محبت اب بھی باقی ہے

محبت اب بھی باقی ہے

نزہت جبین ضیاء

آج صبح سے ہی موسم بہت حسین ہورہا تھا، وہ کمرے سے باہر آگئی، برآمدے کی سیڑھیوں سے چھوٹے سے لان پر اچٹتی نگاہ ڈالی۔ وہی لان، وہی پھولوں کی کیاریاں، سب کچھ ویسا ہی تھا۔ مگر اب اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا۔ وہ جب سے گئی تھی ایک رات کے لیے بھی رکنے نہیں آئی تھی۔ کچھ پاپا سے ناراضگی اور پھر وہاں کی ضرورت بن گئی تھی اس لیے بہت کم آتی اور جلد ہی لوٹ جایا کرتی تھی۔ لان کی حالت کافی خراب تھی اس نے سوچا لان کی صفائی کرے۔
’’ارے بھنگن ذرا اچھی طرح دل لگا کر صفائی کرنا۔‘‘ کہیں قریب سے آذر کی شریر آواز ابھری۔ دل آویز نے چونک کر چاروں طرف دیکھا بارش کی ہلکی بوندوں کے ساتھ اس کی آنکھیں بھی ٹپ ٹپ برسنے لگیں اس کے بڑھتے قدم رک گئے اور وہ وہیں سنگی بینچ پر بیٹھ گئی اور بینچ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں بے تحاشا آنسو بند پلکوں کی باڑ توڑتے ہوئے سرخ گالوں پر پھسلتے چلے گئے۔
موسم بڑا خوب صورت تھا بہار کی جولانیاں اپنی عروج پر تھیں بہار کی آمد کے ساتھ ہی موسم نے خوب صورت انگڑائی لے کر پلٹا مارا تھا صبح سے ہلکی ہلکی بارش سے زمین سے اٹھنے والی مٹی کی سوندھی خوش بو نے ماحول کو پرکیف بنا دیا تھا ہر چیز دھلی دھلائی، ہر پودا، ہر پھول نکھر کر مسکرانے لگا تھا۔ درختوں پر بہار اتر آئی تھی ایسے حسین موسم کی تو وہ بچپن سے دیوانی تھی۔ تب ہی تو ارد گرد سے بے نیاز گھر کے چھوٹے سے لان میں وہ کب سے بارش کی بوندوں میں بھیگ رہی تھی۔ شاکنگ پنک اور بلو کومبینیشن کے سوٹ میں وہ اسی موسم کا شوخ حصہ لگ رہی تھی۔ دونوں ہاتھوں کو پھیلائے آسمان کی طرف منہ کیے لمبے بالوں کو پشت پر پھیلائے بچوں کی طرح موسم انجوائے کررہی تھی۔
’’دل بیٹا! چلو اب بس بھی کرو کتنا بھیگو گی بیمار ہوجائو گی۔‘‘ برآمدے سے سارہ بیگم نے آواز لگائی۔
’’اوکے مما آتی ہوں۔ بس تھوڑی دیر۔‘‘ بوگن ویلیا کی بیل کے پاس آکر اس نے مما کو جواب دیا اور مہک اپنے اندر اتارنے لگی۔ اس کا دل شدت سے چاہ رہا تھا کہ آذر آجائے اور وہ موسم کا مزید لطف اٹھانے لمبی ڈرائیو پر نکل جائے کبھی کبھی دعائیں یوں بھی قبول ہوجایا کرتی ہیں۔ اس نے نگاہ اٹھائی تو گیٹ سے آذر کو داخل ہوتا دیکھ کر سوچا۔
’’ہائے آذر… تمہاری عمر کتنی لمبی ہے ابھی تمہیں یاد کررہی تھی۔‘‘ دوڑ کر گیٹ تک پہنچی اور خوشی خوشی کہا۔
’’وائو زبردست۔‘‘ آذر نے اسے سر سے پیر تک والہانہ انداز میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’مجھے پتا تھا کہ تمہارا دل کیا چاہ رہا ہوگا تب ہی میں آگیا چلو جلدی سے ریڈی ہوجائو۔‘‘
’’اوہ یو آر سو سوئیٹ۔‘‘ دل آویز نے آگے بڑھ کر اس کے گال پر پیار سے چٹکی بھری اور اندر کی طرف بھاگی۔ آذر بھی ہنستا ہوا اس کے پیچھے پیچھے اندر چلا آیا۔
’’السلام علیکم نانو، مامی۔‘‘ لائونج میں بیٹھی ذکیہ بیگم اور پھر سارہ بیگم کو سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام، کیسے ہو بیٹا گھر میں سب کیسے ہیں۔‘‘ ذکیہ بیگم نے نواسے کی پیشانی پر بوسہ ثبت کرتے ہوئے کہا۔
’’بیٹا! تم آرہے تھے تو زاہدہ کو بھی لے آتے۔‘‘ سارہ بیگم نے کچن سے قدرے اونچی آواز میں کہا۔ مامی دراصل آپ کی لاڈلی بھانجی دو عدد شیطانوں کے ساتھ آئی ہوئی تھیں اور پھر فواد بھی شام کو ڈنر پر آنے والا تھا۔ اس لیے مما بزی تھیں۔ اس نے وضاحت دی تب ہی سارہ بیگم چائے لے کر آگئیں ساتھ میں گرم گرم کچوریاں اور پکوڑے بھی تھے۔
’’ارے واہ مامی مزہ آگیا آپ نے تو موسم کا لطف دوبالا کردیا۔‘‘ گرم گرم کچوری پلیٹ میں نکال کر اس پر کیچپ ڈالتے ہوئے آذر نے کہا۔
’’ارے یار، تم چائے پینے بیٹھ گئے۔‘‘ تب ہی دل آویز تیار ہوکر کمرے سے نکلی اور اسے چائے پیتا دیکھ کر اس کا منہ بن گیا۔
’’کہاں کی تیاری ہے؟‘‘ سارہ بیگم نے دل آویز کو تیار دیکھ کر پوچھا۔
’’مما آپ کو معلوم ہے نا ایسے موسم میں مجھے گھومنا پھرنا اچھا لگتا ہے، وہ تو آپ کے بھانجے صاحب کو آج ٹائم مل گیا ورنہ انہیں کام سے فرصت کہاں ملتی ہے۔‘‘ اپنی بات واضح کرتے ہوئے آذر سے گلہ بھی کر ڈالا۔
’’ہاں تو کوئی فالتو نہیں ہے تمہاری طرح اور کوئی ضرورت نہیں کہیں جانے کی اتنے دنوں بعد وہ آیا ہے باتیں کرنے دو ہمیں۔‘‘ سارہ بیگم نے سرزنش کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
’’دادو پلیز، مما کو بولیں ناں ہمیں جانے دیں اتنے دنوں بعد کراچی میں بارش ہوئی ہے۔‘‘ وہ دادی کے گلے میں بانہیں ڈال کر لاڈ سے بچوں کی طرح بولی تو آذر کو ہنسی آگئی۔
’’ارے سارہ جانے دو بچی کو ذرا گھوم آئے گی لیکن جلدی آجانا۔‘‘ ذکیہ بیگم نے بہو سے کہا تو سارہ بیگم چپ ہوگئیں۔
’’اوہ دادو… آئی لو یو۔‘‘ دل آویز نے ذکیہ بیگم کا ہاتھ چومتے ہوئے کہا اور ہنستی ہوئی آذر کا ہاتھ تھام کر باہر کی طرف چل دی۔
’’افوہ… پتا نہیں کب سدھرے گی یہ لڑکی۔‘‘ سارہ بیگم نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
’’اللہ پاک میرے بچوں کی خوشیاں سلامت رکھنا انہیں ہمیشہ اسی طرح ہنسے مسکراتے آباد رکھنا۔‘‘ ذکیہ بیگم دونوں کو جاتا دیکھ کر دعائیں دینے لگیں۔
’’آمین ثم آمین۔‘‘ سارہ بیگم نے بھی بے ساختہ کہا۔

…٭٭٭…

ملک ریاض شہر کے مشہور بزنس مین تھے جنہوں نے اپنی محنت اور بیٹے کے ساتھ مل کر چھوٹے سے کاروبار کو وسیع کر لیا تھا۔ اسد ملک بڑے بیٹے تھے اور ان کے بعد زاہدہ تھیں ملک ریاض کے دو ہی بچے تھے۔
زاہدہ کی شادی انہوں نے بہت کم عمر میں اپنے تایا زاد سے کردی تھی اور اسد ملک کے لیے اپنے بھائی کی بیٹی سارہ کو پسند کیا تھا۔ ذکیہ بیگم کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا سارہ بیگم پڑھی لکھی خوب صورت اور سلیقہ مند تھیں۔ یوں سارہ بیگم اسد ملک کی دلہن بن کر آگئیں گھر کا ماحول بہت اچھا اور خوش گوار تھا۔ اسد ملک کاروبار کے متعلق ہر مسئلے پر اباجی کی رائے اور مشوروں کو مقدم رکھتے اسی طرح سارہ بیگم ساس کی مرضی کا خیال رکھتی تھیں۔ زاہدہ بیگم کا ایک بیٹا آذر تھا جبکہ سارہ بیگم کے دو بچے شہروز اور دل آویز تھے۔ اچھی بھلی اور خوش گوار زندگی میں اس وقت بھونچال آیا کہ اچانک ملک ریاض کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ جانبر نہ ہوسکے۔ صدمہ اتنا اچانک اور غیر یقینی تھا کہ سب کے ہوش اڑ گئے اچھے بھلے ہنستے بولتے، چلتے پھرتے، آفس جاتے آتے ملک ریاض یوں چھوڑ کر چلے جائیں گے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ اسد ملک تو آنکھیں پھاڑے حیرت سے کفن میں لپٹے اباجی کو دیکھے جارہے تھے۔ وہ آج تک اباجی کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھتے تھے اب بھلا کیسے وہ کاروبار اماںجی اور گھر کو سنبھال پائیں گے؟ اباجی نے جاتے جاتے کتنی بڑی اور مشکل ترین ذمہ داریاں ڈال دی تھیں۔ دوسری جانب ذکیہ بیگم پر جیسے پہاڑ آن گرا تھا۔ کتنا بڑا دھچکا لگا تھا۔ انہیں گھر کے معاملات چلانا، مشورے دینا اور ہر بات میں انوالو رہنے والے ملک ریاض یوں اکیلا کر جائیں گے ذکیہ بیگم کے لیے بہت اذیت ناک تھا۔ دس سالہ شہروز، آٹھ سالہ طوبیٰ اور سات سالہ آذر اور چار سال کی دل آویز بھی غم سے نڈھال تھے۔ دوستوں کی طرح ساتھ کھیلنے والے دادا جی اور نانا جی خاموش ہوگئے تھے نہ ہنستے تھے نہ بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے اور نہ ان لوگوں کے جھگڑے طے کروا رہے تھے۔ وہ تو چپ چاپ لیٹے تھے۔ نہ دادو کی ہچکیوں سے جاگے تھے نہ پاپا اور پھپو کی چیخیں ان پر اثر انداز ہورہی تھیں۔ ملک ریاض کی تدفین ہوگئی گھر کا ماحول یک دم ہی مکدر ہوگیا تھا۔ ذکیہ بیگم ہر وقت روتی رہتیں۔ زاہدہ بیگم باپ کی کمی شدت سے محسوس کرتیں۔
