NaeyUfaq Jul-18

دی لچنڈ آف واریئر

شبیہ مظہر رانجھا

کچی کیری کی طرح وہ میرے دل کی زمین پہ آگری تھی۔ اس کی کھٹی میٹھی خوشبو محسوس کر کے میں پاگل سا ہونے لگتا اور پھر تنہائیوں میں بھی اسے تلاش کرنے لگتا۔ نہ جانے مجھے کیا ہو گیا۔ عجیب کیفیت تھی،پہلے تو اچھا بھلا تھا،مجھے خود میری سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ بہت خوبصورت تو نہ تھی بس یونہی ڈھلتی شام کے سائے اس کی آنکھوں میں لہراتے نظر آتے اور میںپہروں بے چین پھرا کرتا۔رنگ کھلتا سا سانولا،یوں جیسے تھوڑے سے دودھ میں زیادہ سا شہد ملا دو تو مانو وہ بن جائے۔
…٭٭…
ہم ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے ساتویں جماعت میں ایک طرف لڑکوں کی لائن اور ساتھ ہی الگ رو میں لڑکیوں کی قطار بیٹھتی تھی،ہم لڑکے تھے تو شرارتی لیکن باجیوں کی موجودگی میں تمیز سے رہتے،کیونکہ میڈم بھی ہر وقت یہ ہی کہتی رہتیں کہ لڑکو شرم کرو تم سے تو اچھی لڑکیاں ہیں جو شرارتیں بھی نہیں کرتیں اور نمبر بھی اچھے لیتی ہیں۔بس ان کی نظروں میں اچھا بننے کے لئے سارے بوائز کوشش میں لگے رہتے اور میں بھی اس کلاس میں پیار کا سبق چپکے چپکے پڑھ گیا تھا ،مانو جیسے کوری اور صاف ستھری سلیٹ پر پہلی بار لکھا گیا ہو ،فرزانہ، وہ اپنے نام جیسی ہی تھی میں بھاگ بھاگ کر اس کے کام کرتا آگے پیچھے بچھتا جاتا ،میرے جیسے ننھے دوست میرا مذاق اڑاتے لیکن میں باجی فرزانہ، کے کام ایک دیوانگی کے عالم میں کرتا چلا جاتا۔ہاں کلاس میں کسی لڑکی کاسنگل نام پکارنے کی اجازت نہ تھی اور میں کیا جانوں کہ سماج اور پابندی کیا بلا ہے نہ ہی پیار کے مطلب کا پتہ تھا ۔اس عمر میں اکثر ایسا پیار ہوتا ہے کہ کسی ٹیچر کو پسند کرنا اور اس کے دلہن کے روپ والے خواب آنے شروع ہو گئے،پھر شادی کا پلان سوچ لینا یا پھر ساتھ پڑھنے والی کسی لڑکی کو دل میں ہی دل میں چاہتے چلے جانااور ساتھ باجی بھی کہنا،پھر وقت کے ساتھ ساتھ بھول بھال جانا لیکن میرے ساتھ لگتا تھا کہ معاملہ سیریئس ہے ،مجھے فرزانہ کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہ تھا ،جی کرتا کہ وہ چوبیسٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ گھنٹے نظروں کے سامنے رہے لیکن ظاہر ہے جب اسکول سے چھٹی ہوتی تب گھر تو آنا پڑتا اور میں گھر آتے ہی اسکول جانے کا انتظار شروع کر دیتا۔ دن ایسے ہی گزرتے رہے اور اس کی محبت میرے دل میں راسخ ہوتی گئی۔اب بھی اظہار کی نوبت نہیں آئی تھی یا ہم دونوں نے ضرورت نہیں سمجھی اس کی۔
ایک دن خدا کا کرنا کیا ہوا کہ مجھے اس نے پاس بلا کے گال تھپتھپایا تو میں مرنے والا ہو گیا شاید کہ دل بند ہی ہو جاتا لیکن اس کی آواز نے آبِ حیات کا کام کیا۔
علی حسن میرے بھائی مجھے بازار سے نوٹ بک تو لا دو۔
پیسے میرے ہاتھ میں تھما کر وہ میرا جواب سنے بغیر واپس کلاس میں چلی گئی اور میں دو منٹ پچاس سیکنڈکے لئے پتھر کا ہو گیا،میرے بولنے کا وہ انتظار کرتی بھی تو میں نے کیا کہہ لینا تھا، بہت مشکل سے خود پر قابو پایا اتنے میں دل جھومنے لگاانگ انگ خوشی سے بھر گیا یہ خوشی کیا کم تھی کہ آج اس نے مجھ سے بات کی ہے بلکہ بات کرنے کے علاوہ کام بھی کہہ ڈالاکام کا خیال آ تے ہی میں بجلی کے کوندے کی طرح لپکا اور بھاگ کر اسکول کے سامنے والے اکلوتے بک ڈپو سے نوٹ بک لے آیا،جب اس کے پاس پہنچا تو وہ سر جھکائے بیگ میں سے کچھ تلاش کر رہی تھی میں نے نوٹ بک اس کی آنکھوں کے سامنے لہرائی تو وہ آنکھوں میں حیرت سجا کے مجھے دیکھنے لگی۔
ارے واہ اتنی جلدی لے آئے؟تم تو بہت اچھے ہو۔
کلاس کے ہر لڑکے کو تمھاری طرح ہونا چاہیے۔ لیکن تم ان سب سے اچھے ہو،آخری جملہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے ایک خاص رنگ گزرتے ہوئے میں نے دیکھا ،کوئی وقت تھا کہ اس کے منہ سے اپنی تعریف سن کر میں تو مر ہی جاتا،اتنے میں اس کی آواز گونجی ایسا کرو جو پیسے بقایا بچے ہیں وہ تم رکھ لو آج وہ جس قدر مہربان تھی جی کر رہا تھا کہ میں اظہار محبت کر دوں لیکن پھر سوچ آئی کہ یہ جو آج تعریفیں کر رہی ہے کل کو جوتے برسائے گی اور حسن میاں بات کرنے اور دیکھنے سے بھی جائو گے ۔یہ سوچ کے میں چپ چاپ گھر آ گیا ،کھانا بھی نہیں کھایا گیا کیونکہ آج کی خوشی حد سے سوا تھی۔مجھ پر نعمتوں کی برسات کر دی گئی تھی اتنی خوشیاں سہار نہ سکا اور بیمار پڑ گیا۔ اسکول سے واپس آ کے شدید بخار نے آ لیا اور میں چار پائی پہ آ گیا ۔امی پریشان ہو گئیںزبردستی دواکھلائی اور مجھے لٹا دیا،ساتھ ہی مجھے غنودگی آنے لگی۔مجھے نیند کے ہلکورے آنے لگے بہت خوبصورت پھولوں کے کُنج میں میں کھیل رہا تھا ، ہلکے ہلکے بادل بنے ہوئے تھے ۔گول پتھروں کو پینٹ کر کے خوب صورت سی پہاڑیاں بنی تھیں ان میں سے آبشارگر رہی تھی سر سبز میدان تھا اور اس میں سفید سنگی بینچ دھرے تھے ایک طرف جھولے لگے ہوئے تھے اور میں ان ہی جھولوں پہ جھول رہا تھا کبھی ایک جھولے پہ کبھی دوسرے جھولے پہ جاتا ،ایک پِینگ پہ میں نے اونچی اُڑان بھری مانو آسمان کو چھونے لگا ۔اگلی اُڑان اس سے بھی اونچی اور پھر اس سے بھی اونچی،شائد مجھے ستاروں پہ کمند ڈالنا تھی اور اونچا جانے کے لئے جب میں نے حتمی اڑان بھری تو اسی اثنا میں آسمان پہ چھائے کالے سیاہ بادلوں میں سے ایک بہت بڑا اور بالوں بھرا ہاتھ نمودار ہوا جس کے اوپر موٹی موٹی رگیں ابھری ہوئی تھیں ساتھ ہی اس عفریت نے مجھے دبوچ لیا اور آن کی آن میں مجھے اچک کر نہ جانے کہاں لے گیا ۔میرا دل گویا سمندر جیسی گہرائی میں ڈوب گیا اور گھٹی گھٹی سی چیخ نکل گئی۔کچھ دیر بعد ہوش آیا تو میرا سر امی جی کی گود میں تھا ۔مجھے یاد آیا کہ میں نے کتنا ڈرائونا خواب دیکھا تھا ،اس کے ساتھ ہی مجھے جھُرجھری سی آئی اور میں اور زیادہ امی کی گود میں سمٹ گیا۔
…٭٭…
مجھے اکثر ایسے ہی خواب آتے جن کا آغاز تو بہت حَسین ہوتا لیکن انجام ایسا کہ دل دہل جائے ۔نادان عمر تھی اس وجہ سے میں نے کبھی اس طرح کے خوابوں کو ایک آدھ دن سے زیادہ یاد نہیں رکھا ۔حالانکہ ہمارے بزرگوں سے میں نے سنا تھا کہ ایک طرح کے خواب مسلسل آئیں تو وہ صرف خواب نہیں ہوتے بلکہ پیغام ہوتا ہے لیکن میری صرف اتنی تمنا تھی کہ کاش میرے خواب کے حَسین حصے میں وہ بھی تو ہو ،ہم دونوں ان وادیوں میں گھوما کریں ،لیکن خواہش تو خواہش ہے اور خواب بھی خواب ہی ہوتے ہیں۔ کچھ دن بعد پھر ایسا ہی خواب آیا،میں اب باقاعدہ ڈرنے لگا کہ کوئی انہونی نہ ہو جائے۔ شاید آنے والے وقت میں کچھ ہونے والا ہے مجھے نانی جان کے یاد کرائے ہوئے ورد وظیفے یاد تھے میں نے کسی سے بات شیئر کرنے کی بجائے انھی قرآنی آیات کا ورد کرنا شروع کر دیا،جس سے مجھے کچھ سکون آنے لگا،نانی اماں اللہ والی تھیں اور مجھے تو ان سے لگائو تھا ہی لیکن ان کو بھی مجھ سے حد سے زیادہ پیار تھا ،اللہ پاک کی ان پر نظر کرم تھی جو اب مجھ پر بھی عطا تھی سو مجھے ان مشکل حالات میں کسی دوسرے تیسرے سے مدد نہیں لینی پڑی اور میں نے یہ خوابیدہ سلسلے اپنی باطنی طاقت سے روک سے دئیے،لیکن ایک نقصان ہو گیا وہ یہ کہ فرزانہ کے لئے میری اندر ہی اندر پلنے والی چاہت کی خبر میرے دوستوں کو ہو گئی ،ابھی میں نے اظہار وفا بھی نہ کیا تھا کہ چرچا ہو گیا ۔خیر سارے یار دوست خوش تھے کہ میں بھی انھی کے میدان کا کھلاڑی بننے چلا ہوں۔اور یہ بات بھی درست ہے کہ لڑکیوں کی باتیں کر کر کے ان لوگوں نے ہی میرے دل میں خواہش پیدا کی تھی کہ میں بھی کسی کو چاہوں اور کوئی مجھے ۔لیکن میرے دل میں ایک اور خواہش بھی تھی کہ میں صرف دوستی نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کے ساتھ عمر بھر رہنا چاہتا تھا۔شائد اسی سچائی کی خبر انکو ہو گئی اور لگے مجھے چھیڑنے،میں شرمایا بھی کروں اور مجھے اچھا بھی لگا کرے ،کبھی کبھی ڈینگیں بھی مارتا تھا کیونکہ اس عمر میں محبت کم اور ڈینگیں زیادہ ماری جاتی ہیں ،اس چنڈال چوکڑی میں بیٹھ کر ہمایوں سعید اور شاہ رخ خان کے ڈائیلاگز سے متاثر ہو کر میں بھی کبھی کبھار جھوٹ موٹ کوئی وارداتِ دل سنا دیا کرتا اور من پرچا لیتا اس سارے ڈرامے میں ہوا یہ کہ میں جو بہت اچھا سٹوڈنٹ نہیں تو برا بھی نہ تھا،میرے اچھے گریڈز ڈائون ہو گئے اور میںفرسٹ سمسٹر میں فیل ہو گیا ،گھر والے شاکڈ ہو گئے کہ اس کو کیا ہو گیا ہے ۔میری بھی جو محبت کی فینٹسی چل رہی تھی دھڑام سے گر پڑی،ٹیچرز بھی پریشان تھیں کہ علی حسن کو کیا ہوا ہے جوا س کے گریڈ کم ہو گئے،لیکن کسی کو کچھ سمجھ نہ آیادوست بھی کہنے لگے یار ہم تو کمرئہ امتحان میں تمہارے آسرے پر ہی جاتے تھے ،لیکن تم نے تو ہمیں مایوس کر ڈالا ۔کہیں اس کے پیچھے ْباجی فرزانہ، کا ہاتھ تو نہیں ہے؟حماد نے مذاقاًپوچھا تو میں نظریں چُرا گیا ۔کلاس میں بھی میری روٹین عجیب ہو گئی ،میرا اسے چوری چوری دیکھنا ،ساری کلاس کی لڑکیاں چھوڑ کے صر ف ا سی کی بات پر دھیان کرنا ،بھاگ بھاگ کر کام کرنا ،اب تو پوری کلاس نے نوٹ کر لیا تھا،شائد اسے بھی خبر ہو لیکن پتہ نہیں چلتا تھا۔نہ کبھی میں نے اظہار وفا کیا اور نہ کبھی وہ مجھے اپنی منتظر نظر آئی تھی ۔ایک دن میں کلاس میں بیٹھا اس جانِ محبوبی کے خیالوں میں گم تھا کہ احمد نے آ کے کہا۔
حسن تمہیں میڈم رفعت کمرہ میں بلا رہی ہیں ،میں نے حیرانی سے پوچھا۔
مجھے کیوں بلا رہی ہیں؟وہ کندھے اچکا کر چلا گیا میں میڈم رفعت کی عزت ماں کی طرح کرتا ہوں اس لئے ان کے بلانے کو اگنور نہ کر سکا اور ڈھیلے ڈھالے انداز میں کمرہ کی طرف بڑھ گیا ۔
…٭٭…
علی حسن بیٹا آج کل آپ پریشان ہیں؟
نہیں میڈم بس ایسے ہی ،نہیں کوئی وجہ تو ہے جو آپ کا رویہ بدلا ہوا ہے۔
میڈم نے اصرار کیا۔
نو میڈم آپ کا وہم ہے۔ میں نے کمزور آواز میں کہا۔تو کچھ دیر کے توقف کے بعد میڈم نے بات شروع کی۔
حسن بیٹا جانتے ہو آج میں نے آپ کو یہاں کیوں بلایا ہے۔ میں نے ان کے بدلے ہوئے لہجے پر غور کیا اور متوجہ ہو گیا۔ آج فرزانہ تمھاری کلاس فیلو نے مجھے تمھارے ساتھ بات کرنے پر مجبور کیا ہے ۔میں چیئر سے دو فٹ اچھلا اور آنکھوں میں الجھن لیے خاموشی سے میڈم کی طرف دیکھنے لگا ،دل تیزی سے دھڑک رہا تھااور سانس دھونکنی کی طرح تیز تر۔
دیکھو علی حسن اسے پوری طرح پتہ ہے کہ تم اسے پسند کرتے ہواور اسی پسند کے چکر میں فیل ہوئے ہو،لیکن جانتے ہو وہ تمہیں فیل یا ناکام انسان نہیں دیکھنا چاہتی۔وہ ایک کامیاب اور اچھے گریڈ والے لڑکے سے محبت کرتی ہے اور اب اس نے پیغام دیا ہے کہ تم اس کے لیے بہترین گریڈ لے کر آئو گے اور اگلے سمسٹر میں فرسٹ آ کر دکھائو گے تا کہ اسے تم پہ فخر ہو اور پھر وہ تم سے بات بھی کرے گی ،میں جو تنے ہوئے اعصاب کے ساتھ میڈم کی بات سن رہا تھا ایک دم پر سکون ہو کر کرسی پر ڈھے سا گیا۔ انہوں نے نے درمیان میں رکھی ٹیبل پر آگے کو جھک کر سوال کیا۔ تم پسند کرتے ہو ناں اسے؟میں ان کی بات پر اونچے کرائون والی کرسی کی بغل میں منہ چھپانے لگا وہ میری حالت دیکھ کر مسکرا پڑیں،بیٹا میں جانتی ہوں اس لڑکی کے چکر میں تم اس بار فیل ہوئے ہولیکن اب وہ ہی چاہتی ہے کہ تم پڑھ کر ایک کامیاب انسان بنو تو کیا تم اس کی خواہش پوری نہ کرو گے ؟میڈم رفعت نے حتمی سوال کیا۔
