Hijaab Nov-18

آٹے کی چڑیا

یاسمین نشاط

’’دادی دے ناں مجھے ایک روپیہ۔ چاچے کی دکان سے گڑیا لوں گی۔‘‘ وردہ کب سے دادی کے پیچھے پڑی تھی۔
’’چل ہٹ یہاں سے۔ تنگ نہ کر‘ بلا ماں کو آکے ہانڈی چڑھا لے۔‘‘ خورشید نے گھرکا تو پانچ سالہ وردہ بلکنے لگی۔ خورشید نے جو ایسے بلکتے دیکھا تو آٹے کی پرات اپنی طرف کھسکالی اور دو انگلیوں سے آٹا کھینچ کر کچھ شکلیں بنانے لگی۔
’’یہ لے تیری گڑیا‘ یہ گھوڑا اور یہ چڑیا۔‘‘ اس نے روتی بلکتی وردہ کے آگے کھلونے رکھے تو وہ اشتیاق سے اٹھ بیٹھی۔ گڑیا کو ہاتھ لگایا‘ لٹک گئی‘ گھوڑا پہلے ہی دھڑام ہوا پڑا تھا۔ اس نے چڑیا کو احتیاط سے اٹھایا اس کی ننھی ننھی آنکھوں میں ہلکی سی خوشی تھی۔
’’یہ چڑیا اڑے گی دادی؟‘‘ اس کے خیالوں نے اس نرم سی چڑیا میں رنگ بھی بھرے اور پنکھ بھی لگائے۔
’’لے دس…‘‘ دادی زور سے ہنسی۔ ’’جھلی نہ ہووے تے۔‘‘ آٹے کی چڑیا بھی کبھی اڑی ہے۔‘‘ وہ آٹے کو دوبارہ تھپکتے ہوئے ہموار کرنے لگیں۔
’’پر دادی اگر اس کے پر لگا دیں تو؟‘‘ وہ شدت سے اس چڑیا کے اڑنے کی خواہش مند تھی۔
’’جو مرضی کرلے‘ آٹے کی چڑیا نہیں اڑ سکتی۔‘‘ اب کہ جواب باورچی خانے میں آتی صفیہ نے دیا۔ وہ مایوس ہوگئی۔ اسے کیا کرنا تھا ایسی چڑیا کا جو اڑ بھی نہ سکے۔ وہ چڑیا کو لیے باہر صحن میں آگئی۔ صحن میں لگا بڑا سا پیپل کا درخت جس پر ہر وقت چڑیاں چہچہاتی تھیں‘ اس نے ہاتھ میں پکڑی چڑیا کو جو اب اپنی ہئیت کھوچکی تھی۔ تقریباً درخت کے تنے کی ساتھ چپکا دیا اور ہش ہش کرنے لگی تھی۔
خ…خ…خ
خورشید اور عبدالغنی کا گھرانہ بھرا پرا تھا۔ پانچ بیٹیاں‘ چھ بیٹے‘ بٹوارے کے وقت ان کے حصے میں آنے والی یہ حویلی اب بوسیدہ ہوچکی تھی۔ تین منزلہ اس حویلی کے چوبیس کمرے تھے۔ نچلے میں دو بیٹھکیں‘ دائیں اور بائیں‘ تین تین کمرے۔ بیچوں بیچ ایک بڑا سا نشست خانہ‘ جس میں سارا دن یہ خواتین جمع رہتیں۔ بائیں طرف کی بیٹھک اور کمرے کو ملا کر باور چی خانے کی شکل دے دی گئی تھی اور پرانے باورچی خانے کو مہمانوں کے لیے غسل خانہ بنادیا گیا تھا۔ ملحقہ غسل خانوں کا تب رواج نہ تھا‘ اس لیے ہر پورشن میں ایک ایک غسل خانہ اور ایک ایک ٹوائلٹ تھا۔
خورشید بیگم نے عقل مندی کرتے ہوئے بڑی تینوں بیٹیوں کی ساتھ ساتھ شادیاں کردی تھیں اور اس کے بعد بڑا بیٹا عبدالوحید… تھا۔ صفیہ ان کی بھانجی تھی‘ بلا کی سلیقہ مند۔ سارا گھر سنبھال رکھا تھا۔ خورشید بیگم میں دم خم تھا اور وہ بھی برابر ہاتھ بٹاتی تھیں۔ عبدالغنی کی ٹھیکیداری اب عمر کی نذر ہوچکی تھی۔ عبدالوحید خرادیے کا کام کرتا تھا۔ دونوں چھوٹے عبدالوہاب اور عبدالرحمن کو ساتھ لگا رکھا تھا۔ آمدنی ٹھیک تھی۔ بھلے وقت تھے۔ گزارا بخوبی ہوجاتا تھا۔
چھوٹے تینوں پڑھنا چاہتے تھے اور ان کی دیکھا دیکھی چھوٹی دونوں لڑکیوں کو بھی شوق چڑھا تھا۔ سو کوئی ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنا تھا۔
وقت کی چڑیا پر پھیلائے منزلیں طے کررہی تھی۔ صفیہ بیگم نے بیٹے کی چاہ میں پانچ بیٹیاں پیدا کرلی تھیں۔ خورشید بیگم کی پوتا دیکھنے کی چاہ پوری نہیں ہو پا رہی تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ عبدالوہاب کی شادی کردیں تو ان کی خواہش پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے۔ لیکن عبدالوہاب کی آنکھوں میں کچھ اور خواب سجے تھے۔ وہ سعودیہ جانا چاہتا تھا۔ اپنی زندگی بہتر کرنا چاہتا تھا۔
عبدالغنی نے دو چار پلاٹس خرید رکھے تھے۔ جو ان کا کل اثاثہ تھے۔ عبدالوہاب باپ کو مجبور کرنے لگا کہ پلاٹ بیچ کر اس کے سعودیہ جانے کا بندوبست کیا جائے۔ عبدالغنی جائیداد بیچنے کے حق میں ہرگز نہیں تھے۔ لیکن عبدالوہاب نے ماں اور عبدالوحید کے ذریعے دبائو ڈال کر عبدالغنی کو قائل کرلیا لیکن وہ پلاٹ بیچنے پر پھر بھی رضا مندی نہ ہوئے۔ خورشید بیگم نے کمیٹی ڈال لی۔ کچھ جمع پونجی عبدالوحید کے پاس بھی تھی۔ یوں مل ملا کر اتنا ہوگیا کہ عبدالوہاب اپنے خواب میں رنگ بھر سکے‘ اس کے ہاتھ میں ہنر تھا۔ ان دونوں ایسے لوگوں کی مانگ بھی تھی۔ سعودیہ جاتے ہی چند دن بیروزگار رہنے کے بعد اسے ایک ورکشاپ میں نوکری مل گئی۔
پاکستان ریال آنے لگے تو خورشید بیگم کی چال بھی بدل گئی۔ بیٹا سعودیہ میں تھا۔ ریال بھیج رہا تھا۔ ساتھ میں ضروریات زندگی کی اشیاء بھی‘ مسالا پیسنے کی مشین‘ ملک شیک بنانے والی مشین‘ گھر کی مرمت ہوگئی‘ رنگ و روغن ہوگیا۔ نئے پردے‘ نئے قالین‘ نئے برتن‘ پیتل اور مٹی کے برتنوں کی جگہ پلاسٹک اور چینی کے برتن آگئے۔ وائل اور لان کی جگہ شیفون نے لے لی۔ سرخی غازہ کی جگہ رنگ برنگی میک اپ کٹیس آگئیں۔ دیسی خوشبو کی جگہ ولائتی پرفیوم آگئے۔ چند ہی سالوں میں گھر اور گھر والوں کا نقشہ ہی بدل گیا۔ انکساری کی جگہ نخرہ آگیا تھا۔
عبدالوحید نے بھی دکان بڑھالی۔ ایک کے بجائے چار مشینیں لگ گئیں‘ اتنے ہی کاریگر بھی ہوگئے۔ عبدالوہاب کا باہر جانا سب کو راس آگیا اور عبدالغنی علاقے میں چودھری صاحب ہوگئے۔ خورشید بیگم اب عبدالوہاب کی شادی کرنا چاہتی تھیں۔ صفیہ کے ہاں تو پھر چھٹی لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ حالانکہ اس بار تو وہ بابا جی سے اولاد نرینہ کے لیے تعویذ بھی لائی تھیں۔ مگر اس بار بھی بیٹی کی پیدائش نے عبدالوحید کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ اب وہ تھکا تھکا سا بھی رہنے لگا تھا۔ وردہ پڑھائی میں بہت اچھی تھی اور چاچا عبدالوہاب نے اس کے ذہن میں بات ڈال دی تھی کہ اسے ڈاکٹر بننا ہے اور اس کے ڈاکٹر بننے کا سارا خرچا انہوں نے اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی لیے اس نے میٹرک میں اچھے رزلٹ کے لیے دن رات ایک کردیے تھے اور جس دن اس کا رزلٹ آیا اسی دن چاچا بھی نو سال بعد وطن واپس آیا تھا۔ اس نے صوبے بھر میں ٹاپ کیا تھا۔ ساری برادری میں خورشید کی ناک اونچی ہوگئی تھی۔ لڑکی ہوکر اس نے لڑکوں کو مات دے دی تھی۔
عبدالوہاب نے خود جاکر سب سے اچھے کالج میں اس کا داخلہ کروایا لیکن یہاں خوشی اسے راس نہیں آئی تھی۔
عبدالوحید صبح اچھا خاصا دکان پر گیا تھا لیکن شام کو ایمبولینس میں واپس آیا تھا۔ پہلا دورہ پڑا تھا دل کا اور پہلا ہی وہ سہار نہیں پایا۔ صفیہ کی تو دنیا ہی اندھیر ہوگئی تھی۔ چھ چھ بیٹیاں اور ساتویں کی پھر آمد۔ خورشید بیگم کا جوان بیٹا لمحوں میں ہاتھوں سے نکل گیا تھا۔ وہ تو بائولی ہی ہوگئی تھیں۔ وقت مرہم بنا‘ کچھ مہینے سرک گئے۔ صفیہ کی عدت پوری ہوئی اور ساتھ میں ڈلیوری بھی۔ اپنے بچے کو دیکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر روئیں۔
جس بیٹے کو باپ ترستا رہا۔ جب وہ اس دنیا میں آیا تو اس کے لاڈ اٹھانے والا کوئی نہ تھا۔ خورشید بیگم کو بیٹے کے غم نے کھایا تو پوتے کی آمد نے گھائو بھرا بھی‘ ننھا جہانزیب سب کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ چاچے‘ پھوپیاں‘ دادا‘ دادی سب لاڈ اٹھانے والے تھے۔ صفیہ کا غم ہرا تھا۔ وہ کبھی بیٹے کو دیکھ کر خوش ہوتیں اور کبھی اپنی بچیوں کی طرف دیکھ کر آہیں بھرا کرتیں۔ عبدالوہاب سال بھر بعد دوبارہ واپس آیا تو خورشید بیگم نے اس کی شادی کردی۔ تین ماہ رہ کر جب وہ واپس گیا تو ثانیہ کے لیے وقت کاٹنا محال ہوگیا۔ اب اس کی دلچسپی کی کوئی چیز اس گھر میں نہیں تھی۔ عبدالوہاب اس بار کمرے میں ایئر کنڈیشند بھی لگوا گیا تھا۔ پیڈسٹل پنکھے کے آگے چار پائیاں بچھا کر سونے والوں کو یک لخت ہی موسم بے حد گرم لگنے لگا تھا۔
