NaeyUfaq Aug-18

غلطی

مہتاب خان

ایک بے داغ واردات کا احوال، اس نے بڑی صفائی سے بینک بھی لوٹا پھر اپنے ساتھی سے بھی جان چھڑالی، اسے یقین تھا کہ پولیس اس پر شک نہیں کرے گے لیکن پھ بھی وہ گرفتار ہوگیا۔
فارغ لمحوں کے لیے اکسیر ایک خوب صورت کہانی۔

وہ جسمانی طورپر دبلا پتلا عام سی شکل وصورت والا شخص تھا اس کی آواز بھی بہت دھیمی اور نرم تھی یعنی وہ کسی پر نفسیاتی اثر یا رعب نہیں ڈال سکتا تھا۔ اسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک ماہر ڈاکٹر ہے۔
ڈاکے ڈالنا اس کا پیشہ تھا اور وہ پندرہ سال سے اس پیشے سے منسلک تھا۔ وہ بے حد ذہین دور اندیش اور منصوبہ ساز تھا اسی لیے پندرہ سال کی طویل مجرمانہ زندگی کے باوجود پولیس کے پاس اس کاکوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ پولیس نے کبھی معمولی پوچھ گچھ کے لیے بھی اسے حراست میں نہیں لیا تھا۔ وہ غلطیاں کرنے کا قائل ہی نہیں تھا وہ ہر منصوبہ اتنا بے داغ بناتا کہ پولیس کی نظروں میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاتھا۔
عام حالات میں وہ شریفانہ زندگی گزار رہا تھا اور ایک متوسط طبقے کی آبادی میں رہائش پذیرتھا جہاں وہ تنہا رہتا تھا اور ایک ادارے میں سیلز مین تھا۔ آس پاس کے رہنے والے اسے ایک با عزت اور شریف انسان سمجھتے تھے جو بے حد کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا شخص تھا۔
عام طور پر وہ تنہا ہی وارداتیں کیا کرتا تھا مگر تازہ ترین ڈکیتی کے لیے اسے ایک قابل اعتماد ساتھی کی ضرورت پڑ گئی تھی اس مقصد کے لیے اس کی نگاہ انتخاب سانول پر گئی تھی۔ جس سے اس کی کچھ عرصے پہلے ہی ملاقات ہوئی تھی۔
سانول لمبا چوڑا گٹھیلے جسم کا شخص تھا۔ اس کی آواز بھی بلند اور کرخت تھی۔ سانول بھی جرائم کی دنیا سے وابستہ تھا مگر کبھی پولیس کے ہتھے نہیں چڑھا تھا صرف ایک مرتبہ پولیس نے اسے ایک معمولی الزام میں پکڑا تھا۔ اس کے سوا ایسا موقع کبھی نہیں آیا تھا۔ لیکن نواز کو سانول کے گزشتہ حالات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
اس کے منصوبہ ساز ذہن نے تازہ ترین ڈکیتی کے لیے جس بینک کا انتخاب کیا تھا وہ شہر کے ایک صنعتی علاقے میں واقع تھا جہاں مزدوروں کو مہینے کی مقررہ تاریخ کو تنخواہ دی جاتی تھی اور بینک میں کیش موجود ہوتا تھا۔
پورا منصوبہ اس نے ترتیب دے لیاتھا۔ سانول اور نوازمیں یہ طے ہوگیا تھا کہ کام مکمل ہوتے ہی اپنا اپنا حصہ لے کر ان دونوں کا راستہ جدا ہوجائے گااور آئندہ ان کا رابطہ نہیں رہے گا۔