جج ججی جی میڈم۔
میں ہکلا کر اتنا ہی کہہ سکا اور پھر انھوں نے مجھے جانے کی اجازت دے دی
…٭٭…
محبت میں محبوب کو دیکھنا،چھونا،بات کرنا اور اس جیسی اور بہت سی چوریاں ہوتی ہیں جن میں سے میں نے ایک بھی نہیں کی تھی ، نہ ہی ادراک تھا اور نہ ہی خواہش،میں اپنی پسند کی لڑکی سے دائمی ملن کی دعا تو کرتا تھا لیکن اس سے قربت کا خیال میرے لئے گناہِ عظیم تھا ،اور اب تو میرا ٹریک ہی دوسرا تھا مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ مجھے عام لڑکوں جیسا نہیں بلکہ بہت خاص اور کامیاب دیکھنا چاہتی تھی ۔اب ایک یہ ہی بات میرا مقصدِ حیات تھی میں نے سر کتابوں میں ڈالا اور تن دہی سے پڑھائی شروع کر دی۔
…٭٭…
جب ایک انسان اپنی مضبوط قوت ارادی سے ایک نیک مقصد میں لگ جائے تو دنیا کی تمام مثبت قوتیں اس کی مدد کرنے کے لئے سر گرم ہو جاتی ہیں یہ ہی میرا ماننا تھا اور اس پر مجھے تب یقین آیا جب میں نے آٹھویں جماعت کے رزلٹ میں فرسٹ،سیکنڈ اورتھرڈ آنے والے طالبعلموں کو پچھاڑتے ہوئے سیکنڈ سمسٹرمیں فرسٹ پوزیشن لے کر ثابت کر دیا کہ محبت ہی کامیابی ہے ۔سکول والے ،کلاس والے ،دوست ،کزن،بھائی ،حتیٰ کہ ماں باپ اور اساتذہ کوبھی خوشگوار حیرت تھی کہ میں نے یہ کیسے کر دیا۔میں مبارکباد وصول کرتے کرتے اس بات کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ کب مجھے مبارکباد دے گی۔پھر اچانک خیال آیا یار ہر بار یا تو وہ پہلی پوزیشن پر ہوتی یا پھرنعمان ۔یہ دونوں ہی تو لائق فائق تھے۔میرے دوست بہت خوش تھے مگر اویس کو یقین نہیں آ رہا تھا کیونکہ یہ پہلی بار ایسا ہوا۔بھلایہ کیسے ہوسکتا ہے جو لڑکا پچھلے تقریباً پانچ سالوں کوئی پوزیشن نہیں لے سکا وہ اچانک فرسٹ کیسے آگیا۔
…٭٭…
میںروز مرہ کی طرح سکول جا رہا تھا جیسے ہی داخلی دروازے کے سامنے پہنچا میرے اسکول سے ایک سجی سجائی بس نکلی میں خوشگوار حیرت سے دیکھنے لگا عجیب بات تھی کہ اُس میں میری پوری کلاس سوار تھی لگتا ہے کسی کی شادی ہے اور پورا سکول باراتی بنا ہوا ہے۔پر مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں میں خود کلامی کر رہا تھا بس جیسے ہی میرے آگے سے گزری تو کھڑکی سے میرے دوست شور مچا کر مجھے بلا نے لگے۔
علی علی جلدی آئو دیکھوفری باجی کی شادی ہوگئی ہے ۔ہم اِس کے سسرال جارہے ہیںکھانا ملے گا آجائو۔ میرے ہاتھوں سے بستہ گر گیا اور میں بس کے پیچھے بھاگنے لگا ۔تب میں دوڑ کر بس سے ذرا آگے نکل گیا ۔ہمارے اسکول والی سٹرک پرہی تھوڑا آگے ایک اور اسکول ہے ،بس تھوڑی دیر کے لیے وہاں رکی اتنے میںمیں پھر بس سے آگے جا پہنچا۔تب میں نے دیکھافرنٹ سیٹ پر فرزانہ دلہن بنی بیٹھی ہے اور ساتھ دولہا اویس بنا ہوتاہے جو مجھے دیکھ کر طنزیہ ہنستا ہے اور بس آگے گزر جاتی ہے ۔میں چیخ کر کہتا ہوں فرزانہ یہ کیاکررہی ہو تم ؟اویس کے ساتھ دلہن بن کر کہاں جا رہی ہوتم،دیکھو یہ اچھا لڑکا نہیں ہے ْتمھیں تو میں اچھا لگتا تھا ناں؟،فرزانہ۔فرزانہ ۔اے فری ۔میں آوازیں دیتا رہ گیا اور وہ متکبر چہرے والے اویس کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔میں جاتی ہوئی بس کے پیچھے کھڑا بڑبڑانے لگا۔ وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت تو نہیںتو پھر کیوں۔۔۔۔۔کیوں۔۔۔۔۔کیوںںںںں،ایک گرجدار کیوں کے ساتھ میری آنکھ کھل گئی۔میں پسینے میں شرابور تھا۔فجرکی اذانیں ہورہی تھیں دل اس بے ترتیبی سے دھڑک رہا تھا کہ لگتا تھا ابھی نکل کے باہر گر پڑے گا اور دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا یہ محض خواب نہیں۔چھت پر نماز ادا کرکے جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے توایک خیال من میں آیا علی تم نے کبھی یہ سوچا کہ اگر تم اُسے پا نہ سکے تو؟میںاس خیال سے خوفزدہ ہو کراپنے خیال کی نفی کرتا ہوا جاء نماز سے اٹھ کھڑا ہوا۔ڈرتا ڈرتا سکول پہنچا۔شدت سے فرزانہ کا انتظار کرنے لگا۔اُس محلے سے آنے والے بچوں سے پوچھا سب خیریت تھی۔میرا بیوقوف دل یہ سمجھ رہا تھا شاید کل رات اُس کی شادی ہوچکی ہوگی مگر ایسا کیسے ہوسکتا ابھی اُس کی عمر ہی کیا اور کچھ ہی دیرمیں وہ سامنے سکول بیگ اُٹھائے آرہی تھی۔اب دل کو حوصلہ ہوا ۔یہ خواب کیا تھا کیا یہ محض خوف ہے میرا؟ یہ میں نہیں جان پایا۔پھر کافی عرصے بعد مجھے کہیںتعبیر پڑھنے کا اتفاق ہوا کہ اگرخواب میں شادی آپ کی ہو تو رخصتی کا مطلب آپ کو کوئی خوشی ،کامیابی ملے گی اگر رخصتی محبوب کی ہوتو موت یا رنج پائے۔ یو ں مجھ کو بعد میں یہ سمجھ آیا کہ میرے حصے کی خوشی کسی اور کو مل گئی شاید۔
…٭٭…
اسکول سے آنے کے بعد تھکن سے برا حال تھا میڈم رفعت کی باتوں نے چکرایا ہوا تھا،شاید پرائیویٹ ادارے ایسے ٹیچرز کی وجہ سے ہی کہانیوں میں رہتے ہیں،بہرحال جو مجھ پہ ہو گزرا ہے میں یہاں صرف اپنے موضوع کے متعلق ہی بات کروں گا،میڈم رفعت نے مجھے کہا کہ تم نے فرزانہ سے اظہار محبت کر دیا ہے؟میں نے چونک کر انکی طرف دیکھا،تو گویا میرے اندر کی ہلچل کا میڈم کو بھی ادراک تھاشرمندگی سے میں بس خاموش ہی رہا۔
دیکھو علی ،وہ بھی تمھیں پسند کرتی ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے،تم اسے بتائو اور میں نہیں چاہتی کہ کوئی میری طرح رہ جائے ہاں میں نے بھی پسند کسی اور کو کیا اور شادی کہیں اور ہو گئی،خیر چھوڑو ،وہ بھی تمھیں چاہتی ہے اور ہم سب کی خواہش بھی ہے کہ تم ایک لائق فائق طالب علم بنو،اسے تم پسند ہو۔ فرزانہ ایک لڑ کی ہے اور لڑکی کبھی زندگی میں دوسری بار پیار نہیں کرتی۔
وہ کچھ دیر کے لئے خاموش ہوئیں اور میری آنکھوں میں جھانکنے لگیں میڈم رفعت کی باتوں سے مجھے مہمیز ملی جوشیلے انداز سے میں نے کہا۔
میڈم جی میں لازمی اُس سے شادی کروں گا اور اپنے امی ابو کو بتائو ں گا۔
امی ابو کی بات پر میڈم تھوڑا گھبرائیں مگر جلد ہی خود کو قابو پاکے بولیں۔
شاباش مجھ یقین ہے تم پیپرز کی طرح یہاں بھی سب کو حیران کردو گے۔
کافی وقت سرک گیامیںپڑھائی میں جُٹا ہوا تھاکہ یہ اس کی خواہش تھی ا یک دن بہت عجیب ہوایہ سردیوں کا موسم تھا جب سب کلاسیںصحن میں دھوپ کے لئے بیٹھی تھی ،کلاس روم خالی پڑے تھے صرف بیگز اور چیئرز ہی پڑے تھے۔میڈم نے کسی کام سے فرزانہ کو اندر بھیجا اوراُس کے فوراً بعد مجھے کمرے میں بھیجا مجھے ڈسٹر لینے بھیجا تھا اور اسے شاید کوئی کتاب، ہم دونوں مطلوبہ چیزیں لئے باہر صحن میں آگئے۔میڈم نے بریک ٹائم پوچھا کہ تم نے فرزانہ سے کوئی بات کی ،میںنے کہا! نہیں میڈم بولی تم کو محبت کااظہار کر دینا چاہیے تھا، میں نے کہا!کیا مطلب کیا وہ نہیں جانتی کہ مجھے اُس سے پیار ہے تب میڈم نے شرمندہ ہو کر کہا۔
علی میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ تم سے پیار کرتی ہے۔دراصل میں چاہتی تھی کہ تم ایک لائق فائق لڑکے بن جائو کیونکہ تم میں پڑھنے کی صلاحیت موجود ہے اس لئے میں نے کہانی گھڑی۔ میں شرمندہ ہوں اِس با ت کے لیے مگر اب بھی بات تو بن سکتی ہے ۔تم کوشش کرو اظہار کی مجھے یقین ہے وہ ضرور مان جائے گی۔
مجھے اِس بات پر بہت غصہ آیا وہ جو اچھے ٹیچر کا خاکہ تھا میرے ذہن سے اترنے لگا میں خاموش رہا اور لٹا پُٹا سا گھر آگیا۔خواب اچانک چکنا چور ہوگئے تھے ہم اب بھی ایک دوسرے سے اجنبی ہی تھے۔ 8th کلاس میں شاعری کا شوق تھا مگر کبھی کوشش نہیں کی ۔اُس دن ایک شعر بے اختیار تخلیق ہوا اور زبان پہ بھی آ گیا۔
جب دل پے چوٹ لگتی ہے تو منہ سے نکلے ہائے
بے درد زمانہ کیا جانے کوئی آئے تو کوئی جائے
میں بہت اداس تھا گھر آیا ،کھانا تو کیا کھانا تھا ،بس چپ چاپ آ کے کمرے میں لیٹ گیا ،میڈم کی باتیں یاد آتیںاور میں کروٹیں بدلتا ، لائٹ آف کر کے لیٹا سونا تو کیا تھابس کچھ دیر تنہا رہنا چاہتا تھا۔بہن بھائیوں سے الگ دوستوں سے چھپ کے میں گزرے وقت کے بارے میں سوچنے لگا۔ جس میں میری نانی اماں تھیں ۔وہ ایک روحانی شخصیت تھیں، ان کا فیض بھی چلتا تھا لیکن بچپن عمر میں تو بس ان کے پیار اور شفقت کی یادیں ہی تھیںجنھیں ہر مشکل وقت میںمیں مِس کرتا تھا ۔ان کے ساتھ کھیلنا ان سے پیسے لینا ان کے بستر میں چھپ کے چیزیں کھانا۔سب یاد آتا رہا اور نہ جانے کب میں سو گیا،
…٭٭…
اس دن کی گفتگو کے بعد میڈم مجھ سے کم ہی بات کرتیں اور میں فرزانہ کو گھورتا رہتا۔ایک دن ہم لڑکے بریک کے دوران کلاس سے ڈیسک اٹھا لائے اور سکول کے صحن میںرکھ کر بیٹھے رہے بریک بند ہونے پر پرنسپل صاحب نے ہماری کلاس میں آکر پوچھا کہ باہرڈیسک کس نے رکھا ہے۔مجھے یا د آیا میں ہی اختر کے کہنے پرڈیسک باہر لایا تھا اور سر نے منع کررکھا تھا کیونکہ بچے ڈیسک باہر رکھ کر چھلانگیں لگاتے تھے اور کتنے ہی ڈیسک توڑ چکے تھے۔اب مجھے پریشانی ہونے لگی مجھے یقین تھاکہ میرے دوست میرانام نہیں لیں گے ۔مگر جب سر نے دھمکی دی کہ ساری کلاس کو سکول سے نکال دیا جائے گا۔تو وہ ہوا جس کا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا جھٹ سے فرزانہ بولی سر، علی نے میرے سامنے ڈیسک باہر رکھا تھا۔سر میری طرف آئے اور پوچھا کیا یہ صحیح کہہ رہی ہے؟کوئی اورکہتا تو میں مکر ہی جاتا لیکن اس دشمن ِ جاں نے سب کے سامنے کہا تو شدید صدمے سے میری آنکھیں دھندلانے لگیں یا شائد بھیگ گئی تھیں مجھے اَس کی توقع نہ تھی کیونکہ میرے جذبات اُس کے لیے کچھ اور تھے۔میں نے غصے سے شدید جذباتی ہو کے ٹیچر سے کہا۔
جی سر میں نے ہی ڈیسک باہر رکھاتھا۔انھوں نے کھینچ کے تھپڑ رسید کیا میرا چہرہ تھپڑ کی شدت سے گھوم گیا ساتھ ہی سرنے دوسرا تھپڑ مارا اس بار میں ڈیسک پر جا گرا مگر میری آنکھوں میں آنسوئوں جگہ انتقام تھا اور سر جھکا ہوا تھا۔میرے منہ سے خون نکلنے لگاشائدہونٹ پھٹ گیا تھا۔اس کے بعدسر یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ تم نے سچ بولا اس لیے چھوڑ رہا ہوں ور نہ ابھی سکول سے نکال دیتا۔ان کے جانے کے بعدمیں نے گہری نفرت سے فرزانہ کو دیکھا اور کہا۔
تم یہی چاہتی تھی ناں؟ لو خوش ہوجائو۔مجھے غصہ میں دیکھ کر میڈم نے کہا جائو منہ دھو کر آئو میںخاموشی سے کلاس روم سے باہر آگیا۔ساتھ ہی واش بیسن تھا ۔میں منہ پہ تازہ پانی کے چھپاکے مارنے لگا کہ ٹیچر کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔
فرزانہ تمہیں بتانے کی کیا ضرورت تھی؟تم خاموش ہو رہتی ۔ فرزانہ بولی !میڈم مجھے ڈر تھا کہیں سر راٹھور ہم سب کو سچ مچ اسکول سے نہ نکال دیں۔میڈم خاموش ہوگئیں ،مجھے اورغصہ آنے لگا۔
