NaeyUfaq Nov-18

گفتگو

اقبال بھٹی

حافظہ رضیہ رمضان… لاہور۔ رحمتوں بھرے سلام کے ساتھ امید ہے کہ نئے افق کے تمام ساتھی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے میں نئے افق کی نئی ممبر ضرور ہوں لیکن کاغذ قلم کے حوالے سے میرا اور آپ کا رشتہ نیا نہیں ہے اور اس کا سارا کریڈٹ نئے افق کو جاتا ہے کیونکہ اگر اس فورم پر میری حوصلہ افزائی نہ ہوتی تو شاید میرے اندر لکھنے کی ہمت نہ آتی یہ حوصلہ افزائی اگر یونہی جاری رہی تو مجھے امید ہے کہ نئے افق میں لکھنے والے چمکتے ہوئے ستاروں کے ساتھ میرا نام بھی جگمگائے گا۔ دعا ہے کہ نئے افق کی ٹیم اور تمام لکھاری سلامت رہیں انہی دعائوں کے ساتھ اجازت چاہوں گی، ان شاء اللہ آئندہ بھرپور تبصرے کے ساتھ حاضری دوں گی۔
عبدالجبار رومی… انصاری۔
جادوگرنی ہے یا پرستان کی کوئی پری
سینے پہ ہاتھ رکھ کے خوفزدہ سی ہے کھڑی
بھیڑیا بھی ہمنوا ہے دہشت کی علامت
پورے سرورق میں ہے رومی پر اسراریت بھری
بھان متی نے کنبہ جوڑا اور خوب جوڑا بھئی سچی بات ہے ہمیں تو اس خلائی مخلوق اور نادیدہ قوتوں سے بہت پیار ہے جو تحفظ ختم نبوتﷺ کو اہم جانتی ہیں اور پاکستان کی سلامتی کو عزیز جانتی ہیں باقی جہاں تک نئی حکومت آئی ہے تو اس کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ باریاں لینے والوں سے تو بدل کر آتی ہے اللہ تعالیٰ انہیں صحیح معنوں میں پاکستان کی باگ ڈور سنبھالنے کی توفیق دے انکل مشتاق احمد قریشی کو سلام ہے جنہوں نے اتنا اچھا اور سچائی پر مبنی اداریہ لکھا بہت عمدہ۔ گفتگو میں اقبال بھٹی صاحب کو سلام جو ہمارے لیے اتنی پیاری حدیث شریف کا انتخاب کرتے ہیں اپنے ارد گرد ہونے والے مختصر حالات بیان کرتے ہیں اور ہمارے خطوط کو ہمہ جہتی سے مرتب کرتے ہیں ذاکر حسین کی جدائی کی خبر نے افسردہ کردیا سرورق کے مصور ذاکر حسین با کمال مصور تھے اور اپنے فن کے فنکار تھے اللہ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ایڈیٹر الیاس شاکر بھی اللہ کوپیارے ہوگئے اللہ تعالیٰ انہیں بھی جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے محمد رفاقت نے خوب صورت تبصرہ کیا اچھا لگا ریاض بٹ تو ایسے لگے جیسے سامنے بیٹھے باتیں کر رہے ہوں بہت عمدہ تبصرہ کیا ہے پرنس افضل شاہین قطعے کے ساتھ بہترین تبصرہ کرتے ہیں اور انکل ریاض حسین قمر کے تو کیا کہنے آپ کی شاعری تو باکمال ہوتی ہے تبصرہ بھی بہت عمدہ کرتے ہیں جنت کے حوالے سے بہت اچھا لکھا اس پر تو یہی کہیں گے کہ انڈیا ہمارے صبر کا امتحان لے رہا ہے آخر میں جاوید احمد صدیقی کا تبصرہ بھی بہت پیارا تھا کیا بات ہے اس دفعہ صرف پانچ تبصرہ نگار ہی حاضر تھے بھئی سبھی غیر حاضر بھی اپنی انٹری دیں دیکھو میں بھی تو دو تین ماہ بعد حاضر ہوا ہوں نا اپنی غیر حاضری پہ معذرت خواہ ہوں سب سے، اقرا میں اللہ سبحان و تعالیٰ کے خوب صورت نام العلیم پر خوب صورت اور علم و دانائی سے بھرپور باتیں دل میں گھر کر گئیں بے شک اسلامی تعلیمات اور احکام الٰہی انسان کی بہتری کے لیے ہی ہیں۔ کہانیوں میں سب سے پہلے مرشد ہی پڑھی حجاب بی بی سے حجاب سرکار کا انوکھا نام رکھنا مرشد کی حجاب سے محبت اور عقیدت کی عمدہ مثال ہے دوسری طرف میرا ارشد اللہ کا حسن آرا کی طرف جھکائو آغا فیملی کے لیے بھونچال ثابت ہو رہا ہے باپ بیٹے کی تکرار میں بیٹے کا پلڑا بھاری ہو رہا ہے دیکھو یہاں محبت کیا رنگ دکھاتی ہے جادو کے حصار میں ثانیہ شعیب کی ہوگئی اور پھر جیسے ہی بابے کرامت کا گناہ سامنے آیا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا مگر تب تک دیر ہوچکی تھی اس کے پروردہ بھائی نے ہی اس کو مار دیا اور سارا حصار بھی ٹوٹا ثانیہ نے ذیشان سے معذت کی اور واپس شعیب کو ہی قبول کیا جبکہ فرزانہ کو ذیشان نے اپنے حصار میں لے لیا امجد جاوید کی کہانی عمدہ رہی بہروپیے فضل بابا نے مہہ جبین کی عزت تار تار کر کے اس کی جان لے لی اور اس کے جاہل شوہر اور ساس بابا پر اندھا اعتماد کرتے رہے اگر عام لوگ بھی با شعور ہوں تو ایسے کالے کرتوتوں والے بابے بھی بے نقاب ہوجائیں گے، جانیں بچانے والے ڈاکٹر بلال مغرور ہوئے تو ساجد احمد کو اپنی بے پروائی کی بھینٹ چڑھا دیا اور سمیر نے اپنی آواز بلند کر کے ڈاکٹر بلال کو قانون کے شکنجے میں دے دیا مگر نئی نویلی دلہن فائزہ کا سہاگ تو اجڑ ہی گیا مہتاب خان کی زندگی اچھی رہی۔ وہ تیس دن میں وقاص اینڈ فیملی پر اسراریت میں پھنس گئے ہیں ویسے عجیب بات ہے نادیدہ مخلوق بلی کی شکل میں ان سے برابر آنکھ مچولی بھی کھیل رہی دیکھو اب ان کا کیا بنتا ہے عمارہ خان کی کہانی زبردست جا رہی ہے کہانی میں کہیں کہیں لفاظی غلطی بھی آرہی ہے جیسے کبھی کبھی کو کبھی کبھی لکھنا وغیرہ ایسا کئی جگہ ہوا ہے اس کا بھی خیال کریں باقی کہانی عمدہ ہے مستقبل کے لکھاری میں میتھو اور اس کے باپ نے عمدہ کہانی لکھی جس میں الازین کی صورت جیتے جاگتے کردار کو حصہ بنایا بعد ازاں الازین کے انکشاف نے میتھو کو توڑ کے رکھ دیا مگر وہ دونوں اپنی محبت کو دل سے نہ مٹا سکے الازین آخر وقت میں ننھی الازین کو پیار کر کے داغ مفارقت دے گئی زرین قمر کی کہانی بہت اچھی لگی ماہ رخ ارباب کی مختصر کہانی چاہ عمل بھی عمدہ رہی منشیات کی لت میں لگے شاہدہ کے بیٹے منیر کو تو اس کی ماں نے نشے سے نہ روکا الٹا مقبول کو کھری کھری سنا دی اور پھر ایک دن اس کا بچہ منیر بھی مر گیا۔ عکس ذات میں تابش نے جتنا خود کو پارسا رکھا اور صحرائی مشقت اٹھائی وہ اپنی ہی کوششوں کی قدر نہ کرسکا خزانہ ملنے اور بوسما کے سہرکاب ہونے پر وہ بھٹک گیا مگر ایک ڈاکو فیروز اور طوائفانہ زندگی گزارنے والی یوسما راہ راست پر آگئے اور اللہ نے ان کی مشکلات کا ازالہ بھی کردیا اور تابش صورت کے منہ میں چلا گیا عرفان رامے کی کہانی عمدہ رہی، فن پارے میں پہلی کہانی عمدہ رہی آخری رات میں زوار نے ایک ٹیچر، سنبل، نیلوفر، ماریہ، ندا، سارا اور انعم سے اپنی محبت کی کہانی سنا کر اپنی بیوی حبیبہ کو ایک کہانی دینی چاہی تو وہ یہ سب برداشت نہ کرسکی اور زوار کو چھوڑ گئی، وہ کون تھی وہ جو کوئی بھی تھی اس کے لیے فرشتہ ثابت ہوئی اور اس لفافے بیچنے والے کی زندگی بنا گئی تھی عثمان غنی کی کہانی اچھی لگی، ٹریسا نے خود کو تو روک لیا مگر آنکھوں کو چھلکنے سے نہ روک سکی ایک مشرقی ڈاکٹر شان مغربی لڑکی کے احساسات اور محبت کو نہ سمجھ سکا اور ٹریسا بھی اس کی جدائی برداشت نہ کرسکی اور اس کی جدائی کے دن ہی آسمانوں میں گم ہوگئی اسحاق جنجوعہ کی نمکین کافی سب سے عمدہ رہی ذوق آگہی میں ایس حبیب خان، مہرین آصف اور ریاض چوہان کے مراسلے جبکہ خوش بوئے سخن میں رابعہ بصری، چوہدری قمر جہاں اور حمیرا فضا کا کلام اچھا رہا۔