دوپہر کا کھانا کھاتے ہی مشین چالو کردی جاتی۔ گھر بھر فرش پر گدے بچھائے محو استراحت ہوجاتا۔ ثانیہ کو یوں سب کا اپنے کمرے میں گھس کر آرام کرنا بے حد کھلتا تھا۔ لیکن ابھی وہ زبان کھول نہیں رہی تھی‘ بس برداشت کررہی تھی‘ عبدالوہاب نے اب رنگین ٹیلی ویژن اور وی سی آر بھی بھجوادیا تھا۔ خورشید بیگم کی اس پرانی حویلی میں تو کوئی اور ہی دنیا سج گئی تھی۔
جمعرات کی رات کو بڑے اہتمام سے رات بھر وی سی آر پر فلمیں دیکھنے کا اہتمام ہوتا اور سارا جمعہ سوکر گزارا جاتا۔ زندگی پتا نہیں سہل ہوئی تھی کہ مشکل‘ لیکن رحمت کا فرشتہ اب دروازے سے لوٹ کر جانے لگا تھا۔ گھر کے مکین اب دن چڑھے تک سونے لگے تھے۔
دونوں چھوٹیاں اب شادی کے قابل تھیں اور لڑکے بھی۔ وردہ تن دہی سے اپنی پڑھائی میں مشغول تھی۔ عبدالوہاب اس کا سارا خرچا اٹھائے ہوئے تھا۔ عبدالرحمن اب عبدالوحید کی دکان کا بلاشرکت غیرے مالک بن گیا تھا۔ آمدنی کا کچھ حصہ وہ صفیہ کو دیتا تھا‘ باقی ماں کو۔ جب کہ خورشید بیگم اب روایتی ساس بن کر سوچنے لگی تھیں کہ جب ان کا سارا خرچا پانی عبدالوہاب اٹھا رہا ہے تو الگ سے پیسے دینے کی کیا ضرورت ہے اور یہی سوچ تعلقات میں رفتہ رفتہ خرابی کا سبب بنے لگی۔
وردہ کے علاوہ بھی پانچ بچیاں تھیں۔ بیٹا تھا۔ اپنی ضروریات پر تو صفیہ نے بند باندھ دیا تھا لیکن بچیوں کی سو قسم کی ضرورتیں تھیں جو عبدالرحمان کے دیے گئے ان قلیل روپوں سے وہ کھینچ تان کر پورا کرتیں ان کی ایک ہی خواہش تھی کہ وردہ ڈاکٹر بن جائے۔ وردہ سے چھوٹی رانیہ اور حدیقہ ایف اے میٹرک تک پہنچ چکی تھیں۔ جتنی مدد وہ وردہ کے لیے لے رہی تھیں‘ اب وہ باقیوں کے لیے لیتے ہوئے شرم محسوس کرتی تھیں۔ پہاڑ سی زندگی اور چھ چھ بیٹیاں‘ وہ واقعی سمجھ نہیں پائی تھیں کہ وہ اتنے ڈھیر سارے فرائض عبدالوحید کے بغیر کیسے پورے کر پائیں گی۔
انہوں نے عبدالرحمنٰ سے کچھ زیادہ پیسوں کا تقاضا کیا تھا۔ رانیہ کے سارے کپڑے بوسیدہ ہوچکے تھے۔ اسے ایک دو جوڑوں کی اشد ضرورت تھی۔ انہوں نے اپنا ٹرنگ بھی کھنگالا تھا۔ جہیز کے کچھ ان سلے کپڑے بچے پڑے تو تھے مگر وہ سارے فینسی تھے۔ بالآخر کوئی راہ نہ پاکر انہوں نے جھجکتے ہوئے عبدالرحمٰن سے ہی کہہ دیا تھا اور عبدالرحمن نے بنا کسی عذر اگلے روز شام کو ان کی مطلوبہ رقم تھمائی تو خورشید بیگم کا پارہ ہائی ہوگیا۔ وہ سنائیں وہ سنائیں کہ صفیہ کا دل ہی ڈوبنے لگا۔ اتنی بڑی بات تو تھی نہیں۔ انہیں ضرورت کے لیے ان ہی لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے تھے۔ خورشید کو سمجھانے کی کوشش کی‘ لیکن وہ تو بڑے دنوں سے غصے میں تھیں۔ لڑکوں کو حکم دے دیا کہ ان کا سامان اوپر والے پورشن میں شفٹ کردیا جائے۔
اپنا کھائیں پکائیں‘ اپنی ضروریات خود پوری کرنے کی کوشش کریں۔ صفیہ کے پاس سوائے خاموشی کے چارہ نہ تھا۔ بحث کرتیں تو کہیں وردہ کا خرچا بھی بند نہ ہوجاتا۔ سو عافیت اسی میں تھی کہ ہر زیادتی چپ کرکے سہہ لی جائے‘ عبدالرحمن نے انہیں تسلی دی تھی کہ وہ انہیں رقم اسی باقاعدگی سے دے گا۔ وہ ٹینشن نہ لیں۔ لیکن حقیقت یہ بھی تھی اس معمولی رقم سے زندگی کی گاڑی گھسیٹنا مشکل ترین امر تھا۔
صفیہ نے اپنی سلائی مشین نکال لی‘ ہنر ان کے ہاتھ میں تھا اور اب اس سے فائدہ اٹھانے کا یہی صحیح وقت تھا۔ انہوں نے ارد گرد کے گھروں سے کپڑے اٹھانے شروع کیے‘ بہت خوب صورت سلائی کرتی تھیں۔ چند ہی دنوں میں انہیں کافی گھروں سے کپڑے ملنے لگے۔
رانیہ جو آج کل فارغ تھی‘ ماں کے ساتھ بیٹھنے لگی اور دیکھتے دیکھتے ہی اس نے سلائی‘ کٹائی سیکھ لی۔ دوست کے گھر سے وہ فیشن میگزین لے آتی اور ہر ڈیزائن ہو بہو تیار کرنے لگی۔ صفیہ کو آسرا ہوگیا‘ رانیہ جلد ہی خود بھی کپڑے ڈیزائن کرنے لگی اور ایک بوتیک پر بھی کپڑے رکھوانے لگی۔ خورشید بیگم کی انا کو شدید ٹھیس پہنچی۔ ان سے پوچھے بغیر بہو اور پوتیاں کاروبار کرنے لگی تھیں۔ انہوں نے اوپر آکر صفیہ بیگم کو خوب ہی لتاڑا۔ اپنی ناک کٹ جانے کا واویلا مچایا۔ وہ حیران تھیں کہ اگر انہوں نے زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینا شروع کردیا ہے تو کسی کی بھی زبان پر حرف کیوں آنے لگا ہے؟
وہ عبدالوباب کو بھاوج اور بھتیجیوں کے کرتوں کا ایسا نقشہ کھینچ کر سناتیں کہ دور دیس بیٹھے عبدالوہاب کا دل کھٹا ہوجاتا۔ اصل میں اب خورشید بیگم وردہ کا خرچا بند کروانا چاہتی تھی۔ تکلیف تو ثانیہ کو بھی بہت تھی کہ اس کا شوہر اپنی کمائی بھتیجی پر لٹا رہا ہے اور اب تو اکثر جب بھی عبدالوہاب کا فون آتا وہ صفیہ کے کاروبار کی وہ تعریفیں کرتی گویا بس ان کا کاروبار ہی بھرپور منافع دے رہا تھا۔ لیکن اس معاملے میں عبدالوہاب نے کسی کی ایک نہ سنی تھی۔ اللہ نے عبدالوہاب کو چاند سا بیٹا عطا کیا تو وہ بھاگا بھاگا پاکستان آیا اور اپنے بچے کے ساتھ بھائی کے بیٹے کے لیے بھی بہت ساری چیزیں لایا۔ ثانیہ کے آگ تو لگی سو لگی۔ خورشید بیگم کے بھی تلوں سے لگی تو سر پر جاکر بجھی۔ انہوں نے فوراً ساری چیزوں پر فیصلہ کیا
’’یہ میرے نومی کا حق ہے۔‘‘ کہہ کر ساری چیزیں الماری میں گھسیڑ دیں اور بازار سے جاکر سستا سا ایک جوڑا ایک ریڑھی پر بکنے والا پلاسٹک کا گھوڑا لادیا۔ ان کی اوقات یہی تھی۔
صفیہ بیگم وقت کی ستم ظریفی پر مسکرا بھی نہ سکیں۔ جہانزیب ان کا منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہونے والا بیٹا اور پوتا تھا۔ باپ سر پر نہیں رہا تھا تو بھی انہوں نے بیٹے کے ناز اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
وردہ ایم بی بی ایس کے پہلے سال میں پہنچ گئی تھی۔ مہینے دو مہینے بعد گھر آتی۔ اسے ان سب کا خواب پورا کرنا تھا۔ ماں کا سہارا بننا تھا۔ چھوٹی بہنوں کی فکر کرنا تھی۔ وہ وقت سے پہلے سمجھدار ہوگئی تھی۔ لڑکیوں والی کوئی شوخی اس میں تھی ہی نہیں۔ سنجیدہ اور برد بار‘ جن حالات میں وہ ایم بی بی ایس کررہی تھی‘ وہاں ویسے بھی کسی دوسری خرافات کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
رانیہ ایف اے کرچکی تھی اور ماں کے ساتھ سلائی میں پورا ہاتھ بٹا رہی تھی۔ اس کا ڈیزائننگ والا شوق اس کے کام آرہا تھا کہ ایک اور مصیبت آگئی۔ خورشید بیگم نے عبدالرحمن اور اعجاز احمد کے ساتھ ساتھ سجیلہ کا بھی رشتہ طے کردیا اور تین ماہ بعد ہی شادی بھی رکھ دی لیکن یہ شادی وہ نئے گھر میں کرنا چاہ رہی تھیں۔ جانے کب سے انہوں نے یہ حویلی بکنے پر لگا رکھی تھی اور کسی کو یا کم از کم صفیہ کو کانوں کان خبر نہ ہوئی تھی۔ صفیہ تو مبارک باد دینے نیچے آئیں تھیں اور یہ کہ شادی کے سارے کپڑے وہ اور رانیہ خود سئیں گی مگر خورشید بیگم کی نفرت اور حقارت کا کوئی عالم نہ تھا۔
’’اے‘ درزی مر گئے کیا شہر کے‘ جو میں تم سے کپڑے خراب کروائوں‘ اتنا مہنگا کپڑا بھیجا ہے عبدالوہاب نے‘ سب سے اچھا درزی بٹھائوں گی میں۔‘‘ خورشید بیگم نے ہاتھ پر لوشن مل کر اس کی خوشبو سونگھی۔
’’جیسی آپ کی مرضی امی۔‘‘ وہ سر جھکا کر رہ گئیں۔
’’اچھا تم نے سن تو لیا ہوگا کہ حویلی بیچ دی میں نے۔‘‘ صفیہ نے گھبرا کر ساس کی طرف دیکھا۔
’’اچھا‘ مگر کیوں؟‘‘ وہ اتنا ہی کہہ سکیں۔
