Hijaab Nov-18

ڈرائنگ روم پریڈ

صدف آصف

وہ نئے دور کی لڑکی تھی۔ زندگی سے بھرپور‘ چمکتی آنکھوں میں ترقی کا خواب سجائے‘ حقیقت پسندی سے آشنا‘ باحوصلہ‘ زندگی کے کھردرے‘ کڑوے رویوں کو حقائق کی آنکھوں سے دیکھنے‘ پرکھنے اور برتنے والی لڑکی‘ جو ماں بابا کی ایک خواہش پوری کرنے کے چکر میں کئی بار خود کو مارتی‘ اپنی روح پر گھائو برداشت کرتی اور اب بے حوصلہ سی ہونے لگی تھی‘ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب مزید کسی ڈرائنگ روم پریڈ کے لیے تیار نہیں ہوگی۔
’’اللہ جی… ہم لڑکیاں کب تک اس پتلی تماشہ کا حصہ بنتی رہیں گی؟‘‘ آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے فریاد کی۔ اچانک دور سے آتی قدموں کی چاپ پر واپس بستر میں دبک گئی۔
آہٹ پر بند آنکھوں کی جھری سے اس نے روشنی کی دودھیا لکیر کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا۔ وہ ہیجان میں مبتلا ہوتے ہوئے کروٹ بدل کر سونے کا ڈراما کرنے لگی۔
’’اتنا اندھیرا کیوں ہے بھائی؟‘‘ سمیرا دھپ دھپ کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اور زور سے بٹن پہ ہاتھ مار کر کمرہ روشن کردیا۔
’’یہ لڑکی کب بڑی ہوگی؟‘‘ اسے اپنے بستر پر سر سے پیر تک چادر تان کر سونے کی اداکاری کرتے ہوئے دیکھ کر سمیرا کے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ در آئی۔
’’عنایا… اے عنایا… اٹھو… ناں۔‘‘ اس نے بے صبری سے اپنی کزن کے چہرے سے چادر کھینچی۔
’’کیا مصیبت ہے‘ سونے دیں ناں یار…‘‘ وہ چادر کا کونہ چھین کر واپس چہرے پہ ڈالتے ہوئے بولی۔
’’اٹھتی ہو یا لگائوں ایک ہاتھ۔‘‘ سمیرا نے چادر ہٹائی اور اس پر گلاس بھر کر پانی پھینک دیا۔
’’اف آپی… آپ بھی دوسروں کی طرح ظالم ہیں۔‘‘ عنایا کپڑے جھاڑتی ہوئی بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی اور چہکوں پہکوں رونے لگی۔
’’عینی… میری جان۔‘‘ اپنی کزن کے رونے پر سمیرا کا دل پسیج گیا۔ آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تو اس کے سُر آسمان سے باتیں کرنے لگے۔
’’ہوا کیا ہے… کچھ تو بتائو…؟ ہوسکتا میں تمہاری کوئی مدد کرسکوں۔‘‘ سمیرا نے محبت سے پچکارتے ہوئے پیشکش کی تو اس نے مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’سچ بول رہی ہوں… بتائو تو۔‘‘ یقین دہانی کے بعد اس کے کشیدہ اعصاب پُرسکون ہونے لگے۔
’’آپی… پلیززز… مجھے میری ماں اور بابا کے عتاب سے بچالیں…‘‘ وہ اس سے لپٹتے ہوئے بڑی معصومیت سے بولی۔
’’اوف… اب میرے سیدھے سادے سے خالہ خالو نے تمہارا کیا بگاڑ دیا؟‘‘ سمیرا نے دو قدم پیچھے ہٹ کر اسے ناقدانہ نظروں میں تولنے کے بعد ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’آہا… ہا… بڑے معصوم ہیں ناں جیسے۔‘‘ اس کے انداز پہ سمیرا کھلکھلائی۔
’’دونوں نے ایکا کرکے میری جان عذاب میں ڈال دی ہے۔‘‘ عنایا نے چڑتے ہوئے بتایا۔
’’ان کی چھوڑو‘ تم اپنی بتائو‘ ویسے انہوں نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے جو تمہیں میرے کمرے میں چھپنے کی نوبت پیش آگئی؟‘‘ وہ اطمینان سے صوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھتے ہوئے معنی خیز انداز میں بولی۔
’’کچھ زیادہ نہیں‘ بس مہمانوں کے آنے سے پہلے… میں گھر سے بھاگ آئی۔‘‘ اس نے رک رک کر بتایا تو سمیرا نے اسے گھورا۔
’’اوہ… یاد آیا… کل خالہ بتا رہی تھیں کہ تمہیں دیکھنے کچھ لوگ آرہے ہیں۔ شرم نہیں آتی یہاں چھپتے ہوئے‘ وہ لوگ کتنا پریشان ہوں گے۔‘‘ سمیرا نے اسے شرمندہ کیا۔
