NaeyUfaq Oct-18

وہ تیس دن

عمار خان

وہ تیس دن

شاہ جی کتاب پڑھتے ہوئے مسلسل رخ تاج کو دیکھ رہے تھے جو آس پاس کے ماحول سے بے خبر کھڑکی میں کھڑے سامنے گھر کو دیکھ رہی تھیں۔ کچھ دیر شاہ جی نے برداشت کیا اور بالآخر ٹوکے بنا نہ ر ہ سکے۔
’’بس بھی کرو رخ کب تک کھڑی رہوگی اِدھر۔‘‘
’’وہ، بچے آج اسکول نہیں گئے ، مجھے فکر ہو رہی ہے۔‘‘ بے ساختہ ہی رخ تاج کے لبوں سے دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ نکل گئی۔
’’اوہوو دوسر ا تیسرا دن ہوا نہیں ان کو آئے ہوئے اور تم پھر سے۔‘‘ شاہ جی نے مصنوعی غصے سے اپنی بیوی کو دیکھا۔
’’باز کیوں نہیں آتی آپ آخر۔‘‘
رخ تاج نے اپنے شوہر کی مصنوعی ناراضگی بھانپتے ہوئے فوراً ہی کھڑکی چھوڑی اور ان کے پاس جا بیٹھیں۔
’’اتنا پیارا کپل ہے۔‘‘
’’میں دیکھ چکا ہوں۔‘‘ اب کی بار شاہ جی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
کاشش…‘‘
’’اے خبرادار اب جو مجھے زیادہ بلیک میل کیا تو۔‘‘ شاہ جی فورا نے انہیں احساس دلایا کہ وہ کچھ بھی نہیں بھولے ہیں۔ رخ تاج سر جھکا کر گہری سانس لے کر رہ گئیں ’’ویسے اب تم اس کاش کو چھوڑو اور مجھ بڈھے کو کوئی چائے پانی پوچھ لوتو بہتر رہے گا۔‘‘
’’وہ رات بھی قریب ہے۔‘‘ رخ تاج نے کھوئے کھوئے انداز میں سر جھکائے کہا تو شاہ جی بری طرح چونک گئے۔
’’اس شیطانی چرغے سے نجانے کب پیچھا چھوٹے گا ہمارا۔‘‘ شاہ جی نے بولتے ہی ہونٹ بھینچ لیے جیسے غلطی سے ان کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا ہو۔
’’میں کھبی کھبی سوچتی ہوں اس پورے سلسلے کی باز پرس ہم سے بھی تو ہوگی نہیں پھر ہم اپنے بچائو کے لیے کیا بہانہ تراشے گے بھلا۔‘‘
شاہ جی خاموشی سے سر جھکائے اپنی بیوی کی بات سنتے رہے ، ان کے پاس ، رخ تاج کے ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا نا رخ تاج سالوں سے ایک ہی بات کرتے تھکتی تھیں نا ہی شاہ جی ان سوالوں کا جواب دے سکتے تھے لیکن وہ یہ سن کر کہ خونی رات قریب ہے کچھ سوچنے پر مجبور ضرور ہوگئے تھے۔ تیس دن کا ایک ایسا آسیب زدہ چکر جس کی وجہ کوئی نہیں جان سکا تھا۔ اس چکر کے پورے ہوتے ہی ایک خونی جان کی بلی چڑھتے دیکھتے یہ دونوں میاں بیوی وقت سے پہلے ہی اپنی عمر سے آگے جاچکے تھے۔
ایک طرف دو انجان ادھیڑ عمر میاں بیوی، سونیا کے لیے پریشان ہورہے تھے تو وہی وہ اس تیس دن کے خونی چکر سے بے نیاز اپنے کمرے میں بے زار لیٹی ہوئی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ چینل بدلنے کے لیے ریموٹ اٹھانے ہی لگی تھی کہ پاس رکھا ہوا اس کا موبائل بج اٹھاا ور اس نے نمبر دیکھے بغیر ہی فون اٹھالیا۔
’’ہیلو۔‘‘
’’میں شہیر بول رہا ہوں بھابھی۔‘‘
’’شہیر۔‘‘ سونیا نے کنفوژڈ ہوتے سوال کیا۔
’’کون شہیر سوری میںنے پہچانا نہیں آپ کو۔‘‘
’’ارے بھابھی وہ اسٹیٹ ایجنٹ، جس نے یہ مکان آپ کو…‘‘
’’اچھا اچھا سوری… ایکچوئلی وہ میں نے … خیر… جی بولیں کیسے فون کیا۔‘‘ سونیا نے ریموٹ سے چینل بدلا اور سرسری سے انداز میں شہیر سے سوال پوچھا۔ کس کے وہم و گمان میں یہ بات آسکتی ہے کہ کوئی اسٹیٹ ایجنٹ کسی کرائے دار کو فون کرے گا۔ ویسے بھی اسٹیٹ ایجنٹ کا نمبر کون اپنے موبائل میں فیڈ کرتا تھے جو وہ پہچان پاتی کہ شہیر کا فون ہے۔
’’میں پوچھنا چاہ رہاتھا سب خیریت سے ہیں نا گھر پر۔‘‘ جھجکتی ہوئی آوازسونیا کی سماعت سے ٹکرائی۔
’’کیا مطلب۔‘‘ سونیا کے حیران ہوتے ہوئے ٹی وی کو میوٹ کیا اور اس سوال پر غور کرنے لگی۔
’’کس قسم کی خیریت اور اس سوا ل کا کیا مطلب ہوا۔‘‘
’’وہ… وہ… میرا مطلب تھا کہ گھر کیسا لگا کوئی کام ہے تو بتا دیں مجھے اتوار کو کرانے کی کوشش کرونگا۔‘‘ گھبرائے ہوئے انداز میں شہیر نے ہر ممکن کوشش کی بات سنبھل جائے اور شاید اس میں کامیاب بھی ہوگیا تھا۔ ’’شاید کوئی کام نکل آیاہو آپ بتادیں مجھے۔‘‘
’’اوہ اچھا اچھا ہاںگھر تو بہت اچھا ہے، بڑے دل سے بنوایا ہے کسی نے پورے حساب کتا ب کے ساتھ‘‘ سونیا نے ایک بھرپور نظر کمرے کے در و دیوار پر ڈالی اور مسکراتے ہوئے جواب دیا اگر وہ اپنے پیچھے ایک نظر دیکھتی تو یقینا اس کی رائے اس مکان کے لیے بدل جاتی ، جہاں ایک سایہ دیوار کی جڑ سے اگنا شروع ہورہا تھا۔
’’چلیں یہ تو اچھی بات ہے کہ آپ کو گھر پسند آگیا۔‘‘ شہیرنے سکون بھری سانس لی۔‘‘
’’جی جی نا صرف گھر اچھا ہے بلکہ آس پڑوس کا ماحول بھی مناسب ہے۔‘‘ سونیا نے اپنی طرف سے بے چارے اسٹیٹ ایجنٹ کی تسلی کرانی جاری رکھی۔
’’آس پڑوس۔‘‘ شہیر نے زیرلب دہرایا۔ ’’اچھا تو پڑوسیوں سے کوئی ملاقات ہوئی آپ کی۔‘‘
’’ابھی تک تو کسی سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن سوچا تھا ملنے جائوں ان سے تاکہ…!‘‘
’’تاکہ… کیا ہوا… مجھے بتائیں۔‘‘ شہیر نے تیزی کے ساتھ سونیا سے سوال پوچھا۔ ’’آپ کیوں ملنا چاہتی ہیں پڑوسیوں سے۔‘‘
’’کیا ہوگیا شہیر صاحب ، کیا ملنا منع ہے کسی سے ادھر۔‘‘ سونیا نے ناگواری سے پوچھا۔ اس کو شہیر کا فون کرنا ہی سمجھ نہیں آرہا تھا پھر ایسے انکوائری کرنا۔
’’نہ… نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا ایکچوئلی وہ آپ مجھے بتادیں کیا کام ہے شاید میں بہتر طور پر ڈیل کرسکوں آپ سے پہلے جتنے بھی کرائے دار ادھر تھے میرے ہی توسط سے آئے تھے۔ اسی لیے بس اور کوئی بات نہیں پلیز آپ غلط مت سمجھیں گا۔‘‘ شہیر نے بے ربط انداز میں جواب دیا۔ وہ سونیا کا بدلتا لہجہ بھانپ رہا تھا۔
’’اٹس اوکے دراصل لان کی گھاس کافی بڑھی ہوئی ہے تو میں نے سوچا اسی بہانے ذرا ادر گرد لوگوں سے مل بھی لوں اور مالی کا بھی پوچھ لوں۔‘‘ سونیا نے شہیر کی با ت سمجھ کر تفصیل سے جواب دیا۔ اچھا تھا اگر اسٹیٹ ایجنٹ کے ذریعے ہی مکان کے مسئلے حل ہوجائیں تواس سے بہتر کیا بات ہوسکتی تھی۔
شہیر نے سکون کا سانس لیتے ہوئے سونیا کو تسلی دی۔
’’آپ زحمت نہ کریں بھابھی۔ میں کل ہی ایک بہت اچھا مالی بھیج دوں گا وہ پہلے بھی کام کرتا رہا ہے ادھر بلکہ ایسا کرتا ہوں ابھی اس کو بول دیتا ہوں تاکہ کل آپ کو اپنے دروازے پر ملے وہ… ٹھیک نے نا۔‘‘
’’اچھا، چلیں ٹھیک ہے۔‘‘ سونیا نے کندھے اچکاتے ہوئے چینل بدلا۔
سونیا کے پیچھے بننے والا سایہ اب اتنا بڑا ہوگیا تھا کہ اگر سونیا لمحہ بھر کو ہی نظروں کا زاویہ بدلتی تواسے وہ نظر آجاتا۔
’’اورکچھ …!‘‘ شہیر ناجانے کیا جاننا چاہ رہا تھا۔
’’نہیں فل الحال تو بس مالی ہی چاہیے تھا۔‘‘ سونیا نے چھت کی صفائی کے لیے بھی بولنا چاہا لیکن کچھ سوچ کر خاموش ہوگئی۔
’’اس کی تو بس آپ فکر نہیں کریں میں کل ہی بھیج دوں گا۔‘‘
’’چلیں شکریہ۔‘‘ سونیا نے فون رکھ کر الجھی ہوئی نگاہوں سے موبائل کو دیکھاجیسے شہیر کے رویے کا اندازہ لگانا چاہ رہی ہو اور ٹی وی کی سمت متوجہ ہونے کی کوشش کرنے لگی کچھ ہی دیر بعد دور سے الماس کی آواز سن کر ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئی یقینا ایک بار پھر وہ وقاص کی ہی بات کرنے آرہی تھی کہ اسے ٹرانسفر کا کہہ دیا جائے الماس کی آواز سنتے ہی سونیا کے پیچھے نمودار ہونے والا ہیولہ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہوگیا۔
ء…ژ …ء
’’خالہ ماما اٹھی نہیں ابھی تک۔‘‘ مہر نے الماس سے سوال پوچھا جو ان کے لیے میگی بنا رہی تھی۔
’’اٹھ گئی ہوں گی۔ ابھی دیکھتے ہیں پہلے یہ تو بنانے دو چھوٹی پٹاخہ۔‘‘ الماس نے پیار بھری نگاہوں سے اپنی بھانجی کو دیکھا جوچمکتی ہوئی گیند سے کھیل رہی تھی۔
’’اسکول کیسا ہے بتایا ہی نہیں مجھے۔‘‘ الماس نے مصنوعی انداز میں ٹھنک کے دونوں بچوں کو دیکھا۔ عمر نے ہوم ورک کرتے کرتے خالہ کو دیکھا تو فوراً ہی بلال کے بارے میں بتانے لگا۔
’’میری مس تو بہت اچھی ہیں خالہ…‘‘ مہر نے عمر کی بات کاٹ کے فخریہ انداز میں دونوں کو دیکھا اورچہرہ آگے کرکے میگی کی خوشبو سونگھی۔
’’مس تو میری بھی بہت اچھی ہیں لیکن وہ بچہ بہت گندا ہے… جھوٹ بھی بولتا ہے۔‘‘ عمر کو بلال کا گیند کے بارے میں بولنا یاد آگیا کیسے اس نے مس سے جھوٹی شکایت کی تھی کہ عمر نے اسے بال ماری ہے اور پھر پتہ ہے خالہ اس نے مس کو بولا…‘‘
