NaeyUfaq Nov-18

دستک

مشتاق احمد قریشی

ختم نبوت اور حکومت

وزیر اعظم عمران خان مملکت اسلامیہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست میں بدلنا چاہتے ہیں، لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا، مدینہ کی ریاست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبین ہیں، ان کا سکہ مدینہ منورہ میں چلتا تھا۔ ان کے حکم احکام کے آگے پوری امت سرتسلیم خم کرتی تھی۔ کوئی کسی حیلے بہانے سے بھی کسی طرح کی سرتابی نہیں کرتا تھا۔ منافقین جو کہتے تھے وہ کرتے نہیں تھے۔ وزیر اعظم صاحب آپ اگر واقعی مملکت خداداد اسلامیہ پاکستان کو اللہ کے رسول کی نسبت سے بدلنا چاہتے ہیں اور نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو یقینا یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ لیکن یہ مشکل بھی نہیں ہے۔ آپ کئی بار اپنے عزم کو دہراچکے ہیں۔ آپ کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا لیکن آپ کے ہمراہی آپ کی ٹیم کے ارکان آپ کی طرح نہیں سوچ رہے نہ آپ کی طرح سے اظہار کر رہے ہیں یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں بہت سی اقلیتیں رہتی تھیں۔ پارسی، عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ، زکری، اور دیگر کئی اقلیتیں لیکن ختم نبوت کے حوالے سے ایک آئینی اقلیت قادیانیوں کی ہے جسے آپ کے ارکان حکومت بھی اپنی صفائی کے طور پر اقلیت کہہ رہے ہیں۔ وطن عزیز کے طول و ارض میں آپ کے مشیر کی تعیناتی جو قادیانی اقلیت سے تعلق رکھتا ہے کے باعث شدید بے چینی و اضطراب کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ اس اضطرابی کیفیت کا آپ کے وزراء کو بخوبی اندازہ ہے۔ وہ ان مشیر کی طرف سے انہیں اقلیتی رکن بتاکر عوام کو تسلی دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اس ساری کارروائی سے نا صرف وزیر صاحبان بلکہ آپ پر حرف آرہا ہے۔ آپ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سوشل میڈیا پر کہی جا رہی ہیں۔ اس حقیقت سے آپ بھی بخوبی آگاہ ہوں گے کہ قادیانی اقلیت کو آئینی طور پر کافر یعنی اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ جسے وہ قطعی طور پر تسلیم نہیں کرتے بلکہ اپنے آپ کو اقلیت کے بجائے اکثریت میں شمار کرتے ہیں جو قانون و آئین سے انحراف ہے۔ ان کا خود کو اقلیت تسلیم نہ کرنا ہی سارے فساد کی جڑ ہے۔ اگر نئے مقرر کئے گئے مشیر مالیات خود کو اقلیتی فرد تسلیم کرلیں اور آئین پاکستان کی پاسداری کا اعلان کردیں تو سارا مسئلہ ہی حل ہوسکتا ہے، لیکن وہ ایسا ہرگز اس لئے نہیں کریں گے کہ یہ ان کا اور ان کی جماعت کے مؤقف کے خلاف بات ہے۔ کیونکہ ان کی جماعت ختم نبوت سے اختلاف کرتی ہے۔ جب کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نبی نہیں آنے والا، دین مکمل ہوگیا ہے کسی نئے نبی کی گنجائش ختم کردی گئی ہے۔
قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ایسی ہیں جن میں انبیاء علیہ السلام مبعوث ہوئے ہیں۔ اول یہ کہ کسی قوم میں پہلے کبھی کوئی نبی نہ آیا ہو اور نہ کسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی ان تک نہ پہنچا ہو۔ دوم یہ کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کی تعلیم بھلادی گئی ہو یا اس میں تحریف ہوگئی ہو اور اس کے نقش قدم کی پیروی کرنا ممکن نہ رہا ہو۔ سوم یہ کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کی تعلیم و ہدایت لوگوںکو نہ ملی ہو اور تکمیل دین کے لیے مزید انبیاء کی ضرورت ہو۔ چہارم یہ کہ ایک نبی کے ساتھ اس کی مدد کے لیے ایک اور نبی کی ضرورت ہو۔ اب یہ ظاہر ہے کہ ان میں سے اب کوئی ضرورت باقی نہیں رہی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام عالمین کے لیے رحمت بناکے مبعوث کیے گئے ہیں۔ قرآن کریم میں بھی ارشاد ہوا ہے۔