نواز نے بہت سوچ سمجھ کر اس دن کا انتخاب کیا تھا وہ یہ سنہرا موقع گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ منصوبے کے مطابق نواز نے صبح ساڑھے آٹھ بجے کار اس بینک کے سامنے کھڑی کردی جہاں انہیں وار دات کرنی تھی۔ یہ کار چوری کی تھی۔ نواز نے آخری مرتبہ سانول کو منصوبے کی تفصیلات بتائیں۔ ٹھیک نو بجے بینک کا دروازہ کھلا تھا اور باہر کھڑے چند افراد اندر داخل ہوگئے تھے کچھ دیر بعد نواز اور سانول گاڑی سے باہر نکلے۔ نواز کے ہاتھ میں ایک چرمی بیگ تھا جب کہ سانول ریوالور لیے ہوئے تھا۔ وہ چہروں پر نقاب چڑھائے بہت خاموشی سے بینک میں داخل ہوئے۔
منٹوں میں بینک کا گارڈ تمام مینجر اور بینک میں آنے والے گنتی کے چند افراد ان کے سامنے قطار میں کھڑے ہوئے تھے۔ وہ تمام افراد ان کے ریوالوروں کی زد میں تھے۔
نواز نے سب سے پہلے بینک کا دروازہ بند کرکے اس کا لاک لگا دیا پھر اس نے بجلی کا مین سوئچ آف کردیا جس کی وجہ سے تمام الارم اور کیمرے بھی بند ہوگئے تھے۔یہ سب اس نے اتنی پھرتی سے کیا کہ کسی کو سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ پھر وہ کیشیئر کے کائونٹر کی طرف بڑھا اور نوٹوں کے بنڈل تیزی سے چرمی بیگ میں ڈالنے لگا۔ اس کے ہاتھ دستانوں کے اندر پسینے سے بھیگے ہوئے تھے وہ پھرتی سے ایک دراز سے دوسری دراز کی طرف جارہا تھا اور سانول کی جانب بھی وقتاً فوقتاً دیکھ رہا تھا۔ رقم اس کی توقع سے زیادہ تھی۔ بیگ بند کرکے وہ سانول کے قریب آیا۔
منصوبہ یہ تھا کہ نواز بینک کا دروازہ کھول کر بیگ سمیت باہر نکل جائے گا اور سانول لوگوں کو ریوالور کی زد میں رکھتے ہوئے الٹے قدموں اس کے پیچھے باہر آئے گا اور بینک کا دروازہ باہر سے بند کردے گا لیکن اس موقع پر سانول سے ایک غلطی ہوگئی ایسی غلطی جو نواز کبھی نہ کرتا۔ جس وقت نواز بیگ لیے دروازے کی سمت بڑھ رہا تھا سانول چند قدم پیچھے ہٹ گیا اور ایسا کرنے سے وہ مسلح گارڈ اور نواز کے درمیان آگیا۔ مستعد گارڈ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حیرت انگیز پھرتی سے فوراً اپنا ریوالور نکال لیا۔ نواز نے نوٹوں سے بھرا بیگ گارڈ کی طرف اچھال دیا۔ اس کا توازن بگڑ گیا۔ اس کے باوجود گارڈ کی ریوالور سے نکلی ہوئی گولی سانول کے کندھے میں پیوست ہوگئی۔ توازن بگڑنے سے گارڈ زمین پر گر گیاتھا۔
سانول نے ایک کربناک چیخ ماری اور دوسرے ہاتھ سے بازو تھام لیا۔ گرتے گرتے بھی گارڈ نے نواز کا نشانہ لیا تھا وہ پھرتی سے زمین پر لیٹ کر قلابازیاں کھا گیا۔ اس کی یہ حاضر دماغی کام آگئی کیونکہ اسی وقت اس کے کان کے پاس گولی کی سنسناتی ہوئی آواز آئی تھی گارڈ نے اس کے سر کا نشانہ لیا تھا جو چوک گیا تھا۔ اس افراتفری میں نواز کا ریوالور بھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گارڈ کے قریب جاپڑا تھا۔ اسی وقت سانول نے گارڈ کے سینے میں گولی داغ دی جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی تھی۔ رقم سے بھرا بیگ نواز کی ریوالور اور مرنے والے گارڈ کا ریوالور اس کی لاش کے قریب ہی پڑا تھا۔