’’چلو چھوڑو اسے اور یہ لو گرماگرم میگی کھائو اور اب خبرادار جو کسی نے تھوڑی ہی دیر میں بھوک بھوک کا نعرہ لگایا ہو تو۔‘‘ الماس نے چمچہ لہراتے ہوئے بچوں کو دھمکایا۔
’’ہرے ے ے ے اس کے بعد چپس۔‘‘ عمر نے فورا ہی جواب دے کر الماس کو گھورنے پر مجبور کردیا لیکن کچھ ہی لمحے بعد تینوں کا قہقہہ کچن کی محدود فضا میں گونج کر رہ گیا۔ قہقہے کی گونج کے ساتھ ہی گیند کا قصہ بھی دب گیا جو عمر الماس کو سنانے لگا تھا۔
ء…ژ …ء
شام کے پھیلتے سائے میں بالآخر وقاص کو کچھ فرصت مل ہی گئی ۔اس نے فورا سے پیشتر چائے منگوائی اور ساتھ ہی سونیا کو کال ملانے لگا۔
’’کیسی طبیعت ہے۔‘‘ وقاص کی ہشاش بشاش آواز سن کر سونیا کے چہرے پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔
’’یاد آگیا آپ کو۔‘‘
’’آپ کو بھولتا ہی کب ہوں۔‘‘
’’اسی لیے شام کو فون کررہے ہیں۔‘‘ نا چاہتے ہوئے بھی سونیا نے شکوہ کرہی دیا۔
’’پورا دن آپ انتظار میں گزر گیا۔‘‘
’’بس یار یہ پراجیکٹ نے جان عذاب کردی ہے لگتا ہے مار کر چھوڑے گا۔‘‘
’’اللہ نا کرے ایسی باتیں نہ کیا کریں وقاص۔‘‘ سونیا نے بے ساختہ اسے ٹوکا۔
’’اچھا اچھا چھوڑو اسے اور بتائو کچھ بہتر فیل ہوا گرم گرم چائے کی چسکی نے تھکن کے احساس کو کم کرنے کی اپنی سعی کی۔
’’ہاں اب تو کافی بہتر ہے بس سر تھوڑا بھاری ہے۔‘‘
’’ہوں، چلو آج بچوں کو چھوڑ کر ہائی وے چلیں گے فریش ہوا لگے گی تو افاقہ ہوگا۔
’’ہم ہائی وے پر ہی ہیں وقاص۔‘‘ سونیا نے کھلکھلاتے ہوئے اسے یاد کرانا چاہا۔
’’اوہ میرا مطلب تھا یار لانگ ڈرائیو پر۔‘‘ الماس کے پاس بچے چھوڑ دیں گے اور ہم میاں بیوی ڈیٹ ماریںگے۔‘‘ وقاص نے داد طلب انداز میں سونیا سے پوچھا۔
’’اور وہ تو جیسے ہمیں جانے دے گی نا ویسے ہی صبح سے تنگ کررکھا ہے اس نے۔‘‘ سونیا کو الماس کی یاددہانی یاد آگئی۔
’’اوہ… ارے بھئی باس کو فرصت ملے تو سائن کرائوں گا، اچھا چلو فون رکھو میں ابھی جاکر دیکھتا ہوں۔‘‘ ایکدم وقاص کو جلدی ہوگئی۔
’’اوکے اوکے۔‘‘ سونیا نے ہنستے ہوئے فون رکھا اور الماس کو بتانے کے لیے کمرے سے باہر جانے کے لیے اٹھنے لگی۔ چلو لگے ہاتھوں الماس کو بھی بتادوں ، تاکہ اسے سکون آجائے۔
ء…ژ …ء
’’کیا ہوا الماس۔‘‘ سونیا نے لائوئج میں خاموش بیٹھی ہوئی بہن کو دیکھا۔
’’کچھ نہیں یار تھک گئی ہوں۔‘‘ الما س نے بے زار نگاہوں سے سامنے سے آتی بہن کو دیکھا جس کا ستا ہوا چہرہ ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا تھا۔
’’آپ باہر کیوں آگئیں، کچھ چاہیے تھا کیا۔‘‘
’’بس ایک ہی دن میں یہ حال ہوگیا تمہارا۔‘‘ سونیا نے شگفتہ لہجے میںکہا اور اسی کے پاس بیٹھی گئی۔
’’ایسے ہی تھک گئی لیٹے لیٹے۔‘‘
’’آپ کی ہمت ہے باجی جو گھر کے کام کرتی نہیں تھکتیں بھئی میری تو بس ہوگئی آج پتا نہیں کب سے آفس جوائن کرنا ہے آخر۔‘‘ الماس نے سر جھٹکتے ہوئے اپنا موبائل اٹھایا۔
’’بھائی جان کو یاد دلاتی ہوں۔‘‘
’’یہ ہی بتانے کے لیے تو تمہارے پاس آرہی تھی ، وقاص کا فون آگیا تھا انہوں نے کہا ہے وہ آ ج سائن کراکر ہی آئیں گے ، باس کو جانے نہیں دیں گے جب تک وہ تم کو اپنے آفس نہیں بلالیں۔‘‘ ہلکے پھلکے انداز میں سونیا نے الماس کو خوش خبری سنائی۔
’’سچ…‘‘ الماس نے بے یقینی سے بہن کو دیکھا۔
’’آپ کی کب بات ہوئی۔‘‘
’’بس ابھی ان کا فون رکھا اور تمہیں بتانے کے لیے باہر نکلی ہوں۔‘‘
’’ارے آپ کا سر درد کیسا ہے بچوں نے اتنی مت ماری نا قسم سے۔پوچھنا ہی بھول گئی۔‘‘ الماس کے سر سے بوجھ اتارا تو فوراہی بہن کی طبیعت کا خیال آیا۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں بس ہلکا سر بھاری ے اور اب تم کل سے نہیں ہوگی تو سارا کام بھی مجھے ہی دیکھنا ہوگا۔‘‘ مصنوعی لاچاری اختیار کرتے ہوئے سونیا نے بات ختم کرتے کرتے منہ لٹکایا۔
’’آہ ۔۔واہ یعنی میں کل سے واقعی آفس جارہی ہوں۔‘‘ سنتے ہی سکون کاا حساس ہوا۔
’’یار باجی۔‘‘ الماس نے موبائل رکھ کر ہاتھ پھیلائے اور صوفے کی نشست سے سر ٹکایا۔
’’کیا ہوگا تمہارا الماس۔‘‘ سونیا نے مصنوعی خفگی سے چھوٹی بہن کو گھورا۔
’’اچھا ہی ہوگا فکر نہیں کریں بس۔‘‘ الما س نے مسکراتے ہوئے سونیا کو تسلی دی۔
’’شادی کے بعد کیسے گھر سنبھالوں گی، ابھی سے کچھ پریکٹس کرلو گھر سھنبالنے کی لڑکی۔‘‘
’’میں نے نہیں بننا ہائوس وائف، ساری زندگی کام کرتے رہو اور سننے کو ملے میری بیوی کام نہیں کرتی ہائوس وائف ہے… ہنہ… اس سے اچھا ہے بندہ آفس میں جاب کرے پیسہ بھی ملے اورعزت بھی اور گھر میں کوئی چائے پانی کو پوچھے بھی۔‘‘
’’اوہو بہت خطرناک ارادے ہیں بی بی۔‘‘ سونیا نے مسکراتے ہوئے الماس کے سر پر چپت مارتے ہوئے سر جھٹکا۔
’’آپ دیکھ لینا باجی میں کسی ایسے سے شادی کروں گی ہی نہیں جسے میر ی کوئی قدر نا ہو۔‘‘ الماس نے موبائل اٹھا کے میسج چیک کیے۔
سونیا نے دل ہی دل میں بہن کی دائمی خوشیوںکی دعا مانگی۔
’’یا اکم از کم وہ پیٹو نا ہو، سارا دن کچن میں نہیں کھڑی ہوسکتی بھئی۔‘‘
ء…ژ …ء
’’سنو وہ راحیل نہیں آیا آج بھی۔‘‘ الشبہ نے کوچنگ کی کلاس ختم ہوتے ہی راحیل کے دوست سے پوچھا۔
’’راحیل تو دبئی گیا ہوا ہے۔‘‘ دو چار لڑکوں کے گروپ میں سے ایک لڑکے نے گھبرائی ہوئی الشبہ کو بغور دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
’’اوہ… کب آئے گا، کچھ معلوم ہے۔‘‘ الشبہ نے حیران ہوکر سوال پوچھا۔
’’کل تو فون پر ایسا کچھ نہیں کہا تھا اس نے کہ وہ دبئی جا رہا ہے۔
’’کل ہی تو گیا ہے اب دیکھو کب آتا ہے۔‘‘ اسی لڑکے نے ایک بار پھر اپنے گروپ کی سمت متوجہ ہوتے ہوئے سرسری سا جواب دیا۔
’’اچھا، تھینک کیو۔‘‘ الشبہ نے الجھتے ہوئے واپسی کے لیے قدم بڑھا دیے۔
’’اچھی خاصی لڑکی ہے یہ کیوں راحیل کا پوچھ رہی تھی بھلا۔‘‘ پاس کھڑے ہوئے اویس نے جاتی ہوئی الشبہ پر اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی اور ترحم سے گردن جھٹکی۔
راحیل کا پورا گروپ ہی غلط شہرت رکھتا تھا اسی لیے پڑھنے والے لوگ اس کے نام سے ہی بدک جاتے تھے ایسے میں ٹاپر لڑکی اگر اس کا نام لے کر پریشان حال گھومے گی تو از خود ہی نظروں میں آنا کوئی بڑی بات نہ تھی لیکن الشبہ کو ان باتوں کی کوئی سمجھ نہیں تھی وہ سوچوں میں گم، سست قدم بڑھاتی ہوئی راحیل کے بدلتے رویے کے بارے میں سوچ رہی تھی وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا اب جان بوجھ کے اسے نظر انداز کرنا کوچنگ میں آکر بھی اسے نہیں ملنا اور فون کا جواب دیر سے دینا اس بار راحیل ملے تو اس سے صاف بات کرنی پڑے گی۔ اب میں یہ اگنور ہونا برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘ الشبہ کو کچھ ہی دن پہلے ناقابل ترین نقصان یاد آگیا تھا۔
ء…ژ …ء
کراچی کی مشہور زمانہ ہوا تیزی سے چل رہی تھی اور سونیا اس سے لطف اندوز ہوتی ہوئی پہلی باراسے محسوس بھی کررہی تھی، شہر میں بے جا ٹریفک اور گھٹے گھٹے گھر ہونے کے سبب ایسا کھلا لان، تازہ ہوا ایک نعمت ہی لگ رہی تھی اس وقت۔ طبیعت کے بھاری پن میں اچھا خاصہ افاقہ ہوا تھا۔
’’واہ کیا حسین شام ہے۔‘‘ سونیا نے جھولے سے اٹھ کے ننگے قدموں سے گھاس پر چہل قدمی شروع کی اور گہری سانسیں لیتے ہوئے روح معطر کی۔ اچھا فیصلہ تھا ادھر آنے کا، کم از کم معلوم تو ہوا صاف ہوا کیا ہوتی ہے، دھوئیں سے صاف بھی کوئی ماحول ہوتا ہے جہاں نا پی پاں شور شرابا۔ سکون سے چلتی ہوئی سونیا کو یک لخت محسوس ہوا کوئی اس کے پیچھے ہے پلٹ کر دیکھنے کے باوجود جب کوئی نظر نہیں آیا تو کندھے اچکا کر وہ ایک بار پھر جھولے میں بیٹھ گئی لان کا جائز ہ لینے لگی۔ لان کے انتہائی کونے میں اسے بلی بیٹھی ہوئی نظر آئی۔
یہ بلی دنیا کے ہر کونے میں دستیاب ہیں۔ ہش ہش کرکے اپنی جگہ بیٹھے ہوئے ہی سونیا نے اسے بھگانے کی کوشش کی لیکن اس بلی نے اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں سے ٹکٹی باندھے سونیا کو دیکھنا شروع کردیا۔