’’ہاں… پریشان تو… ہوں گے مگر…‘‘ اس نے مجرموں کی طرح سر ہلایا‘ والدین کی تکلیف کا خیال اسے شرمندہ کرنے لگا تھا۔
’’سب کچھ جانتے ہوئے بھی تم نے ایسی بے ہودہ حرکت کی؟‘‘ خالہ خالو کی پریشان صورتیں سمیرا کی آنکھوں میں ٹھہر گئیں تو عنایا پر غصہ بڑھتا چلا گیا۔
’’آپ کیا سمجھتی ہیں‘ میں یہ سب کچھ جان بوجھ کر کرتی ہوں؟‘‘ اچانک اس کی آنکھوں کے کٹورے لبریز ہوگئے۔
’’ہاں تو‘ یہ تو آئے دن کا معمول بن گیا ہے‘ جب کوئی رشتہ لے کر آنے لگتا ہے بنو یا تو بیمار پڑ جاتی ہے یا ہمارے گھر آکر چھپ جاتی ہے۔ تئیسویں سال میں لگ چکی ہو۔ اب کیا زندگی بھر شادی نہ کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘ وہ سر پہ ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگی۔
’’آپی میں سب کو کیسے سمجھائوں۔ مجھے سچ مچ میں شادی نہیں کرنی‘ میں اپنا پیارا گھر چھوڑ کر کہیں اور جانے والی نہیں‘ ماں کے بغیر میری سانس رکنے لگتی ہے۔ ویسے بھی میں‘ میں اپنے بابا کی پرنسز ہوں اور اب کسی اور کی کنیز بن کر مجھے اس کی غلامی نہیں کرنی۔‘‘ وہ روتے ہوئے بولی تو سمیرا کو اس پر ترس آگیا۔
’’ضروری تو نہیں شادی کے بعد تمہیں سسرال میں کنیز بننا پڑے‘ ہوسکتا ہے‘ رانی بن کر تم کسی کے دل پہ راج کرو۔‘‘ سمیرا نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ سمجھانا چاہا۔
’’یہ سب باتیں فلموں اور کہانیوں میں اچھی لگتی ہیں‘ حقیقت بہت تلخ ہوتی ہے۔ ویسے بھی ماں کا بڑا حوصلہ ہے ورنہ سسرال والوں نے نباہ آپی کا جو حال کیا ہے اس کے بعد تو انہیں میری شادی کا نام بھی نہیں لینا چاہیے۔‘‘ اس کا لہجہ بھر آیا تو سمیرا سانس بھر کر رہ گئی۔
’’میری گڑیا… نباہ کی قسمت میں ایسے ناقدرے لوگ تھے مگر سب کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔‘‘ سمیرا نے پیار سے پچکارا۔
’’یہ بھی خوب کہی… اچھا دور کیوں جاتی ہیں۔ دوسری مثال ہماری سونی خالہ کی ہے‘ شادی سے پہلے وہ فیملی میں ہونے والے ہر فنکشن کی جان سمجھی جاتی تھیں‘ اسٹائلش کاٹن کے کپڑوں کا کلف ٹوٹتا نہیں تھا‘ سلکی بال ایک انچ بھی ادھر سے ادھر نہیں ہوتے تھے اور اب ہر تقریب میں اپنے گولو مولو کی ناک صاف کرتی یا نیپی بدلتی ہوئی پائی جاتی ہیں۔ اس سے ٹائم بچ جاتا ہے تو خالو میاں کی ناز برداریوں میں لگی رہتی ہیں۔ اپنا آپ تو جیسے بھول چکی ہیں۔ وہ ہماری کالج فرینڈ عرشیہ مجیب جس کے خوب صورت ہاتھ پیروں سے ہمیں عشق تھا‘ ہر مہینے پارلر جاکر مینی کیور اور پیڈی کیور پر اپنی ساری پاکٹ منی بخوشی خرچ کرتی تھی‘ ملی تھی پچھلی عید پر عجیب کھردرے سے ہاتھ دوپٹے میں چھپاتی ہوئی بڑی مظلوم سی لگی‘ پتا چلا سسرال جاکر‘ روٹیاں تھوپ تھوپ کر بچوں کے باپ کو کھلاتے ہوئے اسے ہاتھ پیر تو چھوڑو اپنے چہرے کا بھی خیال رکھنے کا ٹائم نہیں ملتا۔‘‘ وہ بچوں کی طرح شکوے کرتی ہوئی بڑی پیاری لگ رہی تھی۔
’’اتنا منفی نہیں سوچتے‘ دنیا میں ہزاروں لڑکیاں ہیں جو شادی کے بعد اپنے سسرالوں میں خوشحال زندگی بھی گزار رہی ہیں‘ ہر ایک کی زندگی دکھوں کا محور نہیں بنتی۔‘‘ سمیرا نے ناک چڑھائی۔
’’چھوڑیں بھی آپی… اکثریت آپ کو روتی بسورتی ہی ملے گی۔‘‘ اس نے تو نہ ماننے کی قسم کھا رکھی تھی۔
’’اچھا چلو… گھر چلو۔‘‘ اس نے بحث سمیٹتے ہوئے اسے منانا چاہا۔