اسکول ٹائم آف ہونے پر میںخاموشی سے گھر چلا آیا
…٭٭…
کچھ دنوں تک یوں ہی ناراضگی چلتی رہی ۔مجھے کلاس میں فرزانہ کا بیٹھنا اچھا نہیں لگتا تھا سبھی میری ناراضگی کی وجہ سمجھتے تھے ۔یہ بات فرزانہ کو بھی محسوس ہونے لگی تھی کہ علی کا رویہ پہلے سے بدلا ہوا ہے۔میں نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے پڑھائی کو وقت دینا شروع کر دیا جس دن سر نے مجھے مارا تھا اس دن چھٹی کے بعد روک کے دفتر بلا لیااور بہت شفقت محبت کے ساتھ پڑھائی کے بارے میں بات کرتے رہے اور باقاعدہ وعدہ لیا کہ میںپوزیشن لوں۔ میرا اعتماد بحال ہوا سومیں چند ہی دنوں میں کلاس کا لائق فائق لڑکا تھا بورڈ کے سالانہ امتحان قریب تھے ۔کلاس کے سبھی بچے دل لگا کر پڑھ رہے تھے میں ہمیشہ سے ہی حساب میں بہت تیز تھا ،ساری کلاس حساب ،الجبرا وغیرہ سے بہت گھبراتی ۔لیکن اِسی میں میں بہت تیز تھا ۔اب ہوا کچھ یوں کہایک دن فرزانہ کو ایک سوال کی سمجھ نہیں آرہی تھی میڈم نے کہا حساب کی ٹیچر اب صبح آئے گے تم علی سے سوال سمجھ لو۔وہ ہچکچاتے ہوئے میرے پاس آئی اور سوال سمجھانے کی درخواست کی۔میں نے روکھے لہجے کے ساتھ سوال سمجھانا شروع کردیا۔جب اُس کو احسا س ہوا کہ میں اُس کی سمجھا کم اور تحقیرزیادہ کررہاہوںتو بولی رہنے دو اگر اس طر ح سمجھانا ہے تو، میں نے فوراً کہا۔
اچھا تم کو یہ بات چبھتی ہے مگر جو تم نے کیا اُس کاکیا؟وہ معصومیت سے بولی!علی ابھی تک وہ بات تم نے دل میں رکھی ہوئی ہے۔مجھے لگاوہ دل میں میری چاہت رکھتی ہے لیکن زبان سے بس کہہ نہیں رہی یہ بات شاید اُس کے لیے عام تھی لیکن جب اس نے مجھ سے اتنی اپنائیت سے بات کی تو میں بھی اس کی ادا سمجھ کے سب بھول گیا اور اس بات کو ہی اس کا معافی نامہ سمجھ بیٹھا ۔
تبھی اپنا یہ شعر زبان پہ آ گیا
دل بھی عجیب منصف ہے عالم
کہ خود اپنے ہی فیصلوں پے اختیار نہیں
…٭٭…
بہاریں پھر سے لوٹ آئیں ۔میڈم سچ ہی توکہتی تھیں کہ بات بن سکتی ہے تم کوشش توکرو (میںخود کلامی کرتے ہوئے گھر آگیا)۔بورڈ کے سالانہ امتحان کو تھوڑے دن رہ گئے ،میں مسلسل اس بات سے پریشان تھا کہ سکول آف ہونے کے بعد کیا کروں گا اور ہمارا سکول لڑکوں کے لیے 8th کلاس تک ہی تھا ۔نویں اور دسویں جماعت صرف لڑکیوں کیلئے تھی۔جہاں اس کی طرف سے دل صاف ہوا اور محبت دوبارہ جاگزیں ہوئی تھی ساتھ ہی گزرتا ہوا وقت تیز ،باریک اور دہکتے ہوئے پل ِ صراط کی مانند بنتا جا رہا تھا۔سوچ سوچ کے دماغ پلپلا ہو رہا تھا پڑھائی بھی ٹھیک سے نہ ہو پا رہی تھی کیونکہ اسے دیکھ لینا ہی میری محبت کی معراج تھی اور مجھ سے کچھ عرصے میں یہ نعمت چھننے والی تھی بہت سوچنے سمجھنے کے بعد آخر میں نے اپنے خالہ زاد بھائی سے بات کرنے کا سوچاوہ اس وقت میٹرک کر رہا تھا اور ہم اچھے دوست بھی تھے کچھ یہ کہ عشق کے میدان کا وہ پرانا کھلاڑی بھی تھا مددنہ کر سکا تو کوئی اچھا مشورہ تو دے گا وہ میرے بھائی یا امی کو بتائے گا اور اس طرح میری شادی فرزانہ سے ہو جائے گی۔ہا ں یہ آئیڈ یا ٹھیک رہے گا۔ایک دن ہم لوگ چھت پہ بیٹھے ہوئے تھے اتفاق سے میںاور ارسلان ہی تھے کچھ سوچے سمجھے بغیر ہی میں نے بات کی۔
ارسلان بھائی میں… میں اپنی کلاس کی لڑکی کو پسند کرتا ہوں اور اس سے شادی کروں گا اس لئے تم میرے گھر والوں کو بتائو اور وہ رشتہ ڈالیں، مُندی آنکھوں کے ساتھ میں نے ایک سانس میں اپنی بات مکمل کی اور ڈر کے مارے اس وقت آنکھیں دوبارہ کھولیں جب اس کے ہولناک قہقہے میری سماعتوں سے ٹکرائے ۔ میں منہ بسورتے ہوئے اُسے دیکھ رہا تھا۔
اِس میں ہنسنے کی کیا بات ہے کیا تم مرزوں کی نادیہ کو پسند نہیں کرتے؟ اس کے قہقہے کو میری بات سننے کے بعد بریک لگ گئی ،وہ بالکل خاموش ہو گیا ، میں نے سوچا کہ اس کی بات کر کے میں نے اسے لاجواب کر دیا ہے اب تو ضرور ہی مدد کرے گاتب ایکدم اس نے مجھے گالیاں اور صلواتیں سنانی شروع کر دیں۔
پہلے اپنی عمر تو دیکھو،چلا ہے عاشق بننے ،کیوں تم نے بھی عاشقی کب سے کرنی شروع کر دی تھی،اب مجھے وہ پسند ہے تو کیا کروں، تم مدد نہیں کرو گے؟میں نے بھی ترنت جواب دیا، کچھ دیر یوں ہی بحث چلتی رہی بلاآخرمجھے غصے اور پریشانی میں دیکھ کر وہ سنجیدہ ہوگیا ۔اُس نے کہا۔
اچھا یار کچھ کرتا ہوں لیکن تیرے ابا سے بہت ڈر لگتا ہے ،خیر اب جب اس کشتی کے مسافر بن ہی گئے ہو تو ڈرنے سے کام نہیں چلے گا ،چل تو بے غم ہو کے امتحان کی تیاری کر ،اتنے میں کوئی شُرلی پٹاکا چھوڑتے ہیں اس نے یاروں کی طرح کھلی بات کی تو میرا جگرا بھی بڑھ گیا میں خوش ہوگیا اور پڑھائی میں جُت گیا۔
…٭٭…
فرزانہ کی طرف سے میرا دل صاف ہوا ہی تھا کہ اُس کا رویہ بھی اچانک ہی بدل ساگیا وہ پہلے سے اورزیادہ مجھے اپنے قریب لگنے لگی ۔ہنس کے بات کرنا،خاص طور پر مجھے کام کہنا بلکہ ساری کلاس میں سے مجھے زیادہ اہمیت دینا،وہ باتیں کر رہی ہوتی تو اچانک میرے آ جانے سے خاموش ہو جاتی آنکھوں کا رنگ بدل جاتا اور میں بھی ایک گہری نظر ڈال کے ادھر ادھر ہو جاتا،اتنی کم عمری میں پاکیزہ محبت سچائی کی علامت تھی کیونکہ دیکھنے سے زیادہ کی چاہت ہی نہ تھی مجھے، اسکول یونیفارم میں وہ مجھے آسمان سے اتری حور محسوس ہوتی مجھے ذہنی طور پر ایک خوف تھا کہ کہیں یہ اویس یا کلاس کے کسی اور لڑکے کو پسند نہ کر لے کیونکہ مجھے میرے خوابوں کی حقیقت سے ڈر لگتا تھا اور یہ بھی سچ ہے کہ جب انسان محبت کر رہا ہو تو محبوب کے کھو جانے کا یا بدل جانے کا احتمال بھی پوری شدت سے ہوتا ہے لیکن اس کا رویہ،ادائیں اور مجھ سے نظریں چرانا اس بات کا غماز تھا کہ آگ دونوں طرف لگی ہوئی ہے ،یوں بھی محبت کو اظہار کی ضرورت تب ہوتی ہے جب جذبوں میں خالص پن نہ ہو اور ادھر تو دن بدن مجھے اَس بات کا یقین دلایا جا رہا تھاکہ وہ صرف مجھ سے ہی پیار کرتی ہے ۔اس ساری صورت حال کو دیکھ کے میں نے ارسلان کو اوکے کی رپورٹ دی تو اس نے بھی بتایا کہ میں نے خالہ رخسانہ سے تمھاری بات کی ہے ،یہ خالہ اب فوت ہو چکی ہیں لیکن ہم سب کی دوست خالہ تھیں ،بعد میں جب میں ان کے گھر گیا تو خالہ رخسانہ مجھے دیکھ کے مسکرائیں۔ منڈا جوان ہو گیا ہے کرتے ہیں اس کی شادی پہلے کما تو لے ،اور میں ان کی بات پہ دھیرے دھیرے مسکراتا رہتا۔ بہرحال اب مجھے امید واثق تھی کہ میں اپنی منزل کو پا لوں گا لیکن شاید قدرت مجھے کچھ اور دکھانا چاہتی تھی یا محبت کے نام پر دنیا سچے چاہنے والوں کا کیا حال کرتی ہے اللہ کی پاک ذات اس سب سے پردہ اٹھا نا چاہتی تھی ،آنے والے وقت میں جو کچھ مجھے پیش آیا میں اپنے قارئین کے حوالے ایمانداری سے ساری حقیقت کروں گا،کیونکہ یہ ساری کہانی میرے رائٹر کی ذہنی اختراع نہیں بلکہ مجھے پیش آنے والے واقعات ہیں،جن پر پتہ نہیں آپ سب کو یقین آئے یا نہ آئے ،لیکن یہ آپ ہی کی امانت ہے ۔
…٭٭…
خواب تھا یا حقیقت کہ دل بہت مسرور تھا کیونکہ آج مجھے اس نے اپنے گھر بلایا تھا۔میرے ننھیال کے گھرلینڈ لائن پر فرزانہ کافون آیا ۔اُس نے مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دی خوشی سے میرے پائوں زمین پر نہ پڑ رہے تھے۔انگ انگ جھوم رہا تھا میں نے آج وہ پینٹ شرٹ پہنی جو ابو جی نے اچھے نمبروں سے پاس ہونے پر مجھے باہر سے گفٹ بھیجی تھی ،ماموں نے باہر سے پرفیوم بھیجا تھا وہ چھڑکا ،اچھے سے بال کاڑھ کر آئینے میں حتمی جائزہ لیا اور ‘تیری میری ایسی دوستی‘ گنگناتے ہوئے باہر نکلا۔
گلی میں آتے ہی میں نے یار کے کوچے کی جانب دوڑ لگا دی۔ ان کے دروازے پر پہنچا،بیل دی اور جان گسل انتظار کرنے لگا کوئی بھی برآمد نہ ہوا،میں نے ہتھیلیاں مسلتے ہوئے دوبارہ بیل پر ہاتھ رکھا ،اتنے میں دروازہ کھلا اور وہ جانِ بہار سامنے تھی میں اسے ایک دم غیر متوقع طور پر دیکھ کر پریشان سا ہو گیا اور اس نے باریک ہونٹوں میں دبی ایک دلکش مسکراہٹ سے نوازتے ہوئے میرے لئے رستہ چھوڑ دیا ،اس مہربانی کے بعد میں قدرے پُر اعتماد ہو کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔ بیرونی دروازہ عبور کرتے ہی مجھ پہ جھجک سی طاری ہو گئی کیونکہ جو بھی تھا آخر گھر تو پرایا تھا۔ڈیوڑھی سے آگے آئے تو گھر پر سناٹا سا طاری تھا، میں نے دلفریبی سے اپنی محبوبہ سے پوچھا۔
تمہارے گھر والے نظر نہیں آرہے؟میری بات سن کر وہ شرمائی اور ظالمانہ ادا سے بولی۔
ارے ہاں آپکو بتانا یاد نہیں رہاآج تو ان سب کو کسی شادی میں جانا تھا،اس لیے وہ تو ادھر چلے گئے، اس کی بات سن کر میرا رومانٹک موڈ ایکدم سے ختم ہو گیا اور اس کی جگہ گھبراہٹ نے لے لی،میں نے واپسی کا ارادہ باندھا اور اسے یاد کرایا۔
فرزانہ میں تو تمھارے ابا سے ملنے آیا تھا ۔چلو پھر کسی دن آ جائوں گا۔یہ سنتے ہی اس نے مجھے بازو سے کھینچا۔
ارے کیا کرتے ہو علی حسن اب آ چکے ہو تو کچھ دیر بیٹھ ہی جائو چائے پی کر جانا،میں نے ڈرتے ڈرتے اس کی طرف دیکھا تا کہ منع کروں کہ مجھے نہ روکے ،لیکن جیسے ہی میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی نگاہوں کی مستی میں اللہ جانے کیسی کشش تھی کہ علی حسن انکار نہ کر سکا اور یوں بھی تو اتنی پیار بھری یہ اس کی پہلی جسارت تھی ۔میں اتنے التفات کا تو نہ جانے کب سے منتظر تھا ،سو بغیر کسی حیل حجت کے میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا گیا ،وہ میرے آگے مستانی چال کے ساتھ چلتی جا رہی تھی اور میرا جی چاہ رہا تھا کہ یہ چھوٹا سا سفر کبھی ختم نہ ہو ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ وہ صحن عبور کر کے دائیں سائیڈ پہ بنے ایک کمرے میں داخل ہو گئی میں نے بھی اس کی تقلید کی ،اس کمرے میں سامان نہ ہونے کے برابر تھا ،مجھے قدرے حیرت ہوئی لیکن ان باتوں پہ غور کرنے کا ہوش کسے تھا ،اندر ایک دیوار کے ساتھ اکلوتا صوفہ پڑا تھا ،اتنے میں میری نظر اپنے پیچھے پڑی کہنہ سی کرسی پر پڑی ،میں اس پہ بیٹھنے لگا تو فرزانہ بہت تیزی سے پلٹی اور مجھے چند سیکنڈ میں بازو سے پکڑ کے سرعت کے ساتھ اپنی طرف کھینچا،میں اس کی اس حرکت پر کچھ دیر تو حیرت کے ساتھ اسے دیکھتا رہا لیکن تھوڑی دیر بعد مجھ پہ شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی۔
آئو ناں جان۔یہاں صوفے پر بیٹھتے ہیں، کرسی پر نہ بیٹھو،اس کے خواب آگیں لہجے نے مجھ پر نشہ سا طاری کر دیا ۔بلا چوں چراں مخمور ہو کر میں صوفے کی جانب بڑھنے لگا،میں بیٹھنے لگا تو وہ دروازے کی طرف بڑھنے لگی ،میں نے نظروں ہی نظروں میں سوال کیا ،تو اس نے مسکرا کر کر کہا۔
علی حسن تم بیٹھو میں چائے لیکر ابھی آئی۔ میں مطمئن ہو گیا ،اتنے میں پھر اس کی آواز آئی۔
