رفاقتوں کے موسم

رفاقتوں کے موسم

سمجھ میں نہیں آتا تھا‘ اماں بی کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟
تین جوان جہاں لڑکیاں تھیں اس گھر میں تینوں کی تینوں بے حد سگھڑ ‘ سلیقہ شعار‘ باتمیز‘ گھریلو امور میں طاق ‘ ماں کی فرمانبردار ‘ حسن میں بے مثال ….اس کے باوجود اماں بی کو ان کے رنگ ڈھنگ ایک آنکھ نہ بھاتے تھے۔
ایک سے بڑھ کر ایک شکایت‘ نئے سے نیا شکوہ۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آج کل کی نسل اتنی نازک مزاج ‘ اتنی آرام طلب اور اتنی فراغت پسند کیوں ہے؟
اور اماں بی کی سمجھ میں تو وہ مسئلے مسائل بھی نہ آ سکے تھے‘ جنہیں حل کرنے کے لیے وہ تینوں ہمہ وقت سر جوڑے کمرے میں گھسی رہتی تھیں۔ گھر میں نہ تو ٹی وی ‘ وی سی آر کی سہولت تھی ‘ نہ ڈش ‘ کیبل کی خرافات۔ لے دے کر ایک منا سا ریڈیو رہ گیا تھا ‘ ابا مرحوم کا ۔ بے چارہ آج تک ساتھ دے رہا تھا۔
خبریں‘ گانے‘ بہنوں کی محفل ‘ ڈرامے اور رات گئے تک غزلوں کے پروگرام ۔ سارا دن بے چارے کو آرام کا وقت کہاں ملتا تھا؟
اپنی زبانیں پٹر پٹر چل رہی ہوں، تب بھی کہیں نہ کہیں پسِ منظر میںبجتا ہی رہتا۔ہانڈی پک رہی ہے، ریڈیو چل رہا ہے۔
تم سنگ نیناں لاگے
اب چاہے، ہانڈی ہی کیوں نہ لا گے …. گانا پورا سنا جائے گا۔
دل کا کھلونا ہائے ٹوٹ گیا
کھلونے کے ساتھ ساتھ برتن بھی ٹوٹ رہے ہیں۔
اماں ہول رہی ہیں اور ریڈیو چل رہا ہے۔
کتابوں ‘اسکولوں کو عرصہ ہوا خدا حافظ کہہ چکی تھیں پھر بھی جانے کیا بات تھی کہ صبح سے شام تک ایک ہی کمرے میں‘ ایک ہی پلنگ پر سر جوڑے بیٹھی رہتیں۔
’’اوہو….آخر کون سی باتیں ہیں جو ختم ہونے میں نہیں آتیں۔’’اماں بی کو اپنی تینوں بیٹیوں کی یہ سرگرمیاں ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں۔
’’اللہ جانے کن گھروں میں آگ لگائیں گی جا کر۔ رنگ ‘ڈھنگ تو ایسے ہیں کہ اگلے ہی دن چٹیا سے پکڑ کر گھر سے باہر کر دیں۔ من من کرتی کمرے سے باہر بھن بھن کرتی کمرے کے اندر….. ذرا فکر نہیں‘ جاتے موسم کے بستر ‘ کپڑے نکالنے ہیں ۔ میں نہ ہوں تو گرمیاں بھی جاڑے کے بستروں میں نکل جائیں۔‘‘
اماں بڑبڑاتے جاتیں پھر بک جھک کر خاموش ہو رہتیں۔
مگر کب تک؟
کہیں کوئی کمی ‘کجی نظر آئی اور ان کا الارم دوبارہ بجنے لگتا۔
لڑکیاں بے زار ہو جاتیں۔
’’اماں تو بس…..‘‘ لمحہ بھر کو محفل برخاست کر دی جاتی۔
زیب النساء سب سے بڑی تھی۔ وہ باورچی خانے میں گھس جاتی۔
الماریاں صاف ستھری۔
ڈبے ترتیب سے رکھے۔
برتن دھلے ہوئے۔
سب کچھ ٹھیک ٹھاک تو ہے۔ لو یہ ذرا سا خشک آٹا چولہے پہ گرا رہ گیا اور اماں کی شکایتیں شروع۔‘‘
وہ گیلا کپڑا لے کر چولہا رگڑنے بیٹھ جاتی۔
منجھلی مہرالنساء صفائی پر مامور تھی۔
دونوں ہاتھ کمر پر رکھے آنکھیں کھول کھول کر کمروں کا جائزہ لیتی۔
بستروں کی چادریں دھلی دھلائی‘بے شکن۔ تکیوں کے غلاف بے داغ……کشن اپنی جگہ۔ فرنیچر جھاڑاہوا۔ سرخ برآمدے نکھرے ستھرے۔ صحن دھلا دھلایا۔
’’اور کیا چاہیے اماں کو؟‘‘ وہ چڑ جاتی۔ تب ہی نگاہ چھت پر جاتی۔
’’لو…..یہ ذرا سا جالا‘ ایک مکڑی بھی مشکل سے سما پائے۔ جب ہی تو اماں کی بڑبڑاہٹیں ختم ہونے میں نہیں آ رہیں۔‘‘
وہ لپک جھپک ڈنڈا لے کر جالے اتارنے لگتی۔ پھر اماں کی عینک زبردستی اتار کر ناک پہ رکھ لیتی۔
’’دیکھوں تو سہی اس جادوئی عینک کا کمال۔ سامنے کھڑا بندہ دکھائی دے نہ دے‘ جالے ضرور دکھا دیتی ہے کم بخت۔‘‘
چھوٹی نور العین تھی۔
اسے خوب خبرہوتی تھی کہ آج کن معاملات میں سستی دکھائی ہے ‘ سو بھاگم بھاگ چوزوں کے ڈربے تک جاتی۔دانہ پانی ڈالا۔ مرغیوں کے نیچے سے انڈے نکالے ۔ چڑیوں کا کٹورہ پانی سے بھرا اور دوڑ لگا کر پھر کمرے میں۔
جلے تو جلائو گوری
بڑی دونوں ریڈیو سے چپکی ہوتیں۔ وہ بھی شریک راگ ہو جاتی۔
جلے تو جلائو گوری
نیرہ نور جی جان سے گاتی رہتیں۔ اماں ‘ جی جان سے جلتی رہتیں۔
’’اس موئے ریڈیو کو چولہے میں نہ جلایا تو میرا نام بھی قمرالنساء نہیں۔‘‘
شام ڈھلنے کو تھی۔
اماں نے رات کے لیے دال‘ چاول بنانے نہ دیے تو مہرو نے ضد میں آ کر کدو کا رائتہ بھی نہ بنایا۔
زیبی نے ریڈیو کو کھولا اور چکن شاشلک کی ترکیب لکھنے لگی۔
عینی بے چاری الجھے ہوئے ریشم کا گچھا سامنے رکھے لبا لب بھری آنکھوں سے دونوں بہنوں کو دیکھ رہی تھی۔
اب بتا کون سے دھاگے کو جدا کس سے کریں۔
سارا قصور تو خود اس کا اپنا ہی تھا۔ اماں کڑھائی کا ٹانکا سکھانے پر بضد تھیں اور وہ نہ سیکھنے پر ۔ بچ نکلنے کی کوئی کوشش بار آور ثابت نہ ہوئی تو لے کر ان سب دھاگوں کا گچھا مچھا بنا دیا۔ اماں کے دھموکوں نے تو کمر سینکی ہی الٹا آنتیں بھی گلے پڑ گئیں۔
مہرو کن اکھیوں سے اماں کو دیکھتے ہوئے ان کے تمام چوزوں کو یکے بعد دیگرے ہاتھوں میں تول رہی تھی۔
تجھے رب نے بنایا کس لیے
وہ ایک چوزے کو آنکھوں کے سامنے نچا رہی تھی۔
اماں ہری مرچیں پیس رہی تھیں۔ اس کے انداز پہچان لیتیں تو ہری مرچوں کے ساتھ اس کا ملیدہ بھی لمحوں میں بن جاتا۔
تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔
گلابی شام کے سکوت میں دھما دھم‘ دھمال ڈالتا ڈنڈا پل بھر کے لیے ساکت ہوا۔
’’دروازہ بجا ہے۔‘‘ انہوں نے گردن موڑ کر چھوٹی کو دیکھا۔
ظاہر ہے ‘ اتنی زور زور سے کان تو نہیں بج سکتے۔‘‘ وہ جلی بھنی بیٹھی تھی۔ دستک دوبارہ ہوئی تھی۔
اماں اٹھ کر ڈیوڑھی تک گئیں تو مہرو سب سے تگڑاچوزہ لے کر کمرے کی طرف بھاگی۔
’’زیبی! چکن شاشلک کے لیے کتنا چکن درکار ہے؟ـــ‘‘
’’مطلب…..؟‘‘
’’جیتا جاگتا چکن تمہارے سامنے ہے۔ اب بھی مطلب پوچھ رہی ہو۔‘‘ مہرو کے معنی خیز انداز پر اس نے مارے حیرت کے آنکھیں پھاڑیں۔
’’اماں نے پوچھا تو…..؟‘‘
’’بلی کھا گئی۔‘‘ مہرو بھی اپنے نام کی بس ایک ہی تھی۔
’’ذبح کون کرے گا؟‘‘
’’کہو تو ابھی گردن مروڑ دوں۔‘‘ مہرو نے دلار سے چوزے کی گردن پر ہاتھ پھیرا۔
’’مہرو….!زیبی….!‘‘ عقب سے اماں کی آواز صور اسرافیل بن کر گونجی تھی۔
’’آ….آ…..‘‘ دل کا نپا…..ہاتھ لرزے……بانکا چکن ہاتھ سے نکلا…..
اماں کے کندھے پر سوار ہوا‘ان کے پیچھے کھڑے اجنبی کے قدموں میں گھڑی بھر لوٹا اور یہ جا ‘ وہ جا۔
مہرو تھوک نگلتی‘ کھنکھارتی‘ اماں سے نظریں چراتی بمشکل سلام کہتی برابر سے نکلتی چلی گئی تھی۔
زیبی گھبرا کر اٹھی۔
گود میں رکھا ریڈیو دھڑام سے نیچے جا گرا۔
چاہے میرا دل لے لے چاہے میری جان لے لے
وہ ریڈیو اٹھانے کو جھکیں ‘ تب تک مردانہ جوتے قریب آ چکے تھے۔ سو جھٹ کھڑے ہو کر سلام داغا اور اگلے پل کمرے سے باہر۔
’’ارے بھاڑ میں گیا تیرا دل…..چھوٹی…..ارے او چھوٹی…..!‘‘
اماں نے اِدھر اُدھر ہاتھ مارے ۔ ریڈیو بند کرنے میں ناکام رہیں تو جھلا کر نور العین کو پکارنے لگیں۔
’’کشمش اور ناریل بھرا انڈوں کا حلوہ ‘ انار دانے کی چٹنی کدو کا رائتہ اور بھنا ہوا چوزہ۔
میری قسمت میں تو نہیں شاید۔
مہرو کے غم کا کوئی مداوا نہ تھا۔ اپنے ہاتھوں ٹرے سجا رہی تھی۔ منہ سے رال ٹپک رہی تھی‘ آنکھ سے آنسو۔
’’کبھی جو ہماری خواہش پہ کوئی مرغی ‘ چوزہ ذبح ہوا ہو۔ مہمان اچھے ہیں۔ جی بھر کے مزہ لیں گے۔‘‘ وہ باورچی خانے کے فرش پر دھرنا مارے بیٹھی تھی۔
زیبی کئی بار کھانے کے لیے کہہ چکی تھی مگر وہ احتجاج کے ساتھ انتظار بھی کر رہی تھی۔
’’ہمارے لیے یہ ہی رہ گیا ہے کیا؟ رائتہ اور وہ بھی کدو کا۔ برتن واپس آنے دو‘ تب ہی کچھ کھائوں گی۔‘‘
اللہ اللہ کر کے برتن واپس آئے۔
مہمان کی صحت دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ اتنا کچھ کھا جائے گا۔ حلوے کی پلیٹ بالکل خالی ‘ چٹنی ندارد‘ رائتہ جوں کا توں اور سالن بھی کچھ نہ کچھ موجود۔
مہرو نے جھٹ سے روٹی نکالی مگر اماں اس سے بھی تیز ۔ سالن کا ڈونگا فوراً ہی الگ سے ڈھانپ دیا۔
’’یہ صبح ناشتے میں اس کے کام آئے گا۔‘‘
مہرو کے پتنگے لگ گئے۔
’’ہمارے لیے کیا …..؟ یہ ہی کدو کا رائتہ….نہیں….نہیں۔‘‘ اس نے جلالی انداز میں شرقاً غرباً آنکھیں گھمائیں۔
’’اماں! فوراً سے بیشتر میری روٹی یہ سالن ڈال دیںورنہ….ورنہ بلی رات کو سارا سالن کھا گئی تو مجھ سے مت کہیے گا۔‘‘
اماں نے غصے سے اسے دیکھا۔ ایک ہی نظر میں تیور بھانپ گئیں۔
زیبی اور عینی صبر شکر کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھی تھیں۔
’’میری یہ دونوں بیٹیاں اتنی صابر ‘ شاکر…..اور یہ جگا…..ہٹ کا پکا….‘‘
اماں نے ڈونگا اٹھا کر اس کے سامنے پٹخا اور خود باہر نکل گئیں۔
مہرو کی ند یدی آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ لمحہ بہ لمحہ گہری ہوتی چلی گئی تھی۔
اماں کی مرحومہ خالہ زاد کا یتیم و یسیر بیٹا المعروف معروف حسن بدستور سو رہا تھا۔ ناشتہ کب کا تیار تھا۔ دو انڈوں کا آملیٹ ‘ بناسپتی گھی میں تلے پراٹھے اور ایک عدد دہی کی پیالی۔
مہروکو اس ناشتے میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ سو اپنے حصے کے سارے کام نمٹاتی چلی جا رہی تھی۔
فرش پہ پوچا‘ فرنیچر کی جھاڑ پونچھ ‘ باورچی خانے کے کوڑے دان کی دھلائی ‘ کالی دیگچیوں کی رگڑائی۔ زیبی باورچی خانے میں ناشتہ گرم رکھتے رکھتے تھک گئی تو اٹھ کر نہانے چلی گئی۔ اماں مرغیوں کے لیے خوراک تیار کر رہی تھی۔
عینی گملوں کی گوڈی میں مصروف۔
دن خوب روشن اور چمکیلا تھا۔ مہرو فارغ ہوتے ہی ریڈیو لے کر بیٹھ گئی۔ پُر سکون ماحول…..صاف ستھرا کمرہ…..فراغت کا شدید احساس اور من پسند گانے۔
میں بن پتنگ اڑی جائوں رے
ہوا کے سنگ لہرائوں‘ لہرائوں رے
ابھی تو پرواز ڈھنگ سے شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ اماں نے ایک جھٹکے سے ڈور کھینچ لی۔
’’ناشتہ گرم کر دو‘ معروف حسن اٹھ گیا ہے۔‘‘
’’اف….‘‘ کیسی بد مزہ ہوئی تھی۔
’’کیا ہوتا جو موصوف پل بھر پہلے اٹھ جاتے یا پھر بعد میں ۔‘‘ وہ خراب موڈ کے ساتھ اُٹھ کر ناشتہ گرم کرنے لگی۔
دوپہر میں بھی کچھ یہ ہی حال رہا۔
تازہ سبزی بنائی‘ پھلکے تک ڈال دیے مگر ہوتے ہوتے سہ پہر بھی ڈھل گئی۔
اماں پریشان ‘ لڑکیاں معترض۔
’’ایسے نخرے ہم سے برداشت نہیں ہوتے ‘ ہونہہ….‘‘
ایک تو مہمان کی خاطر اماں کی بے جا سختی ‘ اس پر خود مہمان کا غیر ذمہ دارانہ روّیہ۔
’’ہم پہ تو ہزار پابندیاں ہیں۔ اونچی آواز میں بات نہ ہو‘ وقت بے وقت ریڈیو نہ چلے۔ چائے ‘ کھانے میں رتی برابر دیر نہ ہو اور موصوف پر کوئی قدغن نہیں۔ مہاراجہ کہیں کا۔‘‘
مہرو جھٹ ایک پرچہ لکھنے بیٹھ گئی۔
ناشتہ….دوپہر کا کھانا….رات کا کھانا….شام کی چائے…..سب کے اوقات مقرر….گھر میں داخلے کا وقت…..کمرے میں رہنے کے آداب…..
مہرو لکھتی جا رہی تھی ‘ باقی دونوں کھی کھی کرتی اس پہ جھکی بیٹھی تھیں۔
صبح کمرے سے بھیگا تولیہ….گندے سلیپر…..اتارے گئے کپڑے ہٹانے پہ مہرو قطعاً راضی نہ ہوئی تھی۔ ( لڑ بھڑ کر اماں کو ہی اس کی بکھری ہوئی چیزیں سمیٹنا پڑیں)
سو بہت سوچ سمجھ کر سارے اصول و ضوابط تحریر کیے گئے۔
زیبی اور عینی اس معرکے میں پوری طرح شریک تھیں۔ اماں کی طرف سے البتہ خوب رازداری برتی گئی تھی۔ وہ جانے کیوں جی جان سے مہمان کی خدمت کرنا چاہ رہی تھیں۔
اس کے میلے کپڑے دھو کر پھیلا دیے۔ جب تک اس نے گھر میں قدم نہیں رکھا‘ انہوں نے بیسیوںچکر دروازے کے لگا ڈالے تھے۔
لڑکیوں کو کسی غیر کے لیے ان کی یہ فکر مندی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔
شام کو وہ گھر میں داخل ہوا‘ خوب تھکا ہارا‘ پریشان۔ وہ اپنا تبادلہ واپس اپنے شہر میں کروانا چاہتا تھا۔ ساری بھاگ دوڑ اسی چکر میں تھی۔ صبح دفتر میں…..شام کو افسران بالا کے ہاں حاضری ….کبھی اس کو درخواست دے ‘ کبھی اس تک فائل پہنچا….اف….نوکریوں کے سو بکھیڑے۔
’’کام بنا….؟‘‘ اماں کے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا تو وہ آبدیدہ ہو گئیں۔ اُترے اترے چہرے پہ کیسا پیار آ رہا تھا انہیں۔
’’اسے ماں میسر نہیں‘ مجھے بیٹا….واہ قدرت…..‘‘
دل میں آتے خیالات جھٹک کر اسے خوب تسلی‘ دلاسا دیا….جھولیاں بھر بھر دعائیں۔ اتنی محبت پا کر اس کا نا امید دل ایک بار پھر پرُ امید ہو گیا۔
کل ایک دو لوگوں سے ملنا ہے‘ آپ دعا کیجئے کہ کام بن جائے۔‘‘
اور اماں برسات کے بادل کی طرح اپنی دعائیں بے دریغ اس پر نچھاور کرتی رہیں ۔ ذرا دیر میں وہ بھی چہکنے لگا۔ کھانا کھا کر آیا تھا۔ عینی چائے دینے گئی تو خوا مخواہ اس کی چپٹی سی ناک کو نشانہ بنانے لگا۔
’’لگتا ہے بچپن میں ناک کے بل گری تھی۔ کہیں کوئی جاپانی اٹھا کر ہی نہ لے جائے۔‘‘
’’ارے خوامخواہ……‘‘ عینی بری طرح جھینپی۔
’’تو ذرا سچ سچ بتائو‘ یہ جاپانی ناک کتنے میں لگوائی؟‘‘
آپ بھی تو بتائیے کہ …..یہ ہاتھی جیسے کان…..چوہے کی دم ایسے مونچھیں…..‘‘
’’اے….اے…..اے…..‘‘ اماںگڑ بڑائیں۔
معروف حسن نے چھت پھاڑ قہقہہ لگایا۔
ایسی منہ پھٹ لڑکی….‘‘ اماں کی آنکھیں باہر کو ابلنے لگیں۔
عینی بگٹٹ بھاگ کر باورچی خانے میں گھس گئی۔
وہاں مہرو اس کا انتظار میں بیٹھی تھی۔
’’کوئی ضرورت نہیں اتنا فری ہونے کی ‘ خوا مخواہ سر پہ چڑھنے لگے گا۔‘‘ عینی بے چاری شرمندہ ہو کر رہ گئی۔
رات کے کھانے تک بمشکل انتظار کیا گیا۔ جونہی معروف حسن نے کھانا کھایا اور اماں نماز میں مصروف ہوئیں‘ وہ تینوں جھپاک سے کمرے میں جا گھسیں۔
’’آہم…..‘‘
معروف حسن اپنی ہی سوچوں میں غلطاں و پیچاں تھا۔ ہلکی سی کھنکھار پر پہلے آنکھیں کھو لیں اور پھر سٹپٹا کر اٹھ بیٹھا۔
تینوں حسینائیں خطرناک تیور لیے اس کے سر پہ کھڑی تھیں۔
شکلیں دلیرانہ….انداز جارحانہ…..