نواز پھرتی سے اٹھا رقم کا بیگ اور اپنا ریوالور اٹھایا اور زخمی سانول کو گیٹ کھولنے کا اشارہ کیا۔یہ سب اتنی تیزی سے وقوع پذیر ہوا کہ بینک کا عملہ حواس باختہ بے حس وحرکت کھڑا رہا۔ جب تک وہ اپنے ہوش وحواس میں آئے وہ دونوں باہر نکل گئے تھے۔
باہر نکل کر نواز نے دروازہ لاک کردیا۔ پھر دونوں تیزی سے کار کی جانب دوڑنے لگے۔ کچھ ہی دیر میں ان کی کار سڑک پر فراٹے بھر رہی تھی قسمت ان کا ساتھ دے رہی تھی انہیں کسی سگنل پر رکنا نہیں پڑا تھا۔ ایک موڑ پر مڑتے وقت نواز نے پسینے سے بھیگا چہرہ رومال سے خشک کیا اور سانول کی جانب دیکھا جو درد سے کراہ رہا تھا۔ نواز نے اسے تسلی دی پھر اپنی پوری توجہ کار ڈرائیو کرنے پر مرکوز کردی۔ سانول اپنا بازو پکڑے کراہ رہا تھا۔
’’فکر نہ کرو ہمارے پاس لاکھوںکی رقم ہے اور ہم خطرے سے بھی نکل چکے ہیں ہمت سے کام لو اور برداشت کرو ٹھکانے پر پہنچتے ہی میں تمہاری مرہم پٹی کردوں گا۔‘‘
سانول نے کوئی جواب نہیں دیا بس کراہتا رہا۔ بینک سے چند کلو میٹر دور رہائشی آبادی کی ایک سنسان گلی میں نواز کی کار کھڑی تھی۔ نواز نے اس وار دات کے لیے یہ کار چوری کی تھی۔ اس نے چوری کی کار اپنی گاڑی کے پیچھے روک دی اور رقم کا بیگ اپنی کار میںمنتقل کردیاپھر سانول کو سہارا دے کر کار میں بٹھایا اور چوری کی کاروہیں چھوڑ کر وہ لوگ آگے بڑھ گئے۔
نواز نے شہر کے مضافات میں ایک نئی آباد ہونے والی بستی میں ایک مکان لے رکھا تھا جہاں وہ ڈکیتی سے حاصل کردہ سامان وغیرہ چھپایا کرتا تھا۔ اس کا محل وقوع اسے بہت پسند تھا۔ اس مکان کے آس پاس کوئی گھر نہیں تھا۔ وہ یہاں صرف چند دن ہی رکنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ سانول کا علاج اور رقم کے بٹوارے کے بعد وہ یہاں سے نکل جاتا۔گاڑی اس نے گیراج میں بند کردی تھی اور رقم کا بیگ اٹھا کر سانول کے ساتھ مکان میں داخل ہوگیا تھا۔
اس مکان میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔ بیڈ روم میں اس نے سانول کو بیڈ پر لیٹا دیاتھا اس کی پوری قمیص خون میں تر تھی اور وہ بیڈ پر لیٹا آہستہ آہستہ کانپ رہا تھا۔ نواز اس کی قمیص کے بٹن کھولنے لگا۔
’’یہ تم کیا کررہے ہو؟‘‘ سانول چلایا۔
اطمینان رکھو میرے دوست اور آہستہ بولو اپنا ہاتھ اٹھائو تمہارے زخم کی مرہم پٹی کرنی ہے میں تمہیںکسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جاسکتا زخم دیکھتے ہی وہ سمجھ جائے گا کہ یہ گولی کا زخم ہے وہ فوراً ہی پولیس کو انفارم کردے گا اب جو کرنا ہے مجھے ہی کرنا ہے۔ اپنا ہاتھ اٹھائو تمہارے زخم کی مرہم پٹی کرنی ہے۔‘‘
