سخت سست سنا کر منہ ٹھیک رکھنے کا درس دینے لگی تھیں۔
’’طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپی کی… ورنہ تو خوب رونق لگاتیں۔‘‘ ماہم نے بہن ہونے کے ناتے طرف داری کی۔
’’ہاں‘ جانتے ہیں‘ بہت نازک مزاج ہے ہماری بھابی کا… اللہ جانے ہمارے سڑیل ویرے کے ساتھ کیسے نبھے گی۔‘‘ شازمہ نے لگے ہاتھوں چھیڑا۔
’’ادھر آکے بیٹھو کیا ہوا ہے طبیعت کو؟‘‘ زمردبیگم نے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا تو وہ مرے مرے قدموں سے پاس آگئی۔ فائزہ‘ فریال کے ساتھ دیا بھی موجود تھیں جبکہ لڑکیاں ذرا فاصلے پہ براجمان تھیں سوائے عیشال جہانگیر کے۔
’’سر میں درد ہے دی جان۔‘‘ اب اسے کچھ تو کہنا تھا۔
’’تم لڑکیوں کو جب دیکھو سر درد رہتا ہے‘ ایک ہمارا وقت تھا کسی بیماری‘ تکلیف کی خبر نہیں تھی‘ یہ تو اب بڑھاپے میں ہڈیوں‘ جوڑوں اور سر درد کا پتا چلا ہے… موا فیشن ہی ختم نہیں ہوتا تم لڑکیوں کا ڈائی‘ لائیٹ ہائی‘ (ہائی لائیٹ) اسٹرلنگ (اسٹریکنگ) جانے کیا کیا کروا کے تم لڑکیوں نے بالوں کا ناس مار رکھا ہے۔‘‘ زمرد بیگم کی نرم آواز میں ماڈرن فیشن کی تفصیل سن کر لڑکیاں کھی کھی کرنے لگیں تو تینوں بہوئیں بھی مسکرانے لگی تھیں۔
’’اور اماں کٹ ڈائون بھی۔‘‘ فریال نے لقمہ دیا۔
’’ہاں… ہاں وہ بھی۔‘‘ زمرد بیگم نے شدومد سے سر ہلایا تو سب ہی ہنسنے لگیں۔ شنائیہ چودھری خاموشی سی بیٹھی رہی۔
’’سر دیکھو کتنا خشک ہے‘ مانو کبھی تیل ہی نہ ڈالا ہو۔ فائزہ تیل کی بوتل پکڑانا مجھے۔ بہو ڈاکٹری نسخوں میں کیا تیل لگانے کے نقصانات زیادہ بتائے گئے ہیں جو بچی کے بال بے رونق کر رکھے ہیں۔‘‘ فائزہ کو ہدایت کرتے زمرد بیگم دیا سے استفسار کرنے لگیں تو وہ گڑبڑائیں۔
’’اماں آج کی بچیاں تیل لگانا پسند ہی نہیں کرتیں۔‘‘ دیا نے منمنا کے کہا تو زمرد بیگم مزید پُرجوش ہوگئیں۔
’’دیکھتی ہوں کیسے نہیں لگاتی… ابھی لگائوں گی تو شنائیہ کو خود فرق محسوس ہوگا… سارا درد بھاگ جائے گا۔‘‘ فائزہ کے بوتل پکڑانے پہ زمرد بیگم نے شنائیہ چودھری کو پکڑ کے پاس بٹھا لیا… تیز خوشبو کے تیل کو بے چارگی سے دیکھتے وہ مدد طلب نظروں سے دیا کو دیکھنے لگی تو وہ نظر چرا گئیں… اس وقت کچھ بول کر ساس صاحبہ سے اتنے لوگوں کی موجودگی میں صلواتیں نہیں سننی تھیں۔
’’اماں میں نظر اتارنے کے لیے چیزیں لاتی ہوں… مجھے تو سخت نظر لگ رہی ہے… اپنی بہو پہ۔‘‘ زمرد بیگم نے ہتھیلی بھر کر تیل اس کے سر پر ڈالا تو تیل کی چپ چپ محسوس کرکے وہ کراہ کے رہ گئی۔ اوپر سے تیز خوشبو نے منہ‘ ناک پہ دوپٹا رکھنے پہ مجبور کردیا اور دوسری طرف فائزہ اپنا فتویٰ سنا کے نظر اتارنے کا سامان لینے چلی گئیں اور جب لوٹیں تو نظر اتارنے کے سامان کے ساتھ کوئلے بھی دہکا کر ملازمہ کے ساتھ لے آئی تھیں۔
شنائیہ چودھری نے خوفزدہ ہوکر آنکھیں میچ لی تھیں لیکن آنکھیں کھولنا پڑیں‘ جب وہ پڑیا سلگتے کوئلوں میں جاتے ہی اپنا کام دکھا گئی تھی اور اس میں موجود مرچوں کی دھونی نے سب کو کھانسنے اور چھینکنے پر مجبور کردیا تھا۔
’’توبہ ہے تائی جان… کوئی نظر وظر نہیں ہے آپ کی بہو کو… لے کے ہم سب کو مرچوں کی دھونی دے کر کھانسنے پہ لگا دیا۔‘‘ زرش دوپٹا منہ پہ رکھے دہائی دینے لگی‘ لڑکیاں جو شنائیہ چودھری کی درگت بننے پہ ہنس رہی تھیں اب کھانسنے چھینکنے پہ مجبور ہوگئی تھیں۔
شنائیہ چودھری لال ہوتی ناک کے ساتھ آنکھوں میں آئے پانی کو پونچھتی بے ساختہ اوپر دیکھ کر شکوہ کر گئی تھی۔
’’میں نے کون سا گناہ کیا ہے جو اتنی بھیانک سزا؟‘‘ لیکن زیادہ دیر ہال کی چھت کو نا دیکھ سکی… زمرد بیگم نے ہاتھ کے زور سے سر جھکانے پر اسے مجبور کر دیا تھا۔
’’ہائے میرے پروٹین ٹریٹمنٹ والے بال۔‘‘ تیل میں چپڑے بال دیکھ کر اس کا غم غلط نہیں ہورہا تھا۔
’’آپ تو ہٹیں سامنے سے۔‘‘ وہ بھاگتی ہوئی ہال سے نکلی‘ اچانک سامنے آجانے والے شاہ زرشمعون کو دیکھتے وہ چلائی تو اس کے حلیے کو دیکھتے وہ سائیڈ پر ہوگیا۔ وہ دوڑ کر کمرے میں گھس گئی جبکہ شاہ زرشمعون کے چہرے پہ استہزائیہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
خ…ز…خ
گھر میں جیسے مردنی سی چھا گئی تھی۔ منزہ پہلے ہی بیمار تھیں‘ اس صدمے سے کھانا پینا چھوڑ کر بستر سے لگ گئیں۔ دونوں کا ہی دل اسکول‘ یونیورسٹی جانے کو تیار نہیں تھا‘ لیکن منزہ کے سختی سے کہنے پہ دونوں بے دلی سے تیار ہوگئی تھیں۔
دونوں ہی وقفے وقفے سے منزہ کو کال کرکے ان کی خیریت پوچھتی رہی تھیں۔ جب سے ان کی بیماری سامنے آئی تھی تب سے ماورا نے جیب خرچ بچا کر سکینڈ ہینڈ موبائل فون منزہ کے حوالے کردیا تھا تاکہ دونوں کے باہر ہونے کی صورت میں وہ رابطے میں رہ سکیں۔ اس کی بار بار کی گئی کال پہ منزہ نے خیریت کی اطلاع کے ساتھ پڑھائی پہ توجہ دینے پہ زور دیا مگر دل پھر بھی نہیں لگ رہا تھا۔ وہ بے دلی سے کلاسز اٹینڈ کررہی تھی۔ ایشان جاہ اور اس کے گروپ کی غیر موجودگی پہ اس نے شکر ادا کیا تھا۔
’’غالباً رات سعید کی منگنی کی تقریب کے بعد سب نڈھال ہوں گے۔‘‘ ثانیہ کے خیال ظاہر کرنے پہ اس نے کوئی تاثر نہیں دیا۔ ثانیہ نے اس کے اترے چہرے کی وجہ پوچھی تو چند ماہ پہلی بنی دوست کو اپنے گھریلو حالات بتانا اسے مناسب نہیں لگا لیکن اس کے اصرار پہ اس نے پیسوں کی چوری کا معاملہ گوش گزار کردیا تو وہ بھی افسوس کرنے لگی۔
’’ایک غریب‘ جب دوسرے غریب کو لوٹتا ہے تو کون سی دفعہ لگنی چاہیے سمجھ میں نہیں آتا۔ امیروں کے پیسے ایک اکائونٹ سے دوسرے‘ دوسرے سے تیسرے میں گھومتے رہتے ہیں لیکن انہیں پکڑنے‘ لوٹنے والا کوئی نہیں… غریب کی عمر بھر کی پونجی لٹ جائے تو وہ کس کا در کھٹکھٹا کر انصاف مانگے…؟‘‘ ثانیہ ملکی حالات وواقعات پہ گہری نظر رکھنے والی لڑکی تھی۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں پرس‘ بٹوے کی چوری عام بات تھی۔ منزہ نے انہیں یہی بتایا تھا کہ کسی نے رش میں پرس سے لفافہ نکال لیا۔
ثانیہ ذرا ادھر ادھر ہوئی تو اس نے ہاسپٹل کال ملائی مگر پھر وہی دل شکن جملہ سننے کو ملا کہ ڈاکٹر چودھری بخت چھٹی پہ ہیں… کب تک لوٹیں گے معلوم نہیں۔
مسائل در مسائل تھے جو کم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ مزید کلاس لینے کا موڈ نا ہوا تو وہ پوائنٹ کے لیے بڑھنے لگی۔
’’آپ ماورا ہیں؟‘‘ وہ ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیاں طے کررہی تھی جب پیچھے سے آکر ایک شخص نے اسے مخاطب کیا۔
’’جی…!‘‘ ماورا یحییٰ نے حیرانگی سے اس شخص کو دیکھا‘ چہرے مہرے سے وہ شخص یونیورسٹی کا نہیں لگ رہا تھا۔
’’میرے ساتھ آئیں… چودھری صاحب نے آپ کو یاد کیا ہے۔‘‘
’’چودھری صاحب…! کون چودھری… اور مجھے کیوں یاد کرنے لگے؟‘‘ ماورا یحییٰ نے حیرت کے ساتھ خاصے رعب سے مقابل سے استفسار کیا۔
’’ان کائونٹر اسپشلسٹ ایس ایس پی چودھری جہانگیر باہر آپ کے منتظر ہیں‘ ملنا چاہتے ہیں۔‘‘ وہ سرکاری سپاہی تھا۔ سرکاری انداز میں بیان کر گیا تو ماورا یحییٰ کی آنکھیں تحیر سے پھیل گئیں۔
’’مجھ سے ملنے کے منتظر ہیں لیکن کیوں…؟ کیسے جانتے ہیں وہ مجھے…؟‘‘ جس شخص کو وہ اشتیاق سے گوگل پہ سرچ کرکے اس کے کارناموں سے متاثر ہوئی تھی‘ وہ اس سے ملاقات کے منتظر تھے…؟
بے تحاشا سوالات اس کے گرد چکر کاٹ رہے تھے۔ دل میں عجیب سی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی تھی۔