’’بس پرانا ہوگیا یہ گھر‘ ڈیفنس میں لے لیا۔ بنگلہ عبدالوہاب نے۔ اس سے تو چھوٹا ہے مگر ہے بڑا شاندار‘ باہر ایک باغیچہ بھی ہے اور ہر کمرے کے ساتھ الگ باتھ روم‘ محل ہے محل۔‘‘ ان کا غرور اور فخر سے دمکتا چہرہ۔ ’’اللہ سلامت رکھے میرے ’عبدالوہاب کو‘ جی! آمین۔‘‘ وہ دعا گو ہوئی۔
’’میں نے عبدالرحمن سے کہہ دیا ہے تم لوگوں کے لیے کرائے کا کوئی چھوٹا موٹا دو کمروں کا گھر دیکھ لے۔‘‘
’’جی…!‘‘ اصل دھماکا تو ہوا ہی اب تھا‘ یعنی وہ ان کے ساتھ نئے گھر میں نہیں جارہے تھے۔ وہ بیٹھے سے کھڑی ہوگئی پھر بیٹھ گئی۔ اضطراب نے اس کے پورے وجود کا احاطہ کرلیا تھا۔
کہاں جائیں گی وہ سات بچوں کو لے کر اور اکیلی کیسے رہیں گی۔ یہ تو بھرا پرا گھر تھا اور پھر کرایہ یوٹیلی بلز‘ سو خرچے ہوتے گھر چلانے کے لیے۔ کہاں سے آئے گا اتنا پیسہ‘ لے دے کے ایک دکان کی آمدنی کا کچھ حصہ‘ جس سے دونوں چھوٹیوں کی فیس ادا ہوجاتی۔
’’امی… میں کیسے… بچوں کے ساتھ… اکیلی… کہاں سے کروں گی۔‘‘ ان کے آنسو چھلک اٹھے۔
’’دیکھ صفیہ…‘‘ خورشید کے لہجے میں رحم کا شائبہ تک نہ تھا۔
’’میرے بیٹے کب تک تمہارا بوجھ اٹھاتے پھریں گے‘ شادیوں کے بعد ان کے اپنے بچے ہوں گے‘ سو خرچے اور تمہارے ایک نہ دو پورے سات بچے۔ شکر کرو عبدالوہاب نے بڑی کے کالج کا خرچہ اٹھا رکھا ہے ورنہ کون دیتا‘ آج کل‘ آج اس کا ایک بچہ… کل دو تین‘ وہ تمہارے بچوں کے بارے میں سوچے گا کہ اپنے بچوں کے بارے میں‘ تمہیں اب خود ہی ہمت کرنا ہوگی… ایک تو تُو پیدائشی بدقسمت ہے۔ پہلے ماں باپ کو کھا گئی اور پھر شوہر کو بھی… تجھے اپنی زندگی کا نظام کیسے چلانا ہے تو خود ہی سوچ اور دس پندرہ دن میں ہی سوچ کیونکہ ہم نے اسی مہینے یہ حویلی خالی کردینی ہے۔‘‘
رشتے اتنے سفاک بھی ہوسکتے ہیں۔ صفیہ سر جھکائے بیٹھی رہیں‘ ان میں اٹھ کر اوپر جانے کی ہمت ہی نہیں رہی تھی۔ آنسو گود میں رکھے ہاتھوں کو بھگوتے رہے۔
’’دادی ٹھیک کہتی ہیں امی۔‘‘ رات کو جب انہوں نے وردہ کو رو رو کر فون پر سب کچھ سنایا تو اس نے جواب میں یہی کہا کہ دادی ٹھیک کہتی ہیں۔ ہم کب تک دوسروں کا منہ دیکھتے رہیں گے۔
’’ایک نہ ایک دن تو یہ سب ہونا ہی تھا۔ چلو اب ہوگیا۔ اب پریشان نہ ہوں۔ چاچو جو گھر ڈھونڈ کردیتے ہیں ٹھیک ہے۔ اللہ بہتر کرے گا۔‘‘ وردہ تسلی دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ میڈیکل کی مشکل پڑھائی اسے کچھ اور کرنے کا خیال بھی نہیں آنے دیتی تھی۔ گھر کا انتظام ہوگیا اور صفیہ بچوں کو لے کر وہاں شفٹ ہوگئی تھیں۔
خ…خ…خ
صفیہ کو خورشید بیگم نے کہا تھا کہ انہیں اپنے بارے میں خود ہی سوچنا ہے۔ تو انہوں نے کمر کس لی تھی۔ ’’سلائی سینٹر‘‘ کھولنے کے ساتھ ساتھ حمنہ اور فاریہ نے شام کی ٹیوشنز پکڑ لی تھیں۔ کالج سے آنے کے بعد وہ شہر کے پوش علاقوں میں ٹیوشنز پڑھانے چلی جاتیں۔ انہیں معقول معاوضہ مل جاتا تھا‘ چار پانچ گھنٹے کی ٹیوشنز کے بعد انہیں اتنی رقم مل جاتی تھی کہ وہ اپنی اور چھوٹی بہنوں کی فیسیں ادا کرسکیں۔
خورشید بیگم نے شادی کا کارڈ اعجاز اور چھوٹی رضیہ کے ہاتھ بھجوایا۔ وہ جانا چاہتی تھیں‘ لیکن ساتھ آیا کپڑوں کا بنڈل ان کی عزت نفس پر تازیانہ بن کر لگا۔ خورشید بیگم نے اپنی اور تانیہ کی اترن بھجوائی تھی کہ کانٹ چھانٹ کر پورے کرلیے جائیں اور یہ کہ ان کے سمدھی بہت اونچے لوگ ہیں۔ اس لیے کم قیمت کپڑے پہن کر ان کی عزت کو داغدار نہ کیا جائے۔ صفیہ نے وہ بنڈل شکریے کے ساتھ واپس کردیا تھا۔
’’میں کوشش کروں گی کہ اپنی محنت کے بل بوتے پر ان کے شایان شان شادی میں شامل ہوسکوں۔‘‘ اعجاز اور رضیہ بنڈل واپس لے گئے۔ خورشید بیگم کو ان کی خود سری ایک آنکھ نہ بھائی اور گھر آکر بے نقط سنا گئیں۔ صفیہ نے خاموشی سے سب سنا اور شادی میں شریک ہونے سے خود کو روک لیا۔ لیکن مہندی کی رات عبدالوہاب لینے آگیا۔ اس کی آنکھ میں شرم و حیا باقی تھی۔ بڑے بھائی کی محبت بھی دل میں تھی اور وہ جانتا تھا اگر خفیہ طور پر بڑا بھائی اسے ایک معقول رقم نہ دیتا تو وہ کبھی باہر نہ جا پاتا اور وردہ کی تعلیم کا خرچا اٹھانا اسی احسان کو اتارنے کی ایک کوشش تھی۔ صفیہ لاعلم تھیں لیکن وردہ کی وجہ سے وہ اس کی احسان مند تھیں۔ سو دیور کا مان رکھ لیا اور اس کے ہمراہ چلی گئیں۔ کسی نے انہیں دیکھ کر خوشی کا اظہار نہیں کیا تھا۔ بس رسمی علیک سلیک‘ انہوں نے خاموشی سے فنکشن میں شرکت کی اور چلی آئیں۔ بچا کر رکھے گئے کچھ روپے اور ساس سسر کا جوڑا‘ کسی نے نہیں پوچھا۔ بچیاں کیوں نہیں آئیں۔ گھر آئی تو سب کے لبوں پر ایک ہی سوال تھا۔
’’دادی ٹھیک طرح سے ملیں… کچھ کہا تو نہیں؟‘‘ صفیہ نے کچھ جواب نہیں دیا اور خاموشی سے لیٹ گئیں تھیں۔ عبدالوحید کی یاد اس رات ساری دیواریں پھاند کر اودھم مچانے آگئی تھی اور ان کا تکیہ ساری رات بھیگتا رہا تھا۔
خ…خ…خ
وردہ کا ایم بی بی ایس مکمل ہوا ساتھ ہی چھوٹا جہانزیب اسکول میں داخل ہوگیا تھا۔ ان چھ سات سالوں میں صفیہ نے بہت کڑا وقت بھی دیکھا اور خوش اسلوبی سے صدیقہ اور رانیہ کے فرض سے سبکدوش ہوگئیں۔ وہ کسی بھی بیٹی کو زیادہ دیر بٹھائے رکھنے کی اہل نہیں تھیں۔ رانیہ کے لیے رشتہ اس کی ایک دور کی کزن لے کر آئی تھی۔
لڑکا اکیلا تھا۔ نہ ماں نہ باپ‘ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں سپروائزر تھا۔ صفیہ نے تھوڑی سی چھان بین کرائی اور ہاں کردی۔ وہ وردہ کی شادی پہلے کرنا چاہتی تھی‘ لیکن اس نے سختی سے منع کردیا تھا کہ ایسا تو وہ سوچے بھی ناں… عبدالوہاب نے یہاں بھی خاموشی سے اپنا کردار نبھایا تھا۔ حویلی میں جو ان کا حصہ بنتا تھا‘ اس کی رقم وہ صفیہ کو دے گیا تھا۔ شادی انہوں نے نہایت سادگی سے کی تھی۔ چند جوڑے کپڑے‘ ضرورت کے برتن‘ ایک بیڈ اور الماری۔ یہ ساری چیزیں انہوں نے صدیقہ اور رانیہ کے کمائے ہوئے پیسوں سے ہی خریدی تھیں۔ رانیہ اسلام آباد چلی گئی‘ صدیقہ بہاولنگر… وردہ واپس آگئی۔ ہائوس جاب اس نے اپنے ہی شہر کے ہاسپٹل سے کیا اور پھر اسی ہاسٹپل میں اپلائی بھی کردیا ایک خیراتی اسپتال تھا‘ لیکن تنخواہ اچھی تھی۔ ساتھی ہی اس نے گھر میں بھی چھوٹا سا کلینک بنا لیا‘ بس محلے کی عورتوں کا علاج‘ پہلے تو کسی نے اس چھوٹی سی لڑکی کو قابل ہی نہ سمجھا‘ پھر آہستہ آہستہ مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی‘ زندگی میں کچھ آسانی آگئی۔ اب انہوں نے نسبتاً بہتر علاقے میں گھر لے لیا اور نچلے حصے میں وردہ نے کلینک بنالیا تھا۔
دو کمرے تھے۔ برآمدہ‘ سیکنڈ ہینڈ فرنیچر ڈلوا کر اس نے کافی حد تک اس کو سیٹ کرلیا۔ اوپر والے حصے میں رہائش رکھ لی گئی۔ زندگی محض مشقت سے عبارت تھی۔ سال کے وقفے سے اس نے چھوٹی حمیرا کو بھی اپنے گھر کا کردیا۔ اس نے اور صفیہ نے شروع دن سے ایک ہی اصول رکھا‘ زیادہ ڈیمانڈ نہیں۔ برسر روزگار لڑکا‘ اچھی شریف فیملی‘ اس سے زیادہ نہ سوچا نہ چاہا اور اللہ کا شکر تھا۔ لڑکیاں اپنے گھروںمیں سکھی تھیں‘ صفیہ چاہتی تھیں اب وردہ بھی شادی کرلے لیکن وہ تیار ہی نہیں تھی‘ جب تک ساری بہنیں اپنے گھروں کی نہ ہوجاتیں اور جہانزیب کسی قابل نہ ہوجاتا‘ وہ اس خواہش کو پال ہی نہیں سکتی تھی۔
