Hijaab Nov-18

چلو ہم معتبر ٹھہرے

نزہت جبین ضیاء

’’کیا ہوا طوسیہ… تم خوش نہیں ہو؟‘‘ عارض نے اپنے برابر والی سیٹ پر بیٹھی طوسیہ پر گہری نظر ڈال کر سوال کیا۔
’’میں تو بہت خوش ہوں عارض اور میں چاہتی ہوں کہ مما بھی اتنی ہی خوش ہوں… عارض میں اس خوشی کو تمہارے بعد سب سے پہلے مما سے شیئر کرنا چاہتی ہوں مگر…؟‘‘ طوسیہ کے لہجے میں اداسی در آئی۔
’’وہ خوش تو ہوں گی ناں؟‘‘ معصوم نظروں سے عارض کو دیکھا۔
’’ہاں… ہاں یقینا۔‘‘ عارض نے روڈ پر گاڑیوں کے اژدھام پر نظریں جماتے ہوئے ملائمت سے طوسیہ کا کاندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا تو طوسیہ نے سیٹ سے ٹیک لگالی اور آنکھیں موند لیں۔
آنکھیں بند کیں تو گزشتہ ماہ وسال کا نقشہ بند آنکھوں میں دھیرے دھیرے اتر آیا اور وہ ماضی کے پے در پے کھلتے دریچوں میں گم ہوتی چلی گئی تھی۔
ز…ز…ز…ز
اس روز موسم کے تیور ٹھیک نہیں تھے۔ آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ کسی وقت بھی بارش برسنے والی تھی اور عائلہ کو اپنے پروجیکٹ کے ضروری سامان کی خریداری کرنا تھی۔ اس کا ٹیسٹ تھا اور ہر صورت آج ہی بازار جانا تھا۔ مجبوراً طوسیہ کو لے کر مارکیٹ آگئی۔ مطلوبہ چیزیں خرید کر وہ لوگ رکشے میں واپس آرہی تھیں کہ ہلکی بارش بھی شروع ہوگئی۔ وہ لوگ ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ سامنے سے آتی بائیک بارش کی وجہ سے سلپ ہوئی اور بائیک سوار کوشش کے باوجود اس پر قابو نہ رکھ سکا اور بائیک سیدھی رکشہ سے آ ٹکرائی۔
’’یاالٰہی خیر…‘‘ طوسیہ اور عائلہ خوف کے مارے بری طرح چلائیں ایک سیکنڈ میں دیکھتے ہی دیکھتے رکشے والا بھی توازن برقرار نہ رکھ سکا اور رکشہ فٹ پاتھ سے ٹکرایا اور طوسیہ رکشے سے اچھل کر باہر آگری۔ عائلہ زور سے چلائی۔ طوسیہ کے ہوش وحواس گم ہوگئے تھے۔ لوگ جمع ہوگئے عائلہ کو تو معمولی خراش آئی تھی مگر گرنے کی وجہ سے طوسیہ کے پیر میں چوٹ لگ گئی تھی۔ عائلہ رونے لگی۔ طوسیہ درد سے کراہ رہی تھی۔ تب ہی گاڑی سے اتر کر ایک نوجوان آگے آیا۔
’’یہاں قریبی کلینک ہے… میں آپ کو وہاں لے چلتا ہوں۔‘‘
’’جی نہیں… میں ٹھیک ہوں۔ ہم رکشے سے چلے جائیں گے۔‘‘ طوسیہ نے جلدی سے کہا اور خود کو نارمل ظاہر کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی لیکن درد کی وجہ سے وہ صحیح طور پر کھڑی نہ رہ سکی۔
’’آپ کو چوٹ لگی ہے محترمہ… اندرونی چوٹ خطرناک ہوتی ہے اس لیے لاپروائی ٹھیک نہیں۔‘‘ وہ دوبارہ بولا۔
’’بیٹی پاس ہی کلینک ہے چلی جائو۔‘‘ قریب کھڑے ایک معمر شخص نے بھی مشورہ دیا تو طوسیہ اور عائلہ عارض کی گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔
’’میں پوچھ سکتا ہوں کہ اس خطرناک موسم میں آپ لوگ باہر کیوں نکلیں؟‘‘ عارض نے گاڑی اسٹارٹ کرتے مرر سے عائلہ کو دیکھ کر سوال کیا۔
’’ہمارا گھر یہیں کچھ فاصلے پر ہے اور میں ہوم اکنامکس کی اسٹوڈنٹ ہوں۔ مجھے ارجنٹ پروجیکٹ کمپلیٹ کرنا تھا اس لیے بہت مجبوری میں آنا پڑا۔‘‘ عائلہ نے تفصیل بیان کی تو طوسیہ اسے گھورنے لگی۔ عائلہ کو ہر کسی سے رشتہ جوڑ لینے کی بیماری تھی۔
’’اوہ اچھا گڈ…‘‘ وہ سر ہلا کر بولا۔
’’میرا نام عارض شکیب ہے۔ میرا اپنا بزنس ہے۔ مما کا اکلوتا بیٹا ہوں۔‘‘ عارض نے خود ہی اپنا تعارف کروایا۔
’’اور ایک اہم بات یہ کہ میں انتہائی شریف بندہ ہوں… آپ لوگوں کی مدد اپنی فطرت کی وجہ سے کررہا ہوں۔ کسی لالچ کی وجہ سے نہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ مما نے میرے لیے لڑکی پسند کر رکھی ہے۔ اس لیے آنکھ اور فطرت کے ساتھ ساتھ میری نیت بھی بالکل صاف ہے۔‘‘ اس کی لمبی چوڑی بات پر دونوں جزبز ہوگئیں خاص طور پر طوسیہ جو اس کو آج کل کے لڑکوں کی طرح سمجھ بیٹھی تھی۔
’’جی جی… بہت شکریہ۔‘‘ کلینک کے باہر اترتے ہوئے عائلہ بولی۔
معمولی چوٹ تھی۔ دوا لے کر وہ دونوں باہر نکلیں تو دور دور تک رکشے کا نام و نشان نہیں تھا۔ ابھی بھی ہلکی بارش ہورہی تھی۔ پیدل چلنے کی ہمت نہیں تھی۔ طوسیہ کے لیے چلنا تھوڑا مسئلہ پیدا کررہا تھا۔ تب ہی عارض کی گاڑی دونوں کے قریب آکر رکی۔
’’اگر مناسب سمجھیں تو میں آپ لوگوں کو گھر چھوڑ دوں؟‘‘ کھڑکی سے سر نکال کر شرافت سے پوچھا۔ طوسیہ پس وپیش کررہی تھی لیکن عائلہ اس کا ہاتھ تھام کر گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
’’کبھی کبھی کتنی پریشانی ہوجاتی ہے۔‘‘ طوسیہ باہر دیکھتے ہوئے سوچنے لگی۔
’’ہمارے ابا جی گورنمنٹ سرونٹ ہیں‘ ہم دو بہنیں ہیں۔ طوسیہ آپی ایم ایس سی کررہی ہیں اور میں ہوم اکنامکس کی اسٹوڈنٹ ہوں۔ طوسیہ آپی کی منگنی ہوچکی ہے اور سمیر بھائی ہمارے رشتے دار ہیں۔ آپی جیسے ہی ایگزمز سے فارغ ہوں گی ان کی شادی ہوجائے گی۔‘‘ عائلہ نے پندرہ منٹ کے سفر میں ساری تفصیلات اس کو بتائیں۔
’’ارے واہ… بہت بہت مبارک ہو عائلہ سسٹر، اب تو میری دعوت بھی پکی ہے تمہاری آپی کی شادی پر۔‘‘ عارض خوش دلی سے بولا۔
’’جی بالکل۔‘‘ عائلہ چہچہائی کچھ دیر پہلے کے ایکسڈنٹ کی کوفت بھی ختم ہوچکی تھی۔ طوسیہ نے گاڑی گھر سے تھوڑے سے فاصلے پر رکوا دی۔
’’بہت بہت شکریہ۔‘‘ طوسیہ نے گاڑی سے اتر کر عارض کو دیکھ کر کہا۔
’’شکریہ کیسا؟ مجھے اچھا لگا، میرا سفر بھی اچھا گزرا… عائلہ بیسٹ آف لک۔ اتنی پریشانی کے بعد تم اپنا پروجیکٹ کمپلیٹ کروگی۔‘‘ عارض نے پہلے طوسیہ اور پھر عائلہ کو مخاطب کرکے کہا۔
’’تھینک یو عارض بھائی۔‘‘ عائلہ مسکرائی۔
گھر آکر عائلہ نے ایکسیڈنٹ سے لے کر عارض کے ساتھ آنے کی تفصیل لفظ بہ لفظ صالحہ بیگم کو سنائی۔
’’ہائے اللہ…‘‘ صالحہ بیگم ایکسڈنٹ کا سن کر گھبرا گئیں۔
’’شکر ہے اللہ کا، زیادہ نہیں لگی اماں۔‘‘ طوسیہ نے تسلی دی۔
’’اللہ پاک اس بچے کو سلامت رکھے۔‘‘ صالحہ بیگم نے ہاتھ اٹھا کر عارض کو دعا دی۔ عائلہ فوراً ہی اپنے کام میں لگ گئی اور طوسیہ اماں کے بستر پر ہی لیٹ گئی تھی۔
ز…ز…ز…ز
عارض جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، سامنے لائونج میں زیبا بیگم کو غصے کی حالت میں بیٹھے دیکھا۔ تب اسے اچانک یاد آگیا۔
’’اف توبہ…‘‘ اس نے سر پر ہاتھ مارا۔ آج مما نے خاص طور پر تاکید کی تھی کہ گھر جلدی آجانا زارا آنے والی ہے۔
’’آئی ایم ویری سوری مما۔‘‘ ماں کا حد درجہ بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر ان کے قدموں میں آکر بیٹھ گیا۔ اس کے لہجے میں ندامت تھی۔
’’بات مت کرو مجھ سے… تمہیں کچھ احساس ہے کہ کمنٹمنٹ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ماں کی زبان کا پاس بھی ہے تمہیں؟‘‘ انہوں نے غصے سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’مما… آئی ایم رئیلی ویری ویری سوری… دراصل ایک لڑکی کا ایکسڈنٹ ہوگیا تھا تو اس کو گاڑی میں ہاسپٹل لے کر چلا گیا اور آج کا پروگرام ذہن سے بالکل نکل گیا۔‘‘ وہ عاجزی سے ان کے گھٹنے تھام کر بولا۔
’’عارض… تمہیں دنیا جہان کے مسائل ماں کی زبان اور خوشیوں سے زیادہ اہم لگتے ہیں نہ صرف ماں بلکہ تمہاری بہن کی دو طرفہ خوشی کو بھی تم یکسر نظر انداز کر بیٹھے کہ ایک معمولی اور غیر اہم لڑکی کے لیے تم میری بات کو بھول گئے۔ وہ تو شکر ہوا کہ زارا کی طرف زیادہ بارش ہوگئی اور ابھی کچھ دیر پہلے ہی زارا نے کال کرکے آج کا پروگرام کینسل کرنے کے لیے کہا ورنہ اگر وہ لوگ آجاتے تو…؟ اور موبائل بھی بند جارہا تھا اگر موبائل تمہارے کام کا نہیں تو کسی غریب کو دے دو کیوں بلاوجہ بوجھ اٹھائے پھرتے ہو…؟‘‘ آج تو زیبا بیگم بہت زیادہ ہی ناراض تھیں۔ صغیرہ اماں بھی چپ چاپ کھڑی تھیں۔
’’پیاری مما… بس آخری بار معاف کردیں۔ آج کے بعد ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہوگی۔‘‘ وہ کان پکڑے، سر جھکائے، نادم سا کھڑا تھا۔ زیبا بیگم نے بغور اپنے لمبے چوڑے بیٹے کی طرف دیکھا اور کرسی سے اٹھیں۔
’’اوکے۔‘‘ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
شکیب احمد مالی لحاظ سے کافی مستحکم تھے‘ کچھ وراثت میں جائیداد بھی ملی تھی۔ انہوں نے شہر کے پوش ایریا میں اچھا سا گھر بنالیا تھا۔ اپنی بیوی زیبا بیگم اور دو بچوں زارا اور عارض کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ زارا اور عارض فطرتاً اچھے تھے۔ روپے پیسے کی فراوانی کے باوجود ان کی عادتیں بگڑی نہیں تھیں۔ زیبا بیگم فطرتاً تھوڑی سی تنک مزاج تھیں۔ انہیں اپنی مرضی اور حکم چلانے کی عادت تھی۔ زارا نے بی اے کیا تھا اور عارض نے انٹر۔ تب اچانک شکیب صاحب کا انتقال ہوگیا۔ ایسے میں زیبا بیگم نے سمجھ داری اور عقل مندی سے گھر اور بچوں کو سنبھالا۔ روپے پیسے کی کمی نہ تھی اس لیے مالی پریشانی نہ ہوئی۔
زارا کا رشتہ بھی طے ہوچکا تھا۔ عدیل پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتا تھا اور اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ رہتا تھا۔ عارض فطرتاً سمجھ دار تھا۔ والد کی وفات کے بعد اور زیادہ ذمے دار ہوگیا تھا۔ زارا کی شادی کی تقریباً تیاری تو مکمل تھی۔ اس لیے زارا نے بی اے کیا تو زیبا بیگم نے اس کی شادی کردی تھی۔
ردابہ اس وقت میٹرک میں تھی۔ چھوٹی سی بچی تھی۔ والدین حیات نہیں تھے۔ عدیل نے محبت لاڈ و پیار سے پالا تھا۔ ہر خواہش پوری کرتا۔ زارا آئی تو ردابہ اس سے بھی مانوس ہوگئی۔ وہ اکثر زارا کے ساتھ آجاتی۔ زارا کے آجانے سے گھر میں رونق ہوجاتی۔ ورنہ زیادہ تر زیبا بیگم اور صغیرہ اماں ہی گھر میں رہتے۔ صغیرہ اماں بہت پرانی کل وقتی ملازمہ تھیں۔ جن کو گھر میں گھر کے فرد کی سی حیثیت حاصل تھی۔ عارض اپنے والد کی خواہش کے مطابق اکائونٹس پڑھ رہا تھا تاکہ آگے چل کر بزنس سنبھالے۔
شادی کے دو سال بعد زارا ایک پیارے سے بیٹے مانی کی ماں بن گئی۔ زیبا بیگم بہت خوش تھیں اور اپنے رواج کے مطابق زارا کو سوا مہینے کے لیے اپنے گھر لے آئیں۔ زارا یہاں آگئی تو ردابہ گھر میں بولائی بولائی پھرتی اسے زارا کی عادت ہوگئی تھی اور سب سے زیادہ ننھے مانی کے لیے بے چین رہتی۔ وہ بھی اکثر بھابی کے ساتھ آجاتی۔ اس بار آئی تو زیبا بیگم اور زارا نے زبردستی ردابہ کو روک لیا۔ ردابہ رات کو دیر تک مانی کے ساتھ کھیلتی رہی۔
آج کل عارض پر بھی بہت کام کا دبائو تھا۔ وہ ابھی بھی اپنا لیپ ٹاپ سنبھالے اپنے کمرے میں کام میں مصروف تھا۔ کمرے کا دروازہ بھی کھلا تھا۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی سامنے ردابہ کھڑی تھی۔
’’آپ جاگ رہے ہیں؟‘‘ احمقانہ سوال پر عارض نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا۔
’’دراصل مانی کے لیے فیڈر بنانے اٹھی تھی۔ آپ کے کمرے کی لائٹ جلتی دیکھی تو آگئی… آپ کام کررہے ہیں تو آپ کے لیے چائے بنادوں؟‘‘ لمبی چوڑی بات کے بعد اصل مقصد بیان کیا کیونکہ اسے بھی چائے کی طلب محسوس ہورہی تھی۔
’’وائے ناٹ؟ اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو ضرور ایک کپ گرما گرم چائے لے آئو۔‘‘ وہ خوش ہوکر بولا۔
’’اوکے‘ ابھی لائی۔‘‘ وہ مسکرا کر پلٹ گئی اور پانچ منٹ کے بعد وہ گرما گرم چائے کا کپ لیے حاضر تھی۔
’’تھینک یو سو مچ۔‘‘ کپ لے کر چائے کا گھونٹ بھرا۔
’’واہ… چائے تو بڑی زبردست بنائی ہے تم نے‘ میں تو تم کو چھوٹی اور لاڈ پیار میں بگڑی ہوئی لڑکی سمجھتا تھا مگر تم نے تو ثابت کردیا کہ تم کام بھی کرسکتی ہو۔‘‘ عارض خوش دلی سے بولا۔
’’آپ نے ابھی میرے کام دیکھے کہاں ہیں؟ بھابی سے پوچھ لیں کتنی سگھڑ، بچی ہوں میں۔‘‘
’’بات میں دم تو ہے۔‘‘ عارض نے اس کی بات کی تائید کی۔
’’اچھا چلیں آپ کام کریں اپنا‘ بھابی ویٹ کررہی ہوں گی۔‘‘ وہ مسکرا کر جانے کے لیے پلٹی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ آج پہلی بار عارض نے ردابہ سے اس طرح سے بات کی تھی۔ وہ تو ردابہ کو لاڈ پیار میں بگڑی ہوئی مغرور لڑکی سمجھتا تھا۔ وہ کمرے میں آئی تو زارا جاگ رہی تھی۔
’’دے دی چائے عارض کو؟‘‘ زارا نے مانی کو تھپکتے ہوئے اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھا تو پوچھا۔
’’جی بھابی۔‘‘ وہ بستر پر لیٹ گئی۔
’’بھابی آپ کے فادر کی ڈیتھ کب ہوئی تھی؟‘‘ بیڈ پر لیٹ کر ردابہ نے زارا کو مخاطب کیا۔
’’ابھی کچھ عرصہ پہلے۔‘‘ زارا نے لیٹتے ہوئے جواب دیا۔ ’’کیوں…؟‘‘ جواب کے ساتھ سوال بھی کیا۔
’’زیبا آنٹی نے گھر کو اور آپ لوگوں کو اچھی طرح سے سنبھالا اور گھر کا نظام اتنے اچھے سے چلاتی ہیں۔ عارض بھی کتنی محنت کرتے ہیں۔ آپ کی بھی اتنی اچھی تربیت ہوئی ہے۔ میں نے تو بچپن سے گھر کا ماحول عجیب سا دیکھا بھائی میں اور آیا اماں بس…‘‘ اس کے لہجے میں اداسی تھی۔