’’مجھے نہیں جانا ویسے بھی ایک مہینے سے گھر میں بڑا تماشا لگا ہوا ہے۔ لڑکی دیکھنے کے بہانے جو آتا ہے۔ کھاتا پیتا ہے اور اپنے نمونے جیسے بھائی یا بیٹے کی شادی کے بدلے میں فرمائشوں کی لمبی لسٹ تھما کر چلا جاتا ہے… حالاں کہ کچھ کی اوقات سامنے کھڑے ہوکر بات کرنے جیسی بھی نہیں ہوتی‘ پھر بھی میرے ماں بابا ان جیسوں کے نخرے اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ میں تو یہ سوچتی ہوں کہ ابھی کوئی رشتہ نہیں بنا تو یہ حال ہے بعد میں کیا کریں گے۔‘‘ اس کا تلخ لہجہ سمیرا کو برا نہیں لگا‘ وہ اس کے اندر اٹھنے والے درد کو سمجھتی تھی۔
’’تم ٹھیک کہتی ہو عینی تقریبا ہر لڑکی کو ایسے درد بھری راہ پر چلنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ اذیت سے مسکرائی۔
’’مجھے تو معاف ہی رکھیں۔ مجھے اب مزید نہیں کرنی ڈرائنگ روم پریڈ۔‘‘ اس نے جل کر ہاتھ جوڑ دیے۔
’’بد اندیش‘ ناسمجھ کہیں کی‘ یہ ساری باتیں زندگی کا حصہ ہیں۔ ان باتوں سے بچنے کے لیے کیا تم خالہ خالو کے سینوں پر ہمیشہ مونگ دلتی رہو گی۔‘‘ اس نے اپنے سے چار سالہ چھوٹی کزن عنایا کو پیار سے جھاڑتے ہوئے لیکچر دینا شروع کیا تو وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر بیٹھ گئی تھی۔
خ…ز…خ
عنایا ذرا الگ مزاج کی لڑکی تھی۔ توانائی سے بھرپور زندگی میں کچھ کر دکھانے کی امنگ دل میں چھپائے بابا کی لاڈو پری کو صرف اپنی پڑھائی سے مطلب تھا‘ دوران تعلیم ہی اس نے شہر کی مشہور آئی ٹی کمپنی جوائن کرلی تھی۔ اس کا آئیڈیل اس کے بابا خلیل احمد تھے جو مقامی کالج میں پروفیسر تھے‘ ماں دردانہ خلیل ایک پرائیوٹ اسکول کی پرنسپل تھیں۔ اس کی ایک بڑی بہن نباہ بھی تھی جو مقامی بینک میں جاب کرتی تھی مگر شادی کے بعد کنویں کا مینڈک بن کر رہ گئی تھی۔
شروع سے نباہ ماں کی شیدائی تھی اور عنایا کے اپنے بابا سے دوستانہ مراسم تھے۔ دنیا میں اس کی نظر میں اگر کوئی قابل تعریف شخصیت تھی تو وہ خلیل احمد کی تھی‘ جن کی جگہ وہ کسی اور کو نہیں دے سکتی تھی۔ اس نے بابا کے لاڈ وپیار کی وجہ سے بچپن سے ہی خود کو بابا کی شہزادی سمجھنا شروع کردیا تھا۔ ان سے ناز اٹھواتی‘ اپنے ہر غم اور خوشی کی کہانی ان کو ہی سناتی۔ جب تک نبا کی شادی نہیں ہوئی اس کی زندگی میں سکون ہی سکون تھا مگر بڑی بیٹی کی شادی کے ایک سال بعد ہی دردانہ نے اس کے لیے اچھے رشتے کی تلاش کا کام شروع کردیا۔ وہ بہت مطمئن تھی کہ بابا اس بار بھی اس کی ڈھال بن جائیں گے اور ماں کو اپنے ارادوں میں ناکامی ہوگی مگر اس کی ہر صحیح غلط بات کی حمایت کرنے والے خلیل احمد نے اس بار خاموشی اختیار کرلی بلکہ اس کے غصہ دکھانے پر سمجھانے بیٹھ گئے اور یہ بات عنایا سے کسی بھی طرح برداشت نہیں ہورہی تھی۔ وہ چڑچڑ کر ہر رشتے سے انکار کرتی‘ عین اسی دن بیمار ہو جاتی جب کوئی اسے دیکھنے آنے والا ہوتا مجبوراً دردانہ کو بہانے بنا کر آنے والوں کو روکنا پڑتا‘ کچھ اور نہ بن پڑتا تو وہ برابر میں رہائش پذیر اپنی کزن سمیرا کے گھر جاکر چھپ جاتی جس پر اسے والدین کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑتا مگر وہ کسی بھی طرح خود کو شادی کے سنہری پنجرے میں قید کرنے کو تیار نہ تھی۔ وہ آئے دن اپنی حیرت کا برملا اظہار کرتی کے کیسے ظالم والدین ہوتے ہیں جو اپنی اولاد کو پال پوس کر بڑے آرام سے غیروں کے حوالے کردیتے ہیں۔ شومئی قسمت اگر دردانہ کے سامنے بیٹی کے منہ سے پھول جھڑنے لگتے تو وہ اس کی بے وقوفی پر ماتھا پیٹتے ہوئے‘ اس کے اچھے نصیب کی دعا مانگنے بیٹھ جاتی تھیں۔
خ…ز…خ