خ…ز…خ
’’کیا بات ہے چودھری جی… کیوں اس قدر پریشان نظر آرہے ہیں؟‘‘ چودھری حشمت کے بلاوے پہ زمرد بیگم ان کے کمرے میں موجود تھیں۔ انہیں بیٹھنے کا اشارہ کرتے وہ ایک ثانیے کو رکے پھر سابقہ انداز میں ہاتھ پیچھے کمر پہ باندھے ٹہلتے رہے… خاموش بیٹھی زمرد بیگم نے کافی دیر انتظار کیا کہ وہ خود ہی اس بلاوے کا مدعا بیان کردیں مگر جب وہ گہری سوچ میں غلطاں چہل قدمی کرتے رہے تو زمرد بیگم کو استفسار کرنا ہی پڑا… ان کی آواز سن کر وہ یوں چونکے جیسے ان کی موجودگی فراموش کیے ٹہل رہے ہوں… لمبی سانس لیتے وہ اپنی مخصوص کرسی کی طرف بڑھے تھے۔
’’ہم عیشال کے حوالے سے بہت پریشان ہیں‘ زمرد بیگم۔‘‘ کرسی سنبھال کر انہوں نے جب گفتگو کا آغاز کیا تو لہجہ پُرسوچ ہونے کے ساتھ پریشان کن بھی تھا۔
’’ایسا کیا ہوگیا… اب کیا کردیا بچی نے؟‘‘ زمرد بیگم… ان کے خیال میں تو اب وہ پُرسکون تھی… ہاں ابھی بھی سب لڑکیاں ہال میں بیٹھی ہنسی مذاق کررہی تھیں مگر وہ شاید اپنے کمرے میں تھی۔
’’کچھ نہیں کیا اس نے… لیکن ہم کچھ کرنے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتے اسے۔ شاہ سے نسبت طے کرکے ہم پُرسکون ہوگئے تھے ہمیں لگا تھا اس سرکش لڑکی کو شاہ زرشمعون جیسا شخص ہی سدھار سکتا ہے لیکن…‘‘ چودھری بخت رکے‘ شاید اپنے فیصلے میں ترمیم پہ انہیں افسوس تھا۔ زمرد بیگم چپ ہی رہیں۔
’’ادھر جہانگیر بھی خفا خفا سا ہے‘ اس رشتے کے ختم ہونے پہ گلہ کررہا تھا… ساتھ ہی زور دیا کہ جلد سے جلد عیشال کی شادی کردی جائے۔‘‘ پریشانی ان کے لہجے سے عیاں تھی۔
’’ہاں تو نیک کام میں دیر کیسی… شاہ نا سہی‘ سمہان بھی تو حویلی کا بچہ ہے… آپ اس کے اور عیشال کے بارے میں کیوں نہیں سوچ رہے؟ عیشال‘ سمہان سے چند برس چھوٹی ہے جب کہ اس کی اور شاہ کی عمروں میں کافی فرق ہے… لیکن اب جب کہ شاہ نے خود ہی بہن کا عذر دے کر آپ سے فیصلے میں ترمیم کروالی تو افسوس کو چھوڑ کر آپ سمہان اور عیشال کی بات طے کردیں۔‘‘ زمرد بیگم کے دھیان دلانے پہ چودھری حشمت کئی ثانیے خاموش رہے پھر ان کا سر پوری شدت سے نفی میں ہلا۔
’’نہیں… سمہان اور عیشال کا جوڑ ہماری نظر میں مناسب نہیں… عیشال بہت منہ زور ہے… کئی بار تو ہم نے خود اسے سمہان سے بحث مباحثہ کرتے دیکھا ہے… وہ سمہان پہ حاوی ہوجائے گی۔‘‘ چودھری حشمت سختی سے انکاری ہوئے۔
’’کزن اور شوہر میں فرق ہوتا ہے چودھری جی… سمہان نرم مزاج رکھتا ہے… جوشیلہ ضرور ہے لیکن افہام وتفہیم کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتا… گستاخی معاف… حویلی کے تمام مردوں میں وہی سب سے زیادہ خود پہ قابو رکھ کر سارے معاملات کو دانائی سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ باقی سب حواس چھوڑ جاتے ہیں مگر وہ ہر مشکل صورت حال میں بھی چوکس نظر آتا ہے۔ میرے خیال میں عیشال جیسی منتشر لڑکی کو سمہان اچھے سے سنبھال سکتا ہے…‘‘ زمرد بیگم کی دلیل پہ چودھری حشمت بھی ایک لمحے کو سوچ وبچار میں پڑگئے۔
’’ہاں… بات تو آپ کی بھی اپنی جگہ سولہ آنے سچ ہے۔ اگر ہم عیشال کو موقع دے کر یہ عمل کر بھی دیں تو جہانگیر سخت ناراض ہوگا‘ اس کی شدید خواہش ہے ہم عیشال کو حویلی میں نا رکھیں… وہ پہلے بھی ناگواری کا اظہار کرچکا ہے… چاہتا ہے اسے دور بیاہیں۔‘‘ پُرسوچ انداز میں انہوں نے چودھری جہانگیر کی خواہش بھی گوش گزار کردی تو زمرد بیگم کا منہ بن گیا۔
’’جہانگیر اور اس کی خواہشوں کو تو آپ رہنے دیں‘ خود تو کبھی حویلی میں رہنا گوارا نہیں کرتا اور ایک بن ماں باپ کی بچی کو بھی حویلی بدر کرنے کی اس نے خوب کہی… جانے کب نفرت ختم ہوگی اس کی؟ بجائے اس کے بیٹی کے بیاہنے‘ پرائے ہونے سے پہلے وہ اسے اپنی محبت کا احساس دلائے‘ شہر میں بیٹھا باتیں بگھار رہا ہے… ہے تو میری ہی کوکھ سے لیکن جانے اتنا خود غرض اور بے حس کیوں ہے…؟‘‘ زمرد بیگم‘ عیشال کے لیے حقیقتاً فکر مند تھیں۔
شریک سفر سے غوروخوض کے بعد چودھری حشمت جیسے کسی حتمی نتیجے پہ پہنچ گئے تھے۔
’’یوں تو ہم بھی چاہتے ہیں کہ عیشال کو حویلی سے باہر‘ غیروں میں بیاہا جائے کیونکہ اس لڑکی کی باغیانہ روش کی حویلی میں گنجائش نہیں… یہ حویلی ایک اور باغی کو برداشت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی لیکن آپ کی دلیل بھی خاصی معقول لگی ہے ہمیں… کل کو وہ اجنبیوں کے گھر ہنگامہ کرے گی اور بات حویلی تک پہنچے گی تو ہم سے پہلے جہانگیر ہی اسے شوٹ کردے گا… سمہان کی خوبیوں کا عیشال کے مزاج سے موازنہ کرکے آپ نے ہمیں سوچنے پہ مجبور کردیا ہے… ہم سوچتے ہیں… شاہ کے نکاح کے بعد ہم ندا کی رخصتی کریں گے اور شنائیہ کی تعلیم مکمل ہوتے ہی شاہ اور شنائیہ کی رخصتی… تب تک عیشال کے رنگ ڈھنگ ٹھیک رہے تو ممکن ہے ہم شاہ اور سمہان کی شادی (عیشال کے ساتھ) ساتھ ہی کردیں۔ لیکن اگر اس سے پہلے عیشال نے کچھ کیا تو پھر ہم جہانگیر کو بھی نہیں روک سکیں گے اور نا اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹیں گے…‘‘ زمرد بیگم نے سکون کا سانس لیا‘ ان کے لیے یہی خوشی کی بات تھی کہ چودھری حشمت نیم رضا مند ہوگئے تھے۔ اب اللہ کرے عیشال کوئی ایسی ویسی حرکت نا کرے جس سے ان کا بنا بنایا کام بگڑ جائے۔
’’ایک بات اور زمرد بیگم‘ ہمیں خبر ہے‘ آپ کے ذہن میں کیا چل رہا ہے… آپ بھلے عیشال کو ڈھکے چھپے لفظوں میں حویلی میں سکون سے رہنے کا مشورہ دے دیں لیکن ہماری اور آپ کی گفتگو‘ آپ کے خیالات کا ایک حرف بھی کسی پہ ظاہر نا ہو… خیال رکھیے گا۔‘‘ اور زمرد بیگم جو واقعی یہی سوچ رہی تھیں کہ عیشال کو سمجھائیں گی چودھری حشمت کے پکڑ لینے پہ جزبز ہوکر خفت سے مسکرا دیں۔
’’چودھری جی‘ آپ ہر بار یہ سب کہہ کر ہمیں پرایا ظاہر کردیتے ہیں… کیا ہم نہیں جانتے کہ آپ کی کون سی بات چھپانی ہے‘ کون سی عیاں کرنی ہے۔‘‘ زمرد بیگم نروٹھی ہوئیں تو چودھری حشمت مسکرا دیے تھے۔
خ…ز…خ
منزہ کو کسی کل چین نہیں تھا‘ ان کے کہنے پہ بیٹیاں گھر سے نکلیں تو نحیف ہاتھوں سے انہوں نے کارڈ پہ درج نمبر ملایا… وہ نمبر جو انہوں نے کبھی نا ملا نے کا سوچا تھا۔ اپنا سارا غصہ اس پہ نکال کر منزہ تھک سی گئی تھیں مگر ان کے اندازے کے مطابق وہ جھوٹا انسان صاف مکر گیا تھا کہ دس ہزار کے علاوہ اس نے پرس میں ہاتھ بھی نہیں ڈالا… مگر منزہ اس انسان کے ساتھ سالوں رہ چکی تھیں اس کے سارے انداز انہیں آج بھی ازبر تھے۔ وہ اپنے وقت کا باکمال جیب کترا تھا اور ہاتھ میں اس قدر صفائی تھی کہ گود میں رکھے پرس سے مطلوبہ چیز نکالنا اس کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ جانے وہ کیوں لاپروائی کر گئی تھیں۔ اس انسان کو بک جھک کے کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا وہ معصوم بن کر قسمیں کھا رہا تھا‘ منزہ سے اور کچھ نا ہوسکا تو لعنت ملامت کے ساتھ بددعا دے کر انہوں نے کال ہی کاٹ دی۔ بعد میں اس کی کال آتی رہی‘ ایک نئی مصیبت کے پیچھے لگ جانے پہ پریشانی سے سوچتے انہوں نے فون ہی سوئچ آف کردیا تھا۔
