NaeyUfaq Nov-18

اقرا

طاہر قریشی

الحلیم
(نہایت بردبار)

حلیم: اس کا مادہ حلم ہے‘ اس کے معنی بردبار‘ تحمل والا‘ برداشت‘ نہایت درجہ نرم‘ باوقار‘ حلم جس کے معنی جوش غضب سے نفی اور طبیعت کو روکنا یعنی بردباری اور تحمل کے ہیں۔ یہ صفتِ الٰہی ہے کیونکہ اصل حلم اللہ تبارک وتعالیٰ کوہی ہے۔ حلیم اسے کہتے ہیں جو صاحبِ قوت وعظمت ہو‘متین وسنجیدہ‘ بھاری بھرکم ہو‘ ذراذراسی بات پربھڑک نہ اٹھے۔
ترجمہ:۔ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہترہے جس کے پیچھے دکھ ہو اور اللہ تعالیٰ بے نیاز اور بردبارہے۔ (البقرۃ۔۲۶۳)
قرآنِ کریم میں بار بار جگہ جگہ صفاتِ الٰہی کا ذکرآیاہے تاکہ اہلِ ایمان حتی الوسع کوشش کرکے اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں‘اسلامی نظامِ حیات‘ اسلامی زندگی ایک تہذیب کانام ہے‘زندگی کا طرز ِعمل اور آدابِ زندگی ہے ایک مسلمان اپنے اندر صفاتِ باری تعالیٰ پیدا کرنے کی کوشش کرے اور راہِ حق کے مراحل طے کرتاچلاجائے‘ اوران صفاتِ الٰہی سے اپنا حصہ سمیٹتارہے۔ اسلام ایک مہذب دین ہے جو معاشرے کی پوری طرح تہذیب کرتاہے یہی بات آیتِ کریمہ میں سکھائی جارہی ہے کہ جب کوئی سائل‘کوئی ضرورت مند جب کسی اہلِ ایمان مسلمان سے رجوع کرے تووہ اس سے نرمی کا سلوک کرے‘ شفقت سے پیش آئے‘ آیت ِکریمہ میں یہ واضح کردیاگیا ہے کہ جس صدقے کے بعد سائل کو اذیت دی جاتی ہو‘ ایسے صدقے کی کوئی ضرورت نہیں‘اس سے تو بہتر ہے کہ ایک میٹھا بول ایک نرم بات کہہ دی جائے یا دعائیہ کلمات ادا کردیئے جائیں۔’’اللہ تجھے بھی اور ہمیں بھی اپنے فضل وکرم سے نوازے۔‘‘یہ قول معرو ف ہے اور ’’مغفرہ‘‘کامطلب سائل کی پردہ پوشی ہے‘ سائل کی حاجت کواس کے سوال کو لوگوں کے سامنے نہ لاناہی اسلامی تعلیم ہے اور اگر سائل کچھ نازیبا کلمات بھی ادا کردے تب بھی اس سے صرف ِنظر چشم پوشی کاحکم ہے تاکہ اس کا پردہ رہے‘ یعنی سائل سے نرمی شفقت اور چشم پوشی اس کی پردہ پوشی اس صدقے سے بہت بہترہے جس کے بعد اس کولوگوں میں ذلیل ورسوا کرکے اسے تکلیف پہنچائی جائے۔ اس لئے حدیث میں آیا ہے (پاکیزہ کلمہ بھی صدقہ ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے’’تم کسی بھی معروف(نیکی) کو حقیر مت سمجھو‘ اگرچہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملناہی ہو۔(مسلم)
ترجمہ:۔انہیں اللہ تعالیٰ ایسی جگہ پہنچائے گا کہ وہ اس سے راضی ہوجائیں گے‘ بے شک اللہ تعالیٰ علم اور بردباری والا ہے۔ (الحج۔۵۹)
آیتِ کریمہ میں ایسے لوگوں کے لئے خوشخبری سنائی جارہی ہے جواللہ کی راہ میں اپنی جان اپنے مال کو خرچ کرتے ہیں‘ انہیں کہاجارہاہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی جگہ داخل کرے گاجہاں پہنچ کر وہ راضی ہوجائیں گے‘ کیونکہ جنت کی نعمتیں ایسی ہیں جنہیں آج تک کسی آنکھ نے نہیں دیکھا‘ نہ کسی کان نے سنا‘ دیکھناسنناتو کیا‘انسان کے دل ودماغ میں ان کے وہم وگمان میں بھی ان کاگزر نہیں‘جن نعمتوں سے اللہ تعالیٰ جنت کی صورت میں نوازے گا۔
