NaeyUfaq Oct-18

گفتگو

اقبال بھٹی

گفتگو

عزیزان محترم… سلامت باشد
وسال نو مبارک ہو۔
اسلامی سال نو ہمارے لیے دو دکھ بھری خبریں لے کر طلوع ہوا ہے پہلی تو نئے افق بلکہ کراچی سے شائع ہونے والے تمام ڈائجسٹوں کے دیرینہ رفیق ذاکر حسین کی جدائی کی خبر ملی، ہر وقت قہقہے بکھیرنے والے ذاکر بھائی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ نئے افق اور نیا رخ کے سیکڑوں سرورق ان کی محنت شاقہ کا نتیجہ تھے ہمیں اس خبر پر ابھی بھی یقین نہیں آرہا یوں لگتا ہے وہ دفتر کا دروازہ ابھی کھولیں گے چائے کا کہیں گے اور کوئی تازہ لطیفہ سنا کر دفتر کو زعفران زار کردیں گے انہوں نے اپنی زندگی میں سیکڑوں شاگرد بنائے لیکن وہ فن کی اتنی بلندیوں پر تھے کہ کوئی بھی ان تک نہ پہنچ سکا اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل دے دوسری خبر ہمیں رات گئے ملی کہ اے پی این ایس کے ہمارے ساتھی روزنامہ قومی اخبار کراچی کے بانی اور ایڈیٹر الیاس شاکر طویل علالت کے باعث چل بسے ان کی جدائی سے صحافت کا ایک باب بند ہوگیا انہوں نے شام کو شائع ہونے والے اخبارات کو ایک نئی جہت و انداز دیا ایک نمائندے کی حیثیت سے زندگی کا آغاز کرنے والے الیاس شاکر نے قومی اخبار کو صف اول کا نہ صرف اخبار بنایا بلکہ نئے آنے والے نوجوانوں کے لیے اکیڈمی میں تبدیل کردیا، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، آمین۔
محترم ابن صفی کے چاہنے والوں اور ابن صفی فینز کلب کے ساتھیوں کا ہم پر دبائو ہے کہ ہم ہر ماہ بر صغیر کے عظیم مصنف کے حوالے سے کوئی نہ کوئی تحریر ضرور دیں سو اس ماہ محترم ابن صفی کے کرداروں پر ایک مضمون شامل اشاعت ہے ان شاء اللہ آئندہ ماہ سے ہم نئے افق میں گوشہ ابن صفی کے حوالے سے کچھ صفحات مختص کریں گے جس میں ان کے چاہنے والوں کی ان کے فن اور کرداروں کے حوالے سے تحریریں شامل ہوں گی۔
محمد رفاقت… واہ کینٹ۔ جناب محترم اقبال بھٹی صاحب اور تمام اسٹاف کو میری طرف سے عید قرباں مبارک ہو نئے افق پھولوں کا گلدستہ بنا میرے ہاتھوں میں ہے میں اس کی مہک میں آپ کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس کی ہر ایک کہانی ایک پھول کی مانند ہے جس سے یہ پھولوں کا گلدستہ بن گیا ہے محترم مشتاق احمد قریشی صاحب نے گزری حکومت اور آنے والی نئی حکومت کے بارے میں کافی کچھ لکھ دیا ہے عزت اور ذلت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے کون ہے جو اس کے حکم کی نفی کرے وہ عزت دے کر بھی اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور اقتدار واپس بھی لے لیتا ہے۔ خطوں میں کچھ بہتری آئی ہے اور تعداد بڑھ رہی ہے روبینہ خالد، عبداللہ جمالی، نئے لکھنے والے ہیں ویلکم جناب دوسرے خط جو محترم ریاض حسین قمر صاحب، جاوید احمد صدیقی صاحب، پرنس افضل شاہین صاحب نے میرے خط کو پسند کیا سب کا شکریہ، آتے ہیں کہانیوں کی طرف تو جناب پہلی کہانی حصار جو 22 صفحے سے شروع ہو کر 83 صفحے پر ختم ہوئی اس نے تو آدھا رسالہ ہی کور کرلیا ہے کہانی ’’اعتراف‘‘ اپنے اندر اس زمانے کی تصویر دکھا رہی ہے اچھی کہانی ہے ’’عورت نامہ‘‘ نے بھی متاثر کیا کہتے ہیں کہ حالات سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اور اکثر کمزور