’’ارے کیسے گھور رہی ہے بلی ہے یا کوئی تاڑو قسم کا جن، اے ہشش۔‘‘ سونیا نے اسے ڈرانے کے لیے اپنی جگہ سے ہلتے ہوئے ایک بار پھر کوشش کی لیکن وہ بلی مستقل اپنی جگہ بیٹھی ہوئی اسے ہی گھورتی رہی بڑی ہی ڈھیٹ ہے بھی ۔ سونیا نے بلی کو دیکھتے ہوئے منہ بنایا اور گھر کے اندر جانے کے لیے قدم بڑھائے اگر اندر آئی تو پانی پھینک کر بھگادوں گی۔ کن انکھیوں سے بلی کو اپنی جگہ ہی بیٹھے دیکھ کر سونیا نے دل ہی دل میں سوچا اور لان سے منسلک کچن کا دروازہ کھول کے اندر چلی گئی۔
ء…ژ …ء
’’کب تک آئیں گے وقاص۔‘‘ سونیا نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے وقاص سے پوچھا۔
’’پھر لیٹ ہی آنا ہے آج۔‘‘
منہ بناتے ہوئے سونیا نے موبائل رکھا اور بیڈ کے سائیڈ کارنر پہ رکھی ہوئی کتاب اٹھا کر پڑھنے لگی۔ دلچسپ کتاب نے وقت گزارنے کا احسا س ہی نہ ہونے دیا۔۔ باہر ہوتا گہرا اندھیرا سونیا کو اپنی طرف متوجہ کرگیاتو اس نے وقت دیکھااور اس کی سوچ کا رخ وقاص کی جانب ہوگیا۔
’’یہ ابھی تک نہیں آئے۔‘‘ سونیا نے باتھ روم کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے ناگواری سے سوچا۔
کچھ ہی وقت بعد جب وہ فریش ہوکر باتھ رو م سے باہر آئی تو سامنے بیڈ پر رکھ کر گئی ہوئی کتاب نہیں تھی۔
’’ارے کہاں گئی ادھر ہی تو رکھی تھی۔‘‘ سونیا نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا اور کندھے اچکا کر بیڈروم کے بیچوں بیچ کھڑی ہوگئی۔ اچانک باہر سے بچوں کے ہنسنے کیاآواز آئی جسے سن کے وہ مسکراگئی۔
’’ہوں ان کی شرارت ہے یہ۔‘‘
آہستگی سے کمرے کا دروازہ کھول کے سونیا باہر جھانکا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔
’’چھپے رہو میں بھی نہیں ڈھونڈتی۔‘‘ سونیا نے مسکرا کر زیر لب کہاا ور کمرے کے اندر آگئی ایک تو بک غائب کردی اور پھر چھپ گئے۔
’’بہت شرارتی ہوگئے ہیں یہ دونوں۔‘‘
اگر سونیا اپنے بیڈ روم کے دروازے کے پیچھے دیکھتی تو اسے نمایاں انداز میں کسی بچے کا عکس نظرآجاتا جو نا مہر تھی اور نا ہی عمر تھا۔
ء…ژ …ء
الماس گنگاتے ہوئے بچوں کے لیے دودھ گرم کرنے میں مصروف تھی کہ اسے محسوس ہواکوئی اس کے پیچھے ہے اس نے پلٹ کر دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ کندھے اچکا کر وہ ایک بار پھر دودھ کی جانب متوجہ ہوگئی اور گلاس نکال کے ٹرے میں رکھے ۔ دودھ گلاس میں ڈالتے ہوئے الماس کو ایک بار پھر لگا کوئی اس کے پیچھے ہے اور بغور اسے دیکھنے میں مصروف ہے۔الماس نے الجھی ہوئی کیفیت کا شکار ہوکر دودھ کی پتیلی سلیپ پر رکھی اور خود اچھی طرح پورے کچن کا معائنہ کیا لیکن کسی کو نا پاکر جھینپ گئی۔ دھیرے سے اپنے سر پہ ایک چپت لگائی۔
’’کیا ہوگیا الماس خانم چلو کام کرو کام کوئی نہیں ہے ادھر۔‘‘
الماس نے ٹرے اٹھائی اور مسکراتی ہوئی کچن کی لائٹس آف کرکے باہر نکل گئی۔ اس کے جاتے ہی اندھیرے میں ڈوبے ہوئے کچن کے ایک کونے میں دو چمکتی ہوئی آنکھیں جگمگاگئی۔
ء…ژ …ء
’’آپ کی کب تک ایسی روٹین رہے گی وقاص۔‘‘ سونیا نے چائے کی ٹرے رکھتے ہوئے تنک کر سوال پوچھا لیکن وقاص اپنے موبائل پر لگا ہوا باتوں میں مصروف تھا تو نظریں سامنے روشن لیپ ٹاپ کی سمت اٹھی ہوئی تھیں۔ گھر آکر بھی آفس ہی شروع رہتا ہے ان کا تو۔‘‘ سونیا نے چائے کا کپ وقاص کے سامنے لہرایا اور منہ بنا کر فون کاٹنے کا اشارہ کیا۔
’’بس دومنٹ۔‘‘ بے آواز لبوں کو حرکت میں لاتے ہوئے وقاص نے معصوم شکل بنائی اورلیپ ٹاپ کی سمت متوجہ ہوگیا۔
’’بالآخر چائے کی آخری چسکی لیتے وقت وقاص موبائل اور لیپ ٹاپ دونوں سے فارغ ہوکر مکمل طور پر سونیا کو توجہ دینے کے لیے فری ہوہی گیا لیکن اس وقت تک سونیا کا موڈ خراب ہوچکا تھا۔
’’سوری نا یار لیکن کیا کروں ، کام نہیں کروں گا تو یہ لوگ کسی اور کو یہ پراجیکٹ دے دیں گے اور میرے آگے بڑھنے کا سارا انحصار اسی پر ہے، تم کو معلوم تو ہے سب کچھ۔‘‘
’’پھر بھی۔‘‘ سونیا نے دل ہی دل میں شرمندگی محسو س کی۔
’’کچھ وقت ہم لوگو ں کے لیے بھی تو ہونا چاہیے نا۔‘‘
’’اچھا چلو بتائو کیا کرتی رہیں دن بھر اور کیسا لگا گھر آس پاس کے لوگ۔ کسی کے گھر گئیں یا ابھی تک سیٹنگ میں ہی مصروف رہی ہو۔‘‘ وقاص نے سوال پر سوال کرکے سونیا کا ذہن دوسری سائیڈ پہ لگادیا۔
’’چھت بہت گندی ہو رہی اس کو وقت لگے گا صاف کرنے میں باقی گھر تو بہترین پوزیشن میں ہے۔
’’یعنی ہماری بیگم صاحبہ کو مکان پسند آگیا ہے۔ وقاص نے دل ہی دل میں سکون محسوس کرتے ہوئے بشاشت بھرے لہجے میں کہا۔
’’لان کے بارے میں کیا خیال ہے۔ میراخیال ہے تمہیں اس گھر کاسب سے اچھا حصہ وہی لگا ہوگا۔
’’ہاں وہ تو آئوٹ اسٹینڈنگ ہے وقاص۔ پتا ہے اتنی ترتیب سے سارے درخت لگے ہوئے ہیں جیسے کسی نے باقاعدہ پلاننگ کے تحت لان سیٹ کیا ہو۔ بس کچھ گھاس بڑھی ہوئی ہے اس کو دیکھنا ہوگا اور میں سوچ رہی تھی دو چار گملے وغیرہ بھی رکھ دوں کچن کے گیٹ کے بالکل سامنے اچھا لگے گا جب کچن کی کھڑکی سے خوبصورت پھول نظر آئیں گے۔‘‘
وقاص نے سونیا کو بغور دیکھا اور مسکراگیا۔ وہ اب مکمل طوراپنا دھیان پلٹاچکی تھی اس نے نامحسوس طریقے سے موبائل اٹھایا اور ہوں ہوں کرتا ہوا موبائل کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’ویسے میں نے سوچا تھا اب پڑوسیوں کے بھی جایا جائے مالی کا کوئی اتا پتا لینے کے بہانے بات چیت یونو۔‘‘
’’اچھا۔‘‘
’’آپ سن رہے ہیں نا۔‘‘
’’ہاں… ہاں… بلکل…‘‘
’’یہ سامنے ہی والے پڑوسی کیسے رہیں گے، میرا خیال ہے میاں بیوی رہتے ہیں اکیلے ایجڈ سے ہیں میں نے آج پڑوس میں جانے کا سوچا تھا کہ ان سے مالی کا پتہ کیا جائے ۔
’’ہوں۔‘‘
’’آپ سن بھی رہے ہیں جو میں بول رہی ہوں۔‘‘ سونیا نے ہوں ہاں اور اچھا کے بعد ناراضگی سے بھرپور انداز میں سوال پوچھا۔
’’سن رہا ہوں بابا۔‘‘ میری مجال جو بیوی کی بات کو نظر انداز کرسکوں۔‘‘
’’اچھا ذرا بتائیں ابھی میں نے کیا کہا تھا۔‘‘
وقاص بے ساختہ ہی سر کجھاتے ہوئے پریشانی کے عالم میں سوچنے لگا۔
’’وہ تم نے کہا تھا کہ…‘‘
’’بتائیں بتائیں۔‘‘ سونیا نے وقاص کو گھورتے ہوئے اس کے ہاتھ کے موبائل لے لیا۔
’’تم نے کہا ہے کہ آج مالی آیا تھا اور پڑوس کے انکل آنٹی کے لان کی گھاس کاٹ گیا ہے۔‘‘
’’یہ آپ میری بات سن رہے ہیں۔‘‘ سونیانے تنک کے وقاص کو گھورا۔
وقاص مصنوعی حیرت اسے دیکھنے لگا۔
’’یہ نہیں کہا تھا کیا۔‘‘
’’وقاص۔‘‘
’’اچھا اچھا سوری مذاق کررہا تھا یار میری پیاری بیگم نے پورے پانچ منٹ پہلے فرمایا تھا کہ ان کے نئے گھر کے لان کے لئے ایک عدد مالی چاہیے تاکہ وہ میری بیگم کے لان کی تراش خراش کرکے ان کے جیسے حسین بنادے۔ دوسرا میری پیاری بیگم صاحبہ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ان کو پڑوس میں جانے کے لئے کسی بہانے کی ضرورت نہیں ہے وہ جب دل کرے جاسکتی ہیں۔‘‘ سونیا کی طرف مسکراتے ہوئے بات ختم کی اور ہاتھ پھیلا کر موبائل واپس مانگا۔
’’آپ بھی نا بس۔‘‘ سونیا نے شرماتے ہوئے وقاص کو دیکھا اور بڑھے ہوئے ہاتھ پہ موبائل رکھ دیا۔
’’اور کوئی ضروری بات ہے یا بندہ ناچیز اپنی دوچار میل کردے؟‘‘
’’ اچھا چلیں رہنے دیں۔‘‘
وقاص موبائل میں بزی ہوتے ہوئے سرسری سا سونیا کو دیکھتے ہوئے اسے اکسانے لگا۔
’’بول دو بول دو۔ وہ بھی بول دو۔ ورنہ پیٹ میں درد رہے گا۔‘‘
’’ اس اسٹیٹ ایجنٹ کا فون آیا تھا۔‘‘ وقاص حیرت ے چونک گیا۔
’’کیوں؟‘‘
’’میں نے بھی یہ ہی پوچھا تھا تو بولا ایسے ہی کال کرکے خیریت پوچھ رہا ہوں نیا گھر ہے نیا ایریا ہے تو کوئی مسئلہ ہو تو اسے بتادوں۔‘‘
وقاص سر ہلاتے دوبارہ اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’اچھا اچھا۔‘‘
’’پوچھ رہا تھا گھر کیسا لگا، وغیرہ وغیرہ…‘‘
’’شریف بندہ ہے ورنہ کون ایسے پوچھتا ہے بعد میں ان کی بلا سے کرائے دار جئے یا مریں ۔بس کرایہ وقت پر مل جائے ان کو۔‘‘
’’ہاں یہ تو ہے۔‘‘
’’یار ایک گلاس پانی تو دے دو۔‘‘
سونیا نے سرہلاتے ہوئے ٹرے اٹھائی اور کچن کی سمت جاتے ہوئے بات جاری رکھی۔ منع کررہا تھا کہ آس پڑوس کے لوگوں سے زیادہ میل ملاپ نہیں رکھیں وہ لوگ ہمارے مکان کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کرتے ہیںجن کو جان کے ہمیں مسئلہ ہوجائے گا پتہ نہیں کیسے عجیب باتیں ہوں گی نا وہ۔ سونیا نے وقاص کی رائے جاننے کے لیے پلٹ کر اسے دیکھا لیکن وقاص موبائل کانوں سے لگائے ہوئے بات کرنے میں مصروف ہوچکا تھا۔ سونیا نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے وقاص کو دیکھا اور باہر نکل گئی۔
ء…ژ …ء
گہری رات اپنا جادو چلاتی جارہی تھی اور کچھ لوگ آنے والے وقت کے لیے پریشان ہو رہے تھے ان کے بس میں کچھ نہیں تھا لیکن روشن ضمیر ضرور تھا جو کسی دوسر ے معصوم انسا ن کی تکلیف کے لیے خود بھی اذیت محسوس کررہے تھے انہیں میں ایک رخ تاج بھی تھیں جو نجانے کب سے اپنی کھڑکی میں کھڑی ہوئی ایک ٹک سامنے خونی گھر کو دیکھ رہی تھیں پیچھے بیٹھے ہوئے شاہ ان کو مسلسل دیکھ رہے تھے لیکن وہ چاہ کر بھی ان کو پریشان ہونے سے منع نہیں کرسکتے تھے کیونکہ وہ بھی اپنی جگہ خود کو قصور وار سمجھتے ہوئے ہر ممکن کوشش میں مصروف رہتے تھے اس گھر کے کرائے داروں کو کسی طرح چوکنا کردیں لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی ان کی بات سننے کا روا دار نہیں ہوتا تھا۔
’’کب تک کھڑی رہوگی رخ۔‘‘ بالآخر شاہ نے انہیں آواز لگاہی دی
رخ تاج جو اداسی کے عالم میںسامنے گھر کی بالائی منزل پر بچوں کو کھیلتا دیکھ رہی تھیں شاہ جی کی آواز سن کے چونک گئی اور دھیرے سے پردہ برابر کرتے ہوئے اپنے بیڈ پہ آبیٹھی۔
’’وہ آنے والا ہے شاہ جی۔‘‘
شاہ جی جو رخ تاج کوکھڑکی بند کرتا دیکھ کر پرسکون ہوگئے تھے اور اپنی کتاب کی طرف متوجہ ہوگئے تھے ان کے ہاتھوں میں کتاب لرز کر رہ گئی۔
’’وہ رات قریب ہے شاہ جی۔ تیس دن کا چکر پورا ہونے والا ہے۔‘‘
’’اوہ… شاہ جی نے گہری سانس لیتے ہوئے کتاب بند کی اوررخ تاج کی سمت نگاہیں مرکوز کرلیں۔
’’ہم کچھ نہیں کرسکتے رخ۔‘‘
’’ایک بار کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا شاہ جی۔‘‘ رخ نے تیزی سے اپنی بات مکمل کی کہ آیا ان کی بات نا کاٹ دیں۔
’’مجھے معلوم ہے لیکن ہم مجبور ہیں۔‘‘
’’دو بچے بھی ہیں ساتھ۔‘‘ رخ نے آہستگی سے سر جھکاتے ہوئے گویاشاہ جی کا دھیان بچوں کی جانب مرکوز کرنا چاہا بالکل اسی عمر کے بچے ہیں۔‘‘
شاہ جی ایک ٹک سامنے سر جھکائے ہوئے رخ تاج کو دیکھتے رہے۔
’’آپ چاہیں تو ، میرا مطلب تھا اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک کوشش کرکے دیکھ لوں اس گھر میں دو عورتیں ہیں، ایک یقینا ماں ہے دوسری خالہ یا پھپھو ہوگی اگر میں ماں سے مل کر اسے بتائو اس کے بچے خطرے میں ہیں تو شاید ماں تو ماں ہوتی ہے نا پھر ہوسکتا ہے وہ ہماری بات سنجیدگی سے سن لے اور…‘‘
’’اور پہلے ہر کرائے دار کی طرح تمہیں برابھلا بول کے گھر سے نکل جانے کو نہیں کہہ دے تم کب تک خوش فہمی کا شکار رہو گی۔‘‘
’’کہنے دیں شاہ جی کہنے دیں۔ ہوسکتا ہے اس بار یہ…‘‘
’’اس سے پہلے کس نے ہماری بات سنی ہے جو یہ لوگ سنیں گے، رخ تاج چھوڑ دو بے کار ہے ایسی حرکتیں کرنا۔ بس چپ رہو۔‘‘
’’لیکن میں اس ڈر سے کیسے چپ رہ سکتی ہوں۔‘‘
’’کرکے دیکھ لو اپنی ضد پوری، نتیجہ وہی نکلنا ہے جو پہلے نکلتا رہا ہے۔‘‘
’’ایک کوشش کرکے دیکھ لینے دیں۔ کم از کم میرا دل تو مطمئن ہوگا نا۔‘‘
’’تم نے پہلے کبھی سنی ہے جو اس بار سنو گی۔‘‘
شاہ جی نے مسکراتے ہوئے اپنی نصف بہتر کو دیکھا جو چمکتی ہوئی نگاہوں سے انہی کی سمت دیکھ رہی تھیں، اتنے سال ایسے ہی نہیں گزر گئے تھے اور اس عمر میں آکر تو صحیح معنوں میں ہم سفر کا مطلب معلوم ہوتا تھا جب اولاد اپنی اپنی راہوں پر نکل جاتی ہے۔ اس وقت وہی ہم سفر ساتھ رہ جاتا ہے جس کے ہمراہ ایک انجان سفر کا آغاز ہوا کرتا ہے، منزل سے انجان لیکن دلفریب راستہ جہاں سے گزرنے والا ہر ایک دن ،حسین یادیں جمع کرتا رہتا ہے۔
ء…ژ …ء
’’وائو خالہ آج آپ… اوہ۔‘‘
عمر نے الماس کو کمرے میں آتا دیکھا تو فورا ہی خوشی سے نعرہ لگایا۔
’’خالہ اس کے بغیر ہی آجاتی نا۔‘‘ مہر نے بھی الماس کے ہاتھ میں دودھ کے گلاس کی ٹرے دیکھ لی تھی۔
’’نہیں پینا خالہ… پلیز۔‘‘ عمر نے ہونٹ لٹکا کر الماس کو دیکھا۔
’’اوکے اوکے ہاف گلاس تو پینا مسٹ ہے۔‘‘ الماس کا دل پسیچ گیا تھا۔ ’’ورنہ آپ کی ماما سے مجھے ڈانٹ کھانی پڑے گی۔‘‘
’’ہاف چلے گا۔‘‘ عمر نے فورا ہی ڈیل ڈن کی اور اپنا گلاس اٹھالیا۔ گلاس ہوا میں لہراتے ہوئے فورا ہی مہر کو دیکھا اور اسے چڑاتے ہوئے پیشن گوئی کی۔
’’دیکھا آج میں ہی ونر بنوں گا۔‘‘ مہر اس کے ردعمل میں اسے زبان نکال کر چڑاتی ہوئی فورا پہ اپنا گلاس منہ سے لگالیا۔
الماس ان دونوں کو دودھ پیتے دیکھ کر ٹرے اسٹڈی ٹیبل پر رکھ کر آس پاس بکھری ہوئی بکس دیکھنے لگی۔
’’ارے واہ اسٹوریز۔ ہمم سینڈیلا، الادین عمر و عیار واہ واہ چلو میں ایک اسٹوری سناتی ہوں۔ کیا یاد کروگے۔‘‘
’’اسٹوری تو روز سنتے ہیں ہم خالہ۔‘‘ مہر نے لمحہ بھر کے لیے اپنے گلاس کا جائزہ لیا اور فوراً ہی عمر کی طرف دیکھ کر اندازہ لگایا اس نے کتنا دودھ پی لیا ہے۔
’’اچھا… اچھا کھینچ کر بولتی ہوئی الماس نے پلٹ کر دونوں کو دیکھا۔
’’باجی اتنی اچھی کب سے ہوں گی۔ مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا۔‘‘
’’ماما تھوڑی سناتی ہیں عمر نے آخری گھونٹ بھرا اور فورا ہی الماس کو جواب د ے کر شور مچانے لگا۔
’’آئی ایم ونر میں جیت گیا میں جیت گیا۔‘‘ مہر جو عمر کی بات سن کر اسے اشارے سے چپ رہنے کو بول رہی تھی ایک دم خاموش ہوگئی لیکن پلٹتے ہوئے الماس نے مہر کی وہ حرکت دیکھ لی تھی۔
’’اوئے کیا چھپا رہے ہو دونوں۔‘‘ ایکدم الماس کے ہاتھ میں دبے ہوئے موبائل میں ہوتی وائیبریٹ نے اس کا دھیان بٹادیا۔
’’اوکے بچوں گڈ نائٹ۔ جلدی سے سوجائو اچھا ورنہ ماما ڈانٹیں گی۔‘‘
’’ہیلو… ہیلو یس بھٹی صاحب۔‘‘ الماس فون کانوں سے لگائے ہوئے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی اور ساتھ مہر نے عمر کو گھورتے ہوئے دیکھا۔
’’بھائی وہ ہمارا اور ہمارے فرینڈکا سیکرٹ ہے نا۔‘‘
’’اوہ…‘‘
’’ابھی آپ خالہ کو بتا دیتے اور خالہ ماما اور پھر فرینڈ ہمارے ساتھ کیسے کھیلتا۔‘‘ مہر نے صورتحال کو تجزیہ کیا اور عمر کو اس کی غلطی کا احساس دلانا چاہا۔
’’اوپسس… سوری فرینڈ۔‘‘ عمر نے فورا ہی بیڈ کے کارنر پر ہلتی ہوئی گیند کو دیکھتے ہوئے سوری کی۔ ’’اب خیال رکھوں گا لیکن دیکھو میں جیت گیا نا۔‘‘ عمرنے فوراہی مہر کا یاد دلایا۔
’’کوئی نہیں پہلی بار ہی تو جیتے ہیں۔‘‘ مہر نے بھی فورا ہی اسے ٹوک دیا۔
ء…ژ …ء
’’اوہ تھینک کیو بھٹی صاحب۔‘‘ الماس نے بچوں کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے کی سمت جاتے ہوئے فون پر بات جاری رکھی لیکن سونیا کو سیڑھیوں سے اوپر آتا دیکھ کر وہی رک گئی۔
’’ارے ہاں ہاں آپ کا لنچ پکا۔ فکر نہیں کریں۔‘‘
سونیا نے الماس کی آواز سن کر بے اختیار اوپر دیکھا۔
’’اوکے بائے۔‘‘ الماس نے فون کاٹ کر ایک نظر بچوں کے کمرے کے بند دروازے پر ڈالی جہاں سے ان کی باتوں اور ہنسے کی آوازیں آرہی تھی بند دروازے کے نیچے سے گیند کے ٹپے کھانے کا عکس بھی نمایا ں تھا۔
’’کیا بات ہے کس سے مسکرا مسکرا کر بات ہو رہی تھی، وہ بھی اس وقت۔‘‘ سونیا نے ٹیرس سے باہر پھیلی ہوئی تاریکی پر نظر ڈالتے ہوئے بہن کو تنگ کیا۔ بڑے لنچ کرائے جارہے ہیں بھئی۔‘‘
’’کولیگ کا فون تھاباجی۔‘‘ الماس نے منہ بناتے ہوئے فوراہی سونیا کو ٹوک دیا۔‘‘
’’کا یا کی؟‘‘ سونیا نے آئی بروز کو اچکاتے ہوئے معصوم انداز میں سوال پوچھا۔
’’بس شروع ہوگئی ہیں آپ۔‘‘
’’ اچھا اچھا ، تو کیا بول رہا تھا آپ کا… کولیگ…‘‘
’’میں کل سے آفس جائوں گی وہی بتارہے تھے لیکن وہی مسئلہ باس کے سائن رہ گئے ابھی بھی۔‘‘
’’اوہ یہ تو واقعی اچھی نیوز ہے۔ اب لگ جائو وقاص کے پیچھے تاکہ…‘‘
’’ان کے پاس وقت ہی کہاں ہوتا ہے۔‘‘ الماس نے منہ بناتے ہوئے اپنے کمرے کی سمت چلنا شروع کیا تو سونیا بھی اسی کے ساتھ قدم بڑھانے لگی بچوں کے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے ایک دم سونیا کے قدم سست ہوئے۔