پھر ایک دن سالار آیا ان کے گھر بڑی پھوپو کا سب سے چھوٹا بیٹا‘ وردہ سے کوئی چار پانچ سال چھوٹا تھا مگر قد کاٹھ خوب نکالا تھا۔ صفیہ عرصے بعد سسرال سے آئے کسی فرد کو دیکھ کر خوش ہوئیں۔ فرداً فرداً سب کا حال پوچھا‘ سالار کی خوب آئو بھگت بھی کی۔ وہ چہکتا رہا۔ اسے بولنے کی اور وہ بھی بے تحاشا بولنے کی بیماری تھی۔ جتنی دیر بیٹھا رہا‘ ماحول خوشگوار بنائے رکھا۔ صفیہ کو خوشی ہوئی تو لڑکیاں بھی اپنے شوخ اور ہینڈسم کزن سے مل کر خوش ہوئیں۔ وردہ کلینک میں مصروف تھی اوپر نہیں آسکی‘ لیکن وہ جاتے ہوئے اس سے ہیلو ہائے کرنے آگیا۔
’’مجھے ڈاکٹرز لڑکیاں پسند نہیں۔‘‘ سلام دعا کے بعد بیٹھتے ہوئے اس نے جو پہلی بات کی ڈاکٹر وردہ نے چونک کر اس لاپرواہ سے لڑکے کو دیکھا۔
’’آپ کی مرضی ہے۔‘‘ وہ بال پین کو ہولے ہولے ٹیبل پر بجاتی رہی۔ یہ اس کے مضطرب ہونے کی نشانی تھی۔ اسے سالار کے اٹھ کر چلے جانے کی جلدی تھی۔
’’ڈاکٹر وردہ…‘‘ پورے کلینک کا بغو جائزہ لینے کے بعد اس کو مخاطب کیا۔ وردہ نے ناگواری سے دیکھا۔
’’میں تم سے بڑی ہوں‘ سالار‘ کوئی باجی‘ آپا…‘‘ وہ اس کی بات پر زور سے ہنساؔ۔
’’باجی‘ آپا…؟ اصل میں آپ مجھ سے سالوں بعد ملی ہیں ناں اس لیے مجھے جانتی نہیں۔ یہ باجی… آپا… بہن… میں یہ تکلف نہیں پالتا۔ سب کو نام لے کر بلاتا ہوں۔ میری نیت صاف ہے‘ رشتہ‘ رشتہ ہوتا ہے۔ پکارنے سے یا نام رکھ لینے سے کوئی فرق نہیں آتا رشتے میں‘ اینی وے۔ میں اب آتا جاتا رہوں گا۔ اچھا لگا مل کر آپ سے۔‘‘ بالخصوں ’’اس نے آپ سے‘‘ پر زیادہ زور دیا تھا۔ وردہ چہرے پر ناگواری لیے دیکھتی رہی۔ وہ کوئی امیچور لڑکی تو تھی نہیں‘ جو اس کی بے سروپا باتوں پر کوئی ردعمل ظاہر کرتی۔ خاموشی سے ہنستی رہی اور اس کے اٹھ جانے پر سکون کا سانس لیا۔
دن گزر رہے تھے۔ بہت اچھے نہیں تو بہت برے بھی نہیں۔ لیکن وردہ کے لیے زندگی جیسے ٹھہر سی گئی تھی۔ باپ کی بے وقت موت نے اسے جیسے زندگی کو جینا ہی بھلا دیا تھا۔ اس نے اپنی ماں کو جوانی میں بڑھاپا گزارتے دیکھا تھا اور ماں کے اندر کا دکھ اس کے دل سرائیت کر گیا تھا۔ بیوہ ماں اور بھائی بہنوں کے سوا اسے کچھ دکھتا ہی نہ تھا۔ اس نے کبھی جی بھر کر خود کو آئینے میں نہیں دیکھا تھا کہ آنکھوں کی بے رونقی اس سے کہیں کوئی سوال نہ کر بیٹھے۔ اب باقی بہنوں کی شادیوں کے ساتھ بیاہی بہنوں کے سو چونچلے بھی پورے کرنے پڑتے تھے کہ انہوں نے سسرال میں منہ دکھانا ہوتا تھا۔ ایک واحد رانیہ تھی جو کبھی کوئی ڈیمانڈ لے کر نہیں آئی تھی لیکن اس کا اب تک بے اولاد ہونا بہت بڑا دکھ تھا۔ صفیہ کتنی منتیں مان چکی تھی لیکن رانیہ کی گود ابھی خالی ہی تھی جب کہ حمیرا اور نبیلہ دو دو بچوں کی مائیں بن گئی تھیں۔ صدیقہ ایک بیٹے کی۔
چھوٹی پھوپو کی شادی کا کارڈ آیا تو ایک بار پھر انہیں ان کی کم مائیگی کا احساس دلا گیا۔ خورشید بیگم نے اب کی بار بھی اونچا گھر ڈھونڈا تھا اور ہمیشہ کی طرح اچھے کپڑے پہننے کی تاکید کی تھی۔ شکر تھا کہ اب کی بار انہوں نے قیمتی کپڑے نہیں بھجوائے تھے۔ بس ہدایات بھجوائی تھیں۔ انہوں نے خاموشی سے تیاری کی اور صفیہ اور وردہ شادی میں شرکت کے لیے پہنچ گئیں۔ خلاف توقع پھوپیوں نے وردہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ہر فیملی سے ایک آدھ بچہ ڈاکٹر بن ہی رہا تھا۔
شادی امارت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ اس گھر کی آخری شادی تھی۔ سو خورشید بیگم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ دنیا کی ہر نعمت انہوں نے بیٹی کو جہیز میں دے ڈالی تھی۔ وردہ عرصے بعد اپنے کزنز سے مل رہی تھی۔ ماشاء اللہ سب جوان اور اپنی اپنی فیلڈ میں کامیاب تھے۔ صفیہ کے دل میں ہوک اٹھ رہی تھی کہ کوئی پھوپی اپنی بھتیجیوں کا خیال ہی کرلے لیکن ان کے رویے انہیں کوئی بھی خوش کن امید باندھنے سے منع کرتے تھے۔ شادی کے اختتام پر خورشید بیگم نے صفیہ کو روک لیا تھا۔ وہ خاموشی سے ایک طرف بیٹھ کر ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ وردہ اندر کہیں شاید کزنز کے ساتھ تھی۔
’’کیسی گزر رہی ہے صفیہ؟‘‘ بالآخر خورشید بیگم فراغت پاتے ہی آن بیٹھیں۔
’’شکر ہے اللہ کا۔ پیٹ بھر کر کھاتے بھی ہیں‘ تن بھی ڈھک جاتا ہے۔‘‘ صفیہ کے چہرے پر طمانیت تھی۔
’’تو اب کیا ساری عمر بیٹی کی کمائی سے ہی پیٹ بھرنے کا ارادہ ہے؟‘‘ خورشید بیگم نے ابرو چڑھا کر پوچھا۔ صفیہ چونک کر سیدھی ہوئیں۔
’’ایسی تو کوئی بات نہیں اماں جی‘ وہ اپنی مرضی سے…‘‘
’’بس کرو صفیہ‘ جب سارے زمانے کی ذمہ داری اس کے ناتواں کندھوں پر ڈال دو گی تو وہ کیا انکار کرے گی۔‘‘ خورشید بیگم نے بات کاٹ کر بہت طنزیہ کہا تھا۔ صفیہ تڑپ اُٹھیں۔
’’ایسی بات نہیں ہے اماں جی۔ میں تو خود چاہتی ہوں کہ ایک لمحے کی تاخیر نہ کروں لیکن وہ میری سنتی کہاں ہے۔ آپ سمجھائیں ناں اسے۔‘‘
’’ارے چھوڑو۔ تم نے بچوں کے دل میں ددھیال کی محبت اور عزت رہنے کہاں دی۔ آئے کبھی ملنے‘ سلام کرنے؟ چلو مصروفیت کے باعث ہم بچوں کی شادی پر نہیں آسکے لیکن کیا رشتہ ٹوٹ گیا ہمارا؟‘‘ وہ ہمیشہ کی طرح اسے ہی موردِ الزام ٹھہرا رہی تھیں۔ صفیہ کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا کہہ بھی سکتی تھیں لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔
خورشید بیگم اور بھی بہت کچھ سناتی رہیں‘ جس کا لب لباب یہ تھا کہ انہیں بیٹیوں کی کمائی کھانے کا چسکہ پڑگیا ہے۔ وہ دُکھے دل کے ساتھ واپس آئیں۔ وردہ بھی کچھ چپ چپ تھی لیکن دونوں کی چپ میں فرق تھا کچھ اور دن بیت گئے۔ سالار کا آنا جانا بہت بڑھ گیا تھا۔ صفیہ اسے روکنا چاہتی تھیں۔ وہ کسی بھی قسم کی تہمت یا الزام سہارنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں۔ سو اب صفیہ نے دبے لفظوں اس کے زیادہ آنے پر اعتراض کرنا شروع کردیا تھا لیکن وہ بھی ایک کان سے سنتا‘ دوسرے سے اُڑا دیتا۔
وہ دھڑلے سے آتا‘ چائے‘ کھانا‘ جو دل چاہتا آرڈر کرتا۔ کبھی کبھار بازار سے پیک کروا کر ساتھ لے آتا یا پھر جہانزیب کو بائیک پر بٹھا کر گھماتا رہتا۔ اس نے کبھی چھوٹی لڑکیوں سے فرینک ہونے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ایک حد میں رہ کر بات کرتا جبکہ ڈاکٹر صاحبہ کے ہر کام میں ضرور دخل اندازی کرتا لیکن اس بات کو لے کر بھی کسی کے دل میں کوئی غلط خیال نہیں آیا تھا کہ دونوں کی عمروں میں اچھا خاصا فرق تھا۔ صفیہ کے خدشات بھی اس نے ختم نہیں کیے تو کسی حد تک دُور ضرور کردیے تھے۔ زندگی رواں دواں تھی کہ ایک دَم سے کہانی میں موڑ آیا۔
سالار احمد نے ممانی کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کرکے گویا بم پھوڑ دیا۔ صفیہ کئی لمحے سکتے کے عالم میں اسے دیکھتی رہ گئیں۔
’’میں نے کچھ غلط کہہ دیا مامی؟‘‘ صفیہ کی طویل خاموشی پر اس نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں‘ تم سب کچھ غلط کرنے پر تلے ہو۔‘‘ صفیہ نے سر جھٹک کر خود کو مصروف کرلیا۔
’’اپنی ماں کو جانتے ہو؟ اسے جس دن بھنک مل گئی کہ تم یہاں بلا ناغہ آتے ہو‘ وہ اسی روز مجھے اور میری بیٹیوں کو چوک میں ٹانک دے گی۔ سالوں کی محنت سے میں نے یہ حصار بنایا ہے اور تم اس کو ایک پل میں ملیامیٹ کرنے پر تل گئے ہو۔ آئندہ تم یہاں مت آنا۔‘‘ صفیہ نے فیصلہ سنادیا۔