سوچ سوچ کے دماغ مائوف ہورہا تھا لیکن پیسوں کا بندوبست تو کرنا ہی تھا… لے دے کے ایک شاہد صاحب ہی تھے‘ اس کے علاوہ تو کوئی ان کے پہچان کا نہیں تھا اور تب ہی وہ ہمت کرکے صائمہ کے دروازہ تک آگئی تھیں۔ اتفاق سے شاہد صاحب بھی گھر پہ تھے۔ دونوں میاں بیوی نے خوشدلی سے خوش آمدید کہا‘ منزہ کی حالت دیکھ کر دونوں نے ہی طبیعت کا پوچھا اور احوال سناتے منزہ نے پیسوں کی چوری کا معاملہ گوش گزار کردیا۔ دونوں ہی افسوس کا اظہار کرتے… انہیں حوصلہ دینے لگے تھے۔
’’جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا بھائی صاحب… اس وقت تو آپ کے سامنے عرض لے کر آئی ہوں کہ ہوسکے تو مجھے پچاس ہزار ادھار دے دیں۔ انوشا کی شادی کے بعد میں ہر ماہ آپ کو تھوڑے تھوڑے پیسے دے کر قرض لوٹا دوں گی۔‘‘ منزہ جیسی خود دار عورت کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ محض منہ بولے بھائی سے پیسوں کی التجا کررہی تھیں۔ صائمہ جو ان کے دکھ میں خود کو شریک ظاہر کررہی تھیں یہ مطالبہ سن کے ان کے تو لب ہی بھینچ گئے۔
شاہد صاحب کھاتے پیتے کاروباری آدمی تھے۔ چونکہ کاروباری ذہن رکھتے تھے تو انہیں واپسی کی فکر لگ گئی۔ منزہ ایک عرصہ سے بہن بنی ہوئی تھیں‘ ان کی طرف آس سے دیکھ رہی تھیں‘ ان کا دل پسیج گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ عندیہ دیتے‘ میاں کے تاثرات جاننے والی صائمہ نے جلدی سے لب کھولے۔
’’ذرا اندر آئیے‘ ایک منٹ کے لیے… آپا ایک ضروری کال کرنا یاد آگئی… آپ تب تک چائے پئیں۔‘‘ صائمہ نے بظاہر مسکرا کرکہا تھا اور تیز تیز قدموں سے اندر چلی گئی تھیں پیچھے پیچھے شاہد صاحب بھی۔
منزہ ناسمجھ نہیں تھیں… ناموافق حالات نے انہیں زندگی کا دگنا سبق پڑھایا تھا لیکن پھر بھی خاموشی سے بیٹھی رہیں۔
’’آپ کا دماغ چل گیا ہے؟ پچاس ہزار دینے کو تیار ہوگئے‘ سو دو سو کرکے وہ قرض چکائیں گی‘ آئے گا آپ کے وارے؟ اور اس کا بھی کوئی بھروسہ نہیں کہ قرض لوٹائیں گی بھی… نا کوئی آگے نا پیچھے‘ کیسے اتنی بڑی رقم بطور قرض دے دیں۔‘‘ ان کے شک کو یقین کی سند مل گئی تھی‘ صحن سے ذرا دور ہی کمرے تھے اور صائمہ کی آواز اتنی دھیمی ہرگز نہیں تھی کہ وہ سن ناسکیں… اندر صائمہ‘ شاہد صاحب کی کلاس لے رہی تھیں۔
’’مجبور عورت ہے… سر پہ شادی ہے۔‘‘ شاہد صاحب منمنائے۔
’’دنیا مجبور عورتوں سے بھری پڑی ہے… تو کیا اب آپ قرض دو مہم شروع کردیں گے‘ سب کے لیے؟ ہزار دو ہزار کی بات ہوتی تو میں منع بھی نا کرتی لیکن پچاس ہزار کون سی معمولی رقم ہے جو یوں اجنبیوں پہ لٹاتے پھریں ہم۔ بے حد پکی عورت ہے‘ منہ سے شوہر‘ میکے‘ سسرال کی بھاپ تک نہیں نکالتی‘ مجھے تو ان عورتوں کی باتیں رہ رہ کر یاد آتی ہیں کہ جانے شوہر ہے بھی یا جان بوجھ کے مار رکھا ہے‘ پچاس ہزار چوری کی داستان بھی مجھے جھوٹی لگ رہی ہے۔ خود ہی کسی کو دے آئی ہوں گی۔‘‘ اور اس سے آگے سننے کی منزہ میں ہمت تھی نا سکت۔
’’آہستہ بولو… وہ سن لیں گی۔‘‘ شاہد صاحب کی دبی زبان میں سرزنش سنائی دی۔
’’جاکے بہانہ بنادیں کوئی۔‘‘ صائمہ نے پٹی پڑھائی‘ تو شاہد صاحب سر ہلاتے صحن کی طرف آئے… صائمہ بھی پیچھے پیچھے آئیں تاکہ سہولت سے انکار کردیں لیکن منزہ کو منظر سے غائب دیکھ کر دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے تھے۔
خ…ز…خ
ہزاروں خدشے اور سوالات ذہن میں لیے سول ڈریس میں ملبوس بندے کی ہمراہی میں نپے تلے قدم اٹھاتی ماورا یحییٰ خارجی راستے سے کافی قریب چلی آئی تھی تب ہی دور سے اسے پراڈو کے باہر چودھری جہانگیر اور سول ڈریس میں موجود ان کے کچھ سپاہی نظر آئے جنہیں دیکھتے ہی ماورا نے جلدی سے چادر کا نقاب اچھی طرح کرلیا‘ چودھری جہانگیر ایک پیر ٹائر کے اوپر رکھے لائٹر سے سگریٹ سلگانے میں مگن تھے لیکن قدموں کی چاپ پہ سگریٹ سلگاتے نظر ضرور اٹھائی تھی۔
’’سر مس ماورا…!‘‘ سپاہی قریب آکر گویا ہوا… تصویر میں موجود اپنے بابا سے مکمل مشابہ رکھنے والے شخص کے روبرو کھڑے رہنا اس کے لیے اچھنبے سے کم نہیں تھا… وہ ان کا ایک ایک نقش جانچ رہی تھی۔ تصویر اور مقابل کھڑے شخص میں کوئی فرق نہیں تھا۔
تعارف کرانے پہ چودھری جہانگیر بھی بے طرح چونکے‘ ان کے بیٹے کو ناکوں چنے چبوانے والی یہ چادر میں لپٹی لڑکی تھی… وہ تو کسی امیر‘ ماڈ پرائوڈ ماورا کا امیج لیے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کرکے سپاہی کو اس کی تلاش میں بھیج کر منتظر تھے اور سامنے آئی تھی چادر میں لپٹی لپٹائی غربت کی ماری لڑکی… جس کا پہناوا ہی اس کی کلاس کا ڈھونڈرا پیٹ رہا تھا اور ان جیسا زیرک انسان ایک نظر میں اسے تول گیا تھا۔
’’تو تم ہو ماورا؟‘‘ گمبھیر لہجے میں استفسار کیا تو ماورا یحییٰ جو انہیں انہماک سے دیکھنے میں مصروف تھی چونک گئی۔
’’جی…‘‘
’’سنا ہے بہت اچھی ہو پڑھائی میں… ٹاپ کرتی ہو؟‘‘ سگریٹ کا کش لگاتے انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے سپاہیوں کو گاڑی سے دور ہونے کا اشارہ کیا۔
چودھری جہانگیر اس کی آنکھوں کو بغور دیکھ رہے تھے۔ ان کے استفسار پہ ماورا یحییٰ کی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا تھا‘ آیا وہ سراہ رہے تھے یا تفتیش کررہے تھے۔
’’آئندہ سے تم کوئی پوزیشن نہیں لوگی… تمہیں پڑھنے کا‘ ٹاپ کرنے کا شوق ہے تو بیرون ملک‘ تمہارے تعلیمی اخراجات اٹھانے کو میں تیار ہوں… جائو‘ باہر جاکر پڑھو… نام کمائو… لیکن یہاں رہ کر تم پوزیشن لے کر میرے بیٹے کو نیچا دکھا کر ڈسٹرب کرنا چاہوگی تو ایسا میرے ہوتے تو ممکن نہیں…‘‘ ماورا یحییٰ ان کی پیش کش کو تحیر سے سن رہی تھی۔ ناجان ناپہچان… وہ تو شاید اس سے پہلی بار مل رہے تھے اور اتنی بڑی آفر… ان کی بات مکمل ہوئی تو وہ چونکی۔
’’بیٹا…؟‘‘
’’ایشان جاہ…‘‘ وہ شاید اس کی آنکھوں میں درج سوال پڑھ گئے تھے۔ وہ یک دم چونکی‘ چہرے کے گرد کیے نقاب پہ انگلیاں مزید سخت ہوگئیں… ذہن میں کوندا سا لپکا‘ اسے گوگل پہ جس تصویر نے چونکایا تھا اس کا سرا اب جاکے ملا تھا… وہ ایشان جاہ کی تصویر تھی۔
سامنے کھڑا شخص ہو بہو اس کے باپ کی کاپی تھا لیکن وہ خود کو ایشان جاہ کا باپ بتا رہا تھا۔ گویا وہ اپنے بیٹے کی راہ کا کانٹا دور کرنے کے لیے اس سے ملنے آئے تھے۔ اس ملاقات کا مفہوم سمجھتے ہی ماورا یحییٰ کی تیوری پہ بل پڑنے لگے… ان کی شخصیت کا بھرم اپنی جگہ مگر ان کی باتیں سن کر اسے بلا کا غصہ آیا تھا۔
’’سر… سب سے پہلے تو آپ کی آفر کے لیے شکریہ… میری ادنیٰ سی رائے تو یہی ہے کہ یہ آفر آپ اپنے بیٹے کو دیں… وہ بیرون ملک جاکے ڈگری لے تاکہ آپ کے نام کی واہ واہ ہو… اور آپ کو مجھ جیسی لڑکی سے ڈیل کرنے کی ضرورت بھی نہ پڑے۔ میں یہیں ٹھیک ہوں… پھر بھی آپ کے بیٹے کو مجھ سے تکلیف ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے… میں نے اسے ٹارگٹ کبھی نہیں کیا… ہار اور جیت کا مزا مقابلے میں آتا ہے اگر آپ یا آپ کا بیٹا بنا مقابلہ کیے جیتنا چاہتے ہیں تو اعلا ڈگری خرید کردی دیں… یہ جیت تو ہار سے بھی بدتر ہوگی جسے ذہانت نہیں طاقت سے اپنے نام کیا گیا ہو… اگر آپ اپنے بیٹے کے لیے ایسی بدترین جیت کے خواہاں ہیں تو ٹھیک ہے‘ پیسہ پاور دونوں آپ کے پاس ہے… اپنی سی کوشش کرلیں… لیکن معذرت چاہتی ہوں… آپ کے مقابل تو کچھ بھی نہیں ہوں… لیکن پیٹھ دکھا کر بزدلوں کی طرح بھاگنا میری سرشت میں بھی نہیں…‘‘ چودھری جہانگیر جنہیں لگا تھا ان کے رعب اور دبدبے کو دیکھ کر لڑکی گھگھیا جائے گی لیکن خلاف توقع وہ جی داری کا مظاہرہ کرکے ان کے ماتھے پہ لکیروں میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