اور ہاں پلیز صوفے پر ہی بیٹھنا،وہ دروازے میں ہی کھڑی تھی کہ میں اسے باور کرانے کو صوفے پر بیٹھ گیا،ساتھ اس کے مجھے کچھ عجب سا محسوس ہوا،میں نے ایک بارپھرپریشان سا ہو کر فرزانہ کی طرف دیکھا ،اور سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ایک آخری سِین جو دیکھا وہ یہ تھا کہ میری محبوبہ،میری زندگی،میر ی فرزانہ کمرے کے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی بلند بانگ قہقہے لگا رہی تھی اور اس کے بعد میں لڑکھنیاں کھاتا ہوا گہری کھائیوں میں گرتا چلا گیا ،میں نے آنکھیں مل مل کے دیکھا کہ شایدکچھ سمجھ آئے لیکن یوں لگ رہا تھا جیسے میں کسی تنگ سے کنویں میں گرتا جا رہا ہوں ۔گہرا گھپ اندھیرا اور چمگادڑیں مجھے نوچ رہی تھیں کیونکہ مجھے لگ رہا تھا کتنی صدیوں سے یہ کنواں یا سرنگ غیر آباد تھی،گھنے جالے میرے چہرے پہ چپک گئے تھے،جسم پہ زہریلے سے کیڑے لپکنے لگے اور چند ساعتوں کے بعد شائد میں کسی پنجرے میں جا گرا،سنبھل بھی نہ پایا کہ ایک دلدوز قہقہہ کانوں سے ٹکرایا،میری آنکھیں ماحول سے نا آشنا تھیں لیکن اس قہقہے کو سن کر میں اچھل ہی تو پڑا ،چاروں طرف احمقوں کی طرح دیکھ رہا تھا لیکن ہنسنے والا نظر نہ آیا،کچھ دیر بعد کسی حد تک آنکھیں ماحول سے آشنا ہوئیںتو اس اندھیری جگہ کو میں نے کافی وسیع پایا، ہر طرف گند ہی گند اور اور بائیںسائیڈ پہ انتہائی کونے میں ایک کالا بھجنگ بھتنا سا بیٹھا ہوا تھا یا شاید کھڑا تھا،اس کے خوفناک چہرے پہ سب سے ڈرائونی اس کی آنکھیں تھیں،چھوٹی چھوٹی لیکن لال سرخ،چہرے کی بناوٹ جنگلی مینڈھے جیسی،حتیٰ کہ سر پر سینگ بھی مُڑے تُڑے اگے ہوئے تھے،میں اس سے حقیقت میں ڈر گیا،لمبوترا چہرہ،تنگ سا بکری جیسا دہانہ، چھوٹے چھوٹے دانت اور عجیب کراہت آمیز داڑھی،نچلا دھڑ انسانوں جیسا اور موٹے سے گندے بازو ہاتھوں کے ناخن اس طرح نوکیلے جیسے خود رو گھاس کے بے تحاشا بڑھے ہوئے سِرے ،میں ابھی اس کے حلیے پہ غور کر رہا تھا کہ وہ پھر سے قہقہے لگانے لگا ،ساتھ ہی ایک بھیانک آواز گونجی ،کوٹھے کی رنڈی اور عشق کے حسین خوابوں کی رانی میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا جان اینتھس ۔تم پہ جو جال پھینکا گیا تم خوب اس جال میں قابو آئے ہوتم انسانوں کو یہ محبت کا گھُن نہ لگے تو ہم تمہارا شکار کیسے کریں،تمھاری محبوبہ نے اپنی وفاداری ہمیں بیچ کر تم جیسا انمول ہیرا میری گود میں ڈالنے میں ہماری خوب مدد کی اور اس سب کے بدلے میں اسے کیا ملا؟
یہ سوچنا تمہارا کام نہیں ۔اس کے جان اینتھس پکارنے پہ مجھے یاد آیا کہ جب نانی اماں کے ساتھ میں روحانی پرواز میں ہوتا اور کچھ انگریز انکلز کے ہاں ہم حاضری دیتے تو وہاں مجھے جان اینتھس کہہ کے بلایا جاتا تھا۔ یہ عجیب الخلقت سانڈ فرزانہ کو میرے خلاف کھڑا کر سکتا ہے؟
یہ ہمارے بارے میں سب جانتا ہے لیکن میرا ذہن مسلسل سوچ رہا تھا کہ آگے کیا کرنا ہے۔
قارئین… یہ بتاتا چلوں کہ یہ جو روحانی سلسلے ہوتے ہیں اس میں عمر کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا،روح نہ بچہ ہوتی ہے اور نہ بوڑھا،یہ بس جوان ہوتی ہے اور اس شیطانی طاقت سے ڈر مجھے اس لئے نہیں لگ رہا تھا کہ جب ہم لوگ روح کے سفر پر ہوتے ہیں تو اس طرح کے بہت سے شیطان راستہ کاٹتے ہیں جن کو اللہ کی مدد سے ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے اور مجھے یقین تھا کہ کہیں نہ کہیں سے مجھے بھی اللہ کے کرم سے مدد ہو گی ،کچھ توقف کے بعد وہ بولا تو اس کی آواز کی دھمک سے میرا پنجرا لرزنے لگا ،تبھی میری نظر اپنے دائیں طرف اٹھی،ایک پنجرا اور اس میں ڈھانچہ،کہیں کہیں کھال بھی پنجرے سے باہر لٹک رہی تھی،میں نے کراہت سے منہ دوسری طرف کیا تو ادھر بھی ایسا ہی منظر میرا منتظر تھا ،طائرانہ نظر ڈالی تو میری ڈر سے گھگھی بندھ گئی ،اس اندھیر نگری میں ہر طرف پنجرے ہی پنجرے تھے اور کسی میں تازہ لاش تھی کسی میں آدھا ڈھانچہ اور آدھا جسم باقی تھا کسی میں صرف ڈھانچے تھے ۔میری کیفییت کو محسوس کر کے اس کے ہیبت ناک چہرے پہ بہت مشکل سے بشاشت بکھری،اس نے بات کا سلسلہ جوڑا ،تم اگر مجھ سے تعاون کرو تو اس بدبودار قید خانے سے تمہاری جلدی جان چھوٹ سکتی ہے ،کیسے ؟میں نے اس کی آفر پر سرعت سے کہا۔
تمہارے پاس جو شکتی ہے وہ مجھے چاہیے، اس نے نپے تُلے انداز سے کہا،مجھے حیرت ہوئی کہ میرے پاس بھلا کونسی شکتی ہے، وہ سوال ابھی میرے ذہن میں تھا کہ وہ بول پڑا ۔ہاں تم کیسے جان سکتے ہو اس شکتی کو،آئو میں بتائوں ،ساتھ ہی اس نے میری آنکھوں میں نظر گاڑ کر دیکھا،اپنی حالت کا تو پتہ نہیں لیکن اس کی آنکھیں کبوتر کے خون ایسی لال بوٹی ہو رہی تھیں ،مجھے الجھن ہونے لگی ۔میں نے کچھ کہنے کے لئے اس کی طرف دیکھا،ساتھ ہی آئی ٹو آئی کنٹیکٹ ہوا تو شائد اس کا رابطہ اس پاور سے ہو گیا،ایک دم سے مجھے بہت گرمی لگنے لگی یوں لگے جیسے جسم میں کچھ غبار ہے جونکلنے کی کوشش کر رہاہے،میں نے اندھا دھند زور لگانا شروع کر دیا ،جیسے بخار کی کیفیت ہوتی ہے مجھے ایسا ہی لگنے لگا ۔چند سیکنڈ بعد میری آنکھوں نے جو منظر دیکھا وہ بیان سے باہر ہے یہ ہو کیا رہا ہے میں اپنے ہی ہاتھوں کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے یدِ بیضا کی طرح کوئی معجزہ رونما ہو رہا ہو اچانک میرے ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان سے لیزر لائٹ جیسی کوئی چیز نکلی ،تین لائٹس دائیں ہاتھ سے اور تین لائٹس بائیں ہاتھ سے نکل رہی تھیں ،میں یہ سب دیکھ کے دم بہ خود رہ گیا ،اب مجھے یاد آرہا کچھ کچھ، یہ ساری قوت مجھے خاص طور پر عطاکی گئی تھی مگر کب ؟کچھ دھندلی دھندلی سی یادیں تھیں کچھ چہرے تھے ،یاد نہیںآرہا یہ سب کون ہیںاسی کشمکش میں بس آخری الفاظ میری سماعت سے ٹکرائےClaw of Dragon اور وہ شعاعی پنجے میرے ہاتھوں میں نمودار ہو چکے تھے۔ پنجرے سے باہر وہ خوشی سے پاگل ہونے لگا۔
ہاں مجھے یہ والی طاقت چاہیے،لائو شاباش یہ مجھے دے دو اس کے بعد تم جہاں جانا چاہو گے میں تمہیں چھوڑ دوں گا اس نے پنجرے کے اندر ہاتھ بڑھانے کا ارادہ کیا،میں دُبکا سا پنجرے کے اندر کر کے کھڑا تھا،اس کے ہاتھ مجھ سے تین چار بالشت دور ہی تھے میرے ذہن میں ایک خیال آیا ،اگر یہ طاقت جو میرے ہاتھوں میںہے وہ اتنی ہی خطرناک ہے کہ یہ اتنا بڑا جادوگر اس شکتی کا مجھ سے تقاضا کر رہا ہے تو پھر بجلی کے کوندے کی طرح ایک خیال میرے ذہن میں آیااور دل ہی دل میں اللہ کو یاد کر کے میں نے ایک گرُ آزمانے کافیصلہ کیا،لگ گیا تو لگ گیا نہ لگا تو جو اللہ کو منظور، اب میں بغیر ڈر اور خوف کے اس کے کریہہ ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا اچانک میں نے ایک پنجابی بھڑک ماری اور ہاتھ اٹھا کے اپنے ہاتھوں کی روشنی اس کی طرف پھینکی ارے یہ کیا؟ اس کے لمحہ بہ لمحہ میری طرف بڑھتے ہوئے ہاتھ کو میں نے اپنے Claw of Dragonکی مدد سے کہنی تک کاٹ پھینکاتھا،ایک دلدوز چیخ بلند ہوئی جس سے میں کانپ کر رہ گیا لیکن اپنی حفاظت کرنا میرا حق تھا،اگر میں حملہ نہ کرتا تو اب اس کی جگہ ادھر میں زمین بوس ہوتا۔میں نے اسے مخاطب کیااگر یہ طاقت تمھارے لئے قیمتی ہے تو پھر اس پہ پہلا اور آخری حق صرف میرا ہے ،میری بات اس نے شاید سنی ہو یا نہ سنی ہو،وہ ساقط ہو چکا تھا۔بے ہوش تھا یا مر چکا تھا یہ سوچنے کا وقت میرے پاس نہیں تھا میں نے وقت ضائع کرنے کی بجائےClaw of Dragonکی مدد سے پنجرے کی موٹی سلاخیں کاٹیں میں ادھر ادھر بھاگنے کا رستہ تلاش کر رہا تھا ، دل ہی دل میںاپنی فتح کا جشن مناتا ہوا اندھا دھند بھاگنے لگا بڑی کھردری اور ناہموار جگہ تھی تقریباًآدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد مجھے ہلکی سی روشنی نظر آئی ،میرا حوصلہ جوان ہوا اور اپنی ہمت یکجا کر کے میں اس روشنی کی طرف بھاگنے لگاکچھ دیر کے بعد وہ روشنی کا نقطہ بڑھنے لگامجھے کسی شے کا ہوش نہ تھاگرتا پڑتا میں اس نقطے کی طرف بڑھتا گیا اور آخیر بھاگتے بھاگتے غار کے دہانے پہ جا پہنچا میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔باہر نکلا تو ایک ویرانہ میرا منتظر تھا مجھے بہرحال اس بات کی خوشی تھی کہ اس بلا سے تو جان چھوٹی،پیچھے مُڑ کے دیکھا تو اندازہ ہوا کہ یہ کوئی بہت بلند پہاڑ ہے جس کے اندر ایک غار میں مجھے بلکہ میرے جیسے اور بہت سے انسانوں کواپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے قید رکھا جاتا ہے ۔اوہ میرے خدا یہ کیسی اندھیر نگری ہے؟میں نے اپنے ہاتھوں سے نکلنے والی روشنیوں کو دیکھا اور پُر خطر گھاٹیوں سے نیچے اترنے لگا ،سامنے گہرائیوں میں ایک میدانی سلسلہ تھا ،میں نے سوچا کہ ادھر پہنچوں تو شاید گھر جانے کی کوئی سبیل نکلے ،میں جھاڑیاں پھلانگتا اور چٹانیں عبور کرتا ہوا اپنی مطلوبہ جگہ جا پہنچا ،یہ ایک چٹیل میدان تھا کہیں کوئی آبادی نہ تھی اور نہ ہی جگہ جانی پہچانی تھی ،بہت پریشان تھا میں ،کہاں اس محبت نے مجھے پھنسا دیا تھا،نہ میں فرزانہ نامی چڑیل سے پیار کرتا اور نہ وہ شیطانی روح مجھے یہاں اٹھا لاتی ۔اللہ میری مدد فرما،یہ دعا مانگ کر میں نے بے دلی سے آگے بڑھنا شروع کیا،اس جزیرے پر اک ہوکا عالم تھا، ہر چیز پراسرار تھی ،اچانک آسمان سے بہت سی کالی چڑیلوں کاغول نمودار ہوا اور مجھ پر جھپٹ ہی تو پڑا ،انھوں نے مجھے نوچنا شروع کر دیا مجھے زخم ہونے لگے میں نے درد سے چلانا شروع کر دیا۔کئی جگہ سے میری کھال ادھڑ چکی تھی ،میں بلبلا رہا تھا،اچانک مجھے آواز سنائی دی۔
علی حسن تمہارے پاس ایک طاقت ہے اسے استعمال کیوں نہیں کرتے؟
آں … ہاں …ہاںہاں۔کون ہو تم؟
جو بھی ہوں تم انکو مار بھگائو یہ کالی چڑیاں نہیں بلکہ چڑیلیں ہیں،میں نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور ان چڑیوں کی طرف جو پہلے تو بہت کم تھیں لیکن اب بڑھتی جا رہی تھیں میں نے اپنے خدا کو یاد کیا اور ہاتھ فضا میں بلند کر کے چاروں طرف تیزی سے گھمانے شروع کر دیئے،ارے واہ میرے ہاتھوں کی تلواریں کیا چلیں ان چڑیوں جیسی چڑیلوں کی تو چیخیں بلند ہونا شروع ہو گئیں کچھ دیر کے بعد ہی میدان صاف ہو گیا ،آدھی سے زیادہ مر گئیں اور باقی بھاگ نکلیں،میں بھی نڈھال ہو گیا ،کچھ دیر بعد میں نے پکارا تم کون ہو؟اے مجھے سن رہے ہو؟ کہاں ہوتم؟لیکن مجھے کوئی جواب نہ ملامایوس ہو کر میں نے آگے کی طرف رختِ سفر باندھا ،کیونکہ ہو سکتا ہے وہ بھی دشمن کی کوئی چال ہو،یوں ہی چلتا رہا رستے میں بہت سی غیر انسانی مخلوقات سے سامنا ہوا،اپنے سے دوگنی طاقت سے ٹکرانا بہت بہت مشکل ہے بتانا تو بہت ہی آسان ہے لیکن اس طرح کی حقیقتوں کا سامنا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ،بالخصوص ایسے معرکے جن میں جان کی ضمانت بھی نہ ہو، نا جانے کتنا عرصہ میں یوں ہی چلتا رہا اور لڑائی لڑتا رہا بہت دفعہ رستے میں سمندر آئے، پانیوں پر براجمان مخلوق سے سامنا ہوا خونریز انکائونٹر ہوئے ،ہزاروں کی تعداد میں جتھوں کی صورت میں دشمن کو تہہ تیغ کیا لیکن اتنا وقت گزرنے کے باوجود مجھے اس خونی جگہ سے نکلنے کا رستہ نہیں مل رہا تھا ،میں بہت تنگ آگیا تھا ،بے وجہ سفر اور اپنوں سے دوری مجھے مارے جا رہی تھی،میں پریشان تھا کہ گھر والے کیا سوچتے ہوں گے کہ میں کہاں چلا گیا ہوں۔یہ سچ ہے کہ میں بذاتِ خود کچھ بھی نہ تھا ،اگر میرے پاس اپنے ہاتھوں سے نکلنے والی روشنی کی پراسرار قوت نہ ہوتی تو آج میری ایک بوٹی بھی کہیں نہ مل پاتی میرا وجود دنیا سے مٹ چکا ہوتا،لیکن یہ میرے خدا کا مجھ پہ عظیم احسان ہے،یہ سب سوچتے ہوئے ایک دن ڈھیلا ڈھالا سا جا رہا تھا،نہ جانے کہاں کا کہاں پہنچ گیا تھا اب تو اس خونی جگہ پہ ڈر بھی نہیں لگتا تھا ۔ چلتے چلتے میں نے اچھل کر ایک درخت کی شاخ پکڑنی چاہی تو آسمان پہ ایک بندر اڑتا ہوا نظر آیا،شاخ تو ہاتھ نہ آئی لیکن وہ بندر میری طرف آنے لگا۔