’’نہیں نہیں میں اپنا ہاتھ ہلا بھی نہیں سکتا۔‘‘ سانول نے تکلیف کی شدت سے کراہتے ہوئے کہا۔ لیکن نواز نے اس کی ایک نہیں سنی اور اس کی قمیض اتاردی وہ تکلیف سے چلاتا رہا۔ پھر تولیہ پانی یں بھگو کر وہ اس کا زخم صاف کرنے لگا۔ زخم دیکھتے ہی اسے اندازہ ہوگیاتھا کہ یہ بہت کاری اور خطرناک زخم ہے۔ گولی کندھے کے اندر کہیں ہڈی میں گھس گئی تھی۔ کسی ڈاکٹر کے بغیر زخم کا علاج ناممکن تھا۔ خود سانول کو بھی اپنے زخم کی نوعیت کا اندازہ تھا رہی سہی کسر نواز کے چہرے پر پیدا ہونے والے تاثرات نے پوری کردی تھی۔
’’میں مرجائوں گا خداکے لیے مجھے ڈاکٹر کے پاس لے چلو۔‘‘سانول نے کہا۔
نواز نے مایوسی سے نفی میں سر ہلایا۔‘‘ نہیں میرے دوست تم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ڈاکٹر جیسے ہی تمہیں دیکھے گا پولیس کو بلالے گا۔ ہم یہ خطرہ کیسے مول لے سکتے ہیں سانول ذرا سوچو تو اس میں کتناخطرہ ہے۔‘‘
’’لیکن …لیکن میں مر رہا ہوں۔ تمہارا دوست مررہا ہے خدا کے لیے مجھے بچالو۔‘‘ وہ گڑگڑاتے ہوئے بولا۔
’’خودکوقابومیں رکھو میں تمہارے زخم کی ڈریسنگ کردوں گا۔ چند روز میں زخم کچھ بہتر ہوجائے گا اور شہر کی ناکہ بندی بھی ختم ہوجائے گی پھر ہم یہاں سے نکل جائیں گے اور کسی دوسرے شہر جاکر تمہارا علاج کروائوں گا ۔وہاں ڈاکٹر زیادہ سوالات بھی نہیں کریں گے تم آرام کرو میں تمہارے لیے کچھ دوائیاں لینے جارہاہوں۔‘‘نواز اٹھتے ہوئے بولا۔ سانول بدستور کراہتا رہا۔ نواز باہر نکل گیا تھا۔
وہاں سے چند کلو میٹر دور ایک چھوٹا سا بازار تھا جہاں واقع اکلوتے میڈیکل اسٹور سے اسے چند معمولی دوائیاں ہی مل سکی تھیں۔ جب وہ واپس آیاتو سانول بخار میں پھنک رہا تھا لیکن وہ اپنے ہوش وحواس میں تھا۔ نواز نے پانی گرم کرکے اس کا زخم صاف کیا پھر دوائی لگائی اور درد رفع کرنے کی گولی اسے کھلائی۔ کچھ ہی دیر میں سانول پر بے ہوشی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ اس کے زخم سے کافی مقدار میں خون بہہ چکا تھا۔ نواز بیڈ کے قریب رکھے صوفے پر اطمینان سے بیٹھ گیا اور رقم کا بیگ کھولا۔ چرمی بیگ نوٹوں سے بھرا ہواتھا دیکھ کر اسکے چہرے پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔ اس میں آدھی رقم سانول کی تھی وقت گزاری کے لیے اس نے ٹی وی آن کیا۔ مقامی خبروں سے اسے معلوم ہوا کہ بینک کا کارڈ اس وار دات میں مارا گیاتھا اسے اس کی موت کا افسوس ہوا تھا کیونکہ اب گرفتار ہونے کا مطلب پھانسی تھی۔ صرف ڈاکے کی بات ہوتی تو چند سال جیل کی ہواکھانی پرتی اب اسے بہت محتاط رہنا تھا۔ سانول کی عجلت نے کام بگاڑ دیاتھا۔ دو گھنٹے گزر گئے تھے سانول کے زخم سے پھر خون بہنے لگا تھا۔ نواز نے دوبارہ مرہم پٹی کی لیکن خون بندنہیں ہوا۔ سانول ہذیانی انداز میں چیخ رہا تھا۔ اسکا چہرہ سفید پڑ گیاتھا اور سانسیں بھی بے ترتیب ہوگئی تھیں۔
’’نواز نے غور سے اسے دیکھا اس کابچنا مشکل تھا وہ کسی بھی وقت مر سکتاتھا اگر خطرہ مول لے کروہ اسے کسی ڈاکٹر کے پاس لے بھی جاتا تب بھی اس کو بچا نہیں سکتا تھا۔ موت اس کا مقدر بن چکی تھی۔
