NaeyUfaq Nov-18

دردکا داماں

خالد شاہین

آج کے دور میں جب سگی اولاد اپنی نہیں رہتی تو دوسروں کی اولاد سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے ایسے شخص کا فسانۂ غم جس نے دوسروں کی اولاد کو اپنا سمجھ کر اس پر ساری محبتیں نچھاور کریں پھر بھی خالی ہاتھ رہا۔

پورے ایک ہفتے بعد آج صبح ہی حیبہ آئی تھی اور شا م ڈھلنے سے پہلے واپس چلی گئی۔ جواد کو یوں محسو س ہو رہا تھا جیسے ٹھنڈی ہوا کا خو شگوار ہوا کا ایک جھونکا آکر گزر گیا ہو ۔ اس کہ آتے ہی انہیں یوں لگتا تھا جیسے ایک دم ہی بہت سارے ہنگا مے جاگ اٹھے ہوں اس کی مو جودگی سے انہیں گھر میں بھر پور رونق کا احسا س ہو تا تھا حالا نکہ وہ ان سے کم بات کرتی تھی۔ اس کی زیادہ تر کوشش یہی ہوتی تھی کہ وہ انھیں مخا طب نہ کرے۔
وہ سو چ سوچ کر خود ہی با ت کرتے مگر وہ ان کی با ت کا بہت ہی مختصر سا جواب دے کر خامو ش ہو جاتی تھی۔ ان کا کتنا دل چا ہتا تھا کہ حبہ ان سے بہت ساری با تیں کرے۔ کچھ اپنی کہے کچھ ان کی سنے ۔ مگر اس کہ پاس تو کچھ کہنے سننے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں یا پھر وہ کچھ کہنا ہی نہیں چا ہتی تھی۔ وہ آ کر بہت رسمی سے انداز میں انہیں سلام کرتی‘ ان کی خیریت پوچھتی اور کچھ دیر ان کے پاس بیٹھ کر اپنے کمرے میں چلی جا تی ۔ اس کا یہ اجنبی اجنبی سا انداز ان کے دل کو بہت تکلیف دیتا تھا اپنے کمرے میں گھسی وہ پتا نہیں کیا کرتی رہتی تھی۔
دوپہر کے کھانے کے وقت ان کی ملا قا ت ہوتی۔ وہ بڑی محبت سے ایک ایک ڈش اٹھا کر اس کہ سامنے رکھتے۔ اصرار کر کے اسے کھلاتے۔ اکثر اوقات خود سالن نکا ل کر اس کی پلیٹ میں ڈالتے۔
’’آپ رہنے دیں میں خود کھا لو گی۔‘‘
’’بس اتنا کا فی ہے مجھے زیادہ بھو ک نہیں آپ بھی تو کھائیے۔‘‘
یہ اور اس طر ح کہ اور جملے وہ سیدھے سپاٹ لہجے میں کہتی اور سر جھکا کہ کھانے میں مصروف رہتی۔ اس کہ کسی انداز سے خو شی ظاہر نہیں ہوتی تھی اور وہ خود کتنی محبت بھری نگاہوں سے اسے کھانا کھا تے دیکھتے رہتے تھے۔
پورا ہفتہ وہ پر گن گن کر گزارتے تھے اور جس روز اسے آنا ہو تا تھا وہ خانسا ماں سے کہہ کر اچھی اچھی ڈشز تیار کرواتے زیادہ تر اس کی من پسند چیزیں پکوا تے تھے ۔ ان کا کتنا دل چاہتا تھا کہ ویک اینڈ پر وہ فا خر ہ آپا انجم بھائی اختر بھائی یا گل بیگم کے گھر جا نے کے بجائے سیدھی اپنے گھر آ جا یا کرے۔ اس جگہ جو اس کی اپنی جگہ تھی۔ اس گھر میں رہے جو اس کا اپنا تھا مگر وہ ایسا نہیں کرتی تھی۔
ہمیشہ صبح نو دس بجے آتی تھی اور شام ڈھلنے سے پہلے چلی جاتی تھی۔ انہیں بہت افسو س ہوتا تھا۔ آخر وہ ایسا کیو ں کرتی تھی اپنا گھر چھو ڑ کر دوسروں کے گھر جا کر رہنے میں اسے کیا ملتا تھا۔ پہلے بھی تو وہ اسی گھر میں رہتی تھی پھر اب ایسی کیا با ت ہو گئی ان چند مہینوں میں ایسی کون سی تبدیلی آگئی تھی اس معا ملے پر وہ جتنا سوچتے دل کی اداسی اتنا ہی بڑھ جاتی پھر وہ یہ سو چ کر شکر ادا کرتے کہ چلو یہ بھی غنیمت ہے کہ وہ چند گھنٹو ں کے لیے ہی سہی آ تو جاتی ہے اس گھر میں۔ اگر وہ نہ آتی تو وہ کیا کر لیتے۔
وہ چند گھنٹے ان کہ لیے بڑی خوشی اور مسرت کے لمحے ہو تے تھے وہ ان کہ پاس زیادہ دیر نہیں بیٹھتی تھی۔ ان سے ذیادہ با تیں بھی نہیں کرتی تھی لیکن پھر بھی اس کی موجودگی کا احساس انھیں طما نیت بخشتا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں ہوتی تھی لیکن اس کی چو ڑیوں کی جھنکا ر ان کہ کا نوں میں گونجتی رہتی تھی ۔ایک طرف احساس خوشی اور احساس مسرت اور دوسری طرف یہ خیال کہ وہ پھر چلی جائے گی اور وہ پورے ایک ہفتے تک وہ اس کی صورت دیکھنے کو تر ستے رہیں گے۔
پھر وہ ہوں گے اور ان کی تنہائیاں یہ گھر ہوگا اور اس میں گونجتے ہوئے سنا ٹے خوشی کی یہ گھڑیا ں کتنی تھوڑی ہو تی تھیں۔ مگرچاہتے ہوئے بھی وہ اسے اس گھر میں رہنے پر مجبور نہیں کر سکتے تھے۔
کیونکہ ہوسٹلمیں رہنا اس کی خوشی تھی اور اس کی خوشی تو انہیں دنیا میں ہر شے سے بڑھ کر عزیز تھی۔ وہ اس کی خوشی کو اپنی خواہش اور اپنی آرزو پر قربان تو نہیں کر سکتے تھے مگر کبھی کبھی وہ یہ ضرور سوچتے تھے کہ حبہ کو ان کی تنہائی کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا تھا۔ اسے گھر سے جا تے ہوئے اسے یہ احساس بالکل نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنے پیچھے کیسے سناٹے چھوڑ کر جا رہی ہے۔
آج بھی اس وقت سے جب سے اسے ہاسٹل چھوڑ کر آئے تھے وہ یہی سوچے جا رہے تھے۔ گاڑی جب گرلز ہوسٹل کہ سامنے رکی تو اس نے اترنے سے پہلے کہا کہ اگلے ہفتے میں گھر نہیں آسکو ں گی۔
’’کیوں۔‘‘ وہ چونک پڑے۔
’’فیاض بھائی پکنک کا پروگرام بنایا ہے۔‘‘
’’اچھا کس جگہ جانے کا پرو گرام ہے۔‘‘
’’گارڈن۔‘‘
’’ہوں اور کون کون جائے گا۔‘‘
’’سارے کزنز ہوں گے۔‘‘ انہوں نے امید بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم جمعرات کو تو آسکتی ہو۔ جمعہ کی صبح کو میں تمہیں آپا کہ گھر چھوڑ آؤں گا۔‘‘
’’نہیں رات کو وہیں رہنے کا پروگرام ہے۔‘‘
’’گویا جمعرات کی شام کو ہی تم لوگ پکنک کے لیے چلے جاؤ گے۔‘‘
’’جی۔‘‘ انہوں نے د بے لفظوں میں کہا۔
’’میرا خیال ہے کہ رات کو ایسی جگہ پر رہنا مناسب نہیں ہے۔‘‘ اس نے دھیرے سے مسکرا کہ ان کی طرف دیکھا اور بولی۔
’’آپ خوف زدہ ہیں۔‘‘
’’ہاں ایسی جگہو ں پر بعض اوقات بڑی خوفناک وارداتیں ہو جاتی ہیں۔‘‘
’’مگر ہم لوگ تو دس پندرہ افراد ہوں گے دو تین بزرگ بھی ساتھ جائیں گے۔‘‘
’’اچھا۔‘‘
ان کے دل میں اداسی کی لہر دوڑ گئی۔
گاڑی کا دروازہ اس نے کھو لتے ہوئے کہا۔
’’آپ بھی ہم لو گوں کے ساتھ چلتے۔‘‘
کس قدر رسمی سا انداز تھا نہ کوئی ضد نہ کوئی التجا اور نہ کوئی اصرار۔ بہرحال اتنا بھی غنیمت تھا کہ اس نے ان سے کہا تو تھا چلنے کے لیے۔
اصرار نہیں کیا تو کیا ہوا۔ وہ گاڑی کا دروازہ پکڑے ان کا جواب سننے کی منتظر تھی اور وہ اسٹیئرنگ پہ ہاتھ رکھے اپنی سوچوں میں گم تھے۔
اس نے پھر کہا ’’اگر آپ چلنا چاہیں تو میں ذوق بھائی سے کہہ دوں گی۔‘‘
’’اچھا میں سو چو ں گا پھر میں خود ہی ان کو اطلاع کر دوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا اور خدا حافظ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔
ہوسٹل میں داخل ہو نے سے پہلے اس نے ایک دفعہ پلٹ کر دیکھا اور آہستہ سے ہاتھ ہلا کر اندر چلی گئی۔ انہو ں نے بھی مسکرا کہ ہاتھ ہلایا اور گاڑی اسٹا رٹ کر دی۔ واپسی میں راستہ انہیں بہت طویل معلوم ہوا۔ گھر تک پہنچتے پہنچتے ان کا دل و دماغ بوجھل ہو چکا تھا ۔
گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے وہ برآمدے میں آ ئے۔ حبہ کے کمرے، بند دروازوں اور درچوں پر نگاہ پڑتے ہی انہیں گھر کی ویرانی کا احساس ہوا۔ انہوں نے برآمدے میں رک کر جیب سے سگریٹ کا پیکٹ اور لائٹر نکالا اور ریلنگ کے قریب کھڑے ہو کر سگریٹ سلگایااور وہی کھڑے کھڑے دو تین طویل کش لیے پھر اندر چلے آئے۔ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں وہ بلا مقصد ہی چکر لگاتے رہے باورچی کھانے کے قریب سے گزرتے ہوئے انہوں نے دیکھا خانسا ماں اور اس کی بیوی اطمینان سے بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔
وہ ایک دم پلٹ آئے وہ دونوں انہیں دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔
’’معلوم ہوتا ہے کہ آج پھر تمہاری چھٹی ہے۔‘‘ احمد نے کہا۔
’’جی صاحب حبہ بی بی رات کے لیے سا لن تیار کر کے گئی ہیں۔‘‘ خانسا ماں نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔
’’اچھا اور کیا پکایا ہے۔‘‘
’’ایک سویٹ ڈش بھی تیار کی ہے اس کی ترکیب ایک رسالے میں پڑی تھی۔‘‘ احمد قدرے مسکرائے۔
’’جی صاحب انہیں معلوم ہے نا کہ آپ کو میٹھا پسند ہے اسی لیے وہ آئے دن کچھ نہ کچھ بناتی رہتی ہے۔
’’ہاں وہ کچھ نہ کچھ بناتی رہتی ہے اور تمہارے بھی مزے ہو جاتے ہے ۔‘‘ احمد کے ہونٹوں پر بکھری مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ خانساماں بھی اپنی بتیسی ظاہر کرنے لگا۔ احمد نے کہا۔
’’تم حبہ کو منع کیوں نہیں کرتے کہ وہ یہاں آرام کرنے آتی ہے اور تم اسے باورچی کھا نے میں…‘‘
خانساماں جلدی سے بولا۔
’’صاحب میں تو بہت منع کرتا ہو ںمگر وہ مانتی ہی نہیں۔‘‘ خانساماں کی بیوی نے کہا۔
’’صاحب جی وہ کہتی ہے کہ پورے ہفتے تو وہ گھر سے دور رہتی ہوں یہی تو ایک دن ملتا ہے مجھے گھر کا کام کرنے کا۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ احمد نے سگریٹ فرش پر ڈال کر پیروں سے ملتے ہوئے کہا اور باورچی کھانے سے باہر آئے۔ ’’میں پورے ہفتے تو گھر سے دور رہتی ہو۔‘‘ خانساماں کی بیوی کی آواز کی بازگشت ان کا تعاقب کر رہی تھی۔ حبہ کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے انہوں نے دل ہی دل میں کہا۔ ’’تم سے کس نے کہا ہے حبہ کہ تم اپنے گھر سے دور رہو۔ یہ تمہاری اپنی خواہش اور خوشی تھی۔‘‘ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر حبہ کی رنگیں تصویر رکھی تھی بیڈ کے نیچے اس کی سرخ چپل رکھی تھی اس کے کمرے میں رکھی ہوئی چیزوں کو دیکھتے ہوئے ان کی نگاہ الماری پر پڑی الماری میں چابی لگی رہ گئی تھی۔ شاید وہ الماری بند کر کے چابی نکالنا بھول گئی تھی الماری کے اندر لٹکتے ہوئے ڈوپٹے کا ایک سرا دونوں پٹوں کہ درمیان دب کر باہر نکل آیا تھا۔ انہوں نے قریب جا کر الماری کو چیک کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ تو الماری کو لاک کرنا ہی بھول گئی تھی۔ انہوں نے الماری کھول کر دوپٹے کا سرا اندر کرنے کی کوشس کی تو کپڑوں کا ایک ڈھیر سا ان کے قدموں میں آن گرا۔ انہیں احساس ہوا الماری میں کپڑے بڑے بے ترتیبی سے ٹھنسے ہوئے تھے کپڑوں کے علاوہ اور بھی چیزیں موجود تھیں۔ اسی چکر میں کپڑے زمین پر آ گرے تھے۔ انہوں نے کپڑے اٹھا کر اسی طرح الماری میں ٹھونسنے کی کوشش کی تو پرانی ڈائیریاں زمین پر گر پڑیں انہوں نے ڈائیریاں بھی اٹھا کر الماری میں رکھ دیں مگر پھر ایک دم ہی ان کا دل چاہا کہ وہ اس کی ڈائیری پڑھیں وہ ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے رک جاتے چار پانج منٹ ایسے ہی گزر جاتے کہ کھولیں یا نہیں اسے پڑھیں یا نہ پڑھیں۔
پہلے انہوں نے سرسری سی نگاہ ڈالی۔ مگر دو تین جگہ اپنا نام دیکھ کر ان کا تجسس بڑھ گیا اور وہ پڑھتے چلے گئے وہ تمام اوراق جن میں ان کا ذکر تھا یہ گزشتہ سال کی ڈائریاں تھی نیا سال شروع ہوئے چار ہی مہینے ہوئے تھے اور نیو سال کی ڈائریاں یقینا اس کے پاس ہوگی۔ الماری میں دو تین اور بھی ڈائریاں رکھی ہوئی تھیں ۔ انہوں نے جو کچھ پڑھ لیا تھا وہ ہی ان کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی تھا۔
آج انہیں معلوم ہوا کہ حبہ کی وہ بے گانگی اور لاتعلقی کس لیے تھی۔اس کے اور احمد کہ درمیان اجنبیت کی وہ دیوار کس لیے کھڑی تھی۔
احمد اپنے دل کی تمام تر نیکیوں اور تمام تر پاکیزگی کے باوجود حبہ کے نزدیک کیا تھے یہ تو انہیں آج ہی معلوم ہوا۔
انہوں نے اسی بے تر تیبی کے ساتھ ساری چیزیں الماری میں ٹھونسی اور الماری لاک کیے بغیر چابی اسی طرح چھوڑ کر اپنے کمرے میں آئے اور بے جان سے ہو کر گر پڑے۔
کاش وہ اس کی الماری نہ کھولتے اور اگر الماری کھول ہی لی تھی تو اس کی ڈائری نہ پڑھتے ۔ انہوں نے سوچا اس قدر تکلیف دہ انکشاف تو نہ ہوتا ان پر اس کے جذبات و احساسات تو عیاں نہ ہوتے۔ وہ اتنے بے سکون تو نہ ہوتے اس وقت احمد کا دل چا رہا تھا کہ وہ ان تمام کتابوں کو آگ لگا دیں انہیں جلا کر راکھ کر دیں جنہیں پڑھ کہ حبہ کے دل و دماغ نے سوچ کا یہ انداز پنایا تھا۔
یہ کتابیں اور کہانیاں ہی تھیں جنہوں نے حبہ کو ان سے اتنی دور کر دیا تھا۔ یہ کیسی کہا نیاں تھیں اور کیسے قصے تھے جنھیں پڑھ کر مقدس رشتوں پر سے بھی انسان کا اعتماد اٹھ جاتا تھا ان کہ ارد گرد ایک شور تھا جو کانوں کے پردے پھاڑے دے رہا تھا ایک طوفان تھا جس میں ان کا وجود ایک تنکے کی مانند بہا جا رہا تھا۔
…٭٭…
وہ چودھویں کی رات تھی۔ اس روز صبح سے لے کر شام تک مسلسل بوندا باندی ہوتی رہی تھی۔
فضا میں گیلے پتوں ٹہنیوں اور پولوں کی مہک رچی ہوئی تھی ہوا کے سبک رفتار جھونکے گیلی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبوں اڑائے لیے پھر رہے تھے۔ احمد معمول کے مطابق اس روز بھی دیر سے گھر آئے تھے۔
گیٹ سے اندر داخل ہونے سے پہلے انھں نے کیچڑ مٹی سے بھرے ہوئے جوتوں کو خوب زور زور سے رگڑرگڑ کر صاف کیا اور پھر بلا ارادہ ان کی نگاہ اوپر اٹھ گئی اس کی بہن نورین اور پروین چھت پر کھڑی تھیں ان کے ساتھ ایک چہرہ اور بھی نظر آرہا تھا ایک اجنبی چہرہ ایک نامانوس چہرہ ان کی نگاہوں میں تجسس ساسمٹ آیا۔ دو ایک سکینڈ تک وہ پلکیں جھپکائے بغیر اوپر ہی دیکھتے رہے ان کہ بہن پروین نے انہیں دیکھ کہ ہاتھ ہلایا ۔ وہ جواب میں ہاتھ بھی نہ ہلا سکے۔ دل ہی دل میں اس نامانوس چہرے کہ متعلق سوچتے ہوئے اندر چلے گئے سامنے ہی انہیں امی نظر آئی ان کے قریب بیٹھتے ہوئے احمد نے بڑی راز داری سے پوچھا۔