آن واحد میں وہ میرے سامنے تھا،اتنا ڈرائونا بندر؟ میں نے خود کلامی کی۔اس کے سانس کی پھنکار مجھے بے زار کر رہی تھی۔اے انسان تم یہاں کیا کر رہے ہو۔اس نے سوال کیا لیکن میں اس کے حلئے پہ غور کر رہا تھاہاتھوں پہ جس جگہ انگلیاں ہوتی ہیں بالکل اسی جگہ اس کے پانچ نوکیلی ہٖڈیاں نکلی تھیں اور منہ کی جگہ کھوپڑی تھی جو ہو بہو بندر کی طرح تھی،پورے جسم پہ چمپینزی کی طرح بال تھے،اے بولتے کیوں نہیں؟میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی دھاڑ سے کانپ اٹھا،جواب تو تھا نہیں،اس لئے خاموشی سے ایک سمت چل پڑا ،اس نے میری گستاخی کو شائد دل پہ لیا اور میری انگلیوں سے نکلنے والی سرخ لائٹوں کو نوٹس نہ کرتے ہوئے پیچھے سے مجھ پر جھپٹا مارامیں چونکہ ذہنی طور پہ تیار تھا اسلئے اس کے جھپٹا مارتے ہی میں واپس مُڑا اور اس کی بندر جیسی کھوپڑی پہ پِل پڑا ۔ابھی ایک دو گھونسے ہی مارے تھے کہ وہ نیچے گر پڑا میں نے اسے ٹھڈا مارا لیکن وہ ٹیلے جیسا ہیبت ناک جسم یوں ہی پڑا رہا ،اس کی تسلی کر کے میں ہاتھ جھاڑتا آگے بڑھ گیا،اچانک ایک نیلی سی روشنی نمودار ہوئی میں بے خوف دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا،اب یہ کیا بلا ہے؟میں نے خود کلامی کی ،اتنے میں اس سے آواز نکلی،علی حسن تم جس جگہ آن پھنسے ہو اسے موت کی وادی کہتے ہیں،موت کی وادی،یہاں جتنا بھی سر ٹکرائو گے نکلنے کا رستہ نہیں ملے گا،اس آواز نے کہا،کیوں رستہ نہیں ملے گا میں تمہاری یہ موت کی وادی خود تمھارے لئے اجتماعی قبر بنا دوں گا،اتنا دم ہے تو سامنے آ کر بات کرو ،میں نے غصے میں جواب دیا تو اس کا جواب ایک مترنم ہنسی میں دیا گیا،تم غلط سمجھے ،بالکل غلط۔میں ان میں سے نہیں ہوں۔ مانا کہ مجھے بھی تم سے غرض ہے لیکن میں کون سی طاقت ہوں اور مجھے تم سے کیا غرض ہے یہ بتانے کا ابھی صحیح سمے نہیں آیا،اور تم بس یہ ذہن میں رکھو کہ تمھیں اس وقت صحیح ہدایت صرف مجھ سے ملے گی۔میں ہونقوں کی طرح اس آوازکی تائید میں سر ہلانے لگا،کیونکہ میں ہر حال میں چھٹکارہ چاہتا تھا ،سنو یہاں کچھ لوگ اچھے بھی ہیں جو تمھاری ذرا سی محنت سے زبان کھول سکتے ہیں ،اب جس سے بھی لڑائی ہو تو اس کو پوچھنا زندگی کا دروازہ کہاں ہے؟وہ بتائے تو بس زندگی کے دروازے کو پار کرنا پھر اپنے وطن میں ہو گے۔
آواز یکلخت بند ہوئی تو میں بے چین ہو گیا سنو سنو یہ زندگی کا دروازہ کہاں۔گھمبیر سناٹے کی وجہ سے میں سمجھ گیا کہ لائن کٹ چکی ہے ،میری زندگی کا حالیہ وقت عمرو عیار کی طرح جنوں بھوتوں سے جنگ کی نظر ہو رہا تھا لیکن فرق یہ تھا کہ وہ سب محض کہانی تھی اور میرے ساتھ سچ مُچ ہو رہا تھا میں زندہ رہنا چاہتا تھا اس لئے میں نے کسی بھوت پریت کو بے چینی سے تلاش کرنا شروع کر دیا لیکن کوئی آہی نہیں رہا تھا ،اچانک ذہن میں ایک گولڈن آئیڈیا آیامیں بھاگتا ہوا چند قدم واپس پلٹا جہاں بندر نما بھوت کو مار کے بے ہوش کیا تھا،وہ ادھر ہی پڑا ہوا تھا،اس کے پاس پہنچ کے میں اس کے ماس کے بغیر چہرے کو پیار سے تھپتھپا کے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا کچھ دیر کی کوشش کے بعد وہ ہلنے جلنے لگا میں تھوڑا دور کھڑا ہو کے اس کے مکمل ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگا ،کچھ دیر بعد اس کے حلق سے ڈکرانے کی آواز آنے لگی شاید مجھ سے لڑتے ہوئے اس کی کوئی ہڈی ٹوٹ گئی تھی،بہرحال مجھے صبر کرنا تھا سو میں چند منٹ اور کھڑا رہا اور فائنلی اس کی درد بھری انگڑائیاں ٹوٹیں تو اس کی نظر مجھ پہ پڑی،وہ دھم سے اٹھا اور میری مخالف سمت بھاگنے لگا میں نے اب کے یاد رکھا تھا کہ میرے پاس ایک قیمتی طاقت ہے سو اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور ان خداداد روشنیوں کی مدد سے بندر کو لپیٹ کے اپنی جانب کھینچا ،وہ بڑے مضحکہ خیز انداز میں لپٹتا میری طرف آتا گیا۔
ہاں تو دوست۔دوستی کرو گے؟میں نے آفر کی تو کھوپڑی کے اندر سے اس کی مُردہ آنکھیں بھی سوال کر اٹھیں۔
’’کیوں؟‘‘
’’اس لئے کہ تم سے ایک کام ہے۔‘‘ میں نے یہ کہہ کر جانچتی نظروں سے اسے دیکھا تو آنکھوں میں الجھن تھی۔
مجھ سے کام؟اس نے بھدی آواز میں سوال کیا۔
تت… تمھیں مجھ سے بھلا کیا کام ہو سکتا ہے۔ تمھارے تو اپنے پاس ایک بڑی شکتی ہے،اس نے معصومیت سے میرے ہاتھوں سے نکلتی روشنی کی طرف اشارہ کیا ۔میں بے اختیار ہنس پڑا،میں نے سنجیدگی سے اصل بات کی طرف آتے ہوئے کہا کہ کیا تم بتا سکتے ہو کہ یہاں ؛ڈور آف لائف ؛ کس جگہ ہے؟وہ بٹر بٹر میری طرف دیکھ رہا تھا،میں نے اپنی بات دوبارہ اس پر واضح کی۔
یار زندگی کا دروازہ کہاں کھلتا ہے میں نے اپنے گھر جانا ہے۔میری بات سنتے ہی اس نے قلابازی کھائی اور آسمان کی طرف قلانچ بھری میں نے بھی وقت ضائع کئے بغیر اپنے بازو کھولے اور لائٹ آف مائی ہینڈ اس کے پیچھے بھگا دی چند فٹ اوپر ہی میں نے اسے جا لیا جب میرے ہاتھوں کی طاقت سے وہ بے بس ہوا تو اس نے اپنا آپ حالات کے سپرد کر دیا ، میری شکتی نے چند لمحوں میں پھر اسے میرے سامنے لا پھینکا۔
کہاں بھاگتے ہو؟ہم تم سے مدد مانگتے ہیں اور تم جان چھڑاتے ہو؟
نہیں نہیں میں زندگی کے دروازے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا مجھے جانے دو۔
اس کی موٹی آواز میں التماس تھی لیکن مجھے اس کی پروا نہ تھی۔
سنو میں تمھیں نقصان نہیں پہنچائوں گا تم آرام سے مجھے معلومات دے دو میں تمھیں جانے دوں گا ورنہ تمھیں اندازہ تو ہو چکا ہے کہ میں تمھارا کیا حشر کر سکتا ہوں؟جلدی بولو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔
آخری جملہ میں نے بلند اور غصیلی آواز میں ادا کیا وہ میرے لہجے سے تھرایا اور یوں گویا ہوا۔
سنو میں تمھارے کہنے پر تمھیں بتا تو رہا ہوں لیکن اس کا تمھیں کوئی فائدہ نہیں کیونکہ زندگی کے دروازے پر جس کا پہرا ہے وہ سچ مچ تمھیں جان سے مار ڈالے گا ،اس کی طاقت کا چرچا اس پوری موت کی وادی میں روز کیا جاتا ہے اس کے آگے تمھارے یہ ہاتھوں کی روشنی کوئی معنی نہیں رکھتی۔
جتنا کہا ہے تم صرف وہ بتائو باقی میں دیکھ لوں گا ،میں نے اس کی تمہید قطع کرتے ہوئے کہا ،وہ عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھ کے پھر بتانے لگا ،ہم اس وقت موت کی وادی کے شمال کی طرف ہیں جبکہ اگر تم زندگی کے دروازے کی طرف جانا چاہتے ہو تو پھر تمھیں مغربی رُخ پہ سفر کرنا ہو گا انتہائی رخ پہ پہنچ کے ایک سمندر آئے گا وہ تم نے پار کرنا ہے اور جیسے ہی تم پار کر لو گے وہ بلا تمھارے سامنے ہو گی جس کے ساتھ مقابلہ کر کے جیتنے کی صورت میں تم زندگی کا دروازہ پار کر جائو گے۔
میں اس کی معلومات کے تناظر میں ذہن میں ایک پلان ترتیب دے چکا تھا ،دوست میری بات سنو یہاں سے جتنا مغربی حصے کا فاصلہ تم بتا رہے ہو وہ تو طے کرتے کرتے میری آدھی عمر گزر جائے گی،یوں کرو تم مجھے اپنے اوپر سوار کرو اور وہاں تک لے جائو،یقین کرو میرا اتنا وزن نہیں ہے امید ہے تم نہیں تھکو گے آخری بات کر کے میں نے اس کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی زبردستی مسکرانے لگا،سچ تو یہ ہے کہ میں اب مار دھاڑ سے بری طرح تھک چکا تھا اور اس پر ظلم کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا ، ہو سکتا ہے وہ بھی ایسا ہی سوچ رہا ہو ،اسی لئے میری بات پر اس نے سرنڈر کیا اور بلا تعطل مجھے اپنے اوپر سوار کر لیا،ساتھ اس کے ایک جھٹکا لگا اور میرا بھدا جہاز فضا میں محوِ پرواز ہو گیا ۔اس کی رفتار بہت تیز تھی،میں اس کے بال پکڑے تختے جیسی کمر پہ چپکا ہوا تھا ،حیرت انگیز طور پہ اس نے تھوڑی دیر بعد ہی مجھے مطلوبہ جگہ اتار دیا۔
بس دوست ہمارا ساتھ یہیں تک تھا اس سے آگے میں نہیں جا سکتا،اور ہاں آگے بہت پر خطر سمندر ہے جسے خونی سمندر کہا جاتا ہے ،وہاں تمھیں بہت احتیاط کرنا ہو گی ،اس نے میرے کندھے سے اپنا ہڈیوں والا بھاری ہاتھ اٹھایا تومیں نے اسے ہاتھوں میں لے لیا۔
سنو اس موت کی وادی میں پہلے دوست ملے ہو تم،اس لئے میں تمھیں کبھی نہیں بھولوں گا ،اپنا خیال رکھنا اور ہو سکے تو مجھے معاف کرنا میں نے اس کی کھال کے بغیر انگلیوں کو پیار سے سہلاتے ہوئے کہا وہ مردہ چہرے پہ دھری جاندار آنکھوں سے مسکرا دیا میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اوروہ جلد ہی وہاں سے نکل گیا شاید اس کے دل میں کوئی خدشہ تھا بہرحال میں نے اپنی منزل کی طرف نگاہ کی ۔سامنے سمندر تھا،میں بلا تعطل بڑھتا گیا،بیدار ذہن کے ساتھ میں نے کنارے پہنچ کے ایک انگڑائی لی اور وارم اپ ہونے کے لئے تھوڑی ایکسرسائز کی ہاتھوں کے چھرے استعمال کرنے آگئے تھے اس لئے وہ فی ا لحال میرے پنجوںکے اندر تھے ،ان شعاعوں کو ان کی کاٹ کی نسبت سے چُھرے کہہ رہا ہوں،کیونکہ اب تک میرے چُھروں نے بڑی سے بڑی شیطانی طاقتوں کو پچھاڑا تھا ،ورنہ میں نہتا اس خونی وادی میں گمنام مارا ہی تو جاتا،پچھلی پرفارمنس کی وجہ سے مجھے اب بھی اپنے زور ِ بازو پر پورا بھروسہ تھا،پتہ نہیں یہ claws of dragenمیرے اندر کیسے آگئے،اور اس شیطان کو اس سب کی خبر کس نے کر دی،اور اس فرزانہ کو مجھ سے کیا دشمنی تھی؟شکر ہے کہ میں نے سب کو شکست دی،اور بری جگہوں پہ بھی کچھ اچھے لوگ ہوتے ہیں میرا بھدا دوست جو کچھ دیر پہلے مجھے یہاں اتار کر گیا ہے اس نے میرا کتنا ساتھ دیا اور آگے اب جو بھی آئے گا وہ بھی انشااللہ منہ کی کھائے گا،میں اپنے اوپر گزرے حالات کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ سمندر میں کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی میں چوکنا ہو گیا ایک دم پانی کی اونچی لہر اٹھی اور مجھے اپنے دامن میں لے کر کے بری طرح بھگو گئی،میں اپنا منہ صاف کر ہی رہا تھا کہ ایک دیو ہیکل جن نما انسان میرے سامنے آن کھڑا ہوا ،اس کا منہ بھی پہلوں کی طرح سخت خوفناک تھا،مجھے ڈر تو کیا لگنا تھا الٹا کراہت محسوس ہوئی،وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا پھر میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا،دو تین فٹ کے فاصلے سے ہی ہاتھ لمبا کر کے میرے بال پکڑنے لگا ،میں نے اتنے لمبے بازو سے خوفزدہ ہونے کی بجائے اپنے آپکو ان ایکشن الرٹ کیا اس کے ساتھ ہی میرے ہاتھوں سے قوت کے پنجے برآمد ہوئے اور میں نے ان کا رُخ اس بد ہیئت کی طرف کر دیا ،بازو کٹنے ہی لگا تھا کہ میں نے پل بھر میں ارادہ بدلا اور کلاز کا رخ اس کے بے ڈھنگے جسم کی طرف کر دیا تھوڑا جھٹکا دیا اور اسے لپیٹ کے اپنے قریب کر لیا ،اس سے پہلے کہ وہ کوئی بات کرتا میں نے خود ہی بات شروع کر دی، زندگی کا دروازہ کہاں ہے؟بولو جواب دو جلدی، ورنہ مار ڈالوں گا زندگی کا دروازہ کدھر ہے؟