اسد ملک تو جیسے ٹوٹ چکے تھے ہر بات میں ہر معاملے میں اباجی کی کمی ان کی ضرور محسوس ہوتی۔ ایسے میں سارہ بیگم نے بڑے صبر اور حوصلے سے سب کو سنبھالا۔ رفتہ رفتہ حالات معمول پر آنے لگے۔ اسد ملک کے منیجر اعظم صاحب بہت محنتی اور ایمان دار تھے۔ انہوں نے اس موقع پر پوری توجہ اور ایمان داری سے اسد ملک کا ساتھ دیا۔ ان کو تنہا ہونے کا احساس نہ ہونے دیا۔ آہستہ آہستہ اسد ملک نے کاروبار پر دھیان دینا شروع کیا کیونکہ انہیں اس کاروبار کو ترقی دینی تھی۔ جیسے ملک ریاض نے اپنے خون پسینے سے آگے بڑھایا تھا کچھ عرصے میں اسد ملک سیٹ ہوگئے۔ دھیرے دھیرے وقت گزرتا رہا۔ بچے بھی بڑے ہوگئے شہروز نے ایم بی اے کرلیا اور اب اسد ملک کے ساتھ کاروبار میں ان کی معاونت کررہا تھا۔ دل آویز جو گھر بھر کی لاڈلی تھی گریجویشن کررہی تھی۔ طوبیٰ کی شادی ہوچکی تھی اور آذر کا رشتہ دل آویز سے دونوں کی پسند سے طے ہوچکا تھا آذر کو بچپن سے ہی معصوم سی گوری رنگت لمبے لمبے بالوں والی دل آویز بہت پیاری لگتی تھی اور دل آویز کو بھی آذر بہت اچھا لگتا تھا جو ہر گیم میں اس کا پارٹنر بنتا تھا یوں ہی ہنستے کھیلتے ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوئے وہ بڑے بھی ہوگئے اور یہی خیال محبت اور پھر رشتے میں تبدیل ہونے جارہا تھا۔
شہروز کے لیے سارہ بیگم نے اپنے میکے سے لڑکی پسند کرلی تھی اور فروا اور شہروز کی شادی طے ہوچکی تھی۔ شہروز کی شادی پر دل آویز نے خوب تیاریاں کی تھیں۔ اکلوتے بھائی کی شادی میں اکلوتی چھوٹی بہن کے تو انداز ہی نرالے ہوتے ہیں۔ دل آویز نے بھی سب ارمان نکالے تھے۔ مایوں والے دن دوستوں کے ساتھ مل کر خوب ہلہ گلہ، خوب ہنگامہ کیا۔ خوب گانے گائے لڈیاں ڈالیں اور خوب مزے مزے کیے۔ شادی والے دن جب وہ تیار ہو کر آئی تو آذر بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔
جدید اسٹائل کے شرارے میں، خوب صورت جیولری اور میک اپ میں وہ غضب ڈھا رہی تھی۔ ہر نگاہ اس پر ٹھہر رہی تھی۔ آذر کو یہ عجیب سا لگ رہا تھا کہ جب کوئی اس کی تصویر اپنے کیمرے میں قید کررہا تھا۔ اس رات آذر نے اپنی مما سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور صاف کہہ دیا کہ مما آپ دل کے لیے میرا رشتہ ماموں سے مانگ لیں۔
’’اوئے ہوئے، ڈر گئے ناں تم آج اتنی حسین لگ رہی تھی کہ کوئی بھی رشتہ نہ مانگ لے۔‘‘ پاس بیٹھی طوبیٰ نے شرارت سے آذر کا سر ہلایا۔
’’جی آپی۔‘‘ وہ سر جھکا کر آہستہ سے بولا۔
’’وائو…‘‘ طوبی زور سے ہنس دی مطلب یہ کہ ہم لوگ جو چاہ رہے تھے وہ تمہاری بھی خواہش ہے اور موصوف یہ بات دل میں چھپا کر بیٹھے تھے۔‘‘ طوبیٰ کا لہجہ بدستور شرارتی تھا۔
’’گڈ یار۔‘‘ وہ بھی کھل کر مسکرایا۔
شادی کے ہنگامے سرد پڑے تو فروا کچھ دن کے لیے میکے چلی گئی مما پاپا اور دادو اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ دل اپنے لیے چائے بنا کر کپ لیے لان میں چلی آئی۔ شادی کی مصروفیت میں کئی دنوں سے لان پر اس کی توجہ نہ تھی۔ اس لیے پودوں میں کافی زیادہ پتے مرجھائے ہوئے تھے کیاریاں بھی گندی ہورہی تھیں۔ مالی بابا بھی کافی دن سے نہیں آئے تھے ویسے بھی دل آویز کو یہ کام کرنا اچھا لگتا تھا وہ لان کی دیکھ بھال خود ہی کیا کرتی تھی۔ چائے کا کپ خالی کرکے بینچ پر رکھا اور پودوں کی صفائی شروع کردی۔ پائپ لگا کر پودوں کی دھلائی کرنے لگی۔ صاف ستھرا دھلا دھلایا سا لان اور ہرے بھرے نکھرے نکھرے پودے بھلے معلوم ہورہے تھے تب ہی آذر آگیا۔
’’السلام علیکم!‘‘ خوش دلی سے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام، بھنگن + مالن۔‘‘ آذر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’سب کہاں ہیں؟‘‘ آذر نے پوچھا۔
’’بھابی میکے گئیں ہیں، ماما پاپا اور دادو آرام کررہے ہیں تم بیٹھو میں چائے لے کر آتی ہوں۔‘‘ پائپ کیاری میں پھینکتے ہوئے تفصیل بتائی۔
’’اوکے…‘‘ وہ وہیں بینچ پر بیٹھ گیا۔ دل آویز اندر کی طرف چلی گئی۔ تھوڑی دیر میں چائے کی ٹرے ساتھ لے کر آئی چائے کے ساتھ نمکو اور بسکٹس تھے۔ ٹرے سامنے رکھی تو آذر کو ہنسی آگئی۔
’’کیوں کیا ہوگیا ہے تمہیں؟‘‘ دل آویز نے اسے دیکھ کر پوچھا۔
’’بھئی لڑکی ہمیں پسند آئی ہے، صفائی بھی اچھی کرلیتی ہے، چائے بھی بنا لیتی ہے سلیقے والی بھی اور صورت شکل…‘‘ کچھ لمحے رکا اور منہ ٹیڑھا کرکے اسے سر سے پیر تک دیکھا۔
’’چلو شکل بھی چل جائے گی۔‘‘
’’اوئے… یہ کیا بکواس ہے۔‘‘ وہ جو حیرت زدہ تھی اب بات سمجھ میں آئی تو غصے سے بولی۔ ’’ایک تو خاطر مدارت کررہی ہوں اوپر سے نخرے دکھا رہے ہو۔‘‘
’’سوری سوری، یار مذاق کررہا تھا۔‘‘ اس کا بدلتا موڈ دیکھ کر آذر جلدی سے بولا۔
’’ناراض مت ہوجانا اب۔‘‘ معصومیت سے ہاتھ جوڑے دل آویز کو ہنسی آگئی۔
خاندانی رسم و رواج کا مسئلہ تھا نہ کوئی اور رکاوٹ یوں بہت جلد ہی دونوں کی منگنی ہوگئی۔ شادی میں ٹائم تھا کیونکہ دل آویز کی پڑھائی جاری تھی۔ پہلے ہی دونوں فیملیز میں انڈر اسٹینڈنگ تھی اس رشتے کے بعد اور زیادہ قریب آگئے تھے۔ فری بھی اچھی نیچر کی تھی دل آویز کا بہت خیال رکھتی تھی۔
آذر پہلے سے ہی دل آویز کا خیال رکھتا تھا اب تو رشتہ طے ہونے کے بعد اور زیادہ چاہنے لگا تھا۔ آذر کو پتا تھا کہ دل کو چاکلیٹ پسند ہے۔ وہ جب آتا ڈھیروں چاکلیٹ لاتا تھا۔ دل کو گرے اور بلو کلر کے کپڑے آذر پر اچھے لگتے تھے۔ آذر کی الماری گرے اور بلو کلر سے بھر گئی۔ دل کو بارش پسند تھی بارش میں گھومنا پھرنا اچھا لگتا تھا آذر بارش میں سارے کام چھوڑ کر اسے سیر و تفریح کے لیے لے جاتا۔
اسی طرح دل آویز بھی اس کی ہر بات کا ہر پسند کا خیال رکھتی تھی۔ آذر کو چائینیز ڈشز پسند تھیں دل آویز نے ہر طرح کی چائینیز ڈشیز بنانا سیکھ لی۔ آذر کو گھر کی بیک کی ہوئی چیزیں پسند تھیں۔ دل نے کیک، کوکیکز اور نہ جانے کیا کیا بیک کرنا سیکھ لیا تھا۔ آذر کو دل آویز پر پرپل کلر اچھا لگتا تھا۔ دل کی وارڈ روب میں ہر طرف پرپل شیڈ ہی نظر آنے لگا تھا۔ سینڈلز، پرس، جیولری ہر چیز میں پرپل کی جھلک ضرور نظر آتی۔ یوں کسی کا بن کے جینے کا، کسی کی پسند میں خود کو ڈھال کر جینے کا مزہ ہی کچھ اور تھا یہ سب کرتے ہوئے دل آویز کو بہت اچھا لگتا تھا۔