ایم حسن نظامی… قبولہ شریف۔ سلام الفت امید ہے آپ اور ہمارے پرچے سے جڑے سبھی احباب خیریت سے ہوں گے اکتوبر کا من پسند میگزین مقررہ وقت پر جلوہ گر ہوا اچھا معیاری اور خوب صورت پایا پرچے سے وابستہ سبھی احباب نے اپنی بیکراں محنتوں، کوششوں اور دل لگی کا ثبوت دیا اوراسی کے سبھی سلسلے اور تحریریں انمول موتیوں کی حیثیت اختیار کرتے چلے گئے مشتاق احمد قریشی صاحب ہمیشہ کی طرح اس بار بھی منفرد انمول اور معیاری پیغام دیتے نظر نواز ہوئے جو بلا شبہ بہترین پایا۔ گفتگو میں بھٹی صاحب نئے سال کی مبارکباد دے رہے تھے جی ویلکم خدا کرے یہ سال ہمارے لیے لا تعداد مسرتوں کا پیامبر ثابت ہو ہم سبھی مل کر بارہا ساتھیوں کو آواز دے چکے ہیں کہ آئو اور ہم سبھی مل بیٹھ کر نئے افق کے پلیٹ فارم پر گفتگو کریں مگر چند گنے چنے احباب ہی ہر ماہ اس بزم کا حصہ بن رہے ہیں بقیہ کہاں غیر حاضر ہیں؟ محمد رفاقت، ریاض بٹ، پرنس افضل شاہین، ریاض حسین قمر اور جاوید احمد صدیقی صاحب پر معنی اور شیریں گفتگو کرتے پائے سبھی احباب کو میرا سلام قبول ہو خدا کرے آپ یونہی مسکراتے رہیں اور زندگانی کی پر مسرت بہارین دیکھتے رہیں، طاہر قریشی صاحب کسی مبلغ کی طرح قرآن و سنت کی روشنی میں العلیم کے معانی اور تشریح فرما رہے تھے جس سے سبھی جذبے معطر اور شادمان ہوتے چلے گئے۔ حصار کے آخری حصے نے بے حد متاثر کیا اس کے ہر کردار میں شگفتگی اور توانائی پائی زندگانی کے کٹھن اور دشوار سفر میں کیا کچھ ہو رہا ہے ماہتاب خان نے اس پر خوب صورتی سے روشنی ڈالی، عرفان رامے کا شمار آج کے عمدہ لکھاریوں میں ہوتا ہے ان کا قلم خوب صورت تحریریں تراشتا ہے میں نے ان کی بیشتر معیاری تحریریں پڑھی ہیں یوسما جیسے کردار ہمارے معاشرہ کے عکاس ہیں خلیل جبار بھی لکھنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے بہروپیہ منفرد تحریر تھی تو عمارہ خان بھی دھیرے دھیرے پانچویں منزل طے کر رہی تھیں جو سنسنی سے بھرپور ہے۔ بلال شیخ بھی سدا عمدہ تحریروں کے سنگ وارد ہوتے ہیں جو با معنی ہوا کرتی ہیں زریں قمر صاحبہ محبت جیسے لا زوال جذبے پر اپنا نوکیلا قلم چلا رہی تھیں انہوں نے بہت سی منفرد باتوں سے پردہ اٹھایا مگر اینڈ پر انگریزی کے لفظ اردو پہ غالب دکھائی دیے ماہ رخ ارباب اور صبا احمد کان بھی اچھے روپ میں جلوہ گر پائیں۔ فن پارے میں سبھی تحریریں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں ابن صفی پہ لکھی جانے والی تحریر بھی پسند آئئی سبھی احباب کا مجھے یاد کرنے اور میری نگارشات سراہنے پر ڈھیروں شکریہ۔ ذوق آگہی میں معیاری اقتباسات پڑھنے کو ملے سبھی احباب کی محفل عمدہ سجی خوش بوئے سخن کی شاعری بھی اچھا سلسلہ ہے آخر پر مرشد کے سفر ساتھ شامل ہوئے اور اسے اپنا ہمسفر عمدہ پایا۔ قابل قدر میں نے دو تحریریں ’’حکومت اور قانون‘‘ اور ’’ٹوٹی مالا کے تارے‘‘ جانے کب سے آپ کو ارسال کی تھیں مگر آپ مسلسل میری تحریروں کو نظر انداز کر رہے ہیں جبکہ مجھ سے بعد میں بھیجی جانی والی تحریریں شامل اشاعت ہیں۔ سر کیا میرے لفظوں، فقروں اور پلاٹ میں جان نہیں ہے جو میں آپ کے پرچے کا روادار نہیں مہربانی فرما کر میری تحریروں کو منظر عام پر لاتے ہوئے مجھے سرخرو فرمائیں اس آخری شعر کے ساتھ اجازت
جن اپنوں پر ناز تھا ہمیں
وہی جینے کی سزا دیتے ہیں
مر مر کے جینا ہے مقدر حسن
ہمیں کب لوگ وفا دیتے ہیں