’’اوہ… تمہیں آدھی رات کو کیسی باتیں سوجھ رہی ہیں پاگل لڑکی… کلمہ پڑھو اور سونے کی کوشش کرو۔ اب تو سب اچھا ہورہا ہے ناں اپنے گھر میں؟‘‘ زارا نے اس کو دیکھ کر کہا۔
’’جی جی… جب سے آپ آئی ہیں… اللہ کا شکر ہے سب اچھا ہے ورنہ واقعی میں چڑچڑی اور بدتمیز ہوا کرتی تھی۔‘‘ کھلے دل سے اعتراف کیا تو زارا کو اس کی بات پر ہنسی آگئی تھی۔
ز…ز…ز…ز
دوسرے دن صبح عارض حسب معمول جلدی اٹھ کر لائونج میں آیا تو مما ناشتے کی ٹیبل پر زارا کے ساتھ موجود تھیں اور ردابہ کچن میں صغیرہ اماں کے ساتھ ناشتے کی تیاری میں مصروف تھی۔
’’صغیرہ اماں، جلدی سے میرا ناشتہ لے آئیں۔‘‘ وہ سلام کرکے اپنی کرسی گھسیٹ کر زور سے بولا۔
’’بھئی… آج تو ردابہ کچن میں صغیرہ کی مدد کروا رہی ہے ناشتے کی تیاری میں۔ بہت اچھی بچی ہے۔ سادہ اور پُرخلوص طبیعت ہے اس کی۔‘‘ مما کے منہ سے ردابہ کے لیے یہ الفاظ سن کر عارض نے حیرت سے ان کو دیکھا۔ وہ بہت کم کسی کی تعریف کیا کرتی تھیں۔
’’یہ لیں آنٹی… بھابی کھا کر بتائیں کہ آج کا ناشتہ کیسا بنا ہے؟‘‘ ردابہ ٹرے میں ناشتہ لے کر آئی تو میز پر عارض کو دیکھ کر چونکی۔
’’ارے… آپ بھی آگئے آپ کیا لیں گے ناشتے میں؟‘‘
’’آپ کیا کیا بنا لیتی ہیں باتوں کے علاوہ؟‘‘ عارض نے شرارت سے پوچھا۔
’’آلو کے پراٹھے‘ مولی کے پراٹھے‘ حلوہ پوری، سادہ پراٹھا‘ کچوری‘ کارن فلیکس‘ چائے‘ انڈا بوائل‘ انڈا فرائی‘ انڈا ہاف فرائی‘ آملیٹ‘ آلو کی ترکاری۔‘‘ وہ ایک سانس میں کسی منجھے ہوئے خان جی کے ہوٹل کے بیرے والے انداز میں بولی۔
’’اف…‘‘ زارا نے سر پکڑ لیا۔ عارض کو ہنسی آگئی۔
’’بھئی مجھے تو ایک عدد پراٹھا اور ایک ہاف فرائی انڈا درکار ہے۔ ایک کپ گرما گرم چائے کے ساتھ۔‘‘
’’ارے بیٹی… تم کس چکر میں پڑ گئیں۔ ادھر آکے بیٹھو ناشتہ کرو صغیرہ دے دے گی عارض کو ناشتہ۔‘‘ زبیا بیگم نے ردابہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اوکے آنٹی۔‘‘ وہ سعادت مندی سے کرسی پر بیٹھ گئی سب لوگ مسکرا دیئے۔ دوپہر میں عارض گھر آیا تو مما اور زارا گھر پر نہیں تھے۔
’’مما… مما۔‘‘ وہ آوازیں دینے لگا۔
’’آنٹی بھابی اور مانی کو لے کر ہاسپٹل گئی ہیں۔ آج مانی کا چیک اپ کروانا تھا۔‘‘ کچن میں صغیرہ اماں کے ساتھ کام کرتی وہ عارض کی آواز پر باہر آکر بولی۔
’’اوہ ہاں یاد آگیا صبح مما نے بتایا تھا۔‘‘ عارض نے پیشانی پر ہاتھ مارا۔
’’صغیرہ اماں، پلیز کھانا لگا دیں۔ بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ کہتا ہوا وہ فریش ہونے کے لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ فریش ہوکر آیا تو ردابہ ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی۔
’’تم رہنے دو‘ تم یہاں مہمان ہو اور مہمان کا کام خاطر کروانے کا ہوتا ہے خاطریں کرنے کا نہیں۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’اچھا… یہ بتائیں کہ کھانا کیسا پکا ہے؟‘‘ وہ سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔ پہلا نوالہ حلق سے اتارتے ہی سوال کیا۔
’’بہت اچھا پکا ہے بہت۔‘‘ وہ سر ہلا کر بولا۔
’’آپ کیا سمجھ رہے ہیں کہ یہ کھانا صغیرہ اماں نے پکایا ہے…؟‘‘ دوسرا سوال کیا۔
’’ہوں…!‘‘ ابرو چڑھا کر سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگا۔
’’جی جی آپ بالکل ٹھیک ہی سمجھ رہے ہیں کیونکہ کھانا صغیرہ اماں نے ہی پکایا ہے۔‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی صغیرہ اماں بھی مسکرا دیں۔
’’جی جناب… بچپن سے صغیرہ اماں کے ہاتھ کا پکا کھانا کھا رہا ہوں ایک ایک لقمے میں اماں کے ہاتھوں کا ذائقہ محسوس کرتا ہوں۔‘‘ عارض نے فخریہ انداز سے کہا۔
’’وائو گڈ…‘‘ وہ مسکرائی۔
’’ویسے مجھے بہت شوق ہے مگر آیا اماں کچھ کرنے ہی نہیں دیتی تھیں۔ اب بھابی بھی سب کچھ خود کرتی ہیں۔ ہمارے یہاں کے گھروں میں مائیں اور بھاوجیں لڑکیوں کو طعنے دینی ہیں کہ کچھ سیکھ لو‘ گھرداری کرلیا کرو۔ سسرال جاکر ہماری ناک مت کٹوا دینا۔ کچھ سیکھ کر جائو۔ سسرال میں میکے کا نام روشن کرنا مگر…!‘‘ وہ ایک لمحے کو رکی۔
’’مگر کیا؟‘‘ عارض نے پوچھا۔
’’مگر ہمارے گھر میں اس کے بالکل الٹ ہے۔ یہاں پر پہلے آیا اماں اور اب بھابی کو بار بار یہ احساس دلانا پڑتا ہے کہ خدارا اس معصوم لڑکی کو کچھ گھر داری سیکھا دو۔ کھانا پکانا سیکھا دو۔ آخر کو کل مجھے بھی اگلے گھر جانا ہے۔ کم از کم اپنے میکے کا نام تو روشن کروں مگر نہ بھئی نا… یہاں کا تو نظام ہی الٹا ہے۔‘‘ وہ لگاتار بول رہی تھی۔ عارض کھانے سے ہاتھ روک کر اس کو مسلسل بولتا ہوا دیکھ رہا تھا۔
’’اف… کتنا بولتی ہے یہ لڑکی۔‘‘ پنک اور وائٹ کلر کے سادہ سے کاٹن کے سوٹ میں شولڈر کٹ بالوں کو وائیٹ کیچر میں جکڑے وہ بولتی ہوئی بہت معصوم لگ رہی تھی۔ عارض کو محویت سے دیکھتا پاکر اسے اس بات کا احساس ہوا کہ وہ پچھلے پندرہ منٹ سے مسلسل بول رہی ہے۔
’’اوہ… کیا میں زیادہ بولتی ہوں؟‘‘ معصومانہ انداز میں کیے گئے سوال پر عارض نے سر پیٹ لیا۔
’’اچھا… میں آپ کے لیے اچھی سی چائے بنا کر لاتی ہوں۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولی تو عارض نے سر ہلایا۔ چائے بنا کر لائی تو زیبا بیگم اور زارا بھی آگئی تھیں۔
’’دیکھیں آنٹی… میں نے آپ کے بیٹے کا کتنا خیال رکھا ہے۔ کھانے کے بعد چائے بھی دے دی۔ آپ ایویں فکر کررہی تھیں کہ میرا بچہ تھکا ہارا آئے گا۔‘‘ ردابہ نے زیبا بیگم کو مخاطب کیا۔
’’اف… آپی یار میں تمہارے لیے نوبل پرائز کا بندوبست کرتا ہوں… تم کیسے برداشت کررہی ہو گزشتہ دو سال سے اس بنا اسٹاپ بولتی چڑیا کو۔ سچی چیں چیں چیں چیں‘ میرے تو کان میں سیٹیاں بجنے لگی ہیں۔‘‘ زارا کے قریب آکر عارض نے سرگوشی کی تو زارا نے آنکھیں نکال کر مکا دکھایا۔ عارض ہنستا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
ز…ز…ز…ز
’’آج سمیر کی والدہ آئی تھیں۔‘‘ صالحہ بیگم عصر کی نماز سے فارغ ہوئیں تو سامنے بیٹھے وقار صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے جائے نماز تہہ کرکے شیلف پر رکھی۔
’’اچھا سب خیریت ہے ناں، کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘ وقار صاحب نے چائے کا آخری گھونٹ لے کر کپ خالی ٹرے میں رکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’بس وہی، شادی جلدی کرنا چاہ رہی ہیں۔ ویسے وقار احمد… ہم نے رشتہ کرنے میں جلدی تو نہیں کردی؟ سمیر لا ابالی سا ہے۔ جب سے رشتہ ہوا ہے طوسیہ پر بھی پابندیاں لگانے لگا ہے۔‘‘ صالحہ بیگم کا لہجہ فکر مندانہ تھا۔
’’ارے نہیں صالحہ بیگم… تم خوامخواہ وہم مت پالا کرو۔ وہ آج کل جاب کی وجہ سے تھوڑا سا فکر مند ہے کیونکہ کمپنی کے حالات ٹھیک نہیں اور لڑکے تو ایسا کرتے ہی ہیں۔ اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے۔ اللہ سب بہتر کرنے والا ہے۔ بس پھر شادی کی تیاریاں شروع کردو اور آپا (سمیر کی والدہ) سے مشورہ کرکے کوئی تاریخ طے کرلو۔‘‘ وقار احمد نے ملائمت سے بیوی کو سمجھاتے ہوئے کہا تو صالحہ بیگم اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی تھیں۔
ز…ز…ز…ز
’’تمہارا ایکسڈنٹ کب ہوا؟ امی بتا رہی تھیں کہ تمہارا ایکسڈنٹ ہوا تھا لاسٹ ویک۔‘‘ رات کو طوسیہ بستر پر آکر لیٹی تب ہی سمیر کی کال آگئی۔
’’بس معمولی سی چوٹ آئی تھی۔ رکشہ سلپ ہوگیا تھا۔‘‘ طوسیہ نے بتایا۔
’’معمولی تھی یا بہت بڑی… تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھا۔ مجھے بتانے کی زحمت بھی نہیں کی تم نے اور یوں غیر لڑکے کے ساتھ ڈریسنگ بھی کروالی اور اس کی گاڑی میں گھر بھی آگئیں۔ اگر معمولی چوٹ تھی تو تم خود ڈاکٹر کے پاس جاسکتی تھیں۔‘‘ سمیر کا انداز طنزیہ تھا۔
’’سمیر… وہ اتفاق سے ایک صاحب کی گاڑی آگئی اور انسانی ہمدردی کے تحت انہوں نے ہیلپ کردی بس۔‘‘ طوسیہ اس کی بات پر پریشان ہوکر صفائیاں دینے لگی۔
’’انسانی ہمدردی ہنہ… اچھی طرح جانتا ہوں ایسے انسانی ہمدرد اور ہیلپ فل لوگوں کو۔ تم بچی تو نہیں کہ تمہیں حالات کے بارے میں بتانا اور سمجھانا پڑے کہ یوں غیر محرم کے ساتھ گھومنا پھرنا بری بات ہے اور کسی کے دل میں کیا ہے اس بات کا علم تم رکھتی ہو کیا؟‘‘ اس کا انداز برہم اور لہجہ تلخ تھا۔
’’اوکے… سوری آئندہ خیال رکھوں گی۔ دراصل اس وقت عائلہ بھی پریشان تھی۔‘‘
’’اوکے اوکے بس… صفائی مت دو۔‘‘ ادھر سے کھٹاک سے کال بند کردی گئی۔
’’کیا ہوا… کیا کہہ رہے تھے سمیر بھائی؟‘‘ عائلہ نے پوچھا جو سامنے بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی مگر نظر اور کان مسلسل طوسیہ پر تھے۔
’’وہ شاید اماں نے پھپو کو ایکسڈنٹ اور عارض صاحب کے ساتھ آنے والی بات بتادی ہے، اسی پر ناراض ہورہے تھے۔‘‘ طوسیہ نے نادم ہوتے ہوئے کہا۔
’’اف… ایک تو ہماری بھولی اماں کو بھی اتنی تفصیل میں جانے کی کیا ضرورت تھی۔ جانتی بھی ہیں پھپو کی فطرت کو آپ سے حال احوال نہ پوچھا اور جاکر بیٹے کے کان بھر دیے اور سمیر بھائی… سے کہتی ناں کہ میں نے کوئی تفریح نہیں کی کسی کے ساتھ نہ ہی بلا ضرورت ہم گاڑی میں بیٹھے۔ ایک شریف آدمی نے انسانی ہمدردی کے تحت ہماری مدد کی تھی۔‘‘ عائلہ کو بے تحاشہ غصہ آگیا۔
’’چھوڑو عائلہ… کچھ مردوں کی نیچر ہوتی ہے کہ صرف ان کو ہی اٹینشن دو۔ شادی کے بعد ٹھیک ہوجائیں گے۔ تم کیوں فکر کرتی ہو۔‘‘ طوسیہ عادتاً دھیمے لہجے میں بولی۔ اس کی یہ عادت تھی کہ وہ ہمیشہ مثبت سوچ رکھتی تھی۔
’’اللہ پاک تمہارے لیے آسانیاں پیدا کرے آپا۔‘‘ عائلہ نے تاسف سے بہن کی طرف دیکھا اور دل سے دعا دی۔
’’آمین۔‘‘ طوسیہ نے جواباً کہا اور منہ تک چادر اوڑھ لی تاکہ عائلہ مزید کوئی بات نہ کرسکے۔
وقار صاحب نے صالحہ بیگم کو کچھ پیسے دیے تھے تاکہ وہ جاکر طوسیہ کے لیے چھوٹا موٹا سونے کا سیٹ خریدلیں اور شادی کے وقت سہولت ہوجائے۔ وقت گزرتے پتا نہیں لگتا اور بیٹی کی تیاریاں تو ویسے بھی شادی کے دن تک ختم نہیں ہوتیں۔ عائلہ کالج سے لوٹی تو کھانے اور ظہر کی نماز سے فارغ ہوکر تینوں ماں بیٹیاں بازار جانے کی تیاری کرنے لگیں۔
’’آپی… میں نے کل ڈرامے میں ایک جھمکوں والا سیٹ دیکھا ہے چھوٹا سا ہے مگر بہت پیارا ہے۔ ویسا اگر مل جائے تو اچھا ہے ورنہ ہم ویسا سیٹ بنوالیں گے۔‘‘ عائلہ نے اسکارف پہنتے ہوئے کہا۔
’’دیکھتے ہیں۔‘‘ طوسیہ نے عبایا پہنتے ہوئے سر ہلا کر کہا۔
’’طوسیہ بیٹی… چھوٹا کلچ لے کر چلو تاکہ ہاتھ میں پکڑے رہو۔ شولڈر بیگ مت لینا۔ رقم زیادہ ہے، احتیاط ضروری ہے۔ آج کل کے حالات سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ صالحہ بیگم نے کمرے میں آکر کہا۔
’’جی اماں… میں نے کلچ بھی لیا ہے۔‘‘ طوسیہ نے کہا اور دروازے لاک کرکے تینوں باہر کی سمت نکلی آئی تھیں۔
ز…ز…ز…ز
عارض کو آفس میں بیٹھے بیٹھے اچانک یاد آیا کہ دو دن بعد مما کی برتھ ڈے ہے کیوں نہ اس بار میں ان کو سرپرائز دوں اور یہ ہی سوچ کر وہ گاڑی لے کر بازار کی طرف چل دیا۔ اب اسے یہ علم نہیں تھا کہ مما اور زارا گولڈ کی شاپنگ کس جیولری شاپ سے کرتی ہیں وہ ایسے ہی آگیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ مما کے لیے خوب صورت سی چین خریدلے۔ مختلف شاپس پر سے ہوتا ہوا وہ ایک شاپ کے سامنے رک گیا کیونکہ یہاں پر رش قدرے کم تھا، تین چار خواتین ہی تھیں۔
’’جی سر…‘‘ شاپ کیپر عارض سے مخاطب ہوا۔
’’یار اچھی سی چین‘ پنڈنٹ تو دکھائو۔‘‘ آواز پر عائلہ چونکی اور پیچھے مڑ کر دیکھا کائونٹر کی دوسری جانب عارض کھڑا تھا۔
’’آپی عارض بھائی…‘‘ عائلہ نے انہماک سے ڈیزائنز پسند کرتی طوسیہ کو ٹہوکا دیا۔ اسی لمحے عارض کی نگاہ سامنے کی جانب اٹھی تو آنکھوں میں شناسائی کی چمک جاگی۔
’’السلام علیکم عارض بھائی۔‘‘ عائلہ نے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘ عارض مسکرایا۔ طوسیہ نے بھی سلام کیا۔ صالحہ بیگم حیرت سے عارض کو دیکھ رہی تھیں۔
’’اماں… یہی عارض بھائی ہیں جو ہمیں ہاسپٹل لے کر گئے تھے۔‘‘
’’اور عارض بھائی… یہ اماں ہیں۔‘‘ عائلہ نے تعارف کرایا۔
’’السلام علیکم!‘‘ عارض نے قریب آکر صالحہ بیگم کو سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔ جیتے رہو بیٹا‘ اللہ پاک سلامت رکھے۔‘‘ انہوں نے دعا دے ڈالی۔
’’جی آنٹی‘ یہ سیٹ ڈن کردوں۔‘‘ دکان دار کو شاید ان کا آپس میں مصروف ہوجانا اور خریداری کی طرف سے لاپروائی اچھی نہیں لگی تب ہی صالحہ بیگم کو مخاطب کیا۔
’’جی جی بھائی… یہ والا ڈن کردیں۔‘‘ طوسیہ نے پہلے ماں اور پھر عائلہ کی طرف دیکھ کر ان کی رضا مندی محسوس کرتے ہوئے دکان دار سے کہا۔
