NaeyUfaq Oct-18

بہروپیہ

خلیل جبار

دن اور تیعلیم سے دوری انسانوں کو ضعیف العتعقادی کی طرف لے جاتی ہے اولیا اللہ دنیا میں اللہ کے دین کو پھیلانے کی تگ و دو کرتے ہیں لیکن جاہل لوگ انہیں اللہ کے ہم پلہ قرار دے کر اپنی دنیا سنوارنے پر تل جاتے ہیں اور ان کی تعلیمات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

بی بی کلثوم کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ انتہائی ضدی اور خود سر قسم کی خاتون ہے اس کاشوہر امیرالدین بھی اپنی بیوی سے ڈر ااور سہما رہتاتھا‘ اس کی وجہ بی بی کلثوم کالہجہ تھا وہ بات ایسے کرتی تھی کہ جیسے لڑرہی ہو‘ امیرالدین کی آمدنی کے ذرائع ایسے نہ تھے کہ وہ معاشی طو رپر مستحکم ہو سکے۔ بی بی کلثوم س کے معاشی طو رپرکمزور ہونے کافائدہ اٹھاکرآئے دن لڑتی جھگڑتی رہتی تھی۔ امیر الدین بے چارہ اسے سمجھانے کو کہتا۔
’’اری بھاگوان توکیوں فکر کرتی ہے‘ ایک دن ضرور ہمارے دن پھریں گے۔‘‘
’’کیاخاک پھریں گے دس سال ہوگئے ہیں تمہارے ساتھ رہتے ہوئے‘ بچے بڑے ہونے کوہیں تم کوئی ڈھنگ کا کام ہی نہیں کرتے اتنا سمجھایاہے کہ پٹیں بیچنے کا کام چھوڑ دواس میں کیا ملتاہے۔‘‘
’’توفکرنہ کرمیں کچھ کرتاہوں۔‘‘
’’کیاخاک کروگے دس سال سے یہی جملہ سن رہی ہوں‘میرا حوصلہ ہے جواتنابرداشت کرچکی ہوں میری جگہ کوئی اور تمہاری بیوی ہوتی وہ تمہیں لات مار کربھاگ چکی ہوتی۔
’’میںنے کب کہا ہے کہ تم نے میرا ساتھ نہیں دیا‘ اتنی کم آمدنی میں تم میرے ساتھ گزاراکررہی ہو اس دورمیں بڑی بات ہے۔‘‘ امیرالدین نے کہا۔
’’اس گھر کی خاطر میں کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہوں جبھی یہ گھر چل رہا ہے‘ میرے کچھ نہ کرنے سے تمہارے سر کے بال فکر سے اترجاتے او رتمہاری ٹنڈ نظرآتی۔‘‘ بی بی کلثوم بولی۔
امیرالدین کے پاس بی بی کلثوم کی بات کا کچھ جواب نہ تھا اس لیے خاموش رہااس کے خاموش ہونے پر وہ اور شیر ہوجاتی۔
’’خاموش کیوں ہو بولتے کیوں نہیں ہو۔‘‘
’’میں کیا بولوں میںپہلے ہی تمہارے احسانوں تلے دباہواہوں میں اکثر اپنے دوستوں کے سامنے تمہاری تعریف کرتاہوں کہ میری بیوی بہت اچھی ہے اس نے جس طرح گھر کوسنبھالاہواہے کوئی اور نہیں سنبھال سکتا۔‘‘ امیرالدین اس کی خوشامد پراترآتا۔
اس طرح بیوی کی خوشامد کرکے وہ یہ سمجھتاتھا کہ اپنی تعریف سن کر وہ خوشی سے پھول کرکپا ہوجائے گی اوراسے کچھ نہ کہے گی‘ بی بی کلثوم نے چپ رہنا سیکھا کب تھا‘ وہ فوراً سے کہتی۔
’’میں دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہوں جو اپنی ذرا سی تعریف سن کر خوشی سے پھولے نہ سمائوں گی‘ دیکھومیاں جی میری ایک بات کان کھول کر سن لو میں دس سال سے برداشت کررہی ہوں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا‘ بچے جوان ہو رہے ہیں تمہیں اب کچھ کرناہوگا۔‘‘
’’میں کب کہہ رہاہوں کہ میں کچھ نہیں کرنا چاہتا‘ جس طرح تم مستقبل کے لیے فکرمند ہوایسے ہی میں بھی فکرمند ہوں۔‘‘ امیرالدین نے کہا۔
’’یہ ایک دن کی بات نہ تھی آئے دن ایسا ہوتا رہتاتھااور امیرالدین بی بی کلثوم کی تعریفیں کرکرکے بات کوہوا میں اڑادیتاتھا‘ حقیقت یہی تھی کہ امیرالدین ایک کند ذہن انسان تھا ترقی کیاہوتی ہے بہتر مستقبل کے لیے کیسے پلاننگ کی جاتی ہے وہ اس سے نابلد تھا۔ اسے صرف یہ یاد رہتاتھا کہ صبح جلدی اٹھنا ہے اور بیکری سے پیٹس لے کر کپڑا مارکیٹ نکل جانا ہے‘ پیٹس بچ جانے پر شہر کی دوسری مارکیٹوں کارخ کرکے ہر حال میں پیٹس کو ختم کرناہے‘ پیٹس ختم ہوجانے پر گھر کا رخ کرناہے۔
شادی کی ابتداہی سے بی بی کلثوم نے امیر الدین کوترقی کرنے کی غرض سے بہت نصیحتیں کی تھیں‘ امیر الدین کی یہ خوبی تھی کہ اس نے انکار کرنا سیکھاہی نہ تھا وہ بی بی کلثوم کی ہربات پر ہاں‘ ہاں کرتا رہتاتھا‘ صبح ہونے پر رات کی ساری باتیں اس کے ذہن سے نکل جاتیں‘ اسے کچھ یاد نہ رہتاتھا۔ کچھ یاد رہتاتھا وہ یہ کہ بیکری جاناہے‘ دس سال کاعرصہ بیت جانے پر وہ سمجھ چکی تھی کہ اس کے شوہر میں ترقی کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے پھر بھی نصیحت کرنے سے باز نہ آتی تھی۔ ان دس سالوں میں بی بی کلثوم کے ایک بیٹا شاہنواز اور دوبیٹیاں نازش اور نفیسہ پیدا ہوئیں۔ امیرالدین نے جب بی بی کلثوم سے اس بات کااظہار کیا کہ شاہنواز کے پانچویں پاس کرلینے پر وہ اسے اپنے ساتھ رکھے گا‘ وہ پیٹس جب کہ شاہنواز کیک بیچے گا‘ اس بات نے بی بی کلثوم کوڈرادیا اسے یہ بات سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ امیرالدین اپنے بیٹے کو بھی اپنے جیسا بنادینا چاہتا ہے‘ س لیے بی بی کلثوم نے شاہنواز کو اس کے ماموں فرحان کے پاس دوسرے شہر بھیج دیا‘ بی بی کلثوم اپنے بیٹے کی ترقی چاہتی تھی۔ ماموں فرحان کے پاس رہ کر وہ صبح میں اسکول سے تعلیم حاصل کرتا اور دوپہر میں ماموں کی کپڑے کی دکان پر ان کاہاتھ بٹاتا‘اس طرح دو فائدے تھے‘ وہ تعلیم حاصل کرلینے پر اچھی نوکری حاصل کرلینے میں کامیاب ہوسکتاتھا۔ کسی وجہ سے تعلیم حاصل کرلینے کے باوجود نوکری حاصل نہ کرنے پر کپڑے کی دکان کھول کر اچھی زندگی گزار سکتاتھا۔ اس طرح شاہنواز اپنے باپ جیسا نہیں بن سکتاتھا۔ امیرالدین نے بی بی کلثوم کے اس اقدام پرشدید احتجاج کیا مگر وہ اس کے احتجاج کو کب خاطر میں لاتی تھی۔ گھر میں وہی ہوتاتھا جو وہ چاہتی تھی جب امیرالدین نے دیکھا وہ اس کی نہیں سن رہی وہ خاموش ہوگیا۔