’’یعنی تم میرے بیٹے کو چیلنج کررہی ہو؟‘‘ لہجہ خشک ہوا۔
’’جی سر… یہ مقابلہ بازی میں نے شروع نہیں کی لیکن اگر یہ آپ لوگوں کی انا کا مسئلہ بن گیا ہے تو پھر دیکھ لیں… میں ویسا ہی پڑھوں گی جیسا پڑھتی آرہی ہوں میں آگے بڑھ گئی تو خوش قسمتی سمجھوں گی اپنی اور آپ کا بیٹا جیت گیا تو بجائے شور کے کھلے دل سے اپنی ہار اور اس کی ذہانت تسلیم کروں گی… جس کی آپ کے بیٹے میں کمی ہے۔‘‘ اپنی بات پورے وثوق سے کہہ کر وہ چند ثانیے رک کر ان کے بولنے کی منتظر رہی لیکن جب وہ یونہی غصے سے آنکھوں سے دیکھتے رہے تو ایک لمحے کو ماورا یحییٰ کے جسم میں پھریری سی دوڑ گئی… ساری بہادری‘ جی داری بھاگنے لگی تھی مگر جلد ہی وہ خود کو ان کے سحر سے نکال گئی۔
’’چلو تمہارا چیلنج منظور ہے لیکن میری بھی شرط ہے تم ہاریں تو یونیورسٹی چھوڑ دوگی… آیا تو تمہیں راہ سے ہٹانے کے خیال سے تھا لیکن میرا بیٹا بزدل ثابت ہو یہ بھی مجھے گوارا نہیں۔‘‘
’’منظور ہے۔‘‘ چند ثانیے کی بھی دیر کیے بنا وہ قبول کر گئی تھی اور پھر ان کے آگے سے نکل گئی۔
چودھری جہانگیر اس کی جی داری پہ اس کی پشت کو تکتے رہ گئے لیکن وہ زیادہ دیر سوچ نا سکے۔ صہبا کی کال آنے لگی وہ سب ایئرپورٹ پہنچ گئے تھے اور ان کے منتظر تھے۔
’’بس میں ایئرپورٹ کے لیے ہی نکل رہا ہوں۔‘‘ مختصر بات کرتے انہوں نے سپاہیوں کو گاڑی میں سوار ہونے کا اشارہ کیا۔
’’مجھے اس لڑکی کی ساری ڈیٹیل چاہیے کون ہے‘ کہاں رہتی ہے‘ کس کی سپورٹ حاصل ہے؟ سب کچھ…‘‘ ان کے حکم پہ سپاہی سر ہلا گیا۔
چودھری جہانگیر کو اس کے انداز پہ بے حد حیرانی ہورہی تھی جن کے قدموں کی چاپ سے ایک زمانہ سہم جاتا ہے ان کے سامنے وہ ان کے بیٹے کو چیلنج کر گئی تھی۔ جی داری کا مظاہرہ کر گئی تھی اور انہوں نے خاموشی سے سب برداشت کرلیا تھا… ایسا کیا تھا اس لڑکی میں…؟
’’یہ آنکھیں…؟‘‘ وہ چونک گئے تھے۔
خ…ز…خ
’’اف… شوق کا بڑا بھاری مول چکانا پڑتا ہے۔‘‘ دونوں ہاتھوں میں لگی مہندی کو دیکھتے جھنجلا کر اس نے للچائی نظروں سے سامنے پلیٹ میں موجود سینڈوچز اور گرم بھاپ اڑاتی چائے کو دیکھا… چونکہ کل نکاح کی تقریب تھی سب ہی تیاری میں مگن تھیں تو وہ بھی پُرسکون گوشے میں بیٹھ کر اپنے ہاتھوں پہ مہندی لگانے لگی تھی۔ اس دوران غضب کی بھوک لگنے لگی تو وہ کچن میں چلی آئی۔ جیا نے اس کی فرمائش پہ سینڈوچ اور چائے میز پہ رکھ دیے اور کام سے باہر چلی گئی تو سینڈوچز کی طرف ہاتھ بڑھاتے اس کے ہاتھ بے ساختہ رک گئے۔
’’حد ہے…‘‘ سینڈوچز کے ٹکڑے کرنے کی نیت سے چھری اٹھانے کی کوشش میں ڈیزائن خراب ہونے لگا تو اس نے چھری ہی رکھ دی۔
’’نعمت سامنے موجود ہے‘ پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں اور میں کھانے سے محروم ہوں… اف…!‘‘ خود کلامی کرتی وہ دعا گو تھی کہ جیا ہی آکر اس کی تھوڑی مدد کردے… مدد کی دعا تو قبول ہوئی مگر جیا کی جگہ سمہان آفندی کو دیکھ کر وہ خود کو لاپرواہ ظاہر کرنے لگی۔
’’سینڈوچز سامنے پڑے ہیں اور تم ان پہ ریسرچ کررہی ہو اگر کھانے کا موڈ نہیں ہے تو میرے نام کردو‘ مجھے بھوک ہی یہاں کھینچ لائی ہے۔‘‘ سامنے موجود چیزوں اور عیشال جہانگیر کو ہاتھ نیچے کیے بیٹھے دیکھ کر اس نے تحیر کا اظہار کیا۔
’’خبردار جو میری چیزوں پہ نظر بھی لگائی تو…‘‘ وہ جلدی سے مہندی لگے ہاتھوں کے گھیرے میں پلیٹ اور مگ کو پرے کر گئی مبادا وہ ہاتھ نا مار دے۔
’’اوہ…‘‘ سمہان آفندی مہندی سے رچے ہاتھوں کو دیکھ کے لب سکیڑ گیا۔ ہاتھ دھرے بیٹھنے کی وجہ سمجھ آگئی تھی۔
’’ہر وقت پنجے مارنے والے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں‘ آج اوہو…!‘‘ وہ محظوظ ہوا۔
’’جائو یہاں سے‘ دل مت جلائو‘ پہلے ہی بھوک سے دماغ خواب ہورہا ہے۔‘‘ اس کا مذاق اڑاتا لہجہ ایک آنکھ نہیں بھایا۔
’’تم جیسی چھوٹے دل والی سے تو توقع نہیں کہ سینڈوچز آفر کرو گی لیکن خاکسار کے لائق کوئی خدمت ہے تو بولو… شاید مشکل آسان ہوجائے۔‘‘ اس کی معصوم صورت دیکھ کے جیسے ترس آتا تھا۔
’’بہت شکریہ… مجھے آپ کے ہاتھ سے کھانے کا کوئی شوق نہیں۔‘‘ وہ منہ پھلا گئی۔
’’یہ کس نے کہا میں نوالے بنا کر کھلائوں گا… بڑی خوش فہمی ہے۔‘‘ وہ بے ساختہ ہنسا۔
’’گیٹ لاسٹ!‘‘ وہ اس کی ہنسی پہ بری طرح جل گئی تو وہ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ چھری اٹھا کر اس کی پلیٹ میں موجود سینڈوچز کے ٹکڑے کرکے ہر ٹکڑے پہ ٹوتھ پک لگا کر پلیٹ اس کی طرف کھسکاتے اسٹرا نکال کر اس کے مگ میں ڈال گیا تو وہ حیرت سے اس کا منہ تکنے لگی۔ میز پہ یہ دونوں چیزیں موجود تھیں مگر اس کا دھیان ہی ان پہ نہیں گیا کہ انہیں اس طرح بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔
’’اب کیا کھلا بھی دوں…؟‘‘ وہ اس کی حیرانی پہ چڑانے لگا۔
’’نو تھینکس۔‘‘
’’انجینئرنگ کی ڈگری کا بڑا عملی مظاہرہ کیا ہے‘ تھینکس۔‘‘ پیٹ میں کچھ گیا تو لامحالہ تعریف نکل گئی… وہ بھرپور طریقے سے مسکرادیا۔
’’نظر لگانے سے اچھا ہے کھالو۔‘‘ احسان کرتے پلیٹ کی سمت اشارہ کیا۔
’’ناجی آپ کھائیں لگ رہا ہے‘ عرصہ سے فاقہ زدہ جو ہیں۔ مہندی کے خشک ہونے تک تم نے اوپر ہی چلے جانا تھا۔‘‘ اس نے مذاق اڑایا۔
صغراں بی کچن میں آگئی تھیں‘ وہ اپنی فرمائش کرکے وہیں بیٹھ گیا… جب تک صغراں بی اس کے لیے کچھ تیار کرتیں عیشال کھاپی کے فارغ ہوکر کچن سے نکل گئی تھی۔
خ…ز…خ
اک انگلی پہ نچاتے تھے زمانے بھر کو
ہم بھی کسی دور میں فنکار ہوا کرتے تھے
زندگی انہیں اس مقام پہ لے آئے گی کہ قدم قدم پہ تذلیل سہنا پڑے گی اگر جو ذرا گماں ہوتا تو وہ کبھی ایسی نادانی نہیں کرتیں لیکن یہ احساس بھی اب ہورہا تھا جب وہ وقت کے زیر عتاب آگئی تھیں… دور حکومت میں انگلیوں پہ سب کو نچاتے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ بھی وقت کی گردش کا شکار ہوسکتی ہیں۔
’’کیا ہوا اماں… طبیعت زیادہ خراب ہے؟‘‘ ماورا یحییٰ یونیورسٹی سے لوٹی تو انہیں بے سدھ دیکھ کر پاس بیٹھ گئی۔
’’میں ٹھیک ہوں… تم کیا روز‘ روز کلاس چھوڑ کر گھر آجاتی ہو۔‘‘ اٹھ کر دروازہ کھولنے اور واپس آکر لیٹنے تک منزہ کی سانسیں تیز ہوگئی تھیں… ماورا کو بے وقت آتے دیکھ کر انہوں نے غصہ کیا۔
’’مجھ سے نہیں ہورہی پڑھائی… ہر گھڑی آپ کی طرف دھیان رہتا ہے۔‘‘ وہ لاچاری سے مسئلہ بتا گئی اور یہ سچ ہی تھا ان کے اکیلے پن کا احساس اسے یونیورسٹی میں بے چین رکھتا تھا۔
’’میں نے ساری زندگی تمہارے ساتھ نہیں رہنا‘ عادت ڈال لو۔‘‘ منزہ ناچاہتے ہوئے بھی تلخ ہوگئیں… اس تلخی میں بچھڑنے کا درد تھا تو جوان بیٹیوں کو بے آسرا چھوڑ دینے کا غم انہیں کھوکھلا کررہا تھا۔
’’آپ کو کچھ نہیں ہوگا‘ ڈاکٹر بخت کے آتے ہی میں آپ کو ان کے پاس لے جائوں گی… ان شاء اللہ کوئی بہتری نکل آئے گی۔‘‘ ماورا پُرامید تھی جب کہ منزہ کا منہ بن گیا تھا۔
’’دفع کرو اس بات کو… ابھی تو بس شادی کی ٹینشن ہے ہم کہاں سے کریں گے سب کچھ۔‘‘ منزہ ناگواری سے ٹوک کر پھر سے پریشان ہوئیں۔