اچانک سے زندگی بہت حسین ہوچلی تھی۔ جو چاہا تھا وہ مل گیا تھا کوئی پابندی، کوئی روک ٹوک، جھگڑا، ٹینشن کچھ بھی نہ تھی۔ دن یونہی گزرتے رہے پھر دل آویز کے امتحانات بھی ہوگئے ساتھ ہی شادی کی تیاریاں بھی اسٹارٹ ہوگئیں۔ خوب زور و شور سے تیاریاں ہورہی تھیں دونوں جانب سے ہی خوب ارمان نکالے جارہے تھے۔ دادو بھی چاہتی تھیں کہ اس شادی میں کہیں بھی کوئی بھی کمی نہ رہے کیونکہ ایک طرف لاڈلا نواسا تھا تو دوسری جانب چہیتی پوتی۔
مما کے ساتھ شاپنگ کرکے وہ مال سے باہر آئی تو مما نے کہا کہ تم جاکر گاڑی نکالو میں ابھی سامنے سے کچھ لے کر آتی ہوں۔ او کے مما کہہ کر وہ گنگناتی ہوئی پارکنگ کی طرف آئی ہاتھ میں شاپرز سنبھالے وہ گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر سامنے خاتون کی گود میں اس بچے پر پڑی جس کا چہرہ دل آویز کی طرف تھا اور خاتون کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔
’’اوہ مائی گاڈ۔‘‘ دل آویز کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی آواز پر وہ خاتون پلٹیں۔
اوہ…‘‘ یہ تو اس کی دوست کنزیٰ کی بڑی بہن اسمارا تھیں۔
’’اسمارا آپی آپ اور…!‘‘ وہ اسمارا کو دیکھ کر چونکی اور سراسیمہ ہوکر اس کی گود میں موجود بچے کی طرف اشارہ کیا۔ بچہ مسلسل ہنس رہا تھا اس کے منہ سے رال بہہ رہی تھی۔ عام بچوں کے مقابلے میں سر بھی خاصا بڑا تھا اور نقوش بھی… اف… وہ بچہ ایب نارمل تھا…
’’ہاں دل یہ میرا بیٹا ہے، سوری تم ڈر گئی شاید۔‘‘ اسمارا شرمندگی سے بولی۔
دل آویز خود بھی شرمندہ سی ہوگئی۔
’’آپی… آپ کے دو بچے تو نارمل تھے نا۔‘‘ دل آویز ابھی تک حیرت زدہ تھی۔
’’ہاں سب اللہ کی مرضی ہے بلڈ ریلیشن میں شادیوں میں عموماً ایسا ہوجاتا ہے اس لیے آج کل لوگ ایسی شادیوں سے اجتناب کرنے لگے ہیں۔‘‘
’’جی… جی…!‘‘ وہ ایک دم چپ ہوگئی تب ہی مما آگئیں۔
’’کیا ہوا؟‘‘ مما نے اس کی اڑی رنگت اور مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر پوچھا۔
’’کچھ نہیں مما۔‘‘ آئیں اسمارا کو گاڑی میں بیٹھا دیکھ کر وہ بھی اندر بیٹھتی ہوئی دوسری جانب کا دروازہ کھولنے لگی۔ سارا راستہ دل آویز چپ رہی اس کے ذہن میں عجیب عجیب خدشات جنم لینے لگے تھے۔ سارہ بیگم کو پتا تو تھا کہ دل ایب نارمل اور پاگل لوگوں کو دیکھ کر کتنی خوف زدہ ہوجاتی ہے۔ انہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ وہ بچے کو دیکھ کر ڈر گئی ہے۔
اتفاق سے اسی رات کو ٹی وی سے ایب نارمل لوگوں کی ڈاکومینٹری فلم بھی کسی چینل سے آرہی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی نہ جانے کس تجسس کے تحت دل نے وہ پوری فلم دیکھ لی جیسے جیسے وہ سب دیکھ رہی تھی اس کا دماغ گھومتا جارہا تھا۔
’’اف، یہ بات ثابت ہوچکی تھی کہ ایسے بچے اس صورت میں زیادہ ہوتے ہیں جب شادیاں خاندان میں کی جائیں، اف…!‘‘ اس نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔
’’دلہن بیگم، یہاں بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہی ہو میں تمہیں پورے گھر میں ڈھونڈ آئی۔‘‘ فروا نے اس کے پاس آکر بیٹھتے ہوئے شرارت سے کہا اور غور سے اسے دیکھا۔
’’ارے کیا ہوگیا، تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ اس کے پژمردہ چہرے اور نم آنکھوں کو دیکھ کر اس کا ماتھا چھوا۔
’’جی بھابی۔‘‘ آہستگی سے بولی۔
’’اچھا کل پھپو آرہی ہیں تمہیں ساتھ لے جا کر تمہاری پسند کے زیورات خریدنا چاہ رہی ہیں اور ساتھ ہی آذر میاں بھی ہوں گے دم چھلہ۔‘‘ آخری جملہ کہتے ہوئے فروا نے شرارت سے اس کا سر ہلایا۔
’’مگر…!‘‘ اس کی شرارت پر دل آویز نے جو جواب دیا وہ سن کر فروا کے پیروں تلے زمین نگل گئی۔
’’کیا ہوگیا، تم ہوش میں تو ہو ناں، کیا بکواس ہے یہ۔‘‘
’’جی بھابی، میں ہوش و حواس میں ہوں آپ مما سے کہہ دیں مجھے آذر سے شادی نہیں کرنی۔‘‘
’’دل تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا؟ اب شادی میں چند دن رہ گئے ہیں اور تم یہ بکواس کررہی ہو۔ مما نے سن لیا تو تمہیں قتل کرڈالیں گی وہ… مذاق چھوڑو، سمجھیں۔‘‘ فروا نے سب محض مذاق سمجھا۔
’’بھابی یہ مذاق نہیں… میں سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘ دل کے لہجے میں دکھ بول رہے تھے۔
’’میں… میں… آذر سے شادی نہیں کروں گی نہیں کرسکتی میں اس سے شادی۔‘‘ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
’’ارے میری جان ہوا کیا ہے، کیا تمہیں آذر نے کچھ کہا ہے۔ لڑائی ہوگئی کیا تم دونوں میں، ایسی باتیں تو ہو جایا کرتی ہیں تو کیا رشتے ختم کردیے جاتے ہیں۔ پاگل ہو تم جو بھی ہوا بھول جائو وہ بھی تم سے زیادہ دیر روٹھ نہیں سکتا۔‘‘ فروا نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے پیار سے سمجھایا۔ ہمیشہ ہنسنے ہنسانے والی گھر بھرکی لاڈلی کو آج فروا نے پہلی بار اس طرح روتے ہوئے دیکھا تھا۔
’’نہیں بھابی نہ ہماری لڑائی ہوئی نہ اس نے مجھے کچھ کہا بس یہ میرا آخری اور اٹل فیصلہ ہے اس سے آگے ہاں کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘ دل نے خود کو فروا کی گرفت سے آزاد کراتے ہوئے فیصلہ کن لہجے میں کہا فروا منہ کھولے اس پاگل لڑکی کو دیکھتی رہ گئی۔
تھوڑی دیر میں یہ خبر گھر اور پھر گھر سے باہر تک چلی گئی آذر دوڑا چلا آیا۔ مگر دل آویز نے خود کو کمرے میں بند کرلیا تھا۔
’’افوہ… اماں یہ لڑکی ہم سب کو پاگل کردے گی، ہمارے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا ہے۔‘‘ سارہ بیگم کا بس چلتا تو اپنے ہاتھوں سے اپنی لاڈلی بیٹی کا گلہ گھونٹ دیتیں۔ وہ بھی غصے سے پیچ و تاب کھا رہی تھیں۔ کوئی وجہ، کوئی بات، کوئی غلطی، کچھ بتائے بنا بس ایک ہی رٹ تھی کہ شادی نہیں کرنی۔
’’کرلے کچھ بھی، مرجائے زہر کھا کر۔‘‘ اسد ملک غصے سے گرجے۔
’’کاش پیدا ہوتے ہی مر جاتی تو ہم یوں رسوا نہ ہوتے اس نے تو ہمیں ذلیل کرکے رکھ دیا ہے ہمارے چھوٹوں کی نظروں میں۔‘‘ سارہ بیگم غصے سے پیچ و تاب کھا رہی تھیں۔ ایک رات گزر گئی تو دادو رونے لگیں۔ فروا بھی بہت پریشان تھی وہ پاگل سچ مچ کچھ نہ کرلے فروا نے روتے ہوئے شہروز کے سامنے ہاتھ جوڑے۔
’’خدا کے لیے دروازہ توڑ دیں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ شہروز بھی دل آویز کو بہت پیار کرتا تھا اب اس کا غصہ بھی فکر میں تبدیل ہوگیا تھا صبح دادو اور فروا کے رونے دھونے پر دروازہ توڑا گیا تو اندر دل بیڈ پر بے تربیتی سے پڑی تھی چہرے پر آنسوئوں کے نشانات واضح تھے۔
جیسے وہ روتے روتے بے ہوش ہوگئی ہو، ہاتھ اور پیر بالکل ٹھنڈے ہورہے تھے۔ پاپا، مما، شہروز زور سے چلایا۔ سب بھاگے چلے آئے سارہ بیگم دوڑ کر اس کے پاس پہنچی پل میں سارا غصہ کا فور ہوچکا تھا۔ فوراً اسپتال لے کر بھاگے۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ نروس بریک ڈائون ہوچکا ہے۔ طبیعت بہت خراب تھی۔
’’یا اللہ میری بچی پر رحم کرنا۔‘‘ سارہ بیگم گڑگڑا رہی تھیں۔ اسد ملک بھی پریشان تھے ان کی لاڈلی بیٹی بے ہوش پڑی تھی۔ دادو کا رو رو کر برا حال تھا۔ یہ اچانک کیا ہوگیا تھا۔ نجانے کیوں اور کس لیے دل آویز نے ایسی ضد پکڑ لی تھی کہ سارے خاندان کو پریشان کرکے اب خود بھی موت سے لڑرہی تھی۔

