Hijaab Nov-18

ملاقات ماورا طلحہ

ایڈمن پینل

ماورا طلحہ
اس بار جس ایڈمن کو انٹرویو کے لیے منتخب کیا ہے وہ ہماری نٹ کھٹ سی اور نئی نویلی اپنے میاں کو پیاری ہوئی ماورا ہیں۔
ماورا بشارت چیمہ ۱۴ اگست ۱۹۹۴ کو وزیر آباد کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئیں لیکن ان کا زیادہ وقت گجرات میں گزرا۔ ماورا طلحہ کی تعلیم گریجویشن ہے۔
ہمارے کئی ایڈمنز کی طرح ماورا بھی صرف ایڈمن نہیں ہیں بلکہ ایک اچھی اور ابھرتی ہوئی لکھاری بھی ہیں۔ جن کی تحریروں کو قارئین کی جانب سے بھرپور پزیرائی ملتی ہے۔
ماورا نے چونکہ نکاح کے بعد باقاعدہ لکھنا شروع کیا اسی لیے ماورا طلحہ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔
ماورا نے ۲۰۱۶ میں لکھنا شروع کیا اور اب تک تقریباً بیس تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ یہ ماورا کا مختصر تعارف تھا ۔آئیے اب انٹرویو کی طرف چلتے ہیں۔
ثمرینہ سحر
س: ماورا‘ آپ کی نظر میں دوست کیا ہے اور دوستی کی اہمیت کیا ہے اگر آپ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جائے تو کیا جواب ہو گا؟
ج: دوست صرف دوست ہوتا ہے۔ وہ بھی انسان ہے ہر وقت ’’جی جی‘‘ نہیں کر سکتا۔ اس سے ہفتوں بات نہ ہو لیکن جب ہو تو دل میں سکون اترجائے۔ دوستی کا رشتہ شکوک و شبہات سے بہت پرے ہے، یقین اور اعتماد کا ہے۔ میں دوستی سے بڑھائے گئے ہاتھ کو کبھی رد نہیں کرتی۔
س: آپ کی ایک اچھی اور ایک بری عادت؟
ج: اچھی عادت تو دوسرے بہتر بتا سکتے ہیں البتہ بری عادتیں بہت ہیں کس کس کا ذکر کروں۔ سست بہت زیادہ ہوں، رات کو جاگنا، خود سے لاپروا رہنا اور نہ جانے کیاکیا…
س: کس معاشرتی رویے کو ناپسند کرتی ہیں؟
ج: اپنے سے کمتر کو انسان نہ سمجھنا اور خود غرور تکبر میں رہنا‘ یقین کریں بگاڑ پیدا ہی یہاں سے ہوتا ہے۔
سباس گل
س: ماورا رائٹر بن کر کیسا محسوس ہو رہا ہے؟
ج: رائٹر بن کے اچھا محسوس ہو رہا ہے لیکن جب انتظار کی کوفت سے گزرنا پڑتا ہے تو دل برا ہوتا ہے اور اتنے انتظار کے بعد بھی جب یہ سننے کو ملے کہ ادارہ ان سے امتیازی سلوک کرتا ہے تو لکھنے سے دل اْچاٹ ہو جاتا ہے لیکن قارئین کی محبت میں ایسا جادو ہے کہ ہر بات بھول کر پھر سے لکھنے کی لگن پیدا ہونے لگتی ہے۔ آپ کہہ سکتی ہیں ’’کبھی خوشی کبھی غم‘‘ والا حال ہے۔
س: آپ کے خیال میں کیا لکھنا آسان کام ہے؟
ج: جب لفظ دل و دماغ کو معطر کر رہے ہوں تو لکھنا بہت آسان ہو جاتا ہے لیکن جب زبردستی کرداروں کو گھسیٹنا پڑے تو اس سے مشکل کوئی کام نہیں۔ کردار ہنستے ہیں تو لکھاری ہنستا ہے اگر کردار روتے ہیں تو لکھنے والا روتا ہے۔ اس لیے میں یہ ہی کہوں گی کہ یہ حساس لوگوں کا کام ہے اور ایسے لوگ کب آسانیوں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔
عنایہ گل
س: زندگی میں کوئی خواہش جس کے پورا ہونے کا بے صبری سے انتظار ہے؟