اس کی ایک خواہش کے بدلے جو تاوان انہیں چکانا پڑتا‘ وہ اس کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ سسرال والوں نے تو پہلے ہی ناتا توڑ رکھا تھا۔ کبھی لڑکیوں کی خود سری کو جواز بنایا‘ کبھی صفیہ کو زبان دراز مشہور کیا‘ تو اب کیا بعید تھا۔ سالار نے آنا نہیں چھوڑا لیکن کم کردیا۔ صفیہ نے اشارتاً لڑکیوں کو بھی سمجھادیا لیکن معاملہ ختم نہ ہوا۔ سالار نے آنا تو کم کردیا لیکن اب وہ دن میں دو بار ڈاکٹر وردہ کو فون کرنا نہ بھولتا۔ بات حال چال پوچھنے سے شروع ہوئی اور پھر گفتگو کا دورانیہ بڑھنے لگا۔
پہلے پہل تو وردہ کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر فون بند کردیا کرتی تھی‘ پھر اس کی بے سروپا باتوں کو سننے لگی‘ دھیان دینے لگی۔ اس کے سنائے لطیفوں پر ہنسنے بھی لگی اور اس سب کا خاطر خواہ اثر یہ ہوا کہ اس کی شخصیت پر چھایا سنجیدگی کا جمود ٹوٹنے لگا۔ وہ خوامخواہ ہی خود پر دھیان دینے لگی۔
صفیہ خوش ہوئیں کہ اس نے خود پر توجہ دینا شروع کردی ہے۔ اسی اثناء میں رانیہ ایک رشتہ بھی لائی‘ جو کہ انجینئر لڑکے کا تھا لیکن وردہ نے ایک بار پھر انکار کردیا۔ صفیہ نے زور ڈالا۔ وہ ساس کی باتیں بھولی نہیں تھیں لیکن وردہ کی ایک ہی ضد تھی جب تک باقی تینوں بہنوں کی شادی نہیں ہوجاتی اور جہانزیب کم از کم کالج نہیں پہنچ جاتا‘ وہ ایسا سوچے گی بھی نہیں۔ صفیہ نے ایک بار پھر ہار مان لی لیکن اب کہ انہوں نے پہلے چھوٹیوں کا بیاہ جلداز جلد کرنے کا ارادہ کرلیا۔ وہ چاہتی تھیں وردہ کی ساری ذمہ داریاں جلد از جلد پوری ہوں اور وہ اپنے بارے میں بھی سوچے۔
اور وہ اس بات سے بے خبر تھیں کہ وردہ اپنے بارے میں سوچنے لگی ہے۔ بھلے یہ سوچ ابھی تک واضح نہیں تھی لیکن لاشعوری طور پر وہ ایک دروازہ کھول چکی تھی‘ جس سے سالار احمد اندر آن براجمان ہوا تھا۔
اس روز وہ نائٹ ڈیوٹی کرکے لوٹی تھی۔ سونے کی کوشش میں تھی کہ صفیہ نے آکر بتایا‘ سالار آیا ہے اسے لینے‘ اس کی ماں کی طبیعت بے حد خراب ہے۔ وردہ فوراً اُٹھ گئی جبکہ صفیہ شش و پنج میں تھیں۔ انہیں سالار کی بات کا یقین نہیں آیا تھا۔ وہ وردہ کو روکنا چاہتی تھیں لیکن روک نہ سکیں۔ وردہ منہ پر چھپاکے مار سالار کے ساتھ بیٹھ کر چلی گئی۔ صفیہ نے ابھی تک وردہ کو سالار کی خواہش کے متعلق نہیں بتایا تھا۔ وہ جانتی تھیں سالار کی ماں کبھی سالار کی یہ خواہش پوری نہیں ہونے دے گی اور کچھ عرصہ بعد سالار خود بھی اپنی ہم عمر بیوی پاکر یہ سب بھول بھال جائے گا۔ انہوں نے تھوڑی دیر بعد وردہ کا نمبر ملا کر نند کا حال چال پوچھا اور قدرے مطمئن ہوگئیں۔
خلافِ توقع پھوپو گرم جوشی سے ملیں۔ فالج کا ہلکا سا اٹیک ہوا تھا‘ جسے وہ اپنی سخت جانی کے باعث جھیل گئی تھیں۔ دوپہر کو کھانے پر خاص اہتمام کروایا‘ اس کا سر پھٹ رہا تھا۔ وہ گھر جاکر کچھ دیر سونا چاہتی تھی لیکن پھوپو اسے آنے نہیں دے رہی تھیں۔ کھانا کھلایا‘ چائے پلائی اور آرام کرنے کے لیے کمرہ بھی دیا۔ وہ اس قدر تھک چکی تھی کہ مزید انکار نہ کرسکی اور پڑ کر سوگئی۔
صفیہ گھر میں پریشان ہوتی رہیں۔ وہ سو کر اُٹھی تو شام کے سائے گہرے ہوچکے تھے۔ پھوپو سے اجازت چاہی‘ سالار چھوڑنے آیا اور گہرے ہوتے سایوں میں اس نے کئی جگنو وردہ کی مٹھی میں تھما دیے تھے۔ وہ اپنے اور اس کے بیچ عمر کے تفاوت کو سمجھتی تھی‘ لیکن غیرارادی طور پر مسکرائے گئی اور اس رات جب اس نے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو پہلی بار دل محبت کی تال پر محو رقص تھا۔
وردہ کی خاموشی نے سالار کے حوصلے کو شہ دی اور اب وہ برملا اپنی محبت کا اظہار کرنے لگا۔ کبھی آئس کریم کھلانے کے بہانے‘ کبھی ماں کے چیک اَپ کے بہانے۔ وہ اکثر اسے اپنے ساتھ بائیک پر بٹھا لے جاتا۔ صفیہ سب کچھ دیکھ رہی تھیں لیکن خاموش تھیں۔ وہ کچھ کہہ کر بیٹی کا دل برا نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھیں کہ سالار ان کی بیٹی کے جذبات سے کھیلے اور تب ہی انہوں نے سالار کو کہہ دیا تھا کہ وہ ماں کو لے کر آئے اور وہ ماں کو لے بھی آیا۔
صفیہ کو حیرت کا جھٹکا لگا۔ انہیں اپنی نند کے اتنی جلدی مان جانے کا اندازہ نہیں تھا۔ نند صاحبہ ستر منٹ بیٹھیں اور اپنی امارت کے قصے ہی بیان کرتی رہیں۔ گھر میں کتنی مشینیں تھیں اور کس برانڈ کی۔ برانڈڈ کپڑے‘ جوتے‘ سارے خاندان کی‘ خاندان کی لڑکیوں کی باتیں کرلیں‘ وردہ کا نام تک نہ لیا۔ ہاں جاتے وقت وردہ کو البتہ خوب پیار کیا اور ایک تعریفی جملہ بول کر دیپ جلا گئیں۔
اگلے دن سالار آیا تو چپ چپ تھا اور یہ چپ کئی دنوں تک چھائی رہی۔ بالآخر وردہ ہی نے توڑ نکالا اور چپ خوشی کے نغمے میں ڈھل گئی۔ سالار اپنا خواب پورا کرنے امریکہ سدھار گیا۔ اس کے لبوں پر خوشی دیکھنے کے لیے وردہ نے پیسے کا انتظام کہاں سے کیا‘ کوئی نہیں جانتا تھا۔ امریکہ جانے کی بھنک تو اس نے صفیہ کو بھی نہیں پڑنے دی تھی۔ محبت عقل خور ہے۔ بڑے بڑے سیانے اس کے آگے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔
وردہ نے اپنی عمر کا سنہرا دور سنجیدگی اور ذمہ داری میں گزار دیا تھا‘ اب اس کے دل میں میٹھی میٹھی کسک نے جگہ بنائی تو اسے خیال آیا کہ اپنے بارے میں سوچنے کا اسے پورا حق حاصل تھا۔
تین ماہ تو سالار کی کوئی خیر خبر نہ آئی اور جب آئی تو وردہ کے لیے تحفے کے ساتھ آئی۔ اس نے موبائل فون بھیجا تھا اور ساتھ میں پرفیومز اور بیگز۔ وردہ کے چہرے پر رنگ بکھرے تھے۔ وہ اپنے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں جگمگاتی انگوٹھی کو دیکھ کر مسکرائی تھی جو سالار نے جانے سے ایک دن قبل اسے تحفتاً دی تھی۔ بھلے سونے چاندی کی نہ تھی لیکن اس میں جڑے سرخ نگینے میں سالار کا دل دھڑکتا تھا اور وہ ہر پل اس دھڑکن کو اپنے دل کی دھڑکن کے قریب پاتی تھی۔
سال گزر گیا‘ سالار کے خوش رنگ وعدے اسے ملتے رہے اور وہ انہیں سینت سینت کر الماری‘ درازوں میں رکھتی رہی اور پھر اس کے وعدے رکھنے کی جگہ نہ رہی۔
خ…خ…خ
پانچ سال طویل عرصہ ہوتا ہے۔ اس نے کبھی سالار سے واپس آنے کا نہیں پوچھا۔
سالار نے بھی کبھی بتایا نہیں۔ وہ سر جھکائے مریضوں کی مسیحائی کرتی رہی اور اس کا مسیحا دور بیٹھا اسے ہجر کا زہر پلاتا رہا۔ خاندان میں کتنے موقع آئے‘ سب سے ملنے کے‘ لیکن وردہ نہیں گئی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسے سالار کے بارے میں کوئی ایسی خبر ملے جو وہ نہ جانتی ہو اور اس خبر سے وہ ٹوٹ کر بکھر جائے۔ باقی بہنیں بھی اپنے گھروں کی ہوگئی تھیں۔ جہانزیب میڈیکل کے پہلے سال میں پہنچ گیا تھا۔ اس کی سنجیدگی واپس پلٹ آئی تھی۔ صفیہ نے تو کچھ کہنا سننا ہی چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے بہت بار کوشش کی تھی کہ اس سے سالار کے بارے میں پوچھیں لیکن باوجود کوشش کے ہمت نہ کرپائی تھیں۔
پھر ایک دن وہ لوٹ آیا۔ بالکل اچانک۔
وردہ اسے دیکھ کر چونک گئی۔ دبلا پتلا سا سالار‘ بھرے بھرے کسرتی جسم کے ساتھ ایک مضبوط و توانا مرد میں تبدیل ہوچکا تھا۔ وہ چپ چاپ آکر اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔ جیسا ہمیشہ بیٹھا کرتا تھا۔ وہ خاموشی سے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنساتی‘ مضطرب سی بیٹھی تھی۔ وہ تحفے نکالنے لگا۔
کپڑے‘ جوتے‘ بیگز‘ واچز‘ بریسلٹ۔
یہ ساری چیزیں اس کی کمزوری نہیں تھیں۔ نہ ہی اس نے ان چیزوں کو کبھی اہمیت دی تھی۔ پانچ سالوں نے اس کی الماریوں کو بھر دیا تھا۔
’’میں نے تمہیں پل پل یاد کیا۔‘‘ وہ بولا۔ وردہ سے نظریں اُٹھانا مشکل تھیں۔ عمر کے پینتیس سال میں قدم رکھ رہی تھی اور ایک اٹھائیس‘ انتیس سال کے لڑکے کے سامنے اسے اپنا آپ سمیٹے رکھنا مشکل ہورہا تھا۔ وہ اس کی آواز پر لبیک کہنا چاہتی تھی لیکن ہمت لبوں پر آکر ٹوٹ ٹوٹ جاتی تھی۔