…٭٭٭…

دوسرے دن شام کو اس کو ہوش آیا آنکیں کھولیں تو سامنے دادو اور مما کو دیکھا دفعتاً سب کچھ ذہن میں آگیا اور بے تحاشا آنسو آنکھوں سے ابل پڑے۔
’’مما… دادو آئی ایم سوری۔‘‘ نقاہت سے بمشکل کہہ سکی۔
’’چپ ہوجائو بیٹی اللہ کا کرم ہے تمہیں ہوش آگیا۔‘‘ دادو نے روتے ہوئے اس کا ہاتھ چوم لیا۔ سارہ بیگم نے بھی نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور اس کے یخ ہاتھ تھام لیے تین دن بعد وہ گھر لوٹ آئی۔
پاپا اس سے خفا خفا سے تھے۔ مما بھی زیادہ بات چیت نہ کرتیں سب اس کا خیال رکھتے۔ شہروز اور فروا بھی لیے دیے رہتے بس دادو اس سے ڈھنگ سے بات کرتیں حالانکہ دل آویز کے انکار سے ان کی اکلوتی بیٹی اور لاڈلے نواسے کا رشتہ بھی اس گھر سے جیسے ٹوٹ گیا تھا۔ زاہدہ بیگم نے بہت کوشش کی کہ انکار کی وجہ تو پتا چلے مگر اسد ملک اور سارہ بیگم تو خود بھی اصلیت سے بے خبر تھے تب ہی دونوں دل آویز سے ناراض تھے جس نے جیتے جی رشتے توڑ ڈالے تھے۔ وہ بھی بلاوجہ اور بنا کسی ٹھوس اور مناسب وجہ کے گھر کا ماحول عجیب سا ہوگیا تھا۔ جیسے سب کے درمیان کوئی سرد جنگ جاری ہو، ہر شخص اپنے کام سے کام رکھتا۔ شہروز اور فروا اسلام آباد شفٹ ہوگئے دن گزرتے چلے گئے اس عرصے میں دادو کا بھی انتقال ہوگیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسد ملک اور سارہ بیگم کا رویہ دل آویز کے ساتھ قدرے بہتر ہوگیا۔ دل آویز کو آذر کی یاد آجاتی تو وہ چپکے چپکے اپنی راتیں کالی کرتی رہتی۔
ایک روز پاپا نے بجائے یہ کہ اس سے بات کرتے اس کی مرضی معلوم کرتے! اسے یہ فیصلہ سنا دیا۔
’’امریکہ سے میرے ایک دوست کی فیملی پاکستان آرہی ہے اور میں نے ان کے بیٹے سکندر بخت سے تمہارا رشتہ طے کردیا ہے۔ اگلے ماہ کی بارہ تاریخ کو تمہارا نکاح ہے۔‘‘ وہ آنکھیں پھاڑے پاپا کے سپاٹ چہرے کو دیکھتی رہی پاپا اپنا فیصلہ سنا کر ایک لمحے کے لیے بھی رکے نہیں بلکہ الٹے قدموں واپس پلٹ گئے وہ سر جھکا کر رہ گئی۔ ٹپ ٹپ آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو نکل کر اس کے دامن میں جذب ہوتے گئے۔ اس کے روم روم میں دل میں، دھڑکنوں میں خوابوں میں تصور میں صرف اور صرف آذر تھا جس کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھیں مگر…
اور پھر وہ سکندر بخت کے عالی شان محل میں مسز سکندر بن کر چلی آئی۔ یہ گھر نہیں کوئی محل تھا جہاں نوکروں کی فوج تھی گھر کی ہر چیز سے امارت ٹپک رہی تھی۔ اس نے تو کچھ پوچھا بھی نہیں اور نہ پاپا، مما نے کچھ بتانے کی زحمت کی بس کہہ دیا کہ سکندر بہت امیر ہے وہاں تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔
’’السلام علیکم۔‘‘ کچھ دیر بعد سکندر آگیا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ سمٹنے لگی۔
’’ماشاء اللہ واقعی بہت خوب صورت ہو۔‘‘ سکندر نے تعریف کی تو وہ شرما بھی نہ سکی نہ کوئی جذبہ، نہ امنگ، نہ خواہشیں کچھ بھی تو نہ تھا بس ایک فرض تھا جو پاپا نے پورا کردیا تھا۔
’’دیکھو دل آویز۔‘‘ وہ کچھ دیر بعد مخاطب ہوا۔ ’’آج سے ہم ایک نئی زندگی کی ابتدا کررہے ہیں مجھے تمہارے اور تمہیں میرے ماضی سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے میرے ماضی کے بارے میں کبھی کریدنے کی کوشش مت کرنا۔ ہمیں حال میں جینا ہے اور حال ہی کا سوچنا ہے۔ تم میرے گھر میں میری بیوی بن کر آئی ہو تو تم پر لازم ہے کہ تم میری ہر بات مانو میں جیسا چاہوں، جو کہوں، جیسا رکھوں، اس میں ہی تمہیں خوش رہنا ہوگا۔ مجھے جرح کرتی، بحث کرتی غیر ضروری باتیں کرتی اور کھوج لگانے والی عورتیں قطعی ناپسند ہیں۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ تم میری پسند اور ناپسند کا پورا پورا خیال رکھو گی۔ بدلے میں تمہیں یہاں ہر قسم کی آسائش، روپے پیسے، ہر چیز میسر ہوگی ایسی زندگی جو شہزادیوں کے نصیب میں ہوتی ہے ایسی زندگی گزارو گی کہ شاید خواب میں بھی تم نے نہیں سوچا ہوگا۔‘‘ اس کی ایک ایک بات میں، ایک ایک لفظ میں تفاخر، تمکنت اور گھمنڈ نمایاں تھا۔ دل آویز کو محسوس ہوگیا کہ سکندر بخت ایک گھمنڈی اور مغرور انسان ہے اور یہ شادی اسے صرف نبھانی ہے۔
’’جی آپ کو کوئی شکایت نہ ہوگی۔‘‘ وہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔
’’گڈ۔‘‘ سکندر بخت نے جیب سے اعلیٰ برانڈ کا سگریٹ نکال کر اسے جلاتے ہوئے بس اتنا ہی کہا۔
’’افوہ، موصوف سگریٹ بھی پیتے ہیں۔‘‘
’’چینج کر کے آجائو۔‘‘ سکندر نے سگریٹ کا دھواں خارج کرتے ہوئے کہا تو وہ خاموشی سے اٹھ کر الماری سے کپڑے نکالنے لگی۔
سکندر بخت کی فیملی میں باپ اور ماں ہی تھے اور کوئی بہن بھائی نہ تھا۔ نہ رشتے دار، بڑا سا گھر اور ڈھیر سارے نوکر تھے۔ ایک بوڑھی آپا شمشاد، ایک باورچی، ڈرائیور اور ایک لڑکا جو اوپر کے کام کرتا تھا۔
آدھی رات کو دروازہ دھڑ دھڑ بجنے لگا ’’الٰہی خیر۔‘‘ وہ گھبرائی سکندر بھی گڑبڑا کر اٹھ گیا۔ اٹھ کر دروازہ کھولا۔
’’صاحب… صاحب… یہ دیکھیں یہ شجو بابا کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے پتا نہیں کیا ہوگیا ہے۔‘‘ شمشاد مائی گھبرائی ہوئی آواز میں کہہ رہی تھیں۔
’’اندر آجائو۔‘‘ سکندر نے راستہ دیا۔ شمشاد مائی نے بچے کو لا کر بیڈ پر لٹا دیا۔ دل آنکھیں پھاڑے حیرت سے بچے کو دیکھتے ہوئے بیڈ کے کونے کی طرف سمٹ گئی۔ تین چار سال کا بچہ لیکن عام بچوں سے بالکل الگ کیونکہ وہ نارمل نہیں تھا۔ گھبرا کر دل آویز بیڈ سے اتر گئی۔ بچے کی شکل عجیب سی تھی چھوٹی چھوٹی ٹیڑھی آنکھیں جو کافی اندر دھنسی ہوئی تھیں۔ ماتھا آگے کو نکلا ہوا، سر قدرے بڑا، ہونٹ موٹے موٹے اور آگے کو نکلے ہوئے تھے منہ سے بہتی رال اور چڑھی ہوئی آنکھوں کے ساتھ بخار کی حدت سے تپتا ہوا سرخ چہرہ بچے کو خاصا عجیب سا بنائے دے رہا تھا۔
’’یہ… یہ کون ہے… اسے یہاں کیوں لائی ہو؟ لے جائو یہاں سے۔‘‘ دل آویز نے شمشاد کو دیکھ کر کہا۔
’’وہ بیگم صاحبہ…!‘‘ قبل اس کے کہ شمشاد کچھ کہتی سکندر بخت نے اسے ہاتھ کے اشارے سے باہر جانے کو کہا تو شمشاد سر جھکا کر واپس پلٹ گئی۔ دل آویز حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
’’یہ کیا ہے، کیا معاملہ ہے اور یہ بچہ کون ہے اور رات کے اس پہر آج ہمارے بیڈ روم میں کیوں ہے۔‘‘ وہ عجیب سی الجھن کا شکار تھی اس نے سوالیہ نظریں سکندر بخت کی طرف اٹھائیں۔
’’یہ میرا بیٹا ہے اور آج سے تمہارا بھی بیٹا ہے، فی الحال تمہارے لیے اتنا جان لینا کافی ہے۔‘‘ سکندر بخت دل آویز کے چہرے کے اتار چڑھائو اور الجھن اور آنکھوں میں چھپا خوف محسوس کرچکا تھا لہٰذا مختصر لفظوں میں اپنا مدعا بیان کردیا۔
’’کیا … یہ… آپ کا بیٹا…؟‘‘ حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹنے لگیں۔ خوف سے وہ کانپنے لگی۔ بقول سکندر کے کہ وہ اب اس کا بھی بیٹا ہے۔ دل آویز نے خوف زدہ نظریں بچے پر ڈالیں۔