لوگ اپنی عزت کی خاطر بہت کچھ برداشت کرتے ہیں ’’تیسری جنگ عظیم سے پہلے‘‘ بڑی طاقتیں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے اس طرح کے حربے استعمال کرتی ہیں کہ وہ نہ صرف انسانوں کو غلام بنالیں بلکہ حکومتوں کو بھی اپنے جال میں پھانس لیں یہ ہی ہو رہا ہے باقی کہانیوں میں سفید ہیولا، آسیب، بکرا چور بھی اچھی کہانیاں ہیں مرشد کی قسط نمبر 15 بھی ہوچکی اسی طرح ’’وہ تیس دن‘‘ بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ محترم خلیل جبار کی کہانی ’’شناخت‘‘ مجھے سب سے زیادہ پسند آئی مبارک باد قبول ہو۔ بد صورت محترم عثمان غنی، ہماری چاہ، بنت حوا، رقیب جان، سلمان بشیر، بانو، عدنان عباسی، سمجھدار، زرینہ مریم، کالک فرحین ناز طارق اور دیدہ دل بھی عنبرین اختر صاحبہ کی اچھی کہانیوں میں شمار کی جاسکتی ہیں ان سب کو بہت بہت مبارک ہو۔ پہلے کی طرح اس دفعہ بھی ذوق آگہی بہت خوب صورت انداز میں ترتیب دی گئی ہے غزلیں اور نظمیں بھی پسند آئی ہیں ان میں پرنس افضل شاہین کا انتخاب بہت اچھا ہے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔
ریاض بٹ… حسن ابدال سے لکھتے ہیں السلام علیکم ماہ ستمبر 2018ء کا شمارہ اس وقت میرے ہاتھوں میں ہے منفرد سرورق لیے شمارہ دل کو بھا گیا دستک میں مشتاق احمد قریشی صاحب الیکشن اور اس کے بعد کے حالات پر تبصرہ کر رہے ہیں ان کا مطالعہ اور معلومات بہت وسیع ہیں ان کا تجربہ لا محدود ہے اور سب سے بڑھ کر جرأت ہے کہ وہ جو بات کہنا چاہتے ہیں کہہ دیتے ہیں موجودہ حکومت کو اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے ویسے ایک بات ہے جتنے وعدے کیے گئے ہیں ان کو پورا کرنا نا ممکن ہے بہرحال عوام نے اچھی توقع رکھ کر منتخب کیا ہے اب بڑھتے ہیں اپنی محفل گفتگو کی طرف جاوید احمد صدیقی بھائی آپ کا خط محفل میں دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے پھر خط تو آدھی ملاقات ہوتی ہے کبھی پوری ملاقات بھی ہوجائے گی ان شاء اللہ، آپ کا تبصرہ حسب معمول جاندار اور شاندار ہے میری کہانی کو پسند کرنے کا شکریہ پرنس افضل شاہین آپ کا خط اور قطعہ خوب صورت ہے میری حوصلہ افزائی کرنے کا شکریہ ملک عارف اعوان آپ بھی نئے افق کے پرانے قاری نکلے میری طرح آپ بھی ریٹائر منٹ کی زندگی گزار رہے ہیں اب خوب مطالعہ کریں اور ہر ماہ نئے افق میں خط بھیجیں اقرا جٹ کی انٹری بھی خوب ہے میری کہانی کو پسند کرنے کا شکریہ اگلا خط ہے جناب رفاقت صاحب کا آپ کی نئے افق کے ساتھ رفاقت خوب ہے ہر ماہ حاضر ہوئے ہیں اور خوب صورت خیالات والے تبصرے کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں مجھے یاد رکھنے کا شکریہ اور خط پسند کرنے کے لیے مہربانی ریاض حسین قمر بھائی کیا حال چال ہیں؟ مجھے یاد رکھنے اور میرے تبصرے کو پذیرائی بخشنے کے لیے یہ بندہ نا چیز مشکور و ممنون ہے روبینہ خالد ویل کم اب آپ کو ہر ماہ باقاعدگی سے آنا پڑے گا یہاں آنچل کی طرح مرد و زن کی قید نہیں ہے عبداللہ جمالی ویل کم آئندہ بھرپور تبصرے کے ساتھ آئیے گا خوش بوئے سخن میں سارا انتخاب تعریف کے قابل ہے۔ اب بات کرتے ہیں ذوق آگہی کی اس میں ویسے تو سارا انتخاب ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ لیکن ریاض حسین قمر پرنس افضل شاہین، ایم حسن نظامی، محمد رفاقت کا انتخاب بیسٹ ہے اس بار فن پارے بہت اور باعث عبرت ہیں سب لکھاریوں نے خوب لکھا کسی ایک کی زیادہ تعریف کرنا زیادتی ہوگی آپ کا انتخاب لاجواب ہے اس بار ایم زیڈ شیخ بکرا چور لے کر آئے اس بار بھی ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ کوئی ہلکی پھلکی طنز و مزاح کی کہانی ہوگی لیکن یہ ایک سنجیدہ موضوع نکلا بعض لوگ بیٹیوں کے پیدا ہونے پر منہ بناتے ہیں اور بیٹوں کے پیدا ہونے پر خوشیاں مناتے ہیں مٹھائیاں بانٹتے ہیں اور جب یہی بیٹے سفید بالوں میں خاک ڈالنے کا باعث بنتے ہیں بہرحال اچھی کہانی ہے عمارہ خان کی وہ تیس دن بھی اچھی جا رہی ہے امجد جاوید ایک منجھے ہوئے لکھاری ہیں ان کی ہر تحریر لاجواب ہوتی ہے حصار کے پہلے ہی حصے نے اپنے حصار میں لے لیا ہے اگلے حصے کا شدت سے انتظار ہے۔ سلیم اختر صاحب ہمیشہ حساس موضوع پر لکھتے ہیں وہ معاشرے کے ناسور پر نشتر چلانا خوب جانتے ہیں ان کی تازہ کہانی اعتراف بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے بہرحال یہ بات بھی اپنی جگہ پر ایک اٹل حقیقت ہے کہ ماں باپ کی چپقلش اور لڑائی اولاد پر ہمیشہ منفی اثر ڈالتی ہے لیکن طاقت کے زعم میں مبتلا ہو کر بے بس مجبور اور لاچار لوگوں پر ظلم کرنے کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے جیسا چھوٹے سردار کا ہوا، ویل ڈن… عورت نامہ نفیسہ سعید کی ایک اچھی کہانی ہے آگ اور پانی کا ملاپ ہمیشہ کوئی نہ کوئی گل ضرور کھلاتا ہے ناظمہ نے جو بے وقوفی کی وہ سمجھ سے بالا تر ہے کہتے ہیں عورت قبر پر آئی ہوئی سوکن بھی برداشت نہیں کرتی پھر ناظمہ نے کیسے برداشت کرلیا بہرحال ناظمہ جیسے کردار معاشرے میں مل جاتے ہیں واقعی عورت ایک پہیلی ہے۔
پرنس افضل شاہین کا بہاولنگر سے محبت نامہ۔ اس بار ستمبر کا نئے افق پڑھا سرورق دیکھ کر یہ قطعہ ہونٹوں پر مچلنے لگا۔
یوں مجھ کو نگاہوں کے ترازو میں نہ تو لو
ہے شوق تو بے ساختہ آنکھوں میں سمو لو
اب کے دل کو میں لایا ہوں ہتھیلی پر سجا کے
اس حسن کے بازار میں کیا دام ہیں بولو
دستک انکل جی خوب لکھتے ہیں جی ہاں ہارنے والی جماعتیں ہمیشہ یہی رونا روتی ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے جبکہ اس بار شفاف الیکشن ہوئے ہیں اور ہاں جو تاجر ہوگا اس نے تجارت ہی کرنی ہے دو کے چار اور پانچ کے دس بنانے کے چکروں میں اس ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ نیا وزیر اعظم عمران خان جو ایک تبدیلی کا نام ہے کرکٹ میں بھی وہ لڑتا تھا اور ورلڈ کپ جتا گیا اور جب انسانیت کی خدمت کا وقت آیا تو اس نے شوکت خانم کینسر اسپتال بنوایا پھر تعلیم کے لیے نمل یونیورسٹی بنائی اب ان شاء اللہ تعالیٰ پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لیے عمران خان کو اللہ تعالیٰ نے چنا ہے ہر معاملے میں بچت کا سلسلہ جاری و ساری ہے وزیر اعظم کے چون ملازمین تھے باون کی چھٹی کرا دی گئی ہے صرف دو ملازم رکھے گئے ہیں اور اسی گاڑیوں کے ریوڑ میں سے صرف دو گاڑیاں رکھی ہیں باقی نیلام ہوں گی نواز لیگ کے کارکنوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بولی لگا کر نواز شریف کے زیر استعمال گاڑیاں خریدیں تاکہ قومی خزانے میں زیادہ سے زیادہ رقم جمع ہو عمران خان ہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا گفتگو میں جاوید احمد صدیقی جی ہاں ہارنے والے زخم چاٹ رہے ہیں آپ نے میرا خط بہاولنگر کی بجائے بہاولپور سے شائع کیا ملک عارف اعوان آپ نئے افق کے پرانے پڑھنے والے ہیں ہمیں خوشی ہوئی منچن آباد کی پہچان اقرا جٹ میں غائب نہیں تھا مجھے غائب کردیا گیا ہے چلیں اس بار تو حاضر ہوں ناں، ہم بھی باقی منچن آباد والوں کو آواز دیں گے کہ وہ آئیں اور نئے افق پر چھا جائیں ریاض بٹ میری تحریر پسند فرمانے کا شکریہ۔ محمد رفاقت میں بھی آواز میں آواز ملا کر اعلان کر رہا ہوں کہ پرانے لکھنے والے حاضر ہوں ریاض حسین قمر میں بھی آپ کی تجویز سے اتفاق کرتا ہوں عبداللہ جمالی ہم آپ کو نئے افق میں پہلا خط لکھنے پر خوش آمدید کہتے ہیں شکر ہے اس بار خطوط کی تعداد نو تھی ذوق آگہی میں ایم حسن نظامی، عینی غزل، حسین خواجہ، زرینہ الیاس، ماریہ کنول، خوش بوئے سخن میں عبدالجبار رومی، نیئر رضوی، حارث بلال، راشد ترین، خالد ایاز ساحل، قدیر رانا، عمیس احمر چھائے رہے یہ افق کا ریکارڈ ہے کہ وقت پر شائع ہوتا ہے اور پچیس تاریخ سے پہلے پہلے پاکستان بھر میں دستیاب ہوتا ہے اور اس کا کوئی شمارہ التوا کا شکار نہیں ہوا ہمیں اپنے نئے افق سے پیار ہے عشق ہے محبت ہے خدا حافظ۔
ریاض حسین قمر… منگلا ڈیم سے رقم طراز ہیں مدیر محترم جناب اقبال بھٹی صاحب سلام مسنون یقین کامل ہے کہ آپ مع اپنے اسٹاف کے خیریت سے ہوں گے ماہ ستمبر کا نئے افق میرے ہاتھ میں ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں پاکستان کے ازلی دشمن رسوائے زمانہ بھارت نے ہم پر غیر اعلانیہ جنگ مسلط کردی اس کی بد مست فوج نے سوچا کہ واہگہ بارڈر پر پاکستانی رینجرز کو روندتے ہوئے لاہور کے کسی ہوٹل میں ناشتہ کریں گے مگر اسے وہ منہ کی کھانی پڑی کہ اسے آج تک یاد ہے اس سترہ روزہ جنگ میں بھارتی افواج کی وہ درگت بنی کہ وہ اسے فراموش نہیں کر پائے گا بھارت کے ایک بہت بڑے علاقے پر فخر زمانہ پاکستانی افواج کا قبضہ ہوگیا پھر ہمیشہ سے دوغلی پالیسی پر عمل کرنے والے روس نے اپنے بغل بچہ بھارت کو بچانے کے لیے جنگ بندی کرائی اور نام نہاد معاہدہ تاشقند کے ذریعے بھارت کا مقبوضہ علاقہ اسے واپس دلوایا اس وقت کے بھارت کے ٹھگنے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو اپنی اس کامیابی پر اتنی خوشی ہوئی کہ اس کا دل پھٹ گیا اور وہ جہنم واصل ہوا دیکھیں اتنا عرصہ گزرنے پر بھی بھارت نے تقسیم ہند کو تسلیم نہیں کیا اب وہ رسوائے زمانہ ملک پانی کا ہتھیار استعمال کرنے پر تلا ہوا ہے اور سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے ممنوعہ دریائوں پر مسلسل ڈیم بنائے جا رہا ہے تاکہ پاکستان کو بھی پانی روک کر ویران کرے اور کبھی خلاف توقع پانی چھوڑ کر اس کی فصلیں تباہ کرے جس طرح اس نے جموں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور وہاں مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور جس ڈھٹائی سے وہ نام نہاد اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈال رہا ہے وہ بھی روز روشن کی طرح ہے یہ سارے حقائق میں نے پاکستانی نوجوانوں کے لیے لکھے ہیں جن کے کندھوں نے اس ملک کا بوجھ اٹھانا ہے جن کی غیر محسوس طور پر برین واشنگ کی جا رہی ہے انہیں انٹرنیٹ پر فحش پروگراموں کے ذریعے گمراہ کیا جا رہا ہے انہیں اللہ کے آخری اور سچے دین، دین اسلام سے دور کیا جا رہا ہے اس گناہگار نے گزشتہ رمضان شریف میں نماز تراویح کے دوران اونی پونی عشا کی نماز پڑھ کر مسجد سے بھاگتے ہوئے نوجوانوں کو دیکھا ہے۔