’’سنو وہ بچوں کو…‘‘
’’ہاں دے دیا تھا اور انہوں نے پی بھی لیا تھا۔‘‘ الماس نے ادھوری بات کا پورا مطلب سمجھ لیاتھا۔
’’آئیں آپ کو سوٹ دکھاتی ہوں کل آڈر کیا ہے آن لائن۔‘‘ الماس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھول کے سونیا کو آفر دی۔
’’ابھی پچھلے ہفتے تو سوٹ منگوایا تھا اب پھر۔‘‘ سونیا نے مصنوعی غصے سے اسے گھورتے ہوئے کہا تو الماس نے فوراہی لپک کے سونیا کو بانہوں میں بھرلیا۔
’’میں نے کون سا اپنے شوہر کو حساب دینا ہوتا ہے۔ گن گن کے وہ کپڑے بنائیں جو اپنے شوہر کو جواب دہ ہیں۔‘‘
’’اچھا بتاتی ہوں تم کو جوابدہ کی بچی۔‘‘ سونیا نے فورا اپنے ساتھ لگی ہوئی الماس کو گدگدی کی اور دونوں ہنستے ہوئے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کرگئے ۔
اگر وہ پلٹ کے بچوں کے کمرے کا دوازہ دیکھتے تو ان کو اب مہر اور عمر کی آوازوں کے ساتھ ایک اور بچے کی آواز اور عکس نظر آجاتا جودروازے کی جھری ٹیرس پر روشنی پڑنے کے باعث صاف نظر آرہا تھا۔
ء…ژ …ء
رات کی گہری سیاہی ختم ہوتے ہوتے بالآخر صبح کی دل فریب کرنیں ہر سو پھیلنا شروع ہوگئی تھیں اور الارم کی مدہم مدہم آواز سونیا کو کسمسانے پر مجبور کر رہی تھی تھوڑی ہی دیر بعد سونیا نے بمشکل اپنی نیند سے بھری ہوئی آنکھیں کھولی اور وقت دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھری۔
’’کاش آج ویک اینڈ ہوتا۔‘‘ بے اختیار ہی ایک سوچ نے سونیا کو مسکرانے پر مجبور کردیا۔ چار و ناچار اٹھ کے وقاص کو دیکھنا چاہا لیکن وہ اپنی جگہ نہیں تھا۔ سونیا کے مسکراتے ہوئے ہونٹ ایکدم بھینچ گئے لیکن اسی وقت اسے یاد آیا وقاص لائونج میں کام کرتے سوگیا ہوگا اسے پراجیکٹ کا کوئی کام مکمل کرنا تھا، سونیا کی وجہ سے وہ اپنا لیپ ٹاپ اور کاغذات اٹھا کر باہر ہی نکل گیا تھااور اب صوفے پہ سو رہا ہوگا۔
سونیا نے بیڈ چھوڑ کے چادر جھاڑی اور کھیس تہہ کرکے کھڑکیوں کے پردے ہٹا دیے تاکہ صبح کی تازہ ہوا کمرے میں بھرجائے کھڑکی کا ایک پٹ کھولا ہی تھا کہ اس کی نظر سامنے گھر کی سمت اٹھ گئی جہاں رخ تاج کھڑی ہوئی سونیا کے گھر کی چھت کو اداسی سے دیکھ رہی تھیں سونیا ایک ٹک انہی کو دیکھنے لگی شاید اسی کی آنکھوں کا ارتکاز تھا جو رخ تاج نے چونک کے نظریں نیچے کی اور سونیا کو اپنی سمت دیکھتا دیکھ کے بے ساختہ مسکرا اٹھیں۔ رخ تاج کو مسکراتا دیکھ کر سونیا بھی مسکراتی ہوئی ہاتھ اٹھا کر انہیںسلام کرگئی رخ تاج نے مسکرا کر جیتی رہو کا اشارہ کیا اور پردہ برابر کردیا۔ سونیا نے ان کے جانے کے بعد بچوں کو اٹھانے کے لیے ان کے کمرے کا رخ کیا۔ لائونج میں بے سدھ سوئے ہوئے وقاص کو دیکھ کر اس کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے ایک ٹک کھڑے ہوکر سونیا نے وقاص کو پیار بھری نگاہوں سے دیکھااور جس کے اطراف فائلس بکھری ہوئی تھیں تو لیپ ٹاپ بھی ساتھ ہی رکھا ہوا تھا وقاص پہ ہلکی سی چادر ڈال کے اس نے سیڑھیوں پہ قدم رکھے اور دروازہ کھولتے ہی آواز بلند کی۔
’’ہری اپ بچوں اسکول ٹائم۔‘‘
’’اسی کے ساتھ ہی سونیا نے الماس کے کمرے کے دروازے پر بھی دستک دی اٹھ جائو الماس، آج آفس جانا ہے۔‘‘
ٹیرس کا دروازہ کھلا اور لمحہ بھر کر کھڑی ہوکر گہری سانس لے کر خود کو جیسے تازہ دم کرنا چاہا ہو۔ نیچے جاتے ہوئے سونیا نے ایک بار پھر بچوں کے کمرے میں جھانک کے تسلی کی آیا بچے جاگ گئے یا نہیں مہر بیڈ پر بیٹھی ہوئی جھوم رہی تھی تو عمر نیند میں بہکے بہکے قدم اٹھاتا ہوا باتھ روم کی سمت گامزن تھا۔ یہ دیکھ کر سونیا نے مسکراتے ہوئے دروازہ بند کیا اور خود نیچے اتر کے ناشتہ تیار کرنے لگی۔
ء…ژ …ء
’’یہ الماس نہیں اٹھی ابھی تک، پہلا ہی دن ہے اور لیٹ ہونے کے ارادے ہیں اس کے۔‘‘ بچوں کو وین میں بٹھا کر سونیا کو الماس کا دھیان آیا۔ بڑبڑاتے ہوئے وہ پھر سیڑھیوں کی سمت رخ کرگئی اب اس کی بھی الگ سے ڈیوٹی شروع اتنی بڑی ہوگئی ہے لیکن مجال ہے خود اٹھ جائے ۔‘‘
’’اے الماس۔ اٹھ جائو دیر ہورہی ہے۔‘‘
’’ہوں… ہاں۔‘‘ الماس نے چادر کے نیچے سے ہاتھ ہلاکر اسے جانے کا کہا۔
’’میں جارہی ہوں۔‘‘ سونیا نے دھمکی دی جواب میں ایک بار پھر الماس نے ہاتھ ہلا کر جانے کا کہا۔
’’اوکے دین، آئم گوئنگ۔‘‘
’’ارے اٹھ گئی نا یار۔‘‘ الماس نے سونیا کے انداز سے خفگی کا انداز لگایا اور غنودگی سے بھرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
’’میں بار بار نہیں آسکتی اوپر الماس۔ پہلے بچوں کے لیے آئوں پھر تمہارے لیے چکر لگاتی رہوں۔‘‘ سونیا نے جب دیکھا کہ اس کی بات کا کوئی اثر نہیں تو مزید خفا ہوتی ہوئی باہر کی جانب بڑھنے لگی۔
’’میں واقعی جارہی ہوں اور دوبارہ نہیں آئوں گی اور اب تم نے جلدی جلدی کے چکر میں ناشتہ مس کردیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ دروازے سے نکلتے نکلتے ہوئے سونیا اسے تڑی لگانا نہیں بھولی۔
’’افف باجی بھی نا۔‘‘ الماس نے تقریر سن کے اپنا منہ تکیے میں چھپا لیا۔
’’لو یہ کون آگیا صبح ہی صبح۔‘‘ الماس کے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی ڈور بیل کی سریلی آواز سن کر سونیا ایک دم چونک گئی۔
’’کون ہے۔‘‘
سونیا نے گھر کے اندرونی دروازے پر کھڑے ہوکر پنچوں کے بل اونچا ہوتے ہوئے اندازہ لگانا چاہا، اس وقت کون ہوسکتا ہے لیکن وہ جو کوئی بھی تھا یقینا گھر کے مرکزی دروازے کے سائیڈ میں تھا اسی لیے صرف سایہ ہی نظر آرہا تھا۔
’’کون ہے بھئی۔‘‘ سونیا نے آگے بڑھتے ہوئے بلند آواز میں پوچھا۔
’’مالی۔‘‘
ایک پھترائی ہوئی آواز نے سونیا کو رکنے پہ مجبور کردیا۔
’’اس گھر نے بلایا ہے، اسی لیے آیا ہوں۔‘‘
’’اس گھر نے۔‘‘ حیرت سے سونیا نے اپنی طرف انگلی کی اور زیرلب بڑبڑاتے ہوئے گیٹ کی سمت دیکھا۔
’’میرے گھر سے کسی نے مالی کو کیسے بلالیا اور مجھے ہی علم نہی اس بات کا۔‘‘
’’بھیجا گیا ہوں خود نہیں آیا۔‘‘ مالی نے ایک بار پھر سخت لہجے میں جواب دیا، شاید یہ اس کے بات کرنے کا انداز ہی تھا۔
سونیا نے الجھتے ہوئے دروازہ کھولا سامنے ہی ادھیڑ عمر کالیکن مضبوط کاٹھی والا آدمی کھڑا ہوا تھا،درمیانہ قد، کچھڑی بال جہاں کہی کہی سفیدی جھلک رہی تھی اور گہری سیاہ غیر معمولی آنکھیںجس میں کسی قسم کے جذبات کی رمق محسوس نہیں ہورہی تھی بے تاثر چہرہ، پتلے پتلے سفاک ہونٹ جو ایک دوسرے سے ایسے پیوست تھے جیسے کبھی جدا ہی نہ ہوئے ہو اگر اس کے ہاتھوں میں گھاس کاٹنے کے آلات نہیں ہوتے تو سونیا کبھی یقین نہیں کرسکتی تھی ایسے پتھرائے ہوئے سپاٹ چہرے والا مالی ہوسکتا ہے۔
’’اوہ اچھا اچھا آجائو۔‘‘
مالی نے سکون سے زمین سے اپنے باقی اوراز اٹھائے اور گھر کے اندر قدم بڑھادیئے۔
’’کس نے بھیجا ہے تمہیں۔‘‘ سونیا نے خاموشی سے گھبراتے ہوئے فورا ہی سوال پوچھ لیا۔ آس پاس گہراسکوت طاری تھا کچھ دیر پہلے کی خوشگوار سرسراتی ہوئی ہوا بالکل بند تھی چہچہاتے پرندے ایک دم غائب ہوچکے تھے ہر سوں سہمی سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی جیسے کسی طوفان کی آمد ہواور ہر جاندار دبک کر خاموش ہوچکا ہو کہ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔
’’آپ کو علم ہے۔‘‘ کھڑکھڑاتی ہوئی آواز نے بے تاثر انداز میں جواب دیا۔
سونیا کو ایک دم شہیر کا دھیان آیا کل ہی تو اس کے بات ہوئی تھی کہ مجھے مالی کی ضرورت ہے اور آج بھیج بھی دیا۔
’’کام شروع کردوں؟‘‘ مالی نے سونیا کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بھرپور طریقے سے گھر کے بیرونی حصے کا جائزہ لیا۔
سونیا کو احساس ہو ا مالی پلکیں نہیں جھپک رہا۔
’’کیا تم ادھر پہلے بھی کام کر چکے ہو۔‘‘
’’ہاں میں ہی ادھر کا کام تمام کرتا ہوں۔‘‘ مالی نے ایک دم سونیا کو دیکھتے ہوئے جواب دیا جسے سن کے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی سونیا اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’آپ کام بتائیں گی یا میں اپنا کام خود شروع کرلوں۔‘‘