’’آپ یہاں آئے کس لیے…..؟
’’آپ نے بلایا اس لیے۔‘‘
سنگیں ترین غلطیوں کی ایک طویل فہرست سامنے تھی جو صرف اور صرف سفر کی تھکاوٹ کے سبب دیر تک سونے اور پھر وقت پر دفتر پہنچنے کی جلدی کے باعث اس سے سرزد ہوئی تھیں۔
اس نے ہزار دلیل و صفائی سے کام لینا چاہا مگر وہاں کوئی سننے کو تیار ہوتا تب نا۔ دونوں ہاتھ سر پہ رکھے‘ وہ چپ چاپ فرد جرم سنتا رہا ۔
آخر میں ایک ہدایت نامہ اس کی آنکھوں کے سامنے نہایت نزاکت سے لہرایا گیا جسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ وقتاً فوقتاً نگاہ اٹھا کر ان تینوں کو بھی دیکھتا رہا۔ جابر حکمرانوں کی سلطنت میں ان کی رضاو پسندیدگی کے بغیر خیمہ زن ہو کر کس قیامت کو دعوت دی تھی اس نے۔ اس کا اندازہ ان کے چہروں پہ پھیلے نخوت بھرے ناگوار تاثرات کو دیکھ کر ہی لگایا جا سکتا تھا۔
نہایت صبرو تحمل سے ہدایت نامہ پڑھ کر ادب و احترام سے تہہ کر کے جیب میں رکھا اور پھر اگلے ہی پل۔
جیسے تو حکم کرے دل میرا ویسے دھڑکے ،کے مصداق اٹھ کر اپنا سامان سمیٹنے لگا۔
’’غلطی کی جو گھریلو ماحول کی تلاش میں یہاں چلا آیا‘ ورنہ شہر میں ہوٹلوں کی کیا کمی؟‘‘
کس آرام سے کہہ کر وہ چلنے کی تیاری کرنے لگا تھا۔
وہ تینوں منہ کھولے ہکاّ بکا کھڑا رہ گئیں۔ یہ سب تو ان کی پلاننگ میں نہ تھا۔کچھ سبق سکھانا مقصود تھا اور بس…..
زیبی کی ساری جرأت…..مہرو کی ساری بہادری دھری کی دھری رہ گئی۔ عینی بھی گڑبڑا گئی۔
’’اماں تو جان نکال لیں گی۔‘‘ اس نے ساکت کھڑی بہنوں کو جھنجوڑا۔
’’د….د….دیکھیے….یہ تو صرف مذاق….رہنے دیجئے….رکیے نا….ہم تو یونہی….‘‘
زیبی منمنائی عینی نے بھی منت کی۔
’’افوہ کہہ دیا نا ‘ مذاق کر رہے تھے۔‘‘ مہرو نے پائوں پٹخے پھر قمیص کی اوپری جیب میں پھڑپھڑاتا کاغذ جھپٹنے کو ہاتھ بڑھایا ،جسے بصدِ احترام کلائی سے تھام کر پیچھے ہٹا دیاگیا۔
’’اونہوں….بری بات….‘‘
’’اف….‘‘ وہ پائوں پٹختی باہر نکل آئی۔
’’بد تمیز آدمی! خوا مخواہ بات کا بتنگڑ بنا رہے تھے۔ ایک بار وہ کاغذ ہاتھ میں آ جاتا پھر جاتا جہنم میں میری بلا سے۔‘‘ دوسرے کمرے میں آ کر سرتاپا چادر تان لی۔ اندر ہی اندر ڈر رہی تھی۔
’’اماں کو تو موقع چاہیے ڈانٹنے کا۔‘‘
وہ زیبی اور عینی کی منتظر تھی۔ دل ہی دل میں جل تو جلال تو کا ورد۔
چند گھڑیاں گزریں‘ کچھ وقت بیتا ۔ اس نے دھیرے سے چادر کھسکائی۔ کمرے میں کوئی نہ تھا۔ چادر ہٹائی‘ دبے پائوں کمرے سے باہر نکل آئی۔
اماں نماز ختم کر چکی تھیں اور اب معروف حسن کے کمرے سے باتوں کی آواز آ رہی تھی۔ اس نے چپکے سے دروازے پہ لٹکتا پردہ ہٹا کر اندر جھانکا۔
اماں سامنے والی چارپائی پہ بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے عقب میں زیبی دبکی بیٹھی تھی۔
عینی‘ معروف حسن کی باتوں سے لال پیلی ہو رہی تھی۔
’’اف….یہ….دونوں…..ابھی نکل آئیں کمرے سے تو ہوش ٹھکانے لگا دوں۔‘‘ وہ پردہ چھوڑ کر دانت پیستی واپس کمرے میں آ گئی۔
ان کا انتظار کرتے کرتے بہت سا وقت بیت گیا پھر ذہن پہ غبار سا چھانے لگا۔ سونے سے کچھ لمحے قبل کمرے میں کھٹر پٹر کی آوازیں آئیں۔
اتنے اچھے ہیں معروف بھائی۔ ! میں انہیں کبھی یہاں سے جانے نہ دوں گی۔‘‘
عینی کی آواز بہت دور سے آئی تھی۔
اسے جھاڑنے کے لیے مہرو نے زبان ہلانے چاہی مگر نیند کا غلبہ شدید تھا۔
وہ کروٹ بدل کر گہری نیند سو گئی۔
مہرو کی ناراضی کا ڈر تھا‘ سو اگلی صبح زیبی اور عینی نے اسے کئی کہانیاں سنا ڈالیں۔
’’اماں اچانک آ گئی تھیں۔‘‘ بمشکل اس نے اپنا موڈ درست کیا۔ وقت بے وقت چائے پلانے کا وعدہ…..ریڈیو سننے کی فرمائش …..پل بھر میں ساری شرطیں منوا لیں اس نے‘ پھر کہا۔ ’’تبادلہ ہوتے ہی چلا جائوں گا۔ جتنے دن یہاں ہوں‘ برداشت کر لیں۔‘‘
’’مہرو! ہم نے بھی زیادتی کی۔ مہمان تو مہمان ہی ہوتا ہے نا‘ خواہ کیسا ہی….اچھا چھوڑو ‘ دفع کرو۔‘‘ زیبی نے اس کا پھولا ہوا منہ دیکھ کر بات ہی بدل ڈالی۔ کچھ دیر بعد سب اپنے اپنے کاموں میں جت گئیں۔
معروف حسن کی عدم موجودگی میں مہرو اس کے کمرے کی صفائی ستھرائی کے لیے آئی تو دھک سے رہ گئی۔
ہر چیز سمیٹ کر رکھی ہوئی۔ بستر تہہ کیا ہوا….چادر بچھی ہوئی…..
کپڑے کھونٹی پہ….کنگھا ‘ شیشہ ‘ پرفیوم سائیڈ ٹیبل پہ بالترتیب اور سامنے کی دیوار کے عین وسط میں لٹکتا ہوا ہدایت نامہ …..
مہرو چکرا کر رہ گئی۔
اماں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی مگر اَن پڑھ بھی نہ تھیں۔ اخباروں کی سرخیاں تو پڑھ لیتی تھیں اور پھر یہ ہدایت نامہ ایسی فصیح و بلیغ اردو میں نہ لکھا گیا تھا کہ ان کی سمجھ سے بالا تر ہوتا۔ وہ دانت پیستی ‘ لپک جھپک آگے بڑھی۔
کرسی پہ تپائی ‘ تپائی پہ خود…..ایک جھٹکے سے کاغذ کھینچا تو دوسرے جھٹکے پہ خود نیچے تپائی اوپر۔
’’آ….‘‘تیز چیخ حلق سے برآمد ہوئی۔
عین اسی وقت کوئی پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوا۔
’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ کس اطمینان سے پوچھا گیا تھا۔
گویا جو کچھ ہو رہا ہے‘ ارادتاً ہو رہا ہے۔
اور مہرو نے لاکھ کوشش کر ڈالی کہ کسی نہ کسی طرح بے ہوش ہی ہو جائے اور کچھ نہیں تو بے پناہ شرمندگی کے زیر اثر ہی سہی۔
مگر یہ نہ ہونا تھا‘ نہ ہوا….
الٹا اسی نے تسلی کے دو بول کہتے ہوئے تپائی اس کے اوپر سے ہٹائی‘ تب کہیں جا کر وہ اٹھ کر لنگڑاتے ہوئے بھاگنے کے قابل ہو سکی۔
ہو میرابابو چھیل چھبیلا میں تو ناچوں گی
ہو میرا بلما رنگ رنگیلا میں تو ناچوں گی
ریڈیو بج رہا تھا اور مہرو واقعی صبح سے ایک ٹانگ پر ناچتی پھر رہی تھی لیکن وجہ ہر گز وہ نہ تھی جو مغنیہ بتا رہی تھی۔
بس ایک گھٹنا چوٹ لگنے پر سوج گیا تھا اور اب کسی پل چین نہ لینے دے رہا تھا۔ معروف حسن نے دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ دوا لا کر دینے کی آفرکی جسے اماں نے سہولت سے رد کر دیا۔
’’تیل کی مالش سے آرام آ جائے گا۔‘‘
انہوں نے خود تیل نیم گرم کر کے گھٹنے پر مالش کی اور پھر کپڑا لپیٹ کر آرام کی تاکید کرنے لگیں۔
وہ صحن میں بچھی چارپائی پہ ہی دوپٹہ تان کر لیٹ گئی۔
عجب اداس سی شام تھی۔
اور ایسی شام میں ہمیشہ اباّ چپکے سے اس کی یاد میں چلے آتے تھے۔
کچھ محرومیوں کا احساس دھیان کا در کھٹکھٹا تا تھا ۔ کچھ خواہشیںدامن پکڑ کر کھینچتی تھیں۔
دوپٹے کی اوٹ میں بے آوا ز آنسو بہانے اور دماغ پہ چھائی غنودگی کے باوجود وہ چڑیوں کی چچر چوں‘ چچر چوں کو بغور سنتی رہی۔
مرغی کے نوزائیدہ بچوں کی معصوم سوالیہ چوں‘ چوں۔ باہر گلی میں سبزی والے کی پکاریں اور اس سے کچھ دور کئی پتنگ کے پیچھے بھاگتے ‘ دوڑتے بچوں کی چیخ و پکار۔ وہ بہت دیر تک یونہی لیٹی نیم گرم موسم کا مزہ لیتی رہی۔
سبزی والا دروازے کے عین سامنے آ گیا تھا۔
بھونڈی آواز میں روز کی رٹی رٹائی سبزیوں کی دیوانہ وار آوازیں لگائے چلے جا رہا تھا۔
اماں ٹوکری اٹھائے باہر نکل گئیں۔ اس نے ذرا سا پلو چہرے سے کھسکایا۔
شام کا نارنجی رنگ پھیکا پڑ گیا تھا ۔ کچھ ہی دیر میں آسمان کے کنارے سیاہ پڑنے والے تھے۔
باورچی خانے میں زیبی ہنڈیا بنانے کی ابتدائی تیاریوں میں مگن تھی۔ ریڈیو پاس ہی دھرا تھا۔
مہرو نے کچھ سننے کی کوشش کی مگر آواز بہت دھیمی تھی۔
عینی اس کے قریب سے چپل گھسیٹتی گزری اور چوزوں کو ڈربے کی طرف گھیر کر لے جانے لگی۔ مہرو زیبی کے پاس جانے کے لیے اٹھنے والی تھی کہ ڈیوڑھی میں اماں کے ساتھ ساتھ گپیں ہانکتا ‘ معروف حسن بھی صحن میں داخل ہوا۔
خدا جانے کیا قصہ سنا رہا تھا۔
’’توبہ…..پر سکون ندی میں کوئی پتھر آن گرا شاید ۔ ‘‘ و ہ دوبارہ سے اکڑوں لیٹ گئی۔ اب لنگڑاتی ہوئی چلتی تو گھنٹے بعد ہی باورچی خانے میں پہنچ پاتی۔ اپنا مذاق تھوڑی بنوانا تھا‘ سو اس کے ٹلنے کا انتظار کرنے لگی۔
وہ بھی ایک نمبر کا بد تمیز تھا۔ کمرے میں جانے کے بجائے برآمدے میں دھرے تخت پر ہی براجمان ہو گیا۔ اس کے عین سامنے باورچی خانہ تھا۔
’’اے گڑیا۔! جا….جا…..پا….پانی…..پلیٹ لے کر آئو۔‘‘ وہ عینی کو پکار رہا تھا۔
’’اور آ کر دیکھو ذرا…..کیا مزے کی گرم گرم کچوریاں لایا ہوں۔ ساتھ دہی کی چٹنی اور کرارے چھولے‘ مجھے تو خبر ہی نہ تھی۔ جاپانیوں کی کچوریاں اتنے مزے کی بنتی ہیں۔‘‘ وہ بولتا جا رہا تھا۔
’میں تو سمجھا یہاں صرف چاقو‘ چھریاں اور تلواریں ہی بنتی ہیں۔‘‘ صاف صاف اشارہ ان ہی کی جانب۔
عینی کی ہنسی نکل گئی۔ مہرو پیچ و تاب کھاتی رہی۔
’’میں اپنا حصہ نکال چکا ۔ ذرا کچن میں اپنی آپا کو بھی دے آئو….ہو سکتا ہے کچوریاں کھانے کے بعد ان کا دل چائے پینے کو چاہے۔ اسی بہانے ہم بھی چکھ لیں کہ آپ کے شہر میں چائے کیسے بنتی ہے؟
’’دن رات ٹھونس کر بھی پتہ نہیں چلا کہ چائے کیسی بنتی ہے؟‘‘ مہرو نے ناراضی سے سر جھٹکا۔
’’ارے ہاں بھئی…..وہ ایک بڑی اہم دستاویز میں نے اپنے کمرے میں لٹکائی تھی۔ کہیں مل جاتی تو باقی لوگوں کو بھی بتا دیتا کہ سونے جاگنے کے اوقات مقرر ہوتے ہیں۔ یوں پہروں سو کر وقت برباد کرنا…. نہ بھئی…..‘‘ آواز میں شرارت ۔ عینی کے ساتھ اشاروں میں باتیں ہو رہی تھیں۔
مہرو نے غصّے سے کروٹ بدلی۔
’’ان کے گھٹنے پر بڑی سخت چوٹ آئی ہے۔‘‘ عینی نے اطلاع دی۔
’’چوری کی کچھ تو سزا ملنا تھی۔‘‘
’’چوری…..؟ ‘‘ مہرو ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
’’کیا چرا لیا ہم نے؟‘‘ وہ سرخ آنکھوں سے براہ راست گھور رہی تھی۔
معروف حسن نے ایک نظر اماں کو دیکھا ‘ قریب ہی بیٹھی سبزی بنا رہی تھیں۔ نہ ہوتیں تو وہ سب گنوا دیتا جو یہاں آ کر چوری ہو گیا تھا مگر اب گرم چائے سے اڑتی بھاپ پہ نگاہ جمائے خاموش بیٹھا مسکراتا رہا۔
’’خوا مخواہ کا الزام….کون سے ہیرے جواہرات ساتھ لے کر آئے تھے جو…..‘‘
اماں کی نگاہ اس تک آئی۔ تیز ….غصّے سے لبریز…..تنبیہ کرتی ہوئی……
’’ان کو تو کچھ نہیں کہتیں ۔ خوا مخواہ سر پہ چڑھ رہے ہیں۔‘‘ وہ روہانسی ہو کر اٹھ گئی۔ گھٹنے میں درد کا احساس تک نہ رہا۔ باورچی خانے میں جا کر زیبی کے سامنے ساری بھڑاس نکالی۔
باہر اماں ‘ معروف حسن کو سمجھا رہی تھیں۔
’’نہ اس کی عادتیں خراب کرو‘ اوٹ پٹانگ چیزوں کا ذائقہ منہ کو لگ گیا تو کل کلاں مجھے بھی تنگ کریں گی اور میں تو دال روٹی ہی مشکل سے پوری کرتی ہوں ‘ تم بھی بچت کی عادت ڈالو۔ ماں‘ باپ سر پہ ہوتے تو تمہیں روپے پیسے کی قدر بتاتے۔ برے بھلے وقت میں کام آتا ہے‘ کچھ نہ کچھ بچا کر رکھا کرو۔‘‘
اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے
کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا
باورچی خانے کے دھلے فرش پہ تینوں کی محفل جمی تھی۔
اماں محلے میں کسی کی عیادت کے لیے گئی تھیں۔ معروف حسن بھی ناشتے کے بعد جا چکا تھا۔ سو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اونچی آواز کھول کر ریڈیو چلایا گیا تھا۔
عینی چراغ کے لیے روئی کی بتیاں بنا رہی تھی اور مہرو روئی کے گالے ہوا میں اڑا اڑا کر’’کوئی یہاں گرا اور کوئی وہاں گرا ‘‘ کا عملی نمونہ پیش کر رہی تھی۔
زیبی لالٹین کا شیشہ کھولے رگڑنے میں مصروف ۔ تب ہی باورچی خانے کے دروازے کے چند قدم پیچھے کوئی زور سے کھنکھارا ۔ تینوں متوجہ ہوئیں۔
چند لمحوں بعد معروف حسن دروازے کے چوکھٹے میں ظاہر ہوا۔ سامان سے لدا دالیں ‘ مسالے چینی ‘ گھی ‘ چاول اور نجانے کیا کیا…..؟
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘ مہرو نے سوالیہ نظروں سے زیبی کو دیکھا۔
جواباً لاعلمی کا اظہار کندھے اچکا کر کیا گیا؟
’’یہ…..؟‘‘ معروف حسن سے استفسار کیا۔
’’سودا سلف….راشن….‘‘
’’پرسوں کچوریاں ‘ کل ڈبل روٹی اور انڈے اور آج مہینے بھر کا راشن…..کوئی یتیم خانہ کھلا ہے یہاں۔ــ‘‘
’’مہرو کی خطرناک تیوروں پہ حیران ہوتے ہوئے اس نے مہرو کا لال بھبھو کا چہرہ دیکھا۔
’’کیا سمجھا ہے آپ نے ہمیں۔ مسکین ‘ لاچار‘ بھیک منگے۔ مان لیا کہ غریب ہیں ‘ بے سہارا ہیںلیکن اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتے ہیں۔ ہر گز ضرورت نہیں ایسی امداد کی‘ اتنے ہی لینڈ لارڈ ہیں تو جائیے گلی میں کھڑے ہو کر فقیروں ‘ بھکاریوں میں بانٹیے اپنا مال اسباب۔ غریبوں ‘ بیوائوں کی جھولیاں بھریں۔‘‘ وہ شعلہ جوالہ بنی کھڑی تھی۔ کمر ٹھونکنے کو دو عدد مشیر دائیں بائیں موجود تھیں۔
’’دیکھیے…..آپ…..میرا مطلب …..یہ زیادتی …..حد ہو گئی…..‘‘ اس نے بار ہا کچھ کہنے کو منہ کھولا مگر سامنے تو قینچی تھی۔ کتر …..کتراس کی ساری کوششوں کے پرزے اڑا گئی۔ آخرکار گردن کاندھے پہ گرائے ‘ زبان تالو سے چپکائے‘ ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا۔ بجلیاں کڑکتی رہیں‘ آگ برستی رہی۔
وحشی حسینہ…..جنگل کوئین…..ہانگ کانگ کی بجلیاں …..بنکاک کی کے شعلے……پستول کی ٹھائیں ٹھائیں ……بندوق کی دھنا دھن…..
جگر چھلنی ہے…..دل گھبرا رہا ہے۔
آہ بھر نے کا بھی موقع نہ دے رہی تھی نیک بخت۔
’’اگر یہاں رہنے کا کرایہ اس صورت میں ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بخشیے‘ شہر بھرا پڑا ہے ہوٹلوں سے۔ جائیے ‘ سدھاریے مگر ایسے احسان…..ہماری برداشت سے باہر …..دو چار پیسے آ جائیں تو خود کو کچھ سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم بھی آن‘ عزت والے لوگ ہیں ہاں۔‘‘
تھک ہار کر دھپ سے فرش پر بیٹھ گئی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی آنکھ سے چند ایک آنسو ٹپک ہی پڑے۔
روتے ہیں چھم چھم نین
اجڑ گیا…..
ریڈیو کو غصّے سے بند کیا گیا۔
معروف حسن نے لمبی سانس لے کر خود کو زندوں میں شمار کیا۔ کولر سے لے کر چند گھونٹ پانی پیا پھر دھیرے سے پنجوں کے بل اس کے برابر جا بیٹھا۔ شرٹ کی اوپر والی جیب سے ایک کاغذ اور کچھ رقم نکالی۔
’’خالہ بی سے کہیے گا آخر میں لکھے گئے چند سودے نہیں لا سکا۔ اتوار بازار سے ملے نہیں‘ کہیں اور سے ڈھونڈ لائوں گا۔‘‘
’’ہائیں…..‘‘ آنسوئوں کے اس پار در و دیوار گھوم سے گئے۔ معروف حسن کے چہرے پہ پھیلی مسکراہٹ اور گود میں رکھے کچھ روپے اور سودا سلف کی وہ لسٹ بھی جواب آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھی۔ اپنے ہی ہاتھوں سے بنائی گئی لسٹ۔
’’ا….و….ف….‘‘ وہ گھٹنوں میں منہ دے کر چہکوں پہکوں رونے لگی۔
زیبی نے مارے شرمندگی کے لالٹین والا شیشہ ہی ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ عینی البتہ دوپٹہ منہ میں دبائے کھی کھی کرتی رہی۔
لگثرری ولا ایک عدد
لینڈ کروزر دو عدد
ٹی وی (کم از کم چالیس انچ) ایک عدد
نوکر چاکر حسب ِ ضرورت
ہائے‘ کل نجانے کس ترنگ میں تھی کہ اماں نے سودا سلف کی لسٹ بنانے کو کہا تو ضروری سامان کے بعد اپنی ضرورت کی چیزیں کچھ اسی ترتیب میں لکھی تھیں اس نے۔ آج سے پہلے تو ہمیشہ عینی اور اماں ہی جاتی تھیں خریداری کے لیے۔
عینی سامان بولتی جاتی۔ اماں اپنے سامنے لکھواتی جاتیں۔
کیا خبر تھی کہ معروف حسن بے دام غلام کی طرح یہ خدمات بھی سر انجام دے گا۔ ایک تو مادیت پرستی کا عظیم الشان مظاہرہ……اس پہ بے وجہ کی لعن طعن…..رات ہونے تک وہ منہ پھلائے….. آنکھیں سجائے بیٹھی رہی۔
عینی کو خوا مخواہ سارا وقت ہنسی آتی رہی۔زیبی پریشان تھی۔
’’مہمان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔‘‘ احساس تو اسے بھی تھا۔
شام ڈھلی تو مسمسی سی شکل لے کر اس کے کمرے تک آئی ۔ غالباً چوتھی مرتبہ۔ بمشکل ہمت کر کے دروازے پر لٹکتا پردہ ذرا سا سرکا کر اندر جھانکا۔
’’کیا مسئلہ ہے؟‘‘ نیم تاریک کمرے سے وہ دھاڑا۔ پردہ ایک دم اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
’’خدا جانے کون سے شیر چیتے کھائے بیٹھا ہے۔‘‘ ننھا سا دل لرز گیا تھا۔ دوبارہ سے ہمت کر کے اندر داخل ہونا چاہا۔
’’کیا دو گھڑی آرام کی اجازت مل جائے گی؟‘‘روکھا ‘ پھیکا انداز۔
’’ہونہہ….کریلا….نیم چڑھا…..صبح سے نخرہ ہی ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ ہماری بلا سے۔‘‘ معافی تلافی کا ارادہ ختم …..پائوں پٹختے ہوئے وہیں سے واپس ہولی۔ معروف حسن کمرے کی تاریکی میں بے وجہ ہی مسکراتا چلا گیا تھا۔
امبوا کی ڈالیوں پہ جھولنا جھولا جا
اب کے ساون تو سجن گھر آ جا
اب کے ساون تو سجن گھر آ جا
آموں کے ڈھیر پر وہ بیٹھی وہ گنگنائے چلی جا رہی تھی۔
اب کے ساون تو سجن گھر آ جا۔
اب کے…..