ایم رفاقت… واہ کینٹ۔ محترم جناب اقبال بھٹی صاحب اور نئے افق کے تمام اسٹاف کو میری طرف سے السلام علیکم قبول ہو۔ اللہ تعالیٰ رسالے نئے افق کو مزید ترقی دے آمین۔ محترم اقبال بھٹی صاحب کو اور آپ کے تمام عزیز و اقارب کو اللہ صحت و تندرستی دے آمین، محترم عابی خان صاحب نے بہت محنت سے ابن صفی کے کردار پر روشنی ڈالی ان کے ہم شکر گزار ہیں تقریبا پچاس سال پرانے ان کرداروں کو زندہ کیا ادارے سے گزارش ہے کہ ابن صفی کا یہ سلسلہ چلتا رہنا چاہیے ایک بات اور جس کے لیے ادارہ مبارک باد کا مستحق ہے کہ پچاس روپے میں اتنی مزے دار کہانیاں پڑھنے کو مل رہی ہیں مگر کہانیاں معیار کے مطابق نہیں آتے ہیں کہانیوں کی طرف تو جناب امجد جاوید صاحب کی حصار بھی مکمل ہوگئی اچھی کہانی تھی مہتاب خان صاحبہ کی زندگی اور محمد عرفان رامے صاحب کی عکس ذات کہانیوں نے بہت متاثر کیا بہت اچھی کوشش تھی پسند آئیں، بہروپیہ، چاہ عمل، چاہت بھی رسالے میں اپنی موجودگی کا پتا دے رہی ہیں اچھی ہیں، فن پارے کی کہانی، آخری رات حمیرا فضا نے بہت خوب صورت انداز میں پیش کی یہ عورتوں کی عادت ہے جس کو وہ بہت خوب صورت انداز میں استعمال کرتی ہے اور مرد بے چارے اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں بڑی بڑی سلطنت ان مردوں کے ہاتھوں سے نکل گئیں یہ ان کے اس جادو کا اثر تھا مرد سب کچھ لٹا دیتے ہیں آگے کیا لکھوں کہیں کوئی ناراض نہ ہو جائے کہانی بہت اچھی تھی اس لیے تبصرہ بھی کردیا، محمد شعیب کی کہانی تمہارا کزن، عثمان غنی کی وہ کون تھی اسحاق جنجوہ کی نمکین پانی، میمونہ صدف کی سزا محترم عارف شیخ کی ہوٹل، ماہ وش طالب کی وہ کچھ اور تھا سب ہی محنت سے لکھی گئی ہیں اور سب ہی اچھی ہیں، ذوق آگاہی میں اپنا نام پہلے نمبر پر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، ریاض بٹ، شجاعت حسین، اقرا جٹ، پرنس افضل شاہین، ایس حبیب خان، ایم حسن نظامی، ارم کمال، دعا ہاشمی، مہرین آصف بٹ، ببلی شاہد، نبیلہ چوہدری، شگفتہ خان، پروین افضل شاہین اور محترم ریاض چوہان صاحب کے جنت میں لے جانے والے عمل اور دوسروں کی کوشش سے بہت معلومات ملیں سب کا شکریہ۔ خوش بوئے سخن میں غزلیں جناب شاہد ذکی، جواد شیخ، رابعہ بصری، احمد جہانگیر، ایم نظامی، ریاض حسین قمر، رفاقتوں کے سفر میں عناد ڈرتا ہوں کہ نا گزیر ہے دنگا فساد ڈرتا ہوں جی بہت خوب محمد فہیم، کومل جوئیہ کی پسند آئیں اور رائو تہذیب حسین تہذیب کا قطع، نشان حیدر بہت اچھا تھا اور نظم میں فیاض اسحاق کی پسند آئی، محترم جناب مشتاق احمد قریشی صاحب نے جو بھان متی نے کنبہ جوڑا،جو کچھ ارشاد فرمایا ہے آنے والا وقت اس بات کی تصدیق کر رہا ہے انگور کٹھے ہوں یا میٹھے پہ کچھ بھی نہیں چھوڑیں گے اس سے پہلے ان لوگوں نے پاکستان کو قرضوں میں ڈبو دیا ہے یہ پاکستان کو ترقی پر جاتا نہیں دیکھ سکتے اب یہ ہی دیکھیے کہ ہم پاکستانی قوم چندہ جمع کر رہی ہے مگر یہ لوگ مخالفت کر ہے ہیں ان کو یہ پتا نہیں کہ یہ ڈیم کسی دوسرے ملک میں نہیں بن رہا یہ پاکستان میں بن رہا ہے اور اس سے پاکستانی فائدہ اٹھائیں گے محترم اقبال بھٹی صاحب اس دفعہ بھی گفتگو میں حاضری کم تھی اور میرا خط آپ نے پہلے نمبر پر رکھ کر مجھے بہت خوش بختی جناب کا بہت بہت شکریہ اور جن لوگوں نے بھی میرے خطوط کو پسند کیا میں دل کی گہرائیوں سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
آتے ہیں تیری بزم میں ہر بار
کہ دوستوں سے ملاقات ہی ہوجائے