سونیا جو ابھی تک مالی کی بات پر ہی غور کررہی تھی ایک دم چونک گئی۔
’’ہاں ہاں تم کام شروع کرو، جانتے ہی ہو نا کیسے اور کس طرح۔‘‘
’’ہاں میں اپنا کام بہت اچھی طرح جانتا ہو ں۔‘‘ مالی متوازن چال چلتا ہوا سکون سے سونیا کے پاس سے گزر کر آگے بڑھتا چلا گیا۔ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے سونیاکو یکدم تپش کا سا احساس ہوا جیسے کوئی شدید گرم چیز سونیا کے پاس سے گزری ہو۔
ء…ژ …ء
الماس نیند سے لڑتی ہوئی اٹھنے کی کوشش میں مصروف تھی ، آج کافی دنوں بعدآفس جانے کا سن کر جہاں خوشی ہورہی تھی وہی اٹھنے سے بیزاریت بھی عروج پہ تھی۔
’’اففف ہو، عادت خراب ہوجاتی ہے اگر کچھ دن آفس نہ جائو تو۔‘‘ الماس نے بیڈ سے اترتے انگڑائی لیتے ہوئے جسم کھولا۔ اب وہی روز کی روٹین کپڑوں کی ٹینشن، پریس کی مصیبتیں۔
سچ ہے بندہ کسی حال خوش نہیں۔
الماس نے آج پہننے والے کپڑوں کا سوچا اور الماری کھول کر کھڑی ہوگئی۔
ہوں، اب پہلے دن کے حساب سے کون سا سوٹ پہنا جائے بھلا… یہ والا ، یا یہ والا۔‘‘ الماس نے دو سوٹ نکال کے خود پر رکھے اور دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی ہوئی ڈریسنگ کی جانب بڑھی، شکر پہلے سے ہی کچھ سوٹ سلوا لیے تھے، ورنہ ابھی پرانے ہی پہننے پڑتے۔
ہر لڑکی کی طرح الماس کا بھی ازلی دکھ اور پریشانی کپڑے ہی تھا، باوجود اس کے کہ وہاں پورا سٹاف نیا تھا جو پہلی بار الماس سے ملتا اور انہیں خاک بھی نہیں پتہ تھا کون سے کپڑے نئے ہیں یا کون سے دوسری با ر کے پہنے ہوئے۔
’’اس میں موٹی نا لگ جائوں۔‘‘ الماس نے آئینے میں خود کو دیکھ کے زیرلب کہا اور ایک دم دم بخود رہ گئی اس کے عین پیچھے بیڈ کے اوپر کھلی ہوئی کھڑی میں ایک کالی بلی براجمان تھی اور الماس کو ہی ایک ٹک دیکھ رہی تھی الماس نے گھبراتے ہوئے فورا ہی پیچھے مڑکر دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا اس نے آنکھیں مسل کر ایک بار پھر دیکھااور کسی کو نا پا کر کندھے اچکالیے
توبہ کیا کیا نظر آرہا تھے۔ نیند کی کمی لگتی ہے شاور لے ہی لوں ورنہ بلی کے بعد اب شیر نا دکھائی دے جائے الماس نے بالآخر ایک ہینگر بیڈ پہ ڈالا اور دوسرا الماری میں ہینگ کرنے کے بعد باتھ روم کی جانب قدم بڑھالیے۔
اس کے باتھ روم کا دروازہ بند کرتے ہی کھڑکی میں ایک کالی بلی نموردار ہوئی اور ہلکے سے غراتی ہوئی اس نے کمرے میں چھلانگ لگادی۔
ء…ژ …ء
’’اسکول نہیں جانا میری بیٹی نے۔‘‘ شہیر نے الشبہ کے کمرے پر ہلکے سے دستک دے کے نیم وا دروازہ کھولا۔سامنے ہی بکھرے بالوں کو سمیٹتی ہوئی الشبہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی نظر آئی۔
’’تیار بھی نہیں ہوئی ہو ابھی تک۔‘‘
’’نہیں پاپا موڈ نہیں ہو رہا۔‘‘ الشبہ نے بے زار ی سے جواب دیا۔
’’کیا ہوگیا الشبہ میں نوٹ کر رہا ہوں تم کچھ دنوں سے چپ چپ ہو۔‘‘ شہیر نے اندر کی جانب قدم بڑھائے۔
’’نن نہیں نہیں تو پاپا بالکل نہیں۔‘‘ الشبہ کو اندازہ نہیں تھا شہیر ایسے ایک دم اسے ٹوک دے گا۔
’’میری آنکھیں دھوکا نہیں دے سکتی یہ ایک باپ کی نظریں ہیں۔‘‘ شہیر نے مصنوعی فخر سے اپنے کالر کھڑے لیے۔
’’کچھ تو ہوا ہے کسی دوست سے لڑائی تو نہیں ہوگئی مجھے بتائو میں بات کرتا ہوں یا اسکول میں کوئی مسئلہ ہے۔‘‘
’’وہ پاپا… وہ…‘‘ الشبہ کے لیے اس صورتحال سے نکلنے کے لیے کوئی پرانا تجربہ بھی نہیں تھاجو آج کام آجاتا۔ سیدھی سادی لائف میں آج تک ایسا نہیں ہوا تھا عزیز از جان باپ سے جھوٹ بولنا پڑا ہو۔
’’پیپرز قریب ہیں نا، اسی کی ٹیشن ہے۔‘‘ الشبہ کو بالآخر ایک مناسب بہانہ مل ہی گیا۔
’’کوچنگ سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا کیا۔‘‘ شہیر نے فوری طور پر سوال پوچھا تاکہ اندازہ لگایا جائے اور ٹیوشن کی ضرورت تو نہیں
کوچنگ۔‘‘ الشبہ نے زیرلب کہااور اس کا دھیان راحیل کی سمت ہوگیا۔
’’پتا نہیں وہ آیا یا نہیں پاکستان۔‘‘
’’بولو بیٹے میں ہوں نا، کوئی مسئلہ ہو تو بتائو مجھے۔‘‘ شہیر کے لیے الشبہ کو ایسے گم صم دیکھنا بالکل گورا نہیں تھا، اسی کے لیے تو وہ اتنے عرصے بے گناہ انسانو ں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ رہا تھا۔
’’کچھ نہیں پاپا ، کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر ہوا تو آپ سے ہی توکہوںگی۔‘‘ الشبہ نے خود پر قابو پاتے ہوئے سامنے بیٹھے شہیر کو جھوٹی تسلی دی۔
’’واقعی صرف پیپرز کی پریشانی ہے۔‘‘
’’کیا ہوم ٹیوٹر لگوادوں؟‘‘
’’نہی… نہیں پاپا اب اتنی بھی کوڑھ دماغ نہیں ہوں۔‘‘ الشبہ کے لبوں پر کافی دنوں بعد مسکراہٹ کھلی تھی بس اس بار میرٹ ہائی ہے نا، اگر اچھے گریڈز نہیں لیے تو کالج میں ایڈمیشن مسئلہ کردے گا۔‘‘
’’ارے تو کوئی بات نہیں میری بیٹی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ میڈیکل نا سہی کوئی اور لائن سہی۔‘‘ شہیر نے دل پر جبر کرکے اسے کھلی چھوٹ دی۔
الشبہ نے مسکراتے ہوئے شہیر کو دیکھا، اسے اچھی طرح علم تھا الشبہ کو ڈاکٹر بنانے کا خواب ماں کا تھا جسے پورا کرنے کے لیے شہیر دن رات کام کرتا تھا اور ہر ممکن بچت کرنے کے بعد بھی اپنے اوپر ایک پیسہ لگانا حرام سمجھتا تھا۔
’’نہیں آپ فکر نہ کریں پاپا میں آپ کو مایوس نہیں کروں گی۔‘‘ الشبہ نے اپنے ساتھ شہیر کو بھی تسلی دی دل لگا کر پڑھوں گی تو یقینا میرٹ کور ہوجائے گا بس یہ ایسے ہی۔‘‘
الشبہ نے مسکراتے ہوئے شہیر کو دیکھا جس نے نا چاہتے ہوئے بھی بیٹی کے جھوٹ کا بھرم رکھ لیا۔
ء…ژ …ء
سونیا مالی کو گاہے بگاہے دیکھتی ہوئی خود بھی اس کے ساتھ لان کی سیٹنگ کر رہی تھی، گملے ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتے ہوئے وہ مالی پر نظر ڈالنا نہیں بھولی تھی لیکن وہ ایک ربورٹ کی طرح اپنے کام میں کچھ اس طرح مگن تھا جیسے وہ اکیلا ہی ہو آس پاس کوئی اورانسان نا ہو اور اگر کوئی ہے بھی تو اسے کچھ پروا نہیں کسی کی بھی۔
’’کچھ الگ ہے اس میں۔‘‘ سونیا نے مالی کو نظروں میں رکھتے ہوئے دل ہی دل میں خود سے کہا۔ سمجھ نہیں آرہا کیا لیکن کچھ تو ہے عام انسانوں کی طرح کیوں نہیں لگ رہا یہ۔
ء…ژ …ء
’’باجی میں اٹھ چکی ہوں۔‘‘ الماس نے آہٹ محسوس کرتے ہی بلند آواز کے ساتھ اس کی تسلی کرائی۔
’’آپ بس ناشتہ تیار رکھیں میں آرہی ہوں۔‘‘ الماس نے ٹوتھ برش کرتے ہوئے اپنے کمرے کے دروازے کو کھلتے ہوئے سنا تو فورا ہی سونیا کو اپنے تئیں خوش خبری سنائی کہ وہ نا صرف اٹھ چکی ہے بلکہ باتھ روم میں بھی ہے۔
’’باجی…‘‘ کوئی جواب نا پاکر الماس نے سونیا کو پکارا۔
’’سن رہی ہیں نا۔‘‘
الجھتی ہوئی الماس نے باتھ روم سے جھری بنا کر باہر دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا اورکمرے کا دروازہ بھی پوری طرح بند تھا۔
’’باجی… باجی آپ ہو نا کمرے میں…‘‘
خالی کمرے میں الماس کی آواز گونج کر رہ گئی۔
ء…ژ …ء
جس وقت الماس اپنے کمرے میں سونیا کو جواب دے رہی تھی اسی وقت سونیا لان میں گملے اٹھا کر اِدھر سے اُدھر رکھتی ہوئی بری طرح مصروف تھی۔
’’یہ تو بہت بھاری ہیں بھئی سنو مالی۔‘‘سونیا نے ہاتھ میں اٹھایا ہوا بھاری گملہ دوبارہ زمین پر رکھا اور اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے دباتے ہوئے سیدھی کھڑی ہوگئی۔
’’مالی اے مالی۔‘‘ سونیا نے ایک بار پھر مالی کو آوازدی اور سر گھما کر اسے دیکھنا چاہا۔
جیسے ہی سونیا نے سر گھمایا مالی کو اپنے انتہائی نزیک پا کر لڑکھڑا کے دو قدم پیچھے ہوگئی اور لمحہ بھر پہلے جس بھاری گملے کو رکھا تھا اسی سے ٹکڑا کے گر گئی۔
’’اوچ…!‘‘
سونیا نے غصے سے مالی کو دیکھا جو بے نیازی سے گرے ہوئے گملے کو اٹھانے میں مصروف تھا بجائے اخلاقی طور پر ہی سونیا کا حال پوچھنے کے۔
’’بدتمیز انسان۔‘‘ سونیا نے زیرلب اسے کوسنے دیے اور لڑکھڑاتے ہوئے کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن پائوں پر وزن پڑتے ہی اسے احساس ہوگیا، کچھ گڑ بڑ ہوگئی ہے پائوں کے ساتھ اب یقینا کچھ دن چلنے پھرنے سے احتیاط کرنی پڑے گی، خاص طور پر سیڑیوں سے پرہیز لازمی تھا کیونکہ پائوں وزن اٹھانے سے انکاری لگ رہا تھا۔