زندگی کے بارے میں عنایا کی بڑی واضح سوچ تھی‘ اس کا خیال تھا کے شادی کے بعد انسان اپنی شخصی آزادی کھو دیتا ہے اور اسے بہت ساری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے اس نے طے کیا کہ وہ شادی کے بغیر اپنے ماں بابا کے ساتھ رہ کر دنیا کے سامنے اپنے آپ کو منوا کر رہے گی‘ وہ بیٹی کی جگہ بیٹا بن کر ان کے بڑھاپے کا سہارا بنے گی۔
عنایا کی خواہش تھی کے وہ کچھ ایسا مختلف کرے جو کسی دوسرے نے نہ کیا ہو‘ اسے لگی بندھی زندگی گزارنے میں ذرا دلچسپی نہیں تھی۔ اسی لیے اپنی جاب کو پورا وقت دیتی اور بڑی محنت اور جانفشانی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنی فیلڈ میں مہارت حاصل کرتی چلی گئی۔ ویسے بھی اس کے لیے کام‘ کام نہیں بلکہ ایک بہترین مشغلہ تھا اور آفس ایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتا تھا جہاں اس کی محنت اور قائدانہ صلاحیتیں نکھر کے سامنے آئی تھیں۔ اسی وجہ سے آفس میں اس نے بہت جلد اپنا ایک مقام بنالیا تھا۔ اسی وجہ سے وہ جو یہاں جونئیر کے طور پر کام کرنے آئی تھی‘ اپنی محنت کے بل بوتے پر جلد ہی اسے ٹیم لیڈر بنادیا گیا۔ فی الوقت اس کے زیر نگرانی چھ ورکر کام کرتے تھے۔ جن کے ساتھ پروجیکٹ مکمل کرتے ہوئے اسے انجانی سی خوشی محسوس ہوتی‘ آگے بڑھنے کا جنون دن بہ دن تقویت پکڑنے لگا۔ وہ آئی ٹی کی فیلڈ میں کچھ کر دکھانا چاہتی تھی‘ اسی لیے سب کچھ بھلائے تندہی سے تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ کام کی طرف مکمل طور پر متوجہ رہتی۔ اس کی زندگی میں سکھ و چین کی کمی نہ تھی کے اچانک دردانہ کی ’’رشتہ ڈھونڈ مہم‘‘ نے زندگی عذاب کرکے رکھ دی تھی۔
اس نے ماں کو کئی بار سمجھایا کہ وہ دوسری نباہ نہیں بننا چاہتی‘ اسے ’’ڈرائنگ روم پریڈ‘‘ سے نفرت ہے مگر دردانہ ایک کان سے سنتیں اور دوسرے سے اڑا دیتیں‘ اس کا احتجاج بھی کسی کام نہیں آیا اور دردانہ نے لڑکے والوں کو خوش آمدید کہنا شروع کردیا۔
عنایا بڑی بہن کی تکلیفوں کو بھلا نہیں پائی تھی‘ جو ماں کی رشتہ مہم کے درمیان منہ لٹکائے‘ چلتا پھرتا اداسی کا اشتہار دکھائی دیتی تھی۔ دراصل نباہ‘ اس کے مقابلے میں کم رو تھی‘ اس کا رنگ بھی دبتا ہوا سا تھا‘ اسی لیے جب بھی کوئی اسے دیکھنے آتا‘ وہ ایک دن پہلے سے ڈیپریشن کا شکار ہونے لگتی۔ اذیت اس وقت سوا ہوجاتی جب لڑکے والے بڑی کی جگہ عنایا کو پسند کرجاتے۔ جس پر وہ بہن کے سامنے خود کو چور سا محسوس کرتی تھی‘ دردانہ نے اس مسئلے کا حل یوں نکالا کہ عنایا کو ان لوگوں کے سامنے آنے سے بہانے بہانے سے روکنا شروع کردیا۔ اس بات پر اسے اور شرمندگی محسوس ہوتی تھی کہ وہ بہن کی خوشیوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
’’جانے یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟‘‘ نباہ ماں کا بنایا ہوا گھریلو ابٹن بے دردی سے چہرے پر ملتے ہوئے بڑبڑاتی تو عنایا کو اس پر ترس آنے لگتا۔
’’ماں… یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے؟‘‘ وہ اکثر اوقات ماں سے لڑنے کچن میں پہنچ جاتی تھی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ دردانہ جو سخت گرمی میں لوازمات کی تیاری میں بے حال ہوئی جاتی تھیں‘ چونک کر بیٹی سے پوچھتی تھیں۔
’’جن کے لیے آپ یہ ساری تیاریاں کررہی ہیں ناں‘ وہ آئیں گی‘ ٹھونس ٹھانس کر کھا پی کر چل دیں گی‘ کچھ اور نہیں کریں گی‘ بس جاتے جاتے میری آپی کے دل پہ نیا زخم سجا جائیں گی۔‘‘ اس کے لہجے میں درد تھا۔
