NaeyUfaq Jul-18

اقرا

طاہر قریشی

الخالق
(پیداکرنے والا)

الخلاق: مبالغے کا صیغہ ہے۔ پیدا کرنے والا‘ اصل بنانے والا‘ ایک مخلوق کے بعد دوسری کو پیدا کرنے والا‘ اس کا ئنات میں موجود ہر مرئی اور غیرمرئی چیزوں کوپیدا کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے‘ اس کے لئے خلق کالفظ بھی استعمال ہوا ہے جس کے معنی آفرنیش‘پیدائش‘ خلق لفظ خالق کامادہ ہے۔(خ ل ق) اس کے معنی کسی چیز کوبنانے‘ اس کااندازہ لگانے توازن وتناسب قائم کرنا‘ ایک چیز کو دوسری سے بنانا‘کسی چیز کو عدم سے وجو د میں لانا‘پہلی بار پیدا کرنا‘اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظیم ہستی ہی ہرچیز کوپیدا کرتی ہے۔ عدم سے وجود بخشتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی خلاقِ اکبر ہے‘ اُس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے اس کائنات کووجودبخشا‘ وہی قادر ِمطلق خلاقِ عظیم ہے۔
ترجمہ:۔ یقینا تیراپروردگار ہی پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے۔ (الحجر۔۸۶)
ترجمہ:۔وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے و الا ہے۔ (المومنُون۔۱۴)
اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہی ہستی ہے جو کائنات کی تخلیق کا خلاقِ اعظم ہے اوراحسن الخالقین ہے جس نے ہر شے کو بہترین تناسب اور احسن انداز سے پیدا کیا ہے۔ وہی ذاتِ عالی کامل قدرت وحکمت والی ہے وہ اختیار وارادے والا خالق ہے۔
ترجمہ:۔جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ (یٰسین۔۸۱)
اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات قادر ِمطلق ہے اس نے اس کائنات کو پیدا فرمایا یہ زمین وسورج اس عظیم کائنات کی کہکشائوں میں سورج ایک چھوٹا سا تابع سیارہ ہے۔ ہمارا یہ سورج جس کہکشاںکے تابع ہے اس کے اندر یہ ایک کروڑ ستاروں میں سے ایک ہے جس سے ہمارے قریب کی یہ دنیا بنتی ہے۔ اس کائنات میں کئی اور کہکشائیں ہیں‘ ماہرین فلکیات اب تک ایک کروڑ کہکشائوں کو دریافت کرسکے ہیں۔ ہماری کہکشا ںسے قریب ترین دوسری کہکشا ؤںکا فاصلہ سات لاکھ پچاس ہزار نوری سال کاہے ایک نوری سال کا فاصلہ ۲۶ ملین میل ہوتاہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کے مظاہرہیں‘ کائنات کے تمام مجموعے فضائوں میں تیررہے ہیں ان فضائوں میں اربوں اجرامِ فلکی چکر لگارہے ہیں جن کی تعداد ابھی تک نامعلوم ہی ہے۔ اتنی عظیم کائنات کا خالق کیا کچھ تخلیق نہیں کرسکتا؟
ترجمہ:۔آسمان اور زمین کی پیدائش یقینا انسان کی پیدائش سے بہت بڑا کام ہے‘ لیکن(یہ اور بات ہے کہ ) اکثر لوگ بے علم ہیں۔ (المومن۔۵۷)
انسان اگر اس عظیم کائنات پرغوروفکر کرے تو اسے معلوم ہوتاہے کہ یہ زمین جس پرہم رہتے بستے ہیں سورج کے تابع ستاروں میں سے ایک چھوٹا سا ستارہ ہے۔ زمین سورج سے دس لاکھ گناچھوٹی ہے اور یہ سورج جوہمیں حرارت پہنچا رہاہے اس قسم کے سوملین (دس کروڑ) سورجوں میں سے ایک ہے جو فضا ء ہمیں معلوم ہے وہ اس کا ئناتی فضاء کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے۔ یہ زمین وآسمان انسان کے سامنے بچھے ہوئے ہیں۔ انسان کی طاقت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات رکھی ہے کہ وہ ان کے حوالے سے اپنی قدروقیمت کااندازہ کرسکے‘ جب انسان اس کائناتی نظام پرغور کرتاہے تووہ حیران رہ جاتا ہے اوراللہ کی حقانیت‘ قدرتِ کاملہ کے آگے جھک جاتا ہے‘اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایاہے وہ کائنات کی اوراس عظیم کائنات کے خالق کی عظمت وحکمت کو سمجھ سکتا ہے۔ ربِّ کائنات یہی بات اس آیتِ کریمہ میں ارشاد فرمارہاہے کہ اس عظیم کائنات کی تخلیق کرنا بڑاکام ہے یاانسان کو پیدا کرنا اس کوتخلیق کرنا بڑا کام ہے۔اللہ کی قدرت کے سامنے کوئی بات نہ بڑی ہے نہ چھوٹی‘ نہ مشکل ہے‘ نہ آسان وہ تو اپنی قدرتِ کاملہ سے ہرچیز کو ایک کلمہ سے تخلیق کرسکتا ہے۔اس عظیم کائنات کی تخلیق کے سامنے انسان کی تخلیق کوئی مشکل کام نہیں ہے‘ اللہ ہرچیز پہ پوری طرح قادر ہے وہ جب چاہے‘ جیسے چاہے‘ جوچاہے پیدا کرسکتاہے‘ انسان اپنی کم علمی اور تکبر کی وجہ سے اس کی ا طاعت سے کفر کرتا ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close