’’لیں جی میں آ گیا۔‘‘ آستینیں چڑھائے ہاتھ میں گنڈا سا لیے وہ عین اس کے سامنے کھڑا تھا۔
’’ہائیں …..‘‘ وہ ایک پل کے لیے بھونچکی رہ گئی۔ جھٹکے سے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ چہرے پہ سنجیدگی لیے اماں سے مخاطب تھا جو اچار کے مسالا جات کے ناپ تول میں مصروف تھیں۔
وہ زیرِ لب لا حول پڑھتی فوراً وہاں سے اٹھ گئی۔
معروف حسن کے عنابی ہونٹوں پہ اترتی اور پھر غائب ہوتی مسکراہٹ صرف زیبی ہی دیکھ پائی تھی۔
سر جھکا کر اپنی بے اختیار ہنسی کو روکتی‘ وہ کڑھائی ٹانکے میں الجھ گئی۔
گلابی سی شام تھی۔
دروازے کے ساتھ والی دیوار کو ڈھانپتی بوگن ویلیا کے پھول ہوا میں ہولے ہولے لرز رہے تھے۔ عینی مرتبان دھو کر خشک کر رہی تھی۔
سال بھر کا اچار ڈالا جا رہاتھا۔ جب جب دال چاول میسر نہ ہوا ایک بے چارہ یہی کام آتا تھا۔ ناشتے میں تو لازم تھا۔
اماں آم دھو کر سکھا چکی تھیںبس پھانکیں بنانا باقی تھا۔
معروف حسن گنڈاسا لے کر ٹکا ٹک آم کاٹتا چلا جا رہا تھا۔ پُرسکوت سی شام کے آنگن میں کبھی کبھی اس کا بے خوف سا قہقہہ فضا میں گونجتا تو لڑکیاں چونک جاتیں۔
مہرو کو یاد آگیا پچھلے سال وہ تینوں باری باری آم کاٹنے کا کام کر رہی تھیں۔ تب بھی رات کو کندھوں میں درد ہونے لگا تھا۔
اور وہ جوان ‘ توانا پل بھر میں سارے آم ٹھکانے لگا کر فارغ۔
اماں مرتبان میں مسالے ڈالنے لگیں۔ وہ تولیہ اٹھا کر نہانے گھس گیا۔
باہر نکلا تو عجیب فرمائش۔
’’چلیں سب گھومنے چلتے ہیں۔ ‘‘ اماں بے اختیار ہنس دیں۔
’’نہیں بیٹا! یہ کہاں نکلتی ہیں باہر۔‘‘
’’اسی لیے تو کہتا ہوں‘ آئوٹنگ ضروری ہوتی ہے۔ طبیعت فریش ہو جاتی ہے۔‘‘
اماں کے پیشِ نظر ہزار مصلحتیں تھیں‘ بڑے سبھائو سے ٹال گئیں۔
وہ مایوس ہو کر اکیلا ہی باہر نکل گیا۔ جونہی دروازہ بند ہوا‘ عینی نے گھٹنوں میں سردیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
’’آئے ہائے….کیا ہوا بچی؟‘‘ اماں گھبرا گئیں۔
زیبی نے بھاگ کر اسے بانہوں میں لیا ۔ مہرو زبردستی اس کا چہرہ اٹھانے لگی۔
’’کیا ہوا عینی! بو لو نا؟‘‘
’’ہمارا…..ہمارا بھی کوئی ہوتا…..ہم جیسے چاہتے اس کے ساتھ سیر پہ جاتے …..بغیر کسی ڈر ‘ خوف کے…..‘‘
’’اوہ…..‘‘ اماں نے طویل سانس لی ا ور پیچھے ہٹ کر بیٹھ گئیں۔
’’اللہ کے کاموں میں کس کا دخل؟‘‘
مہرو آبدیدہ ہو کر وہاں سے اٹھ گئی۔ زیبی دیر تلک عینی کو سمجھاتی رہی۔
مہرو چولہے میں آگ جلا کر خود بھی گیلی لکڑی کی طرح سلگتی رہی۔
’’کوئی احساس تو تھا جو معروف حسن کو اس گھر میں چلتے پھرتے دیکھ کر تسکین پاتا تھا۔ اس طویل قامت کے سائے میں کھڑے ہونے کی چاہ من میں چٹکیاں سی لینے لگتی تھی۔ وہ ہوتا تو گھر بھرا بھرا سا لگتا۔ بے فکری ہر سانس میں ہلکورے لینے لگتی تھی۔ نہ ہوتا تو یہ ہی گھر ویران‘ ڈھندار سا محسوس ہوتا ۔ دیواروں پر آنکھیں اگ جاتیں۔ چھتوں پر اجنبی آہٹیں سانس لینے لگتیں۔
’’کتنا عرصہ ہو گیا اسے آئے ہوئے۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں حساب لگایا۔
’’ایک مہینہ اور شاید اٹھارہ دن۔‘‘ اتنے تھوڑے سے دنوں میں سب کے دلوں میں گھر بنا لیا تھا اس نے اور دل تو جیسے برسوں سے ایسے ہی کسی مضبوط ‘ اپنائیت بھرے رشتے کو ترس رہا تھا۔ وہ دھوئیں کی اٹھتی لکیر پہ نگاہ جمائے خود میں محو تھی۔
جب زیبی نے آ کر جھنجور ڈالا۔
’’بڑی زبردست سی آندھی آنے والی ہے ‘ سارا آسمان لال سرخ ہو رہا ہے۔ جلدی سے اٹھ کر چیزیں سمیٹو۔‘‘
وہ گھبرا کر باورچی خانے سے باہر نکلی۔
دیواروں پہ دھلے ہوئے کپڑے ایک قطار میں پڑے تھے۔ سارا دن ڈنڈا چلا چلا کر بازو تھک گیا تھا۔ تیز ہوا کا ایک ہی جھونکا ساری محنت غارت کر دیتا ۔ وہ اندھا دھند سارے کپڑے سمیٹ کر اندر رکھ آئی۔
ہوا میں تیزی آ گئی تھی۔ مٹی کی باس سے سانسیں ایک دوسرے میں الجھنے لگی تھیں۔ پل بھر میں گرد کا ایک طوفان سر پہ آ پہنچا تھا۔
اماں اچار کے مرتبان اٹھانے کو چیخ رہی تھیں۔ زیبی آگ بجھانے کو دہائیاں دے رہی تھی۔
عینی مرغی کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر پاگل ہو رہی تھی۔
تب ہی دھماکے کی زور دار آواز کے ساتھ گھر سے باہر کوئی چیز گری تھی۔ کوئی بوسیدہ درخت یا سالخوردہ دیوار۔ کسی کو اندازہ نہ ہو سکا۔ تاہم اماں کے ہاتھ پائوں پھول گئے تھے۔
’’رہنے دو….کمرے میں چلو…..زیبی …..عینی…..مہرو…..میں کہتی ہوں چھوڑ دو سب چیزیں بد بختو! کوئی چیز آ کر لگے گی سر میں۔‘‘ وہ زور سے چلاّئیں۔
ایسی تاریک آندھی تھی کہ شام میں رات کا سماں بن گیا تھا۔ مہرو نے آتے آتے جگ بھر کر پانی چولہے میں انڈیلا ۔ زیبی اچار کے مرتبان گھسیٹ لائی۔
عینی البتہ اماں کی گود میں گھسی۔’’ہائے میرے چوزے ‘ ہائے میرے چوزے‘‘ کا ورد کرتی رہ گئی۔ زیبی اور مہرو ایک دوسرے میں گھسی بیٹھی تھی۔
کمرے کا بند دروازہ کھٹاک کھٹاک بج رہا تھا۔ جوشیلی ہوا سارے بند توڑ ڈالنے پر آمادہ تھی۔
’’یااللہ …..! اس بچے کو اپنی حفظ و امان میں رکھیو۔‘‘ بجلی بند ہو چکی تھی۔ تاریکی میں اماں کی متفکر آواز نے انہیں بھی پریشان کر دیا۔
دھیرے دھیرے ہوا کا زور کم ہوتا چلا گیا۔ دروازے کی جھریوں سے گیلی مٹی کی خوشبو اندر آئی‘ تب مہرو نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔
بارش برس رہی تھی ‘ دھواں دھار قسم کی ۔ چھت کا پرنالہ زور و شور سے بہہ رہا تھا۔
’’لالٹین میں تیل ڈال لو….کچھ کھانے پینے کابندہ بست کریں۔‘‘ اماں کے کہنے پر زیبی اور مہرو دونوں باورچی خانے میں آ گئیں۔
پورا جگ انڈیلا تھا چولہے میں ۔ اب آگ جلانا دشوار…..باورچی خانہ پورے کا پورا دھوئیں سے بھر گیا۔ زیبی پھونکیں مارتے مارتے مہرو یہ برس پڑتی۔ عینی‘ اماں کو لے کر چوزے اکٹھے کرنے نکلی تو پتا چلا۔ بی مرغی سارے بچوں کو پروں میں چھپائے ڈربے میں ہی بیٹھی ہیں۔
تب ہی دروازے پر زوردار دستک ہوئی تھی۔ جانی پہچانی دستک۔ عینی نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔ بارش سے بچنے کے لیے بستر کی چادر خوب اچھی طرح لپیٹ رکھی تھی۔ معروف حسن کو بری طرح بارش میں بھیگے دیکھا تو کھلکھلا کر ہنس دی۔
پہلے تو دھول مٹی پھر تیز بارش کا نوکیلا پانی اور اب مذاق اڑاتی ہوئی ہنسی کی پھوار۔
معروف حسن نے ٹھیک ٹھاک چپت اس کے سر پہ لگائی۔
’’بھاگ جائو…..میرے کپڑے نکال کر لائو….‘‘
اسے برآمدے میں دھکیلا اور خود نہانے چل دیا۔ واپس نکلا تو باورچی خانے سمیت دونوں کمروں میں کڑوا دھواں چکراتا پھر رہا تھا۔ عینی سے چراغ مانگا ۔ سب کھڑکھیاں دروازے کھولے اور چارپائی پہ بیٹھ گیا۔ کھانا سامنے آیا تو اس میں بھی دھوئیں کا تڑکا۔ باآواز بلند کھانے کی تعریف کی ‘ ذائقے کو سراہا۔ جواباً برتنوں کے پٹخنے کی آوازیں کمرے تک آتی رہیں۔ وہ نوالہ منہ میں رکھے جی بھر کر مسکراتا رہا۔ کھانا جیسا بھی تھا‘ اس میں گھر کا لطف موجود تھا۔
’’اور ہم بھی کس ڈھندار سے گھر میں رہتے ہیں۔ نہ کبھی گھر میں چولہا جلا ….نہ دھوئیں کی خوشبو حلق میں اتری ‘ نہ کبھی سالن کا تڑکا مہکا….‘‘ اس نے ہولے سے سر جھٹکا۔
’’دو بھائی تھے‘ دونوں ہی چھڑے چھانٹ ۔ بازار کے برگر‘ ہوٹلوں کی بریانی ‘ گھر کے کھانوں کا مزہ عرصہ ہوا بھول چکے تھے۔‘‘
عینی ٹرے اٹھا کر لے گئی تھی۔ وہ وہیں پائوں پسار کر لیت گیا۔ سرہانے رکھے میز پہ چراغ روشن تھا۔ نیم تاریک کمرہ …..دروازے سے آئی ٹھنڈی ہوا کے اکا دکا جھونکے ہولے ہولے برستی بارش …..شور مچاتا پرنالہ…..برابر کا کمرہ خالی تھا۔ ساری آوازیں باورچی خانے سے آ رہی تھیں۔
باتوں کی ‘ دبی دبی ہنسی کی ‘ برتنوں کے آپس میں ٹکرانے کی اور کبھی کبھی بے ساختہ بلند ہو جانے والی نسوانی قہقہے کی آواز۔
’’ایک ہنستے بستے گھر کی ساری نشانیاں ‘ عورت کا وجود ہی رونق اور خوشی ہے۔‘‘
اس نے کروٹ بدلی‘ چارپائی ہولے سے چر چرائی تھی۔
’’کہاں دیکھے تھے ایسے رنگ ‘ محبت و شفقت کے‘ دعائوں کے‘ روٹھنے‘ منانے کے۔ نادانیوں کے اور یہ مہرو۔‘‘ اس کا خفا خفا سا چہرہ نیند بھری آنکھوں میں اترا تو ہونٹوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اسی اچھوتے سے خیال میں ڈوبا نجانے کب وہ نیند کی وادیوں میں جا اترا ۔ ٹپ …..ٹپ…..ٹپ
رات کسی پہر بارش کی جلترنگ قریب ہی بجنے لگی تھی۔ اس نے ذرا سا کسمسا کر کروٹ بدلی۔
ٹپ…..ناک کی پھننگ پر کوئی ٹھنڈی سی چیز گرمی پھر پیشانی پر۔ یک لخت ہی دونوں آنکھیں کھل گئیں۔ اگلا قطرہ گرنے تک وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ چھت ٹپک رہی تھی بلکہ جگہ جگہ سے ٹپک رہی تھی۔
وہ چھلانگ لگا کر چارپائی سے اترا ‘ بستر لپیٹ کر ایک کونے میں رکھا۔
چراغ بجھا ہوا تھا۔ کمرے میں گھور تاریکی میںٹھو کریں کھاتا‘ بچتا بچاتا برآمدے میں نکل آیا۔ یہاں آ کر احساس ہوا…..بارش ایک بار پھر زور پکڑ چکی تھی۔
بادلوں کی گرج ‘ بجلی کی چمک ‘ چھوٹے سے آنگن میں پانی چھما چھم برستا جا رہا تھا۔
اس نے آنکھیں مسلیں پھر اندازے سے باورچی خانے کی طرف بڑھا۔
’’پتا نہیں کہاں سے ملے گی ماچس یا کوئی لائٹر وغیرہ۔‘‘ گھر والوں کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہ سمجھا تھا مگر دوسرے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے ٹھٹک کر رک گیا۔ دروازہ چوپٹ کھلا ہوا تھا۔ لالٹین اور چراغ دونوں روشن۔
اہل خانہ آرام و سکون سے بے نیاز۔
کمرے کا سارا سامان بے ترتیب ‘ سنگھار میز کمرے کے وسط میں۔ کرسیاں پلنگ پر اوندھی پڑی تھیں۔ کوئی دھلے کپڑوں کی گٹھری بنا رہا تھا کوئی کتابوں کی الماری خالی کرنے پر مامور ۔ وہ تاسف میں گھرا وہیں کھڑا رہ گیا۔
کس قدر پریشانی میں تھے وہ سب لوگ مکان کے عقب میں کوئی نیا گھر بنا تھا۔ دیوار پوری طرح ملی نہ تھی۔ پانی بیچ کی دراڑیں بھر کر خستہ مکان کی بنیادیں تک ہلائے دے رہا تھا۔ چھت چھلنی تھی ‘ گویا دو طرفہ عذاب وہ شش و پنج میں کھڑا رہا۔
’’اندر جائوں ؟ ایسے وقت میں کیا مدد کر سکتا ہوں کی ؟‘‘ کچھ دیر کو سوچا پھر وہیں سے پلٹ آیا۔
تاریک کمرے میں چارپائی پہ بیٹھا رہا‘ ساتھ کے کمرے میں ٹپکتی چھت کے نیچے کوئی برتن رکھا گیا تھا۔ بے ہنگم سی جلترنگ بڑی واضح تھی۔ جتنی دیر تک ساتھ کے کمرے میں اٹھا پٹخ ہوتی رہی، وہ بھی بے قراری سے کروٹیں بدلتا رہا۔ بڑی دیر بعد بر آمدے میں چارپائیاں بچھانے کی آواز آئی۔
بارش ہلکی ہوتے ہوتے بالآخر رک گئی تھی۔ ایک ہلکا سا سکوت چاروں اور پھیلا تووہ بھی ڈھنگ سے سویا۔
صبح اس کی آنکھ کھلی تو سورج پوری طرح طلوع ہو چکا تھا۔
بجلی آ گئی تھی اور چھت پہ لگا پنکھا متوازن رفتار سے گھوم رہا تھا۔ اس نے کروٹ بدلی تو احساس ہوا کھری چارپائی پر لیٹا ہوا ہے۔ چند لمحے یونہی کسلمندی سے پڑا رہا پھر سر اٹھا کر جالی کے پردے سے باہر جھانکا۔
باہر صبح کی گہما گہمی جاری و ساری تھی۔
صحن کے بیجوں بیچ مہرو ایک ہاتھ میں جھاڑو لیے کھڑی تھی ‘ دوسرا ہاتھ کمر پہ۔
کہاں سے شروع کروںـ ‘ کہاں پہ ختم …..؟ ارے او سنتی ہو۔ نورالعین…..! ذرا لے کر آئو گھر بھر کے چراغ….. ہم بھی مانجھ ‘ رگڑ کر دیکھ لیں۔ کیا خبر کوئی چھوٹا موٹا جن بھوت ہمارے قبضے میں آ جائے۔ چٹکی بجائیں اور ساری دھول مٹی غائب۔‘‘
جواباً نورالعین تو نہ بولی‘ البتہ اماں نے اسے سخت سست کہتے ہوئے چار چھ باتیں ضرور سنا ڈالی تھیں۔
’’سست و ست نہیں ہوں میں‘ نلکے سے بالٹیاں بھر بھر کر صحن دھونے میں کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے۔ اب ایسی نازک کمر….‘‘
معروف حسن کے کمرے میں ذرا سا کھٹکا ہوا تھا۔ لب بھینچ کر فوراً ہی شرافت کا لبادہ اوڑھ لیا۔
وہ تولیہ کندھے پہ ڈالے باہر نکلا۔ چپل گھسیٹتا‘ جمائیاں لیتا۔ خالی بالٹی نلکے کے سامنے رکھی‘ نلکا چلا یا اور پھر کپڑے نکالنے کمرے میں چلا گیا۔
مہرو نے کن اکھیوں سے دیکھا‘ یکا یک ہی شرارت سوجھی۔ پانی سے لبالب بھری بالٹی برآمدے تک لائی۔ چھپاک چھپاک جھاڑو چلا۔ معروف حسن واپس آیا تو بالٹی خالی ۔
کپڑے باتھ روم کی کھونٹی پہ لٹکائے ‘ دوبارہ سے بالٹی بھری ‘ یاد آیا ابھی شیو بنانی ہے۔ سامان اٹھایا ‘ نیچے چھت کے مہمان خانے میں جا گھسا ۔ خوب دل لگا کر شیو بنائی ‘ جھاڑو کا شور بند ہوا پھر نکلا پھر بالٹی بھری۔
دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ جھٹ سے ڈیوڑھی میں جا پہنچا۔ جاتے جاتے پلٹ کر دیکھا۔ وہ بڑے مزے سے تیسری بالٹی بھی اپنے قبضے میں کر رہی تھی۔بے اختیار ہی مسکراہٹ لبوں کو چھو گئی۔ اسی مسکراہٹ کے ساتھ بیرونی دروازہ کھولا تو ذرا سا چونک گیا۔
اپنی ہی جان پہچان کا آدمی تھا۔
اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا‘ عینی سے چائے کا کہہ کر اس کے پاس آ بیٹھا۔ اس نے چھوٹتے ہی خوش خبری سنائی۔
’’مبارک ہو ‘ تبادلے کی درخواست منظور ہو گئی ہے۔ سامان باندھ کر چلنے کی تیاری کرو۔‘‘
’’کیا…..؟‘‘ پل بھر میں اس کا چہرہ اتر گیا۔
’’ہاں ہاں ‘ سچ کہہ رہا ہوں ۔ بڑی بھاگ دوڑ کرنی پڑی لیکن تم جانتے ہو‘ ہم تو یاروں کے یار ہیں۔‘‘ وہ جوش سے بتا رہا تھاپھر جلد ہی جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’چائے…..‘‘
’’نہیں پھر کبھی…..‘‘ وہ عجلت میں نکل گیا۔
معروف حسن کرسی پرڈھے سا گیا۔ اب کس کا دل چاہتا تھایہاں سے جانے کو۔ اس نے اپنی انگلیوں سے پیشانی مسلی۔
بارش کی سیلی سی نمی کمرے کے فرش پہ چکراتی پھر رہی تھی۔ نیم تاریک کمرہ‘ ٹھنڈی دیواریں ‘ کھڑکیوں پہ لٹکتے جالی دار پردے ‘ پلنگ پہ بچھی مٹے مٹے پھولوں والی صاف ستھری چادریں ‘ طاق میں دھرے چراغ‘ گلدانوں میں سجے کاغذی پھول‘ دیوار پہ سجی مسجدنبویﷺ کی تصویر ‘ دھندلا سا آئینہ ۔ اس نے ایک ایک چیز کو نظر بھر کر دیکھا۔
جی چاہا تھا ساری عمر کے لیے یہیں رہ جائے۔
دروازے پر عینی چائے کے لیے دستک دے رہی تھی۔ وہ اٹھ کر باہر نکل آیا۔ چھوٹی سی ٹرے میں دو کپ چائے اور بسکٹ۔
’’مہمان تو چلا گیاہے۔‘‘
’’ہائیں…..اتنی دیر تو نہ ہوئی تھی چائے بنانے میں۔‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’نہیں ‘ اسے جلدی تھی۔‘‘ معروف حسن کی سنجیدگی پہ عینی کندھے اچکاتی واپس پلٹ گئی۔