’’کون آیا ہے امی۔‘‘
’’تمہیں کیسے معلوم کہ کوئی آیا ہے۔‘‘
’’اوپر چھت پر نورین اور پروین کے ساتھ کوئی لڑ کی کھڑی ہے۔‘‘
’’اچھا تو یوں کہو باہر سے ہی دیکھ لیا۔ میں بھی حیران تھی کہ کہ گھر میں گھستے ہی تمہیں کیسے خبر ہو گئی۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’تو امی بتایا نہیں کہ کون ہے۔‘‘
’’عالیہ ہے۔‘‘
’’کون عالیہ۔‘‘
’’تمہارے عمران چچا کی بیٹی۔‘‘
’’عمران چچا آئے ہوئے۔‘‘
’’نہیں وہ تو نہیں آئے۔‘‘
’’پھر۔‘‘
’’شریم گئے ہوے تھے اپنے ماں باپ کے پاس ملنے کے لیے انہی کے ساتھ آئی ہے۔‘‘
’’شریم بھائی کب واپس آئے۔‘‘
’’ایک ہفتہ ہوا۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے کہ آج وہ بھی آئے تھے۔‘‘
’’ہاںسہ پہر کو آئے تھے تھوڑی دیر بیٹھ کر چلے گئے۔
’’تو یہ محترمہ واپس کس کے ساتھ جائیں گی۔‘‘
جہاں نے اپنے بیٹے کا یہ جملا سن کر اسے حیرت سے دیکھا اور بولیں۔
’’تم کیوں فکرمند ہو رہے ہو اس کا بھائی آکر خود ہی لے جائے گا۔‘‘
’’تو گویا شریم بھائی ابھی دوبارہ آئیں گے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’تمہیں یہ فکر لگ گئی کہ کہیں تمہیں نہ چھوڑنا پڑے ۔‘‘ احمد مسکرا کر بولے۔
’’نہیں یہ بات نہیں تھی میں نے تو ویسے ہی پوچھا تھا۔‘‘ جہا ں زیر لب مسکراتی رہی پھر بولی۔
’’تمہیں تو عالیہ یاد بھی نہیں ہوگی۔‘‘
’’نہیں مجھے نہیں یاد۔‘‘
’’بہت چھوٹی سی تھی جب ایک دفعہ یہا ں آئی تھی۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ اٹھ کر اپنے کمرے میںچلے گئے۔ نورین نے یا پروین نے اس کا کرتا پاجامہ استری کرکے ہینگر پر لٹکا دیا تھا۔ انہوں نے غسل کر کے کپڑے تبدیل کیے اور باہر نکلنے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ عالیہ اس کی بہنو ں کے ساتھ کمرے میں آگئی احمد کی نگاہ جونہی اس کی طرف اٹھی اس نے اپنی نرم اور دھیمی آواز میں کہا۔
’’آداب۔‘‘ احمد نے سر کے اشارے سے جواب دیا۔ نورین نے کہا۔
’’احمد بھائی یہ عالیہ ہے۔‘‘ وہ دھیرے سے مسکرا کر بولے۔
’’ہاں مجھے معلوم ہے کہ یہ عالیہ عمران ہے۔‘‘ نورین اور پروین ان کی بات سن کر مسکرائی۔ عالیہ نے بھی احمد کی طرف دیکھا اور اپنی نظریں جھکا دیں اور پھر چلی گئی شام کو عالیہ کا بھائی آ کر اسے لے گیا۔
اگلے دن احمد شریم بھائی کے گھر گیا۔ باہر لان میں ہی سب بیھٹے تھے وہ اپنی بھابھی کے ساتھ بیٹھی تھی احمد کو دیکھ کر بھابھی چائے بنانے چلی گئی اور احمد نے عالیہ کو دیکھ کر کہا۔
’’غالبا نزلہ ہو رہا ہے آپ کو۔‘‘
’’جی۔‘‘ اس نے رومال سے اپنی ناک رگڑتے ہوئے کہا۔
’’یہا ں کا موسم آپ کو راس نہیں آیا۔‘‘
’’ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’پھر یہاں کس طرح رہ سکے گی آپ۔‘‘
’’یہاں ایڈمیشن لیناہے تو پھر یہا ں رہنا بھی پڑے گا۔‘‘
’’وہیں کیوں نہیں ایڈمیشن لے لیا تم نے۔‘‘
’’بھائی جان اور بھابھی کا اصرار تھا کہ میں ان کے ساتھ ہی رہو۔‘‘
’’ہمارا شہر پسند آیا آپ کو۔‘‘
’’ابھی تو میں پوری طرح نہیں گھومی ہو لیکن جتنا کچھ بھی دیکھا ہے اس لحاظ سے پسند آیا۔‘‘ پھر وہ کچھ دیر بیٹھ کر گھر جانے کے لیے اٹھے تو اسی وقت ملازم گرم گرم چائے لے آیا۔
’’میں چائے نہیں پیوں گا۔‘‘ احمد نے دریچے کے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیوں۔‘‘
اس نے قدرے حیران ہو کر ان کی طرف دیکھا۔
’’میرا خیال ہے کہ بارش آنے والی ہے اگر میں تھوڑی دیر بھی رک گیا تو پھنس جاؤ گا۔‘‘
’’کوئی بات نہیں کبھی تو بارش رکے گی۔‘‘
’’ہا ں مگر معلوم نہیں کب۔‘‘
عالیہ کوئی جواب دیے بغیر پیالیوں میں چائے انڈیلنے لگی۔
’’ارے آپ نے تو چائے بنانی بھی شروع کر دی۔‘‘
’’جی بس اب آپ چائے پی کر ہی جائیں۔‘‘ وہ دوبارہ بیٹھ گئے انہوں نے چائے ختم کی ہی تھی کہ بارش آگئی۔ احمد نے کہا۔
’’دیکھے میں نہ کہتا تھا کہ بارش آجائے گی۔‘‘ عالیہ ان کی بات سن کر مسکرائی اور اپنا کپ رکھ کر دریچے میں آگئی۔ احمد صوفے کی پشت سے سر ٹکائے اس کی پشت پر بکھرے بالوں کو دیکھتے رہے جو ربن کی قید سے آزاد ہونے کے لیے مچل رہے تھے۔ عالیہ نے ایک دم پلٹ کر احمد کی طرف دیکھا اور بولی۔
’’آپ کو بارش کیسی لگتی ہے۔‘‘
’’آپ کو کیسی لگتی ہے۔‘‘
’’مجھے تو بے پنا ہ اچھی لگتی ہے۔‘‘ عالیہ نے ایک لمحے کو اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا اس کہ چہرے پر بچو ں جیسی معصومیت اور خوشی تھی۔
احمد نے بڑی دلچسپی سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور اس کے سا تھ برآمدے کی ریلنگ کے قریب کھڑے ہو گئے۔ عالیہ نے ریلنگ کے سہارے جھک کر دونوں ہاتھ آگے بڑھائے اس کے دونوں ہاتھ کہنیوں تک بھیگ گئے اور بالوں پر بارش کی ننھی بوندیں چمکنے لگیں۔ احمد نے کہا۔
’’آپ غالبا بھول رہی ہے کہ آپ کو شدید نزلہ ہے۔‘‘
’’تو کیا ہوا۔‘‘ اس نے بے پروائی سے کہا۔
’’اب یہ بھی بتانا پڑے گا کہ بارش میں بھیگنے سے طبیعت اور زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔‘‘
’’آپ تو بھائی جان کی طرح باتیں کرنے لگے۔‘‘ اسی وقت بادل بڑے زور سے گر جے اور عالیہ سہم کر ہٹ گئی۔ احمد مسکرائے۔
’’بہت خوف آتا ہے جب بادل گرجتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے۔‘‘ اس نے سہمی ہوئی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا پھر بارش بہت دیر تک نہیں رکی وہ دونوں برآمدے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے احمد کو اندازہ ہوا کہ وہ کافی باتونی ہے۔
وہ شہر کی باتیں اس کے موسم کی باتیں اور اپنے بھائی بہنوں کی باتیں وہ اسی طرح کر رہی تھی جیسے احمد کی اس سے بڑی پرانی واقفیت ہو اور جب احمد گھر جانے کے لیے اٹھے تو اس نے کہا۔
’’اب کی بار جب آپ آئیں گے تو نورین اور پروین کو بھی لیتے آنا۔‘‘
’’بہت بہتر اور کوئی حکم۔‘‘
’’نہیں بس فی الحال اتنا ہی کا فی ہے۔‘‘ اس نے بڑے اطمینان سے کہا۔ احمد نے کہا۔
’’اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کروں۔‘‘
’’جی اجازت ہے۔‘‘
’’اب آپ کی باری ہے ہمارے گھر آنے کی۔‘‘
’’اچھا پھر میں ہی آ جاؤں گی۔‘‘
اس روز رات بھر بارش واقفے وقفے سے ہوتی رہی اور احمد کی آنکھیں بہت دیر تک بے خواب رہی۔ ساری رات دو چاند چمکتے رہے ایک بہت اوپر بلندیوںپر نیلے چمکتے آکاش پر اور دوسرا ان کے گھر کی چھت پر ان کی بہنوں نورین اور پروین کے بیچ میں جگماتا ہوا چاند۔