’’چلیں بھئی اب میری بھی ہیلپ کردیں… میری مما کی برتھ ڈے ہے میں ان کو سرپرائز دینا چاہتا ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ ایسے کاموں اور خواتین کی شاپنگ سے قطعی نابلد ہوں تو چین کی چوائس میں میری مدد کردیں۔‘‘ عارض نے طوسیہ اور عائلہ کی جانب دیکھتے ہوئے ٹھہرے لہجے میں کہا۔
اور عین اس وقت جب کہ عارض سونے کی ایک بھاری اور خوب صورت چین اٹھا کر طوسیہ اور عائلہ کو دکھا رہا تھا۔ عائلہ کی پشت دروازے کی جانب تھی جب کہ طوسیہ کا چہرہ سامنے تھا اور ساتھ عارض کا سائیڈ پوز… طوسیہ مسکرا کر پسندیدگی کا اظہار کررہی تھی۔
’’ارے واہ عارض بھیا زبردست… اسے ڈن کرلیں۔‘‘ عائلہ نے بھی کہا لیکن… اس وقت شیشے کے پار سے دو مشکوک نگاہوں کا مرکز صرف اور صرف مسکراتی ہوئی طوسیہ اور عارض تھے۔ زہریلی نگاہوں میں غصہ اور شک نمایاں تھا۔
’’اوکے تھینک یو سو مچ بوتھ آف یو۔‘‘
’’آپ لوگوں نے میری مشکل حل کردی۔‘‘ عارض نے تشکر سے دونوں کی جانب دیکھا۔
’’چلیں… وہ والا حساب برابر ہوگیا جب آپ نے ہماری ہیلپ کی تھی۔‘‘ عائلہ نے فوراً حساب چکتا کیا۔
’’ہم لوگ بھی آپی کے لیے سیٹ لینے آئے ہیں آپی کی ڈیٹ فکس ہوگئی ہے۔‘‘ عائلہ نے اپنی بات کو جاری رکھا۔
’’گڈ مبارک ہو۔‘‘ وہ طوسیہ کو دیکھ کر مسکرایا۔
’’عارض بھائی… میں آپ کو بھی انوائیٹ کروں گی۔ آئیں گے ناں؟‘‘ عائلہ نے کہا۔
’’ضرور کیوں نہیں۔ یہ لو میرا کارڈ مجھے کال کردینا۔‘‘ عارض نے خوش دلی سے کہا۔
’’بیٹا… اپنی والدہ کو لے کر آنا۔‘‘ صالحہ بیگم کو یہ شریف اور سیدھا سادہ لڑکا اچھا لگا تھا۔
’’جی آنٹی ان شاء اللہ۔‘‘ سعادت مندی سے سر جھکایا۔
اپنی اپنی ادائیگی کرکے وہ لوگ دکان سے باہر نکلے۔ صالحہ بیگم کو اور شاپنگ بھی کرنی تھی ان لوگوں کا رخ کپڑوں کی دکانوں کی طرف تھا جب کہ عارض کار پارکنگ کی طرف بڑھ گیا۔ ان لوگوں کا یوں اچانک سے ملنا محض ایک اتفاق تھا لیکن کبھی کبھی معمولی اتفاقات بڑے بڑے طوفانوں کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔
ز…ز…ز…ز
عارض پڑھائی مکمل کرکے بزنس میں آگیا تھا۔ عارض اور ردابہ کا باقاعدہ رشتہ طے کردیا گیا تھا اور شادی کم از کم دو سال بعد طے پائی۔ عارض اور ردابہ دونوں ہی خوش تھے گو کہ نہ آپس میں محبت کی باتیں‘ نہ میل ملاقات نہ عہدو پیمان بس ایک دوسرے کو پسند کیا۔ ردابہ کو عارض کی متانت بردباری اچھی لگی جب کہ عارض کو ردابہ کی صاف گوئی اور معصومیت پسند آئی تھی۔ دونوں ہی بہت خوش اور مطمئن تھے اور سب سے زیادہ خوش تو زارا تھی ایک جانب بھائی تھا وہ بھی اکلوتا تو دوسری طرف نند تھی تو وہ بھی اکلوتی دونوں طرف سے تیاریاں زارا کو ہی کرنی تھیں اور وہ اس شادی پر سارے ارمان نکالنا چاہتی تھی بقول اس کے اس شادی کے بعد مانی کی شادی آنی ہے۔ اس روز وہ تقریباً فارغ ہی تھا جب اس کے موبائل کی بیل بجی۔
’’السلام علیکم عارض بھائی…‘‘ عائلہ کی آواز عارض نے پہچان لی تھی۔
’’وعلیکم السلام… کیسی ہو گڑیا اور سب خیریت؟‘‘ عارض نے جواب دے کر گرم جوشی سے سوال بھی کر ڈالا۔
’’الحمدللہ… جی سب خیریت سے ہیں آپ کو گڈ نیوز دینی تھی۔‘‘ عائلہ نے کہا۔
’’ارے واہ… سیم ہیئر میرے پاس بھی گڈ نیوز ہے۔‘‘ عارض کا لہجہ خوش گوار تھا۔
’’اچھا گڈ… میرے پاس یہ خو ش خبری ہے کہ طوسیہ آپی کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوگئی ہے اور ابا جی اور اماں نے آپ کو بھی انوائیٹ کیا ہے آپ کو ضرور آنا ہے۔‘‘
’’بہت بہت مبارک ہو مجھے ہال کا ایڈریس سینڈ کردو۔ ضرور آئوں گا اور ایک خوش خبری میری طرف سے یہ ہے کہ میری بھی منگنی ہوگئی ہے۔‘‘ عارض کا لہجہ کھنکتا ہوا تھا۔
’’ارے واہ… بہت بہت مبارک باد پھر تو مٹھائی بنتی ہے۔‘‘ عائلہ خوش ہوکر بولی۔
’’ہاں ضرور کھلائوں گا بلکہ گھر لے آئوں گا۔‘‘ وہ ہنسنے لگا۔
’’اچھا میں ایڈریس سینڈ کرتی ہوں۔‘‘ عائلہ نے اجازت چاہی۔
’’اوکے ٹیک کیئر۔‘‘ عارض نے جواباً کہا۔ عائلہ نے ہال اور گھر کا پتا سینڈ کردیا۔
’’مما… ایک بار میں نے ایک لڑکی کی ہیلپ کی تھی ناں؟ بارش میں اس کا ایکسڈنٹ ہوگیا تھا تو؟‘‘ رات کو عارض نے زیبا بیگم سے ذکر کیا۔
’’ہاں ہاں… یاد ہے۔‘‘ زیبا بیگم نے کہا۔
’’جی جی… مما وہ لوگ سیدھے سادے شریف اور سفید پوش سے لگتے ہیں۔ ایک بار ان کی والدہ سے بھی سرسری ملاقات ہوئی تھی۔ اب اس لڑکی کی شادی ہے۔ انہوں نے ہمیں بھی انوائیٹ کیا ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں چلا جائوں۔ تھوڑی سی ان کی مالی مدد بھی ہوجائے گی۔‘‘ عارض کی فطرتاً ہمدردی کی عادت تھی اور وہ ہر کام والدہ کو بتا کر کرتا تھا۔
’’ویسے تو مجھے ایسی دوستیاں یا تعلقات قطعی پسند نہیں ہیں۔ لیکن تم جانا چاہتے ہو تو تھوڑی سی دیر کے لیے چلے جانا۔‘‘ زیبا بیگم نے بے زاری سے جواب دیا۔ ان کے خیال میں کچھ لوگ ہمدردی حاصل کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔
’’اوکے۔‘‘ عارض سر ہلا کر رہ گیا۔
دوسرے دن عارض اپنی منگنی کی مٹھائی لے کر اس وقت جب کہ وقار صاحب بھی گھر پر موجود تھے۔ ان کے گھر آیا۔ دس پندرہ منٹ کی بات چیت سے ہی وقار صاحب کو اندازہ ہوگیا کہ عارض شریف اور خاندانی لڑکا ہے۔ عزت دینا اور کرنا جانتا ہے۔ مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ وقار صاحب اجازت لے کر نماز کے لیے مسجد چلے گئے۔ صالحہ بیگم بھی دس منٹ کے لیے اندر گئیں کہ اسی وقت سمیر آگیا۔ عائلہ اور طوسیہ عارض کے ساتھ بیٹھے تھے اور دو منٹ پہلے عائلہ پانی لینے باہر گئی تھی کہ سمیر آگیا۔ عارض کو بیٹھا دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ یک دم بدل گیا۔ چہرے پر تنائو اور غصہ نمایاں ہوگیا۔
’’السلام علیکم!‘‘ عائلہ نے کمرے میں داخل ہوکر سلام کیا تو عارض بھی کھڑا ہوگیا۔ ’’سمیر بھائی… یہ عارض بھائی ہیں۔ ہمارے بھائی اور عارض بھائی یہ ہمارے ہونے والے جیجا جی ہیں۔ سمیر بھائی۔‘‘ عائلہ نے سمیر کو دیکھ کر خوش دلی تعارف کروایا۔
’’ارے آپ نے تو سرپرائز دیا ہے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے بات ہوئی تو آپ تو جامع کلاتھ میں تھے پھپو کے ساتھ۔‘‘ طوسیہ اسے اچانک دیکھ کر حیرانی سے بولی۔
’’اچھا جی… تو آپ عارض صاحب ہیں؟‘‘
’’ہاں بھئی مجھے سرپرائز دینا اچھا لگتا ہے۔ سامنے والے کو شاکڈ دیکھ کر بڑا اچھا لگتا ہے۔‘‘ سمیر نے پہلے عارض اور پھر طوسیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ اس کے لہجے میں تلخی گھلی ہوئی تھی۔
’’ویسے آپ کرتے کیا ہیں مسٹر عارض خواتین کی مدد کے علاوہ؟‘‘ کرسی پر بیٹھتا ہوا وہ طنزیہ لہجے میں عارض سے مخاطب ہوا۔
عارض کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوا۔ سمیر کا انداز چبھتا ہوا اور لہجہ ناگوار تھا۔ عائلہ اور طوسیہ جزبز ہورہی تھیں۔ طوسیہ فوراً اٹھ گئی۔
’’میں آپ کے لیے چائے لے کر آتی ہوں اور اماں کو بھی بتاتی ہوں کہ آپ آئے ہیں۔‘‘
’’نہیں نہیں… اس کی ضرورت نہیں چائے پی کر آرہا ہوں اور پیٹ ویسے بھی بھر گیا ہے۔‘‘ لہجہ ویسا ہی زہریلا تھا اور اچٹتی سی نظر عارض پر تھی۔
’’میں بعد میں مل لوں گا ماموں سے…‘‘ وہ اٹھتا ہوا بولا۔ سمیر کا انداز‘ لہجہ اور تلخ جملے عارض کے دل پر جاکر لگے تھے۔
’’اچھا میں بھی چلتا ہوں‘ تمہاری ہونے والی بھابی کو شاپنگ پر لے جانا ہے۔‘‘ عارض نے جان بوجھ کر یہ جملہ کہا تاکہ سمیر کے علم میں آجائے کہ وہ انگیج ہے۔
’’اوکے عارض بھائی… اللہ حافظ۔‘‘
’’اللہ حافظ۔‘‘ دونوں نے ایک ساتھ کہا دونوں سمیر کی بدتہذیبی پر شرمندہ ہورہی تھیں۔
ز…ز…ز…ز
بارات والے دن طوسیہ اپنے گندمی رنگ پر عروسی جوڑے‘ بھاری میک اپ اور زیورات میں اچھی لگ رہی تھی۔ شادی کے سارے انتظامات ہوچکے تھے۔ وقار صاحب اور صالحہ بیگم بیٹی کے ماں باپ ہونے کی وجہ سے ٹینشن کا ہی شکار تھے کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ ویسے بھی سمیر کی والدہ تیز طرار خاتون تھیں۔ ذرا سی کوتاہی برداشت نہیں کرسکتی تھیں اوپر سے سمیر بھی تھوڑا سا نک چڑھا اور چڑچڑا سا تھا۔
کچھ مہمان آگئے تھے۔ بارات اتفاق سے وقت سے پہلے ہی پہنچ گئی۔ عارض کا دل گو کہ جانے کا بالکل نہیں چاہ رہا تھا لیکن پھر وقار صاحب اور صالحہ بیگم کا اصرار تھا اور طوسیہ اور عائلہ نے بھی کہا تھا اس نے وعدہ کرلیا تھا سو اسے پورا کرنا تھا۔ قاضی صاحب آگئے اور نکاح کی تیاریاں ہونے لگیں تب اچانک سمیر اپنی جگہ سے اٹھا اور وقار صاحب کے نزدیک آگیا۔
’’بیٹھو بیٹا قاضی صاحب آرہے ہیں۔‘‘ وقار صاحب نے نرمی سے کہا۔
’’ماموں… میں ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے ایک طرف بیٹھتے ہوئے عارض پر چبھتی ہوئی نظر ڈالی جو ادھر ہی دیکھ رہا تھا۔
’’جی بیٹا بولو۔‘‘ صالحہ بیگم بھی قریب آگئیں۔
’’مجھے طوسیہ سے نہیں بلکہ عائلہ سے نکاح کرنا ہے۔‘‘ اس کے عجیب و غریب اور حیران کن مطالبے پر صالحہ بیگم اور وقار صاحب ایسے چونکے جیسے کرنٹ لگ گیا ہو۔ ان کو لگا سمیر پاگل ہوگیا ہے۔
’’کیا تم پاگل ہوگئے ہو… یہ کیا بکواس ہے… تم ہوش میں ہو کہ نہیں؟‘‘ اس کی بات پر وقار صاحب غصے میں آپے سے باہر ہوگئے۔ صالحہ بیگم بھی کانپ گئیں۔ دور بیٹھا عارض خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
’’پاگل میں نہیں ہوا ماموں جان بلکہ اندھے تو آپ لوگ ہوگئے ہیں کہ آپ لوگوں کو اپنی بیٹی کے کرتوت دکھائی نہیں دیتے۔ وہ غیر محرم کے ساتھ گھومتی پھرتی ہے‘ شاپنگ کرتی ہے ساتھ بیٹھ کر ٹھٹھے لگاتی ہے۔ آپ لوگوں کو نظر نہیں آتا۔‘‘ وہ بھی جواباً غصے سے غرایا۔
’’سمیر… تم حد سے بڑھ رہے ہو‘ اتنے گھٹیا اور گھنائونے الزامات لگاتے تمہیں شرم نہیں آتی۔ میری شریف اور پاک باز بیٹی کو یوں بدنام کررہے ہو۔ تم میں غیرت اور شرافت ہے کہ نہیں۔‘‘
’’آپا… آپ دیکھ رہی ہیں یہ کیا بکواس کررہا ہے؟ کتنی نیچ اور گھٹیا باتیں کررہا ہے۔‘‘ وقار صاحب غصے سے کانپتے ہوئے بہن کی طرف پلٹے۔
’’میں کیا کہوں وقار میاں… میں خود شرمندہ ہوں کہ میں نے ایسی لڑکی سے رشتہ جوڑ لیا تھا۔ شاید میں اس بات پر یقین نہ کرتی مگر جب اس نے موبائل پر تصویر دکھائی تو میں تو شرم سے پانی پانی ہوگئی۔‘‘
’’یہ دیکھیں۔‘‘ سمیر نے موبائل کی اسکرین وقار صاحب کے سامنے کی۔
’’یہ… یہ تو جیولر کی شاپ ہے۔ ابا جی یہاں ہم تینوں گئے تھے اور عارض بھائی بھی اتفاق سے آگئے تھے اور ہم نے ان کی مما کے لیے چین دلوائی تھی۔‘‘ عائلہ جو سب کچھ سن رہی تھی آگے بڑھ کر صفائی دینے لگی مگر تصویر اس کمال ہوشیاری سے اتاری گئی تھی کہ اسکرین پر مسکراتی ہوئی طوسیہ اور عارض ہی نمایاں تھے۔
’’اف… یہ محض ایک غلط فہمی ہے آپا۔‘‘ صالحہ بیگم روتے ہوئے نند کی جانب بڑھیں۔
’’غلط فہمیاں بار بار نہیں ہوتیں ممانی… بہرحال میری شرط منظور ہے تو ٹھیک… اب طوسیہ کی نہیں عائلہ کی بارات جائے گی۔‘‘ سمیر کا انداز حتمی تھا۔
’’نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘‘ وقار صاحب گرجے۔
عائلہ کے زاوقطار آنسو بہنے لگے۔ صالحہ بیگم دل پکڑے ایک طرف بیٹھ گئیں۔ عارض بھی معاملے کی نزاکت سمجھ کر قریب آگیا اور موبائل اسکرین پر نظر پڑی تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے لگیں۔
’’دیکھو یار… اس طرح سے چھوٹی سی بات کا بتنگڑ مت بناؤ۔ شریف لوگوں کو خوامخواہ بدنام مت کرو۔ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں۔ میری منگنی ہوچکی ہے۔ میں اپنی منگیتر کو بہت چاہتا ہوں۔ ہماری شادی ہونے والی ہے تم… آج اور اس وقت یہ تماشا کرکے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو۔‘‘ عارض کو پہلے تو غصے آیا مگر معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس نے اسے نرمی سے سمجھایا۔
’’میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ میں ایک شریف لڑکا ہوں اور مجھے اپنی جیسی شریف لڑکی چاہیے۔ میں بے غیرت نہیں ہوں کہ آنکھوں دیکھی مکھی نگل لوں اور… آج… آج یہ تماشا کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ دنیا کو بتا سکوں کہ ایک نامحرم لڑکے کی اس قدر انوالومنٹ کیوں ہے؟ یہ تو اور شرم کی بات ہے کہ تم منگیتر رکھتے ہوئے ادھر ادھر منہ مارتے پھرتے ہو۔‘‘ وہ طنز سے مسکرا کر بولا۔
’’بکواس بند کر اپنی جاہل‘ بے غیرت انسان… ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو منہ توڑ دوں گا تیرا۔ حد سے بڑھ رہا ہے تو۔‘‘ عارض آپے سے باہر ہوگیا۔
’’ہاہاہا۔‘‘ وہ خباثت سے ہنسا۔
’’میں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اگر تو اتنا ہی باغیرت اور ہمدرد ہے تو تُو ان لوگوں کی عزت کا بھرم رکھ لے۔ اپنا لے اس لڑکی کو جو تیرے نام کے ساتھ بدنام ہورہی ہے۔‘‘ سمیر نے خباثت کی انتہا کردی تھی۔