ج: الحمداللہ ہر خواہش پوری ہوئی۔ تین ماہ پہلے عمرہ کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ اب اگر کوئی خواہش ہے تو یہ کہ حج کی توفیق نصیب ہو اور اپنا لکھا کتابی شکل میں دیکھنا چاہتی ہوں۔
س: محبت ایک بہت ہی پاکیزہ جذبہ ہے اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گی بحیثیت رائٹر؟
ج: محبت پر لکھنے والوں نے کتابیں لکھ ڈالیں مگر محبت کی تشریح پھر بھی مکمل نہیں ہوئی۔ یہ جذبہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ میں اس جذبے پہ جتنا بھی لکھوں لوں جو بھی کہہ لوں لیکن پھر بھی اس کا متن بھرپور طریقے سے بیان نہیں کر پاؤں گی۔
س: پسندیدہ شعر
ج: وہ میرے پاس سے گزرے میرا حال تک نہ پوچھا
میں یہ کیسے مان جاؤں وہ دور جا کے روئے
حنا اشرف
س: کس طرح کے لوگ آپ کو پسند ہیں؟
ج: مجھے وہ لوگ پسند ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ جو بظاہر آپ کے ہمدرد اور اندرون خانہ آستین کے سانپ نہ ہوں۔
س: اپنے ہاتھ کی بنی کون سی ڈش بے حد پسند ہے؟
ج: میں کھانے پکانے میں ماہر تو نہیں لیکن الحمدللہ جو پکاتی ہوں سب کو ہی پسند آتا ہے۔ مجھے اپنے ہاتھ سے پکی چٹ پٹی اور اسپائسی چیزیں زیادہ پسند آتی ہیں۔
س: جب آپ کا دل بہت اداس ہو تو کیا کرتی ہیں کس طرح اداسی ختم ہوتی ہے آپ کی ؟
ج: مجھے کچھ دنوں بعد اداسی کا دورہ ضرور پڑتا ہے تو میں کہیں چھپ کے خوب جی بھر کے رو لیتی ہوں اور یوں اداسی کا یہ دورانیہ اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔
زیست فاطمہ عالم
س: آپ کی نظر میں ایک کامیاب انسان کا راز کیا ہے؟
ج: جو جیسا ہے، جس حال میں ہے اس میں مطمئن ہے تو میرے خیال میں وہ کامیاب انسان ہے۔
س: کوئی ایک ایسا کردار یا کہانی جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی آپ نے لکھا ہو؟
ج: ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی کردار یا کہانی نہ چاہتے ہوئے بھی لکھی ہو کیونکہ لکھنے کا تعلق دل اور دماغ سے ہوتا ہے تو ایک کردار آپ کو پسند ہی نہیں تو آپ اس پہ کبھی نہیں لکھ سکتے۔
عائشہ تنویر
س: آپ کی پہلی کہانی کب اورکس ڈائجسٹ میں آئی، اس پر گھر والوں کا رسپانس کیسا تھا؟
ج: میرا پہلا افسانہ ’’ردا ڈائجسٹ‘‘ میں۲۰۱۶ میں شائع ہوا تھا۔ گھر والوں کا کچھ خاص رسپانس نہیں تھا کیونکہ مجھ پر کچھ دن ایک جنون طاری رہتا ہے پھر سب بھول جاتا ہے لیکن اب جو اس سفر کو تین سال ہو گئے تو اب سب خوش ہوتے ہیں، ہمت بندھاتے ہیں، کوئی نہ کوئی نیا موضوع بتاتے ہیں۔
س: اپنے ادبی کیریئر کو آئندہ سالوں میں کہاں دیکھنا چاہتی ہیں؟
ج: میں مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن میری خواہش ہے کہ اچھا لکھوں اور بہت لکھوں۔ سب لکھنے والوں کی طرح میں بھی اپنے لکھے کو کتابی شکل میں دیکھنا چاہتی ہوں اور مجھے امید ہے ایک دن لکھنے کے حوالے سے میری سب خواہشیں پوری ہوں گی کیونکہ جب ہم محنت کرتے ہیں تو اس کا صلہ بھی ملتا ہے۔