بی بی کلثوم نے جو سوچاتھا وہ ٹھیک تھا۔ میرپور خاص میں ماموں کے پاس رہ کرشاہنواز کاذہن کھل رہاتھا‘ وہ تعلیم میں بھی بھرپور طریقے سے حصہ لے رہاتھا‘ اور دکان پر بھی بہت دھیان سے کام کررہاتھا۔ ماموں فرحان جب بھی اپنی بہن سے ملنے آتے تھے وہ شاہنواز کی بڑی تعریف کرتے تھے‘ شاہنواز کی تعریفیں سن کربی بی کلثوم کاسیروں خون بڑھ جاتاتھااوراسے اپنے کیے فیصلے پر خوشی ہوتی کہ اس نے بروقت بہت اچھا اقدام اٹھایاہے۔
شاہنواز کے انٹر کرنے پر ماموں فرحان نے اسے کرائے پر ایک دکان دلادی جس مین اس نے ادھار پر کپڑا لے کر کپڑے کی دکان کھول لی۔ بیٹے کے دکان کرنے پر بی بی کلثوم خوشی سے پھولے نہ سمارہی تھی۔
’’امیرالدین تم اپنے بیٹے کو اپنے جیسا بنارہے تھے مگرمیری کوشش سے وہ ایک دکان کامالک بن گیاہے۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
’’دکان مالک کیسے بن سکتاہے وہ دکان شاہنواز بیٹے نے کرائے پر لی ہے اور مال بھی ادھار پر لیا ہے۔‘‘
’’مجھے بھی یہ بات پتا ہے یہ کام تم بھی کرسکتے تھے پھر کیوں نہیں کیا تم میں یہ صلاحیت ہی نہیں تھی ‘میرے بیٹے میں وہ صلاحیت ہے آج کرائے پر دکان لے کر مال ادھار ضرور لیاہے مگر کچھ عرصہ گزرنے پر وہ اپنی محنت سے ذاتی دکان بھی خرید لے گا اور دکان کا سارا مال بھی اس کاذاتی ہوچکاہوگا۔‘‘
’’خدا کرے ایسا ہی ہو۔‘‘ ا میرالدین نے کہا۔
شاہنواز نے دکان کیا کرلی تھی کلثوم بی بی کو اس کے ماتھے پر سہرا سجانے کی فکر لگ گئی۔
’’امیرالدین ہمیں شاہنواز بیٹے کی جلد سے جلد شادی کرنی ہے۔‘‘
’’ارے بھئی اتنی جلدی کیا ہے پہلے اس کا کام اچھا چل جائے پھردیکھ لیں گے۔‘‘
’’مجھ سے اب یہ گھر کاکام نہیں ہوتا گھر میں بہو کے آجانے سے مجھے کچھ آرام مل جائے گا۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
’’اری بھاگوان تم کیوں کام کرتی ہو‘ ہمارے گھر میں خیر سے دوبیٹیاں موجود ہیں ان سے کیوں کام نہیں لیتی ہو۔‘‘
’’تم چاہتے ہو میں اپنی پھول سی بچیوں سے ابھی سے کام لینا شروع کردوں‘ دوسرے گھرجاکر ساری زدنگی انہیں کام ہی کرناہے۔‘‘
’’بھاگوان اپنی بچیاں گھر میں کام سیکھنے پر ہی دوسرے گھرجاکر کام کرسکیں گی نا۔‘‘ امیرالدین نے اسے سمجھایا۔
’’میں کچھ نہیں جانتی ہمیں شاہنواز کی شادی کرنی ہے اور بس۔‘‘ بی بی کلثوم نے اپنافیصلہ سنادیا۔
امیرالدین کی کیا مجال تھی جو بی بی کلثوم کے فیصلے کے سامنے چوں چراں کرتے‘ وہ بولے۔
’’بیگم تم زیادہ بہتر سمجھتی ہو گھر کیسے چلاناہے اور کون گھر کاکام کرے گا۔‘‘
بی بی کلثوم امیرالدین کی رضامندی جان کرخوش ہوگئی ‘ اس وقت اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک آگئی تھی۔ امیرالدین بھی اس خاص چمک کومحسوس کیے بغیر نہیں رہ سکاتھا۔ بی بی کلثوم نے شاہنواز کے لیے لڑکی کی تلاش شروع کردی۔ وہ اس طرح کی لڑکی چاہتی تھیں جو اس کے اشاروں پر چلے۔ وہ جو کہے بغیر کسی حجت کے اس پر عمل کرے۔
بڑی بھاگ دوڑ کے بعد اسے بیٹے شاہنواز کے لیے ایک لڑکی پسند آگئی‘ وہ ان کے دور پرے کے رشتے داروں میں تھی۔ لڑکی کانام مہ جبیں تھا۔ بی بی کلثوم کومہ جبیں اس لیے پسند آگئی تھی وہ کم گوتھی‘ دوسری لڑکیوں کی طرح وہ اپنے سے بڑے کو جواب نہیں دیتی تھی چپ چاپ سن لیتی تھی۔ بی بی کلثوم کوایسی ہی بہو کی تلاش تھی۔ اس لیے چٹ منگنی اور پٹ بیاہ والی بات ہوئی۔ بیٹے شاہنواز کوبھی کیا اعتراض ہوسکتاتھا وہ لڑکی کی تصویر دیکھ کر خوش ہوگیا تھا کہ اس کی امی کاانتخاب بہت اچھا ہے۔ حالانکہ اس کے ماموں کی خواہش تھی کہ اپنے بھانجے کو اپنی بیٹی دیں گے اس کی لڑکی ثریا بہت منہ زور اور خود سر تھی ایسی لڑکی کس طرح سے بی بی کلثوم کوپسند آسکتی تھی اس کے سامنے اس کے شوہر کی مجال نہیں تھی کہ زبان کھول سکے۔
شادی پر خوب خوشیاں مانئی گئیں‘ بی بی کلثوم نے بھی اپنے دل کے ارمان شادی پر پورے کیے تھے۔ وہ بہو کودیکھ کربہت خوش ہورہی تھی۔ شادی ہوجانے پر وہ ابھی اس پوزیشن میں نہیں آسکاتھا کہ اپنی بیوی اور والدین کو میرپورخاص میں کرائے پرمکان دلاسکے۔ اس لیے ہر ہفتے وہ چھٹی والے دن ملنے چلاآتاتھا۔مہ جبیں کوشاہنواز کے چھٹی کے دن آنے کاانتظار رہتاتھا۔ نئی نئی شادی تھی اس لیے پورا ہفتہ ایک ‘ ایک دن کیسے گن کرگزرتاتھا یہ وہی جانتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کاشوہر اس کے پاس رہے یاانہیں وہاں لے جائے جہاں اس کاکاروبار ہے وہ جب بھی اس سے ملنے آتا وہ شکوہ کرتی کہ وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتی‘وہ یہی سمجھاتا ۔’’تم ذرا صبر کرو‘ میں اس پوزیشن میں آجائوں کہ تمہیں وہاں لے جاسکوں۔‘‘
چھ ماہ کاعرصہ بیت گیا۔ وہ ا سے میرپور خاص نہیں لے جاسکاتھا۔ مہ جبیں نے بی بی کلثوم سے شکوہ کرتے ہوئے کہا۔
’’امی جان میںکب تک ایسے گزارا کرتی رہوں گی۔‘‘
’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ بی بی کلثوم نے پوچھا۔
’’میں ادھر اورمیراشوہر مجھ سے پورا ایک ہفتہ دور رہتا ہے۔‘‘
’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے لوگ اپنے بیوی بچوں کی خاطر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں میرابیٹا خیر سے شہر سے باہر ہی رہتا ہے‘ جیسے ہی وہ اس پوزیشن میں آئے گا کہ تمہیں اور ہمیں اپنے پاس بلالے گا۔‘‘
’’پتانہیں وہ دن کب آئے گا۔‘‘ مہ جبیں نے کہا۔
’’تم ان باتوں کوچھوڑو اوریہ بتائو کہ کچھ امید ہوئی ہے یاانتظار ہے۔‘‘
’’امی جان کیسی امید؟‘‘ وہ چونکی۔
’’ارے پگلی امید سے مرا د بچے سے ہے۔‘‘
’’امی ابھی ایسا کوئی سلسلہ بنا نہیں ہے۔‘‘