ء…ژ …ء
الماس ٹاول سے منہ صاف کرتے ہوئے سونیا کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ اسے اپنی الماری کھلنے کی آواز سنائی دی۔ اگر ابھی شاور یا نل کھلا ہوتا تو یہ نامحسوس آواز کا علم بھی نہیں ہوتا لیکن پنکھا بند ہونے کے باعث ہلکی سی آواز بھی باتھ روم تک صاف سنائی دے رہی تھی۔
’’پھر آگئیں باجی۔ کیا ہوگیا ان کو۔‘‘ الماس نے ٹاول اسٹینڈ پر لٹکاتے ہوئے کندھے اچکائے اور سر جھٹکتی ہوئی باتھ روم سے باہر کی جانب قدم بڑھا دیے۔
’’جواب کیوں نہیں دے رہی تھیں ابھی یار۔‘‘ الماس نے باہر نکلتے ہوئے بلند آواز سے سونیا کو مخاطب کیا اور ایک بار پھر خالی کمرہ دیکھ کر حیران رہ گئی۔
’’کیا آنا جانا لگا رکھا ہے باجی نے آج۔‘‘
الماس نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے اندازہ لگانا چاہا شاید سونیا کہیں چھپ کر اسے تنگ تو نہیں کررہی لیکن بھائیں بھائیں کمرہ الماس کو قطعی غلط ثابت کررہا تھا۔ سر ہلاتی ہوئی الماس نے دھیرے سے کمرے کا درازہ کھولا اور خاموشی سے نکل کر ٹیرس کی طرف نظردوڑائی جیسے سونیا وہاں چھپی ہوئی ہو لیکن وہاں بھی سناٹے کا راج دیکھ کر چپ ہوگئی۔
کپڑے اٹھانے کے لیے بیڈ کی سمت بڑھی ہی تھی کہ سامنے رکھے ہوئے کپڑوں کو دیکھ کر وہ مسکرائے بغیر نہیں رہ سکی
بیڈ پر اس کے نکالے ہوئے کپڑوں کی جگہ کوئی اور سوٹ سجا ہوا تھا ساتھ میچنگ ہینڈ بیگ بھی برابر ہی رکھا ہوا تھا۔
’’باجی بھی نا۔‘‘ الماس نے کپڑے بدلنے کی خاطر باتھ روم کی سمت قدم بڑھائے اور مسکراتی ہوئی سوٹ پر ہاتھ پھیرنے لگی۔
باتھ روم کا دروزہ بند کیا ہی تھا کہ الما س کو ایک بار پھر اپنے کمرے کا درواز بند ہونے کی آواز سنائی دی اور اب وہ جھنجلاہی گئی لیکن اس باراس نے باتھ روم سے باہر نکل کر نہیں دیکھاکہ کون ہے کمرے میں اگر الماس اس بار ٹیرس پر دیکھتی تو اسے معلوم ہوجاتا اس کے کمرے سے کالی بلی ٹہلتی ہوئی نکل کر چھت کی جانب جارہی ہے۔
ء…ژ …ء
سونیا لائوئج میں بیٹھی ہوئی سکون سے اخبار پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی کہ اسے اپنے پیچھے آہٹ سنائی دی، جیسے کوئی چپکے سے اس کے پاس آرہا ہو۔ سونیا اپنا وہم جان کے بے پروائی سے بیٹھی رہی لیکن لاشعوری طور پہ اس آہٹ کی جانب ہی ذہن رہا ایکدم دائیں ہاتھ سے دو بڑھے ہوئے ہاتھوں نے سونیا کو اچھل جانے پہ مجبور کردیالیکن اس سے پہلے وہ بلند آواز میں چیختی ان ہاتھوں نے نرمی سے سونیا کی آنکھوں کو ڈھانپ لیا۔
’’بوجھو تو جانیں۔‘‘
’’افف کیا بدتمیزی تھی یہ۔‘‘ سونیا نے دہلتے ہوئے الماس کے ہاتھ تھامے اور گھور کر اسے احساس دلانا چاہا۔
’’ایسے بھی کوئی ڈراتا ہے کیا، وہ بھی صبح صبح۔‘‘
’’اچھا جی اور جو آپ صبح سے میرے ساتھ کررہی تھیں وہ کیا تھا پھر…!‘‘
’’میں کیا کر… اوہ وائو… سوٹ تو بہت پیارا پہنا ہے۔‘‘ سونیا نے اپنی بات ادھوری چھو ڑکر بغور الماس کو دیکھا جو کھلتے ہوئے پنک سوٹ میں خود بھی پنک پنک سی ہورہی تھی۔
الماس نے تعریف سن کے فورا ہی اتراتے ہوئے گھوم کر سونیا کو دیکھا۔
’’آخر چوائس کس کی ہے۔‘‘
’’جو بھی پہن لو، سب اچھا لگتاہے تم پہ۔‘‘
’’بہن بھی تو دیکھیں کس کی ہوں۔‘‘ الماس نے مسکراتے ہوئے سونیا کو دیکھا اور سوٹ کے لیے شکریہ بولنے کے لیے جیسے ہی منہ کھولا اسی وقت اس کا موبائل بج اٹھا سونیا اسے پیار بھری نگاہوں سے دیکھتی رہی بالکل اولاد کی طرح پالا تھا الماس کو اور اب وہ اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ شادی کے لیے رشتے آنے لگ گئے تھے وقت گزرتے کہاں معلوم ہوتا تھا بھلا۔
الماس فون پر بات کرتے کرتے کچن تک جانے لگی لیکن سامنے میز پہ ہی ناشتہ ڈھکا دیکھ کر وہی بیٹھ گئی اور فون پر بات جاری رکھی فون سے فارغ ہوکر وہ اپنی ٹرے اٹھا کر بہن کے پاس آکر ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگئی لیکن کچھ ہی پل بعد اسے احساس ہوا کہ سونیا کچھ بے زار اور خاموش تھی۔
’’کیا ہوا باجی ، تھکی ہوئی لگ رہی ہیں خیریت ہے۔‘‘
’’صبح سے گارڈن میں لگی ہوئی تھی اوپر سے سونے پہ سہاگہ…!‘‘ الماس کا فون ایک بار پھر بجنے کے باعث سونیا کی بات ادھوری رہ گئی اور وہ مصنوعی انداز میں اسے گھورنے لگی لیکن الماس فون اٹھانے کے بعد اسے ایک آنکھ مار کے معذرت کرتی ہوئی بات کرنے لگی۔
’’سوری سوری سوری۔ ہاں تو کیا بول رہی تھیں آ پ۔‘‘ الماس نے فون بند کرتے ہی فورا سونیا کو مخاطب کیا لیکن اسی وقت وقاص ہاتھ میں چائے کی ٹرے لیے داخل ہوا جسے دیکھ کے الماس حیرت سے اپنی بات ادھوری چھوڑ نے پہ مجبور ہوگئی۔
’’لو جی سالی صاحبہ اینڈ بیگم صاحبہ فورا چائے پی لو اور بات سنو تم ( الماس کی طرف مصنوعی ناراضگی سے گھورتے ہوئے وقاص انگلی کھڑی کرکے اسے دیکھا) پہلے ہی دن لیٹ جائوگی کیا امپریشن پڑے گا میرے انڈر ہوتم سو بی کیئر فل۔‘‘
’’آپ کے انڈر ہوں تو ظاہر ہے آپ کے ساتھ ہی جائوں گی ، اینڈ بائے دے وے یہ آپ کس خوشی میں صبح کچن میں گھسے ہوئے ہیں میں نوٹ کررہی ہوں بھائی جان آپ پکے زن مرید ہوتے جارہے ہیں۔‘‘
وقاص نے خوشگوار انداز میں قہقہہ لگایا اور اپنا چائے کا کپ لے کر سکون سے سونیا کے پاس جابیٹھا جس کی اتنی خوبصورت بیوی ہوتو اسے زن مرید ہی ہونا چاہیے نا۔‘‘
سونیا نے بہن اور شوہر کو چٹکلے چھوڑتے دیکھ کر سر جھٹکا اور اپنا کپ لینے کے لیے آگے ہوئی ، بے ساختہ ہی اس کے منہ سے کراہ نکل گئی جسے سن کے الماس نے چونک کے سونیا کی سمت دیکھا۔
’’کیا ہوا باجی ارے آپ کے پائو ں کو کیا ہوگیا۔‘‘
’’ یہی بتانے کی تو کوشش کررہی تھی کہ صبح گارڈن میں گملے سے ٹکرا گئی اور اب چلنے پھرنے میں اتنی تکلیف ہورہی ہے۔ تمہارا یہ ناشتہ بھی انہوں نے بنایا ہے۔‘‘
’’تو پھر میرے کمرے میں اتنے چکر لگانے کی کی ضرورت تھی بھلا۔ اٹھادیا تھا بس کافی تھا نا، اس کے لیے ایویں اوپر آئیں آپ۔‘‘ الماس نے اپنے سوٹ کی جانب اشارہ کیا۔
’’میں آئی۔‘‘ سونیا نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا ’’میں تو کب سے ادھر ہی بیٹھی ہوں۔ پائوں ہلانے کی بھی ہمت نہی ہورہی بلکہ ابھی تمہارے آنے سے پہلے ہی سوچ رہی تھی وقاص کو بولوں جاکر دیکھیں تم جاگی بھی ہو یا نہیں ویسے ہی اتنا لیٹ لطیف ہو تم۔‘‘
’’کیا۔‘‘ الماس نے حیرت کی زیادتی سے سونیا کے پائوں کو دیکھا جو سوج کر اپنی جسامت سے دوگنا ہوچکا تھااور پھر اپنے کپڑوں کو دیکھا اگر سونیا نے یہ سوٹ نہیں نکالا تو کس نے الماری سے نکال کے بیڈ پہ رکھا تھا۔
باقی باتیں بعد میں کرلینا سالی جی ،ابھی نکلنے کی کرو۔‘‘ وقاص نے چائے کی خالی پیالی رکھی اور کھڑے ہوتے ہوئے الوداعی نظر سونیا پر ڈالی۔
’’میں کوشش کرونگا جلدی آنے کی تاکہ پراپر چیک اپ ہوجائے اس کا۔‘‘ اشارے سے پیر کی سمت انگلی کی اور دوسرے ہی پل اسی انگلی سے سونیا کوکھڑے ہونے کو کہا۔
’’ویسے تو شاید ضرورت نہیں ہو، شام تک سوجن کم ہوجائے گی۔‘‘ سونیا نے پائوں ہلاتے ہوئے کہا تو ایک ٹیس اٹھ گئی لیکن غنیمت تھا ہڈی نہیں ٹوٹی تھی صرف ٹھوکر لگنے سے چوٹ اور سوجن ہی آگئی تھی۔
’’پھر بھی تسلی ہوجائے گی اوہو اٹھ بھی چکو یار۔‘‘ وقاص نے باہر کی سمت قدم رواں کئے تو الماس بھی گم صم سی پیچھے اٹھ کھڑی ہوئی۔ سونیا نے اٹھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور نا ہی اسے علم ہوا ان دونوں کے نکلتے ہی صوفے کے پیچھے سے ایک کالی بلی بھی ان کے پیچھے چلتی چلی گئی۔
ء…ژ …ء
دوپہر کی اپنی مخصوص چہل پہل ہر سوں تھی اسی میں فیصل کمرے کے کونے میں بیٹھا ہوا کتاب پر نظریں جمائے ہوا تھا کہ اچانک ثمن کی ہارٹ بیٹ تیز ہوگئی پیپ پیپ کی چھبتی ہوئی آواز سن کر فیصل کے اوسان خطا گئے اور وہ فورا ہی کمرے سے نکل کر چیخ چیخ کے اسٹاف کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگا۔
’’ہیلپ… ہیلپ… ادھر آئو دیکھو اسے۔‘‘