س: ہم عصر مصنفین میں پسندیدہ کون ہے؟
ج: ہم عصر مصنفین میں بہت سارے نام ہیں جو بہت اچھا لکھتے ہیں۔ ہر کسی میں کوئی نہ کوئی انفرادیت ہوتی ہے جو اسے دوسرے سے ممتاز کرتی ہے۔ کسی کا بیانیہ کاکمال ہوتا ہے اور کوئی منظر نگاری میں یکتا، کوئی زبان و بیاں میں سب سے آگے اور کوئی موضوع کے چناؤ میں دوسرے کو آگے نہیں نکلنے دیتا مثال کے طور پہ مجھے صبا ایشل آپی کی کہانیوں کے موضوعات بہت پسند آتے ہیں، کوثر ناز کے لکھے میں سنجیدگی حیرت زدہ کرتی ہے کہ اتنی کم عمری میں یہ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتی ہے۔ اگر مزاح کو لیں تو عائشہ تنویر کسی کو آگے نہیں بڑھنے دیتی۔ ساجدہ غلام محمد کا لکھا بھی پسند آتا ہے۔
کچھ دن پہلے فریال سید کا ’’عشق لا‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو ان کے الفاظ کا ردھم، چناؤ اور معلومات کا خزانہ پسند آیا۔
فرح بھٹو، حنا اشرف، ناہید اختر بلوچ کا لکھا بہت پسند آتا ہے۔
حنین شاہ
س: لکھنا کب شروع کیا اور پہلی تحریر کون سی تھی؟
ج: میں نے۲۰۱۶ میں لکھنا شروع کیا اور پہلی تحریر ’’روح کا سودا‘‘ تھی۔
س: کبھی کوئی ایسا موقع جب سوچا ہو کہ اب نہیں لکھنا لیکن پھر کسی بات نے مجبور کیا ہو؟
ج: ایک موقع آیا تھا جب سوچا کہ بس اب نہیں لکھنا لیکن میری فیملی خاص کر بھائی اور شوہر نے بہت سپورٹ کیا تب ہی یہ سلسلہ جاری ہے۔
زارا رضوان
س: اچھا لکھنے کے لئے کیا چیز اہم ہے ماحول‘ مطالعہ یا پھر خداداد صلاحیت کام آتی ہے؟
ج: اگر خداد صلاحیت ہو تب بھی سیکھنے کا عمل آپ کی صلاحیتوں کو نکھار بخشنے کے لیے ضروری ہے تو میرے خیال میں مطالعہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
عائزہ خان
س: میں لکھنا چاہتی ہوں لیکن میں جب بھی لکھنے کی کوشش کرتی ہوں جو کچھ بھی ذہن میں ہوتا ہے سب بھول جاتی ہوں۔
ج: اس کے لیے آپ ڈائجسٹ کھولیں اور کسی بھی صفحے کے آغاز سے لکھنا شروع کریں، بالکل ویسے جیسے کسی بھی لکھاری نے لکھا ہے۔ امید ہے اس سے آپ کا ذہن کھلے گا اور ہاتھ میں روانی آئے گی۔
ایمن نور
س: تھا جس کا انتظار وہ شاہکار آ گیا۔
ماورا جی آپ ہم سے واقف نہیں لیکن ہم آپ سے بذریعہ صفحات اور بذریعہ کتاب سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتے ہیں اور بہت چاہتے بھی ہیں اللہ آپ کو خوش رکھے۔
ج: میں آپ کی محبت کی قدر دان ہوں۔
ثمر فاطمہ
س: آ پ کی کہانی کا ایسا کون سا کردار ہے جس میں آپ کی جھلک نظر آ تی ہے؟
ج: میری ہر کہانی میں کسی نہ کسی جگہ میری جھلک ضرور ہوتی ہے اور مجھے جاننے والے یہ منٹوں میں پہچان لیتے ہیں۔
س: آ پ اپنا فارغ ٹائم کیسے گزارتی ہیں؟
ج: شادی سے پہلے تو مطالعے میں گزرتا تھا۔ اب دیگر گھریلو مصروفیات ہیں اگر پھر بھی وقت بچ جائے تو نیند کی وادی میں اترنا پسند کرتی ہوں۔