وہ صاف وشفاف ملائم ہاتھ کہنیوں تک بھیگتے رہے۔کانچ کی سرخ و سنہری چوڑیوں سے قطرہ قطرہ پانی ٹپکتا رہا اور بالوں میں ڈھیروں نقرئی موتی جھلملاتے رہے۔ برستے ہوے بادل۔ بھیگی ہوئی ہواؤں کے جھونکے اڑتا ہوا سبز آنچل۔ وہ ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر کے بچوں کے سے انداز میں بارش کے لیے پسندیدگی کا اظہار کرنا۔ کچھ لمحے کچھ گھڑیاں اور کچھ باتیں۔
ہمیشہ کے لیے دلوں پر نقش ہو جاتے ہیں۔کچھ چہرے وقت کی اڑتی ہوئی دھول میں بھی کبھی نہیں دبتے کچھ یادیں کبھی ذہن سے جدا نہیں ہوتی۔ لمحوں کا طویل ہونا کوئی شرط نہیں ہے۔ کبھی کبھی برسوں گزر جاتے ہے اور کچھ نہیں ہوتا۔ بس جیسے ہوا کا یک جھونکا آکر گزر جائے اور کچھ بھی نہ ہو اور کبھی کبھی چند مختصر سے لمحے۔ گزرتے ہوئے وقت کا بہت تھوڑا سا حصہ ہمیں ایسی ایسی سوغاتیں دے جاتا ہے جن کے اچھوتے پن سے انکار ممکن ہی نہیں ہوتا ایسے ہی لمحات اور ایسی ہی گھڑیاں احمد کی زندگی میں بڑی خاموشی سے اور بالکل اچانک آ گئے تھے انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے زندگی کا سارا حسن اور ساری رعنائی اس مختصر سے وقت کی بانہوں میں سمٹ کر آئی ہو۔
…٭٭…
چھٹیوں میں وہ اپنے گھر والوں سے ملنے کے لیے لاہور جا رہی تھی احمد کی بہنوں نے انہیں بتایا تھا لیکن خود عالیہ نے ان سے کچھ نہیں کہا تھا ویسے وہ خود بھی کافی دنوں سے شریم کے گھر نہیں گئے تھے۔
اس روز صدر میں عالیہ انہیں نظر آئی۔ وہ اپنے بھائی اور بھابھی کے ساتھ شاپنگ کر رہی تھی سب سے پہلے عالیہ کی ہی نظر ان پر پڑی۔ اس نے شریم بھائی سے کہا۔ شریم نے ہاتھ کا اشارہ کر کے احمد کو اپنے قریب بلایا ۔واپسی میں وہ انہیں اپنے ساتھ ہی گھر لے آئے شام کی چائے سب نے ساتھ پی۔ شریم بھائی اور بھابھی اپنے ایک دوست کی شادی کے سلسلے میں رات کے کھانے پر مدعوں تھے۔ ان دونوں کے جانے کے بعد احمد عالیہ کے ساتھ باہر برآمدے میں ہی بیٹھ گئے۔ کئی منٹ گزر گئے وہ دونوں خاموش رہے۔ احمد نے محسوس کیا کہ عالیہ کچھ چپ چپ سی ہے وہ خود تو اس لیے خاموش تھے کہ وہ عالیہ کے بولنے کے منتظر تھے۔ کیونکہ باتیں ہمیشہ زیادہ تر وہ ہی کرتی تھی۔وہ خود تو زیادہ تر سنتے ہی رہتے تھے۔ آخر کار احمد کو ہی بولنا پڑا۔ انھوں نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
’’عالیہ آج روزہ رکھا ہے تم نے۔‘‘ اس نے حیران ہو کر ان کی طرف
دیکھا اور بولی۔
’’روزہ کیسا روزہ۔‘‘
’’چپ کا روزہ۔‘‘ وہ ایک دم کھلکھلا کر ہنس پڑی اور بولی۔
’’نہیں۔‘‘
پھر۔‘‘
’’پھر کچھ بھی نہیں۔‘‘ احمد نے کہا۔
’’سنا ہے کہ تم لوگ چھٹیاں گزارنے لاہور جا رہے ہو۔‘‘
’’جی ٹھیک سنا ہے۔‘‘
’’ہم سے تو ذکر بھی نہیں کیا لوگوں نے۔‘‘
’’لوگ اگر یہاں تشریف لاتے تو ان سے ذکر بھی کیا جاتا۔‘‘
وہ خلاف معمول سنجیدہ تھی۔
’’کیا بہت دن ہو گئے ہیں مجھے یہاں آئے ہوئے۔‘‘
’’جی آج پورے اکیس روز بعد آئے ہیں آپ۔‘‘ احمد دل ہی دل میں خوش ہوئے کہ اس نے ان کے نہ آنے کے دن انگلیوں پر شمار کر رکھے ہے۔
’’آپ بھی تو نہیں آئیں کافی دنوں سے۔‘‘ انہوں نے قصدا جھوٹ بولا۔
’’میں تو ابھی کچھ دن پہلے تو گئی تھی آپ خود ہی نہیں تھے ۔‘‘
’’اچھا آپ سے ذکر نہیں کیا کسی نے۔‘‘
’’کیا تھا تفر یحا۔‘‘
’’تفریحا اور کیا کچھ کرتے ہیں آپ۔‘‘
’’تم سے باتیں کرتا ہوں۔‘‘ احمد نے یہ کہہ کر اس کہ تاثرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔
عالیہ کہ چہرے کا رنگ ایک دم بدل گیا۔اس کی آنکھوں میں نمی سی ابھری۔ اس نے پلکیں جھپکا کر اپنی کیفیت کو چھپانے کی کوشش کی لیکن احمد کو سمجھنے کے لیے وہ دو تین لمحے ہی کافی تھے۔
احمد نے محض اسے تنگ کرنے کے لیے کہا۔
’’تم بھی تفریحا باتیں کرتی ہو نا مجھ سے۔‘‘ ان کا یہ مذاق عالیہ کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا وہ ایک دم اٹھ کھڑی ہو گئی اندر جانے لگی احمد اسے روکتے رہ گئے۔
لیکن وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ اس قدر باتونی اور ہنسنے والی لڑکی اندر سے کتنی حساس ہے کہ وہ اٹھ کر اس کے کمرے کی طرف چل دیے کئی دفعہ دستک دینے پر بھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا تو انہوں نے قدرے بلند آواز میں کہا۔
’’بہتر ہے کہ تم اندر آنے کی اجازت دے دو۔ ورنہ بغیر اجازت ہی اندر آنا پڑے گا۔‘‘ اس نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا تو وہ پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوگئے وہ اپنا سوٹ کیس بستر پر رکھے کپڑے تہہ کر کے رکھ رہی تھی احمد اس کے قریب رک کر بولے۔
’’بڑے زوروں میں تیاری ہو رہی ہے جانے کی۔‘‘
اس نے ان کی طرف دیکھے بغیر کہا۔
’’بہتر ہوگا کہ اس وقت آپ اپنے گھر چلے جائیں۔‘‘
’’کیوں۔‘‘
’’موڈ نہیں ہے باتیں کرنے کا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’اداس ہو رہی ہو۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے سر ہلایا۔
’’اداسی کی وجہ سمجھ نہیں آئی وہ خاموش رہی۔‘‘
’’تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ اپنے گھر والوں سے ملنے جا رہی ہوں وہ سر جھکائے اپنے کپڑے تہہ کرتی رہی۔
’’شریم بھائی اور بھابی یاد آرہے ہیں۔‘‘ اس نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
’’اچھا تو پھر غفور کی یاد آرہی ہے۔‘‘
انہوں نے شریم کے ملازم کا نا م لیا۔
عالیہ ایک دم ہنس پڑی احمد نے کہا۔
’’دیکھا کیسا صحیح اندازہ لگایا میں نے۔‘‘
’’آپ پاگل ہو گئے ہیں۔‘‘
’’بالکل۔‘‘ اس نے جھینپ کر کہا۔
’’اچھا تو پھر تم ہی بتا دو کہ کون یاد آرہا ہے۔‘‘ احمد نے کہا۔
عالیہ نے ان کی طرف دیکھے بغیر کہا ’’مجھے نہیں معلوم کون یاد آرہا ہے۔‘‘
’’میں بتاتا ہوں ما بدولت یاد آئیں گے۔‘‘ احمد نے کہا۔
ایک لمحے کے لیے عالیہ کا چہرہ تمتما اٹھا پھر فورا ہی منہ پھیرتے ہوئے بولی۔
’’جی نہیں۔ میں ایسے لوگوں ہر گز یاد نہیں رکھتی جو کسی سے محض تفریحا بات کرتے ہوں۔‘‘
احمد نے اس کہ قریب جھک کر سرگوشی کی۔
’’کیا سننا چاہتی ہو میری زبان سے۔‘‘ عالیہ ایک دم نروس ہو گئی اس نے ان کی طرف دیکھے بغیر کہا۔
’’کچھ نہیں۔کچھ بھی تو نہیں۔‘‘ احمد دریچے کی طرف بڑھتے ہوئے بولے۔
’’کچھ کہنے یاں نہ کہنے سے فرق تھوڑی پڑتا ہے عالیہ جذبات و احساسات لفظوں کے سہاروں کے محتاج تھوڑی ہوتے ہیں۔ عالیہ کو خاموش پا کر انہوں نے کہا۔
’’کیوں ٹھیک کہہ رہا ہو نا۔‘‘ عالیہ نے آہستہ سے اقرار میں سر ہلایا۔
’’کیا ساری چھٹیا ں گزار کر آئو گی۔‘‘
’’ہاں شاید۔‘‘