’’کمال ہے شادی کوچھ ماہ گزرگئے ہیں ابھی تک کوئی امید نہیں جاگی۔‘‘
’’میں کیا کرسکتی ہوں ۔‘‘
’’توفکر نہ کر میرے ایک جاننے والے بابا ہیں ان کے پاس چلیں گے۔‘‘
’’ان کے پاس کیوں چلیں گے۔‘‘ مہ جبیں نے کہا۔
’’کمال ہے تجھے میں کیسے سمجھائوں۔‘‘ بی بی کلثوم نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
’’کیوں امی میںنے ایسا کیا کہہ دیا۔‘‘
’’تجھے اتنابھی نہیں پتا کسی عامل کے پاس کیوں جاتے ہیں۔‘‘
’’کیوں جاتے ہیں ؟‘‘ مہ جبیں نے کہا۔
’’میری بیٹی میں تجھے عامل فضل الدین کے پاس اس لیے لے کر جارہی ہوں کہ وہ پڑھائی کرکے بتائیں گے کہ تجھے اولاد کیوں نہیں ہو رہی ہے ‘کہیں کسی نے کوئی بندش یا آسیب وغیرہ کا سایہ تو نہیں ہے‘ ایسا ہونے پر وہ کاٹ کردیں گے۔‘‘
’’امی جان تھوڑا صبر کرلیں۔‘‘
’’اور کتنا صبر کروں چھ ماہ ہوچکے ہیں۔ بس تمہیں بابا فضل الدین کے پاس چلناہے۔‘‘ بی بی کلثوم نے اپنا فیصلہ سنادیا۔
’’بابا فضل الدین ایک 60سال کی عمر کاآدمی تھا‘ سر پرٹوپی اور قمیص پر کالی شیروانی قمیص کے نیچے دھوتی ‘ چہرے پرداڑھی تھی‘ آستانے پر کئی عورتیں اور بھی بیٹھی تھیں جب ان کی باری آئی‘ بابا فضل الدین نے مہ جبیں کے چہرے کوغور سے دیکھا۔
’’ہوں…آسیب‘ اس بچی پر آسیب کاسایہ ہے اور آسیب بھی بہت خطرناک ہے اتنی آسانی سے نہیں جائے گا۔‘‘
’’آسیب ہے۔‘‘ بی بی کلثوم چونکی۔
’’ہاں آسیب ہے یہ نہا کر بال کھولے چھت پر چلی گئی تھی اس وقت آسیب نے اسے دیکھ لیااور اس پرعاشق ہوگیا ہے۔‘‘
’’بابا کچھ کریں اس کی آسیب سے جان چھوٹ جائے‘ اس کی شادی کوچھ ماہ ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک بچے کا کوئی آسرا نظر نہیں آرہاہے۔‘‘
’’بچے کاآسرا کیسے ہوگا‘ آسیب ہونے ہی نہیں دے گا۔‘‘
’’وہ کیوں ؟‘‘
’’بی بی تم بھی بہت بھولی ہو یہ آسیب ہے وہ انسان کاپکا دشمن ہے‘ وہ کب چاہے گا کہ انسانوں کی آبادی میں اضافہ ہو۔‘‘ بابا فضل الدین نے کہا۔
’’بابا یہ بات تم سچ کہہ رہے ہو ‘میرے بیٹے کی شادی کو چھ ماہ ہوچکے ہیِں مگر وہ آسیب بچے نہیں ہونے دے رہا ہے‘ بابا کچھ ایسا کردو کہ ہماری اس آسیب سے جان چھوٹ جائے۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
’’بی بی یہ اتنا آسان کام نہیں ہے‘ جتناتم نے سمجھ لیا ہے۔ تمہاری بہو پر جو آسیب ہے وہ خطرناک ہے اتنی آسانی سے نہیں جائے گا۔‘‘
’’چاہے کچھ بھی کرو‘ بس اس آسیب کوبھگادو۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
’’مجھے اس کے لیے بہت محنت کرنا پڑے گی‘ ایک اذیت سے گزر کرہی اس کاآسیب سے چھٹکارا حاصل ہوسکتاہے۔‘‘
’’بابامیں کچھ نہیں جانتی بس تمہیں اس آسیب کوبھگاناہے۔‘‘
’’بی بی تم میرے آستانے پر آہی گئی ہو تو مجھے کچھ نہ کچھ کرناپڑے گا‘ تمہاری بہو پر جو آسیب ہے وہ جلالی ہے‘ علاج کے دوران ہم پر حملہ آور بھی ہوسکتا ہے مگرمیں اس کابھی علاج کرلوں گا تاکہ اس کے حملے سے محفوظ رہاجاسکے۔‘‘ بابافضل الدین نے کہا۔
’’بابا میں تمہارے آستانے پر بڑی امیدوں سے آئی ہوں تمہاری میںنے بہت شہرت سنی ہے۔‘‘ بی بی کلثوم نے مسکہ لگایا۔
’’شہر ت بھی جبھی ہوتی ہے جب لوگوں کے مشکل کام آسانی سے ہوجاتے ہیں‘ میں جب آستانے پر بیٹھتا ہوں تو پورے آستانے کاحصار کرکے بیٹھتاہوں‘ جانتی ہو میں ایسا کیوں کرتا ہوں۔‘‘ بابافضل الدین نے کہا۔
’’کیوں کرتے ہو؟‘‘
’’میں اس لیے کرتا ہوں کہ جو عملیات کا کام کرتے ہیں ان کے آسیب بہت بڑے دشمن ہوتے ہیں‘ وہ اس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کب ہمیں موقع ملے اور عامل پرحملہ کرکے اپناانتقام لیں۔‘‘ بابا فضل الدین نے کہا۔
’’بابا جیسے بھی ہو اس کاعلاج کردیں۔‘‘ کلثوم نے کہا۔
’’کیا یہ علاج کی سختی برداشت کرلے گی؟‘‘
’’بابا سختی سے کیامراد ہے؟‘‘ بی بی کلثوم نے پوچھا۔
’’میں اس کے ہاتھ پیر باندھ کر کچھ تشدد کروں گا تاکہ آسیب گھبرا کر اس کے جسم سے نکل جائے‘ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ جلالی جنات آسانی سے قابو نہیں آتے جب ان پرتشدد ہو یہ بھاگنے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔‘‘
’’بابا تم اس کاعلاج شروع کردو‘ہمیں اس جن سے جان چھڑانا ہے‘ اس لیے ِہو کویہ تکلیف برداشت کرناپڑے گی۔‘‘
’’میں آج تمہیں چند تعویذ دے رہاہوں یہ اس کے جسم پر ملنا ہیں روزانہ ایک تعویز جسم پر مل کرجلاناہے ‘ ایک ہفتے بعد تمہیں پھریہاں آناہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے بابا‘ بی بی کلثوم نے تعویز ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
گھرجاتے ہوئے جب وہ ساس بہو رکشے میں بیٹھیں‘ بہو سے برداشت نہ ہوا‘ اوروہ بول پڑی۔
’’امی مجھے یہ بابا ڈھونگی لگ رہا ہے۔‘‘
’’اے کیامنہ سے اول فول بک رہی ہے بابا بہت پہنچے ہوئے بزرگ ہیں ان سے بہت سے لوگوں کوفائدہ پہنچا ہے۔‘‘
’’میری سمجھ میں ان کی باتیں نہیں آرہی ہیں۔‘‘
’’کون سی بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔‘‘
’’یہی کہ ہاتھ پیر باندھ کر علاج کریں گے۔‘‘
’’تیری سمجھ میں اتنی سی بات نہیں آرہی ہے کہ بابا نے کہاتھا کہ وہ دوران علاج اپنے بچائو کی غرض سے تمہارے ہاتھ پائوں باندھیں گے۔‘‘
’’وہ ٹھیک ہے لیکن میں نے سنا ہے کہ عملیات والے بابا جنات سے بچائو کی غرض سے اپناحصار باندھ لیتے ہیں تاکہ جنات ان پرحملہ آور نہ ہوسکیں۔‘‘
’’توچپ کر‘ بابا زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ کب کیا کرنا ہے جوبھی ہوگا وہ ہمارے سامنے ہی ہوگا‘ اورمیں خود بھی وہاں موجود ہوں گی تجھے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ بی بی کلثوم غصے سے بولی۔