’’نہیں… نہیں… اللہ نہ کرے۔‘‘ بے ساختہ اس کے لبوں سے نکلا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ سکندر بخت نے ترچھی نظریں اس پر ڈال کر سوال کیا۔
’’ابھی میں اسپتال جارہا ہوں آکر تم سے بات کروں گا۔‘‘ بچے کو گود میں اٹھا کر سکندر بخت کمرے سے باہر نکل گیا۔
’’اف اللہ…‘‘ دل نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چکراتا سر تھام لیا۔
’’یا اللہ یہ کیا ہے؟ یہ بچہ سکندر کا ہے مطلب سکندر شادی شدہ ہے اور اس کا بچہ بھی اور… ایسا بچہ۔ یہ بات… پاپا، مما یا شہروز نے کسی نے ایسی کوئی بات نہیں بتائی تھی بس اتنا بتایا کہ امریکہ سے آیا ہے اور جلدی شادی کرنا چاہتا ہے یا اللہ یہ کیا امتحان ہے۔ مجھے ہمیشہ سے ایسے لوگوں سے خوف آتا رہا ہے بچپن سے جہاں کہیں بھی کوئی ایب نارمل یا پاگل نظر آتا دل چیخ مار کر مما یا دادو کی گود میں چڑھ جاتی خوف سے آنکھیں بند کرلتیں ایک لمحے کے لیے بھی ایسے بندے کو سامنے برداشت نہیں کرسکتی مگر… یہ بچہ میرے ساتھ رہے گا اس کی ماں۔‘‘ یہ سوال اس کے دل میں تھے۔
’’میرے اللہ آج شادی کی پہلی رات ہے… میں نے اپنی زندگی کی شروعات کی اور آج ہی کتنی بھیانک حقیقت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ سب کچھ میری برداشت سے قطعی باہر ہے۔ اتنا بڑا دھوکہ اتنی بڑی سچائی کو چھپا کر سکندر نے بہت گھٹیا پن کا ثبوت دیا ہے۔ اپنی امارت کا ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ میں بھی کوئی گری پڑی نہیں ہوں، میرے پاپا بھی روپے پیسے میں کسی سے کم نہیں… میں… میں یہاں بالکل نہیں ٹھہر سکتی۔ صبح ہی پاپا سے بات کروں گی تمام باتیں انہیں بتائوں گی۔ میں سکندر سے کہہ دوں گی کہ اگر مجھے یہاں رکھنا ہے تو اس بچے کو کسی ادارے میں بجھوادیں ایسے بہت سے ادارے ہیں جو ایسے بچوں کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کرسکتے ہیں۔‘‘ وہ تھوڑی سی دیر میں بہت کچھ سوچ چکی تھی کیونکہ جس چیز کو بنیاد بنا کر اس نے اپنی زندگی کا ناقابل برداشت اور اذیت ناک فیصلہ کیا تھا وہی اسے منہ دکھائی میں تحفے کی صورت ملا تھا۔ اسے رہ رہ کر سکندر پر غصہ آرہا تھا اس نے سوچ لیا تھا کہ اس کے جھوٹ کو ایشو بنا کر وہ سکندر کو خوب ذلیل کرے گی اور سکندر کو مجبور کردے گی کہ وہ بچے کو کہیں بجھوا دے ورنہ… وہ یہاں نہیں رہے گی۔‘‘
تقریباً تین گھنٹے بعد سکندر کمرے میں آیا تو وہ جاگ رہی تھی۔
’’تم جاگ رہی ہو اب تک؟‘‘
’’جی… سو بھی کیسے سکتی ہوں۔‘‘ تلخی سے جواب دیا۔
’’سکندر یہ بچہ…!‘‘ اس نے کہا۔
’’ہاں یہ میری پہلی بیوی جیسمین کا اور میرا بیٹا ہے جیسمین کو میں ڈیورس دے چکا ہوں کیونکہ اسے اپنی سوشل لائف زیادہ عزیز تھی اور میں اس بچے کو ساتھ رکھنا چاہتا ہوں تب ہی میں نے تم سے شادی کی ہے۔‘‘
’’مگر یہ تو سراسر زیادتی ہے سکندر۔ اگر ایسی بات تھی تو آپ ایسی لڑکی سے شادی کرتے ناں جسے آپ کے ساتھ ساتھ ایسا بچہ بھی قبول ہوتا۔ جو آپ کی یہ شرط ماننے پر تیار ہوتی یا آپ ہمیں صاف بتادیتے۔ آپ نے مجھ سے کہہ دیا کہ ماضی کو نہ کریدوں لیکن آپ نے خود اپنے تلخ ماضی کی ایسی بھیانک سچائی کو چھپا کر مجھ سے شادی کی اگر… مجھے یہ معلوم ہوتا تو… تو میں ہرگز یہ شادی نہیں کرتی۔ مجھے نفرت ہے ایسے بچوں سے میں برداشت نہیں کرسکتی اس لیے آپ پہلی فرصت میں اسے کہیں کسی بھی ادارے میں شفٹ کردیں۔ آپ نے تو حد کردی سکندر رشتے کی بنیاد ہی ایک کڑوے اور بھیانک جھوٹ پر رکھی ہے اگر مجھے علم ہوتا تو…!‘‘
’’دل آویز۔‘‘ سکندر جو اب تک خاموشی سے سب کچھ سن رہا تھا اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔
’’تم مجھے بار بار جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہو جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا کچھ نہیں چھپایا۔ نہ غلط بیانی سے کام لیا نہ دھوکہ دیا میں کون ہوں، کیا ہوں میرا بچہ ہے اور بچہ نارمل نہیں ہے یہ ساری باتیں اسد ملک صاحب کے علم میں ہیں۔ میں نے تمہارے پاپا سے کہا تھا کہ وہ تم کو سب کچھ بتادیں انہوں نے تمہیں بتایا یا نہیں یہ مجھے علم نہیں یہ الزام جو تم مجھ پر لگا رہی ہو یہ بے بنیاد ہیں میں نے کچھ غلط نہیں کیا نہ ہی کسی کو اندھیرے میں رکھا اب یہاں غلطی کس کی ہے کس نے حقیقت چھپائی، سب ظاہر ہے تم چاہو تو ابھی فون کرکے اپنے پاپا سے پوچھ سکتی ہو۔‘‘ سکندر نے بات ختم کی تو دل نے سر تھام لیا۔
’’اف پاپا یہ کیا کردیا آپ نے… اتنی بڑی سزا… اتنا بڑا ظلم اپنی لاڈلی بیٹی کے لیے… ایسی سزا۔ ہاں، میں نے بھی تو ظلم کیا ہے نا آپ پر آپ کا رشتہ بھی ٹوٹ گیا تھا آپ کی بہن سے میری وجہ سے… لیکن مما… مما آپ کا دل کیسے مان گیا آپ تو جانتی ہیں ناں کہ آپ کی بیٹی کتنا ڈرتی ہے ایب نامل لوگوں سے…!‘‘ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
’’ہاں… ایک بات کان کھول کر سن لو چاہے تم یہاں رہو یا نہ رہو شجاع کہیں نہیں جائے گا۔‘‘ سکندر فیصلہ سنا کر جاچکا تھا۔
’’یا الٰہی یہ کیسا امتحان ہے یہ کیسی سزا ہے ایک ایسی بات ایسا ڈر جس کی وجہ سے میں نے اپنی چاہت، اپنے پیار کو چھوڑا وہی چیز وہی ڈر، خوف ہر وقت میرے سر پر منڈلاتا رہے گا میری نگاہوں کے سامنے رہے گا۔‘‘ دل آویز کو خود کو یہاں ایڈجسٹ کرنا تھا ہنس کر، رو کر یا خوف زدہ ہوکر… مگر ہمت اور حوصلے کے ساتھ سب سہنا تھا۔ شجاع زیادہ تر شمشاد کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ کبھی کبھی سکندر کے سامنے شمشاد اسے لے آتی تو دل آویز کسی نہ کسی کام میں لگ جاتی کوئی ری ایکٹ نہ کرتی میکے بھی بہت کم جاتی تھی اسے وہاں جا کر بھی اچھا نہ لگتا گو کہ پاپا اور مما کا رویہ اچھا رہتا مگر دل میں تو ایک پھانس سی چبھ گئی تھی اس لیے جلد لوٹ آتی۔
اسی طرح ڈھیر سارے دن گزر گئے پھر دل آویز بھی ماں بن گئی خوب صورت گول مٹول بچی جسے دیکھ کر سکندر اور دل بہت خوش ہوئے مگر… جب ڈاکٹرز نے چیک اپ کرنے کے بعد یہ بھیانک خبر دی کہ بچی ذہنی طور پر نارمل نہیں ہے تو… دل تو یہ سن کر بے ہوش ہوگئی۔ سکندر کے بھی ہوش اڑ گئے یہ بار بار کیوں ہورہا تھا اس کے ساتھ… بظاہر صحت مند اور توانا مرد تھا پھر… پھر یہ خدا کی کوئی مصلحت تھی دل ہوش میں تو آگئی مگر بہت دکھی اور غمگین تھی اللہ پاک کیا امتحان لے رہا تھا اس نے تو اکثر یہی سنا تھا اور ڈاکٹرز بھی کہتے تھے کہ بلڈ ریلیشن ہو اور شادیاں ہوں تو عموماً بچے نارمل نہیں ہوتے مگر یہاں تو… بلڈ تو کیا سکندر سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا پھر یہ بچی؟ یا خدا تو ہی مالک و مختار ہے کل عالم کا پالنے والا کل عالم کو چلانے والا، تو قادر ہے، جو چاہے کرسکتا ہے ہونی کو انہونی اور معجزات کچھ بھی کرسکتا ہے۔ بنانا، بگاڑنا، سنوارنا سب تیرا کام ہے تیری حکمت اور تیری طاقت ہے میرے مولیٰ، ہم ناچیز ہیں ہم صرف مفروضے قائم کرلیتے ہیں ہم کون ہوتے ہیں تیری خدائی میں دخل دینے والے۔ ہم کون ہوتے ہیں اپنے طور پر فیصلے کرنے والے؟ ہم خطا کار ہیں مولا صرف سوچ سکتے ہیں کرتا تو ہے یااللہ مجھے معاف کردینا میرے مالک مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ کاش… کاش سب کچھ رب کی مرضی پر چھوڑ دیتی مگر میں نے کتنے دل توڑے، مگر میں بندہ ناچیز تھی نا میرے دل میں بھی وسوسے تھے میری سوچ بھی ناقص تھی کہ آذر سے شادی ہوگی تو ہمارے بچے نارمل نہیں ہوں گے مگر میں جس سے بھاگ رہی تھی وہ میرے پیچھے پیچھے ہے پہلے شجاع اور اب… میری اپنی بچی، یااللہ مجھے ہمت دینا حوصلہ اور برداشت دینا میرے مالک۔‘‘ وہ رب کے حضور زار و قطار رو رو کر اپنی غلطیوں کی معافی کے ساتھ ساتھ آگے کی بہتری کی دعائیں مانگ رہی تھی۔