’’کون سا لمحہ ایسا تھا جس میں‘ میں نے تمہیں نہ سوچا ہو۔‘‘ وہ ایک انتظار کی دیوار پر ٹنگی بے رنگی تصویر میں اپنی باتوں کے رنگ بھر رہا تھا۔ تصویر زندہ ہورہی تھی۔
’’اب کی بار میں تمہیں نیا موبائل دے کر جاؤں گا‘ واٹس ایپ والا۔‘‘ اس نے چونک کر سر اُٹھایا۔ تصویر میں رنگ پھیلنے لگے۔ اس نے کمال مہارت سے آنکھیں صاف کیں اور چہرے پر زخمی مسکراہٹ لاکر بولی۔
’’پھر سے جاؤ گے؟‘‘
’’اکیلا تھوڑی نہ جاؤں گا۔‘‘ معنی خیزی لہجے میں دَر آئی۔ وہ نظر چرا گئی۔ اس شام امی سے اجازت لے کر وہ اسے کھانا کھلانے لایا۔ پھر بازار لے گیا‘ شاپنگ کروائی۔ وہ منع کرتی رہی‘ جو چیزیں وہ باہر سے لایا تھا‘ وہ ہی بہت زیادہ تھیں۔ رنگ ہی رنگ تھے۔ اس روز وہ بہت عرصے بعد خوش ہوئی تھی۔ دل کھول کر۔ سالار اگلے دن پھر آنے کا وعدہ کرکے رخصت ہوا اور اس کے ہاتھوں میں خواہشوں کی رنگین تتلیاں تھما گیا۔ وہ تمام رات سو نہ سکی تھی لیکن صبح تازہ دَم تھی۔ لاشعوی طور پر وہ پھوپو کی آمد کے فون کا انتظار کررہی تھی۔
ہاسپٹل جاتے ہوئے اس نے خوامخواہ اہتمام کرلیا تھا۔ پیلا رنگ اس پر کھلتا تھا‘ میچنگ بیگ اور جوتے آج اس کی تیاری کو نیا رنگ بخش رہے تھے۔ وہ بات بات پر کھلکھلا بھی رہی تھی۔ اس کی اس تبدیلی کو اسپتال میں بھی سب نے نوٹ کیا تھا۔ سہ پہر کو واپس گھر آئی تو سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ صفیہ اسی طرح کاموں میں مصروف تھیں‘ جیسا کہ روز ہوتی تھیں۔ کچھ نیا نہیں تھا۔ انہوں نے کچن میں جھانکا۔ کچھ خاص نہیں پک رہا تھا۔ دال چاول۔
’’بھوک لگی ہے آپا؟‘‘ نرمین نے اسے یوں جھانکتے دیکھ کر پوچھا۔ وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی پیچھے ہٹ گئی۔ عجیب طرح کی بے قراری رگ و پے میں سرایت کررہی تھی۔ وہ بنا کچھ کھائے لیٹ گئی۔ صبح سے سالار کا بھی کوئی فون نہیں آیا تھا۔ کسی کل چین نہیں تھا۔ اس نے بیڈ پر سالار کی دلائی ہوئی ساری چیزیں بکھرا دیں اور ایک ایک چیز کو اُٹھا کر اس کی محبت کو محسوس کرنے لگی۔ اسے اپنی کیفیت پر خود حیرانی ہورہی تھی۔ وہ اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کررہی تھی۔ نرمین اس کے لیے چائے لائی اور ساتھ میں خوش خبری بھی۔
’’سالار بھائی کا فون آیا تھا۔ وہ تھوڑی دیر تک پہنچنے کا کہہ رہے تھے۔‘‘ چائے کا ذائقہ یک لخت دوبالا ہوگیا۔ ایک گھونٹ کے بعد اس نے فوراً دوسرا گھونٹ لے لیا۔
’’میں شام کو واپس چلی جاؤں گی آپا۔‘‘ نرمین نے کہا تو اس نے ایک نظر اس پر ڈالی۔ سترہ‘ اٹھارہ سال کی نرمین میں بلاکی سنجیدگی آگئی تھی۔ شادی کے بعد تو وہ جیسے ہنسنا ہی بھول گئی تھی۔
’’آج رُک جاتیں!‘‘ وردہ نے اصرار کیا۔
’’سسرال میں شادی آگئی اچانک‘ مظہر نے تیاری کا کہا ہے۔ سو مجبوری ہے۔ آپ کو کوئی کام تھا؟‘‘ کمرے کا پھیلاوا دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا۔
’’ہاں… نہیں… نہیں تو‘ تم جاؤ۔ ٹھیک ہے۔‘‘ وہ دوبارہ چائے کے گھونٹ بھرے لگی۔ وقت اتنا طویل کبھی نہ ہوا تھا۔ وہ الماری کھولے کھڑی تھی۔ ایک کے بعد ایک جوڑا مسترد کیے جارہی تھی۔ آج وہ دل کھول کر سجنا چاہ رہی تھی۔ پھر ایک سفید رنگ کا جوڑا نظروں کو بھا ہی گیا۔ سالار کہتا تھا سفید رنگ میں وہ کوئی پری لگتی ہے۔ اس نے سوٹ کے ساتھ کی میچنگ جیولری نکالی اور خود شاور لینے چلی گئی۔
بال سنوارتے ہوئے اس نے ہر زاویے سے خود کو پرکھا‘ بھلے وہ پینتیس کی تھی‘ لیکن ستائیس اٹھائیس کی لگتی تھی اور اب تو سالار اس سے بڑا ہی لگتا تھا۔ ایک مضبوط سہارا۔ شام ہونے کو تھی۔ اس نے ماں کو بتادیا تھا۔ شام میں کچھ مہمان آنے والے ہیں‘ انتظام کرلیا جائے۔
صفیہ نے تفصیلات جاننے کی ضرورت نہ سمجھی۔ سامان لینے بازار چلی گئیں۔ تیار ہونے کے بعد وہ اپنے آپ کو آئینے میں تنقیدی نظروں سے دیکھ رہی تھیں کہ نرمین نے سالار کے آنے کا بتایا۔ وہ یک دم ہی کنفیوز ہوگئیں۔
’’مم… میں آتی ہوں‘ تم چلو۔‘‘ انہوں نے نرمین سے کہہ کر ایک بار پھر اپنا جائزہ لیا اور جوتے پہن کر باہر آگئیں۔
سالار کی آواز اس کے کانوں میں پڑرہی تھی۔ شاید وہ نرمین یا پھوپو سے محو گفتگو تھا۔ نرمین نے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا تھا۔ وہ دروازے سے اندر داخل ہوئی۔ سالار سامنے ہی براجمان تھا۔ اسے دیکھ کر گرمجوشی سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’بہت انتظار کرواتی ہیں آپ!‘‘ اس نے کہا۔ اس نے دائیں طرف نگاہ کی اور ٹھٹک گئی اور دل نے شاید پہلی بار بیٹ مس کی۔ سجی سنوری لڑکی‘ جس کی نظریں سالار کو ہی تک رہی تھیں۔
’’سالار تم نے بتایا نہیں اور چپکے سے شادی کرلی۔‘‘ صفیہ کی آواز اسے کسی گہرے کنویں میں دھکیلنے کے لیے کافی تھی۔ انہوں نے بے یقینی سے سالار کو دیکھا۔ شاید وہ انکار کردے۔ لیکن اس کے چمکتے چہرے پر جو خوشی تھی‘ وہ ناقابل فہم نہیں تھی۔
’’بس مامی‘ آناً فاناً ہی ہوگیا سب۔‘‘ وہ ہنسا۔
’’پہلی نظر کی محبت شاید ایسی ہی ہوتی ہے۔‘‘
’’پہلی نظر کی محبت؟‘‘ دیوار پر ٹنگی تصویر سے ایک ایک کرکے رنگ اُڑنے لگے۔
صفیہ اب مہمانوں کو چائے پیش کررہی تھیں اور ڈاکٹر وردہ حنوط ہوگئی تھی۔ محبت موم کرتی ہے تو محبت پتھر بھی کرتی ہے۔ وہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ سالار اپنی محبت کو لے کر کب گیا؟ صفیہ نے کب برتن سمیٹے؟ انہیں پتا ہی نہ چلا۔
صفیہ نے اسے کچھ نہیں کہا۔ وہ جانتی تھیں اس وقت ان کی بیٹی بھربھری مٹی کی دیوار ہے۔ روئے گی‘ آنسو بہائے گی تو پکی ہوجائے گی۔ سو انہوں نے اسے رونے دیا۔
وہ وہیں ساری رات روئی۔ اسے سالار کی شادی کا دُکھ نہیں تھا۔ وہ سالار کی بے وفائی پر بھی نہیں رو رہی تھی۔ وہ خود پر رو رہی تھی۔ اس کمزوری پر رو رہی تھی جو کبھی بھی اس کی ذات کا حصہ نہیں رہی تھی اور اس نے محض چند باتوں کے عوض اپنی عزتِ نفس داؤ پر لگادی تھی۔ اس نے تو وہ عمر بھی بکل میں چھپے چھپے گزار دی تھی جو عموماً خطرناک کہلاتی ہے۔ بس ایک بھول ہی ہوئی تھی اور یہ سب کرنے والا کوئی اور نہیں‘ سالار احمد تھا۔ اس کی سگی پھوپو کا بیٹا۔
روئی‘ بہت روئی‘ مگر پھر اس نے سنبھلنے میں بھی زیادہ دن نہیں لگائے۔ ریزہ ریزہ وجود کو سنبھالنا آسان نہیں تھا تو مشکل بھی نہیں تھا۔ وہ پھر پہلے جیسی ہوگئی۔ چپ چاپ‘ سنجیدہ۔ اس نے پہروں بیٹھ کر سوچا لیکن اسے ایسا کوئی آس کا جگنو نہیں ملا تھا جو سالار نے اسے تھمایا ہو۔ ہنسنا‘ کھیلنا‘ مذاق کرنا اس کی عادت تھی اور کچھ بھی نہیں۔ اس کی عادت سے اس نے اگر کچھ اخذ کیا تو یہ اس کی اپنی غلطی تھی۔ سالار نے کب اسے محبت کا کھلونا تھمایا تھا۔ وہ خود ہی ان راہوں پر چل نکلی تھی‘ خواب سجا بیٹھی تھی۔
سالار کا فون کئی بار آیا لیکن اس نے بات نہیں کی تھی۔ کیا بات کرنا تھی اسے؟
’’تم اس طرح کیوں بی ہیو کررہی ہو؟‘‘ اس کے اجنبی رویے پر اس کا میسج آیا۔
اس کا دل چاہا اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ اس قدر انجان بن رہا ہے یہ شخص‘ اس نے سالار کے سارے واٹس ایپ میسجز پڑھے‘ کہیں کوئی دھوکا نہیں تھا۔ اس کے ہر فون کال میں ہونے والی گفتگو کو ازسر نو دہرایا۔ کوئی فریب اسے محسوس نہیں ہوا تھا۔
پھر کہاں غلطی ہوئی تھی اس کے سمجھنے میں؟ یا اس کے جانچنے میں؟