وطن کی فکر کرنا نادان مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے تذکرے ہیں آسمانوں میں
ستمبر کے نئے افق کا سرورق بہت خوب صورت ہے جس کے لیے مصور کی تعریف نہ کرنا پرلے درجے کی زیادتی ہوگی دستک میں جناب مشتاق احمد قریشی صاحب کے قلم سے جو حقائق نکلے ہیں وہ حرف بحرف حق اور سچ ہیں گفتگو کے آغاز میں بھٹی صاحب آپ نے بھی حقائق کو بیان کیا ہے اور نئے وزیر اعظم کی کامیابی کی دعا فرمائی ہے ہم اس پر آمین کہتے ہیں کرسئی صدارت پر براجمان جناب جاوید احمد صدیقی صاحب اپنے طویل خط میں بہت کچھ بیان فرما گئے ہیں صدیقی صاحب یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ آج سے چالیس سال قبل منگلا آفیشل وزٹ پر تشریف لائے تھے آپ کس محکمہ میں تھے اور منگلاکس سیکشن کا وزٹ کرتے تھے ذرا تفصیلا لکھیں ہوسکتا ہے کچھ حقائق سے پردہ اٹھے اور بات کچھ مزید آگے چلے منگلا ڈیم واقعی اہم جگہ ہے پورے ملک کو روشن کرنے میں اس کا بڑا ہاتھ ہے رب العزت اسے نظر بد سے بچائے آمین۔ جناب صدیقی صاحب کا خط پورے جریدے کا احاطہ کیے ہوئے ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ بہاول نگر کے پرنس افضل شاہین صاحب بھی بھرپور تبصرے کے ساتھ تشریف لائے ہیں دو قطعات کی موجودگی نے ان کے خط کو بہت اہم بنا دیا ہے ملک عارف اعوان کا تبصرہ بھی شاندار اور جاندار ہے اشعار سے مزین اقرا جٹ کا خط بھی گفتگو کی رونق کو بڑھا رہا ہے بڑے نپے تلے الفاظ میں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ویل ڈن اقرا جٹ صاحبہ میرے پیارے بھائی محترم و مکرم جناب ریاض بٹ صاحب پر مغز تبصرے اور اچھوتی کہانی چال باز کے ساتھ تشریف لائے ہیں بھائی دونوں آرٹیکلز لا جواب ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ بٹ بھائی میرا خط پسند فرمانے کا بے حد ممنون ہوں رب العزت آپ کو خوش و خرم اور شادو آباد رکھے آمین محمد رفاقت واہ کینٹ سے مختصر خط اور تبصرے کے ساتھ تشریف لائے ہیں انہوں نے گویا دریا کو کوزے میں بند کیا ہے محترمہ روبینہ خالد اور عبداللہ جمالی نے بہت ہی مختصر انداز میں اپنے خیالات کا اظہار فرمایاجو قابل ستائش ہے اقرا میں طاہر قریشی صاحب نے جس انداز میں رب العزت کے اسم مبارک الفتح کے بارے میں معلومات فراہم کی ہے وہ ایمان کو بے حد تازہ کر گئی جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں تمام کہانیوں کا انتخاب بہت ہی خوب ہے ذوق آگہی اور خوشبوئے سخن کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا،رب ذوالجلال ہمارے اس پیارے جریدے کو مزید شہرت کی بلندیوں پر پہنچائے، آمین۔