س: شادی کے بعد آ پ کو خود میں کیا تبدیلی نظر آئی؟ اور ہم اسٹوڈنٹس کے لیے کوئی پیغام؟
ج: شادی کے بعد کچھ خاص تبدیلی نہیں آئی بس پہلے جو وقت صرف اپنا تھا اس وقت کے کچھ اور حصہ دار آ گئے ہیں۔
آج کل مثبت سوچ کی بہت کمی ہے، میرا پیغام یہ ہی ہے کہ مثبت سوچیں اور اپنے ارد گرد مثبت رویہ پروان چڑھائیں۔
صباء معراج
س: السلام علیکم ماورا کیسی ہے آپ؟ کبھی کوئی ایسا موقع جب سوچا ہو کہ اب نہیں لکھنا لیکن پھر کسی بات نے مجبور کیا ہو؟
۲) آپ کا اپنا لکھا کوئی ناول یا کردار جو آپ کے دل کے بہت قریب ہے اور وجہ؟
ج: وعلیکم السلام۔ آپ کے دونوں سوالات کے جوابات اوپر دیے جا چکے ہیں۔
ثمر ملک
س: لکھتے وقت اسٹوری کا انجام ذہن میں رکھتی ہیں یا سیچویشن و کردار کے مطابق اینڈ کرتی ہیں؟
ج: میں صرف تھیم سوچتی ہوں کردار اپنا انجام خود کرواتے ہیں۔
س: اسٹوری لکھتے وقت الفاظ و سچویشن کے مطابق آپ کی کیفیات بھی بدلتی رہتی ہیں یا بالکل پرسکون رہتی ہیں؟
ج: میں پرسکون رہ کے نہیں لکھ سکتی، کرداروں کے جذبات میں ایسے ڈھل جاتی ہوں کہ باقاعدہ بول کر لکھتی ہوں جیسے اس کردار کی جگہ میں ہوں۔ میں لکھنے کے ساتھ ہنسنے، رونے کا شغل بھی جاری رکھتی ہوں۔
س: ہر تحریر اپنا پیغام رکھتی ہے، کئی رائٹرز ایک سے زائد مختلف تحاریر میں ایک ہی پیغام دیتے ہیں تو آپ کی تحاریر کا سب سے کامن میسیج اب تک کون سا رہا ہے؟ آسان لفظوں میں بتا دیں؟
ج: میری کوشش یہ ہی ہوتی ہے کہ میری تحریر میں ہر کردار مثبت پیغام دے۔ بعض دفعہ کسی تحریر میں ایک سے زیادہ پیغامات ہوتے ہیں جیسے آنچل میں شائع ہونے والے افسانے ’’تخلیق کار‘‘ میں والدین کی نافرمانی کرنے والوں کا انجام، مذہب کے احکامات سے پھرنے والوں کی سزا اور توبہ کا در کھلا رہنے کی نوید دی گئی ہے۔ میں اپنی کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہوں یہ قاری ہی بہتر بتا سکتا ہے۔
سنبل خان بٹ
س: اپنی اور اپنے ان کی کوئی ایسی بری عادت بتائیں جسے آپ چاہ کر بھی بدل نہیں پارہے؟
ج: ایسی کوئی بری عادت نہیں جسے بطور خاص بدلنے کی کوشش کی جائے البتہ ہم سارے گھر والے چاہ کے بھی وقت پرنہیں سو پاتے۔ کبھی باتیں، کبھی کھیلنا اور باہر گھومنا۔ تم اسے ایک عادت کہہ سکتی ہو جو بدلنے کی خواہاں ہوں۔
س: کوئی ایسا یادگار لمحہ جو ہم عنقریب شادی شدہ ہونے والی کڑیوں سے شیئر کرنا چاہیں؟
ج: شادی شدہ ہو جاؤ پھر بہت سے لمحات شیئر کر لوں گی۔
س: کہانی کار بننے کے لیے محنت، مطالعہ، مشاہدہ اور خدا داد صلاحیت کا ہونا ضروری ہے مگر لکھنے میں تسلسل قائم رکھنے کے لیے کس چیز کا ہونا ضروری ہے؟
ج: تسلسل کیسے قائم ہوتا ہے؟ مجھے بھی اس جواب کی تلاش ہے اگر مل گیا تو بتاؤں گی۔ میں خود پر جبر کر کے نہیں لکھ سکتی سو تسلسل بھی قائم نہیں رہتا۔ دل سے لکھتی ہوں اور دل پاپندیوں کو نہیں مانتا۔