تین دن بعد وہ گھر آگئی پاپا اور ماما بھی آئے تھے پاپا دکھی لگ رہے تھے جبکہ مما خاصی دل گرفتہ تھیں مگر خدا کی رضا کے آگے سب بے بس اور شاکر تھے۔ بظاہر نمل صورت شکل میں اچھی بھلی تھی مگر ذہنی طور پر نارمل نہیں تھی۔ دل آویز دل و جان سے نمل کی دیکھ بھال کرتی کہتے ہیں عام طور پر خواتین کی خواہش ہوتی ہے اچھا کھانا، اچھا پہننا، نوکر چاکر، عیش پیسے کی فراوانی یہی ان کی زندگی کا خواب ہوتا ہے وہ سمجھتی ہیں کہ پیسہ ہی تمام مسائل کا حل ہے لیکن… لیکن کچھ ایسی خواتین بھی ہیں جو ان آسائشات کے ساتھ مطمئن اور آسودہ نہیں رہتیں ان کی زندگی میں کوئی کمی، کوئی تشنگی کوئی جھول رہ جاتا ہے کوئی پچھتاوا گزرے ہوئے وقت کی خوش گوار یادیں۔ حال کی تلخیاں ان کو ہمیشہ اپنے حصار میں رکھتی ہیں ان کی زندگی میں کہیں نہ کہیں لفظ ’’کاش‘‘ اور ’’اگر‘‘ ضرور ہوتا ہے اور دل بھی انہی لوگوں میں سے تھی۔ سکندر بخت سے اسے کوئی قلبی لگائو نہ تھا۔ ایک رشتہ تھا۔ جسے وہ نبھا رہی تھی۔ دل کے سامنے پہلے شجاع اور پھر نمل تھی۔ ان کے مسائل ان کی ضروریات اور ان کے لیے غور و فکر کرنا ہی اس کی روٹین تھی کوئی چارم، کوئی خوشی، کوئی امنگ نہ تھی بس ایک فرض کی طرح سے زندگی گزارے جا رہی تھی۔ اب اسے نہ شجاع اور نمل کے منہ سے بہتی رال سے گھن آتی نہ ہی شجاع کے منہ سے نکلتی عجیب و غریب آوازوں سے وہ خوف زدہ ہوتی نمل تھوڑی سی بڑی ہوئی تو دماغی بخار کی شدت سے اس کی ذہنی حالت مزید بگڑ گئی سکندر اور دل اسے لے کر شہر کے سب سے اچھے اسپتال گئے تھے۔ ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ ذہنی پسماندگی کے ساتھ ساتھ نمل کے دل کے وال میں بھی پرابلم ہے اس لیے اس بچی کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے دل ماں تھی نمل سے اس کا دل کا، خون کا رشتہ تھا۔ اسے شدید ذہنی جھٹکا لگا تھا۔
نمل کی حالت نے دل کو مزید دل گرفتہ کر ڈالا تھا وہ شجاع سے بے پروا ہوتی جا رہی تھی۔ سکندر بخت اپنے کاروبار میں مصروف رہنے لگا تھا وہ شجاع کی طرف سے مطمئن تھا کہ دل اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کررہی تھی۔ کبھی کبھی دل کو شدت سے آذر کی یاد آجاتی۔ جانے کہاں تھا، دل سے ہوک سی اٹھتی۔ آذر مجھے معاف کردینا۔ میں نے تمہارا دل دکھایا ہے۔ آج میں خود کتنی بے بس اور لاچار ہوں شوخ و چنچل دل آویز نجانے کہاں کھو گئی تھی ہر دم شرارتیں کرنے والی بارش میںانجوائے کرنے والی، ہنسنے ہنسانے والی دل آویز کی جگہ سنجیدہ سوبر اور دکھی ماں نے لے لی تھی ایک ذمہ دار اور فرماں بردار بیوی بن چکی تھی۔ زندگی ایک معمول کے تحت گزر رہی تھی۔
اس روز نمل کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اس کی سانسیں رکنے لگیں سکندر گھر پر نہیں تھا۔ دل نے سکندر کو فون کیا اور خود نمل کو لے کر اسپتال بھاگی۔ شجاع کی طبیعت بھی خراب تھی۔ وہ گھر پر تھا شمشاد کے ساتھ دو تین گھنٹوں میں جب نمل کی طبیعت سنبھلی تو سکندر اور دل گھر واپس آئے تو شجاع بخار میں پھنک رہا تھا۔
’’ارے اس کو کیا ہوا…‘‘ سکندر نے شجاع کی حالت دیکھ کر شمشاد سے پوچھا۔
’’صبح سے ہلکا بخار تھا میں نے بیگم صاحبہ کو بتایا تھا انہوں نے دوا دے دی تھی بخار کی۔‘‘ شمشاد منمنائی۔
’’دوا دے دی تھی تو بخار جب نارمل نہیں ہوا تھا تو مجھے بتاتی ناں… میں آکر اسپتال لے جاتا دیکھو تو کیا حال ہوگیا ہے اس کا…!‘‘ سکندر شجاع کی حالت دیکھ کر آپے سے باہر ہوگیا۔
’’وہ… بیگم صاحبہ نمل بی بی کی وجہ سے پریشان تھیں انہوں نے بولا تھا کہ…!‘‘
’’بکواس بند کرو۔‘‘ سکندر دہاڑا اور دندناتا ہوا کمرے میں آیا۔
’’دل آویز۔ دکھا دیا نا تم نے سوتیلا پن۔‘‘ دل آویز نمل کا ڈائپر چینج کرتے ہوئے گھبرا کر پلٹی۔
’’کیوں کیا کیا ہے میں نے؟‘‘
’’سوتیلا پن اور کیا۔‘‘ وہ اسی لہجے میں بولا۔
’’سکندر یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ، آپ میری توہین کررہے ہیں۔‘‘ دل آویز نے قدرے نرم لہجے میں کہا۔
’’دل آویز تم… تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو میں تمہیں سمجھ دار عورت سمجھتا تھا۔ مگر تم نے… تم نے آخر کردی نا چھوٹی حرکت دکھا دی نا اپنی اوقات…‘‘
’’سکندر آپ… آپ حد سے بڑھ رہے ہیں۔‘‘ اس بار دل کی آواز بھی اونچی ہوگئی۔
’’حد سے تو تم بڑھ رہی ہو ایسی گری ہوئی حرکت کرکے‘ تم کو معلوم تھا کہ شجاع کو بخار ہے پھر بھی تم نے اسے گھر کی دوا دے دی اور نمل کو لے کر اسپتال گئیں… یہ… یہ ہے سوتیلا پن۔‘‘ وہ بدستور آپے سے باہر تھا۔
’’سکندر اسے مائنر سا ٹمپریچر تھا میں نے خود اس کو دوا دی اسے آرام آگیا تھا وہ سوگیا تھا اور… اور آپ جانتے ہیں ڈاکٹرز نے نمل کے لیے کہا ہے کہ اس کی طبیعت کبھی بھی خطرناک حد تک بگڑ سکتی ہے اس لیے اس کا اسپتال لے جانا زیادہ ضروری تھا۔ میں نے کبھی بھی شجاع اور نمل میں فرق نہیں سمجھا۔ آپ مجھ پر غلط الزام لگا رہے ہیں۔‘‘
’’تم شجاع سے ڈرتی ہوں خوف کھاتی ہو تب ہی اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسی بیٹی دی۔‘‘ وہ بدستور اسی لہجے میں بولا۔
’’سکندر… سکندر نمل میری نہیں ہماری بیٹی ہے اور ہاں میں ڈرتی تھی لیکن اب نہیں ڈرتی۔ گزشتہ تین سال سے میں نے شجاع کا خیال اپنے بچے کی طرح رکھا ہے اس کی ضرورت وقت سے پہلے پوری کرنے کی کوشش کی اس کی ایک ایک ضرورت کو خود پورا کرنے کی کوشش کی اس کو لے کر بھی اسپتال بھاگی ہوں اس کے لیے بھی راتوں کو جاگی ہوں لیکن آپ… آپ نے تو سب پر پانی پھیر دیا… آپ کی سوچ اتنی چھوٹی ہوگی یہ بات تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی سگے اور سوتیلے کا فرق کبھی بھی میرے ذہن میں نہیں آیا… یہ آپ کی چھوٹی سوچ ہے۔‘‘ وہ بھی پھٹ پڑی۔
’’بکواس بند کرو تم دو ٹکے کی عورت اگر تم نے یہ سب کیا تو بدلے میں تمہیں بھی میرا نام ملا ہے یہ عالیشان گھر، یہ ٹھاٹ باٹ اور شاہانہ زندگی ملی ہے تمہیں… ورنہ… ورنہ میں پیسے پھینک کر گھر میں نرسوں کی قطار لگا سکتا ہوں۔ تم سے بہتر تو شمشاد ہے وہ پیسے لیتی ہے تو نمک حلالی تو کرتی ہے۔‘‘
’’سکندر بس کردیں۔ آپ حد سے زیادہ بول رہے ہیں پیسے کے نشے میں دھت ایک بگڑے ہوئے ناکام انسان ہیں… آپ کی نظر میں صرف پیسہ اہمیت رکھتا ہے انسانی جذبات، احساسات اور رشتوں کی اہمیت نہیں ہے…‘‘
’’بکواس بند نہ کی تو…!‘‘ وہ غصے سے بے قابو ہو کر قریب چلا آیا اور ہاتھ اٹھا کر بولا۔