’’نہیں۔ جلدی آنا میں انتظار کرو گا۔‘‘ اور عالیہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ خدا حافظ کہ کر با ہر نکل گے ۔عالیہ کوشش کہ باوجود ایک مہینے سے پہلے واپس نہ آ سکی۔گھر والوں کی خواہش تھی کہ وہ اپنی ساری چھٹیاں لاہور میں گزارے۔
…٭٭…
پورا ایک ہفتہ گزر گیا تھا۔ ایک شام احمد نورین اور پروین کے ساتھ ان سے ملنے چلے آئے عالیہ شریم بھائی اور بھابھی کہ ساتھ باہر لان میں ہی بیٹھی تھی۔ ذرا دیر پہلے ہی ان لوگوں نے شام کی چائے پی تھی۔ عالیہ کہ ہاتھ میں شام کا کوئی تازہ اخبار تھا۔ پروین اور نورین نے شریم بھائی اور بھابھی کو سلام کرنے کہ بعد عالیہ سے کہا ایک ہفتے سے آئی ہوئی ہو۔ اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ ہم سے ملنے آجاتیں۔
عالیہ نے مسکرا کر کہا۔
’’میں آپ لوگوں کہ آنے کا انتظار کر رہی تھی۔‘‘ اس روز احمد کوعالیہ سے بات کرنے کا ذرا سا بھی مو قع نہ مل سکا۔وہ نہ ان کی سن سکے نہ اپنی کچھ کہہ سکے۔ ان دونوں کے درمیان چند رسمی سی باتیں ہوئی اور بس۔کچھ روز بعد وہ آفس سے گھر واپس آئے تو عالیہ آئی ہوئی تھی۔ وہ پروین نورین اور اپنی چچی کے لیے لاہور سے خریدی ہوئی کچھ چیز یں لائی تھی جو اس کی امی نے بھجوائی تھیں۔
پروین احمد کے لیے کھانا لینے باورچی خانے میں گئی توعالیہ نورین کے ساتھ ڈائننگ روم میں آگئی تھوڑی ہی دیر بعد احمد بھی کپڑے تبدیل کر کے اور منہ ہاتھ دھو کر وہیں آگئے احمد نے کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’اور کیا خبر یں ہیں لاہور کی۔‘‘
’’کوئی نئی خبر نہیں ہاں البتہ آپ کے یہاں ایک خوشخبری سنی ہے۔ غالبا پروین کی شادی کی طرف اشارہ ہے تمہارا۔
’’جی۔‘‘
اسی وقت پروین کھانا لے کر آگئی احمد نے کنک اکھیوں سے پروین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں اصل میں اس لڑکی نے ہمیں بہت تنگ کر رکھا ہے، لہذا ہم نے سوچا کہ اسے نکالنے کی فکر کرنی چاہیے۔‘‘ پروین نے پیار بھری ناراضی سے احمد کی طرف دیکھا۔ احمد نے سالن کا ڈونگا اپنی طرف کھسکایا اور مسکراتے ہوئے کھانا نکالنے لگا۔
…٭٭…
پروین کی شادی پر بڑا ہنگامہ تھا۔ لاہور سے عالیہ کے ابو عر فان اور اس کی امی بانو بھی آئی تھی۔ شادی سے ایک ہفتہ پہلے ہی نورین، عالیہ کو اپنے گھر لے آئی تھی شادی کہ دنوں میں احمد نے عالیہ کے اتنے بہت سارے روپ دیکھے کہ وہ سوچے بغیر نہ رہ سکے کہ کہ اب دل کی بات زبان پر آ ہی جانا چا ہیے۔ ان کو اپنی امی سے یہ بات کہہ دینی چایہے کہ وہ ان کے لیے اِدھر اُدھر لڑکیاں دیکھنے کے بجائے۔ عالیہ کا انتخاب کرلیں۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے سنا تھا کہ امی ان کہ لیے رشتہ دیکھتی پھر رہی ہیں پھر جب پروین کہ رخصت ہو نے کہ بعد سب مہمان چلے گئے اور گھر میں سناٹا چھا گیا تو ایک روز جہاں نے احمد سے کہا۔
’’پروین کہ جانے سے گھر بڑا سونا سونا سا لگتا ہے۔‘‘ احمد نے قریب بیٹھی ہوئی نورین کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اور جب ہم نورین کو بھی نکال دیں گے توتو پھر اور سناٹا ہو جائے گا۔‘‘ نورین نے کہا کہ اس سے پہلے ہم لوگ آپ کی بیگم صاحبہ کو لے آئیں گے۔
’’اچھا تو یہ پروگرام بنا رکھا ہے آپ لوگوں نے۔‘‘
’’جی اس روز ابو کہہ رہے تھے اب گھر میں ہماری بہو آنی چاہیے۔‘‘ نورین نے شرارت بھری نگاہوں سے احمد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
احمد نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ ٹھیک ہے امی ابو اپنی بہو لے آئیں اور تم اپنی بھابھی لے آؤ۔لیکن لڑکی میری پسند کی ہوگی۔‘‘
نورین نے کہا۔
’’اچھا ذرا ہمیں بھی تو پتا چلے آپ کی پسند کا۔‘‘ احمد نے ایک لمحے کہ لیے ذرا توقف کیا اور بولے۔ ’’عالیہ۔‘‘ نورین نے اطمینان کا سا نس لیتے ہوئے کہا۔
’’شکر ہے کہ ہماری اور آپ کی پسند کا ٹکراؤ نہیں ہوا۔‘‘ احمد نے امی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیوں امی کیسی ہے میری پسند۔‘‘ جہاں مسکرا کر بولیں
’’میری پسند کیوں کہہ رہے ہو عالیہ ہم لوگوں کو بھی پسند ہے۔‘‘ پھر وہ کچھ سوچ کر بولیں۔
’’عرفان بھائی تو لاہور چلے گئے۔ بھابھی ابھی یہیں ہیں ان سے ہی ذکر کر دیا جائے۔‘‘ احمد نے کہا۔
’’نہیں امی ابھی رہنے دیں۔‘‘
’’کیوں۔‘‘
’’عالیہ کا فائنل ایئر ہے۔ امتحان ہو جائے پھر دیکھا جائے گا۔‘‘
نورین نے کہا۔امتحانوں میں تو ابھی کافی ماہ ہیں بھائی جان۔ مگر میرا خیال ہے کہ اسے ڈسڑب نہ کیا جائے۔‘‘
مگر جہاں کو ان کی رائے سے اتفاق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا۔
’’نہیں میں بھابھی سے تو ذکر کر ہی دو گی بے شک وہ ابھی عالیہ کو نہ بتائیں۔‘‘ احمد نے بھی اپنی بات منوانے کہ لیے زیادہ اصرار نہ کیا لیکن اتفاق کچھ ایسا ہوا کہ جہاں کو اسی روز اپنے بھائی کی شدید علا لت کا خط ملا اور وہ حیدرآباد رونہ ہو گئیں۔ عالیہ کی امی بانو بھی ایک ہفتے بعد لاہور چلی گئیں۔ جہا ں تو اپنے بھائی کے اسپتال سے ڈسچارج ہونے کہ بعد کراچی آگئیں۔
لیکن بات جہاں تھی وہیں رہ گئی۔ وقت دھیرے دھیرے گزرتا گیا۔ احمد معلوم نہیں کیوں مطمئن تھے۔عالیہ سے ملتے اور اس سے باتیں کر تے تو اسے اپنی قسمت پر اور زیادہ اعتماد ہو جاتا۔ عالیہ کے امتحانوں بس صرف ایک ماہ باقی تھا۔تبھی ایک روز شریم بھائی بھابھی کے ساتھ ان لوگوں سے ملنے آئے تو جہاں نے مو قع غنیمت جان کر انہی سیعالیہ کہ لیے کہہ دیا۔ اس روز عالیہ ان لوگوں کہ ساتھ نہیں آئی تھی اور احمد بھی گھر پر نہیں تھے۔
شریم بھائی نے کہا۔
’’چجی جان میرا خیال ہے کہ آپ اس سلسلے میں امی کو خط لکھیں۔ ویسے میں بھی دو چار روز میں خط لکھنے والا ہو۔ اچھا ہوا آج آپ نے ذکر کر دیا۔‘‘
جہاں نے بڑے بھروسے اور اعتماد کے ساتھ بانو کو خط لکھا اور بڑی بے چینی سے ان کہ جواب کا انتظار کرنے لگیں اور جب بانو کا جواب آیا توجہا ں کی ساری امیدیں اور آرزوئیں خاک ہوگئیں۔
بانو نے لکھا تھا۔کہ عالیہ بچپن سے ہی اپنی خالہ کے بیٹے معظم سے منسوب ہے پچھلے دنوں کراچی میں اپنے قیام کے دوران میں اپنی بہن کو از سر نو زبان دے چکی ہوںکہ عالیہ کے امتحان ختم ہوتے ہی اس کی شادی معظم سے کر دوں گی۔معظم خود بھی عالیہ کو بہت پسند کرتا ہے۔‘‘
جس وقت بانو کا خط آیا۔ احمد وہیں موجود تھے۔ ان کی امی خط پڑھ رہی تھیں اور وہ خود ان ک چہرے کہ تاثرات کو پڑھ رہے تھے اپنی امی کے چہرے کے بدلتے ہوے رنگوں کو دیکھ کر انہیں یہ اندازہ لگانے میں ذرا بھی دقت نہ ہوئی کہ عالیہ کی امی نے انکار کر دیا ہے۔