ساس کوغصے میں آتا دیکھ کر وہ سہم سی گئی‘ اوراس نے چپ رہنے میں عافیت جانی۔
بی بی کلثوم نے باباکی بات پر مکمل عمل کیا وہ روزانہ بہو کے جسم پر ایک تعویز مل کرجلادیتی‘ وہ بہت خوش تھی اوروہ کیوں خوش نہ ہوتی اس کی مراد برآنے کی امید بھی تھی‘ امیرالدین نے اس کے ضرورت سے زیادہ خوش ہونے پر پوچھ ہی لیا۔
’’بھاگوان کیابات ہے آج کل تم بہت خوش نظر آرہی ہو۔‘‘
’’ہات ہی ایسی ہے۔‘‘
’’ایسی کون سی بات ہے جو مجھ سے بھی چھپائی جارہی ہے۔‘‘
’’تم سے کیا چھپائوں گی بہو کے حوالے سے میں خوش ہوں کہ کچھ امید پیدا ہوئی ہے۔‘‘
’’کیابہو امید سے ہے۔‘‘ امیرالدین نے پوچھا۔
’’ابھی کہاں امید سے ہوجائے گی۔‘‘
’’بھاگوان تم خوش ایسے ہوجیسے وہ امید سے ہوگئی ہے۔‘‘
’’میں بابا فضل الدین کے پاس گئی تھی اوراس نے یقین دلایاہے کہ بہو امید سے ہوجائے گی۔‘‘
’’بابافضل الدین کوکیا غیب کا علم آتا ہے کہ بہو امید سے ہوجائے گی۔‘‘
’’تم بھی نرے بدھو ہو… بابا بہو کاعلاج کریں گے۔‘‘
’’باباکیا ڈاکٹر بھی ہیں؟‘‘ امیرالدین چونکا۔
’’میں تم سے کیا کہوں میاں جی اتنی عمر ہوگئی ہے مگر عقل آج تک نہیں آئی بابا ڈاکٹر نہیں ہیں وہ بہو کاروحانی علاج کریں گے۔ انہوں نے سات تعویز دیئے ہیں اورروزانہ ایک تعویز بہو کے جسم پرمل کرجلاناہے‘ پورے تعویز جلانے پر بابا کے پاس جاناہے۔‘‘
’’بابا نے بہو کے لیے کیا بتایاہے۔‘‘ امیرالدین نے پوچھا۔
’’بابانے بتایا ہے کہ بہو پر ایک جن کااثر ہے جس کوبھگاناپڑے گا‘ کیونکہ وہ جن بچے نہیں ہونے دے گا۔‘‘ بی بی کلثوم نے بتایا۔
’’بھاگوان مجھے توپہلے ہی جنات سے ڈر لگتا ہے اب جن بہو کے ذریعے ہمارے گھر میں داخل ہوگیا ہے ‘تم بہو کاجلدی سے علاج کراکے اس جن کوبھگادو کہیں ایسانہ ہو وہ ہمارے بیٹے یاہمیں کوئی نقصان پہنچادے۔‘‘
’’میں اسی لیے بہو کاعلاج کرارہی ہوں۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
’’بیگم تم علاج میں کسی قسم کی کوتاہی مت برتنا۔‘‘امیرالدین نے کہا۔
وہ بچپن سے ہی ڈرپوک ثابت ہواتھا۔ وہ جنات سے بہت ڈرتاتھا‘ بہو پرجن کااثر سن کروہ بری طرح سے ڈر گیاتھا۔
مہ جبیں کوفضل الدین بابا پرکسی طور سے یقین نہیں آرہا تھا‘ وہ اسے فراڈی باباتصور کررہی تھی ۔ وہ بابا فضل الدین کے تعویز بھی بہت بے دلی سے اپنے جسم پر مل کرجلارہی تھی۔ مہ جبیں کا دل اپنے شوہر شاہنواز کے بغیر گھر میں نہیں لگتاتھا‘ وہ ہر ہفتے شوہر کے آنے پرشکایت کرتے ہوئے کہتی۔
’’شاہنواز مجھے کب تک تمہارے بغیر یہاں رہناپڑے گا۔‘‘
’’تم یہاں اکیلی نہیں ہوتی ہومیرے والد‘ والدہ اور بہنیں بھی یہاں ہوتی ہیں‘ تم ان کے ساتھ گھل مل کررہاکر‘ میرے والدین کواپنے والدین اورمیری بہنوں کو اپنی بہن سمجھ کرزندگی گزارو۔‘‘
’’شوہر کی خاطر میں اپنا گھر چھوڑ کرآئی ہوں اور تم میرے پاس ہوتے نہیں ہو یقین کرو میں تمہارے نہ ہونے پر کس قدر بوریت محسوس کرتی ہوں۔‘‘
’’تم بوریت کا شکار کیوںہوتی ہو‘ارے بھئی ٹی وی پروگرام دیکھو‘گانے سنو‘ کتابیںپڑھو تمہیں کس نے روکا ہے۔‘‘
’’میں ہر وقت ہی کتابیں پڑھتی رہوں‘ ٹی وی اور گانوں سے دل نہیں بہلاسکتی مجھے شوہر کی رفاقت چاہیے۔‘‘
’’بس یہ کچھ دن کی دوری ہے پھر ہم ہمیشہ ایک ساتھ رہیں گے۔‘‘
’’یہ سنتے ہوئے مجھے چھ ماہ کاعرصہ بیت گیاہے‘ ابھی تک کچھ ایسے آثار ظاہر نہیں ہوئے کہ پتاچلے کہ ہم ساتھ رہ سکیں۔‘‘
’’جانو لوگ اپنے بیوی بچوں کی خاطر مستقبل سنوارنے بیرون ملک چلے جاتے ہیں اور کئی کئی سال بعد ملنے آتے ہیں‘ تم خوش نصیب ہو کہ میں تم سے دو ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر رہتاہوں ایمرجنسی کی صورت میں جب چاہوں تمہارے پاس آسکتاہوں۔‘‘ وہ کہتا۔
’’مجھے اس طرح جھوٹی تسلیاں مت دیا کرو سچ‘ سچ بتائو کہ یہ دوریاں کب ختم ہوں گی۔‘‘
’’میں تمہیں کیسے سمجھائوں۔‘‘
’’میں کچھ سمجھنا نہیں چاہتی‘ مجھے بس یہ بتائو کب ہمیں اپنے ساتھ رکھوگے۔‘‘ وہ غصہ کرتی۔
ابتدامیں بہو مہ جبیں بہل جاتی تھی مگر اب ضد کرنے لگی تھی شوہر کی جدائی اسے برداشت نہیں ہوتی تھی‘ بہو کی اکثر اس معاملے میں تو‘ تو‘ میں‘میں ہونے لگی تھی‘ وہ بہو کو ساتھ رکھنا چاہتی تھی اور بہو شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔
ایک دن ساس بہو میں ساتھ رہنے کے معاملے پر اس قدر تکرار بڑھی کہ وہ بے ہوش ہوگئی۔ بی بی کلثوم فوراً دوڑی دوڑی ڈاکٹر کے پاس گئی‘ ڈاکٹر نے بہو‘ مہ جبیں کو گھر آکر چیک کیا اور بتایا کہ اسے ذہنی صدمہ پہنچا ہے‘ جس کے سبب بے ہوش ہوگئی ہے۔ انجکشن لگنے اور دوائی کھانے سے اسے وقتی آرام آگیاتھا لیکن اب مہ جبیں کوغشی کے دورے پڑنے لگے تھے۔
مہ جبیں کوعامل فضل الدین کے پاس لے جاتے ہوئے بی بی کلثوم کوپندرہ دن ہوچکے تھے۔ بابا فضل الدین نے ابھی تک مہ جبیں کوباندھ کر اس پرتشدد نہیں کیاتھا‘ تیسری مرتبہ جانے پربھی اسے ایسے ہی بٹھایا ہواتھا‘ وہ اپنی آنکھیں بند کیے کچھ پڑھ رہے تھے۔ بابا فضل نے اپنی آنکھیں کھول کر غصے سے مہ جبیں کوگھورا۔
’’بول تو اسے چھوڑے گایانہیں ؟‘‘
مہ جبیں خاموش رہی وہ اسے مسلسل خاموش دیکھ کرغصے میں آگئے اور اپنے پاس رکھی چھڑی مہہ جبیں پربرسانی شروع کردی۔ مہ جبیں اس آفت سے گھبرا کراپنی ساس کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرنے لگی۔ ساس نے مہ جبیں کودھکادے کر واپس اسے عامل بابافضل کے آگے کردیا۔ بابا فضل الدین نے بڑی بے رحمی سے مہ جبیں پرلک چھڑی سے مارنا شروع کردیا۔ وہ سسک پڑی اور روناشروع کردیا۔ مہ جبیں کو روتادیکھ کر عامل بابا فضل الدین نے اپناہاتھ روک لیا۔