صحن میں آیا تو مہرو مزے سے صحن اور برآمدہ چمکائے انگوروں کی بیل درست کر رہی تھی۔
’’کیوں ہر وقت ‘ ہر چیز کو باندھنے کے چکر میں رہتی ہو۔‘‘ وہ اس کے سر پہ جا کر درشتی سے بولا تو دیوار کے ساتھ بیل کو باندھتے ہوئے اس نے ناراضی سے معروف کو دیکھا۔
’’کیا مطلب….؟‘‘
’’ہونہہ….معصومیت…..ایک یہ ہی تو باندھ رہی ہے مجھے اس گھر کے در و دیوار سے۔‘‘ وہ خوا مخواہ ہی چڑ گیا۔
’’اتنی بالٹیاں تمہارے لیے نہیں بھری تھیں۔ جلدی سے پانی بھر کے غسل خانے میں رکھو‘ مجھے دیر ہو رہی ہے۔‘‘ کس انداز سے حکم چلا رہا تھا۔
کوئی اور وقت ہوتا تو مہرو بھی ٹکا سا جواب دے دیتی مگر اس وقت یوں بول رہا تھا کہ اسے انکار میں خطرہ محسوس ہوا۔ منہ بنایا لیکن نلکا چلانے کے ساتھ ساتھ۔ اس نے عینی کے ہاتھ سے ٹرے لی اور چائے کے دونوں کپ پی لیے۔
اماں چھت کی مرمت کر رہی تھیں۔ یہاں ہوتیں تو ضرور ہی کچھ نہ کچھ اگلوا لیتیں۔
چائے پیتے ہی وہ اٹھا اور بغیر نہائے باہر نکل گیا۔
مہرو اور عینی نے ایک دوسرے کوسوالیہ نگاہوں سے دیکھا پھر کندھے اچکا کر اپنے اپنے کاموں میں لگ گئیں ۔
شام میں واپس آیا تو بھی موڈ خراب….. کھانا محض چکھ کر واپس کر دیا۔چائے سے انکار، کپڑے بغیر استری کیے ہی پہن لیے۔
لڑکیاں حیران، اماں پریشان۔جاپانی گڑیا پریشانی کا سبب جاننے کو معروف حسن کے چاروں اور چکراتی پھری۔
زیب النساء نے اس کے پسندیدہ گانوں پر ریڈیو کی آواز بڑھا کر دیکھ لی۔ مہرو کے ہاتھ سے برتن گر گر کر شور مچاتے رہے مگر کمرے کی تاریکی میں کوئی ہلچل نہ مچی۔
تب اماں اس کے پاس گئیں، بالوں میں انگلیاں چلائیں، ماتھا چھو کر دیکھا۔ یوں کمرے میں گھس جانے کی وجہ پوچھی۔
’’طبیعت ٹھیک نہیں۔‘‘ مختصر جواب۔
اماں کو یقین تو نہ آیا۔ بس اس پہ اعتبار کر کے باہر آگئیں۔ گرما گرما چائے تیار کی۔ نمکین بسکٹ کے ساتھ ڈسپرین کی گولی لے کر اس کو کھلانے آپہنچیں۔
وہ بجھا بجھا سا اٹھ بیٹھا۔
آنکھوں میں سرخی لیے اماں کا دل رکھنے کو چند بسکٹ نگلے اورگولی کھا کر پھر سے چارپائی پہ گر گیا۔ شام میں ذرا ٹھنڈک ہوئی تو اٹھ کر گھر سے باہر۔
رات گئے واپسی ہوئی۔
اس کی اور اماں کی چارپائی صحن میں ہوتی تھی اور لڑکیاں کمرے میں۔
آج مہرو کو جانے کیوں حبس زدہ کمرے میں نیند ہی نہ آرہی تھی۔ معروف حسن نے آ کر چارپائی سنبھالی تو آ کر اماں سے شکایت کرنے لگی۔
’’اتنی گھٹن ہے کمرے میں ،اتنا حبس۔۔۔۔۔ ہم کیسے سوئیں؟‘‘ اماں کے جواب دینے سے قبل ہی معروف حسن ایک جھٹکے سے اٹھا۔ تکیہ، چادر اٹھائی اور دھپ دھپ کرتا سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔
’’ہائیں۔۔۔۔۔ اسے کیا ہوا؟‘‘ اماں ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھیں۔
’’خدا معلوم۔ صبح سے کیا کھائے بیٹھے ہیں؟‘‘ مہرو چڑ گئی۔
چھت پر نہ پنکھا، نہ چارپائی، چاردیواری تک تو تھی نہیں۔
اماںہانپتی کانپتی سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر پہنچیں۔
چٹکی چاندنی میں تکیہ منڈیر پہ رکھے۔۔۔۔۔گھٹنوں میں منہ دیے بیٹھا تھا۔
’’یا اﷲ خیر ! معاملہ کیا ہے۔۔۔۔۔؟ اتنی بے چینی ناراضی آخر کس لیے؟‘‘وہ سچ مچ ہول گئیں۔
ایک جھٹکے سے اس نے سر اٹھایا۔
’’دیکھ معروف حسن۔۔۔۔۔! آرام سے بتا دے مجھے، کیا پریشانی ہے؟ ورنہ میں پیٹ ڈالوں گی تجھے۔۔۔۔۔ سمجھے‘‘
کس مان بھرے لہجے میں ڈانٹا تھا انہوں نے۔
معروف حسن چند لمحے انہیں دیکھتا رہا۔ پھر بے اختیار ہی سسک اٹھا۔
’’مجھے اپنا بیٹا مان لیں اماں! میں یہاں سے نہیں جانا چاہتا۔‘‘ ان کے دونوں ہاتھ بری طرح جکڑ رکھے تھے ،لہجے میں التجا۔
’’ماں صدقے جائے۔ کون بھیج رہا ہے تجھے، جب تک نوکری ہے جب تک تو یہاں رہنا چاہتا ہے رہ۔۔۔۔۔تجھے کون روکتا ہے۔۔۔۔۔؟ اماں کا دل پسیج گیا۔ آواز بھر آگئی۔
کتنی ہی دیر تک وہ اسے اپنے ممتا بھری محبت اور خلوص کا یقین دلاتی رہیں۔ وہ آنسو پونچھے شرمندہ شرمندہ سا بیٹھا رہا۔۔۔۔۔ کیسی بات کہہ دی تھی۔
’’مجھے اپنا بیٹا بنا لیں۔‘‘ معلوم نہیںاماں سمجھ نہیں پائی تھیںیا سمجھ کر انجان بن گئیں۔سارا وقت معروف حسن کی مرحومہ ماں کی اپنے ساتھ دوستی اور مروت کے قصے سناتی رہیں۔۔۔۔۔ اس نے بھی اسی پہ اکتفا کیا۔ کافی وقت بیت گیا تب اماں اسے سمجھا بجھا کر نیچے لے آئیں۔
مہرو بڑے مزے سے معروف حسن کی چارپائی پہ استراحت فرما رہی تھی اماں نے فوراََ آگے بڑھ کر اس کے بازو پہ چٹکی بھری تو ہڑ بھڑا کر اٹھ بیٹھی۔
’’کیا ہوا۔۔۔۔۔؟‘‘ ہرنی جیسی آنکھیں پٹپٹائیں۔
’’ہونہہ۔۔۔۔۔ جادو گرنی۔۔۔۔۔‘‘معروف نے منہ پھیر لیا۔
اماں نے مہرو کو اپنے بستر پہ دھکیلا پھر اس کے بستر کی ساری شکنیں درست کیں۔۔۔۔۔ وہ پہلو کے بل لیٹ گیا۔
پھر۔
نجانے کتنا وقت بیت گیا۔ رات بھیگ گئی۔۔۔۔۔ ہوا میں مستی سی آگئی۔۔۔۔۔ آنگن میں بکھری چاندنی دھیرے دھیرے سانس لینے لگی۔
تب ساتھ کی چارپائی پہ کسی نے کروٹ بدلی۔۔۔۔۔
چوڑیاں ہولے سے کھنکیں۔۔۔۔۔ چارپائی چرچرائی۔۔۔۔۔بہت دیر سے جاگتے ہوئے معروف حسن نے گردن گھما کر دیکھا۔
وہ اماں کے دوسری جانب لیٹی تھی۔ نیند میں گم صرف اماں کے گرد حمائل بازو دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔۔ دودھیا کلائی میں بھری چوڑیاں۔
’’جانے کس رنگ کی ہیں۔۔۔۔۔؟‘‘ اس نے سوچا پھر کروٹ بدل لی۔
نیند تو اب بھی نہ آئی تھی۔
بستر سے اٹھتی کوئی لطیف سی خوشبو۔ لطیف حسن کو لگا وہ ساری رات اسے جگائے رکھے گی۔
صبح معمول کے مطابق ہوئی تھی۔ بس آج معروف حسن کو جگانے کے لیے اماں کو کوئی تردّد نہ کرنا پڑا تھا۔ وہ خود ہی سیر سے آکر نہا دھو کر۔۔۔۔۔ اپنے معمول کے وقت سے پہلے تیار ہو چکا تھا۔
شروع شروع میں ہر روز پراٹھے کے ساتھ آملیٹ موجود ہوتا تھا۔ براؤن براؤن سا۔۔۔۔۔ خستہ کرارا ہری مرچوں کا ذائقہ لا جواب ہوتا تھا۔
ایک دن یونہی زیبی کو کہتے سن لیا۔
’’عینی کی بچی! پورے پانچ روپے کا انڈا۔۔۔۔۔ اور تم مزے سے تل کر کھا گئیں۔ اماں نے گن کر رکھے تھے۔‘‘ تین روز تک معروف حسن کے ناشتے میں مکمل بے فکری۔
اسے دکھ ہوا تھا۔
’’خوامخواہ میرے لیے اتنا تردّد اتنی فکر مندی۔‘‘
کوئی کمانے والا تو گھر میں تھا نہیں، سلائی، کڑھائی سے ضروریات پوری ہوتی تھیں۔
اگلی صبح ناشتے میں آملیٹ کی پلیٹ پرے کھسکا کر پراٹھے پر اچار رکھا اور مزے سے کھا گیا۔
’’روز آملیٹ کھا کھا کر گرمی ہو گئی ہے۔‘‘ بہانا اچھا تھا، سو بعد میں اچار، پراٹھا اور چائے کبھی رات کی ترکاری۔
’’اور آج۔۔۔۔۔؟‘‘ اس نے ناشتے کی ٹرے سامنے کھسکائی۔
خوشبو دار آملیٹ کے ساتھ دو پراٹھے ہضم کیے چائے کا بڑا سا پیالہ۔
اماں اسے ناشتے میں مگن دیکھ کر باہر جا چکی تھیں۔
کافی دیر بعد وہ باہر نکلا۔۔۔۔۔ سازو سامان سے بھرا بیگ ہاتھ میں۔
اماں عینی کے ساتھ مرغیوں کو لہسن کھلا رہی تھیں۔
زیبی کڑھائی میں جتی ہوئی ، مہرو ریڈیو کھولے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔ پیچ کس ہاتھ میں، کتنے دنوں سے اس کی آواز بند تھی سمجھو کاروبار دنیا ہی معطل ہو کر رہ گیا تھا۔
صحن کے بیچ میں آکر وہ کھنکھارا۔
یونہی سرسری سی نگاہیں اٹھیں۔۔۔۔۔ پھر جیسے اس پر ٹھہر سی گئیں۔
’’یہ کیا۔۔۔۔۔؟‘‘ اماں کا اشارہ ہاتھ میں پکڑے بیگ کی طرف تھا۔
’’تبادلہ ہو گیا ہے، واپس جا رہا ہوں۔‘‘ بیگ ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا۔
اماں ایک پل کے لیے خاموش ہو رہیں۔ پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر اس تک آئیں۔
’’اﷲ سکون آشنا رکھے۔۔۔۔۔ جہاں بھی رہو خوش رہو۔ تنگی،ترشی میں بری بھلی کاٹی ہے تم نے۔۔۔۔۔ دل میں گلہ شکوہ مت رکھنا۔ ہم سے جہاں تک بن پایا۔۔۔۔۔؟
’’اماں ! شرمندہ مت کریں۔ بس آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔‘‘ اس نے بے قرار ہو کر ٹوک دیا تھا۔
اماں کی آنکھیں بھر آئیں۔ جانے کیا کشش تھی اس بچے میں کہ دل کھنچتا تھا اس کی جانب۔ اس گھر میں پیدا نہ ہوا تھا مگر اسی چاردیواری کا باسی لگتا تھا آگے بڑھ کر پیار بھری تھپکی دی ۔۔۔۔۔دعاؤں سے نوازا۔
جاپانی گڑیا کی ناک خوامخواہ سرخ ہوئی جا رہی تھی۔۔۔۔۔ زیبی دھاگے میں آئی گرہ کو پریشانی سے تک رہی تھی۔۔۔۔۔ ریڈیو کے ننھے منے پیچ بکھر گئے تھے۔۔۔۔۔ مہرو سب کی طرف سے رخ موڑ ے انھیں کھوج رہی تھی۔
معروف حسن نے ایک الوداعی نظر سب پر ڈالی اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا ڈیوڑھی پار کر گیا۔
چاروں نفوس خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھے تھے۔ لیکن گھر مختلف آوازوں سے گونجتا رہا۔
’’ارے جاپانی گڑیا….رات بھر میں تمہاری ناک مزید جاپانی کیسے ہو گئی؟‘‘
’’ارے اماں!ا چار کا جھنجھٹ کیوں….؟ آموں کا مربہ بنائیے….گٹھلیاں میں نکال دیتا ہوں۔‘‘
’’کچھ لوگ کتنے نخریلے ‘ نک چڑھے اور بد مزاج ہوتے ہیں۔‘‘
’’اس گھر کی چائے لاجواب ‘ لطف انگیز۔‘‘
زندگی سے بھرپور لہجہ ‘ خوش آواز اپنائیت کی چاشنی۔
اماں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور اٹھ کر سبزی لینے چل دیں۔ عینی افسردہ بیٹھی تھی۔
مہرو نے ریڈیو بند کرنے کے بعد چلانے کی کوشش کی…..بٹن گھمائے دوچار دھپ لگائے لیکن ہلکی سی کھڑ ڑ کھڑڑ کی آوازوں کے بعد خاموشی چھا گئی…..اس نے بے دلی سے ریڈیو وہیں برآمدے کے تخت پہ چھوڑا اور باورچی خانے میں آ کر لکڑیاں سلگانے لگی۔
معروف حسن کو گئے دو سے تین دن بھی نہ ہوئے تھے کہ ایک اجنبی خاتون آن وارد ہوئیں۔
’’جان نہ پہچان….میں تیرا مہمان۔‘‘ وہ ڈیوڑھی پار کر کے صحن میں داخل ہوئیں۔ زیبی اور مہرو پڑوس میں گئی ہوئی تھیں۔
عینی اس ناآشنا چہرے کو دیکھ کر گھبرا گئی جو بڑی بے تکلفی سے آنگن میں کھڑی چہار جانب دیکھ رہی تھیں۔ بھاگم بھاگ کمرے میں گئی۔ سوئی جاگی اماں کو اٹھا کر مہمان کے رو برو لا کھڑا کیا۔
’’پہچانا نہیں بہن…..!‘‘ اماں نے بغور جائزہ لیا۔
’’معروف حسن نے بھیجا ہے….دیوار سے دیوار ملی ہے ہمارے گھر کی۔‘‘ تعارف مختصر لیکن بڑا اہم۔اماں انہیں کمرے میں لے گئیں۔
’’خیریت تو ہے ناں؟ معروف حسن کو گئے چند روز ہی تو بیتے ہیں۔‘‘
’’ہاں ہاں…..خیریت ہی خیریت ….‘‘ خاتون نے مسکراتے ہوئے کہا پھر کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف ہو گئیں۔
چارپائی پہ ہلکے سبز رنگ کی جھالروں والی چادر بچھی ہوئی تھی۔ تکیے پہ پر پھیلائے ناچتے مور کی تصویر کڑھی ہوئی تھی…..میز پوش پہ رنگ برنگے دھاگوں میں پھدکتی چڑیاں ‘ دائیں جانب دیوار کے ساتھ چھ کرسیاں ۔ ان کے اوپر مصنوعی پھولوں کی بیل دیوار پر دور تک جا رہی تھی۔
داخلی دروازے کے ساتھ دو موڑھے پڑے تھے ان کے ساتھ چھوٹی سی میز پر سرخ تہبند ‘ سبز کرتے میں ‘ مٹکا پکڑے مٹی کی مٹیار…..کمرے میں لگا وال کلاک اپنی سوئیوں کی گھسی ہوئی بوسیدہ ٹک ٹک سے کمرے کی خاموشی میں لمحہ بہ لمحہ ارتعاش پیدا کر رہا تھا…..چھت پہ گھومتے مٹیالے سے پنکھے کی ہلکی ہلکی سرسراہٹیں۔
بہت پُر سکون کمرہ تھا۔
خاتون ٹانگیں سیدھی کر کے تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔
اماں اس دوران اٹھ کر کمرے سے باہر جا چکی تھیں۔ کچھ دیر بعد چائے کے ساتھ آمد ہوئی۔
بازار کی دہی پکوڑیاں….گھر میں بنی آلو کی ٹکیاں …..میٹھے بسکٹ اور ابلے ہوئے دیسی انڈے ‘ بھاپ اڑاتی الائچی میں پکی خوشبودار چائے۔
سفر کی تھکاوٹ پل بھر میں دور ہوتی محسوس ہوئی۔
’’ماشاء اللہ ‘ ماشاء اللہ آج کے دور میں مہمان نوازی…..سمجھو میرے اور تمہارے جیسے سفید پوش طبقے میں ہی باقی رہ گئی ہے۔ ہماری ایک خالہ زاد لاکھوں کی کوٹھی میں رہتی ہیں…..نوکر ‘ چاکر روپیہ پیسہ کسی چیز کی کمی نہیں پھر بھی ہمیشہ خالی بوتل پر ٹکا دیا۔ میں تو کہوں کھانے کا لالچ کسے ہوتا ہے۔ اپنے گھر میں سب ہی کھاتے پیتے ہیں یہ تو بس اپنے اپنے دل….‘‘ وہ اِدھر اُدھر کی باتوں میں الجھیں۔
اماں کے دل میں کُھد بُد ہوتی رہی۔ ان کی آمد کا مقصد ابھی تک سمجھ سے باہر تھا۔
اس وقت زیبی اور مہرو بھی آ گئیں….سلام دعا ہوئی۔
خاتون عینک کے پیچھے سے جھانکتی رہیں۔
’’اے بہن….! منجھلی کون سی ہے…..؟‘‘ بڑے اشتیاق سے پوچھا۔
’’خیر سے دونوں ہی بہت پیاری ماشاء اللہ مغل شہزادیوں سی…..‘‘ ان کے تو گویا منہ میں پانی بھر ا جا رہا تھا۔
اماں کے اشارے پر مہرو کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا…..تھوڑی بہت گفتگو ہوئی۔مہرو حیران…. اماں جز بز۔
’’بڑی کو چھوڑ کر چھوٹی کو بٹھا لیا اپنے پاس۔‘‘ وہ تلملاتی رہیں….اب کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا تھا۔ چوری چھپے مہرو کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔ پھر اپنے کپ میں پڑی باقی ماندہ چائے حلق میں انڈیلنے لگیں۔ مہرو اٹھ گئی۔ تب خاتون نے مدعا پیش کیا۔
’’ بڑا بھائی شہر سے باہر…..ماں باپ کا سایہ سر پہ نہیں اس بچے نے بڑی ذمہ داری سونپی مجھے ۔ میں اس کی شکر گزار اب آپ کے سامنے بیٹھی ہوں دامن پھیلائے ہماری عرض قبول کیجئے بن ماں باپ کا بچہ اس کا گھر بس جائے گا۔ ‘‘ ان کے لہجے کی لجاجت ‘ نرمی ‘ عاجزی۔
اماں کا دل بھر آیا۔ ہیرے موتی سے بڑھیا چیزیں گھر میں سنبھال رکھی تھیں ‘ گدڑی میں لعل۔
’’دیکھا بھالا لڑکا ہے….بچپن سے آج تک کبھی کوئی غلط بات ان دونوں بھائیوں میں نہ دیکھی ہم نے پان سگریٹ تک کو تو کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اماں کو چپ دیکھ کر انہوں نے بات آگے بڑھائی۔
’’وہ تو ٹھیک ہے….خیرسے میری زیبی بھی۔‘‘
’’نہ بہن! مہرو کی بات کرتی ہوں…..‘‘ انہوں نے ایک دم اماں کو ٹوک دیا تھا۔
’’لیکن زیبی ‘ مہرو سے بڑی ہے۔‘‘ اماں کی پریشانی نا حق نہ تھی۔
’’معروف حسن کی یہ ہی خواہش ہے….مہرو کا نام لیا تھا اس نے…..سچ پوچھو تو اتنا بے چین و بے قرار میں نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ آسمان پہ بنا ہے ان کا جوڑا ‘ جو ا یسی ہڑک اس کے دل میں جاگی…. ورنہ زیبی کسی طور مہرو سے کم تو نہیں اللہ کا نام لے کر رشتہ جوڑ دو….زیبی کے لیے میں خود کوشش …..‘‘
اماں کی آنکھیں بھر آئیں…..دل بے چین ہو گیا وہاں سے اٹھیں….سیدھی غسل خانے میں….رو ‘ رو کر آنکھیں لال انگارہ کر لیں….