اللہ بڑا علم والا ہے بڑاہی حلیم ہے وہ نیک اعمال کرنے والوں کے درجات اور ان کے مراتب اور استحقاق کو خوب جانتاہے۔ جو مظالم انسان کرتاہے وہ ان کوبھی جانتاہے اورجو کچھ وہ چاہتے ہیں اسے بھی جانتاہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ حلیم ہے وہ سب کو مہلت دیتاہے اپنے غضب کوروکے رکھتاہے وہ روز ِمحشر ظالم اور مظلوم دونوں کو پوری پوری جزادے گا۔
ترجمہ:۔اگرتم اللہ کو اچھا قرض دوگے(یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کروگے) تووہ اسے تمہارے لئے بڑھاتاجائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف فرمادے گا۔ اللہ بڑاہی قدردان اور بڑاہی بردبارہے۔ (التغابن۔۱۷)
اللہ تعالیٰ اپنی صفاتِ عالی سے آگاہ فرمارہاہے۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی برکت والا اور عظیم تر ہے‘ وہ کتنا عظیم کتنا کریم ہے کہ اُس خالق ومالک نے اپنے کرم خاص سے انسان کو پیدا فرمایا‘انسان جواس کابندہ اس کاغلام ہے‘ وہ ذاتِ مہربان‘ انسان کی پرورش ونگہداشت بھی کرتی ہے‘ حیرت کی بات ہے کہ وہ مالک وآقا جو ہرطرح سے مختار ہے وہ اپنے بندوں سے قرضِ حسنہ مانگ رہا ہے۔ پھر وہ اس قرض کو ہی نہیں لوٹاتابلکہ اسے کئی گنابڑھا کرلوٹاتاہے ساتھ ساتھ اپنے غلام اپنے بندے کاشکریہ بھی ادا کرتا ہے‘ اس کے ساتھ نہایت حلیمی سے معاملہ فرماتاہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جوقادرِ مطلق ہے جواحکم الحاکمین ہے‘ یعنی بادشاہوں کاباشاہ ہے وہ اپنے بندے سے لیاہواقرض نہ صرف کئی گنابڑھا کر واپس کرتاہے بلکہ اس کے سارے قصور بھی انعام میں معاف فرمادیتاہے۔ جویقینا انسان کے لئے کسی عظیم ترین انعامِ الٰہی سے کم نہیں۔(یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ قرض کا بڑھا کر واپس کرنا’’سود‘‘ کا جواز نہیں بن سکتایہ خالص انعامِ الٰہی ہے‘اﷲ تو مختا رِ کل ہے‘وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔)
اگر انسان اپنی محدود طاقت کے مطابق اپنے تمام نقائص وکمزوریوں پرقابوپاتے ہوئے اللہ کے احکام وتعلیمات پر عمل کرے او راللہ کی اطاعت وبندگی اختیار کرے اور اپنی جان ومال کو اللہ کی راہ میں خلوصِ نیت سے نہ صرف اللہ کی رضامندی کے لئے خرچ کرے اور ہر ظلم وزیادتی سے بچ کر چلے صبروبرداشت کو اپنالے صفتِ الٰہی کی تقلید کرے تو بھی انسان حقِّ بندگی ادانہیں کرسکتا۔ انسان کے اندراللہ تعالیٰ نے اپنی روح میں سے پھونکاہے۔ اس روح کا تقاضہ ہے کہ انسان صفاتِ الٰہی کواپنائے‘ اپنی طاقت کے مطابق اس کا حق ادا کرے‘ تاکہ اللہ اس سے راضی رہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close