’’بڑاہی ڈھیٹ ہے اتنی مار کھا کربھی بول نہیں رہا ہے۔‘‘ عامل بابافضل الدین نے کہا۔
’’بابا اب کیاہوگا؟‘‘ بی بی کلثوم نے پوچھا۔
’’توفکرنہ کر میرے آستانے پر آئی ہے تجھے خالی ہاتھ نہیں لوٹائوں گا۔‘‘
’’بابا یہ جن بہو کوچھوڑ دے گانا؟‘‘
’’یہ جن بہت ڈھیٹ ہے اتنی مار کھا کر بھی خاموش ہے میں اس کوبولنے اور بھاگنے پرمجبور کردوں گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے بابافضل الدین نے کئی جلتی اگربتیوں کا دھواں مہ جبیں کے چہرے پر کردیا‘ جس سے بہو کی حالت خراب ہوگئی اوراس کادم گھٹنے لگا‘ کچھ دیر گزرنے پر مہ جبیں کے چہرے کے سامنے سے اگر بتیوں کوہٹالیا‘ اگربتی ہٹنے پر اس نے سکھ کاسانس لیا ورنہ بہو کویقین ہوچلاتھا کہ عامل بابا اس کادم گھونٹ کرہلاک کردے گا۔
’’ٹھیک ہے آج اس خبیث کے لیے اتنا ہی کافی ہے‘ تم تین دن بعد آنا اور یہ تین تعویز دے رہاہوں تم بہو کے جسم پر روزانہ ایک تعویز مل کرجلادینا۔‘‘ بابافضل الدین نے کہا۔
بی بی کلثوم نے بابا فضل الدین کی بات پرپورا عمل کیااور تین دن بعد پھربہو کو لے کر عامل بابافضل الدین کے آستانے پرپہنچ گئی۔ مہ جبیں آستانے پرجانے کوتیار نہ تھی۔
’’امی مجھے اس باباکے پاس نہیں جانا۔‘‘
’’کیوں نہیں جانا۔‘‘ بی بی کلثوم نے غصے سے آنکھیں نکالیں۔
’’وہ خواہ مخواہ مجھ پرتشدد کررہاہے‘ وہ جن کومارنے کی بجائے مجھے ماررہاہے۔‘‘ مہ جبیں نے کہا۔
’’یہ تمہارا وہم ہے ایسی بات نہیں ہے۔‘‘
’’مار مجھے پڑرہی ہے اور کہہ رہی ہو مجھے وہم ہوگیاہے۔‘‘
’‘’زیادہ باتیں مت بنا‘ خاموشی سے اپنا علاج کرالے۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
مہ جبیں نے بہت ضد کی کہ وہ بابا فضل الدین کے پاس نہیں جائے گی‘ بی بی کلثوم نے اس کی ایک نہ سنی اور زبردستی بابا کے پاس لے گئی ۔
’’بابا بہو آستانے پر آنے سے انکار کررہی تھی میں اسے زبردستی لے کرآئی ہوں۔‘‘ بی بی کلثوم نے بتایا۔
’’عامل فضل الدین نے زیرلب کچھ پڑھااور آستانے کی چھت کی طرف دیکھا۔
’’جن بہت پریشان ہوگیا‘ وہ بہو کوکسی صورت میں چھوڑنے کوتیار نہیں ہے۔ اس لیے وہ بہوکو کسی نہ کسی طرح آستانے پر آنے سے روکنا چاہتا ہے‘ تم بہو کی بہتری چاہتی ہو تواسے آستانے پر لاتی رہو‘میں اس جن کوبھگا کر ہی دم لوں گا۔‘‘ بابا فضل نے کہا۔
’’بابا میں نے اس لیے بہو کی ایک نہ چلنے دی‘ اور یہاں لے آئی ہوں۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
’’تم نے بہت اچھا کیا۔‘‘ بابا فضل الدین نے کہا۔
آستانے کے برابر میں ایک اور کمرہ تھا۔ بابا فضل الدین مہ جبیں کو اس کمرے میں لے گیااور ساس کی مدد سے بہو کے ہاتھ پیر باندھ دیئے اوراسے سیدھا زمین پر لٹادیا‘ اورایک چراغ جلادیا‘عامل بابا نے ایک پھل کاٹنے والاچاقو بھی نکال کراپنے ہاتھ میں لے لیاتھا۔
’’بی بی تم اب کمرے سے نکل کرآستانے میں بیٹھ جائو‘ کیونکہ تمہاری بہو کاجن اس میں سے نکل کر تمہارے جسم میں داخل ہوکرمجھ پرحملہ آور ہوسکتا ہے۔ تمہارے جسم میں جن کاایک بار داخل ہونے کامطلب ہے کہ وہ تم دونوں کوتنگ کرے گا۔‘‘ بابا فضل الدین نے کہا۔
بی بی کلثوم خوف زدہ ہو کر کمرے سے نکل گئی۔
بابافضل نے چاقو کی نوک کوچراغ کی لو پرگرم کرتے ہوئے منہ میں کچھ پڑھنا بھی شروع کردیاتھا۔ بہو خوف زدہ تھی کہ نہ جانے اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
’’بول اس کاپیچھا چھوڑے گایانہیں۔‘‘ بابا فضل الدین نے کہا۔
مہ جبیں پر جن کااثر ہوتا تو وہ بولتی‘ وہ خوف زدہ نظر سے بابافضل کو دیکھ رہی تھی۔
اچانک بابا فضل نے چاقو کی سرخ نوک مہ جبیں کے بازو میں لگادی۔ مہ جبیں کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے دہکتا انگارہ اس کے بازو پررکھ دیاہے اس کی چیخ نکل گئی۔ یہ عمل بابا فضل الدین نے کئی بار دہرایا اور مہ جبیں کی خاموشی پر اس نے بی بی کلثوم کو آواز دے کر کمرے میںَ بلا کر مہ جبیں کے ہاتھ پیر کھولنے کاحکم دیا۔ بی بی کلثوم نے مہ جبیں کے ہاتھ پیر کھول دیئے ۔ بابافضل نے تین تعویز جلانے کے دے کر تین دن بعد انہیں بلالیا‘ مہ جبیں کوگرم گرم چاقو لگنے سے بازومیں سخت تکلیف ہو رہی تھی۔
’’یہ جن بڑا ڈھیٹ ہے اپنی زبان نہیں کھول رہا ہے مگرمیں اس کی زبان کھلواکر رہوں گا اور جب تک یہ بہو کاپیچھا نہیں چھوڑ دیتا میں بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
’’بابا یہ جن کب تک پیچھا چھوڑے گا۔‘‘
’’میں دیکھ رہاہوں کہ یہ جلد سے جلد اس کاپیچھا چھوڑ دے ورنہ میں اس جن کوجلا کربھسم کردوں گا۔‘‘ بابا فضل الدین نے کہا۔
’’بابا بہو کو تو کچھ نہ ہوگا۔‘‘
’’بہو کو کیسے کچھ ہوسکتاہے ہم کس لیے بیٹھے ہیں‘ جنات کی پوری فوج بھی آجائے میں اس پوری فوج کودیکھ لوں گا۔‘‘ بابا نے کہا۔
بی بی کلثوم بابا کی بات سن کر خوش ہوگئیں۔
’’امی میں اب اس بابا کے پاس نہیں آئوں گی۔‘‘ مہ جبیں نے رکشے میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’کیوں نہیں آئے گی۔‘‘ ساس چونکی۔
’’یہ بابا بہت ظالم ہے یہ دیکھو اس نے میر ابازو زخمی کردیاہے۔‘‘ مہ جبیں نے اپنا زخمی ہاتھ دکھایا۔
’’بابایہ سب تمہارے بھلے کو کررہے ہیں‘ تجھ پرجس جن کااثر ہے وہ اپنا منہ نہیں کھول رہا ہے۔ اس کے منہ کھولنے پرکچھ کام بنے گاورنہ بابا کواس جن کوجلاناپڑجائے گا۔‘‘ بی بی کلثوم نے بتایا۔