’’زیبی کیا کہے گی…..؟ کیا سوچے گی….؟ اپنے ہاتھوں چھوٹی بہن کی رخصتی…..دل کو کیا کیا نہ ٹھیس پہنچے گی…..ارمان ‘ خواہش‘ خواب۔‘‘ ہچکیاں لیتی رہیں۔
عینی نے دوبارہ آ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔
’’اماں! نکلیے بھی…..مہمان کے لیے کھانا۔‘‘ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا لمبی سانس بھری اور غسل خانے سے باہر نکل آئیں….آدھے صحن میں دھوپ بھری تھی…..آدھے میں چھائوں….گندم دھو کر دھوپ میں ڈالی تھی…..اب پوری طرح سوکھ چکی تھی۔
’’عینی سے کہتی ہوں ‘ بوری میں بھر دے پسوانے بھیج دوں۔‘‘
انہوں نے دوپٹے میں بندھی گرہ کھول کر پیسے گنے۔
منڈیر پہ بیٹھا کوا کائیں کائیں کیے جا رہا تھا۔
باورچی خانے میں برتنوں کی کھٹ پٹ…..زیبی کی باتیں ‘ مہرو کی کھلکھلاہٹیں ‘ عینی کے مشورے ۔
’’خود ہی کوئی انتظام کر بیٹھی ہیں شاید۔‘‘
وہ تھکے تھکے قدموں سے ڈیوڑھی تک آئیں…..دروازے سے باہر جھانکا۔ گلی کے لڑکوں کا ٹولہ سامنے سے گزر رہا تھا۔ ایک بھلے لڑکے کو پکار کر پیسے اسے تھمائے۔
’’ایک کلو مٹھائی۔‘‘
’’خیریت خالہ جان…..!‘‘ خوشدلی سے استفسار کیا گیا۔
’’ہاں…..!‘‘ آنکھیں ایک بار پھر چھلکنے کو بے تاب ’’تمہاری آپا مہرو کی بات طے ہو گئی ہے۔‘‘
ٹھن….ن…..نزدیک ہی کہیں زور دار آواز کے ساتھ تھالی فرش پہ گری اور گول گول گھومتی ہی رہی پھر یک لخت ہی کسی نے اس منحوس آواز کا گلا دبا دیا جو تیسرے دن کی دلہن کو مدبھری نیند سے بیدار کرنے جا رہی تھی بلکہ بیدار کر کے جا رہی تھی۔ ایک جھٹکے سے اس کی آنکھ کھلی دل زور ‘ زور سے دھڑکا ‘ پورے بدن میں ایک لمحے کے لیے کپکپی سی دوڑی…..اگلے ہی پل اس نے منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے اس بھیانک‘ کریہہ آواز پر ہزار لعنت بھیجی ‘ اور پھر سے کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔
چند لمحے بیت گئے…..باہر سے کھٹر پٹر کی آوازیں آئیں۔
آنکھیں ایک بار پھر جھٹکے سے کھلیں…..پلکیں پٹپٹائیں….دوسرے لمحے بستر سے نیچے اتری چپل اڑسی….دوپٹا گھسیٹا اور باہر کو لپکی۔
دن خوب نکھر چکا تھا۔
اماں کی نصیحتیں ‘ ڈراوے ‘ سکھائی پڑھائی پٹیاں سب یاد آ گئیں۔
باورچی خانے سے آوازیں آ رہی تھیں۔ ڈرتے ڈرتے ادھر جھانکا۔
تیسرے دن کے دولہا میں محض ٹرائوزر ‘ بنیان پہنے ‘ دلہن کو اپنے ہاتھ سے بنا ناشتہ کرانے کے شوق میں آٹے سے لتھڑے ہاتھ لیے اب قدرے شرمندہ شرمندہ کھڑے تھے۔
’’وہ…..میں۔‘‘ ہکلا کر آئیں بائیں شائیں ہونے لگی۔
وہ انگلیاں مروڑنے لگی…..شرمندگی کے اظہار کا کوئی طریقہ سمجھ میں نہ آیا۔
’’نہیں…..ہر روز تو ایسا نہیں ہوتا …وہ تو بس آج ہی…..‘‘ دوسری جانب سے وضاحتی سلسلہ جاری تھا۔ چائے ابل کر چولہے پر آ رہی تھی…..ٹوٹا ہوا انڈا فرش پہ…..پرات سے باہر سوکھے‘ گیلے آٹے کی بہار …..چینی ‘ پتی کے ڈبے کھلے ہوئے۔
او…..او کر کے چولہا بند کرتے ہوئے ذرا سی چائے ہاتھ پر بھی گرا لی۔
’’اوف۔‘‘ وہ ہاتھ دبا کر دہرا ہو گیا اور بس اس کے صبر کا پیمانہ چھلک گیا۔
سونے کا کنگن چولہے چوکی میں میلا پڑ جاتا …..اتار کرمیاںکے ہاتھ میں دیا…..زوتار دوپٹہ اتار کر اس کے کندھے پہ رکھا……چوٹی کو بل دے کر جُوڑے کی شکل دی …..ہاتھ منہ دھویا قمیص کے بازوچڑھائے اور شروع ہو گئی۔
بڑے بھیانے باورچی خانے میں جھانکا۔
میاں صاحب سرخ آنچل اوڑھے کھڑے ہیں۔ بیگم صاحبہ کے نازک ‘ مہندی لگے ہاتھ فٹا فٹ پراٹھوں کے بل ڈال رہے ہیں۔ دوسرے چولہے پر آملیٹ بن رہا تھا۔
وہ کچھ سمجھتے ‘ کچھ نہ سمجھتے آملیٹ کی ذائقے دار خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے نہانے چل دیے۔
’’روزانہ ناشتہ کہاں سے آتا تھا؟‘‘ ناشتہ کرتے ہوئے وہ معروف حسن سے پوچھ رہی تھی۔
’’پپو کے ہوٹل سے چائے اور پاپے یا پھر ڈبل روٹی یا کبھی کبھار انڈہ کسی نہ کسی شکل میں بھیا کے ہاتھ سے بنا ۔‘‘
’’ہائیں اور وہ جو گزشتہ دو دنوں سے ناشتے میں کباب ‘ پراٹھے ‘ مکھن کھا رہے ہیں اور دوپہر میں پلائو گوشت وہ سب؟‘‘
’’اچھا…..وہ ؟‘‘ اس کی حیرت پر وہ ہنسا۔’’ پڑوس والی خالہ بی کو شادی کے جوڑے بنانے کے لیے جو رقم دی تھی اس میں سے کچھ روپے بچ رہے…..کہنے لگیں…..دو چار دن کے کھانے کے کام آئے گی۔
دلہن کوآتے ہی گھر کے کاموں میں لگا دو گے کیا…..؟ مجھے کہاں منظور تھا۔ فوراً مان گیا اورپھر میں تو تمہیں بہت سست اور کاہل سمجھتا تھا۔ اماں بی سارا دن چیخا کرتی تھیں۔‘‘ وہ گزشتہ کسی بات کو سوچ کر ہنسا تھا۔ مہرو برا مان گئی۔
’’اماں کی تو عادت تھی۔ حالانکہ گھر داری ہمیں گھول کر پلا چکی تھیں…..اتنی سی عمر میں گھر سنبھالنا شروع کر دیا تھا…..ہاں کچھ کاموں سے چڑتی تھی…..اماں وہی کرانے کے درپے ہو جاتی تھیں…..میں نے بھی وہ کام کر کے نہ دیے…..نہ ہی آئندہ کروانے کی امید رکھی جائے۔‘‘ عجب ڈھٹائی تھی قبل از وقت تنبیہ کی جا رہی تھی ۔ معروف حسن سر جھکائے مسکراتا رہا۔
شادی کی چھٹیاںختم ہوئیں۔ معروف حسن نیا نویلا جوڑا پہن کر مبارکبادیں وصول کرنے دفتر جا پہنچا تو مہرو نے بھی گھر کی صفائی ستھرائی کا قصد کیا ‘ چھوٹا سا گھر تھا۔
چار کمرے ‘ ایک باورچی خانہ ‘ ایک غسل خانہ۔ تازہ تازہ قلعی کیا ہوا گھر دن کی روشنی میں خوب چمکتا تھا تو رات کو ہلکی سی چاندنی اس کا اجلا پن برقرار رکھتی تھی۔
دو کمروں میں اس کے جہیز کا سامان سیٹ تھا۔ ایک بیڈ روم ‘ دوسرا ڈرائنگ روم ‘ تیسرے کمرے میں کاٹھ کباڑ جمع تھا۔ چوتھے پہ یہ بڑا سا تالا جھولتا تھا۔
معروف حسن خوب سمجھا بجھا کر گیا تھا۔
’’خبر دار اس کمرے کو ہاتھ بھی مت لگانا…..بڑے بھیا جلالی آدمی ہیں ایسی غلطی پر زمین و آسمان ایک کر کے تمہارے ساتھ ساتھ مجھے بھی اس گھر سے نکال دیں گے۔ اس کمرے کو اپنی سلطنت کی حدود سے باہر ہی سمجھو۔‘‘
اب معلوم نہیں اس میں کتنا سچ تھا اور کتنا جھوٹ …..لیکن مہرو نے واقعی اس کمرے کو چھوڑ کر باقی سارا گھر شیشے کی طرح چمکا ڈالا تھا۔ جہیز کے بکسوں میں سے گلدان نکال کر میزوں پر سجائے نقلی پھولوں کی بیلیں سفید دیواروں پر بہار دکھانے لگیں ۔ دروازوں پر جاتی دار پر دے لہرا گئے۔
’’آہ…..اپنے گھر کا سکون ‘ آزادی ‘ خود مختاری ۔‘‘ کام کرنے کا مزہ ہی الگ تھا۔
نہا دھو کر فارغ ہوئی۔ گیلے بال تولیے سے جھٹک جھٹک کر سکھائے….دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا اور باورچی خانے میں گھس گئی۔ پیٹ پوجا کا انتظام بھی کرنا ہی تھا۔ اپنی ہی ترنگ میں جا کر بند الماری کے پٹ کھولے۔
’’ہائیں!‘‘ اگلے پل دھک سے رہ گئی۔
نہ دال نہ اناج…..چند ایک خالی ڈبے….کچھ برتن ….اور….اور….
’’نہیں….‘‘ بھوک کی شدّت اس صورت حال میں کچھ اور بڑھ گئی ۔
اِدھر اُدھر تانک جھانک کی…..نہ اچار ‘ چٹنی…..دودھ ‘ دہی ‘ چینی اور پتی البتہ موجود تھی۔
آٹے کا کنستر خالی…..گھی کا ڈبہ ندارو….صبح پراٹھے خدا جانے کس مانگے تانگے آٹے سے بنے تھے۔
چپ چاپ ‘ ٹھس ہو کر کمرے میں آ بیٹھی۔ ایک گھنٹہ گزرا…..دو گھنٹے ‘ اڑھائی پھر بے چین ہو کر اٹھ بیٹھی اسٹول پہ چڑھ کر دیوار پار جھانکا آنگن میں خاموشی تھی۔
’’کسی کو پکاروں ‘ بلائوں…..؟‘‘ دل میں سوچا مگر شرم کر کٹ کر رہ گئی۔
’’اف ‘ کیا سوچیں گے لوگ…..نئی نویلی دلہن …..اور دیوار پہ ٹنگی روٹی ‘ پانی مانگ رہی ہے۔‘‘
بے بسی سے ہاتھ ملتی واپس ہوئی…..پلنگ پہ گر کرسونے کی کوشش کرنے لگی۔ مگر نیند بھی کہاں آئی…..کبھی باہر کوئی کھٹکا سنائی دیتا کبھی معروف حسن کی گنگناہٹیں…..کبھی ذرا جھپکی آئی بھی تو اماں گرج اٹھیں۔
’’اف معروف حسن! ایسا کیا گناہ تھا میرا…..جو یوں بھوکوں مار رہے ہو۔‘‘ کروٹ بدلتی رہی۔
’’یا اللہ! میری بھی کوئی ساس ہوتی….نندیں ‘ دیور ‘ جیٹھ بھرا پر ا گھر ہوتا تو یوں فاقے کی سی نوبت تو نہ ہوتی …..کونوں کھدروں سے بھی کچھ نہ کچھ کھانے کو مل ہی جاتا۔‘‘ آنسوئوں سے لبا لب بھری آنکھوں میں تاریکی سی اترنے لگی تھی۔
’’یا اللہ! ابھی مرنے کی عمر تو نہیں۔ معروف حسن تمہیں خدا سمجھے۔‘‘
سورج غروب ہونے لگا تھا۔ اسے اپنی زندگی کا آفتاب بھی واپسی کا سفر طے کرتا ہوا محسوس ہو ا تھا۔
سیٹی پہ کوئی شوخ دھن بجاتا ‘ جگمگاتی آنکھیں لئے وہ گھر میں داخل ہوا۔ آج دفتر سے گھر تک کا فاصلہ میلوں پھیل گیا تھا۔ حالانکہ اسے کتنی جلدی تھی گھر جانے کی۔ وہ چھوئی موئی سی نازک لڑکی ‘ بیر بہوٹی بنی اس کا انتظار کر رہی ہو گی۔
کیا خوب رونق ہو گی گھر میں۔
بے آباد گلشن میں بہار…..لالہ صحرائی ‘ رنگینی چمن ‘ عجیب تشبیہات سوجھ رہی تھیں….مگر گھر میں قدم رکھا تو صورت حال ہی کچھ اور تھی۔
کہاں تو وہ تصور میں روشنیوں سے جھلملاتے گھر میں اسے اِدھر سے اُدھر تتلی بن کر اڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور کہاں برآمدے میں مریل سی زرد روشنی کو کونے کھدروں میں پہنچانے کی کوشش کرتا ساٹھ پاور کا بلب۔
صحن میں اندھیرا…..تو کمروں میں گھپ اندھیرا۔ اور پھر سنسان سی تنہائی۔
نہ حسبِ توقع بیر بہوٹی سے ملاقات ہوئی نہ کوئی تتلی بن کر آس پاس منڈلایا۔
’’یا اللہ! کیا افتاد آن پڑی۔‘‘ اس کا دل ہول گیا۔ بھاگ کر کمرے کی بتی جلائی۔
خالی کمرہ ۔ کوئی وہم پھنکارا ‘ کسی خوف نے ڈسا۔ ’’مہرو۔‘‘ وہ بے قرار ہو کر پکارا۔
جواباً ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز سنائی دی۔
’’مہرو ‘ مہرو۔‘‘ بے تابانہ انداز میں واپس پلٹا…..تپائی سے گھٹنا ٹکرایا …..پیر کے انگوٹھے نے دروازے کے کھلے پٹ سے ٹھوکر کھائی تب کہیں باورچی خانے میں پہنچا۔ دیوار سے ٹیک لگائے‘ فرش پہ بیٹھی وہ مسلسل سسکیاں بھر رہی تھی۔
’’مہرو ! مہرو کیا ہوا؟ ایسے کیوں بیٹھی ہو؟ خیریت ‘ ارے بھئی کچھ منہ سے پھوٹو کیا تماشا ہے یہ…..؟ گھبراہٹ کے ساتھ ساتھ غصہ بھی بڑھا تو اسے بازوئوں سے پکڑ کر جھنجوڑ دیا۔
جواباً وہ تڑخ کر بولی۔
’’مر گئی آپ کی مہرو…..! کس جہنم میں چھوڑ گئے تھے مجھے؟‘‘
’’کس جہنم میں…..کیا مطلب ‘ ہوش میں تو ہو؟‘‘ ’ہوش ‘ مجھے تو سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں زندہ کیسے ہوں صبح سے ‘ اف خدایا ‘ اتنے گھنٹوں سے سوائے پانی کے……‘‘ ہچکیاں آنسو ٹپا ٹپ برس رہے تھے۔
’’اوہ نو…..‘‘ معروف حسن مارے صدمے کے گنگ ہو گیا۔
ایک پل کے لیے تو جی چاہا۔ اٹھے اور پوری قوت سے اپنا سر سامنے کی دیوار سے دے مارے۔
’’اب کیا بتاتا اسے ۔ یہاں تو برسوں سے یہ ہی صورتِ حال تھی۔ گھر میں کبھی کھانا بنانے ‘ پکانے کی نوبت ہی نہ آئی تھی…..اور کھانا بنتا بھی کس کے لیے ‘ بڑے بھیا ٹھہرے سدا کے مسافر…..سال کے چند دن گھر میں گزارتے…..چائے ‘بسکٹ ‘ کافی ‘ یہ ہی ان کا لنچ تھا۔ یہ ہی ڈنر …..بہت ہوا تو بازار سے کبھی کبھار بریانی یا برگر آ جاتا اور وہ تو ہمیشہ سے کھانے کا چور صبح ناشتے میں چائے ہوٹل سے آ جاتی دوپہر کا کھانادفتر کی کینٹین سے رات کو کوئی ایک آدھ پھل اس کی جیب میں ہوتا کھایا یا پانی پیا اور اللہ اللہ خیر صلا۔
یہ تو سوچاہی نہ تھا کہ پھولوں کی شہزادی کچھ کھاتی پیتی بھی ہے۔
’’او بیچاری مہرو! اماں بی کے گھر میں کیسی خوشحال تھی۔ چٹنی ‘ سلاد ‘ تازہ سبزی۔‘‘
اپنا جرم قبولتے ہوئے انتہائی نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر اٹھایا ‘ پانی پلایا ‘ کمرے میں بٹھایا اور….‘‘ ’’ابھی آتا ہوں‘‘ کہہ کر باہر نکل گیا۔
مہرو نڈھال سی بیٹھی رہ گئی۔
آدھے گھنٹے بعد واپسی ہوئی خوب بھرا ہوا شاپر ہاتھ میں۔ تلافی کے طور پر ساری بھاگ دوڑ خود ہی کی۔ برف لا کر کولر میں ڈالی آئسکریم کے کپ نکال کر برف میں رکھے۔
پلیٹیں ‘ چمچ ‘ گلاس ‘ پانی۔
گرما گرم نان ‘ چکن ہانڈی ‘ رائتہ سلاد …..کباب وہ ازل کی بھوکی یوں شروع ہوئی ۔ جیسے کبھی دم نہ لے گی۔
پیٹ بھرا تو زبان بھی فراٹے بھرنے لگی۔
آپ نے یہ کیا….آپ نے وہ کیا۔ ہر گز معافی نہ ملے گی۔ ظالم جابر بھلکڑ بے پروا سجن اور جانے کیا کیا ۔ معروف حسن کھسیانی ہنسی ہنستا اثبات میں سر ہلاتا رہا۔
’’منظور…..قبول…..شکریہ۔‘‘
سب کھا چکنے کے بعد ٹھنڈی ٹھار آئس کریم نوش کی گئی معروف حسن نے سونے کا قصد کیا۔
مہرو وضو کر کے مصلیّ پہ آ گئی۔ جی بھر کے اللہ کا شکر ادا کیا…..