’’اماں… ہم واپس جائیں گے۔ ہمیں یہاں شادی نہیں کرنی۔‘‘ سمیر نے پلٹ کر اپنی ماں کو مخاطب کیا۔
’’سمیر بیٹا… اللہ کے لیے کچھ خیال کرو اس طرح میری عزت کا جنازہ نکل جائے گا۔ میں نے بہت مشکل سے عزت بنا کر رکھی ہے۔ میری بچیوں کی شرافت کی گواہی ساری دنیا دیتی ہے اور تم یوں ایک چھوٹی سی غلط فہمی کو بنیاد بنا کر دو سال پرانا اپنا اور ہم بہن بھائی کا برسوں پرانا رشتہ ختم نہیں کرسکتے۔ تمہارے اس طرح چلے جانے سے ہم تو جیتے جی مر جائیں گے۔ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔‘‘ وقار صاحب باقاعدہ روتے ہوئے غصہ بالائے طاق رکھ کر عاجزی پر اتر آئے۔
عائلہ روتی ہوئی اندر کی جانب بھاگی… کسی نے طوسیہ کو اطلاع دے دی تھی اور وہ اندر بے ہوش ہوچکی تھی۔
وقار صاحب کا دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں۔ عمر بھر کی شرافت اور نیکی کا یہ صلہ ملا تھا۔ عارض پاگلوں کی طرح آنکھیں پھاڑے اس منظر کو دیکھ رہا تھا۔ یوں کسی کی مدد کردینا اور فیملی کے ساتھ بات چیت کرلینا کیا یہ اتنا بڑا گناہ تھا کہ اس مختصر سے وقت کو حوالہ بنا کر اتنا بڑا قدم اٹھالیا جائے۔ بنا سوچے سمجھے ایسا گھٹیا اور نیچ فیصلہ کردیا جائے۔
’’وقار انکل… صالحہ آنٹی‘ میں آپ لوگوں سے معافی مانگتا ہوں کہ میری وجہ سے ایسا کچھ ہوگیا۔ اللہ کی قسم میں نیک اور شریف انسان ہوں مجھے اندازہ نہ تھا کہ میری ہمدردی آگے چل کر اتنے بڑے اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنے گی۔ میں سخت شرمندہ ہوں اور… اور… اپنے آپ کو آپ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ مجھے طوسیہ سے شادی کرنی ہے… اگر آپ لوگ مناسب سمجھیں اور مجھے اس قابل سمجھیں تو ابھی میں طوسیہ سے نکاح کرنے کو تیار ہوں۔‘‘ عارض نے وقار صاحب کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ اس کے چہرے پر ندامت نمایاں تھی۔
’’کیا…؟‘‘ وقار صاحب کے ساتھ صالحہ بیگم بھی چونکیں۔ دونوں کے چہروں کے رنگ بدل گئے تھے۔
’’مگر بیٹا تمہاری منگیتر ہے اور یوں شادی کرلینا تمہارے لیے مناسب نہیں… تمہارے والدین‘ بہن وغیرہ…؟‘‘
’’انکل میں سب سنبھال لوں گا پلیز لیکن… میری دلی خواہش یہی ہے کہ طوسیہ کو آج اور ابھی نکاح کرکے اپنے ساتھ لے جاؤں… پلیز انکار نہ کیجیے گا۔‘‘ اس کے لہجے میں خلوص اور اپنائیت تھی۔
’’مگر بیٹا…‘‘ صالحہ بیگم نے آنسو پونچھتے ہوئے کچھ کہنا چاہا اور وقار صاحب کی طرف دیکھا۔ دونوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس صورت حال کو کس طرح سنبھالیں۔
’’آپ لوگ مجھ پر بھروسہ رکھیں… آپ لوگوں کو میں یقین دلاتا ہوں کہ طوسیہ کو میں مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا میرے نام کے ساتھ اس کا نام جڑا رہے گا اور میرا ساتھ‘ میری توجہ‘ محبت اور خلوص ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا۔‘‘ عارض کے لہجے میں پختہ عزم تھا۔ دونوں میاں بیوی تشکر بھری نظروں سے اس عظیم شخص کو دیکھ رہے تھے جس نے ان کے زخموں پر مرہم رکھا تھا۔ جو زخم ان کے اپنے لگا کر چلے گئے تھے وہ اپنی بیٹی کے مستقبل سے پریشان‘ فکر اور اندیشوں میں گھرے ہوئے تھے۔
طوسیہ کی حالت خراب تھی۔ اس پر غشی کی سی کیفیت طاری تھی۔ بے عزتی اور بدنامی کے احساس سے وہ زمین میں گڑی جارہی تھی۔ روتے ہوئے عائلہ سے لپٹی ہوئی تھی۔
’’عائلہ اماں اور اباجی کی عزت یوں نیلام کردی میں نے… اﷲ پاک مجھے موت دے دے‘ کیوں زندہ رکھا اتنی ذلت کے بعد‘ میں کس طرح لوگوں کا سامنا کرپاؤں گی۔ کیسے اماں اور اباجی سے نظریں ملاپاؤں گی؟ سمیر اس حد تک گر سکتا ہے میں نے سوچا بھی نہیں تھا… اس نے نہ جانے کس بات کا بدلہ لیا ہے…؟ عائلہ پلیز مجھے تھوڑا سا زہر لادو… میں بدنامی اور ذلت کا طوق گلے میں ڈالے زندہ نہیں رہ سکتی۔ مجھے زندہ نہیں رہنا‘ مجھے مر جانے دو… پلیز…‘‘ وہ ہذیانی انداز میں بلکتے ہوئے بین کررہی تھی۔ اتنا بڑا طوفان زندگی میں آگیا تھا۔ بھلا کیسے اور کس طرح برداشت کر پاتی۔
زندگی اچانک سے یوں پلٹا کھائے گی یہ تو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔ کچھ گھنٹوں میں اس کے نصیب کا فیصلہ یک دم سے بدل جائے گا۔ اس کے نام کے ساتھ کسی اور کا نام جڑ جائے گا۔ یہ سب کچھ قبول کرلینا اتنا آسان نہ تھا۔ جس بات کو کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا وہ بات ہوچکی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ عارض کے ساتھ اس کی گاڑی میں اس کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ اس کے جملہ حقوق عارض کے نام محفوظ ہوچکے تھے۔ یہ کیسی رخصتی تھی…؟ وقار صاحب اور صالحہ بیگم کا دل انجانے خدشات سے لبریز تھا۔ ایک طرف وہ دونوں خود بھی شرمندگی محسوس کررہے تھے کہ اس طرح سے کسی ماں کے بیٹے‘ کسی بہن کے بھائی اور کسی کے ہونے والے شوہر کو اپنی بیٹی تھما کر شاید زیادتی کے مرتکب ہورہے ہیں؟ شاید انہوں نے عارض کی بات مان کر غلط فیصلہ کیا اور… اگر اس کی بات نہ مانتے تو ان بے شمار لوگوں کو کیا جواب دیتے جو طوسیہ کی بارات واپس جانے پر سوالات کر کر کے ان تینوں کی زندگی اجیرن کردیتے۔
طوسیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر بے تحاشا روتے ہوئے ڈھیروں دعائیں دے کر ماں باپ نے طوسیہ کو رخصت کیا… عائلہ‘ طوسیہ سے لپٹ کر بری طرح رو دی تھی۔
عارض کی کیفیت بھی عجیب سی تھی۔ وہ عجیب شش و پنج کا شکار تھا۔ گو کہ جذبات میں آکر اس نے اتنا بڑا فیصلہ کر تو لیا تھا مگر اب اسے حالات کی نزاکت کا احساس ہورہا تھا۔ زیبا بیگم کی فطرت سے بھی اچھی طرح واقف تھا جو عارض کے دیر سے گھر آنے کو برداشت نہیں کرتی تھیں۔ ان کی پسند کے مطابق عارض اور ردابہ کا رشتہ طے ہوا تھا اور اب… عارض نے نہ صرف ماں کے خلاف جا کر یہ قدم اٹھایا تھا بلکہ عارض کے اس فیصلے سے زارا کی زندگی پر بھی برا اثر پڑسکتا تھا اور… معصوم سی لیکن لاڈوں پلی ردابہ… جو عارض کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ عارض کے ایک فیصلے نے پتا نہیں کتنے لوگوں کے لیے مسائل کھڑے کردیے تھے۔ جب کہ دوسری جانب وہ معصوم اور شریف لڑکی جو عارض کے نام سے خوامخواہ بدنام کی جارہی تھی۔ جس کا تعلق غریب لیکن شریف خاندان سے تھا‘ جس کے ماں باپ کی عزت داؤ پر لگ چکی تھی اور وہ معصوم اور بے قصور لڑکی شاید بدنامی اور اتنی بے عزتی کے بعد خودکشی کرلیتی۔ اس کی چھوٹی معصوم بہن جیتے جی مر جاتی۔ ساری عمر ماں باپ کی دہلیز پر بیٹھی رہ جاتی کیونکہ اس کے نام کے ساتھ بدنامی‘ ذلت اور رسوائی جڑ چکی تھی۔
’’اف…‘‘ عارض نے پہلو میں بیٹھی بے تحاشا روتی اور گھبرائی ہوئی لڑکی کو دیکھا جو اچانک سے اس کی زندگی میں آگئی تھی۔ قدرت نے کیا روپ دکھایا تھا کہ دو چار بار جس شخص سے سرسری سی ملاقات ہوئی تھی۔ طوسیہ نے کبھی اس کو اور اس نے کبھی طوسیہ کو شاید غور سے دیکھا بھی نہیں تھا… اور آج بالکل اچانک اس انجانے شخص سے عمر بھر کا رشتہ جڑ چکا تھا۔ اس وقت طوسیہ حالات کا شکار ہو کر جن سوچوں میں گھری ہوئی تھی‘ عارض اس سے بخوبی واقف تھا۔
’’طوسیہ پلیز خود کو سنبھالو… مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ اس وقت تم خود کو نئے ماحول میں ڈھالنے اور اچانک سے بدل جانے والی سچویشن سے پریشان ہو اور تمہیں اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہوگا کہ آگے چل کر تمہیں کس قسم کے پرابلمز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزید کیا کچھ سننا پڑے گا؟ بہت کٹھن اور اذیت ناک وقت ہے یہ… تمہارے لیے بھی اور میرے لیے بھی… کبھی یہ مت سمجھنا کہ میں نے تم پر ترس کھا کر یہ قدم اٹھایا ہے کیونکہ یہ نہ صرف تمہارے بلکہ میرے کردار پر بھی کیچڑ اچھالی گئی تھی اور میں نے اس وقت جو بہتر سمجھا وہی کیا… اب تمہیں میرا ہر حال میں ساتھ دینا ہے۔ میری اور اپنی قربانی کو رائیگاں مت جانے دینا… ہمیں مل کر ہر حالات کو فیس کرنا ہوگا۔ میرا ساتھ‘ میری مکمل سپورٹ‘ میرا پیار اور میرا خلوص ہمیشہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا چاہے کچھ بھی‘ کیسے بھی حالات ہوں… تم… تم… ہمت مت ہارنا… طوسیہ پلیز مجھ سے بدگمان نہ ہونا اور نہ مجھے غلط سمجھنا۔‘‘
’’میرے لیے یہی بہت ہے کہ آپ کے نام کے ساتھ میرا نام جڑ گیا ہے اور مجھے یہ نام تمام زندگی عزیز رہے گا… میں سمجھتی ہوں کہ مجھے کیسے کیسے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے میں خود کو اچھی طرح سے تیار کرچکی ہوں۔ مجھ سے آپ کو کبھی بھی شکایت نہ ہوگی اور آپ…‘‘ وہ ایک لمحے کو رکی۔ اس کا لہجہ ڈول گیا تھا۔ عارض نے سوالیہ نظریں اس پر ڈالیں۔
’’آپ کو میں… آپ کی منگیتر سے شادی کرنے سے منع نہیں کروں گی… بس مجھے اپنی زندگی سے مت نکالیے گا۔‘‘ ایک بار پھر اس کے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پر پھسل پڑے۔ عارض خاموش رہا۔
ز…ز…ز…ز
’’السلام علیکم!‘‘ حسب معمول زیبا بیگم عارض کے انتظار میں لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی تھیں۔ آواز پر سر اٹھایا۔ عارض کے ساتھ عروسی لباس میں ڈری سہمی اور لرزتی طوسیہ پر نظر پڑی تو بجائے سلام کے جواب دینے کے آنکھیں پھاڑ کر طوسیہ کی طرف دیکھا۔
’’یہ… یہ کون لڑکی ہے اور… اتنی رات کو تمہارے ساتھ اس حالت میں…؟‘‘ زیبا بیگم نے حیرت اور غصے کی کیفیت میں سوال کیا۔ ان کا ماتھا بری طرح ٹھنکا تھا۔ چہرے پر ناگواری نمایاں تھی۔
’’مما… میں آپ کو سب کچھ بتاتا ہوں…‘‘ عارض کو ڈر تھا کہ کہیں غصے اور شاکڈ کی وجہ سے مما کا بی پی شوٹ نہ کر جائے۔ ساتھ ہی ڈری سہمی کپکپاتی ہوئی طوسیہ کھڑی تھی۔
’’ارے ارے… اس لڑکی کو لیے اندر کیوں گھسے چلے آرہے ہو۔ مجھے پہلے جواب دو کہ یہ کون ہے…؟‘‘ زیبا بیگم نے عارض کو آگے بڑھتا دیکھ کر قدرے بلند آواز میں ٹوکا۔
’’کہاں سے بھاگ کر آئی ہے…؟ کپڑوں سے لگتا ہے کہ شادی سے بھاگی ہے اپنے ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکال کر کس کے ساتھ منہ کالا کرنے نکلی ہے یہ اور… تمہارے ساتھ کیا کررہی ہے یہ فاحشہ…؟‘‘
’’اف خدایا!‘‘ طوسیہ کو لگا جیسے وہ زمین میں دھنسنے لگی ہو… اتنے غلیظ الفاظ… اتنا برا رویہ… اتنی چھوٹی سوچ۔ اسے لگا وہ ایک قدم بھی بڑھائے گی تو پتھر کی ہوجائے گی۔
’’مما… مما پلیز…‘‘ عارض نے طوسیہ کی بگڑتی حالت کو دیکھا تو اس کا ہاتھ چھوڑ کر دو قدم آگے بڑھا۔
’’مما… یہ ایسی ویسی لڑکی نہیں ہے اور نہ ہی یہ بھاگ کر آئی ہے… یہ شریف فیملی کی نیک اور شریف لڑکی ہے۔ حالات نے اس کو اس مقام تک پہنچا دیا کہ…‘‘
’’کہ… کہ… کیا…؟ یہی کہ وہ یوں عروسی لباس میں غیر مرد کے ساتھ آدھی رات کو گھر سے بھاگ نکلے…؟‘‘ زیبا بیگم لفظوں کے نشتر سے طوسیہ کے وجود کو چھلنی کر رہی تھیں۔
’’مما… اللہ کے لیے یوں کسی شریف لڑکی کی کردار کشی نہ کریں پلیز… یہ… اب اس گھر کی عزت ہے… آپ کی بہو ہے۔‘‘ جملہ کیا تھا گویا بم دھماکا تھا جو زیبا بیگم کے عین سر پر ہوا تھا۔
’’کیا بکواس کررہے ہو…؟ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ کسی بھی راہ چلتی لڑکی کو… میری …بہو بنادو…‘‘ صغیرہ اماں بھی آگئی تھیں اور سامنے کھڑی اس عجیب و غریب صورت حال سے پریشان ہورہی تھیں۔
’’اس گھر کی بہو ردابہ ہی بنے گی بس…‘‘ زیبا بیگم شدت جذبات سے کھڑی ہوگئیں۔ چہرہ غصے کی وجہ سے سرخ ہوگیا تھا۔
’’طوسیہ… تم سامنے والے روم میں جاؤ۔‘‘ عارض نے طوسیہ کی جانب دیکھ کر کہا تاکہ آرام سے زیبا بیگم کو ساری بات بتاسکے۔
’’نہیں… اگر اس لڑکی نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو میں… میں اس کو شوٹ کردوں گی۔‘‘ زیبا بیگم کانپنے لگی تھیں۔ ان کی حالت دیکھ کر صغیرہ اماں جلدی سے پانی لے کر آگئیں ان کو پکڑ کر کرسی پر بٹھایا… طوسیہ وہیں جم گئی۔
’’صغیرہ اس سے کہو ابھی اور اسی وقت اس لڑکی کو وہیں پر چھوڑ آئے جہاں سے لایا ہے۔‘‘ زیبا بیگم نے صغیرہ کو مخاطب کیا۔
’’اس نافرمان کو اتنا بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ذرا بھی خیال نہ آیا کہ اس کا بھی کوئی ہے… ماں‘ بہن اور وہ معصوم لڑکی جو اس کے ساتھ کے سپنے سجائے بیٹھی ہے… یوں اچانک چھپ چھپاتے اور خاموشی سے نکاح کرلینے کا کیا مطلب ہے… ایسا کیا ہوگیا تھا کہ…؟‘‘
’’مما… اللہ کے لیے میری بات تو سن لیں پلیز…‘‘ عارض ان کی بات کاٹ کر قریب آکر عاجزی سے بولا۔