’’دنیا کی تمدنی تاریخ ہمیں بتا رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت سے مسلسل ایسے حالات موجود رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت تمام قوموں تک پہنچ رہی ہے۔ اس لیے اب کسی قوم ، کسی علاقے کے لیے کسی بھی نبی کے آنے کی حاجت و ضرورت ختم ہوچکی ہے۔ قرآن حکیم اس پر بھی گواہ ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے حافظ لاکھوں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں دنیا بھر میں موجود ہیں اور قرآنی تعلیمات کے فروغ اور تبلیغ دین کے لیے جماعتیں متحرک رہتی ہیں۔ گزشتہ کتب الہیہ کے مقابلے میں قرآن کریم میں کسی قسم کی تحریف و تبدیلی ممکن نہیں۔ اس لیے اب کسی نئی کتاب الٰہی یا اسے لانے کے لیے کسی بھی رسول، یا پیغمبر کی بھی ضرورت ختم ہوگئی ہے۔
قرآن کریم کے حوالے سے ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ جس کے ماننے یا نہ ماننے پر ہی ایمان اور کفر کا انحصار ہے۔ کوئی اگر نبیﷺ کو نہ مانے تو کافر اور اگر کوئی جھوٹے نبوت کے دعوے دار کو مانے تو بھی کافر۔ ایسے نازک معاملے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے کسی بے احتیاطی کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ اگر نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو اللہ خود قرآن میں صاف صاف تشریح فرماتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے ذریعے یوں اعلان عام نہ فرماتا اور نہ نبی کریم آخری نبی یا خاتم النبین کے تشریف لاتے۔
ختم نبوت کا عقیدہ مسلمانوں کو یہ ہی بتانے کا عقیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نبی نہیں آنیو الا اور قرآن کریم اللہ کی آخری اور مکمل کتاب ہے۔ قرآن مجید نے تمام سابقہ کتب الہیہ کو منسوخ کردیا ہے۔ قرآن کریم کے تمام احکامات الہی مکمل طور پر جمع کردیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اب نہ کوئی نئی کتاب آئے گی نہ ہی کوئی کتاب لانے والا آنے والا ہے۔ قیامت تک کا پورا بندوبست اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے۔
نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اے نبی کہہ دو کہ اے انسانو، میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں (سورۃ الاعراف ۵۸) بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لیے متنبہ کرنے والا ہو (الفرقان۔۱) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں۔ مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے (احزاب ۴۰)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں (ابو دائود، کتاب الفتین)
نئے پاکستان کے نئے وزیر اعظم جناب عمران خان جو نئے پاکستان کو ریاست مدینہ کی مانند بناتا دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں بڑے بڑے اہم معاملات و مسائل کے ساتھ اہم عوامی مذہبی، امور پر بھی غور و فکر کرنا چاہیے جیسا کہ انہوں نے تعلیم کے میدان میں دینی مدارس کو دیگر غیر دینی مدارس کے معیار کے مطابق بنانے کے ارادے کا علان کیا ہے۔ اسی طرح وہ اگر قادیانی فرقے کے بارے میں پھیلانے والا یا پھیلائے جانے والی خبروں کو بھی سنجیدگی سے سنیں اور اپنے ارد گرد کے افراد کو تاکید کردیں کہ مذہبی معاملات میں زبان درازی سے احتیاط برتے جیسا کہ آپ بار ہا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان دنیا کے نقشے پر واحد ملک ہے جو خاص ایک اسلامی نظریے پر قائم ہوا ہے۔ اس نے مذہب اور قوم و ملت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس نازک مسئلے کے حل کا کوئی مناسب بندوبست کریں اور قادیانی جماعت کو پابند کریں کہ وہ خود کو ایک غیر مسلم اقلیت تسلیم کرے۔ تمام اہل پاکستان کی دعا ئیں لیں اور عوام کے دل جیت لیں۔ اللہ تعالیٰ اہل پاکستان کا وطن عزیز کا حامی و ناصر ہو اور اس دجالی فتنے کو ختم فرمائے۔ آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close