نواز نے رقم سے بھرا بیگ اٹھایا اور مکان سے باہر نکل کر دروازہ باہر سے لاک کردیا۔اسے یقین تھا کہ سانول کو ابھی کئی روز تک کوئی دریافت نہیں کرسکے گا اور خود سانول کی حالت ایسی تھی کہ وہ بالفرض ہوش میں آبھی جاتا تو مکان کے باہر نہیں جاسکتا تھا۔ اس نے سوچ رکھاتھا کہ اگلے دن آکر اسی ویرانے میں کہیں وہ اس کی لاش ٹھکانے لگا دے گا اور ماضی کی طرح ابھی پولیس سے محفوظ رہے گا۔
اس نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی اس کا رخ اپنے گھر کی جانب تھا جہاں وہ ایک شریف اور قانون کا احترام کرنے والی شخصیت کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔
وہ بہت تھک چکا تھا۔ گھر پہنچ کر اس نے کھانا کھایا پھر اپنے کمرے میں آگیا۔ ریوالور تکیے کے نیچے رکھ کر وہ اطمینان سے لیٹ گیا۔ شام ہوگئی تھی نجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی اورپھر اس وقت کھلی جب بیرونی دروازے پر ایک زور دار لات پڑنے کی آواز آئی۔ نواز جھٹکے سے اٹھا۔ جا کر دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر بری طرح چونک گیا کہ وہاں سانول کھڑا تھا۔ اس وقت اس کی حالت مردے سے بدتر تھی۔ اس کی قمیص خون سے سرخ ہورہی تھی نہ جانے اس نے کس طرح وہ قمیص پہنی تھی قمیص کے تمام بٹن کھلے ہوئے تھے اور پتلون پر مٹی لگی ہوئی تھی۔ وہ یقیناً مکان کی دیوار پھاند کر یہاں پہنچا تھا۔
سانول کی سرخ سرخ آنکھوں سے دیوانگی جھانک رہی تھی ۔ وہ دروازے کا سہارا لیے کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور تھا جس کا رخ نواز کی جانب تھا۔
’’خبردار ہلنا مت سانول نے نفرت بھری نظروں سے نواز کو دیکھا پھر وہ لڑکھڑاتا ہوا اس کی سمت بڑھا اور پھنکارتے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’غدار دیکھو میں نے آخر تمہیں پکڑہی لیا۔‘‘
’’سانول میرے دوست تمہیں زندہ دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہورہی ہے۔ آئو میرے کمرے میں اطمینان سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔‘‘نواز اس کے قریب آتے ہوئے بولا۔
’’دور ہٹو…‘‘ سانول نے غصے سے کہا۔
’’کتنے سنگدل ہو تم وہاں مجھے مرنے کے لیے چھوڑ گئے اور پوری رقم لے اڑے۔ میرا خیال بھی نہیں کیا ظالم انسان۔‘‘
’’سانول خدا کے لیے میری بات سنو آئو میرے ساتھ۔‘‘ اس نے سانول کاہاتھ تھاما جسے اس نے جھٹکے سے چھڑا لیا۔ بہرحال کسی نہ کسی طرح وہ اسے اپنے کمرے میں لے آیا۔
’’میں سمجھ گیا تھا کہ تم سیدھے یہیں آئوگے۔‘‘ سانول پر ایک دم کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔ چند لمحے کے لیے اس کی توجہ ہٹی تو نواز نے آہستہ سے اپنا ہاتھ تکیے کی طرف بڑھایا جہاں ریوالور رکھاتھا۔
سانول پوری قوت سے چیخا۔