’’تو… تو کیا کرلیں گے آپ…؟‘‘ وہ بھی تنتناتی ہوئی اٹھ کر اس کے مقابل آگئی۔
’’تو… تو…‘‘ سکندر نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر طمانچہ دے مارا۔
’’سک… سکندر… آپ جاہل، ال مینرڈ اور عام مردوں کی طرح کم ظرف اور سطحی انسان ہیں۔‘‘ گال پر ہاتھ رکھے وہ روتے ہوئے زور سے چلائی۔ ضبط کی حدیں ختم ہوچکی تھیں۔ سکندر کمرے سے باہر نکل گیا تو وہ وہیں بیڈ کے کونے پر ٹک گئی اور منہ چھپا کر زار و قطار رونے لگی۔ سکندر نے جہالت کی انتہا کردی تھی۔ یہ صلہ دیا تھا اس کی قربانیوں کا شجاع کا خیال رکھنے کا اس کو اپنے بچے کی طرح سمجھنے کی یہ سزا ملی تھی اسے۔
’’ سکندر! تم کتنے جاہل ہو، بزدل بھی… آذر۔‘‘ اس کے لبوں سے دبی دبی سسکی ابھری آذر کتنا سوفٹ تھا سکندر کا رویہ تو ایسا تھا جیسے اس نے دل سے شادی کرکے اس پر کوئی احسان کیا ہے جیسے وہ اس کی زر خرید کوئی نوکر ہو… دفعتاً نمل نے عجیب سی چیخ ماری۔ دل آویز نے چونک کر اسے دیکھا۔ نمل کے ہاتھ پیر بری طرح اکڑنے لگے تھے۔ آنکھیں اوپر کو چڑھ گئی تھیں اور سانسیں بے ترتیب ہونے لگی تھیں۔
’’یا الٰہی خیر۔‘‘ وہ زور سے چیخی۔
’’شمشاد جلدی سے آئیے دیکھیں نمل کو کیا ہورہا ہے۔‘‘ شمشاد دوڑ کر آئی تب تک نمل کی سانسیں تھم چکی تھیں۔ اس کے کرب زدہ چہرے پر اطمینان اور معصومیت جھلکنے لگی تھی جیسے کسی بڑی تکلیف کے بعد راحت نصیب ہو۔
’’یہ کیا ہوا… نمل… نمل میری بچی۔‘‘ وہ دیوانوں کی طرح نمل کے بے جان وجود کو چوم رہی تھی۔ ہلا رہی تھی ساتھ ساتھ روتے ہوئے چلا رہی تھی سکندر بھی آگیا تھا۔ ننھی نمل کا رشتہ زندگی سے ختم ہوچکا تھا۔ ساتھ ہی دل کا ناطہ بھی جیسے ختم ہورہا تھا نمل کی تدفین میں مما، پاپا، شہروز، فروا بھی آئے دل آویز تو جیسے پتھر کی ہوچکی تھی خالی خالی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھے جارہی تھی۔ نمل کے کاٹ اس کی مخصوص جگہ، بستر، کپڑے، فیڈر، کھلونے ساری چیزیں اسے کاٹ رہی تھیں۔ کمرہ خالی خالی اور ویران ہوگیا تھا۔ نمل کے چھوٹے چھوٹے ڈھیروں کام ہوتے تھے جس میں اس کا ٹائم پاس ہوجاتا مگر اب… پھر سکندر کے اس تھپڑ نے تو دل آویز کو اور زیادہ توڑ کر رکھ دیا تھا اب اسے ایک لمحے کے لیے بھی سکندر کا وجود برداشت نہیں تھا۔ تدفین کے بعد جب سارہ بیگم جانے لگیں تو وہ بھی ساتھ جانے کو تیار ہوگئی۔
’’سنو، دل آویز اگر تم نے گھر سے باہر قدم نکالا تو سوچ لو پھر میرے گھر کے ساتھ ساتھ میرے دل کے دروازے بھی تم پر ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گے۔ اس لیے کوئی بھی قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا۔‘‘ پیچھے سے سکندر کی آواز آئی۔
’’ہاں سکندر تم اور کر بھی کیا سکتے ہو خود کو مضبوط سمجھنے والے انتہائی کمزور اور بزدل مرد ہو۔ مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہارے اس سونے کے پنجرے میں قید رہنے کا میں یہاں پر صرف اپنی بیٹی کے لیے تھی جب وہ نہ رہی تو یہاں رہ کر کیا کروں گی۔‘‘ اس کی آواز رندھ گئی اور آنسو بہہ نکلے۔
’’تم ایک کھوکھلے، بے رحم اور ناکام انسان ہو، جسے رشتوں کا پاس نہیں اسی وجہ سے تم دوسری بار اکیلے ہورہے ہو۔‘‘ وہ بھی اعتماد سے کہتی ہوئی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تلخ یادوں کو چھوڑ کر اس کے محل نما قید خانے سے باہر نکل آئی۔
مما اور پاپا دونوں ہی دکھی تھے اس وقت دل کو کچھ کہنا مناسب نہ تھا وہ دونوں خاموش تھے انہیں بھی بیٹی کے ساتھ ہونے والے حالات کا دکھ تھا غصہ اپنی جگہ مگر… تھے تو ماں، باپ وہ سارہ بیگم کے کندھے سے لگ کر بری طرح سسک اٹھی۔
’’مما… مما… مجھے معاف کردیں۔ پاپا… پاپا پلیز مجھے معاف کردیں۔‘‘ وہ بکھر رہی تھی اسد ملک نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا لیا اور وہ ان کی بانہوں میں بکھر گئی۔
کچھ دن بعد ہی سکندر بخت نے طلاق کے کاغذات بجھوا دیے۔ طلاق کے کاغذات ہاتھ میں لے کر وہ ایک بار پھر رو دی گویا دوسری بار اس کے ساتھ یہ ہوا پہلی بار اس نے نادانی کی اور دوسری بار سکندر بخت نے اس کی قدر نہیں کی۔ محض ایک مفروضے، ایک وہم کی وجہ سے اس نے چند سالوں میں کیا کچھ نہ سہا تھا۔ کتنا دکھ، اذیت اور تکلیف دہ وقت گزارا تھا۔ آذر سے رشتہ توڑ ڈالا۔ شجاع کی صورت میں نہ چاہتے ہوئے کانٹوں پر چل کر اس کی دیکھ بھال کی پھر نمل کی صورت میں ایک اور آزمائش اس کی منتظر تھی۔ اس کی سوچ تو یہی تھی کہ آذر سے شادی ہوئی تو خدانخواستہ بچے ایب نارمل ہوسکتے ہیں لیکن… نمل پیدا ہوئی اور پھر… پھر وہ تنہا ہی تھی۔ تلخ یادیں، دکھ اور پچھتاوا جب اسے حد سے زیادہ تنگ کرنے لگتا تو وہ بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگتی۔ ایک مدت ہوگئی تھی نہ بارشوں میں بھیگی تھی نا برسات کے مزے لیے تھے یہ سب کچھ بے معنی اور بے لذت ہوچکا تھا۔

…٭٭٭…

آج موسم کی پہلی بارش تھی اپنے کمرے کی کھڑکی سے اس نے باہر لان کی جانب دیکھا تو آذر یاد آگیا پلکیں نم ہونے لگیں۔
دل ہجر کے غم سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہے
اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیونکر ہو یہ کیسے ہو
’’دل بیٹی اندر آجائو۔‘‘ سارہ بیگم کی آواز پر وہ چونکی اور ادھر ادھر دیکھا وہ بارش میں بھیگ چکی تھی گزشتہ یادوں میں اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہ اسے وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا دن ڈھلنے لگا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر اندر کی طرف چلی آئی۔
سارہ بیگم کے بہت اصرار پر وہ اکیلی مارکیٹ چلی آئی ضرورت کی کچھ چیزیں لینی تھیں۔ کتنے عرصے بعد وہ یوں مارکیٹ میں آئی تھی آزادی کے ساتھ اپنی پسند کی شاپنگ کرنے کے لیے۔ وہ شاپرز لیے مال سے باہر نکلی ہی تھی کہ اچانک جیسے اس کے قدم جم گئے سامنے سے آتے آذر پر نظر پڑی تو قدم کے ساتھ ساتھ نظریں بھی جم سی گئیں۔ آذر کی نگاہ بھی اس پر پڑی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ پانچ سال کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ وقت اور حالات نے دونوں پر نمایاں اثر ڈالا تھا۔ وہ کچھ کمزور اور بجھی بجھی سی لگ رہی تھی آذر تھوڑا سا موٹا ہوگیا تھا جس سے مزید اسمارٹ لگ رہا تھا۔ دل آویز نے جلدی سے نگاہ جھکالی۔
’’دل…‘‘ وہی پیار میں ڈوبا مخصوص انداز، نا چاہتے ہوئے بھی دل کے قدم رک گئے۔ دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا آنکھیں چھلکنے کو بے تاب تھیں۔
’’دل کیا ہم سلام دعا کے بھی روا دار نہیں؟‘‘ آذر کی بات پر اس نے تڑپ کر نگاہ اٹھائی۔
’’مجھ سے ناراض ہو نا تم؟‘‘ دل کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔
’’دل کیا ہم بیٹھ کر ایک کپ چائے پی سکتے ہیں؟‘‘ آذر نے سوال کے جواب میں سوال کر ڈالا وہ بنا کچھ کہے اس کے پیچھے چل دی۔