اس رات پہلی مر تبہ انہیں اپنے جذبات کی شدت کا اندازہ ہوا۔عالیہ انہیں اچھی لگتی تھی۔ وہ انہیں بہت اچھی لگتی تھی۔ لیکن یہ تو انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اگرعالیہ ان کی نہ ہوئی تو کیا ہوگا۔ ان کے دل پر کیسی قیامت گزر گئی تھی اورعالیہ بے خبر تھی وہ اسے ابھی بتا بھی نہیں سکتے تھے اس سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے تھے اس کے امتحان ختم ہونے تک وہ اپنے لبوں پر خامو شی کی مہر لگانے پر مجبور تھے۔ اس اتنی بڑی اذیت کو چپ چاپ سہتے رہنے پر مجبور تھے۔ صبح کو ان کی امی نے چہرہ دیکھتے ہی اندازہ لگا لیا کہ وہ رات بھر سو نہیں سکے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی ہمت بندھاتے ہوئے کہا۔
’’احمد بیٹے تم تو ابھی سے مایوس ہو گئے۔‘‘
’’انکار تو ہو چکا امی اب کیا باقی ہے۔‘‘ ان کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
’’تمہارے ابو کہہ رہے تھے کہ وہ خود عرفان بھائی سے بات کریں گے۔‘‘
’’چچی جان جب زبان ہی دے چکی ہے ۔ تو وہ ہرگز نہیں مانے گی۔‘‘
’’ کوشش کر لینے میں آخر کیا حرج ہے۔‘‘ احمد چپ چاپ بیٹھے ناشتہ کرتے رہے آفس جاتے ہوئے برآمدے میں انہیں نورین ملی اس کا چہرہ بھی اترا ہوا تھا۔ آفس سے واپسی پر وہ شریم بھائی کے گھر چلے گئے۔ شریم بھائی گھر میں نہیں تھے بھابھی سو رہی تھی۔ عالیہ اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس کرسی پر بیٹھی پڑھ رہی تھی ملازم نے اس کے کمرے کے باہر ہی رک کر اسے احمد کہ آنے کی اطلاع دی۔ اس نے پلٹ کر کھڑکی سے باہر دیکھا اور کتاب میز پر رکھ کر کھڑی ہو گئی۔ ملازم نے احمد کو ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیا تھا چند منٹ بعد عالیہ بھی وہاں ہی آگئی۔
اس نے اپنے مخصوص انداز میں اداب کہا اور ان کہ سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’کیا بات ہے آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘
’’ٹھیک معلوم تو نہیں ہوتی چہرہ بہت اترا ہوا ہے۔‘‘
وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے بولے۔
’’یہ بتاؤ کہ امتحانوں سے کب فراغ ہوں گي تم۔‘‘
’’ابھی تو وقت لگے گا کیوں۔‘‘
’’تم سے بہت ساری باتیں کر نی ہے۔‘‘ عالیہ نے حیرت زدہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔کس قدر الجھے الجھے لگ رہے تھے۔
اس نے بہت پوچھا مگر احمد نے اسے کچھ بھی نہ بتایا۔ حالانکہ ان کا بہت دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنے ذہنی اور دلی کرب کو اس سے نہ چھپا تب اس سے سب کچھ کہہ دیں۔
امتحان ختم ہوئے تو ایک دن بھابھی نے اسے بتایا کہ امی جان اب تمہاری شادی جلد ہی کرنا چاہتی ہے خالہ نے پچپن میں ہی تمہیں اپنے بیٹے کے لیے مانگ لیا تھا۔ کیسی خلاف توقع خبر تھی اس کے لیے۔ مارے صدمے اور حیرت کہ کافی دیر تک وہ کچھ بول نہ سکی۔ پلکیں جھپکائے بغیر بھابھی کی طرف اس طرح دیکھتی رہی جیسے اس خبر کی صداقت پر یقین نہ ہو۔
مگر بھابھی کے چہرے پر چھائی ہوئی سنجیدگی دیکھ کر اسے اس خبر کی صداقت پر یقین کرنا پڑا۔
پھر ایک دن عالیہ کی شادی ہو گئی اس کہ بعد احمد نے عالیہ کو نہیں دیکھا عالیہ کی شادی کہ بعد وہ تقریبا چار برس ملک میں رہے اس دوران انہوں نے سنا کہ عالیہ کے یہا ں ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے۔
پھر وہ سی اے کرنے ملک سے باہر چلے گئے وہیں انہیں اپنی امی کے خط سے معلو م ہوا کہ عالیہ کہ ہاں بیٹی ہوئی ہے جب بھی ان کو عالیہ کہ متعلق خبر ملتی ان کہ دل سے یہی دعا نکلتی عالیہ خدا کرے تم ہمیشہ خوش رہو ۔ احمد چارٹرڈ اکاؤنٹ بن گئے تھے وقت بڑی تیزی سے گزر گیا تھا ان کی دونوں بہنوں پروین اور نورین کے بچے بھی اب تو بڑے ہو گئے تھے حال ہی میں انہوں نے اپنے بچوں کا گروپ فوٹوں بھیجا تھا۔وہ سب کتنے خواہش مند تھے کہ احمد اب واپس وطن آجائے بہنوں کو اپنے بھائی اور ماں باپ کو اپنے بیٹے کے سر پر سہرا سجانے کا ارمان تھا مگر ان کا وطن واپس آنے کو نہیں چاہا رہا تھا۔
سب کی منت اور خوشامد بھرے خط پڑھ پڑھ کر انہوں نے وطن واپس جانے کا فیصلہ کر لیا لیکن ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی کہ ان سے شادی کے لیے نہ کہا جائے گھر والوں نے سوچا چلوں اتنا بھی غنیمت ہے کہ انہوں نے وطن واپس آنے کی حامی توں بھری اور جس روز احمد وطن واپس آئے اس وقت عالیہ کی شادی کو پورے گیارہ سال ہو چکے تھے بھولی بسری یادوں نے ان کا دامن تھام لیا دل کو کئی کہانیاں یاد آگئی ائر پورٹ سے گھر پہنچے تو تو سب ان کے ساتھ تھے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی بے اختیار ان کی نگاہ اوپر چھت کی طرف اٹھ گئی تصور میں دو چاند جگمگا نے لگے ایک چاند اوپر آسمان کی طرف ۔اور دوسرا چاند چھت پر ان کی دونوں بہنوں کے بیچ جگمگا تا ہواچمکتا ہوا حسین چاند وہ چاند جیسے وہ غلطی سے اپنے گھر کے آنگن کا چاند سمجھ بیٹھے تھے احمد نے برآمدے کی سیڑھیاں چڑتے ہوئے سوچا جو وقت گزر جا تا ہے وہ پھر واپس نہیں آتا لیکن یادیں وہ انمول مو تی ہے جو دل کے سمندر کی تہہ میں کہیں نہ کہیں چھپی رہتی ہے کس قدر قیمتی سر ما یہ ہو تی ہے یہ یادیں۔
وہ سب کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے۔سب لوگ انہیں اپنے درمیا ن پا کر بہت خوش تھے سب ہنس بول رہے تھے ۔وہ بھی مسکرا رہے تھے اور سب کی باتو ں کا جواب دے رہے تھے لیکن ان کا ذہن جانے درد کی کون کون سی دہلیزوں کو پار کر رہا تھا۔ احمد کئی سالوں بعد وطن واپس آئے تھے شروع شرو ع میں انہیں عجیب عجیب سا لگا لیکن آہستہ آہستہ زندگی معمو ل پر آہی گئی تھی عالہ اسی شہر میں تھی۔ لیکن وہ اسے نہیں ملے انہوں نے اپنے آپ کو ازسر نو مصروف کر لیا تھا کچھ وقت اور گزرا ایک شام وہ آفس سے واپس آئے تو انہوں نے بڑی روح فرسا خبر سنی۔ عالیہ کے شو ہر معظم گاڑی کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی زندگی کے دن بہت تھوڑے تھے وقت اتنا بڑا گھاؤ دے کر آگے بڑھ گیا عالیہ کی زندگی اندھیر ہو گئی احمد اپنی امی ابو یا کبھی نوریں یا پروین کی زبانی سنتے تھے
کہ عالیہ بالکل گم صم سی ہو کر رہ گئی ہے اس کی صحت دن بدن گر تی جا رہی ہے۔ شادی کے بعد اس کی صحت بہت اچھی ہو گئی تھی اب تو آدھی بھی نہ رہی۔احمد معظم کہ جنازے میں تو ضرور شر یک ہوئے تھے لیکن اس کہ بعد سے اب تک اس کے گھر قدم تک نہ رکھا تھا۔ اب تو وہ اپنی عدت کے دن پورے کر کے اپنی بیٹی کے ساتھ شریم بھا ئی کے گھر آگئی تھی۔ احمد کو شریم بھا ئی کے گھر جا نے سے کون روک سکتا تھا۔