’’مما… نہ یہ لڑکی آوارہ‘ بدچلن ہے اور نہ ہی ہمارے درمیان کبھی بھی ایسی کوئی بات ہوئی تھی… ایک شریف خاندان کی شریف لڑکی ہے… میں نے کچھ غلط نہیں کیا بلکہ ایک خاندان کی عزت بچائی ہے مما… دو مرتے ہوئے بوڑھوں کی عزت کے نکلتے جنازے کو کاندھا دیا ہے… یہ سب کچھ اچانک ہی ہوا مما… میں تو آج بھی اس لڑکی کی شادی اٹینڈ کرنے آپ کی اجازت سے گیا تھا مما… مگر… وہاں پر حالات ایسے ہوگئے کہ میں نے اﷲ اور رسولﷺ کی خوشنودی کے لیے یہ قدم اٹھایا… اللہ گواہ ہے مما کچھ گھنٹوں پہلے تک ہم نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا کہ حالات ایسے ہوجائیں گے۔ ایک دو بار ہماری سرسری سی اور طوسیہ کی فیملی کے ہمراہ ہونے والی ملاقات کو جواز بنا کر میرے نام کے حوالے سے اس شریف اور معصوم لڑکی کو بدنام کیا جارہا تھا مما… میں نے ایک معصوم کو مرنے سے بچایا ہے۔‘‘
’’بس… میں… آگے ایک لفظ بھی سننا نہیں چاہتی۔ تمہیں ذرا خیال نہیں آیا کہ تمہارے رشتے سے تمہاری بہن کا گھر سلامت رہے گا؟ نہ میری عزت کا خیال آیا نہ بہن کی ہنستی بستی زندگی کا اور مجھے تو حیرت ہورہی ہے ان والدین پر کہ کیسے کسی اجنبی کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تھما دیا… اگر ان کے دل میں چور نہ ہوتا تو وہ مجھ سے ایک بار بات تو کرتے… مگر… مجھے لگتا ہے یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش تھی… اتنا پیسے والا‘ امیر اور اکلوتا لڑکا پھانسنے کی چال۔‘‘
’’مما… مما… آپ غلط انداز میں سوچ رہی ہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں۔‘‘ طوسیہ کی بگڑی حالت دیکھ کر عارض ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
صغیرہ اماں کو بھی عارض اور طوسیہ پر ترس آرہا تھا۔ ان کے چہروں پر لکھی سچائی اس بات کی غماز تھی کہ وہ دونوں ہی حالات کا شکار ہوئے اور یہ قدم اٹھایا۔
طوسیہ کا دل کررہا تھا کہ وہ زمین میں دھنس جائے… آج اس کی وجہ سے نیک اور شریف والدین کو بھی کیسے کیسے الفاظ سے نوازا جارہا تھا۔
’’مجھے کچھ نہیں سننا… اگر مجھ سے کوئی رشتہ رکھنا چاہتے ہو تو… اس لڑکی کو ابھی اور اسی وقت وہیں چھوڑ کر آؤ جہاں سے لائے ہو اور اگر ایسا نہیں کرسکتے تو تم… تم بھی اس گھر سے جاسکتے ہو… میں اس لڑکی کا وجود اس گھر میں ایک منٹ مزید برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘ فیصلہ سنا کر زیبا بیگم اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔
عارض نے پلٹ کر زخمی نظروں سے طوسیہ کو دیکھا۔ وہ ساکت کھڑی تھی۔ جیسے پتھر کی ہوگئی ہو۔ عارض مردہ چال چلتا ہوا اس کے قریب آیا‘ اس کا ہاتھ تھام کر باہر کی سمت چل دیا۔ طوسیہ روبوٹ کی مانند اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی گاڑی میں آبیٹھی۔
’’طوسیہ… آئی ایم ویری ویری سوری… مجھے مما سے یہ امید نہیں تھی۔ میں نے سوچا نہیں تھا کہ وہ اس طرح سے ری ایکٹ کریں گی… فی الحال میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دیتا ہوں لیکن تم وہاں پر میری امانت بن کر رہو گی… مجھے تھوڑا وقت دو میں تمہیں خود آکر لے جاؤں گا۔‘‘
ز…ز…ز…ز
’’آپی… آپی… آپ لوگ اس وقت…؟‘‘ عائلہ نے دروازہ کھولا تو غیر متوقع دونوں کو سامنے دیکھ کر حیرت اور پریشانی سے سوال کیا… تب ہی وقار صاحب اور صالحہ بیگم بھی آواز سن کر صحن میں آگئے۔ طوسیہ کا آنسوؤں سے تر چہرہ اور عارض کا جھکا ہوا سر دیکھ کر وقار صاحب کو شدید دھچکا لگا۔ وہ سمجھے کہ عارض اسے واپس چھوڑنے آیا ہے۔
’’طوسیہ… تم یہاں؟‘‘ بہ مشکل ان کے لبوں سے نکلا اور وہ دل پکڑے زمین پر لڑھک گئے۔
’’اباجی… اباجی…‘‘ چیخ مار کر وہ ان کی طرف بھاگی… صالحہ بیگم ‘ عائلہ اور عارض بھی دوڑے۔ پہلا ہارٹ اٹیک ہی وقار صاحب کے لیے جان لیوا ثابت ہوا تھا۔ حادثے پر حادثہ… وہ کب تک برداشت کرتے… مزید کسی حادثے کا شکار ہونے سے پہلے انہوں نے دنیا سے ناتا ہی توڑ لیا تھا۔ صالحہ بیگم چیخ رہی تھیں۔ عائلہ اور طوسیہ شدید غم سے نڈھال تھے۔ آج کا دن کتنا منحوس تھا کہ پے درپے صدمات مل رہے تھے اور اب جس صدمے سے دوچار ہوئے تھے اس نے سب کو پاگل کرکے رکھ دیا تھا۔ عارض نے کال کرکے صغیرہ اماں کو یہاں کی سچویشن بتادی تھی کہ وہ صبح واپس آئے گا۔
صبح سویرے وہ تھکے تھکے قدموں سے گھر میں داخل ہوا۔ شکن آلود کپڑے‘ رات بھر جاگنے‘ ٹینشن اور وہاں کے حالات کی وجہ سے وہ بے حد مضمول اور تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔ چہرے پر دکھ کے آثار نمایاں تھے۔
’’السلام علیکم۔‘‘ وہ صوفے پر ڈھے گیا۔
صغیرہ اماں نے کچن سے سر نکال کر عارض کے تھکے ہوئے نڈھال وجود کو دیکھا۔ وہ معاملے کی نزاکت اچھی طرح سمجھ گئی تھیں۔ پانی کا گلاس لیے حاضر ہوئیں۔
’’بیٹا پانی پی کر فریش ہوجاؤ تو میں آپ کے لیے کھانا لگادوں۔‘‘ انہوں نے پانی کا گلاس اس کی جانب بڑھاتے ہوئے گہری اور ہمدردانہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’نہیں اماں… مجھے بھوک نہیں بس ایک کپ چائے لادیں۔‘‘ وہ پانی پی کر اٹھنے لگا۔
’’یہ بتاؤ کہ اس لڑکی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر آئے ہو ناں…؟‘‘ مما کی بات پر وہ تڑپ کر ان کی جانب پلٹا۔
’’مما پلیز… کچھ اللہ کا خوف کریں‘ وہ ایک معصوم اور شریف لڑکی ہے۔ اس کا باپ صدمے سے مر گیا ہے۔ اللہ کے واسطے اپنی ضد‘ انا اور غرور ایک طرف رکھ کر صرف ایک ماں بن کر سوچیے… اگر یہ حالات خدانحواستہ ہمارے ساتھ ہوتے تو…؟ میں مانتا ہوں کہ میں نے فیصلہ آپ کی اجازت کے بغیر اور جلد بازی میں کیا ہے لیکن… میرا مقصد ہرگز آپ کو‘ آپی یا رادابہ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا۔ وہ لڑکی میرے نام سے بدنام ہورہی تھی۔‘‘
’’اور وہ لڑکی جو… تمہارے انتظار میں تمہارے نام سے جڑی بیٹھی ہے۔ اس کے جذبات‘ اس کے احساسات اور اس کا وجود تمہارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا…؟‘‘ زیبا بیگم زہر میں بجھے لہجے میں بولیں۔
’’جی مما… میں جانتا ہوں‘ مجھے ردابہ سے محبت ہے… میں ردابہ سے شادی کروں گا لیکن آپ طوسیہ کا نام میرے نام کے ساتھ جڑا رہنے دیں۔‘‘ وہ زیبا بیگم کے قدموں میں بیٹھ کر ان کے گھٹنے پکڑ کر لجاحت سے بولا۔ زیبا بیگم نے غور سے اسے دیکھا۔
’’تم اس معاملے کو اتنا ہلکا لے رہے ہو عارض… تم کو اندازہ نہیں کہ تمہاری اس حرکت سے زارا کی زندگی پر کیا اثر پڑسکتا ہے‘ وہ تو اچھا ہوا کہ زارا آج کل یہاں نہیں ہے ورنہ قیامت آجاتی۔‘‘
’’مما… میں خود ردابہ سے بات کروں گا… وہ سمجھ دار لڑکی ہے۔ ان شاء اﷲ مان جائے گی۔‘‘ وہ گڑگڑایا۔
’’میں طوسیہ کو یہاں لے کر نہیں آؤں گا وہ وہیں رہے گی۔ آپ کو کوئی پرابلم نہیں ہوگی۔‘‘
’’مجھے اس لڑکی سے ہی پرابلم ہے۔‘‘ زیبا بیگم تنک کر بولیں۔
’’مما… بے شک اسے قبول نہ کریں لیکن… اس سے میرے نام کا حوالہ مت چھینیں… میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں۔‘‘ وہ ہاتھ جوڑ کر گڑگڑایا۔
زیبا بیگم کے سینے میں ایک ماں کا دل تھا۔ اس کے یوں گڑگڑانے سے ان کے آہنی وجود میں ہلکی سی دراڑ آئی تھی۔ چہرے کی کرختگی میں نسبتاً کمی واقع ہوئی۔ صغیرہ اماں بھی تاسف سے عارض کو دیکھ رہی تھیں۔
’’میرا یا اس گھر سے اس لڑکی کا کوئی واسطہ‘ کوئی رشتہ نہیں ہوگا۔ تم نے اس سے رشتہ باندھا ہے تو تم اس سے وہیں جا کر مل سکتے ہو۔ خرچا دے سکتے ہو مگر… وہ اس گھر میں نہیں آئے گی اور ہاں… اس بات کو یہیں دفن کردو کہ تم اس سے نکاح کرچکے ہو۔ بے شک وہ تمہارے نکاح میں رہے گی لیکن…‘‘ وہ ایک لمحے کو رکیں تو عارض نے الجھی نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔
’’مطلب…؟‘‘
’’مطلب یہ کہ اس بات کی کسی کو بھی خبر نہ ہو۔ صرف تم‘ میں اور صغیرہ کے علاوہ کسی کو بھی پتا نہ چلے کہ تم نے اس سے نکاح کیا ہے۔ یہ… یہ بات سب سے پوشیدہ رکھی جائے… اسی صورت میں تم ردابہ سے شادی کرسکتے ہو اور… اپنی بہن کا گھر بھی برباد ہونے سے بچاسکتے ہو۔‘‘
’’اوکے مما…‘‘ عارض نے تھکے ہوئے انداز میں جواب دیا۔ گو کہ بہت کٹھن مرحلہ تھا مگر… حالات ایسے موڑ پر آگئے تھے کہ اس کو سمجھوتا کرنا تھا۔ عارض نے سر جھکایا اور زیبا بیگم اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھیں۔
ز…ز…ز…ز
وقت بڑے سے بڑے اور گہرے زخم کو بھر دیتا ہے گو کہ کوئی زخم جلد مندمل ہوجاتا ہے تو کوئی گھاؤ اتنا گہرا ہوتا ہے کہ اسے بھرنے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ دھیرے دھیرے طوسیہ نے بھی خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا۔ عارض برابر آتا۔ طوسیہ اس بات سے بھی بہ خوبی واقف تھی کہ عارض کی زندگی میں ردابہ آنے والی ہے۔ طوسیہ کے لیے یہ وقت بہت کٹھن تھا۔ ایک عورت اس کے شوہر کی زندگی میں آنے والی تھی مگر بعد میں آنے والی عورت پہلی تھی۔ دوسری تو وہ خود تھی جو زبردستی عارض کی زندگی میں آئی تھی۔ بدنامی‘ بے عزتی کے احساس کے ساتھ احتجاج کرنے کا بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس کے لیے یہی غنیمت تھا کہ عارض کا نام اس کے نام کے ساتھ جڑا ہے۔ عارض نے مما کی شرط کے حوالے سے بات بھی بتادی تھی۔ وہ سر جھکا کر رہ گئی۔ کرتی بھی تو کیا… صالحہ بیگم نے بہتر یہی سمجھا کہ لوگوں کے سوالوں سے بچنے کے لیے وہ مکان فروخت کردیں اور دوسرے علاقے میں منتقل ہوجائیں۔
ادھر عارض اور ردابہ کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں۔ زارا بہت خوش تھی۔ زیبا بیگم نے بھی خود کو نارمل کرلیا تھا۔ جب کہ عارض عجیب سی کشمکش کا شکار تھا مگر حالات سے سمجھوتہ تو کرنا ہی تھا۔
شام کا وقت تھا عارض ابھی ابھی آفس سے لوٹا تھا اور زیبا بیگم کے ساتھ لان میں بیٹھ کر چائے پی رہا تھا کہ زارا اور عدیل آگئے۔
’’السلام علیکم۔‘‘ دونوں نے خوش دلی سے سلام کیا۔
’’ارے واہ بھئی… نوشے میاں خود موجود ہیں یہاں پر تو۔‘‘ عدیل نے عارض سے ہاتھ ملاتے ہوئے خوش گوار لہجے میں کہا۔
’’ہاں بھئی عارض… تمہارے دولہا بھائی کا کہنا ہے کہ جب دلہن رانی اپنی ہر چیز اپنی پسند سے لے رہی ہے تو دولہا میاں بھی اپنی شادی کی شاپنگ اپنی مرضی سے کریں گے۔ اس لیے آج تمہیں شاپنگ پر لے جانے آئے ہیں۔‘‘ زارا نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔
’’ہاں بھئی اب جلدی سے تیار ہوجاؤ۔‘‘ عدیل نے لقمہ دیا عارض مسکرایا اور اثبات میں سر ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
’’مما آپ بھی چلیں ناں۔‘‘ زارا نے ٹیبل پر رکھے ہوئے بسکٹس سے ایک بسکٹ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
’’نہیں بھئی میں تھک جاتی ہوں۔ تم لوگ جاؤ۔‘‘ زیبا بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اوکے… صغیرہ بوا‘ ہم شاپنگ سے آتے ہیں تب تک آپ اچھی سی بریانی تیار کرکے رکھیے گا۔ ہم ڈنر کرکے جائیں گے اور مما آپ کی بہو کو میسج کردیا ہے وہ آجائے گی۔ آپ دونوں مل کر خوب باتیں کیجیے گا۔ ہم دو گھنٹے میں واپس آتے ہیں۔‘‘ زارا نے اٹھتے ہوئے اپنے بیگ کو اٹھا کر کاندھے سے لٹکاتے ہوئے کہا اور تینوں باہر کی جانب چل دیے۔ زیبا بیگم ان کو جاتا دیکھتی رہیں۔
آج کل عارض عجیب حالات کا شکار تھا۔ طوسیہ کے ساتھ رہتا تو عجیب مکدر ماحول ہوتا اور جب گھر واپس آتا تو گھر میں شادی کے ہنگامے عروج پر ہوتے۔ ردابہ سے بھی بات چیت ہوتی رہتی وہ بہت خوش تھی۔
صالحہ بیگم کو طوسیہ کی فکر تو تھی لیکن عارض پر بھروسہ بھی تھا۔ ادھر عائلہ کے سسرال والے بھی شادی کا تقاضا کررہے تھے۔ عائلہ کے سسرال والے بہت شریف اور ہمدرد تھے اس لیے حالات کے پیش نظر سادگی سے عائلہ کی شادی کردی گئی اور عائلہ رخصت ہوکر دوسرے شہر چلی گئی اب طوسیہ اور صالحہ بیگم گھر میں رہ گئی تھیں۔
ادھر عارض اور ردابہ کی شادی کا دن بھی آن پہنچا۔ ساری رسومات خوب دھوم دھڑکے اور عالی شان طریقے سے انجام پائیں۔ دونوں طرف سے زارا کو ہی سب کچھ کرنا تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ عارض اور ردابہ دونوں دولہا‘ دولہن کے روپ میں غضب ڈھارہے تھے۔ ردابہ ہال سے رخصت ہوکر عارض ولا آگئی۔
یوں تو ردابہ بیسیوں بار عارض کے کمرے میں آچکی تھی مگر آج عجیب سی جھجک محسوس ہورہی تھی۔ زارا دیگر شادی کی رسومات کے بعد اس کو عارض کے روم میں پہنچا کر گئی تھی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ردابہ کا دل عجیب انداز سے دھڑکا تھا۔ خوب صورت‘ دل نشین‘ مرمریں سا احساس اس کے رگ وپے میں اتر آیا تھا۔ خوب صورت زندگی‘ من پسند جیون ساتھی اور آنے والے دنوں کے لطیف احساس سے وہ آپ ہی آپ مسکرانے لگی تھی۔