’’دل مجھے صرف اتنا بتا دو کہ تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا، یوں بیچ میں مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ بے وجہ، بغیر کسی ریزن کے کم از کم میری غلطی، میری کوتاہی کچھ تو بتاتیں۔ تم نے مجھے ہی نہیں نانو کو ماما کو، مما اور مامی کو بھی شدید اذیت اور دکھ دیا ہے تم نے ہم سب میں دوریاں پیدا کردیں رشتے ختم کرا دیے۔ تم تو مجھ سے بے پناہ پیار کرتی تھیں۔ ساتھ جینے اور مرنے کی قسمیں کھائی تھیں ہم نے ساری زندگی بچپن سے جوانی تک ہم ایک دوسرے کی ڈھال بنے۔ ایک دوسرے کا ساتھ دیا لیکن جب عمل کا وقت آیا تو تم نے کتنی آسانی سے راستہ بدل لیا۔ تمہیں کس نے حق دیا تھا یہ سب کرنے کا، میرے دل سے… میرے ارمانوں سے کھیلنے کا مجھے بے وقعت کرنے کا، تمہیں دولت چاہیے تھی تو ایک بار کہہ کے دیکھتیں تمہارے لیے میں کچھ بھی کرلیتا۔ اتنی دولت کماتا کہ تمہارا دل بھر جاتا۔ مگر تم نے… تم نے بنا کچھ کہے ایک امیر ترین شخص کو اپنا لیا۔‘‘ آذر نے گویا سالوں سے جمع کی ہوئی بھڑاس نکال لی تھی۔ بات ختم کرکے اس نے سر اٹھایا تو دیکھا دل کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ متواتر آنسو گررہے تھے۔
’’آذر پلیز مجھے اس قدر گرا ہوا مت سمجھو کہ میں نے دولت کو اہمیت دی۔ بس ایک وہم تھا ایک ڈر تھا جس نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا اور… اور… میں نے اس کی سزا بھی بھگت لی ہے۔‘‘ وہ آنسوئوں کو صاف کرتے ہوئے دھیرے سے بولی۔
’’کیوں… کیا وجہ تھی کیا وہم… کیسا ڈر؟‘‘ آذر کا لہجہ بے تاب تھا۔
’’آذر… آذر میں نے سنا تھا کہ فیملی میں شادیاں ہوں تو ستر فیصد بچے نارمل پیدا نہیں ہوتے اور تمہیں تو پتا ہے کہ مجھے ایب نارمل بچوں سے کتنا خوف آتا تھا تو… میں نے سوچا کہیں ہمارے بچے بھی… میں ڈر گئی تھی آذر… لیکن… لیکن اس فیصلے سے میں خود کب خوش تھی سب مجھ سے ناراض ہوگئے۔ میں تنہا رہ گئی اب تک میں بھی تمہیں نہیں بھولی۔ بہت روئی بہت تڑپی مگر نجانے کیوں وہ بات میرے دل و دماغ میں چپک کر رہ گئی اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی اذیت ناک فیصلہ کر بیٹھی اور میرا نصیب تو دیکھو کہ میری اپنی بیٹی ایب نارمل پیدا ہوئی۔ سکندر ایک پڑھا لکھا جاہل اور مغرور انسان تھا۔ میری بیٹی کا بھی انتقال ہوگیا اور میں… میں سکندر کا گھر چھوڑ کر آگئی پھر… اس نے مجھے طلاق دے دی۔ دیکھو میرے ساتھ کیا کیا ہوگیا۔ کتنی بڑی سزا ملی ہے مجھے تم سب کا دل دکھانے کی۔ پانچ سالوں میں ایک دن، ایک لمحہ بھی اپنی مرضی سے نہ جی پائی، کوئی خوشی کوئی خواہش کوئی ہنسی کچھ بھی تو نہ ملا مجھے۔‘‘ دل کے لہجے میں دکھ بول رہے تھے۔
’’اف خدایا…!‘‘ آذر نے اس کی پوری بات سن کر اپنا سر تھام لیا۔
’’کیسی جاہلانہ سوچ تھی تمہاری، حد ہوتی ہے توہم پرستی کی یہ سب تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، کتنی پاگل لڑکی ہو ایک بے کار سی بات کو ایشو بنا کر تم نے کتنی جہالت کا ثبوت دیا ہے دل… ہزاروں لاکھوں شادیاں ہوتی ہیں خاندان میں اکا دکا ایسے کیس ہوتے ہیں اور پھر وہاں بھی تو ایسا ہوا نا کہ جہاں ایسا رشتہ نہیں تھا… حد کردی تم نے میری تو سمجھ میں نہیں آرہا کہ تمہاری اس حرکت پر تمہیں کیا کہوں۔ کیسا ری ایکٹ کروں؟ تم نے تو میرا دماغ گھما کر رکھ دیا۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ تم پڑھی لکھی ہوکر اتنی جاہلانہ سوچ رکھ سکتی ہو ایسی بات کو ایشو بنا کر اتنا بڑا فیصلہ کرسکتی ہو… تم نے بہت ظلم کیا ہے دل خود پر بھی اور ہم سب پر بھی۔‘‘ آذر کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے؟
’’پلیز آذر، معاف کردو مجھے میری فرینڈ نے بھی مجھے ڈرا دیا تھا۔ میں سچ مچ بہت گھبرا گئی تھی۔‘‘ وہی معصوم سا لہجہ… وہی انداز… آذر نے غور سے اسے دیکھا۔ اب بھی وہ دل میں اتر جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔
’’اب تمہارے معافی مانگ لینے سے ہمیں کیا وہ وقت وہ پانچ سال واپس مل جائیں گے وہ دکھ، اذیت، تکلیف جو ہم سب نے برداشت کیے ہے کیا اس کی تلافی ممکن ہے۔ وہ خواب، وہ چاہتیں، کیا کیا وہ لوٹ کر آسکتے ہیں۔‘‘ آذر کا لہجہ بھی بھیگنے لگا تھا۔
وہ نادم اور پشیماں تھی ان سب کی مجرم تھی۔
’’کیا… کیا تم نے شادی کرلی۔‘‘ دھڑکتے دل کے ساتھ نجانے کیوں اچانک دل کے لبوں سے یہ سوال پھسلا۔ پھر وہ خود ہی شرمندہ ہونے لگی۔
’’دل، میں نے تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کی قسم کھائی تھی۔ تمہارے ساتھ جینے اور مرنے کا عہد کیا تھا نہ تم سے پہلے کوئی اس دل میں تھا نہ تمہارے جانے کے بعد کوئی اس دل میں جگہ بناسکا۔ میں نے اپنا وعدہ نبھایا، اپنا قول پورا کیا اور آج… آج بھی میں اکیلا ہی ہوں۔ مما، پاپا کی بے انتہا ضد کے باوجود بھی میں نے شادی نہیں کی۔‘‘ اس کے جواب پر دل آویز مزید شرمندہ ہوگئی۔
’’اچھا اب میں چلتی ہوں۔‘‘ وہ اٹھنے لگی۔
’’کیا… کیا میں پھپو سے معافی مانگنے آسکتی ہوں؟‘‘ اٹھتے اٹھتے آذر سے سوال کیا۔
’’مما اور پاپا آج کل سعودی عرب میں ہیں آذر نے دھیرے سے کہا میں یہاں اکیلا ہوں۔‘‘ وہ بجھ سی گئی اور بے دلی سے پرس اٹھا کر مڑنے لگی۔
’’سنو دل۔‘‘ آذر نے پکارا۔
’’جی۔‘‘
’’کیا میں تمہارے گھر آجائوں ماما مامی سے ملنے؟‘‘ آذر نے پوچھا۔
’’ہاں… ہاں ضرور… پاپا کو اچھا لگے گا۔‘‘ دل کو اس کی بات اچھی لگی۔
’’اور پاپا کی بیٹی کو؟‘‘ آذر نے تھوڑا سا آگے بڑھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ وہی پرانا، شرارتی لہجہ۔
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ گڑبڑا گئی۔
’’مطلب کیا پاگل لڑکی یہ آذر ہے نا پکا پکا مشرقی لڑکا ہے جو آج تک اپنے پرانے پیار کو سینے سے لگائے تمہارا منتظر بیٹھا ہے کہ کب تم ہَوا کے گھوڑے پر سوار ہوکر آئو اور اسے لے کر اڑ جائو۔‘‘ اس کے لہجے میں وہی شوخی نمایاں تھی۔ دل پزل ہوگئی۔ وہ زور سے ہنس دیا۔
ریسٹورنٹ میں موجود لوگوں کی نظروں سے گھبرا کر دل نے اسے گھورا۔
’’ارے بھئی سیدھی سی بات ہے کہ اپنے تمام تر پاگل پن فضولیات کے ساتھ یہ الٹی کھوپڑی والی دل آج بھی آذر کے دل میں موجود ہے اور آذر چاہتا ہے کہ اب کی بار فوراً ہی اس پاگل کو ہتھکڑی لگا کر دل میں قید کرلے تاکہ اسے مزید پاگل ہونے سے بچایا جاسکے…!‘‘
’’کیا…!‘‘ دل نے غیر یقینی انداز میں آذر کو دیکھا اتنی جلدی وہ ساری تلخیاں بھول کر پھر سے اسے اپنانے کا خواہش مند تھا۔ دل آویز کا دل بھر آیا اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔
’’بس اب یہ رونا دھونا بند کرکے آنے والے دنوں کی خوشیوں کا استقبال کرنے کی تیاری کرو اور گھر جا کر میرا انتظار کرو شام کو آرہا ہوں میں اور ماما پاپا سے کال پر بات بھی کروا دوں گا تمہاری۔ اب ذہن سے تمام توہمات اور خدشات نکال دے لڑکی۔‘‘ آذر نے اس کا سر ہلایا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر ہنس دی۔
آنکھوں میں نمی اور چہرے پر شرم و حیا نے اسے دھوپ چھائوں جیسا بنا دیا تھا اور آذر نے اس کے اس حسین امتزاج کو موبائل کیمرے میں قید کرلیا تھا۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close