جاوید احمد صدیقی کا راولپنڈی سے محبت نامہ۔ قابل صد احترام مدیران و گروپ ایڈیٹر سلامت تا قیامت صدہا دعائیں صحت و لمبی اچھی زندگی السلام علیکم! میگزین تو اس دفعہ بے حد جلدی مل گیا تھا واہ کمال کر دیا جناب اقبال بھٹی صاحب رسالے کی آن بان شان نہایت نفیس لکھائی دل لبھانے والا مواد زبردست اور کہانیاں ایک سے بڑھ کر ایک میں سلسلے وار کہانیاں بہت کم پڑھتا ہوں مگر امجدجاوید کی کہانی شروع کی بریک بھی آخری صفحے پر لگی اور اب چند دن انتظار کا بورڈ لگا ہوا ہے زبردست اور موضوع بھی انوکھا سادہ معاشرے کا سب سے قیمتی موضوع جناب کمال کردیا، انتظار شدت اختیار کرتا جا رہا ہے باقی سلسلے وار کہانیاں ابھی زیر مطالعہ ہیں۔ محترم مشتاق احمد صاحب کا دل کشا اور چشم کش دستک پڑھ کر دل تڑپ اٹھا آپ کے کالم روزنامہ جنگ میں بھی زبردست اور انتہائی اوپن ہوتے ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ایک شکوہ ہے ہمارے بھٹی صاحب ان تھک قسم کے بغیر فرصت کے کر کے رکھ دیا ہے کہ سالوں میں ایک موتیوں جیسی خوب صورت کہانی لکھ کر اس سال کا کفارہ ادا کردیا کرتے تھے مگر یہ کیسے یار دوست اور مہربان ہیں کہ کروٹ فرصت بھی نہیں لینے دیتے اقرا سبحان اللہ زبردست اور جسم کی روح گفتگو میں بھٹی صاحب کی حقیقت میں گندھی تحریر سے دماغ میں بھی کئی گردان مل گئی اور امجد جاوید صاحب کی اگلی قسط اور مسلسل لکھنے کی خوش خبری بے حد دل کو تقویت دے گئی اور یہ مسند صدارت پر ہم یقین آیا جب اپنا نام بھی دیکھا اور تبصرہ بھی شکریہ بھٹی صاحب ریاض بٹ صاحب بہترین سی کہانی لگی ہے آپ کی چال باز پڑھ کر بے حد سکون ملا کہ ریاض بٹ اب بہترین جاسوسی کہانیاں انسپکٹرز کے روپ میں صفحہ قرطاس پر بڑی مہارت کے ساتھ بکھیر رہے ہیں ہاں ریاض آپ کا فون نمبر غائب ہوگیا براہ کرم اپنی تبصرہ والی اگلی تحریر میں ضرور دیں گے شکریہ (میں نے بھی نمبر تبدیل کرلیا ہے) فن پارے بہترین کہانیوں میں تھوڑا بہت سا مارجن دے کر باقی ان میں سلمان احمد کا ناول لفظوں کا لہو جو محمد علم اللہ نے لکھی ہے کیا بھٹی صاحب فن پارے میں اب ناولوں کا یہ اشتہار ٹائپ بھی آیا کریں گے؟ آدھا ناول تو انگلش کے الفاظ سے بھرا ہے اور اسی طرح سمجھدار بھی زرمینہ مریم نے انگلش کے الفظ وہ بھی زیادہ تر غلط چن کر استعمال کیے ہیں آٹھ کہانیاں بہت اچھی ہیں اور خلیل جبار بھی براجمان تھے آنے کا شکریہ۔ دوسری کہانیوں میں بکرا چور، سفید ہیولہ، تیسری جنگ عظیم، عورت نامہ، اعتراف خاص کر سلیم اختر کی بہت ہی خوب صورت کہانی سلیم صاحب ہر ماہ آیا کریں جناب اور حصار بے حد چشم کشا اور بہترین کہانیاں تھیں پرنس افضل شاہین کا تبصرہ بھی اور چشم کشا بھی بہت اچھے پرنس صاحب ملک عارف اعوان شعر و شاعری اور تبصرہ دل کو لبھا گیا ریاض حسین قمر صاحب کا جاندار اور زبردست تبصرہ آپ نے ذکر کیا بڑی مہربانی، آپ کو ہمیشہ یاد رکھتا ہوں اور غزل بھی نمبر ون ہے ریاض صاحب اس دفعہ سات تبصرے میں شکریہ بھٹی صاحب عبداللہ جمال صاحب باقاعدگی کے ساتھ آئیں۔ ذوق آگہی میں اقرا جٹ، ریاض بٹ ریاض حسین قمر، پرنس شاہین، ایم حسن نظامی، رفاقت صاحب زرمینہ الیاس کی گزارشات بے حد اچھی اور قابل اشاعت تھیں مبارک ہو اور خوش بوئے سخن میں تمام لوگوں کو جو ہمارے میگزین کے سلسلے میں پورا ماہ لگتے ہیں سب کو عمر خضر اور صحت کاملہ کی دعائین اور سلام دعا تمام مدیران اور اسٹاف کو دعائوں کا گلدستہ۔
 

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close