لیکن وہ کوئی بھی قدم اٹھانے پر آمدہ نہ تھے جو ان کی یا عالیہ کی رسوائی کا سبب بنتا۔ اپنے د امن میں درد و الم کی داستان لیے ایک سال گزر گیا معظم کی بر سی ہو گئی پھر احمد نے سنا کہ عالیہ کہ گھر والے اسے عقد سانی کا مشورہ دے رہے ہیں پہلے یہ صرف مشورہ تھا۔ آہستہ آہستہ اس مشورے نے اصرار کی صورت اختیار کر لی۔
عالیہ سب کے مشورے سب کا اصرار سن سن کر یا تو پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیتی۔ ایک رو ز احمد کی امی نے ان سے کہا۔
’’بیٹے اگرتم کہو تو عالیہ کے لیے تمہارا رشتہ لے کر جاؤ۔‘‘ احمد نے حیران ہو کر اپنی امی کی طرف دیکھا۔امی نے پھر کہا۔
’’دیکھوں نہ بیٹے عالیہ کی کہیں نہ کہیں شادی ہو ہی جانی ہے سبھی کی خواہش ہے کیا حرج ہے۔ اگر وہ ہماری ہی بہو بن جائے۔‘‘
’’لیکن امی جب وہ شادی نہیں کرنا چا ہتی ہو تو آپ سب کیوں اس کے پیچھے پڑ رہے ہیں۔‘‘
’’وہ تو نہ سمجھی کی با تیں کر رہی ہے آخر ایسے کیسے زندگی گزارے گی۔‘‘
’’اپنے جذبات اور احساسات کو عالیہ خود ہی سمجھتی ہو گی ۔‘‘
’’ابھی اس کے زخم تازہ ہیں اسے سنبھلنے میں وقت لگے گا۔‘‘
’’آپ کیوں لوگ اپنی بات منوانے کے لیے بضد ہیں۔‘‘ احمد یہ کہتے ہوئے۔آزردہ ہو گئے۔
لیکن جا نے کس روز احمد کی امی جہا ں نے اپنے دل کی بات شریم بھا ئی تک پہنچا دی ۔عالیہ کے کا نوں تک بھی یہ بات پہنچی۔ اس نے سختی سے انکا ر کر دیا لیکن اس کے گھر والوں نے بھی ہمت نہ ہا ری۔ احمد کہ گھر والوں کے بار بار اصرار سے عالیہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ احمد کی خواہش پر وہ لو گ ایسا کر رہے ہیں۔ ایک دن عالیہ نے فون پر احمد کی اچھی طر ح خبر لی۔
اور معلو م نہیں کیا کیا بولتی رہی ۔احمد اپنی صفائی میں کچھ بھی نہ کہہ سکے وہ انہیں کچھ کہنے کا موقع دیتی تو ہ کچھ کہتے وہ تو بس اپنی ہی سناتی رہی اور اس کے بعد فون بند کر دیا۔ احمد نے کتنے عرصے بعد اس کی آواز سنی تھی کئی منٹ تک تو وہ کھو ئے کھوئے سے رہے۔
اس شام وہ شریم بھائی کے گھر چلے آئے۔ احمد کو دیکھتے ہی شریم بھا ئی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔اپنے چاروں بچو ں کا تعارف کراتے ہوئے شریم بھا ئی نے کہا۔
’’یہ ہیں تو تمہارے انکل لیکن اس گھر کا یہ راستہ بالکل بھول گئے تھے آج معلوم نہیں کیسے ادھر آ گئے۔‘‘ احمد کے چہرے پر نہ کوئی شرمندگی تھی نہ کوئی مسرت ہونٹوں پر بے جان سی مسکراہٹ بکھیرے وہ شریم بھا ئی کہ بڑے بیٹے اشعر سے ہاتھ ملا تے ہو ئے دھیمے لہجے میں اس کا حال پوچھتے رہے۔
احمد تھوڑی دیر بیٹھ کر گھر جانے کے لیے اٹھے تو شریم بھائی نے کہا ’’اگر تم عالیہ سے ملنا چاہوں تو اندر جا کر مل لو۔‘‘ احمد نے
صاف گوئی سے کہا۔
’’مجھے اور تو کچھ نہیں کہنا صرف اپنی صفائی پیش کر نی ہے۔‘‘ شریم بھا ئی نے حیران ہو کر پو چھا۔
’’کس بات کی صفائی۔‘‘
’’آج عالیہ نے فو ن کر کے میری خاصی خبر لی ہے ان کا خیال ہے کہ آپ لو گ میرے اکسا نے پر انہیں شادی کے لیے مجبور کر رہے۔‘‘ بھا بھی نے کہا۔
’’وہ بے چاری اصل میں ذہنی طور پر پر یشان ہے۔‘‘ شریم بھائی افسردہ ہو کر بولے۔
’’عالیہ تو نہ سمجھی کی بات کر رہی ہے۔احمد تم بتاؤ ہم اس کی بات مان کر اسے اس کے حال پر کیسے چھوڑ دیں۔‘‘ احمد نے کہا۔
’’لیکن جبر کرنا بھی تو منا سب نہیں شریم بھائی۔‘‘
عالیہ کی شادی کے سلسلے میں گفتگو کر تے ہو ئے وہ اس وقت یہ بھول ہی گئے تھے کہ اس کی بیٹی قر یب ہی بیٹھی ہے وہ ایک دم بو ل پڑی۔
’’نہیں میری امی شا دی نہیں کر یں گی۔ اگر میری امی نے شادی کر لی تو میں کس کے پاس رہوں گی۔‘‘ بھابھی نے کہا۔ ’’تم اپنی امی کہ پاس ہی رہو گی بیٹی۔‘‘
’’نہیں ممانی جا ن میری سہیلی کی امی نے شادی کر لی تھی میری سہیلی انعم کہ دوسرے ابو اس سے بالکل پیار نہیں کرتے۔‘‘ شریم بھا ئی نے کہا۔
’’نہیں بیٹی ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ ضرو اسے پیار کر تے ہوں گے آخر وہ اس کے ابو ہیں۔‘‘
’’مامو ں وہ اس سے پیا ر نہیں کر تے انعم بتا رہی تھی کہ اس کے ابو کہتے ہے کہ اس سے میری کیا رشتے داری ہے یہ نہ میری بیٹی ہے نہ میں اس کا باپ ہوں۔‘‘ شریم بھا ئی نے اس کی تو جہ دوسری طرف کر تے ہو ئے کہا۔
’’اچھا تم جاکر اپنے بھائی بہنو ں کے ساتھ کھیلو ں دیکھو ں وہ شاید تتلی پکڑ رہے ہیں۔‘‘ وہ سب کچھ بول کر اڑتی ہو ئی رنگ بر نگی تتلی کی طرف بھا گ گئی۔ احمدر اند چلے گئے ۔دو تین دفعہ دستک دینے پرعالیہ اٹھ کر دروا زے کے قریب آئی۔
احمد کو دیکھ کر وہ سوچ میں پڑ گئی شاید سو چ رہی تھی کہ انہیں اندر بلا ئے یا نہ بلا ئے۔ آخر کار چند سکینڈ کے بعد اس نے ایک طرف ہٹ کر اندر آنے کا راستہ دیا۔
’’تشریف رکھیں۔‘‘ اس نے کر سی کی طرف اشارہ کیا۔
احمد اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کتنی بدل گئی تھی وہ۔سفید ملجگی ساڑھی۔ بکھرے ہو ئے بال اجڑا ہوا چہرہ آنکھوں کے گرد گہرے گہرے ہلکے احمد ان کے چہرے سے نگاہیں ہٹانا بھول گئے ان کا ذہن بھٹک گیا۔
یادوں کے دریچے وا ہو گئے وقت کی اڑتی دھول کے پیچھے ایک چاند سا چہر جگمگا ر ہا تھا۔ رم جھم برستی پھوار میں دو صاف و شفا ف ہاتھ کہنیوں تک بھیگے جا ر ہے تھے۔ ایک دھیمی مدھر آواز کی با ز گشت سنائی دے ر ہی تھی۔
’’آپ کو با رش کیسی لگتی ہے مجھے تو بے پناہ اچھی لگتی ہے۔ عالیہ پو چھ رہی تھی۔
’’کیسے آنا ہوا۔‘‘ وہ چونک پڑے اور بولے۔
’’میں تمہاری غلط فہمی دور کرنے آیا ہوں۔‘‘
’’کیسی غلط فہمی۔‘‘ پھر احمد اپنی صفائی میں جو کچھ کہہ سکتے تھے کہتے رہے وہ سر جھکائے چپ چاپ سنتی رہی۔
عالیہ کہ با ر بار سختی سے انکار کر نے کہ با وجود وہ احمد کی ہو گئی وہ اپنی تقد یر کے لکھے کو مٹا نہیں سکتی تھی اس کی قسمت میں یہی لکھا تھاکہ وہ ایک با پھر دلہن بنے۔ سو وہ مجبور ہو گئی لیکن وہ مہینوں تک اپنے آپ کو نہ سمجھا سکی۔ نہ سنبھال سکی اس کے نزدیک یہ تقدیر کا مذاق تھا بہت بھیانک مذاق۔
احمد کی رفاقت میں زندگی کسی اور ہی انداز سے گزرنے لگی۔ عالیہ کو احمد سے ہر خوشی ملی لیکن احمد کی محرومی کا احساس اسے کبھی کبھی آزردہ کر دیتا تھا۔ ان کی قسمت میں اولاد کی خوشی نہیں لکھی تھی۔ عالیہ کہ ہاں تین بیٹوں کی ولادت ہو ئی مگر وہ دو تین مہینوں سے زیادہ نہ جی سکے آخری بیٹے کی پیدائش کہ و قت کچھ ایسی پیچیدگیاں ہوئی کہ عالیہ پھر ما ں بننے کے قا بل نہ رہی ۔عالیہ کو اس بات کا بہت دکھ تھا مگر احمد کو اس کی خوشی اس کی زندگی بہت عزیز تھی عالیہ جب بھی اس بات کا تذکرہ کرتی تو احمد ہنس کر کہتے ’’ایسی بات مت کروعالیہ مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ حبہ میری بیٹی نہیں ہے بیٹیاں بیٹوں سے زیادہ پیارح ہوتی ہے۔‘‘