’’بتائو رقم کہاں ہے۔‘‘
’’نواز بھائی یہاں کیاہورہاہے۔‘‘ اچانک ایک آواز آئی پھر بولنے والا بھی کمرے میں آگیا۔ یہ نوازکا پڑوسی لڑکا صارم تھا۔ وہ حیرت سے سانول کو دیکھ رہا تھا جس کی پشت صارم کی جانب تھی۔ سانول چونک کر مڑا وہ لڑکا حیرت سے کھڑا سانول کاحلیہ دیکھ رہاتھا۔ پھر سانول کے ہاتھ میں ریوالور دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی۔
نواز نے پھرتی سے اپنا ریوالور تکیے کے نیچے سے نکالا۔ اسی وقت سانول نے مڑ کر اس پر فائر کردیا لیکن اسے دیر ہوچکی تھی۔نواز نے فرش پر قلا بازی کھائی اور سانول پر گولی چلا دی۔ سانول نے دونوں ہاتھوں سے اپنا پیٹ پکڑ لیا۔ تکلیف کی شدت سے وہ دہرا ہوگیا پھر آہستہ آہستہ گھٹنوں کے بل زمین پر جھکتا چلا گیا اورکچھ دیر بعد وہ مر چکا تھا۔
پڑوسی لڑکا مسلسل چیخ رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہاں دوڑتے ہوئے قدموں کی آوازیں آئیں پھر کسی نے چیخ کرکہا ۔
’’کیا ہوا ہے یہ فائر کی آواز کیسی تھی؟‘‘
نواز نے تیزی سے حالات کا جائزہ لیا نوٹوں سے بھرا بیگ اٹھا کر فرارہونے کا وقت گزر چکا تھا۔ لوگ اس اپارٹمنٹ کے باہر جمع ہوگئے تھے اور لمحہ بہ لمحہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا تھا نواز کو فوراً ہی ایک ترکیب سوجھی۔
’’یہ شخص مجھے لوٹنا چاہتا تھا مجھ سے رقم کا مطالبہ کررہا تھا۔‘‘
’’نوازبھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘پڑوسی لڑکے نے تیز آواز میں کہا۔
’’میں نے خود سنا تھا یہ شخص ریوالور تانے ان سے رقم کا مطالبہ کررہا تھا۔‘‘
صارم نے نوازکے بیان کی تائید کی تھی کچھ ہی دیر میں پولیس آگئی تھی لڑکے نے پولیس کی آمد پر دوبارہ یہی بیان دیا اس نے کہا۔
مرنے والا کوئی لٹیرا تھا۔ اس کے ارادے خطرناک تھے نواز بھائی نے اپنی حفاظت کے لیے اسے گولی ماری تھی۔نواز نے پولیس کوبیان دیتے ہوئے کہا۔
’’مرنے والا میرے لیے قطعاً اجنبی تھا اگر میرا پڑوسی اچانک نہ آجاتا تو وہ ضرور مجھے گولی مار دیتا۔‘‘
پھر اس نے انسپکٹر کو اپنے بارے میں تفصیلات بتائیں کہ میں فلاں کمپنی میں سلزمین ہوں میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ میں زیادہ تر سفر پر رہتا ہوں اور اسی لیے اپنی حفاظت کے خیال سے ریوالور ساتھ رکھتا ہوں۔‘‘نواز نے کہا۔
’’آپ ہمارے ساتھ تھانے چلیں۔‘‘ انسپکٹر نے کہا۔
تھانے پہنچ کر انسپکٹر نے اس کے شناختی کاغذات وغیرہ دیکھے۔نواز بہت اطمینان سے انسپکٹر کو تفصیلات بتاتا رہا۔ حوالے کے طورپراس نے اپنے ادارے اور اپنے کئی واقف کاروں کے نام پتے اور فون نمبر بھی دیئے۔ اسے اپنے کاغذات اور حوالوں کی جانب سے پورا اطمینان تھا۔ یہاں جو زندگی وہ گزار رہا تھا وہ بڑی معتبر تھی جو اس وقت اس کے کام آرہی تھی پولیس زیادہ سے زیادہ بغیر لائسنس کا ریوالور رکھنے کا الزام اس پر عائد کرسکتی تھی۔پولیس کو بہت جلد مرنے والے سانول کی اصلیت کا علم ہونے والاتھا۔ بینک کے گارڈ پر گولی سانول نے چلائی تھی وہ ایک عادی مجرم تھا۔