نرس کے ساتھ ڈاکٹر بھی تیز رفتاری سے چلتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے اور فیصل کو باہر نکال دیا ۔فیصل یاسیت سے ثمن کے بیڈ کو دیکھتا ہوا باہر نکل گیا۔ باہر جاتے ہی اس کا دھیان کسی سمت گیا جس بنا پہ اس نے چونک کے فورا ہی اپنا موبائل نکالا۔
’’آہ پھر وہی وقت قریب آگیا۔ شاید اسی لیے ثمن…!‘‘
ء…ژ …ء
’’پلیز بچوں تنگ نہیں کرو۔‘‘ سونیا نے دیوار کے سہارے چلتے ہوئے بچوں کو لنچ کرایا اور اب ہوم ورک کرانے کے لیے بٹھانے کی جستجو کرنے میں مگن تھی لیکن بچے اس کی سننے کے بجائے کھیل میں مصروف تھے ۔
’’میں ابھی یہ پلے اسٹیشن بند کردوںگی۔‘‘ سونیا نے نا صرف دھمکی دی بلکہ اپنا رخ بھی ایل ای ڈی کی سمت بدل لیا جیسے ابھی اٹھنے ہی تو لگی ہے۔
’’او ہو ماما۔‘‘
’’رکیںنا ابھی بس یہ گیم ختم ہونے دیں۔‘‘ عمر نے بھی تنک کے جواب دیا۔
’’ہم کرلیں گے ہوم ورک ، ڈونٹ یو وری۔‘‘
’’کب کرلوگے دیکھو شام ہونے والی ہے پوری دوپہر گزار دی تم دونو ں نے معلوم بھی ہے ماما تکلیف میں ہیں لیکن نہیں۔‘‘ سونیا نے غصے سے دونوں کو جھاڑتے ہوئے کہا تو بچے منہ بسورنے لگے۔
’’کب ختم ہوگا یہ لیول۔‘‘ نا چاہتے ہوئے بھی سونیا نے نرمی سے جواب چاہا۔
’’ٹوئنٹی منٹ ۔‘‘
’’اوکے… اونلی ٹوئنٹی منٹ اس کے بعد ہوم ورک اور فوراً اپنے کمرے کی سمت۔‘‘ سونیا نے اپنے کمرے کی جانب جاتے ہوئے ایک بار پھر دونوں کو دیکھا جو کھیلنے میں مصروف تھے۔
ء…ژ …ء
رخ تاج جو اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی شاہ جی کے کرتے پہ بٹن ٹانک رہی تھیں ایک دم چونک گئیں اور فوراہی اپنا دائیں ہاتھ منہ پہ ایسے رکھا جیسے توقع کے خلاف کچھ یاد آگیا ہو۔ کرتا چھوڑ چھاڑ کے وہ پھرتی کے ساتھ کھڑی ہوئیں اور تیزی سے بیڈ کے برابر دھرے ہوئے ٹیبل کلینڈر کو اٹھا کر دیکھنے گئیں۔ ان کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ اس وقت شدید حیرت اور دکھ کا شکا رتھیں۔
’’یااللہ ، پھر آگئی وہ رات۔‘‘
خالی کمرے میں رخ تاج کی بڑبڑاہٹ بھرگئی اور وہ کلینڈر ہاتھ میں لیے سر ہاتھوں میں گر اچکی تھیں۔
ء…ژ …ء
’’اوہ راحیل فون پک کرو۔‘‘ الشبہ نے چوتھی بار راحیل کو فون کرتے دل ہی دل میں منت سی کی۔
’’پتہ نہیں کیوں نظر انداز کررہا ہے راحیل جبکہ اب تو اس کے ڈیڈی بھی آگئے ہوں گے پاکستان پھر اب…!‘‘
الشبہ نے الجھن کا سرا پکڑنا چاہا لیکن جان کر الجھائی ہوئی چیزوں کا سرا پکڑنا آسان نہیں ہوتا۔
’’راحیل کہاں ہو۔‘‘ الشبہ نے ایس ایم کیا اور موبائل ایسے تھام کر بیٹھ گئی جیسے ابھی جواب مل جائے گا۔
جبکہ اسے ہرگز علم نہی تھا وہ شہیر کی کرنی بھگتنے والی ہے، جہاں ایک طرف معصوم اور بے گناہ لڑکی شہیر کی لالچ کی بھینٹ چڑھنے والی تھی آج وہی اس کی اپنی بیٹی بھی مکافات عمل کی نظر ہورہی تھی۔
ء…ژ …ء
دھوپ ڈھلتے ہی جہاں ایک طرف رخ تاج پریشانی کے عالم میں بیٹھی ہوئی تھی تو دوسری طرف اب سورج غروب ہونے کی تیاریوں میں مصروف تھا، ایسا لگتا تھا جیسے وہ بھی جلد از جلد جانے کے لیے پر تول رہا ہو تاکہ آج رات ہونے والے کھیل کا وہ گواہ نابنے۔
آج رات ، ہاں آج ہی رات چاند پورا ہونے کی تاریخ تھی جس میں اس آسیب زدہ گھر کے کسی ایک جیتے جاگتے انسان کی نصیب میں سیاحی پھیل جانی تھی۔
پورا ہوتا چاندبھی کچھ افسردہ دکھائی دے رہا تھا ، برسوں سے وہ بے گناہ لوگوں کو بلی چڑھتے دیکھ کر بھی کچھ نہیںکرسکتا تھا اور آج بھی وہ خاموش تماشائی بننے جارہا تھا۔
شام ہوتے ہی ہوا میں انجانی سی تیزی امڈ آئی اورکالی بلی خونی گھر کے عین سامنے آن بیٹھی۔
آج شام ہوتے ہی آس پاس کے درختوں پر بھی کوئی پرندہ پر نہیں مار سکا تھا، چار سوں خاموشی تھی جیسے ہر ایک دم سادھے بیٹھا ہو اور آنے والا وقت بے آواز ماتم کررہا ہو۔ ایک طرف جہاں ایسی خاموشی کا راج تھا تو دوسری طرف وہ کالی بلی رفتہ رفتہ چاند ابھرنے کے ساتھ غراتی ہوئی رونے میں مصروف تھی۔
پورا چاند بھی تھا، گہری ڈھلتی ہوئی رات بھی تھی، سناٹا اور ویرانی بھی نمایاں تھی، کالی بلی بھی تھی، سارے لوازامات پورے تھے ، اس تیس دن کے خونی چکر کو پورا کرنے کے لیے، کمی تھی تو صرف اس کی جو آنے ہی والا تھا اور یقینا اس کے آنے کا دن آج ہی تھا۔
ء…ژ …ء
سونیا نے رات ہوتے ہی بچوں کوسلانے لٹایا اور خود وقاص کا انتظار کرنے لگی، پائوں کی سوجن کے باعث چلنے پھرنے میں دشواری ضرور تھی لیکن مارے باندھنے کام ہو ہی رہا تھا۔
’’میں جلدی آجائوں گا، وقت دیکھو ذرا۔‘‘ سونیا نے جھنجلاتے ہوئے فون اٹھایا ا ور کمرے میں لیٹے لیٹے وقاص کو فون کرنے لگی۔
’’ہیلو کہاں ہو وقاص۔‘‘
’’سوری یار… لیٹ ہوگیا نا۔‘‘
’’آپ نے جلدی نہیں آنا تھا۔‘‘ نا چاہتے ہوئے بھی شکوہ لبوں سے پھسل ہی گیا۔
’’بس عین وقت پہ باس آکر بیٹھ گیا تو کیسے نکل سکتا تھا ابھی پانچ منٹ پہلے ہی اس نے جان چھوڑی ہے۔
’’تو پھر اب۔‘‘
’’نکل رہا ہوں ، وائنڈ اپ کرنے لگا تھا کہ آپ کا فون آگیا جناب۔‘‘
’’بس آپ کو اپنے آفس کے آگے کچھ نظر نہیں آتا آج کل۔‘‘ سونیا نے تنک کر وقاص کو جواب دیا ’’کیا آپ کو معلوم نہیں تھا میرے پائوں…!‘‘
’’معلوم تھا یار لیکن کیا تم کو لگتا ہے میں جان بوجھ کر نہیں آیا۔‘‘
’’مجھے نہیں معلوم لیکن آپ خود یکھ لیں اب۔‘‘
’’کام کررہا ہوں سونیا، تفریح تھوڑی کررہا ہوں جو ایسے بول رہی ہوں۔‘‘ وقاص کی بلند ہوتی آواز سن کے سونیا کو مزید غصہ چڑھ گیا۔
’’کام کو سر پہ سوار کریں گے تو یہ ہی ہوگا فیملی کے وقت فیملی اور کام کے وقت کام ہو تو بہتر ہوتا ہے وقاص۔‘‘
’’اوہ کم آن یار مت تنگ کرو، پہلے ہی اس باس…!‘‘
’’باس باس باس ایسا کریں وہی رہنا شروع ہوجائیں آپ۔‘‘
’’کیوںبچوں والی باتیں کررہی ہو سونیا۔‘‘ وقاص نے چڑتے ہوئے کہا۔ ’’نوکری ہے کوئی ماما جی کا بزنس نہیں جو جب دل چاہا نکل کر آگیا۔
’’بس رہنے دیں آپ۔‘‘ سونیا نے غصے مین فون ہی کاٹ دیا اور گہرے گہرے سانس لے کر خود پہ قابو پانے لگی، دوسری طرف وقاص نے ٹھنڈی آہ بھر کے لیپ ٹاپ بند کیا اور اپنی فائلز اٹھانا شروع کردی۔
ء…ژ …ء
’’اب کیا ہوگیا۔‘‘ شاہ جی نے دوائیوں کا شاپر رخ تاج کی جانب بڑھاتے ہوئے ان کے چہرے پر پھیلی ہوئی اداسی دیکھی تو پوچھنے بنا نہ رہ سکے، جواب میں رخ تاج ان کو دیکھتی رہیں۔
’’کیا ہوا رخ خیریت تو ہے نا؟‘‘ انجانے خدشے کے سبب شاہ جی کا دل دھڑکا۔
’’کہیں کوئی فون تو نہیں آگیا۔‘‘
نفی میں سر ہلاتی ہوئی رخ تاج نے جہاں شاہ کو سکون کی سانس لینے پر مجبور کیا وہیں انہوں نے سوالیہ نظروں سے ایک بار پھر اپنی بیوی کو دیکھنا شروع کردیا۔
’’آج…آج وہی رات…!‘‘
’’اوہ…!‘‘
’’خدا خیر رکھے۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ شاہ نے لب بھینچ کر بے ساختہ ہی کھڑکی سے نظر آنے والے گھر کو نظروںمیں سمایا۔
’’پتہ نہیں کس کی باری آئے گی۔‘‘ رخ تاج نے بڑبڑانا جاری رکھا۔ ’’بچے بھی تو ہیں ساتھ۔‘‘
شاہ جی مایوسی سے سر ہلاتے رہے لیکن کچھ بھی کہنے سے پرہیز ہی کیا، ان کو معلوم تھا اس وقت کچھ بھی کہنا رخ تاج کو مزید ڈپریشن کا شکار کردے گا۔ رخ تاج نے بڑبڑاتے ہوئے اپنی جگہ چھوڑی اور اٹھ کر کھڑکی کی جانب قدم بڑھانے لگیں۔
’’کاش ہم کسی کو بچا سکتے کاش کوئی ہماری بات سن لیتا۔‘‘ پردہ ہٹا کر پوری کھڑکی کو نمایا ں کرتی ہوئی رخ تاج کی پیشانی پر انن گنت لکیریں صاف ظاہر کررہی تھیں کہ وہ کس ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
’’کاش یہ لوگ ہماری بات پر یقین کرلیں تو شاید…شاید…!‘‘
سامنے ہی وہ خونی گھر پورے چاند کی روشنی میں پوری طرح نمایاں تھا، اس کے گرد نا نظر آنے والا ہیلولہ بھی گھر کا طواف کر رہا تھا، جیسے کوئی مناسب وقت اور جگہ کی تلا ش میں ہو۔ گھر کے لان کے بیچوں بیچ کالی بلی رونے میں مصروف تھی، بتدریج بلی کے رونے کے ساتھ ساتھ کسی بچے کی سسکیوں کی آواز بھی فضاء میں شامل ہونے لگی جبکہ وہ بچہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا لیکن بلی کے برابر ہی چمکتی ہوئی گیند کچھ اس طرح فضا میں بلند تھی جیسے کسی بچے نے اسے ہاتھ میں اٹھا رکھا ہو۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close