’’مگر احمد…‘‘
’’اگر مگر کچھ نہیں حبہ کی مو جودگی میں مجھے کسی کمی کسی محرومی کا احسا س نہیں ہو تا۔ بیٹے بہت بے مروت ہو تے ہیں۔ بیٹیاں ہمدرد غمگسار اور تنہائی کی ساتھی ہوتی ہے۔‘‘ احمد حبہ کو سچ مچ چاہتے تھے ان کی نئی کوٹھی بن کر تیار ہوئی تو اس کا نام بھی انہوں نے حبہ کے نام پرحبہ منزل رکھا ان کے ہر انداز سے عیاں تھا کہ وہ حبہکو دیوانہ وار چا ہتے ہیں حبہ بیٹی حیبہ بیٹی کہتے ان کی زبان ہی نہیں تھکتی تھی وہ تھی بھی بڑی خاموش طبعیت اور چپ چاپ سی لڑکی اپنے جذبات کا اظہار کرنا شاید اس نے سیکھا ہی نہیں تھا شریم بھا ئی اپنی فیملی کے ساتھ دبئی جا کر شفٹ ہو گئے تھے تو وہ اور بھی گم صم ہو گئی لیکن جب کچھ عرصے بعد اس کی بڑی خالہ آپا چھوٹے ماموں انجم بھائی کراچی آئے تو اس کی خا موشی ختم ہوئی اور جب اس کی پھوپھی بھی کافی عرصے بعد وطن واپس آئیں تو اس کا چہرہ اور کھل اٹھا لیکن اس کے چہرے پر یہ کیفیت اپنی خالہ ما موں اور پھوپھی کی موجودگی ہی میں نظر آتی تھی گھر میں تو اس کا وہی انداز تھا خاموش سا۔
وقت کا ایک طویل کارواں گزر گیا سب کی اولا دیں جوان ہو گئی حیبہ بھی بڑی ہو کر بالکل عالیہ کی طرح خوب صورت نکلی تھی۔
احمد کی زندگی میں ایک شام ایسی آئی کہ عالیہ ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی۔
ان کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اپنے آپ کو سنبھالیں یا حبہ کو سنبھالیں وقت کس طر ح گزر گیا تھا انہیں حیرت ہوتی تھی عالیہ ان کے لیے درد کا جلتا ہوا صحرا چھوڑ گئی تھی مگر انہیں ایک اطمینا ن سا تھاکہ درد کے اس جلتے صحرا میں وہ تنہا نہیں تھے حبہ بھی تو تھی عالیہ کی نشانی۔ انہوں نے یہ سو چ کر خدا کا شکر ادا کیا کہ ان کے پاس ان کی بیٹی تو تھی ان کے درد دکھ اور ان کہ تنہائیوں کی ساتھی۔
پرسے کے لیے آئے ہوئے لو گ ایک ایک کر کے ر خصت ہو گئے تب ایک روز وہ حیران رہ گئے بات ہی حیران ہونے کی تھی حبہ نے خو اہش ظاہر کی تھی کہ وہ ہوسٹل میں رہے گی۔ اس کا کہنا تھا کہ ہو سٹل میں رہنا اس کی خواہش ہے بقول اس کے اس نے عالیہ سے بھی با رہا اپنی اس خوا ہش کا ذکر کیا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا احمد سوچ میں پڑھ گئے۔ انہوں نے اسے بہت سمجھایا اپنے اکیلے پن اور تنہا ئی کا احساس کرایا مگر حبہ کے اوپر کسی بات کا کو ئی اثر نہ ہوا اس کا انداز التجا کر نے کا سا تھا احمد مجبور ہو گئے پھر انہوں نے حبہ کو سمجھا نے کے بجائے اپنے آپ کو سمجھا یا میں اتنا خود غر ض کیوں ہو گیا ہو محض اپنی تنہائی اور اکیلے پن کو دور کر نے کے لیے اسے ہوسپٹل میں رہنے کی اجا زت نہیں دے رہا ایک طرف تو اس سے بے پنا ہ محبت کا دعوی اور دوسری طرف یہ انداز کہ اس نے پہلی بار کسی خواہش کا اظہار کیا تو اسے پوری کرنے سے انکار انہوں نے اپنے آپ کو ملامت کرتے ہو ئے حبہ کو ہوسپٹل میں رہنے کی اجازت دے دی ہوسٹل میں شفٹ ہو نے کے بعد سے حبہ نے یہ انداز اختیار کیا تھا کہ وہ جمعرات کی شام کو بجا ئے حبہ منزل آنے کے اپنی خالہ کے گھر چلی جاتی اور کبھی اپنی پھوپھی کے گھر رہ جا تی احمد سے ملنے کے لیے وہ جمعے کی صبح کو نو دس بجے آتی اور شام ڈھلنے سے پہلے چلی جا تی۔ احمد وہ پورا ہفتہ انگلیو ں پر گن گن کر گزار دیتے مگر جب وہ آتی تو اس قدر محتاط رہتی اور نپی تلی بات کرتی کہ وہ ہی چپ ہو کر رہ جاتے۔ احمد سمجھتے تھے کہ خامو ش رہنا اس کی عادت ہے اور ادھر عالیہ کی وفات کے بعد اس کی اور بھی زیادہ خا موشی کو وہ سمجھتے تھے کہ اس کو اپنی ماں کی مو ت کا بہت دکھ ہے مگر آج حبہ کی ڈائری کے چند اوراق پڑھ ان کی آنکھیں کھل گئی تھیں پردہ ہٹ گیا تھا رخ پر پڑا ہوا نقاب الٹ گیا تھا۔وہ جیسے دیکھ کر احمد جیتے تھے وہ جس کی موجود گی کے احسا س نے ان کہ دل سے اپنے تینوں بیٹو ں کی محرومی کا احسا س مٹا دیا تھا وہ ان سے کتنی دور تھی اس نے لکھا تھا۔
’’میرے اور ان کے درمیان بھلا رشتہ ہی کیا ہے وہ میرے باپ نہیں میں ان کی بیٹی نہیں وہ تو صرف میری امی کہ شو ہر ہیں دوسرے شو ہر امی کے دوسرے شوہر کو اپنا باپ کہتے ہو ئے میرا اعتماد ہمشہ سے ہی متزل رہا ہے۔ باپ اور بیٹی کا رشہ تو بڑا مقدس ہوتا ہے اس رشتے پر تو اندھا اعتماد ہوتا ہے کبھی بھولے سے بھی ذہن میں یہ خیا ل نہیں آتا کہ یہ شخص سچ مچ میرا محا فظ ہے بھی کہ یا نہیں۔
یا ہماری پنا ہ گاہ بھی ہے یا نہیں جبکہ میں احمد صاحب کے وجود سے ہی ہمیشہ خائف رہی ہوں۔ بے بنا ہ ڈری ہو ئی سہمی ہوئی سی جب بھی اپنے ذہن کو اس بات پر آما دہ کرنا چا ہا کہ احمد صاحب میرے باپ ہیں دل میں ان بے شمار پڑھے ہوئے قصوں کا خیال آجاتا ہے جن ماؤں کے دوسرے شو ہر ان کی بیٹیو ں کے محا فظ نہیں لیٹرے ثابت ہو تے ہیں۔
دل کو بار بار سمجھایا کہ دنیا ابھی اچھے لو گو ں سے خالی نہیں ہو ئی پا نچو ں انگلیا ں برا بر نہیں ہوتیں لیکن یہ وہم یہ ڈر یہ خوف کبھی دل و دماغ سے نکلا ہی نہیں کہ جو یہ میری امی کے دوسرے شو ہر کا روپ ہے۔
بے حد شفیق مہرباں اور محبت کرنے والے باپ کا یہ بالکل جھوٹا ہے ایک خو ل چڑھا ہوا ہے کسی بھی لمحے یہ خول اترے گا اور میرے سا منے شفیق اور مہر بان محبت کر نے وا لے باپ کے بجا ئے ایک لیٹرا کھڑا ہوگا۔
ایک بھیڑیا کھڑا ہو گا ۔بس اس لمحے کے تصور سے خوفزدہ ہو جاتی ہو ں۔ الفا ظ تھے کہ سنسناتے ہوئے تیر جملے تھے کہ تیز نوکیلے بر چھے تحریر تھی کہ بھٹی میں تپائی ہوئی گرم گرم سلاخیں۔ سنسنا تے ہو ئے تیر احمد کے دل میں پیوست ہو گئے تھے۔
’’خداوند تما م عمر کی شرا فت اور پارسا ئي کا یہ صلہ۔ انسا ن کتنا حقیر ہے اور بے بس میں تو سمجھتا تھا کہ دوسری بیوی ہونا ہی پل صراط پر چلنا ہے غریب عورت تمام عمر ٹیڑھی تر چھی نگاہوں کے وار سہتی رہتی ہے لیکن آج احسا س ہوا کہ دوسرا شوہر ہونا بھی شا ید نا قا بل معافی جر م ہے۔ میں تو اپنی دل کی اور اپنی روح کی تما م تر پا کیز گیوں کے با وجود آج خود اپنی نگاہو ں میں گر گیا ہوں میری عمر کی یہ منزل جب کہ شا ید زندگی سے لحد کا فا صلہ بھی بہت کم رہ گیا ہے اور… اور روح پر لگایا اتنا شدید گھا ؤ۔
ان کی آنکھوں کے گھو شے بھیگ گئے۔ دو آنسوں کنپٹیوں سے بہتے ہو ئے ان کے سفید بالو ں میں جذب ہو گئے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close