’’افوہ… عینی مجھے نہ ستائو۔ پہلے ہی نباہ کو سمجھانے میں مجھے ایک گھنٹہ لگا ہے۔ بھئی اب یہ دستور زمانہ ہے‘ ہم اس کے برخلاف چل بھی تو نہیں سکتے۔ مجھے دو دو بیٹیاں بیاہنی ہیں۔‘‘ دردانہ نے رول میں چکن بھرتے ہوئے چڑ کر چھوٹی بیٹی کو سنایا۔
’’آپ جیسی مائوں کی وجہ سے لڑکے والوں کی ایسی فطرت بن گئی ہے کہ وہ جب تک دس گھروں میں جھانک نہ لیں۔ ہاں نہیں کرتے‘ میرا بس چلے تو چائے پیش کرنے بجائے ایسے لوگوں کو زہر کا پیالا تھما دوں۔‘‘ اس نے دانت کچکچا کر کہا اور کچن میں داخل ہوتی نباہ کو دیکھا‘ جس کی اتری صورت دل دکھا گئی۔
’’بس کر دو عینی… مجھے اب اس بارے میں کچھ نہیں سننا۔‘‘ بڑی بیٹی کو اندر آتا دیکھ کر انہوں نے بات ختم کرنا چاہی‘ ورنہ اس کا دماغ درست کرنے میں منٹ نہ لگاتیں۔
’’جانے یہ مائیں‘ بہنیں‘ بیٹوں‘ بھائیوں کے لیے چاند سی دلہن ڈھونڈنے سے پہلے اپنے خلائی مخلوق جیسے بھائیوں کی صورت پر غور کرنا کیسے بھول جاتی ہیں اور کچھ نہیں تو آئینے میں اپنی شکلیں ہی دیکھ لیا کریں۔‘‘ ماں کے گھورنے پر وہ بڑبڑاتی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی۔ دردانہ نے چور نگاہوں سے بڑی بیٹی کو دیکھا تو کئی مرتبہ رد کیے جانے کا کرب پھیکی مسکراہٹ بن کر اس کے لبوں پر پھیل گیا۔
اس گھر میں یہ بحث اس وقت تک جاری رہی جب تک نباہ کی شادی نہیں ہوگئی۔ اس کے جانے کے بعد عنایا نے ایک سال ہی سکون کا سانس لیا ہوگا کہ وہ ہی کہانی دوبارہ دہرائی جانے لگی‘ بس فرق یہ تھا کردار بدل گیا تھا‘ اب کی بار ٹرالی گھسیٹنے کا کام نباہ کی جگہ عنایا کو کرنا پڑ رہا تھا۔
خ…ز…خ
سمیرا کے سمجھانے پر وہ شام کو لوازمات سے بھری ٹرالی لے کر مہمانوں کے سامنے پیش ہوگئی‘ کچھ آنکھیں اس کی جانب اٹھیں اور نگاہوں میں پسندیدگی چھا گئی‘ ایک بڑی بی بڑی گہرائی سے اس کا جائزہ لینے لگیں‘ عنایا کے جسم پر چونٹیاں سی رینگ گئیں‘ اس کا پورا وجود پسینے میں بھیگ گیا۔ وہ تپ کر چائے ناشتہ پیش کیے بغیر بڑی شان سے جاکر ایک کم عمر لڑکی کے برابر میں بیٹھ گئی۔
’’انایا… ہاں جی‘ نام تو بہت خوب صورت ہے آپ کا…‘‘ ایک عورت نے اس کے نام کا تلفظ بگاڑا۔ اس نے بغیر نگاہ اٹھائے دھیرے سے مسکراہٹ کو دبایا۔
’’میری بیٹی کا نام عنایا ہے۔‘‘ دردانہ نے دھیرے سے تصیح کی۔ وہ جانتی تھیں کہ اسے اپنا نام اپنی ذات کی طرح بہت عزیز ہے۔
’’او جی ایک ہی بات ہے۔‘‘ انہیں دردانہ کا ایسے کہنا برا لگا تو نخوت سے جواب دیا۔
’’ویسے… کتنا کما لیتی ہو؟‘‘ دوسری کا لالچ بھرا لہجہ اسے ناگوار گزرا۔
’’کیوں… کیا آپ نے میرا بینک اکائونٹ کھلوانا ہے؟‘‘ عنایا کے تڑاخ سے جواب دینے پر ساری آنکھیں ایک ساتھ کھل گئیں۔
’’آئے ہائے آج کل لڑکیوں میں ذرا برداشت نہیں۔ بھلا سسرال میں گزارا کیسے ہوگا۔‘‘ بڑی عمر کی اماں نے پان چباتے ہوئے طنز کے تیر برسائے۔
’’عنایا بیٹا چلو سب کو چائے پیش کرو۔‘‘ ماں کی تنبیہہ اور آنکھوں سے ٹپکتی درخواست پر اس نے سارے ہتھیار ڈال دیے۔
’’جی بہتر۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور سب کو چائے پیش کرنے کہ بعد خاموشی سے باہر نکل گئی دردانہ نے ان معزز خواتین کے چہروں پر واضح طور پر ناپسندیدگی اور طنز دیکھا۔ اس کی خوب صورتی کا جادو بھی ان پر بے اثر رہا‘ بعد میں انہوں نے رشتے والی کے سامنے عنایا پر زبان دراز کا ٹھپہ لگا کر اسے مسترد کردیا تھا۔
خ…ز…خ