وہ مجھے یک ٹک دیکھنے لگا۔
اے بتاتے ہو یا ٹکڑے کر کے سمندر میں ڈالوں؟
کون ہو تم؟اور کس نے تجھ پہ آشکار کیا زندگی کے دروازے کا راز؟یہ تو ہمارے علاقے کا خفیہ مقام ہے۔وہ کچھ دیر بعد بولا تو آوازبہت بھرائی ہوئی تھی ،میں نے اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے اپنے ہاتھوں کو پیچھے کھینچا تو میرے کلاز کے شکنجے میں ہونے کے باعث اس کا کھردرا کالا جسم بھی کھنچنے لگا اس نے ناک سکوڑی تو میں نے پھر یہ ہی حرکت کی اسلئے کہ مجھے معلوم ہو گیا یہ ہی اس کی کمزوری ہے کلاز کی گرفت کافی سخت تھی،اتنی کہ میرے ہاتھوں کی شعاعوں کی وجہ سے اس کے جسم کی کھال تڑخنے لگی اور نیچے سے کالا سیال مادہ بہنے لگا۔بتاتا ہوں بتاتا ہوں،مجھے چھوڑ دو،میں جل رہا ہوں ،یہ آگ کی رسیاں میرے جسم سے اتار دو،وہ گڑگڑایا تو مجھے منزل قریب لگنے لگی ،اس کے منہ سے یہ سن کر میں نے ذرا سی گرفت ڈھیلی کی، پوری اس لئے نہیں تا کہ موقع پاتے ہی وہ فرارکی راہ نہ لے ، تبھی وہ ڈرتے ہوئے کہنے لگا میں تمھیں سب کچھ بتائوں گا لیکن یہ بتائو کہ تم۔تم کون ہو؟ اس کے سوال نے مجھے سیخ پا کر دیا،اک بار کہا تو ہے کہ جو میں نے پوچھا ہے اسکا جلدی جواب دو اور تم الٹا میرے ساتھ سوال جواب کر رہے ہو؟میں نے چیخ کر کہا اور ساتھ ہی اپنے کلاز آف ڈریگن سے اسے الیکٹرونک شاک دیا،وہ تڑپ کر چیخنے لگا۔
سس ۔سمندر کے پار ایک دیو ہے وہ جس جگہ پہرا دیتا ہے اسی جگہ زندگی کا دروازہ ہے جو ظاہر نہیں ہے،جب تک وہاں وہ دیو موجود ہے تب تک اس دروازے تک پہنچنا ناممکن ہے ،ہاں اگر اس دیو کو مار دیا جائے تو پھر اپنے آپ وہ دروازہ سامنے آجائے گا لیکن اس دیو کو مارنا کسی کے بس کی بات نہیں،اور اکیلا آدمی تو اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔‘‘ وہ اب رٹو طوطے کی طرح پٹٹر پٹٹر بول رہا تھا۔
شکریہ بھائی جان،اس کے چپ ہونے پہ میں نے خوش ہو کے کہا۔
اور ہاں تمھیں میں ساتھ لے کر وہاں جائوں گا، ساحل کی ریت پہ بیٹھتے ہوئے میں نے اطمینان سے کہا۔
کیا؟تم میری ساری بات سن کر بھی وہاں جائو گے؟دیکھو وہ ایک بھیانک جگہ ہے اور وہاں جاتے ہی تم مارے جائو گے،اس دیو سے مقابلہ کرنا تمھارے بس کی بات نہیں،وہ گڑگڑایا تومیں غصے سے پاگل ہو گیا ،ہاتھوں کو جھٹکا دیا اور ریت سے جمپ کر کے میں اٹھ کھڑا ہوا،چونکہ وہ ابھی تک میرے ہاتھوں کی شعاعوں کے مضبوط حصار میں تھا اس لئے سنبھل نہ سکا اور گیند کی طرح اچھل کر سمندر کے پانی میں جا گرا،اس کے گرنے سے سمندر میں پل بھر کے لئے ایک گڑھا بنا اور ساحل پر پانی دور تک پھیلتا چلا گیا ساتھ ہی بے تحاشا چیخنے کی آواز آئی میں نے مسکرا کر اپنے claws of dragenکی طرف دیکھا اور ایک ایسی مخلوق کے طاقتور جن کو پانی سے پل بھر میں نکال باہر کیا جو مخلوق ہم انسانوں پر حاوی ہو کر پریشان بھی کرتی ہے اور نقصان بھی دیتی ہے،اب وہ بھیگی بلی بنا میرے سامنے کھڑا کانپ رہا تھا۔
میں سمندر پار والے دیو کے ہاتھوں مارا جائوں یا نہیںلیکن تجھے ضرور مار ڈالوں گا بیوقوف جن کے بچے۔میں نے اونچی آواز سے کہا تو وہ خاموشی سے سہما کھڑا رہا جو اس بات کی علامت تھی کہ اب وہ میری بات سے اختلاف نہیں کرے گا ،کچھ دیر میں نے اس کا جائزہ لیا پھر آہستہ آہستہ برقی پنجے ڈھیلے کئے وہ یوں ہی کھڑا رہا،مجھے کچھ اطمینان ہوا۔
اب چلیں؟میں نے اس کے نزدیک جا کے پوچھا۔
ہاںہاں چلو،اس کی تیزی پہ مجھے ہنسی آنے لگی ۔وہ نیچے ہوا تو میںچھوٹا سا بھاگ کے اس کی گردن پہ یوں جا بیٹھا جیسے کوئی خونخوار پرندہ بیٹھا ہو وہ اس لئے کہ جسمانی لحاظ سے میں اس دیوہیکل کے سامنے پرندہ ہی تھا لیکن خونخوار اسلئے کہ گردن پہ بیٹھتے ہی میں نے اپنے ہاتھوں کی شعاعیں چھوٹی کر کے اس کی گردن پہ سخت کر لیں تا کہ وہ مجھے دھوکا نہ دے سکے ،اور بیچ سمندر مجھے پھینک کے بھاگ نہ لے ۔زوووں کی آواز آئی اور میرے ساتھی نے اڑان بھری ،مجھے خوف سا محسوس ہوا لیکن میں نے سوچا کہ کوئی بات نہیں جب جہاز میں بیٹھتے ہیں تب بھی تو ایسا ہی فیِل ہوتا ہے ،اس کے بعد میں نے خود کو ریلیکس کیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا اچانک ہمارے سامنے ایک بہت بڑی چمگادڑ آ گئی،اسے میں تو نظر نہ آیا لیکن وہ میرے ساتھی کے اوپر حملہ آور ہوئی ،میرے دوست نے ایک طرف ہوکر اس کا وار خالی جانے دیا اور اس کے بعد مجھے کہا۔
مضبوط ہو کر بیٹھ جائو۔کیوں تم لینڈ کرنے لگے ہو؟ اتنے میں اس نے اپنا ڈرائونا بازو نکالااور اپنے اوپر چھائے ہوئے چمگادڑ کے پر کے اوپر جھپٹا مارا وہ بھی بہت تیز تھی لیکن پر زخمی ہونے پہ اس نے طوفان برپا کر دیا ،کیوں آئے ہو میرے علاقے میں؟ واپس چلے جائو ورنہ اس سمندر کی تہہ میں دفن کر دوں گی ،اس کی دو دو تین تین بار آتی ہوئی آواز پہ میں نے اپنے ساتھی کے کان میں سرگوشی کی،کیوں استاد میںوار کروں؟اگر کہتے ہو تو؟ہاں، باس نے مختصر جواب دیا اور ساتھ ہی میں نے بائیں ہاتھ کے پنجے کھول دیئے،چمگادڑ کی چمکتی نظروں کا زاویہ میری طرف ہوا تو مانو بھونچال آ گیا ۔آدم بو،آدم بو کہتی ہوئی میری طرف آئی اتنے میں میں اس کی گردن قابو کر چکا تھا وہ پر پھڑپھڑانے لگی تو میرے دوست نے اپنے ہاتھ استعمال کرتے ہوئے اس کے پَرکامیابی سے نوچ کر سمندر میں اڑا دیئے ساتھ ہی میں نے آن واحد میں گردن مروڑی اور اس کا قلع قمع کرتے ہوئے ہم آگے بڑھ گئے۔
یار یہ علاقے کے بارے میں کچھ کہہ رہی تھی،ہم تو اُڑ رہے ہیں ،جہاں مرضی جائیں؟مرحومہ کو کیا مسئلہ تھامیں نے اس کی گردن پہ ہاتھ جما کر لپٹتے ہوئے کہا تو اس نے بتایا کہ ہماری دنیا میں ہر کسی کا مخصوص علاقہ ہوتا ہے ،کوئی کسی کے علاقے میں داخل ہو کر حدود کی خلاف ورزی نہیں کرتا،ہاں اگر زور ہو تو مقابلے کے بعد قبضہ ہو بھی جاتا ہے،تم انسانوں کی طرح ہمارے بھی اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔
لیکن آج تو خلاف ورزی ہو گئی ہے میں نے لقمہ دیا۔
تو وہ ماری بھی تو گئی ہے ناں،اس نے بے ساختہ کہا تو میں مسکرائے بنا رہ نہ سکا ،اب وہ قدرے فرینک ہو چکا تھا ،مجھے یاد آیا کہ جو میرا پہلا مخلص دوست تھا وہ بھی مجھے ایک لائن پہ چھوڑ کر گیا تھا جس کے آگے آتا تو خونخوار لڑائی ہوتی اور شاید اس کی اتنی طاقت بھی نہیں تھی ورنہ طاقتور کے لئے موت سے لڑنا بہت مزے کاکھیل ہوتا ہے ۔وہ اونچی اڑان میں تھا ،میں کسی بچے کی طرح اس کی گردن سے چپکا ہوا تھا سمندر کا وسط تھا اس لئے کُہرا بہت گہرا تھا ،میں نے فضول سوچوں کو جھٹک کر اپنی سوچ کو آنے والے وقت کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا کیونکہ میری پہلے سے کی گئی پلاننگ ہی میرے کام آنی تھی ۔میرے دوست نے محسوس کیا کہ میں خاموش ہوں تو اس نے بھی بولنا مناسب نہ سمجھا ،اسی لئے میرے دل میں اس مخلوق کے واسطے آج بھی تکریم ہے کیونکہ یہ ہم انسانوں کی طرح بے جا اور بے وقت کسی معاملے میں مداخلت نہیں کرتے ،میں سست سا ہو کے اس پہ لیٹا ہوا تھا کہ ایک دم مجھے بہت گرمی کا احساس ہوا ،سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ،میں اٹھا ،اتنی ہی جلدی اس نے ڈرائونی سرگوشی کی ،لگتا ہے اس دیو کو بھنک پڑ گئی ہے کہ کوئی اس کی حدود میں داخل ہو چکا ہے ،تم لیٹے رہو،کیا اسکا علاقہ شروع ہو گیا ؟میں نے جوش سے پوچھا تو اس نے کوئی جواب نہ دیا یقیناً وہ پریشان تھا ۔میں نے اس کی ہمت بندھائی،اور بالوں سے بھری کمر پہ ہاتھ پھیر کر کہا یار تم پریشان مت ہو ،میں نے کچھ سوچ رکھا ہے ،اور مجھ پہ اعتبار رکھو ،سب بہتر ہو گا ،وہ جواب میں چپ ہی رہا ۔میں اسے تسلی دے رہا تھا کہ گڑگڑاہٹ ہوئی یوں جیسے ریل پٹڑی سے اتر رہی ہو یا خدانخواستہ چلتی ریل کے پہیے نکل گئے ہوں ،میں نے لیٹے لیٹے آسمان پہ گہرا کالا دھواں پھیلتے دیکھا ،میرا دوست گھبرا رہا تھا جس کا ثبوت یہ تھا کہ وہ ڈولنے لگا ،اے اے سنبھل کے بھائی،کچھ نہیں ہوتا ،اب تو مزہ آئے گا ،تم خود کو قابو میں رکھو۔میری بات سن کے وہ متوازن ہو گیا لیکن زبان سے خاموش تھا ،جس کا مطلب تھا کہ وہ ابھی بہت ٹینس ہے،سنو میں جیسے کہوں تم ویسے ہی کرنا اور زیادہ لمبا کام نہیں کرنا ہم نے ،بہت جلدی یہ ٹوپی ڈرامہ اپنے انجام کو پہنچ جائے گا ،اس نے ناراض بچوں کی طرح صرف سر ہلا دیا ،ابھی ہماری پلاننگ چل رہی تھی کہ آسمان سے بجلیاں گرنا شروع ہو گئیں ،تم جانتے ہو دوست وہ کس سمت میں ہو گا،بس جلدی سے ادھر کی طرف اڑو ،میں نے اس کے جسم کے بالوں میں چھپتے ہوئے تیزی سے کہا ،وہ مشرق کی طرف پرواز کرنے لگا ،بجلیوں کی بوچھاڑ جاری تھی آسمان سے سیدھی سمندر میں جا رہی تھی ، چند لمحوں بعد ایسا لگا کہ ہم آتشِ نمرود میں گھِر گئے ہیں ،میں اب اپنے دوست کی کوئی بات نہیں مان سکتا تھا،نیچے ہو جائو،اس نے پھنسی ہوئی آواز میں تنبیہ کی ، لیکن میں نے خود کو اوپر کیا اور اپنے بازو فضا میں پھیلا دئیے،میرے بازوئوں کی بجلیاں اس آگ میں پھیلیں تو میرا دوست چیخنے لگا،یہ کیا کر رہے ہو ،وہ ہم دونوں کو جلا کے بھسم کر دے گا۔
میرے علاقے میں آنے والا کون گستاخ ہے،یہ ننھی شعاعیں میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں،میں نے ڈرے بغیر آواز کا تعین کیا اور سرگوشی کی ،جہاں زیادہ سرخ آگ ہے وہاں آنکھیں بند کرکے گھس جائو۔
نہیں،ہر گز نہیں،وہ مجھے اور تمھیں مار ڈالے گا،چلو واپس چلیں،جیسے ہی میرے دوست نے بغاوت کی اور واپسی کے لئے مڑا،میں نے بائیں ہاتھ کے پنجے اس کی کمر میں چبھوئے۔