’’دن بھر بھوکی رہی تو کیا ہوا…..؟ ایسا مزے کا کھانا اللہ تیرا شکر ۔‘‘
خوب ہل ہل کر عبادت کی…..پھر آ کر معروف حسن کو جگایا…..اپنی زبان درازی پر معافی مانگی۔
’’پاگل…..!‘‘ وہ نیند بھری آنکھوں سے مسکراتاکیسا اچھا لگ رہا تھا…..اپنا اپنا سا ‘ مہرو تا دیر اس غافل کو دیکھتی رہی۔ پھر چارپائی پر آ لیٹی آسمان پر پورا چاند روشن تھا۔ مہرو کو بہت گہری نیند نے آ گھیرا تھا۔
’’اوئی ماں! یہ سب کیا ہے…..؟‘‘ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ دالیں ‘ سبزیاں ‘ گوشت ‘ دودھ چاول اور انواع اقسام کے مصالحہ جات۔
’’روفی بھائی کہہ گئے تھے آج سے گھر میں چولہا جلے گا…..سامان پہنچا دینا۔‘‘ کوئی نو عمر سا لڑکا تھا بڑے اشتیاق سے اس کے مہندی رنگے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا ۔ بل اور بقیہ پیسے بھی اسے تھمائے۔
’’افوہ…..لیکن اتنا سب کچھ اچھا خیر ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے لڑکے کو ٹالا پھر سوچ میں پڑ گئی۔
’’اتنا سب کہاں رکھوں ‘ کیسے سنبھالوں …..؟‘‘ الگ فکر آن پڑی ۔ دالیں ڈبوں میں ڈال کر رکھ دیں چاول اور بقیہ چیزیں بھی۔
’’دو ڈھائی کلو دودھ گوشت اور ہری بھری سبزیاں ۔ ارے مجھ سے پوچھ گئے ہوتے تو لسٹ ہی بنا دیتی…..دو بندوں کا خرچا ہی کیا ہوگا…..؟ اور یہاں محترم ہزار ڈیڑھ ہزار تو خرچ کر ہی گئے ہوں گے۔‘‘
ایک پل کے لیے سوچا…..آس پڑوس کے کسی فریج میں رکھوا دے …..پھر ایک نئی ترکیب سوجھی دیوار سے خالہ بی کو پکارا۔
’’اتنے روز سے یہاں پڑی ہوں۔ کوئی بی بی ابھی تک مجھے سے ملنے نہیں آئی۔ ذرا قریب کے دو چار گھروں میں دعوت تو کہہ آ ئیے۔‘‘
’’ہائیں! تم کیوں کرو گی دعوت…..؟ وہ خود بلائیں گی تم کو دعوت پر۔‘‘
’’ارے نہیں ناں….! میں سارا انتظام کر چکی ۔ آپ مہربانی فرمائیے۔‘‘ اس نے اصرار کیا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر رہ گئیں۔
’’کوئی پوچھنے ‘ بتاے والا ہی نہیں…..کم عمری کی سمجھ…..میاں کا پیسہ یونہی لٹا دے گی۔‘‘ خالہ بی نے منہ بنا کر سوچا۔
شام گئے معروف حسن اپنی ہی ترنگ میں گھر میں گھسا ۔ پھر ایک پل کو ٹھٹک کر رہ گیا ۔
’’ایسا اجتماع ہمارے گھر میں…..‘‘ شرقاً غرباً نگاہیں گھمائیں۔
بہت سی خواتین کے بیچ میں وہ بھی نظر آ گئی۔
ہلکے کاسنی رنگ کا جوڑا پہنے خوب خوش باش لگ رہی تھی۔
کئی خواتین نے مڑ کر ایک ساتھ اسے دیکھا تو وہ ان ہی قدموں باہر آ گیا۔ بہت جھجک محسوس ہو رہی تھیں۔
سامنے ہوٹل پہ بیٹھ کر کچھ وقت بتایا…..خواتین ایک ایک کر کے گھر سے باہر نکلیں تب اس نے گھر کی راہ لی۔
محلے کی ایک بوڑھی بیوہ جھوٹے برتن دھو رہی تھی۔ ایک نو عمر لڑکی جھاڑو میں مشغول وہ خود کرسی پہ بیٹھی اپنی چوڑیوں سے کھیل رہی تھی۔
’’مہرو! یہ کیا ہے؟‘‘ اس کا لہجہ بے حد سنجیدہ تھا۔ مہرو کا دل ایک پل کے لیے کانپا۔
’’شاید غلطی ہو گئی…..‘‘
’’وہ اصل میں….ساری چیزیں خراب ہونے کا ڈر …..ویسے بھی میں نے سوچا ۔ یہاں رہنا ہے تو کچھ تعلقات۔‘‘
’’ذرا ادھر آئو نا !‘‘ وہ رعب سے کہتا کمرے میں چلا۔
مہرو کی جان پہ بن آئی۔
’’دیکھیں…..کوئی ایسا خاص خرچا تو…..‘‘ گھبرائی گھبرائی سی اس کے پیچھے داخل ہوئی تھی کہ اس نے جھٹ سے کلائی تھام لی۔
’’یہ کاسنی رنگ پہلے کبھی کیوں نہیں پہنا…..ظالم‘ غضب کی لگ رہی ہو۔‘‘
’’ہائیں‘ کاسنی رنگ؟ ‘‘ اس نے معروف کا چہرہ دیکھا۔ آنکھیں شرارت سے دمک رہی تھیں۔
’’ڈرامے باز…..‘‘ اس نے آنکھیں دکھائیں پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔
’’کاسنی رنگ تو میں اکثر پہنتی ہوں۔ ہاں یہ سبز رنگ آج پہنا ہے۔‘‘
’’ایک ہی بات ہے۔‘‘ معروف نے کندھے اچکائے۔
بڑے بھیا تبریز حسن کئی مہینے بعد گھر لوٹے تو گھر کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ بہت سی نئی چیزوں کا اضافہ ‘ صفائی ستھرائی بے مثال۔
معروف حسن گھر پہ نہیں تھا اور مہرو کہیں کمرے میں۔ وہ دیر تک کھڑے آس پاس دیکھا کیے۔ دیواروں سے لپٹی بیلیں ‘ کیاریوں میں موتیے اور چنبلی کے پودے ‘ قریب ہی صاف ستھرے کٹورے میں بھرے پانی پہ ننھی چڑیاں ٹوٹی پڑی تھیں۔ پھولوں کی خوشبو‘ چڑیوں کی چہکار آنگن میں بندھی ڈور پہ پھیلے رنگین آنچل ان کے لبوں پہ بھولی بسری مسکراہٹ آن ٹھہری۔
اپنی مرحومہ والدہ کی یاد آ گئی…..ان کی زندگی میں گھر یونہی سجا سنورا رہتا تھا۔ معروف حسن تو بہت ہی چھوٹا تھا ان دنوں…..مگر وہ خود خاصے ہوش مند تھے۔ اماں کانین نقشہ خوب اچھی طرح یاد تھا۔ ان کا پیار ‘ ان کی محبت ‘ شفقت انہیں یاد تھا سب ذرا ‘ ذرا۔
’’بہت لمبا عرصہ تھا ۔ لیکن بالآخر یہ گھر بھی بس ہی گیا۔‘‘ وہ گرد آلود جوتے جھاڑتے پلٹے تو اسے سامنے کھڑے پایا۔
آنچل سر پہ رکھے ۔ شرماتی جھجکتی۔
انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا…..نجانے کیوں آنکھیں بھر آئیں۔ کچھ کہے بناء اس کا سر تھپتھپایا اور جا کر اپنے کمرے کے دروازے پہ لٹکتا تالا کھولنے لگے۔
’’بڑے بھیا! آپ خیریت سے تو رہے……اتنے روز؟‘‘
’’ہاں خیریت رہی…..‘‘ وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے۔
’’آپ کے لیے کھانا لائوں یا چائے؟‘‘
’’نہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔‘‘ انہوں نے نرمی سے انکار کیا۔
وہ واپس پلٹ آئی۔
’’اتنے دنوں بعد آئے ہیں…..کچھ نہ کچھ تو…..‘‘ اس نے چائے کا پانی چولہے پر رکھا۔ آئے گئے والا گھر تھا اب تو کچھ نہ کچھ بنا کر فریج میں رکھتی تھی۔ کباب نکال کر تلے…..آلو کے چپس بنائے اور املی کی چٹنی کے ساتھ رکھ کر ان کے کمرے میں لے آئی۔
پہلی بار ان کے کمرے میں آئی تھی۔ حیران پریشان کھڑی رہی۔
اخباروں ‘ کاغذوں کے بڑے بڑے انبار …..کتابیں‘ کمپیوٹر ‘ ہر چیز پر منوں مٹی ۔ وہ بیڈ کی چادر اٹھا کر اس کی مدد سے کرسی جھاڑ رہے تھے۔ کھڑکیاں بند …..سارا کمرہ گرد سے بھر گیا۔ اسے بے اختیار ہی کھانسی آ گئی تب وہ چونکے۔
’’رہنے دیجئے بڑے بھیا! میں کر دوں گی ناں!‘‘
’’ہاں ‘ نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ بس ٹھیک ہے۔‘‘ انہوں نے کرسی سنبھال لی وہ ٹرے ان کے سامنے رکھ کر باہر نکل آئی۔
’’اف خدایا ! یہ بڑے بھیا آخر چیز کیا ہیں؟ سارا سارا دن کمرے میں گھسے رہتے ہیں۔ چڑیا جتنا کھاتے ہیں۔ رات ‘ رات بھر کمرہ روشن رہتا ہے اور کمرہ دیکھئے جا کر …..دم گھٹنے لگتا ہے۔ پل بھر ٹھہرنا مشکل…..‘‘ وہ آنگن میں چارپائی پہ جا بیٹھی ‘ معروف حسن کے بالوں میں تیل کی مالش کر رہی تھی۔
’’بس شروع سے ایسے ہی ہیں۔ اخبارات میں لکھتے لکھاتے ہیں۔ چار ‘ چھ مہینے کمایا ‘ اور سال بھر اڑایا۔‘‘ وہ نیم غنودگی کے عالم میں بول رہا تھا۔
’’لیکن اڑاتے کہاں ہیں…..اور اتنا عرصہ غائب؟‘‘
’’ملکوں ‘ ملکوں پھرتے ہیں…..دیس دیس کی خاک چھانتے ہیں۔ مگر نجانے کیوں چین و قرار نصیب نہیں یہ تو تمہارے بھاگ ہیں کہ اس بار جلد لوٹ آئے ورنہ تو۔‘‘ وہ کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔
مہرو بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’یوں بھی کوئی زندگی گزارتا ہے۔ حد ہو گئی بھئی۔‘‘ ان کے طرز زندگی سے اسے وحشت سی ہونے لگی…..دو روز بمشکل گزارے پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسٹور میں گھس گئی۔
’’کم از کم کمرہ تو ان کے رہنے کے قابل بنائوں۔‘‘ اسٹور کا سب سامان ٹھکانے لگا کر کمرہ رگڑ رگڑ کر دھویا۔ دیواریں ‘ چھتیں صاف کیں۔ پلنگ گھسیٹ گھسیٹ کر وہاں تک لائی۔
اپنے کمرے میں بند بڑے بھیا پہلو پہ پہلو بدلتے رہے۔
’’اس لڑکی کو بھی کسی طور چین نہیں۔ خوا مخواہ ہنگامہ کیے رکھتی ہے۔‘‘ وہ ڈسٹرب ہو رہے تھے۔ لکھتے لکھتے کئی بار قلم اٹھا کر میز پہ پھینکا ۔ ماتھے پہ تیوریاں بڑھیں۔ اس سے کچھ کہنے سننے کو اٹھے مگر پھر کمرے سے نکلے تو گھر کی دہلیز پار کر گئے کمرہ پیچھے کھلا رہ گیا تھا۔
مہرو کی تو دلی مراد بر آئی تھی۔
جھٹ کمرے میں گھسی …..ڈھیر ساری کتابیں بکھریں پڑی تھیں۔ انہیں اٹھایا جھاڑا ‘ پونچھا ‘ دوسرے کمرے میں لے جا کر ترتیب سے رکھا اخبارات کے بنڈل بنا کر باندھے ادھورے مسودے خالی کاغذات ‘ کیسٹیں ‘ سی ڈیز ‘ رسالے ‘ زنگ آلود پستول ‘ الماری میں بے شمار کپڑوں کا ڈھیر…..جو عرصہ ہوا شاید ہی کبھی استعمال ہوئے ہوں گے…..بے شمار البمز لاتعداد تصویریں۔
’’یا اللہ! کتنے زمانوں سے ہر چیز یہاں سنبھال رکھی ہے۔‘‘
کوئی چیز اٹھا کر باہر پھینک دینے کا تو حوصلہ نہ تھا سو وہیں ترتیب دیتی رہی۔ رائٹنگ ٹیبل صاف شفاف کر دی‘ ٹیبل لیمپ بھی ٹھکانے پہ رکھا۔
سرِ شام ان کاموں سے فارغ ہوئی جہیز کے ٹرنک کھول کر بستر کی اچھی سی چادر نکال کر بستر کی اچھی سی چادر نکال کر پلنگ پر بچھائی….گلدان سجائے اور دروازہ بند کر کے خود غسل خانے میں گھس گئی….نہا دھو کر نکلی تو بدن ٹوٹ رہا تھا۔
یونہی کھڑی بھر کے لیے چارپائی پر لیٹی تھی کہ نیند آ گئی۔
کچھ ہی وقت بیتا تھا۔
پھر نجانے کیا ہوا تھا۔ شاید بادل گرجا یا بجلی کڑکی یا شاید کوئی دھماکا ہوا تھا۔ ایک جھٹکے سے اس کی آنکھ کھل گئی۔
کسی کے زور ‘ زور سے بولنے کی آواز آئی تھی۔ وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ مگر دروازے پہ رک جانا پڑا۔ وہ بڑے بھیا تھے۔
’’میں کہتا ہوں اسے جرأت کیسے ہوئی میرے کمرے میں گھسنے ‘ میری چیزیں چھیڑنے کی….یہاں ایک وقت میں بیسیوں چیزو ں کی ضرورت ہوتی ہے مجھے…..میں کیا ہر چیز کے لیے ہانکیں لگاتا پھروں گا۔ یہاں میز پہ سینکڑوں فون نمبر لکھے تھے میں نے جو محترمہ رگڑ کر صاف کر گئیں…..اخباروں کے تراشے نہیں مل رہے…..وزٹنگ کارڈ غائب ہیں۔ کتابوں کی شکل دکھائی نہیں دے رہی…..کیا چولہے میں جھونک دی ہیں اس جاہل لڑکی نے؟ چار دن کے لیے رہنا بھی عذا ب ہو گیا مجھے۔ لگتا ہے کسی فلیٹ کا بندوبست کرنا ہی پڑے گا۔‘‘
معروف حسن بیچارہ ابھی ابھی دفتر سے لوٹا تھا۔ آتے ہی پھنس گیا۔
مہرو دروازے کی اوٹ میں کھڑی سنتی رہی۔ حیران بھی تھی اور پریشان بھی ‘ کوئی اور ہوتا تو اب تک باہر نکل کر طبیعت صاف کر چکی ہوتی ۔ مگر اب تو ساکت کھڑی تھی۔ سارا جرم ‘ قصور تو اپنا ہی تھا۔
معروف حسن نے تو اولین دِنوں میں ہی اسے خبردارکر دیا تھا۔ مگر یاد کسے رہا؟ بہت دیر بول چکنے کے بعد وہ خاموش ہوئے ۔ تب معروف حسن جھکا ہوا سر لیے کمرے میں داخل ہوا ۔
اس سے کچھ کہے بغیر یونہی چارپائی پہ دراز ہو گیا۔
کچھ پل اس کے قریب کھڑے رہنے کے بعد وہ باہر نکل آئی۔ آنکھیں آنسوئوں سے لبا لب بھری ہوئی ۔
تبریز حسن جبڑے بھینچے کرسی پر بیٹھے تھے۔ آنکھیں لال سرخ ایک پائوں مسلسل حرکت میں۔
تب اس نے فون نمبروں سے بھری ڈائری نکال کر سامنے رکھی۔
میز کی درازیں کھول کر سامنے کیں۔
وزٹنگ کارڈ ‘ اخبار کے تراشے بہت سی چھوٹی بڑی چیزیں سلیقے سے پڑی تھیں۔
’’میں نے آپ کے لیے دوسرا کمرہ سیٹ کیا تھا کتابیں بھی وہیں …..‘‘ آگے کچھ بولا نہ گیا۔
انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔
آنکھیں رو رو کر سوج گئی تھیں ‘ ناک سرخ ۔ روٹھی روٹھی سی کھڑی تھی وہ۔ انہیں کسی ننھی بچی کی طرح محسوس ہوئی۔
طویل سانس لے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’آئی ‘ ایم سوری مہرو! مجھے عادت نہیں۔ میرا مطلب ہے کوئی چیز میری اِدھر اُدھر ہو جائے تو وحشت ہونے لگتی ہے۔ اگر مجھے اندازہ ہوتا کہ اتنی محنت تم میرے لیے کر رہی ہو تو میں تمہیں جب ہی منع کر دیتا۔‘‘ یوں تو معذرت کر رہے تھے ‘ مگر انداز قطعی یہ نہ تھا۔
وہ بے دلی سے باہر نکل آئی۔
ذرا دیر بعد دیکھا۔ بڑے بھیا اس سجے سنورے کمرے کا دروازہ کھولے اندر جھانک رہے تھے۔ دل میں کچھ امید بندھی۔
’’ہو سکتا ہے اتنا پیارا کمرہ دیکھ کر….‘‘
’’ہوں ‘ اچھا سجایا ہے…..لیکن میری کتابیں واپس کمرے میں پہنچا آئو اور اس کمرے کو لاک کر دو۔ پھر کبھی کام آئے گا۔‘‘
’’ہونہہ بھاڑ میں جائیں آپ اور آپ کی کتابیں۔ پڑا سڑتا رہے یہ کمرہ بھی۔ یونہی خود کو تھکایا۔‘‘ بڑبڑاتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔
اس ایک واقعے کے زیرِ اثر بہت دِنوں تک اداس اور مضمحل سی رہی اور معروف حسن کئی روز تک اس کا مذاق اڑاتا رہا۔
’’ارے سگھڑ بی بی! سگھڑاپا دکھانے سے قبل ہم سے مشورہ ہی کر لیا ہوتا۔‘‘ اور وہ ایسی بگڑی کہ اگلے روز ہی اپنا بیگ تیار کر لیا۔
’’چند روز کے لیے جا رہی ہوں اماں کے پاس ۔ روکھی سوکھی کھانی پڑی چار روز تو خود ہی قدر ہو جائے گی سگھڑ بی بی کی۔‘‘
معروف حسن اگلے روز ہی اسے اماں کے ہاں چھوڑآیا۔ رات بھر وہیں رہا خوب چہلیں کیں….. دیر تک جاگ کر آئس کریم اڑائی…..عینی پاپڑ تل کر لے آئی۔
اماں مصلّے پہ بیٹھی ’’اوہوں ‘ اوہوں۔‘‘ کرتی رہیں مگر کسی نے سن کر نہ دیا۔ تنگ آ کر وہ دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔
زیبی البتہ پہلے سے کچھ بجھی بجھی سی لگ رہی تھی۔
مہرو نے پوچھا تو ہنس کر ٹال گئی۔
’’اب تمہارے حصے کا کام بھی مجھے کرنا پڑتا ہے اس لیے۔‘‘
مہرو چور بن کر وہیں چپ ہو گئی۔
’’زیبی کے ساتھ زیادتی ہوئے ہے وہ بڑی تھی مجھ سے۔‘‘
پشیمانی کے احساس نے اسے ایک بار پھر آن گھیرا تھا۔
کتنا روئی تھی وہ اماں کے سامنے۔
‘‘یہ نہیں ہو سکتا اماں! زیبی سے پہلے میں کیسے رخصت ہو سکتی ہوں مجھے نہیں کرنی شادی۔‘‘
مگر اماں کیسی جابر بنی ہوئی تھیں ان دِنوں۔
’’میرے لیے تو بوجھ ہی بوجھ ہے…..اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ کہ پہلے کون سا پتھر کھسکے۔‘‘
زیبی دانستہ اس کے سامنے ہنستی رہتی۔ مگر اس ہنسی میں کھوکھلا پن کتنا واضح ہوتا تھا۔
جہیز کی سب چیزیںزیبی کے نام پر بنی تھیں…..زیبی کے ہاتھ سے بنی تھیں۔ کڑھے ہوئے میز پوش ‘ کروشیے سے بنی چیزیں ۔ ریشم سے کاڑھے جوڑے ‘ چیزی کے سوٹ ‘ اونی جرسیاں…. کوزیاں‘ مکرامے ‘ اور نجانے کیا کیا؟
کس دل سے وہ چیزیں نکال کر مہرو کے حوالے کی ہوں گی۔
مہرو سوچتی اور اس سے نگاہیں چرا لیتی۔
بھادوں کا آخیر تھا۔
ساون تو یونہی بیتا۔ مگر اب جو بارشیں شروع ہوئیںتو رکنے کا نام ہی نہ لیا۔
اماں چھتوں کی لیپا پوتی میں مگن رہتیں مگر کوئی نہ کوئی نقصان ہو ہی جاتا ۔ ایک روز تنگ آ کر مہرو بول ہی اٹھی۔
’’کتنا زور لگایا تھا معروف حسن نے کہ چھتیں بدلوا لیتے ہیں مگر آپ نے مان کر ہی نہ دیا۔ اب دیکھیے کس مشکل میں پڑے ہیں۔ کبھی ایک کونہ ٹپک رہا ہے۔ تو کبھی دوسرا…..لوگ کس چین و آرام سے رہتے ہیں ۔ اور ہم ہیں کہ ساری زندگی انہیں مصیبتوں کے آسرے…..