دردانہ کو انکار کے اس انداز نے بہت تکلیف پہنچائی مگر وہ پی گئیں‘ مسترد کیے جانے کا دکھ عنایا کو بھی بے چین کیے دے رہا تھا مگر بظاہر وہ خود کو خوش باش ظاہر کرتے ہوئے‘ اس نے ہلکے پھلکے انداز میں ماں سے التجا کی کہ اب وہ بھیڑ بکریوں کی طرح کسی کے سامنے اپنی نمائش کی اجازت نہیں دے گی۔
’’ٹھیک ہے بیٹا۔‘‘ دردانہ نے مصلحتاً اقرار میں سر ہلا دیا۔
ماں کے مان جانے کے باوجود عنایا جانتی تھی کہ دردانہ اتنے آرام سے نہیں بیٹھیں گی اسی لیے اسے شادی جیسے مسئلے سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پانے کے لیے کوئی دیرپا حل ڈھونڈنا ضروری ہوگیا تھا۔ جو اسے دوسری صبح آفس جاتے ہی مل گیا۔ جب کمپنی کی طرف سے اسے ایک لیٹر موصول ہوا جس میں اسے دوسرے شہر میں کھلنے والی نئی برانچ کی سربراہی کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ وہ خوشی سے کھل اٹھی۔ سب کچھ حسب منشاء تھا۔ بس ایک ہی قباحت یہ تھی کہ اسے ماں بابا کو چھوڑ کر لاہور شفٹ ہونا پڑتا۔ اس نے کچھ دن سوچ بچار کے بعد اس پیشکش کو قبول کرلیا تھا۔
عنایا کا خیال تھا کہ اس طرح کچھ مہینے منظر سے ہٹ جانے کی وجہ سے شاید دردانہ شادی شادی کھیلنا بند کردیں۔ اس نے گھر میں کسی کو اپنے ٹرانسفر کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بتایا کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ ماں بابا اس بات سے خوش نہیں ہوں گے۔ وہ الجھی الجھی سی‘ خاموشی کے ساتھ جانے کی تیاریوں میں لگ گئی تھی۔
خ…ز…خ
ارحم فرید شہر کے معروف بزنس مین کا بیٹا ہونے کے علاوہ ایک پُرکشش شخصیت کا مالک بھی تھا۔ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع و عریض جائیداد کا اکلوتا وارث بھی تھا‘ عنایا سے اس کی ملاقات ایک آئی ٹی ایگزیبشن میں ہوئی‘ اسے یہ کھردرے لہجے والی نرم و نازک سی لڑکی بھا گئی تھی۔ عنایا نے ایک بار ہیلو ہائے کرنے کے بعد اسے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا اور وہ جاتے جاتے پلٹ پلٹ کر اسے ہی دیکھتا رہا‘ یوں لگا زندگی کا حسن تو عنایا کے دم سے ہے۔ وہ اس کی زندگی کی پہلی رات تھی جب اس نے بزنس کے علاوہ کچھ اور سوچا۔ صبح جب وہ خلاف معمول ناشتے کی ٹیبل پر لیٹ پہنچا اور ماں نے گلابی آنکھوں کا سبب پوچھا تو بے ساختہ اس کے منہ سے عنایا کا نام نکل گیا۔ فرید صاحب تو اسی وقت رشتہ لے جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے‘ بیگم فرید نے سمجھا بجھا کر روکا مگر یہ اعلان ضرور کردیا کہ ارحم کے بزنس ٹور کے سلسلے میں امریکا جانے سے قبل رشتہ لے کر جائیں گے۔
پہلی ملاقات میں ہی ارحم دردانہ کے ساتھ ساتھ خلیل احمد کو بھی بہت پسند آیا لیکن انہوں نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم ارحم کے گھر والوں کی جانب سے کیے جانے والے اصرار نے دردانہ کو ہمت دی اور انہوں نے بیٹی سے بات کرنے کی ٹھانی۔
’’تو پھر میں ارحم کے گھر والوں کو کیا جواب دوں؟‘‘ دردانہ نے بیٹی کے کاندھے کو ہلایا۔
ماں کی بات سنتے ہی اس کے احساسات کے کانچ پہ ہلکی سی خراش پڑی لیکن وہ انجان بنی کھڑی رہی۔
’’بیٹا… اس رشتے میں تمہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ان کے سامنے پیش نہیں ہونا پڑا اور نہ ہی کسی الٹے سیدھے سوال کا جواب دینا پڑا۔‘‘ وہ جتانے لگیں۔
’’ہوں…‘‘ عنایا نے سر ہلایا۔
’’اہم بات تو یہ ہے کہ ڈرائنگ روم پریڈ کے بغیر ہی تم ان لوگوں کو پسند بھی آگئیں۔‘‘ دردانہ نے اس کے اعتراضات کا ایک ایک کرکے جواب لوٹایا۔