اس روز بلا ارادہ ہی ہاسپٹل سے واپسی پر اس کے قدم پھوپو کے گھر کی طرف اُٹھ گئے۔ اس نے گاڑی کا رخ موڑتے ہوئے وہ سارے سوال ذہن میں ترتیب دے لیے تھے جو اسے سالار احمد سے کرنے تھے۔ نیم وا گیٹ کو دھکیلتے ہوئے اس نے ایک بار سوچا۔
سالار کا جواب جو بھی ہوتا‘ اس کی عزتِ نفس کو کچلنے کے لیے کافی ہوتا۔ پھر بھی وہ ایک بار اس کے روبرو کھڑا ہونا چاہتی تھی۔ گھر میں خاموشی تھی۔ شاید سب سو رہے ہیں۔ اس نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ کی۔ سہ پہر کے چار بج رہے تھے۔ آہستہ روی سے چلتی وہ ٹی وی لاؤنج کے داخلی دروازے تک آن پہنچی تھی اور اس سے قبل وہ ہاتھ بڑھا کر دروازہ دھکیلتی‘ کوئی دروازہ کھول کر باہر نکلا اور اس سے ٹکرا گیا۔ وہ بمشکل خود کو گرنے سے بچا پائی۔
’’تم یہاں؟‘‘ سالار کی حیرت میں ڈوبی آواز اس کی سماعت کو چھو گئی۔ ’’آؤ اندر چلو‘ شکر ہے تم آئی تو۔‘‘ اس نے بڑی خوشدلی سے اس کے یوں اچانک آنے پر خوش آمدید کہا۔
’’مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے سالار۔‘‘ اس نے اُمڈ آنے والے دُکھ کو اندر دھکیلا اور خود پر مضبوطی کا گہرا خول چڑھالیا۔
’’میں جانتا ہوں تم کیا پوچھو گی؟‘‘ سالار سنجیدگی سے بولا۔
’’تم تو میرے اپنے تھے سالار۔‘‘ اس کے دل سے آہ نکلی۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے اندر لے آیا۔
’’یہاں بیٹھو۔‘‘ اس نے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ کسی معمول کی طرح بیٹھ گئی۔ سارے الفاظ ذہن میں گڈمڈ ہوگئے تھے۔
’’میں اب بھی تمہارا ہوں وردہ۔‘‘ کئی لمحوں کے توقف کے بعد وہ گویا ہوا۔
’’سینڈی‘ میری وائف… بلڈ کینسر کی مریضہ ہے۔‘‘ اس نے انکشاف کیا۔ ’’وہ اپنی زندگی سے مایوس لڑکی ہے اور ایسی حالت میں اسے کوئی اپنانے کو تیار نہیں تھا۔ وہ حرام موت مرنے چلی تھی اور میں نے اس کا سہارا بننے کا وعدہ کرلیا تھا۔ چار مہینے جیتی ہے یا چھ مہینے‘ میرا اس کا ساتھ تب تک ہے۔ میری تم سے بس اتنی درخواست ہے کہ میرے لوٹنے کا انتظار کرنا۔ دروازہ بند مت کرنا۔ مجھے امید ہے تم میری یہ غلطی معاف کردینے کا ظرف رکھتی ہوگی۔‘‘ وہ سر جھکائے بیٹھا تھا اور وردہ کو ان سارے سوالوں پر ندامت محسوس ہورہی تھی جو اس نے سالار کا گریبان پکڑ کر کرنا تھے۔ سالار اب بھی اس کا تھا‘ یہ اطمینان کافی تھا۔ اس نے جھکا سر اُٹھا کر سالار کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں اب بھی وارفتگی تھی۔
ہائے ری عورت‘ عورت کو مرد مات نہیں دیتا‘ اس کے اندر کی عورت اسے ہمیشہ شکست سے دوچار کرتی ہے۔
وہ کچھ نہیں بولی۔ خاموشی سے گود میں رکھے ہاتھوں کو گھورتی رہی۔ کئی لمحے سرک گئے۔ فون کی بیپ نے خاموشی کو توڑا۔ صفیہ تھیں‘ پریشان ہوگئی ہوں گی۔ انہیں یاد نہیں رہا تھا کہ بتادے۔
وہ اُٹھ کھڑی ہوئی اور فون سنتے ہوئے باہر نکل گئی۔ سالار اس کے پیچھے پیچھے آیا اور ایک گہری سانس لے کر کھلکھلا کر ہنس دیا۔
’’بے وقوف ترین عورت‘ پتا نہیں اتنی قابل ڈاکٹر کیسے بن گئی۔‘‘ وہ چند لمحے وہاں کھڑا رہا‘ پھر پلٹ آیا۔ اس نے چوگا ڈال دیا تھا۔ وردہ کو اس تک پہنچنا ہی تھا۔ مسائل میں پھنسی‘ بے یار و مدد گار عورت کے لیے محبت کا چوگا ہی کافی ہوتا ہے۔ کبھی کم‘ کبھی زیادہ‘ ڈالتے رہنا چاہیے۔ عورت کہیں نہیں جاتی‘ آپ کے اردگرد ہی منڈلاتی رہتی ہے۔
اور یہ چوگا ہی تھا جو وردہ‘ ڈاکٹر وردہ کو سالار کے آگے پیچھے دیکھنے نہیں دیتا تھا ورنہ وہ دیکھتی بھی تھی‘ سنتی بھی تھی لیکن پھر بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔ اس کے اندر اس کمینی سی خواہش کو بیدار کردینے والا بھی سالار ہی تھا جو وہ اس کی بیوی کے مرنے کا انتظار کررہی تھی۔ تین‘ چار یا چھ مہینے‘ بھلے بارہ بھی ہوجائیں‘ کیا فرق پڑجاتا۔
سالار واپس چلا گیا۔ بیوی بھی اس کے ساتھ چلی گئی اور ڈاکٹر وردہ اس کی ہر چیٹ یوں پڑھتی جیسے اب کی بار تو سینڈی کی موت کی خبر ضرور بھیجی ہوگی۔ دن مہینوں اور مہینے سال میں بدل گئے۔ اسے شک سا ہونے لگا کہ سینڈی نے اپنا علاج کرالیا ہے۔ اس نے سالار سے پوچھا تو وہ کتنی دیر ہنستا رہا‘ وہ برا مان گئی۔
’’تمہیں شاید خبر نہیں‘ سینڈی زندگی کے دن پورے کررہی ہے۔‘‘ وہ یک لخت سیریس ہوگیا۔ ’’میں نے اسے وقتی سہارا دیا ہے۔ اس کی زندگی کتنی لکھی ہے یہ تو میں نہیں جان سکتا ناں… بلکہ ایک انسان ہونے کے ناطے میری تو اتنی بھی اوقات نہیں کہ اس کو کسی اچھے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کروا دوں۔ کم از کم میرے ضمیر پر بوجھ تو نہ ہو۔ میں اسے سپرد خاک کروں تو میرے کندھے بارِ ندامت سے جھکے تو نہ ہوں۔‘‘ ایک ٹھنڈی آہ بھری گئی اور محبت کی ماری ڈاکٹر کو اتنی دُور بیٹھے آہ کی ٹھنڈ سے پھریری سی آگئی۔
اگلے دن اچھی خاصی رقم اور موسمی پھلوں کی ٹوکریاں لیے وہ پھوپو کے گھر پہنچ گئی۔ پھوپو نے حیل و حجت کی اور نہ ہی حیرت کا اظہار‘ پیسے پکڑ کر تکیے کے نیچے گھسیڑے اور ٹوکریاں کھلوا کر فریج میں رکھوا دیں۔ وہ کافی دیر پھوپو کے پاس بیٹھی ان کی ہائے ہائے سنتی رہی۔
صالحہ بھابی نے اسے چائے پلائی اور پھر اپنی بنائی کڑھی کی تعریف کرکے اسے زبردستی کھانا بھی کھلادیا۔ اس کے دل میں کہیں تھا کہ پھوپو سینڈی کی کوئی بات کریں۔ جو اس کے شل ہوتے حوصلوں کو سہارا دے‘ لیکن وہ اس بات کی طرف نہیں آئیں۔ وہ یہاں بیٹھنا نہیں چاہ رہی تھی‘ لیکن اس کا جانے کو بھی دل نہیں کررہا تھا۔ صالحہ بھابی ایک دوبار اندر گئیں۔ شاید وہ بھی اس کے جانے کی منتظر تھیں۔
’’اچھا بیٹا… آتی جاتی رہا کرو۔ تمہاری ماں کو تو کبھی توفیق نہیں ہوتی۔‘‘ پھوپو نے آنکھوں پر بازو رکھتے ہوئے بالواسطہ اسے جانے کا اشارہ دے دیا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی‘ دل کی بے چینی سوا ہوگئی تھی۔ وہ مرے مرے قدموں سے باہر نکل آئی‘ صالحہ بھابی اندر کسی سے فون پر مصروف تھیں۔ وہ انہیں اللہ حافظ کہنے کے لیے وہیں رک کر انتظار کرنے لگی۔
’’تم اس سے پیچھا چھڑا کیوں نہیں لیتے۔‘‘ صالحہ بھابی کی جھنجھلائی آواز آئی۔ اس نے اپنا موبائل کھول کر ایس ایم ایس چیک کرنے شروع کیے۔ سالار کے میسجز سے ان باکس بھرا پڑا تھا۔ سینڈی کی سیریس حالت کا واویلا تھا ہر میسج میں۔
’’میں کچھ نہیں جانتی سالار۔ اس قصے کو اب ختم کرو۔ بہت کھینچ لیا۔ تمہیں کوئی کمی نہیں۔‘‘ صالحہ بھابی کی آواز نے اس کی ساری حسیات جیسے بیدار کردیں۔ وہ غیر اخلاقی حرکت سے خود کو روک نہیں پائی۔ یہ شاید صالحہ بھابی کا ہی بیڈ روم تھا اور وہ سالار سے بات کررہی تھیں۔
’’کیوں بنا رکھا ہے تم نے اسے پاگل‘ بہت ہوگئی یہ فضول محبت‘ اپنے گھر پر توجہ دو‘ مجھے خوامخواہ اس سے ڈر لگنے لگا ہے۔ کہیں آہ نہ پڑ جائے اس کی۔ سینڈی کی محبت کم ہے کیا تمہارے لیے؟‘‘ اب کہ ذرا وہ ہنسیں۔ سالار جانے کیا کہہ رہا تھا کہ وہ ہنسے ہی جا رہی تھیں۔ بہت کچھ تھا جو غلط تھا‘ لیکن وردہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھی۔ وہ اس محبت کا پھول مٹھی میں دبائے پھر رہی تھی۔ جس میں محبت تو کیا احساس نام کی بھی خوشبو نہیں تھی۔