عارض کمرے میں آیا گلاب اور موتیا سے مہکتا سجا سجایا کمرہ دل فریب ماحول اور جاذب نظر دلہن کا چہرہ نظروں کے سامنے تھا۔ بھاری پلکوں کی باڑ سے جھکی شرمگیں آنکھیں‘ شرمایا ہوا نازک سا وجود عارض کے حواسوں پر چھانے لگا تھا۔
ز…ز…ز…ز
رات دھیرے دھیرے ڈھل رہی تھی۔ صالحہ بیگم رات کا کھانا جلدی کھا کر دوا لے کر سو جاتی تھیں۔ فجر کے لیے اٹھنا ہوتا تھا۔ عائلہ بھی آئی ہوئی تھی۔ صالحہ بیگم کے سونے کے بعد دونوں بہنیں کھلے آسمان تلے صحن میں چارپائی پر آکر لیٹ گئیں۔ طوسیہ کے اندر عجیب سی بے چینی اور بے قراری تھی۔ وہ جانتی تھی آج عارض کی بارات تھی۔ اس بارے میں سوچ سوچ کر اس کا دماغ ماؤف ہوا جارہا تھا۔
’’آپی… خیریت تو ہے؟ آپ صبح سے کافی سست ہیں۔ کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا اور اب بھی ٹینشن میں لگ رہی ہیں… تین چار دن سے عارض بھائی بھی نہیں آئے… خدانخواستہ آپ دونوں میں کوئی جھگڑا تو نہیں ہوا۔‘‘ عائلہ جو طوسیہ کی حرکات و سکنات اور بے چینی محسوس کر رہی تھی آخرکار پوچھ بیٹھی۔
’’نہیں… نہیں عارض بہت اچھے ہیں… لڑائی نہیں ہوئی ہماری۔ وہ بتا کر گئے ہیں مجھے‘ کچھ دنوں کے لیے کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا تھا ان کو۔‘‘ اپنے لہجے کو نارمل بناتے ہوئے وہ جلدی سے بولی۔
اس نے عارض اور ردابہ کی شادی کو ماں اور بہن سے چھپایا تھا۔ وہ صالحہ بیگم کو مزید کسی امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔ دونوں بہنیں یونہی باتیں کرتیں رہیں رات ڈھلتی رہی۔ چاندنی رات اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے فرحت بخش جھونکوں نے آخرکار ان کو نیند کی وادی میں پہنچا دیا۔ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے اور طوسیہ کی زندگی بھی سولی کی نذر ہوچکی تھی۔
شادی کے اگلے دن عارض کے ولیمے کی تقریب بھی ہوگئی۔ زیبا بیگم کا خیال تھا کہ عارض اور ردابہ ہنی مون کے لیے کہیں جائیں لیکن عارض نے منع کردیا۔
’’نہیں مما… پہلے ہی شادی کی مصروفیات اور کاموں میں میں نے کافی چھٹیاں کرلی ہیں اور کافی سارا کام پینڈنگ میں ہے۔ اس لیے فی الحال یہ پروگرام کینسل ان شاء اﷲ جلد ہی پروگرام بنائیں گے۔‘‘ عارض کی بات پر ردابہ کا موڈ آف ہوگیا تھا۔
’’عارض… ہنی مون پر شادی کے بعد فوراً ہی جایا جاتا ہے۔ شادی کے سال بعد نہیں جاتے۔‘‘ کمرے میں آکر ردابہ نے خفگی بھرے لہجے میں عارض کو مخاطب کیا۔
’’ردابہ… آج کل مما کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔ ان کو چھوڑ کر جانا مناسب نہیں۔ کبھی بھی بی پی شوٹ کر جاتا ہے۔ صغیرہ اماں بے چاری کیسے سنبھالیں گے۔‘‘ عارض نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں سمجھایا لیکن ردابہ کا موڈ آف ہوچکا تھا۔
کچھ دن گزرے۔ زیبا بیگم نے بھول کر بھی کبھی طوسیہ کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ وہ تو سرے سے اسے بہو مانتی ہی نہیں تھیں۔ عارض اب طوسیہ کے پاس بھی کم کم جاتا۔ ردابہ کے آجانے سے زیبا بیگم کافی مطمئن ہوگئیں لیکن ردابہ کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ عارض اس سے زیادہ ماں اور کاروبار کو اہمیت دیتے ہیں۔ بس اسی بات کی وجہ ساس پر واری صدقے جانے والی ردابہ کے دل میں دراڑ پڑگئی اور اس کا رویہ روکھا ہوگیا۔
اس کو گھر یا ذمہ داری سے کوئی لگاؤ تھا نہ دل چسپی‘ وہ تو صرف اور صرف عارض کی قربت‘ محبت اور مکمل ساتھ چاہتی تھی۔ ہر پل‘ ہر گھڑی اور ہر وقت عارض کے التفات کی منتظر رہتی۔ عارض گو کہ ایک محبت کرنے والا شوہر تھا لیکن وہ ایک عملی انسان تھا جس پر گھر‘ ماں اور طوسیہ کی بھی ذمہ داری تھی۔ اسے خوابوں میں نہیں بلکہ حقیقت میں جینے کی عادت تھی۔
’’ردابہ… اب تمہیں گھر کے کاموں میں دل چسپی لینی چاہیے‘ مما کو کمپنی دیا کرو‘ وہ سارا دن اکیلی ہوتی ہیں۔‘‘ ایک روز عارض آفس سے لوٹا تو حسب معمول ردابہ کو اپنے کمرے میں کتاب پڑھتے دیکھ کر ملائمت سے کہا۔
’’اس طرح تمہارا ٹائم بھی پاس ہوجائے گا اور مما کو بھی اچھا لگے گا اور مزید انڈر اسٹینڈنگ ہوجائے گی تم دونوں میں۔‘‘ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وہ بیڈ پر ٹک گیا۔
’’سوری یار… مجھے کوئی تجربہ نہیں ہے بڈھوں کے ساتھ وقت گزارنے کا۔ چھوٹی سی تھی تو مما کی ڈیتھ ہوگئی۔ پھر بھابی آگئیں سچ پوچھو تو مجھے ڈر لگتا ہے‘ خاص طور پر بیمار لوگوں سے۔‘‘ کتاب ایک طرف رکھ کر ردابہ نے صاف گوئی سے کہا تو عارض نے اس کی بات پر چونک کر اسے دیکھا۔ ردابہ کو شاید اپنے جملے کی تلخی کا احساس ہوگیا تھا تب ہی جلدی سے بولی۔
’’کوشش کروں گی کہ ان کے ساتھ ہی ٹائم پاس کروں۔‘‘ لفظ ہی پر زور دے کر کہا اور اٹھ کر باہر چلی گئی۔ عارض اسے جاتا دیکھتا رہا ساتھ اس کے لہجے اور الفاظ پر غور کرنے لگا۔
ز…ز…ز…ز
ادھر صالحہ بیگم کی طبیعت آج کل بہت خراب تھی ان پر سانس کا شدید حملہ ہوا تھا اور وہ اسپتال میں داخل تھیں۔ طوسیہ ان کے ساتھ تھی۔ عارض ان کی وجہ سے بھی خاصا پریشان تھا۔ ان کی طبیعت لمحہ بہ لمحہ بگڑتی جارہی تھی۔ طوسیہ کا برا حال تھا۔ آخرکار صالحہ بیگم تین دن آئی سی یو میں رہ کر موت کے سامنے ہار گئیں۔
طوسیہ کی حالت پاگلوں جیسی ہوگئی تھی اس کے لاچار وجود کو صالحہ بیگم کے بیمار اور کمزور وجود کا سہارا ہی بہت تھا۔ عارض کی حالت بھی عجیب سی ہورہی تھی۔ اس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ طوسیہ کی رہائش کا تھا کہ ماں کے مرنے کے بعد طوسیہ کیسے تنہا رہے گی۔ عائلہ انتقال پر آئی تھی دسویں کے بعد واپس چلی گئی تھی۔ اب مسئلہ طوسیہ کا تھا۔
کچھ دنوں سے ردابہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ عارض اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا تو ڈاکٹر نے ماں بننے کی نوید سنائی۔ عارض خوشی سے دیوانہ ہوگیا۔ مما کی خواہش پوری ہونے جارہی تھی۔ وہ باپ بننے والا تھا۔ اتنی بڑی خوشی نے زیبا بیگم کو ایک بار پھر تندرست کردیا۔ وہ خوشی سے بے قابو ہوگئیں۔ ردابہ چاہتی تھی کہ ان کے رواج کے مطابق وہ ابتدائی تین چار ماہ میکے میں رہے۔
جبکہ عارض کا دل کررہا تھا کہ ردابہ اس حالت میں اس کے ساتھ‘ اس کے پاس رہے۔ مما کے تجربے سے فائدہ اٹھائے۔ اماں صغیرہ کے ٹوٹکوں پر عمل کرے لیکن… اسے ردابہ کی خوشی زیادہ عزیز تھی اور وہ اس حالت میں ردابہ پر کوئی مرضی مسلط کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اگلے دن حسب معمول صغیرہ اماں صبح فجر کی نماز کے لیے اٹھیں تو زیبا بیگم کو جگانے آئیں۔ زیبا بیگم کو بے حس و حرکت دیکھ کر زور سے چلائیں اور دوڑ کر عارض کو بلا لائیں۔ عارض ان کو گاڑی میں ڈال کر اسپتال لے کر بھاگا تو پتا چلا کہ ان پر فالج کا شدید حملہ ہوا ہے۔ زارا فوراً ہی اسپتال چلی آئی۔
زارا کا ایک پیر گھر میں تو دوسرا ہاسپٹل میں ہوتا۔ ادھر ردابہ کی طبیعت بھی خراب۔ ادھر ماں کی یہ حالت صغیرہ اماں بے چاری بھی ادھ موئی ہوئی جارہی تھیں۔ عارض ماں کو لے کر بہت پریشان تھا کہ اب ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے کسی کا ہونا بہت ضروری تھا۔ زارا کے بیٹے کا اسکول تھا‘ گھر کی ذمے داری تھی وہ مستقل نہیں آسکتی تھی۔ صغیرہ اماں بوڑھی ہوچکی تھیں اب ان میں اتنا دم خم بھی نہیں تھا کہ مستعدی سے زیبا بیگم کی خدمت کرسکیں۔ طوسیہ کو عارض پل پل کی خبر دے رہا تھا۔ بہت سوچ بچار اور صغیرہ اماں سے مشورہ کرکے عارض نے سوچا کہ طوسیہ کو گھر لے آئے۔
’’عارض… آپ نے آخر مجھے کیا سمجھ رکھا ہے؟‘‘ عارض کی بات سن کر طوسیہ نے بے بسی سے اسے دیکھا۔ طوسیہ کے چہرے پر اذیت نمایاں تھی۔
’’آئی ایم سوری طوسیہ… بے شک تم مجھے خود غرض کہہ سکتی ہو مگر… میں عاجز آگیا ہوں۔ پریشان ہوگیا ہوں ان حالات سے‘ نہ جانے کیسی کیسی آزمائشیں ہیں یہ… مجھے اندازہ ہے۔ میں بہت شرمندہ ہوں میری جان۔ میں اپنی نظروں میں خود گرچکا ہوں۔ ایک جانب بوڑھی بیمار انا پرست ماں ہے اور دوسری طرف… میری کوتاہیاں‘ زیادتیاں اور میری اپنی خود غرضیاں ہیں۔ اللہ کی قسم طوسیہ… تم مجھے دل و جان سے عزیز ہو۔ میں تمہیں دل وجان سے چاہتا ہوں۔ مجھے معاف کردو پلیز…‘‘ عارض ہاتھ جوڑے اس کے سامنے جھکا ہوا تھا۔ اس کے لہجے میں دکھ‘ ندامت تھی۔ طوسیہ اس کی بے بسی پر تڑپ اٹھی۔ آگے بڑھ کر اس کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو تھام لیا۔
’’عارض پلیز… ایساکہہ کر مجھے شرمندہ نہ کریں۔ آپ نے تو مجھے مان و سہارا دیا۔ میرے لیے آپ کے نام کی نسبت ہی کافی ہے۔ میں ضرور آپ کے ساتھ جائوں گی لیکن…‘‘ وہ ایک لمحے کو رکی۔
’’لیکن کیا؟‘‘ عارض نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’مما کو بھی یہ خبر نہ ہو کہ میں کون ہوں۔ میں ان کی ملازمہ بن کر وہاں رہوں گی۔‘‘ طوسیہ کے لہجے میں دکھ بول رہے تھے۔
’’یہ… یہ کیا کہہ رہی ہو طوسیہ؟‘‘ عارض اس کی بے بسی پر تڑپ اٹھا۔
’’جی عارض… آگے جو میری قسمت… اللہ پاک جس حال میں رکھے مجھے منظور ہوگا اور میں کبھی کبھی اپنے گھر بھی آجایا کروں گی۔‘‘ طوسیہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’اوکے… بہت بہت شکریہ۔‘‘ عارض نے سچے دل سے کہا۔
طوسیہ دو چار کپڑوں کے جوڑے لیے عارض کے گھر آگئی۔ زیبا بیگم نے ایک تو رات کے وقت اور پھر عروسی لباس اور بیوٹی پارلر کے میک اپ میں اسے دیکھا تھا۔ آنکھیں بھی کمزور تھیں اس لیے طوسیہ کو پہچان نہ پائیں۔ ویسے بھی طوسیہ اپنے وجود کو بڑی سی چادر میں چھپا کر رکھتی۔ ہمیشہ سر اور آدھا چہرہ چادر سے ڈھکا ہوتا۔ عارض نے ماں سے تعارف کرایا۔
’’مما اب آپ کو مالش کے لیے اور دیگر ضروریات کے لیے کسی چاق وچوبند خاتون کی ضرورت ہے۔ اس لیے میں نے اپنے دوست کے توسط سے ان کو آپ کے لیے ملازمہ رکھ لیا ہے۔ صغیرہ اماں بے چاری خود بیمار رہتی ہیں۔‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے اس کا شناختی کارڈ اپنے پاس رکھ لینا۔‘‘ زیبا بیگم نے سر سے پیر تک طوسیہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی مما۔‘‘ عارض نے کہا۔
طوسیہ‘ زیبا بیگم کے سارے کام کرتی۔ وقت سے پہلے ان کی ضروریات کا خیال رکھتی۔ زیادہ بات چیت نہیں کرتی۔
’’سنو صغیرہ۔‘‘ ایک روز زیبا بیگم نے سبزی بناتی ہوئی صغیرہ اماں کو مخاطب کیا۔
’’جی بی بی۔‘‘ انہوں نے سر اٹھایا۔
’’تم نے اچھی طرح سے اس لڑکی کا پتا کرلیا ہے ناں کہیں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہ ہو۔‘‘ انہوں نے خدشے کا اظہار کیا۔
’’نہیں… نہیں عارض کے دوست نے پوری گارنٹی لی ہے اس کی۔ بہت شریف نیک اور اچھے خاندان کی لڑکی ہے‘ بے چاری حالات نے اسے اس مقام تک پہنچا دیا کبھی اس کا بھی گھر بار تھا مگر… اب بے چاری… ویسے آپ نے خود بھی اندازہ لگالیا ہوگا اس کو دیکھ کر کہ کتنی چپ چاپ اور خاموش رہتی ہے پردہ کرتی ہے۔‘‘ صغیرہ اماں کے لہجے میں ہمدردی نمایاں تھی۔ وہ ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئیں۔
اس دوران دو تین بار زارا بھی کھڑے کھڑے ماں کا حال پوچھنے آئی۔ طوسیہ کو اوپر سے نیچے تک گہری نظروں سے دیکھا۔
’’مما یہ کون ہے… کہاں سے آئی ہے؟ بظاہر معصوم اور مظلوم نظر آنے والی عورتیں چلتر اور گھنی ہوتی ہیں۔ کہیں اونچ نیچ نہ ہوجائے۔ جوان جہان ہے پردے میں رہ کر بھی گل کھلانے والیاں دیکھی ہیں بہت۔‘‘ زارا نے آنکھیں گھما کر طوسیہ کے بارے میں اپنے طور پر منفی خیالات کا اظہارکیا۔
’’نہیں نہیں… اپنے کام سے کام رکھتی ہے یہ‘ اچھی طرح سے مطمئن ہوکر رکھا ہے اسے۔ بہت خیال رکھتی ہے میرا۔ عارض کے دوست کے توسط سے آئی ہے۔ سیدھی سادی سی ہے۔‘‘ زیبا بیگم کی بات پر زارا نے ناک چڑھا کر برا سا منہ بنایا۔ وہ پھر بھی طوسیہ سے شاکی ہی لگ رہی تھی۔ کچھ دیر بیٹھ کر زارا چلی گئی۔
طوسیہ اپنے کام سے کام رکھتی۔ فارغ وقت میں دیے گئے کمرے میں چلی جاتی۔ کبھی کبھی گھر کی صفائی کرتی۔ ردابہ تھی نہیں اس لیے عارض سے آرام سے بات چیت کرلیتی‘ پھر گھر میں ردابہ کی واپسی کے ہنگامے جاگے۔ وہ دل بھر کے آرام کرکے تین ماہ بعد واپس گھر آرہی تھی۔ ردابہ کے استقبال کی تیاریاں زیبا بیگم ایسے کررہی تھی جیسے نئی دلہن آرہی ہو۔ وہ خوش کیوں نہ ہوتیں ان کے اکلوتے بیٹے کا وارث دینے جارہی تھی۔ ان کی نسل کو آگے بڑھانے والی تھی۔
مناسب غذا‘ دوا اور آرام نے ردابہ کی صحت پر خوش گوار اثر ڈالا تھا۔ وہ مزید خوب صورت ہوگئی تھی۔ زیبا بیگم نے اس کے آتے ہی بکرے کا صدقہ دے کر اس کا استقبال کیا۔
’’مما آپ کی طبیعت اب کیسی ہے؟‘‘ ردابہ دو گھڑی کو ساس کے پاس آبیٹھی۔