’’ماں شادی زندگی کی بہت بڑی ضرورت سہی لیکن اتنی بھی نہیں کہ اس کے بغیر گزارا نہ ہوسکے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’عینی… ہم جیسے سفید پوش گھرانے میں لڑکیوں کے ایسے کون سے بے حساب رشتے آتے ہیں جو مزید انتظار کیا جائے اور ارحم تو ویسے بھی لاکھوں میں ایک ہے‘ بغیر کسی وجہ کے انکار کرکے میں ناشکری نہیں کرسکتی۔‘‘ انہوں نے ایک بار پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
عنایا کیسے شادی کے لیے ہاں کرسکتی تھی جبکہ اسے ایک ہفتے میں اپنا شہر چھوڑ کر لاہور چلے جانا تھا‘ اس نے خود میں ہمت پیدا کی اور مجبوراً ماں کو اپنے ٹرانسفر کے حوالے سے سب کچھ بتادیا۔ یہ بات سنتے ہی دردانہ دل پہ ہاتھ رکھ کر زمین پر بیٹھتی چلی گئیں‘ انہیں بیٹی سے ایسی خود سری کی توقع نہیں تھی۔ ایک دم دل کے مقام پر ایسا درد اٹھا کہ وہ پسینہ پسینہ ہونے لگیں‘ عنایا جو اپنی سنائے چلی جارہی تھی ماں کی کراہ پر اس کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ دردانہ دل پہ ہاتھ رکھے کپکپاتے ہوئے ایک دم زرد پڑ چکی تھیں۔
خ…ز…خ
ماں کی بیماری نے عنایا کی جیسے روح نکال کر رکھ دی تھی‘ اسے کچھ ہوش نہ رہا بس ماں کی پٹی سے لگی بیٹھی رہتی۔ ایک مہینے میں دردانہ کی حالت بہتر ہونا شروع ہوئی تو اس نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ جب سے دردانہ کو اٹیک ہوا تھا‘ اس کی جان جیسے حلق میں اٹک کر رہ گئی تھی۔ اپنا آفس‘ کیرئیر‘ ٹرانسفر اور پرموشن سب بھول گیا‘ یاد رہا تو بس ماں کی بیماری جس کی ذمہ دار وہ خود کو سمجھنے لگی تھی‘ اس نے زندگی میں پہلی بار باپ کو اتنا خاموش دیکھا تھا۔ وہ جی جان سے ماں باپ کی خدمت میں لگ گئی‘ ساری شرارت ضد اور بچپنا بھول کر اتنی ذمہ دار بن گئی کہ خلیل صاحب بیٹی کو دیکھ کر رہ جاتے‘ سب کی دعائوں اور محبتوں کے بعد آخر دردانہ کی حالت میں سدھار پیدا ہونا شروع ہوا تو عنایا کی جان میں جان آئی۔
ماں کی طبیعت تھوڑی سنبھلی تو انہوں نے ایک بار پھر وہ ہی سوال دہرایا۔
’’زندگی کا کوئی بھروسا نہیں… میں اپنی زندگی میں تمہیں‘ ہنستا بستا دیکھنا چاہتی ہوں بیٹا۔‘‘
’’ماں میں آپ کو اکیلا چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتی۔‘‘ اس نے سہمی ہوئی بچی کی طرح دردانہ سے لپٹتے ہوئے کہا۔
’’دیکھو عینی… میں آخری بار تم سے ارحم سے شادی کے بارے میں پوچھ رہی ہوں‘ یقین جانو اس کے بعد کبھی بھی نہیں پوچھوں گی۔‘‘ دردانہ کے کمزور لہجے میں چٹانوں جیسی سختی محسوس کرکے وہ ہار گئی اور اس ایک نکتے پر سوچنے لگی‘ جس سے والدین کو خوشی حاصل ہوسکے۔
خ…ز…خ
’’ڈاکٹر صاحب… ماں کو مزید یہ والی دوائی دینی ہے؟‘‘ اس نے نسخہ پر انگلی رکھ کر پوچھا۔
’’جی دوائی کے ساتھ ان کی غذا کا بھی خاص خیال رکھنا ہوگا۔‘‘ ڈاکٹر اعظم کے ہونٹوں پہ پیشہ ورانہ مسکراہٹ آگئی۔
’’اوکے… میں فی الحال ان کو سوپ اور زود ہضم غذائیں دے رہی ہوں۔‘‘ عینی نے سوالیہ انداز میں انہیں دیکھا۔ وہ معمول کے مطابق چیک اپ کے لیے اسپتال لے کر آئی تھی‘ ڈاکٹر کے تفصیلی چیک اپ کے بعد دردانہ خلیل صاحب کے ساتھ گاڑی کی جانب بڑھ گئیں اور عنایا ڈاکٹر صاحب سے ان کی طبیعت کے بارے میں مزید بات کرنے کے لیے رک گئی تھی۔
’’ایک بات اور مس عنایا۔‘‘ وہ کمرے سے نکلنے لگی تو ڈاکٹر اعظم نے پیچھے سے پکارا۔
’’جی ڈاکٹر صاحب۔‘‘ وہ دروازے پہ ہاتھ رکھ کر مڑ کر انہیں دیکھنے لگی۔