ایک شاہد صاحب کا ہی آسرا تھا مگر صائمہ نے جس طرح کی باتیں کی تھیں اس پہ اب وہ ان کا سامنا بھی کرتیں تو جانے شرمندگی کیسے چھپاتیں… بھولے سے بھی بیٹیوں کے آگے تذکرہ کرکے ان کا دل خراب نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن کوئی حل نظر بھی نہیں آرہا تھا۔
’’انوشا کی شادی ہوگی اور ان شاء اللہ بہت اچھی ہوگی… جو پیسے گئے وہ انوشا کا صدقہ سمجھ کر بھول جائیے۔‘‘ وہ مطمئن تھی۔
’’کیسے ہوجائے گا سب کچھ… کیا زمین سے سونا نکلے گا۔‘‘ منزہ کو اختلاف ہوا۔
’’آپ کے پاس دو سیٹ ہیں‘ انوشا کو ایک دے کر میرا والا بیچ دیں‘ ان پیسوں سے ہم اچھے سے شادی کرلیں گے انوشا کی۔‘‘
’’ایک بیٹی کا حق مار کر‘ میں دوسری پہ سب لٹادوں‘ کبھی نہیں۔‘‘ منزہ کو یہ تجویز ذرا نا بھائی تو سختی سے انکاری ہوئیں۔
’’جب میں خود آپ سے کہہ رہی ہوں تو حق مارنے والی بات کہاں سے آگئی اور مجھے ویسے بھی سونے کے زیورات پہننے کا بالکل شوق نہیں… آپ چلیے گا میرے ساتھ ہم بیچ آئیں گے… اب آرام کریں… میں آپ کے اور اپنے لیے کھانا نکالتی ہوں… شاید تب تک انوشا بھی آجائے۔‘‘ وہ لاپروائی سے کہتی اٹھ گئی۔ کھانے کے بعد منزہ کو دوا بھی دینی تھی وہ اسی خیال سے اٹھی تھی۔
’’ایسا کچھ نہیں ہوگا‘ جو تم پلان کیے بیٹھی ہو۔‘‘ منزہ نے پیچھے سے آواز لگائی لیکن آواز کی کمزوری پہ ان کی آواز بھرا گئی تھی… آنسو چھلکنے لگے تھے‘ ایک بیٹی‘ عورت ہونے کی لاج انہوں نے نہیں رکھی تھی اور رب العزت نے دو بیٹیاں دے کر انہیں احساس دلایا تھا کہ بیٹی کی ماں ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
خ…ز…خ
چودھری جہانگیر اور ان کی فیملی کی آمد کا شور سننے کے ساتھ اس نے حویلی میں غیر معمولی چہل پہل بھی محسوس کی تھی مگر ان سب کے باوجود وہ کمرے سے نہیں نکلی تھی۔ ان کی فیملی کی آمد کا سن کر اسے آگ لگ گئی تھی۔ اپنی تنہائی کا شدت سے احساس ہوا تھا۔ یہاں وہ تن تنہا جھلس رہی تھی‘ حویلی کی اونچی اونچی دیوارں سے سر پٹخ رہی تھی اور وہ شہر میں زندگی کی رونقیں سمیٹ رہے تھے۔
سوکن کا دکھ تو صائقہ کو چودھری جہانگیر کے نکاح میں آنے کے چند ماہ بعد ہی مل گیا تھا‘ اسے محروم رکھ کر جب چودھری جہانگیر صہبا کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کرچکے تھے صائقہ نے تب بھی اف نہیں کی تھی۔ سالوں‘ انہیں بیوی کا درجہ نا دینے والے چودھری جہانگیر جب ایشان جاہ کے والد کہلانے لگے تو صائقہ کو اپنے اندر سے دھواں اٹھتا محسوس ہونے لگا… وہ ان کی بیوی تھیں مگر چودھری جہانگیر تو انہیں نظر بھر کے دیکھنا بھی گناہ سمجھتے تھے… ان کا حکم تھا‘ ان کے حویلی آتے ہی وہ حویلی کے کسی کونے میں پناہ ڈھونڈ لیں تاکہ انہیں صائقہ کی منحوس شکل بھی نا دیکھنا پڑے۔
صائقہ کا یہ سارا درد و کرب دیکھنے کو تب عیشال جہانگیر موجود نہیں تھی لیکن جب کبھی سوچتی تھی تو اپنی مرحومہ ماں کا سارا درد اپنی رگوں میں دوڑتا محسوس ہوتا تھا۔ اس کا کرب آنکھوں سے بہنے لگتا تھا۔ چودھری جہانگیر کی بے حسی‘ خود غرضی نے اس کے اندر اس قدر زہر بھر رکھا تھا۔
ان سب کا سامنا کرکے وہ کبھی خوش نہیں ہوتی تھی… عیشال سب کی آمد کا سن کر کمرا نشین ہوگئی لیکن کمرے سے نکلنا ہی پڑا‘ وہ ان کے لیے کب تک قیدی رہ سکتی تھی۔
کل کے سوٹ کا دوپٹا اس نے فائزہ کو پیکو کروانے کے لیے دیا ہوا تھا اور اب انہی کی تلاش اسے کمرے سے باہر نکلنے پہ مجبور کر گئی تھی۔ شومئی قسمت کہ فائزہ اسے ہال میں ہی مل گئیں… جہانگیر اور ان کی فیملی کو دیکھ کر اس نے فوراً قدم موڑنا چاہے لیکن صہبا کی نظر اس پر پڑ گئی تھی۔
’’ارے عیشال آئو بیٹا…‘‘ سامنے صہبا ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے صوفے پہ براجمان تھیں… وہ خاص خوب صورت نہیں تھیں مگر انہوں نے خود کو بڑا سنبھال کر رکھا ہوا تھا… دو جوان بچوں کی ماں لگتی ہی نہیں تھیں۔
ایشان جاہ اور نرمین اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ نرمین کے انداز میں کسی قدر نخوت آگئی تھی‘ ایشان جاہ کا انداز کسی قدر بہتر تھا… وہ خود سے چھوٹی عیشال کے لیے سگی بہن نرمین جیسے ہی جذبات رکھتا تھا‘ یہ الگ بات کہ نا کبھی اس نے بڑے بھائی جیسا مان دکھایا نا کبھی عیشال نے اسے سگے بھائی جیسی اہمیت دی۔
عیشال جہانگیر کی نگاہ سب پر سے ہوتی چودھری جہانگیر پر آکر رک گئی تھی۔ اپنی فیملی کے درمیان ان کے چہرے پہ اس گھڑی اتنا نرم تاثر تھا کہ عیشال جہانگیر کی روح تک جھلس گئی تھی۔
’’تائی جان میرے دوپٹے کی پیکو کروا دی تھی…؟‘‘ ان سب کو مکمل نظر انداز کرکے وہ فائزہ سے مخاطب ہوئی‘ جو اس گھڑی ان کے درمیان اکیلی تھیں۔
’’میرے روم میں ہے‘ میں بھجواتی ہوں کسی کے ہاتھ۔‘‘ فائزہ نے سلام کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا تو ان کا اشارہ سمجھتے ہوئے بھی وہ انجان بن کر پلٹ کے جانے لگی۔
’’ایسی بھی کیا بے رخی عیشال… ہم اتنی دور سے آئے ہیں دو گھڑی ہمارے پاس بھی بیٹھ جائو۔‘‘ صہبا نے لہجے میں لگاوٹ سمو کے کہا… ایسا وہ صرف چودھری جہانگیر کو متاثر کرنے کے لیے کہہ رہی تھیں۔ عیشال ان کی بناوٹی محبت کو بچپن سے دیکھتی آرہی تھی‘ تب چھ سالہ عیشال محبت ونفرت کی تعریف ناسمجھنے والی بھی ان کے انداز پہ سہم کر شاکی ہوجاتی تھی۔
’’معاف کیجیے گا‘ آپ کے ہم دو‘ ہمارے دو کے فوٹو فریم میں‘ میری کہیں جگہ نہیں نکلتی… اللہ حافظ۔‘‘ تلخی سے کہتی ان کی خوشحال فیملی پہ ایک نگاہ ڈال کر وہ چلی گئی۔
’’ہائو روڈ…‘‘ نرمین نے ناک چڑھائی۔
’’کتنی بدتمیز ہے یہ لڑکی… کیسے جواب دینے لگی ہے‘ میری اولاد ہوتی تو بتاتی ابھی… پوری ماں پہ گئی ہے‘ جانے کیسی تربیت ہوئی ہے اس کی۔‘‘ صہبا اپنی بھڑاس نکال رہی تھیں‘ تربیت کا سن کر فائزہ اپنی جگہ چور سی بن گئیں جبکہ ماں کے ذکر پہ چودھری جہانگیر کی رگیں تن گئی تھیں۔
خ…ز…خ
’’کون سی غلطی ہوگئی ہے مجھ سے‘ جو میں یہاں پھنس گئی ہوں‘ شنائیہ چودھری نے گیلے بالوں کی لٹوں کو ناک کے قریب کیا اور بالوں سے آتی بو پہ برا سا منہ بنا کر بالوں کو ڈارائر سے ڈرائے کرنے لگی۔ کئی بار شمپو کرکے دیکھ لیا تھا کنڈیشنر مل کے سونگھ لیا مگر جانے کون سا تیل تھا جس کی بو جاکے نہیں دے رہی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے ناعمہ کی کال آئی تھی اور اس کا نکاح شاہ زرشمعون سے سن کر وہ بھی اچھل پڑی تھی۔ اسے خوش نصیب اور جانے کیا کیا گردان رہی تھی… اور اس نے جل کے فون ہی بند کردیا تھا۔ ساری دنیا اس نکاح پہ خوش تھی‘ سوائے اس کے۔
شاہ زرشمعون نے چیلنج کردیا تھا مگر وہ چاہ کر بھی اسے نیچا نہیں دکھا پارہی تھی۔ انکار کے تمام حربے آزما کے دیکھ لیے تھے اور الٹا دیا کے ہاتھوں ہر بار ذلیل ہی ہوئی تھی۔ ابھی وہ ٹھیک سے سکون کا سانس بھی نا لے پائی تھی کہ پیغام آگیا کہ ہال میں سب بلا رہے ہیں ۔ پیغام سن کر اسے کوفت ہوئی لیکن حکم حاکم مرگ تھا سو بجالانا فرض تھا۔
ہال میں پہنچی تو ہر کوئی ڈینٹ پینٹ میں مصروف تھا۔ لڑکیاں ہاتھوں‘ پیروں میں بلیچ لگائے بیٹھی تھیں تو کوئی فیشل کرنے کی کوشش میں ایک دوسرے کا منہ رگڑ رہی تھیں… کچھ مہندی سے بیل بوٹے ہتھیلیوں پہ بنا رہی تھیں‘ خالصتاً عورتوں کی محفل تھی۔
’’لو آگئی شنائیہ۔‘‘ کسی نے دیکھتے ہی ہانک لگائی۔
جانے کس نے پکڑ کے اپنے پاس بٹھا لیا اور سب گول دائرے میں بیٹھ کر اس کے ابٹن ملنا شروع ہوگئیں۔ وہ احتجاج کرتی رہ گئی۔