’’اللہ کا کرم ہے بہت بہتر ہوں اور مزید بہتر ہوجائوں گی اب تم جو آگئی ہو۔‘‘ زیبا بیگم نے ردابہ کا ماتھا چومتے ہوئے پُر محبت لہجے میں کہا۔
’’آنٹی آپ کی دوا کا ٹائم ہوگیا ہے۔‘‘ اسی لمحے طوسیہ کمرے میں آکر بولی۔ ردابہ پر نظر پڑی تو ایک لمحے کو ٹھٹھکی۔
’السلام علیکم جی!‘‘
’’وعلیکم السلام۔‘‘ ردابہ نے اسے سر سے پیر تک گہری نظروں سے دیکھا۔
’’تم کون ہو اور یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ ردابہ نے پوچھا۔
’’بیٹی… عارض نے اسے میری دیکھ بھال کے لیے رکھا ہے۔‘‘ زیبا بیگم بولیں۔
’’تمہیں بتایا تو تھا کہ مما کی دیکھ بھال کے لیے ایک خاتون کو رکھا ہے۔‘‘ تب ہی عارض نے کمرے میں آکر ردابہ کو مخاطب کیا۔
’’خاتون… مگر یہ خاتون تو نہیں لگ رہی۔ یہ تو مجھ سے بھی چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔‘‘ طوسیہ خاموشی سے دوا پلا کر کمرے سے چلی گئی تو ردابہ نے اس کے جاتے ہی عارض کو مخاطب کرکے طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’ارے یار… ہمیں اس سے کیا لینا دینا ہمیں یہ اطمینان ہے کہ مما اس سے مطمئن ہیں بس۔‘‘ عارض کے لہجے میں جھنجھلاہٹ تھی۔
طوسیہ کو دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئی تھی اور اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ردابہ ایک ایک چیز پر گہری نظر رکھنے لگی تھی۔
’’صغیرہ اماں… یہ لڑکی بنت وقار کیسی لڑکی ہے؟‘‘ ایک روز صغیرہ اماں سے پوچھ لیا۔
’’کیا مطلب بی بی میں سمجھی نہیں؟‘‘ صغیرہ اماں نے نہ سمجھتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
’’مطلب آپ گزشتہ دو ماہ سے اسے دیکھ رہی ہیں۔ آپ کو کیسی لگی یہ لڑکی۔ باتونی تیز طرار‘ چالاک‘ ٹوہ لینے والی یا آوارہ مزاج۔‘‘ سارے منفی پہلو ایک کے بعد ایک زبان سے پھسلتے چلے گئے۔
’’ارے بی بی نہیں…‘‘ صغیرہ اماں بے ساختہ بولیں۔
’’بہت شریف بچی ہے۔ کام سے زیادہ نہ ادھر ادھر گھومتی ہے اور نہ ہی بات کرتی ہے۔ بس کام سے فارغ ہوتی ہے اور سیدھی اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے۔‘‘
’’ہنہ…‘‘ ردابہ نے ہنکارا بھرا۔
’’یہ عارض سے بات چیت تو نہیں کرتی؟ مطلب پیسے ویسے تو نہیں مانگتی؟‘‘ اپنی بات کو سنبھالتے جملے میں اضافہ کیا۔
’’نہیں نہیں جی… اس کو پیسے بھی میں ہی دیتی ہوں۔ یہ تو ان کو دیکھتی بھی نہیں۔‘‘ صغیرہ اماں کی بات پر وہ کچھ مطمئن ہوئی تھی۔
ز…ز…ز…ز
سمیر کی زندگی میں داخل ہوتے ہوتے چند قدم اور چار الفاظ کی دوری تھی کہ… اچانک زندگی نے ایسا پلٹا کھایا کہ اسے عارض کی زندگی میں داخل ہونا پڑا۔ زندگی نے نیا رخ موڑ لیا۔ رات تک مختلف کاموں اور مصروفیات میں الجھی الجھی طوسیہ مستقل اس حادثے کو یاد کرتی رہی جو آج ہی کے دن اس کی زندگی میں آیا تھا۔ عشاء کی نماز کے ساتھ ہی زیبا بیگم کو کھانا کھلا کر چائے پلا کر وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ دل تھا کہ امڈتا چلا آرہا تھا۔ ابا جی‘ اماں اور عائلہ کی یاد ستا رہی تھی۔ دن بھر ہلکی ہلکی بارش سے موسم مزید خوب صورت ہوگیا تھا۔ اس وقت آسمان بادلوں سے صاف ہوچکا تھا۔ مدھم سا چاند بادلوں کی اوٹ سے اپنی ہلکی ہلکی روشنی لیے نمودار ہوچکا تھا۔
وہ دن بھر روبوٹ کی طرح زیبا بیگم کے آگے پیچھے پھرتی رہتی۔ ان کا ہر حکم بجا لاتی۔ ردابہ کی جلی کٹی باتیں اور غرور میں ڈوبی ہوئی گفتگو سنتی اور رات کو اپنے کمرے میں آکر سر سے چادر اتارتے آنسوئوں کی نمی صاف کرتی۔ پھر کھڑکی میں کھڑی ہوکر کبھی چاند سے تو کبھی اپنے آپ سے ڈھیروں باتیں کرتی اور یونہی باتیں کرتے کرتے سو جاتی۔ آج نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ یک ٹک چاند کو دیکھ رہی تھی۔
آج عارض کو نیند نہیں آرہی تھی۔ پانچ اگست اور اس سے جڑا رشتہ اسے اچھی طرح سے یاد تھا۔ ردابہ گہری نیند سوچکی تھی۔ ابھی رات کے بارہ بجنے میں کافی وقت باقی تھا۔ عارض آہستگی سے اٹھا۔ اچھی طرح سے ردابہ کی گہری نیند کی تسلی کی اور چپکے سے دروازہ کھول کر باہر آگیا۔
دستک کی آواز پر طوسیہ بری طرح چونکی۔
’’اس وقت کون ہے؟‘‘ اس نے سوچا۔
’’طوسیہ دروازہ کھولو میں ہوں عارض۔‘‘ عارض کی آواز پر بھاگ کر دروازہ کھول دیا۔
’’ہیپی ویڈنگ اینورسری۔‘‘ اندر داخل ہوتے ہی عارض نے کہا اور دروازہ بھیڑ دیا۔ ابھی اس کا جملہ مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ طوسیہ بے ساختہ اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ عارض کو سب یاد تھا۔
’’عارض… عارض ہم اس دن کو ہیپی کہیں گے یا…؟‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی روتے ہوئے اس کے لبوں سے ذومعنی جملہ نکل گیا۔
’’طوسیہ پلیز… مجھے شرمندہ مت کرو بس کچھ دن صبر کرلو… یہ لو میں تمہارے لیے لایا تھا۔‘‘ جیب سے چاکلیٹ اور انگوٹھی کی ڈبیہ نکال کر اس کی جانب بڑھائی۔
’’تھینک یو سو مچ عارض۔‘‘
’’بس میری جان کچھ دن اور صبر کرلو۔ یقین کرو طوسیہ پہلے تو تم سے ہمدردی تھی لیکن اب… تمہارے وجود سے محبت ہوگئی ہے شدید محبت۔‘‘
’’آئی لو یو سو مچ ۔‘‘عارض نے جذب سے کہا۔
’’آئی لو یو ٹو۔‘‘ اسی لمحے دھاڑ سے دروازہ کھلا۔ عارض اور طوسیہ نے گھبرا کر دروازے کی سمت دیکھا۔ دروازے کے عین وسط میں آنکھوں میں غیظ وغضب‘ نفرت اور حقارت لیے ردابہ کھڑی تھی۔ طوسیہ بجلی کی سی تیزی سے عارض کی بانہوں سے نکلی شرم‘ ندامت سے اس کا سارا وجود کانپنے لگا تھا۔ عارض بھی اس اچانک افتاد پر بری طرح بوکھلا گیا تھا۔ ردابہ تو دوائوں کے زیر اثر تھی اسے امید نہیں تھی کہ وہ یوں آجائے گی۔
’’واہ… واہ یہاں پر یہ عیاشی ہورہی ہے۔ اس بد ذات کے ساتھ رنگ رنگ رلیاں منائی جارہی ہیں اور… یہ فاحشہ‘ بدکردار عورت جو دن میں تو پردے کی بوبو بن کر شرافت اور پارسائی کے ڈرامے رچاتی ہے اور رات کو بے حیائی اور بے غیرتی کی دعوت دیتی ہے۔ عارض تم سے تو بعد میں نمٹوں گی پہلے اس نیچ کی خبر لے لوں۔ ذلیل بے غیرت۔‘‘ ردابہ چیل کی طرح طوسیہ پر جھپٹ پڑی اور اس پر تھپڑوں کی بارش کردی۔
غصے کی شدت سے ردابہ کا سارا وجود کانپ رہا تھا۔ چہرے پر اور آنکھوں میں وحشت نمایاں تھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ طوسیہ کا گلا دبا دے۔ طوسیہ منہ چھپائے بری طرح سسک رہی تھی اور ردابہ کی تھپڑوں کی زد میں تھی۔
’’ردابہ… ردابہ تم پاگل ہوگئی ہو۔‘‘ عارض نے آگے بڑھ کر ردابہ کے ہاتھوں کو پکڑا۔
’’ہاں ہاں… میں پاگل ہوگئی ہوں اور تم… تم دیوانے ہوگئے ہو۔ ایک آوارہ بازاری عورت کے لیے…‘‘
’’بکواس بند کرو اپنی ردابہ… آگے ایک لفظ بھی مت بولنا۔ یہ آوارہ‘ فاحشہ یا بازاری عورت نہیں اور… اور نہ میں نے کوئی غلط کام کیا ہے۔‘‘ اسی لمحے زیبا بیگم اور صغیرہ اماں بھی آگئے۔
’’مما… مما دیکھ رہی ہیں آپ؟ اپنے لاڈلے بیٹے کے کرتوت اور اس لڑکی کی بے غیرتی جسے آپ لوگ شریف اور معصوم سمجھتے تھے… گل کھلا رہی ہے آدھی رات کو یہاں۔‘‘
’’یہ… یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ زیبا بیگم نے عارض کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’ردابہ… اپنی زبان کو لگام دو‘ یہ آوارہ بدچلن اور فاحشہ عورت نہیں ہے۔ یہ… یہ میری بیوی ہے۔ تم سے پہلے میری زندگی میں بیوی بن کر آنے والی لڑکی طوسیہ ہے۔‘‘ عارض‘ ماں کی بات کو نظر انداز کرکے ردابہ کی طرف پلٹ کر غصے سے چلایا۔
’’یہ کیا بکواس ہے عارض… یہ کیا اول فول بک رہے ہو؟ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے… یہ… یہ؟‘‘ عارض کی بات پر ردابہ کو بری طرح جھٹکا لگا تھا۔
’’رودابہ… حوصلے اور صبر سے کام لو۔ اب بات کھل گئی ہے تو… یہ بات سچ ہے کہ طوسیہ بی بی‘ عارض بابا کی بیوی ہی ہیں۔‘‘ صغیرہ اماں نے موقع محل دیکھ کر آگے بڑھ کر ردابہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر ملائمت سے کہا۔
’’یہ شادی غیر ارادی طور پر بلکہ حادثاتی طور پر اچانک ہی ہوئی تھی اور اس بات کا علم… مجھے اور بیگم صاحبہ کو بھی تھا۔‘‘ صغیرہ اماں نے موقع دیکھ کر سچ اگل دیا۔
’’اف…‘‘ زیبا بیگم موقع کی نزاکت سمجھ کر سر پکڑ کر کرسی پر ڈھے گئیں۔
’’یہ سب… یہ سب کیا بکواس ہے…؟ کیسی مجبوری‘ کیسا حادثہ؟ آپ سب لوگ مل کر مجھے پاگل کرنا چاہتے ہیں… اتنی بڑی بات… اتنی تلخ حقیقت… یہ… بات مجھ سے چھپائی گئی… اور… اس میں… آپ سب برابر کے شریک ہیں۔ آنٹی… آنٹی آپ… نے بھی میرے ساتھ… میرے ارمانوں کے ساتھ فراڈ کیا… مجھے دھوکا دیا… آپ سب نے مل کر…‘‘ وہ پاگلوں کی طرح زیبا بیگم کی جانب پلٹی۔
’’بیٹی… تم ہائپر نہ ہو… پلیز… آرام سے بیٹھو اور سکون سے ساری بات سنو… پھر تم جو کہو گی وہی فیصلہ ہوگا… تم ایسی حالت میں خود کو ہلکان مت کرو… یہ سب…؟‘‘
’’لعنت بھیجتی ہوں میں آپ سب پر۔‘‘ ردابہ نے زیبا بیگم کی بات کاٹ کر بدتمیزی سے کہا۔ ’’آپ کو شرم آنی چاہیے۔‘‘
’’ردابہ… تم… تم حد سے بڑھ رہی ہو… اب اگر تم نے ایک لفظ بھی مما کو کہا تو میں… برداشت…‘‘
’’تم کیا برداشت نہیں کرو گے ہاں…؟ تم سب نے مل کر میرے ساتھ کھیل کھیلا ہے…‘‘
’’یہ غریب‘ سطحی اور لالچی لوگ پیسے والے لوگوں کو دیکھ کر پھانس لیتے ہیں… لیکن یہاں تو… سارے کے سارے ہی…‘‘
’’ردابہ…‘‘ عارض کی برداشت جواب دینے لگی۔ وہ ہاتھ اٹھا کر ایک قدم آگے بڑھا۔
’’اللہ کے لیے عارض… یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔‘‘ درمیان میں طوسیہ آگئی اور عارض کے اٹھے ہوئے ہاتھ کو پکڑ لیا۔
’’بند کر اپنی چلتر بازیاں‘ خبیث عورت۔‘‘ ردابہ نے طوسیہ کو دھکا دیا اور عارض پر پل پڑی۔
’’تم… تم… مجھے ہاتھ لگاؤ گے۔ ہاتھ توڑ کر رکھ دوں گی… جاہل آدمی‘ اپنے کرتوتوں پر شرمندہ ہونے کے بجائے اکڑ دکھا رہے ہو… میں ایک منٹ بھی ایسے جھوٹے‘ مکار اور دھوکے باز لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ منافق اور چال باز۔‘‘
’’ردابہ…‘‘ عارض برداشت کی حدیں پار کر گیا اور اس کے بھرپور طمانچے نے ردابہ کے گال کو سرخ کردیا۔
’’عارض اللہ کے لیے ہوش کرو۔‘‘ زیبا بیگم کی حالت دیکھ کر صغیرہ اماں درمیان میں آگئیں۔ طوسیہ زارو قطار رونے لگی تھی۔ ردابہ گال پر ہاتھ رکھے خون خوار نظروں سے عارض کو دیکھ رہی تھی۔
’’بزدل انسان… یہی مردانگی ہے تمہاری… اس… اس عورت کے لیے تم نے مجھے تھپڑ مارا… مجھے ابھی کے ابھی طلاق دو۔ رکھو اس کو اپنے پاس۔‘‘ وہ ہذیانی انداز میں عارض کو جھنجھوڑتی ہوئی بولی۔
’’بیٹی… ردابہ بیٹی‘ اللہ کے لیے… اپنے اوپر اور ہمارے اوپر رحم کرو… اﷲ کا واسطہ ہے اپنے کمرے میں جاؤ… ہم کچھ فیصلہ کرتے ہیں…‘‘ زیبا بیگم ردابہ کی بات پر تڑپ کر گڑگڑائیں۔
’’فیصلہ مائی فٹ‘ فیصلہ اب میں کروں گی۔‘‘ ردابہ حقارت سے زمین پر تھوک کر بولی اور اسی لمحے کال کرکے عدیل اور زارا کو بلالیا۔
گھر میں قیامت بپا ہوگئی تھی کیونکہ عدیل اور زارا کے آتے آتے ردابہ بے ہوش ہوچکی تھی۔ ان کو سارے حالات سے صغیرہ اماں نے آگاہ کیا۔ اس وقت عدیل کے لیے بہن کی جان عزیز تھی تو وہ ہاسپٹل بھاگے۔ ساتھ ہی زیبا بیگم اس کی حالت اور یہ قیامت برداشت نہ کر پائیں۔ ان پر دمے کا شدید حملہ ہوگیا ور ان کو بھی ایمرجنسی میں ہاسپٹل جانا پڑا۔
ساس‘ بہو دونوں آئی سی یو میں تھیں۔ ردابہ کا مس کیرج ہوگیا تھا۔ عدیل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عارض کا گلہ دبا دے۔ بہن کی اس حالت کا ذمہ دار وہ تھا۔ زارا کا رو رو کر الگ برا حال تھا اس کے لیے ایک طرف بھائی تھا تو دوسری طرف نند اور سب سے بڑھ کر شوہر… عدیل کے سامنے رو رو کر ہاتھ پیر جوڑ کر زارا نے بھائی کی جان بخشی کروائی تھی۔
وہ سارے حالات جان چکی تھی۔ عدیل نے بھی ایک شرط رکھی تھی کہ زارا کا جب تک اپنے میکے سے تعلق رہے گا جب تک زیبا بیگم ہاسپٹل میں ہیں اس کے بعد وہ میکے کے لیے مر جائے گی اور زارا بھونچکا رہ گئی مگر اس وقت حالات ہی ایسے تھے عدیل بھی اپنی جگہ درست تھا۔ ان کی لاڈلی بہن کے ساتھ اتنا برا ہوچکا تھا۔ ذہنی اذیت الگ اس کے ساتھ ساتھ وہ ہونے والے بچے سے بھی محروم ہوچکی تھی۔ معاملہ بہت سنگین ہوچکا تھا۔ زارا معاملے کی نزاکت کو اچھی طرح سمجھ گئی تھی۔
دو دن بعد زیبا بیگم مکمل طور پر ٹھیک ہوئیں تب ان کو ردابہ کے بارے میں پتا چلا تو وہ بری طرح رو دیں۔ ردابہ کو اپنے بچے کا خاص افسوس نہ تھا بلکہ وہ اس بات سے خوش تھی کیونکہ اسے کسی صورت بھی عارض کے ساتھ نہیں رہنا تھا۔ وہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوئی جارہی تھی اس کی زندگی میں آنے والا مرد کسی اور کی زندگی پہلے سے آباد کر چکا ہے۔ یہ ہتک اور بے عزتی اس کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ وہ ضد میں اتنی اندھی ہوچکی تھی کہ اسے ہر صورت میں عارض سے طلاق چاہیے تھی۔