س: میں کہتی ہوں میں اچھی لکھاری بنوں، زیادہ سے زیادہ لکھا ہوا شائع بھی ہو پر میں لکھ نہیں پاتی۔ دماغ میںکہانیاں گڈمڈ ہوتی رہتی ہیں۔ انہیں لکھنا بہت مشکل لگتا ہے‘ اس حوالے سے کوئی ٹپس؟
ج: اس کا ایک ہی حل ہے کہ جو خیال دماغ میں آئے اس کو چند سطروں میں مقید کر لو۔ اس سے یہ ہو گا کہ جس موضوع پہ لکھنا شروع کرو گی اس کا خلاصہ تمہارے پاس ہو گا جو لکھنے کے عمل میں آسانی پیدا کرے گا۔
ہادی انس
س: میرا آ پ سے سوال ہے کہ منافق لوگوں سے کیسے بچا جائے؟
ج: میرے خیال میں جب آپ میں منافقت نہیں ہے تو آپ کا واسطہ منافق لوگوں سے نہیں پڑے گا اور سامنا ہوا بھی تو فوراً سے پہچان لیں گی۔
س: محبت ایک لافانی جذبہ ہے۔یہ انسان کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیتی ہے۔اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے کہ انسان اپنی عزت نفس مجروح ہونے سے بچا لے؟یاد رہے میں گلیوں میں رلنے والوں کو محبت کا نام نہیں دے رہی؟
ج: اگر آپ گلیوں میں رلنے والی محبت کا نہیں کہہ رہی پھر محبت کا وجود محرم رشتوں سے منسلک ہے اور محرم رشتوں کی محبت کبھی عزت نفس مجروح نہیں کرتی اور نہ ہی آپ کو اس کے شکنجے سے نکلنے کی خواہش ہو گی۔
اساور شاہ
س: کبھی کوئی ایسا کردار لکھا جس پر سب سے بڑھ کر محنت کی ہو جو بہت مشکل لگا ہو لکھنا اور سب سے آسان کردار کون سا لکھا کے اسے لکھنے بیٹھیں تو بس لکھتی گئیں؟
ج: ہر کردار پہ محنت تو ہوتی ہے لیکن ایسا کردار جسے لکھنے میں مشکل درپیش آئی ہو تو وہ عنقریب لکھنے والا ایک ناول ہے جس پہ بہت زیادہ تحقیق کرنے کے بعد بھی میں اس پر لکھ نہیں پا رہی۔ ان شاء اللہ بہت جلد اس پہ کام شروع کر رہی ہوں۔
کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں کہ لکھنے بیٹھو تو لکھتے جاؤ۔ ’’تخلیق کار‘‘ اور ’’کٹھ پتلی‘‘ ایسے ہی دو افسانے ہیں جنہوں نے مجھے نیند سے اٹھا کر خود کو لکھوایا۔
س: اب تو آپ ایک عرب ملک میں ہیں تو کیا ہم امید رکھیں کے اگلی کوئی کہانی اس معاشرے یا کرداروں کو لے کر ہو گی؟
ج: لکھاری اپنے ارد گرد سے ہی کہانیاں چنتا اور صفحہ قرطاس پہ بکھیرتا ہے۔ مجھے جب یہاں کچھ ایسا نظر آیا جس کو میرا قلم پکڑ سکے تو میں ضرور لکھوں گی۔
س: ہماری تقریبا سب ہی شادی شدہ لکھاری بہنیں جن کو ہم نے پڑھا سوائے ایک دو کے شادی کے بعد ان کے لکھنے کا انداز بدل جاتا ہے ایسا کیوں؟ وہ کیا فرق ہوتا ہے ؟
ج: ابھی تو نئی نئی شادی ہے اور کچھ خاص لکھا بھی نہیں تو اس فرق کی زیادہ وضاحت نہیں کر سکتی لیکن میرے خیال میں اس فرق کی بنیادی وجہ ماحول کی تبدیلی اور معاشرتی رویوں کی حقیقت کا ادراک ہونا ہے۔ والدین کے گھر میں ہر طرح کی آزادی کے بعد جب لڑکی ایک مختلف ماحول میں جاتی ہے تو اس کی سوچیں، خیالات، نکتۂ نظر سب کچھ بدل جاتا ہے اور وہی بدلاؤ قلم کے ذریعے قاری تک پہنچتا ہے۔
خضرا خان