سلمان عبداللہ… کہروڑ پکا۔ قابل احترام اقبال بھٹی صاحب۔ السلام علیکم امید ہے کہ مزاج بخیر ہوں گے۔ دیگر احوال زیر قلم ہے کہ اکتوبر کا تازہ شمارہ نئے افق 24 تاریخ کو ملا، بھٹی صاحب ادب کیا ہے ہمیشہ کے لیے اس کو سیکھنے کی کوشش کی نئے افق کو دیکھا پڑھا اسے ہمیشہ کیلئے نزدیک پایا۔ اس سے ادب شناسی کی روشنی پائی نئے افق وہ ادبی جریدہ ہے جس کی خوشبو سے یہ ادبی محبت مہک اٹھتی ہے اور من کے اندر زمزمہ پرواز گیت گنگناتا ہے۔ انیسویں صدی میں انسانی ادب سے داستان گوئی کا رجحان ختم ہوگیا اور اس کے مقابلے میں ناول منظر عام پر آیا ناول کو ہم داستان کی ارتقائی شکل کہہ سکتے ہیں جو اطالوی زبان کے لفظ Navella سے مشق ہے۔ یہ ناول انگریزی ادب کے اثرات سے اردو ادب میں منتقل ہوا۔ ناول نگار کے نقطہ نظر اور نظریہ حیات کا عمل دخل ناول میں براہ راست ہوتا ہے جس سے ناول میں ناول نگار زمانے کی حقیقی زندگی اور فرد کے افعال و اعمال نیز ذہنی و نفسیاتی کیفیات کی عکاس کرتا ہے اسی طرح ناول کا کینوس بھی زندگی کے نشیب و فراز کی طرح وسیع ہوجاتا ہے۔ ناول کے پاس اظہار آزادی کا عنصر تو ہوتا ہے لیکن اختیار نہیں ہوتا کہ وہ کفایت پسندی کے تحت تفصیلات سے دامن تہی ہو اور صنعی جزئیات کو تحریری اسلوب دے اگر ایسا ہے تو ناول نگار کے لیے بصیرت اور باریک بینی کا ماہر بھی ہونا چاہیے ناول میں استاراتی تہوار زیادہ کار آمد ثابت ہوتا ہے۔ بھائی میں نے تو ابھی تک 26 بہاریں بھی نہیں دیکھی ہیں۔ جس میں 15 سالوں سے ادب کی خدمت کرتا آرہا ہوں مگر اب تک ادب کو قریب سے نہیں دیکھا نئے افق کے سارے رائٹر حضرات میرے استاد محترم ہیں انکل محمد سلیم اختر کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر یہ مقام حاصل کیا تمام ڈائجسٹوں میں لکھنے کا شرف حاصل ہوا تو سلیم اختر کی وجہ سے۔ باقی تحریروں پر تو میں تبصرہ نہیں کرسکتا کیونکہ میں نے ابھی تک پڑھی ہی نہیں ہیں امید ہے کہ وہ بھی نئے افق کے معیار پر ہوں گی۔ مقبول جاوید صدیقی اور کاشف بھائی آپ دونوں کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے نئے افق کو رونق بخشی اور مزید لکھنے کی پختگی دی۔ آخر میں اتنا ضرور لکھوں گا کہ میری لکھائی بہت کمزور ہے جس کی وجہ سے تعلیم (پرائمری) پاس اور کاغذ بھی بہت پرانا استعمال کرتا ہوں جس کی وجہ ہے (غربت)۔ پلیز خدارا مائنڈ مت کرنا۔ میں نئے افق کے معیار پر لکھ سکتا ہوں اگر میری تحریروں میں وزن ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ضرور بتانا آئندہ کے لیے نہیں لکھوں گا۔ میری طرف سے تمام دوست اور نئے افق کی پوری ٹیم کو سلام۔
یمنیٰ نور… گجرات۔ السلام علیکم! گرمیوں کے گرم موسم میں اُمید ہے خوشحال زندگی گزار رہے ہو ں گے۔اللہ تعالیٰ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔آمین !ہر پل سلامتی کی دُعائیں ورنہ یہاں تو ایسا لگتا ہے گھر کی چار دیواری میں بھی محفوظ نہیںرہے۔ اِنسان ہی انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کر رہے ہیں۔ موت صرف ایک گولی کی مسافت پر ہے۔ ایک اشارے کی محتاج ہے۔ آنکھ جھپکی اور انسان زندگی سے محروم۔ کیا ہمارے آبائو اجداد نے ایسا کبھی سوچا تھا کہ ہماری نسل بے مول موت کے حوالے ہو جائے گی۔ جس ملک کو قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا تھا آج وہی وطن قربان گاہ بنا ہوا ہے۔ امراء کو جوڑ توڑ سے فرصت نہیں ہے اور غریب عوام،گرمی ،مہنگائی اور دہشت گردی سے مر رہے ہیں اور پانی ختم ہوتا جارہا ہے۔ کہیں پانی کا قحط ہے تو کہیں پانی کا ضیاع ہو رہا ہے۔ میرٹ والے سڑکوں کی خاک چھان رہے ہیں اور سفارشی اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے غریب کے گلے کاٹ رہے ہیں انصاف کہاں ہے؟ اب کوئی انصاف کے لیے کورٹ کچہری کی طرف رُخ کرتا نہیں ہے۔ خود ہی مجرم اور خود ہی منصف بنے ہوئے ہیں میرے اللہ کرم فرما۔ ماہ اکتوبر کا نئے اُفق سرورق میں خوبصورتی نہیں تھی۔ سرورق پُرکشش نہیںتھا۔ اس طرف خصوصی توجہ ہونی چاہیے۔ قارئین ،لکھاریوں ،اسٹاف،کو دلی دعائیں مہنگائی نے ہماری خوشیوں کو ہتھکڑیاں لگا رکھی ہیں۔میڈیسن نے زندگی دینے کے بہانے ہمیں موت کی نیند سُلانے کی قسم اُٹھا رکھی ہے اور رہی سہی کسر ہمارے حکمرانوں نے پور ی کر رکھی ہے۔ دستک میں مشتاق احمد قریشی صاحب کی باتیں دل کو چھو گئیں، گفتگو میں سبھی کے خط خوب صورت تھے۔ گفتگو کی محفل خوبصورت تبصروں سے سجی تھی۔اقراء میں طاہر انکل اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کا ذکر کر رہے تھے۔ اِن ناموں میں بڑی برکت ہے اگر اس کا ورد رکھا جائے تو کایا پلٹ جائے گی۔ لوگ تعلیم کی کمی ،جہالت کی وجہ سے اپنا وقت اور پیسا برباد کر رہے ہیں۔ فن پارے کی تحریریں پسند آئی اور خوشبوئے سخن ،ذوق آگہی بھی زبردست رہے۔ اسی کے ساتھ ہی اگلے ماہ تک کے لیے اجازت، اللہ نگہبان
حسنین… کراچی۔ تمام مدیران حضرات ، تمام اسٹاف اور میرے تمام دوستوں کو سلام مسنون ۔ اُمید کامل ہے مزاج بخیر وعافیت ہونگے ۔ بندہ ناچیز بھی خدابزرگ وبرتر کی رحمتوں ، برکتوں ، عنایتوں کی بدولت خیریت سے ہے اور اپنے خدا بزرگ و برتر کا نہایت عاجزانہ سپاس گزار ہے۔ درودیوار وادی سکوت میں خواب خرگوش کی نیند کے مزے لے رہے تھے۔ سکوت اس قدر کہ دل کی دھڑکن اور سانسوں کی رفتار باآسانی سماعتوں سے ٹکراتی ہوں۔ میں اپنے مخصوص تخلیقی حجرے میں بیٹھا کچھ لکھنے میں محو تھا۔ اچانک سے موبائل کی لائٹ روشن ہوئی اور ساتھ میں ہی بیل بجنے لگی ۔ اسکرین پہ رونما ہونے والا نمبر میرے پیارے دوست کا تھا۔ حال احوال کے بعد معلوم پڑا کہ محترم خواجہ صاحب نے ہمیں گمشدہ قرار دے دیا ہے۔ لبوں پہ ایک مسکراہٹ نے رقص کرنا شروع کردیا۔ ارے مٹھو بھائی میں کہیں گم نہیں ہوا ۔ کچھ مصروفیت کی بنا پر محفل سے غیر حاضر رہا ۔ برائے کرم بندہ ناچیز کی اس گستاخی کو در گزر فرمایا جائے ۔ انشاء االلہ اب حاضری کی پابندی ہوگی۔ خواجہ صاحب یاد آوری کا بے حد شکر یہ ۔ اللہ پاک آپ کو خوش رکھے۔ مصروفیت سے ہٹ کر ایک اوروجہ بھی تھی جس کی وجہ سے میں احوال نہیں لکھ پا رہا تھا۔ گذشتہ چندماہ سے احوال کی محفل میں کچھ گرم جو شی کا اک موسم طاری تھا۔ ارے بھائی جون کی گرمی تو چھوڑئیے۔ اللہ پاک نے یہ جو ایک آتش دان ہمارے سینوں میں پابند سلاسل کر رکھا ہے۔ اس کی آتش تو شاید دوزخ کی آگ سے بھی زیادہ تپش کی مالک ہے ۔ یہ دنیا وی گرمی تو کچھ بھی نہیں۔ خورشید کی تپش اس کے آگے ساگر میں بارش کی ایک بوند برابر ٹھہری ۔ آخر ایسا کیوں ہے؟جب ہمارا دین ایمان ہے کہ عزت اور ذلت رب کریم کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے ۔ عزت سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت سے نوازدیتا ہے۔یہ سب مالک کے کام ہیں۔ تو کیوں ہمارے دلوں میں جلن بغض ، منافقت حسد نے آکر ڈیرہ جمالیاہے۔ نفرت کے شجر حسد کے خاروں نے سلطنت قلب کوتباہ کر دیا ہے۔ ہم شکل و صورت سے تو بے حد خوبصورت ہیں۔ ہمارے چہرے چمکتے آفتاب کی مانند ہیں۔ ہماری کشادہ جبیں پر محراب سجے ہوئے ہیں۔ مگر ہم اندر سے اتنے کالے کیوں ہیں۔ ہمارے اندر کی سیاہی کو ہم کیوں مٹا نہیں سکتے ۔ کیوں کسی کی کامیابی پر اسے دعائیںنہیں دیتے ۔رب کریم کا ارشاد ہے۔ ’’ تو اوروں کی خوشی مانگ میںتیری جھولی خوشیوں سے بھر دوں گا‘‘ لیکن یہاں تو معاملہ ہی اُلٹ ٹھہرا ۔ بہر کیف بات کہاں نکل گئی۔ میرے بھائیوکبھی سوچا ہے کہ ایک دن میں 24گھنٹے ہیں۔ ایک گھنٹہ بھی اپنی ذات کے لیے نکالا ہے کبھی؟کبھی سوچا کہ آج کا دن گزرا آج میں نے کتنے حقوق اللہ کی ادائیگی کی کتنے حقوق العباد کی ادائیگی کی ہے؟ارے ہم تو جو ا پنے ساتھ ہی مخلص نہیں کسی اور کے ساتھ کیاخاک مخلص ہونگے؟ نماز کا فائدہ ہمیں ہوگا مگر پڑھتے نہیںہیں ۔ نیکی کا ثواب ہمارے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔ مگر ہم کیوں کریں؟کہیں دوسرے کا بھلا نہ ہوجائے کہیں وہ ہمیں سچے دل سے دعا نہ دے دے۔ کہیں ہماری آخرت نہ سنور جائے ۔میرے پیارو حسد کی آگ انسان کو راکھ راکھ کر دیتی ہے۔ بہر کیف معاملہ کچھ بڑھ نکلا۔ کوئی بات بری لگی تو معذرت چاہتا ہوں۔ ان شا اللہ اب میں حاضری کو یقینی بنائوں گا۔ اب اجازت دیں۔ زندگی نے وفا کی تو دوبارہ حاضر ہونگا ۔ تب تک کے لیے اللہ حافظ۔
مجید منان… کورنگی، کراچی۔مزاج گرامی! اُمید واثق ہے خیر بانٹتے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کی آسانیاں پیدا فرمائے صحت کی بادشاہی ،ایمان کی سلامتی کے ساتھ سلامت رکھے آمین ثم آمین۔ تمام لکھاریوں ، اسٹاف،اور قارئین کو تہہ دل دعائیں۔ ہر طرف دہشت ہی دہشت ہے ،مہنگائی کاطوفان اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے ۔امیری غریبی کا تضاد ہر سو ہے۔ غریب بھوک سے مر رہے ہیں تو امیربیماری کے ڈر سے کھانا چھوڑے ہوئے ہیں ۔حسد کینہ پروری عروج پر ہے ۔نفسا نفسی کا عالم ہے ۔حقوق اللہ اور حقو ق العباد ،کس کو فرصت ہے ،اس طرف توجہ دے ۔ جب انسان خود کے لیے جینے لگے تو انسانیت مر جا تی ہے۔ اللہ کرم کرے اور وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنائے آمین۔ ماہ اکتوبر کا نئے اُفق تمام تر رعنائیوں کے ساتھ تھوڑا لیٹ ملا۔ پہلے پندرہ تاریخ کو مل جاتا تھا اب کی بار بیس تاریخ کو ہماری دسترس میں آیا۔ سرورق دیدہ زیب تھا۔دستک میں جناب مشتاق احمد قریشی صاحب کی تحریر نے دل کو چھو لیا۔ طاہر قریشی صاحب صفاتی ناموں کے ساتھ حاضر تھے۔ باقی مکمل پرچے پر تبصرے اگلے ماہ کروں گا، جب تک کے لیے اللہ حافظ۔
یامین ارشد … بورے والا۔ محترم جناب اقبال بھٹی، طاہر احمد قریشی، مشتاق احمد قریشی، تمام ریڈرز، لکھاریوں اور تمام اسٹاف کو نہایت عقیدت سے السلام علیکم ! اُمید ہے اللہ تعالی کے فضل و کرم سے خوش و خرم زندگی گزار رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ خوشیوں کے ساتھ سلامت رکھے۔شر پسند عناصر کے شر سے اپنی حفظ و امان میں رکھے اور صحت و تندرستی کی نعمت ہمیشہ رہے۔آمین ثم آمین !جہاں رہیں خوشیاں تقسیم کریںکیونکہ یہی زندگی ہے۔دُنیا اور آخرت میں کامیابی اِسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں سے نوازے اور اپنے قہر سے محفوظ فرمائے آمین ۔ میں نئے اُفق کے لئے نیا ضرور ہوں مگر خاموش قاری کئی سالوں سے ہوں۔ جب بھی وقت ملتا ہے نئے اُفق کامطالعہ کرتا ہوں۔نئے اُفق سے خاصا لگائو بھی ہے۔ سب سے پہلے سرورق کی بات کرتے ہیں ۔ماشااللہ !بہت خوبصورت ہے۔نظریں ٹک سی جاتی ہیں۔ بہت خوب ۔زبردست سرورق دیا گیا ہے۔ دستک میں جناب مشتاق احمد قریشی صاحب کی تحریر اچھی لگی۔کہانیوں کی بات کی جائے تو اپنی اپنی جگہ بہترین تھیں۔ ذوق آگہی اور خوشبوئے سُخن بہترین رہے۔ فن پارے اور گوشہ ابن کے تو کیا ہی کہنے۔ اللہ تعالیٰ نئے اُفق کو مزید ترقی سے ہمکنار فرمائے آمین ثم آمین والسلام !