’’شنائیہ… مایونیز، انڈے اور دہی کا آمیزہ خصوصاً تمہارے لیے بنا کر لائی ہوں‘ بی جان کی ہدایت پہ… اب جلدی سے اچھے بچوں کی طرح لگالو… بال مضبوط اور چمکدار ہوجائیں گے۔‘‘ بائول ہاتھ میں لیے فریال اس کے سر کے پیچھے کھڑی تھیں۔
’’قدرتی نعمتوں کی اتنی بے قدری… کھانے کے بجائے انہیں نالیوں میں بہادوں…‘‘ انڈوں کی بو کو سوچتے کراہیت آنے لگی… وہ سوچ کے رہ گئی دونوں پیر آگے کیے‘ دائیں بائیں ہاتھ پھیلائے وہ پہلے ہی قابل رحم حالت میں ابٹن لگوا رہی تھی اس پہ مستزاد فریال سر پہ آکھڑی ہوئی۔ جب تک یہ ٹارچر جاری رہا اس نے آنکھیں حتی المکاں بند ہی رکھیں۔
’’کمال ہے… نکاح سے انکاری لوگ بڑے آرام سے سروسز لے رہے ہیں۔‘‘ تراشیدہ ناخن کو ابٹن سے زرد ہوتا دیکھ کر وہ پہلے ہی صدمے میں تھی… اوپر سے چنبیلی کے تیل کی مہک دماغ پہ چڑھ رہی تھی جسے ابٹن میں ملایا گیا تھا۔ وہ جلد سے جلد پھر سے شاور لینے جارہی تھی… جب اس کے بالوں پہ لگے آمیزے اور ہاتھوں پیروں کی زرد رنگت دیکھ کر شاہ زرشمعون شانے اچکا کر چوٹ کر گیا۔
’’زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں… میں ہاری نہیں ہوں… اگر میں چپ ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ سرینڈر کردیا… یا نکاح کے لیے بخوشی راضی ہوں۔ آپ سے کوئی بھی رشتہ جوڑنے کے لیے کبھی راضی نہیں ہوں گی… بھلے نکاح نہیں رکوا پارہی لیکن آپ کو اتنا زچ کردوں گی کہ آپ کو اپنی یہ ضد آگے چل کے خود ہی حماقت لگے گی… ابھی نظر آنے والی جیت کو خود ہار سمجھتے اپنے بال نوچنے لگیں گے۔‘‘ وہ اپنے عزائم سے آگاہ کررہی تھی جنہیں سن کر شاہ زرشمعون کے چہرے پہ حیرت پھیل گئی۔
’’اوہ… اتنی خطرناک پلاننگ؟ بڑی دور اندیش نکلیں آپ تو۔‘‘ وہ سراہ رہا تھا اور اس کے لفظوں میں استہزائیہ رنگ محسوس کرکے وہ لب بھینچ گئی… وہ دو قدم آگے آیا۔
’’محترمہ… پہلے تو میں آپ کی خوش فہمی کم غلط فہمی دور کردوں کہ آپ جو ابھی کچھ نہیں کر پا رہیں تو نکاح کے بعد تو میرا حق ہوگا آپ پر… تب کون سا تیر مار لیں گی… ہم بھی دیکھیں گے۔ ویسے اطلاع کے لیے عرض ہے‘ مجھے اڑیل گھوڑے اور گھوڑیوں کو سدھانا بہت اچھے طریقے سے آتا ہے۔‘‘ سراسر مذاق اڑانے والے لہجے میں وہ قدرے اس کی طرف جھک کر بولا۔
’’جاکے آئینے میں اپنی شکل اور حلیہ اچھی طرح دیکھ لیں… آپ پہ حویلی کا رنگ بڑی اچھی طرح چڑھ گیا ہے۔‘‘ زرد ہاتھ پائوں گردن، گھریلو ٹوٹکوں کا آمیزہ لگا کر اونچا باندھا گیا جوڑا… اس وقت وہ آئینہ دیکھتی تو شاید خود کو بھی پہچان نا پاتی… وہ درست کہہ رہا تھا‘ مگر وہ نخوت سے ہونہہ کرکے گزر گئی تھی۔
خ…ز…خ
’’ان کائونٹر اسپشلسٹ چودھری جہانگیر… ایشان جاہ کے والد ہیں… آئی کانٹ بلیو دس…‘‘ کچن میں برتن سمیٹتی ماورا یحییٰ دھیمی آواز میں انوشا کو آج کی روداد سنا گئی تھی۔ اس کی کوئی بیسٹ فرینڈ نہیں تھی… ایک انوشا ہی تھی جس سے وہ ہر بات کرلیتی تھی۔
’’یقین کرو… تم سے زیادہ شاک مجھے لگا… مرنے والی حالت ہورہی تھی… چودھری جہانگیر اپنے پورے قافلے کے ساتھ مجھ سے ملنے‘ دوسرے معنوں میں اپنے بیٹے کی ڈیل کے لیے مجھے دھمکانے آئے تھے۔ دور سے انہیں اور ان کے خوفناک چہرے والے سپاہی کو دیکھ کر میں حجاب کر گئی… اگر جو چہرہ دیکھ لیتے تو جان جاتے کہ میرے چہرے کا رنگ کس قدر اڑا ہوا تھا۔‘‘ صبح کی کیفیات یاد کرکے وہ جھرجھری لینے لگی۔
’’اندر سے اتنی ڈری ہوئی تھی پھر بھی اتنا لمبا چوڑا لیکچر دے آئی انہیں۔‘‘ انوشا نے چڑایا۔
’’ڈر اس وقت تک لگا جب تک ان کی آمد کا مقصد پتا نہیں تھا۔ لیکن انہیں ایشان جاہ کی طرف داری کرتے دیکھ کر پہلے حیرانی‘ پھر دکھ اور آخر میں غصہ آگیا۔ کس قدر خُوش قسمت ہے یہ ایشان جاہ۔‘‘
’’دکھ کس بات پر ہوا…؟‘‘ انوشا نے حیرت کا اظہار کیا۔
’’بابا کا ہم شکل جب دشمن اول کے لیے بولے تو خوشی کیسے ہو… دکھ ہی ہونا ہے ناں۔‘‘ وہ افسردگی سے گویا تھی… انوشا سر ہلانے لگی۔
’’کہہ تو تم ٹھیک ہی رہی ہو… لیکن اب…؟ کیا سوچا ہے… جو سچ کہوں تو مجھے تمہارے لیے بہت ڈر لگنے لگا ہے۔ تم سبجیکٹ چینج کرلو… کچھ بھی کرکے اس ایشان جاہ نامی مخلوق سے پیچھا چھڑا لو… مبادا کل کو کوئی نقصان اٹھانا پڑے… پہلے تو صرف وہی مقابل تھا اب تو اس کے ہائی پروفائل والے والد محترم بھی کود پڑے ہیں… ہم کمزور عورتیں ان جیسوں کا کیا بگاڑ لیں گی…؟‘‘ انوشا متفکر ہوئی… ایک لمحے کو ماورا یحییٰ بھی چپ رہ گئی… کرنے کو تو وہ انہیں چیلنج کر آئی تھی لیکن انوشا کو لاحق خدشے اس کے اندر بھی سر اٹھانے لگے تھے… ایشان جاہ کے غرور‘ گھمنڈ کی تو وہ خود امین تھی اور اب اس کی مضبوط بیک کو دیکھ کر اسے بھی کوئی غلط فہمی نا رہی تھی۔
کسی کام سے کچن کو آتی منزہ ساکت ہوکر دیوار سے جا لگی تھیں… زمین وآسمان نگاہوں میں گھوم گئے تھے۔
چودھری جہانگیر کا بیٹا… ایشان جاہ… ماورا کا کلاس فیلو؟ چودھری جہانگیر نے اپنے بیٹے کے لیے دھمکی دی… وہی لڑکا جو رزلٹ پہ ماورا سے الجھا تھا… منزہ کو سب یاد آگیا اور اب کہانی کا لب لباب سن کر ان کے ہاتھ پائوں سن ہوگئے تھے۔
آج وہ ماورا سے ملے تھے… شکر ہے‘ اس نے حجاب کر رکھا تھا اگر جو انہیں ذرا سا بھی شک ہوجاتا تو کچھ بعید نا تھا‘ وہ انہیں ڈھونڈ نکالتے… کیا وہ ان کا سامنا کرسکتی تھی…؟ یقینا نہیں… انہیں بے چینی نے آگھیرا تھا۔
ایک طرف موت کی آہٹیں نزدیک سے نزدیک تر ہوتی جارہی تھیں تو دوسری طرف ماضی کا خوفناک پرندہ ہر طرف سے انہیں دبوچنے کو تیار بیٹھا تھا… زندگی کے دن کم رہ گئے تھے۔
’’پھر کیا کروں… لڑکی ہونے کے غم میں منہ چھپا کر گھر بیٹھ جائوں… ان جاگیرداروں کو میسج دوں کہ وہ آج بھی حاکم ہیں اور ہم ان کے محکوم…؟‘‘ ماورا یحییٰ کا لہجہ سخت تھا۔
’’نہیں… تم بندوق لے کر ان کے سامنے تن کے کھڑی ہوجائو اور ایک ایک کو بھون دو۔‘‘ منزہ سے مزید ضبط محال ہوا تو وہ ایک دم سامنے آکر برس پڑیں… دونوں ہی انہیں دیکھ کر سراسیمہ ہوگئیں۔
’’ماورا… کل سے یونیورسٹی جانا بند… بہت ہوگئی پڑھائی… اب گھر بیٹھو آرام سے… تمہارے لیے کوشش تیز کرتی ہوں تاکہ جلد ہی تمہیں نبٹا سکوں… بس اب سے یونیورسٹی کا ذکر تمہاری زبان پر نہیں آئے۔‘‘ منزہ حتمی انداز میں کہہ کر جیسے آئی تھیں ویسے ہی چلی گئیں اور دونوں ایک دوسرے کی شکل تکنے لگی تھیں۔
خ…ز…خ
آج نکاح کی تقریب تھی… گائوں کے کسانوں سے لے کر معزز مہمان تک سب ہی مدعو تھے تو گائوں کے خالی علاقے کو اس تقریب کے لیے منتخب کیا گیا تھا‘ جس کی سجاوٹ اور انتظامات سمہان آفندی نے سنبھال رکھے تھے اور جس پہ کئی دنوں سے کام جاری تھا… صبح ہوتے ہی وہ پھر سے انتظامات دیکھنے جانے لگا تو ایشان جاہ بھی ساتھ ہولیا۔
شاہ زرشمعون نے کہا تھا کہ وہ اکیلا بور ہوگا لیکن دونوں نے اسے دھوپ میں پھرنے کی بجائے آرام کرنے کا مشورہ دیا تاکہ وہ فریش نظر آئے… اسے مانتے ہی بنی کہ چودھری حشمت نے بھی آج کے دن معمول کی ذمہ داری چھوڑ کر اسے حویلی میں رہنے کا ہی حکم دیا تھا… دور دراز کے مہمان آرہے تھے… مردانے میں رونق لگی ہوئی تھی تو عورتیں ان کے چائے پانی کا بھی خیال رکھ رہی تھیں۔
ایک بار پھر بیوٹی پارلر کھل گیا تھا اور سب پھر سے مساج‘ مینی کیور اور پیڈی کیور میں لگ گئی تھیں۔ فائزہ اپنی بیٹیوں کو جلدی جلدی سب کرلینے کا کہہ رہی تھیں تو دیا ماہم اور شنائیہ کی گرومنگ چیک کررہی تھیں… فریال زرش کو نیل آرٹ کا مشورہ دے رہی تھیں۔