جیسا کہہ رہا ہوں ویسا کرو نہیں تو اس سے پہلے تمہیں میں مار ڈالوں گا ،وہ کچھ دیر یوں ہی فضا میںکھڑا رہا،اور شاید اپنی موت کو قبول کر کے اس نے بمشکل گردن موڑ کر میری طرف دیکھا میں نے آنکھوں میں محبت بھر کے اسے چلنے کا اشارہ کیا اس نے موٹی گردن سیدھی کی ۔اور پھر میرا توازن کے ساتھ اس کے اوپر بیٹھے رہنا مشکل ہو گیا ،کیونکہ وہ آندھی سے بھی زیادہ رفتار میں اس آگ کے بگولے کی طرف بڑھا، ،یہ سب کچھ چند ساعتوں میں ہو رہا تھا ،میں نے اب صرف اپنے سامنے نظر رکھی اور جب ہم سمندر کے اوپر تیرتے اس بگولے کے اندر جانے ہی والے تھے کہ اچانک وہ آگ ہماری طرف لپکی،میں نے پائوں جما کے دوست کی کمر پر رکھے اور اپنے بازو اس بگولے کی طرف بڑھا کر ایک جھٹکا مارا ،سمندر میں مانو زلزلہ آ گیا ۔ادھر سے بھی جوابی وار کیا گیا ،ہم دونوں پر سمندر کا پانی یوں گرا جیسے تیزاب ہو،میری کراہ نکل گئی۔اس کے ساتھ ہی میرا آگ سے بنا ہوا دوست تڑپ کر میری طرف دیکھنے لگا،میں نے حوصلہ دیا ،کچھ نہیں ہوا یار لیکن میری بات منہ میں ہی رہ گئی وہ بگولہ آسمان پہ بلند ہو کے ہم پہ چڑھائی کرنے والا تھا ،وہ لمحہ بہ لمحہ اوپر جا رہا تھا ،میں نے بازو پھر ایک بار کھولے اور وہ لیزر لائٹ جو اس عجیب و غریب سفر میں مجھے قدرت کا تحفہ عطا ہوئی تھی اس اوپر اٹھتی آگ کے اندر گھسا دی،الامان والحفیظ اس قدر ڈرائونی اور اونچی کرخت چیخیں تھیں کہ جی چاہا واپس بھاگ لوں لیکن منزل پہ پہنچ کے اندھیروں کی طرف پلٹنا گویا موت کو گلے لگانا تھا ،میں نے بازو اس آگ میں گھسا کے تلوار کی طرح چلانے شروع کر دیئے،اب تو اس بد روح کے بین ناقابل برداشت تھے ،ہم پہ عجیب گدھ نما چیزیں اڑ رہی تھیں،ان کے حملے کو میرا دوست ناکام بنا رہا تھا ،اس قدر شور سے جی گھبرا رہا تھا کہ دل کر رہا تھا کانوں میں انگلیاں گھسیڑ لوں،اگر یہ بیوقوفی کرتا تو شائد خودکشی کے مترادف ہوتا،کیونکہ میرے ہاتھوں میں تو الیکٹرک چھرے لگے ہوئے تھے ،اپنی سوچ سے میرے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی جس کی وجہ سے مجھے عجیب احساس ہوا،وہ بھی دوران جنگ کہ میں نہ جانے کتنے وقت سے مسکرایا نہیں تھا جس کی وجہ سے میرے چہرے کے عضلات کافی سخت ہو گئے تھے ،اپنے اندر کے تانے بانے میں محو ہونے کا یہ فائدہ ہوا کہ سامنے کھڑی آگ سے جو بوریت ہو رہی تھی وہ دور ہو گئی اور اتنا وقت بیتا کہ میرے ہاتھوں کی گرفت نے اس آگ کے جن کو پانی میں ڈبکیاں دینی شروع کیں تو وہ آگ کم ہو گئی بلکہ اس میں سے دھواں خارج ہونے لگا ،میں نے اپنے غیر بشری دوست کی طرف فتح مندی سے دیکھا تو اس نے سمندر کی طرف اشارہ کیا،میں سمجھا کوئی اور بلا آ گئی ہے لیکن ادھر گدھوں کی لاشوں سے سمندر کالا پڑ رہا تھا ،یعنی ہم فتح کے بالکل قریب تھے ،یہ سوچ آتے ہی میرے تو خوشی سے رونگٹے کھڑے ہو گئے ،میں نے اس آگ کی طرف یکسوئی کی اور ہم دونوں جلدی سے اس کے اور قریب چلے گئے ،ہاتھ مسلسل حرکت میں تھے ،اندازے سے کبھی میں اس کی گردن مروڑتا اور کبھی اس کی ٹانگیں کھینچتا ،اس کے ڈکرانے کی آواز اب بھی بہت دلدوز تھی ،لیکن میں نے اب اسے منطقی انجام تک پہنچا کے ہی دم لینا تھا ،ایک آخری وار کرنے سے پہلے میں نے دوست جن سے آہستہ آواز میں کہا کیا خیال ہے؟ اس نے اپنا بڑے پتھر جیسا سر اثبات میں ہلا دیا اور میں نے پھر اپنے دائیں ہاتھ کو یوں چلانا شروع کیا جیسے میں کسی دشمن پہ تلوار کے وار کر رہا ہوں ،مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے ہاتھوں کے ساتھ کچھ ٹکراتا ہے اور پاش پاش ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی شکل ابھی تک مجھ پہ واضح نہیں ہو پائی تھی،ویسے بھی اس مخلوق کی شکلیں توبہ استغفار اس قدر بھیانک ہیں کہ میں نے دیکھ کے کرنا بھی کیا تھا،میں ابھی ٹامک ٹوئیاں مار ہی رہا تھا کہ وہ آگ پہلے تو مکمل کالے سیاہ دھویں میں تبدیل ہوئی اور آہستہ آستہ وہ دھواں فضا میں میں تحلیل ہونے لگا ،میں اس منظر کو حیرانی سے دیکھنے لگا میرا دوست بھی اپنی جگہ پہ مجھے پیٹھ پہ سوار کئے کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا ،کالا دھواں چھٹا تو ساتھ ہی اس کے عقب میں ایک روئی کا بادل نمودار ہوا ،میری دلچسپی بڑھ گئی ، میرے ہاتھوں کی شعاعیں ابھی تک اس جگہ تھیںجہاں آگ کی لپٹیں تھیں ،سچ پوچھیں تو میں اب بات بات پہ ڈرنے لگا تھا کہ کہیں کوئی اور دشمن نہ آن دھمکے ،اس لئے اپنے ہاتھوں کو اسی جگہ رکھا جس کے عقب سے وہ سفید بادل سا نمودار ہوا تھا ،اس کی سفیدی اتنی زیادہ تھی کہ جیسے کوئی بھڑکتی سفید روشنی کا ٹکڑا ہو،وہ روشنی نما بادل ذرا بلند ہوا اور ایک آواز آئی ،مبارک ہو علی حسن تم نے ایک عظیم کامیابی حاصل کر لی ہے ،اس دنیا میں بس یہ تمھاری آخری آزمائش تھی ، میرے جانے کے بعد ایک دروازہ نمودار ہوگا تم بے دھڑک اس میں داخل ہو کر اپنی دنیا میں جا سکو گے ،سنیں آپ کون ہیں،کیا میں اپنے محسن کا نام پوچھ سکتا ہوں ۔میں نے اپنی خوشی سے لرزتی آواز پہ قابو پایا اور جواب کا انتظار کرنے لگا ،بتائیں گے۔ بتائیں گے برخودار،لیکن مناسب وقت آنے پہ،ساتھ ہی خاموشی چھا گئی ، وہ دلنشیں آوازآنا بند ہوئی تو میں بھی اس کے سحر سے نکل آیا،یہ آواز مشکل میں کتنی ہی بار میری مدد کر چکی تھی ،میرا اس شخصیت سے آواز کا رشتہ تھا لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کون ہستی ہے جو اس قدر میری سرپرست ہے کہ مجھے کسی بھی مشکل میں رہنے نہیں دیتی ،میں ایک حیرت میں گم تھا کہ میری آنکھوں نے حیرت کا ایک اور منظر دیکھا،ششدر سا کھڑا میں منہ کھولے دیکھتا ہی رہ گیا کیونکہ میرے اللہ نے جس کو میرا محافظ بنا کے بھیجا تھا اس نے بالکل سچ کہا تھا ،اس کے جاتے ہی میرے سامنے سفید رنگ کا دروازہ کھلا ہوا تھا جس میں سے میرے گھر کی چھت نظر آرہی تھی ،میں نے خوشی میں اپنے واحد دوست کو جپھی ڈال لی ،اور اسے چوم کر میں نے اسکا شکریہ ادا کیا ،جس کی بدولت میں اس معرکے کو سر کر پایا تھا،میں نے اسے الوداعی جپھی ڈالی اور وہ مجھے لئے ہوئے اس دروازے کے بالکل پاس آگیا ،میں نے خوشی سے چھلانگ لگائی اور اس چھوٹے سے دروازے سے جھک کر دوسری دنیا میں جانے لگا ،میرا قدم ادھر رکھا ہی جانے والا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے سسکنے کی آواز آئی ،میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رو رہا تھا جسکو جن بھوت کہا جاتا ہے ،میں بھاگ کر اس سے لپٹ گیا ،دوست تم بہت یاد آئو گے،اس نے مجھے لپٹتے ہوئے کہا ،تم بھی۔مجھ سے اس سے زیادہ نہیں کہا گیا ۔کچھ دیر ہم یوں ہی بغلگیر رہے ،میں اسے تھپک رہا تھا،تم نے میری قوم پہ بڑا احسان کیا ہے جو اس ظا لم کے ناصرف تسلط سے ہمیں آزاد کرایا بلکہ اسے مار بھی ڈالا، دوست تم نے ایک بہت بڑی آفت سے میری قوم کو نجات دلائی ہے، اگر تم مانو تو ایک بات کہوں؟ میںنے اس سے الگ ہو کے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا ،آج ہمارے مہمان بن جائو۔میرا سارا قبیلہ بہت خوش ہو گا ،ہم سب تمھاری بات مانیں گے، جہاں بلائو گے ہم حاضر ہوں گے ،تم بہت بڑی طاقت ہو ،ہمیں اپنی خدمت کا موقع دو، اس کی آنکھوں میں وہ آرزو تھی جو میں کبھی بھی پوری نہیں کر سکتا کیونکہ جتنی دیر اس نے بات کی تھی میں نے بیسیوں بار اس دروازے کے پار دیکھا تھا جہاں سے میرے گھر کی چھت نظر آ رہی تھی ،میں نے اس کے ہاتھ کو سہلایا،دوست میں تمھیں ضرور بلائوں گا اور ضرور ملوں گا ۔لیکن آج نہیں ،وہ دیکھو میرا گھر، وہ مجھے بلا رہا ہے ۔میںنے اشارے سے اسے دکھایا،اور وہ بھی شاید سمجھ گیا تبھی اس نے کوئی بات نہ کی میں نے بلا تعطل زقند بھر ی اور اس سفید براق دروازے کی چوکھٹ پہ پہنچ گیا ،مُڑ کر دیکھا وہ مجھے اداسی سے دیکھ رہا تھا، میں نے ہاتھ ہلایا۔وہ بھی ہاتھ ہلانے لگا ۔جیسے ہی میرا دوسرا پائوں دروازے کے پار ہوا ،مجھے ایک جھٹکا سا لگا اور میں لڑکھنی کھا کے اس چارپائی پہ جا گرا ،جو عموما ہمارے گھر کی چھت پہ بچھی رہتی ہے ،میں نے حیران ہو کے اپنے پیچھے دیکھا کہ میرے گرنے کا سین میرے جن دوست نے تو نہیں دیکھا،لیکن وہاں کوئی دروازہ نہ تھا ،میں خلاء میں گھور کر رہ گیا ، میں نے سوچا میرے گھر والے تو بہت پریشان ہوئے ہوں گے میری گمشدگی سے،یہ سوچتے ہی اپنے خاندان کی محبت عود کر آئی اور میں جھٹ سے چارپائی سے اٹھا،لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ میں نے ایک سایہ سا دیکھا جو کالے دھویں کی مانند تھا یوں کہہ لیں کہ دھویں کا بنا ہواایک جسم تھا جو نیچے صحن میں بھی گیا اور کمروں میں بھی ،یہ دیکھ کر میں نے فٹ سے سوچا کہ ضرور یہ بھی کوئی بلا ہے جو میری تو دشمن ہو گی لیکن اگر اس نے میرے گھر والوں کو کوئی نقصان پہنچایا تو۔؟یہ سوچ آتے ہی میری پریشانی دوگنی ہو گئی اتنے میں وہ نیچے گیا تو میں نے اوپر سے جھانک کے دیکھا وہ سارے کمروں میں چکر لگا رہا تھا میں نے اللہ کا نام لے کر اپنے کلاز آف ڈریگن کھولے تو ساتھ ہی وہ کسی کونے میں چھپ کر میری نظروں سے اوجھل ہو گیا ،میں پوزیشن لے کے کھڑا رہا کہ جیسے ہی وہ نظر آئے میں اسے کاٹ کر جلا دوں،بغور دیکھا تو وہ اس کمرے کے باہر نظر آگیا جس میں ہم سارے بھائی سوتے تھے،میں نے بازو کھولے تو دیکھا وہ سایا اوپر کی طرف دیکھ کے کچھ پڑھنے لگا ،جیسے جیسے اس کے ہونٹ ہل رہے تھے میں نے دیکھا کہ میرے برقی پنجے ختم ہو رہے تھے ،میرے دیکھتے دیکھتے ہی میرے طاقتور پنجے تحلیل ہو گئے اور میں بالکل خالی ہاتھ ہو گیا ،میں اسی پریشانی میں تھا کہ خیال آیا کہ میں اوپر ہوں اور نیچے یہ دشمن سایا کہیں میری ماں اور اور بہن بھائیوں کو نقصان نہ پہنچا دے،کوندے کی طرح یہ سوچ میرے ذہن میں آئی اور میں امی کو آوازیں دیتا سیڑھیوں سے نیچے چلا گیا ،امی امی،کہاں ہیں آپ؟سب لوگ کمروں میں جائیں اور دروازے بند کر لیں میرے بھائی اپنے کمرے میں کھیل رہے تھے لیکن امی کہیں بھی نظر نہ آئیں اور میں جب صحن میں گیا تو وہ سایا بھاگتا ہوا میری طرف آیا اور میرے جسم میں گھستا چلا گیا ،میں ہوا میں تھوڑا سا بلند ہوا جیسے کسی نے دھکیلا ہو اور پائوں ڈگمگانے سے میں گرا ساتھ اس کے بے ہوش ہو گیا۔
کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو میں اپنے گھر کی چھت پہ تھا ،چارپائی پہ بستر بچھا ہوا تھا اور میں اس بستر میں استراحت پر تھا ،لیکن آنکھیں کھل کیوں نہیں رہیں تھیں ۔میں نے بہت کوشش کی لیکن اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ میں اندھا ہو گیا ہوں،پر کیوں؟یہ معلوم نہ تھا،بس آنسو ہی آنسو تھے۔میں پریشان ہو کر امی کو پکارنے لگا ۔مجھے نظر نہیں آرہا امی کہاں ہیں آپ،امی امی۔ کبھی اللہ سے دعا کرتا۔ اے اللہ میری مدد کر،میں کیا کروں،اتنے میں یاد آیا کہ امی کہا کرتی تھیں کہ جب کوئی مشکل پیش آئے تو اللہ کے ولیوں اور پیغمبروں کو پکارتے ہیں پھر اللہ انھیں مدد کے لیے بھیجتا ہے ،مجھے مزار والے بابا گھمستان کا ہی پتہ تھا میں نے انکو پکارنا شروع کر دیا ،ساتھ میں زار و قطار روتا جاتا تھا، تھوڑی دیر بعد مجھے گھر کے صحن سے بہن بھایئوں کی کلکاریاں سنائی دیں ، میرا دل شدت غم سے پھٹنے کو تھا،یار ایسا بھی کیا کہ میں اتنے عرصے بعد بہن بھائیوں سے ملوں اور وہ بھی بینائی سے محروم ،انھیں کتنا دکھ ہو گا ،اللہ جی میری مدد کر،مجھے اس اندھیرے سے نکال ،میں آہ وبکا کر رہا تھا کہ مجھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا میں پارے کی طرح اچھلا کہ یہ کون ہو سکتا ہے ۔گھبرائو نہیں بیٹا۔میں تمھارا بابا گھمستان ہوں،میں شدید حیرت میں تھا،چیخ کر بولا، کیا ؟ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ہاں بیٹا،جو تم نے سنا،میں بابا گھمستان ہی ہوںتمھاری مخالف قوتیں ہی تمھاری دشمن ہیں اور ان ہی نے تمھاری نظر بند کی ہے ،بابا جی آپ یہاں کیسے،آپ۔آپ کے مزار پہ تو ہم سب دعا کے لئے جاتے ہیں،آپ درگاہ سے یہاں کیسے آ گئے؟آپ مجھے جانتے ہیں؟میری باتوں کا جواب دینے کی بجائے انھوں نے میری آنکھوں پہ اپنا بابرکت ہاتھ پھیرا اور کچھ پڑھا،مجھے ایسا لگا کہ میری آنکھوں سے کالا سا کچھ نکل کر انکے ہاتھوں میں میں جذب ہو رہا ہے ،شاید وہ ہی دھواں جو میرے جسم میں گھس گیا تھا۔تھوڑی دیر میں میری نظر روشن ہو گئی پہلا منظر یہ ہی تھا کہ ایک باریش سبز چولے میں ملبوس بزرگ میرے سامنے بیٹھے مسکرا کر مجھے دیکھ رہے تھے ،میں اپنی آنکھیں مَلنے لگا ،میں دیکھ سکتا ہوں،مجھے نظر آ رہا ہے ،میں تو بائولا سا ہو رہا تھا ،ان کے آنے سے پہلے ہر طرف کالا اندھیرا تھا لیکن ان کی برکت سے ماحول میں سفیدی سی گُھل گئی،یوں جیسے کسی پہاڑی علاقے میں دھند کا راج ہوتا ہے اور ایک حد نگا ہ سے آگے دیکھا نہیں جاتا ہاں بیٹا تم دیکھ سکتے ہو،کسی سے ذکر مت کرنا کہ میں تمھیں ملا تھا،اگر دوبارہ بھی ملنا ہے تو کسی کو بتانا نہیں ہے ،میں نے اثبات میں سر ہلایا، اور تمھارا گِریہ اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو گیا ہے ،اسی لئے بحکم خدا میں تمھیں تمھاری بینائی لوٹانے آیا ہوں ،لیکن۔یہ ضرور یاد رکھنا کہ تمھیں بینائی تو مل گئی لیکن ایک آزمائش باقی ہے،بابا جی وہ کیا؟پہلے کم آزمائشیں آئی ہیں مجھ پہ؟بس بیٹا آزمائش تو پھر ہے،تمھاری ضد اور گریہ سے تمھیں آنکھیں تو مل گئی ہیں لیکن زندگی بہت کٹھن گزرنے والی ہے ،بس یہ ہی تقدیر میں آزمائش ہے کہ یا تو اپنی آنکھیں دو یا پھر آدھی سے زیادہ زندگی دکھوں اور پریشانیوں میں گزارو،گزار پائو گے؟میں چپ رہا ، اپنے اندر سے الجھتا رہا لیکن بہت جلدی فیصلے پہ پہنچ گیا ،آنکھیں ہی چاہئیں بابا جی ،میں آزمائش کے لئے تیار ہوں ۔تو ٹھیک ہے بیٹا جہاں بھی حق کے لئے تمھیں ہماری ضرورت پڑی ہم بحکم خدا تمھاری نصرت کے لئے ضرور پہنچیں گے ،باتوں کے دوران انھوں نے مجھے بستر پر پیچھے کی طرف لٹا دیا اور نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔
جب نیند سے بیدار ہوا اور خود کو صحیح معنوں میں اس جیتی جاگتی دنیا میں پایا تو دیکھا بابا جی جا چکے تھے،میں نے بستر پہ پڑے پڑے اپنی ساری کہانی پہ غور کیا جو کم از کم ایک سال کے برابر عرصے میں مکمل ہوئی تھی،میں نے چھت پہ بنے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو کیلنڈر وہ ہی تاریخ بتا رہا تھا جس تاریخ کو میں سکول سے آ کے دوپہر کا کھانا کھا کے نیچے کمرے میں ہوم ورک کرنے کے بعد سو گیا تھا ،تو کیا میں نیچے سویا تھا؟ میں نے خود کلامی کی ،پھر میں چھت پہ کیسے آیا اور وہ ساری کہانی ۔؟میں نے نائف آف گاڈ سے اتنے دشمن جن چڑیلیں ماری تھیں کیا وہ سب خواب تھا ۔مجھے کچھ سمجھ نہ آیا میں بھاگتا سیڑھیوں سے نیچے گیا زید بھائی کچن میں گھسا کچھ کھا رہا تھا ،میں نے جا کر اس کے کندھے جھنجھوڑے زید یار ایک بات بتانی ہے،اس نے غصے سے میری طرف دیکھا اور کہا بک جلدی،دیکھتا نہیں چپس کھا رہا ہوں ،میں نے شروع سے لے کر آخر تک اسے ساری بات بتائی اور وہ جواب میں مجھے گھورنے لگا ،او خوابوں میں ہیرو بننے والے،زرا دن کے وقت کم سویا کر ،اتنا کہہ کے میرا مذاق بناتا ہوا وہ پاس سے اٹھ کے چلا گیا ،اس کے مذاق کا مجھ پہ اثر نہ ہوا اور میں اپنی پریشانی لے کر امی کے پاس چلا گیا ،بیٹا اوپر چھت پہ اکیلے نہ سویا کرو ،کیونکہ اوپر پیپل کا سایہ پڑتا ہے اس پہ بزرگ رہتے ہیں،میری بات کے جواب میں ان کے پاس نصیحتوں کا پنڈورا باکس تھا جو کھل چکا تھا،لیکن امی میں تو نیچے سویا تھا اوپر کیسے پہنچ گیا ؟اپنی طرف سے میں نے ایک دھماکے دار بات کی تھی ،چل پتر میں صبح ہوتے ہی تیرا صدقہ دیتی ہوں بڑے عجیب خواب دیکھتا ہے تو ۔انکے اس جواب نے میرا پائو خون جلا دیا ۔میں ڈرائینگ روم میں بھائی احد کے پاس چلا گیا،وہ کچھ سیانے تھے اور مسئلے کو جلدی سمجھ جاتے تھے ۔میں نے حرف بہ حرف ساری کہانی انھیں کہہ سنائی اور بتایا کہ مجھے ایک ایک چیز اسی طرح یاد ہے جیسے کسی کو تھوڑی دیر پہلے ہونے ولا کوئی واقعہ یاد ہو اور اور وہ دوسرے کو سنا رہا ہو ،میرے حواس خمسہ بھی بیدار تھے بھائی ،پھر مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں اگر نیچے سویا تھا جیسے کہ مجھے یاد ہے تو پھر اوپر سے کیسے جاگا ہوں،یہ سب حقیقت ہے میں انھیں وضاحت دے دے کر بتا رہا تھا کہ جیسے ان کے پاس ہی تو میرے مسئلے کا حل تھا ،وہ پہلے سوچتے رہے پھر گویا ہوئے ،علی بعض لوگوں کو نیند میں چلنے کی بیماری ہوتی ہے ،ہو سکتا ہے تم بھی رات کو نیندمیں چلتے ہو،اور ہم پر اب تمھاری بیماری آشکار ہوئی ہو ،خیر اب ابو جی سے کہہ کے تمھارا علاج بھی شروع کرائووں گا اور آج تم ذہنی طور پہ بہت تھک چکے تھے ،یا آرام کر لو نہیں تو میرے ساتھ چلو گیمز کھیلنے،میں کچھ کھویا کھویا سا تھا۔پتہ نہیں مجھ پہ یہ لوگ یقین کیوںنہیں کر رہے ؟میں اندر ہی اندر اپنی سوچ میں گم تھا،میری خاموشی کی وجہ سے بھائی نے مجھے زبردستی اٹھایا اور باہر لے گئے،جب ہم گیمز کلب میں داخل ہوئے تو مجھے یاد آیا کہ میں تو گیمز کھیلنے کا بہت شوقین ہوں ،میرا شوق عود کر آیا اوراحد بھائی نے مجھے گیمز کے سامنے جا کھڑا کیا ،نہ چاہتے ہوئے بھی میں تھوڑا بہت کھیلنے لگا،آخیر دلچسپی بڑھی اور میں خوب جم کر کھیلنے لگا ،کھیلتے ہوئے وقت کا احساس نہ رہا جب میں نے سر اٹھا کے کلاک دیکھا تو رات پوری طرح بھیگ چکی تھی،کلب بھی تقریباً خالی ہو گیا اور جب میں نے خود سے گھر جانے کا کہا تب بھائی احد بھی اٹھ کھڑے ہوئے ۔ہم دونوں باہر نکلے تو وہ مجھے گھر سے قریب ایک چائے خانہ میں لے آئے ۔جب چائے ہمارے سامنے آئی تو وہ مجھ سے مخاطب ہوئے، علی ۔ہاں جی بھائی،میں نے گرم جوشی سے جواب دیا ،آج گھر پہ تم نے جو کچھ بھی مجھے بتایا،وہ سب سوتے ہوئے دیکھا تھا ناں؟میں مخمصے میں تھا ،ہاں لیکن مجھے صرف یہ الجھن ہے کہ میں نیچے کمرے میں سویا تھا تو پھر چھت پہ کیسے چلا گیا اگر یہ سب خواب تھا تو میراسوتے میں چھت پہ پہنچ جانا کیا تھا،آپکویاد ہے ناں کہ میں کمرے میں سویا تھا ؟میں نے بات کرتے کرتے بھائی سے سوال کیا ۔ہمم۔وہ پُر سوچ انداز میں محض ہنکارہ بھر کر رہ گئے ،تھوڑی دیر ہم دونوں میں خاموشی چھائی رہی جو کہ مجھ پہ بہت گراں گزر رہی تھی،میں اپنی بات کو سچا ثابت کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے لئے مجھے نہیں پتہ کہ مجھے کیا کرنا چاہیے تھا ۔علی میرے بھائی میں نے اچھی طرح سوچ بچار کی ہے تمھارے مسئلے پہ لیکن ۔کیا لیکن؟انھوں نے ذرا سا توقف کیا تو میں بے صبری سے بول پڑا ،مجھے تو یہ ہی لگتا ہے کہ یہ سب ایک خواب تھا اورشائد تمھیں آجکل نیند میں چلنے کی عادت ہے اس لئے تم چھت پہ جا سوئے ،مجھ پہ اعتماد ہے تو مان جائو کہ وہ سب خواب تھا،سکول میں کسی مسئلے کی وجہ سے پریشان ہو شاید اسلئے تمھیں اس قسم کے خواب آ رہے ہیں ،خیر آخری بات یہ ہی ہے کہ تم پڑھائی میں بہت اچھے ہو اور ابو امی کو زید کی نسبت تم سے امیدیں زیادہ ہیں اس لئے ان فضولیات کو ذہن میں جگہ دینے کی بجائے پڑھائی پہ توجہ دو اور جو بھی پریشانی آئی اسے بھول جائو،اس کے بعد انھوں نے بات کرنے کی بجائے خاموشی سے چائے کی چسکیاں لینی شروع کر دیں ،اور میں واقعتاً اس نہج پہ سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہے وہ سب وہم ہی ہو
…٭٭…
آہستہ آہستہ میں اس واقعہ کو بھلانے لگا ،دوستوں اور گلی محلے کے لڑکوں کے ساتھ کھیلتا،ویڈیو گیمز پہ جاتا۔کزنوں کے ساتھ مل کے عجیب عجیب شرارتیں کرتا اور اتنے رنگ برنگ جیون میں اس طرح کے واقعہ عموماً بھول جاتے ہیں یا پھر زندگی کی بھول بھلیوں میں کہیں دب ضرور جاتے ہیں ۔میرا ذہن احد بھائی نے چونکہ پکا کر دیا تھا اس لئے میں نے بھی مکمل خواب سمجھ کے بھلا دیا۔ آپ سب سوچ رہے ہوں گے کہ میری اصل زندگی میں فرزانہ کا کیا ہوا ،تو ہوا یوں کہ اس سارے واقعہ کے بعد اگلے دن میں سکول گیا تو وہ بھی آئی ہوئی تھی،اس کا آنا عجب نہیں تھا بلکہ یہ عجیب تھا کہ مجھے اس میں کوئی کشش محسوس نہ ہوئی،بلکہ اجنبیت کا احساس جاگا اور ایسا جاگا کہ میں نے اسے نظر اٹھا کے دیکھنا پسند نہ کیا ۔سکول تو ویسے ہی چھوڑ دینا تھا ۔اس لئے میں نے اس میں اپنی بسی ہوئی دنیا خود تباہ کی اور نئی منزل کی تلاش میں نکل پڑا۔
…٭٭…
بہت برس بیتے ۔اس واقعہ کو میں بھول گیا ،زندگی کی اور بہت سی مصروفیت تھی جس میں بچپن کی یہ سوکالڈ سی یادکہاں ذہن میں رہتی ، میں بھرپور جوان مرد بن گیا ۔پڑھائی مکمل کر کے ابھی فارغ ہی تھااور فارغ ذہن کہتے ہیں شیطان کا گھر ہوتا ہے شاید اسی لئے مجھے پراسرار علوم سیکھنے کا شوق چُرایا۔میں اور زید کئی عجیب و غریب کتابیں لا کر پڑھتے اور چِلے تک کاٹتے،ہم شمع شبستان رضا کے کافی وظیفوں سے فیضیاب ہو چکے تھے،زید کا تو پتہ نہیں لیکن مجھے اپنے بارے میںایسا لگتا کہ میں جو بھی سیکھتا تھا مجھے ڈبل انرجی سے سب حاصل ہوتا ہے۔
کئی بار مجھے اپنی پڑھائی کے دوران مئوکل تک ملے اور کئی بار ایسا ہوا کہ میری پڑھائی ختم کرانے کو کئی ڈرائونے جِن چڑیلیں مجھے ہراساں کرنے آتیں ،میں اب ان چیزوں کا عادی ہو چلا تھا،لیکن خاصے کی چیز یہ ہے کہ میںجو کچھ بچپن میں بھول چکا تھا ،اب شباب عمر میں اچانک سب کچھ یاد آ گیا ،ایک دن بیٹھے بٹھائے میرے ذہن سے نہ جانے کیوں پردہ ہٹا اور مجھ پہ آہستہ آہستہ قلعی کھلنے لگی ،میرے ساتھ کیا ہوا تھا مجھے کہاں لے جایا گیا میرے کلاز آف ڈریگن ہوتے تھے جن کی مدد سے میں نے بہت سے جنات کو بآسانی فی النار کیا تھا ،میں چھت پہ کہاں پایا گیا مجھے کون سے بزرگ ملے میری آنکھیں ٹھیک ہوئیں اور میرا عقدہ جوں کا توں رہا ۔مجھے آج یہ سب کیوں یاد آ رہا ہے ؟میرے اللہ میرے ساتھ کیا یہ سب حقیقت میں وقوع پزیر ہوا تھا؟اور اب تو بتا دے کہ میں کمرے میں سویا تھا تو چھت پہ مجھے کون لے گیا تھا ،کیا کوئی جن،چڑیل یا کسی کا بھیجا ہوا مئوکل؟
ان ساری باتوں کے جواب مجھے وقت آنے پہ یقین تھا کہ حاصل ہو جائیں گے ،لیکن آپ کی عقل کیا کہتی ہے ۔اسکا مجھے انتظار رہے گا ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close