حسن رضوی…ساہیوال۔ السلام علیکم ! اِس دُعا کے ساتھ اپنے خط کا آغاز کرتا ہوں جہاں کہیں بھی ہوں گے خوشیاں بانٹنے میں مصروف ہوں گے ۔جد ید دور میں کسی کے چہرے پہ خوشی کے آثار پیدا کرنا بھی تو نیکی ہے ۔ہر طرف اُداسی ،مایوسی کے سخت پہرے ہیں ،خوف پھیلا ہوا ہے ۔ماہ اکتوبر کا نئے اُفق ملا،سرورق زبردست ہے۔نئے اُفق کی گفتگو میں اقبال بھٹی صاحب کی باتیں دل کو چھو گئیں۔دستک پڑھی جہاں مشتاق احمد قریشی کی باتیں دل کو چھوتی محسوس ہوئیں۔ گفتگو میں بھٹی صاحب کی باتیں بہت پیاری تھیں اے کاش ہم اِن پہ عمل کر سکتے۔ عبدالحمید، مجید احمد جائی، صائمہ نور، ریحانہ سعیدہ، ممتاز احمد، عمر فاروق ارشد، عبدالجبار رومی انصاری، شجاعت حسین، شجاع بخاری، ریاض حسین قمر، حسین جاوید، ایم حسن نظامی سمیت دیگر نئے افق کے پرانے ساتھی کہاں گم ہوگئے ہیں تمام غیر حاضر ساتھیوں سے گزارش ہے کہ فی الفور اپنی حاضری یقینی بنا کر محفل گفتگو کو رونق بخشیں۔ اقراء میں طاہر احمد قریشی نے اللہ تعالیٰ کے ناموں پہ لکھ کر دل کی کھڑکیاں کھولنے پہ مجبور کر دیا۔ اکتوبر کے شمارے میں لگنے والی تمام کہانیاں بے مثال تھیں، فن پارے بھی کمال کے تھے ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن بھی لاجواب تھے۔
رباب شکیل… ملتان۔ آداب! دُعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ امن کی زندگی بسر کرنے کی توفیق دے اور اِن خوشگوار لمحوں کی مسرتوں میں قید بھی ہوں کہ آپ حقیقی خوشیوں کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ پاک سر زمین کو امن کا گہوارہ بنائے اور دُشمنوں کو نیست و نابود کرے ۔یہ جو فضائیں دھواں دھواں سی ہیں ،مہکی مہکی خوشبوئوں سے معطر ہوں ۔یہ جوسڑکیں خون سے سُرخ ہو رہی ہیں ،اللہ کرے یہ سڑکیں زرمبادلہ کمانے میں کام آئیں اور خونی بادل چھٹ جائیں۔ ہمی وطن کی فلاح وبہبود کے لیے متحد ہو جانا چاہیے اور اپنا تن من دھن وطن پر قربان کرنے کے لیے میدان میں آنا چاہیے۔ اب وعدوں کا وقت نہیں کچھ کرنے کا وقت ہے۔ دُشمنوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر واصل جہنم کرنا ہوگا ،تب ہی امن قائم ہو گا اور خوف و ہراس کی فضائیں ختم ہو ں گی۔ ماہ اکتوبر کا نئے اُفق ملا ،سرورق بہت پیارا اور کشش بھرا تھا۔ دستک میں انکل مشتا ق احمد قریشی نے خوب لکھا۔ گفتگو میں اقبال بھٹی صاحب نے عمدہ باتیں کیں۔ اب سوچنے کا وقت نہیں ہے ،عمل کا وقت ہے ،ہمیں ایک دوسرے کے گریبانوں کو چھوڑ کر دُشمن کے گریبان پکڑنے ہوں گے اور اُن کو سزا دلوانی ہو گی ورنہ دُشمن اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا اور ہم غلامی در غلامی کی زنجیریں اپنے گلے میں ڈال لیں گے۔ کہانیوں میں سب کی تحریریں اپنی اپنی جگہ منفرد تھیں۔ اگر نئے اُفق میں سفر نامے شامل کئے جائیں تو سونے پہ سہاگہ ہو جائے گا۔ذوق آگہی ،خوش بوئے سُخن بھی زبردست تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close