نواز نے کن انکھیوں سے انسپکٹر کو دیکھا جو الٹ پلٹ کر اس کے ریوالور کا معائنہ کررہا تھا اس کی آنکھیں کسی گہری سوچ کا پتہ دے رہی تھیں۔ نواز نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ پولیس نے نہ جانے کیوں اسے بٹھا رکھا تھا وہ شاید اس کے دیئے گئے حوالوں سے رابطہ کررہے تھے اس دوران وقفے وقفے سے فون آتے رہے اور انسپکٹر فون پر مختصر بات کرتا رہا۔
آخر ایک بار پھر فون کی گھنٹی بجی اورجب انسپکٹر نے گفتگو ختم کی تو اس کے چہرے پر الجھن تھی وہ اپنے اسسٹنٹ کو لے کر کمرے سے باہر چلاگیا۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں کمرے میں واپس آئے تو نواز نے کہا۔
’’کیا آپ کا اطمینان ہوگیا؟‘‘
’’جی ہم کافی حد تک آپ کے بیان سے مطمئن ہیں۔‘‘انسپکٹر نے کہا۔
’’تو پھر مجھے اجازت دیں۔‘‘ نواز نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
’’بیٹھ جائیں جناب ابھی کہاں چلے۔‘‘انسپکٹر نے کہا۔
’’بات یہ ہے کہ آپ کے ریوالور کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکے ہیں۔‘‘
’’میں سمجھا نہیں۔‘‘نواز نے کہا۔
’’دراصل ابھی فون پر مجھے جو اطلاع ملی ہے اسے سن کر تمہیں تعجب ہوگا جس شخص کو تم نے گولی مارکر ہلاک کیا ہے وہ واقعی خطرناک مجرم تھا کل صبح اس نے صنعتی علاقے میں ایک بینک لوٹا تھا اور بینک کا گارڈ اس کی ریوالور سے ہلاک ہوا تھا۔ لیکن گارڈ نے بھی اس پرگولی چلائی تھی جو اس کے کندھے میں لگی تھی ہم نے وہ گولی نکال لی ہے لیکن تمہیں یہ سن کر حیرت ہوگی مسٹر نواز‘‘ انسپکٹر نے ڈرامائی انداز میں مسکراتے ہوئے غور سے نواز کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیا۔‘‘ نواز کی آواز سرگوشی سے بلند نہیں تھی۔
’’وہ یہ کہ جو گولی بینک کے گارڈ نے چلائی تھی اور جسے ہم نے اس کے کندھے سے نکالا ہے اور جو گولی تم نے چلائی تھی جو اس کے پیٹ سے نکالی گئی ہے وہ دونوں ایک ہی ریوالور سے چلائی گئی ہیں کیا تم ہمیں بتائو گے یہ کس طرح ممکن ہے؟‘‘
نواز کا سرگھوم گیا ۔
’’آخر تمہارے پاس گارڈ کاریوالور کیسے آیا؟‘‘
نواز کو اس سوال کے جواب کے لیے ذہن پر زور ڈالنا نہیں پڑا تھا صورت حال اس پر واضح ہوگئی تھی۔ جب سانول نے گارڈ پر گولی چلائی تھی تو وہ گر گیا تھا اور ریوالور اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا اور نواز کے ریوالورکے نزدیک ہی پڑا تھا۔ دونوں ریوالور ایک جیسے تھے نواز نے جلدی میں دیکھے بغیر جو ریوالور اٹھایا تھا وہ گارڈ کا ریوالور تھا۔نواز کو بینک ڈکیتی اور سانول کے قتل کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close