’’اے بی! شادی کروا کر تمہیں بہت بولنا آ گیا ہے ۔ کیوں لگواتی میں اس بچے کا ڈھیر سارا روپیہ….. جب ہمارا اچھا خاصا گزارا ہو رہا ہے۔ کوئی سال بھر ہوتی ہیں بارشیں؟ یہ ہی دو چار مہینہ بیت جائیں گی ‘ تم نے مصیبتیں جھیلنی ہیں تو اب آرام ملا ہے ناں؟ زندگی میں دکھ ‘ پریشانی آتی رہتی ہے۔ اب کیا احسان لیتے پھریں دوسروں کا۔‘‘ اماں کی اپنی ہی منطق تھی۔
’’لیجئے ‘ یوں تو بیٹا ‘ بیٹا کہتے منہ نہیں سوکھتا ۔ اور اب وہ دوسرے ہو گئے…..‘‘ مہرو بس منہ ہی منہ میں بڑ بڑا کر رہ گئی۔
’’چار ‘ پانچ روز بعد ہی معروف حسن کا فون آ گیا۔
’’لینے آ جائوں؟‘‘
مہرو نے منع کر دیا۔
’’ابھی کچھ دن رہنے دیں نا۔‘‘ اس نے ناز سے کہا۔
وہ فرمانبرداری سے مان گیا۔
پڑوس کے ہاں سے فون سن کر آئی تھی۔ اماں ساتھ ہی تھیں۔ گھر میں گھستے ہی کہا۔
’’اور کتنے دن رہو گی مہرو…..؟‘‘
’’کیوں…..؟ خیریت اماں…..؟‘‘ اس نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
وہ ڈرتے ڈرتے مسکرا دیں۔
’’پھر خفا نہ ہونا تم….لیکن اپنا گھر اکیلا چھوڑ کر یہاں بیٹھ رہنا…..لڑکے تو لا پروا ہوتے ہیں اور تمہارا ماشاء اللہ بھرا پرا گھر ہے۔ یونہی کھلا چھوڑ کر اندر ‘ باہر نکل جاتے ہوں تو …..؟ پھر کھانے پینے کی بھی تنگی۔‘‘ وہ خوا مخواہ فکر مند ہو رہی تھیں۔
مہرو کو ہنسی آ گئی۔
’’اچھا …اب فون آیا تو کہہ دوں گی آ کر لے جائیں۔‘‘ اس کی سعادت مندی پر اماں نہال ہو گئیں۔
وہ ہفتہ دس دن مزے سے رہی اور پھر معروف کے ساتھ واپس لوٹ آئی۔ یہاں ایک نئی مصیبت منتظر تھی۔
تیسرے روز معروف حسن کو کراچی جانے کے آرڈر مل گئے۔
تین ماہ کا کام تھا…..تنخواہ ڈبل۔
وہاں موجود فیکٹر کی ساری فائلز اَپ ٹو ڈیٹ کرنا تھیں۔ وقت اتنا کم تھا کہ معروف حسن کو سوچ بچار کا وقت بھی نہ ملا۔آرڈر فائل پر دستخط کیے اور گھر آ کر سامنا باندھنے لگا۔
مہرو نے اچھا خاصا واویلا مچایا۔
’’آپ نے انکار کیوں نہیں کر دیا۔ میں کیسے رہوں گی یہاں‘ یہ کون سا اصول ہے۔ ہماری مرضی کے بغیر۔‘‘
’’افوہ ! صرف تین مہینے کی بات ہے مہرو….! پتہ بھی نہیں چلے گا۔ بڑے بھیا اسلام آباد سے خدا جانے کب لوٹ آئیں۔ورنہ تم کو اماں کے پاس بھجوا دیتا اب خود بتائو‘ سارا گھر کس کے آسرے پر چھوڑیں۔ بھئی تھوڑی بہادر بنو۔ اماں بی تو ساری عمر جوانمرد سے اپنے گھر کی خود حفاظت کرتی رہی ہیں ۔ تم کیا اپنے گھر کے لیے اتنا بھی نہیں کرو گی؟ صرف تین مہینے ہی تو ہیں۔ ڈبل تنخواہ….سوچو ہم کیا کچھ مزید بنا سکتے ہیں۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ سہلاتے ہوئے دھیرے دھیرے کہتا رہا۔
وہ آنسوئوں سے لبا لب بھری آنکھوں میں ناراضی و شکوہ لیے اسے دیکھتی رہی۔ پھر بالآخر مان ہی گئی۔
جس شام معروف حسن کی روانگی ہوئی اس سے اگلی سہ پہر بڑے بھیا آن وارد ہوئے۔ خدا جانے کون سا سیمینار اٹینڈ کر کے آ رہے تھے۔
معروف حسن کی زبانی پتا چلا تھا کہ جرائم پر مشتمل کہانیاں لکھتے ہیں۔ حقیقی واقعات ‘ اصلی کردار ۔ وہ جیلوں میں جاتے اور قیدیوں سے ملتے ملاتے ہیں۔ اخبار والوں سے دوستی ہے۔ ماہر نفسیات ان کا دم بھرتے ہیں۔ جرائم کی تہہ تک پہنچنا ان کا شوق ‘ جرم کے محرک ‘ اسباب ‘ نتائج کو کھنگال کے رکھ دیتے ہیں۔
’’کئی خونی‘ وحشی مجرم ان سے اپنی کہانی لکھوانے کی خود گزارش کر چکے ہیں۔‘‘ معروف حسن کی باتیں سن کر وہ ناک بھوں چڑھاتی رہی تھی۔
’’لو یہ بھی کوئی کام ہوا۔‘‘
اب بھی اللہ جانے کون سے کارنامے کر کے آئے تھے کہ بغیر کچھ کھائے پئے سوئے تو اگلی صبح بھی اٹھتے اٹھتے دن چڑھا لیا۔
پڑوس سے خالہ بی کواس نے پہلے دن سے اپنے پاس بلوا لیا تھا۔
وہ اپنی بہو سے بیزار ‘ ناخوش…..بھاگی چلی آئیں۔ کبھی کبھی گھر کا چکر لگتا ورنہ دن رات بس یہیں اونگھا کرتیں۔
اسے مشورہ بھی دیا۔
’’خیر سے تبریز آ گیا ہے۔ جانا ہے تو اماں کے ہاں چلی جائو۔‘‘
’’ان کی تو نوکری ہی ایسی ہے خالہ بی! کبھی یہاں ‘ کبھی وہاں ‘ میں کب تک اپنا گھر چھوڑ کر اماں کے ہاں بیٹھی رہوں گی۔‘‘ اس نے خود ہی انہیں ٹال دیا تھا۔
لیکن خود اپنا یہ حال تھا کہ وجود میں عجیب بے کلی اور بے چینی سی سما گئی تھی۔ اندر ‘ باہر کہیں چین نہ پڑتا تھا۔
ڈھونڈ ‘ ڈھونڈ کر کام نکالتی۔
پھر تھک ہار کر بستر پہ لیٹتی تو نیند کوسوں دور۔
’’یا اللہ! اسی گھر میں معروف حسن کی موجودگی میں کیسے مزے کی نیند آتی تھی۔ ‘‘ وہ کروٹ پہ کروٹ بدلتی اٹھ بیٹھتی۔
’’ہائے‘ وہ ریڈیو بھی کیا مزے کی چیز تھا۔ مجال تھی جو کبھی یوں اداسی کا دورہ پڑا ہے۔ قسم قسم کے گانے سنتے تھے اور موج میں رہتے تھے۔‘‘ بڑے عرصے بعد ریڈیو کی یاد آئی تھی۔
پھر ایک روز اور کچھ نہ ملا تو خالہ بی کے ساتھ مل کر صحن میں کیاریاں بنا ڈالیں۔
کسی میں دھنیا ‘ پودینہ لگایا تو کسی میں موتیے ‘ چنبلی کے پودے لہرانے لگے۔
مٹی کے آبخورے پانی سے بھر بھر کر رکھتی ۔ سارے صحن میں باجر ا ڈالتی ۔ ننھی چڑیاں آنگن میں اترتیں تو دیر تلک ان کی چہکاریں سنا کرتی۔
اسی افسردگی اور یاسیت میں اسے ہلکے سے بخار نے آ گھیرا ۔ سارا بدن کچا پڑ گیا۔ کام سے بے زاری ‘ اکتاہٹ ‘ الٹا سیدھا پکا کر رکھنے لگی۔
خالہ بی کو جہاندیدہ نظروں نے جانچا مگر اس سے قبل کہ اس سے بات کرتیں وہ ایک روز چلتے چلتے ہی چکرا کر زمین پہ ڈھیر ہو گئی۔
’’خالہ بی کے تو ہاتھ پائوں پھول گئے۔
بڑے بھیا کمرے میں تھے۔ اسے پوری طرح بے ہوش دیکھ کر وہ خود بھی گھبرا گئے۔ اپنی سوزوکی ایک دوست کے گیراج میں کھڑی کرتے تھے۔ بھاگم بھاگ لائے اور اسے خالہ بی سمیت اندر ڈال کر ہاسپٹل کی طرف بھاگے۔
مہرو ہوش میں آئی تو سخت کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔ لیڈی ڈاکٹر سر پہ کھڑی اسے گھور رہی تھی۔
’’کچھ ٹیسٹ کروانے ہوں گے۔ یہ آج کل کی لڑکیاں بھی بس….‘‘ وہ اللہ جانے کیا کیا کہتی باہر نکل گئی۔
مہرو نے پہلی بار ہاسپٹل کی شکل دیکھی تھی۔ ڈری سہمی کبوتر کی طرح بیڈ کی بے شکن چادر پہ بیٹھی رہی۔
ٹیسٹ ہو گئے۔
خالہ بی معنی خیز مسکراہٹ لیے اسے دیکھتی رہیں۔ ذرادیر بعدہی نرس رپورٹ لے کر بھاگی آئی ۔ نٹ کھٹ سی لڑکی تھی۔ آتے ہی ہنسنے لگی۔
’’مبارک ہو…..آپ امی جان بننے والی ہیں۔‘‘
’’ہائیں!‘‘ اس نے آنکھیں پٹپٹائیں۔
’’کیسی بے شرم لڑکی ہے۔ کیا کہہ رہی ہے۔ وہ بھی خالہ بی کے سامنے ۔‘‘ اسے بے اختیار ہی شرم آ گئی۔
’’میں تو آپ کے ہزبینڈ کو بھی مبارکباد اور تسلی دے آئی ہوں۔ قسم سے اتنے پریشان تھے ناں….. غالباً پہلی بار….‘‘
’’کیا ….!‘‘ مہرو چیخی۔‘‘ تم …..بد تمیز لڑکی! وہ میرے جیٹھ ہیں۔ میرے بڑے بھیا! اف خدایا !
مارے گھبراہٹ کے اسے اور کچھ نہ سوجھا تو گھٹنوں میں منہ چھپا کر رو دی۔
’’او سوری….!‘‘ وہ محترمہ تو اڑنچھو ہو گئیں۔
خالہ بی خوب ہنس چکنے کے بعداسے تسلی دینے بیٹھ گئیں۔ ذرا دیر بعد دوائیوں کا نسخہ بھی آ گیا۔
صرف طاقت کی گولیاں ہیں ‘ گوشت ‘ سیب اور انار کا استعمال کریں۔‘‘ وہ ناک رگڑتی ‘ شوں شوں کرتی باہر نکلی۔
بڑے بھیاانہیں دور ہی سے دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ نظریں چراتی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر جا بیٹھی۔
خالہ بی نے راستے میں پھل وغیرہ خریدنے کی تاکید کی تو انہوں نے کچھ دیر بعد ہی گاڑی روکی اور فروٹ لینے اتر گئے۔
’’بڑے بھیا! میں نے فون کرنا ہے۔ ‘‘ ان کے واپس آتے ہی سامنے پی۔سی۔او کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے بڑے حوصلے سے کہا۔ مگر بڑے بھیا اس کی بات نظر انداز کر کے گاڑی میں بیٹھے اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔
وہ لب بھینچ کر رہ گئی ۔ کتنا برا ہوا تھا دل ان کی اس حرکت پر۔
’’ہاں بھئی ‘ اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ یوں ہو گئے جیسے سنا ہی نہیں۔‘‘ وہ دونوں گھر پہ اتریں تو بڑے بھیا گاڑی کھڑی کرنے چلے گئے۔
خالہ بی نے آتے ہی گوشت چولہے پر چڑھایا ۔ اور سیب کاٹ کر زبردستی اسے کھلانے لگیں۔
کتنی دیر بعد بڑے بھیا واپس آئے۔
وہ آنکھیں موندے کمرے میں لیٹی تھی۔ وہ بغیر کسی کو پکارے ‘ بلائے اپنے کمرے میں جا کر مخصوص کرسی پہ ڈھیر ہو گئے۔ ٹانگیں میز پر پھیلا کر سگریٹ سلگائی ہی تھی کہ اس نرس کی بات یاد آ گئی۔
’’مبارک ہو آپ کی مسز امید سے ہیں اور بالکل خیریت سے….‘‘ سگریٹ کا کڑوا دھواں آنکھوں کے سامنے گھومتے گھومتے ایک چہرے میں ڈھل گیا۔
’’آہ….!‘‘ لبوں سے اختیار ہی سسکی نکلی تھی۔ نیم جان ہو کر انہوں نے اپنا سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔
’’اور اگر وہ ہوتی ‘ آج میرے ساتھ….میری شریک سفر بن کر …..تو…..‘‘ آنکھ کی سرخی ‘ گوشوں میں ٹھہری نمی دھیرے دھیرے انگڑائیاں لینے لگی تھی۔
وہیں بیٹھے بیٹھے ہاتھ بڑھا کر کھولی۔ بے شمار تصویریں بے ترتیبی سے بکھری پڑی تھیں۔
ہر تصویر میں ایک ہی چہرہ‘ حسن و رعنائی کا مجسمہ۔ کیا تھے وہ ایک دوسرے کے لیے….کچھ بھی نہیں ….. مگر سب کچھ…..
چھ برس تک اسے دیکھ دیکھ کر جیے تھے۔ ان کی کوئی مجبوری نہیں تھی۔ مگر اس کی بہت مجبوریاںتھیں۔
’’صبر….انتظار…..وعدہ…..بس تھوڑی دیر اور بس کچھ عرصہ اور مگر جب یہ عرصہ بیتا تو اس کی زندگی نے وفا نہ کی۔
آنسو ڈھلک کر ان کی ٹھوڑی کو چھو گیا۔
’’کیا رہ گیا ہے میرے پاس…..؟ دکھ ہی دکھ…..درد ہی درد بے خوابی ‘ بے سکونی ‘ بے قراری ۔ پچھتاو ئوں کے ڈستے ہوئے ناگ۔ کس کس سے نہیں بھاگا ہوں میں۔ گھر سے ‘ شہر سے ‘ زندگی سے ‘ دل ‘ دماغ ‘ روح‘ سب خالی…..کیا کچھ لے گئی ہو اپنے ساتھ لائبہ! اور کیا کیا ہے تم نے میرے ساتھ۔‘‘
سگریٹ ان کی انگلیوں سے چھوٹ کر نیچے جا گرا۔نیم تاریک کمرے نے ان کے بے آواز آنسو ‘ خاموش سسکیاں ‘ چپکے سے اپنی آغوش میں لے لیے تھے۔
بہت سا وقت بیتا…..تب ہی موبائل کی بیپ سنائی دی۔
انہوں نے یونہی فون بند کر کے موبائل میز پر لڑھکا دیا۔
پھر ایک دم جیسے کوئی بات یاد آئی۔
’’مہرو فون کرنا چاہتی تھی۔‘‘ اپنی یادداشت پر افسوس ہوا۔ اسی وقت کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ ‘‘ وہ دوا کے زیر اثر ہلکا ہلکا اونگھ رہی تھی ۔ ایک دم چونک کر اٹھ بیٹھی۔
’’آئیے بڑے بھیا!‘‘
انہوں نے کمرے میں آکر فون اس کی طرف بڑھایا تو وہ ذرا جھجک گئی۔
’’ان ہی سے بات کرنی ہے۔ ذرا نمبر ملا دیجئے۔ ‘‘ بات کرتے کرتے ان کی سرخ آنکھیں اور ستا ہوا چہرہ بڑے دھیان سے دیکھا….
اس سے پہلے کے کچھ پوچھتی ‘ وہ فون اسے تھما کر خود باہر نکل گئے تھے۔
معروف حسن بھاگا چلا آیا تھا۔تحفے ‘ تحائف سے لدا پھندا…..اور آتا بھی کیوں نہ…..فون پر چھوٹتے ہی مہرو نے جو واویلا مچایا تھا اسے سن کر کون رہ پاتا۔
’’ساری زندگی باپ اور بھائی کے سہارے کو ترسی ہوں…..ایک عمر کے بعد آپ کا سہارا ملا تو آپ بھی چھوڑ کر چلتے بنے۔ میں نہیں رہ سکتی اس طرح میں آپ کی ذمہ داری ہوں معروف !اسے خود نبھائیے….. آپ کے حصے کے کام دوسرے کریں۔ یہ مجھے قطعی منظور نہیں۔‘‘
اب وہ لاکھ ادھر سے ہائیں‘ کیا ‘ کیا کی آوازیں لگاتا رہا مگر وہ سنتی تب ناں ۔ اپنی کہہ کر بھڑاس نکالی اور فون بند کر دیا۔
وہ تو بھیا سے کہہ سن کر اپنی تسلی کی اور پھر دن رات ایک کر کے بقیہ کام نمٹایا ‘ واپس آیا تو پہلے سے کافی کمزور…..رنگت زرد…..
اس پر بھی محترمہ نے خوب کھنچائی کی۔
’’اب جا کر دکھائیں…..یہ فیکٹری تو سارا خون چوس گئی ہمارا۔‘‘
اس دوران ایک بار اماں بھی چکر لگا چکی تھیں…..اسے ساتھ لے جانے پر اصرار کیا مگر وہ ٹال گئی۔
اچھی خوراک ‘ دوائیوں ‘ ٹیسٹوں کا خرچہ…..وہاں کیسے پورا پڑتا۔ یہاں تو ہر طرح کی سہولت تھی۔ روپے ‘ پیسے کی بھی تنگی نہ تھی۔ دو‘ تین جانوں کا خرچہ ہی کیا…..؟ وہ چند مہینوں میں ہی اچھی خاصی بچت کر چکی تھی۔
اماں جاتے جاتے ایک اور بات اس کے کانوں میں ڈال گئی تھیں۔
’’یہ معروف کا بھیا ‘ بھلا آدمی لگتا ہے مجھے۔‘‘ ادھوری سی بات کہہ کر وہ نجانے کس سوچ میں ڈوب گئی تھیں۔
لیکن اسی شام جب وہ اماں کو رخصت کر کے ڈھلتی ہوئی شام میں اداس ہوئی بیٹھی تھی کہ نگاہ یونہی بھٹک کر صحن میں بچھی چارپائی پہ لیٹے بڑے بھیا پہ جا پڑی جو بہت دیر سے یونہی چت لیٹے خالی آسمان کو تکے جا رہے تھے۔
کھلی کھلی سی رنگت‘ سیاہ بال …..چہرے پہ سنجیدگی ….آنکھیں بڑی بڑی تھیں بہت پُر کشش‘ اپنی جانب کھینچ لینے والی ‘ اپنے آپ سے بے نیاز رہتے تھے‘ مگر کمال کے آدمی تھے۔
وہیں بیٹھے بیٹھے اس نے زیبی کو ان کے مقابل کھڑے سوچا تو دل میں بے اختیار ۔ یہی ایک خواہش جڑ پکڑ گئی۔
زیبی بھی تو ایسی ہی پیاری تھی۔
شہد رنگ آنکھیں اور گندم کے سنہری خوشوں ایسی رنگت ۔
’’وہاں مگر بڑے بھیا! آدم بیزار …..چپ کا روزہ رکھنے والے ۔تھوڑے بد تمیزسے۔ گزارا کیسے ہو گا…..؟ کیسا خبر شادی کا ارادہ رکھتے بھی ہیں یا نہیں….خیر معروف سے تذکرہ کروں گی۔ ان کی رائے معلوم کریں….‘‘
مگر بڑے بھیا بھی جیسے تیار بیٹھے تھے۔ اِدھر معروف حسن نے گھر میں قدم رکھا ‘ ادھر وہ اپنا سامان سمیٹ ‘ یہ جا ‘ وہ جا۔
ڈلیوری کے دن قریب تھے اور اس کے لیے اٹھنا‘ بیٹھنا ‘ کام کرنا دشوار…..ایک عورت آ کر صفائی ستھرائی کر جاتی مگر سارے دن میںڈھیروں اور کام نکلتے چلے آتے ۔ تنگ آ کر اس نے اماں کے ہاں جانے کا ارادہ کیا مگر معروف حسن نے جھٹ سے منع کر دیا۔
’’خوا مخواہ ان کو پریشان کرو گی جا کر…..یہیں کوئی بندوبست کرتے ہیں۔‘‘
’’مزید بندوبست کیا ہو سکتا تھا۔ اس نے اسی روز اماں کو فون کیا۔
’’جوں جوں دن قریب آ رہے ہیں۔ میرے لیے ہلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گھبراہٹ الگ سے۔ پلیز اماں! آ پ آ جائیں۔‘‘
اماں نے سنا تو چپ ہو رہیں۔
’’ان دونوں کو کس کے پاس چھوڑ کر آئوںگی ۔ ایک آدھ دن کی بات ہوتی تو….‘‘ اس نے بہتیری منت سماجت کی…..جواباً اماں نے فون رکھ دیا۔
تیسرے روز جب وہ الٹی سیدھی سوچوں میں گھری بیٹھی تھی کسی نے اچانک ہی آ کر دونوں ہاتھ اس کی آنکھوں پر رکھ دیے۔
’’کون…..؟‘‘ وہ ایک دم چونکی۔
ہاتھوں کی مخصوص نرماہٹ …..مانوس خوشبو…..’’زیبی!‘‘ وہ ایک دم چیخ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
اگلے چند روز خوب ہنسی مذاق میں گزرے۔ معروف حسن طرح طرح کی چیزیں لا کر ان کے سامنے ڈھیر کر دیتا۔
’’پہلی بار زیبی ہمارے گھر آئی ہے۔ اس کی خوب خاطر مدارت کرو…..‘‘
’’جانے دیجئے معروف بھیا!‘‘ زیبی خجل سی ہو کر اِدھر اُدھر کام میں مصروف ہونے کی کوشش کرنے لگتی۔
کبھی کہتا…..’’ہمارے گھر میں رہنے کے دو اصول و ضوابط ابھی وضع نہیں ہوئے۔ ورنہ ہو سکتا ہے کہ ایک لمبا سا پرچا آپ کے ہاتھ میںبھی تھما دیا جاتا۔‘‘
’’وہ ساری آپ کی چہیتی کی کارستانی تھی۔ یہ ہی آپ کو بغیر چینی کے دودھ اور پھیکی سیٹی چائے پلا کر بھگانے کے چکروں میں ہوتی تھی۔‘‘ زیبی سارا پول کھول کر رکھ دیتی۔
اور مہرو معصوم بنی کندھے اچکاتی۔ لا علمی ظاہر کرتی۔
ان ہی دنوں مہرو نے ایک مہکتی ہوئی سر سبز سویر میں گلابی گل گو تھنے سے بیٹے کو جنم دیا۔ ماں ‘ بیٹا دونوں خیریت سے تھے۔
معروف حسن کی خوشی دیدنی تھی۔ کھلکھلاہٹیں عروج پر …..اماں کو فون کھڑکھڑایا پھر بڑے بھیاکو……خدا جانے کہاں تھے کہ رابطہ ہی نہ ہو سکا۔
اسی شام وہ ہاسپٹل سے گھر آ گئی۔مبارکباد دینے والوں کا تانتا بند ھ گیا۔ مہرو آتی جاتی بوڑھی عورتوں کے مشورے گرہ میں باندھ رہی تھی۔