اس نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ اب وہ کمرے کا منظر بخوبی دیکھ سکتی تھی۔ صالحہ بھابی کا منہ دوسری طرف تھا اور وہ دبی دبی آواز جسے وہ سمجھ رہی تھی فون میں سے آرہی تھی‘ وہ سامنے ہی موجود تھی اور وہی نہیں بیمار‘ لاچار سینڈی بھی میک اپ سے مزین چہرہ لیے بیڈ پر سالار کے کندھے سے سر لگائے بیٹھی تھی۔ سالار امریکہ میں نہیں تھا۔ اسی گھر کے ایک کمرے میں‘ وہ اپنی ہم عمر بیوی کے ساتھ بیٹھا اسے کب سے ہجر کی آگ میں جلا رہا تھا اور وہ آنکھیں بند کیے اس کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کہے جا رہی تھی۔ اسے کبھی شک تک نہ ہوا تھا کہ سالار اسی کے شہر کے ایک کمرے میں اپنی تندرست بیوی کے ساتھ زندگی انجوائے کرتا‘ اسے بیوقوف بنا رہا تھا اور وہ بند آنکھوں سے اس کی ہر بات پر یقین کرتی رہی تھی۔ وہ کھلے دروازے سے پلٹ آئی۔
اسے اپنا آپ بہت کم قیمت لگ رہا تھا۔
محبت کیوں اتنا بے مول کر ڈالتی ہے؟
اس کے پاس بہت سارے دکھ تھے رونے کے لیے۔
اور وہ ان پر پھوٹ پھوٹ کر روئی بھی۔
خود پر نفرین بھی بھیجی اور رشتوں کے مسخ ہونے کا احساس بھی خون خون ہوگیا۔
وہ کمزور نہیں تھی‘ بنادی گئی تھی‘ سو اس نے سب کچھ مٹادیا۔
ہر وہ بات جو سالار کے حوالے سے اس کی یادداشت میں محفوظ تھی۔ ہر وہ کمزوری جو سالار کی محبت نے اسے بخشی تھی۔ اس نے سالار کا نمبر بھی ڈیلیٹ کیا اور اپنا نمبر بھی بدل لیا تھا۔
خ…خ…خ
کئی برس بیت گئے۔ پانچ‘ چھ یا شاید سات برس۔ صفیہ چل بسی تھیں اور جہانزیب اسپیشلائزیشن کرنے کے لیے امریکہ چلا گیا تھا۔ وردہ کے بالوں میں چاندی چمکنے لگی تھی اور چہرے کی جھریاں اسے عمر رسیدہ ثابت کرنے لگی تھیں۔ اس کا شمار بہت اچھے ڈاکٹرز میں ہونے لگا تھا۔ اس نے زندگی سے محبت کو اکھاڑ پھینکا تھا اور لق دق صحرا میں زندگی گھسیٹ رہی تھی اور تب ہی ایک دن سالار اسے ہاسپٹل کے کوریڈور میں کھڑا نظر آگیا۔ وقت نے اس پر شاید مہربانی کم کردی تھی۔ گرے بالوں کے ساتھ پریشان حال سالار کو وہ لمحوں میں پہچان گئی تھی اور کبھی اس نے کئی سال لگا دیے تھے پہچاننے میں۔
وہ اپنے روم کی کھڑکی سے مسلسل اس پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ آدھے گھنٹے سے اوپر ہوچکا تھا اور وہ مسلسل اسی پوزیشن میں تھا‘ اللہ جانے اکیلا تھا یا کسی کے ساتھ آیا تھا۔ اس نے نرس سے اس کے بارے میں استفسار کیا تو پتہ چلا اس کی بیوی کینسر کی آخری اسٹیج پر ہے اور اسی ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے۔ اس نے سارے کوائف منگوائے۔ سعیدہ واقعی آخری سانس گن رہی تھی۔ وہ اس سے ملنے وارڈ میں چلی گئی۔ صالحہ بھابی کو اس نے دور سے پہچان لیا تھا اور صالحہ نے بھی ذرا تاخیر کیے اس کو پہچان لیا تھا۔ وہ گرمجوشی سے اس کی طرف بڑھی تھیں۔ آنکھوں میں سارے رشتوں کا مان سموئے۔
’’تم یہاں ہوتی ہو وردہ؟‘‘ انہوںنے پوچھا۔
’’جی۔‘‘ اس نے مختصراً کہا اور مریضہ کو دیکھنے لگی۔ اس کے لیے دیے انداز پر صالحہ چپ کر گئیں۔
’’آپ ان کی کون؟‘‘ اس نے ذرا سی نظر اٹھائی۔
’’میں صالحہ… وردہ۔‘‘ وہ جوش سے بولیں‘ لیکن وردہ کے سپاٹ لہجے نے ان کا جوش و ولولہ ٹھنڈا کردیا۔
’’جی میری چھوٹی بہن ہیں‘ ڈاکٹر وردہ۔‘‘
وردہ نے ایک نظر صالحہ پر ڈالی اور صالحہ کو لگا وہ خاکستر ہوگئی ہو۔ وردہ نے کچھ نہیں کہا اور آگے بڑھ گئی تو صالحہ کا درد بے جا نہیں تھا۔
وہ اس کی ماں جائی تھی۔ وہ جو ایک ڈراما سالار اور اس کے خاندان نے سالوں اس کے ساتھ کھیلا تھا اس کا ایک کردار صالحہ بھابی بھی تھیں۔ وہی صالحہ بھابی جو اس پر واری صدقے جاتی تھیں اور جن کی کئی بار اس نے اس طرح مدد کی تھی کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہونے دی تھی۔ اس کی سماعت میں اس دن کی آخری گفتگو ابھی تک کوڑے برساتی تھی۔
عورت پاگل یا بے وقوف نہیں ہوتی۔ یہ تو محبت ہوتی ہے جو اسے ایسا بننے پر مجبور کردیتی ہے۔ اس دن پھوپو کے گھر سے نکلتے ہوئے اسے خود پر بے حد غلیظ ہونے کا گمان ہوا تھا سارے جہاں کی غلاظتیں اسے اپنے وجود سے چمٹی محسوس ہوتی تھیں۔ اس نے کیسے کیسے اپنے وجود کو اس محبت سے پاک کرنے کی کوشش نہ کی تھی۔
’’مجھے معاف کردو وردہ…‘‘ وہ کھڑکی سے پار جھانکتی گہری سوچ میں غرق تھی۔ جب سالار کی آواز اسے حقیقی دنیا میں کھینچ لائی۔ وہ سرعت سے مڑی‘ سالار اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا‘ لیکن بیچ میں کئی صدیاں حائل تھیں۔
پیپل کے تنے سے چپکی چڑیا پر ایک گرم آنسو گرا۔
’’میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی۔‘‘ سالار ندامت سے سر جھکائے کھڑا تھا۔
’’ٹپ ٹپ ٹپ؟‘‘ ایک کے بعد ایک گرے کئی قطرے اس کی آنکھوں سے پھسلے۔ وردہ چہرے پر ایک مسکراہٹ سجاتی اور آگے بڑھ گئی۔
’’سوری… میں آپ کو صحیح طرح پہچان نہیں پائی۔‘‘ اس نے چہرے پر اجنبیت طاری کی تو وہ آگے بڑھا۔
’’وردہ…‘‘ اس نے پکارا۔ وہ اسے اس سے اسی رویے کی توقع تھی۔
’’میں ڈاکٹر وردہ ہوں اور اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہے تو پلیز‘ سکون سے بیٹھ کر بتائیے۔ اسٹاف ممبرز میں سے کسی سے کمپلینٹ ہے یا؟‘‘ اپنی نشست پر بیٹھتے ہوئے اس نے اتنا نارملی کہا کہ سالار کی ہمت جواب دے گئی۔ چند لمحے کے توقف کے بعد گویا ہوا۔
’’جی… میں سالار ہوں… آپ کا کزن‘ شاید آپ نے پہچانا نہیں؟‘‘ امید کی رسی کا سرا پکڑنے کی ایک اور ناکام کوشش کی تھی اس نے۔ وردہ کے لبوں پر مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوگئی۔
’’آپ کی مسز بیمار ہیں ناں… کینسر کی مریضہ‘ ماشاء اللہ بڑی حوصلہ مند خاتون ہیں۔ اتنی دیر لڑلیا بیماری سے۔‘‘ وہ پین کے سرے کو ٹیبل پر بجاتی رہی۔
’’نہیں…‘‘ وہ بتانا چاہتا تھا کہ اس کا جھوٹ اس کے آگے آیا تھا۔ صالحہ بھابی صحیح کہتی تھیں کہ کہیں اس کی آہ نہ لگ جائے اور ان کی ساری زندگی پر ڈاکٹر وردہ کی آہوں کا غبار چھا گیا تھا۔ سالار نے ہاتھ جوڑ دیے۔
’’مجھے معاف کردو وردہ‘ میرا جھوٹ میرے گلے پڑگیا۔ میں نے تمہیں دھوکا دیا اور اللہ نے مجھے سزا دی۔ سعیدہ کو سچ مچ کینسر ہوگیا اور واقعی وہ چند دن کی مہمان ہے۔ پلیز… ہمیں سچ مچ تمہاری آہ لگی ہے۔ سچ مچ…‘‘ ڈاکٹر وردہ نے آنکھیں بند کرلیں۔ اس نے کب بد دعا کی تھی۔
کتنا آسان ہوتا ہے ان مردوں کے لیے‘ بے وقوف بنانا۔ محبت کے نام پر دھوکا دینا اور پھر جب ان کی اپنی کرنی ان کے آگے آتی ہے تو انہیں لگتا ہے کہ بد دعا لگ گئی۔ اس نے تو کبھی برا حرف اس کے لیے منہ سے نہیں نکالا تھا۔ کبھی برُا سوچا تک نہ تھا۔
محبت کو ہر کوئی اپنے ظرف کے مطابق برتتا ہے۔
’’اللہ آپ کی مسز کو شفائے کاملہ عطا کرے۔ میں تو دعا ہی کرسکتی ہوں‘ آپ کے لیے۔ آئی ایم سوری۔ میں واقعی آپ کو نہیں جان پائی مسٹر۔‘‘ بہت بے گانگی سے اس نے کہا۔
سالار کی آنکھیں ڈبڈبائیں‘ وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا۔ لیکن وردہ کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔ اس لیے اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل گئی۔
’’محبت ہارنے اور محبت میں ہارنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایک ’’ہار‘‘ زندہ رکھتی ہے‘ دن رات کسک بن کر دل میں پلتی ہے اور دوسری روح سلب کرلیتی ہے۔ جیتے جی مار دیتی ہے۔‘‘
اور محبت میں ہاری عورت… آٹے کی چڑیا کی مانند ہوتی ہے۔ جس پر نہ تو کوئی رنگ چڑھتا ہے اور نہ ہی وہ اڑان بھر سکتی ہے۔ اسے پیپل کے تنے سے چپکا دو یا نیم کے پیڑ سے‘ کیا فرق پڑتا ہے…؟

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close