سب ہی اپنی اپنی بیٹیوں کو خوب سے خوب تر لگنے کے مشورے دے رہی تھیں اور اس گھڑی خود ترسی اسے پھر سے گھیرنے لگی… صائقہ کی کمی سر اٹھانے لگی‘ اس کی ماں ہوتی تو اسے بھی سکھاتی‘ سمجھاتی‘ مشورہ دیتی… گو کہ فائزہ اور فریال نے ایک دوبار اسے بھی اچھے سے تیار ہونے کا کہا تھا۔
’’عیشال… تم بلیک سوٹ پہن رہی ہو ناں… آئی میک اپ اسموکی کرنا‘ تمہاری آنکھوں پہ بہت سوٹ کرتا ہے۔‘‘ فریال نے مشورہ دیا۔
’’چاچی اوور نہ ہوجائے نکاح کی مناسبت سے۔‘‘ وہ ہچکچائی۔
’’لپ اسٹک لائٹ رکھنا…‘‘ شاذمہ نے بات آگے بڑھائی تو وہ سر ہلا گئی لیکن اس کے باوجود بھی غم غلط نہیں ہورہا تھا۔ کچھ محرومیوں کا ازالہ کبھی نہیں ہوسکتا‘ خواہ وہ کوئی کتنی ہی کوشش کرلے… فائزہ اور فریال ہر جگہ اس کی ڈھال بن جاتی تھیں‘ کوشش کرتی تھیں اسے ماں کی کمی محسوس نا ہو… مگر ماں نہیں بن سکتی تھیں چاہے جتنی محبت جتا لیتیں۔
’’تمہیں کیا ہوا جو اتنی دکھی ہورہی ہو؟‘‘ ندا نے اس کی خاموشی نوٹ کی… وہ غیر ارادی طور پر اپنے ہاتھوں کی مہندی پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی۔
’’میری مہندی کا رنگ ہلکا چڑھا ہے…‘‘ بولتی بھی تو کیا۔
’’مہندی اچھی نہیں ہوگی۔‘‘ ندا نے قلق دور کرنا چاہا۔
’’ارے نہیں‘ کہتے ہیں ناں‘ جس لڑکی کی ساس زیادہ محبت کرے اس کی مہندی کا رنگ گہرا چڑھتا ہے۔‘‘ یمنیٰ نے شوشا چھوڑا۔
’’اوہ… اوہ… یعنی عیشال کی ساس اس سے زیادہ محبت نہیں کرے گی…؟‘‘ زرش کو جیسے صدمہ ہوا۔
اسی دم سمہان آفندی صبح کا نکلا حویلی لوٹا تھا… اسے ہال میں قدم دھرتے دیکھ کر فریال ہاتھ میں موجود پیسٹری کی پلیٹ لیے اس کی طرف آگئیں۔
’’مام پہلے فریش تو ہونے دیں۔‘‘ وہ دہائی دیتا ماں کو محبت سے تھام کر منہ کھول گیا۔
’’عیشال تو ٹینشن میں آگئی ہے‘ ساس جو محبت نہیں کرے گی۔‘‘ ماہم نے سب کا دھیان واپس اس کی طرف کیا۔
’’کوئی بات نہیں عیشال… تم ساس بدل لینا۔‘‘ شاذمہ نے چٹکلہ چھوڑا تو سب کے قہقہے بلند ہونے لگے۔
’’ہائے نہیں…‘‘ عیشال کی نظر فریال پہ جمی ہوئی تھیں‘ ساتھ ہی سمہان آفندی کو بھی دیکھ رہی تھی جو تھکا ہوا ہونے کے باوجود چاق وچوبند نظر آرہا تھا۔
’’جانے کس مٹی سے بنا ہے۔‘‘ وہ سر جھکائے سوچ کے رہ گئی… اس کی ہر وقت کی بے سکونی اسے تھکا دیتی تھی مگر وہ شخص نہیں تھکتا تھا اس کے جھکے سر پر ایک گہری نظر ڈال کر سمہان آفندی فریش ہونے چلا گیا تھا۔
’’جیولری میں کیا پہن رہی ہو؟‘‘ ندا نے اس کا دھیان اپنی طرف مبذول کروایا۔
’’سمجھ نہیں آرہی… بہت ساری جیولری ہے… بتائیں کیا پہنوں۔‘‘ ندا کے یاد دلانے پر اسے اپنا مسئلہ یاد آیا جس کے لیے وہ ہال میں آئی تھی۔ ساتھ لایا جیولری باکس سامنے کرکے وہ پوچھ بیٹھی۔
’’بتائیں ان میں سے کون سا پہنوں…؟‘‘ وہ رائے چاہ رہی تھی۔
’’مجھے بھی دکھائو۔‘‘ یمنیٰ نے دور سے ہانک لگائی تو عیشال ایک ایک ایئر رنگز اپنے کان سے لگا کر سب کو دکھا کر رائے لینے لگی۔
’’یہ سلور والے اچھے لگیں گے‘ یہ پہنو۔‘‘ ملازمہ کو سمہان کے کھانے کے لیے ہدایت کرکے فریال پلٹ آئی تھیں۔ انہوں نے آتے ہی رائے دی تو باقی سب کا ووٹ بھی اسی کو ملا۔
’’شکر ہے‘ یہ مسئلہ تو حل ہوا…‘‘ اسے سکون ملا۔ اسی ثانیے میں نرمین اور صہبا ہال میں داخل ہوئیں اور ڈھیروں جیولری بکھری دیکھ کر نرمین آگے بڑھ کر اشتیاق سے دیکھنے لگی۔
’’او وائو… بہت خوب صورت اور نازک ہے… کہاں سے لی…؟‘‘ نرمین ایئرنگ اپنے کان سے لگا کر دیکھنے لگی… اسی یہی لگا تھا کہ ان لڑکیوں میں سے کسی کا ہوگا۔
’’شہری ہیں‘ لیکن لگتا ہے آپ نے شہری مینرز نہیں سیکھے کہ کسی کی چیز کو اجازت کے بغیر ہاتھ نہیں لگاتے۔‘‘ عیشال جہانگیر نے جھپٹ کر نرمین کے ہاتھ سے ایئرنگ لے لی… نرمین تقریباً ہم عمر تھی اور اسے ایسے رویے کی امید نہیں تھی تب ہی بوکھلا گئی۔
’’اللہ کی پناہ… انسانوں کی طرح بی ہیو کرو عیشال‘ تم تو بالکل جانوروں جیسا ری ایکٹ کررہی ہو… لیکن شاید حویلی والوں کو ابھی احساس نہیں ہوا کہ جانوروں کو باندھ کر رکھتے ہیں‘ یوں کھلا چھوڑ کر دوسروں کو امتحان میں نہیں ڈالتے۔‘‘ صہبا کے تیز لہجے پہ ہال میں ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا تھا۔ سب ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگی تھیں صہبا کی نزاکت‘ اتراہٹ اور لہجے کی کڑواہٹ سے سب واقف تھے۔
’’تم بھی کیا ٹکے ٹکے کی چیزوں کو ہاتھ لگانے لگیں… تمہارے پپا نے کب کوئی کمی چھوڑی ہے… ترسے ہوئے لوگ ہمیشہ چھوٹی چھوٹی چیزیں سینے سے لگائے پھرتے ہیں۔ تم دبئی والا ڈائمنڈ سیٹ پہنو ناں‘ جو ابھی لے کر آئی ہو۔‘‘ صہبا نے بظاہر بیٹی کو مخاطب کرکے سنایا تھا مگر سب لوگ اپنی جگہ جم سے گئے… عیشال جہانگیر کے تلوئوں سے لگی اور سر پہ بجھی تھی۔
’’چھوٹے لوگوں کا حق مار کر آج تک کوئی بڑا نہیں کہلا سکا میرا حق کھانے والوں کو کبھی چین نہیں آئے گا۔‘‘ عیشال جہانگیر کو سارے لحاظ بالائے طاق رکھتے‘ مقابلے کے لیے اٹھتے دیکھ کر سب ہی سراسیمہ سی ہوگئیں۔ سب جانتے تھے جب وہ شیرنی بپھرتی تھی تو حویلی میں کسی کے کنٹرول میں نہیں آتی تھی… فریال جلدی سے اس کے پاس آئیں اور اسے تھام کر ندا کو اسے وہاں سے لے جانے کا اشارہ کیا۔
’’بدتمیز… کرتی ہوں میں شکایت جہانگیر سے… ذلیل کروانے لائے ہیں حویلی میں…؟‘‘ صہبا دھمکانے لگیں وہ مڑ کر کچھ کہنے والی تھی لیکن ندا اسے لے کر باہر نکل گئی۔
’’کس قسم کی گھٹیا لڑکی ہے یہ…؟‘‘ صبہا کا غصہ کنٹرول میں نہیں آرہا تھا ہاتھ میں موجود فون کو استعمال میں لاتے وہ چودھری جہانگیر کا نمبر ملانے ہی لگیں جب فائزہ ان کے سیل فون والے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ گئیں۔
’’خونی رشتوں کو ترسی بن ماں باپ کے پلی ہے صہبا… تھوڑی سی رعایت تو دے دو‘ بچی ہے۔ ہم سب سمجھائیں گے اسے… تم جہانگیر سے کچھ نا کہو‘ پہلے ہی بہت نفرت کرتے ہیں بچی سے اور پھر خوشی کا موقع ہے۔‘‘ فریال بھی فائزہ کا ساتھ دینے لگیں‘ دیا نے بھی درگزر کا مشورہ دیا تو صہبا وقتی طور پر تو ٹھنڈی ہوگئیں تھیں۔
خ…ز…خ
صہبا کی بکواس سن کر عیشال کا موڈ چوپٹ ہوگیا تھا۔
’’کیوں اپنے لیے مشکلات کھڑی کررہی ہو… صہبا آنٹی کے مزاج کا اچھی طرح پتا ہے کہ کیسے رائی کا پہاڑ بنا لیتی ہیں بالکل منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے ان کے… اب تیار ہوکر ہی باہر نکلنا میں تمہاری چیزیں بھجواتی ہوں‘ کسی کے ہاتھ۔‘‘ ندا لیکچر دے کر جاچکی تھی وہ کئی لمحے خُود کو ٹھنڈا کرتی رہی… تیار ہوکر آئی تو حویلی بھائیں بھائیں کررہی تھی‘ سب چلے گئے تھے اور کسی کو اس کی پرواہ بھی نہیں تھی۔ اسے پھر سے غصہ آنے لگا… چودھری جہانگیر کی گاڑی نکلتی دیکھی تو مزید شعلوں میں گھر گئی۔
کلائی میں موجود چوڑیاں اتار کر اس نے پوری طاقت سے فرش پہ دے ماریں‘ چوڑیاں چھن چھن کی آواز کے ساتھ دور تک بکھر گئی تھیں۔ سیڑھیوں سے نیچے اترتا سمہان آفندی اسے دیکھ کر ٹھٹک گیا۔
’’تم… گئی نہیں…؟‘‘ حویلی میں کوئی نہیں تھا… ملازم تک چلے گئے تھے‘ بس حویلی کی حفاظت پہ مامور نشانے باز اپنی پوزیشن سنبھالے موجود تھے۔