س: ماورا طلحہ کونسی تحریر پڑھ کے ایسا لگا کہ اس ناول کو میں اچھا لکھ سکتی تھی؟(کسی بڑی اور مشہور رائٹر کا ناول بتائیں)
ج: ہر لکھاری اپنے مطابق درست لکھتا ہے اور میں ابھی اس مقام پہ نہیں پہنچی کہ بحیثیت لکھاری معروف قلمکاروں کی غلطیاں نکالوں البتہ بحیثیت قاری اکثر خواہش ہوتی ہے کہ من چاہا انجام پڑھنے کو ملے۔ جیسے ’’متاع جاں ہے تو‘‘ میں ’’عابی‘‘ کے نہ مرنے کی خواہش تھی لیکن بات وہی آ جاتی ہے کہ تحریر لکھاری کی تصویر ہوتی ہے اور اس کی مرضی پہ منحصر ہے کہ وہ اس میں کون سے رنگ بھرتا ہے۔
س: ماورا آپ کو ایڈونچر ٹائپ ناول پسند ہیں یا گھریلو؟
ج: مجھے ہر قسم کا ادب پسند ہے۔ آپ کہہ سکتی میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں کہیں بھی کچھ بھی مل جائے تو وہ پڑھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ مجھے صفائی کے دوران اخبار کا ایک ٹکڑا بھی ملتا تو میں سب کام چھوڑ کر وہیں بیٹھ کر پڑھنے لگ جاتی تھی تو میں کسی مخصوص صنف کی حامی نہیں ہوں۔
س: ماورا کوئی ایسا ناول بتائیں کہ وہ کسی دوسری رائٹر کے ناول کی کاپی تھا؟ آپ کو اپنی زندگی میں ایسا کوئی ناول نظر آیا؟
ج: میرے خیال میں ہر اچھے لکھاری کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے لکھے میں کسی دوسرے کی جھلک نظر نہ آئے، اس کی اپنی پہچان ہو اور اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو وہ یقینا موضوع کی یکسانیت ہو سکتی ہے کیونکہ موضوعات تو وہی ہیں بس لکھنے کا انداز کہانی بدل دیتا ہے۔
البتہ جو لوگ لفظ لفظ چرا لیتے ہیں میں انہیں لکھاری ہی نہیں مانتی اور میں نے ابھی تک ایسا کوئی ناول نہیں پڑھا۔
سیف خان
س: کس خاتون رائٹر سے زیادہ متاثر ہیں… اور کس میل رائٹر کو زیادہ پڑھا ہے؟
ج: بہت ساری مصنفین ہیں جن سے بہت متاثر ہوں کسی ایک کا نام لینا زیادتی ہو گی۔
جہاں تک میل رائٹر کی بات ہے تو سب سے پہلے ’’نسیم حجازی‘‘ کو پڑھا اور پاگلوں کی طرح پڑھا تو جہاں تک زیادہ پڑھنے کی بات ہے تو نسیم حجازی کا نام لوں گی۔ ان کے علاوہ بہت سارے نام ہیں جن کا کچھ نہ کچھ پڑھ رکھا ہے۔
گڑیا شاہ
س: اپنی زندگی کا کوئی یادگار لمحہ جسے آپ کبھی فراموش نہیں کرسکیں؟
ج: میں بہت زیادہ جذباتی ہوں اور ہر چھوٹے بڑے موقع کو بھرپور جوش و خروش سے منا کر یادگار بنا لیتی ہوں سو کسی اک موقع کا نام نہیں لے سکتی۔
س: کوئی ایسی خواہش جو اب تک پوری نہ ہوئی ہو؟
ج: الحمداللہ کوئی ایسی خواہش نہیں جو پوری نہ ہوئی ہو۔ جو مانگا دیر سے سہی مگر اس پاک ذات نے دے ضرور دیا۔
س: اپنی کوئی ذاتی کاوش جسے لکھتے ہوئے آپ روئیں ہو یابہت پسند ہو؟
ج: ’’سجدہ وطن‘‘ ایک حقیقی کہانی جسے لکھتے ہوئے مجھے ان ماؤں کی تڑپ کا اندازہ ہوا جن کے لال وطن کی خاطر گولیوں کی بوچھاڑ کے سامنے سینہ سپر رہتے ہیں اور اسے لکھتے ہوئے بارہا میری آنکھیں نم ہوئیں۔
بنت عائشہ