حالانکہ زیبا بیگم نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ انہیں طوسیہ کی شادی کا علم تھا مگر انہیں یہ خبر نہیں تھی کہ ان کی خدمت گار طوسیہ ملازم بن کر ان کے ساتھ ہے اور انہوں نے ردابہ سے یہ بھی کہا کہ عارض طوسیہ کو چھوڑ دے گا مگر تمہیں نہیں مگر ردابہ کسی صورت ماننے کو تیار نہ تھی۔ ردابہ نے طلاق لے لی تھی۔ زیبا بیگم منہ لپیٹ کر بیٹے اور طوسیہ سے مکمل طور پر ناراض ہوکر پڑ گئی تھیں۔
طوسیہ کی زندگی ایک بار پھر عجیب و غریب حالات کا شکار ہوچکی تھی۔ زیبا بیگم اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنا اپنی توہین سمجھتی تھیں۔ کبھی کبھی وہ سامنے آتی تو زیبا بیگم آپے سے باہر ہوجاتیں۔ اس کو دل بھر کر صلواتیں سناتیں۔ طرح طرح سے اس کی روح کو الفاظ کے نشتروں سے داغ دار کرتیں مگر طوسیہ پھر بھی ان کی خدمت کرنے کو تیار رہتی۔
ز…ز…ز…ز
زیبا بیگم اپنے کمرے تک محدود ہوکر رہ گئی تھیں۔ طوسیہ عارض کے کمرے میں رہنے لگی تھی۔ عارض جب بھی وقت ملتا زیبا بیگم کے پاس جا بیٹھتا۔ اسے خود بھی عجیب سا لگتا کہ اس کی وجہ سے زارا سے بھی تعلق ختم ہوچکا تھا۔ مما کو اتنی تکلیف ہوئی تھی مگر… وہ خود بھی مجبور تھا۔ طوسیہ گھر میں مقام حاصل کرچکی تھی مگر زیبا بیگم کے دل کو تسخیر کرنا اس کے لیے بہت مشکل اور کٹھن مرحلہ تھا۔ طوسیہ دن بھر گھر کے چھوٹے موٹے کام کرتی۔ صغیرہ اماں سے زیادہ کام نہیں کرواتی وہ ان کی دل سے عزت کرتی تھی کیونکہ صغیرہ اماں بہت ہمدرد اور شفیق خاتون تھیں۔ جب زیبا بیگم سوتیں‘ طوسیہ ان کے کمرے کی صفائی کردیتی۔ ان کے پیروں کا مساج کردیتی… ان کے کھانے پینے اور دوا کا خاص خیال رکھتی لیکن یہ تمام کام کرتے ہوئے کوشش ہوتی کہ وہ زیبا بیگم کا سامنا نہ کرے۔ مساج کے وقت بھی ڈری رہتی کہ مبادا وہ سوتے سے جاگ نہ جائیں۔
صغیرہ اماں کو اس روز حرارت ہوگئی تو طوسیہ نے ان کو چائے کے ساتھ بخار کی ٹیبلٹ کھلائی تو ان کی آنکھ لگ گئی۔ اس لیے مجبوراً طوسیہ کو کھانا لے کر زیبا بیگم کے پاس جانا پڑا۔
’’تم… تم… کیوں لائی ہو کھانا…؟‘‘ وہ طوسیہ کو دیکھ کر سیخ پا ہوئیں۔
’’صغیرہ اماں کو بخار ہے۔ وہ سو رہی ہیں آپ کی دوا کا ٹائم ہونے والا ہے اس لیے مجھے لانا پڑا۔‘‘ طوسیہ نے کھانے کی ٹرے سامنے رکھتے ہوئے وضاحت دی۔
’’اٹھاؤ… یہ ٹرے اور جب صغیرہ اٹھ جائے تو اس سے کہنا وہ لے کر آئے گی کھانا… تم چلی جاؤ یہاں سے…‘‘ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اس سے زور سے کہا۔
شام کو پھر چائے کا کپ لیے وہ ان کے کمرے میں موجود تھی۔
’’صغیرہ اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں اس لیے چائے مجھے لانی پڑی سوری۔‘‘ ٹیبل پر چائے رکھ کر سر جھکا کر بولی۔ زیبا بیگم نے برا سا منہ بنا کر اسے دیکھا منہ سے کچھ نہ بولیں۔ اٹھنے لگیں دوپٹہ سر سے ڈھلک گیا… الجھے‘ روکھے اور بے رونق بال بکھر گئے۔
’’آپ کے بال بہت الجھ گئے ہیں۔ ان میں تیل لگا کر سلجھا دوں؟‘‘ تھوڑی دیر بعد وہ سامنے موجود تھی۔
’’کوئی ضرورت نہیں… تمہاری ہمدردی کی… میرا خیال رکھنے کی… کیوں خوامخواہ کمبل ہورہی ہو تم… مجھے تمہارے وجود سے نفرت ہے اور تم…‘‘
’’ٹھیک ہے میں جارہی ہوں پلیز‘ آپ چلائیں نہیں۔‘‘ وہ ملائمت سے کہہ کر پلٹی تو دروازے میں عارض کھڑا تھا۔
’’عارض… اپنی بیوی سے کہو اپنی حد میں رہے… اپنی ان حرکتوں سے یہ کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟‘‘
’’مما… میری بیوی آپ کی بہو بھی ہے… اگر اسے آپ کے کام کرنا اچھا لگتا ہے تو…‘‘
’’مگر مجھے کوفت ہوتی ہے… غصہ آتا ہے… اسے دیکھ کر۔‘‘ عارض کی بات کاٹ کر وہ اسی لہجے میں بولیں۔
’’اچھا… اچھا چلیں غصہ نہ کریں‘ چائے پی لیں ٹھنڈی ہورہی ہے۔‘‘ عارض نے طوسیہ کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور خود چائے کا کپ لے کر ان کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔
ز…ز…ز…ز
موسم تبدیل ہورہا تھا۔ ہوا میں خنکی شامل ہوگئی تھی۔ اس موسم کی لپیٹ میں پہلے صغیرہ اماں اور پھر زیبا بیگم بھی آگئیں۔ ویسے بھی بی پی اور شوگر کے زیر اثر تھیں کہ بدلتے موسم نے بھی ان پر جاڑے کے ساتھ شدید بخار کا حملہ کردیا۔ بخار کی حدت کی وجہ سے وہ بے سدھ پڑی تھیں۔ زیبا بیگم نے ایک دو بار نقاہت سے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ عارض بھی ان کے روم میں ہی تھا۔ آتا جاتا رہا مگر طوسیہ… ایک لمحے کو بھی نہیں ہلی… مسلسل پٹیاں رکھنے سے رات کے آخری پہر ان کا بخار تو نارمل ہوا اور طوسیہ نے شکرانے کے نفل ادا کیے۔
زیبا بیگم نے کسمسا کر بہ مشکل آنکھیں کھولیں۔ بخار کی وجہ سے نقاہت کا غلبہ تھا۔ جسم اور سر بھی بھاری ہورہا تھا۔ گھڑی پر نظر ڈالی صبح کے نو بج رہے تھے۔ سامنے کرسی پر آنکھیں موندے طوسیہ بیٹھی تھی۔ زیبا بیگم کی ہلکی سی جنبش پر طوسیہ ہڑبڑا کر اٹھی۔
’’مما… اب آپ کیسی ہیں کیسا فیل کررہی ہیں… پانی دوں…؟‘‘ وہ ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر ان کے قریب آگئی۔ پپڑی زدہ خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے دیکھ کر پوچھا۔
’’ہوں۔‘‘ زیبا بیگم نے نخیف آواز میں کہا۔ طوسیہ نے جلدی سے جگ سے پانی نکال کر ان کو سہارا دے کر تھوڑا سا اونچا کیا اور پانی کا گلاس منہ سے لگادیا۔
’’آپ کلی کرکے یہ دودھ کا گلاس پی لیں تاکہ آپ کو دوا دو۔‘‘ خلاف معمول زیبا بیگم چپ رہیں۔ خاموشی سے کلی کرکے گرم گرم دودھ پیا۔ دودھ پینے کے بعد طوسیہ نے دوائی کھلائی اور ان کو سہارا دے کر واپس تکیے پر لٹا دیا۔ غنودگی کا اثر بھی تھا۔ ان کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں۔
دو تین دن بعد ان کی طبیعت مکمل طور پر ٹھیک ہوگئی تو صبح ناشتے سے فارغ ہوکر دوائیں وغیرہ دے کر طوسیہ زیبا بیگم سے مخاطب ہوئی۔
’’میں نے آپ کے باتھ کا انتظام کردیا ہے۔ گرم پانی سے باتھ لے لیں تو طبیعت مزید بہتر ہوگی۔‘‘
’’تم کیا سمجھتی ہو…؟ اس طرح کی حرکتیں کرکے تم میرا دل جیت لو گی‘ میرے دل میں اپنے لیے سوفٹ کارنر پیدا کرلو گی؟‘‘ وہ پرانی جون میں لوٹ آئی تھی۔
’’آپ کچھ بھی کہیں‘ میں اپنا فرض سمجھ کر یہ سب کرتی رہوں گی… مجھے یہ سب کرکے اچھا لگتا ہے اور میرا آپ کے سوا ہے کون…؟‘‘ اس کا لہجہ ڈول گیا۔
’’تم جاؤ… صغیرہ کو بھیجو۔‘‘ وہی لہجہ وہی ضد۔
’’صغیرہ اماں بازار گئی ہیں۔‘‘
’’اف یہ صغیرہ ہڈ حرام ہوتی جارہی ہے۔ رہنے دو مجھے ضرورت نہیں ہے تمہاری میں خود باتھ لے سکتی ہوں۔‘‘ وہ اٹھنے لگیں۔ مسلسل مساج اور دیکھ بھال سے وہ کافی بہتر ہوچکی تھیں۔ اٹھنے کی کوشش کی تو کھڑے ہوتے ہوئے بر ی طرح لڑکھڑائیں۔
’’الٰہی خیر…‘‘ طوسیہ نے دوڑ کر ان کو سنبھالا۔
’’کیوں ضد کرتی ہیں آپ…؟ پلیز۔‘‘
’’بہت بولنے لگی ہو تم۔‘‘ زیبا بیگم نے اسے گھورا۔
’’اوکے میں نہیں بولتی… آپ ہی بولیں… مگر… ابھی مجھے اپنا کام کرنے دیں۔‘‘ طوسیہ کی بات پر صرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے پر اکتفا کیا۔
نہا دھو کر وہ خود کو فریش محسوس کررہی تھیں۔ آج کمرے سے باہر بھی آئی تھیں۔ لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ طوسیہ کچن میں تھی صغیرہ اماں بھی لاؤنج میں بیٹھی تھیں۔ آج زیبا بیگم نے ان کی بھی نالائقی اور کام چوری پر دل بھر کے کلاس لے لی تھی۔
ز…ز…ز…ز
عدت کے ختم ہوتے ہی ردابہ کی شادی عدیل نے اپنے دوست کے بھائی سے کردی اور وہ بیرون ملک چلی گئی۔ زارا کی چپ اور حد درجہ احتیاط اور میکے سے بالکل لاتعلقی نے عدیل کے دل میں بھی تھوڑی لچک پیدا کردی تھی۔ اس نے بھی ٹھنڈے دل سے حالات کا جائزہ لیا۔ اب ردابہ بھی خوش و خرم تھی۔ تب عدیل کو احساس ہوا کہ زارا بے قصور ہے۔ یہ سب نصیبوں کے چکر ہیں۔ اس لیے اب زارا کو اس نے کبھی کبھی میکے جانے کی اجازت دے دی تھی۔ گو کہ زارا آنے لگی تھی مگر اس کے دل میں طوسیہ کی طرف سے بال سا آگیا تھا کہ اس کی وجہ سے یہ سب ہوا حالانکہ وہ بھی حالات سمجھتی تھی مگر پتا نہیں کیوں دل کچھ شاکی رہتا۔ شاید اس وجہ سے بھی طوسیہ کا اسٹیٹس ان جیسا نہیں تھا۔ اس روز بھی زارا آئی ہوئی تھی۔
’’السلام علیکم آپی…‘‘ طوسیہ نے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام ۔‘‘ سرد مہری سے جواب دیا۔ تھوڑی دیر بعد طوسیہ چائے اور دیگر لوازمات لیے موجود تھی۔
’’ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں تھی میں… مما سے ملنے آئی ہوں خاطر مدارت کروانے نہیں۔‘‘ زارا نے سرد مہری سے کہا۔
’’آپی… میری اماں کہتی تھیں کہ بیٹیاں بڑے مان کے ساتھ میکے آتی ہیں۔ اس امید اور بھروسے کے ساتھ کہ جہاں ان کی ضدیں پوری کی جائیں گی‘ ان کے لاڈ اٹھائیں جائیں گے‘ ان کی فرمائشیں پوری کی جائیں گی۔ اﷲ پاک سب کے میکے اور میکے کی رونقیں سلامت رکھے (آمین)۔ یہ آپ کی مما اور بھائی کا گھر ہے آپی… ناراضی تو آپ کی مجھ سے ہے ناں…‘‘ چائے کی ٹرے رکھ کر وہ آنکھوں کے گوشے صاف کرتی ہوئی واپس پلٹ گئی۔
’’بہت لمبی زبان ہوگئی ہے اس کی۔‘‘ زارا نے چڑنے والے انداز میں ماں کو مخاطب کیا۔ زیبا بیگم نے کچھ جواب نہ دیا خاموش بیٹھی رہیں۔
دو تین دن سے طوسیہ کی طبیعت بھی بہت خراب تھی۔ اس پر زیبا بیگم کا رویہ… وہ بھی انسان تھی… برداشت کی آخری حدوں تک پہنچ چکی تھی۔ رات کو بستر پر لیٹی تو بری طرح رونا آگیا۔
’’آئی ایم سوری طوسیہ… سمجھ میں نہیں آتا مما… ایک عورت ہوکر اس قدر پتھر دل کیسے ہوسکتی ہیں… کب اور کس طرح ان کا دل موم ہوگا‘ آخر کیسے وہ تم سے محبت اور شفقت سے پیش آئیں گی…؟‘‘ عارض بے حد شرمندہ تھا۔
رات بھر طوسیہ بے چین رہی۔ سر بھاری اور دل اچاٹ ہورہا تھا اور عارض صبح ہوتے ہی اس کو ہاسپٹل لے آیا تھا اور ڈاکٹر نے یہاں یہ خوش خبری سنائی تھی۔
’’عارض… ایسی خوشیاں تو سب سے زیادہ نانی اور دادی کو ایکسائیٹڈ کرتی ہیں… میرے بچے کے نصیب میں نانی ہیں نہیں اور دادی…؟‘‘ اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ چہرے پر ملال پھیل گیا۔ گاڑی جھٹکے سے رکی۔ وہ خیالات سے چونکی گھر آگیا تھا۔
’’اوکے تم اندر جاؤ… میں تمہاری میڈیسن لے کر آتا ہوں۔‘‘ عارض نے کہا تو وہ گاڑی سے اتر گئی۔ اندر آئی تو سامنے صغیرہ اماں کو دیکھ کر بے ساختہ ان سے لپٹ گئی اور اسے رونا آگیا۔
’’ارے ارے… کیا ہوا خیریت تو ہے؟‘‘ وہ گھبرائیں۔ حقیقت جان کر ان کی بوڑھی آنکھوں میں بھی خوشی سے آنسو آگئے۔ وہ زیبا بیگم کے کمرے میں آگئی اور ان کے قریب بیٹھ گئی۔ گرم گرم آنسو زیبا بیگم کے پیروں پر گرے تو انہوں نے آنکھیں کھولیں۔
اس نے ڈرتے ڈرتے خوش خبری سنائی دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ قریب آئی تو زیبا بیگم نے اسے کھینچ کر سینے سے لگا لیا۔
’’مجھے معاف کردو میری بچی… میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی‘ کتنی پاگل تھی میں اپنے بچوں کو بھی خوشی کو ترسایا اور خود بھی ترستی رہی لیکن اب… آنے والا بچہ ہمارے لیے بہت مبارک ثابت ہوگا۔ یااﷲ مجھے معاف کردینا… یہ سب تیری رضا تھی… یہ نصیبوں میں لکھا تھا اور میں… میں اپنی جہالت میں تیرے فیصلوں سے لڑتی رہی… میں نادان تھی… مگر… اب ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ وہ زارو قطار روتے ہوئے اعتراف کررہی تھیں۔
اسی لمحے دوائیں لے کر عارض بھی آگیا اور اندر کا منظر اس کے لیے خوش گوار اور حیران کن تھا۔ وہ آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا۔ صغیرہ اماں بھی آگئی تھیں۔
’’مما…!‘‘ عارض نے آواز دی۔
’’میرے بچے… بہت بہت مبارک ہو۔‘‘ انہوں نے اشارے سے عارض کو پاس بلایا اور اسے بھی ساتھ لگالیا۔
’’تم ابھی جاؤ اور مٹھائی لے کر آؤ… آج… آج میں بہت خوش ہوں… اﷲ پاک نے مجھے اتنی بڑی خوشی دی ہے… صغیرہ ارے تم کیا دور کھڑی سوچ رہی ہو… ارے بھئی جلدی سے ہمیں فون ملا کر دو۔ ہم یہ خوشی زارا کو بھی دے دیں۔‘‘ زیبا بیگم نے کہا تو صغیرہ آنکھیں صاف کرتی ہوئی مسکرائیں اور سیل کی جانب بڑھیں۔
زیبا کے کھلے کھلے شگفتہ چہرے کو طوسیہ آج زندگی میں پہلی بار دیکھ رہی تھی۔ ان کا یہ روپ‘ لہجہ اور رویہ طوسیہ کے لیے قطعی انجان اور انوکھا تھا۔
آج… آج اسے اس کی تمام ریاضتوں کا انعام مل گیا تھا۔ دوسرے لمحے ہی اس کے قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہے تھے جہاں وہ سجدے میں جاکر اتنی بڑی بڑی خوشیوں کا شکرانہ ادا کرنا چاہتی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close