’’نہیں… اور اب مجھے جانا بھی نہیں… بھاڑ میں جائیں حویلی کی خوشیاں…‘‘ تیز لہجے میں کہتی باقی کی چوڑیاں اتار کر اس نے سیڑھیوں پہ پھینک دیں… جو ایک ردھم کے ساتھ ٹوٹ کر بکھر گئی تھیں… اس کے ہٹ دھرم انداز پہ سمہان آفندی کے چہرے پہ الجھن در آئی تھی… اگر وہ نہیں جاتی تو کتنی بڑی مشکل میں پر جاتی‘ اس کا اسے اندازہ نہیں تھا‘ مزید کچھ کہے بنا وہ اس کے سامنے سے گزر کر تیزی سے سیڑھیاں طے کرنے لگی مگر ٹوٹی ہوئی چوڑیاں ہیل کے نیچے آکر اس طرح اس کا توازن بگاڑ گئی کہ سنبھل کر ریلنگ کو تھامتے ہوئے بھی اس کا پیر بری طرح مڑ گیا۔ ساتھ ہی وہاں پڑی چوڑیاں اس کے پاؤں میں چبھ گئیں تھیں۔
’آہ…!‘‘ درد و اذیت کے رنگ چہرے پہ بکھر گئے تھے۔
’’ریلیکس…‘‘ اس کے وجود کو گرنے سے بچانے کے لیے وہ ڈھال بن کر اس کی پشت پہ آیا پیچھے سے اسے تھام لیا۔
’’بیٹھو سکون سے۔‘‘ چوڑی کا ٹکڑا نکال کر اچھی طرح چیک کرنے لگا کہ کہیں کوئی ذرہ ایڑی کے اندر تو نہیں رہ گیا‘ سینڈل کے اسٹریپ کھول کر اسے سنبھلنے کا اشارہ کرتے اوپر کی سیڑھیوں کو تیزی سے پھلانگ گیا۔
سیڑھیوں پہ بیٹھ کر وہ اپنے پاؤں کا معائنہ کرنے لگی۔ اسی اثناء میں جوتوں کی آواز پہ اس کی نظر اٹھی۔ وہ ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس لیے آیا تھا… سیڑھیوں پہ جوتوں کے بل بیٹھتے کاٹن پایوڈین میں بھگو کر اس کی ایڑی تھام کر زخم صاف کرنے لگا۔
’’چھوڑو میں کرلوں گی…‘‘ اس نے پیر کھینچا۔
’’چپ کرکے بیٹھی رہو… ورنہ ایک ہاتھ لگائوں گا۔‘‘ سختی سے ڈپٹ کر پیر کی انگلیوں کو اپنے مضبوط ہاتھ سے پکڑ کر پیر کھینچنے کی حرکت کو ناکام بنادیا۔
’’اپنی حرکتوں سے خود کو ہی تکلیف پہنچاتی ہو‘ کبھی تو عقل سے کام لیا کرو۔‘‘ فہمائشی نظریں اس کے چہرے سے ہوتی جابجا بکھری چوڑی کے ٹکڑوں پر تھیں۔
’’اپنا کام کرو… زیادہ دادا ابا بننے کی ضرورت نہیں… حویلی میں سارے عقل مند ہیں ایک میں ہی کم عقل ہوں جسے سمجھانے کو ساری حویلی امڈ آتی ہے۔‘‘ وہ کسی حال میں ادھار رکھنے والی نہیں تھی۔
اسی اثناء میں سمہان آفندی کے نمبر پہ کال آنے لگی تھی۔ بلیو ٹوتھ کان سے لگا ہونے کے باعث کال باآسانی پک ہوگئی۔
’’سمہان… عیشال یہاں نہیں ہے… تم اچھی طرح اسے حویلی میں دیکھ لو… وہ اپنے روم میں ہوگی… کسی کو غلط فہمی ہوگئی تھی کہ وہ جاچکی ہے… لیکن وہ یہاں نہیں ہے…‘‘ دوسری طرف فریال فکرمند تھیں۔
’’جی محترمہ کے چوٹ لگ گئی ہے… آپ سب سے یہی کہیں‘ میں آرہا ہوں لے کر۔‘‘ اس پہ نظریں جمائے اب وہ پٹی باندھ رہا تھا ۔
’’چلو ٹھیک ہے…‘‘ فریال مطمئن ہوکر فون بند کر گئیں۔
’’میں نے کہا ناں‘ میں نہیں جائوں گی… پھر جھوٹ کیوں کہا تم نے…؟‘‘ پیر اس کے ہاتھ سے چھڑا کر وہ ایڑی کا جائزہ لینے لگی۔
’’سب دیر سے لوٹیں گے… کیا کروگی اکیلی حویلی میں؟‘‘ فرسٹ ایڈ باکس بند کرتے اسے غصہ آنے لگا۔
’’سو جائوں گی آرام سے۔‘‘ اس کے اطمینان میں ذرا فرق نہ آیا۔
’’میں جب تک باکس رکھ کر ہاتھ دھو کر آئوں تب تک تم شرافت سے سینڈل پہن کر کھڑی ہوکر چلنے کی تیاری کرو۔‘‘
’’تم زبردستی کرو گے میرے ساتھ؟‘‘ وہ گھورنے لگی۔ بلیک شیفون کے سوٹ‘ چوڑی دار پاجامے اور بڑے سے دوپٹے میں بالوں کو کرل کرکے بائیں شانے پہ دھرے وہ دلکش لگ رہی تھی۔
’’ضرورت پڑنے پہ وہ بھی گر گزروں گا… جو شرافت سے نا مانیں… اٹھو شاباش۔‘‘ فرسٹ ایڈ باکس اٹھا کر دوبارہ سیڑھیوں کی طرف دوڑا تو وہ منہ بسور کر رہ گئی۔
’’وہ زبردستی لے جائے گا…‘‘ وہ واقعی ڈر گئی تھی یا موڈ بدل گیا تھا… چپ چاپ فرنٹ سیٹ پر براجمان ہوگئی‘ منہ بگڑا ہوا تھا مگر جارہی تھی۔
گاڑی حویلی سے نکالتے اس نے گردن موڑ کر عیشال جہانگیر پہ ایک مسکراتی نگاہ ڈالی… اعصاب کسی قدر پُرسکون ہوئے تھے۔ کچھ غیر معمولی محسوس کرکے سمہان آفندی نے اردگرد کا غیر محسوس طریقے سے جائزہ لیا تھا۔
’’عیشال اپنی طرف کا شیشہ چڑھائو۔‘‘ تازہ ہوا کی دیوانی… اے سی کی ٹھنڈک کو خاطر میں لائے بناء اپنی طرف کا شیشہ نیچے کیے اندھیرے میں لہلہاتے پیڑوں کا نظارہ کررہی تھی۔
’’کیوں…؟‘‘ حکم پہ اعتراض کرتے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
’’آئی سے… شیشہ اوپر کرو۔‘‘ خلاف معمول اس کی آواز دھاڑ کا روپ دھار گئی تھی۔ ایک لمحے کے لیے عیشال جہانگیر لرز گئی… اس نے بے ساختہ سمہان آفندی کی طرف دیکھا‘ ہمیشہ سوفٹ تاثرات رکھنے والا اس گھڑی سخت تاثرات سجائے ہوئے تھا… نگاہیں بیک ویو مرر پہ لگی ہوئی تھیں‘ ہاتھ بے ساختہ پسٹل کی طرف بڑھے تھے… اس کے انداز میں کچھ غیر معمولی پن ضرور تھا اس نے جلدی سے حکم کی تعمیل کی اور اس کے حکم کی تعمیل کتنی سود مند رہی یہ بھی اس پہ جلد کھل گیا جب اندھیرے میں چھپی جیپ اس کی گاڑی کو نکلتے دیکھ کر اپنی ہیڈ لائٹس آن کر گئیں۔ سمہان آفندی کا بلیو ٹوتھ آن تھا۔
غیر معمولی نقل وحمل شام سے محسوس ہورہی تھی اور اب دشمن کی جیپ کا رخ حویلی کی طرف دیکھ کر اس کا شک یقین میں بدل گیا تھا۔
’’ایکشن…‘‘ اس کا اشارہ ملنا تھا کہ حویلی کے نشانہ بازوں نے گولیاں برسانا شروع کردی تھی۔
’’سمہان…‘‘ گولیوں کی آواز سے عیشال جہانگیر سخت خوفزدہ ہوگئی تھی۔
عیشال جہانگیر کے باعث وہ یوٹرن لینے میں ہچکچا رہا تھا مگر دشمن کی جیپ کا رخ حویلی کی طرف دیکھ کر وہ بھاگ کھڑا ہوتا یہ ناممکن تھا… اتنا وقت بھی نہیں تھا کہ اسے چھوڑ کر واپس آتا… تب تک جانے کتنا نقصان ہوجاتا۔
’’میں اگر گاڑی سے نکل بھی جائوں تو بھی تم نہیں نکلو گی… گاڑی بلٹ پروف ہے… ڈونٹ وری تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں پسٹل تھامے جبکہ ہتھیلیاں اسٹیئرنگ پہ تھیں‘ ہدایت کرتے بالآخر اس نے اسپیڈ سے یوٹرن لے ہی لیا تھا۔ ٹائر بری طرح چرچرائے تھے… مٹی کی چادر سامنے تن گئی تھی۔ ذرا کی ذرا اس کی طرف دیکھتے وہ اپنی طرف کا شیشہ نیچے کرکے فائر شروع کرچکا تھا۔
دشمن کی نگاہ ان کے ہر عمل پہ تھی‘ تب ہی انہوں نے حویلی کو نقصان پہنچانے کا اس وقت پلان بنایا جب مکین نا ہوں مگر حویلی کو نقصان پہنچانے کا خواب ان کے گلے میں ہڈی بن گیا تھا… وہ بے خبری میں مارنا چاہ رہے تھے لیکن مقابل باخبر سمہان آفندی تھا‘ جس نے نکاح کی تیاری کے ساتھ ساری تیاری کر رکھی تھی اور نقل وحرکت کو محسوس کرتے ہی حویلی میں کسی کو بتائے بنا نشانے بازوں کو چوکنا رہنے کا اشارہ کر رکھا تھا۔ حویلی میں اپنی جگہ سنبھالے نشانہ بازوں کا مقابلہ اور سمہان کی گن سے نکلتے ہوئے شعلوں نے جیپ میں سوار لوگوں کو بوکھلا دیا تھا تب ہی اپنا دفاع کرنے کو وہ جواباً فائر کررہے تھے۔
دروازہ کھول کر وہ جیپ کی ٹائر کو نشانہ بنانا چاہ رہا تھا مگر اس کا ارادہ بھانپ کر عیشال جہانگیر سختی سے اس کا بازو تھام گئی۔
’’تم نہیں اتروگے… میں اترنے نہیں دوں گی تمہیں…‘‘ گولیوں کی گھن گرج میں وہ بے ساختہ چلائی۔
دوسری جیپ نے حویلی کی طرف جانے کا ارادہ ترک کرکے جان بچانے کی ٹھان لی تھی… ان کے مقابل صرف سمہان آفندی تھا۔ نشانے بازوں سے بھری ایک جیپ کو حویلی سے نکلتے اور فائر کرتے دیکھ کر جیپ میں سوار دشمن قریب آتی سمہان آفندی کی گاڑی پہ گولیاں برساتے تیزی سے نکلے تھے۔ گاڑی مڑی اور عیشال جہانگیر سیٹ پہ لڑھک گئی تھی۔
’’عیشال…‘‘ سمہان آفندی کی خوفزدہ آواز نکلی تھی۔

(ان شاء اﷲ کہانی کا بقیہ حصہ آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close