س: آپ نے مطالعہ کرنا کب شروع کیا اور کس ڈائجسٹ یا میگزین سے کیا؟
ج: میں بچپن سے کہانیاں پڑھنے کا شوق رکھتی تھی۔ عمر و عیار، ٹارزن، تعلیم و تربیت، بچوں کا اسلام سے شروع ہوتا سلسلہ کب ڈائجسٹ اور ناولز تک پہنچا پتا ہی نہیں چلا۔ اس لیے کسی ایک ڈائجسٹ یا میگزین کا نام نہیں لے سکتی۔
س: آپ نے مطالعہ کا شوق کس سے لیا؟
ج: میرے والد شاعری کرتے ہیں شاید وہیں سے یہ چیز میرے اندر آئی ہو۔
س: آپ کو کس قسم کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کا شوق ہے؟
ج: میں ہر قسم کی کتاب پڑھنا پسند کرتی ہوں۔ آپ کہہ سکتی ہیں میرا شوق ادب کی کسی صنف کا محتاج نہیں ہے۔
ام ارسلان
س: آپ کے نزدیک زندگی کا کیا فلسفہ ہے؟
ج: میرے نزدیک زندگی کا فلسفہ بہت سادہ ہے کہ خوش رہو اور دوسروں میں خوشیاں بانٹو، مثبت سوچو، آسانیاں تقسیم کرو اور انسانیت کا احترام کرو۔
س: ماشاء اللہ آپ بہت اچھا لکھتی ہے لیکن کیا کبھی ایسا ہوا کہ کسی کردار پر لکھنا چاہتی تھیں لیکن لکھ نہیں پائیں؟
ج: جی بالکل ایسا ہو چکا ہے۔ اک ناول ہے جس پہ بہت محنت کی ہے مگر وہ اس سے زیادہ محنت کا متقاضی ہے۔ ان شاء اللہ بہت جلد اس پہ دوبارہ کام شروع کروں گی۔
طیبہ عنصر
س: پیاری ماورا ،آپ اپنی زندگی کے کسی موڑ پر اس کیفیت کا شکار بھی ہو ئیں کہ لکھنے کو دل نہ چاہا؟
ج: بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ لکھنے کو دل نہیں چاہتا، لاکھ کوشش کر لو مگر الفاظ ہاتھ نہیں آتے، ذہن صرف سادہ سلیٹ کی ماند لگتا ہے جس پہ کوئی حرف نہیں ابھرتا مگر آپ اسے ’’مینٹل بلاک‘‘ کفیت کہہ سکتی ہیں جس کا سامنا میرے خیال میں ہر دو میں سے ایک لکھاری کو کرنا پڑتا ہے۔
س: آپ کو اپنی مرضی کا موضوع چننے کا موقع ملے تو کس چیز کو شوق سے لکھیں گی مزاح ،سماجی موضوعات ، سنجیدہ ادب؟
ج: میں اب بھی جو لکھوں اپنی مرضی سے لکھتی ہوں یاں یوں کہہ لیں کہ میں دباؤ میں نہیں لکھ سکتی۔ آپ زبردستی مجھ سے کچھ نہیں لکھوا سکتے۔ جہاں تک میری پسند کا سوال ہے تو مزاح اور سماجی موضوعات کو زیادہ پسند کرتی ہوں۔
س: آپ ماشاء اللہ اب تک کافی لکھ چکی ہیں اور بہت اچھا لکھتی ہیں۔ آپ نے اب تک جو لکھا‘ اس میں سب سے زیادہ کیا لکھنے بہت مزہ آیا؟
ج: میں جو بھی لکھتی ہوں دل سے لکھتی ہوں۔ کبھی کبھار ایک چھوٹے سے افسانے میں پھنس جاتی ہوں کہ دل لکھنے پہ آمادہ نہیں ہوتا تو یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ مزہ لیے بغیر کچھ لکھوں۔
آپ نے جو سوال پوچھا کہ کیا لکھ کے زیادہ مزا آیا تو اس سلسلے میں چند تحاریر جو پبلش ہو چکی ہیں ان کا نام لوں گی ’’عشق ست رنگی، زرد محبت، پہلو میں ہے چاند، تخلیق کار، انکل پیار محبت‘‘
ایک پسندیدہ ناول آنچل میں ہی اشاعت کا منتظر ہے اور مجھے امید ہے کہ پڑھنے والوں کو بھی بہت پسند آئے گا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close