گھر پہنچ کر بھی مہ جبیں نے ہاتھ پیر پٹخے مگر بی بی کلثوم نے اس کی نہ سنی اور اپنا یہ فیصلہ برقرار رکھا کہ اسے باباسے علاج کرانا پڑے گا۔
دوسرے دن رات گئے اس کاشوہر شاہنواز بھی گھر لوٹ آیا تھا۔ وہ اپنے شوہر سے بابا سے علاج کے بارے میں بتاچکی تھی اور وہ اس سے علاج نہ کرانے کا کہہ چکی تھی مگروہ بھی اپنی ماں بی بی کلثوم کاحامی نکلااور بولا۔
’’دیکھومیری امی تمہارے بھلے کو یہ کررہی ہیں کیاتم نہیں چاہتی کہ تمہارا جن سے چھٹکارا حاصل ہوجائے اور اس گھر کے آنگن میں ہمارے بچے کھیلیں۔‘‘
’’کون عورت نہیں چاہے گی کہ اس کے بچے ہوں مگروہ بابا بہت ظالم ہیں۔ میرے چھڑی مار مار کر جسم میں لکیریں ڈال دیں۔‘‘ مہ جبیں نے اپنے اوپر کیے تشدد کے نشانات دکھائے۔ ’’یہ دیکھو میرا بازو اس پرچاقو گرم کرکے اس کی نوک میرے بازو پر کئی بار لگائی ہے۔‘‘
تشدد کے نشانات دیکھ کر شاہنواز کو ایک اذیت کااحساس ہوا مگر وہ پھر بولا۔
’’دیکھو میری امی تمہارے بھلے کو یہ کررہی ہیں ہرعامل کااپنا اپناعلاج کا طریقہ کار ہوتا ہے ہوسکتا ہے تمہارا علاج اسی طرح ممکن ہو۔‘‘ شوہر شاہنواز نے یہ کہہ کر اسے خاموش کرادیاتھا۔
دوسرے ہفتے شوہر شاہنواز کودیکھ کر مہ جبیں نے اپنا دوسرا بازو دکھاتے ہوئے پھٹ پڑی۔
’’دیکھو اس بوڑھے ڈھونگی بابا نے میرے دوسرے بازو کوبھی چاقو سے زخمی کردیاہے‘ ابھی اس نے دونوں بازو زخمی کیے ہیںکل کووہ ظالم میرے پورے جسم کوزخمی کرکے رکھ دے گا۔‘‘
دونوں زخمی بازو دیکھ کر ایک لمحے کو شاہنواز کوبہت دکھ ہوا اور پریشانی کے عالم میں اپنی امی سے بابا کے ظلم پراحتجاج کیا۔ بی بی کلثوم غصے سے پھٹ پڑیں۔
’’میں کیا تمہارا برا چاہوں گی۔‘‘
’’میں کب کہہ رہاہوں کہ تم میرا برا چاہوگی‘ میرا کہنے کامطلب ہے کہ …‘‘
’’میں خوب سمجھ رہی ہوں یہ بہو نہیں وہ حرامی جن کہہ رہا ہے وہ چاہتا نہیں ہے کہ ہم بہو کاعلاج کرائیں اس لیے وہ بہو کوبابا سے بدظن کررہاہے‘ یہ تشدد بہو پرہو رہاہے اس سے کہیں زیادہ تکلیف پڑھائی کے ذریعے خبیث جن کوپہنچ رہی ہے‘ اور وہ چاہتاہے کہ کسی طرح بہو کاعلاج رک جائے۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
’’امی یہ بات تم ٹھیک کہہ رہی ہو‘ واقعی ایسا ہی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔
’’ہاں کیابولیں امی؟‘‘ بہو نے شاہنواز کو اپنے کمرے میں دیکھ کر پوچھا۔
’’امی جان سے میری بات ہوگئی ہے اورمیں ان کی بات سے بالکل مطمئن ہوں۔ تم اپنا علاج جاری رکھو۔‘‘
’’چاہے وہ مجھے جان سے مار دے۔‘‘ مہ جبیں غصے سے بولی۔
’’وہ تمہارا دشمن نہیں ہے جو تمہیں جان سے مارے گا تم شک و شبہے میں نہ پڑو اور اپنا علاج کراتی رہو‘ میں تمہیں کسی قسم کانقصان پہنچنے نہیں دوں گا‘ میں ہر طرح سے تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘ شاہنواز نے کہا۔
’’اور یہ جو تکلیف پہنچ رہی ہے۔‘‘ بہو نے دونوں بازو دکھاتے ہوئے کہا۔
’’میں مانتا ہوں تمہیں تکلیف ہوئی ہے لیکن کسی بڑی تکلیف سے چھوٹی تکلیف اچھی ہے‘ کم از کم اس منحوس جن سے تمہیں چھٹکارا مل جائے گااورہم سکون سے زندگی بسر کرسکیں گے۔‘‘ شاہنواز نے کہا۔
مہ جبیں کوکئی بار بابافضل الدین کے پاس جاناپڑااورہربار بابا فضل الدین اس کے جسم کو کسی نہ کسی جگہ سے داغ دیتا‘ اس کا کئی جگہ سے جسم داغ دار ہوچکاتھا‘ ہربارساس اور شوہر سے ضد کرتی کہ وہ بابافضل کے پاس نہیں جائے گی مگر بی بی کلثوم زبردستی لے جاتی‘ مہ جبیں بابافضل سے بے زار ہوچکی تھی‘ ایک دن غصے میں آکر مہ جبیں نے عامل بابا فضل سے بدتمیزی کرہی ڈالی۔
’’بابا تم کیوں ہربارمیرے جسم کوداغ دیتے ہو‘ کیاتمہیں ذرابھی احساس نہیں ہوتا کہ میں کس اذیت سے گزرتی ہوں۔‘‘
’’میں تمہارے بھلے کو یہ کرتاہوں۔‘‘
’’تمہاری بیٹی کیساتھ کوئی ایسا کرے پھرتمہیں کیسا لگے گا‘ کس قدر تکلیف ہوگی۔‘‘
’’تمہیں اپنا علاج نہیں کرانا مت کرائو اوریہاں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ بابافضل نے اسے غصے سے گھورتے ہوئے کہا۔
’’میں کب علاج کرانے آتی ہوں میری ساس زبردستی لے آتی ہے۔‘‘
’’میں بھی تمہاری ساس کے کہنے پر ہی علاج کررہاہوں‘ وہ تمہیں نہ لائے تو میں بھی تمہارا علاج نہ کروں۔‘‘ بابا فضل نے کہا۔
’’مجھے تم دھوکے باز لگتے ہو۔‘‘
’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘
’’میں ٹھیک کہہ رہی ہوں اتنے دن ہوگئے ہیں تمہیں میرا علاج کرتے ہوئے آج تک جن ظاہر نہیں ہوا اورمیںنے جتنے بھی عامل دیکھے ہیں انہیں تعویز اور پڑھائی سے جن کوضرور بھگاتے ہوئے دیکھا ہے تم پہلے بابا ہو جو میرے جسم کوزخمی کیے جارہے ہو۔‘‘ بہو نے غصے سے کہا۔
بابا فضل الدین کاغصے سے چہرہ سرخ ہوگیاتھا۔ اسے بہو کی بات ناگوار گزری تھی۔ مہ جبیں کے زبان چلانے کایہ فائدہ ہوا اس دن بابا نے اس کاجسم چاقو سے نہیں داغا‘ اس نے تین تعویز جلانے کے لیے دے کر ساس بہو کوروانہ کردیا۔
’’کیابات ہے آج بابا بہت غصے میں تھے۔‘‘ بی بی کلثوم نے رکشے میں بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ میری بات پر غصہ ہوگئے تھے۔‘‘
’’کون سی بات‘‘
’’مجھ سے برداشت نہیں ہوااورمیںنے کہہ دیا کہ جن ابھی تک ظاہر نہیں ہوااو ر تم میرے جسم کوداغدار بناتے رہتے ہو۔‘‘
’’تمہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
’’کیوں نہ کہتی۔‘‘
’’کہیں بابا ناراض ہوکرتمہارا علاج کرنانہ چھوڑ دیں۔‘‘ بی بی کلثوم نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’وہ علاج نہیں چھوڑیں گے ہاں ایک فائدہ ہوگیا کہ آج بابانے میرے جسم کوداغا نہیں بس پڑھائی کرکے گھربھیج دیاہے۔‘‘ مہ جبیں نے کہا۔