’’یہ کرنا ‘ وہ نہیں کرنا ـ‘ فلاں کو گھر میں نہ گھسنے دینا…..اگلے کئی روز یہ سلسلہ جاری رہا۔ زیبی کی دوڑیں لگتی رہیں مہمان نوازی کرنے میں۔
اماں اور عینی بھی آئیں…..مہرو اور بچے کے کپڑے ‘ کھلونے‘ دیسی گھی میں بنا گیا مقوی حلوہ۔
واپس جاتے ہوئے زیبی کو تیار ہونے کو کہا تو میاں ‘ بیوی دونوں آڑے آ گئے۔
’’چھوٹے بچے کا ساتھ ہے اماں! رات رات بھر جگاتا ہے اور دن میں بھی چین نہیں…..میں اکیلی کیا کروں گی…..‘‘ مہرو رونکھی ہو گئی۔
معروف حسن نے بھی خوب حمایت کی۔
‘‘میں بے فکر ہو کر دفتر جاتا ہوں کہ مہرو کے پاس زیبی ہے۔ مہرو کو تو بچے سے فرصت نہیں ‘ زیبی چلی گئی تو ہم تو بھوکے مر جائیں گے….‘‘ ان دونوں کی منت سماجت دیکھ کر اماں کو رضا مند ہونا پڑا۔
زیبی خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی۔
’’تم کیوں منہ بسورے بیٹھی ہو ۔ ہم تمہیں اداس نہیں ہونے دیں گے۔ اب تو میں فارغ ہو گئی ہوں ۔ خوب سیریں ہوں گی۔ منے کو منے کے ابا سنبھالیں گے۔‘‘ مہرو کی چہچہاہٹوں میں زندگی بولتی تھی۔
منے کو گود میں لے کر اس کے چہرے پر جو رنگ اترتے تھے انہیں دیکھ کر زیبی نظریں چرا لیتی ۔ دل ہی دل میں اس کی خوشیوں کے دائمی ہونے کی دعا کرتی تھی مگر کوئی انجانا سا دکھ تھا جو دل کے کسی اندر والے کونے میں ہولے ہولے سانس لینے لگتا تھا۔
بہت عجیب سا موسم تھا ….کچھ ٹھنڈا ‘ کچھ گرم…..کمروں کی نیم تاریکی میں ٹھنڈ ہلکورے لیتی اور آنگن میں پھیلتے سایوں کی گرمائش بدن میں سستی سی بھر دیتی تھی۔
مہرو‘ منے کو سلانے کمرے میں گئی تو اس کی آنکھ بھی لگ گئی۔ یہ ننھا سا وجود اسے سارا دن مصروف رکھتا تھا۔
ساتھ کے کمرے میں زیبی منے کے ننھے ننھے کُرتے سی رہی تھی۔ سلائی مشین کی مدھم سی آواز برآمدے ‘ صحن ہر جگہ چپ پھیلی تھی۔
ظہر کی اذان ہوئی تو زیبی اپنا ادھورا کام چھوڑ کر باہر نکل آئی۔ سایہ پھیل کر سامنے کی دیوار کو چھو رہا تھا۔ بائیں دیوار پہ چمک دار دھوپ…..معروف حسن کے لائے ہوئے کبوتر صحن میں بڑی فرصت سے بیٹھے اپنے پروں کو کھجلا رہے تھے۔ ننھی چڑیاں پانی کے کٹورے میں ڈوبی اپنے پر پھڑ پھڑا رہی تھیں۔ وہ ستون سے ٹیک لگائے بڑی محویت سے انہیں دیکھتی رہی۔
’’مہرو سے کہوں گی۔ اب مجھے یہاں سے جلد جانے دے۔‘‘ اس نے یاسیت سے سوچا۔
’’یہاں رہنا مشکل نہیں تو آسان بھی نہیں۔‘‘ وہ اپنے آپ سے ڈری ہوئی تھی۔
مہرو‘ معروف حسن۔
معروف اور مہرو۔
ان دونوں کا باہمی تعلق اس کے دل میں نہ چاہتے ہوئے بھی کیسا ہیجان سا برپا کر دیتا تھا۔ کانچ کی ٹوٹی ہوئی چوڑیاں دیکھ کر اس کی اپنی کلائیوں میں خون گویا رکنے لگتا تھا۔
معروف حسن کا مہرو پر استحقاق۔
مہرو کی خود سپردگی…..نازور انداز…..چھیڑ خانی…..کوئی دبی دبی سی سرگوشی۔
کوئی بلند ہوتا معنی خیز قہقہہ…..بے معنی نوک جھوک۔
وہ ان دونوں کو دیکھ کر خود بے چین ہوتی تو اپنی نمازوں کا وقت بڑھا دیتی۔
دل و دماغ کی پاکیزگی کی دعائیں مانگتی۔
شیطان کے شر سے پناہ مانگتی۔
’’لیکن دل ‘ یہ بہکا ہو ا دل…..نادان ‘ سمجھنے میں ہی نہیں آتا …..‘‘
وہ ستون کے پاس سے ہٹی اور بر آمدے میں رکھی کرسی پر جا بیٹھی۔
’’پتا نہیں…..کون ہو وہ…..؟‘‘
’’کہاں ہو گا…..؟‘‘
’’ہو گا بھی یا نہیں…..؟‘‘
’’نہیں …..نہیں …..کوئی تو ہو گا…..اس پھیلی ہوئی کائنات میں…..کوئی تو…..جو صرف میرا ہو گا ۔ میرے لیے ہو گا…..‘‘
’’آہم …..‘‘ کوئی قریب ہی آ کر کھنکھارا تھا۔
زیبی نے سر اٹھا کر سوئی جاگی آنکھوں سے آنے والے کو دیکھا۔
’’کون…..؟‘‘ ایک پل کے لیے سوچا۔
مقابل کھڑا شخص بھی متذبذب تھا۔
’’میں ……تبریز حسن…..!‘‘
‘‘میں مہرو کو بلاتی ہوں….وہ تھکی تھکی سی اٹھ کر کمرے کی طرف چل دی۔
معروف حسن منے کو گود میں لیے بیٹھا تھا۔
بڑے بھیا نے اس پہ نگاہ ٹکاتے ہوئے اس کے نرم گلابی ہاتھوں کو چھوا تو اس نے بے اختیار ہی ان کی انگلی اپنے ننھے سے ہاتھ میں بھر لی۔ وہ بے ساختہ ہنس دیئے۔
معروف نے چونک کر دیکھا….پھر لب بھینچ لیے۔ مبادا اس کی توجہ ان کی یہ بھولی بھٹکی مسکراہٹ بھی نہ چھین لے۔
’’بعض لوگ اپنی دنیائوں میں کتنے اکیلے اور اداس ہوتے ہیں۔ بڑے بھیا کے چہرے پر بھی اداسی نقش ہو چکی ہے۔ آنکھوں میں تنہائی بسنے لگی ہے۔ کیا کر سکتا ہوں میں ان کے لیے۔‘‘
’’بڑے بھیا! کوئی نام بتائیے؟ آپ کے انتظار میں یہ اب تک منا ہی کہلاتا ہے۔‘‘ مہرو ان کے عقب میں کھڑی پوچھ رہی تھی۔
’’معروف تم بتائو ناں…..؟ باپ ہو…..کچھ تو سوچا ہو گا؟‘‘
’’میرے خیال میں تو حسن تبریز….‘‘
’’اونہوں…..‘‘ انہوں نے بہت سختی سے ٹوکا …..پھر پل سوچ میں ڈوب گئے۔
’’زعیم حسن ٹھیک رہے گا۔‘‘
’’بہت بہتر…..‘‘
مہرو ‘ زعیم کو اٹھانے آئی تو انہوں نے ہزار ہزار کے کئی نوٹ نکال کر اس کے سامنے کیے۔
’’کچھ خریدنا ہے مہرو! اپنے لیے اور زعیم کے لیے۔‘‘
’’اتنے…..لیکن بڑے بھیا…..!‘‘ مہرو نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں تو وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’یہ کچھ نہیں ہیں مہرو! کچھ بھی نہیں…..اس کے مقابلے میں جو تم نے اس گھر کو دیا ۔ تم نے اسے بنایا ہے ‘ بسایا ہے ‘ پہلے یہاں آتا تھا تو چار سو گرد اڑتی تھی۔ دل دکھتا تھا اس کا اجاڑ پن دیکھ کر …. اب یہاں خوشبوئیں بستی ہیں۔ ہزار کوس دور بھی ہوں تو یہاں کے سناٹے میرا تعاقب نہیں کرتے۔ مطمئن رہتا ہوں کہ معروف حسن کا خیال رکھنے والا کوئی ہے۔ آدھی پونی چھائوں میں زندگی گزاردی ہم نے…..لیکن اب ہمارا پورا سایہ ایک اسی کے لیے تو ہے۔‘‘
انہوں نے جھک کر زعیم کی پیشانی چومی اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔ ان کے لہجے کی اداسی پر مہرو کا دل بھر آیا ۔ رگڑ کر اپنی آنکھیں صاف کیں اور زعیم کو کندھے سے لگا کر تھپکنے لگی۔
صحن کے ایک کونے میں بیٹھ کر چاو ل چنتی زیبی کا ہاتھ بہت دیر پہلے تھم چکا تھا۔ اس کی بھٹکتی نگاہیں کچھ دیر تک بند دروازے کے آس پاس چکراتی رہیں…..کسی دلفریب خوشبو کا جال دھیرے دھیرے اسے اپنی آغوش میں لینے لگا تھا۔
’’نہیں…..‘‘ وہ ہلکا سا کپکپائی‘ ذرا سے چاول برتن سے گر کر آس پاس بکھر گئے گئے۔ وہ خالی خالی نگاہوں سے ان بکھرے چاولوں کو دیکھے گئی۔ اسے اپنا آپ ان ہی چاولوں کی طرح بکھرا ہوا محسوس ہوا تھا۔
’’مہرو!‘‘ اس نے ایک دم گھبرا کر پکارا۔
مہرو نے فوراً پلٹ کر اسے دیکھا۔ معروف حسن بھی تکیے سے سر اٹھا کر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
’’مہرو ! میں واپس کب جائوں گی…..‘‘ اس کی آواز میں کسی گہرے خوف کے ساتھ ساتھ ڈوبتی شام کی اداسی بھی بھری ہوئی تھی۔
کاش کہ میرا بھی ایک گھر ہوتا
جس کے زینے پہ خوشبوئوں کی معطر چاپ ہولے سے ابھرتی
دیواروں پر پھولوں کاسنی رنگ ہلکورے لیتا
آنگن میں پا زیب چھنکتی
سنگھار میز کے آیئنے میں کوئی روپ سنورتا
گجرے کے پھولوں سے کمرہ بھر جاتا
کاجل کا رنگ شام کی آنکھ میں سج جاتا
چاندنی کا رنگ جیون رات جلا دیتا
وہ ہوتی…..!
اور…..
میں ہوتا…..
دکھ سکھ کی ہر سانجھ میں جیون کٹ جاتا
اے کاش……کہ میرا بھی ایک گھر ….
رات بہت بیت گئی تھی…..کمرے میں حبس ہو گیا تھا۔ انہوں نے تھکے ماندے وجود کو بمشکل گھسیٹا اور کھڑکی کے دونوں پٹ کھول دئیے۔
باہر کا موسم قدرے خوشگوار تھا۔
لمبے لمبے سانس کھینچ کر اندر کی گھٹن کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ کھڑکی تک گئے تھے۔ بے معنی سوچوں میں گھرے ‘ صحن کی کیاریوں میں لگے سر سراتے پودوں پر نظر دوڑاتے وہ ایک پل کے لیے چونک سے گئے۔
صحن میں پھیلی ہوئی اجلی چاندنی میں کسی سائے نے حرکت کی تھی۔
’’کون ہو سکتا ہے…..؟ اس وقت…..؟‘‘ وہ دروازہ کھول کر ننگے پائوں ہی باہر نکل آئے۔
پرلی دیوار چاندنی میں پوری طرح روشن تھی۔
نیم تاریکی کی آخری حد میں سیڑھیوں پہ بیٹھا وجود اب پوری طرح ساکت تھا۔ وہ چلتے چلتے بہت قریب آ گئے تھے۔
لمبے بالوں کی چوٹی سیاہ ناگ کی طرح دائیں کندھے سے لپٹی نظر آئی۔
’’زیبی!‘‘ ان کی آواز سرگوشی سے مشابہ تھی۔
زیبی نے چونک کر سر اٹھایا۔
’’یہاں کیوں بیٹھی ہو….اس طرح سے….؟ ‘‘وہ حیرت سے کہتے ہوئے ذرا سا اس کی طرف جھکے۔ وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’تم رو رہی ہو…..؟‘‘
اس تاریکی میں بھی اس کے آنسو دکھائی دیے گئے انہیں…..وہ مارے شرم کے کٹ کر رہ گئی۔ برق رفتاری سے ان کے قریب سے گزرنا چاہا تھا مگر وہ بہت عجلت میں اسے کلائی سے تھام کر اپنے مقابل لے آئے تھے۔
زیبی کو گویا کسی انگارے نے چھو لیا تھا۔
وہ ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر دیوار سے جا لگی۔
سسکیوں میں تیزی…..آنسوئوں میں روانی…..لبوں پہ خاموشی…..تبریز حسن اپنی جگہ بت بنے کھڑے تھے۔
ایک ایک لمحہ کائنات کے دل پر دستک دے رہا تھا۔ انہیں لگا ‘ ان کے ہارے ہوئے وجود میں کوئی مرد انگڑائی لے رہا تھا۔
’’مجھے جانے دیجئے…..‘‘ آواز کی لرزش آنسوئوں کی نمی سے لبریز تھی۔ آنچل ڈھلک گیا تھا۔ چاندنی مجسم ان کے سامنے تھی۔
تبریز حسن کو اپنی لہو سے معمور پوروں میں تپش اترتی محسوس ہوئی تو وہ ہلکی سی لڑ کھڑاہٹ کے ساتھ اس کے سامنے سے ہٹ گئے۔
اس کالو دیتا مومی وجود پل بھر میں نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا۔
وہ انگلیوں کے شکنجے میں اپنا سر دیے وہیں سیڑھیوں پر ڈھے گئے ۔ سانسوں کی رفتار کے ساتھ خون کی گردش دھیمی ہوئی تب انہوں نے سر اٹھایا۔
’’کیسی حرارت ہے یہ۔‘‘ انہوں نے حیرت سے بھیگتی چاندنی کو دیکھا۔
آسمان پر چودھویں کا چاند بادلوں کا ہم سفر تھا۔ آس پاس بکھری خوشبو انجانی مگر دلفریب تھی۔
’’زندگی کا سفر تو جاری و ساری تھا۔ پھر آج …..؟ یہ دل…..کس واردات کا منتظر تھا ‘ یہ مجھے کس اور لیے جا رہا تھا…..؟‘‘ وہ خود سے ہم کلام تھے ‘ متعجب و پشیمان۔
اور جواب میں ایک مہیب چپ ‘ دل کو کونوں کھدروں میں دم سادھ کر بیٹھی چپ…..انہیں لگا ‘ رات کی ٹھنڈک ان کی سلگتی آنکھوں میں جگہ پانا چاہ رہی ہے۔
بند کمرے سے باہر ایک ہنگامہ مچا ہوا تھا۔ چڑیوں کا شور ہی کم نہ تھا۔ اس پر کبوتروں کی غٹر غوں اور سب سے بڑھ کر مہرو کی چہکاریں….معروف حسن کے چھت پھاڑ قہقہے اور منے کی غوں غاں سگریٹ کے دھوئیں سے بوجھل فضا میں زندگی کا پتہ دیتی۔ ان آوازوں سے انہیں بیک وقت نفرت اور بے حد کشش محسوس ہوئی تھی۔
رات بھر خود کو کھوجتے رہنے کے بعد اب دل جیسے ایک دم ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔
ادھ جلی سگریٹ کو پیروں تلے مسل کر انہوں نے دروازے کی چٹخنی گرائی اور باہر نکل آئے۔ صحن تک آتے آتے ان کے قدم خود بخود سست پڑ گئے تھے۔
صابن ملے پانی کے ٹب سے جھاگ ‘ ابل ابل کر باہر آرہا تھا۔
معروف کندھے پر تولیہ ڈالے زعیم کے ننھے چکنے وجود کو ہاتھوں سے سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اور مہرو اس کی اس ناکام کوشش پر ہنستے ہنستے بے حال ہوئی جا رہی تھی۔ زعیم کو نہلانے کی کوشش میں وہ دونوں خود بری طرح بھیگے ہوئے تھے۔ ٹب کے قریب بے بی شیمپو ‘ بے بی آئل اور بے بی سوپ کی گلابی شیشیاں لڑھکی ہوئی تھیں۔
کیسی بھر پور زندگی تھی….
میاں ‘ بیوی …..دکھ سکھ کے سانجھی۔
اور ان کی آرزوئوں ‘ امنگوں کا مرکز ‘ ننھا سا چہکتا مہکتا وجود ۔ ایک ایسی تکون، جس کا ہر کونہ دوسرے سے زیادہ چمک دار ‘ زیادہ روشن ‘ زیادہ خوبصورت …..
وہ برآمدے کے ستون پہ ہاتھ رکھے اپنی جگہ کھڑے رہ گئے تھے۔
’’کائنات نیا جنم لے رہی ہے تبریز حسن ! اور تم کن تاریک غاروں میں بھٹک رہے ہو۔‘‘
انہوں نے حیران حیران سی نظروں سے سامنے کے منظر کو دیکھا۔
برہنہ شاخوں پر نوخیز کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔چڑیاں اپنی چونچوں سے سبز پتے توڑ رہی تھیں۔ سفید کبوتری اپنے انڈوں کو سینے کی گرماہٹ سے سہلا رہی تھی۔ گلہری کا شرارتی بچہ اپنی ہی دم کو چبا رہا تھا۔ کیاری میں ادھ کھلے گلابوں کی چمک ہی نرالی ٹھہری تھی۔
’’کیا واقعی کائنا ت ‘ نیا جنم لے رہی ہے؟
بد نصیبی کا سیاہ گدھ اپنے پر سمیٹ لینے کو ہے…..؟‘‘
سامنے کے منظر سے پرے ایک چہرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھا۔
زور دوپٹے کے ہالے میں مرجھایا ہوا چہرہ۔
بڑی بڑی آنکھوں میں نا امیدی کا جھولا جھولتی حسرت ویاس۔
ہونٹوں پہ کپکپاہٹ…..
اور نگاہوں کا مرکز وہی ایک منظر…..جو ان کے دل کی دنیا ہی بدلے جاتا تھا۔ جاندار سی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں کو چھو گئی۔
کشتی بے پتوار ڈولتے ‘ ابرتے بالآخر کنارے سے جا لگی تھی۔
ان کی نظریں خود بخود اس بند دروازے پر جا پڑیں۔ جو انہوں نے خود اپنے لیے بند کر چھوڑا تھا مگر آج نجانے کیوں یہ بند دروازہ کھولنے کو جی چاہتا تھا۔ اس کے دوسری جانب ماحول پُرسکون لیکن خاموش اور بے آباد تھا۔
’’میں اسے آباد کرنا چاہتا ہوں…..‘‘ بند دروازے کے سامنے کھڑے وہ ہولے سے بڑ بڑائے تھے۔
’’بڑے بھیا !‘‘ مہرو انہیں وہاں دیکھ کر بھاگی چلی آئی تھی۔
’’بہت دیر ہو گئی ہے مہرو! اب سارے دروازے کھل جانے چاہئیں۔‘‘
’’ہائیں…..‘‘ مہرو نا سمجھی کے عالم میں انہیں دیکھے گئی۔
’’کیسے بدلے بدلے سے لگ رہے ہیں۔‘‘ اس نے اپنا سر کھجایا۔
’’بند دروازوں کے پیچھے صرف تاریکی ہوتی ہے یا مقید باس…..زہریلی چپ ‘ گھنی خاموشی….. بے آباد تنہائی ۔ زیبی سے کہو ‘ یہ دروازہ اپنے ہاتھوں سے کھولے ۔ کھڑکیاں ‘ روشندان ‘ ہر چیز کہیں کوئی تاریکی نہ ہو۔ اسے کہو ہر طرف روشنی ہی روشنی دے۔ صرف روشنی…..کیونکہ وہ کر سکتی ہے اپنے لیے ‘ میرے لیے۔
’’زیبی…..؟‘‘ مہرو نے آنکھیں پھاڑیں۔
’’زیبی اور آپ…..یعنی…..؟‘‘
’’ہاں …..زیبی اور…..میں ۔‘‘ وہ پورے قد سے اس کے سامنے کھڑے اعتراف کر رہے تھے۔
’’زندگی کی طرف لوٹنا چاہتا ہوں۔ آسرا درکار ہے ۔ ملے گا؟‘‘ بہت صاف اور واضح سوال تھا۔
مہرو بوکھلائی ۔ پھر بگٹٹ زیبی کی طرف بھاگی۔
وہ انجان پری معصومیت کی ردا اوڑھے کیاریوں میں بکھرے خشک پھول اکٹھے کر رہی تھی۔
’’زیبی! بولو ناں….؟ دیکھ بڑے بھیا کیا پوچھ رہے ہیں…..‘‘ وہ بہت بے صبری ہو رہی تھی۔
زیبی نے پلٹ کر تبزیر حسن کو دیکھا۔
’’اس شخص کے ساتھ چند پل نہیں کئی صدیاں بیتی ہیں۔ اس کا لمس نا آشنا اور خوشبو انجانی نہیں۔ میں ہزاروں ‘ کروڑوں سالوں سے اس کے اندر بس رہی ہوں۔ یہ خود کو ڈھونڈتے ہوئے مجھ تک ہی تو آئے گا۔ یہ زندگی کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔ میں زندگی بن کر اسے ملوں گی۔
اسے آسرا درکار ہے ‘ تو جائو کہہ دو۔ میرا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کبھی جدا نہ ہو گا؟‘‘
زیبی نے تبریز حسن سے نگاہ ہٹا کر مہرو کو دیکھا۔ پھر اسی خاموشی سے خشک پتوں کو اپنی انگلیوں میں مسلنے لگی۔
’’بولتی کیوں نہیں ہو۔ کچھ تو کہو…..زیبی …..! زیبی……!‘‘ اس کی خاموشی سے جھنجلا کر مہرو اسے پکارے جا رہی تھی۔
جب کہ تبریز حسن کھل کر مسکرا دیے تھے۔ انہیں تو جواب مل ہی چکا تھا۔
رفاقت کی تمنا سر شتِ آدم ہے۔ انسان کو ہر مقام پر رفیق کی ضرورت ہے۔ جنت بھی انسان کوتسکین نہیں دے سکتی اگر اس میں کوئی ساتھی نہ ہو ‘ کوئی سننے سنانے والا نہ ہو آسمان پر بھی انسان کو انسان کی تمنا رہی اور زمین پر بھی انسان کو انسان کی طلب سے مفر ممکن نہیں ۔ لا مکاں میں رہنے والا تنہا رہ سکتا ہے ‘ لیکن زمین پر رہنے والا تنہا نہیں رہ سکتا ۔
یہ انسان کی ضرورت بھی ہے اور اس کی فطرت بھی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close