’’اس اٹیک نے مسز خلیل کے اعصاب کو بہت کمزور کردیا ہے‘ کوشش کیجیے گا کہ اب ان کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھا جائے اور کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے ان کے دل کو تکلیف پہنچے‘ شاید وہ اس بار برداشت نہ کر پائیں۔‘‘ ڈاکٹر کا ذو معنی لہجہ اسے اندر تک لرزا گیا تھا۔
’’آپ میری بات کا مطلب سمجھ رہی ہیں ناں؟‘‘ عنایا کو خاموش دیکھ کر انہوں نے اپنی بات پر زور دیا۔
’’جی۔‘‘ عنایا نے بے خیالی میں سر ہلایا اور کپکپاتے ہاتھوں سے دروازہ بند کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔
خ…ز…خ
’’اب کی بار ارحم کی ممی کا جواب لینے کے لیے فون آئے گا تو آپ کیا کہیں گی؟‘‘ رات کو ماں کو چمچے سے سوپ پلاتے ہوئے اس نے لب کھولے تو وہ لمحہ بھر کو چونکیں۔
’’آ… ہاں… ہاں… تم بتائو کیا جواب دینا چاہیے؟‘‘ وہ اس کے سوال پر گڑبڑا گئی تھیں۔
اسے ایک دم ہنسی آگئی جسے چھپانے کی اس نے کوشش بھی نہیں کی۔
’’آپ میری طرف سے ہاں کردیں۔‘‘
’’کیا…؟ کیا عینی…! تم سچ کہہ رہی ہو…‘‘ دردانہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی خوشی کیسے چھپائیں۔
’’ماں… اگر آپ اور بابا کا خیال ہے کہ ارحم میرے لیے ٹھیک ہیں تو پھر مزید کچھ نہ سوچیں۔‘‘ اس نے نیپکن سے ماں کا منہ پونچھتے ہوئے بڑے آرام سے کہا۔
دردانہ اس کے غیر متوقع جواب پر ہڑبڑا کر لائونج میں اخبار پڑھتے ہوئے خلیل احمد کو دیکھنے لگی۔
’’لو بھئی‘ بیگم آپ نے اتنا بڑا معرکہ سر کرلیا اور پھر بھی ایسی اداس شکل بنائے بیٹھی ہیں۔‘‘ ان کے چھیڑنے پر بڑی بے ساختہ سی مسکراہٹ دردانہ بیگم کے لبوں کو چھو گئی۔ عنایا نے ماں باپ کے چہرے پر پھیلا سکون دیکھا تو خود بھی مسکرا دی تھی۔
خ…ز…خ
عنایا رواج کے مطابق جب ولیمے کے بعد میکے رہنے آئی تو اسے دیکھ کر سب دنگ رہ گئے۔ وہ بڑے سکون و سلیقے سے بیٹھی‘ دھیرے دھیرے مسکراتے ہوئے نک سک سے سجی سنوری بڑی پیاری لگ رہی تھی۔ دردانہ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا‘ وہ نباہ اور سمیرا سے باتوں میں مگن تھی‘ اس کے ہر دوسرے جملے میں ارحم کا ذکر ہوتا‘ اس کے انداز بتا رہے تھے کہ اسے اب ہر وقت ارحم کی ضرورتوں کا خیال رہتا‘ ارحم یہ‘ ارحم وہ۔
اس کے ارحم نامے پر سمیرا اور نباہ اسے دیر تک چھیڑتیں رہیں۔ دردانہ کے لبوں پر بڑی پُرسکون مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ وہ جو شادی کو قید سمجھتی آئی تھی‘ ارحم کی محبت نے اس کی سوچوں کا رخ بدل کے رکھ دیا تھا‘ اس کی محبت کی قیدی بن کر وہ آزادی کے مزے لوٹ رہی تھی۔
خ…ز…خ
’’عینی۔‘‘ صبح دردانہ کے پکارنے اور دستک دینے کی آواز پر اس نے دروازہ کھولا۔
’’کیا ہوا ماں؟‘‘ ترو تازہ عنایا ان کے سامنے کھڑی ہوئی تو وہ اسے تکتی چلی گئیں۔ آنکھوں میں کاجل‘ ہونٹوں پر سرخی‘ لمبے بالوں کو سلیقے سے سنوارے ہوئے خوش رنگ و خوش لباس۔ ہاتھوں میں بھر بھر کر پہنی چوڑیوں کی جلترنگ۔
’’کیا یہ میری وہ ہی عنایا ہے‘ جسے سجنا سنورنا ڈراما بازی لگا کرتا تھا؟‘‘ وہ بے اختیار سوچتے ہوئے مسکرا دیں تو عنایا کنفیوژ ہونے لگی۔
’’عینی… تم سسرال میں خوش تو ہو ناں؟‘‘ جانے وہ کیا موہوم سا احساس تھا جو انہوں نے بیٹی سے یہ سوال پوچھنا ضروری سمجھا۔
عنایا کے ہونٹوں پر ابھرتی شرمگیں مسکراہٹ اور جھکے ہوئے سر کے ساتھ چہرے پہ پھیلے سکون میں ان کے سوال کا جواب چھپا ہوا تھا۔ دردانہ نے آگے بڑھ کر بیٹی کی چمکتی پیشانی کو چوم لیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close