بی بی کلثوم مہ جبیں کی بات سن کر پریشان سی ہوگئی تھی اسے یہ خطرہ پیدا ہوگیاتھا کہ بابا فضل الدین کہیں بہو کاعلاج کرنے سے نہ روک دیں۔
گھر پہنچ کر مہ جبیں بہت خوش تھی اس نے آج کے واقعے سے اندازہ لگالیاتھا کہ اب عامل بابا فضل الدین اس کے جسم پر تشدد نہیں کریں گے۔ بہو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ چکی تھی کہ اس پرجن کااثر نہیں ہے اگر ہوتا تووہ اب تک ظاہر ہوجاتا‘ اب وہ محض ساس کی تسلی کے لیے علاج کرارہی تھی اور یہ چاہتی تھی کہ بابا فضل اس پرتشدد نہ کرے۔
مہ جبیں کی یہ خوش فہمی تھی کہ بابافضل کو اس کی بات کڑوی لگی تھی مگر وہ اس وقت بات کو پی گئے تھے مگر انہیں مہ جبیں پرسخت غصہ آرہاتھا۔ اسے مہ جبیں کا اس طرح سے بدتمیزی کرنابالکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔
بی بی کلثوم جب بہو کو لے کر گئی آستانے پر خواتین کا رش کم ہوچکاتھا‘ ورنہ وہ جب بھی بابا کے پاس جاتی تھی خواتین کاآستانے پر ہجوم رہتاتھا۔چند خواتین آستانے پر بیٹھی تھیں بابا نے انہیں جلدی سے رخصت کردیا‘ خواتین کے رخصت ہوجانے پربابا ساس اوربہو کوبرابر کے کمرے میں لے گیااور ہربار کی طرح بہو کے ہاتھ پیر باندھ کر سیدھازمین پر لٹادیا۔ بی بی کلثوم جب کمرے سے نکل کر باہر جانے لگی تو بابا فضل نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
’’بی بی آج تمہیں ایک کام کرناہوگا۔‘‘
’’وہ کیا بابا؟‘‘
’’یہ کچھ سامان ہے جلدی سے پنساری کی دکان سے لے آئو۔‘‘ بابا فضل الدین نے ایک لسٹ اسے تھمادی۔
کاغذ پر چند چیزوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔
’’بابا یہاںپنساری کی دکان کہاں پر ہے۔‘‘ بی بی کلثوم نے پوچھا۔
’’باہر سڑک پر نکل کر دیکھودس پندرہ منٹ کے فاصلے پر پنساری کی دکان آجائے گی۔‘‘ بابا فضل نے کہا۔
’’امی جلدی آجانا۔‘‘ بہو نے کہا۔
’’ہاں‘ ہاں جلدی آجائوں گی میںکون ساوہاں بسنے جارہی ہوں۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
بی بی کلثوم کے جانے پر بابا فضل الدین نے پانچ منٹ بعد کمرے کادروازہ بند کردیا۔ اس کے چہرے پر ایک مکروہ مسکراہٹ تھی۔ جسے بہو محسوس کیے بغیر نہ رہ سکی تھی۔
’’یہ دروازہ کیوں بند کردیا۔‘‘ بہو نے پوچھا۔
’’تجھے اس دن بدتمیزی کرنے کامزا چکھانا ہے۔‘‘ بابا فضل نے کہا۔ ’’ہاں مزاچکھاناہے۔‘‘ وہ زور زور سے ہنسنے لگا مہ جبیں اپنا جسم بندھاہونے پربے بس تھی وہ بہو کی طرف لپکا اوراسے بری طرح بھنبھوڑنے لگا۔
’’خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو۔‘‘ وہ زور سے چیخی۔
’’خاموش رہو تمہاری آواز اس کمرے سے باہر نہیں جاسکتی۔‘‘ بابافضل نے کہا۔
بہومہ جبیں نے بندھاہونے کے باوجود مزاحمت کی مگر وہ اپنی عزت بچانے میں ناکام رہی۔
بی بی کلثوم خاصی دیر سے پہنچی تھی۔بابافضل نے دھوکے سے بی بی کلثوم کو خاصی دوربھیج دیاتھا اوروہ پورے ایک گھنٹے بعد لوٹی تھی۔ وہ جب آستانے پر لوٹی بابا فضل زیر لب کچھ پڑھ رہاتھا‘ بی بی کلثوم سے وہ اشیا لے کر ان پردم کیا۔
’’یہ سب اشیا تمہیں بہو کوتین دن ‘ تین مرتبہ دن میں کھلانی ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ بابا میں ایساہی کروں گی۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
’’وہ مردود جن آج بول ہی پڑا کہہ رہاتھا کہ میں اسے نہیں چھوڑ سکتا چاہے کچھ بھی ہوجائے۔‘‘
میں نے بھی کہہ دیا‘ اس کاپیچھا چھوڑ دے ورنہ میں تجھے جلا کربھسم کردوں گا۔‘‘
’’بابااس مردود جن کوجلا کربھسم کردوتاکہ ہماری جان چھوٹ جائے۔‘‘
’’ہاں چھوٹ جائے گی لیکن ایک بات کاخیال رکھنا کہ یہ جن پوری کوشش کرے گا کہ کسی طرح مہ جبیں کاعلاج ادھورا رہ جائے اور اس مقصد کے لیے وہ بہو سے مختلف جھوٹ بھی کہلوائے گا تاکہ تم غصے میں آکر علاج نہ کرائو اوروہ مردود اس کے جسم پرقابض رہے۔‘‘
’’بابا تم بے فکر رہو ایسا ہی ہوگا‘ میں اس کی باتوں میں نہیں آئوں گی۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
’’شاباش؛ مجھے تم سے یہی امید تھی۔ یہ جنات جب انسانوں پر آجاتے ہیں پھربڑی مشکل سے جان چھوڑتے ہیں۔‘‘ بابا فضل نے کہا۔
مہ جبیں بی بی کلثوم کو دیکھ کرسسک پڑی اور اس کے آنسو نکل پڑے‘ بی بی کلثوم نے اس کے ہاتھ پائوں کھول دیئے‘ بہو ساس کے گلے لگ کر روپڑی۔
’’صبر کر میری بیٹی سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ‘‘ بی بی کلثوم نے اسے تسلی دی۔
بہوکے آنسو تھے کہ تھم نہیں رہے تھے اس کادل بھر بھر کرآرہاتھا۔
’’امی… امی… تم نے اتنی دیر کیوں لگادی۔‘‘ مہ جبیں نے گھر جاتے ہوئے پوچھا۔
’’میں کیا کرتی وہ پنساری کی دکان دور تھی آنے میں دیر ہوگئی۔‘‘
’’تمہارے جانے کے بعد…‘‘
’’مجھے پتا ہے آج جن بول پڑاتھا‘ بابا نے مجھے سب بتادیا ہے۔‘‘ بی بی کلثوم نے کہا۔
’’امی وہ … ‘‘ مہ جبیں نے اپنے بہتے آنسو پونچھے۔
’’اب خاموش رہ مجھے پتا ہے کہ وہ مردود جن تجھ سے جھوٹ پر جھوٹ بلوا کرتیرا علاج مکمل کرانے سے رکوانے کی کوشش کرے گا مگر میں ہرگز بھی تیراعلاج ادھورا نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ بی بی کلثوم نے بہو کوچپ کرادیا۔
گھرپہنچ کربھی کئی بار مہ جبیں نے ساس کو یہ بات بتانے کی کوشش کی‘ بابا فضل نے اسے زیادتی کانشانہ بنایاہے مگر بی بی کلثوم نے اس کی بات سنی ہی نہیں مہ جبیں کو اپنی ساس پرسخت غصہ آرہا تھا کہ وہ اس کی بات نہیں سن رہی ہے۔
اس دن کے بعد بابافضل کاحوصلہ بڑھ گیاتھا‘ اس نے کئی بار مہ جبیں کو اپنی ہوس کانشانہ بنایا‘وہ ہر بار بی بی کلثوم کو کچھ لینے بھیج دیتاتھا‘ اور بی بی کلثوم کی غیر موجودگی کافائدہ اٹھالیتا وہ ساس کوبتانے کی کوشش کرتی مگر بابا فضل نے اپنی باتوں میں ایسا پھنسالیاتھا ‘ بی بی کلثوم مہ جبیں کی کوئی بات سننے کو تیار نہ ہوتی تھی ۔ وہ بابا فضل کی تعریفیں کرتے نہ تھکتی تھی۔ وہ ہر بار جن کے حوالے سے بی بی کلثوم کو بات بتاتا کہ وہ خوش ہوجاتی تھی‘ وہ یہی سمجھ رہی تھی بہت جلد مہ جبیں کو جن سے چھٹکارا مل جائے گا۔
مہ جبیں جب بھی اپنے شوہر شاہنواز کو باباکے بارے میں کچھ بتانے کومنہ کھولتی شوہر کا منہ غصے سے سرخ ہوجاتاتھا۔ وہ بھی بابا کے خلاف کوئی بات سننے کوتیار نہ ہوتاتھا‘ وہ جب عامل بابا کاذکر چھیڑتی وہ غصے میں آجاتااور کہتا۔
’’میں بابا کے متعلق کچھ سننا نہیں چاہتا‘ مجھے امی نے سب کچھ بتادیاہے کہ جن تمہارے علاج کوادھورا رکھنے کو تم سے جھوٹی باتیں کہلوائے گا تاکہ ہم غصے میں آکر تمہارا علاج کرانا بند کردیں مگرہم تمہارے منہ سے بابا کے متعلق کوئی بات نہیں سنیں گے تاکہ ہمیں غصہ نہ آئے اور تمہارا علاج بھی ہوجائے۔
بہو مہ جبیں کواپنی ساس بی بی کلثوم اور شوہر شاہنواز سے اس قسم کی بالکل بھی توقع نہ تھی۔ وہ ایک جھوٹے اور فریبی بابا کے چکر میں آچکے تھے اور وہ ان کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاکر بہو کوہوس کانشانہ بنارہا تھا‘ اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ وہ کیا کرے‘ بابافضل الدین کی صورت دیکھ کر مہ جبیں کوکراہیت کااحساس ہوتاتھا‘وہ بہت ہاتھ پیر زمین پر مارتی تھی کہ مجھے بابا کے پاس نہیں جانا مگر بی بی کلثوم اس کی ایک نہ سنتی تھی اوراسے اپنے ساتھ لے جاتی اورساتھ یہ بھی کہتی جاتی۔
’’میری بیٹی مجھے پتا ہے کہ وہ مردود جن نہیں چاہتا کہ تیرا علاج ہومگرمیں تیرا علاج کراکے دم لوں گی‘ مجھے پوتا پوتی چاہیے اور وہ تیرے علاج سے ہی ممکن ہیں۔‘‘ ایک دن بی بی کلثوم کے سامان لے جانے پر مہ جبیں پھٹ پڑی۔
’’تجھے شرم وغیرت نہیںآتی میں تیری بیٹی کے برابر ہوں‘ پھربھی تم میرے ساتھ ایسا کام کرتے ہو۔‘‘
’’یہاں آستانے پر آنے والی ہر عورت ‘میرے نزدیک ایک عورت ہے جس پر میر ادل آجائے میں اسے لازمی اپنی ہوس کانشانہ بناتاہوں‘ اورمیں ایسا کیوں نہ کروں ہر کوئی اپنی عورتیں اپنی مرضی سے یہاں چھوڑ کرجاتے ہیں‘میں کسی کے گھر‘ کسی عورت کوبلانے نہیں جاتا۔‘‘
’’تم مکاری اور فریب سے گھروالوں کوبے وقوف بناتے ہو۔‘‘
’’وہ بے وقوف بننا چاہتے ہیں اورمیں ان کوبے وقوف بناتاہوں۔‘‘
’’تم انتہائی گھٹیا انسان ہو‘ میں تمہارے منہ پر تھوکتی ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے بابا فضل کے قریب آنے پر اس کے منہ پر تھوک دیا۔
بابا فضل کو اس طرح چہرے پر تھوک دینا پسند نہ آیا‘اس نے غصے سے بہو کودیکھا بہو کاخیال تھا کہ آج وہ اسے کچھ نہیں کہے گا مگر اس کاخیال غلط نکلا‘ اوراس نے بہو کوہوس کانشانہ بناکرچاقو کوچراغ کی لو پرگرم کرنا شروع کردیا‘ چاقو کو گرم ہوتادیکھ کربہو سمجھ گئی آج یہ ضروراس کے جسم کوگرم چاقو سے داغے گا‘ اوروہی ہوا‘ بابا فضل نے بی بی کلثوم کے آنے سے پہلے پہلے مہ جبیں کی گردن اور کئی حصوںکوداغ دیاتھا۔
بی بی کلثوم کے آنے پر بابا فضل نے بڑے فخرسے بتاتے ہوئے کہا۔
’’آج میںنے جن کوایسا سبق سکھایاہے کہ وہ بہو کوتنگ نہیں کرے گا‘ پھربھی وہ آیا تو میں سے جلا کربھسم کردوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے بابا کیا اب بھی بہو کولاناپڑے گا۔‘‘ بی بی کلثوم نے پوچھا۔
’’میں جب تک منع نہ کروں بہوکولاتی رہنا‘ میں اس کو ایسا سبق سکھانا چاہتا ہوں کہ دوسرے جن بھی اس سے سبق حاصل کریں۔‘‘ بابا نے ایک مکروہ مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے مہ جبیں کودیکھا۔
مہ جبیں بابا فضل کونفرت سے دیکھتی ہوئی گھر آگئی‘ گھر جاتے ہوئے مہ جبیں کے من میں کیا تھا یہ کسی کونہیں پتاتھا‘ وہ دل ہی دل میں ایک فیصلہ کرچکی تھی اوراسے اس پرعمل کرنا تھا۔ دوسرے دن صبح ہونے پر اس کی حالت بگڑ گئی‘ بی بی کلثوم اور امیرالدین بہو کو لے کراسپتال بھاگے۔
’’مجھے اسپتال لے جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘‘ بہو نے کہا۔
’’کیوں فائدہ نہیں ہے ۔‘‘ بی بی کلثوم نے پوچھا۔
’’تم لوگ میری بات سننے کوتیار نہ تھے اور وہ مردود بابافضل ہربار میری آبرو ریزی کررہاتھا اس لیے روز ‘روز اپنی عزت گنوانے سے میں نے بہتر یہی جانا کہ اس زندگی کاخاتمہ کرلوں‘ میں نے کالا پتھر پیس کر پی لیاہے‘ کسی لمحے بھی مجھے موت آسکتی ہے۔‘‘ بہو نے اعتراف کرتے ہوئے کہا۔
بہو کی بات سن کر دونوں کوحیرت کاجھٹکالگا‘ بی بی کلثوم کے ذہن میں یہ بات آئی نہیں تھی کہ اس کی بہو کے ہاتھ پائوں رسیوں سے باندھ کر بابا فضل اسے ہوس کانشانہ بھی بنا سکتاہے‘ وہ سادگی میں ماری گئی تھی۔
اسپتال پہنچنے پر بہونے پولیس کے سامنے اپنا بیان لکھوا کردم توڑ دیاتھا۔
پولیس نے بابا فضل کو گرفتار کرنے کے لیے آستانے پر چھاپہ مارا مگر بابافضل کواس کی خبر پہلی ہی ہوچکی تھی۔ اس لیے وہ فرار ہوگیاتھا۔ پولیس نے ہراس جگہ چھاپے مارے جہاں وہ مل سکتاتھا مگر کامیابی نہ ہوسکی۔
امیرالدین کے گھر میں ماتم ہورہاتھا‘ اس ماتم کا اب کوئی فائدہ نہ تھا‘ بی بی کلثوم اگر پہلے اپنی بہو کی بات سن لیتی تو ممکن تھا کہ بہو کی زندگی بچ جاتی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close